Chapter 7
انسانی حافظہ
• اس باب کے مطالعہ کے بعد آپ اس قابل ہوجائیں گے کہ
• حافظہ کے نوعیت کوسمجھ سکیں
• مختلف قسم کےحافظے میں فرق کرسکیں
• طویل مدتی حافظہ کی عضویہ کے اتحاد اورموجودگی کی وضاحت کرسکیں
• حافظے میں تشکیل اوربازتشکیل عمل کوبحسن وخوبی سمجھ سکیں
• بھولنے کی نوعیت اوروجوہات کوسمجھ سکیں اور
• حافظے کوبہتر بنانے کی حکمت عملیوں کو سمجھ سکیں
مشمولات:
تعارف
حافظے کی نوعیت(Nature of Memory)
معلومات کی عمل کاری نظریہ: اسٹیج ماڈل
نظام حافظہ (Memory System) : حسی، قلیل مدتی اورطویل مدتی حافظہ حافظہ عاملہ (باکس1.7)
عمل کاری کی سطحیں
طویل مدتی حافظے کی قسمیں
ظاہر اورطریقہ کار: واقعاتی اورمفہومیاتی
طریل مدتی حافظے کی درجہ بندی(باکس2.7)
حافظے کی پیمائش کے طریقے(باکس 3.7)
حافظے میں نمائندگی اورتنظیم کی معلومات
حافظہ بحیثیت عمل تشکیل
تخلیق حافظہ: چشم دیداور مصنوعی حافظے (باکس 4.7)
بھولنے کی نوعیت اوروجوہات
نشانوں کے ختم ہونے، مداخلتاً اوربازیابی کی وجہ کوبھولنا
دبے ہوئے حافظے (باکس5.7)
حافظے میں اضافہ
حافظے میں تصوراورتنظیم کا استعمال
کلیدی اصطلاحات
خلاصہ
نظرثانی کے لئے سوالات
پروجیکٹ کی تجاویز
تعارف:
ہم سبھی یہ ٹِرک جانتے ہیں کہ حافظہ ساری زندگی ہمارے ساتھ کیا کھلواڑ کرتا ہے۔ کیا آپ کو کسی ایسے جانے پہچانے، شخص کا، جس کے ساتھ آپ بات کررہے تھے نام نہ یاد کر پانے کی وجہ سے کبھی پریشانی محسوس ہوئی ہے؟ یا ان باتوں کو، جنہیں آپ نے ایک روز قبل ہی اپنے امتحان کے لئے یاد کیا تھا، اچانک بھول جانے پر فکر اورمجبوری کا احساس ہوا ہے؟ یا کسی ایسی نظم کے مصرعوں کو، جسے آپ نے بچپن میں یاد کیا تھا بغیر کسی غلطی کے پڑھ دینے پر آپ کو تعجب انگیز خوشی کا احساس ہوا ہے؟ بلاشبہ حافظہ ایک دلکش مگر چالیں چلنے والی(facinating) انسانی قابلیت ہے۔ یہ ہماری پہچان کی حفاظت کرنے، ہمارے آپسی تعلقات کوبرقرار رکھنے اورمسائل کے حل وفیصلہ لینے میں ہماری مددکرنے کا کام کرتا ہے۔ چونکہ حافظہ ہمارے تمام وقوفی عملوں، مثلاً ادراک (Perception) سوچ(Thinking) اورمسائل کوحل کرنے(Problem solving) کا مرکزی حیثیت رکھتا ہے اس لئے نفسیات دانوں نےان طریقوں یا ڈھنگ کوسجھنے کی کوشش کی ہے ذریعہ پتہ چلتا ہے کہ معلومات حافظہ سے کس طرح سے وابستہ ہے، کس ترکیب سے یہ اس میں کافی وقت تک رہ پاتی ہے، کیوں یہ حافظہ سے ختم ہوجاتی ہے اورحافظے میں اضافہ لانے والے کون کون سے طریق ہوسکتے ہیں۔اس باب میں ہم ان تمام پہلوئوں پر غور کریں گے اورمختلف نفسیاتی اُصولوں کی جانچ کریں گے جو حافظے کی ساخت اورکام کرنے (Mechanism) کی وضاحت کرتے ہیں۔
حافظے سے متعلق نفسیاتی تحقیق کا تاریخی عرصہ سوسال پرانہ ہے۔ حافظہ کی سب سے پہلے اورباقاعدہ کھوج کا سہرا انیسویں صدی کےایک جرمن ماہرنفسیات ہرمین ابینگ حوص (Herman Ebbinghaus) کے سرجاتا ہے۔ انہوں نے خود کے اوپر بہت سارے تجربے کئے اورپایا کہ ہم کسی سیکھی ہوئی چیز کویکساں رفتاریا پوری طرح سے نہیں بھولتے ہیں، شروع میں توبھولنے کی رفتارتیز ہوتی ہے لیکن آخر میں یہ متوازن رفتار اختیارکرلیتی ہے۔ حافظے کے بارے میں دوسری رائے فیڈرک بارٹلیٹ (1932،Frederick Bartlett) کی تھی جن کے مطابق حافظہ ایک سرگرم عمل ہے نہ کہ انفعالی عمل۔انہوں نے زبانی مواد جیسے کہانیوں اورمتن کی مدد سے دکھایا کہ حافظہ ایک تعمیری عمل ہے، یعنی جو ہم یادکرتے اوردماغ میںجمع کرتے ہیں،اس میں کئی طرح کی تبدیلیاں اورسدھار وقت کے ساتھ ساتھ ہوتے ہیں۔ اس طرح سے جو ہم شروع میں یادکرتے ہیں اورجوہمیں بعدمیں یادآتا ہے ان میں کوالٹی یا عمدگی کا فرق ہوتا ہے۔ دوسرے ماہرین نفسیات نے حافظے کی تحقیق کوبڑے پیمانے پرمتاثرکیا ہے۔ ہم ان کی دین کا تجزیہ اس باب میں مناسب جگہ پر کریں گے۔
حافظہ کی نوعیت اورطبع و فطرت:
حافظہ معلومات کوایک مدت تک یاد رکھنے یا یاد کرنے کا نام ہے۔ یہ عمل وقوفی (Cognitive) کام کی نوعیت پر منحصر کرتا ہے جو آپ کرتے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ آپ کوکسی معلومات کوکچھ سیکنڈوں کے لئے ہی یادرکھنے کی ضرورت ہو۔ (مثال کے طورپر آپ اپنے حافظے کا استعمال کسی ٹیلی فون نمبرکواس وقت تک یادرکھنے کے لئے کرتےہیں جب تک آپ ڈائل کرنے کے لئے فون تک پہنچ نہیں جاتے ہیں) یا کئی سالوں تک (مثال کے طورپر آپ کو ابھی تک جوڑاورگھٹائو کے وہ طریقے یادہیں جنہیں شاید آپ نے اسکول کی ابتدائی جماعتوں میں سیکھا تھا) حافظے کی تصواراتی تصویر ایک ایسے عمل کی طرح ہے جس میں تین آزاد لیکن ایک دوسرے سے جڑے ہوئے مرحلے شامل ہوتے ہیں۔ یہ ہیں کوڈبندی، ذخیرہ کاری اوربازیابی۔
(الف) کوڈ بندی (Encoding) سب سے پہلا مرحلہ ہے جوایک ایسے عمل کی طرف اشارہ کرتا ہے، جس کے ذریعہ معلومات کو پہلی بار رکارڈ اوررجسٹر کیا جاتا ہے تاکہ یہ حافظے کے نظام کے ذریعہ قابل استعمال ہوسکے۔جب بھی کبھی باہری محرک (Stimulus) ہمارے حسی (Sensory) اعضاء کوچھوتا ہے تویہ دماغی امپلس(Neudral Impulse) پیداکرتا ہے، یہ آگے پروسیسنگ کے واسطے دماغ کے مختلف حصوں میں پہنچ جاتے ہیں۔ کوڈ بندی معلومات کوموصول جاتا ہے اوراس سے کچھ معنی نکالے جاتے ہیں۔ اس کے بعداسے اس طرح پیش کیاجاتا ہے کہ اس کے آگے عمل کے دور سے گزارا جاسکے۔
(ب) ذخیرہ کاری (Storage) حافظے کا دوسرا مرحلہ ہے۔معلومات جس کی کوڈبندی کی گئی تھی اس کی ذخیرہ کاری بہت ضروری ہے تاکہ اس کا استعمال بعد میں کیاجاسکے۔ ذخیرہ کاری بہرحال اس عمل کی طرف اشارہ کرتا ہے جس کے ذریعہ معلومات کو ایک مدت کے لئے رکھا یا جمع کیا جاتا ہے۔
(د) بازیابی (Retrieval) حافظے کا تیسرا مرحلہ ہے۔معلومات کو صرف اسی صورت میں استعمال کیاجاسکتا ہے جب کوئی اسے اپنے حافظے سے کھوج نکالے۔ بازیابی معلومات کا وہ ذخیرہ ہے جو انسان کی باخبری کی طرف اشارہ کرتا ہے تاکہ مختلف وقوفی کاموں جیسے مسائل کا حل یا فیصلہ کرنے میں ان معلومات کا استعمال کیاجاسکے۔ یہ یادرکھنے لائق دلچسپ بات ہے کہ ان تینوں مرحلوں میں سے کسی بھی مرحلے میں حافظہ ناکام ہوسکتا ہے۔ آپ کسی معلومات کو یادرکھنے میں ناکام ہوسکتے ہیں کیونکہ آپ نے یا تواس کوکوڈبندی ٹھیک سے نہیں کی یا اس کا ذخیرہ اتنا کمزورتھا کہ آپ ضرورت کے وقت اس کی بازیاتی میں ناکام رہے۔
معلومات کا عمل کاری نظریہ: مرحلہ نمونہ
(Information Processing Approach: The Stage Model)
شروع میں ایسا سمجھا جاتا تھا کہ حافظہ میں ان تمام معلومات کا ذخیرہ کرنے کی صلاحیت ہے جسے ہم سیکھ کریا تجربہ سے حاصل کرتے ہیں۔اسے ایک بڑے گودام کی طرح سے دیکھا جاتا تھا جہاں ہماری تمام معلومات رکھی ہوئی ہیں، تاکہ ضرورت کے وقت ہم اس کی بازیابی کرسکیں اوراس کا استعمال کرسکیں۔ لیکن کمپیوٹرکی آمد کے بعد انسانی حافظہ کوایک نظام کی طرح سے دیکھا جانے لگاجو معلومات کی اسی طرح پروسیسنگ کرتا ہے جس طرح سے ایک کمپیوٹر کرتا ہے۔ دونوں ہی بڑی مقدار میں معلومات کو رجسٹر کرتے، ذخیرہ بناتے اوراس کے بدلتے رہتے ہیں اورایسی ہیرا پھیری کے نتیجہ پر اپنا کام کرتے ہیں۔ اگراپنے کمپیوٹر پر کام کیا ہے توآپ کو معلوم ہوگا اس کے عارضی یادداشت (Temporary Memory) یا رینڈم ایکسس میموری(Random Access Memory- RAM) اورایک پرمانینٹ میموری(Hard Disk) جو کہ پروگرام کمانڈس(Programme Commands) پر مبنی ہوتا ہے۔کمپیوٹر حافظہ کے مادہ کی ہیرا پھیری کے ذریعہ حاصل شدہ نتائج کوپردے(Screen) پر عیاں کرتا ہے۔ اسی طرح سے انسان بھی معلومات کررجسٹرڈ کرتا ہے پھر ذخیرہ بناتا ہے اور پھر ان کاموں کی بنیاد پر جو اسے کرنے ہوتے ہیں معلومات کے ذخیرہ میں ہیرا پھیری لاتا ہے۔(مثال کے طورپر جب آپ کوکسی حسابی مسئلہ کوحل کرنا ہوتا ہے توجمع، تفریق سے منسلک حافظہ کام کرنا شروع کردیتا ہے) اورپھر نتیجہ حاصل ہوتا ہے، مسئلہ کے حل کی شکل میں۔ تمثیل کی بنیاد پر حافظہ کے پہلے نمونہ کی بالیدگی(Development) سامنے آتی ہے جسے ایٹکسن اور شفرن(Atkison and Shiffrin) نے 1968میں تجویز کیاتھا۔
نظام حافظہ: حسی، قلیل مدتی اورطویل مدتی
(Memory System: Sensory, Short-term and Long-term Memories)
مرحلہ نمونہ کے مطابق نظام حافظہ تین ہیں۔ حسی حافظہ، قلیل المدت حافظہ اورطویل المدت حافظہ۔ حسی حصول سے متعلق ہر ایک نظام کی مختلف خصوصیات اورکارکردگی ہے۔ (دیکھئے شکل 1.7) اب ہم یہ جانچ کریں کہ یہ نظام ہیں کیا؟
حسی حافظہ
موصول ہونے والی معلومات سب سے پہلے حسی حافظے میں داخل ہوتی ہیں۔ حسی حافظے کی وسعت زیادہ ہوتی ہے۔بہر کیف یہ بہت ہی مختصر مدت کی ہوتی ہے، یہ ایک نظام حافظہ ہے جوہر ایک حس سے حاصل شدہ معلومات کوپیچیدگی کے ساتھ رجسٹر کرتا ہے۔ اکثر یہ نظام حسی حافظے یا حسی رجسٹر سے متعلق ہوتا ہے کیونکہ تمام حسوں سے حاصل معلومات اس میں رجسٹر یا درج ہوتی ہیں۔
اگر آپ کو وزوئل آفٹر امیجز(Visual After Images) کا تجربہ ہو (جیسے روشن بلبل کوبند کرنے پرروشنی کی ایک لکیر) توکسی آواز کے بند ہونے کے بعداس کی گونج ریوبریشن(Reverboration) سنی ہوگی تواس کا مطلب یہ کہ آپ تصوراتی (Iconic) یا گونج سے متعلق (Echoic) حسی رجسٹر سے مانوس ہیں۔
قلیل مدتی حافظہ: (Short-term Memory)
آپ شاید اس بات سےمتفق ہوں گے کہ ہم ان تمام معلومات پر متوجہ نہیں ہوتے جو ہماری حسوں میں داخل ہوتی ہیں۔ وہ معلومات جس پر توجہ دی جاتی ہے تاکہ یہ ثانوی حافظہ کے اندر داخل ہوسکے قلیل مدتی حافظہ کہلاتی ہے جیسے مختصر میں ایس ٹی ایم (STM) کہاجاتا ہے۔ جو چھوٹی معلومات کی ایک مقدار کومختصر مدت کے لئے اپنے اندررکھتی ہے(عام طور پر 30سکینڈ یا اس سے کم) ایٹکنسن اور شیفرین(Atkinson and Shiffrin) نے یہ تجویز کیا کہ قلیل مدتی حافظہ میں بنیادی طورپر معلومات کی سمعی کوڈ بندی (Acoustic encoding) ہوتی ہے جو آواز کی شکل میں ہوتی ہے اورلگاتار مشق نہ کئے جانے پر یہ قلیل مدتی حافظہ سے 30 سیکنڈکے اندرختم بھی ہوسکتی ہے۔یادرہے کہ قلیل مدتی حافظہ (STM) نازک ہوتا ہے لیکن اتنا بھی نہیں جتنا کہ حس رجسٹر جہاں معلومات ایک سیکنڈ کے اندرخود بخود ہی ختم ہوجاتی ہے۔
تصویر7.1: حافظے کا مرحلہ نمونہ
معلومات
حساسی کھاتہ (رجسٹر) اور دوسری حسابی طویل مدتی ذخیرہ کی صلاحیت۔ بڑی مدت؍ مدت ایک سیکنڈ سے کم
دھیان
قلیل مدتی حافظہ، ذخیرہ صلاحیت کم، مدت تیس سیکنڈ سے کم
تفصیلی مشق
طویل مدتی حافظہ، مستقل ذخیرہ صلاحیت، بے انتہا، مدت پوری زندگی تک
طویل مدتی حافظہ (Long-term Memory)
STM کی وہ چیزیں جوان کی وسعت اورحدمدت سے باہر ہوتی ہیںآخر میں طویل مدتی حافظے میں داخل ہوتی ہیں جس کی وسعت کافی زیادہ ہوتی ہے۔ یہ تمام معلومات کا پائدار ذخیرہ گھر ہے جو کہ اتنی نئی بھی ہوسکتی ہے، جتنا آپ کا گزشتہ روز کا ناشتہ اوراتنی پرانی بھی ہوسکتی ہے جتنی کہ آپ کا چھٹے یوم پیدائش کی تقریب۔ ایسا دیکھا گیا ہے کہ ایک بارک کوئی معومات جوطویل مدتی حافظے (LTM) میں داخل ہوتی ہے کبھی بھولی نہیں جاتی کیونہ ان کی باقاعدہ ترتیبی کوڈبندی ہوتی ہے یعنی کسی چیزکے معانی جوکسی معلومات سے منسلک ہوتی ہیں۔ آپ کے بھولنے کا احساس دراصل بازیابی (Retrieval) کی ناکامی سے، ہوتا ہے کیونکہ مختلف وجوہات سے آپ ان معلومات کے ذخیرے کوبچانہیں سکتے۔ ہم فراموشی سے متعلق بازیابی کی بات چیت اس باب میں بعدمیں کریں گے۔
اب تک ہم نے مرحلہ نمونہ کی صرف ساختی خصوصیات پر بات چیت کی ہے۔ مگر وہ سوال جس پر ابھی تک توجہ نہیں دی گئی ہے وہ یہ ہے کہ کس طرح سے معلومات ایک ذخیرہ خانے سے دوسرے ذخیرہ خانے تک منتقل ہوتی ہیں اورکس طریقے سے ہ لگاتار کسی خاص حافظہ گھر میں موجود ہوتی ہے۔ اب ہم ان سوالات کے جوابوں کی جانچ کرتے ہیں۔
کس طرح سے معلومات ایک اسٹور سے دوسری طرف جاتی ہے؟ اس سوال کے خواب میں اٹکٹس اورشفرین نے کنٹرول عملیات یعنی قابو رکھنے کے طریقے اعمال (Control Processes) نظریہ کی تجویز کی جس کا کام مختلف حافظے گھر سے معلومات کے انبارکی نگرانی کرنا ہے جیسا کہ پہلے بھی کہا جاچکا ہے کہ وہ تمام معلومات جو ہماری حسیں حاصل کرتی ہیں، مندرج نہیں ہوتی۔صرف وہی معلومات جس پر توجہ دی جائے قلیل مدتی حافظے جوکھیلنا پڑتا ہے۔
جدول 7.1 ورکنگ میموری
حال کے سالوں میں ماہرنفسیات نے یہ مشورہ دیا ہے کہ قلیل مدتی حافظہ وحدانیتیں نہیں ہے بلکہ اس میں کئی عناصر شامل ہوسکتے ہیں۔ قلیل مدتی حافظے کی یہ متعدد عناصری خیالات کی تجویز سب سے پہلے بیڈیلے (Baddeley) نے رکھی جن کے مطابق قلیل مدتی حافظہ ایک انفعالی (Passive) ذخیرہ گھر نہیں ہے بلکہ ایک کام کی میز کی طرح ہے جس پر مختلف قسموں کی حافظہ کی اشیاء رکھی ہوتی ہیں جنہیں لگاتار استعمال کیاجاتا ہے، ان میں ضرورت کے مطابق ردوبدل کیاجاتا ہے اوران کی شکل میں مختلف وقوفی کاموں کے کئے جانے کے دوران تبدیلی کی جاتی رہتی ہے۔ ان کام کی میز کوورکنگ میموری (Working Memory) کہتے ہیں۔ ورکنگ میموری کا پہلا اجزائے ترکیبی (component) فونولوجیکل لوب ہے جوآوازوں کی ایک خاص تعداد کواپنے پاس رکھتی ہے اوراگر اس کا مشق نہ کیا جائے، تووہ 2سیکنڈ میں ختم بھی ہوجاتی ہے۔ دوسری اجزائے ترکیبی ویزئواسپیشل اسکیچ پیڈ(Visual Spatial sketch pad) میں تصوراتی ومطانعتی(Visual and spatial) معلومات جمع ہوتی ہیں اورفونولوجیکل لوپ (Phonological Loop) کی طرح اسکیچ پیڈ کی صلاحیت بھی محدود ہوتی ہے۔ تیسری اجزائے ترکیبی جسے بیڈلے(Baddeley)نئے مرکزی عالمہ کافونولوجیکل لوپ، ویزئو اسیشل اسکیچ پیڈ ساتھ ہی ساتھ طویل مدتی حافظے سے لی گئی معلومات کو منتظم کرتی ہیں۔ ایک درست عالمہ کی طرح یہ دھیان سے متعلق تدبیروں کی تشخیص (allocate) کرتی ہیں جو مختلف معلومات میں تقسیم ہوتی ہیں جن کی ضرورت دئے گئے وقوفی کاموں (operation) کو انجام دینے، ان کو پلان ومونیٹرینگ کرنے،اورطرز عمل کو قابو میں کرنے میں پڑتی ہے۔
اگر یہ بات ہے توآپ ان دباوٴ کا تصورکریں جو ہمارے حافظے جھیلتے ہیں۔ وہ معلومات جو حسی رجسٹر سے (STM) میں داخل ہوتی ہے ایک طرح سے منتخبہ توجہ ہیں میں داخل ہوتی ہیں جس کے بار میں ہم باب5 میں پڑھ چکے ہیں۔ پہلا اختیاری عمل ہے جو یہ طے کرتا ہے کہ کون سی معلومات حسی فہرست سے STM میں جاےگئی، حسی تاثرات جس کی طرف توجہ نہیں دی جاتی ہے جلد ہی پھیکی پڑجاتی ہے۔ اس کے بعدSTMدوسرے اختیاری عمل کو استعمال میں لاتا ہے، جس کے تحت مشق کا کام ہوتا رہتا ہے تاکہ معلومات کو ضرورت کے مطابق ایک خاص مدت تک بچائے رکھا جاسکے۔ جیسا کہ نام سے ہی ظاہر ہوتا ہے اس طرح کی مشق سے حاصل شدہ معلومات کو صرف دوہراکرہی قائم رکھتے ہیں، اورجب دوہرا نابندکردیا جاتا ہے تومعلومات ختم ہوجاتی ہیں۔ دوسرے اختیاری عمل جو STMمیں ہوتے ہیں اوروسعت کوبڑھانے کے لئے ہوتے ہیں وہ چنکنگ (Chunking) ہے یعنی بڑے بڑے ٹکڑوں میں تقسیم کرنا۔ چنکنگ کے ذریعہ STMکی وسعت کوبڑھانا ممکن ہے، جو بصورتِ دیگر 2+7 ہے۔ (دیکھئے سرگرمی 1.7)۔ مثال کے طورپر اگرآپ سے کسی نمبرکی کڑی جیسے 194719502005کو یادکرنے کے لئے کہا جائے(یادرہے کہ نمبرSTMکی وسعت سے زیادہ ہے) ایسی صورت میں آپ چنکنگ بناتے ہیں، جیسے 1947،1950،2005اورتب اسے سال کی طرح یادکرتے ہیں۔ جس میں ہندوستان آزاد ہوا اورجب ہندوستانی آئین نافذہوا، جب سونامی نے ہمارے سمندری کنارے کواورجنوبی ایشیائی ممالک کومتاثرکیا۔
قلیل المدت حافظہ (STM)سے معلومات بڑے پیمانے پر مشق کی وجہ سے طویل مدتی حافظے(LTM) میں داخل ہوتی ہیں۔ رکھ رکھاوٴ کے برعکس مشق جو خاموش اورآواز کے ساتھ دونوں طرح سے ہوتی ہیں۔ ان معلومات کے ساتھ جڑجاتی ہیں جو پہلےسے ہی LTM میں موجود ہوتی ہیں۔ مثال کے طورپر ہیومنیٹی (humanity) لفظ کے معنی یادکرنے کا کام آسان ہوسکتا ہے اگران الفاظ کا مطلب جیسے ہمدردی، سچائی، فیض کی معلومات پہلےسے ہو۔
سرگرمی7.1
1. درج ذیل فہرست کے نمبروں کویادکرنے کی کوشش کریں۔ (انفرادی ہند سے)
19284981121
اب اسے درج ذیل گروپ میں یادکرنے کی کوشش کریں۔
121 81 49 25 19
آخر میں انہیں ذیل طریقہ سے یادکریں۔
2. ذیل میں دی گئی فہرست کوایک سکنڈ میں ایک عدد کی رفتار سے اپنے دوست کو پڑھ کرسنائیں اوراُن سے اسے اسی طرح سارے عددوں کودہرانے کے لئے کہیں۔
نمبر فہرست
(6نمبر)1 4-3-8-3-6-2
(7نمبر)2 2-1-7-2-8-4-7
(8نمبر)3 6-3-0-9-2-7-3-4
(10نمبر)4 3-5-6-2-8-7-1-4-2-9
(12نمبر)5 16-9-3-7-7-4-7-4-5-2-8
یادرہے کہ آپ کے دوست کوآپ کے فہرست ختم کرنے کے ساتھ ہی عدد یادآجائیں گے۔ نوٹ کریں کہ کتنے عدد یاد کئے جاتے ہیں۔ آپ کے دوست کے حافظہ کی اسکور ان کے سنائے گئے صحیح نمبرکی تعداد کے برابر ہوگی۔ آپ اپنے نتیجہ کا تذکرہ اپنے دوست اوراستاد کے ساتھ کریں۔
نئی معلومات سے قائم کئے جانے والے تعلقات کی تعداد اس کی پائیداری کوطے کرتی ہے۔ بڑے پیمانے پر مشق کے دوران انسان مختلف تعلقات کی بنا پر معلومات کے تجزئیے (analyse) کی کوشش کرتا ہے اس کے تحت آنے والی معلومات کی حد ممکن مختلف طریقہ سے منظم ہوا کرتی ہے۔ آپ ان معلومات کوکس طریقہ سے سوجھ بوجھ کے سہارے بڑھاسکتے ہیں یا ایک ایسے حافظے کے ساتھ کس طرح جوڑسکتے ہیں یا کوئی زمینی تصورقائم کرسکتے ہیں۔ تصویر 1.7 جو حافظے کا مرحلہ نمونہ کی نشاندہی کرتا ہے ساتھ ہی ساتھ یہ بھی اشارہ کرتا ہے کہ کس طرح سے معلومات ایک مرحلہ سے دوسرے مرحلہ تک سفرکرتی ہے۔
مرحلہ نمونہ کی جانچ کے لئے کئے گئے تجربوں سے ملے جلے نتیجہ سامنے آئے۔ کچھ تجربوں نے واضح طورپریہ دکھایا کہ STMاور LTMحقیقت میں دوالگ الگ حافظہ گھرہوتے ہیں جب کہ دوسرے ثبوتوں نے ان کے فرق پرسوال اٹھایا ہے۔ مثال کےطورپر پہلے یہ دیکھا جاچکا ہے کہ STM میں معلومات کی سمعی (acoustic) کوڈ بندی ہوئی ہے جب کہ LTM کوڈ بندی مفہومیت(semantically) پر ہوتی ہے لیکن بعدکے تجرباتی ثبوتوں نے یہ دکھایا کہ معلومات کی STM میں بھی مفہومی کوڈ بندی ہوسکتی ہے اورسمعی کوڈبندیLTM میں بھی ہوسکتی ہے۔
شیلس اوروارینگٹن (Shallice and Warrington) نے 1970 میں ایک آدمی کے کیس کا حوالہ دیا جس کا نام KFتھا۔ کسی حادثہ میں اس کے بھیجے کے بائیں حصہ کو ( ـCerebral Hemisphere) نقصان پہنچا، بعدمیں یہ پایا گیا کہ اس کی LTM ویسی ہی بنی رہی جب کہ STM بری طرح سے متاثرہوئی۔مرحلہ نمونہ یہ بتاتا ہے کہ معلومات طویل مدتی حافظے میں STM یعنی قلیل مدتی حافظے سے ہوکرہی آتی ہے اوراگر KF کا قلیل مدتی حافظہ متاثرہوا تھا اورنقصان پہنچ چکا ہوتا توایسی صورت میں اس کا طویل مدتی حافظہ معمول کے مطابق کیسے رہ سکتا ہے؟ کئی دیگر مطالعوں نے یہ دکھایا ہے کہ حافظے کا عمل ہرحال میں یکساں ہوتا ہے، چاہے کوئی معلومات کچھ سیکنڈوں کے لئے اس میں ہویا کچھ سالوں کے لئے ان حافظوں کو بغیر کسی علیحدہ گھروں میں تقسیم کئے اچھی طرح سمجھاجا سکتا ہے۔ ایسے سارے ثبوتوں کی بنیاد پر ایک دیگر قسم کے حافظہ کا تصور سامنے آیا ہے۔ جسے حافظے کے دوسرے نمونہ کے طور پر یہاں پیش کیاجارہا ہے۔
پروسیسنگ کی سطحات (Levels of Processing)
پروسیسنگ کی سطح کا نظریہ کریک اورلوکھارٹ (Craik and Lockhart) نے 1972 میں پیش کیا،اگرچہ اس رائے میں کئی تبدیلیاں ہوچکی ہیں لیکن اس کی بنیادی باتوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے اور اس رائے کے مطابق کسی نئی معلومات کی پروسیسنگ کا تعلق معلومات کے سمجھنے، دیکھنے اورتحلیل کے طورطریقہ سے ہے جس کے ذریعہ معلومات کی بقا کی مدت طے ہوا کرتی ہے۔ گرچہ اس نظریہ میں تب سے بہت تبدیلیاں آئی ہیں پھر بھی اس کی بنیادی خیالات میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی۔ اب ہم اس نظریہ کی چانچ بڑے پیمانے پر کرتے ہیں۔
Craik and Lockhartنے یہ تجویزدی کہ حاصل ہونے والی معلومات کی تجزیہ کاری ایک سے زیادہ سطح پر ممکن ہے۔ اس کا تجزیہ اس طبعی اورساختی طورپر کیا جاسکتا ہے۔ مثال کے طورپر کوئی انسان صرف کسی لفظ کے حرفوں کی شکل پر توجہ دے سکتا ہے جیسے کیٹ (cat) بجائے اس کے کہ لفظ بڑے حروف یا چھوٹے حروف میں لکھا ہے، یا اسے کس رنگ کی روشنائی سے لکھا گیاہے۔ یہ پروسیسنگ کی پہلی اورسب سے اوپری سطح ہے۔ بیچ والی سطح میں حروف کی آوازوں کی طرف توجہ دی جاسکتی ہے۔ جن کا تعلق ان حروف سے ہے، اوران کی بناوٹ اوصاف بہرحال ایک معنی خیز الفاظ میں تبدیل ہوجاتے ہیں، جیسے ایک لفظ کیٹ میں تین خاص حروف ہوتے ہیں۔ان دوسطحوں پر معلومات کا تجزیہ جو حافظہ پیدا کرے گا وہ بہت نازک قسم کا ہوگا اورجو جلد ہی مٹ جائے گا۔ بہر حال پروسیسنگ کی ایک تیسری اوراندرونی سطح بھی ہے جہاں معلومات کی پروسیسنگ ہوتی ہے۔ معلومات کو طویل مدت تک قائم رکھنے کو یقینی بنانے کے لئے اس کا تجزیہ اوراس کے معنی کو سمجھنا ضروری ہوتا ہے۔ مثال کے طورپر آپ کسی بلی کے بارے میں ایک ایسے جانور کی حیثیت سے سوچیں جس کے چار پیر، نرم بال اورایک پونچھ ہوتی ہے اورجوایک دودھ پلانے والا جانور ہے۔ آپ بلی کے ایک ایسے تصور کو یاد کر سکتے اورتصور کو اپنے تجربہ سے منسلک کرسکتے ہیں۔ مختصر یہ کہ معلومات کی بناوٹ اور آواز کی بنیاد پر تجزیہ اوپری سطح کی پروسیسنگ کر پاتا ہے جب کہ اس کی کوڈبندی جواس کے معنی کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ پروسیسنگ کی سب سے نچلی اورگہری سطح ہے جو ایسے حافظے کی طرف نشاندہی کرتی ہے جوایک حد تک بھولنے سے قابل بچاتی ہے۔
حافظے میں معلومات کی کوڈ بندی کے طریقہ کو نتائج کی حیثیت سے سمجھا جاسکتا ہے، جس کا ابتدائی مفہوم سیکھنے سے ہے۔حافظہ کے بارے میں یہ نظریہ آپ کو ایک نئے سبق کو سیکھنے کا احساس دلائے گا جس کے تفصیلی معنی کی طرف آپ توجہ ضروردیں گے نہ کہ پرانی یادوں پر منحصر کریں گے۔ ایسی کوشش سے آپ کوجلد ہی یہ احساس ہوگا کہ معلومات کے معنی کو سمجھنا اوردوسری باتوں سے اس کے رشتہ پر غوروفکر کرنا اوراپنی زندگی کے تجربہ سے اسے جوڑنے سے معلومات کو طویل مدت تک حافظے میں محفوظ رکھا جاسکتا ہے اوراسے بھولنے سے بچایا جاسکتا ہے۔
طویل مدتی حافظے کی اقسام (Types of Long-term Memory)
جیسا کہ آپ نے باکس 1.7 میں پڑھا، قلیل مدتی حافظے میں اب ایک سے زیادہ عناصر(Component) شامل ہوتے ہیں، کام کرنے والا آلہ (Working memory) ۔ اسی طرح سے یہ بھی تصدیق کی گئی ہے کہ طویل مدتی حافظے میں بھی یکساں نہ ہوکر مختلف قسم کی معلومات ہوتی ہیں۔اس کے پیش نظر آج کے زمانے کی وضاحت کے مطابق طویل مدتی حافظے کی بھی تین قسمیں ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر کے اندرقلیل مدتی حافظہ کس درجہ بندی اعلانیاتی طریقۂ کاری پر مبنی ہے۔(Procedural اورDeclarative) اسے کبھی کبھیNon declarative بھی کہا جاتا ہے۔ کسی واقعہ، نام یا تاریخ سے متعلق تمام معلومات جیسے رکشہ میں تین پہئے ہوتے ہیں، یا ہندوستان کو 15 اگست 1947 میں آزادی ملی، یا مینڈک ایک خشکی اورپانی دونوں میں رہنے والا جانور ہے۔ amphibian ہے وغیرہ Declarative Memory کے زمرے میں آتے ہیں۔دوسری طرفProcedural Memory اس حافظے کی طرف اشارہ کرتی ہے جس کا تعلق مختلف کاموں کے مکمل طورپر کرنے کے طور طریقے اوران کے لئے ضروری ہنر مندی سے ہے جیسے سائکل کیسے چلائی جائے، چائے کیسے بنائی جائے، باسکیٹ بال کیسے کھیلا جائے وغیرہ۔ اعلانیاتی حافظے (Declarative Memory) میں جو واقعات ہوتے ہیں انہیں زبانی بیان کیاجاسکتا ہے جب کہ غیر اعلانیاتی حافظے یعنی (Memory Procedural) میں چیزوں کو بیان نہیں کیاجاسکتا ہے۔ مثال کے طورپر اگرآپ سے یہ پوچھا جائے کہ کرکٹ کا کھیل کیسے کھیلا جاتا ہے، آپ اسے بتاسکتے ہیں۔ لیکن آپ سے کوئی یہ پوچھے کہ سائیکل کیسے چلائی جاتی ہے توشاید اس کی تفصیل بیان کرنا آپ کے لئے مشکل ہو۔
تلوینگ(Tulving) نے ایک دوسری درجہ بندی کی تجویز کی اورکہا کہDeclarativ Memoryیا تو episodic واقعات پر مبنی ہوگی یا مفہومات پر مبنی semantic ہوگی۔
واقعاتیEpisodic Memory کا تعلق ہماری زندگی کی سوانح عمری کی(Biographical) معلومات سے ہوتا ہے۔ ذاتی زندگی کے تجربہ سے وابستہ حافظےEpisodic memory بناتے ہیں اوراس وجہ سے ان کی نوعیت عام طور سے جذبات پر مبنی ہوتی ہے۔آپ کیسا محسوس کرتے ہیں جب آپ کلاس میں اول آتے ہیں؟ یا آپ کے دوست کتنے غصہ میں تھے جب آپ نے وعدہ پورانہیں کیا توانہوں نے کیا کہا؟ ایسے واقعات جب آپ کی زندگی میں ہوتے ہیں توآپ شاید ان سوالوں کا جواب کسی حد تک سوچ سمجھ کردیتے ہیں۔ اگرچہ ایسے تجربہ کوبھولنا مشکل ہوتا ہے پھر بھی یہ سچ ہے کہ بہت سارے واقعات لگاتار ہماری زندگی میں ہوتے رہتے ہیں اورہم ان تمام باتوں کویادنہیں کرپاتے۔ اس کے علاوہ کچھ تکلیف دہ اورناخوشگوار تجربات بھی ہوتے ہیں۔ جو اتنی تفصیل سے یادنہیں رہ پاتے جتنا کہ خوشگوار تجربات۔
جدول 2.7 طویل مدتی حافظے کی درجہ بندی
حافظے کا مطالعہ ایک دلکش شعبہ ہے اورتحقیق کاروں نے کئی نئے مظاہروں سے ہمیں واقف کرایا۔ذیل مظاہرے انسانی حافظے کے چست اورپیچیدہ نوعیت کوبتاتا ہے۔ فلیش بلب حافظے (Flesh Bulb Memories) یہ واقعاتی حافظےہیں جوابھارنے والے اورتعجب خیز ہوتے ہیں۔ایسے حافظے بہت ہی تفصیلی ہوتے ہیں۔ یہ ایک اعلیٰ درجہ کے کیمرے سے لے گئی فوٹوکی طرح ہوتا ہے۔ آپ بٹن دباکرایک منٹ کے بعدتفریح کےمنظر حاصل کرسکتے ہیں۔ آپ جب چاہیں فوٹو گراف کو دیکھ سکتے ہیں۔Flash Bulb Memories ویسے تصورات کی طرح سے ہیں جو حافظے میں جمع رہتے ہیں، اورایک خاص جگہ وقت اورتاریخ سے بندھے ہوتے ہیں۔ شائد لوگوں کو ا س طرح کی حافظہ کوقائم رکھنےمیں بہت محنت پڑتی ہے، تفصیلوں پر روشنی ڈالنے سے پروسیسنگ کی اندرونی سطح کے ساتھ ساتھ حافظے کی بازیابی (Retrieval)کے بارے میں بھی معلومات ہوسکتی ہے۔
اوٹوبایوگرافیکل میموری (Autobiographical Memory):
یہ ذاتی حافظے ہیں ان کی تقسیم تمام زدگی میں یکساں نہیں ہے، زندگی کے کچھ حصہ میں دیگر حصوں کے مقابلہ حافظے زیادہ اچھے ہوتے ہیں۔ مثال کے طورپر بچپن کی خاص طور سے 4 سے 5سال کی کوئی بھی یادہمیں بتانہیں پاتے اسے بچپن کی امنیسیا(amnesia) کہا جاتا ہے۔بچپن کے دنوں کے ٹھیک بعد ہمارے حافظے کی مقدار میں زبردست اضافہ ہوتا ہے۔ یعنی 20ویں سال میں۔ شدید جذبات، نیاپن اورکسی واقعہ کی اہمیت اس میں اہم رول اداکرتی ہے۔بوڑھاپے میں حال کے سالوں کی یادیں زیادہ یادرہ جاتی ہیں۔ بہر حال 30 سال کے آس پاس کی عمر سے کچھ خاص قسم کے حافظے میں کمی شروع ہوجاتی ہے۔
مکمل حافظہ (Implicit Memory): حالیہ مطالعہ سے یہ ظاہر ہوچکا ہے کہ بہت سارے حافظے انسان کے جوش سے باہر ہوتے ہیں۔مکمل حافظہ وہ حافظہ ہے جس کے بارے میں انسان کو واقفیت نہیں ہوتی ہے۔ یہ وہ حافظہ ہیں جو اپنے آپ مستحکم ہوتے ہیں۔ مکمل حافظہ کا ایک دلچسپ مثال ٹائپنگ کا تجربہ ہے، اگرکوئی ٹائپنگ جانتا ہے اس کا مطلب وہ کی بورڈ کے کسی خاص لفظ کو بھی جانتا ہے۔ لیکن کئی ایسے ٹائپست ہیں جوسہی طریقے سے کی کی شناخت ٹائپ رائیٹر پر نہیں کرسکتے۔ مکمل حافظہ ہماری واقفیت کے حاشیہ کے باہر ہوتا ہے۔دوسرے لفظو میں ہم اس سچائی سے واقف نہیں ہوتے ہیں کہ کسی حافظہ یا تجربہ کاریکارڈ ہوتا ہے۔ پھر بھی مکمل حافظے ہمارے طرز عمل کومتاثر کرتے ہیں۔ اس طرح کے حافظےBrain injury کے مریض میں پائے جاتے ہیں۔انہیں کچھ عام لفظوں کی فہرست دی جاتی ہے۔ کچھ منٹ کے بعد مریض سے فہرست کے لفظوں کو سنانے کے لئے کہا جاتا ہے۔ مزید کوئی لفظ بھی یادنہیں کرپاتا۔بہر حال اسے آمادہ کرتے ہوئے کچھ لفظوں سے شروع کے الفاظ کوبتانے کے لئے کہنے پر اوردولفظ کسی الفاظ کے بتائے جانے پر مریض ان الفاظ کویادکرپاتا ہے۔ مکمل حافظے معیاری حافظے کے لوگوں میں بھی پایا جاتا ہے۔
مفہومیاتی حافظے(semantic memory) دوسری طرف عام باخبری اورمعلومات سے متعلق حافظے ہیں۔تمام خیالات، تصورات، منطق کے اصول، مفہومیاتی حافظے میں جمع رہتے ہیں۔ مثال کے طورپر مفہومیاتی حافظے کی وجہ سے ہی ہم کسی معنی کویادکرتے ہیں جیسےNon-violence یا کسی نمبر جیسے 2+6=8یا نئی دہلی کاSTD کوڈ 011 وغیرہ۔ واقعاتی حافظے (episodic memory) کے برعکس اس میں وقت اورتاریخ نہیں ہوتی ہے۔ آپ شاید یہ نہیں بتاسکیں کہ آپ نے کب Non-violence کا مطلب جانا یا کب آپ کو پتہ چلا کہBangalore کرناٹک کی راجدھانی ہے، چونکہ مفہومیاتی حافظے کے مشمولات اورمواد کا تعلق خیالات اورعام تصورات سے ہوتا ہے اس لئے یہ غیر جانبدار ہوتی ہے اورنسیان پذیر نہیں ہوتی۔ دیگر مختلف درجہ بندی کے لئے باکس 2.7 کو دیکھیں۔
سرگرمی7.2
1. آپ اپنےاسکول کے شروعاتی دنوں کے بارے میں سوچیں۔ دوالگ الگ واقعات کو دیکھیں جو ان دنوں ہوئے ہوں اورجوآپ کو صاف طور پر یادہوں۔ ہر ایک واقعہ کو لکھنے کے لئے الگ الگ کاغذ کا ورق استعمال کریں۔
2. گیارہویں کلاس کے پہلے مہینے کے بارے میں سوچیں، دوالگ الگ واقعات لکھیں جو اس مہینہ میں ہوا ہو اورجو آپ کو پوری طرح یا ہو۔ ہر ایک واقعے کے لئے الگالگ شیٹ کااستعمال کریں۔
ان کو ربط، جذباتی احساس اورمدتی طوالت کے اعتبار سے ان کاموازنہ کریں۔
سرگرمی 7.3
ذیل میں دئے گئے جملوں کو الگ الگ کارڈ پر لکھیں۔ اپنے ساتھ کھیلنے کے لئے جونیئر طلبہ کو بلائیں۔ انہیں اپنے سامنے میزپر بٹھائیں، انہیں یہ بتائیں’’اس کھیل میں آپ کو کچھ کارڈایک ایک کرکے یکساں رفتار سے دیکھائے جائیں گے آپ کوان کارڈوں پر لکھے سوالات کو پڑھنا ہے اورہاں یا نہیں میں جواب دینا ہے۔
جوابات کو لکھیں:
1. کیا الفاظ بڑ ے حروف میں لکھا تھا؟ Belt
2. کیاالفاظ رائم لفظ کریوکی طرح پڑھاجانے والا تھا؟ Grew
3. کیاالفاظ ذیل جملے میں فٹ ہوتے ہیں؟
اسکول میں مطالعہ کرتے ہیں؟ Student
4. کیا الفاظ گولڈکے طرز پرپڑھاجانے والا تھا؟ Mood
5. کیاالفاظ بڑے حروف میں لکھا تھا؟ Bread
حافظے میں معلومات کی نمائندگی اورجماعت بندی
اس حصہ میں ہم طویل مدتی حافظے کے تنظیمی ڈھانچے پر نظرڈالیں گے جو طویل مدتی حافظہ ایک عرصہ میں حاصل کرتا ہے۔ چونکہ طویل مدتی حافظے میں کثیر مقدار میں معلومات ہوتی ہیں جن کا استعمال دلچسپ و پراثر ڈھنگ سے ہوتا ہے۔ یہ جاننا بہت مفید ہوگا کہ کس طرح سے ہمارا نظام حافظہ چیزوں کو منظم کرتا ہے۔ تاکہ صحیح وقت پر صحیح معلومات حاصل ہوسکے۔ یہاں پر یہ بتانا ضروری ہے کہ طویل مدتی حافظہ میں چیزوں کے منظم کرنے سے متعلق خیالات زیادہ ترتجربہ پر مبنی ہیں جومفہومیاتی معلومات کے کاموں کے نتیجے میں حاصل ہوئے ہیں۔ شائد آپ اس بات سے اتفاق کریں گے کہ مفہومیاتی حافظے کوبتانے میں کوئی غلطی نہیں ہوسکتی۔ کوئی شخص جو ہ جانتا ہے کہ چڑیا اڑتی ہے وہ اس بات کا جواب دینے میں غلطی نہیں کرے گا کہ کیا چڑیا اڑتی ہے؟ اس کاجواب ہاں میں ہوگا۔ لیکن جواب دینے میں لگے وقت میں لوگوں کے بیچ فرق ہوسکتا ہے جن میں مفہومیاتی جواب دینے کی ضرورت پڑتی ہے۔ اس سوال کے جواب دینے میں کیا چیڑیا اڑتی ہے؟ ایک سیکنڈلگ سکتا ہے، ایک سکنڈ سے زیادہ کا وقت نہیں۔ لیکن اس بات کے جواب میں کہ کیا پرندے جانور ہیں؟ زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔ طویل مدتی حافظے کے تنظیمی نوعیت کے بارے میں کچھ کہنا اس بات پر منحصر کرتا ہے کہ لوگ اس طرح کے سوالوں کےجواب دینے میں کتنا وقت لیتے ہیں۔
6. کیا الفاظ ذیل جملے میں فٹ ہوتا ہے؟
میرے چاچا کا بیٹا ہے میرا............ Cousin
7. کیا الفاظ ذیل جملے میں فٹ ہوتا ہے؟
میرا......ایک سبزی ہے۔ Home
8. کیاالفاظ ذیل جملے میں فٹ ہوتا ہے؟ Potato
........فرنیچر کا ایک ٹکڑا ہے Table
9. کیا الفاظ بڑے حروف میں لکھا تھا؟ Bears
10. کیا الفاظ....کی طرح پڑھاجانے والا تھا؟ Marks
11. کیا الفاظ بڑے حروف میںلکھا تھا؟ Five
12. کیا الفاظ صاف لفظ کی طرح پڑھاجانے والا تھا؟
13. کیا الفاظ ذیل جملے میں فٹ ہوتا ہے؟ Ganes
14. کیا الفاظ ذیل جملے میں فٹ ہوتا ہے؟ بچہ کھیلنا پسند کرتے ہیں
لوگ عام طورپر ملتے ہیں......بالٹی میں Friends
15. کیا الفاظ ذیل جملے میں فٹ ہوتا ہے؟ Shirt
میرا کلاس روم بھرا ہوا ہے...........
16. کیا الفاظ ذیل جملے میں فٹ ہوتا ہے؟ Money
میری ماں مجھے کافی دیتی ہے پاکٹ.........
کارڈ کوپڑھنے کا کام پورا ہونے کے بعدطلبہ کوان لفظوں کو دہرانے کے لئے کہا گیا جس کے بارےمیں سوالات کئے گئے تھے۔ دہرائے گئے، الفاظ کی گنتی، بناوٹی(structural) نظام الامواتی (phonological) اورمفہومیاتی (semantic) پروسیسنگ طرز پر کریں جیسا کہ سوالات میں درکارہے۔
نتائج کی بات چیت اپنے استاد کے ساتھ کریں۔
باکس 3.7 حافظے کی پیمائش کے طریقے:
عملی طورپر حافظے کی پیمائش کے کئی طریقے ہیں۔ چونکہ حافظے کی کئی قسمیں ہوتی ہیں، اس لئے کوئی طریقہ جو ایک قسم کے حافظہ کے لئے مناسب ہوتا ہے، دوسری قسم کے حافظے کے لئے مناسب نہیں ہوسکتا۔ کچھ اہم طریقے جن کا استعمال حافظے کی پیمائش کے لئے کیا جاتا ہے، یہاں بتائے جارہے ہیں۔
(a) آزادی سے دہرانا اورپہچان کرنا (واقعاتی حافظہ کی پیمائش کے لئے) بلاروک ٹوک یادداشت (free recall) ترکیب میں شرکت داروں کوکچھ الفاظ دیئے جاتے ہیں۔ اوران سے انہیں یادکرنے اورکچھ دیر بعداسے بغیر کسی ترتیب کے دوہرانے کے لئےکہاجاتا ہے۔جتنا زیادہ وہ دہراپاتے ہیں اتنے ہی اچھے ان کے حافظے سمجھے جاتے ہیں۔ پہچان کرنے میں بجائے الفاظ کو بتانے کے شرکت دار یادکئے گئے الفاظ کچھ دیگرنئے الفاظ کے ساتھ ملاکردیکھتے ہیں۔ (جنہیں انہوں نے نہیں دیکھا تھا)اوران کا یہ کام ہوتا ہے کہ یادکئے گئے الفاظ کی پہچان کریں۔ جتنی زیادہ تعداد میں وہ پرانے الفاظ کی پہچان کرپائیں گےاتنے ہی بہتر ان کے حافظے ہوں گے۔
(b) جملے کی تصدیق کا کام(مفہومیاتی حافظے کی پیمائش کے لئے) جیسا کہ آپ پڑھ چکے ہیں کہ مفہومیاتی حافظے ناقابل نسیان ہوتے ہیں کیونکہ ان کا تعلق عام معلومات سے ہوتا ہے جو ہم لوگوں کے پاس ہوتی ہیں۔ جملے کی تصدیق کے کام میں شرکت داروں سے کہا جاتا ہے کہ بتائیں کہ دئے گئے جملے صحیح ہیں یا غلط۔ شرکت دارجواب میں جتنے ہی چست ودرست ہوں گے اتنی ابتر ان کی یادداشت ہوگی۔ (مفہومیاتی معلومات کی پیمائش کے لئے) سرگرمی 3.7 دیکھیں۔
(c) پرامینگ(Priming) (ایسی معلومات کی پیمائش کے لئے ہے جسے ہم لفظوں میں بیان نہیں کرسکتے ہیں) ہمارے پاس مختلف قسم کی معلومات ہوتی ہیں جسے ہم زبانی بیان نہیں کرسکتے۔ مثال کے طورپر سائیکل چلانے یا ستاربجانے سے متعلق معلومات۔ اس کے علاوہ ہمارے پاس کچھ ایسی بھی معلومات ہوتی ہیں جن سے ہم بے خبرہوتے ہیں۔ اسے مضمر حافظہ(implicit memory) کہا جاتاہے۔ پرامینگ ترکیب میں شرکت داروں کوالفاظ کی فہرست دکھائی جاتی ہے جیسے باغیچہ، میدان، گھر وغیرہ اورتب اپنی ان لفظوں کے کچھ حصہ دکھائے جاتے ہیں جسے باغ،.... گھ، ا س کے ساتھ ان لفظوں کے حصے بھی دکھائے جاتے ہیں جن لفظوں کو پہلے نہیں دکھایاگیا۔ یہ پایا گیا کہ شرکت داردکھائے گئے لفظوں کے حصوں کو نہیں دکھائے گئے الفاظ کے مقابلہ میں جلد مکمل کردئیے۔ جب اُن سے پوچھا گیا توانہوں نے لاعلمی کا اظہار کیااوربتایا کہ انہوں نے صرف قیاس کیاتھا۔
طویل مدتی حافظے میں معلومات کی نمائندگی یا پیشی کاسب سے اہم حصہ ہے زمینی تصور۔ تصورات کسی شئے یا واقعہ کے زمینی درجات ہیں جو کسی ایک یا ایک سے زیادہ معاملات میں ایک دوسرے کے یکساں ہوتے ہیں؟
تصورات یا خیالات ایک بارقائم ہوتے ہی درجات میں منظم ہوجاتے ہیں۔ ایک زمرہ اپنے آپ میں ایک خیال ہے لیکن یہ دوسرے خیالات کو ان کی عام خصوصیات کی یکسانیت کی بنا پر انہیں منظم کرنے کا کام بھی کرتے ہیں۔ مثال کے طورپر آم کا لفظ ایک زمرہ ہے کیونکہ مختلف قسم کے آم اس میں شامل ہوسکتے ہیں اوریہ ایک تصور بھی ہے جو پھل کےدرجہ میں ہے۔تصورات میں بھی منظم ہوسکتے ہیں یہ زمینی ڈھانچہ ہی ہے جو دنیا کے بارے میں ہمارے معلومات وتصورات کی نمائندگی پیش کرتا ہے۔ مثال کے طورپر ایک ڈرائنگ روم کے منصوبے کے بارے میں تصورکریں جس میں مختلف اشیاء جیسے صوفہ، میزوغیرہ چیزیں شامل ہوتی ہیں اوریہ چیزیں اس کمرے میں کہاں کہاں رکھی ہوئی ہیں؟
اب تک ہم نے خیالات کا بنیادی سطح پر مطالعہ کیاجہاں معلومات کو طویل مدتی حافظے کی شکل میں پیش کیاگیا اورجہاں schemeاورزمروں کے بارے میں نظریہ بھی پہلی سطح کا تھا اورجہاں خیالات منظم ہوتے ہیں۔ اب ہم طویل مدتی حافظے کےتصورات کی بالائی سطح پر نظرڈالیں۔
Allan Collinsاور Ross Quillian نے 1969 میں ایک اہم تحقیق شائع کی جس میں انہوں نے بتایا کہ طویل مدتی حافظے میں معلومات ترتیب وار منظم ہوتی ہیں اورایک جال سے ڈھانچہ کی شکل اختیار کرلیتی ہیں۔ اس بناوٹ کے عناصر کوnodes کہا جاتا ہے۔ یہ nodes ہی تصورات یا خیالات ہیں جب کہ nodes کے بیچ کے رابطےLabeled relationships ہیں جو درجاتی رکنیت یا خیالات کی خصوصیت بتاتے ہیں۔
شکل2.7: اوپر بڑھتے ہوئے جال کا ماڈل
طویل مدتی معلومات کے ڈھانچائی جال کی تصدیق کے لئے تجربہ میں شریک لوگوں سے بیانات کی سچائی کی جانچ کرنے کو کہا جاتا ہے۔ جیسے Canary ایک چڑیا ہے یا Canaryایک جانور ہے(جواب تھا ہاں؍نہیں میں) یہ عام طور سے درجہ بند شمولینی بیانات ہیں جس میں لفظCanaryموضوع تھا، اور’ایک‘ نے ایک شکل اختیارکرلی۔ ایسے تجربہ کا ایک تنقیدی نتیجہ یہ تھا کہ چونکہ بیان میں محمول ترتیب وارڈھنگ سے موضوع سے پیچھے چلے گئے شرکت داروں نے اس کے صحیح یا غلط ہونے کی تصدیق کرنے میں لمبا وقت لیا۔ اسی طرح لوگ اس بات کی تصدیق میں زیادہ وقت لیتے ہیں کہ Canary ایک جانور ہے ان کا مقابلہ کی Canaryایک چڑیا ہے کیونکہ چڑیا ایک نزدیکی غیر معمولی درجہ ہے جو Canaryکے تصور سے کافی دورہے۔ اس نظریہ کے مطابق ہم تمام معلومات کوایک خاص سطح پر جمع کرسکتے ہیں جو سبھی درجہ کی رکنیت پر نافذ ہوتی ہے نچلی سطح پر ان معلومات کو دہرائے بغیر۔ یہ ایک اعلیٰ سطحی اقتصادی وقوف کو یقینی بناتی ہیں۔ جس کا مطلب طویل مدتی حافظے کی صلاحیت کا زیادہ سے زیادہ اثردارڈھنگ سے استعمال اورکم سے کم غیر ضروری باتیں کوشامل کرنا ہے۔
باکس 7.4 حافظہ کی تخلیق (Memory Making) چشم دید اورنقلی حافظے
چشم دید حافظے
مجرموں کی سنوائی کے سلسلے میں عدالتی کارروائی میں چشم دیدوں کے ذریعہ دی گئی گواہی کا استعمال ہوتا ہے اسے مجرموں کے خلاف دی جانے والی گواہی میں سب سے زیادہ بھروسہ کے لائق مانا جاتا ہے۔ کچھ تجربہ کے بعد جسے Loftusاوران کے ہم نوانے نے سترکی دہائی میں کیا، چشم دید حافظہ میں بہت ساری کمیاں سامنے آئیں۔
Loftus کا یہ تجربہ بہت آسان تھا انہوں نے تجربہ کے سیٹ کا ایک نمونہ پیش کیا۔ کسی واقعہ کی تصویر (عام طور سے ایک کارحادثہ) کوشرکت داروں کے بیچ دکھایا گیا اس کے بعدکچھ سوالات کئے گئے جو واقعہ کی کوڈ بندی میں مداخلت کرتی تھی۔ ان میں سے ایک سوال تھا ’’آپ میں ٹکراتے وقت کارکتنی تیزی سے جارہی تھی؟ اوردوسرے سوال میں لفظ ایک دوسرے سے ٹکرانے کی جگہ پر لفظ ملنے کا استعمال کیاگیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جن لوگوں سے پہلا سوال پوچھا گیا جس میں لفظ ٹکرانا شامل تھا کارکی رفتار کااندازہ mph 8.40لگایا جب کہ وہ لوگ جنہیں دوسرا سوال دیاگیا جہاں لفظ ملنا استعمال کیاگیاتھا،نے کار کی رفتار کا اندازہ صرف 31.8mph لگایا۔صاف ہے کہ پہلے سوال کی نوعیت نے حافظے میں تبدیلی لادی۔ دراصل واقعہ کو کوڈبندی گمراہ کن سوالات کی وجہ سے دہرائی گئی۔ ایسی کچھ غلطیاں واقعہ کی نوعیت کی وجہ سے بھی پیش آئی جو ایک زبردست جذبات ابھارتی ہے اورچشم دید کے دل ودماغ پر چھاجاتی ہے اور وہ کوڈبندی کےوقت تفصیلات پر توجہ نہیں دیتے۔جب واقعہ کے بعد تفصیلات بیان کرنے کو کہا جاتا ہے توچشم دید فاش غلطیاں کربیٹھتے ہیں۔
نقلی حافظے
ایک دلچسپ مظاہرہ کو جسے نقلی حافظہ کہتے ہیں، جو کسی ایسے واقعہ کے پرزورخیالات سے ہوسکتی ہے جو کبھی ہوئی نہیں ہو۔ تعجب؟ اب ہم ایک ایسے مطالعہ پر غورکریں جسے Garry, Manning and Loftus نے 1966 میں کیا اورنقلی حافظے کی خصوصیات کو سمجھا۔
شروع میں انہوں نے اپنے تجربہ کوشرکت داروں کے سامنے پیش کیا، واقعہ کی ایک فہرست دی جو ان کے زندگی میں شاید ہوئی ہو۔ تجربہ کے پہلے مرحلہ میں انہوں نے اس اندیشہ کا اندازہ لگایا کہ ہر ایک واقعہ ان کی یاد کے مطابق بچپن میں ہے۔ دوہفتہ کے بعد انہیں پھر تجربہ گاہ میں بلایا گیا اورکہا گیا کہ ان واقعات کو تصور میں لائیں اوراس پر نگاہ ڈالیں گویا کہ یہ ان کے ساتھ پیش آیا ہو۔ خاص طور پر وہ واقعہ جن کی زندگی میں ہونے کے اندیشے کم تھے۔ تصور اورنظرثانی کے لئے منتخب کئے گئے۔ یہ تجربہ کا دوسرا مرحلہ تھا، آخرکار، تیسرے مرحلے میں تجربہ کرنے والے نے یہ بہانا بنایا کہ پہلے مرحلے میں تیار کی گئی اندیشہ کی ریٹنگ کی فہرست کھوگئی ہے اورشریک داروں سے یہ گزارش کی کہ پھر سے فہرست بنانے میں میری مددکریں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ واقعہ جسے پہلی بار کی ریٹنگ میں نیچے جگہ ملی تھی اورجسے تصور کے لئے چنا گیا تھا دوسری بار کی ریٹنگ میں اوپر چلی گئی۔ شریک داروں نے بتایا کہ وہ واقعہ حقیقت میں ان کی زندگی میں پیش آئے تھے۔ اس طرح کے نتیجوں سے یہ پتہ چلتا ہے کہ حافظے کی ترغیب ہوسکتی ہے اوریہ خیالات کےذریعہ بنایا جاسکتا ہے ۔ اس نتیجہ سے حافظے کے عمل کو سمجھنے میں ہمیں بصیرت ملتی ہے۔
اب تک ہم نے تصورات کی طویل مدتی حافظے میں معلومات کی نمائندگی کی اکائی کی حیثیت سے بات چیت کی اورتصورات کے منظم ہونے کے مختلف طریقوں پر غورکیا۔ کیا اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ معلومات کی کوڈ بندی صرف الفاظ کی شکل میں ہوتی ہے؟ یہ دکھایا جاچکا ہے کہ معلومات کی کوڈبندی سمجھداری کے ڈھانچے میں بھی ہوسکتی ہے اورتصورات کی شکل میں بھی۔ خیال یا تصورنمائندگی کی ایک ٹھوس شکل ہے جو کسی شئے کے سمجھے جانے والی خوبیوں کو براہ راست بیان کرتی ہیں۔ اگرآپ کے سامنے اسکول کا لفظ آئے، توآپ کو اسکول کا خیال آئے گا۔ دراصل تقریباً تمام ٹھوس اشیاء (اور خیالات) تصورپیداکرتے ہیں اوران سے وابستہ معلومات کی کوڈبندی زبانی کے ساتھ ساتھ بصیرتی طورپر بھی ہوتی ہے۔ اسے دوہری کوڈ بندی مفروضہ کے نام سے جانا جاتا ہے جس کی تجویز سب سے پہلے Pairio نے دی اس مفروضہ کے مطابق اورٹھوس شئے سے متعلق معلومات ٹھوس معیار کی کوڈ بندی کی جاتی ہے اوران کا تصور کی شکل میں ذخیرہ بنایا جاتا ہے۔جب کہ ذہنی خیالات سے جڑی معلومات کی زبانی اوربیاناتی کوڈ بندی ہوتی ہے۔ ایسی معلومات بھی جس کی کوڈ بندی زبانی اورخیالاتی دونوں ہوتی ہیں آسانی سے یادکرلی جاتی ہیں۔
ویسےمعلومات جن کی کوڈ بندی اورذخیرہ تصورات کی شکل میں ہوتی ہیں زمینی نمونہ کوتیار کرتی ہیں۔ بہت سارے روز مرہ کے کام ہوتے ہیں جس کےلئےذہنی نمونہ کی ضرورت پڑتی ہے۔مثال کے طورپر سڑکوں کے سمت کی پیروی کرنا، سائیکل کے پرزوں کوجوڑنا وغیرہ میں اس طرح کے زمینی نمونہ کی ضرورت پڑتی ہے جو زبانی بیان سے تیار کئے جاتے ہیں۔ ذہنی نمونہ بہر حال ہمارے اس یقین کی طرف اشارہ کرتا ہے جوہمارے ماحول کی بناوٹ ہے اورا س طرح کا یقین ٹھوس تصورات اورزبانی بیانات وتفصیل کی مدد سے ہی ممکن ہوسکا۔
حافظ ایک تعمیری عمل کے طور پر(Memory as a Cnstructive Process)
اگر آپ حافظے کے بارے میں شروعاتی تحقیق پر غورکریں توشاید آپ یہ کہہ پائیں گےکہ حافظہ میں بنیادی طورپر ذخیرہ کی گئی چیزوں کو دوبارہ پیش کیاجاتا ہے۔ اس طرح کا نظریہEbbinghaus اوران کے ماننے والوں کا تھا، انہوں نے معلومات کی مقدار پر زوردیا جوحافظے میں ذخیرہ کی جاتی ہیں اوران کی درستگی کی جانچ مواد کے ذخیرہ اوراس کی دوبارہ پیشی کے درمیان میل کراکرکی۔ دہرائے گئے ذخیرہ کے مواد میں کسی طرح کا انحراف بھی غلطی سمجھا جاتا ہے اورحافظے کی ناکامی مانی جاتی ہے۔ اس طرح حافظے کے ذخیرہ کی جانچ سے پتہ چلتا ہے کہ حافظہ سیکھے گئے مواد کا خاموش واقعہ ہے جسے طویل مدتی ذخیرہ گھر میں لایا جاتا ہے۔ اس نظریہ کو F.C. Bartltt نے تیس کی دہائی میں چیلنج کیاجن کا یہ ماننا تھا کہ حافظہ ایک سرگرم عمل ہے اورجو ہم ذخیرہ تیار کرتے ہیں اس میں لگاتار ترمیم اورتبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں۔ جو ہم یادکرتے ہیں وہ مادہ کے معنی سے اثرپذر ہوتی ہیں اورایک بارنظام حافظہ میں جانے کے بعد یہ دوسرے وقوفی عمل سے الگ تھلگ نہیں رہ پاتیں۔
اس کا مطلبBartlettنے حافظے کو ایک تعمیری عمل ماناتاکہ ٹھیک دوہرائے جانے والا عمل۔معنی خیز موادوں کو استعمال کرتے ہوئے جیسے متن، فولک ٹیلس، عوامی کہانیاں، بچوں کے قصے وغیرہ Bartlettنے یہ جاننے کی کوشش کی کسی حافظہ کا مادہ کس طرح سے انسان کی معلومات، مقصد، مہیج، ترجیح اوردیگرنفسیاتی عملوں سے متاثر ہوتا ہے۔ انہوں نے کچھ آسان تجربات کئے جن میں ایسے حرکاتی مادہ کو پڑھنے کےبعد 15 منٹ کا وقفہ دیا اورتب تجربہ کے شرکت داروں جنہوں نے پڑھاتھا اسے بتایا اوردہرایا Bartlettنے ترتیب وار ڈھنگ سےre-call کی ترکیب استعمال کیا جس میں تجربہ کے شرکت دار حافظہ کی باتوں کو مختلف وقفوں پر باربار دہراتے گئے، اس طرح کے تجربہ میں شرکت داروں نے کافی غلطیاں کیں جسے Bartlettنے حافظے کے تعمیری عمل کو سمجھنے کے لئے مفید بتایا۔ان کے شرکت داروں نے سیکھے جانے ولے ٹیکسٹ کو الٹ دیا تاکہ معلومات کے اعتبار سے اس میں یکسانیت لائی جاسکے، غیر ضروری تفصیلات کوہٹایا، اہم مسائل کی تفصیل کی اورمواد کو جاذب نظر ومعقول نظر بنانے کے لئے تبدل کردیا۔
نتیجوں کی وضاحت کے لئے ایک لفظ Schemaکا نام دیاجو گذشتہ ردعمل اورتجربوں کی ایک سرگرم تنظیم ہے۔Schema پچھلے تجربوں اورردعمل کی اس تنظیم کی طرف اشارہ کرتا ہے جس میں حاصل ہونے والی معلومات کا مطلب سمجھا جاتاہے، ذخیرہ بنایا جاتا ہے اوربعد میں اس کو دہرایا جاتا ہے۔ بہر حال حافظہ تعمیر کا ایک سرگرم عمل ہے جہاں معلومات کی کوڈ بندی اورانسانی سمجھ اورپچھلی معلومات وامیدوں کے طرز پرکی جاتی ہے۔
بھولنے کی نوعیت اوروجوہات
ہم میں سے ہر ایک کوبھولنے اوراس کے اثرات کا تجربہ تقریباً ایک معمول کے طور پر ہوا ہے۔ ہم بھولتے کیوں ہیں؟ کیا یہ معلومات جسے ہم نے اپنے طویل مدتی حافظے کی تحویل میں دیا اس کے ختم ہوجانے کی وجہ سے ہوتا ہے؟ کیا یہ ہمارے اچھی طرح یادنہ کرنے کی وجہ سے ہوتا ہے؟ کیا یہ معلومات کی صحیح ڈھنگ سے کوڈ بندی نہ کرنے یا ذخیرہ کرنے کےدوران اس کی شکل خراب ہونے یا گم ہونے کی وجہہ کرہے؟ نسیان یعنی بھولنے کی تشریح کے لئے بہت سارے اصول سامنے آئے اورہم یہاں ان اصولوں کوجائزہ لیں گے جو بظاہر معقول ہیں اور توجہ حاصل کرچکے ہیں۔
بھولنے کی نوعیت کو سمجھنے کی باقاعدہ کوشش سب سے پہلے Hermann Ebbinghausنے کی جنہوں نے بے معنی الفاظ کی فہرست یاد کی( Triagrams CVCجیسےNOK یاSAP وغیرہ) اورتب آزمائش کی اوران کی گنتی کی جوانہوں نے مختلف وقفوں پر فہرست کودوبارہ یادکرنے میں لیا تھا۔انہوں نے محسوس کیا کہ بھول ایک خاص نمونہ کے طرز پر ہوتی ہے جسے آپ تصویر 3.7 میں دیکھ سکتے ہیں۔
شکل3.7: ایڈن گھائوس کانسیاں کا خط منہنی
اوپر دی گئی شکل سے یہ پتہ چلتا ہے کہ بھولنے کی رفتار پہلے 9گھنٹے میں سب سے زیادہ رہی خاص طور سے پہلے گھنٹے کے دوران۔ اس کے بعدرفتار کم ہوتی گئی اوربہت زیادہ بھولنا نہیں ہوا۔ یہاں تک کہ کچھ روز بھی گزرگئے اگر چہ Ebbinghaus کے تجربہ سے بنیادی باتیں سامنے آئیں،جو بہت زیادہ پیچیدہ تونہیں تھیں پھر بھی ان باتوں نے حافظے سے متعلق تحقیقات کو مختلف طریقہ سے متاثر کیا۔ اب عام طور سے یہ مان لیاگیا ہے کہ شروع میں حافظہ میں تیزی سے گراوٹ آتی ہے اورپھر یہ گراوٹ دھیمی ہوجاتی ہے، اب ہم ان اہم اصولوں کا مشاہدہ کریں گے جو بھولنے کی تشریح کے لئے دیئے گئے ہیں۔
نشانوں کے مٹنے کی وجہ سے بھولنا
نشانوں کا مٹنا (جسے استعمال نہ ہونے کا اصول بھی کہا جاتا ہے)بھولنے کا سب سے پہلا اصول ہے۔ ا میں یہ مانا جاتا ہے کہ حافظہ کیوجہ سے مرکزی نظام عصبی (Central nervous system) میں کچھ تبدیلی ہوتی ہے جو دماغ میں طبیعاتی تبدیلیوں کےمانند ہوتا ہے اوراسے حافظہ کا نشان کہا جاتا ہے۔ جب ان حافظے کےنشانوں کا استعمال ایک لمبے عرصے تک نہیں ہوتا ہے تویہ پھیکے پڑکرختم ہوجاتے ہیں۔ یہ نظریہ کچھ بنیادوں پرغیر موزوں ثابت ہوا ہے۔استعمال نہ ہونے کی وجہ سے اگرحافظے کا نشان ختم ہوجاتا ہے اوریہی بھولنے کی وجہ ہے توان لوگوں میں بھولنے کا رجحان زیادہ ہونا چاہیے جو یادکرنے کے بعدسوجاتے ہیں بہ نسبت ان کے جویادکرنے کے بعدجاگے ہوتے ہیں کیونکہ نیند کے دوران حافظے کے نشان کا کوئی استعمال نہیں ہوتا ہے۔بہر حال تجرباتی نتیجے ٹھیک الٹے پائے گئے۔ جو لوگ یادکرنے کے بعدجاگے ہوتے ہیں، ان کا بھولنا یادکرکے سونے والوں کے مقابلہ زیادہ دیکھا گیا۔
چونکہ نشانوں کے ختم ہونے کے اصول نے بھولنے کی تشریح معقول طریقہ سے نہیں کی اس لئے جلد ہی اس کی جگہ بھولنے کا ایک دوسرا اصول وجود میں آیا۔ اس کے مطابق نئی معلومات جوطویل مدتی حافظے میں داخل ہوتی ہیں وہاں پہلے سے یادکئے گئے سبق کو دوہرانے پر ان کے ساتھ دخل اندازی کرتی ہیں، اوراس طرح دخل اندازی ہی بھولنے کی اہم وجہ ہے۔
دخل اندازی کی وجہ سے بھولنا
اگر بھولنا نشانوں کے ختم ہونے کی وجہ سے نہیں ہوتا ہے توکیوں ہوتا ہے؟ بھولنے کا ایک اصول جو شائد سب سے زیادہ اثردار ہے وہ ہے دخل اندازی کا اُصول جو یہ بتاتا ہے کہ حافظے کے ذخیرہ میں موجود مختلف معلومات کے بیچ دخل اندازی کے وجہ سے بھولنے کا عمل ہوتا ہے۔ اس اصول کا یہ ماننا ہے کہ کسی چیز کے سیکھنے اوریادکرنےمیں الفاظ کے بیچ تعلقات قائم ہوتے ہیں اوراک باررشتہ بن جانے پر یہ حافظہ میں محفوظ ہوجاتے ہیں۔ لوگ ایسے بے شمار رشتے بناتے ہیں جو بغیر کسی ٹکرائو کے اپنی جگہ پڑے رہتے ہیں۔ بہر حال ان کے بیچ دخل اندازی ان کے دہرانے یا سنانے کے وقت ہوتی ہے۔ اس وقت مختلف رشتے بازیابی کے لئے ایک دوسرے کے ساتھ مقابلہ کرتے ہیں، دخل اندازی کا عمل اس آسان سے کام کے ذریعہ یہ عمل اوربھی واضح ہوجائے گی۔ آپ اپنے دوست سے بے معنی الفاظ کی دوفہرستیں یادکرنے کی گزارش کریں(فہرست A اور فہرست B) ایک کے بعددوسرا اورکچھ دیر بعدانہیں فہرستA کو سنانے کے لئے کہیں اگر وہ فہرست A کے الفاظ کوسناتے وقت فہرستB کے کچھ الفاظ کو دوہراتا ہے تویہ الفاظ کے بیچ تعلق کی بننے کی وجہ سے ہوتا ہے، اس وقت فہرستB کے سیکھنے میں فہرستA دخل اندازی کرنا ہے۔
| ٹیبل 7.1 | پیش کاری اور پس کاری دخل اندازی (خلل) کے تجرباتی نقشہ | ||
|---|---|---|---|
| پس کاری مداخلت | مرحلہ 1 | مرحلہ 2 | جانچ کا مرحلہ |
| تجرباتی شرکت دار، گروپ | سیکھا A | سیکھا B | بازیافت A |
| اختیاری شرکت دار، گروپ | سیکھا A | آرام وقفہ | بازیافت A |
| پیش کاری مداخلت | |||
| تجرباتی شرکت دار، گروپ | سیکھا A | سیکھا B | بازیافت B |
| اختیاری شرکت دار، گروپ | آرام وقفہ | سیکھا B | بازیافت B |
دخل اندازی کم سے کم دوطرح کے ہوتے ہیں جس کی وجہ سے ہم بھولتے ہیں، دخل اندامی یا خلل پیش کاری(Proactive)بھی ہوسکتی ہیں، اس کا طلب آپ نے جوپہلے سیکھا وہ بعدکی سیکھی ہوئی چیز کی بازیافت میں خلل یا دخل اندازی یا پس کاری کا ہونا یہ بھی ہوسکتی ہیں (Retroactive) اس کا مطلب پہلے سیکھی ہوئی چیز کی بازیافت میں بعد کے سیکھنے کی وجہ سے دشواری پیداہونا ۔ دوسرے لفظوں میں پیش کاری دخل اندازی میں پہلے سیکھی گئی باتیں بعد کی سیکھی باتوں کی بازیافت میں دخل دیتی ہیں جب کہ پس کاری دخل اندازی میں بعد میں سیکھی گئی باتیں پہلے سیکھی ہوئی باتوں کی بازیافت میں دخل کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر آپ اگرانگریزی جانتے ہیں اورآپ کے لئے فرانسیسی (French) سیکھنا مشکل ہوتو یہ پیش کاری دخل اندازی کی وجہ سے ہوتا ہے اوردوسری طرف آپ اگرانگریزی کی بازیابیFrenchکی طرح اچھے سے نہیں کرسکتے جیسے آپ نے حال میں یادکیا ہے تویہ ایک پس کاری دخل اندازی کی مثال ہوگی۔ایک خاص قسم کاتجرباتی نقشہ جس کا استعمال پیش کاری اورپس کاری دخل اندازی کو دکھانے کے لئے کیا جاتا ہے یہاں پیش کیا جارہا ہے۔ (ٹیبل 1.7)
باکس 5.7 دبے ہوئے حافظے
کچھ لوگوں کو ایسے تجربات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو تکلیف دہ ہوتے ہیں۔ کوئی بھی تکلیف دہ تجربہ انسان کےجذبات کوٹھیس پہچاتا ہے۔Sigmand Freud کا نظریہ تھا کہ ایسے تجربات لاشعور میں جمع ہوجاتے ہیں اورحافظے سے باہر نہیں آتے۔یہ ایک طرح کی گھٹن ہے، تکلیف پہچانے والی، پرخطر اورپریشان کن یادیں شعور سے باہررکھی جاتی ہیں۔
کچھ لوگوں میں تکلیف کن تجربات کی وجہ سے نفسیاتی نسیان (Amnesia) پیدا ہوجاتا ہے۔ کچھ لوگوں میں بحرانیت پیدا ہوجاتی ہے اوراس طرح کے واقعہ کوجھیلنے کے لئے خودکو بالکل نااہل پاتے ہیں۔ یہ لوگ اس طرح کی تلخ حقیقتوں کا سامنا کرنے سے بچنے کے لئے اپنی آنکھیں، کان اوردماغ بندکرلیتے ہیں اورایسے واقعات سے خودکو ذہنی طور پر دورکرلیتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ان میں عام طور سے نسیان پیداہوجاتا ہے۔ خودکودورکرنے کا ایک نتیجہ یہ بھی ہوتا ہے کہ ان میں فتور (Disorder) پیدا ہوجاتی ہے جسے Fugue کی حالت کہاجاتا ہے۔ جو لوگ اس طرح کے حالات کے شکار ہوتے ہیں وہ اپنے نام، پتہ اورپہچان وغیرہ بدل لیتے ہیں۔ ان کا پہچان اورنام الگ ہوجاتے ہیں، اس طرح سے ان کی دوہری شخصیت ہوجاتی ہے اورہم ان کے دوسری شخصیت کے بارے میں کچھ نہیں جان پاتے ہیں۔
بہت زیادہ ذہنی دباوٴ کی حالت میں حافظے میں کمی کا ہونا ایک عام بات ہے۔ بہت سے محنتی اورحوصلہ مند طلبہ فائنل امتحانات میں اچھے نمبر لانے کی توقع کرتے ہیں اوراسے حاصل کرنے کے لئے وہ خود کرلمبے عرصہ تک مطالعہ میں جھونکتے ہیں۔ لیکن جب انہیں سوالات دیئے جاتے ہیں تووہ بہت زیادہ گھبراکریاد کی ہوئی ساری چیزوں کوبھول جاتے ہیں۔
سرگرمی4.7
ذیل میں الفاظ کی دوفہرستیں دی گئی ہیں۔ پہلے ایک فہرست کو اس طرح یادکریں کہ آپ الفاظ کی بازیافت بغیر کسی غلطی کے کرسکیں۔ اس کے بعدآپ دوسری فہرست لیں اسے بھی بغیر کسی غلطی کے بازیافت تک یادکریں۔ آپ فہرست کے بارے میں بھول جائیں اورکسی دوسری چیز کو ایک گھنٹے تک پڑھیں۔ اب پہلی فہرست کے الفاظ کی بازیافت کریں اورلکھتے جائیں۔ صحیح اورغلط بتائے گئے الفاظ کی گنتی کرلیں۔
فہرست 1
بکری بھیڑ چیتا
گیدڑ بندر اونٹ
خچر ہرن گلہری
گھوڑا چیتا گرگٹ
سانپ خرگوش طوطا
فہرست2
سؤر ہاتھی گدھا
کبوتر کوبرا شیر(ٹائیگر)
مینا شیر بچھڑا
بھالو لومڑی کوّا
بھینس چوہا
اس اپنے ایک دوست کی مدد لیں اوران سے پہلی فہرست کے الفاظ بغیر غلطی کے بازیافت تک یادکے کئے درخواست کریں۔ان سے ایک گانا گانے کے لئے اوراپنے ساتھ چائے پینے کے لئے بھی درخواست کریں۔ انہیں قریب ایک گھنٹے تک کسی بات چیت میں الجھائے رکھیں۔
اب ان سے یادکئے گئے الفاظ کو لکھنے کے لئے کہیں اوراپنی بازیافت کا اپنے دوست کی بازیافت سے موازنہ کریں۔
بازیابی میں ناکامی کی وجہ سے بھولنا(Forgetting Due to Retrieval Failure)
بھولنا صرف حافظے کے نشان کے ختم ہونے کی وجہ سے ہی نہیں ہوتا جو کہ وقت گزرنے سے ہوتا ہے(جیسا کہ غیر استعمال اصول میں بتایا گیا ہے) اورنہ صرف الفاظ کے رشتے جوذخیرہ کئے ہوئے ہوتے ہیں کہ بیچ بازیافت کے وقت مقابلہ کی وجہ سے ہوتا(جیسا کہ مداخلت اُصول میں بتایا گیا ہے) بلکہ بازیافت کے وقت یاتوبازیابی سے متعلق نکات غائب رہتے ہیں یا ضرورت کے مطابق نہیں ہوتے۔ بازیابی کے نکات ہمیں حافظہ میں جمع معلوات کوحاصل کرنے میں مددکرتے ہیں۔ یہ نظریہ اوران کے ساتھیوں کا ہے جنہوں نے کئی تجربے سے یہ دکھانے کے لئے کئے کہ حفظ کیا ہوا مواد بازیابی کے نکتے جو بازیافت کے وقت ہواکرتے ہیں کی غیر حاضری یا غیر مناسبت کی وجہ سے پہنچ کے پرے ہوسکتے ہیں۔
اب ہم اسے ایک مثال سے سمجھیں۔ مان لیں کہ آپ نے معنی خیزالفاظ کی ایک فہرست یادکی ہے جیسے جھونپڑی، کٹیا، پیٹی، سونا، کانسا وغیرہ میں الفاظ چھ مختلف درجہ کے تھے(جیسے رہنے کی جگہ کپڑے کا نام، دھات کی قسم وغیرہ) اگر کچھ دیر بعد آپ سے انہیں بازیافت کے لئے کہا جائے توآپ ان میں سے کچھ کویادکرپائیں گے۔ لیکن دوسری باربازیافت کے دوران ان کے درجات کے بارے میں بھی بتائے جانے پرآپ مکمل طورپر بازیافت کرپائیں گے۔ یہاں اس مثال میں درجات کے نام غیر بازیابی کے نکتہ کی حیثیت سے کام کرتے ہیں۔ درجات کے نام کے علاوہ سیکھنے کے حالات بھی اثردار طریقہ سے بازیابی کے نکتہ کا کام کرتےہیں۔
حافظے کو بڑھانا (Enhancing Memory)
ہم سبھی کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ ہمارا نظا حافظہ بہترین ہوقوی ہو اور بھروسہ کے لائق ہو۔ ایسا کون ہوگا جو حافظہ کی ناکامی دیکھنا پسند کرے گا جس کی وجہ سے حد سے زیادہ تشویش اورالجھنیں پیدا ہوتی ہیں؟حافظے سے متعلق مختلف عملیات کے بارے میں جاننے کے بعدآپ یہ ضرور جاننا چاہیں گے کہ حافظہ میں اضافہ کس طرح لایا جاسکتا ہے۔حافظے میں اضافہ کے کئی طریقے ہیں جنہیں Mnemonicsکہا جاتا ہے ۔ یہ حافظہ کے اضافہ میں آپ کی مددکرتی ہے۔ ایسے کچھ Mnemonics میں تصورات کا استعمال کیاجاتا ہے جب کہ دیگر معلومات کی خودتنظیمی پرزوردیتا ہے۔اب ہم ان Mnemonics اورحافظہ کے اضافے کی دیگر ترکیوں پر غورکریں گے۔
حافظے کو بڑھانے میں تصورات کا استعمال (Mnemonics Using Images)
حافظہ کر بڑھانے Mnemonics میں تصورات کے استعمال کے لئے یہ ضروری ہےکہ آپ یاد کی جانے والی اشیاء اوراردگرد کے واضح اورایک دوسرے کے ساتھ تعلق رکھنے والے تصورات کی تخلیق کریں۔ تصورات کے دلچسپ ڈھنگ سے استعمال کرنے والے Mnemonicsکو دواہم تدبیریں ہیں Keyword methodاور Method of loci ۔
(الف) کلیدی الفاظ کا طریقہ(Keyword method) : مان لیجئے کہ آپ کسی بیرونی زبان کے الفاظ سیکھنا چاہتے ہیں۔Keyword methodمیں انگریزی کا ایک لفظ (مفروضہ یہ ہے کہ آپ انگریزی زبان جانتے ہیں)جو کسی بیرونی زبان کے لفظ جیسی آواز دیتی ہوگی پہچان کی جاتی ہے۔ انگریزی کا وہ لفظ جس کی آواز بیرونی زبان کے لفظ کی طرح ہوتی ہے Keywordکی طرح کام کرتا ہے۔ مثال کے طورپر اگر آپ duckکے لئے spanishلفظ سیکھنا چاہتے ہیں جو potoہے توآپ لفظ Potoکو Keywordکی حیثیت سے چن سکتے ہیں اورتبKeyword اور spanishلفظ جسے یادکرنا چاہتے ہیں دونوں کے تصورات کی تخلیق کرتے ہیں اوریہ تصورکرتے ہیں کہ یہ آپس میں مل رہے ہیں۔یہاں آپ یہ بھی تصورکرسکتے ہیں کہ ایک پانی سے بھرے برتن میں بطخ ہے۔ بیرونی زبان کے الفاظ کو سیکھنے کی یہ تدبیر یادکرنے کی دیگر تدبیروں سےبہت بہتر ہے۔
(ب) :Method of loci اس ترکیب کا استعمال کرنے کے لئے وہ شئے جسے آپ یادکرنا چاہتے ہیں اسے تصور کی شکل میں کسی جگہ پر ایک شئے کی حیثیت سے ترتیب دیاجاتا ہے۔ یہ تدبیرخاص طور سے چیزوں کو سلسلے وارڈھنگ سے یادکرنے میں مددگار ہوتی ہے۔ اس میں پہلے اس شئے کی زمین میں تصویر کشی کی جانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو کسی خاص جگہ پر اورخاص ترتیب میں ہوتی ہے۔ یادکئے جانے والی شئے کی پہلے تصویر کشی کریں اس کے بعد اس کا کسی جگہ کے ساتھ تعلق بنائیں۔ مثال کے طور پر آپ بازار جاتے وقت راستہ میں روٹی، انڈا، ٹماٹر، صابن یادکرنا چاہتے ہیں، آپ روٹی کے نوالوں کا تصوراپنے گیراج میں ، انڈے، اپنے سامنے کے دروازے پر ، ٹماٹر ٹیبل پر اورصابن کچن میں کرسکتے ہیں۔ جب آپ بازار میں داخل ہوتے ہیں توآپ کو ذہنی طور پر غسل خانے سے کچن کی دوری صرف طے کرنی ہوتی ہے تاکہ آپ سبھی چیزوں کی بازیافت ایک ترتیب میں کرسکیں۔
Mnemonicsمیں تنظیم کا استعمال
تنظیم یادکئے جانے والے مواد کی ایک خاص ترتیب کی طرف اشارہ کرتا ہے۔اس قسم کیMnemonicsبازیافت میں مددگار ہوتی ہے کیونکہ اس کے بنیادی ڈھانچہ کی تخلیق آپ کرتے ہیں جب کہ تنظیم کی وجہ سے بازیابی کا کام آسان ہوجاتا ہے۔
(الف)chunking :قلیل مدتی حافظے کی خصوصیات بیان کرتے وقت ہم یہ بتاچکے ہیں کہ کس طرح سے chunking قلیل مدتی حافظے کی وسعت کو بڑھاسکتی ہے۔ chunkingمیں کس بڑے chunkی تشکیل کے لئے کئی چھوٹی چھوٹی اکائیاں آپ میں جڑی جاتی ہیں۔ chunkکے تخلیق کے لئے کس تنظیمی اُصول کا پتہ لگانا اہم ہوتا ہے۔ جو چھوٹی چھوٹی اکائیوں سے رابطہ قائم کرسکتے ہیں۔اس طرح سے ایک اختیاری کاریگری جو قلیل مدتی حافظے کی وسعت کوبڑھانے کے لئے ہوتی ہے کہ علاوہ chunking کا استعمال حافظے کوبڑھانے کے لئے بھی کیاجاسکتا ہے۔
(ب) حرف اوّل تکنیک: اس تکنیک کو لاگو کرنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ آپ ان الفاظ کے پہلے حرف کوچنیں جسے آپ یادکرنا چاہتے ہیں اوراسے اس طرح ترتیب دیں کہ اس سے کوئی دوسرا لفظ یاجملہ بن سکے۔ مثال کے طورپر دھنک کے رنگ اس طرح سے یادکئے جاتے ہیں۔(VIBGYORجو Orange,Yellow,Green,Blue,Indigo,Violet اورRedکے لئے ہوتے ہیں۔
حافظے کو بڑھانے کی Mnemonicsطریقہ پر بہت زیادہ توجہ نہیں دی گئی ہے کیونکہ وہ انسان میں ہونے والی دشواریوں کو نظرانداز کرتی ہے۔ Mnemonicsکی جگہ پر حافظے کوسدھارنے کے لئے ایک زیادہ قابل فہم طریقہ کارکی تجویز بہت سارے نفسیات دانوں نے کی ہے۔اس طرح کے طریقہ کارم میں حافظے میں اضافہ کے لئے حافظے سے متعلق معلومات کے استعمال پر زوردیاگیا ہے۔ اب ہم اس طرح کی کچھ تجاویز کا مطالعہ کرتے ہیں۔
(الف) اندرونی سطح کی پروسیسنگ میں مصروف رہنا: اگرآپ کسی معلومات کو اچھی طرح سے یادرکھنا چاہتے ہیں توخودکونچلی سطح کی پروسیسنگ میں مصروف رکھنا ضروری ہے۔Craik and Lockhartنے یہ دکھایا کہ فہم کی حیثیت سے کسی معلومات کی پروسیسنگ ان کے مقابلہ حافظہ کو بہتر بناتی ہے جو صرف معلومات کی ظاہری صورتوں پر توجہ دیتے ہیں۔ نچلی سطح کی پروسیسنگ میں معلومات سے منسلک ممکن سوالات پوچھے جائیں گے یہ سوالات ان کے معنی اورآپ کی معلومات کی حقیقیت کو دھیان میں رکھ کر کئے جاتے ہیں۔ اس طرح سے نئی معلومات پہلے سے موجود معلومات کا حصہ بن جاتی ہے اوران کی حافظہ میں اضافہ ہونے کی امیدیں بڑھ جاتی ہیں۔
(ب) مداخلت کو کم کرنا: مداخلت جیسا کہ ہم نے دیکھا بھولنے کی ایک اہم وجہ ہے۔ اس لئے آپ کو جتنا زیادہ ہوسکے اس سے بچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ آپ جانتے ہیں کہ ویسی صورت میں سب زیادہ مداخلت قوی ہے جب ہم کسی یکساں چیز کی ترتیب میں سیکھتے ہیں۔ اس سے بچیں۔ اپنے معاملہ کی اس طرح ترتیب بنائیں کہ ایک جیسی شئے کوایک کے بعددیگرنہ سیکھیں۔ اس کے برعکس کچھ مختلف موضوع کو چنیں جس کا تعلق پچھلے موضوع سے نہ ہواگریہ ممکن نہ ہو تواپنے عمل دستورکوتقسیم کردیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ مداخلت کوکم کرنے کے مطالعہ میں سیکھنے کے دوران وقفہ میں خودکوآرام دیں۔
(ج) خودکو نکتہ بازیابی کے کافی اشارے دیں: جب آپ کچھ سیکھتے ہیں تواس میں شامل بازیابی کے نکتہ پر غورکریں۔ انہیں پہچانیں اورسیکھے جانے والے مادوں کے ساتھ ان کو جوڑنے کی کوشش کریں۔ پورے کام کی بہ نسبت ان کے نکتہ کو یادکرنا زیادہ آسان ہوگا اوروہ رابطہ جس کی تخلیق نکتہ اورپورے کام کے درمیان آپ نے کی ہے بازیابی کے عمل میں مددگار ہوگی۔
Thomas and Robinson نے طلبہ میں یادداشت بڑھانے کی غرض سے ایک الگ ترکیب بتائی جسے ان لوگوں نے ترکیب PQRSTکا نام دیا جس کی تفصیل شکلSelf-recitation,Read,Question,PreviewاورTestہے۔ Previewکا مطلب کسی باب پر سرسری نگاہ ڈالنااورخود کو اس کے اندر کی باتوں سے واقف کرنا،Question کا مطلب سبق کی بنیاد پرسوالات بنانا اوران کے جوابات کی تجویز کرنا۔ آپ پڑھنا شروع کریں اوربنائے گئے سوالوں کے جواب تلاش کریں۔ پڑھنے کے بعد جوآپ نے پڑھا اسے پھر سے لکھنے کی کوشش کریں اورآخر میں جانچیں کہ کتنا آپ سمجھ سکے۔
آخر میں احتیاط پر ضرور روشنی ڈالیں۔ ایسی کوئی بھی ایک ترکیب نہیں ہے جو حافظہ کے رکھ رکھاوٴ سے متعلق سارے مسئلوں کا حل کرسکے اوراس میں راتوں رات سدھارلاسکے۔ اپنے حافظے میں سدھارکے لئے آپ کو مختلف اسبابوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، جو حافظے کو متاثر کرتے ہیں جیسے آپ کی صحت، دلچسپی، واقعات وغیرہ اس کے علاوہ آپ کو حافظے کے سدھارکی تدبیریں بھی جاننی ضروری ہیں جوکئے جانے والے کام کی نوعیت پر منحصر کرتا ہے۔
کلیدی اصلاحات
Chunkingوقوفی معاش، ذہنی خیالات، اختیاری عمل،دوہری کوڈ بندی، تفصیلی مشق، مشق قائم تشکیل حافظہ، Schema,Mnemonicsترتیب وار بازیافت۔ کوڈ بندی، Fuge State, Episodic Memory, Echoic Memory معلومات پروسیسنگ نظریہ Working Memory, Semantic Memory ۔
خلاصہ
• حافظہ باہمی طور پر ایک دوسرے سے وابستہ تین عملیات کوڈبندی، ذخیرہ اور بازیابی کا نام ہیں۔
• کوڈ بندی کا مطلب حاصل شدہ معلومات کو اس طرح درج کرنا ہے کہ یہ نظام حافظہ کےمطابق جائیں۔ ذخیرہ اور بازیابی بالترتیب معلومات کو ایک وقفہ تک بنائے رکھتی ہے اورانہیں شعور میں لے جاتی ہے۔
• مرحلہ نمونہ حافظے کے عمل کو کمپیوٹر کی کارکردگی سے مقابلہ کراتی ہے اوریہ بتاتی ہے کہ موصول ہونے والے معلومات کی پروسیسنگ میں مرحلہ حساس، حافظہ، قلیلی حافظہ اورطویلی حافظہ میں ہوتی ہے۔
• حافظے کا سطحی پروسیسنگ کا نظریہ بتاتا ہے کہ معلومات کی تہہ میں سے کسی بھی سطح پر کوڈ بندی ہوسکتی ہے۔ جسے Phonetic,structuralاور Semanticکہا جاتا ہے۔ اگر کسی معلومات کی تحلیل اورکوڈ بندی Semantic levelپر ہوجاتی ہے توجو پروسیسنگ کی نچلی سطح ہے، توبازیابی بہتر ہوجاتی ہے۔
• طویل مدتی حافظے کی درجہ بندی کئی طرح سے کی گئی ہے اس کا ایک اہم درجہ بندی Declarativeاور Procedural حافظہ کاہے اوردوسرا Episodicاور semanticحافظہ کا ہے۔
• طویل مدتی حافظے کے مادہ کوخیالات، درجات اورتصورات کی شکل میں دکھائی جاتی ہے اوریہ ترتیبی ڈھنگ سے منتظم رہتی ہیں۔
• بھولنے کا مطلب وقت کے ساتھ ساتھ معلومات کے ذخیرہ میں کمی، کسی شئے کویادکرنے کے بعدحافظے میں تیزی سے گراوٹ آتی ہے اوربعد میں گراوٹ کی رفتار میں کمی آجاتی ہے۔
• بھولنے کی وضاحت نشانو ں کے ختم ہونے اورمداخلت کے نتیجہ کے طورپر کی گئی ہے۔ یہ بازیابی کے وقت مناسب نکتہ کی غیر موجودگی کی وجہ سے بھی ہوسکتی ہے۔
• حافظہ نہ صرف reproductionبلکہ ایک تعمیری عمل بھی ہے۔ جو ہم ذخیرہ تیار کرتے ہیں اس میں گزشتہ معلومات کے تحت تبدیلیاں آتی ہیں۔
• Mnemonics حافظے کو سدھارنے کی ایک ترکیب ہے۔ کچھ Mnemonicsتصورات کا استعمال کرتی ہیں جب کہ دیگر سیکھی گئی چیزوں کو منظم کرنے پر زورڈالتی ہیں۔
نظرثانی کے لئے سوالات
1. کوڈ بندی، ذخیرہ اوربازیابی کا کیا مطلب ہے؟
2. کس طرح معلومات کی پروسیسنگ، حساسی، قلیلی اورطویلی نظام حافظہ کے ذریعہ ہوتی ہے؟
3. مشق قائم اورمشق تفصیل کس طرح ایک دوسرے سے مختلف ہیں؟
4. Declarative اور Proceduralحافظے میں کیا فرق ہے؟
5. طویل مدتی حافظے میں ترتیبی تنظیمی جال کو بیان کریں۔
6. بھولنے کے عمل کیا ہیں؟
7. کس طرح بازیابی سے متعلق بھولنا مداخلت کی وجہ سے بھولنے سے مختلف ہے؟
8. حافظہ ایک تعمیری عمل ہے۔ یہ کہنے کے لئے ہمارے پاس کیا ثبوت ہے؟
9. Memonics کیا ہیں؟ اپنے حافظہ کے سدھارنے کے لئے ایک طریقۂ عمل بتائیں۔
پروجیکٹ کی تجاویز
1. اپنی زندگی کے ایک واقعہ کویادکریں اورلکھیں جو آپ کو اچھی طرح یادہوں، دوسروں سے بھی (جو اس واقعہ میں شریک تھے جیسے آپ کے بھائی، بہن، ماں باپ یا رشتہ دار، دوست) ایسا ہی کرنے کی گزارش کریں۔ دونوں کی بازیافت کا مقابلہ کریں اوران یکسانیت و اختلافات پرغورکریں۔ ان میں یکسانیت اوراختلافات کی وجہ بتانے کی کوشش کریں۔
2. اپنے دوست سے ایک قصہ بیان کریں اوران سے ایک گھنٹہ کے بعداسے لکھنے کے لئے کہیں۔ ان سے لکھی ہوئی باتوں کودوسروں سے بیان کرنے کے لئے بھی گزارش کریں۔ یہ عمل اس وقت تک جاری رکھیں جب تک آپ کے پاس قصہ کی پانچ کاپی اس طرح سے جمع نہ ہوجائیں۔ تحریروں کو ملائیں اوران میں حافظے کی تعمیری عمل کی پہچان کریں۔