Skip to content
Nafsiyat-001


Chapter 5

حسی، توجہی اور ادراکی اعمال 

 اس با ب کے مطالعے کے بعد آپ اس قابل ہوجائیں گے کہ 

٭ حسی عمل کی نوعیت کو سمجھ سکیں

٭ توجہ کی اقسام اور عمل کی وضاحت کر سکیں

٭اداراک ِ شکل اور ادراک ِ مکانی کے مسائل کا تجزیہ کرسکیں

٭ادراکِ میں سماجی ثقافتی عوامل کے رول کی چانچ کرسکیں

٭روزہ مرہ کی زندگی میں حسی، توجہی اور ادراکی اعمال کے بارے میں تفکر کرسکیں

مشمولات 

تعارف 

دنیا سے واقفیت حاصل کرنا 

مہیجات کی نوعیت اور اقسام 

حسی جہتیں 

دیگر انسانی حسیں ( باکس 5.1)

بصری احساس 

سمعی احساس 

توجہی اعمال 

انتخابی اعمال 

انتخابی توجہ 

منقسم توجہ (باکس5.2)

جاری شدہ توجہ 

توجہ کا حیطہ (5.3)

ادراکی اعمال 

ادراک میں عمل کاری کے طرز ہائے نظر 

مدرک (ادراک کرنے والا )

ادراکی تنظیم کے اُصول 

مکان، گہرائی اور دوری کا ادراک 

ایک چشمی اشارے اور دوچشمی اشارے

اداراکی ثباتیں

التباسات 

اداراک پر سماجی - ثقافتی اثرات 

کلیدی اصلاحات خلاصلہ 

نظر ثانی کے لیے سوالات 

پروجیکٹ کی تجاویز 

تعارف 

پچھلے ابواب میں آپ پڑھ چکے ہیں کہ آخذوں کے ذریعے ہم داخلی اور خارجی ماحول میں موجودہ مہیجوں کے لیے جوابی عمل کس طرح کرتے ہیں۔ ان آخذوں میں کچھ تو واضح طو ر پر قابلِ مشاہدہ ہیں (جیسے آنکھ کان) جب کہ کچھ ہمارے جسم کے اندر واقع ہوتے ہیں اور یہ برقی یا مشینی آلات کے بغیر قابل مشاہدہ نہیں ہیں۔ یہ باب آپ کو ان مختلف آخذوں سے روشناس کرائے گا جو خارجی اور داخلی دنیا سے مختلف اقسام کی معلومات حاصل کرتے ہیں۔ مخصوص طور پر آنکھ اور کان کی ساخت اور تفاعل بشمول کچھ دلچسپ عوامل جو بصارت اور سماعت سے متعلق ہیں ، مطالعہ کامرکز ہوں گے۔ توجہ کے متعلق بھی کچھ اہم باتیں آپ کو معلوم ہوں گی جو ان اطلاعات کو جنھیں ہمارے حسی اعضا ء ہم تک پہنچاتے ہیں ان کو نوٹس کرانے اور اسے مندرج کرنے میں ہماری مدد کرتی ہے۔ توجہ کی مختلف اقسام کے ساتھ ساتھ اسے متاثر کرنے والے عوامل کی بھی وضاحت کی جائے گی۔ آخر میں ہم اداراک کے عمل پر بحث کریں گے جس سے ہم دنیا کی بامعنی طریقہ سے فہم حاصل کرتے ہیں۔ آپ کو یہ جاننے کا بھی موقع ملے گا کہ ہم کبھی کبھی مہیجات کے کچھ اقسام جیسے شکلیں اور تصاویر سے کس طرح فریب کھاجاتے ہیں۔ 

دنیا سے واقفیت حاصل کرنا 

( Knowing the World)

یہ دنیا جس میں ہم رہتے ہیں مختلف اقسام کی اشیاء، اشخاص اور واقعات سے پُر ہے۔ اس کمرہ کو دیکھئے جس میں آپ بیٹھے ہیں۔ اپنے ارد گرد آپ مختلف چیزیں پائیں گے۔ بطور ذکر ان میں سے چند چیزیں جنھیں آپ دیکھتے ہیں وہ ہیں:آپ کی میز ، آپ کی کرسی، آپ کی کتابیں، آپ کا بستہ، آپ کی گھڑی، دیوار پر تصویریں اور دیگر بہت سی اشیا۔ ان سب کی جسامت ، شکل وصورت اور رنگ بھی الگ الگ ہیں۔اگر آپ اپنے گھر کے دوسرے کمرہ میں جائیں تو بہت سی دیگر نئی چیزیں آپ کے نوٹس میں آئیں گی (جیسے برتن اور ظروف، الماری، ٹی وی وغیرہ)۔ ایسے تجربات ہماری روزہ مرہ کی زندگی میں عام ہیں۔ انہیں جاننے کے لیے ہمیں اور آپ کو کسی بھی طرح کی کوشش نہیں کرنی پڑتی ہے۔ اگر کوئی شخص آپ سے سوال کرے کہ ’’ آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ان سب مختلف اشیا کا وجود آپ کے کمرہ ، مکان یا باہر کے ماحول میں ہے ؟‘‘ آپ کا جو اب شاید یہ ہوگا کہ ان چیزویں کو آپ اپنے ارد گرد دیکھتے یا محسوس کرتے ہیں۔ اس طرح کا جواب دیتے ہوئے آپ اس شخص کو یہ بتانے کی کوشش کررہے ہیں کہ مختلف اشیا سے متعلق علم ہمارے حسی اعضا کی مدد سے ممکن ہوتا ہے (جیسے آنکھ، کان)۔ یہ اعضا صرف خارجی دنیا سے ہی معلومات حاصل نہیں کرتے ہیں بلکہ ہمارے اپنے جسم سے بھی معلومات حاصل نہیں کرتے ہیں بلکہ ہمارے اپنے جسم سے بھی معلومات حاصل کرتے ہیں۔ ہمارے حسی اعضاء سے یہ حاصل شدہ معلومات ہی ہماری علم کی بنیاد بناتی ہیں۔ حسی اعضاء مختلف اشیا ء کے بارے میں طرح طرح کی معلومات کو مندرج کرتے ہیں۔ تاہم انھیں مندرج کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ اشیا ء اور ان کے خصوصیات (جیسے جسامت، شکل وصورت ، رنگ) اس قابل ہوں کہ ہماری توجہ کو اپنی جانب مائل کرسکیں۔ مندرج معلومات کو دماغ تک پہنچنا بھی ضروری ہوتا ہے تاکہ وہ ان کے کچھ معنی وضع کرسکے۔ اس طرح سے ہمارے ارد گرد کی دنیا کے بارے میں ہمارا علم تین بنیادی اعمال پر منحصر ہوتا ہے جو حس ، توجہ اور ادراک کہلاتے ہیں۔ یہ عمل اعلی طور پر باہم مربوط ہوتے ہیں، اس لیے انھیں اکثر ایک ہی عمل کے مختلف اجزاء مانا جاتا ہے ۔ اس عمل کو وقوف کہاجاتا ہے۔ 

مہیج کی نوعیت اور اقسام 

(Nature and Varites of Stimulus)

ہمارے ارد گرد کے خارجی ماحول میں مختلف قسم کے مہیجات ہوتے ہیں۔ ان میں سے کچھ دیکھے جاسکتے ہیں (جیسے گھر) جبکہ کچھ صرف سنے جاسکتے ہیں (جیسے موسیقی)۔ بہت سے دیگر ایسے ہیں جو سنے جاسکتے ہیں۔(جیسے پھول کی خوشبو )یاچکھے جاسکتے ہیں (جیسے مٹھائیاں)۔ بہت سے ایسے ہیں جنھیں صرف چھو کر محسوس کیا جاسکتاہے(جیسے کپڑے کی ملائمیت)۔ یہ سبھی مہیجات ہمیں مختلف طرح کی معلومات فراہم کراتے ہیں۔ ان میں سے مشکل مہیجات سے بنٹنے کے لیے ہمارے پاس بہت مخصص قسم کے اعضا حس ہوتے ہیں۔ انسان ہونے کے ناطے سات اعضائے حس کا ایک مجموعہ عطا ہوا ہے۔ یہ اعضائے حس حسی آخذ یا معلومات جمع کرنے والے نظام بھی کہلاتے ہیں۔ کیوں کہ یہ معلومات کو مختلف ذرائع سے موصول کرتے ہیں یا جمع کرتے ہیں۔ ان اعضاءِ حس میں سے پانچ اعضائے خارجی دنیا سے معلومات اکٹھا کرتے ہیں۔ ان میں آنکھ ، کان ، ناک ،زبان اور جلد شامل ہیں۔ ہماری آنکھیں بنیادی طور پر بصارت کے لیے ، ہمارے کان سماعت کے لیے ، ہماری ناک سونگھنے کے لیے اور ہماری زبان ذائقہ کے لیے ذمے دار ہیں جب کہ ہماری جلد لمس، گرمی، سردی اور درد کے لیے ذمہ دار ہے۔ گرمی سردی اور درد کے مخصوص آخذ ہماری جلد کے اندر پائے جاتے ہیں۔ ان پانچ خارجی اعضائے حس کے علاوہ ہمارے دو عمیق یا گہری حسیں بھی ہیں۔ انھیں حرکت کی حِس اور نظامِ رہدار کہتے ہیں۔ ان سے ہمارے جسم کی پوزیشن اور باہمی طو رپر مربوط جسم کے اعضا کی حرکت کے بارے میں اہم معلومات حاصل ہوتی ہیں۔ ان سات اعضاءِ حسن سے اہم اپنی داخلی اورخارجی دنیا سے دس مختلف قسم کے مہیجات اور ان کی خوبیوں سے آگاہ ہو پاتے ہیں۔ مثال کے طور پر آپ یہ نوٹس کر سکتے ہیں کہ روشنی تیز ہے یا ہلکی، پیلی ہے۔ لال ہے یا ہری ۔ آواز کے بارے میں نوٹس کرسکتے ہیں کہ یہ تیز یا مدھم ، سریلی ہے یا بھدی ۔ مہیجوں کی ایسی مختلف خوبیاں بھی ہمارے اعضاءِ حس کے ذریعہ ہی مندرج کی جاتی ہیں۔ 

حسی جہتیں(Sence Modaleties)

ہمارے اعضاءِ حس ہماری خارجی اور داخلی دنیا کے بارے میں ہمیں براہِ راست معلوم مہیا کراتے ہیں۔ کسی مہیج کا ابتدائی تجربہ یا ایک مخصوص عضوِ حس کے ذریعہ کشی شئے کا مندرج ہوتا تحیس کہلاتا ہے۔ تحیس ایسا عمل ہے جس کے ذریعہ ہم مختلف طبعی مہیجات کو پہچانتے ہیں اور ان کی اشارہ سازی کرتے ہیں۔ تحیس مہیج کے اوصاف جیسے ’’سخت ‘‘، ’’گرم‘‘، ’’تیز‘‘اور ’’نیلا‘‘ کے فوری بنیادی تجربات کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے جو کہ کسی عضو حس کے مناسب مہیج کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے ۔ مختلف اعضاءِ حس کا مہیجات کی قسموں سے میل جول یا واسطہ ہوتا ہے اور یہ الگ الگ مقاصد انجام دیتے ہیں۔ ہر ایک عضو حس کسی مخصوس قسم کی معلومات کے حصول کے لیے بہت ہی اعلی طور پر مختص ہوتا ہے۔ ان لیے ان میں سے ہر ایک حسی جہت کے نام سے جانا جاتا ہے۔

اعضا ء حس کے تفاعلی حدود 

(Fuctional Limitations of Sence Oragans )

اس قبل کہ ہم اعضاءِ حس پر بحث کاآغاز کریں یہ جاننا ضروری ہے کہ ہمارے اعضاءِ حس کے تفاعل کی مخصوص حدود ہوتی ہیں۔ مثلا ً ہماری آنکھیں اُن چیزوں کو نہیں دیکھ سکتی ہیں جو بہت زیادہ دھندلی یا بہت زیادہ چمکیلی ہوتی ہے ۔ دیگر اعضاءِ حس کے لیے بھی ایسا ہی ہوتا ہے ۔ انسان ہونے کے ناطے ہم مہیج کے ایک مخصوص دائرۂ کے اندر ہی تفاعل کرتے ہیں ۔ کسی مہیج کو حسی آخذ کے ذریعہ مندرج ہونے کے لیے ایک کم سے کم حد کی شدت یا مقدار ہونی ضروری ہے ۔ مہیجات اوران کے احساسات کے مابین تعلق کا مطالعہ کرنے والے شعبہ کو نفسی طبیعات (Psychophysics)کہتے ہیں۔ 

کسی مہیج کو نوٹس کیے جانے کے لیے ضروری ہے کہ اس کی ایک قلیل ترین مقدار یا وزن موجود ہو ۔ مہیج کی وہ قلیل ترین مقدار جو کسی عضوِ حس کو فعال کرنے کے لیے ضروری ہوتی ہے مطلق دہلیز یا مطلق لائن (Absolute threshold or Absolute limen) کہلاتی ہے۔ مثلاً شکر کا صرف ایک دانے ایک کے بعد ایک ملاتے جائیں تو ایک ایسا مرحلہ (پوائنٹ)آئے گا کہ جب آپ کو پانی میٹھا ہونے کا صرف احساس ہوگا۔ شکر کے دانے کی وہ قلیل ترین مقدار جس سے پانی میٹھا لگنے لگا ہے، مٹھاس کی دہلیز یا اے۔ ایل (AL)ہے۔ 

اس مرحلہ پر یہ بھی ذہن نشین کرلینا چاہیے کہ اے ۔ ایل (مطلق دہلیز)ایک متعینہ پوائنٹ نہیں ہے۔ یہ افراد اور حالات کے ساتھ ساتھ تبدیل ہوتا ہے ۔ اس کا انحصار افراد کی عضوی حالت افراد کی عضوی حالت یا ان کی کی محرکی حالت پر ہوتا ہے۔ اس لیے اس کا تعین سعی کی تعداد کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ شکر کے دانے کی وہ تعداد جسے پانی میں گھول دینے پر پچاس فیصد بار ’’میٹھا‘‘ ہونے کاتجربہ پیدا کرے مٹھائی کی مطلق دہلیز(اے -ایل) کہلائے گی۔ اگر شکر کے دانے کی مزید تعداد اس پانی میں ملا دیں تو سادے پانی کی بہ نسبت اس پانی کے میٹھا بتائے جانے کے امکانات بھی زیادہ ہوجائیں گے۔ 

جس طرح یہ ممکن نہیں ہے کہ تمام مہیجات کو ہم نوٹس کرلیں ، اسی طرح یہ بھی ممکن نہیں ہے کہ تمام مہیجات کے مابین ہم تفریق کرلیں۔ دو مہیجات ایک دوسرے مختلف ہوتے ہیں۔ اس کی معلومات حاصل کرنے یا اسے نوٹس کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ ان مہیجات کی قدروں میں کچھ قلیل ترین فرق ہو۔ دو مہیجوں کی قدروں میں وہ قلیل ترین فرق جو کہ انہیں الگ الگ نوٹس کیے جانے کے لیے ضروری ہے تفریقی دہلیز یا تفریقی لائن (DL)(Difference Threshold or Difference limen)کہلاتا ہے۔ اسے سمجھنے کے لیے ہم اپنے ’’شکر پانی‘‘ کے اختبار کو جاری رکھ سکتے ہیں۔ جیسا کہ ہم دیکھ چکے ہیں کہ سادہ پانی میں مخصوص تعداد میں شکر کے دانے ملادینے کے بعد اسے میٹھا ہونے کا صرف احساس ہوا۔ اس مٹھاس کو اپنے حافظہ میں محفوظ کرلیجیے۔ اگلا سوال یہ ہے کہ اس میتھے پانی میں اب شکر کے اور کتنے دانے ملائیں کہ اس کی مٹھاس پہلے والی مٹھاس سے مختلف لگنے لگے۔ یکے بعد دیگرے شکر کے دانے ملانے کے بعد ایک ایسا مرحلہ یا پوائنٹ (نقطہ) آپ نوٹس کریں گے جہاں پر یہ پانی پہلے والے پانی میں ملانے کے بعد مٹھاس کا ایک صرف ایسا احساس پیدا ہونے لگے جو پہلے والی مٹھاس سے پچاس فیصدی بار مختلف ہو، مٹھاس کی یا تفریقی دہلیز ڈی ۔ ایل (D.L.)کہلائے گی۔ اس طرح تفریقی دہلی کسی طبیعاتی مہیج کے اندر قلیل ترین مقدر میں وہ تبدیلی ہے جو پچاس فیصد مواقع پر مختلف ہونے کا احساس پیداکرسکے۔ 

اب آپ واقف ہوگئے ہوں گے کہ تحیس یا احساس کی تفہیم مختلف قسم کے مہیجات کی مطلق دہلیز(AL)اور تفریقی دہلیز (DL)کی تفہیم کے بغیر ممکن نہیں ہے لیکن صرف یہی کافی نہیں ہے۔ حسی عمل صرف مہیج کی خصوصیات پر ہی منحصر نہیں ہوتا ہے۔ اس عمل میں حسی اعضاء ِ اور انہیں دماغ کے مراکز کے ساتھ جوڑنے والے عصبی راستے ایک اہم رول ادا کرتے ہیں۔ حسی عضو مہیج کو حاصل کرتے ہیں اور اسے برقی تحریک کے طو رپر اشارہ بند کرلیتے ہیں۔ اس برقی تحریک کو نوٹس کیے جانے کے لیے یہ ضروری ہے کہ یہ دماغ کے اعلی مراکز تک پہنچے ۔ آخذ اعضاء ، اس کے عصبی راستے یا متعلقہ دماغی خطے میں کسی طرح کا کوئی ساختی یا تفاعلی یا ضرور تحیس کے جزوی یا مکمل طورپر ضائع ہونے کا سبب ہوسکتاہے۔ 

بصری تحیس (Visual Sensation)

انسانوں کے اندر پائی جانے والی تمام حسی جہتوں میں بصارف سب سے زیادہ ترقی یافتہ ہے۔ مختلف اندازے اس جانب اشارہ کرتے ہیں کہ خارجی دنیا کے ساتھ معاملات میں اس کا استعمال ہم تقریباً 80فیصد کرتے ہیں۔ سماعت اور دیگر حسین بھی خارجی دنیا سے معلومات حاصل کرنے میں اہم رول ادا کرتی ہیں۔ بصارت اور سماعت کو ہم تفصیل سے بیان کریں گے۔ دیگر حسوں کی تمام خصوصیات باکس 5.1 میں دیکھی جاسکتی ہیں۔ 

بصری تحیس کاآغاز اس وقت ہوتا ہے جب روشنی آنکھ میں داخل ہوتی ہے اور بصری آخذوں میں تہیج پیدا کرتی ہے۔ ہماری آنکھ روشنی کے اس طیف (Spectrum) کے لیے حساتی ہوتی ہیں جس کا حیطہ 380 نینومیٹر (ایم ۔ ایم) سے 780 نینو میٹر (ایک نینو میٹر ایک میٹر کا کروڑوں حصہ ہوتا ہے) کے درمیان ہوتا ہے۔ اس حیطہ سے باہر کی روشنی کے لیے کوئی تحیس ممکن نہیں ہوتی ہے۔ 

انسانی آنکھ (The Human Eye)

شکل 5.1 میں انسانی آنکھ کی ایک شکل دی گئی ہے۔ جیسا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ہماری آنکھ تینوں تہوں(پرتوں) سے بنی ہوئی ہوتی ہے۔ سب سے اوپر والی تہہ میں شفاف کارنیا اور ایک سخت اسکلیرا (Sclera)ہوتی ہے جو باقی آنکھ کر ہر جانب سے گھیرے ہوئے ہوتی ہیں۔ یہ آنکھ کی حفاظت کرتی ہے اور اس کی شکل بنائے رکھتی ہے۔ درمیانی تہہ کورائڈ (Choroid) کہلاتی ہے جس میں خون کی رگیں وافر مقدار میں ہوتی ہیں۔ اندرونی تہہ ریٹینا کہلاتی ہے اس میں بصری آخذ یا روشنی کے آخذ (قائمے اور مخروطے )اور باہمی طور پر مربطوعصبی خلیوں کا ایک وسیع جال ہوتا ہے۔ 

عام طور پر آنکھ کا موازنہ ایک کیمرہ سے کیا جاتا ہے ۔ مثلاً آنکھ اور کیمرہ دونوں میں لینس (Lens)ہوتا ہے۔ لینس آنکھ کو دو غیر مساوی چیمبرس (خانوں ) میں تقسیم کرتا ہے جن کے نام آبی خانہ (Aqueous Chamber)اور زجاجی خانہ(Vitreous Chamber)ہیں۔ آبی خانہ قرنیہ (Cornea)اور لینس کے درمیان واقع ہوتا ہے۔ یہ جسامت میں چھوٹا ہوتا ہے اور پانی جیسے مادہ سے پُر ہوتا ہے جسے آبی مادہ (Aqueous Humor) کہتے ہیں۔ زجاجی خانہ (وٹریئس چیمبر)لینس اور ریٹینا کے درمیان واقع ہوتا ہے ۔ یہ جبلی (لعاب) جیسے پروٹین سے پُر ہوتا ہے جسے زجاجی مادہ (Vitreous Humor)کہتے ہیں۔ یہ رقیق مادے لینس کو مناسب جگہ پر بنائے رکھنے اور اس کی مناسب شکل کو برقرار رکھنے میں مدد کرتے ہیں۔ یہ مطابقت کے عمل کو بھی آسان بناتے ہیں۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جس سے لینس مختلف دوریوں پر موجود اشیا کو فوکس کرنے کے لیے اپنی حجم تبدیل کرتا ہے۔ یہ عمل ریشائی عضلات کے ذریعہ منضبط ہوتا ہے جو کہ لینس سے جڑی ہوتی ہیں۔ یہ عضلات دور کی اشیاء کو فوکس کرنے کے لیے لینس کو مٹا بنا دیتے ہیں۔ کیمرہ کی طرح آنکھ میں بھی اس کے اندر داخل ہونے والی روشنی کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک میکا نزم ہوتا ہے۔ یہ کام پردۂ چشم (Iris)اس شکل میں انجام دیتاہے کہ پردۂ چشم ایک قرض نما (دائرہ نما)رنگین جھلی ہوتی ہے جو لینس اور قرینہ (Cornea)کے درمیان واقع ہوتی ہے۔ یہ آنکھ کے اندر داخل ہونے والی روشنی کی مقدار کو پُتلی کے پھیلاؤ کو منضبط کرتے ہوئے کنڑول کرتی ہے۔ مدھم روشنی میں پتلی پھیل جاتی ہے جب کہ تیز روشنی میں سکڑ جاتی ہے ۔ 

باکس     دیگر انسانی حسیں 

بصارت اور سماعت کے علاوہ اور دیگر حسیں بھی ہوتی ہیں جو ہمارے اداراک کو مزید بہتر بناتی ہیں۔ مثلاً نارنگی صرف اپنے رنگ کی وجہ سے پرکشش نہیں لگتی ہے بلکہ اس کا ذائقہ اور خوشبو بھی اسے پرکشش بناتی ہیں۔ ان دیگر حسوں کی مختصراً وضاحت ذیل میں کی گئی ہے۔ 

1۔ بو: ہوا میں موجود مختلف اشیا کے سالمے بو کے احساس کے لیے مہیج ہوتے ہیں۔ وہ ناک کے راستے میں داخل ہوتے ہیں جہاں وہ ناک کے اجسام خلیہ میں گھل جاتے ہیں۔ اس سے وہ آخذ خلیوں کے ربط میں آتے ہیں جو کہ شمی اپیھلینم میں ہوتے ہیں۔ انسانوں میں ایسے آخذوں کو تعداد 50ملین ہوتی ہے جب کہ کتوں میں یہ آخذ 200 سے بھی زیادہ ہوتے ہیں۔ تاہم بو کو پہنچاننے کی ہماری قابلیت کافی پُر اثر ہوتی ہے۔ یہ بتایا کہ گیا ہے کہ انسان دس ہزار سے زیادہ بو کو پہچان اور ان کے بیچ تفریق کرسکتے ہیں۔ بومیں دوسری حسوں کی تحسیسی مطابقت ہوتی ہے۔ 

2. ذائقہ: ذائقہ کے حسی آخذ زبان پر چھوٹے چھوٹے گڈھوں کے اندر واقع ہوتے ہیں جنھیں پپیلا ( گومڑ) کہتے ہیں۔ ہر ایک گومڑ میں مسام ذائقہ کا ایک گچھا ہوتا ہے۔ انسانوں کے پاس تقریباً دس ہزار مسام ذائقہ ہوتے ہیں۔ بنیادی ذائقے صرف چار ہوتے ہیں جب کہ لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ کھانے کے اندر بہت زیادہ تعداد میں لذتوں کے درمیان تفریق کرسکتے ہیں۔ پھر اتنے زیادہ ذائقوں کا اداراک ہمارے لیے کیسے ممکن ہوتا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ہم صرف کھانے کے ذائقہ سے ہی واقف نہیں ہوتے ہیں بلکہ اس کی بو، اس کی ساکت، اس کی حرارت، زبان پر اس کا دباؤ اور دیگر بہت سے احساسات سے بھی واقف ہوتے ہیں۔ جب یہ عوامی ہٹادیے جائیں تو صرف چار بنیادی ذائقے ہی باقی رہ جائیں گے۔ اس کے علاوہ مختلف ذائقوں کے الگ الگ تناسب میں مل جانے پر ایک بالکل ہی مختلف ذائقہ پیدا ہوجاتا ہے جو اپنے آپ میں بالکل منفرد ہوتا ہے ۔ 

3۔ لمس اور دیگر جلدی حسیں: جلد ایک ایسا عضوِ تحسیس ہے جو لمس (دباؤ)، گرمی، سردی اور درد کا احساس پیداکرتا ہے۔ ان میں سے ہر ایک احساس کے لیے جلد میں متخصص آخذ ہوتے ہیں۔ لمس کے آخذ ہماری جلد میں مساوی طو پر منقسم نہیں ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے جسم کے کچھ حصے (جیسے چہرہ، انگلی کی نوک) دیگرحصوں (جیسے پیر) کے مقابلہ میں زیادہ حساس ہوتے ہیں۔ درد کی تحسیس کے لیے مخصوص مہیج نہیں ہوتا ہے۔ اس لیے اس کے میکانزم کا تعین کرنا کافی مشکل ہوتا ہے۔ 

4.حرکی نظام: ان کے آخذ بنیادی طور پر جوڑوں، وتروں اور عضلات میں پائے جاتے ہیں۔ یہ نظام ہمیں اپنے اپنے جسم کے اعضا کے محل وقوع کے بارے میں معلومات فراہم کرتے ہیں اور ہمیں آسان حرکات (جیسے اپنی ناک کو چھونا)اور پیچیدہ حرکات جیسے (رقص کرنا) کو انجام دینے کے لیے تیار کرتے ہیں۔ ہمارا بصری نظام اس معاملہ میں بہت زیادہ مہیا کرتا ہے۔ 

5. نظامِ رہدار: یہ نظام ہمیں اپنے جسم کی پوزیشن، حرکت اسراع یعنی وہ عوامل جو ہمارے توازن کے احساس کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہیں، کی معلومات مہیا کراتے ہیں۔ اس احساس کے اعضاءِ تحسیس اندرونی کان میں واقع ہوتے ہیں ، جب کہ رہدار کیسے ہم کو ہمارے جسم کی پوزیشن کی اطلاع دیتے ہیں۔ نیم دائرہ کی نالیاں ہمیں اپنی حرکتوں اور اسراع کی اطلاع دیتی ہیں۔ 


ریٹینا آنکھ کی سب سے آخری تہہ ہوتی ہے۔ یہ پانچ قسم کی روشنیوں کے لیے حساس خلیوں سے بنی ہوتی ہے جس میں قائمے اور مخروطے سے سب سے اہم ہیں۔ قائمے شبپری بصار ت ( رات میں

12

بصارت کے آخذ ہوتے ہیں۔ یہ روشنی کی کم شدت میں کام کرتے ہیں اور ان سے بے رنگی بصارت ہوتی ہے۔ مخروطے رنگین بصارت (دن کی روشنی) کے آخذ ہوتے ہیں۔ یہ اعلی سطح کی روشنی میں کام کرتے ہیں اور ان سے رنگوں کی بصارت ہوتی ہے۔ ہر ایک آنکھ میں تقریباً 100ملیں قائمے اور 7ملین مخروطے ہوتے ہیں۔ مخروطے ریٹینا کے مرکزی حصہ جو کہ فوویا (fovea)کے ارد گرد ہوتا ہے ، بہت گھنے ہوتے ہیں۔ فوویا مٹر کے دانے کے برابر ایک چھوٹا دائرہ نما حصہ ہوتا ہے۔ اسے نقطہ زرد (Yellow spot)بھی کہتے ہیں ۔ یہ سب زیادہ باریک بصارت کا دائرہ ہوتا ہے۔ رنگ کے آخذوں کے علاوہ ریٹینا میں ایک خلیہ کے محوریوں کا بنڈل (جسے عصبی گھچا کہتے ہیں) بھی ہوتا ہے جوبصری عصب (Optic nerve)کی تشکیل کرتا ہے اور جو دماغ تک جاتے ہیں۔ 

آنکھ کا تفاعل (Working of the eye)

پردہ ملتحمہ قرینہ اور پتلی سے گذرتے ہوئے روشنی لینس میں داخل ہوتی ہے جو اسے ریٹینا پر فوکس کرتا ہے۔ ریٹینا دو حصوں نازَل نصف (Nasal Half) اور ٹیمپورل نصف (Temporal Half)میں تقسیم ہوتا ہے آنکھ کا اندرونی نصف حصہ (ناک کی جانب) فوویا کے مرکز کی وسطی نقطہ مانتے ہوئے، نازل نصف کہلا تا ہے۔ فوویا کے مرکز سے آنکھ کا باہری نصف حصہ (کنپٹی کی جانب) ٹیمپورل نصف کہلاتا ہے۔ داہنے ساخت بصر (بصری فیلڈ) سے آنے والی روشنی دونوں آنکھوں کے نصف داہنے حصے (یعنی بائیں آنکھ کے نیزل نصف اور داہنی) کے ٹیمپورل نصف کو متہیّج کرتی ہے۔ ریٹینا پر کسی شئے کا تمثال اُلٹا بنتا ہے۔ عصبی تحریک بصری عصب کے ذریعے بصری قشر کو ارسال کردی جاتی ہے جہاں تمثال پھر سے سیدھی ہوجاتی ہے اور اس میں عمل کاری ہوتی ہے۔ آپ شکل 5.1 میں دیکھ سکتے ہیں بصری عصب (نسیں) ریٹینا کے اس مقام سے باہر نکلتی ہیں جہاں پرروشنی کے آخذ نہیں ہوتے ہیں۔ اس مقام میں بصری تحسیس مکمل طور پر ناپید ہوتی ہے۔ اس لیے اسے کور نقطہ (Blind spot)کہتے ہیں۔ 

تطابق (Adaptation)

انسانی آنکھ روشنی کی شدتوں کے ایک بہت وسیع دائرہ میں کام کرسکتی ہے ۔کبھی کبھی ہمیں تابندگی (روشنی) کی سطحوں میں اچانک ہونے والی تبدیلی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مثلا جب ہم سنیما کا میٹنی شود یکھنے جاتے ہیں تو ہال کے اندر داخل ہونے کے بعد ہمارے لیے دیکھنا مشکل ہوجاتا ہے۔ تاہم 15 یا 20منٹ گذر جانے کے بعد ہم ہر چیزوں کو دیکھنے کے قابل ہوجاتے ہیں۔ فلم شو ختم ہوجانے کے بعد جب ہم باہر جاتے ہیں تو ہم ہال کے باہر کی روشنی اتنی زیادہ چمکیلی پاتے ہیں کہ چیزوں کو دیکھنا مشکل ہوجاتا ہے یاآنکھوں کو کھلی رکھنا دشوار ہوجاتا ہے۔ تاہم ایک منٹ کے اندر ہی ہمیں آرام محسوس ہونے لگتا ہے اور چیزوں کو دوبار اچھی طرح سے دیکھنے کے قابل ہوجاتے ہیں۔ یہ سازگاری ہال میں داخل ہونے پر ہوئی سازگاری کے مقابلہ میں جلدی ہوتی ہے۔ روشنی کی مختلف شدتوں کے ساتھ ساز گاری پیدا کرنے کا یہ عمل بصری تطابق کہلاتاہے۔ 

تطبیقِ روشنی اس عمل کو بتاتا ہے جو مدھم روشنی سے سامنا ہونے کے بعد تیز روشنی سے سازگاری پیدا کرتا ہے ۔ اس عمل کے لیے تقریباً ایک سے دو منٹ کا وقت درکار ہوتا ہے۔ جب کہ تیزروشنی سے سامنا کرنے کے بعد مدھم روشنی والے ماحول سے ساز گاری پیدا کرنے کا عمل تطبیق تاریکی کہلا تا ہے۔ یہ نصف گھنٹہ یا اس سے زیادہ وقت لے سکتا ہے جو اس بات پر منحصر ہوتا ہے کہ اس سے قبل آنکھ کی روشنی سے ایکسپوژ کی سطح کیا تھی۔ کچھ ایسے طریقے ہیں جن سے اس عمل کو آسان بنایا جاسکتا ہے۔ اس عمل کے مظاہرہ کے لیے ایک دلچسپ سرگرمی ذیل میں دی گئی ہے ۔

 سرگرمی5.1:

ایک بہت زیادہ روشن جگہ سے اندھیرے کمرہ میں جائیے اور نوٹ کیجیے کہ اس کمرہ میں واضح طو ر صاف دیکھنے کے لیے آپ کو کتنا وقت درکار ہوتا ہے۔ 

اگلی بار جب کہ آپ روشن جگہ سے اندھیرے کمرے میں جائیے اور نوٹ کیجیے کہ اس کمرہ میں واضح طور پر صاف دیکھنے کے لیے آپ کو کتنا وقت درکار ہوتا ہے۔ 

اگلی بار جب کہ آپ روشن جگہ پرہوں ایک لال چشمہ لگا لیجیے۔ اس کے بعد اندھیرے کمرے میں جائیے اور نوٹ کیجیے کہ اس کمرہ میں واضح طور پر صاف دیکھنے کے لیے آپ کو کتنا وقت درکار ہوتا ہے۔ 

آپ دیکھیں گے کہ لال چشمہ کے استعمال سے تطبیق تاریکی کے لیے درکار وقت میں بہت زیادہ کمی ہوگئی ہے۔ 

کیا اپ جانتے ہیں کہ ایسا کیوں ہوا؟ اپنے دوستوں اور استاد سے اس پر تبادلۂ خیال کیجیے ۔

روشنی اور تاریکی کے تطابق کی عکسی -- کیمیائی (فوٹو کیمیکل) بنیاد (Photochemical Basis of light and Dark Adaptation) 

 روشنی اور تاریکی کا تطابق کیوں ہوتا ہے؟ اس بات پر آپ کو حیرت ہوسکتی ہے۔ قدیم نظریہ کے مطابق مخصوص کیمیاوی عمل کی وجہ سے روشنی اور تاریکی کے تطابق قائم ہوتے ہیں۔ قائموں میں عکس - حساس کیمیاوی مادہ ہوتاہے جسے رھوڈاپسن(Rhodopsin) یا بصری ارغوانی (Visual Purle)کہتے ہیں۔ روشنی کے عمل کی وجہ سے اس کیمیاوی مادہ کے سالموں کے رنگ اُڑ جاتے ہیں یا ٹوٹ جاتے ہیں۔ اسی وجہ سے آنکھ میں روشنی میں کا تطابق واقع ہوتا ہے۔ دوسری جانب تاریکی کا تطابق اس وقت واقع ہوتا جھ جب آنکھ سے روشنی کے ہٹنے اور پھر اس حالت میں بحالی کے عمل کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وٹامن اے کی مدد سے قائموں میں رنگ کے مادوں کی دوبارہ تخلیق ہوسکے۔ قائموں میں رھوڈاپسن کے دوبارہ بننے کے عمل میں وقت درکار ہوتا ہے۔ یہ پایا گیا ہے کہ جو لوگ وٹامن اے کی کمی کے شکار ہوتے ہیں وہ تاریکی کا تطابق یکدم نہیں کر پاتے ہیں۔ یہ حالات عام طور پر شب کوری(Hight Blindness) کہلاتی ہے۔ مخروطوں کے اندر اسی کے متوازن ایک مادہ کی موجودگی مانی جاتی ہے جسے آیو ڈاپسن (Iodosin) کہتے ہیں۔ 

بصارتِ رنگ (Colour Vision)

اپنے ماحول کے ساتھ تعامل کرنے میں ہم نہ صرف مختلف اشیاء کا ہی تجربہ کرتے ہیں بلکہ ان کے رنگوں کا بھی ہمیں تجربہ ہوتا ہے۔ یہ بات ذہن نشیں کرلینا چاہیے کہ رنگ ہمارے حسی تجربہ کا ایک نفسیاتی خاصّہ ہے۔ یہ اس وقت ظہور میں آتا ہے جب ہمارا دماغ خارجی دنیا سے موصول معلومات کی تشریح کرتا ہے۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ روشنی کی وضاحت طبیعاتی طور پر لہروں کی لمبائی کے معنوں میں کی گئی ہے نہ کہ رنگ کے معنوں میں ۔ جیسا کہ ہم دیکھ چکے ہیں کہ قابل بصارت طیف توانائی کاایک حیطۂ (780-380نینو میٹر )ہے جسے ہمارے روشنی سے متعلق آخری آخذے پہچان سکتے ہیں۔ اس قابل بصارت طیف سے کم یا زیادہ توانائی آنکھ کے لیے نقصان دہ ہوتی ہے۔ قوسِ قزح یا دھنک کی طرح سورج کی روشنی بھی سات رنگوں کا ایک مکمل مرکب ہے ۔ بنقشی، نیلگوں،آسمانی، ہرا، پیلا، نارنجی اور لال قابلِ مشاہدہ رنگ ہیں، جنھیں مختصرا ً وبگیار(Vibgyour)کہتے ہیں۔

رنگ کے ابعاد (The Dimensions of Colour):

ایک شخص کی رنگ کی بصارت نارمل ہوتی ہے، رنگ کی مختلف سات ملین سے زیادہ کیفیتوں کے مابین امتیاز قائم کرسکتا ہے ۔ ہمارے رنگ کے تجربہ کی تشریح تین بنیادی ابعاد کے ذریعہ کی جاسکتی ہے جو کیفیتِ رنگ (Hue)، سیری(Saturation)اور چمک (Brightness)یا معموری کہلاتے ہیں۔ کیفیت رنگ(Hue)رنگینی کی ایک خصوصیت ہے۔ سیدھے الفاظ میں یہ رنگوں کی نشان دہی کرتا ہے ، مثلاً لال، آسمانی اور ہرا۔ کیفیت رنگ لہروں کی لمبائی کے ساتھ بدلتا ہے اور ہر ایک رنگ کی شناخت لہر کی مخصوص لمبائی سے ہوتی ہے۔ مثلاً آسمانی رنگ کی طولِ لہر تقریباً465 نینو میٹر اور ہرے رنگ کی تقریباً 500نینو میٹر ہوتی ہے۔ ایسے رنگ جو بے رنگ ہوتے ہیں، جیسے کالا، بھورا اور سفید ان میں کیفیت رنگ نہیں ہوتی ہے۔ سیری ایک نفسیاتی وصف ہے جو یہ بتاتا ہے کہ کسی سطح یا شئے کی کیفیت رنگ کا تناسبی مقدار کیا ہے۔ ایک ہی لمبائی کی لہر ( مکمل رنگ یا واحد رنگ ) اعلیٰ پیمانہ پر سیر دِکھتی ہے ۔ جیسے جیسے ہم مختلف لمبائی کی لہروں کو ملاتے جاتے ہیں ویسے ویسے سیری کم ہوتی جاتی ہے۔ بھورا رنگ مکمل طور پر غیر سیر یافتہ ہوتا ہے۔ چمک کی درک کی گئی شدت ہے ۔ یہ رنگین اور غیر رنگین رنگوں کے درمیان بدلتی رہتی ہے۔ سفید اور کالے رنگوں کو چمل کے بُعد پر سب سے بالترتیب اور پر اور سب سے نیچے رکھا جاتا ہے ۔ سفید رنگ کی چمک سب سے اعلیٰ درجہ کی ہوتی ہے جب کہ کالے رنگ کی چمک سب سے کم درجہ کی ہوتی ہے۔ 

رنگ آمیزیاں (Colour Mixtures):

رنگوں کے مابین تعلق بہت دلچسپ ہوتا ہے۔ ان سے تکمیلی جوڑے بنتے ہیں۔ جب صحیح تناسب میں آمیزش کی جائے تو وہ تکمیلی رنگ ایک بے رنگین رنگ بھورا یا سفید پیدا کرتا ہے۔ لا ل--ہرا اور پیلا --آسمانی، لال، ہرا اور آسمانی تکمیلی رنگوں کی مثالیں ہیں جنھیں بنیادی رنگ کہا جاتا ہے کیوں کہ ان تین کی آمیزش سے تقریباً کوئی بھی رنگ بن سکتاہے۔ ٹیلی ویژن کا پردہ سب سے زیادہ عام مثال ہے۔ اس کے اندر صرف آسمانی ، لال اور ہر ارنگ ہوتے ہیں۔ ان تین رنگوں کا اتصال مختلف رنگوں اور کیفیتوں کو پیدا کرتا ہے ، جنھیں ہم ٹی وی کے پردہ پر دیکھتے ہیں ۔ 

تمثال مابعد (After Image)

تمثال مابعد بصری احساس سے متعلق ایک بہت دلچسپ مظہر ہے۔ بصری مہیج کا اثر اس مہیج کے ساخت نظر یا بصری فیلڈ سے ہٹ جانے کے بعد بھی قائم رہتا ہے۔ یہی اثر تمثال مابعد کہلاتا ہے۔ تمثال مابعد مثبت اور منفی دونوں ہوتی ہیں۔ مثبت تمثال ما بعد کیفیت رنگ، سیری اور چمک کی رو سے اصل مہیج کے مشابہ ہوتی ہے۔ یہ عموماً اس وقت بنتی ہے جب کوئی مختصر مگر شدید مہیج تاریکی سے تطابق ہوئی آنکھ کو متہیج کر تا ہے ۔ جب کہ منفی تمثالیں مابعد تکمیلی رنگوں میں ظاہر ہوتی ہے۔ یہ تمثالیں اس وقت بنتی ہیں جب کوئی شخص کسی مخصوص رنگ کے دھبے کو کم از کم تیس سیکنڈ تک گھورتا ہے اور اس کے بعد کسی ایک بے اثر پس منظر (جیسے سفید یا بھوری سطح ) پر اپنی نظر منتقل کردیتا ہے۔ اگرکوئی شخص آسمانی رنگ کو دیکھتا ہے تو منفی تمثال مابعد پیلی ہوگی۔ اس طر ح سے ایک لال مہیج ہرے رنگ کا منفی تمثال مابعد دے گا۔ 

انسانی کان (The Human Ear)

کان سمعی مہیجوں کا بنیادی آخذ ہے ۔ اگر چہ سماعت اس کا خاص کام ہے لیکن یہ ہمیں اپنے جسم کا توازن برقرار رکھنے میں بھی مدد کرتا ہے۔ کان کی ساخت کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے جنھیں خارجی کان، وسطی کان اور اندرونی کان کہتے ہیں ۔(شکل5.2)

خارجی کان (External Ear):اس میں دو اہم ساختیں شامل ہیں جو بر گوش اور سمعی نالی کہلاتی ہیں۔ برگوش ایک غضر وفی قیف نما ساخت (cartilaginous funnel-shaped stucture)ہوتی ہے جو اردو گرد سے آواز کی لہروں کو جمع کرتی ہے۔ سمعی نالی ایسی نالی ہے جو بال اور موم کے ذریعہ محفوظ رہتی ہے۔ یہ آواز کی لہروں کو برگوش سے طبعی جھلّی یا کان کے پردہ تک لے جاتی ہے۔ 

وسطی کان (MIddle Ear): وسطی کان طبلی جھلی سے شروع ہوتا ہے ۔ طبلی جھلّی ایک پتلی جھلی ہوتی ہے جوصوتی ارتعاش کے لیے بہت حساس ہوتی ہے۔ اس کے پیچھے طبلی جوف (Tympanic cavity)ہوتا ہے۔ یہ ایوسٹیچین ٹیوب (Eustanchinan tube) کے ذریعے گلے کی نلی س جڑا ہوتا ہے جو طبلی جوف میں ہوا کے دباؤ کو بنائے رکھتا ہے۔ جوف سے ارتعاش تین استخوانچوں سے گزرتے ہیں جنھیں ہتھوڑا، نہانی اور کاب کہتے ہیں۔ یہ صوتی ارتعاش کی شدت کو تقریباً دس گنا بڑھادیتے ہیں اور انھیں اندرونی کان میں بھیج دیتے ہیں۔ 

اندرونی کان (Inner Ear): اندرونی کان میں ایک پیچیدہ ساخت ہوتی ہے جسے جھلی دار چکر کہتے  ہیں جو ایک استخوانی خول سے ڈھکا ہوتا ہے جسے استخوانی چکر (Bony labyrinth)کہتے ہیں۔ استخوانی اور جھلی دار چکر کے درمیان کی جگہ صاف پانی جیسا ایک رقیق مادّہ پایا جاتا ہے جسے گرداب آبِ زلال (perilymph)کہتے ہیں۔ 

استخوانی چکر میں ایک دوسرے کے ساتھ زاویہ قائمہ میں تین نصف دائرہ نما نالیاں ہوتی ہیں: ایک جوف جسے راہداری، اور ایک گھماؤ دار ساخت جسے کن گھونگا کہتے ہیں۔ نصف دائرہ نما نالیوں میں کلیات موہو تے ہیں ، جو اندازِ نشست میں تبدیلیوں اور شناختِ رخ کے لیے بہت زیادہ حساس ہوتے ہیں۔ استخوانی کن گھونگا کے اندر ایک جھلی دار کن گھونگا ہوتا ہے اسکیلا میڈیا (Scala media)کہتے ہیں۔ یہ انڈؤ لمف (endolymph)سے بھرا ہوتا ہے اور اس میں ایک گھماؤ دار گھونگے نما جھلی ہوتی ہے جسے ادنی جھلی (basilar membrane)کہتے ہیں۔ اس پر باریک خلیات جو ایک سلسلہ میں پروئے ہوتے ہیں اور کورتی عضو(oragan of corti)کی تشکیل کرتے ہیں۔ یہی سماعت کے لیے سب سے اہم عضو ہے۔ 

13

کان کا تفاعل (Working ot the Ear)

برگوش صوتی(آواز) ارتعاشوں کو جمع کرتے ہیں اور انھیں سمعی نالی کے ذریعہ طبلی جھلی تک پہنچا دیتے یہں۔ طبلی جوف سے ارتعاش تین استخوانچوں تک منتقل کردیے جاتے ہیں جو ان کی قوت کو بڑھادیتے ہیں اور انہیں اندرونی کان میں منتقل کردیتے ہیں۔ اندرونی کان میں کن گھونگا آواز کی لہروں کی موصول کرتا ہے۔ ارتعاش کے ذریعہ انڈولمف میں حرکت ہوتی ہے جو کورتی عضو کو بھی مرتعش کردیتا ہے۔ آخر میں اضطراری تحریکیں سمجی عصب کو بھیج دی جاتی ہیں جو کن گھونگے کے نیچے سے شروع ہوتی ہیں او رسمعی قشرک جاتی ہیں جہاں اضطراری تحریک کی تشریح کی جاتی ہے۔ 

آواز بہ حیثیت ایک مہیج (Sound as a Stimulus)

ہم سب لوگ جانتے یں کہ آواز کان کے لیے ایک مہیج ہے ۔ یہ خارجی ماحول میں دباؤ کے ارتعاش کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے ۔ کوئی بھی طبعی حرکت ارد گرد کے وسیلہ ( یعنی ہوا) کو درہم برہم کردیتی ہے، اور ہوا کے سالموں کو آگے اور پیچھے ڈھکیلتی ہے ۔ اس کے نتیجے میں دباؤ میں تبدیلی پیدا ہوتی ہے جو با ہر کی جانب آواز کی لہروں کی شکل میں پھیل جاتی ہے۔ اس کی رفتار تقریباً ایک ہزار ایک سو (1100) کی فٹ فی سکنڈ ہوتی ہے۔ یہ تبدیلی لہروں میں ٹھیک اسی طرح سے سفر کرتی ہے جس طرح سے کسی تالاب میں پتھر پھینک دینے سے اس میں لہریں پیدا ہوتی ہیں۔ جب یہ آواز کی لہریں ہمارے کانوں سے ٹکراتی ہیں تو وہ میکانکی دباؤ کی تبدیلیوں کا ایک سلسلہ شروع کردیتی ہیں جو بالآخر سمعی آخذوں کو فعال کرتی ہیں۔ 

سب سے زیادہ آسان قسم کی آواز کی لہر وہ ہے جس کی وجہ سے ایک ہی وقت میں پے در پے مسلسل دباؤ کی تبدیلیاں ایک واحد دوہرائی جانے والی سائن لہر کی شکل میں ہوتی ہے(5.3)۔ آواز کی لہریں اطلاقی وسعت کے ساتھ ساتھ لمبائی میں بھی الگ الگ ہوتی ہیں۔ اطلاقی وسعت مہیج کے مقدار کی ایک عمومی پیمائش ہے ۔ یہ دباؤ میں تبدیلی یعنی سالموں کا آرام کی حالت سے تبدیلی کی حد کا شمار ہے۔ شکل 5.3میں آواز کی لہر کی اطلاقی وسعت کی نمائندگی اس کی اوسط حالی سے کلغی (earst)یا انحضاض(trough)کی دوری کے طو ر پر کی گئی ہے۔ دو کلغیوں کے بیچ کی دوری طولِ لہر (لہروں کی لمبائی) کہلاتی ہے۔ آواز کی لہریں بنیادی طور پر ہو اکے سالموں کے متبادل دباؤ اور پھیلاؤ کی وجہ سے بنتی ہیں۔ سکڑاؤ سے پھیلا ؤ تک اور پھر دوبارہ سکڑاؤ ہونے تک دباؤ میں ایک مکمل تبدیلی لہر کا ایک چکر بناتی ہیں۔ 

14

آواز کی لہر کی تشریح ان کے تکریر کے طور پر کی جاتی ہے جس کی پیمائش فی سکنڈ تکریر دور کے اعتبار سے کی جاتی ہے۔ اس اکائی ہرٹز(Hz)کہلاتی ہے ۔ تکریر اور طولِ لہر میں معکوسی (الٹا) تعلق ہوتا ہے۔ جب طولِ لہر میں اضافہ ہوتا ہے تو تکریر میں کمی واقع ہوتی ہے اور طولِ لہر میں کمی واقع ہوتی ہے تو تکریر میں اضافہ ہوتا ہے۔ اطلاقی وسعت اور تکریر دونوں طبیعی ابعاد ہیں۔ ان کے علاوہ آواز کے تین نفسیاتی ابعاد بھی ہیں جنھیں بلندی (loudness)، آہنگی(pitch)اور کیفیت (timbre)کہتے ہیں۔ 

آواز کی بلند ی اس کی اطلاقی وسعت سے متعین ہوتی ہے۔ ایسی آواز کی لہریں جن کی بڑی اطلاقی وسعت والی آوازیں ہوتی ہیں بھاری اور پرشور سنائی دیتی ہیں اور جن آوازوں کی اطلاقی وسعت چھوٹی ہوتی ہے وہ ہلکی سنائی دیتی ہیں۔ بلندی کی پیمائش ڈیسبل(db)میں کی جاتی ہے۔ یہ آہنگی آواز کی بلندی اور پستی کو بتاتی ہے۔ ہندوستانی کلاسیکی سنگیت میں استعمال ہونے والی سات سُریں ان کی آہنگی میں ہونے والے بتدریج اضافہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ تکریر جتنی زیادہ ہوگی آہنگی بھی اتنی ہی زیادہ ہوگی۔ سماعت کا حیطہ عمومی طور پر 20 ہرٹز(Hz)سے 20,000ہرٹز تک ہوتا ہے۔ کیفیت (timbre)کسی آواز کی نوعیت اور خوبی کو بتاتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک کار کے انجن کی آواز اور ایک شخص کے بات کرنے کی آواز کیفیت یا صفت میں مختلف ہوتی ہیں۔ کسی آواز کی کیفیت اس آوازر کی لہروں کی پیچیدگی کی عکاسی کرتی ہے۔ فطری ماحول میں پائی جانے والی زیادہ تر آوازیں پیچیدہ ہوتی ہیں۔ 

سرگرمی 5.2:

بصارت اور سماعت کو عام طور پر دو بہت زیادہ قیمتی حسیں تصور کیا جاتا ہے ۔ سوچئے آپ کی زندگی کسی ہوتی اگر آپ نے ان میں سے کسی ایک کو کھو دیا ہوتا؟ ان میں سے کسی بھی ایک حس کا ضائع ہونا آپ کے لیے زیادہ بڑے صدمہ کا باعث ہوگا؟ سوچئے اور نیچے لکھئے کہ 

اگر آپ اپنی حسوں کی کار کردگی کو جادوئی طور پر بہت بہتر بناسکتے تو کس حس کو آپ بہتر بنا کے لیے منتخب کرتے ؟ کیوں؟ کیا جادو کے بغیر آپ اپنی اس حس کی کارکردگی کو بہتر بنا سکتے ہیں؟

اپنے استاد سے بحث کیجیے۔ سو چئے اور لکھئے ۔ 

توجہی اعمال(Attentional Processes)

اب تک ہم نے چند حسی جہتیں جو خارجی دنیا اور ہمارے داخلی نظام سے معلومات جمع کرنے میں ہماری مدد کرتی ہیں ، پر بحث کیا ہے۔ مہیجوں کی ایک بڑی تعداد ہمارے حسی اعضاء سے ٹکڑاتی ہے لیکن ہم بیک وقت ان سب کو محسوس نہیں کرتے ہیں۔ ان میں سے چند منتخب شدہ مہیجوں کوہی ہم نوٹس کرتے ہیں۔ مثلاً جب آپ اپنے کلاس روم میں داخل ہوتے ہیں تو اس کے اندر بہت سی اشیاء آپ کے سامنے ہوتی ہیں جیسے دروازے، دیواریں، کھڑکیاں، دیوار پر ٹنگی ہوئی تصویریں، میزیں، کرسیاں، طلبا، اسکول بیگ، پانی کی بوتل، وغیرہ وغیرہ۔ لیکن آپ ایک وقت میں ان میں سے صرف ایک یا دو کا انتخاب کرکے ان پر ہی مرتکز ہوتے ہیں۔ وہ عمل جس کے زریعہ مہیجوں کے گروہ میں سے کچھ مخصوص مہیجات کو منتخب کیا جاتا ہے عمومی طو ر پر توجہ کہلاتا ہے۔ 

یہاں پر اس بات پر غور کیا جاسکتاہے کہ انتخاب کے علاوہ توجہ اور بھی بہت سی دیگر خصوصیات جیسے مستعدی(alertness)،ارتکاز(concentration)اور کھوج یا تلاش (search)کی بھی نشاند ہی کرتی ہے۔ مستعدی فرد کی ان مہیجات کے ساتھ جو اس کے سامنے حاضر ہوتے ہیں برتاؤ کرنے کی تیاری کو بتاتی ہے۔ آپ نے اپنے اسکول کی دوڑ میں حصہ لینے والے شرکاء کو اسٹارٹنگ لائن پر دوڑ شروع کرنے کے لیے بجائی جانے والی سیٹی کو سننے کے لیے چوکسی کی حالت میں دیکھا ہوگا۔ ارتکاز بروقت دوسری تمام اشیاء کو چھوڑ کر کچھ خاص چیزوں پر آگہی مرکوز کرنے کے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ مثال کے طور پر کلاس روم میں ایک طالب علم ان تمام طرح کے شور شرابہ کو جو اسکول میں چاروں طرف سے آتے ہیں کو چھوڑ کر صرف استاد کے لکچر پر مرتکز ہوتا ہے۔ تلاش میں کوئی مشاہدہ کرنے والا چیزوں کے مجموعوں میں سے کچھ گنی چنی چیزوں کو تلاش کرتا ہے۔ مثال کے طور پر جب آپ بہت سارے لڑکے اور لڑکیوں میں صرف انہیں کو تلاش کرتے ہیں۔ یہ سارے اعمال لوگوں سے کچھ کوشش کا تقاضہ کرتے ہیں۔ 

توجہ کا ایک ماسکہ (مرکز)اور ایک کنارہ بھی ہوتا ہے۔ جب آگہی کا میدان ایک خاص چیز یا واقعہ پر مرکوز ہوتا ہے تو اسے ماسکہ یا توجہ کا مرکزی نقطہ کہا جاتا ہے۔ اس کے برخلاف جب چیزیں اور واقعات آگہی کے مرکز سے دور ہوتے ہیں تو فرد اُن سے بہت ہلکے طور پر آگاہ ہوتا ہے۔ کیوں کہ چیزیں اور واقعات توجہ کے کنارے پر ہوتے ہیں۔ 

توجہ کو بہت سے طریقوں سے منقسم کیا گیا ہے۔ ایک عمل رُجی (process oriented) نظریہ اس کو دوقسموں میں منقسم کرتا ہے:انتخابی توجہ (selective)اور جاری شدہ توجہ (sustained)۔ توجہ کی ان اقسام کی خاص خصوصیات پر ہم اختصار میں بحث کریں گے۔ کبھی کبھی ہم ایک ہی وقت میں دو مختلف چیزوں پر توجہ دے سکتے ہیں۔ جب ایسا ہوتا ہے تو اسے منقسم توجہ کہتے ہیں۔ باکس 5.2میں بیان کیا گیا ہے کہ کب اور کیسے توجہ میں تقسیم ممکن ہوتی ہے۔ 

انتخابی توجہ (Selective Attention)

انتخابی توجہ کا تعلق خاص طور سے بہت سارے مہیجوں میں سے محدود تعداد میں مہیجوں یا چیزوں کے انتخاب سے ہے۔ ہم نے پہلے بتایا ہے کہ ہمارے ادارکی نظام کی معلومات حاصل کرنے اور ان کی عمل کاری کرنے کی قوت محدود ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ ایک وقت میں صرف کچھ مہیجوں پر ہی کام کرسکتی ہے۔ اب یہ سوال اٹھتا ہے کہ ان بہت سے مہیجوں میں سے کون سے مہیج منتخب کئے جائیں گے اور ان کی کیا عمل کاری ہوگی؟ ماہرین نفسیات نے ایسے بہت سے عوامل بتائے ہیں جو مہیجوں کے انتخاب کا تعین کرتے ہیں۔

انتخابی توجہ کو متاثر کرنے والے عواملی 

(Factors Affecting Selective Attention)

انتخابی توجہ کو متاثر کرنے والے بہت سے عوامل ہیں۔ ان کا تعلق عام پر مہیجوں کی خصوصیات اور افراد کی خصوصیات سے ہوتا ہے۔ انہیں عام طور پر ’’خارجی‘‘اور ’’داخلی‘‘عوامل کی حیثیت سے زمرہ بند کیا گیا ہے۔ 

خارجی عوامل کا تعلق مہیجات کی خصوصیات سے ہوتا ہے۔ اگر دیگر باتیں یکساں ہوں تو مہیجات کی جسامت (سائز) ، شدت اور حرکت توجہ کے تعین کرنے والے اہم عوامل ہوتے ہیں۔ بڑے ، چمکیلے اور حرکت پذیر مہیجات ہماری توجہ بہ آسانی سے اپنی طرف کھینچ لیتے یں۔ ایسے مہیجات بھی جو انوکھے اور متعدی طور پر پیچیدہ ہوں ، ہمارے ماسکہ، فوکس میں آسانی سے آجاتے ہیں ۔ مطالعات اس جانب اشارہ کرتے ہیں کہ انسانوں کے فوٹو گراف کی طرف تونہ مبذول کرنے کا امکان بے جان اشیا کے فوٹوگراف کے مقابلہ میں زیادہ ہوتا ہے۔ اسی طرح سے موزونیت لیے ہوئے سمعی مہیجات لفظی بیانات کے مقابلہ میں با آسانی توجہ مبذول کرلیتے ہیں۔ اچانک اور شدید مہیجات توجہ کو مبذول کرنے کی ایک انوکھی صلاحیت رکھتے ہیں۔

داخلی عوامل افراد کے اندر ہوتے ہیں۔ انہیں دواہم زمروں میں تقسیم کیا جاسکتاہے۔ یہ محرکی عوامل اور وقوفی عوامل کہلاتے ہیں۔ 

باکس 5.2منقسم توجہ 

روزمرہ کی زندگی میں ہم ایک وقت میں بہت سی اشیا کی جانب متوجہ ہوتے ہیں۔ آپ نے ایسے لوگوں کو ضرور دیکھا ہوگا جو کار چلاتے ہوئے کسی دوست سے باتیں کررہے ہوتے ہیں، یا موبائل پر کسی سے بات کررہے ہوتے ہیں، یا دھوپ کا چشمہ اپنی آنکھوں پر لگارہے ہوتے ہیں یا موسیقی سن رہے ہوتے ہیں۔ اگر ہم انہیں قریب سے دیکھیں تو پائیں گے کہ وہ دیگر سرگرمیوں کے مقابلہ کار کی ڈرائیونگ کے لیے اپنی کوششوں کا زیادہ حصہ مختص کرتے ہیں، اگرچہ کچھ توجہ وہ ان دیگر سرگرمیوں پر بھی دیتے ہیں۔ یہ اس بات کی جانب اشارہ کرتا ہے کہ کچھ مخصوص مواقع پر توجہ بیک وقت ایک سے زیادہ اشیاء پر مختص کی جاسکتی ہے۔ تاہم یہ اسی وقت ممکن ہے جب سرگرمیوں کی مشق اعلیٰ پیمانہ کی ہو، کیونکہ پھر وہ قریب قریب خودکار ہوجاتی ہیں اور ان کی انجام دہی کے لیے کم مشق شدہ سرگرمیوں کے مقابلہ میں کم توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ 

خود کار عمل کاری کی تین خصوصیات :(i)یہ غیر ارادی طور پر وقوع ہوتی ہے ۔ (ii)یہ لاشعوری طور پر ہوتی ہے۔ (iii)اس میں بہت تھوڑے ( یا بالکل نہیں)تکفیری عوامل شامل ہوتے ہیں ۔ (یعنی ہم الفاظ کو پڑھنے یا جوتے کے فیتے باندھنے جیس سرگرمیوں کو ان پر غور وفکر کیے بغیر انجام دے سکتے ہیں۔)

محرکی عوامل کا تعلق ہماری حیاتیاتی یا سماجی ضروریات سے ہے۔ جب ہم بھوکے ہوتے ہیں تو کھانے کی بہت ہلکی بو کو بھی سونگھ لیتے ہیں۔ ایک طالب علم جو امتحان دینے والا ہو، دیگر طالب علموں کے مقابلہ میں استاد کی ہدایات پر زیادہ توجہ دیتا ہے۔ وقوفی عوامل میں دلچسپی ، رویہ، حالت آمادگی جیسے عوامل شامل ہیں۔ جو اشیاء یا واقعات دلچسپ لگتے ہیں ان کی جانب لوگ بہ آسانی متوجہ ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح سے ان مخصوص اشیاء یا واقعات پر ہم اپنی توجہ جلدی مبذول کر دیتے ہیں جن کی جانب ہماری افتاد طبع سازگار ہوتی ہے۔ حالت آمادگی ایک مخصوص انداز میں کام کرنے کے لیے ذہنی حالت ہے جو فرد کو ایک ہی طرح مہیجات کے لیے مخصوص جوابی عمل کرنے کے لیے آمادہ کرتی ہے۔ 

انتخابی توجہ کے نظریات 

(Theories of Selective Attention)

انتخابی توجہ کے عمل کی وجاھت کے لیے بہت سے نظریات دئے گئے ہیں۔ ان نظریات میں سے تین نظریوں پر ہم مختصرا ً بحث کریں گے۔ 

فلٹر تھیوری (فلٹر نظریہ)براڈ بینٹ (Broadbent)نے 1956میں تھی۔ اس نظریہ کے مطابق بیک وقت بہت سے مہیجات ہمارے آخذوں میں داخل ہوتے ہیں جن کی وجہ سے’’تنگ راستہ‘‘ (bottleneck)جیسی حالت پیدا ہوتی ہے ۔ قلیل مدتی حافظہ کے نظام سے ہوتے ہوئے یہ انتخابی فلٹر میں داخل ہوتے ہیں جو صرف ایک مہیج کو عمل کاری کی اعلیٰ سطحات پہنچنے کی اجازت دیتا ہے۔ دیگر مہیجات اس لمحہ کردئے جاتے ہیں۔ اس طرح ہم صرف اسی مہیج سے واقف ہو پاتے ہیں جس کی رسائی انتخابی فلٹر کے ذریعہ طویل مدتی حافظہ تک ہوتی ہے۔ 

فلٹر ضعف نظریہ :(Filter-attenuation theory)ٹیریز مین (Triesman)نے 1962 میں بروڈبینٹ کے نظریہ میں ترمیم کرنے کے بعد دیا۔ اس نظریہ میں بتایا گیا ہے کہ وہ مہیجات جو وقت کے کسی ایک لمحہ میں انتخابی فلٹرنگ کی رسائل حاصل کر پاتے ہیں وہ مکمل طور پر روک نہیں دئے جاتے ہیں۔ فلٹر صرف ان کی قوت کو کم (کمزور)کردیتے ہیں۔ اس طرح سے کچھ مہیجات عمل کاری کی اعلی سطحوں تک پہنچنے کے لیے انتخابی فلٹر سے بچ نکلنے کا انتظام کرلیتے ہیں۔ یہ پایا گیا ہے کہ اپنی ذات سے متعلق مہیجات (جیسے اجتماعی عشائیہ میں اپنا نام) اس وقت بھی نوٹس کیا جاتا ہے جب وہ بہت دھیمی پا پست آواز میں لیا گیا ہو۔ اس طرح مہیجات اگرچہ کافی کمزور ہوتے ہیں پھر بھی انتخابی فلٹر سے سرک کر موقعہ درموقعہ جوابی عمل پیدا کرسکتے ہیں۔ 

کثیر طرز نظریہ (Multimode theory)جانسٹن اورہینز (Johnston and Heinz)نے 1978میں دیا ہے۔ اس نظر یہ کے مطابق توجہ ایک لیچیلا نظام ہے جو بہت سے مہیجوں میں سے کسی ایک مہیج کے انتخاب کی اجازت تین مراحل میں دیتا ہے۔ پہلے مرحلہ میں مہیجات کی حسی نمائندگی (جیسے بصری تمثال) تشکیل پاتی ہے، دوسرے مرحلہ پر معنیاتی نمائندگی (جیسے اشیاء کا نام)تشکیل پاتی ہے، اور تیسرے مرحلہ پر معنیاتی نمائندگی شعور میں داخل ہوتی ہے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ زیادہ عمل کاری کے لیے زیادہ ذہنی مشقت کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب پیغامات کا انتخاب پہلے مرحلہ کی عمل کاری (جلدی انتخاب)کی بنیاد پر ہوجاتا ہے تو اس میں تیسرے مرحلہ کی عمل کاری (جلدی انتخاب)کی بنیاد پر ہو جاتا ہے تو اس میں مرحلہ کی عمل کاری (دیر میں انتخاب )پر مبنی انتخاب کے مقابلہ میں کم ذہنی مشقت کی ضرورت پڑتی ہے۔ 

جاری شدہ توجہ (Sustained Attenation)

انتخابی توجہ کا تعلق خاص طور پر مہیجات کے انتخاب سے ہوتا ہے جب کہ جاری شدہ توجہ کا تعلق ارتکاز سے ہوتا ہے۔ اس سے مراد کسی شئے یا واقعہ پر ہماری توجہ کی زیادہ مدت تک بنائے رکھنے یا قائم رکھنے کی صلاحیت سے ہے۔ اسے ’’چوکسی‘‘ (vigilance)کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ کبھی کبھی لوگوں کو کسی ایک مخصوص کام پر کئی گھنٹوں تک ارتکاز کرنا پڑتا ہے۔ ہوائی ٹریفک (آمد ورفت)کو کنٹرول کرنے والے اور رڈار کو پڑھنے والے لوگ اس کی بہترین مثالیں پیش کرتے ہیں۔ ان کو اسکرین پر ملنے والے سگنل کو مستقبل طور پر دیکھنا اور مانیٹر کرنا پڑتا ہے۔ اس طرح کے حالات سگنل کی نشان دہی کی پیشنگوئی ناممکن ہوتی ہے اور اس کی نشان دہی میں غلطی مہلک ہوسکتی ہے۔ اس لیے ان حالات میں بہت زیادہ چوکسی کی ضرورت ہوتی ہے۔ 

جاری شدہ توجہ کی مدت کو متاثر کرنے والے عوامل 

(Factors Influencing Sustained Attention)

بہت سے ایسے عوامل ہیں جو کسی فرد کی جاری شدہ توجہ کے فعل پر کار کر دگی کو آسان بنا سکتے ہیں یا اس میں رکاوٹ پیدا کرسکتے ہیں۔ حسی جہت (sensory modality)ان میں سے ایک ہے۔ جب مہجات (جنھیں سگنل کہا جاتا ہے) سمعی ہوتے ہیں تو کارگردگی بہتر ہوتی ہے بنسبت اس وقت کے جب وہ بصری ہوتے ہیں ۔ مہجات کی شفافیت ایک دوسرا عامل ہے۔ شید نوعیت کا دیر میں ختم ہونے والا مہیج جاری شدہ توجہ کو آسان کردیتا ہے اور اس کے نتیجہ میں کار گردگی اور بہتر ہوجاتی ہے۔ زمانی غیر یقینیت ایک تیسرا عامل ہے۔ جب مہیجات وقت کے ایک باضابطہ وقفہ میں سامنے آتے ہیں تو وہ بے ضابطہ وقفہ میں آنے والے مہیجات کے مقابلہ میں اچھی طرح سے توجہ مبذول کرتے ہیں۔ مکانی غیر یقینت ایک چوتھا عامل ہے۔ مہیجات جو ایک ، متعینہ مقام مقام پر سامنے آتے ہیں آسانی سے توجہ حاصل کرلیتے ہیں جب کہ ان مہیجات جو بے ترتیب مقامات پر رونما ہوتے ہیں بمشکل توجہ حاصل کرپاتے ہیں۔ 

توجہ کے بہت سے عملی پہلو ہیں۔ ایک نظر میں توجہ میں آنے والی اشیا کی تعداد کتنی ہوسکتی ہے۔ اس کا استعمال موٹر سائیکل اور کاروں کی نمبر پلیٹ کو ڈیزائن کرنے میں کیا جاسکتا ہے تاکہ ٹریفک پولیس ٹریفک کے قانون توڑے جانے کی حالت میں بہ آسانی انھیں مندرج (نوٹس)کرسکیں (باکس 5.3)۔ بچوں کی ایک بڑی تعداد اسکول میں اچھی کارکردگی انجام دینے میں توجہ کے مسئلہ کی وجہ سے ناکام رہتی ہے۔ باکس 5.4میں توجہ کی بد نظمی یا خلل کے بارے میں کچھ دل چسپ معلومات دی گئی ہیں۔ 

باکس 5.3توجہ کی وسعت

مہیجات کو موصول کرنے کی ہماری توجہ صلاحیت محدود ہوتی ہے۔ ایک بہت ہی مختصر ایکسپوذر(یعنی ایک سکنڈ کے بہت چھوٹے وقفہ )پر جنتی اشیا ء پر کوئی شخص توجہ دے سکتا ہے اس کی تعداد ہی ’’وسعت توجہ‘‘ یا ’’ ادراکی توجہ‘‘ کہلاتی ہے۔ مخصوص طور پر وسعت ِ توجہ سے مراد معلومات کی وہ مقدار ہوتی ہے جو ایک مشاہدمہیجات کی ایک پیچیدہ یا مرکب صف (مجموعہ)کو صرف ایک واحد لمحہ کے لیے ہی دکھائے جانے پر اسے درک کرلے۔ اس کا تعین ایک آلہ جسے ’’ٹیچیٹوسکوپ‘‘کہتے ہیں کے ذریعہ کیا جاسکتاہے ۔ مِلر(Miller)نے بہت سے اختبارات کی بنیاد پر بتایاکہ وسعتِ توجہ سات سے زیادہ یا دو کم کے اندر تغیر پذیر رہتی ہے۔ یہ عام طور سے ’’جادوئی عدد‘‘(magic number)کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوتاہے کہ لوگ ایک وقت میں پانچ سے سات اعداد کے مجموعہ مہیج پر توجہ دے سکتے ہیں جن کی توسیع غیر معمولی حالات میں نو(9)یا اس سے زیادہ تک ہوسکتی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ موٹرسائیکل اور کاروں کی نمبر پلیٹیں اعداد اور حروف پر مشتمل ہوتی ہے تاکہ درائیونگ کے قوانین کو توڑنے کی حالت میں ٹریفک پولس ان نمبروں کو ان کے حروف کے ساتھ بہ آسانی پڑھ سکے اور انہیں نوٹ کرسکے۔

ادراکی اعمال (Perceptual Processes)

اس سے قبل ہم نے دیکھا کہ حسی اعضا کا تہیج ہمیں مختلف چیزوں جیسے روشنی کی چمل یا آواز، یا بو کا تجربہ کراتا ہے۔ یہ ابتدائی تجربہ جسے تحیس کا نام دیا گیا ہو، ہمیں اس مہیج کے بارے میں جو کہ ہمارے عضو کو منہج کرتا ہے۔ کوئی معلومات فراہم نہیں کرتا ہے۔ مثال کے طور پر یہ ہمیں روشنی، آواز یابو کے مخرج یا ذرائع کے بارے میں کوئی معلوم نہیں دیتا ہے۔ حسی نظام کے مہیاکردہ خام مواد کو بامعنی بنانے کے لیے ہم اس پر مزید عمل کاری کرتے ہیں۔ ایسا کرتے وقت ہم 

باکس 5.4 توجہ کی زیادتی فعالی خلل یا بدنظمی (اے ۔ ڈی ۔ ایچ ۔ ڈی )

یہ کرداری بدنظمی بہت عام ہے جو ابتدائی اسکول کے عمر والے بچوں میں پائی جاتی ہے۔ اس کی توصیف اضطرایت، بے حد زیادہ حرکی سرگرمی اور توجہ دینے کی نااہلیت سے کی جاتی ہے۔ یہ بدنظمی لڑکیوں کے مقابلہ لڑکوں کے اندر زیادہ پائی جاتی ہے۔ اگر اسے صحیح ڈھنگ سے نہ نمٹا جائے تو یہ نو بلوغیت اور بلوغیت میں بھی جاری رہ سکتی ہے۔ توجہ کو جاری رکھنے میں مشکل ہونا اس خلل کی مرکزی خصوصیت ہے جو بچوں کی دوسری بہت سی سرگرمیوں میں بھی ظاہر ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر ایسے بچوں کی توجہ جلد ہٹ جاتی ہے ، وہ ہدایات کا اتباع نہیں کرتے ہیں، اپنے والدین کے ساتھ ساتھ نہیں چل پاتے ہیں، اور ان کے ہم عمر بچوں کا نظریہ ان کے بارے میں منفی ہوتاہے۔ وہ اسکول میں کمزور ہوتے ہیں اور اس حقیقت کے باوجود کہ ان کے ذہن میں کسی طرح کی کوئی کمی نہیں ہوتی ہے، انہیں اسکول میں بنیادی مضامین کی آموزش اور مطالعہ میں دشواری ہوتی ہے۔ 

اس بدنظمی کے بارے میں کیے گئے مطالعے عام طور پر اس کی حیاتیاتی بنیاد کے لیے ثبوت فراہم نہیں کرتے ہیں جب کہ اس بدنظمی کا کچھ تعلق غذائی عوامل خاص طور پر غذائی رنگ سے پایا جاتا ہے ۔ دوسری جانب سماجی، نفسیاتی عوامل (جیسے گھر کا ماحول، خاندانی امراض) دوسرے اور عوامل کے مقابلہ میں اے۔ ڈی۔ ایچ۔ ڈی کے لیے زیادہ معتبر طور پر ذمہ دار پائے گئے ہیں۔ حال میں اے ڈی۔ ایچ۔ ڈی۔ کے بارے میں مان لیا گیا ہے کہ اس میں بہت سی وجہیں اور اثرات (علت ومعلول) شامل ہوتے ہیں۔ 

اے ۔ ڈی۔ ایچ۔ ڈی کے علاج کے سب سے مؤثر طریقہ پر ابھی اتفاق نہیں ہوپا یا ہے۔ ایک دوا جسے ریٹالن (Rtialin)کہتے ہیں، سب سے زیادہ استعمال ہوتی ہے۔ یہ بچوں کی حد سے تجاوز سرگرمی اور اختلال کو گم کردیتی ہے اور اس کے ساتھ ہی توجہ دینے اور ارتکاز کرنے کی قابلیت کو بڑھادیتی ہے۔ تاہم یہ مرض کا کُلّی طور پر علان نہیں کرپاتی ہے ، اور اکثر اس کے منفی اثرات جیسے قد اور وزن کی طبعی نمو کا کم ہوجانے ، کی شکل میں ظاہر ہوتے ہیں۔ دوسری جانب کرداری مینجمنٹ پروگرام جس میں مثبت تقویت آور آموزش کے سامان اور اشیا ء کو اس طرح مرتب کیا جاتا ہے کہ غلطیاں کم سے کم ہوں اور بازرسانی وکامیابی زیادہ سے زیادہ ہو، کافی مفید پائے گئے ہیں۔ 

اے ۔ ڈی۔ ایچ۔ ڈی کی کامیاب توضیح کے لیے وقوفی کردار ی تربیتی پروگرام کو بھی موزوں پایا گیا ہے اس میں حسب خواہش کردار کے میں انعامات کو لفظی خود ہدایت (رک جاؤ، سوچواو رپھر کرو)کے استعمال کی تربیت کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے۔ اس طریق کار کے ذریعہ اے۔ ڈی۔ ایچ۔ ڈی۔والے بچے اپنی توجہ کو جلد نہ ہٹانا اور غور وفکر کے ساتھ کردار کو کرنا سیکھ جاتے ہیں یعنی وہ ایسی آموزش کرلیتے جو وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ نسبتاً زیادہ پائیدار ہوتی ہے۔ 

مہیجات کو آپنی آموزش ، حافطہ ، تحریک، جذبات اور دیگر نفسیاتی عملوں کا استعمال کرنے کے بعد معنی دیتے ہیں۔ وہ عمل جس کے ذریعہ ہم اعضا ء حس کے ذریعے مہیا کردہ معلومات کو پہچانتے اور اس کی تشریح کرتے اور بامعنی بناتے ہیں ادراک کہلا ہے۔ مہیجوں ، وقوعوں اور افراد کی تشریح کرتے وقت انسان اکثر ان کاتخیلی تصور اپنے طور پر کرلیتا ہے۔ اس طرح سے ادراک خارجی یا داخلی دنیا کی اشیاء یا واقعات کی موجودہ حالت کی محض تشریح نہیں ہے، بلکہ یہ اپنے نقطۂ نظر سے ان اشیاء یا واقعات کا ایک تصور بھی ہے۔ 

معنی دینے کے عمل کچھ ذیلی عمل بھی شامل ہوتے ہیں۔ یہ شکل 5.4میں دکھائے گئے ہیں۔ 

ادراک میں عمل کاری کے زاویے

(Processing Appoaches in Perception)

کسی شئے کی شناخت ہم کیسے کرتے ہیں؟ کیا ہم ایک کتے کی شناخت اس لیے کرتے ہیں کیوں کہ ہم نے پہلے اس کے فرد جیسے بالوں، اس کے چار پیروں ، اس کی آنکھوں ، کانوں وغیرہ وغیرہ کو پہچانا اور ہم نے اس سب مختلف حصوں کو اس لیے پہچان لیا کیوں کہ ہم نے پہلے ہی کتے کی شناخت کرلی تھی؟ یہ تصور کے پہچان کا عمل حصوں یا اجزا سے شروع ہوتا ہے جو کل کی پہچان کے لیے بنیاد کے طور پر کام کرتا ہے۔ اسے اُلٹی یا پیندا- اور پر عمل کاری (bottom-up processing)کہتے ہیں۔ یہ تصور کہ پہچان کا عمل کل سے شروع ہوتا ہے جو اس کے مختلف اجزاء کی شناخت کی جانب لے جاتا ہے، چوٹی-نیچے عمل کا ری (Top-down processing) کہلاتا ہے۔ پیندا - اوپر طرزِ نظر ادراک مہیجوں کی خصوصیات پر زور دیتا ہے اور ادراک کو ایک ذہنی تعمیر کے عمل کی حیثیت سے سمجھتا ہے۔ چوٹی-نیچے طرز نظر مدرک پر زور دیتا ہے اور مانتا ہے کہ اداراک مہیجوں کے پہچاننے اور شناکت کرنے کا عمل ہے ۔ تحقیقات سے یہ بات واضح ہوئی ہے کہ اداراک میں دونوں عمل ایک دوسرے کے ساتھ تعامل کرتے ہیں تاکہ ہمیں دنیا کی تفہیم مہیا کراسکیں۔ 

مدرک (The Perceiver)

انسان خارجی دنیا سے صرف مہیجوں کا مشینی اور انفعالی وصول کنندہ ہی نہیں ہے بلکہ وہ تخلیقی ہستی بھی ہے اور خارجی دنیا کو اپنے طو پر سمجھنے کی کوشش کرتا ہیں۔ اس عمل میں مدرک کے محرکات اور توقعات ، ثقافتی معلومات ، گذشتہ تجربات اور حافظے کے ساتھ ساتھ اقدار ، عقائد اور روئیے خارجی دنیا کو معنی دینے میں اہم رول اداکرتے ہیں۔ ان میں سے چند عوامل کی تشریح یہاں کی گئی ہے۔ 

تحریک(Motivation)


15

شکل 5.4: ادراک کے اعمال کے جزو

مہیج

حسی آخذ

توجہ

مرکزی نظام عصبی (دماغ)، آموزش، حافظہ اور دیگر نفسیاتی اعمال

ادراک

کسی مدرک کی ضروریات اور خواہشات اس کے ادراک کوبہتزیادہ متاثر کرتی ہیں۔ لو گ مختلف ذرائع سے اپنی ضروریات اور خواہشات کو پوری کرنا چاہتے ہیں۔ اس کا ایک طریقہ یہ ہے کہ ایک تصویر میں معروجات کا اداراک ان اشیاء کی حیثیت سے کریں جو ان کی ضرورت کو پوری کرتے ہوں ۔ اداراک پر بھوک کے اثر کو جاننے کے لیے اختبار کیے گئے ۔ جب بھوکے لوگوں کے مقابلے میں ان کا ادراک غذائی اشیاء کی حیثیت سے زیادہ کیا۔ 


توقعات یا ادراکی حالتِ آمادگی 

(Expectations or Perceptual sets)

توقعات کہ ہم کسی حالت میں کیا محسوس کریں گے ہمارے ادراک کو متاثر کرتی ہیں۔ ادراکی آشنائی یا ادراکی تعمم کا یہ مظہر ہمارے اس رجحان کی عکاسی کرتا ہے کہ ہم کیا دیکھنا چاہتے ہیں چاہے اس کا نتیجہ باہری دنیا کی عکاسی کرے یا نہ کرے ۔ مثال کے طور پرا گر آپ کو دودھ پہنچانے والا روزانہ تقریباً ساڑھے پانچ بجے صبح آپ کے دروازہ پر دستک دیتا ہوتو آپ کے ذریعہ اس وقت پر دروازہ پر کسی بھی دستک کو دوچھ پہنچانے والے کی موجودگی کے طور پر درک کئے جانے کا امکان زیادہ ہوتا ہے ۔ 

وقوفی اسلوب (Cognitive Styles)

وقوفی اسلوب سے مراد اپنے ماحول کے ساتھ یکساں طریقہ سے برتاؤ کرنا ہوتا ہے۔ یہ ماحول کے ادراک کو معنی خیز طریقہ سے متاثر کتا ہے۔ اپنے ماحول کے ادراک میں لوگ کئی طرح کے وقوفی اسلوبوں کا استعمال کرتے ہیں۔ ’’ساحت منحصر اور ساخت آواز‘‘(Field Dependent and field independent)وقوفی اسلوبوں کا استعمال مطالعوں میں سب سے زیادہ کیا گیا ہے۔ ساحتی منحصر لوگ خارجی دنیا کو اس کی مجموعیت میں یعنی مجموعی یا کلی طریقہ پر درک کرتے ہیں ، جب کہ ساحتی آواز لوگ خارجی دنیا کو چھوٹی چھوٹی اکائیوں میں توڑ کر یعنی تجزیاتی یا تفرقی طور پر درک کرتے ہیں۔ 

16

شکل 5.5: سی ۔ ای۔ ایف ۔ ٹی۔

شکل 5.5کو دیکھئے ۔ کیا آپ تصویر کے اندر چھپے مثلث کو دیکھ سکتے ہیں؟ اسے ڈھونڈھنے میں آپ کو کتنا وقت لگا؟ اپنے درجہ کے دوسرے طالب علموں سے مثلث کو ڈھونڈ نکالنے کے لیے کہئے اور اسے ڈھونڈنے میں ان کے ذریعہ لیے گئے وقت کوبھی نوٹ کیجیے۔ جو لوگ اسے جلدی کرلیتے ہیں وہ ’’ساحتی آزاد‘‘ کہلائیں گے اور جو لوگ زیادہ وقت لیتے ہیں وہ ’’ ساحتی منحصر ‘‘ کہلائیں گے۔ 

سرگرمی5.3توقعات کے مظاہرہ کے لیے اپنے دوست سے کہیے کہ وہ اپنی آنکھیں بند کرلے۔ آپ تخت (بورڈ) پر 15,14,13,12لکھئے۔ اپنے دوست سے کہیے کہ وہ 5سکنڈ کے لیے اپنی آنکھیں کھول لے اور بورڈ دیکھے اور اس نے جو بھی دیکھا ہے اسے محفوظ (نوٹ) کرلے۔ 15, 14, 12کی جگہ پر A, 13, C, Dدوہرائیے ۔ اس سے دوبارہ کہیے کہ اس نے جو دیکھا اسے نوٹ کرلے ۔ زیادہ تر لوگ 13کی جگہ Bلکھیں گے۔ 


ثقافتی پس منظر اور تجربات 

(Cultural Background and Experiences)

ثقافتی پس منظر میں لوگوں کو ملنے والے الگ الگ تجربات اور آموزش کے مواقع ان کے اداراک کو متاثر کرتے ہیں۔ تصویروں سے عاری ماحول سے آنے والے ولگ تصاویر کے اندر اشیا کو پہچاننے میں ناکام رہتے ہیں۔ ہِڈسن (Hidson)نے افریقی تصویر کے ادراک کا مطالعہ کیا اور بہت سی دشواریوں کو نوٹ کیا۔ ان میں سے بہت سے لوگ تصویر دکھائی گئی اشیاء (جیسے بارہ سنگار، نیزہ) کو شناخت کرنے میں ناکام رہے اور انھوں نے تصاویرکی تشریح بھی غلط کی۔ اِسکیمو لوگ برف کی مختلف اقسام کے درمیان بہت عمدہ تفریق کرتے پائے گئے جب کہ ہم لوگ اسے نوٹس کرنے میں ناکام ہوسکتے ہیں۔ سائبیریا خطہ کے کچھ قدیم گروہ رینڈیّر (ٹھنڈے علاقوں میں پائے جانے والا ہرن) کی کھال کے درجنوں رنگوں کے مابین امتیا ز کرلیتے ہیں جب کہ ہم لوگ ایسا نہیں کرپائیں گے۔ 

یہ مطالعہ بتاتاہے کہ اداراک کے عمل میں مدرک ایک بہت اہم رول ادا کرتا ہے ۔ لوگ مہیّجات کی عمل کاری کرتے ہیں ان کی اپنے طریقہ سے تشریح کرتے ہیں جس کا انحصار ان کی ذاتی ،سماجی اورثقافتی حالات پر ہوتا ہے۔ ان عوامل کی وجہ سے ہمارا ادراک نہ صر عمدگی کے ساتھ ہم آہنگ ہوتا ہے بلکہ ترمیم بھی ہوتا ہے ۔ 

ادراکی تنظیم کے اُصول 

(Principles of percemtual organisation)

ہمار ا ساحت نظر بصری میدان مختلف اجزاء جیسے نقطوں، لکیروں اور رنگوں کا ایک مجموعہ ہے۔ تاہم ان اجزا کا منظم یا کل یامکمل اشیا کی طرح درک کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک بائیسکل کو مکمل شئے کی طرح دیکھتے ہیں نہ کہ مختلف اجزاء (جیسے گدی ، پہیہ ، ہینڈل)کے ایک مجموعہ کی شکل میں۔ ساحت نظر کو بامعنی کل میں منظم ہونے کے عمل کی صورت یا ہیئت کا ادراک (Form Perception)کہتے ہیں۔ 

آپ کو حیرت ہوسکتی ہے کہ کسی شئے کے مختلف اجزاء ایک بامعنی کل میں کیسے منظم ہوتے ہیں۔ آپ یہ بھی پوچھ سکتے ہیں کیا تنظیم کے اس عمل کو آسان بنانے یا اس میں رکاوٹ ڈالنے والے کچھ مخصوص عوامل بھی ہیں۔ 

بہت سے ماہرین نفسیات ایسے سوال کا جواب دینے کی کوشش کرچکے ہیں، لیکن سب سے زیادہ قابل قبول جواب ماہرین نفسیات کے ایک گروہ نے دیا جنہیں گیسٹالٹ ماہرین (Gestalt Psychologists)کہا جاتا ہے ۔ ان میں کوہلر ، کوفکا اور وردائمر (Kohler, koffka and Werthimer))مشہور ہیں۔ گیسٹالٹ کا مطلب ہوتا ہے کہ ایک باقاعدہ شکل کی ایک صورت یا ہیئت -- گیسٹالٹ ماہرین نفسیات کے مطابق مختلف مہیجوں کو ہم جدا جدا اجزاء کی حیثیت سے درک نہیں کرتے ہیں بلکہ ایک منظم ’’کل‘‘ جو کہ ایک واضح شکل لیے ہوتا ہے، کی حیثیت سے درک کرتے ہیں۔ انہیں یقین تھا کہ کسی شئے کی صورت اس کے کل میں ہوتی ہے، جو کہ اس کے اجزاء کے مجموعے سے مختلف ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر ایک گل دان پھولوں کے ایک گچھے کے ساتھ ایک ’’کل ‘‘ ہے۔ اگرپھول ہٹا دیے جائیں تب بھی گلدان ایک ’’کل‘‘ ہی رہتا ہے۔ یہ صرف گلدان کاتشکل یا وضع ہے جو تبدیل ہوا ہے۔ پھولوں کے ساتھ گلدان ایک تشکل ہے اور پھولوں کے بغیر یہ اس کا دوسر اتشکل ہے۔ 

گیسٹالیٹ ماہرین نفسیات نے یہ بھی بتایا کہ ہمارے مغزی اعمال ہمیشہ اچھی شکل یا خوبصورتی یا پرگنانز(pragnanz)کے ادراک کی جانب شناخت رخی ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم تمام چیزوں کا ادراک ایک منظم شکل میں کرتے ہیں۔ سب سے اولین تنظیم شکل اور پس منظر کی صورت میں رونما ہوتی ہے۔ جب ہم کسی سطح کو دیکھتے ہیں تو سطح کے کچھ خاص پہلو واضح طور پر ایک علیحدہ ہستی یا وجود کے طور پر صاف طریقہ سے الگ ہوجاتے ہیں جب کہ دوسرے الگ نہیں ہوتے ہیں۔ مثلاً جب ہم ایک صفحہ پر الفاظ یا دیوار پر ٹنگی پینٹنگ، یا آسمان میں اڑتی ہوئی چڑیا دیکھتے ہیں تو الفاظ پینٹنگ اور چڑیا پس منظر سے الگ ہو جاتے ہیں اور ہم انھیں شکلوں کے طور پر درک کرتے ہیں جب کہ صفحہ، دیوار اور آسمان شکل کے پیچھے ہوتے ہیں اور پس منظر کی حیثیت سے ان کا ادراک ہوتا ہے۔ 

اس تجربہ کی آزمائش کے لیے ذیل میں دی گئی شکل 5.6 ملاحظہ کیجیے۔ آپ یا تو شکل کا سفید حصہ دیکھیں گے جو ایک گلدان جیسا دِکھتا ہے، یا پھر شکل کا کالا حصہ دیکھیں گے جو دو چہروں کی طرح دکھائی دیتا ہے ۔ 

17

شکل 5.6 : روبن کا گلدان

ہم پس منظر سے شکل کا امتیاز مندرجہ ذیل خصوصیات کی بنیاد پر کرتے ہیں:

1.  شکل کی پس منظر کے مقابلہ میں ایک واضح صورت ہوتی ہے۔ 

2. شکل پس منظر کے مقابلہ میں زیادہ منظم ہوتی ہے۔ 

3.شکل میں ایک واضح خط ارتفاع(cortour)یا آؤٹ لائن ہوتا ہے جب کہ پس منظر میں خط ارتفاع نہیں ہوتا ہے۔ 

4.    شکل کے پس منظر سے الگ ہوتی ہے جب کہ پس منظر شکل کے پیچھے پھیلا ہوا ہوتا ہے۔ 

5.   شکل زیادہ واضح ،محدود اور نسبتاً قریب معلوم ہوتی ہے جب کہ پس منظر اس کے مقابلہ میں غیر واضح، لامحدود اور ہم سے دو رمعلوم ہوتی ہے۔ 

مذکورہ بالا مباحثہ سے یہ واضح ہوتا ہے کہ انسان دنیا کا ادراک منظم کل میں کرتے ہیں نہ کہ، الگ الگ اجزاء میں۔ گیسٹالٹ ماہرین نفسیات نے اس کی وضاحت کے لیے کہ ہماری ساحت نظر میں مختلف مہیجات کیسے اور کیوں بامعنی کل اشیاء کی شکل میں منظم ہوتے ہیں، کئی قوانین پیش ہیں۔ آئیے ان میں سے کچھ اصولوں کا ہم جائزہ لیں۔ 

تقرب کا اُصول 

(The Principle of Proximity) 

اشیا ء جو مکان وزمان کا ایک دوسرے کے قریب ہوتی ہیں ان کا ادراک ایک ساتھ یا گروہ میں ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر شکل 5.7نقطوں کی ایک مربع وضع دکھتی ہے بلکہ لفظوں کے تسلسل کے طور پر پردکھتی ہے۔ اسی طرح5.7 میں نقطوں کے گروہ ایک صف یا قطار جیسی بھی دکھائی دیتی ہے۔ 

18

شکل نمبر 5.7تقریب 

مماثلت کا اُصول 

(The Principle of Similarity)

اشیاء جو ایک دوسرے سے مماثل ہوتی ہیں اور مماثل خصوصیات رکھتی ہیں ان کا اداراک ایک گروہ کی شکل میں ہوتا ہے۔ شکل 5.8 میں چھوٹے دائرے اور مربعے دونوں کو اُفقی اور عمودی طور پرمساوی دوریوں پر رکھے گئے ہیں تاکہ اس میں قرب کوئی رول نہ حائل نہ ہو۔ اس کے باوجود بھی ہمیں دائروں مربعوں کے متبادل ستونوں کا ہی ادارک ہوتاہے۔ 

19

شکل 5.8مماثلت 

تسلسل کا اُصول 

(The Princeple of continuity)

یہ اُصول بتاتا ہے کہ اگر اشیاء تسلسل سے ایک وضع کی تشکیل کرتی ہوئی معلوم ہوں تو ان اشیا کا ادراک متعلقہ طور پر ایک ساتھ ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر شکل 5.9میں خط a-b(الف -ب)اور خط c-d(ج-د)کی شناخت ایک دوسرے کو کراس کرتی ہوتئی ہوئی ہے نہ کہ چاروں خطوط کو مرکز p(پ)پر ملتے ہوئے شناخت کیے جانے کا امکان ہے۔ 

20

اختصار کا اُصول 

(The Principle of Smallness)

اس اصول کے مطابق چھوٹے خطے وسیع پس منظر کے مقابل چھوڑے خطہ ایک شکل کے طور پر دکھائی دیتے ہیں۔ شکل 5.10میں اس اصول کی وجہ سے سفید کراس (صلیب)کے مقابلہ میں کالا کراس (صلیب) دکھائی دینے امکان زیادہ ہے۔ 

21

شکل 5.10 اختصار

موزونیت کا اصول 

(The Principle ot Symmentry)

یہ اُصول بتاتاہے کہ موزوں یا متناسب خطے غیر موزوں پس منظر کے مقابل شکلوں کے طور دیکھے جاتے ہیں۔ مثلا:شکل 5.11میں کالے خطے (جیسا کہ ان میں موزونیت کی خصوصیت ہے)غیر موزوں پس منظر کے مقابل شکلوں کی طرح دیکھے جاتے ہیں۔ 

22

شکل 5.11 : موزونیت 

گھرے ہونے کا اصول 

(The Principle of Surrondedness)

اس اصول کے مطابق وہ خطہ جو کہ دوسرے خطوں سے گھرا ہواہوتا ہے ، اس کا ادراک ایک شکل کی طور پر ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر شکل 5.12 میں تمثال سفید پس منظر کے مقابل انگریزی کے لفظ ’’LIFT‘‘کے بجائے پانچ شکلیں دکھتی ہیں۔ 

23

شکل 5.12: گھرے ہوئے ہونا

تکملّی کا اصول 

(The Principle of Closure)

ہمارے اندر تہیج میں خالی جگہوں کو پر کرلینے کا رجحان ہوتا ہے اور ہم اشیاء کو ان کے الگ الگ اجزامیں نہ دیکھ کر کل کے طو پر دیکھتے ہیں۔ مثال کے طور پر شکل 5.13میں چھوٹے چھوٹے مثلت زاویے ہمارے کسی شئے میں خلا یا وقفہ کو پرکر لینے کی اسی رجحان کی وجہ سے ایک مثلت کی طرح نظر آتے ہیں۔ 

24

شکل5.13:تکملّی

مکان، گہرائی اور دوری کا ادراک 

(Perception of Space, Depth and Distance)

ساحت نظریاسطح جس میں اشیا موجود رہتی ہیں یا حرکت کرتی ہیں یا جن میں اُنہیں رکھا جاسکتا ہے ، مکان کہلاتا ہے۔ مکان جس میں ہم رہتے ہیں تین ابعاد میں منظم ہوتا ہے۔ ہم صرف مختلف اشیائی مکانی صفات (جیسے سائز، شکل ، سمت)کاہی ادارک نہیں کرتے ہیں ۔ اگر چہ ہمارے ریٹینا پر اظلالی اشیاء کے تمثال چپٹے اور دوسمتی (داہنے، بائیں ، اوپر، نیچے)ہوتے ہی، لیکن پھر بھی ہم انہیں دوسمتی (داہنے، بائیں، اوپر ، نیچے) ہوتے ہیں، لیکن پھر بھی ہم انہیں مکان میں دوتین سمتی درک کرتے ہیں۔ یہ کیسے ہوتا ہے؟ یہ ہماری اس اہلیت کی وجہ سے ہوتا ہے جس سے ہم دوسمتی ریتنائی بصارت کو تین سمتی ادراک میں منتقل کردیتے ہیں۔ تین ابعاد میں دنیا کو دیکھنے کا یہ عمل دوری یا گہرائی کا ادراک کہلاتا ہے۔ 

ہماری روزہ کی زندگی میں گہرائی کا ادارک اہمیت کا حامل ہے۔ مثلا ً جب ہم گاڑی چلارہے ہوتے ہیں ہم اپنے پاس پہنچنے والی دوسری گاڑی کی دوری کے جائزے کے لیے گہرائی کا استعمال کرتے ہیں ، یا جب راستہ پر جاتے ہوئے کسی شخص کو پکارنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو اس کا تعین کرتے ہیں کہ ہم کتنی بلند آواز میں اسے پکاریں ۔

گہرائی کے ادراک میں ہم معلومات کے دواہم ذرائع پر انحصار کرتے ہیں، جنھیں اشارات کہتے ہیں۔ ان میں پہلے دوچشمی اشارات کہتے ہیں ۔کیوں کہ ان میں دونوں آنکھوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ دوسرے یک چشمی اشارات کہلاتے ہیں کیوں کہ ان کے ذریعہ ہم صرف ایک آنکھ سے گہرائی کا درک کرتے ہیں۔ ایسے بہت سے اشارات کا استعمال دوسمتی کو تین سمتی ادراک میں تبدیل کرنے کے لیے کیاجاتا ہے۔ 

یک چشمی اشارات (نفسیاتی اشارات)

(Monocular Cues or Psychological Cuse)

گہرائی کے ادراک کے یک چشمی اشارات اس وقت کا رگر ہوتے ہیں جب اشیاء صرف ایک آنکھ سے دیکھی جاتی ہیں۔ آرٹسٹ ان اشارات کا استعمال دو ابعادی پینٹگوں میں گہرائی کودکھانے کے لیے بہت کرتے ہیں ۔ اس لیے ان کو تصویری اشارات بھی کہتے ہیں۔ کچھ اہم اشارات جن کی مدد سے ہم دو ابعادی سطحوں میں دوری اور گہرائی کا فیصلہ کرتے ہیں، ذیل دیے گئے ہیں۔ ان میں سے کچھ اشارات کا اطلاق آپ شکل 5.14 میں پائیں گے۔

25

شکل 5.14: یک چشمی اشارات کو سمجھنے میں مدد فراہم کرے گی: مداخلت اور تناسبی سائز (پیڑوں کو دیکھں)۔ تصویر میں کن اور دوسرے اشارات کی آپ شناخت کرسکتے ہیں؟

تناسبی سائز (Relative Sizw):ریتنائی تمثال کی سائز ہمیں دوری کا فیصلہ کرنے میں کرتی ہے جو کہ مماثل اشیاء کے ساتھ ہمارے سابقہ اور موجودہ تجربہ مبنی ہوتا ہے۔ جیسے جیسے کوئی شئے ہم سے دور ہوتی جاتی ہے ویسے ویسے ریتنائی تمثال چھوٹی سے چھوٹی تر ہوتی جاتی ہے۔ اگر یہ چھوٹی دکھائی دیتی ہے تو ہم سمجھتے ہیں کہ شئے ہم سے زیادہ دور ہے اور اگر یہ بڑی دکھائی دیتی ہے تو ہمیں قریب ہونے کا احساس ہوتا ہے۔ 

مداخلت یا ڈھکنا (Interposiion or Overlapping):یہ اشارے اس وقت ملتے ہیں جب کسی شئے کا کچھ حصہ دوسری شئے سے ڈھانک لیا جاتا ہے۔ ڈھکی ہوئی شئے دور معلوم ہوتی ہے اور ڈھانکنے والی شئے قریب معلوم ہوتی ہے۔ 

خطِ مستقیم کا تناظر (Linear Perspective): یہ اس مظہر کی عکاسی کرتی ہے جس میں دور کی اشیاء نزدیک کی اشیاء کے مقابلہ میں ایک دوسرے کے قریب معلوم ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر دو متوازی خطوط جیسے ریل کی پٹریاں، جیسے جیسے ہم سے دور ہوتی جاتی ہیں ویسے ویسے ایک دوسرے سے قریب ملتی ہوئی معلوم ہوتی ہیں، یہاں تک کہ افق میں ایک معلوم ہوتے ہوئے نقطہ کی شکل اختیار کرلیتی ہیں۔ دونوں لائنوں میں انعطاف کا جتنا زیادہ اضافہ ہوتا ہے، وہ اتنی ہی ایک دوسرے سے زیادہ دور ہوتی ہوئی معلوم ہوتی ہیں۔ 

فضائی تناظر (Aerial Perspective):ہوامیں غبار اورنمی کے بہت چھوٹے چھوٹے ذرّات ہوتے ہیں جن کی وجہ سے دور کی اشیاء دھندلی دکھائی دیتی ہیں۔ یہ علّت (اثر) فضائی تناظر کہلاتی ہے۔ مثال کے طور پر دور کے پہاڑ فضا میں نیلی روشنی کے بکھراؤ کی وجہ سے نیلے دکھائی دیتے ہیں جب کہ وہی پہاڑ جب فضا صاف ہوتی ہے تو سفیددکھائی دیتے ہیں۔ 

روشنی اور سایہ (Light and shade): روشنی میں کسی شئے کا کچھ حصہ روشن ترین ہوتا ہے جب کہ کچھ حصے تاریک ہوتے ہیں۔ روشنی اور سایہ ہمیں کسی شئے کی دوری کے بارے میں معلومات مہیا کراتے ہیں۔ 

تناسبی اورنچائی (Relative Height): بڑی اشیاء مدرک سے قریب معلوم ہوتی ہیں اور نسبتاً چھوٹی اشیاء دور دکھائی دیتی ہیں۔ 

جب ہمیں دو اشیاء ایک ہی سائز کی ہوتے ہوئے بھی ایک سائز کی نہیں معلوم ہوتی ہیں، تو ان میں سے بڑی شئے قریب اور چھوٹی دور معلوم ہوتی ہے۔ 

ساختی اُتار چڑھاؤ(Texutre Gradient): یہ اس مظہر کی نمائندگی کرتا ہے جس کے ذریعہ وہ ساختِ نظر جس میں اجزا کی کثافت زیادہ ہوتی ہے دور دکھائی دیتی ہے۔ شکل 5.15میں اینٹوں کی کثافت میں اضافہ کے ساتھ ساتھ ہمیں ان کی دوری زیادہ دکھائی دیتی ہے۔ 

26

شکل 5.15: ساختی اُتار چڑھاؤ 

حرکی فصلی منظر (Motion Parallax): یہ ایک حرکی یک چشمی اشارہ ہے اور اس لیے اسے تصوری اشارہ نہیں سمجھاتا ہے۔ یہ اس وقت واقع ہوتا ہے جب مختلف فاصلوں پر واقع چیزیں مختلف تناسبی رفتار سے حرکت کرتی ہیں۔ دور کی اشیاء قریب کی اشیاء کے مقابلہ میں کم رفتار سے چلتی ہوئی معلوم ہوتی ہیں۔ کسی شئے کی رفتار یا حرکت کی شرح اس کی دوری کا ایک اشارہ مہیا کراتی ہے۔ مثال کے طور پر جب ہم ایک بس میں سفر کررہے ہوتے ہیں تو قریب کی اشیاء بس کی مخالفت سمت میں حرکت کرتی ہوئی اور دور کی اشیاء کی تیار سمت ساتھ چلتی ہوئی معلوم ہوتی ہیں۔ 

دوچشمی اشارات (عضویاتی اشارات)

(Binocular Cues or Physiological Cues)

تین سمتوں والی جگہ میں گہرائی کے ادارک کے کچھ اہم اشارات دونوں کے ذریعہ مہیا کرائے جاتے ہیں۔ ان میں سے تین خاص طور پر دلچسپ ہوئی پائے گئے ہیں۔ 

ریتنائی یادو چشمی تفاوت : (Retinal or Binocular Dispartity):

دونوں آنکھوں کے ہمارے سر میں الگ الگ مقام پر ہونے کی وجہ سے ریتنائی تفاوت واقع ہوتا ہے۔ دونوں آنکھیں عمومی طور پر 6.5 سینٹی میٹر کی دوری پر ایک دوسرے سے علیحدہ ہوتی ہیں۔ اس دوری کی وجہ سے ایک شئے کادونوں آنکھوں کی ریتنائی پر بنے تمثال میں ہلکا سافرق ہوتا ہے۔ دونوں تمثالوں میں یہ ہلکا سا فرق ریتنائی تفاوت کہلاتا ہے۔ دماغ بڑی ریتنائی تفاوت کی تشریح دور کی شئے کے معنی میں اورچھوٹے چھوٹے ریتنائی تفاوت کی تشریح دور کی شئے کے معنی کرتا ہے، کیوں کہ دور کی اشیاء کے لیے تفاوت کم ہوتا ہے اور قریب کی اشیاء کے لیے یہ تفاوت زیادہ ہوتا ہے۔  

انعطاف (Convergence): جب ہم قریب کی شئے دیکھتے ہیں تو دونوں آنکھوں کی فوویا (Fovea)پر تمثال کو لانے کے لیے ہماری آنکھیں اندر کی جانب منعطف ہوتی ہیں۔ آنکھیں جس زاویے سے اندر کی جانب مڑتی ہیں اس زاویہ کے بارے میں پیغامات عضلات کے ایک گروہ کے ذریعہ دماغ کو ارسال کردیا جاتا ہے اور گہرائی کے ادراک کے اشارات کے طور پر ان پیغامات کی تشریح کی جاتی ہے۔ جیسے جیسے کسی چیز کی دوری مدرک سے بڑھتی جاتی ہے ویسے ویسے انعطاف کا زاویہ کم ہوتا جا تا ہے۔ اپنی ایک اُنگلی کو ناک کے سامنے کھڑی کرنے کے بعد دھیرے دھیرے قریب لاتے ہوئے انعطاف کا تجربہ آپ کر سکتے ہیں۔ آپ کی آنکھیں جتنا زیادہ اندر کی جانب مڑیں گی یا منعطف ہوں گی اتنی ہی زیادہ مکان میں شئے قریب نظر آئے گی۔ 

تطبیق (Accommodation):تطبیق سے مراد ایک ایسے عمل سے ہے جس سے کہ ہم ریشائی عضلہ کی مدد سے ریتنا پر تمثال کو فوکس کرتے ہیں۔ یہ عضلات آنکھ کے لینس (lens)کی موٹائی (خمیدگی) کو تبدیل کرتے ہیں ۔ جب شئے دور ہوتی ہے (2میٹر سے زیادہ)تو عضلہ ڈھیلا ہوجاتا ہے۔ جیسے جیسے شئے دور ہوتی جاتی ہے ، عضلہ سکڑتا جاتاہے اور لینس کی موٹائی (خمیدگی )میں بھی اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ عضلہ کے سکڑنے کے زاویہ کے بارے میں سگنل دماغ کو پہنچ جاتا ہے جودوری کے لیے اشارہ مہیا کرتا ہے۔ 

سرگرمی5.4

ایک پنسل اپنے سامنے لائیے ۔ اپنی داہنی آنکھ بند کرلیجیے اور پینسل بائیں آنکھ کو فوکس کیجیے۔ اب داہنی آنکھ کھول دیجیے اور بائیں آنکھ بند کرلیجیے۔ دونوں آنکھوں کے ساتھ یہ عمل لگا تار باری باری جاری رکھیے۔ پنسل آپ کے چہرے کے سامنے ایک جانب سے دوسری جانب حرکت کرتی ہوئی معلوم ہوگی۔ 


ادارکی ثباتیں (Perceptual Constancies)

ہماری حرکت کے ساتھ ساتھ خارجی دنیا سے موصول شدہ معلومات بھی مستقبل طو ر پر تغیر تبدیل ہوتی رہتی ہیں، پھر بھی ہمارے ادراک میں استحکام ہوتا ہے ہم چاہے بھلے ہی شئے کو کسی زاویہ یا روشنی کی مختلف شدتوں میں دیکھیں ۔ حسّی آخذوں میں تغیر کے باوجود اشیاء کے ادراک میں تقابلی استحکام ادراکی ثبات کہلاتا ہے۔ یہاں پر ہم تین اقسام کے ادراکی ثبات کا جائزہ لیں گے جن کا تجربہ ہمیں عام طور پر بصارت کے میدان میں ہوتا ہے ۔ 

ثباتِ سائز(Size Contancy)

آنکھ سے کسی شئے کی دوری میں تبدیلی کے ساتھ ہی ساتھ ہماری ریتینا پربنے تمثال کی سائز بھی تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ یہ جتنی زیادہ دور ہوتی ہے تمثال بھی اتنا ہی چھوٹا ہوتا ہے۔ دوسری جانب ہمارا تجربہ یہ بتاتا ہے کہ ایک حد کے اندر شئے کی سائز اس کی دوری سے قطع نظر یکساں معلوم ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر جب آپ ایک دوری کے بعداپنے دوست کے قریب پہنچتے ہیں تو اس حقیقت کے باوجود کہ آپ کے دوست ریتنائی تمثال دوست کے قریب آنے کے بعد بڑی ہوجاتی ہے، دوست کی سائز کا درک تبدیل نہیں ہوتا ہے۔ اشیاء سے مدرک کی دوری میں ریٹنائی تمثال کے سائز میں تغیر ہونے کے باوجود ان کی ادراک شدہ سائز میں تناسبی طورپر تغیر نہ ہونے کا یہ رجحان سائز کا ثبات کہلاتا ہے۔ 

شکل کاثبات (Shape Constancy)

ریتنائی تمثال میں تبدیلی جو اشیاء کے شناخت رخ میں تبدیلی کی وجہ سے ہوتا ہے اس کے باوجود واقف شدہ اشیا ء کی شکلوں کا ادراک تبدیل نہیں ہتا ہے۔ مثال کے طور پر کھانے کی پلیٹ کی شکل وہی رہتی ہے بھلے ہی اس کی بنی تمثال دائرہ نما، بیضوی یا ابتدائی طور پر ایک مختصر خط (اگر پلیٹ کنارہ سے دیکھی جائے)جیسی ہی کیوں نہ ہو۔ 

تابانی (چمک)کاثبات (Brightness Constancy)

بصری اشیاء میں ثبات صرف ان کی شکل اور سائز میں ہی نہیں ہوتا ہے بلکہ وہ اپنی سفیدی، بھورے پن یا کالے پن کی قدروں میں تبدیلی ہونے پر یہاں تک کہ ان کے منعکس طبعی توانائی کی مقدار میں تبدیلی واقع ہونے پر بھی ان کی چمک یا تابانی میں ثبات روپذیر ہوتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں ہماری آنکھوں تک پہنچنے والی منعکس روشنی میں تبدیلی کے باوجود تابانی کا تجربہ تبدیل نہیں ہوتا ہے۔ مختلف مقدار کی روشنی میں بھی تابانی کو برقرار رکھنے کا یہ رجحان تابانی ثبات کہلاتا ہے۔ مثال کے طور پر کاغذ کی سطح کی روشنی میں جتنی سفید نظر آتی ہے اتنی ہی سفید کمرہ کی روشنی میں بھی نظر آتی ہے۔ اس طرح کوئلہ سورج کی روشنی میں جتنا کالا دکھائی دیتا ہے اتنا ہی کالا کمرہ کی روشنی میں بھی دکھائی دیتا ہے۔ 

التباسات (IIIusions)

اشیاء سے متعلق ہمارے ادراک ہمیشہ ویسے ہی نہیں ہوتے ہیں جیسے کہ اشیا ہوتی ہیں۔ کبھی کبھی ہم حِسّی معلومات کی تشریح صحیح طور پر کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں طبعی مہیجات اور ان کے ادراک کے مابین میل نہیں رہتا ہے ۔ یہ غلط ادراک جو کہ اعضاء حس سے موصول شدہ معلومات کی غلط تشریح کی وجہ سے ہوتا ہے ، التباس کہلاتا ہے۔ اس کا تجربہ کم وبیش ہم سبھی کو ہوتا ہے۔ یہ خارجی مہیجی حالت کی وجہ سے ہوتے ہیں اور ہر ایک شخص کے اندر ایک ہی طرح کا تجربہ پیدا کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ التباس کو ’’ابتدائی ادوارکی تنظیم‘‘(Primitive organization)بھی کہا جاتا ہے۔ اگر چہ التباس کا تجربہ ہماری کسی بھی حس کے ذریعہ بھی ہوسکتا ہے لیکن ماہرین نفسیات نے ان کا مطالعہ دیگر حسی جہتوں کے مقابلہ میں عام طور پر بصری جہت میں زیادہ کیا ہے۔ 

کچھ بصری التباسات ہمہ گیر یا عالمگیر ہوتے ہیں اور تمام افراد میں پائے جاتے ہیں۔ مثلاً دور ریل کی دوپٹریاں ہم سب کو آپس میں ملتی ہوئی معلوم ہوتی ہیں۔ یہ التباسات اس لیے ہمہ گیر یا دائمی التباسات کہلاتے ہیں ۔ کیوں کہ یہ تجربہ یا مشق سے تبدیلی نہیں ہوتے ہیں۔ کچھ دوسرے التباسات کا تجربہ ہر شخص کے لیے یکساں نہیں ہوتا ہے ،اس لیے یہ شخصی التباسات کہلاتے ہیں۔ اس حصہ میں ہم چند اہم بصری التباسات کی تشریح کریں گے۔ 

ہندسی التباسات (Geometrical IIIusions)

شکل 5.16 میں میولائر التباس (Muller- lyer IIIusions)دکھایا گیا ہے۔ ہم سبھی خط Aکو خط Bکے مقابلہ میں چھوٹا درک کرتے ہیں، حالاں کہ دونوں خطوط مساوی ہیں۔ اس التباس کا تجربہ


27

شکل 5.16: میو لائر التباس

 بچوں تک کو ہوتا ہے۔ ایسے بھی مطالعہ کئے گئے ہیں جوبتاتے ہیں کہ اس التباس کا تجربہ جانوروں (مویشیوں )کو بھی ہم لوگوں کی طرح ہی ہوتا ہے۔ میولر لائر التباس کے علاوہ دیگر بصری التباسات کا تجربہ انسانوں (چڑیوں اور مویشیوں)کو بھی ہوتا ہے۔ شکل 5.17میں آپ افقی اور عمودی خطوط کا التباس دیکھ سکتے ہیں۔ اگر چہ دونوں خطوط مساوی ہیں پھر بھی افقی خط کو عمودی خط کے مقابلہ میں ہم لمبا (بڑا)درک کرتے ہیں۔ 

28

شکل 5.17: افقی عمودی التباس

ظاہری حرکت کا التباس

(Apparent Movement IIIusions)

اس التباس کا تجربہ اس وقت ہوتا ہے جب کچھ ساکن تصویریں ایک مناسب رفتار پر یکے بعد دیگرے اظلال کی جاتی ہیں۔ یہ التباس اشتباہ حرکت مظہر (Phi-phenomenon)کہلا تا ہے۔ سنیما کے شو میں جب ہم حرکت پذیر تصاویر دیکھتے ہیں تو ہم اس قسم کے التباس سے متاثر ہوتے ہیں۔ بجلی کے بلبوں کے بعد دیگرے جلنے سے بھی اس طرح کا التباس پیدا ہوتا ہے۔ اس التباس کا اختباری مطالعہ ایک آلہ کی مدد سے دویادو زیادہ روشنیوں کے یکے بعد دیگر پیش کرکے کیا جاسکتاہے۔ وردائیمر (Wertheimer)نے بتایاکہ اس التباس کے تجربہ کے لیے مختلف روشنیوں کی چمک کی مناسب سطح ، سائز مکانی وقفہ اور زمانی قربت اہم ہوتے ہیں۔ ان کی عدم موجودگی میں روشنی کے نقطے حرکت کرتے ہوئے نہیں معلوم ہوتے ہیں ۔ وہ حرکت کسی تجربہ کے بغیر یاتو ایک نقطہ نظرآئے گا ، یا مختلف نقطے یک کے بعد دیگر ے آئے ہوئے حرکت کا تجربہ پیدا کیے بغیر معلوم ہوں گے۔ 

التباسات کا تجربہ اس جانب اشارہ کرتا ہے کہ دنیا کے بارے میں لوگوں کا ادراک ہمیشہ ویسا نہیں ہوتا ہے جیسی کہ وہ ہے۔ وہ اس میں تصحیح کرتے ہیں، جو کبھی تو مہیجوں کی خصوصیات پر مبنی ہوتی ہے اور کبھی کسی موجودہ ماحول کے بارے میں ہمارے تجربات پرمبنی ہوتی ہے۔ اس نقطہ کی مزید وضاحت اس کے بعد آنے والے حصہ میں کی جائے گی۔ 

ادراک پر سماجی - ثقافتی اثرات :

(Cocio- Cultural Influnences on Perception)

ماہرین نفسیات نے ادراک کے عمل کا مطالعہ مختلف سماجی - ثقاقتی پس منظر میں کیا ہے۔ ان مطالعات سے انھوں نے اس طرح کے سوالوں کے جوابات دینے کی کوشش کی ہے کہ کیا مختلف ثقافتی پس منظر میں رہنے والے لوگوں کی ادراکی تنظیم ایک ہی ڈھنگ سے ہوتی ہے؟ کیا ادراکی اعمال عالمگیر ہوتے ہیں، یا وہ مختلف ثقافتی پس منظر میں بدلتے رہتے ہیں ؟ چوں کہ ہم جانتے ہیں کہ دنیا کے مختلف خطوں میں بسنے والے لوگ الگ الگ نظرآتے ہیں، اس لیے بہت سے ماہرین نفسیات کا یہ نظریہ ہے  کہ دنیا کو سمجھنے کا ان کا طریقہ بھی کسی نہ کسی سے مختلف ہونا چاہیے۔ آئیے ہم شکلوں اور اوردیگر تصویری اشیاء کے التباسات کے ادراک سے متعلق کچھ مطالعات کا جائزہ لیں۔ 

آپ پہلے سے ہی میولر لائر اور اُفقی -عمودی شکلوں کے التباس سے واقف ہیں۔ ماہرین نفسیات نے پورپ اور افریقہ میں آباد لوگوں کے بہت سے گروہوں پر ان اشکال کا استعمال کیا۔ سیگل، کیمپ بیل اور ہرس کووٹز (Segall, Campbell and Herskovits)

نے التباس حساسیت کا ایک بہت وسیع مطالعہ الگ تھلگ افریقی دیہی اور مغربی شہری پس منظر سے لیے گئے نمونوں کا موازنہ کرکے کیا۔ یہ پایا گیا کہ افریقی معمولوں میں عمودی افقی التباس کی حساسیت زیادہ تھی جب کہ مغربی معمولوں نے میولر لائر التباس کے لیے زیادہ حساسیت دکھائی۔ دیگر مطالعات میں بھی اسی طرح کے نتائج پائے گئے ہیں۔ یہ پایا گیا ہے کہ چوں کہ گھنے جنگلات میں رہنے والے افریقی معمولوں کی افقیت کا تجربہ (جیسے اونچے درخت )ہمیشہ مستقل طور پر ہوتا ہی رہتا ہے اس لیے ان کے اندر زائد تخمینہ کے رجحان کی نشو ونما ہوجاتی ہے۔ مغربی لوگوں میں، جو ایسے ماحول میں رہتے تھے جس کی خاصیت زاویہ قائمہ کے مطابق تھی ان کے اندر گھیرے ہوئے خطوط (جیسے نوکِ تیر)کی لمبائی کا کم تخمینہ کرنے کے رجحان دیکھا گیا ۔ اس نتیجہ کی تصدیق بہت سے مطالعات سے ہوئی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ادراک کی عادت الگ الگ ثقافتی پس منظر مختلف طور پر سیکھی جاسکتی ہے۔ 

کچھ مطالعات میں مختلف ثقافتی پس منظر میں رہنے والے لوگوں کو اشیاء کی شناخت کے لیے تصویریں دی گئیں اور گہرائی اور ان میں شامل دیگر واقعات کی وضاحت کرنے کے لیے کہا گیا ۔ ہڈسن (Hudson)نے افریقہ میں ایک معنی خیز مطالعہ کیا اور پایا کہ ان لوگوں نے جنہوں نے کبھی تصویریں نہیں دیکھی تھیں، انہیں تصویر کے اندر دکھائی گئی اشیاء کی شناخت میں بہت زیادہ مشکل پیش آئی اور وہ گہرائی کے اشارات کی تشریح بھی بمشکل کرسکے۔ اس سے یہ پتہ چلا کہ گھر کے اندر غیر رسمی تعلیمی اور تصاویر سے مانوسیت تصویری گہرائی کے ادراک کی مہارت کو پیدا کرنے کے لیے ضروری ہوتی ہے۔ سنہا اور مشرا (Sinha and Mishra)مختلف ثقافتی پسِ منظر سے تعلق رکھنے والے لوگوں جیسے جنگلات میں رہنے والے شکاری اور جمع کرنے والے ، دیہاتوں میں رہنے والے کاشتکار اور شہروں میں رہنے اور نوکری کرنے ولاے لوگوں، پر مختلف اقسام کی تصویروں کا استعمال کرتے ہوئے تصویری ادراک پر کئی مطالعات کیے۔ ان کے معالعات بتاتے ہیں کہ تصویروں کی تشریح کا تعلق لوگوں کے ثقافتی تجربہ سے بہت زیادہ ہوتا ہے۔ عام طور لوگ تصویروں میں جانی پہچانی اشیاء کی شناخت کرسکتے ہیں لیکن جن لوگوں کو تصاویر دیکھنے کا موقع کم حاصل ہوتا ہے اوہ ان تصویروں میں دکھائے گئے افعال اور واقعات کی تشریح بمشکل کرپاتے ہیں۔ 


کلیدی اصلاحات 

مطلق دہلیز، تمثیلات مابعد، دوحشمی اشارات ، پیندہ -- اوپر عمل کاری، کن گھونکا، مخروطے ، تاریکی سے تطابق ، گہرائی کا ادراک ، تفرقی دہلیز ، ایوسٹیشین نالی، شکل---پس منظر علاحدگی ، فلٹر نظریہ، فلٹر ضعف نظریہ ، گیسٹالٹ، روشنی سے تطابق ، بلندیٔ ِ آواز، یک چشمی اشارات ، عصبی راستے، ریتنا ، کورتی عضو، ادراکی ثبات، اشتباہ حرکت ، آہنگی ، بنیادی رنگ ، رہوڈااپسن ، قائمے، انتخابی توجہ ، وسعت توجہ ، جاری شدہ توجہ، منقسم توجہ ، ٹمبر چوٹی --- اوپر عمل کاری ، بصری التباسات ، لہر کی لمبائی۔

خلاصہ 

٭ حسوں کی مدد سے خارجی اور داخلی دنیا کی معلومات ممکن ہوتی ہے۔ ان میں سے پانچ خارجی حسیات ہیں ، اور دو دو داخلی حسیں ہیں۔ 

٭اعضا ئِ حس مختلف مہیجوں کو موصول کرتے ہیں اور عصبی تحریکوں کی شکل میں تشریح کے لیے انہیں دماغ کے مخصوص حصوں میں ارسال کردیتے ہیں۔ 

٭بصارت اور سماعت دو سب سے زیادہ استعمال میں آنے والی حسیں۔ 

٭قائمے اور مخروطے بصارت کے لیے آخذ ہیں۔ قائمے روشنی کی کم شدت میں تفاعل کرتے ہیں، جب کہ مخروطے روشنی کی زیادہ شدت میں کام کرتے ہیں۔ وہ بے رنگ اور نگین بصارت کے لیے بالترتیب ذمے دار ہوتے ہیں۔ 

٭روشنی اور تاریکی سے تطابق بصارتی نظام کے دلچسپ مظاہر ہیں۔ کیفیت ِ رنگ ، سیری اور تابانی رنگ کے بنیادی ابعاد ہے۔ سمعی تحیس کے لیے آواز مہیج کے طو رپر کام کرتی ہیں۔ بلندیِ آواز، آہنگی اور کیفیت آواز کے اوصاف ہیں۔ کورٹی عضو جو بیسیلر جھلی میں واقع ہوتا ہے سماعت کا خاص عضو ہے۔ 

٭توجہ ایک ایسا عمل ہے جس کے ذریعے کسی خاص وقت ہم مخصوص معلومات کو دیگر معلومات جو کہ اس وقت غیر موزوں ہوتی ہیں سے فلٹر کرنے کے بعد منتخب کرتے ہیں۔ تحریک فعل ، ارتکاز اور تلاش توجہ کی اہم خصوصیتیں ہیں۔ 

٭انتخابی اور جاری شدہ توجہ، توجہ کی دو خاص قسمیں ۔ منقسم توجہ اعلی طورپر مشق شدہ کاموں کی جن میں معلومات کی عمل کاری زیادہ ترخود بخود ہوتی ہے کے انجام دینے سے ثابت ہوتی ہے ۔ 

٭وسعت توجہ سات جمع دوا اور منفی دو کی ایک جادوئی عدد ہے۔ 

٭ادراک سے مراد اعضا حس سے موصو ل شدہ معلومات او رحاصل شدہ معلومات کی تعمیر کا تشریحی عمل ہے۔ انسان اپنی دنیا کا ادراک اپنی تحریکات ، توقعات ، وقوفی اسالیب اورثقافتی پس منظر کی صورت میں کرتے ہیں۔ 

٭ادراکِ شکل سے مراد ایک ایسی بصری ساحت کے ادراک سے ہے جو دیگرساحت سے نمایاں حدود کے ذریعہ الگ کردی گئی ہو ۔ تنظیم کی سب سے ابتدائی ادوار کی صورت ’شکل -پس منظر ‘ علیحدگی کے طور پر کے طور پر واقع ہوتی ہے۔ 

٭گیسٹالٹ ماہرینِ نفسیات نے ہماری ادراکی تنظیم کو متعین کرنے والے کئی اصولوں کی شناخت کی ہے۔ 

٭کسی شئے کا ریتیناپر منعکس تمثال دوسمتی ہوتا ہے۔ تین سمتی ادراک ایک نفسیاتی عمل ہے جس کا انحصار کچھ خاص یک چشمی اور دو چشمی اشارات کے صحیح استعمال پر ہوتا ہے ۔ 

٭ ادراکِ ثبات سے مراد کسی بھی زاویہ اور کسی بھی شدت کی روشنی میں دیکھی گئی ہے کسی شئے کے ادراک کا تبدیل نہ ہونا ہوتا ہے۔ سائز ، شکل اور چمک کے اثرات کے بہت سے ثبوت پائے جاتے ہیں۔ 

٭حقیقت سے غیر آہنگ ادراک کے التباسات کی مثالیں ہیں۔ ان سے مراد غلط ادراک سے ہے جو کہ ہمارے اعضا ء ح سے موصول موصول معلومات کی غلط تشریح کے نتیجہ میں ہوتا ہے ۔ کچھ التباسات ہمہ گیر یا عالم گیر ہوتے ہیں جب کہ دیگر شخصی اور ثفاقت مخصوص ہوتے ہیں۔ 

٭سماجی -ثقافتی عوامل مہیجات کے اوصاف سے الگ قسم کی شناسائی اور لوگوں میں ادراکی تخمینہ کی مخصوص عادتوں کی تخلیق کے ذریعہ ہمارے ادراک میں اہم رول ادا کرتے ہیں ۔ 

نظر ثانی کے لیے سوالات 

1. اعضاءِ حس کے تفاعلی حدود کی وضاحت کیجیے۔ 

2. روشنی اور تاریکی کے تطابق کا کیا مطلب ہے ؟ یہ کیسے واقع ہوتے ہیں؟

3.رنگین بصارت کیا ہے اور رنگ کے ابعاد کیا ہیں ؟

4. توجہ کی تعریف کیجئے۔ اس کی خصوصیات کی وضاحت کیجیے ۔ 

6. انتخابی توجہ کے تعین کنندگان کی وضاحت کیجیے۔ انتخابی توجہ ، جاری شدہ توجہ سے کیسے مختلف ہوتی ہے؟

7. بصری ساحت کے ادراک سے متعلق گیسٹالٹ ماہرین نفسیات کا اہم مسئلہ کیا ہے ؟

8. مکان کا ادراک کیسے ہوتا ہے ؟

9. گہرائی ادراک کے ایک چشمی اشارات کیا ہیں؟ گہرائی کے ادراک میں دوچشمی اشارات کے دل کی وضاحت کیجیے ؟ 

10. التباسات کیوں واقع ہوتے ہیں؟

11. سماجی، ثقافتی عوامل ہمارے ادراک کو کیسے متاثر کرتے ہیں؟

پروجیکٹ کی تجاویز 

1.  رسالوں سے دس اشتہارات جمع کیجیے۔ ہر ایک اشتہار کے مشمولات او رپیغام کا تجزیہ کیجیے۔ مصنوعات کے فروغ کے لیے توجہی اور ادراکی عوامل کے استعمال پر تبصرہ کیجیے۔ 

2.  گھوڑا اور ہاتھی کے کھلونے بصارت سے محروم اوربصارت رکھنے والے بچوں کو دیجیے ۔ بصارت سے محروم بچوں کو کچھ دیر تک کھلونوں کو چھو کر محسوس کرنے دیجیے۔ ان بچوں سے کھلونوں کو بیان کرنے کے لیے کہیے۔ دہی کھلونے بصارت والے بچو ں کو دکھائے ۔ اور انہیں بھی بیان کرنے کے لیے کہیے۔ ان کے بیانات کا موازنہ کیجیے اور ان کی یکسانیت اور اختلافات نوٹ کیجیے۔ 

ایک دوسرا کھلونا (جیسے طوطا ) لیجیے اور اسے بصارت سے محروم کچھ بچوں کو دیجیے تاکہ وہ اسے چھو کر محسوس کرسکیں۔ اب ان کو ایک کاغذ اور پنسل دیجیے اوران سے کاغذ پر طوطے کی تصویر بنانے کے لیے کہئے۔ وہی طوطا بینا بچوں کو کچھ دیر تک دکھائیے۔ اب ان کے سامنے سے طوطا ہٹالیجیے اور کاغذ پر اس کی تصویر کھینچنے کے لیے کہئے۔ 

بصارت سے محروم اوربینا بچوں کی تصاویر کا موازنہ کیجیے اور ان کی یکسانیت اختلافات کا جائزہ لیجیے۔