Skip to content
Nafsiyat-006

Chapter 6

آموزش


اس باب کے مطالعہ کے بعد آپ اس قابل ہوجائیں گے کہ
آموزش کی نوعیت کو سمجھ سکیں
آموزش کی مختلف شکلیں یا اقسام اور ان اقسام میں مستعمل طریقۂ کار کی وضاحت کرسکیں
آموزش کے تعین کنندوں کی وضاحت کرسکیں۔
آموزش کے اُصولوں کے کچھ اطلاقوں سے واقف ہوسکیں

مشمولات             لفظی آموزش

تعارف                  تصور کی آموزش
آموزش کی نوعیت                 مہارت کی آموزش
آموزش کے مثالی خاکے                      انتقالِ آموزش
کلاسیکی التزام                          آموزش کو سہل بنانے والے عوامل
کلاسیکی التزام کے تعین کنندے              سیکھنے والا: آموزش کے اسلوب
فعالی / وسیلتی التزام                      آموزشی معذوری

کلاسیکی اور فعالی التزام: اختلاف (باکس6.1)

کلیدی اصطلاحات
اہم آموزشی اعمال خلاصہ
سیکھی ہوئی لاچارکی(باکس6.2) کلیدی اصطلاحات
 اہم آموزشی اعمال                           خلاصہ
سیکھی ہوئی لاچار کی (باکس6.2) نظرثانی کے لیے سوالات
مشاہداتی آموزش نظرثانی کے لیے سوالات
وقوفی آموزش پروجکٹ کی تجاویز


تعارف

پیدائش کے وقت ہر انسانی بچے میں کچھ محدود جوابی عمل کرنے کی لیاقت ہوتی ہے۔ جب کبھی ماحول میں مہیجات موجود ہوتے ہیں تو یہ جوابی عمل خود بحود اضطراری طور سے وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ جیسے جیسے بچہ بڑا ہوتا ہے اور پختگی حاصل کرتا ہے وہ مختلف اقسام کے جوابی عمل کرنے کے لائق ہوتا جاتاہے۔ اس کے اندر کچھ افراد کو ماں کی شکل میں پہچاننا، کچھ کو باپ اور کچھ کو دادا کے طور پر پہچاننا، کھاتے وقت چمچہ کا استعمال کرنا، حروف کی شناخت کو سیکھنا، حروف کو لکھنا اور ان کو ملا کر الفاظ کی تشکیل سیکھنا وغیرہ شامل ہیں۔ بچہ لوگوں کو مخصوص حالات اور ماحول میں دوسروں کو کرتے ہوئے دیکھتا ہے اور ان کی نقل کرتاہے۔ کتاب، نارنگی، گائے لڑکی وغیرہ کے ناموں کو سیکھنا اور یاد رکھنا بچے کا دوسرا اہم کام ہوتا ہے۔ جیسے جیسے بچہ بڑا ہوتا ہے وہ مختلف واقعات یا چیزووں کا مشاہدہ کرتا ہے۔ اور ان کی نمایاں خصوصیات کو سیکھتا ہے۔ وہ چیزوں کو کرسی، میز ، پھل، سبزی وغیرہ مختلف گروہوں میں تقسیم کرنا سیکھ جاتا ہے۔ اسکو ٹر یا کار چلانا، دوسروں سے موثر طریقہ سے بات چیت کرنااور ان کے ساتھ ملنا اور بات چیت کرنا بھی وہ سیکھ جاتاہے۔ محض آموزش کی بنا پر کوئی شخص محنتی یا کام چور، سماجی طور سے معروف ہنر مند اور پیشہ ورانہ طور پر قابل بنتا ہے۔ آموزش اور تطابق کی صلاحت کی وجہ سے ہر فرد اپنی زندگی کو سنوارتا ہے اور ہر طرح کے مسائل کو حل کرتاہے۔ اس باب میں آموزش کے مختلف پہلوئوں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ سب سے پہلے آموزش کی تعریف کی گئی ہے اور اس کی نفسیاتی عمل کے طور پر تصویف کی گئی ہے۔ اس کے بعد اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ انسان کس طرح سے سیکھتا ہے۔ آموزش کے بہت سے طریقوں کو بیان کیا گیا ہے جو آسان سے مشکل تر آموزش کی وضاحت کرتے ہیں۔ تیسرے حصہ میں کچھ ایسے تجربی مظاہر کی وضاحت کی گئی ہے جو آموزش کے دوران وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ چوتھے حصہ میں ان مختلف عوامل کو بیان کیا گیا ہے جو آموزش کی رفتار کاتعین کرتے ہیں اور ان میں آموزش کے اسلوب اور اس کی معذوریاں شامل ہیں۔

آموزش کی نوعیت

Natur of Learning
جیسا کہ اوپر بتایا گیاہے آموزش انسانی کردار کا بیحد اہم عمل ہے۔ بچہ ان تمام تبدیلیوں کی طرف اشارہ کرتا ہے جو تجربات کے نتیجہ کا ماحصل ہیں۔ آموزش کی تعریف ’’کردار میں کسی بھی نسبتاً مستقل تبدیلی یا تجربہ کے ذریعہ کردار میں پیدا کردہ کرداری قوت کے طور پر کرسکتے ہیں۔‘‘ یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ کچھ تبدیلیاں منشیات کے استعمال یا تھکان کے نتیجہ میں بھی رونما ہوتی ہیں لیکن ان تبدیلیوں کو آموزش نہیں کہا جاتاہے۔ صرف وہ تبدیلیاں جو مشق اور تجربے کی وجہ سے آتی ہیں اور جو نسبتاً مستقل (بالکل مستقل نہیں) ہوتی ہیں وہی آموزش کی مثال پیش کرتی ہیں۔

آموزش کے اوصاف

Features of Learning
آموزش کے عمل کی کچھ نمایاں خصوصیات ہوتی ہیں۔ آموزش کی پہلی خصوصیت یہ ہے کہ اس کے اندر کسی طرح کا تجربہ پنہاں ہوتا ہے۔ ہم کو متعدد مواقع پر کسی قصہ کے ایک خاص تسلسل میں واقعہ پذیر ہونے کا تجربہ ہے۔ اگر کوئی واقعہ وقوع پذیر ہوتا ہےتو اس کے بعد کچھ خاص واقعے وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ مثلاً کوئی یہ سیکھتا ہے کہ اگرسورج کے غروب ہونے پر ایک گھنٹی بجتی ہے تبھی رات کا کھانا پروسنے کے لیے تیار ہوتا ہے۔ بار بار آسودگی کا تجربہ کسی کام کو ایک مخصوص طریقہ سے کرنے کے بموجب اس طرح کی عادت کی قیادت کرتا ہے۔ کبھی کبھی صرف ایک تجربہ آموزش کو جنم دے دیتا ہے۔ اگر کسی بچہ کی انگلی ماچس کی ڈبی کے کنارے پر رگڑنے سے جل جاتی ہے تو یہ تجربہ مستقبل میں ماچس کی ڈبی کے استعمال کے لیے بچے کو ماچس کی ڈبی کو احتیاط سے استعمال کرنا سکھا دیتا ہے۔
آموزش کی وجہ سے ہونے والی کرداری تبدیلیاں نسبتاً مستقل ہوتی ہیں۔ ایسی تبدیلیاں ان کو کرداری تبدیلیوں سے مختلف ہوتی ہیں جو نہ تو مستقل ہوتی ہیں اور نہ ہی سیکھی ہوئی ہوتی ہیں۔ مثلاً کردار میں آئی ہوئی وہ تبدیلیاں جو تھکان، عادت یا منشیات کے استعمال کے نتیجہ میں آتی ہیں وہ آموزش کے نتیجہ میں آئی ہوئی تبدیلیوں سے مختلف ہوتی ہیں۔ فرض کیجئے کہ آپ کچھ وقت کے لیے نفسیات کی نصابی کتاب پڑھ رہے ہیں یا موٹر کار چلانا سیکھنے کی کوشش کررہے ہیں تو ایک وقت ایسا آئے ےگا کہ آپ تھکن محسوس کریں گے۔ اس وقت آپ پرھنا یا موٹر کار چلانے کی آموزش بند کردیں گے۔ کردار میں آئی ہوئی یہ تبدیلی تھکان کے نتیجہ میں آئی ہوئی تبدیلی ہے اور یہ تبدیلی وقتی تبدیلی ہے۔ اس لیے اسے آموزش نہیں کہا جائے گا۔
آئیے ہم کردار میں آئی ہوئی تبدیلی کی ایک دوسری مثال لیں۔ آپ کے پڑوس میں کسی کی شادی ہورہی ہے جس کی وجہ سے بہت زیادہ شور شرابہ ہے اور یہ شور شرابہ دیر رات تک چلتا ہے۔ شروع شروع میں ی ہ شور آپ کو اس کام سے بھٹکاتا ہے جو آپ کر رہے ہوتے ہیں۔ اس سے آپ خلل محسوس کرتے ہیں۔ لیکن جب شور لگاتار ہوتا رہتا ہے تو آپ کچھ نئے رخ کے اضطراریے بنالیتے ہیں۔ یہ اضطراریے کمزور سے کمزور تر ہوتے جاتے ہیں اور آخرش نہ پہچانے جانے کے قابل ہوجاتے ہیں۔ یہ بھی کردار میں آئی ہوئی ایک طرح کی تبدیلی ہے۔ یہ تبدیلی میچوں سے مکرّر روبرو ہونے کی وجہ سے آئی ہے اس لیے اسے عادت کی وجہ سے آئی ہوئی تبدیلی کہیں گے اور آموزش کے نتیجہ میں آئی ہوئی تبدیلی نہیں کہیں گے۔ آپ نے یہ ضرور دیکھا ہوگا کہ وہ لوگ جو نسوں کو سکون پہنچانے والی دواوٴں یا منشیات یا شراب کا استعمال کرتے ہیں ان کے کردار بھی تبدیل ہوتے ہیں کیونکہ دوا یا منشیات یا شراب کے استعمال سے جسمانی فعل اور ان کے طریقے متاثر ہوتے ہیں۔ لیکن ایسی تبدیلیاں بہت ہی غیر مستقل نوعیت کی ہوتی ہیں اور جیسے منشیات یا شراب کے اثرات مندمل ہوتے ہیں ایسی تبدیلیاں غائب ہوتی جاتی ہیں۔
آموزش میں نفسیاتی واقعات کا ایک تسلسل پنہاں ہوتا ہے۔ آموزش کے مثالی تجربہ کے بیان میں یہ بات صاف ہوجائے گی۔ فرض کیجئے کہ ماہرین نفسیات کی دلچسپی اگر یہ سمجھنے میں ہو کہ الفاظ کی فہرست کس طرح سے سیکھی جاتی ہے۔ تو انہیں اس تسلسل سے گزرنا ہوگا:(i)یہ جاننے کے لیے کہ آموزش سے پہلے وہ شخص کتنا جانتا ہے کہ قبل آزمائش کرنا،(ii)یاد کرائے جانے والے الفاظ کی فہرست کوایک معین مدت کے لیے اس شخص کے سامنے پیش کرنا، (iii)اس وقفہ کے دوران الفاظ کی فہرست کا نئی معلومات کے طور پر عمل پذیر ہونا،(iv)جب عمل کاری مکمل ہوجاتی ہے تو نئی معلومات حاصل ہوجاتی ہے ، اب نئی معلومات حاصل کی جاچکی ہے۔(یہی آموزش ہے۔(v)کچھ وقت گذرجانے کے بعد عمل کاری شدہ معلومات کی اس شخص سے بازیافت کرائی جاتی ہے۔ باز یافت کرنے کے وقت اس تعداد سے موا۔ہ کیا جاتاہے جو اسے جانچ سے پہلے یاد تھی۔ اس سے یہ بات اخذ کی جاتی ہے کہ آموزش یقیناً وقوع پذیر ہوئی ہے۔
اس طرح آموزش ایک استنباطی عمل ہے اور یہ کار گذاری سے مختلف ہے۔ کارگذاری کسی شخص کا مشاہدہ شدہ کردار یا جوابی عمل یا کام ہے۔ آئیے ہم دیکھتے ہیں کہ ’استنباط‘ لفظ کا کیا مطلب ہے۔ فرض کیجئے کہ آپ کے اُستاد آپ سے ایک نظم زبانی یاد کرنے کو کہتے ہیں آپ اس نظم کو بار بار پڑھتے ہیں، اُس نظم کے بعد آپ کہتے ہیں کہ آپ کو وہ نظم حفظ ہوگئی ہے۔ آپ سے اُس نظم کو سنانے کے لیے کہا جاتا ہے اور آپ اسے سنادیتے ہیں۔ آپ کے ذریعہ نظم کا سنایا جانا کارگذاری ہے۔ آپ کی کار گذاری یعنی آپ کے ذریعہ نظم کو سنائے جانے کی بنا پر آپ کے استاد یہ استنباط کرتے ہیں کہ آپ نے نظم یاد کرلی ہے۔

آموزش کے مثالی خاکے

(Paradigms of Learning)
آموزش کئی طریقوں سے واقع ہوتی ہے۔ کچھ ایسے طریقے ہیں جن کو آسان جوابی عمل کو حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جاتاہے جب کہ کچھ دوسرے ایسے طریقے ہیں جن کو پیچیدہ جوابی عمل کو حاصل کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ باب کے اس حصہ میں آپ اُن سبھی طریقوں کو سیکھیں گے۔ سب سے آسان آموزش کی قسم کو التزام(Conditioning)کہتے ہیں۔ دو طرح کے التزاموں اور دسرے طرح کے التزام کو وسیلتی یا فعالی التزام کہتے ہیں۔ ان کے علاوہ ، مشاہداتی آموزش، تصور کی آموزش، لفظی آموزش، اور مہارت کی آموزش بھی ہوتی ہیں۔

کلاسیکی التزام

(Classical Conditioning)
کلاسیکی التزام کی آموزش کی کھوج سب سے پہلے پاولاو(Pavlov)نے کی تھی ۔ ان کی بنیادی دلچسپی ہاضمہ کے عضویات کی معلومات حاصل کرنے میں تھی۔ اپنی تحقیق کے دوران انہوں نے دیکھا کہ وہ کتے جن کے اوپر وہ خود تجربہ کررہے تھے جس برتن میں انہیں کھانا دیا جاتا تھا اس برتن کو دیکھ اگرچہ وہ خالی ہوتا تھا رال ٹپکانے لگتے تھے۔ پاولاو(Pavlov)نے اس عمل کی تفصیل جاننے کے لیے ایک اختبار کاڈیزائن تیار کیا۔ اختبار کے پہلے مرحلہ میں کتے کو ایک کٹگھرے میں رکھ کر باندھ دیا گیا۔ کچھ وقت کے لیے کتے کو کٹگھرے میں اسی طرح چھوڑ دیا گیا۔ کئی دنوں تک یہ عمل کئی بار دہرایا گیا۔ اسی دوران ایک آسان سی سرجری (جراحی) کی گئی  اور اس میں ایک ٹیوب کے ایک سرے کو اس کے جبڑے میں گھسیڑ دیا گیا اور ٹیوب کا دوسرا سرا ایک گلاس میں ڈال دیا گیا جس میں لار کی مقدار کو ناپا جاسکتا تھا۔ اس اختباری ترتیب کو تصویر6.1میں دکھایا گیا ہے۔
pic-2

تصویر:6.1پاولاو کے کٹگھرے میں التزام کے لیے کتا


اختبار کے دوسرے مرحلہ میں کتے کو بھوکا رکھا گیا اور اسے کٹگھرے میں اس طرح رکھا گیا کہ ٹیوب کا ایک سرا اس کے جبڑے میں گھسیڑا ہوا تھا اور دوسرا سرا گلاس میں تھا۔ ایک گھنٹی بجائی گئی اور اس کے فوراً بعد کتے کو گوشت کے پاوڈر کی شکل میں کھانا دیا گیا۔کتے کو کھانا کھانے دیا گیا۔ اگلے کئی دنوں تک جب بھی اسے کھانا دیا جاتا تھا اس سے پہلے گھنٹی بجائی جاتی تھی۔ بہت سی سعی(Trials)کے بعد ایک آزمائشی سعی دی گئی جس میں ہر چیز اسی طرح سے تھی جس طرح پہلے سبھی سعیوں میں تھی، بس فرق یہ تھا  کہ اس آزائشی سعی میں گھنٹی بجنے کے بعد کھانا نہیں دیا گیا ۔ اس امید سے کہ گھنٹی کے بعد کھاناآئے گا کتّے نے رال ٹپکائی کیونکہ کتّے نے گھنٹی کا تعلق (رشتہ) کھانے سے جوڑ لیا تھا۔ اس طرح گھنٹی اور کھانے کے مابین ایتلاف کے نتیجے میں کتّے نے ایک نئے جوابی عمل کو سیکھ لیا یعنی اس نے گھنٹی کے لیے بھی رال ٹپکانا سیکھ لیا۔ اسے التزام کا نام دیا گیا۔ آپ سب نے یہ مشاہدہ کیا ہوگا کہ جب بھی کتوں کو کے سامنے کھانا رکھا جاتا ہے تو سبھی کتے رال ٹپکاتے ہیں۔ اس طرح سے کھانا ایک غیر مشروط مہیج (US)اور اس کے بعدرال آتی ہے وہ غیر مشروط جوابی عمل(UR)ہے ۔ التزام کےواقع ہوجانے کے بعد گھنٹی کی آواز ہونے پر رال آنا شروع ہوجاتی تھی۔ گھنٹی مشروط مہیج (CS)اور اس کے ذریعہ ٹپکائی گئی رال مشروط جوابی عمل(CR) ہوجاتی ہے۔ اس طریقہ کی وضاحت گوشوارہ6.1میں کی گئی ہے۔ یہ ظاہر ہے کہ کلاسیکی التزام کے آموزش کی حالت مہیج۔ مہیج آموزش (S-S Learning)کی ہے جس میں ایک مہیج (یعنی گھنٹی کی آواز) دوسرے مہیج (یعنی کھانے) کا اشارہ سگنل بن جاتا ہے۔ یہاں پر ایک مہیج دوسرے مہیج کے وقوع پذیر ہونے کے امکانات کا اشارہ کرتاہے۔
کلاسیکی التزام کی مثالیں انسان کی روزمرہ کی زندگی میں بہتات میں ملتی ہیں۔ آپ تصور کیجئے کہ آپ نے ابھی ابھی دوپہر کا کھانا ختم کیا ہے اور آپ دیکھتے ہیں کہ بغل والی میز پر مٹھائی دی جارہی ہے۔اس سے آپ کے منھ میں اُس مٹھائی کی لذت کا سگنل یا اشارہ ہوتاہے اور آپ کے منھ میں رال آنی شروع ہوجاتی ہے اور آپ مٹھائی جیسی لذت کا احساس کرتے ہیں۔ یہ ایک مشروط جوابی عمل(CR)ہے۔ آئیے ہم دوسری مثال لیں۔ چھوٹا بچہ اپنی نشوونما کے شروعاتی مراحل میں تیز آواز سے قدرتی طور پر ڈرتا ہے۔ فرض کیجیے کہ ایک چھوٹا بچہ پھولا ہوا غبارہ پکڑتا ہے اور وہ پھوٹ جاتاہے جس سے شور ہوتا ہے۔ بچہ ڈرجاتا ہے۔ اب دوسری بار بچے کو غبارہ پکڑایا جاتا ہے جو اس کے ہاتھ میں پھوٹ جاتاہے تو یہ شور کا اشارہ بن جانے کی وجہ سے بچے کے اندر خوف کا جوابی عمل پیدا کرتا ہے۔ غبارہ جو کہ ایک مشروط مہیج ہے اور زور دار شور جو کہ غیر مشروط مہیج ہے کہ یکے بعد دیگرے فوراً پیش کیے جانے کی وجہ سے ایسا ہوتاہے۔
-
گوشوارہ 6.1: التزام کے مراحل اور عملیات کا تعلق
التزام کے مراحل مہیج کی نوعیت جوابی عمل کی نوعیت
پہلے کھانا (غیر مشروط مہیج) US گھنٹی کی آواز رال کا آنا (غیر مشروط (US) جوابی عمل۔ چوکسی (کوئی مخصوص جوابی عمل)
دوران گھنٹی کی آواز (مشروط مہیج (CS)+ کھانا (غیر مشروط یا مہیج (US) رال کا آنا
بعد میں گھنٹی کی آواز (مشروط مہیج (CS) رال کا آنا (مشروط جوابی عمل (CS)

کلاسیکی شالتزام کے تعین کنندے

(Determinants of Classical Conditioning)
کلاسیکی التزام میں کسی جوابی عمل کا محصول کتنی جلدی اور مضبوطی سے وقوع پذیر ہوتا ہے یہ بہت سے عوامل پر منحصر کرتا ہے۔ مشروط جوابی عمل کی آموزش پر اثرا ڈالنے والے کچھ اہم عوامل کا بیان حسب ذیل ہے:
1.مہیجوں کے مابین وقت کا تعلق (Time Relations Between Stimuli)مشروط مہیج(CS)اور غیر مشروط مہیج (US)کے آنے کے مابین وقت پر منحصر کلاسیکی التزام کے طریقے کار کے اقسام جن کا بیان حسب ذیل ہے، بنیادی طور پر چار ہیں۔ ان میں سے پہلے تین کو پیشتروالزام طریقہ کار(Forward Conditioning Procedures)اور چوتھے کو پس روطریقہ کار(Backward Conditioning Procedure)کہا جاتا ہے۔ ان طریقہ کاروں کے بنیادی اختباری تسلسل حسب ذیل ہیں:
(الف) جب مشروط مہیج اور غیر مشروط مہیج ساتھ ساتھ دیئے جاتے ہیں تو اسے ہموقت التزام(Simultaneous Conditioning)کہتے ہیں۔
(ب) تاخیری التزام(Delayed Conditioning)میں مشروط مہیج(CS)کے آنے کے بعد غیر مشروط مہیج(US)آتا ہے۔ مشروط مہیج غیر مشروط مہیج کے ختم ہونے سے پہلے ہی ختم ہوجاتا ہے۔
(ت) سراغ التزام(Trace Conditioning)میں مشروط مہیج کے آنے اور اس کو ختم ہونے کے کچھ وقفہ کے بعد غیر مشروط مہیج آتا ہے۔
(ث) پس روالتزام(Backward Conditioning)میں مشروط مہیج غیر مشروط مہیج کے آنے کے بعد آتاہے۔
اب یہ حتمی طور سے طے ہوچکا ہے کہ تاخیری التزام کا طریقہ کار مشروط جوابی عمل کے حصول کے لیے سب سے زیادہ با اثر ہوتا ہے۔ ہموقت اور سراغ التزام کے طریقہ کار مشروط جوابی عمل کے حصول کی قیادت کرتے ہیں لیکن اس میں تاخیری التزام کے طریقہ کار کے مقابلہ میں سعی کی زیادہ تعداد درکار ہوتی ہے۔ یہ بات ذہن نشین ہونی چاہیے کہ پس روالتزام کےطریقہ کار میں جوابی عمل کا حصول کبھی کبھار ہی ہوتا ہے۔
2 غیر مشروع مہیجوں کے اقسام(Type of Unconditioned Stimuli)کلاسیکی التزام کےمطالعوں میں مستعمل غیر مشروط مہیجوں کی دو بنیادی قسمیں ہیں اور وہ ہیں اشتہا کی (Appetitive)اور اکراہی (Aversive)۔ اشتہار کی غیر مشروط مہیجیں اپنے آپ رغبت کے جوابی اعمال جیسے کھانا کھانے، پانی پینے اور مسلنے وغیرہ کے جوابی عمل پیدا کرتی ہیں۔ یہ جوابی اعمال تسلی اور خوشی دیتے ہیں۔ دوسری طرف اشتہا کی غیر مشروط مہیج جیسے شور، کڑوا ذائقہ، بجلی کا جھٹکا، درد ناک انجکشن وغیرہ تکلیف دہ اور نقصان دہ ہوتے ہیں اور چھٹکارہ پانے یا بھاگنے کے جوابی اعمال پیدا کرتے ہیں۔ یہ پایا گیا ہے کہ اشتہا کی کلاسیکی التزام سست رفتار ہوتا ہے اور اس میں نسبتاً زیادہ حصولی سعی کی ضرورت ہوتی ہے، جب کہ اکراہی کلاسیکی التزام ایک یا دو ہی سعیوں میں قائم ہوجاتا ہے۔
3 مشروط مہیجوں کی شدت (Intensity of Conditioned Stimuli)مشروط مہیجوں کی شدت اشتہا کی اور اکراہی دونوں طرح کے کلاسیکی التزاموں کی رفتار پر اثر ڈالتی ہے۔ مشروط مہیج کی شدت جتنی زیادہ ہوتی ہے۔ وہ مشروط جوابی عمل کے حصول کی رفتار کو بڑھانے میں اتنی ہی زیادہ اثر دار ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ مشروط مہیج کی شدت جتنی زیادہ تیز ہوگی التزام قائم کرنے کےلیے اتنی ہی کم سعی کی ضرورت ہوگی۔

سرگرمی6.1

التزام کو سمجھنےاور اس کی وضاحت کے لیے آپ حسب ذیل مشق کرسکتے ہیں۔ آم کی کچھ قاشیں ایک پلیٹ میں لیجئے اور انہیں اپنے کلاس روم میں طلبائ کو دکھائیے۔ ان سے پوچھئے کہ انہوں نے اپنے منھ میں کیا محسوس کیا؟
آپ کے بہت سے طلبائ ساتھی بتائیں گے کہ انہوں نے اپنے منھ میں رال آتی ہوئی محسوس کی۔

فعالی یاوسیلتی التزام

(Operant/ Instrumental Conditioning)
اس طرح کے التزام کی کھوج سب سے پہلے بی۔ ایف۔اسکینر (B.F.Skinner)نے کی تھی۔ اسکینر نے کسی جاندار کے ماحول میں فعال کرنے کے وقت ارادی جوابی عمل روپذیر ہونے کا مطالعہ کیا۔ انہووں نے ان ارادی جوابی اعمال کو فعالیات(Operants)کہا۔ فعالیات ایسے کردار یا جوابی عمل ہیں جو جانوروں یا انسانوں کے ذریعہ ارادی طور پر کیے جاتے ہیں اور وہ ان کے بس میں ہوتے ہیں۔ لفظ ’’فعال‘‘ کا استعمال اس لیے کیا جاتاہے کیونکہ جاندار ماحول پر فعال کرتا ہے۔ فعال کردار کے التزام کو فعالی التزام کہا جاتاہے۔
اسکینر نے اپنے مطالعات چوہوں اور کبوتروں پر ایک مخصوص طریقہ سے بنائے گئے باکس میں کیے جسے اسکینر باکس کہا جاتا ہے۔ ایک وقت میں ایک بھوکے چوہے کو باکس کے ایک خانہ میں رکھا گیا۔ یا کس اس طرح سے بنایا گیاتھا کہ چوہا اندر گھوم تو سکتا تھا لیکن باہر نہیں آسکتا تھا اس میں ایک بٹن تھا جس کا تعلق باکس کے اوپر رکھے ہوئے کھانے کے ایک پلیٹ سے تھا(تصویر6.2دیکھیں)۔ جب بٹن دبتا تھا تو کھانے کا ایک دانہ بٹن کے قریب رکھے ہوئے پلیٹ پر گرتا تھا۔ باکس میں گھومتے ہوئے اور پنجہ مارتے ہوئے (جو جستجوئی کردار ہیں) بھوکا چوہا اتفاقاً بٹن کو دبادیتا تھا اور پلیٹ پر کھانے کا ایک دانہ آجاتا تھا۔ بھوکا چوہا اسے کھالیتا تھا۔ اگلی سعی میں تھوڑے وقفہ کے بعد چوہا جستجوئی کردار پھر شروع کردیتا تھا۔ جیسے جیسے سعی کی تعداد بڑھتی گئی چوہا کھانا حاصل کرنے کے لیے بٹن دبانے میں کم سے کم وقت لیتا گیا۔ التزام اس وقت مکمل ہوگیا جب چوہے کو باکس میں چھوڑتے ہی وہ بٹن دیتا تھا۔ یہ ظاہر ہے کہ بٹن کا دبانا فعالی جوابی عمل ہے اور کھانا حاصل کرنا اس کا نتیجہ ہے۔
pic-4

شکل6.2:اسکینر باکس

حسب بالا حالات میں جوابی عمل کھانا حاصل کرنے کا وسیلہ ے اسی لیے اس طرح کی آموزش کو وسیلتی التزام بھی کہا جاتا ہے۔ وسیلتی التزام کی مثالیں ہماری زندگی میں بھی رونما ہوتی ہیں۔ بچے جب ماں کی غیر موجودگی میں مٹھائی کھانا چاہتے ہیں تو وہ ماں کے ذریعہ کھانے سے بچا نے کے لیے چھپائے ہوئے مرتبان کو پہچاننا سیکھ جاتے ہیں۔ بچے اپنے والدین اور دوسروں سے پاسداری حاصل کرنے کے لیے انکساری اور  ’’پلیز‘‘ کہنا سیکھ جاتے ہیں۔ ریڈیو چلانا، کیمرہ اور ٹی وی وغیرہ میکا نیکی چیزوں کا فعل لوگ وسیلتی التزام کے اصولوں کے بنا پر ہی سیکھتے ہیں۔ وقعتاً انسان وسیلتی التزام کے ذریعہ ہی مقصد یا ہدف کو حاصل کرنے کے چھوٹے راستے (شارٹ کٹس) سیکھ جاتے ہیں۔

فعالی التزام کے اثر کنندے

(Determinants of Operant Conditioning)
آپ نے یہ نوٹ کیا ہوگا کہ فعالی یا وسیلتی التزام آموزش کی ایک ایسی قسم سے جس میں کردار سیکھا جاتا ہے، اسے قائم رکھا جاتا ہے یا اس کے نتیجہ کے طو رپر کردار میں تبدیلی لائی جاتی ہے۔ ایسے نتائج کوتقویت بخش(Reinforcers)کہا جاتا ہے۔ تقویت بخش کی تعریف کسی بھی ایسے مہیج یا وقوعہ کے طو رپر کرسکتے ہیں جو چاہے جانے والے جوابی عمل کی روپذیری کے احتمال کو بڑھا دیتے ہیں۔ تقویت بخش کی ایسی بہت ساری خصوصیات ہوتی ہیں جو جوابی عمل کی رفتار اور اس کی طاقت پر اثر ڈالتی ہیں۔
فعالی التزام قسم کی بنا پر مثبت ، منفی، تعداد یا تکرار کے طرف ہوتی ہے ۔ کیفیت کی بنا پر ارفع اور ادنی ہوتی ہے اور جدول (شیڈول) کے لحاظ سے لگاتار اور بالوفقہ (جزوی) ہوتی ہے۔  یہ سبھی خصوصیات فعالی التزام کی رفتار پر اثر ڈالتی ہیں۔ ایک دوسرا عامل جو اس طرح کے التزام پر اثر ڈالتا ہے جوابی عمل یا کردار کی نوعیت۔ وقت کا ووہ وقفہ جو جوابی عمل کے روپذیر ہونے اور تقویت کے بیج میں حائل ہوتا ہے وہ بھی فعالی التزام پر اثر ڈالتا ہے۔ آئیے ہم ان میں سے کچھ عوامل کا تجزیہ کریں۔

تقویت کے اقسام(Types of Reinforcement)

تقویت مثبت یا منفی ہوسکتی ہے۔ مثبت تقویت کے اندر وہ مہیج آتے ہیں جن کا نتیجہ خوشگوار ہوتا ہے۔ ایسے مہیجات ان جوابی اعمال کو پختگی دیتے ہیں اور انہیں قائم رکھتے ہیں جن کی وجہ سے وہ رونما ہوتے ہیں ۔ مثبت تقویات ضروریات کو مطمئن کرتی ہیں۔ ان میں کھانا، پانی، طمغے، تعریف، روپیہ، مرتبہ، اطلاع وغیرہ شامل ہیں۔ منفی تقویت کے اندر ناخوشگوار اور تکلیف دہ مہیج آتے ہیں۔ ایسے جوابی عمل جوجاندار کو تکلیف دہ مہیجوں سے آزاد کراتے ہیں یا چھٹکارا  دلاتے ہیں یا احتراز دلاتے ہیں منفی تقویت کے حامل ہیں۔ اس طرح منفی تقویت احتراز(بچنے) اور بھاگنے کے عمل کو سکھاتی ہیں۔ مثلاً ٹھنڈ کے موسم میں انسان سردی سے بچنے یا احتراز کرنے کے لیے گرم کپڑے پہننا یا لکڑی جلانا یا ہیٹر کا استعمال کرنا سیکھتا ہے۔ انسان خطرناک مہیجوں سے دور ہٹنا سیکھتا ہے کیونکہ وہ منفی تقویت مہیا کرتے ہیں۔ اس بات کو ذہن نشین کرنا ضروری ہے کہ منفی تقویت سزا نہیں ہے۔ سزا کا استعمال جوابی عمل کو کم کردیتا یا دبا دیتا ہے۔ جب کہ منفی تقویت بچاوٴ یا بھاگنے کے جوابی عمل کے احتمال کو بڑھاتا ہے۔ مثلاً ڈرائیور اور اس کے پاس بیٹھا شخص ایکسیڈنٹ کی حالت میں زخمی ہونے سے بچنے یا ٹریفک پولیس کے ذریعہ فائن کیے جانے سے بچنے کے لیے سیٹ بیلٹ باندھتے ہیں۔
یہ بات سمجھ لینا چاہیے کہ کوئی بھی سزا جوابی عمل کو مستقل طور پر نہیں دباتی ہے۔ ہلکی اور تاخیری سزا کا کوئی اثر نہیں ہوتا ہے۔ سزاجتنی زیادہ قوی ہوتی ہے جوابی عمل کے دبنے کا اثر اتنا زیادہ دیر پا ہوتا ہے لیکن یہ مستقل کسی بھی حال میں نہیں ہوتا ہے۔
کبھی کبھی سزا کے قوی ہونے کے باوجود اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا ہے بلکہ اس کے برخلاف سزا یافتہ شخص کے اندر سزا دینے والے ایجنٹ یا شخص کے تئیں ناپسندیدگی یا نفرت پیدا ہوجاتی ہے۔

تقویت کی تعداد اور دیگر خصوصیات

(Number of Reinforcement and other Features)
یہ ان سعیوں کی تعداد کی طرف اشارہ کرتی ہے جن پر جاندار کو تقویت یا انعام دیا گیا ہے۔ تقویت کی مقدار کا مطب یہ ہے کہ کوئی شخص ہر ایک سعی پر کتنا تقویتی مہیج (یعنی کھانا یا پانی یا درد دینے والے ایجنٹ کی شدت) پاتا ہے۔ تقویت کی کیفیت تقویت بخش کی قسم کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ کشمکش یا کیک کے ٹکڑوں کے مقابلہ میں چک پیزیا روٹی کے ٹکڑے کم تر درجہ کے تقویت بخش ہیں۔ عام طور سے التزام کی رفتار اس حد تک بڑھتی ہے جس حد تک تقویت کی تعداد، مقدار اور کیفیت بڑھتی ہے۔

تقویت کے جدول(Schedules of Reinforcement)

تقویت کا جدول التزام کی سعیوں کے دوران تقویت کو دینے کا بندوبست ہے۔ تقویت کا ہر جدول التزام کی رفتار پر اپنی طرف سے اثر ڈالتا ہے اور اس طرح سے مشروط اعمال مختلف صفات کے ساتھ رونما ہوتے ہیں۔ فعالی التزام میں مستعمل جاندار ہر سعی میں تقویت حاصل کرسکتاہے یا کچھ سعی میں اسے تقویت حاصل ہوتی ہے اور کچھ میں نہیں۔ اس طرح تقویت مسلسل ہوسکتی ہے یا بالوقفہ۔ جب چاہے جانے والے جوابی عمل کو ہر بار وقوع پذیر ہونے پر ہر بار تقویت دی جاتی ہے تو اسے مسلسل تقویت کہتے ہیں۔ اس کے برخلاف بالوقفہ تقویت کے جدول میں جوابی عمل کو کبھی تقویت دی جاتی ہے اور کبھی نہیں۔ اسے جزوی تقویت کہا جاتا ہے اور یہ پایا گیا ہے کہ جزوی تقویت مسلسل تقویت کے مقابلہ میں تعدیم کے لیے زیادہ مدافعت پیدا کرتی ہے۔

تاخیری تقویت(Delayed Reinforcement)

تقویت کا اثر اس کی روپذیری میں تاخیر کرنے سے بہت زیادہ کم ہو جاتاہے۔ یہ پایا گیا ہے کہ تقویت دینے میں تاخیر کی وجہ سے کار کردگی کمزور سطح کی ہوجاتی ہے۔ اس کا مشاہدہ بچوں سے یہ پوچھ کر کہ وہ گھر کا کام کاج کرنے پر کس طرح کے انعام کو پسند کریں گے آپ کرسکتے ہیں۔ آپ دیکھیں گے کہ وہ کام کرنے کے فوراً بعد چھوٹا انعام پانا کام کرنے کے کافی وقفہ کے بعد بڑے التزام پانے کے مقابلہ میں زیادہ پسند کرتے ہیں۔

باکس6.1کلاسیکی اور فعالی التزام میں فرق:

.1 کلاسیکی التزام میں جوابی اعمال کسی مہیج کے کنٹرول میں ہوتا ہے کیونکہ یہ اضطرار یے ہوتے ہیں جو مناسب مہیجوں کے ذریعہ خود بخود پیدا ہوتے ہیں۔ ایسے مہیجوں کو غیر مشروط مہیج کی شکل میں اور ان سے پیدا شدہ جوابی عمل غیر مشروط جوابی عمل کے طور پر لیے جاتے ہیں۔ اس طرح پاولا وکا التزام جس میں غیر مشروط جوابی عمل پیدا کیا جاتا ہے اکثر جوابی التزام کہا جاتاہے۔
وسیلتی التزام میں جوابی عمل جاندار کے کنٹرول میں ہوتا ہے اور یہ ارادی جوابی عمل یا فعالیات(Operants)ہوتے ہیں۔ اس طرح سے دونوں طرح کے التزاموں میں دو مختلف طرح کے جوابی اعمال ملتزم ہوتے ہیں۔
.2 کلاسیکی التزام میں مشروط مہیج بالکل صاف ہوتے ہیں اور اچھی طرح سے متعارف ہوتے ہیں لیکن فعالی التزام میں مشروط مہیج صاف نہیں ہوتا ہے۔ اس کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے لیکن اس کی براہِ راست واقفیت نہیں ہوتی ہے۔
.3 کلاسیکی التزام میں اختیار کنندہ غیر مشروط مہیج کے روپذیر ہونے کو کنٹرول کرتا ہے۔ جب کہ فعالی التزام میں تقویت بخش اس جاندار کے کنٹرول میں ہوتا ہے جو آموزش کررہا ہوتا ہے۔ اس لیے کلاسیکی التزام میں غیر مشروط مہیج حاصل کرنے کے لیے جاندار سرگرم نہیں رہتا ہے ۔ جب کہ فعالی التزام میں وہ تقویت پانے کے لیے سرگرم رہتا ہے۔
.4 دونوں قسموں کے التزام موں میں اختباری روداد کو بتانے کے لیے مختلف تکنیکی الفاظ کا استعمال ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ فعالی التزام میں جیسے تقویت بخش کہا جاہے اُسے کلاسیکی التزام غیر میں مشروط مہیج کہا جاتاہے۔ کلاسیکی التزام میں غیر مشروط مہیج کے دو کام ہوتے ہیں۔ شروعات میں یہ جوابی عمل کو پیدا کرتاہے اور ایتلاف کیے جانے والے جوابی عمل کو تقویت پہنچاتا ہے اور بعد میں یہ مشروط مہیج کے ذریعہ پیدا ہونے لگتا ہے۔

باکس6.2سیکھی ہوئی لاچارگی(Learned Helplessness)

یہ ایک دوسرا دلچسپ مظہر ہے جو دونوں طرح کے التزاموں کے مابین عمل کا نتیجہ ہے ۔ سیکھی ہوئی لاچارگی نفسیاتی افسردگی کے معاملات میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ سِلگمین اور میئر نے اس مظہر کا مظاہرہ کتّے پر کیے گئے مطالعہ سے کیا۔ کلاسیکی التزام کے طریقہ کار کے استعمال سے سب سے پہلے انہوں نے کتّے کو ایک آواز سنائی جو مشروط مہیج تھا اور بجلی کا جھٹکا دیا جو غیرمشروط مہیج تھا۔ اس میں کتّوں کو بھاگ جانے یا بجلی کے جھٹکے سے چھٹکارا پانے کی کوئی صورت نہیں تھی۔ آواز اور بجلی کے جھٹکے بہت بار دہرائے گئے۔ اس کے بعد کتوں کو فعالی التزام کے طریقہ کار سے بجلی کا جھٹکا دیا گیا۔ اس میں کتے اپنے سروں کو دیوار پر دبا کر جھٹکے سے چھٹکارا پاسکتے تھے۔ پاولاوین التزام کے اندر جھٹکے سے چھٹکارا نہ پاسکنے کے تجربہ کے بعد فعالی التزام کے اندر جھٹکے سے چھٹکارا نہ پاسکنے کے تجربہ کے بعد فعالی التزام کے طریقہ کار میں کتے جھٹکے سے بھاگ پانے یا اس سے چھٹکارا پانے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ کتے صرف جھٹکے برداشت کرتے رہے اور انہوں نے بھاگنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ کتوں کے اس کردار کو سیکھی ہوئی لاچاری کہا گیا۔
یہ مظہر انسانوں میں بھی کام کرتا ہوا پایا گیا ہے۔ یہ پایا گیا ہے کہ کاموں کے مجموعوں میں ناکامیاب ہونے کی وہ سے سیکھی ہوئی لاچاری روپذیر ہوتی ہے۔ ایک اخباری مطالعہ میں معمولوں(فاعلوں) کو شروع میں ان کی کار کردگی کو خاطر میں لائے بغیر ناکامیابی کا تجربہ دیا گیا۔ دوسرے دور میں معمولوں کو کام کرنے کو دیا گیا۔ لاچارگی کی پیمائش اکثر معمول کے کام چھوڑنے سے پہلے اس کی لیاقت اوراستقلال کے طور پر کی جاتی ہے۔ اس سے لاچارگی کا پتہ چلتا ہے۔ ایسے بہت سے مطالعے یہ ثابت کرتے ہیں کہ مستقل افسردگی سیکھی ہوئی لاچارگی پیدا کرتی ہے۔

آموزش کے اہم اعمال

(Key Learning Processes)
جب آموزش واقع ہوتی ہے تو چاہیے وہ کلاسیکی التزام ہو یا فعالی اس میں آموزش کے کچھ اعمال(Pocesses)شامل ہوتے ہیں۔ ان کے اندرتقویت، ت۴دیم یا سیکھے ہوئے جوابی عمل کاروپذیر نہ ہونا، کچھ مخصوص حالات میں آموزش کے دوسرے مہیجوں کے ساتھ تعمیم، تقویت دینے والے اور تقویت نہ دینے والے مہیجوں کے مابین امتیاز اور از خود بحالی وغیرہ شامل ہیں۔

تقویت(Reinforcement)

تقویت، اختبار کنندہ کے ذریعہ تقویت دیئے جانے کا عمل ہے۔ تقویت بخش ایسے مہیج ہوتے ہیں جو جوابی اعمال کی رفتار کو بڑھاتے ہیں یا ان اعمال کے روپذیر ہونے کے احتمال کو بڑھاتے ہیں جو ان کے بعد آتے ہیں۔ مثبت تقویت بخش اس جوابی عمل کی رفتار کو برھاتا ہے جو اس کے روپذیر ہونے کے بعد ہوتا ہے۔ منفی تقویت بخش اس جوابی عمل کی رفتار کو بڑھاتا ہے جس کے بعد منفی تقویت بخش ہٹ جاتا ہے یا ختم ہوجاتا ہے۔ تقویت بخش بنیادی یا ثانوی ہوسکتے ہیں۔ بنیادی تقویت بخش حیاتیاتی طور پر اہم ہوتے ہیں کیونکہ ان پر جاندار کی زندگی منحصر ہوتی ہے(جیسے بھوکے جاندار کے لیے کھانا)۔ ثانوی تقویت بخش وہ ہے جو جاندار کے ماحول کے ساتھ تجربہ کی وجہ سے تقویت بخش کی خصوصیات کو اختیار کرلیتا ہے۔ہم اکثر پیسے، تعریف اور نمبروں کے درجات (اوّل، دوم، سوئم، وغیرہ) کو تقویت بخش کی شکل میں استعمال کرتے ہیں۔ انہیں ہم ثانوی تقویت بخش کہتے ہیں۔ تقویت بخش کا منظم استعمال مطلوبہ جوابی عمل کو پیدا کرسکتا ہے۔ کسی جوابی عمل کے درجہ بندرجہ مھلوبہ جوابی عمل کے قریب تر ہونے پر تقویت دے کر ہم اس جوابی عمل کی صورت گری کرسکتے ہیں۔

تعدیم (Extinction)

تعدیم کا مطلب اس سیکھے ہوئے جوابی عمل کے خاتمہ سے ہے جو اس حالت سے تقویت کو ہٹالینے کی وجہ سے روپذیر ہوتاہے جس میں وہ رونما ہوا کرتا تھا۔ کلاسیکی التزام میں اگر مشروط مہیج اور مشروط جوابی عمل کی روپذیری کے بعدغیر مشروط مہیج نہیں آتا ہے یا فعالی التزام میں اگر اسکینر باکس میں بٹن دبا نے پر کھانا نہیں آتا ہے تو سیکھا ہوا کردار دھیرے دھیرے کمزور ہوتا جاتا ہے اور آخرش حتم ہوجاتا ہے۔ اسے ہی تعدیم کہتے ہیں۔
آموزش میں تعدیم کے لیے مدافعت دیکھنے کو ملتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ اب سیکھے ہوئے جوابی عمل کو تقویت نہیں دی جارہی ہے تب بھی کچھ وقت تک یہ روپذیر ہوگا۔ لیکن تقویت کے بغیر سعی کی تعداد بڑھنے پر جوابی عمل کی طاقت درجہ بدرجہ کمزور ہوتی جاتی ہے اور آخرش یہ واقع ہونا بند ہوجاتا ہے۔ کتنی دیر تک سیکھے ہوئے جوابی عمل کی تعدیم کے لیے مدافعت برقراررہے گی یہ کئی عوامل پر منحصر ہوتا ہے۔ یہ پایا گیا ہے کہ تقویت دی گئی سعی کی تعداد کے بڑھنے پر تعدیم کے لیے مدافعت بڑھتی ہے اور سیکھا ہوا رد عمل اونچی سطح پر پہنچ جاتاہے۔ اس اونچی سطح پر کار کردگی مستحکم ہوجاتی ہے۔ اس کے بعد سعی کی تعداد بڑھنے کا جوابی عمل پر کوئی اثر نہیں پڑتا ہے۔ حصولی سعی کے دوران تقویت کی تعداد میں اضافہ ہونے سے بھی تعدیم کے لیے مدافعت بڑھتی ہے۔ اس کے آگے تقویت کی تعداد تعدیم کے لیے مدافعت کو گھٹاتی ہے۔ مطالعے یہ بھی بتاتے ہیں کہ حصول سعی کے دوران جیسے جیسے تقویت کی مقدار (جیسے کھانے کے ٹکڑوں کی تعداد) بڑھتی ہے ویسے ویسے تعدیم کے لیے مدافعت گھٹتی ہے۔
اگر حصولی سعی کے دوران تقویت میں تاخیر کردی جاتی ہے تو تعدیم کے لیے مدافعت بڑھتی ہے۔ ہر حصولی سعی میں تقویت دینے سے سیکھے ہوئے جوابی عمل کی تعدیم کے لیے مدافعت کم ہوجاتی ہے۔ اس کے برخلاف حصولی سعی کے دوران بالوقفہ یا ادھوری تقویت سیکھے ہوئے جوابی عمل کی تعدیم کے لیے مدافعت کو برھاتی ہے۔

تعمیم اور امتیاز(Generalisation and Discrimination)

تعمیم اور امتیاز کے اعمال سبھی طرح کی آموزشوں میں واقع ہوتے ہیں تو بھی التزام کے پسِ منظر میں اس پر بھرپور تجربے کیے گئے ہیں۔ فرض کیجئے کہ کسی جاندار کو مشروط مہیج (روشنی یا گھنٹی کی آواز) کو دیئے جانے پر اس کے اندر مشروط جوابی عمل (رال کا آنا یا کوئی اوراضطراری جو ابی عمل) پیدا ہونے کو ملتزم کیا گیا ہے۔ اب التزام قائم ہوجانے کےبعد مشروط مہیج کی طرح کے کسی دوسرے مہیج (مثلاً ٹیلیفون کی گھنٹی کی آواز) کو دیئے جانے پر اس کے تئیں بھی التزامی جوابی عمل کرنے کے مظہر کو تعمیم کہا جاتا ہے۔ پھر فرض کیجئے کہ کسی بچہ نے ایک مخصوص سائز اور شکل کے برتن میں رکھی ہوئی مٹھائی کو تلاش کرنا سیھ لیا ہے۔ اب جب کہ اس کی ماں نہیں ہوتی ہے تب بھی وہ برتن ڈھونڈ لیتا ہے اور مٹھائی حاصل کر لیتا ہے۔ یہ ایک سیکھا ہوا فعل سے۔ اب دوسرا برتن  جو اس سے مختلف سائز اور شکل کا ہے جس میں مٹھائی رکھی ہوئی ہے اور باورچی خانہ میں کسی دوسری جگہ پر رکھا ہوا ہے ۔ ماں کی غیر موجودگی میں بچہ اُس برتن کو بھی تلاش کرلیتا ہے اور مٹھائی حاصل کر لیتا ہے۔ یہ بھی تعمیم کی ایک مثال ہے۔ جب ایک سیکھا ہوا جوابی عمل کسی نئے مہیج کے ذریعہ روپذیر ہوتا ہے یا پیدا ہوتا ہے تو اسے تعمیم کہتے ہیں۔
دوسرے عمل کو جو تعمیم کا تکمیلی عمل ہے اسے امتیاز کہتے ہیں۔ مثلاً فرض کیجئے کہ کوئی بچہ ایک گھنی مونچھوں والے کالے کپڑے پہنے ہوئے شخص سے ڈرنے کا ملتزم ہوگیا ہے۔ کسی اور حالت میں بچہ جس کسی دوسرے ایسے شخص سے ملتا ہے جس کے داڑھی ہے اور اُس نے کالے کپڑے پہنے ہوئے ہیں تو اس سے ملنے پر بھی بچے کے اندر خوف کی نشانیاں رونما ہوتی ہیں۔ بچے کا یہ خوف تعمیمی خوف ہے ۔ بچہ ایک ایسے دوسرے اجنبی شخص سےملتاہے جو بھورے رنگ ہے۔ بچہ ایک دسرے اجنبی شخص سے ملتاہے جو بھورے رنگ کا کپڑا پہنے ہوئے ہے اور جس کی داڑھی مونچھ منڈی ہوئی ہے۔ اس سے بچہ کے اندر کوئی ڈر پیدا نہیں ہوتا ہے۔ یہ امتیاز کی مثال ہے ۔ تعمیم کے رونما ہونے کا مطلب ہے امتیاز کرنے میں ناکامی۔ امتیازی جوابی عمل جاندار کی امتیاز کرنے کی صلاحیت یا امتیازی آموزش پر منحصر ہوتاہے۔

از خود بحالی(Spontaneous Recovery)

ازخود بحالی سیکھے ہوئے جوابی عمل کے خاتمہ کے بعد رونما ہوتی ہے۔ فرض کیجئے کہ کسی جاندار نے تقویت حاصل کرنے کے جوابی عمل کو سیکھ لیا ہے اس کے بعد جوابی عمل کی تعدیم ہوگئی ہے اور کچھ وقت گذر گیاہے۔ اب ایک سوال یہ پوچھا جاسکتا ہے کہ کیا اس جوابی عمل کا مکمل خاتمہ ہوگیا ہے اور اب وہ جوابی عمل مشروط مہیج دیئے جانے پر واقع نہیں ہوگا؟ یہ پایاگیا ہے کہ خاطر خواہ وقت گزرجانے کے بعد سیکھا ہوا یا مشروط جوابی عمل بحال ہوجاتا ہے او مشروط مہیج کے حاضر ہونے پر رونما ہوجاتا ہے۔ از خود بحالی کی مقدار تعدیمی سیشن کے بعد گذرے ہوئے وقت کی مدت پر منحصر ہوتاہے۔ گذرے ہوئے وقت کی مدت جتنی زیادہ ہوگی سیکھے ہوئے جوابی عمل کی از خود بحالی اتنی ہی تیزی سے ہوگی۔ یہ بحالی اپنے آپ یا از خود واقع ہوتی ہے۔ تصویر6.3میں از خود بحالی کے مظہر کو دکھایا گیاہے۔
pic-5

تصویر 6.3 از خود بحالی کا مظہر


مشاہداتی آموزش

(Observational Learning)
آموزش کی دوسری قسم دوسروں کا مشاہدہ کر نے سے واقع ہوتی ہے۔ پہلے اس قسم کی آموزش کو نقل کیا تقلید کہا جاتا تھا۔ بیندورا اور اس کے ساتھیوں(Bandura and his colleagues)نے بہت سے اختباری مطالعوں میں مشاہداتی آموزش کی کھوج بہت مفصل طور پر کی ہے۔ اس طرح کی آموزش میں انسان سماجی کردار سیکھتا ہے۔ اسی لیے اسے کبھی کبھی سماجی آموزش کہا جاتاہے۔ بہت سے حالات میں انسان یہ نہیں جانتا کہ اسے کس طرح سے سلوک کرنا چاہیے۔ ایسے حالات میں وہ دوسروں کا مشاہدہ کرتا ہے اور ان کے کردار کو اپنے اندر ڈھالتا ہے ۔ اسی لیے اس طرح کی آموزش کو مثالی نمونہ کی آموزش یا ماڈلنگ کہا گیاہے۔
مشاہداتی آموزش کی مثالیں ہماری سماجی زندگی میں بھی ملتی ہیں۔ فیشن ڈیزائنرس مختلف ڈیزائنوں اور وضع کی پوشاکوں کو مشہور کرنے کے لیے لمبی، خوبصورت اور شاندار لڑکیوں اور لمبے، اسمارٹ اور گٹھیلے لڑکوں کو نوکری پر رکھتے ہیں۔ لوگ ان کا مشاہدہ ٹیلیویژن فیشن شو اور میگزین و اخبار کے اشتہاروں میں کرتے ہیں۔ وہ ان ماڈلوں کی نقل کرتے ہیں۔ نئی سماجی حالت میں بہتر اور پسندیدہ لوگوں کو مشاہدہ کرکے ان کے کردار کو اپنے اندر ڈھالنا ہمارا عام تجربہ ہے۔
مشاہداتی آموزش کی نوعیت کو سمجھنے کے لیے ہم بینڈورا کے ذریعہ کیے گئے مطالعوں کی مثالیں لے سکتے ہیں۔ اپنے اختباری مطالعہ میں انہووں نے بچوں کو پانچ منٹ تک ایک فلم دکھائی۔ فلم میں دیہ دکھایا گیاتھا کہ ایک برے کمرے میں بہت سے کھلونے رکھے ہوئے ہیں ان میں ایک بڑی بوبوگڑیا('Bobo'doll) بھی شامل تھی۔ کمرے میں ایک بڑا لڑکا داخل ہتا تھا اور کھلونوں کے ساتھ خاص کربوبو گڑیا کے ساتھ جارحانہ کردار کرنا شروع کر دیتا تھا۔ وہ گڑیا کو ٹھوکر مار تا تھا، اسے فرش پر پٹک دیتا تھا، اسے مارتا اور اس پر بیٹھ جاتا تھا۔اس فلم کے تین نسخے تھے۔ ان میں سے ایک نسخہ میں بچوں کے ایک گروپ کو ماڈل لڑکے کو غصہ ہونے اور گڑیا کے ساتھ جارحانہ کردار کی ایک آدمی کے ذریعہ تعریف کرتے ہوئے اور اسے انعام دیتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ دوسرے نسخہ میں بچوں کے ایک دوسرے گروپ کو اس ماڈل بچہ کو اس کے جارحانہ کردار پر اسے ایک آدمی کے دریعہ سزا دیتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ تیسرے نسخہ میں بچوں کے ایک تیسرے گروپ نے اُس ماڈل بچے کو نہ تو انعام پاتے ہوئے اور سزا پاتے ہوئے دیکھا۔
تینوں گروپوں میں فلم کا مخصوص نسخہ دکھانے کے بعد انہیں اختیاری (تجرباتی) کمرہ میں رکھا گیا۔ بچوں کو کھلونوں کے ساتھ کھیلنے کی اجازت دے دی گئی۔ بچوں کو کھلونوں کے ساتھ کھیلنے کی اجازت دی گئی ۔ بچوں کے تینوں گروپوں کا چھپ کر مشاہدہ کیا گیا اور ان کے کردار کو نوٹ کیا گیا۔ یہ پایا گیا کہ جن بچوں کو کھلونوں کے ساتھ لڑکے کو جارحانہ کردار کرنے پر انعام ملتے ہوئے دکھایا گیا تھا وہ سب سے زیادہ جارحانہ کردار کر رہے تھے اور جن کو جارحانہ کردار کرنے پر سزا ملتے دکھایا گیاتھا وہ کھلونوں ے ساتھ سب سے کم جارحانہ کردار کر رہے تھے۔ اس طرح مشاہداتی آموزش میں مشاہدہ کرنے والے ماڈل کے کردار کو دیھ کر معلومات حاصل کرتے ہیں لیکن ان کی کارکردگی ماڈل کے کردار پر انعام یاسزا ملنے کے فعل سے متاثر ہوتی ہے۔
آپ نے دیکھا ہوگا کہ بچے گھر پر اور سماجی تقریبوں میں بڑوں کے کردار کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ وہ اپنے کھیلوں میں بڑوں کی طرح کام کرنے کا سوانگ کرتے ہیں۔ مثلاً بچے شادی بیاہ کی تقریبوں، سالگرہ کی تقریبوں، سپاہی چور اور گھر کے رکھ رکھاوٴ کا کھیل کھیلتے ہیں۔ در اصل وہ اپنے کھیلوں میں ان کاموں اور کرداروں کی نقل کرتے ہیں جن کا مشاہدہ وہ سماج میں اور ٹیلیویژن پر دیکھتے ہیں اور کتابوں میں پڑھتے ہیں۔
بچے زیادہ تر سماجی کرداروں کی آموزش بڑوں کے مشاہدہ اور نقل کے ذریعہ کرتے ہیں۔ جس طرح سے وہ کپڑے رکھتے ہیں، بال کاڑھتے ہیں اور سماج میں دوسروں کے ساتھ سلوک کرتے ہیں ان سب کو وہ سماج میں دوسروں کا مشاہدہ کرکے سیکھتے ہیں۔ یہ بھی پایا گیا ہے کہ مشاہداتی آموزش کے ذریعہ بچے اپنی شحصیت کی بہت سی خصوصیات کو سیکھنے اور ان کی نشوونما کرتے ہیں۔ جارحیت، امدادی کردار، وضع داری، نرمی، جاں فشانی اور آرام طلبی وغیرہ ، بچے آموزش کے اسی طریقہ کے ذریعہ سیکھتے ہیں۔

سرگرمی6.2

آپ حسب ذیل مشق کرکے مشاہداتی آموزش کابراہِ راست تجربہ حاصل کرسکتے ہیں:
آپ اسکول جانے والے کچھ چھوٹے بچوں کو اکٹھا کیجئے اور انہیں کاغذ کے ٹکڑے سے کشتی بناتے ہوئے دکھایئے۔ آپ دو تین بار ان کے سامنے کشتی بنائیے اور ان سے کہیئے کہ وہ غور سے اس کا مشاہدہ کریں۔ انہیں کئی بار یہ دکھائیے کہ کہ کتنی بار کس انداز سے کاغذ کا موڑ اجائے گا۔ اب انہیں کاغذ کا ٹکڑا دیجئے اور نائو بنانےکے لیے کہئے۔
آپ دیکھیں گے کہ زیادہ تر بچے کسی نہ کسی طرح کامیابی کے ساتھ کشتی بنا لیتے ہیں۔

وقوفی آموزش(Cognitive Learning)

کچھ ماہرین نفسیات آموزش کو اس کے اندر شامل وقوفی عملیات کی رو سے دیکھتے ہیں۔ ان ماہرینِ نفسیات نے ایسے طرزِ نظریات کی نشوونما کی ہے جو صرف مہیج۔ جوابی عمل اور مہیج۔ مہیج کے تعلقات جیسا کہ ہم نے کلاسیکی التزامی افعالی التزام میں دیکھا ہے پر مرکوز نہ ہو کر ان اعمال پر مرکوز کیا ہے جو آموزش میں اس بات پر زور دینے کے بجائے کہ سیکھنے والا کیا کرکتا ہے اس پر زور دیا گیا ہے کہ وہ کیا جانتا ہے۔ اس قسم کی آموزش بابصیر یا بصیرتی اور آموزشِ خفی میں دیکھنے کو ملتی ہے۔

بصیرتی آموزش(Insight Learning)

کوہلر(Koher)نے آموزش کا ایک ایسا نمونہ پیش کیا جس کی وضاحت التزام کے ذریعہ نہیں کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے بن مانسوں پر بہت سے اختباری تجربے کیے جن میں بن مانسوں کو مشکل مسائل حل کرنے ہوتے تھے۔ کوہلر نے بن مانسوں کو ایک بند کھیل کے میدان میں رکھا اور اس بند میدان میں اتنی اونچائی پر کھانا رکھا کہ جو بن مانسوں کی پہنچ سے باہر تھا۔ بن مانسوں نے بری تیزی سے یہ سیکھا  کہ کس طرح سے بکسوں کو ایک دوسرے کے اوپر رکھ کردیا ڈنڈے کے ذریعہ کھانے کو اپنے پاس لایا جاجاسکتا ہے۔ اس اختیار میں آموزش سعی اور خطا یا تقویت کے نتیجہ میں رونما نہیں ہوئی، بلکہ بصیرت کی اچانک کوند کے ذریعہ رونما ہوئی۔ بن مانس بند میدان سے باہر آنے کے لیے کچھ وقت تک ادھر اُدھر گھومتے رہے اوراچانک ایک بکس پر کھڑے ہو گئے، جھپٹ کر ایک ڈنڈا لیا اور اس کے لیے(کھانا) کو حاصل کرلیا جو ان کی نارمل پہنچ کے باہر اونچائی پر لٹکا ہوا تھا۔ بن مانسوں نے جیسا کہ کوہلر کہتاہے بصیرتی آموزش کا مظاہرہ کیا یعنی ایسے عمل کا مظاہرہ کیا جس کے ذریعہ مسائل کا حل اچانک صاف نظر آتا ہے۔
بصیرتی آموزش کے ایک نارمل اختبار میں ایک مسئلہ پیش کیا جاتاہے، اس کے بعد کچھ وقفہ گزرتا ہے جس میں مسئلہ کے حل کی طرف ظاہری طور پر کوئی پیش قدمی نہیں دکھائی دیتی ہے اور آخرش اچانک مسئلہ کا حل نمودار ہوتا ہے۔ بصیرتی آموزش میں اچانک حل ایک اُصول ہے۔ ایک بار حل نمودار ہو جانے کے بعد دوسری مرتبہ جب مسئلہ پیش ہوتا ہے تو کوشش نہیں کرنی پڑتی بلکہ فوراً اُسے حل کرلیا جاتاہے۔ اس طرح یہ ظاہر ہے کہ بصیرتی آموزش میں جو سیکھا جاتا ہے وہ مہیجوں اور جوابی عمل کے درمیان مشروط ایتلاف کا مجموعہ نہیں ہوتا بلکہ وسیلے اور ایک مقصد (means and an end)کے درمیان وقوفی ایتلاف ہوتا ہے۔ نتیجتاً بصیرتی آموزش کی تعمیم دوسرے حالات میں کی جاسکتی ہے۔

آموزشِ خفی Laten Learning)

آموزشِ خفی وقوفی آموزش کی ایک دوسری قسم ہے۔ آموزشِ خفی میں نیا کردار سیکھا جاتاہے لیکن اسے جب تک تقویت نہیں دی جاتی ہے ظاہر نہیں ہوتاہے۔ ٹول مین(Tolman)نے آموزشِ خفی کے مظہر کو سمجھنے کے لیے شروعاتی مدد فراہم کی۔ آموزشِ خفی کو سمجھنے کے لیے ہم ان کے ایک اختبار کو اختصاری طور پر بیان کر رہے ہیں۔ ٹول مین نے چوہوں کے دو گروپوں کو اک بھول بھلیاں میں رکھا اور انہیں جستجو(explore)کرنے کا یا ڈھونڈنے موقع فراہم کیا۔ایک گروپ جو چوہے بھول بھلیاں کے اخیر میں کھانا حاصل کرتے تھے اور انہوں نے بھول بھلیاں کے راستوں کو بہت تیزی سے سیکھ لیا۔ دوسری طرف دوسرے گروپ کے چوہوں کو انعام نہیں دیا جاتا تھا اور ظاہر طور پر اُن میں آموزش کی کوئی نشانی نہیں دکھائی دی۔ لیکن بعد میں جب انہیں تقویت دی گئی تو انہوں نے بھول بھلیاں کے راستوں پر اُتنی ہی تیزی سے دوڑ لگائی جتنی تیزی سے انعام یافتہ گروپ کے چوہوں نے لگائی تھی۔
ٹول مین نے دلیل پیش کی کہ غیر تقویت یافتہ گروپ کے چوہوں نے بھول بھلیاں کی وضع قطع کو شروع میں ہی سیکھ لیا تھا لیکن یہ مخفی تھی اور انہوں نے اپنی آموزش خفی کا اظہار اس وقت تک نہیں کیا جب تک انہیں تقویت نہیں دی گئی۔ علاوہ ازیں چوہوں نے بھول بھلیاں کا ایک وقوفی نقشہ اپنے ذہن میں بنا لیا یعنی اپنے مقصد تک پہنچنے کے لیے مقصد کے مکانی تعین مکان اور اس کی سمتوں کا ایک دماغی خاکہ تیار کرلیا تھا۔

لفظی آموزش (Verbal Learning)

لفظی آموزش التزام سے مختلف ہے اور صرف انسانوں تک محدود ہے۔ آپ نے مشاہدہ کیا ہوگا کہ انسان چیزوں، واقعات اور ان کی خصوصیات کا علم الفاظ کے ذریعہ حاصل کرتے ہیں۔ پھر الفاظ کا ایک دوسرے کے ساتھ ایتلاف ہوتاہے۔ ماہرین نفسیات نے اس طرح کی آموزش کا لیبارٹی میں مطالعہ کرنے کے لیے کئی طریقہ کارایجاد کیے ہیں۔ ہر طریقہ کار کا استعمال کچھ قسموں کے لفظی مادہ سے متعلق آموزش کے مخصوص سوالوں کی واقفیت حاصل کرنے کے لیے کیا جاتاہے۔ لفظی آموزش کے مطالعہ میں ماہرین نفسیات بشمول لا یعنی الفاظ (Nonsense Syllables)، جانے پہنچانے الفاظ، انجانے الفاظ (مثالی مدات کے لیے جدول 6.2دیکھیں) جملوں اور پیرا گرافوں وغیرہ کے موادوں کا استعمال کرتے ہیں۔
-
جدول 6.2 لفظی اختبار میں مستعمل مدات کی مثالی فہرست
لایعنی الفاظ (Nonsense Syllable) انجانے الفاظ (Unfamiliar Words) جانے پہچانے الفاظ (Familiar Words)
YOL ZILCH BOAT
RUV PLUMB NOSE
TOJ VERVE KNOW
LIN BLOUT GOAL
LUF THILL BOWL
GOW SCOFF LOAD
NOK TENOR FEET
RIC WRACK MEET
NEZ BOUGH TENT
TAM MALVE FOAM
SUK PATTER TALE
KOZ MANSE JOKE
GUD KYDRA MALE
MUP BORGE BALM
KUG DEVEN SOLE

لفظی آموزش کے مطالعہ میں مستعمل طریقۂ کار

(Methods use in Studying Verbal Learning)
.1ایتلافی جوڑے کی آموزش(Paired-Associates Learning)یہ طریقہ کار مہیج۔ مہیج(S-S)طرز کے التزام کی طرح کا ہے اور مہیج۔ جوابی عمل(S-R)کی آموزش میں اس کا استعمال کیا جاتاہے۔ یہ مادری زبان کے الفاظ کے مساوی غیر ملکی زبان سیکھنے میں استعمال کیا جاتاہے۔ اس میں سب سے پہلے ایتلافی جوڑے کی ایک فہرست تیار کی جاتی ہے۔ جوڑے کا پہلا لفظ مہیج کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے اور دوسرا لفظ جوابی عمل کے طور پر ۔ ہر جوڑے کے سبھی ممبر ایک ہی زبان کے یا مختلف زبانوں کے ہوسکتے ہیں۔ اس طرح کے الفاظ کی ایک فہرست جدول6.3میں دی گئی ہے۔
اس فہرست میں ہر جوڑے کا پہلا ممبر (مہیج ممبر) لا یعنی الفاظ (Consonant Vowel-Consonant)ہیں اور دوسرا ممبر انگریزی اسم (جوابی ممبر) ہے۔ سیکھنے والے کو پہلے مہیج۔جوابی عمل دونوں جوڑے ساتھ ساتھ دکھائے جاتے ہیں اور اسے ہدایت دی جاتی ہے کہ ہر مہیج لفظ دکھائے جانے پر وہ جوابی عمل یاد رکھے اور اس کی بازیافت کرے۔ اس کے بعد آموزش کی سعی شروع ہوتی ہے جس میں ایک ایک کرکے مہیج الفاظ دکھائے جاتے ہیں اور شریک کار صحیح جوابی عمل کے الفاظ دینے کی کوشش کرتا ہے۔ اگر وہ ایسا کرنے میں ناکام ہوجاتا ہے تو اسے جوابی لفظ دکھایا جاتاہے۔ ایک سعی میں سارے مہیجی الفاظ دکھائے جاتے ہیں۔ سعی اُس وقت تک جاری رہتی ہے جب تک شریک کار سبھی جوابی الفاظ ایک ہی سعی میں صحیح صحیح نہیں بتادیتا ہے۔ کسوٹی تک پہنچنے میں جتنی سعی لی گئی ہیں ان کا مجموعہ ایتلافی جورے کی آموزش کی پیمائش ہوتی ہے۔
-
جدول 6.3 ایتلافی جوڑے کی آموزش میں مستعمل مہیج۔ جوابی عمل کے جوڑوں کی مثالیں
جوابی عمل مہیج جوابی عمل مہیج
ROOF LUR LOOT GEN
GOLD RUL TIME BEM
HILL VAK LAMP DIV
NAME KER DEER WUF
GOAT HOZ LION JIT
BULL MUW COAL DAX
.2 ترتیب وار آموزش (Serial Learning)لفظی آموزش کے اس طریق کار کا استعمال یہ جاننے کے لیے کیا جاتا ہے کہ شریکِ کار لفظی مدات کو کس طرح سیکھتا ہے اور اس میں کیا اعمال شامل ہیں۔ سب سے پہلے لفظ مدات یعنی لا یعنی الفاظ، بالکل جانے پہچانے الفاظ، یا بہت کم جانے پہچانے الفاظ، یا آپس میں متعلق الفاظ وغیرہ کی فہرست بنائی جاتی ہے۔ سب سے پہلے شریک کار کے سامنے پوری فہرست پیش کی جاتی اور اسے سلسلے وار الفاظ کو اسی ترتیب میں دہرانے کو کہاجاتا ہے جس ترتیب میں انہیں فرہست میں دیا گیا تھا۔ پہلی سعی میں فہرست کا پہلا مد دکھایا جاتا ہے اور شریک کار سے دوسرا مد بنانے کو کہا جاتا ہے۔ اگر وہ متعین وقت میں اس کی باز یافت نہیں کر پاتا۔ تو اختبار کنندہ فہرست کا دوسرا مدد کھاتا ہے۔ اب اس بار یہ مہیج بن جاتاہے اور شریک کار سے تیسرا لفظ جو جوابی لفظ بن جاتا ہے بازیافت کے لیے کہا جاتاہے۔ اگر شریک کار اسے صحیح نہیں دوہراپاتا ہے تو اختبار کنندہ صحیح مددِ کھاتا ہے جو چوتھے لفظ کے لیے مہیجی مد بن جاتاہے۔ اس طریق کار کو ترتیب وار پیش بینی طریق کار (Serial Anticipation Method)کہتے ہیں۔ آموزشی سعی اس وقت تک جاری رہتی ہے جب تک شریک کار کسی ایک سعی میں سبھی مدات کی سہی سہی پیش بینی نہ کردیتا ہے۔
.3 آزادانہ باز یافتہ(Free Recall)اس طریق کار میں شریک کار کو الفاظ کی ایک فہرست سے لفظووں کو یکے بعد دیگرے ایک ایک کرکے پیش کیا جاتاہے جنہیں وہ پڑھتا ہے اور ان الفاظ کو بولتا ہے۔ ہر لفظ ایک متعین مدت کے لیے دکھایا جاتا ہے۔ فہرست کے الفاظ کو پیش کرنے کے فوراً بعد شریک کار سے الفاظ کو کسی بھی ترتیب میں باز یافت کرنے کو کہا جاتاہے۔ فہرست کے الفاظ ایک دوسرے سے متعلق یا غیر متعلق ہوسکتے ہیں۔ فہرست میں دس سے زیادہ الفاظ شامل کیے جاتے ہیں۔ اس طریق کار کا استعمال یہ جاننے کے لیے کیا جاتاہے کہ شریک کار الفاظ کو حافظہ میں رکھنے کے لیے کس طرح سے ترتیب دیتا ہے ۔ مطالعوں میں یہ پایا گیا ہے کہ جو الفاظ فہرست کے شروع یا اخیر میں ہوتے ہیں ان کی باز یافت بیچ میں آئے ہوئے الفاظ کی باز یافت کے مقابلہ میں آسان ہوتی ہے۔ فہرست کے بیچ میں آئے ہوئے الفاظ کی باز یافت مشکل ہوتی ہے۔

لفظی آموزش کے تعین کنندے

(Determinants of Verbal Learning)
لفظی آموزش پر سب سے زیادہ اختباری مطالعہ کیے گئے ہیں۔ یہ مطالعے بتاتے ہیں کہ لفظی آموزش کی رفتار بہت سے عوامل سے متاثر ہوتی ہے۔ ان میں سے سب سے زیادہ اہم عامل اُس لفظی مواد کی خصوصیات ہیں جنہیں سیکھنے کے لیے شریک کار کو دیا جاتا ہے۔ ان کے اندر سیکھی جانے والی فہرست کی لمبائی اور مواد کی معنویت اہم ہیں۔ مواد کی معنویت کی پیمائش کئی طریقوں سے کی جاتی ہے۔ ایک متعین مدت میں دیئے گئے ۔ ایتلافوں کی تعداد، موادوں کی مماثلت اور استعمال کی تکرار، فہرست کے الفاظ کے مابین تعلق، اور فہرست میں پچھلے الفاظ کا ہر لفظ سے ترتیبی انحصار وغیرہ کا استعمال مواو کی معنویت کی پیمائش کے لیے کیا گیا ہے۔ مختلف ایتلافی سطحوں کے انگریزی لا یعنی الفاظ کی فہرستیں دستیاب ہیں۔ لایعنی الفاظ کو ایسی فہرست سے چنا جانا چاہیے جن کی ایتلافی قدر ایک ہو۔ ریسرچ میں برآمد نتیجوں کی بنا پر حسب ذیل عام اُصول سامنے آئے ہیں:
فہرست کی لمبائی بڑھنے، یا کم ایتلافی قدروں والے الفاظ کی فہرست میں تکرار یا فہرست کے الفاظ کے مابین آپسی تعلق کم ہونے سے فہرست کو سیکھنے میں زیادہ وقت لگتا ہے۔ سیکھنے میں جتنا زیادہ وقت صرف کیا جائے گا آموزش اُتنی ہی زیادہ پختہ ہوگی۔ اس سلسلہ میں ماہرین نفسیات نے پایا ہے کہ مجموعی وقت کا اُصول کار فرماں ہوتاہے۔ اس اُصول کے مطابق معین تعداد کا مواد سیکھنے کے لیے وقت کا ایک معین وقفہ ضروری ہوتی ہے۔ اس میں اُس وقت سے کوئی فرق نہیں پڑتا جس میں سعی کی تعداد کا بٹوارہ کیا جاتا ہے۔ سیکھنے کے لیے جتنا زیادہ وقت لگتا ہے آزوزش اتنی ہی پختہ ہوتی ہے۔
اگر شریک کاروں کو ترتیبی آموزش کے لیے نہ کہا گیا ہو اور ان کو آزاد بازیافت کرنے کی آزادی ہو تو لفظی آموزش تنظیمی ہوجاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آزاد باز یافت میں شریک کار لفظوں کی باز یافت ان کو پیش کی گئی ترتیب میں نہ کرکے ایک نئی ترتیب یا سلسلہ میں کرتے ہیں۔ باوٴس فیلڈ (Bousfield)نے سب سے پہلے اس کو اختیاری طور پر ثابت کیا۔ انہوں نے ساٹھ(۶۰)الفاظ کی ایک فہرست بنائی جس میں پندرہ(۱۵) الفاظ ہر چار معنوی زمروں:(۱)نام(۲)جانور (۳) پیشے اور(۴)سبزی کی قسموں میں سے تھے۔ ان الفاظ کو شریک کاروں کے سامنے ایک ایک کرکے ترتیب وار طریقہ سے پیش کیا کیا۔ شریک کاروں سے ان الفاظ کو آزادانہ بازیافت کے لیے کہا گیا تو بھی انہوں نے ایک ہی زمرہ کے الفاظ کی باز یافت ایک ساتھ کی۔ انہوں نے اسے زمروں میں گچھا(Category Clustering)کہہ کر پکارا۔ یہ بات قابل غور ہے کہ حالاں کہ الفاظ بغیر کسی ترتیب کے شریک کار کو پیش کیے گئے تھے تو بھی شریک کاروں نے باز یافت میں انہیں زمروں کے حساب سے منظم کرلیا۔ یہاں قسموں کا گچھا فہرست کی نوعیت کی وجہ سے رونما ہوا۔ یہ بھی پایا گیا ہے کہ آزادباز یافت ہمیشہ شخصی طو رپر منظم کرلی جاتی ہے۔ نجی تنظیم یہ بتاتی ہے کہ شریک کار الفاظ یا مدات کو ذاتی طور پر منظم کرلیتے ہیں اور اسی شکل میں ان کی باز یافت کرتے ہیں۔
لفظی آموزش عام طور پر ارادی ہوتی ہے لیکن الفاظ کی کچھ خصوصیات کی آموزش غیر ارادی یا حادثاتی بھی ہوتی ہے۔ اس طرح کی آموزش میں شریک کار ایسی خصوصیات پر دھیان دیتے ہیں جیسے کہ کیا دویا زیادہ الفاظ ہم قافیہ ہیں، دونوں الفاظ ملتے جلتے حرف سے شروع ہوتے ہیں یا دونوں میں حرفِ علت ایک ہے وغیرہ۔ اس طرح لفظی آموزش قصدی اور حادثاتی دونوں ہوتی ہے۔

سرگرمی6.3

حسب ذیل الفاظ کو لیجئے اور ان کو الگ الگ کارڈوں پر لکھئے اور شریک کاروں سے ان کو یکے بعد دیگرے بآواز بلند پڑھنے کے لیے کہیے۔ دوبار پڑھ چکنے کے بعد انہیں کسی بھی ترتیب میں لکھنے کے لیے کہیے۔ کتاب ، قانون، روٹی، قمیص، کوٹ، کاغذ، پنسل، بسکٹ، قلم، زندگی ، تاریخ، چاول، دہی، جوتے، سماجیات، مٹھائی ، تالاب، آلو، آئس کریم، مفلر اور نثر پیش کیے جانے کے بعد ان سے ان لفاظ کو پیش کی جانے والی ترتیب کو سوچے بغیر لکھنے کے لیے کہیے۔
اپنے اعداد و شمار کا تجزیہ کیجئے اور دیکھئے کہ باز یافت میں کسی طرح کی تنظیم رونما ہوئی یا نہیں۔

تصورات کی آموزش(Concept Learning)

جس دنیا میں ہم رہ رہے ہیں وہ بے شمار چیزوں، وقوعوں اور جانداروں پر پر مشتمل ہے۔ یہ چیزیں اور واقعات اپنی ہیئت اور کام کے اعتبار سے ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ بہت سے کاموں میں سے انسانوں کو ایک یہ بھی کام کرنا ہوتا ہے کہ انہیں چیزوں، واقعات، جانوروں، وغیرہ کو اس طرح درجات میں منظم کرنا ہوتاہے کہ ایک زمرے میں درجہ بند کی ہوئی چیزیں اگر چہ صفات میں مختلف ہوں لیکن انہیں ایک ہی طرح سے برتا جاتا ہو۔ اس طرح کی تنظیم میں تصور کی آموزش ملوث ہوتی ہے۔

تصور کیا ہے؟(?What is a Concept)

کوئی بھی تصور ایک ایسا زمرہ ہوتاہے جو بہت ساری چیزوں اور واقعات کی نشاندہی کرنے کے لیے استعمال کیا جاتاہے۔ جانور، پھل، عمارت اور بھیڑ تصور یا زمرے کی مثالیں ہیں۔ اس بات پر دھیان دیں کہ تصور اور زمرہ کی اصطلاحیں ایک دوسرے کی جگہ پر استعمال کیے ہیں۔ کسی تصور کی تعریف خصوصیات یا صفات کے ایک ایسے مجموعہ کی شکل میں کی جاسکتی ہے جو کسی اصول کی بنا پر ایک دوسرے سے متعلق ہوتے ہیں۔ تصور کی مثالیں ایسی چیزیں یا واقعات یا کردار ہیں جن کی مشترکہ صفات ہوتی ہیں۔ خصوصیت(Feature)کسی چیز یا واقعہ یا جاندار کی کوئی ایسی صفت یا پہلو ہوتا ہے کہ جب اس کا مشاہدہ کیا جائے تو مشاہدہ کی گئی صفت میں وہ ایک طرح کی ہوں اور ان کی بنا پر دوسری چیزوں سے ان کا امتیاز کیا جاسکتا ہو۔ صفت کی بہت سی قسمیں ہیں اور ان کے امتیاز انحصار مشاہدہ کرنے والے کی ادار کی حسّاسیت کی سطح پر ہوتا ہے۔ رنگ، سائز، تعداد، شکل، ہمواری، کھردراپن، چکناہٹ، اور سختی وغیرہ جیسے خاصوں کو خصوصیات کہا جاتا ہے۔
کسی تصور کی ساخت کے لیے خصوصیات کو آپس میں جوڑنے کے مقصد سے جن اُصولوں کا استعمال کیا جاتا ہے وہ بہت آسان یا پیچیدہ ہوتے ہیں۔ اصول کچھ کرنے کے لیے ہدایت ہوتی ہے۔ تصورات کی تعریف کرنے کے لیے جن اصولوں کا استعمال کیا جاتاہے ان کو مد نظر رکھتے ہوئے ماہرین نفسیات نے دو قسموں کے تصورات کا مطالعہ کیا ہے۔ مصنوعی تصورات اور قدرتی تصورات یا زمرے۔ مصنوعی تصورات ایسے تصورات ہوتے ہیں جن کی تعریف صاف طور سے کی گئی ہو اور جن کی خصوصیات کو جوڑنے والے اُصول مختصر اور سخت ہوں۔ کسی بھی تسلی بخش تعریف شدہ تصور میں اس کی نمائندگی کرنے والی خصوصیات تنہا، طور پر بھی ضروری ہوتی اور مشترکہ طور پر بھی کافی ہوتی ہیں۔ تصور کی مثال بننے کے لیے ضروری ہے کہ ہر ایک چیز میں وہ خصوصیات پائی جاتی ہوں۔ دوسری جانب قدرتی تصورات یا درجات عام طور سے صاف طور سے تعریف شدہ نہیں ہوتے ہیں۔ ایسے تصورات کے اندر حیاتیاتی چیزیں، واقعی دنیا کی مصنوعات اور انسان کے ذریعہ بنائی ہوئی چیزیں جیسے اوزار، کپڑے اور مکان وغیرہ آتے ہیں۔
آئیے ہم مربع کے تصور کی مثال سامنے رکھیں۔ یہ باقاعدہ طور پر تعریف شدہ تصور ہے۔ اس میں چار صفات ہونی ضروری ہیں۔ جیسے یہ ایک بد تصویر ہے، اس کے چار پہلو ہوتے ہیں، ہر پہلو کی لمبائی برابر ہوتی ہے اور اس کے زاویے برابر ہوتے ہیں۔ اس طرح مربع کی چار خصوصیات ہوتی ہیں جو پردۂ ملتحمہ کے اصول(Conjunctive rules) سے جڑی ہوتی ہیں۔ باقاعدہ طور سے تعریف شدہ تصورات بنانے کے مختلف اصولوں کو سمجھنے کے لیے آئیے ہم تصویر6.4پر نظر ڈالیں۔
pic-8
تصویر6.4میں 16کارڈ ہیں جن میں دو طرح کی شکلیں مربع اور مثلث ہیں، ان کے دورنگ گلابی اور بھورے ہیں۔ ان کے اوپری یا نچلے حصہ پر کر اس کے نشانات بنے ہیں ان کے داہنے یا بائیں جانب دائرہ بناہوا ہے۔ ان کارڈوں کی مدد سے مختلف اصول کا استعمال کرتے ہوئے بہت سے تصورات باسکتے ہیں۔ خصوصیات کا وہ مجموعہ جو ایک دوسرے سے کسی اصول کے ذریعہ جڑے ہوں انہیں متعلقہ خصوصیات(relevant features) کہا جاتا ہے۔ جن خصوصیات کو اُصول میں شامل نہیں کیا گیا ہے انہیں غیر متعلقہ خصوصیات(inrrelevant features) کہا جاتا ہے۔ مثلاً تصویر6.4میں دئے گئے کارڈوں میں چار خصوصیات ہیں۔ وہ ہیں شکل ، رنگ، کراس کی موجودگی، یا غیر موجودگی اور داہے یا بائیں جانب دائرہ۔ دو خصوصیات کے استعمال کے ذریعہ پردۂ متعلقہ تصور(Conjunctive Concept) بنانے کے لیے شکل اور جانب (سائڈ) کو متعلقہ کے طور پر لیا جاسکتا ہے اور ایسے دو کو غیر متعلقہ کے طور پر چھوڑا جاسکتا ہے۔ ایسے تصورات کے لیے مثالی اور غیر مثالی تصویریں6.5میں دی گئی ہیں۔ تصورات کے بارے میں تفکیر کے باب 8میں اور زیادہ مطالعہ کریں گے۔
pic-9
تصویر 6.5 : سب سے اوپر کی چار تصویریں تصور کی مثالیں ہیں اور بقیہ تصویریں تصور کی مثالیں نہیں ہیں۔تصور کی مثالوں میں مثلث اور بھورا ضرور ہونا چاہیے اور دوسری خاصیتیں بے معنی ہیں ۔

مہارت کی آموزش(Skill Learning)

مہارات کی نوعیت(Nature of Skills)

مہارت کی تعریف کسی پیچیدہ کام کو ٹھیک اور بخوبی کرنے کی قابلیت کے طورپر کی جاسکتی ہے۔ کارچلانا، جہاز اڑانا، کشتی کھینا، شارٹ ہینڈ رائٹنگ، لکھنا اور پڑھنا مہارات کی مثالیں ہیں۔ ایسی مہارات عمل اور مشق کے ذریعہ سیکھی جاتی ہیں۔ کوئی بھی مہارت ادراکی حرکی جوابی اعمال کی کڑی یا مہیج۔ جوابی عمل(S-R) ایتلاف کی ترتیب پر مبنی ہوتی ہے۔

مہارت کے حصول کے ادوار

(Phases of Skill Acquisition)
مہارت کی آموزش کئی صفات طور پر مختلف ادوار سے ہوکر گذرتی ہے۔ہر ایک بڑھتی ہوئی سعی کے ساتھ ار کردگی آسان ہوتی جاتی ہے اور محنت کم لگتی ہے۔ بالفاظ دیگر یہ اور زیادہ ازخود اور بغیر محنت کے ہونے لگتی ہے۔ یہ بھی پایا گیا ہے کہ ہر مرحلے میں کار کردگی بڑھتی ہے۔ ایک دور سے آگے دور میں جانے پر جب کار کردگی کی سطح یکساں بنی رہتی ہے تو اسے کار کردگی کا پٹھار کہتے ہیں۔ ایک بار اگلا دور شروع ہونے پر کار کردگی بڑھنے لگتی ہے اور اس کے سطح اوپر اٹھتی جاتی ہے۔
مہارت کے حصول کی سب سے زیادہ موثر روداد فٹس(Fitts)نے پیش کی ہے۔ فٹس کے مطابق مہارت کی آموزش تین ادوار جیسے وقوفی، ایتلافی، اور خود اختیاری ادوار سے ہوکر گزرتی ہے ۔ مہارت کی آموزش کے ہر دور میں مختلف طرح کے ذہنی اعمال شامل ہوتے ہیں۔ مہارت کی آموزش کے وقوفی دور میں یاد کرنے والے کو ہدایات کو سمجھنا اور انہیں حافظہ میں رکھنا ہوتا ہے اور اسے یہ بھی سمجھنا ہوتاہے کہ کام کو کیسے انجام دینا ہے اس دور میں ہر خارجی اشارہ، ہدایات کی ضرورت اور اپنے جوابی عمل کے نتیجہ کو شعور میں زندہ رکھنا ہوتاہے۔
دوسرا دور ایتلافی ہے۔ اس دور میں مختلف حسیاتی مادخول (Input)یا مہیجوں کو ٹھیک جوابی عملوں سے جوڑنا ہوتاہے۔ جیسے جیسے مشق بڑھتی ہے غلطیاں کم ہوتی جاتی ہیں، کارکردگی بڑھتی ہے اور اس میں لیا گیا وقت گھٹتا جاتا ہے۔ مشق کے جاری رہنے پر غلطی سے عاری کا ر کردگی شروع ہوجاتی ہے، اگر چہ سیکھنے والے کو اب بھی سارے حسیاتی مادخول(Input)کی طرف توجہ دینا ہوتا ہے اور اسے کام پر دھیان لگائے رہنا ہوتاہے۔ اس کے بعد تیسرا دور یعنی خود اختیاری دور شروع ہوتا ہے۔ اس در میں کار کردگی میں دو اہم تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں ایتلافی دور کے توجہ کی ضرورت کم ہوجاتی ہے، اور خارجی عوامل کے سبب پیدا شدہ مداخلت کم ہوجاتی ہے۔ اخیر میں مہارتی کاکردگی خود اختیار یت کو پالیتی ہے جس میں شعوری کو شش کی بہت کم ضرورت ہوتی ہے۔
ایک دور سے دوسرے دور کی تبدیلی یہ بتاتی ہے کہ مشق ہی مہارت کی آموزش کا ایک واحد ذریعہ ہے۔ اس میں مشق اور پریکٹس کو جاری رکھنا ہوتا ہے۔ جیسے جیسے مشق بڑھتی ہے تقی کی در برابر طور پر بڑھتی ہے اور غلطی سے عاری کار کردگی کی اختیاریت (Automiticity)مہارت کا ثبوت بن جاتی ہے۔

انتقالِ آموزش (Transfer fo Learning)

انتقالِ آموزش کو اکثر انتقالِ تربیت یا انتقالِ اثر بھی کہا جاتاہے۔ یہ نئی آموزش پر پہلی آموزش کے اثر کی نشاندہی کرتاہے۔ اگر پہلی آموزش موجودہ آموزش کو آسان بناتی ہے تو اسے مثبت انتقال مانا جاتاہے اور اگر یہ موجودہ آموزش کو گھٹاتی یا مشکل بناتی ہے تو اسے منفی انتقالِ آموزش کہا جاتاہے۔ آسانی یا مشکلات کے اثر کی غیر حاضری کا مطلب ہے کہ انتقالِ آموزش صفر ہے ۔ ماہرین نفسیات انتقالِ آموزش کے اثر کا مطالعہ کرنے کے لیے مخصوص اختیاری ڈیزائن کا استعمال کرتے ہیں۔ ایک ایسی ہی ڈیزائن جدل 6.4میں پیش کی گئی ہے۔
فرض کیجئے کہ آپ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ انگریزی زبان کی آموزش فرانسیسی زبان کی آموزش پر اثر ڈالتی ہے یا نہیں۔ اس مطالعہ کے لیے شریک کاروں کا ایک بڑا نمونہ (Sample)چنئے۔ اب اس نمونہ کو بلا ترتیب دو گروپوں میں بانٹ دیجئے۔ ان میں سے ایک گروپ کا استعمال اختباری حالت میں اور دوسرے کا کنٹرول گروپ کے طور پر ہوگا۔ اختباری گروپ ایک سال تک انگریزی زبان سیکھے اور اخیر میں انگریزی میں حصولیابی کے لیے اس کا ٹسٹ لیا جائے گا۔ اب دوسرے سال وہ گروپ فرانسیسی پڑھے گا۔ سال کے اخیر میں اس گروپ کا ٹسٹ فرانسیسی میں حصولیابی کے نمبرات معلوم کرنے کے لیے کیا جائے گا۔ کنٹرول گروپ پہلے دور میں انگریزی زبان نہیں سیکھے گا اور سال بھر تک صرف روز مرہ کے کام کرے گا۔دوسرے سال یہ اس گروپ کے شریک کار بھی فرانسیسی سیکھیں گے اور دوسرے سال کے اخیر میں ان کی فرانسیسی زبان کی حصولیابی کے نمبر حاصل کیے جائیں گے ۔ اگر اختباری گروپ کے نمبرات کنٹرول گروپ کے نمبرات سے زیادہ آتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ مثبت انتقال رونما ہوا ہے اور اگر اختباری گروپ کے نمبرات کنٹرول گروپ کے نمبرات کے مقابلہ میں کم ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ منفی انتقال رونما ہوا ہے۔ اگر دونوں گروپ بالکل ایک ہی طرح کی کار کردگی دکھاتے ہیں تو یہ صفر انتقالِ اثر بتاتا ہے۔
اس بات پر غور کرنا ضروری ہے کہ انتقالِ اثرکے مطالعہ میں عام انتقال اور مخصوص انتقال کے درمیان فرق کرناضروری ہے۔ اب یہ بات اچھی طرح سے ظاہر ہوچکی ہے کہ پہلی آموزش ہمیشہ مثبت عام انتقال پیدا کرتی ہے۔ صرف مخصوص انتقال میں ایسا ہوتا ہے کہ انتقالِ اثر مثبت ہوتا ہے یا منفی اور کچھ حالات میں صفر اثر ہوتاہے اگر چہ در حقیقت عام انتقال کی وجہ سے صفر انتقال نظریاتی اعتبار سے ممکن نہیں ہے۔ آئیے ہم عام انتقال اور مخصوص انتقال کی نوعیت کو سمجھنے کی کوشش کریں۔
جدول 6.4 آموزش کے انتقالِ اثر کے مطالعہ میں استعمال شدہ اختباری ڈیزائن
شریک کاروں کا گروپ پہلا مرحلہ دوسرا مرحلہ
اختباری کام A کی آموزش کرتا ہے کام B کی آموزش کرتا ہے
کنٹرول کچھ نہیں کرتا خالی بیٹھا رہتا ہے کام B کی آموزش کرتا ہے

عام انتقال(General Transfer)

عام انتقال کا تصور بہت صاف نہیں ہے اور اس لیے اس کی مفصل تعریف نہیں کی گئی ہے۔ پھر بھی پہلی آموزش انسان کو اگلے کام کی آموزش کو بہتر بنانے کے لیے تیار کرتی ہے۔ پہلے کام کی آموزش سیکھنے والے کو اگلے کام کی آموزش کے لیے آسانی سے کرنے کے لیے تیار کرتی ہے۔ آپ نے کسی کرکٹ کے کھلاڑی کو میدان میں وکٹ کے پاس اپنی پوزیشن لیتے ہوئے ضرور دیکھا ہوگا۔ کرکٹ کھلاڑی پہلے ایک پیر پر کودتا ہوا چلتاہے پھر دوسرے پیر پر چلتا ہے۔ وہ بلے کو پکڑ کر اپنے دونووں ہاتھوں کو ڈھیلا کرنے کے لیے بغل سے گھماتا ہے۔ جب آپ امتحان میں جوابات لکھنے بیٹھتے ہیں تو آپ کے لکھنے کی رفتار مدھم ہوتی ہے اور آپ کے بیٹھنے کی پوزیشن تیزی سے لکھنے کے لیے مناسب نہیں ہوتی ہے۔ مگر دو یا تین صفحات لکھنے کے لیے مناسب نہیں ہوتی ہے۔ مگر دو یا تین صفحات لکھنے کے بعد آپ سرگرم ہو جاتے ہیں۔ آپ کے لکھنے کی رفتار بڑھ جاتی ہے اور آپ کا بدن لکھنے کے کام کے لیے اچھی طرح سے خود کو ڈھال لیتا ہے۔ یہ آخری جواب کے لکھنے تک جاری رہتا ہے۔ کچھ وقت کے بعد سرگرمی کا یہ اثر زائل ہو جاتا ہے۔ سرگرمی کا یہ اثر آموزش کے صرف ایک سیشن میں قائم رہتا ہے۔ صرف اسی سیشن میں کوئی شخص ایک یا دو کام سیکھ سکتاہے۔

مخصوص انتقال(Specific Transfer)

جب بھی کوئی جاندار کچھ سیکھتا ہے تو وہ آموزش مہیج۔ جوابی عمل کے ایک سلسلہ پر مشتمل ہوتی ہے۔ کسی بھی کام کو امتیاز کیے جاسکنے والے مہیجوں کی ایک کڑی کے طور پر سمجھا جاسکتا ہے جن میں سے ہر ایک کا تعلق ایک مخصوص جوابی عمل سے ہوتا ہے۔ مخصوص انتقال کا مطلب ہے کامAکی آموزش کا کامBکی آموزش پر اثر۔ کامAکی آموزش کامBکی آموزش کو آسان بنا سکتی ہے۔ یا اسے اور مشکل بنا سکتی ہے۔ یا ہوسکتا ہے اس کا کوئی بھی اثر نہ ہو۔ یہ پہلے اور دوسرے کام کے درمیان مماثلت یا غیر مماثلت پر منحصر ہوتی ہے۔ مہیجوں اور جوابی اعمال کے ممکنہ تعلقات جدول 6.5میں دکھائے گئے ہیں۔
بہت سے اختباری مطالعوں کی بنیاد پر جدول6.5 میں دکھائے گئے حالات کے حوالہ سے مخصوص انتقال کے بارے میں حسب ذیل خلاصے کیے گئے ہیں۔
-
جدول 6.5 شروعاتی اور بعد کے آموزشی کاموں کے درمیان مماثلاتی اور غیر مماثلاتی تعلقات
شمارات شروعاتی کام دوسرا کام تبصرہ
.1 SA-RA SC-RD مہیجات اور جوابی اعمال دونوں مختلف ہیں۔
.2 SA-RA SA-RA مہیجات وہی ہیں جوابی اعمال مماثلاتی ہیں۔
.3 SA-RA SA-RD مہیجات وہی ہیں لیکن جوابی اعمال مختلف ہیں۔
.4 SA-RA SC-RA مہیجات مختلف ہیں لیکن جوابی اعمال وہی ہیں۔
.5 SA-RA SA-RA مہیجات اور جوابی اعمال وہی ہیں لیکن ایتلاف ایک دوسرے سے بدل دئیے گئے ہیں۔
.1 پہلی مثال میں شروعاتی اور انتقالی کام مہیجوں اور جوابی اعمال دونوں میں بہت مختلف ہوتے ہیں۔
 اس لیے کسی مخصوص انتقال کی امید نہیں ہوتی ہے۔ پھر بھی عام انتقال اسی میکانیت کی وجہ سے مثبت انتقال کچھ مقادر میں واقع ہوسکتا ہے۔
.2 دوسری حالت میں دونوں کاموں کے مہیج ایک ہوتے ہیں او رجوابی اعمال بہت زیادہ مماثلت رکھتے ہیں۔ اس لیے اس حالت میں سب سے زیادہ انتقال واقع ہوسکتاہے۔ یہ مستقل طور پر دیکھا گیاہے کہ اس حالت میں مثبت انتقال واقع ہوتاہے۔
.3 تیسری حالت میں مہیج ایک جیسے ہوتے ہیں لیکن جوابی اعمال مختلف ہوتےہیں۔ ایسی حالت میں بھی کچھ مثبت انتقال واقع ہوتا ہے۔
.4 چوتھی حالت میں مہیج مختلف جوابی اعمال وہی ہوتے ہیں۔ اس لیے جوابی اعمال کے ساتھ نئے ایتلاف سیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس حالت میں مثبت انتقال حاصل ہوات ہے۔
.5 پانچویں حالت میں مہیج اور اور جوابی اعمال وہی ہوتی ہیں لیکن ایتلافوں کو بدل دیا جاتا ہے۔ اس تبدیلی کی وجہ سے دوسرے کام کی آموزش میں منفی انتقال واقع ہوتاہے۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ کیونکہ پہلے کام میں سیکھے ہوئے ایتلاف نئے ایتلاف کی آموزش میں مداخلت کرتے ہیں۔ اس طرح کی مداخلتوں کی وضاحت حافظہ کے باب 7میں کی گئی ہے، جو انسانی حافظے سے متعلق ہے۔

آموزش کو سہل بنانے والے عوامل

(Factors Facilitating Learning)
پچھلے حصے میں ہم نے آموزش کے مخصوص تعین کنندوں جیسے کلاسیکی التزام میں مشروط مہیج اور غیر مشروط مہیج کو پاس پاس پیش کرنا، التزام میں تقویت کی تعداد اس کی مقدار یا تاخیر، مشاہداتی آموزش میں ماڈل کی کشش، لفظی آموزش میں طریق کار، تصوراتی آموزش میں اصولوں کی نوعیت اور چیزوں وواقعات کی خصوصیات کا تجزیہ کیا ہے۔ اب ہم آموزش کے کچھ عام تعین کنندوں کا تجزیہ کریں گے۔ یہ بحث مکمل نہیں ہے بلہ اس میں صرف چند ایسے نمایاں عوامل کا ذکر کیا گیا ہےجو بہت اہمیت کے حامل ہیں۔

لگاتار بمقابلہ جزوی تقویت

(Continuous vs. Partial Reinforcement)
آموزش کے اختباروں میں اختبار کنندہ تقویت کو کسی مخصوص شیڈول کے مطابق دیئے جانے کے لیے مرتب کرسکتا ہے۔ آموزش کے سلسلہ میں دو طرح کے شیڈول یعنی لگاتار اور جزوی شیڈول بہت اہم پائے گئے ہیں۔
لگاتا تقویت میں شریک کار کو ہرہدفی جوابی عمل کے بعد تقویت دی جاتی ہے۔ اس طرح کے تقویت کا شیڈول جوابی عمل کی رفتار کو بڑھا دیتا ہے۔ لیکن ایک بار تقویت کو روک لینے پر جوابی عمل کی شرح بہت جلدی گرجاتی ہے اور تقویت کے اس شیڈول میں سیکھے ہوئے جوابی اعمال ختم ہوجاتے ہیں۔ چونکہ جاندار ہر سعی پرتقویت پارہا ہوتا ہے اس لیے اس تقویت بخش کا اثر کم ہوجاتاہے۔ ان شیڈولوں میں جہاں تقویت لگاتار نہیں دی جاتی ہے، ان میں کچھ جوابی اعمال کو تقویت نہیں دی جاتی ہے۔ اس لیے انہیں جزوی یا بالوقفہ شیڈول کہاجاتا ہے۔ بالوقفہ شیڈول کے مطابق جوابی اعمال کو کئی طریقوں سے تقویت دی جاسکتی ہے۔ ایسا پایا گیاہے کہ جزوی تقویت کا شیڈول اکثر جوابی عمل کی بہت اونچی شرح پیدا کرتاہے، خاص طور پر اس وقت جب جوابی اعمال کو تناسب کے مطابق تقویت دی جاتی ہے۔ اس طرح کے شیڈول میں جاندار بہت سے ایک جوابی اعمال کرتا ہے جنہیں تویت نہیں دی جاتی ہے۔ اس لیے یہ بتانا مشکل ہوجاتا ہے کہ تقویت کو دیا جانا کب مکمل طور سے بند کردیا گیا اور کب اس میں صرف تاخیر کی کی گئی ہے۔ اس کے برخلاف جب تقویت لگاتار دی جاتی ہے تو یہ بتانا آسان ہوتا ہے کہ کب اسے دیا جانا بند کردیا گیا۔ اس طرح کی تفریق تعدیم کے لیے بہت فیصلہ کن پائی گئی ہے۔ یہ پایا گیا ہے کہ جزوی تقویت کے بعد کئے گئے جوابی عمل کی تعدیم لگاتار تقویت دیئے گئے جوابی عمل کے مقابلہ میں مشکل ہوتی ہے۔ اس حقیقت کی بنا پر کہ جزوی تقویت میں حاصل کئے گئے جوابی عمل تعدیم کے لیے بہت زیادہ مدافعاتی ہوتے ہیں اس لیے اسے جزوی تقویت کا اثر کہاجاتاہے۔

تحریک (Motivation)
سبھی جانداروں کو زندہ رہنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ مزید یہ کہ ان کو نمو کی ضرورت بھی ہوتی ہے۔ تحریک ایک ذہنی اور عضویاتی حالت ہے جو جاندار کو موجودہ ضرورت کو پورا کرنے کے لیے مشتعل کرتی ہے ۔بالفاظ دیگر تحریک جاندار کو کسی ہدف یا مقصد کو حاصل کرنے کے واسطے تندہی سے کام کرنے کے لیے طاقت بہم پہنچاتی ہے۔ اس طرح کا کام اس وقت تک جاری رہتا ہے جب تک ہدف یا مقصد کو حاصل نہ کرلیا جائے اور ضرورت پوری نہ ہو جائے۔ تحریک آموزش کی شرط اوّل ہے ۔ بچہ باورچی خانہ میں اس وقت کیوں جاتاہے جب اس کی ماں گھر پر نہیں ہوتی ہے؟ وہ ایسا اس لیے کرتا ہے کیونکہ اسے مٹھائی کھانے کی ضررت محسوس ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ اس برتن کو ڈھونڈتا ہے جس میں مٹھائی رکھی ہوتی ہے۔ ایک بھوکی بلی کو بکس میں رکھا جاتاہے۔ اتفاقاً وہ بٹن دباتی ہے اور بکس میں اس کے سامنے کھانا آ جاتا ہے۔ ایسے کام کو باربار دہرائے جانے کے تجربہ کی وجہ سے بلی کو جیسے ہی بکس میں رکھا جاتاہے فوراً دبانا سیکھ جاتی ہے۔
کبھی آپ نے اپنے آپ سے یہ سوال کیا کہ آپ درجہXIمیں نفسیات اور دوسرے مضامین کا طالعہ کیوں کرتے ہیں؟ آپ ایسا اس لیے کرتے ہیں کہ آپ فائنل امتحان میں اچھے نمبروں یا اچھے درجہ میں پاس ہونا چاہتے ہیں۔ آپ جتنا زیادہ متحرک ہوں گے سیکھنے کے لیے اتنی زیادہ محنت کریں گے۔ کچھ سیکھنے کے لیے آپ کے اندر تحریک دو ذرائع سے پیدا ہوتی ہے۔ آپ بہت سی چیزیں اس لیے سیکھتے ہیں کیونکہ آپ کو ان میں مزہ آتاہے۔ (اندرونی محرک) یا وہ آپ کو دوسرے مقصد کو حاصل کرنے کے ذرائع مہیا کرتے ہیں(خارجی محرک)

آموزش کے لیے تیار ہونا

(Preparedness for Learning)
مختلف نوع کے جانداروں کے رکن حسیاتی لیاقتوں اور جوابی اعمال کی قابلیتوں میں ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔ مہیج مہیج یا مہیج۔ جوابی عمل کے درمیان ایتلاف قائم کرنے کے لیے ضروری میکانزم مختلف جانداروں میں مختلف ہوتی ہیں۔ یہ کہا جاسکتا ہے کہ مختلف نوع کے جانوروں کی آموزشی قابلیتوں کی ایک حیایا تی حد ہوتی ہے جس طرح کہ مہیج۔ مہیج یا مہیج۔ جوابی عمل کی آموزش کوئی جاندار کتنی آسانی سے حاصل کرسکتا ہے اس ایتلافی مکانزم پر منحصر کرتا ہے کہ وہ نشانی طور پر اس کے لیے کتنا اہل یا تیار ہے۔ کوئی مخصوص طرح کی ایتلافی آموزش بن مانسوں یا انسانوں کے لیے آسان ہوتی ہے لیکن بلیوں یا چوہوں کے لیے وہ بہت مشکل ہوسکتی اور کبھی کبھی نا ممکن بھی ہوسکتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ کوئی بھی جاندار صرف انہیں ایتلافوں کو سیکھ سکتا ہے جن کو سیکھنے کے لیے وہ حیاتیاتی طور پر تیار ہوتا ہے۔
تیار ہونے کے تصور کو پیمانے یا بعد کے طور پر سمجھا جاسکتا ہے جس کے ایک کنارے پر ایسے آموزشی کام یا ایتلاف ہوتے ہیں جو کسی نوع کے جاندا رکے لیے آسان ہوتے ہیں اور دوسرے کنارے پر وہ آموزشی کام یا ایتلاف ہوتے جن کی آموزش کے لیے اس کے رکن بالکل بھی تیار نہیں ہوتے ہیں اور اس کی آموزش نہیں کرسکتے ہیں۔ اس پیمانہ کے بیچ میں وہ کام اور ایتلاف ہوتے ہیں جن کو کرنے کے لیے اس کے رکن نہ تو تیار ہوتے ہیں اور نہ غیر تیار۔ وہ ان کاموں کو کرسکتے ہیں لیکن بہت مشکل اور استقلال کے ساتھ۔

متعلم یا آموزگار: آموزش کے اسلوب یا (اسٹائل)

(The Learner: Learning Styles)
 آپ نے مشاہدہ کیا ہوگا کہ ایک فیملی کے کچھ بچے بسا اوقات اسکول میں اچھی کار کردگی کرتے ہیں جب کہ دوسرے اچھی کارکردگی نہیں کرتے ہیں۔ پچھلی کئی دہائیوں سے آموزش کے سلوب پر بہت ساری تحقیقات ہوئی ہیں۔ ان سے نہ صرف ایک ہی کلاس، ثقافت اور سماجی۔ معاشی کمیونٹی کے ممبروں کی اسٹائل میں تفریق کا ثبوت ملتا ہے بلکہ ان سے گروپ کے مابین مماثلت اور تفریق کابھی پتہ چلتا ہے۔
آموزش کے اسٹائل کی تعریف آموزشی سیاق میں آموزگار کے مہیجوں کے تئیں جوابی عمل کرنے یا مہیجوں کے ایک ہی طرح سے استعمال کرنے کے ڈھنگ کی شکل یں کی جاسکتی ہے۔ بالفاظ دیگر  ’یہ ایک طریقہ ہے جس میں ہر آموز گارنٹی اور مشکل اطلاع پر دھیان جمانا، عمل کاری کرنا اور یاد رکھنا شروع کرتاہے۔ اس بات کو نوٹ کیا جاسکتا ہے کہ یہ تعامل سب سے کے لیے الگ الگ طور پر رونما ہوتاہے۔ مثال کے طور پر آپ نے اس بات کو نوٹ کیا ہوگا کہ آپ کی کلاس کے بچے شخصیت، ثقافتی تجربات اور اقدار میں منفرد ہیں۔ مختلف طلبا مختلف آموزشی ماحول اور آموزش کے مختلف طریقے پسند کرتے ہیں اور منفرد لیاقت، طاقت اور کمزوریوں کے حامل ہوتے ہیں۔
اس لیے اس بات کا تجزیہ کرنا ضروری ہے کہ آموزگار کے دھیان جمانے اور اسے بنائے رکھنے کے لیے کون سی ممکنہ لبلبی ہے جو ہر آموزگار کے ارتکاز کو شروع کرتی ہے، اسے قائم رکھتی ہے، اس کی قدرتی عمل کاری کے تئیں جوابی عمل کرتی ہے آموزگار کے آموزشی اسلوب کا تعین کرتی ہے اور طویل مدتی حافظہ کو آسان بناتی ہے۔
آموزشی اسٹائل خاص طور سے ادراکی جہتوں، معلومات کی عمل کاری اور شخصیت کی وضع سے حاصل کی جاتی ہے۔ ان طرزِ  نظریات کا مختصر بیان حسب ذیل ہے:
.1 ادراکی جہت طبیعی ماحول کے تئیں حیاتیاتی طور پر منحصر ردِّ عمل ہیں۔ یہ اشخاص کی ان پسندیدہ گیوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں جن کے ذریعہ لوگ اطلاع فراہم کرتے ہیں، جیسے سمعی، بصری، بوسے متعلق، حرکی اور لمسی۔
.2 اطلاع کی عمل کاری ہمیں ایک دوسرے سے تفکر، مسائل کو حل کرنے اور اطلاعات کو یاد کرنے کی ساخت کے طریقوں پر جمع کرتی ہے۔ اس کو ہمارے اطلاع کی عمل کاری کا طریقہ سمجھا جاسکتا ہے۔ مثلاً فعالی؍ تفکری، حسیاتی؍ وجدانی سلسلہ واری؍ ہم وقت وغیرہ۔
.3 شخصیت کی وضعات (وضع کی جمع) ہمارے گرد ونواح سے تعامل کرنے کا طریقہ ہیں۔ ہم میں سے ہر شخص کا ادراک کرنے، اسے منظم کرنے اور اطلاعات کو بنائے رکھنے کا اپنا پسندیدہ، مستقل اور منفرد طریقہ ہوتا ہے۔ یہ نظریہ فکر اس بات کو سمجھنے پر زور دیتا ہے کہ کس طرح لوگوں کی شخصیت ان کے ماحول کے ساتھ تعامل پر اثر ڈالتی ہے اور یہ کس طرح آموزشی ماحول میں افراد کے ایک دسرے کے تئیں جوابی عمل کو متاثر کرتی ہے۔
ایسے کئی ابعاد ہیں جن کے ساتھ سیکھنے کا اسلوب مختلف ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر اینڈرسن (Anderson)نے تجزیاتی اور نسبتی آموزش کے اسٹائل کے مابین تفریق کی ہے۔ ان کی تفصیل جدول 6.6میں دی گئی ہے۔ یہ صاف ہے کہ نسبتی اسٹائل والے لوگ مواد کو پوری اکائی یا مظہر کی پردہ کشائی کے ذریعہ بہتر ڈھنگ سے سیکھتے ہیں۔ وہ صرف اکائی کے حصوں کو کل کے ساتھ ان کے تعلق کو سمجھ کر ان کی فہم حاصل کرتے ہیں۔ دوسری طرف تجزیاتی کے آموزشی اسلوب کے لوگ اس وقت زیادہ آسانی سے سیکھتے ہیں جب اطلاع کو اس مجموعی سلسلہ کی وضع میں جسے وہ تصوراتی فہم کے لیے بناتے ہیں کہ شکل میں ایک کے بعد دیگرے پیش کیا جاتا ہے۔
یہ بات ذہن نشین کرنی ضروری ہے کہ مختلف آموزشی اسلوب کسی پیمانے پر بنے ہوئے ایسے نقطے ہیں جو ہمیں مختلف قسموں کی ذہنی شبیہہ کو تلاشنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ یہ لوگوں کو خصوصیات کو نہیں بتاتے ہیں۔ اس لیے ہم آبادی کو اقسام کے مجموعہ میں منقسم نہیں کرسکتے ہیں۔ (جیسے بصیرتی لوگ، بیرونی بین لوگ وغیرہ)۔ ہم کسی بھی اسٹائل کے اندر آموزش کرنے کے قابل ہوتے ہیں چاہے ہماری پسند کچھ بھی ہو۔

آموزشی معذوریاں (Learning Disablities)

آپ نے سنا، دیکھا اور پڑھا ہوگا کہ ہزاروں بچے تعلیم حاصل کرنے کے لیے اسکول میں داخلہ لیتے ہیں۔ تاہم ان میں سے کچھ بچے ایسے ہوتے ہیں جن کے لیے تعلیمی عمل کے مطالبات بہت زیادہ مشکل ہوتے ہیں اور وہ اسکول چھوڑ دیتے ہیں۔ ایسے طالب علموں کو ’تارک اسکول یا ڈراپ آوٴٹس(Drop-outs)کہا جاتاہے۔ اس کی بہت ساری وجوہات ہوتی ہیں۔ جیسے حسیاتی نقصان، ابطائے ذہنی ، سماجی اور جذباتی پریشانی، فیملی کی غربت یا دوسرے ماحولیاتی اثرات، ثقافتی عقیدے اور معیار۔ ان کے علاوہ تعلیم جاری رکھنے میں اڑچن ڈالنے کا ایک اور ذریعہ ہے جسے آموزشی معذوری کہا جاتا ہے۔ اس میں اسکولی آموزش یعنی معلومات اور مہارات کا حصول بہت مشکل ہوتاہے۔ ایسے بچے اپنے آموزش کے کاموں میں آگے بڑھنے میں ناکام ہوتے ہیں۔
جدول 6.6 آموزشی اسٹائل یا اسلوب
نسبتی اسٹائل تجزیاتی اسٹائل
1. اطلاع کے کل حصہ کے طور پر ادراک کرتے ہیں۔ 1. اطلاع کو مجموعی تصویر سے نکال کر سمجھنے کے قابل ہوتے ہیں (ماسکہ یا فوکس تفصیل پر ہوتا ہے)
2. وجدانی تفکیر کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ 2. سلسلہ وار اور ہیئت شدہ تفکیر کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
3. اُسی مواد کو زیادہ آسانی سے سیکھتے ہیں جس میں انسانی، سماجی مواد ہوتا ہے اور جو تجرباتی، ثقافتی طور سے زیادہ مناسب ہوتے ہیں۔ 3. ایسے مواد زیادہ آسانی سے سیکھتے ہیں جن میں جان نہیں ہوتی اور جو ذاتی نہیں ہوتے۔
4. لفظی طور پر پیش کیے گئے تصورات اور اطلاعات خاص طور سے مناسبت رکھنے والے تصورات اور اطلاعات کا حافظہ اچھا ہوتا ہے۔ 4. مجرد تصورات اور غیر نسبتی تصورات کی یادداشت اچھی ہوتی ہے۔
5. غیر علمی میدانوں میں زیادہ کار-رخ ہوتے ہیں۔ 5. علمی میدانوں میں زیادہ کار-رخ ہوتے ہیں۔
6. بااخیار لوگوں سے مرعوب ہوتے ہیں، طلباء کی لیاقت پر زیادہ بھروسہ کرتے ہیں۔ 6. دوسروں کی رائے سے زیادہ متاثر نہیں ہوتے ہیں۔
7. غیر دلچسپ کارکردگی سے الگ رہنا پسند کرتے ہیں۔ 7. غیر دلچسپ کاموں میں لگے رہنے کی لیاقت دکھاتے ہیں۔
8. اسکول کے روایتی ماحول سے اس اسٹائل کی کشاکش ہوتی ہے۔ 8. یہ اسلوب زیادہ تر اسکول کے ماحول سے میل کھاتا ہے۔
آموزشی معذوری ایک عام اصطلاح ہے ۔ یہ بد نظمی کے ایک غیر یکساں مجموعہ کی طرف اشارہ کرتی ہے جو آموزش کرنے، پڑھنے، لکھنے، بولنے، استدلال اور حسابی کاموں کی پریشانی کی شکل میں رونما ہوتی ہے۔ ایسی بد نظمی کے ماخذ بچے میں پیدائشی ہوتے ہیں۔ ایسا مانا جاتاہے کہ یہ پریشانیاں مرکزی نظامِ عصبی کے مسائل سے پیدا ہوتی ہیں۔ یہ جسمانی معذوری، حسیاتی معذوری، ابطائے ذہنی وغیرہ کے ساتھ ساتھ اور ان کے بغیر بھی واقع ہوسکتی ہے۔
یہ بات قابل غور ہے کہ آموزشی معذوری اوسط اعلیٰ ذہانت کے بچوں، صبحیح حسیاتی حر کی نظام اور ٹھیک آموزش کے مواقع والے بچوں میں دیکھی جاسکتی ہے۔ اگر اس کا ٹھیک علاج نہیں کیا ہے تو یہ پوری زندگی جاری رہتی ہے اور بچے کی خود آگہی ، پیشہ، سماجی تعلقات اور روز مرّہ کےکامووں پر اثر ڈالتی ہے۔

آموزشی معذوریوں کی علامتیں

(Symptoms of Learning Disabilities)
آموزشی معذوریوں کی بہت سی علامتیں ہیں۔ یہ بد نظمی بچوں میں ان کی ذہانت، تحریک، آموزش کے لیے سخت محنت کے قطع نظر مختلف آمیزشوں میں رونما ہوتی ہے۔
.1 حروف لکھنے، الفاظ اور جملے اور متن کے پڑھنے اور بولنے میں پریشانیاں بہت کثرت سے ظاہر ہوتی ہیں۔ کئی بار کوئی سمعی نقص نہ ہونے کے باوجود انہیں سننے میں پریشانی ہوتی ہے۔ ایسے بچے دوسرے بچوں سے اپنی آموزشی تراکیب کو بنانے میں بالکل مختلف ہوتے ہیں۔
.2 آموزشی معذوری بچوں کے اندر ادراک کی بد نظمی ہوتی ہے۔ ایسے بچے بہت دیر تک اپنا دھیان ایک جگہ نہیں جما سکتے ہیں اور آسانی سے ان کا دھیان منتشر ہوجاتا ہے۔ اکثر دھیان کی کمی ان کے اندر بیش فعالی پیدا کردیتی ہے یعنی وہ ہمیشہ گھومتے رہتے ہیں، کچھ نہ کچھ کرتے ہیں اور چیزوں کو گھماتے پھراتے رہتے ہیں۔
.3 جگہوں کے لیے کمزور شناخت رُخ اور وقت کا ناکافی احساس اس معذوری کی عام علامت ہے ۔ ایسے بچے نئی جگہوں سے آسانی سے شناسا نہیں ہو پاتے ہیں اور کھو جاتے ہیں۔ ان کے اندر وقت کے احساس کی کمی ہوتی ہے اور اپنے روز مرہ کے کاموں میں دیر کردیتے ہیں یا کبھی کبھی بہت جلدی کردیتے ہیں۔ وہ سمت کے بارے میں غلط فہمی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور داہنے، بائیں، نیچے اوپر کا غلط اندازہ لگاتے ہیں۔
.4 آموزشی معذوری والے بچوں میں حرکی ربط کی صلاحیت اور حرفتی چابک دستی کمزور ہوتی ہے۔ یہ ان کے اندر توازن کی کمی، پنسل بنانے کی نااہلی، دروازے کی کنڈی سے کام لینے کی نا اہل اور سائیکل چلانے میں پریشانی وغیرہ سے ظاہر ہوتی ہے۔
.5 وہ چیزوں کو کرنے کی زبانی ہدایت کو سمجھنے اور انہیں کرنے کے نااہل ہوتے ہیں۔
.6 وہ اس بات کا غلط فیصلہ کرتے ہیں کہ کون سے بچے ان کے دوست ہیں اور کون سے دوست نہیں ہیں۔ وہ جسمانی اشارات کو نہیں سمجھ پاتے ہیں۔
.7 آموزشی معذوری والے بچے عام طور سے ادراکی بد نظمی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اس کے اندر غلط بصری، سمعی، لمسی اور حرکی اداراک شامل ہیں۔ وہ دروازے کی گھنٹی اور ٹیلیفون کی گھنٹی کے مابین فرق نہیں کر پاتے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ ان کے اندر حسی باریکی نہیں ہوتی ہے بلکہ وہ اس کو عملی طور پر استعمال نہیں کرپاتے ہیں۔
.8 آموزشی معذوری کے بچوں کی ایک بڑی تعداد میں فہم عبارت کا نقص ہوتا ہے، وہ اکثر حروف اور الفاظ کی نقل نہیں کرپاتے ہیں۔ مثلاً وہ 'b'اور'd'اور 'p'، 'q'اور '9'،  'was'اور 'saw'، 'unclear' اور'nuclear'میں تمیز نہیں کرپاتے ہیں۔ وہ زبانی مواود کو منظم بھی نہیں کرپاتے ہیں۔
یہ قابل غور ہے کہ آموزشی معذوری لا علاج نہیں ہوتی ہے۔اصلاحی تعلیم کے طریقے ان کے لیے سیکھنے میں مدد گار ہوتے ہیں او روہ دوسرے طلبا کی مانند ہوجاتے ہیں۔ تعلیمی نفسیات کے ماہرین نے آموزشی بد نظمی سے متعلق زیادہ تر علامات کو درست کرنے کی تکنیکوں کی ایجاد کرلی ہے۔

آموزش کے اصولوں کے اطلاق

(Applications of Learning Principles)
زندگی کے مختلف میدانوں کو مالا مال کرنے میں آموزش کے اصولوں کی بیش بہا قیمت ہے۔ وہ سبھی کام اور کردار جو ذاتی، سماجی اور معاشی زندگی کو خوشگوار بنانے اورسکون کے لیے ضروری ہیں سب سیکھے ہوئے ہوتے ہیں۔ ان کی آموزش نفسیاتی طورسے گائڈ ہونی چاہیے۔ ہم عصر ماہرین نفسیات نے کلاسیکی اور فعالی التزام، سماجی آموزش، لفظی آموزش، تصور کی آموزش اور مہارت کی آموزش پر مبنی بہت سے پہلوئوں کو بہتر بنانے کے لیے بہت سی تکنیکیں اور طریق کار ایجاد کیے ہیں۔ ہم ان میں سے چار میدانوں میں (یعنی تنظیموں، نقصِ تطابق کے علاج، بچوں کی پرورش اور اسکولی آموزش) آموزش کے اصولوں کے اطلاق پر طائرانہ نظر ڈالیں گے۔
تنظیموں میں کام سے غیر حاضری، علاج کے لیے بار بار چھٹی لینا، نقصِ ڈسپلن، حسی مہارت کی کمی جیسے بہت سے مسائل پیدا ہوتےرہتے ہیں۔ کچھ مہینوں میں حاضری بڑھانے اور غیر حاضری کو کم کرنے کے دلچسپ طریقوں کا استعمال کیا جاتاہے۔ وہاں ہر تیسرے مہینہ کے آخر میں ان ملازموں کے نام کی چٹیں جو ایک بھی دن غیر حاصر نہیں رہے ہیں ایک ڈبے میں ڈال دی جاتی ہیں۔ ان میں سے چار سے پانچ فیصد ملازموں کے ناموں کو بلا ترتیب نکالا جاتا  ہے اور انہیں کسی بھی دن غیر حاضر نہ رہنے کے لیے پرکشش انعامات دیئے جاتے ہیں۔ ایسے انعامات تنظیموں میں غیر حاضری کی شرح کم دیتے ہیں۔ ایسے ملازمین کی تعداد بڑھانے کے لیے جو سال بھر میں کسی بھی دن علاج کی چھٹی پر نہیں گئے ہیں، مختلف طریقوں کے فائدے دیئے جاتے ہیں۔ ڈسپلن کو بڑھانے کے لیے منیجر ملازمین کے لیے ماڈل کا کام کرنا شروع کرتے ہیں یا ملازمین کو ایسے ماڈل منیجروں کے ماتحت رکھا جاتا ہے۔
آموزشی اصولوں پر مبنی نقصِ تطابق اور سماجی طور سے غلط عادتوں اور کرداروں کی تبدیلی اور علاج کے لیے بہت سے طریقے بنائے ہیں۔ ایسے بچے اور بالغ جو نامعقول اور بے بنیاد خوف کے ساتھ ساتھ احترازی کردار کرتے ہیں، ان کے علاج کے لیے امپلوسیو اور فلڈنگ طریقہ علاج کا استعمال کیا جاتا ہے۔ امپلوسیو(Implosive)طریقۂ علاج کی شروعات میں اس شخص کوسب سے زیادہ خوف پیدا کرنے والی چیز کے تخیل کے لیے کہا جاتا ہے اور معالج اس کو صاف الفاظ میں بیان کرتا ہے۔ اس میں معالج ایک کوچ کے طور پر کام کرتا ہے ۔ دوسری طرف فلڈنگ(Flooding)میں بیمار شخص کو اس چیز کے روبرو کرایا جاتا ہے جس سے اس کو خوف پیدا ہوتا ہے۔ یہ خوف کے علاج کے لیے سب سے بہتر طریقہ علاج سمجھا جاتا ہے۔ ان لوگوں کے علاج کے لیے جو بہت زیادہ تشویشوں اور خوف کے مریض ہوتے ہیں منظم ازالہِ تجسس (Systematic desensitisation)طریقۂ علاج کا استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ ایک کرداری طریقۂ علاج ہے جس کا استعمال بے بنیاد خوف میں مبتلا مریضوں کی تشویش کا خاتمہ برعکس التزام(Counterconditioning) کے ذریعہ کیا جاتا ہے۔ یعنی اہم مہیج کا ایک دوسرے نئے مشروط جوابی عمل کے ساتھ ایتلاف قائم کرتے ہوئے کلاسیکی التزام کے عمل کو الٹنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ان چاہی ایسی عادتوں کو ختم کرنے کے لیے جو صحت و خوشی کے لیے خطرناک ہوتی ہیں اکراہی طریقۂ علاج (Aversion Therapy)کا استعمال کیا جاتاہے۔ اس میں معالج چیزوں کو اس طرح منظم کرتا ہے کہ نامطابقی عادتیں تکلیف دہ تجربات پیدا کرتی ہیں اور ان سے بچنے کے لیے مریض انہیں چھوڑ دیتا ہے۔ مثلاً شراب کو ایک قے آور دوا کے ساتھ (جو بہت زیادہ متلی اور قے لاتی ہے) دیا جاتا ہے (یہ دوا زبردست متلی اور قے پیدا کرتی ہے) جس سے کہ متلی وار قے شراب کے لیے مشروط جوابی عمل بن جاتی ہے ۔ نشوونمائی اہلیت اور شکلِ وضع (Shaping)کے لیے ماڈلنگ اور باقاعدہ تقویت کا استعمال کیا جاتا ہے۔ جو لوگ بہت زیادہ شرمیلے ہوتے ہیں اور لوگوں سے ملنے میں مشکلات کا سامنا کرتے ہیں انہیں وثوقی آموزش(Assertive learning)کرائی جاتی ہے۔ یہ طریقۂ علاج بھی آموزش کے اصولوں پر مبنی ہے۔ کئی لوگ ایسے ہوتے ہیں جو سانس کی رفتار بڑھنے کے ساتھ دماغی سکون کھودتیے ہیں، ان کی بھوک ختم ہوجاتی ہے اور ذراسی اکساہٹ پر بھی ان کا بلڈ پریشر بڑھ جاتا ہے۔ ایسے لوگوں کے علاج کے لیے نفسیاتی معالج حیاتی باز رسانی (biofeedback)کا استعمال کرتے ہیں۔ یہ طریقۂ علاج کلاسیکی اور فعالی التزام کے مابین تفاعل پر مبنی ہے۔ حیاتی بازرسانی میں ایک جسمانی کام (جیسے دل کی دھڑکن کی رفتار یا بلڈ پریشر) کا جائزہ لیا جاتا ہے اور حیاتیاتی عمل میں سدھار لانے کے لیے  اس کے کام کی جانکاری مریض کو دی جاتی ہے۔ آپ علاج کے ان طریقوں کا تفصیلی مطالعہ کلاسXIIمیں کریں گے۔
تدریسی کاموں میں آموزش کے اصول کا بھر پور استعمال ہوتا ہے۔ مقاصد تدریس کو ہدایاتی کاموں کے تجزیہ اور ان کو آموزشی کی مختلف قسموں (جیسے مہیج۔مہیج، مہیج۔ جوابی عمل، لفظی، مشاہدی اور مہارتی آموزش) میں فٹ کرنے کے بعد طے کئے جاتے ہیں۔ طلبا کو بتایا جاتاہے کہ انہیں کیا سیکھنا ہے اس کے لیے جاتے ہیں۔ طلبا کو بتایا جاتا ہے کہ انہیں کیا سیکھنا اس کے لیے انہیں مشق کے مناسب حالات فراہم کیے جاتے ہیں۔ اطلاعات، معنی اور صحیح جوابی عمل کے حصول کے لیے طلبا کو سرگرم شریک بنایا جاتا ہے۔ طلبا میں مناسب سماجی کردار اور ذاتی عادت کی نشوونما کے لیے اساتذہ ماڈل اور مشفق کے طور پر کام کرتے ہیں۔ چونکہ طلبا کو ہوم ورک دیا جاتا ہے اس لیے انہیں گھر پر مشق کے وافر مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔ مہارتوں کا تجزیہ مہیج۔ جوابی عمل کی کڑی کے طور پر کیا جاتا ہے اور طلبا کو عملی طور پر سیکھنے کی اجازت دی جاتی ہے۔
آموزشی اصولوں کا بہترین اطلاق بچوں کی پرورش کے لیے والدین کو آموزش کے اصولوں کا علم مہیا کرکے کیا جاتاہے۔ کلاسیکی التزام کے طریق کار کے استعمال کے ذریعہ بچوں کو خطرے کی ضروری نشانیاں اور حفاظت کے طریقے سکھائے جاتے ہیں۔ بچوں کے کردار کو فعالی التزام کے طریق کار کے استعمال کے ذریعہ بچوں کو خطرے کی ضروری نشانیاں اور حفاظت کے طریقے سکائے جاتے ہیں۔ بچوں کے کردار کو فعالی التزام کے طریق کار کے استعمال کے ذریعہ تبدیل کیا جاتا ہے اور ان کو شکل دی جاتی ہے۔ انعام کے منصفانہ استعمال سے والدین بچوں کی کاہلی دور کرنے کے انہیں پر جوش آموزگار بنا سکتے ہیں۔ ماڈل اور ناصح کے طور پر والدین بچوں کو سماجی طور پر پُر مہارت بناتے ہیں، فرض شناسی سے متعارف کراتے ہیں اور انہیں باتدبیر بتاتے ہیں۔

کلیدی اصلاحات

ابتلافی آموزش، حیاتی بازرسانی، وقوفی  نقشہ، مشروط جوابی عمل، مشروط مہیج، التزام، تفریق یا امتیاز ڈائیلکسیا، تعدیم، آزاد بازیابی، تعمیم، بصیرت، آموزشی معذوری، ذہنی آمادگی، ماڈلنگ، منفی تقویت، فعالی یا وسیلتی التزام، مثبت تقویت، سزا، باترتیب آموزش، از خود بحالی، آموزشِ انتقال، غیر مشروط جوابی عمل ، غیر مشروط مہیج، لفظی آموزش۔

خلاصہ

آموزش کردار میں آئی ہوئی کوئی بھی نسبتاً مستقل تبدیلی یا تجربہ اور مشق کے ذریعہ پیدا شدہ کرداری قوت ہے۔ یہ ماخوذ عمل ہے جو کار کردگی سے مختلف ہے ۔ کاگردگی کی مشاہدی کردار؍ جوابی عمل ؍کام ہے۔
آموزش کی خاص قسمیں ہیں: کلاسیکی اور فعالی التزام، مشاہدی آموزش، لفظی آموزش، تصور کی آموزش اور مہارت کی آموزش۔
پاولاو نے کلاسیکی التزام کی کھوج کتوں کے ہاضمہ کے مطالعہ کے دوران کی۔ اس آموزش میں جاندار مہیجوں کے درمیان تعلق سیکھتا ہے۔ اس میں ایک غیر جانبدار مہیج (مشروط مہیج) جو کہ جاندار کی غیر مشروط مہیج کے آنے کا پتہ دیتا ہے اور اسے تیار کرتاہے مشروط جوابی عمل پیدا کرنا شروع کردیتا ہے۔
فعالی یا وسیلتی التزام کی سب سے پہلے کھوج اسکینر نے کی تھی۔ فعالی کوئی بھی ایسا جوابی عمل ہے جو جاندار کے ذریعہ از خود دیا جاتاہے۔ فعالی التزام وہ ہے جس میں جوابی عمل کے بعد اگر تقویت آتی ہے تو جوابی عمل طاقتور ہو جاتا ہے۔ تقویت بخش کوئی بھی ایسا وقوع ہوسکتا ہے جو اپنے سے پہلے آئے ہوئے جوابی عملکی تکرار کو بڑھادیتا ہے۔ اس لے جوابی عمل کا نتیجہ اہم ہوتاہے۔ فعالی التزام کی رفتا رتقویت کی قسم، تعداد، نظام الاوقات اور تقویت میں تاخیر سے متاثر ہوتی ہے۔
مشاہدی آموزش کو نقل، ماڈلنگ اور سماجی آموزش بھی کہا جاتاہے۔ ہم کسی ماڈل کے کردار کا مشاہدہ کرکے جانکاری حاصل کرتے ہیں۔ کارکردگی اس بات پر منحصر کرتی ہے کہ آیا ماڈل کے کردار کو انعام دیا گیا ہے یا سزا دی گئی ہے۔
لفظی آموزش میں الفاظ، تلفظی اور معنوی مماثلت یا ضد کی بنا پر ایک دوسرے سے وابستہ ہوتے ہیں۔ اکثر وہ گچھوں (Clustess)میں منظم ہوتے ہیں۔ اختباری مطالعوں میں ایتلافی جوڑے کی آموزش، سلسلہ وار یا بالترتیب آموزش، اور آزاد باز یابی کے طریقوں کا استعمال کیا ہے۔ مواد کی معنویت اور شخصی تنظیم آموزش پر اثر ڈالتی ہیں۔ یہ ضمنی بھی ہوسکتی ہے۔
تصور ایک زمرہ (Catagory)ہے۔ یہ خصوصیات کے ایسے مجموعہ پر مشتمل ہوتا ہے جو اصول کے ساتھ ہدایت کی بنا پر ایک دوسرے سے وابستہ ہو جاتے ہیں۔ کوئی تصور قدرتی یا مصنوعی ہوسکتا ہے۔ مصنوعی تصورات عام طور سے متعین ہوتے ہیں جب کہ قدرتی تصورات باقاعدہ متعین نہیں ہوتے۔ باقاعدہ متعین تصورات کااختباری مطالعہ انتخاب اور قبولیت کے طریقہ کار کے ذریعہ کیا جاتہے۔ قدرتی تصورات کی حد بندی صاف نہیں ہوتی ہے۔
مہارت مشکل کاموں کو آسانی کے ساتھ ہموار طریقے سے کرنے کی قابلیت ہے۔ وہ بار بار کرنے اور مشق کے ذریعہ سیکھی جاتی ہے۔ مہارتی کار کردگی مہیج۔ جوابی عمل کی ایک بڑے جوابی عمل کے کڑی کی تنظیم ہوتی ہے۔ یہ وقوفی، ایتلافی اور خود اختیاری مرحلوں سے ہوکر گذرتی ہے۔
بعد کی آموزش پر پہلی آموزش کے اثر کو انتقال آموزش کہتے ہیں۔ یہ عام (مثلاً تیاری) یا مخصوص ہوسکتی ہے۔ یہ دونوں آموزشی کاموں کے مہیج۔ جوابی عمل کے ایتلاف کی مماثلت پر منحصر ہوتی ہے۔
آموزش کو آسان بنانے والے عوامل کے اندر جاندار کا محرک اور اس کی تیاری شامل ہیں۔
آموزشی اسٹائل اس طریقہ کی نشاندہی کرتی ہے جس میں سیکھنے والا نئی اور مشکل معلومات پر دھیان جماتا ہے، اس کی عمل کاری کرتا ہے اور انہیں قائم رکھتا ہے۔
آموزشی معذوری (یعنی پرھنے لکھنے کی معذوری) لوگوں میں آموزش کی حد بندی کردیتی ہے۔آموزشی معذوری کے شکار بچے بیش فعال ہوتے ہیں، ان میں وقت کے احساس کی کمی اور آنکھ اور ہاتھ کے مابین ربط کی کمی ہوتی ہے۔
آموزش کے اصولوں کا اطلاق تنظیموں، مطابقتی نقوص کے رد عمل کے علاج ، بچوں کی پرورش اور اسکولی آموزش میں کیا جاتا ہے۔

نظرثانی کے لیے سوالات

.1 آموزش کیا ہے؟ اس کی کونسی ممتاز خصوصیات ہیں؟
.2 کلاسیکی آموزش ایتلاف کے ذریعہ آموزش کو کس طرح بتاتی ہے؟
.3 فعالی التزام کی تعریف کیجئے۔ فعالی التزام کی رفتا ر پر اثر ڈالنے والے عوامل کا تجزیہ کیجئے۔
.4 بڑھتے ہوئے بچہ کے لیے ایک اچھا ماڈل (قابل تقلید انسان یا چیز) ضروری ہے۔ اس آموزش کا تجزیہ کیجئے جو اس بات کی تائید کرتی ہے۔
.5 لفظی آموزش کے مطالعہ کے طریقہٴ ہائے کار کی وضاحت کیجئے۔
.6 مہارت کیا ہے؟ وہ کون سے مراحل ہیں جن سے گزرکر مہارت کی آموزش پروان چڑھتی ہے؟
.7 تعمیم اور تفریق کے مابین آپ پہنچان کیسے کرسکتے ہیں؟
.8 انتقال آموزش کس طرح سے رونما ہوتا ہے؟
.9 محرک آموزش کی شرطِ اوّل کیوں ہے؟
.10 آموزش کے لیے تیاری کا کیا مطلب ہے؟
.11 وقوفی آموزش کی مختلف اقسام کی وضاحت کیجئے۔
.12 آموزشی معذوری والے بچہ کی پہچان آپ کیسے کریں گے؟

پروجیکٹ کی تجاویز

.1 آپ کے والدین آپ کے اس طرح سے برتاوٴ کرنے پر جسے وہ اچھا سمجھتے ہیں آپ کو کیسے تقویت دیتے ہیں؟ پانچ مختلف مثالوں کا انتخاب کیجئے۔ ان کا مقابلہ اس تقویت سے کیجئے جس کا استعمال اساتذہ کلاس روم میں کرتے ہیں اور ان کاتعلق کلاس روم میں پڑھائے گئے تصورات سے قائم کیجئے۔
.2 اگر آپ کی چھوٹی بہن یا بھائی کسی ان چاہے ناقابل قبول کردار کا شکار ہو جاتا ہے تو اسے اس کردار سے چھٹکارا دلانے کے لیے آپ اس کی مدد کیسے کریں گے؟ اس باب میں مطالعہ کیے گئے آموزش کے اصولوں کا استعمال کیجئے۔