Skip to content
Nafsiyat-006



Chapter 8

  تفکیر

اس باب کے مطالعہ کے بعدآپ اس قابل ہوجائیں گے کہ

تفکیر اوراستدلال (Thinking and Reasoning) کی نوعیت کو بیان کرسکیں

فیصلہ لینے اورمسئلہ کے حل میں شامل کچھ وقوفی عملیات کے بارے میں اپنی سمجھ کا اظہارکرسکیں۔

تخلیقی تفکیر کی نوعیت اورعمل کوسمجھ سکیں، تدبیروں کے بارے میں جان سکیں۔

زبان اوفکر کے درمیان رشتوں کو سمجھ سکیں۔

زبان کے فروغ کےعمل اوراس کے استعمال کو بیان کرسکیں۔


مشمولات

تعارف

تفکیر کی نوعیت

فکر کے سانچہ کی تعمیر (باکس1.8)

تفکیر کے عمل

مسئلے کا حل

استدلال

فیصلہ لینا

تخلیقی تفکیر کی نوعیت اورعمل

تخلیق اور تفکیر کی نوعیت

تخلیقی تفکیر کے عمل

پہلوئوں کی تفکیر (باکس 2.8)

تخلیقی تفکیر کے فروغ

تخلیقی تفکیر میں رکاوٹ

تخلیقی تفکیر کی تدبیریں

فکر اورزبان

زبان کے فروغ اورزبان کے استعمال

دوہری اور مختلف نسانیت (باکس 3.8)

کلیدی اصطلاعات

خلاصہ

نظرثانی کے لئے سوالات

منصوباتی خیالات

پروجیکٹ کی تجاویز

تعارف:

ایک لمحہ کے لئے سوچیں(Thinking): روز مرہ کی بات چیت میں آپ کتنی بار اورکس طرح لفظ سوچ کا استعمال کرتے ہیں۔ کبھی کبھی آپ اسے یادکرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔(میں اس کا نام نہیں سوچ سکتا) توجہ دینے(اس کے بارے میں سوچئے) یا غیر یقینی باتوں کو بتانے(میرے خیال میں آج میرا دوست مجھ سے ملنے آئے گا) تفکیر(سوچ) کا مطلب اوردائرہ بہت وسیع ہے اوراس میں کئی طرح کے نفسیاتی عمل شامل ہیں۔ بہر حال نفسیات میں تفکیر کا  اپنا ایک دائرہ ومقام ہے اورآزاد وجود ہے۔ اس باب میں ہم تفکیر پر بحت ایک ذہنی سرگرمی کے طورپر کریں گے۔ جو مسئلہ کے حل اوران کےنتیجہ کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ خصوصی حقیقتوں کےبارے میں اندازہ کرتا ہے اورمختلف متبادلات کے درمیان فیصلہ اورانتخاب کرتی ہے۔ تاہم تخلیقی تفکیر کی نوعیت وخصوصیات کی وضاحت بھی کی جائے گی۔ کیا آپ نے کبھی ایک چھوٹے بچہ کو ریت یا سانچہ کی مدد سے کوئی مینار بناتے ہوئے دیکھا ہے؟ بچہ مینار بنائے گا، توڑے گا، پھر دوسرا بنائے گا، توڑے گا، اسی طرح کرتا چلا جائے گا۔ ایسا کرنے کے دوران بچہ کبھی کبھی خود سے باتیں بھی کیا کرتا ہے۔ اس کی باتوں میں بنیادی طور پر وہ مرحلے ہوتے ہیں جسے وہ اختیارکرتا ہے، یا اختیار کرنا چاہتا ہے(’’یہ نہیں‘‘، ’’تھوڑا چھوٹا‘‘، ’’پیچھے ایک درخت‘‘) نقشہ کا جائزہ، (’’اچھا‘‘) وغیرہ وغیرہ۔

آپ نے محسوس کیا ہوگا کہ کسی مسئلہ کے حل کے دوران آپ خود سے ہی باتیں کرتے ہیں۔ فکر کرنے کے وقت ہم کیوں باتیں کرتے ہیں؟ فکر اورزبان کے درمیان کیا تعلق ہے؟ اس بات میں ہم زبان کے فروغ وزبان اوفکر کے درمیان رشتوں پر بات چیت کریں گے، تفکیر کی بات چیت شروع کرنے سے پہلے یہ ضروری ہے کہ تفکیر کی بات چیت انسانی وقوف کی بنیاد کے طورپر کریں۔


تفکیر کی نوعیت (Nature of Thinking)

تفکیر سبھی وقوفی عملوں کی بنیاد اورانسان کے لئے ایک انوکھی شئے ہے۔ اس میں ماحول سے حاصل معلومات کی ترسیل وجوڑ توڑ شامل ہوتے ہیں۔

کسی تصویر کو دیکھتے وقت آپ صرف اس کے رنگ یا اس کی لکیروں پر ہی توجہ نہیں دیتے بلکہ تصویر کا مطلب جاننے کے لئےآپ مضمون سے آگے جاتے ہیں اورحاصل ہوئی معلومات کو اپنے موجودہ معلومات سے جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تصویر کو سمجھنے میں نئی معلومات کی تخلیق ہوتی ہے، جو آپ کی معلومات کوبڑھاتی ہے۔ اس طرح تفکیر ایک اونچے درجہ کاذہنی عمل ہے جس میں ہم نئی وپرانی معلومات کا تجزیہ اورجوڑتوڑیا ہیرا پھیری (Manipulation) کرتے ہیں۔ ایسا تجزیئے اورساز باز تجربہ (Abstraction)، استدلال(Reasoning) ، تصّور(Imagening) مسئلہ کا حل، رائے اورفیصلہ لینے کے ذریعہ ہوتا ہے۔ زیادہ تف تفکیر منظّم اوربامقصد ہوتی ہے،روز مرہ کی سرگرمیوں، ریاضی کے سوالوں کے حل سے لے کر کھانا بنانے تک کے سبھی عمل کا اپنا ایک مقصد ہوتا ہے، ہماری خواہش مقصد تک پہنچنے کی ہوتی ہے جس کے تحت کسی پرانے کام کے لئے جانا پہچانا طریقہ اورکسی نئے کاموں کے لئے نئی تدبیریں تجوز کی جاتی ہیں۔ تفکیر ایک اندرونی ذہنی عمل ہے جس کے بارے میں ظاہری کردار کی بنیاد پر نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے۔ ایک شطرنج کا کھلاڑی چال چلنے سے قبل چند منٹوں تک فکر میں محودیکھا جاتا ہے۔ آپ یہ نہیں سمجھ سکتے ہیں کہ وہ کیا سوچ رہا ہے۔ آپ صرف یہ نتیجہ نکال سکیں گے کہ وہ کیا سوچ رہا تھا یا آگے کی چال کی تدبیر اورحکمت عملی کا جائزہ لے رہا تھا۔


فکر کے سانچہ کی تعمیر (Building Blocks of Thought) 

ہم جانتے ہیں کہ تفکیر ہماری اپنی معلومات پر بھروسہ کرتی ہے۔ایسی معلومات کویاتوذہنی تصور یا الفاظ کی شکل میں پیش کیاجاتا ہے۔ مان لیجئے کی جگہ جانے کے لئے آپ سڑک سے سفرکررہے ہیں جہاں بہت پہلے آپ جاچکے ہیں۔ آپ مختلف جگہوں اورگلیوں کے ذہنی تصورات کا استعمال کریں گے۔ دوسری طرف اگرآپ کہانیوں کی ایک کتاب خریدنا چاہتے ہیں توآپ کی پسند کتاب کے مضمون اورمختلف مصنفوں کے بارے میں آپ کی معلومات وغیرہ پر منحصر کرے گی۔ یہاں آپ کی تفکیر الفاظ اورخیالات پر مبنی ہے۔ یہاں پر ہم انسانی فکر کی بنیاد کے طورپر سب سے پہلے ذہنی تصورات اورپھر خیالات کے بارے میں تبادلہ خیال کریں گے۔


ذہنی تصور(Mental Image)

مان لیجئے میں آپ سے ایک ایسی بلیّ کا تصورکرنے کے لئے کہوں جو درحت پر بیٹھی ہوئی ہو اوراس کے پونچھ تھوڑی سے اٹھی ہوئی و ترچھی ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ آپ پورے حالات کی ایک ذہنی تصویر کی تشکیل کی کوشش کریں گے جو ٹھیک اسی طرح ہوگی جیسی  یہ لڑکی اس تصویر میں کررہی ہے۔ (تصویر1.8) یا ایک دوسری صورت حال کے بارے میں فکر کریں جہاں آپ تاج محل کے سامنے کھڑے ہوئے ہیں تصورکریں اوربتائیں کہ آپ نے کیا دیکھا۔

33

تصویر1.8:  لڑکی خیالی تصور کرتے ہوئے۔

ایسا کرتے وقت آپ دراصل حالات کے بارے میں ذہنی تصورات کی تشکیل کرتے ہیں۔ آپ شاید اسے ذہن نشینی کے ذریعہ سے دیکھنا چاہتےہیں ٹھیک اُسی طرح جس طرح سے آپ کسی تصویر کودیکھتے ہیں۔ نشاندہی کے لئے تصویر کشی کرنا کیوں مفید ہے؟ نقشہ کو پڑھنے، مختلف جگہوں کویادکرنے اوربعدمیں انہیں امتحان میں ان کی حقیقی تصور میں پہچاننے اوراپنے پرانے تجربوں کو یادکرنے کی کوشش کریں ایسا کرنے میں زیادہ ترذہنی تصویروں کی تشکیل اوراستعمال کرتے ہیں۔تصور حساس تجربہ کی ذہنی طور پر نمائندگی کرتا ہے۔ اس کا استعمال کسی چیز، جگہ اورواقعہ کے بارے میں فکر کرنے میں کیا جاسکتا ہے۔ آپ سرگرمی 1.8 کوآزماسکتے ہیں جو یہ دکھاتی ہے کہ تصورات کی تشکیل کیسے ہوتی ہے۔


سرگرمی8.1

ذیل میں 8.2(a) کی طرح کا ایک نقشہ اپنے دوست کو 2منٹ تک کے لئے دیکھنے کے لئے دیں اور اُس سے کہیں کہ اسے بعد میں ایک سادہ نقشہ پر ان جگہوں کی پہچان کرنی ہوگی، جو کہ تصویر میں موجود تھا۔ اب اس نقشہ کو پیش کریں جس میں مختلف جگہوں کے بارے میں کسی طرح کا اشارہ نہیں دینا ہے۔ اب اپنے دوست سے پہلے نقشہ میں دکھائے گئے جگہوں کی پہچان سادہ نقشہ میں کرنے کے لئے کہیں۔ شائد وہ پورے حالات کی تشکیل کئے گئے تصور کے طریقہ کے بارے میں آپ سے کچھ کہہ پائیں گے۔

34

تصویر2(a) . 8: ایک نقشہ جو مختلف جگہوں کی وضاحت کررہا ہے۔


تصور ( Concept)

آپ کیسے جانتے ہیں کہ شیر ایک چڑیا نہیں ہے، لیکن طوطا ایک چڑیا ہے؟جب بھی ہم کسی آشنا یا غیر آشنا چیزوں یا کسی واقعہ کودیکھتے ہیں توہم ان چیزوں یا واقعہ کی خصوصیت کی بنیاد پر اس کی پہچان کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مثال کے طورپر جب ہم ایک سیب کو دیکھتے ہیں تواسے ہم پھل کا درجہ دیتے ہیں، جب ہم کسی ٹیبل کو دیکھتے ہیں تواسے فرنیچر کے درجہ میں رکھتے ہیں۔جب ہم کسی کتےکو دیکھتے ہیں تواسے جانور کے درجہ میں رکھتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ جب ہم کسی نئی چیز کو دیکھتے ہیں تواس کی خصوصیت کو جاننا چاہتے ہیں، اسے پہلے سے موجود مختلف درجہ کی خصوصیت سے ملانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اورجب دوونوں کی خصوصیات میں یکسانیت پائی جاتی ہے تب اسے ایک خاص درجہ کا نام دیتے ہیں۔ مثال کےلئے جب ہم سڑکوں پر چلتے ہیں، ایک چھوٹا ناآشانا چوپایا دیکھتے ہیں جس کی شکل کتے کی طرح ہے، اس کی پونچھ ہلتی ہے اوریہ اجنبی کو دیکھ کر بھونکتا ہے۔ بلاشبہ آپ اس کی پہچان، ایک کتے کی شکل میں کریں گے، اورسوچیں گے کہ شاید یہ کتے کی ایک نئی نسل ہے، جسے آپ نے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ آپ یہ بھی نتیجہ نکالیں گے کہ یہ اجنبی لوگوں کو کاٹ بھی سکتا ہے۔ خیال درجات کی ایک ذہنی نمائندگی ہے۔ یہ کس شئے، خیالات یا واقعہ کے ایک درجہ کی طرف اشارہ کرتا ہے جس کی خصوصیت میں یکسانیت ہوتی ہے۔

خیالات کی تشکیل معلومات کو منظم کرنے میں ہماری مددکرتی ہے، تاکہ جب کبھی بھی ہمیں ان معلومات تک پہنچنے کی ضرورت پڑے ہم کم مشقت اوروقت میں وہاں پہنچ جائیں۔ یہ کچھ اس طرح سے ہے جس طرح سے ہم اپنے گھروں میں مختلف چیزوں کو ترتیب دیتے ہیں۔ بچے جو بہت منظم ہوتے ہیں اپنی چیزوں جیسے کتاب، کاپی، قلم، وغیرہ کو الماریوں میں کسی خاص جگہ پر رکھتے ہیں، تاکہ صبح کے وقت انہیں کسی خاص کتاب یا کسی ضروری چیز کو ڈھونڈنے میں مشقت نہ کرنی پڑے۔کتب خانہ میں کتابیں، مضمون، نام وپتہ کے مطابق منظّم ہوتی ہیں تاکہ آپ انہیں آسانی سے جلد ڈھونڈ سکیں۔اپنے فکری عمل کو چست ودرست بنانے کے لئے ہم اشیاءاورواقعات کے خیالات ودرجات کی تشکیل کرتے ہیں۔ آپ پتہ لگاسکتے ہیں کہ کس طرح بچے سرگرمی 2.8 کےذریعہ خیالات کی تشکیل کرتے ہیں۔

35

سرگرمی 8.2

ایک کارڈ بورڈ کا ٹکڑا لیں اوراسے تین مختلف قداورشکل،تکونا، گول اورچوکور میں کاٹیں،ان کی جسامت بھی مختلف چھوٹ، اوسط اوربڑا رکھیں۔ اب اسے پیلے رنگ سے رنگ دیں۔ اسی طرح سے تین قدکا دوسرا سیٹ لیں اوراسے سبز رنگ سے رنگ دیں، اورتیسرے سیٹ کو لال رنگ سے رنگ دیں۔اس طرح سے مختلف قد، شکل اوررنگ کے 27 کارڈ تیار ہوتے ہیں۔ ایک 6-5سال کے بچے کو کارڈ کی یکسانیت کی بنیاد پر ان کوگروپ میں کرنے کوکہیں۔


اگر آپ چھوٹے بچوں کے گروپ میں آزمائیں گے توبچوں کا جواب مختلف طریقہ کا پائیں گے۔ وہ انہیں مختلف گروپ میں ذیل بنیادوں پر جمع کریں گے۔

1. قد؍جسامت: سبھی چھوٹے تکونے، چوکوراورگول ایک ساتھ سبھی اوسط قدکے ایک ساتھ وغیرہ وغیرہ۔

2. شکل: سبھی تکونے ایک ساتھ، سبھی گول ایک ساتھ وغیرہ وغیرہ۔

3. رنگ: سبھی لال ایک ساتھ، سبھی پیلے ایک ساتھ وغیرہ وغیرہ۔

4. قداورشکل دونوں: سبھی چھوٹے تکونے ایک ساتھ، سبھی اوسط تکونے ایک ساتھ وغیرہ وغیرہ۔

5. قد، شکل اوررنگ: سبھی چھوٹے گول اورلال رنگ ایک ساتھ، سبھی اوسط اورپیلے رنگ ایک ساتھ وغیرہ وغیرہ۔

آپ باب6 میں خیالات کے سیکھنے کے بارے میں اورباب 7 میں انسانی حافظے میں خیالات کے استعمال کے بارے میں پڑھ چکے ہیں۔ خیالات عام طورسے سمجھ کی ترتیبوں یا سطحوں میں پائے جاتے ہیں۔ سطحوں کی درجہ بندی Superordinate(سب سے اوپری سطح)،basic(بیچ کی سطح) اور Subordinate(نچلی سطح)کے طرز پرکی گئی ہے۔ جب ہم باتیں کرتے ہیں توزیادہ تربیچ کی سطح کا استعمال کرتے ہیں۔ جب کوئی شخص یہ کہتا ہے ’’میں نے ایک کتا دیکھا‘‘ ،بیچ والی سطح کا استعمال ہوا، اس طرح کے بیان عام طریقہ سے بنائے جاتے ہیں، ان کے مقابلہ’’میں نے ایک چار پیروں والا جانوردیکھا جو بھونکتا ہےاور پونچھ ہلاتا ہے‘‘ یا ’’ایک جانور‘‘ پہلا (subordinate) باتوں کےلئے ضرورت سے زیادہ مخصوص ہے۔ جب کہ دوسرا (superordinate) ضرورت سے زیادہ غیر واضح ہے جس سے مفہوم کا پتہ نہیں چلتا ہے۔ بچے پہلے بیچ کی سطح کے خیالات کو سمجھتے ہیں اورتب دوسرے درجات کے۔

زیادہ ترخیالات جسے لوگ تفکیر میں استعمال کرتے ہیں، نہ توبہت زیادہ واضح ہوتے ہیں اورنہ بہت زیادہ غیر واضح بلکہ باریک ہوتے ہیں۔وہ ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہوتے ہیں، اوران کی تشریح بھی واضح نہیں ہوتی۔ مثال کے طورپر آپ ایک چھوٹے ٹیبل کوکس درجہ میں رکھیں گے؟ کیا آپ اسے کرسی کے درجہ میں رکھیں گے یا ٹیبل کے درجہ میں رکھیں گے؟ اس کا جواب ہمارا تعمیرکیا ہوا پہلا نمونہ ہوسکتا ہے۔ پہلا نمونہ سب سے بہتر طریقہ سے درجہ کی گنتی کی نمائندگی کرتا ہے۔ Eleanor Roschکے ترک کے مطابق لوگوں کے خیالات کی تفکیر کے مدنظر پہلا نمونہ اکثر حقیقی زندگی میں شامل رہتا ہے۔ پہلے نمونہ کے دوران....... لوگ یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ کوئی شئے (item) کس زمرے کا رکن ہے یا نہیں یہ فیصلہ کسی درجہ کی مخصوص شئے کے ساتھ اس شئے کے موازانہ کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ اس طرح اوپر کے چھوٹے ٹیبل کی مثال میں آپ اس کا موازنہ معیاری پڑھنے کی کرسی سے کریں گے(اگرآپ اسے ایک کرسی کی مثال مانتے ہیں) اورایک چھوٹا پڑھنے کا ٹیبل(اگرآپ اسے ایک ٹیبل کی مثال مانتے ہیں)تب اس چھوٹے ٹیبل کی خصوصیات کو ان دونوں طرح کے خیالات سے ملائیں۔ اگر یہ کرسی کے ساتھ ملتی ہے توآپ اسے کرسی کے درجہ میں رکھیں ورنہ ٹیبل کے درجہ میں۔ایک دوسری مثال دیکھیں۔ ’’پیالہ‘‘ کا خیال پیالہ (1)ٹھوس شئے ہیں(2)محدب (concave) ہیں۔ (3)اس میں ٹھوس اور رقیق رہ سکتے ہیں۔ (4)ہینڈل ہوتے ہیں، جب ہم بازار میں ایسے پیالہ دیکھتے ہیں توکیا ہوتا ہے؟ جس میں ہینڈل نہیں ہوتا، شکل چوکور ہوتی اورقد غیر معمولی طریقہ سے زیادہ ہوتی ہے؟ ایک تجربہ میں شرکت داروں کو پیالے کی تصویریں دکھائی گئیں جیسا کہ تصویر 3.8 میں ہے اورW.Labovنے ان سے پوچھا: اس میں سے کسے آپ کس ’پیالا‘ کے خیال کے پہلے نمونہ کی طرح بیان کریں گے؟ زیادہ ترشرکت داروں نے پانچویں نمبر کے پیالہ کوچنا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کچھ شرکت داروں نے 4نمبر کے پیالا کو پھول کہا اور9نمبر کوگلدستہ کیونکہ وہ اس درجہ مختلف تھے۔

36

تصویر3.8:  ایک پیالہ ایک ’پیالہ‘ ہوتا ہے۔


باکس1.8 تہذیب وفکر

ہمارا یقین، اقداروسماجی چلن ہماری تفکیر کومتاثرکرتی ہیں۔ایک مطالعہ میں جسے امریکی اورایشین طلبہ پر کی گیا ذیل قسم کی تصویروں (پانی کے اندرکے منظر) کااستعمال کیاگیا۔شرکت داروں سے یہ کہا گیا کہ پہلے اس منظر کی طرف مختصر وقت کے لئے دیکھیں اورتب بیان کریں جو دیکھا۔ امریکی طلبہ کی توجہ سب سے بڑے، چمکدار اورنمایاں خصوصیات کی طرف تھی (مثال کے طورپر’’بڑی مچھلی اپنی طرف تیررہی ہے‘‘ اس کے برعکس جاپانی طلبہ کی توجہ پس منظر کی طرف، مثال کےطورپر’نچلاحصہ پتھریلا تھا اور’’پانی سبز تھا‘‘)ان نتیجوں پر مبنی تحقیقات نے خلاصہ کیا کہ امریکی عام طورپر ایک شئے کی الگ الگ تحلیل کرتے ہیں جسے ’’تحلیلی تفکیر‘‘ کہاجاتا ہے۔ ایشائی لوگ (جاپانی، چینی، کوریائی) کسی شئے اوراس کے پس منظر کے بارے میں زیادہ فکر کرتے ہیں جسے مقدس تفکیر کا جاتا ہے۔

37

تفکیر کے عمل (Processes of Thinking)

اب تک ہم تفکیرکے معنی اوراس کی نوعیت کے بارے میں تبادلہ خیال کررہے تھے۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہوا کہ تفکیر میں ذہنی تصورات اورخیالات کا استعمال بنیاد کے طورپر ہوتا ہے۔اب ہم اس بات کی وضاحت کریں گے کہ کس طرح تفکیر کس خاص سمت میں کام کرتی ہے۔

مسئلوں کو حل کرنا(Problem Solving)

ایک ٹوٹی ہوئی سائیکل کی مرمت ہم کس طرح کرتے ہیں یا گرمی میں سفر کا منصوبہ کا بنانا یا ٹوٹی ہوئی دوستی کوجوڑنے(Patching) کا کام کس طرح کرتے ہیں؟کچھ معاملوں میں مسئلہ کا حل جلد نکل آتا ہے جیسا کہ سائیکل کی مرمت میں یہ فوری طورپر موجودمددگارنکتوں پر مبنی ہوتا ہے جب کہ دیگر مسئلہ کا حل پیچیدہ ہوتا ہے اوراس میں زیادہ وقت اورکوششوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ مسئلہ کا حل ایک تفکیری عمل ہے جو بامقصد ہوتا ہے۔ تقریباًہمارے سارے روزمرہ کے کام کاج بامقصد ہوتے ہیں۔ یہاں یہ جاننا ضروری ہے کہ مقصد ہمیشہ الجھن یارکاوٹ کی شکل میں نہیں ہوتا جس کا ہم سامنا کرتے ہیں۔ یہ کوئی ایک معمولی کام بھی ہوسکتا ہے جسے آپ کسی مقصد تک پہنچنے کے لئے کرتے ہیں۔

ٹیبل8.1 مسئلہ کے حل میں شامل ذہنی سرگرمیاں (mental operation)

اب ہم یوم اساتذہ کے موقع پر اسکول میں ایک کھیل منعقد کرنے کے لئے مسئلہ پر نظرڈالیں۔ مسئلہ کے حل میں ذیل ترکیبیں شامل ہوں گی۔

ذہنی عمل مسئلہ کی نوعیت

1. مسئلہ کی پہچان یوم اساتذہ کو ایک ہفتہ باقی ہے اورآپ کوایک کھیل کے انعقاد کا کام دیاگیا ہے

2.مسئلہ کی نمائندگی کھیل کے انعقاد میں مناسب موضوع، ستاروں کی چھٹنی، پیسہ کا انتظار شامل ہوتا۔

3. حل کا منصوبہ، چھوٹے مقصد کا تعین کھیل کے لئے موجود مختلف مضمونوں، کھوج اورتحقیقات اورتجربہ کاراستاد ودوستوں سے  تبادلہ خیال۔ پیسہ، وقت، موقع کی ماقولیت کے مدنظر کھیل کوچنا جانا ہے۔

4. سبھی حلوں؍کھیلوں کا جائزہ لینا سبھی معلومات کوجمع کرنا؍مشق کرنا۔

5.ایک حل چنیں اوراس پر عمل کریں بہترنتیجے(کھیل)کے لئے مختلف مضامین کے بیچ موازنہ کریں اوران کی جانچ کریں۔

6. نتیجہ کا جائزہ لیں اگرکھیل کی ستائش ہوئی تومستقبل میں خوداوردوستوں کے حوالہ کی غرض سے ان سے مرحلوں واقدامات کی تفکیر کریں جو آپ نے کئے۔

7.مسئلہ اوراس کے حل کے بارے میں پھر سے غوروفکر اوروضاحت کریں

اس خاص موقع کے بعدبھی آپ ان طور طریقوں پر غوروفکر کریں تاکہ مستقبل میں آپ ایک اچھے کھیل کا منصوبہ بناسکیں۔

مثال کے طورپر اپنے دوست کے لئے فوراًچائے پانی کا انتظام کرنا جوآپ کے پاس ابھی آئے ہیں۔ مسئلہ کے حل میں ایک شروع کا دورہوتا ہے(جو مسئلہ ہوتا ہے) اورایک آخر کادورہوتا ہے(مقصد) یہ دونوں مرکز مختلف مرحلوں اورذہنی کارکردگی کے ذریعہ آپس میں جڑے ہوتے ہیں۔ ٹیبل 1.8 مسئلہ کے حل کےمختلف مرحلوں کے بارے میں آپ کی معلومات کی وضاحت کرے گی۔ آپ سرگرمی 3.8 میں دیئے گئے مسئلہ میں اسے اپنے دوست کےساتھ آزماسکتے ہیں اوردیکھ سکتے ہیں کہ کس طرح وہ مسئلہ کے حل تک پہنچ پاتے ہیں۔ جدول 1.8 ان مختلف اقدامات کی وضاحت کرے گا جن کے ذریعہ کوئی شخص ایک مسئلہ کا حل نکالتا ہے۔


مسئلہ کے حل میں رکاوٹیں (Obstacles to Solving Problems) 

مسئلہ کےحل میں دوبڑی رکاوٹیں مہیج(motivation) اورذہنی طورپرآمادگی(mental set) ہیں۔

ذہنی طورپر آمادگی(mental set)

ذہنی طورپر آمادگی مسئلہ کےحل سے متعلق لوگوں کی فطرت ہے جو پہلے سے آزمائے ہوئے ذہنی طریقوں یا مرحلوں کا استعمال مسئلہ کے حل کے لئے کرتے ہیں۔ کسی خاص تدبیر کے ساتھ حاصل ابتدائی کامیابی مسئلہ کے حل میں مددکرتی ہے۔بہر حال یہ فطرت بھی ذہنی سختی یا غیر لچکیلے پن کی تخلیق کرتی ہے جو ہمیں مسئلہ کے حل میں نئے تدبیر ک تفکیر سے روکتی ہے۔ اس طرح سے معاملے میں ذہنی آمادگی مسئلہ کے حل کی رفتار کو بڑھاتی ہے جب کہ دیگر معاملات میں یہ مسئلہ کے حل میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔ ریاضی کے مسئلوں کا حل کرنے کے درمیان آپ کو یہ تجربہ ضرور ہوا ہوگا۔ چھ سوالات مکمل کرنے کےبعد آپ ضروری مرحلوں پر غورکرتے ہیں جو مسئلہ کے حل میں کام آتے ہیں اورتصورات کی تشکیل کرتے ہیں اوراس کے بعدآپ لگاتاران مرحلوں واقداموں کا  استعمال کرتے ہیں جب تک آپ کو کوئی رکاوٹ محسوس نہ ہو۔ 


سرگرمی3.8

مسئلہ1: صنعت مقلوب(Anagram): لفظ کی تشکیل کے لئے حروف کوپھر سے ترتیب دیں۔ (آپ کچھ یکساں الفاظ بھی بناسکتے ہیں)

NAGMARA

BOLMPER

SELVO

STGNIH

TOLUSONI

مسئلہ2: نکتوں کاجوڑ: کاغذپر سے پینسل اٹھائے بغیر چار سیدھی  لکیریں کھینچ کرسبھی 9 نکتوں کوآپس میں جوڑیں۔

38

مسئلہ 3: اپنے دوست کے ساتھ تین بوتلوں میں پانی کی آزمائش کریں۔ 

B,A اورC تین بوتل ہیں بوتل Aوسعت 21mlکی ہے۔Bکی127mlکی اور Cکی3mlکی ہے۔ ایک دوست کا یہ کام ہوگا کہ ان تین بوتلوں کی مدد سے 100mlپانی حاصل کریں۔ اس طرح کے6اورمسئلہ ہیں۔ یہ ساتوں مسئلہ ذیل میں دیئے گئے ہیں۔

39

اس جگہ بھی آپ کو استعمال میں لائے ہوئے اقدام کوچھوڑنے میں بھی مشکلوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وہ اقدام نئی تدبیروں کی تفکیر میں بھی مداخلت کرتے ہیں۔ بہر حال روز مرہ کے کاموں کے لئے ہم اکثر اپنے پرانے تجربوں پر بھروسہ کرتے ہیں جو دیگر ملتے جلتے مسائل کےحل میں مددکرتے ہیں۔ذہنی آمادگی کی طرح مسئلہ کے حل میں جب لوگ ناکام رہتے ہیں تواسےFunctional Fixednessکہا جاتا ہے۔جب آ پ نے کبھی کیل ٹھوکنے کے لئے کسی سخت جلد کی کتاب کی مدد لی ہوگی تب اس وقت آپ کو Functional Fixdnessسے چھٹکارا ملا ہوگا۔

مہیج کی کمی(Lack of Motivation) 

لوگ مسئلہ کے حل میں عمد ہوسکتے ہیں۔لیکن ان کی ساری عقل وشعور بیکار ہے اگران میں مہیج کی کمی ہے۔ کبھی کبھی لوگ پہلے مرحلے میں ہی دشواری سامنے آنے پر کام کوچھوڑدیتے ہیں۔ بہر حال مسئلہ کے حل کو حاصل کرنے کے لئے مستقل کوشش کی ضرورت ہے۔


استدلال(Reasoning)

اگرآپ کسی شخص کو ریلوے پلیٹ فارم پردوڑتے ہوئے دیکھتے ہیں توآپ اس سے کئی نتیجے اخذ کرسکتے ہیں جیسے وہ ٹرین پکڑنے کے لئے دوڑرہا ہے، جو چھوٹنے والی ہے، وہ چھوٹنے والی ٹرین میں بیٹھے دوست کو الوداع کرنا چاہ رہا ہے، ا س نے اپنا تھیلاٹرین میں چھوڑدیا ہے اوراسے لینا چاہتا ہے۔ یہ جاننے کے لئے کہ یہ شخص کیوں دوڑرہا ہے آپ مختلف قسم کے استدلال کا استعمال کرسکتے ہیں جو  DeductiveاورInductive ہوتے ہیں۔

مفروضاتی اورمشاہداتی استدلال (Deductive and Inductive Reasoning) 

چونکہ آپ کے پرانے تجربے یہ بتاتے ہیں کہ گاڑی پکڑنے کے لئے پلیٹ فارم پردوڑتے ہیں، آپ یہ نتیجہ نکایں گے کہ یہ شخص بھی دیر ہونے کی وجہ سے دوڑکرگاڑی پکڑنا چاہتا ہے اس طرح کہ استدلال کوکرنے والا استدلال کہتے ہیں۔ اس طرح کے استدلال کی شروعات ایک عام مفروضے سے ہوئی جو یہ بتاتی ہے کہ آپ جوجانتے ہیں وہ حقیقت ہے اورتب اس سوچ کی بنیاد پر آپ کسی نتیجہ پر پہنچتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں اس عام سوچ سے خاص نتیجہ کی استدلال کی جاتی ہے۔ آپ کی عام سوچ یہ ہے کہ لوگ دیرہونے کی وجہ سے پلیٹ فارم پرگاری پکڑنے کے لئے دوڑتے ہیں۔ ایک غلطی جو آپ کرتے ہیں(عام طور سے لوگ deductive reasoningمیں کرتے ہیں)وہ یہ کہ آپ فرض توکرلیتے ہیں مگرنہیں جانتے کہ بنیادی بیان یا سوچ صحیح ہے یا نہیں۔ اگربنیادی معلومات غلط ہے لوگ پلیٹ فارم پر دوسری وجوہات سے بھی دوڑتے ہیں توایسی صورت میں آپ کا نتیجہ غلط ہوگا۔ تصویر 4.8 میں چوہے کو دیکھیں۔

40

تصویر 8.4: کیا چوہا ایک صحیح اور جائز نتیجہ نکال رہا ہے؟

سبھی بلیوں کے چار پیر ہوتے ہیں، میرے چار پیر ہیں اس لیے میں ایک بلی ہوں۔

کوئی شخص پلیٹ فارم پرکیوں دوڑتا ہے اسے جاننے کا ایک دوسرا طریقہ ہے ترغیبی استدلال کا استعمال۔ کبھی کبھی آپ دوسرے ممکن وجوہات پر غورکرتے ہیں اوردیکھتے ہیں کہ دراصل وہ شخص کیا کررہا ہے اورتب اس کی طرز عمل کے بارے میں کسی نتیجہ پر پہنچتے ہیں۔ استدلال جو کسی مخصوص واقعہ اورمشاہدہ پر مبنی ہوتا ہے ترغیبی استدلال (inductive reasoning) کہلاتا ہے۔ کسی خاص مشاہدہ کی بنیاد پر ایک عام نتیجہ پر پہنچنا ہی ترغیبی استدلال ہے۔قبل کہ مثال میں آپ نے دوسرے شخص کے عمل یا عملوں کا مشاہدہ کیا جیسے کسی ریل کے ڈبے میں ایک تھیلے کے ساتھ داخل ہونا۔ یہ آپ کے مشاہدہ پر مبنی تھا نتیجہ کے طورپر آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس شخص کا تھیلا ٹرین میں چھوٹ گیا تھا۔ ایک غلطی جو آپ یہاں کرتے ہیں کہ بغیر واقعہ کی ممکن معلومات کے کسی نتیجہ پر پہنچ جاتےہیں۔

اوپر کے تبادلۂ خیال کی بنیاد پر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ استدلال معلومات کوجمع کرنے اوراس کا تجزیہ کرکے کسی نتیجہ پر پہنچنے کے عمل کو کہتے ہیں۔ اس معنی میں استدلال بھی مسئلہ کے حل کی ایک شکل ہے۔مقصد یہ طے کرنا کہ دی گئی معلومات سے کیا نتیجہ نکالاجاسکتا ہے۔ زیادہ ترسائنسی استدلال ترغیبی نوعیت کی ہوتی ہے۔ سائنس داں اور یہاں تک کہ عام آدمی بھی کئی موقع پر یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ کون سے عام اصول اس میں شامل ہیں۔اپنے بارے میں سوچیں جب مسئلہ کے حل سے متعلق اقدام کی معلومات جس کی بات چیت ایک کھیل کے منصوبہ بنانے میں منصوبہ کے عمل میں کی جاچکی ہے۔ کا استعمال منصوبہ کے عمل میں کرتے ہیں وہاں آپ کی ترغیبی استدلال کا استعمال ہوتا ہے۔

تمثیل ایک دوسری قسم کا استدلال ہے جس کے چار حصے ہوتے ہیں۔AکوBتک جیسے CکوDتک جس میں پہلے دوحصہ اورآخر کے دوحصہ اس میں جڑے ہیں۔ ان مثالوں پر غورکریں۔ پانی مچھلی کے لئے جیسے ہوا انسان کے لئے، برف سفید کے لئے جیسے کوئلہ کالاکے لئے قیاس مسئلہ کے حل میں مدد گارہوسکتا ہے۔ یہ کسی شئے یا واقعہ کی خصوصیات کی پہچان کرنے میں ہماری مددکرتا ہے جس کے بارےمیں ہم بے خبرہوتے ہیں۔

فیصلہ لینا (Decision Making)

ترغیبی اورکم کرنے والا استدلال ہمیں فیصلہ لینے کی اجازت دیتا ہے۔فیصلہ میں رائے اورشئے وواقعہ کی بنیاد پر نتیجہ نکالا جاتا ہے جو موجودہ معلومات اورثبوتوں پر مبنی ہوتا ہے۔ اس مثال پرغور کریں، یہ شخص بہت باتیں کرنے والا ہے لوگوں سے گھلنا ملنا پسند کرتا ہے، دوسروں کو آسانی سے قائل کرسکتا ہے۔ وہ دکانداری کے کام کے لئے موزوں ہے۔ ا س شخص کے بارے میں ہمارا فیصلہ ایک اچھے دکاندار کی خصوصیت پر مبنی ہے۔ یہاں پر یہ بات چیت کریں گے کہ کسی طرح ہم رائے قائم کرتے ہیں اورفیصلہ پر پہنچتے ہیں۔

کبھی کبھی فیصلے خودبہ خود ہوجاتے ہیں جس میں دانستہ طورپر نہ توکوئی کوشش کرنی پڑتی ہے اورنہ ہی کسی شخص کی عادت کی وجہ سے ہوتی ہے۔ مثال کے طورپر لال بتی کودیکھتے ہیں بریک لگانا۔ بہرحال کسی ناول یا ادبی مضمون کی تشخیص کرنے میں آپ کے گزشتہ تجربہ اورمعلومات کے حوالے کی ضرورت پڑتی ہے۔ کسی تصویر کی خوبصورتی کے بارے میں فیصلہ لینے میں آپ کی ذاتی پسند کا ہاتھ ہوگا۔ اس طرح ہمارے فیصلے ہماری یقین اورنقطۂ نظر سے پرے نہیں ہوتے۔ ہم نئے معلومات پر مبنی فیصلوں میں تبدیلیاں بھی لاتے ہیں۔ اس مثال پرغورکریں۔ جب ایک نیا استاد اسکول جوائن کرتا ہے، طلبہ اس جگہ فیصلہ لے لیتے ہیں کہ استاد بہت سخت ہیں۔ بہرحال اس کے بعدکی کلاسوں میں طلبہ کے ساتھ نزدیکیاں بناتے ہیں اوراپنی تشخیص میں تبدیلیاں لاتے ہیں۔ اب وہ استاد کو طلبا کا بہت ہمدرد سمجھتے ہیں۔

بہت سارے مسائل جنہیں آپ روز حل کرتے ہیں، میں فیصلہ لینے کی ضرورت پڑتی ہے۔ کسی پارٹی کے لئے کیا پہننا ہے؟ رات میں کیا کھانا ہے؟ دوست سے کیا کہنا ہے؟ ان ساری باتوں کے جواب، مختلف حل میں سے چن کر لینا پڑتے ہیں۔ اب سبھی فیصلوں میں ہم موجود مختلف حل میں سے چنتے ہیں جو ہماری ذاتی اہمیت کی ہوا کرتی ہے۔ فیصلہ اورفیصلہ لینا آپس میں جڑے ہوئے عملیات ہیں۔ فیصلہ لینے میں ہمیں متبادل صورتوں میں سے چننا پڑتا ہے جو ان کی قیمت اورمناسب کا جائزہ لینے کے بعدکیا جاتا ہے۔ مثال کے طورپر اگرآپ کونفسیات یا معاشیات میں سے کسی کو گیارہویں درجہ میں رکھنے کے لئے چننا ہو توایسی صورت میں آپ کا فیصلہ آپ کی دلچسپی، مستقبل کے امکانات، کتابوں کی دستیابی، استادوں کی لیاقت وغیرہ پر مبنی ہوگا۔ آپ ان باتوں کا جائزہ اپنے بزرگوں سے باتیں کرکے اوراستادوں کی کچھ کلاسوں میں شریک ہوکرلے سکتے ہیں۔ فیصلہ لینا دیگر قسم کے مسائل کے حل سے مختلف ہوتا ہے۔فیصلہ لینے میں ہمارے سامنے مختلف تجاویز ہوتی ہیں اوراس میں سے کسی کو چننا ہوتا ہے۔ مثال کے طورپر اگرآپ کا کوئی دوست بیڈمنٹن کا ایک اچھا کھلاڑی ہے اوراسے صوبہ کی طرف سے کھیلنے کا موقع ملتا ہے۔ اسی وقت اس کا سالانہ امتحان بھی سامنے ہوتا ہے جس کے لئے اسے سخت محنت کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب اسے ان دونوں تجاویز میں سے ایک کو چننا ہوتا ہے یا توکھیل کے لئے مشق کرے یا امتحان کی تیاری۔ ایسی صورت میں اس کے فیصلہ مختلف ممکن حصولوں پر نہیں ہوگا۔

آپ دیکھیں گے کہ لوگوں میں ترجیح کی بنیاد پر اختلاف ہے۔ اس لئے ان کے فیصلے بھی مختلف ہوتے ہیں۔ حقیقی زندگی میں ہم جلد فیصلہ لیتے ہیں ا س لئے ہمیشہ یہ ممکن نہیں ہوتا کہ حالات کا پوری طرح جائزہ لے کر ہی فیصلہ کیا جائے۔

تخلیقی تفکیر کی نوعیت اورعمل (Nature and Proces of Creating Thinking)

آپ کو اس وقت یہ جان کرتعجب ہوگا کہ ایک شخص پہلی بار بیج کی تصویر، چکہ کی ایجاد اوردیواروں کی سجاوٹ وغیرہ جیسے عملوں کی فکر کرتا ہے۔ پرانے روزمرہ کے کاموں سے تشفی پاکر ایسے لوگ کچھ تخلیقی کام کے بارے میں فکر کرتے ہیں۔ایسے بےشمار لوگوں میں جن کی تخلیقی اہلیت کی وجہ سے سائنس اورتکنیک کا فروغ ہوا۔ جس کا ہم لطف اٹھارہے ہیں۔ موسیقی، تصویرکشی، شاعری اوردوسرے ہنر جن سے ہم لطف اندوز ہوتے ہیں، تخلیقی تفکیر کا ہی نتیجہ ہے۔

آپ نےA.D. Karveکے بارے میں ضرور سنا ہوگا جو ہمارے ملک کے ایک ماہرنباتات تھے جنہیں بغیر دھوئیں کا چولہا کی ایجاد کے لئے ایک اعلیٰ برطانوی توانائی انعام سے نوازاگیا۔ انہوں نے سوکھے ہوئے گنے کے پتوں کو ایک صاف ایندھن میں تبدیل کردیا۔ آپ نے درجہXIکا ایک طالب علم Ashish Panwarکا بھی نام سنا ہوگا۔Glasgowمیں منعقد پہلے بین الاقوامی Robotics Olympiadمیں ایک پانچ فٹ کا روبوٹ بنانے کے لئے اسے کانسہ کا تمغہ ملا۔ یہ کچھ مختلف شعبوں میں تخلیق کی مثالیں ہیں۔ دوسرے مختلف شعبوں میں تخلیق کی دیگر مثالوں کے بارے میں سوچنے کی کوشش کریں۔

یہ یادرکھنا ضروری ہے کہ تخلیقی تفکیر ہمیشہ غیر معمولی کاموں میں ہی ظاہر نہیں ہوتی۔کوئی تخلیقی مفکر ضروری نہیں کہ سائنس داں یا ہنر مندہی ہو۔ہم میں سے ہر ایک میں تخلیق کے جوہر موجود ہیں۔تخلیقی تفکیر کا استعمال تقریباً ہمارے سبھی عملوں کی مختلف سطحوں پر کیا جاسکتا ہے۔ یہ ہمارے مختلف عمل جیسے لکھنا، پڑھنا، کھانابنانا، کہانا سنانا، بات چیت کرنا، سوالات پوچھنا، کھیلناروز مرہ کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کرنا وغیرہ وغیرہ میں عیاں ہوسکتے ہیں۔ روز مرہ کی تخلیق کاایسا خیال جو کسی شخص کے انداز ادراک (Perception) سوچ وفکر اورمسئلہ کے حل وغیرہ میں عیاں ہوتی ہے۔ خاص ذہنی تخلیق ہوتی ہے جو غیر معمولی کامیابی کا شکل میں نمایاں ہوتی ہے۔

تخلیقی تفکیر کی نوعیت (Nature of Creative Thinking)

تخلیقی تفکیر دیگر تفکیر سے مختلف ہے کیونکہ اس میں نئے نئے خیالات کی تشکیل یا مسئلہ کےحل شامل ہوتے ہیں۔کبھی کبھی تخلیقی تفکیر کو فکر کے ایک نئے انداز یا مختلف تفکیر کے طرز پر سمجھاجاسکتا ہے۔ بہر حال یہ جاننا اہم ہے کہ نئے پن کے علاوہ، اصلیت بھی تخلیقی تفکیر کی ایک  اہم خاصیت ہے۔ ہر سال گھریلوسامان، گاریاں، ٹیلی ویژن وغیرہ کے نئے نئے ماڈل سامنے آتے ہیں۔ جو اصلی نہیں بھی ہوسکتے ہیں جب تک کہ ان میں کوئی بے نظیر(Unique) خاصیتیں نہ جوڑی جائیں۔ اس طرح سے تخلیقی تفکیر اصلی اوربے نظیر خیالات یا اس کے حل جو پہلے سے موجود نہ ہوں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ تخلیقی تفکیر ًBruner کے مطابق ’’بااثرحیرانی‘‘ ہے۔اگر خیال یا حل غیر معمولی ہوں تو محسوس کرنے والوں کے ردعمل فوری چونکا دینے والے ہوں گے۔

تخلیقی تفکیر کا دوسرا اہم معیار یا اصول کسی خاص موضوع پر ان کی معقولیت ہے۔ بغیر کسی مقصد کے صرف سوچنا اپنے طریقہ سے کچھ بغیر مقصد کے خیالات میں مشغول رہنا یا عجیب وغریب خیالات کی وضاحت کرنا وغیرہ کو تخلیقی تفکیر سمجھنا غلط ہے۔ تحقیقات کے ویسی تفکیر تخلیقی ہوا کرتی ہے جو حقیقت پر مبنی، معقول تعمیراتی اورسماج کے لئے قابل قبول ہو۔

 J.P.Guilterنے جو کہ تخلیقاتی تحقیق کے قائد میں سے ایک ہیں دوطرح کی تفکیر کی تجویز کی۔Convergent and Divergentتغیر اس تفکیر کی طرف نشاندہی کرتی ہے جو کسی ویسے مسئلہ کے حل میں درکار ہوتی ہے جس کے ایک ہی مناسب جواب ہوتے ہیں۔ ہمارا ازیں صحیح جواب کی طرف تغیر کرنا ہے۔ وضاحت کے لئے ذیل میں دئے گئے سوالات کو دیکھیں یہ شمار کے ترتیب پر معنی ہیں۔ جہاں آپ کو دوسرا شمار ڈھونڈنا ہے۔ صرف صحیح جواب کی امیدیں ہوتی ہیں۔

سوال: 3،6،9....... کے بعدکیا ہوگا؟

جواب: 12

اب آپ کچھ ایسے سوالات کے بارے میں سوچیں جن کے صحیح جواب ایک سے زیادہ ہوں۔ایسے کچھ سوالات ذیل میں دئے گئے ہیں۔

کپڑے کے مختلف استعمالات کیا ہیں؟

کس کرسی میں کس طرح کے سدھار کا آپ مشورہ دیں گے۔

(کوئی خاص کرسی یا اس کی تصویر دکھائی جاسکتی ہے) تاکہ یہ آرام دہ اورجمالیاتی طورپر خوش کن ہوسکے؟

اگراسکولوں میں امتحانات ختم کردئے جائیں توکیا ہوگا؟

اوپر کے سوالوں کے جواب کے لئے انحرافی تفکیر کی ضرورت پڑتی ہے، جو ایک کھلے نتیجہ والی تفکیر ہے جس میں ایک شخص اپنے تجربے کےمطابق کسی سوال یا مسئلہ کے مختلف جواب سوچ سکتا ہے۔ اس طرح کی تفکیر نئے اوراصلی خیالات کے وجود میںلانے میں مددکرتی ہے۔ انحرافی تفکیری صلاحیت میں عام طورسے روانی ،لچیلاپن، اصلیت اورتفصیل شامل ہوتے ہیں۔

روانی (Fluency) روانی دئے گئے کاموں یا مسائل کے لئے مختلف خیالات پیداکرنے یا کسی مسئلے کے حل کرنے کی صلاحیت ہے۔ ایک شخص جتنے زیادہ خیالات سامنے لاسکتا ہے، روانی میں اس کی صلاحیت اتنی ہی زیادہ ہوگی۔

41

تصویر5.8:  مختلف خیالات

لچیلا پن(Flexibility) تفکیر میں قسموں کو دیکھنا ہے۔ یہ تفکیر کی قسم کی نشان دہی کرتا ہے۔ یہ کسی شئے کی مختلف استعمال کی تفکیر ہوسکتی ہے۔ یا کسی تصویر کی مختلف وضاحت کی کسی کہانی کی یا مختلف حل مسائل کی تفکیر ہوسکتی ہے۔ مثال کےطور پر کاغذکی پیالی کے استعمال پر کسی کو یہ خیال ہوسکتا ہے کہ اسے ایک برتن کی طرح استعمال کیا جائے یا ایک گول نقشہ کھینچنے کے لئے استعمال کیاجائے۔

اصلیت(originality) کسی نئے تعلقات یا پرانے رشتوں کو نئے کے ساتھ جوڑکریا اس چیز کو مختلف نظریہ سے دیکھ کرخیالات کووجود میں لانے کی صلاحیت ہے جو غیر معمولی ہوا کرتی ہے تحقیقات سے یہ پتہ چلا کہ روانی اورلچیلاپن اصلیت کے لئے ضروری شرط ہے۔جتنے زیادہ اورمختلف خیالات وجود میں آئیں گے اتنے اتنی ہی زیادہ ان کے اصلی (originality) ہونے کی امیدیں ہوتی ہیں۔

وضاحت(Elaboration) ایک صلاحیت ہے جو کسی شخص کو تفصیل میں جانے کے مواقع فراہم کرتی ہے اورنئے خیالات کےنتائج اوراثرات مرتب کرنے میں مددگار ہوتی ہے۔

باکس 8.2 پہلوئوں کی تفکیر(Lateral Thinking)

 Edward de Banoنے لفظ Lateral Thinkingکا استعمالGuilfordکے انحرافی تفکیر کے طورپرکیا۔انہوں نے عمودی (retrical) تفکیر اورپہلوئوں(Lateral) تفکیر میں فرق بتایا۔ عمودی تفکیر ذہنی عمل ایک سمت میں آگے پیچھے نچلے اوراوپری سطح کے خیالات کے بیچ حرکت کرتا ہے جب کہ پہلو (Lateral) تفکیر میں مسئلہ کی تعریف اور ترجمانی کے لئے متبادل (Alternative) کی تلاش شامل ہوتی ہیں۔ انہوں نےکہا کہ ’’عمودی یعنی تفکیر ایک ہی چھید کی گہرائی سے کھدائی کرتا ہے یعنی ایک ہی سمت میں گہری فکرکرنا جب کہ پہلوئوں کی تفکیر کا دوسری جگہ پر چھید کی کھدائی کرنا۔De Banoنے بتایا کہ پہلو کی تفکیر ذہنی چھلانگ لگانے میں مدد اورتفکیر کی کئی تدبیروں کی تخلیق بھی کرسکتی ہے۔De Banoننے چھ (6)مختلف فکری طریقوں کی ایجادمختلف قسم کے فکر کو ابھارنے کے لئے کیا۔ فکری ضرورت کے مطابق آپ اس میں سے کوئی بھی طریقہ کا استعمال کرسکتے ہیں۔ ان طریقوں کا تعلق معلومات وحقیقت کو اکٹھا کرنے والوں کے بیچ ضرورت کے وقت اس کا استعمال کرنے سے ہوتا ہے۔ Red hatکا مطلب کسی شخص سے جذبات کا اظہار کرنا ہوتا ہے۔ Black hatکا تعلق فیصلہ سے ہوتا ہے۔ Yellow hatکا تعلق کیا کرنا اورکیوں یہ فائدے مند ہے سے ہوتا ہے۔ Green Hatکا تعلق تخلیق اورتبدیلی سے ہوتا ہے۔ Blue Hatکا تعلق فکری عمل سے ہوتا ہے نہ کہ خیالات سے۔ 6-Hatمختلف اندازِ نظر فراہم کرتے ہیں جس سےہم کسی مسئلہ کو دیکھتے ہیں یہ طریقہ انفرادی واجتماعی دونوں طرح سے استعمال کیا جاسکتا ہے۔



Divergent Thinkingمختلف خیالات کو پیداکرنے کی صلاحیتیں مختلف قسم کے نئے خیالات پیدا کرنے میں معاون ہوتی ہیں۔ جو دیکھنے میں غیرمتعلق ہوسکتے ہیں۔ مثال کے طورپر غذا کی پیداوار کوبڑھانے کے لئے کون کون سے مشترک خیالات ہیں؟ عام جواب بیج کی خاصیت، کھاد، سینچائی وغیرہ سے متعلق ہوگا۔اگر کوئی ریگستان میں کھیتی کرپروٹین پیداکرنے کی بات سوچتا ہے تویہ ایک دقیانوسی خیال ہوگا۔ یہاں غذا کی پیداوار اورریگستان کے بیچ تعلق قائم ہوتا ہے۔ عام طور سے ہم ان دونوں کو ایک ساتھ نہیں جوڑتے لیکن اگرہم اپنے دماغ کو اس طرح کے نئے پرانے خیالات کے لئے آزاد کرتے ہیں تومختلف خیالات کے ابھرنے کے امکانات ہوتے ہیں جن میں کچھ اصلی بھی ہوتے ہیں۔ آپ کو یہ ضرور جاننا چاہیے کہ ایک دوسرے کے ساتھ وابستہ برعکسی Convergent اور Divergentدونوں ہی تخلیقی فکر کے لئے ضروری ہیں۔

سرگرمی 8.4

ٹریفک کے انتظام؍آلودگی؍بدعنوانی؍ناخواندگی؍ غربت کے موضوعات اورمسائل سے متعلق سوچنے کے لئے مختلف طرح کے پانچ سوالات تیارکیجئے اوراپنی کلاس میں مل جل کر ان سوالات سے متعلق سوچیے اور بحث کیجئے۔


تخلیقی تفکیر کے عمل (Process of Creative Thinking)

حال کے سوالوں میں زیادہ سے زیادہ توجہ انسانی ذہن کے کام کرنے کے طریقوں پر دی گئی ہے۔تحقیقات سے یہ صاف ہوگیا ہے کہ نئے اورغیر معمولی خیالات کی تفکیر میں انسانی سوجھ بوجھ کچھ زیادہ شامل ہوتی ہے۔ نئے خیالات کے آنے کے قبل اوربعد کے کئی مرحلہ ہوتے ہیں۔ 

42

تخلیقی عمل پر ابتدائی نکتہ تفکیر کی ضرورت ہے۔ سبھی لوگ ایسی ضرورت نہیں محسوس کرتے کچھ لوگ خوشی اورصبر کےساتھ اپنے کاموں کو انجام دیں۔ نئے خیالات کے کھوج کی ضرورت اوراس کے حل کی ضرورت تب پڑتی ہے جب کسی مسئلہ کا احساس ہو اورمعلومات میں خلا(gap) ہو۔ تخلیقی تفکیری عمل کا آغاز مرحلہ تیاری سے ہوتا ہے جو موجودہ مسئلہ یا کام کو سمجھنے کے لئے ان کا جائزہ لینے کے لئے اورحالات ومعلومات کے پس منظر سے واقف ہونے کے لئے ضروری ہے۔ یہ عمل مختلف سمتوں میں زیادہ سے زیادہ فکر کرنے کا بھی اشتیاق اورجوش پیدا کرتا ہے۔ کوئی شخص کسی کام یا مسئلہ پرمختلف زاویہ اورنقطہ نظر سے غورکرتا ہے۔ یہاں انحرافی تفکیری صلاحیت جس کی بات چیت پہلے کی جاچکی ہے خیالات اورفکر کونئی سمت دینے میں اہم رول اداکرتی ہے۔

جب کوئی شخص متبادل خیالات پیدا کرناچاتا ہے اورکسی مسئلہ یا کام کو غیر معمولی پس منظر میں دیکھتا ہے توایسی صورت میں ایک رکاوٹ کا احساس ہوسکتا ہے۔ اُسے ناکامی کی وجہ سے جھنجھلاہٹ بھی ہوسکتی ہے اورکچھ وقفہ کے ئے اس کام کو چھوڑبھی دے سکتا ہے۔ یہ سینے(Incubation) کا مرحلہ ہوتا ہے۔ شخصیات سے یہ پتاچلا ہے کہ تخلیقی خیالات incubationکے دوران فوراً نہیں بھی ہوسکتا ہے جب کوئی شخص مسئلہ کا شعوری فکر نہ کررہا ہو لیکن شعوری کوششوں سے چھٹکارا بھی چاہتا ہے۔ایسا تب ہوسکتا ہے جب وہ شخص کوئی دوسرا کام کررہا ہوتا ہے۔ مثال کے لئے وہ سونے جارہا ہو، سوکراٹھا ہو، غسل کررہا ہو یا صرف چل رہا ہو۔ Incubationکے بعد چراغاں(Illumination) کا مرحلہ ہوتا ہے۔ آہا! یا مجھے مل گیا، محسوس کریں جب ہم عام طورپر تخلیقی خیالات کی جانب بڑھتےہیںیا اس سے باہر آتے ہیں اس وقت ایک جوش کا احساس ہوتا ہے۔ اور تخلیقی خیالات کے حاصل ہونے پر تشفی بھی ہوتی ہے۔ آخری مرحلہ تصدیق(verification) کا ہے جب کسی خیال یا حل کی قیمت اورمعقولیت کی جانچ اوراس کا فیصلہ ہوتا ہے۔ یہاں تغیری تفکیر کا رول معقول خیالات اوراس کے حل کے چننے میں ہوتا ہے۔


تخلیقی تفکیر کا فروغ (Developing Creative Thinking)

جیسا کہ پچھلے قطعہ میں بتایاجاچکا ہے کہ تخلیقی تفکیر کی قوت یا صلاحیت ہم سب میں موجود ہوتی ہے۔یہ چند باصلاحیت ہنرمندوں، سائنسدانوں یا دیگر مخصوص لوگو تک محدود نہیں ہے۔ تخلیقی تفکیر کے مظاہرے میں انفرادی فرق ہوسکتا ہے۔ حالاں کہ کسی شخص کے تخلیقی صلاحیت کے تعین میں وراثتی وجوہات کا اہم رول ہوتا ہے، ماحولیاتی وجوہات بھی ایسی صلاحیتوں میں کمی بیشی لاتی ہیں۔

ہندوستان سمیت مختلف ممالک میں تحقیقات سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ماحولیات کی وجہ سے اسکول کے بچوں کی تخلیقی تفکیر کے معیار میں کمی آئی ہے۔ دوسری طرف تحقیقات سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ کم سماجی۔ معاشی گروپ کے بچوں، اقلیت اورنسلی اوراقلیتی لوگوں کے بچوں میں اندرونی طورپر تخلیق پائی جاتی ہے۔ جس کو ابھی ابھارا نہیں جاسکا ہے اوریہ کہ وہ مختلف شعبوں میں تخلیقی کارکردگی کو انجام دیتےہیں۔ تحقیقات سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ ہم اپنی تخلیقی تفکیر کی صلاحیتوں کا بہترین استعمال مشق اورتربیت کے ذریعہ کرسکتے ہیں۔ ہم زیادہ دوراندیشی، لچیلے پن اورروزمرہ کے مسئلہ کا حل تخلیقی اورپراثرڈھنگ سے کرسکتے ہیں۔ تخلیقی تفکیر کا فروغ ہمارے نشوونما اورتکمیل کے لئے اہم ہے۔

تخلیقی تفکیر میں رکاوٹیں (Barriers of Creative Thinking)

تخلیقی تفکیر کے فروغ کے لئے پہلا قدم ان اسباب کو پہچاننا ہے جو تخلیقی اظہار کوروکتے ہیں اورپھر شعوری طورپر اس سے نجات پانے کی کوشش کرنا ہے۔ اس بات چیت کے دوران آپ ان طریقوں کا تجزیہ کرسکتے ہیں کہ آپ اپنے کاموں اور مسائل پر کس نظر سے سوچیں گے۔ تخلیقی تفکیر کی رکاوٹوں کی درجہ بندی، ......، ادراکی، مہیج، جذباتی اورتہذیبی بلا کس کے طرز پر کی جاسکتی ہے اگرچہ روز مرہ کے بہتر اور کارگر کاموں کے لئے زیادہ پڑھنے کی ضرورت ہے۔ خصلت کی وجہ سے خاص طور سے تفکیر کو متاثر کرنے کی فطرت تخلیقی وضاحت پر اثرڈال سکتے ہیں۔ ہم کسی شئے کی تفکیر اورادراک روایتی طرز پر کرنے کے اتنے عادی ہوتے ہیں کہ اسے نئے انداز سے فکر کرنا ہمارے لئے مشکل ہوجاتا ہے۔ اس کا تعلق ہمارے جلد نتیجہ نکالنے کی فطرت، مسئلہ کو نئے نکتہ نظر سے نہ دیکھنا، عام طریقوں سے کسی کارگزاری پر مطمئن رہنا، روایتی خیالات کو بدلنے کی خواہش نہیں رکھنا، فوری لئے گئے فیصلہ کو نہیں بدلنے سے بھی ہوتا ہے۔ ادراکی رکاوٹ ہمیں نئے اوراصلی خیالات کی طرف جانے سے روکتا ہے، سرگرمی 3.8 میں دئے گئے نکتوں کو ملانے و مسئلہ کویاد کرنے کی کوشش کریں جہاں آپ کو سبھی 9نکتوں کو چارسیدھی لکیروں سے جوڑنے کا کام کاغذ پر سے پینسل اٹھائے بغیر کرنا ہے۔ مسئلہ کا حل حاشیہ کے پارتھا، ہم نے فرض کرلیا کہ حاشیہ موجود ہیں جب کہ وہ نہیں تھا، بہت سے لوگ9نکتوں سے بنائے گئے چوکور کے اندرہی مسئلہ کا حل تلاشنے کی کوشش کریں گے۔ اس طرح کام کرنے کی ہدایت نہیں دی گئی تھی نکتوں کو ملانے کا مسئلہ خودحدوں اورہماری نافذ کی گئی مجبوریوں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

تحریک(Motivation) اورجذباتی رکاوٹیں بھی تخلیقی تکفیر میں مداخلت کرتی ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تخلیقی تفکیر صرف ایک وقوفی عمل نہیں ہے۔ جذبہ کا فقدان، ناکامی کاڈر، فرق ہونے کا ڈر، بے وقوف بننے کا ڈر، اپنے بارے میں غلط اورناممکن طورپر سوچنا، منفی سوچ وغیرہ تخلیقی تکفیر کوکمزور کرسکتی ہیں۔ مثال کے لئے کچھ لوگوں میں جذبہ کی کمی ہوسکتی ہے۔ جس کی وجہ سے وہ زیادہ کوشش نہیں کرپاتے۔ ایک انسان یہ سوچ سکتا ہے کہ وہ آگے کچھ نہیں کرسکتا۔ان لئے مسئلہ کو بیچ میں چھوڑسکتا ہے یافوری طور پر آئے خیالات کو ہی آخری اورکلی سمجھ سکتا ہے۔ کچھ لوگوں میں مثال کے طورپر اپنے بارے میں منفی خیالات ہوسکتے ہیں وہ یہ سوچتے ہیں کہ وہ کسی کام کو انجام دینے کے لائق نہیں ہیں۔ یہ جان کر آپ میں ایک جوش پیدا ہوسکتا ہے کہThomas Alva Edisonجس نے بلب کا ایجاد کیا اس نے سینکڑوں ناکام تجربے سالوں تک کئے اورتب بلب ایجاد ہوا۔ تاہم کچھ لوگ مثال کے طورپر اپنے بارے میں غلط سوچ رکھتے ہیں۔ وہ سوچتے ہیں کہ ان میں کسی کام کو کرنے کے لئے اہلیت نہیں ہے۔

تہذیبی رکاوٹیں بہت زیادہ روایتوںپر چلنے امیدیں، اطاعت کے دبائو اوردقیانوسی خیالات سے تعلق رکھتی ہیں۔سماجی وجود کے لئے اطاعت توکسی حد تک ضروری ہے لیکن ضرورت سےزیادہ روایتوں، رواجوں اورطورطریقہ کی اطاعت تخلیقی تفکیر میں رکاوٹ پیدا کرسکتی ہے۔تہذیبی رکاوٹ دوسروں سے مختلف ہونے کا خطرہ اورپرانی حالت میں رہنے کی فطرت، معیاری باتوں کو اپنانے کی خواہش، اپنی حفاظت، سماجی دباوٴ، دوسروں پر انحصار وغیرہ کی وجہ سے پیداہوتی ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ ہر انسان میں تخلیقی صلاحیت ہوتی ہے اوران کی تخلیقی تفکیر کے اظہار میں فرق ہوتا ہے جس کے لئے ہمیں تخلیقی صلاحیتوں کو بچانا اورتمام رکاوٹوں کو دورکرنے کی ضرورت ہے۔

سرگرمی 5.8

کچھ بیانات پر غورسے سوچئےجو اکثر ہماری تخلیقی خیالات کو ابھارنے یاروکنے کا کام کرتی ہیں وہ کچھ اس طرح کی ہوتی ہیں۔ ’’اس کی کوئی منطق نہیں ہے، کم وقت میں زیادہ فکر کرنا ہے وغیرہ اور مثبت (Positive) بیانات جیسے، کیا دوسرا کوئی راستہ ہے؟ ’دوسرا کون‘؟ وغیرہ۔ ایسے خیالات کی فہرست تیار کیجئے۔


تخلیقی تفکر کے لئے ترکیبیں اورحکمت عملی (Strategies for Creative Thinking)

تخلیقی لوگوں کی خصوصیات پر کی گئی تحقیقات سے یہ پتا چلا ہے کہ کچھ مخصوص نقطہ نگاہ، طبیعت اورہنر مندی ہوتی ہے جو تخلیقی تفکیر میں مدد کرتی ہے۔ یہاں کچھ ترکیبیں دی گئی ہیں جو آپ کی تخلیقی تفکیر کی صلاحیتوں اورہندمندیوں کو بڑھانے میں آپ کی مددکرسکتی ہیں۔

اپنے آس پاس کی باتوں، مناظروں، حالات کو سمجھنے اوراس پر عمل کرنے کے لئے باخبر اورحساس ہونا۔مسئلہ، بھولی ہوئی معلومات، دشواریاں، درار، کمیاں وغیرہ کی شناخت کرنا جو دوسرے نہیں کرسکتے ہیں۔ اس کے لئے زیادہ پڑھنے کی عادت، معلومات سے وابستہ ہونا اورسوال پوچھنے کا ہنر پیدا کرنا، غیر واضح حالات یا شئے کے بارے میں غورسے سوچنا۔

موجودہ کام یا حالت سے متعلق زیادہ سے زیادہ خیالات، ردعمل، مسئلہ کا حل یا مشورہ بنائیں تاکہ آپ کی فکرمیں اضافہ ہو سکے۔ اپنی تفکیر میں لچیلے پن کو بڑھانے کے لئے موجودہ کام یاحالات کو مختلف نقطۂ نظر سے دیکھنے کی کوشش کریں۔ مثال کے طورپر کسی کمرہ میں فرنیچر کے انتظام کے متبادل صورتوں پر عورکرنا، تاکہ کمرہ میں زیادہ جگہ نکل سکے اورمختلف لوگوں سے بات چیت کرسکیں، کسی نصاب، تعلیم کے فائدے اوراخراجات پرغور، غصہ میں آنے سے نپٹنے اورلوگوں کی مدد کرنے کے لئے تفکیر پر غوروغیر ہوسکتا ہے۔

Osbornکے ذہنی جوش کی ترکیب کا استعمال کچھ کھلے ہوئے حالات میں خیالات کی روانی اورلچیلے پن کو بڑھانے کے لئے کیا جاسکتا ہے۔ ذہنی جوش ان اصولوں پر مبنی ہے جن کے مطابق خیالات کی پیداوار کوان کی اہمیت سے الگ رکھنا چاہیے۔ بنیادی تصوریہ ہے کہ زمین کو آزادانہ طورپرفکر کرنے کی اجازت ہونی چاہیے اوران کی اہمیت کا جائزہ لینے کی فطرت سے اس وقت بچنا چاہیے، یعنی تصورات کو اندازے پر فوقیت دینی چاہیے جب تک کہ خیالات کا بننا ختم نہ ہو جائے۔اس کی وجہ سے خیالات میں روانی آتی ہے اورمتبادل صورتیں جمع ہوتی رہتی ہیں۔ ذہنی جوش کا مشق اپنے گھروالوں یا دوستوں کے ساتھ کے ذہنی مشق سے منسلک کھیل کے ذریعہ بھی کیا جاسکتا ہے۔ لیکن اس کےاصولوں کو دھیان میں رکھنا چاہیے۔ جانچ فہرست اورسوالات (Checklist and Questions)اکثر ہمارے خیالات کو ایک نیا موڑدیتے ہیں جیسے اس کے بعدکیا؟ دوسرا کون؟ کس طرح سے یہ ہوکستا ہے؟ اس شئے کا دوسرا استعمال کا ہوسکتا ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔

* نئے طریقہ سے تفکیر کی عادت کا فروغ اس میں روانی بڑھاکر مشترکہ سوچ کی مشق، تعلقات کا پتہ کرنا، نئے پرانے خیالات کو ملاکر کیا جاسکتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ تخلیقی فکر کرنے والے نئے خیالات نہیں لاسکتے لیکن خیالات کی نئی اتصال  (Combination) پیداکرسکتے ہیں۔ یہ فکری زنجیر اورخیالات کی باہمی زرخیزی ہے جو کچھ نئی چیز سامنے لاسکتی ہے۔Rocking chair‘ کی تجویز کرسیوں کے اتحاد اوردیکھا دیکھی کی وجہ سے مکمل ہوسکی۔

مشق کی وجہ سے غیر معمولی اورناامیدی والے تعلقات بنتے ہیں۔ مختلف فکر کو ایک ساتھ رہنے کی اجازت دیتے ہیں۔بظاہر کہ برعکس مسئلہ کا حل تلاش کرتےہیں جو مسئلہ کا کوئی نیا حل دستیاب کرسکتا ہے۔

زیادہ سے زیادہ ایسے کاموں میں خودکومشغول رکھنا جس میں خیالات اوراصلی تفکیر کی ضرورت ہوتی ہے نہ کہ دلچسپی اورعادت کے مطابق روز مردہ کا کام۔ یہ گھر کی سجاوٹ پرانی چیزوں کو ٹھیک کرنا، بیکار پڑی چیزوں مختلف استعمال، نامکمل خیالات کو منفرد (unique) طریقہ سے مکمل کرنا، کہانیوں یا شاعری کونیا انداز دینا، الجھنوں، مشکلات کو بڑھانا، غیر واضح مسئلہ کا حل وغیرہ وغیرہ ہوسکتا ہے۔

کبھی بھی سب سے پہلے آئے خیال یا حل کو قبول نہ کریں۔ بہت سے دوسرے خیالات اس وجہ سے ختم ہوجاتے ہیں کیونکہ ہم انہیں نامنظور کردیتے ہیں یہ سوچ کر کہ وہ خیال بے وقوفی کا ہوسکتا ہے۔ پہلے آپ کو کئی امکانی حل اورخیالات پیدا کرنے چاہئیں اور تب اس میں سے سب سے بہتر کوچن لینا چاہیے۔

کسی مسئلہ کے حل سے متعلق فیصلہ پر دوسروں سے رائے لینا جواس میں ذاتی طورپر شال نہ ہوں۔ یہ فکر کرنے کی کوشش کریں کہ آپ کے مسئلہ کے لئے کوئی کیا حل پیش کرتا ہے۔

اپنے خیالات کوincubateہونے کا موقع دیں۔ خیالات کے پیداہونے اوران کے جائزہ لینے کے بیچ کے وقفہ تک انہیں سینے کا موقع دیں جس کی وجہ سے’’آہا‘‘ (Aha) کا تجربہ سامنے آسکتا ہے۔ کبھی کبھی خیالات درخت کی شاخوں کی طرح جڑجاتے ہیں۔ یہ بہتر ہوگا کہ اپنے فکر کا نقشہ بنائیں تاکہ آپ ہر ایک شاخ تک اسے مکمل کرنے کے لئے پہنچ سکیں۔

فوری انعام اورکامیابی کی لالچ سے بچیں اورناکمی اورمایوسی کو جھیلیں، خودجائزہ لینے کی عادت ڈالیں، فیصلوں کے لئے آزادانہ فکر کو فروغ دیں، مختلف چیزوں اوروسائل کی مدد کے بغیر چیزوں کا حل تلاش کریں۔

وجوہات اوراثرات کو دھیان میں رکھتے ہوئے آگے بڑھ کر فکر کریں، ایسی باتوں کی پیشین گوئی کریں جو کبھی نہیں ہوئی ہوں۔ جیسے مان لیں کہ وقت پیچھے کی طرف جائے توکیا ہوگا؟اگر کوئی سفرنہ ہو توکیا ہوگا؟ وغیرہ۔

مسئلہ سے متعلق اپنے تحفظ سے بھی باخبررہیں۔ جب ہمیں کسی مسئلہ سے خطرہ محسوس ہوتا ہے تب ہم تخلیقی خیالات کی فکر شائد نہیں کرپاتے ہیں۔

آخر میں خوداعتماد اورپرامیدرہیں۔ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کوکم نہ سمجھیں۔ اپنی تخلیقات کے تجربے کی خوشی کو محسوس کریں۔

فکر اورزبان (Thought and Language)

اب تک ہم نے تفیکر کی نوعیت اورمطلب کےساتھ ساتھ کسی طرح یہ خیالات اورتصورات پر مبنی ہے کہ بار میں تبادلہ خیال کیا۔ ہم نے فکر کے مختلف عملوں پر بھی بات چیت کی۔ پورے مذاکرات میں کیا اپنے محسوس کیا کہ اپنی تفکیر کے اظہار کے لئے الفاظ اورزبان ضروری ہے۔یہ قطعہ زبان اورفکر کے درمیان تعلقات کی جانچ کرے گا: یہ کہ زبان وفکر کو متعین کرتی ہے یا فکر وزبان کو متعین کرتی ہے اوریہ کہ فکر اورزبان کی مختلف نقطۂ آغاز(origin) ہے۔ اب ہم ان تینوں نکتہ نظر کو تفصیل میں دیکھیں گے۔

زبان بطورفکر کے تعین کنندہ کی حیثیت سے (Language as Determinant of Thought)

ہندی اوردوسری ہندوستانی زبانوں میں ہم مختلف خونی رشتوں کے لئے بے شمار الفاظ کا استعمال کرتے ہیں۔ہمارے پاس ماں باپ، باپ کا بڑا بھائی، باپ کا چھوٹا بھائی، ماں کی بہن کا شوہر، باپ کی بہن کا شوہروغیرہ وغیرہ کے لئے مختلف الفاظ ہیں۔ ایک انگریز سارے خونی رشتوں کے لئے لفظ Uncleکا استعمال کرتا ہے۔ انگریزی زبان میں رنگوں کے لئے درجنوں الفاظ ہیں جب کہ کچھ قبائلی زبانوں میں رنگوں کے لئے صرف دو سے چار الفاظ تک ہی ہیں۔ کیا ایسے اختلافات ہماری فکر پر اثرڈالتے ہیں؟ کیاایک ہندوستان بچہ انگریزی زبان بولنے والے بچہ کے مقابلے میں مختلف خونی رشتوں میں فرق انسانی سے کرپاتا ہے؟ کیا ہمارا عمل تفکر اس بات پر منحصر کرتا ہے کہ کس طرح ہم اسے اپنی زبان میں بیان کرتے ہیں؟

Benjamin Lee Whorfکا یہ نظریہ تھا کہ زبان فکر کے مواد کوطے کرتی ہے۔اس نظریہ کو (Linguistic Relativity Hypothesis) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اپنی سخت شکل میں یہ مفروضہ بتا تا ہے کہ اورکس طرح انسان کی فکر زبان اورزبانی درجات جس کا وہ استعمال کرتا ہے کو متعین کرسکتی ہے۔جسے (Linguistic determinism) کہا جاتا ہے۔بہر حال تجربات اورثبوت یہ بتاتے ہیں کہ یہ ممکن ہے کہ فکری خوبی کی سطح سبھی زبانوں میں یکساں ہو جو زبانی درجات اوربناوٹ پر منحصر کرتی ہے۔ کچھ فکر ایک زبان میں کسی دوسری زبان کے مقابلہ میں آسان ہوسکتی ہے۔

سوچ بطورزبان کے تعین کنندہ کے (Thought as Determinant of Language) 

مشہور Swissماہر نفسیات  Jean Piagetکا یقین تھا کہ فکرنہ صرف زبان کو متعین کرتا ہے بلکہ اس سے پہلے بھی آتا ہے۔ Piagetکی دلیل تھی کہ بچے پختہ فکر کے ذریعہ دنیا کی اندرونی نمائندگی کی تشکیل دیتے ہیں۔ مثال کے طورپر جب بچے کسی چیز کو دیکھتے ہیں اوربعدمیں اس کی نقل کرتے ہیں(اس عمل کو نقل کہتے ہیں) اس میں بھی تفکیر ہوتی ہے۔ جس میں زبان شامل نہیں ہوتی۔ دوسروں کی کارکردگی کا بچہ کا مشاہدہ کرنے اور اس کی نقل کرنے میں بلاشبہ تفکیر شامل ہوتی ہے۔ لیکن زبان نہیں۔ زبان فکر کی ایک گاڑی ہے۔ زبان بچوں کی علامتی تفکیر کو متاثر کرسکتی ہے۔ لیکن فکر کے آغاز کےلئے یہ ضروری نہیں ہے۔ Piagetکا یہ ماننا تھا کہ اگرچہ زبان بچوں کو پڑھائی جاسکتی ہے، الفاظ کی سمجھ کے لئے ان کے خیالات کی معمولات ضروری ہے( جو تفکیر ہے) اس طرح زبان کو سمجھنے کے لئے فکر بنیادی اورضروری ہے۔

فکر کی زبان کی ابتداء (Different Origins of Language of Thought)

روسی (Russian) ماہرنفسیاتLev Vyogostsky  نے دلیل دی کہ 2 سال کی عمر تک بچہ میں فکر اورزبان الگ الگ ابھرتے ہیں اس کے بعدیہ ایک دوسرے کے ساتھ مل جاتے ہیں۔ 2سال سے قبل فکر میں زبان نہیں ہوتی اور زیادہ تراسے عملی طرز پر محسوس کیاجاتا ہے۔ (Piaget's Sensory Motor Stage) بچے کے منھ سے نکلی آواز میں یاٹوٹے پھوٹے الفاظ خودفکر سے زیادہ اس وقت ہوتی ہےجب وہ کسی مشکل یا تکلیف میں روتا ہے۔ 2سال کا یہ بچہ زبانی اظہار کرتاہے اوراس کی بولی میں معقولیت دیکھنے کو ملتی ہے۔ یہاں بچہ فکر کے تجزیئے کے بغیر آواز کی بولی کے ذریعہ کرسکتا ہے، ان کا یقین تھا کہ اس وقفہ میں زبان کا فروغ اورتفکیر ایک دوسرے پر منحصرکرنے لگتی ہے۔ خیالاتی تفکیر کا فروغ اندرونی زبان پر منحصر کرتا ہے اوراندورنی زبان تفکیر پر منحصر کرتی ہے۔ جب تفکیر کی گاڑی غیر زبانی ہوتی ہے تب فکر کا استعمال بغیر زبان کے ہوتا ہے، جیسے دیکھنے اورحرکت سے متعلق فکر۔زبان کا استعمال بھی بغیر فکر کے ہوتا ہے جب احساسات کا اظہار یا خوشی کا تبادلہ خیال کرنا ہو مثال کے طورپر سلام علیکم! کیسے ہیں آپ؟ بہت اچھا، میں اچھا ہوں‘۔ جب دوکام ساتھ ساتھ ہوتے ہیں توانہیں زبانی فکر عقل مندی کی باتوں کے لئے ساتھ ساتھ استعمال کیاجاتا ہے۔

زبان کا فروغ اورزبان کا استعمال

 (Development of Language and Language Use)

زبان کی نوعیت اورمطلب (Meaning and Nature of Language)

گذشتہ حصے میں ہم نے زبان اورفکر کے بیچ کے تعلقات پر تبادلہ خیال کیا۔ اس حصہ میں ہم یہ دیکھیں گے کہ کس طرح مختلف عمر کے لوگ زبان کو حاصل کرتے اوراس کا استعمال کرتے ہیں۔ایک لمحہ کے لئے سوچیں! کیا ہوتا ہے اگر آپ کے پاس اپنی باتوں کے اظہار کے لئے زبان نہیں ہوتی؟ زبان کی غیر موجودگی میں آپ اپنے احساسات اورخیالات کا نہ توبیان کرسکیں گے نہ ہی آپ کو دوسروں کی تفکیر اوراحساسات کا اندازہ لینے کا موقع ملے گا۔ ایک بچہ کی طرح جب آپ نے بولنا شروع کیا ما....ما.....ما.....۔‘ تواس نے نہ صرف آپ کو اسے دوہرانے کا حوصلہ ملا بلکہ آپ کے والدین اوردیگر گھروالوں کو ایک خوشی کا موقع ہوا، آہستہ آہستہ آپ نے ماں اور پاپا بولنا سیکھا، اورکچھ دنوں کے بعد دو یا زیادہ لفظوں کو ملا کراپنی ضرورت، فکر اوراحساس کی باتیں بولنا سیکھیں۔ آپ نےحالات کے مطابق الفاظ اوراس کو جملوں میں استعمال کو سیکھا۔ شروع میں آپ نے گھریو زبان بولنا سیکھی(عام طور سے مادری زبان) اوراسکول جانے پر تکلیف والے الفاظ کی ہدایات سیکھیں جو مادری زبان سے مختلف ہوتی ہیں اوراس طرح اونچے درجہ اوردوسری زبانیں آپ نے سیکھیں۔ اگرآپ مڑ کر دیکھیں توآپ محسوس کریں گے کہ آپ کا سفر’’ما،ما‘‘ کہنے سے شروع ہوکر ایک سے زیادہ زبانوں میں مہارت حاصل کرنے تک رہا، جو اپنے آپ میں دلچسپ بات ہے۔ اس حصہ میں ہم  زبان کے حاصل کرنے کی اہم خصوصیات کو بتائیں گے۔

آپ ساری زندگی زبان کا استعمال کرتے ہیں، اب آپ اس کی تعریف بتانے کی کوشش کریں کہ یہ دراصل کیا ہے جس کا آپ استعمال کرتے رہے ہیں۔ زبان ایک نظامِ علامت ہے جو مخصوص اصولووں کی بنیاد پر منظّم ہیں جس کا استعمال ہم ایک دوسرے سے رابطہ قائم کرنے میں کرتے ہیں۔ آپ پائیں گے کہ زبان کی تین بنیادی خصوصیات ہیں (الف)علامت کی موجودگی (ب)علامتوں کو منظّم رکھنے کے اُصول۔ اور(ج)رابطہ۔ یہاں ہم ان تینوں خصوصیات پرتبادلہ خیال کریں گے۔

زبان کی پہلی خاصیت ہے کہ اس میں علامتیں شامل ہوتی ہیں۔ علامتیں کسی چیز یا کسی انسان کی نمائندگی کرتی ہیں۔ مثلاً جہاں آپ رہتے ہیں اس جگہ کو ’گھر‘کہا جاتا ہے۔ وہ جگہ جہاں آپ پڑھتے ہیں، اسے ’اسکول‘ کہتے ہیں۔ جو چیزیں آپ کھاتے ہیں اسے ’غذا‘ کہا جاتاہے۔ گھر،اسکول، غذا اوردوسرے بے شمار الفاظ اپنے آپ میں کوئی معنی نہیں رکھتے۔ جب ان الفاظ کوکسی شئے یا واقعہ سے جوردیاجاتا ہے تویہ بامعنی ہوجاتے ہیں اورہم ان چیزوں؍واقعہ وغیرہ کی پہچان کرنے اورسمجھنے لگتے ہیں۔ علامتوں کا استعمال ہم تفکیر کے وقت کرتے ہیں۔

زبان کی دوسری خاصیت یہ ہے کہ اس میں کچھ اصول شامل ہوتے ہیں۔ جب دو یا زائدالفاظ کو ملاتے وقت ہم عام طور سے ایک خاص اورمقبول ترتیب کواپناتے ہیں، مثلاً ایک شخص یہی کہے گا کہ ’’میں اسکول جارہا ہوں‘‘ نہ کہ ’’اسکول ہوں جارہا میں‘‘۔

زبان کی تیسری خاصیت یہ ہے کہ اس کا استعمال اپنے فکر،خیالات، مقصد، جذبات دوسروں کوبتانے کے لئے کیا جاتا ہے۔ بہت سے موقع پر اپنے جسم کے حصوں کے ذریعہ ہم اپنی باتوں کو بتادیتے ہیں جسے اشارہ یا اندازِنشست کہا جاتا ہے۔ اس طرح کے رابطہ کو غیر زبانی رابطہ کہا جاتا ہے، کچھ لوگ جو زبانی باتیں نہیں کرسکتے جیسے کان اورزبان سے معذور لوگ نشانوں کی مدد سے رابطہ بناتے ہیں۔ نشانی زبان بھی زبان کی ایک شکل ہے۔

زبان کا فروغ (Development of Language)

زبان ایک پیچیدہ نظام ہے اورانسان کے لئے منفرد (unique)یعنی صرف انسان ہی میں پائی جاتی ہے۔ ماہرنفسیات نے نشانی زبان، علامتوں کا استعمال، بن مانس، سمندری مچھلیوں(Dolphin) اورطوطوں وغیرہ کو پڑھانے کی کوشش کی، مگر یہ دیکھا گیا کہ انسانی زبان جانوروں کی زبان سیکھنے والی زبانوں سے زیادہ پیچیدہ، تخلیقی اور بے ساختہ نظام رابطہ ہے۔دنیا کے تمام زبانوں میں جسے بچے اپنے اپنے ماحول میں سیکھتے ہیں کافی باقاعدگی پائی جاتی ہے۔ جب آپ کسی بچہ کا انفرادی طور پرمقابلہ کرتے ہیں، توپاتے ہیں کہ ان کے زبان سیکھنے کی رفتار اوراس کی قبولیت میں فرق ہے۔ لیکن جب آپ دنیا کے تمام بچوں کی زبان سیکھنے پر عام طور سےنظرڈالیں توپاتے ہیں کہ ایک خاص طریقہ سے تقریباً سبھی بچے زبان سیکھنے کے سفر سے لے کر ماہرزبان تک کا سفر طے کرتے ہیں، ذیل میں پیش کئے گئے کچھ مرحلوں کے ذریعہ زبان کا فروغ ہوتاہے۔

ایک نوزائیدہ بچہ ورایک شیرخوارطفل مختلف قسم کی آوازیں نکالتاہے جو رفتہ رفتہ الفظ میں تبدیل ہوجاتی ہیں۔ کسی بچہ کی پہلی آواز اس کا رونا ہوتا ہے۔ شروع میں رونے میں کسی فرق کا پتہ نہیں چلتا تھا اورسبھی حالات میں یہ ایک ہی جیسا لگتا تھا۔ رفتہ رفتہ رونے کے طریقہ میں، اس کی آواز اوررفتا میں فرق آتا جاتا ہے، جس کی وجہ سے مختلف حالات جیسے بھوک، تکلیف اورنیند وغیرہ کا اندازہ ہونے لگتا ہے۔ رونے کی یہ مختلف آوازیں رفتہ رفتہ معنی خیز ہونے لگتی ہیں (جیسے خوشی کے اظہار کے ئے اَ،آ،اُو،اُوو، وغیرہ)

تقریبا6 مہینہ کی عمر میں بچہ ببلنگ مرحلہ (Babbling Stage) میں داخل ہوجاتا ہے۔ اس میں زیادہ وقت تک مختلف قسم کی   Consonantاور Vowelآوازیں دہرائی جاتی ہیں (مثلاب دا، با، وغیرہ)تقریباً9 مہینہ کی عمر میں یہ آوازیں کچھ واضح اورصاف ہو جاتی ہیں اورایک قطار میں سننے کو ملتی ہیں جیسے دادا، دادا، دادا جس میں ایک ہی لفظ باربار دہرایا جاتا ہے۔ اسے Echolaliaکہا جاتا ہے جب ابتدائی Babblingبے ترتیب اوراچانک ہوتی ہیں تو بعدوالیBabblingبڑی آوازوں کی طرح ہوتی ہیں۔ جب بچے 6 مہینہ کے ہوجاتے ہیں توان میں کچھ الفاظ کی سمجھ آجاتی ہے۔ تقریباً اک سال کی عمر میں زیادہ تربچے ایک لفظ مرحل (one word stage) میں داخل ہوجاتے ہیں۔ ان کے پہلے لفظ میں ایک حرف ہوتا ہے ما یا دا،جو ایک مثال کے طورپر ہے۔ رفتہ رفتہ وہ ایک یا زیادہ الفاظ میں داخل ہوجاتے ہیں جو مل کر ایک جملہ بناتے ہیں۔ انہیںholophrasesکہا جاتا ہے۔ جب وہ 20-18 مہینہ کے ہوتے ہیں تو دولفظ مرحلہ (Two word stage) میں داخل ہوتے ہیں، اس مرحلہ پر آواز Telegraphic Speechکی طرح ہوتی ہے، ٹیلی گرام کی طرح (داخلہ ہوا، روپیہ بھیجو) اس میں زیادہ تر NounsیاVerbsہوتے ہیں۔ دوڈھائی سال کے بعدبچہ کی زبان ان اصولوں پر جواُسے سننے کو ملتے ہیں، متوجہ ہوتی ہے۔

زبان کیسے سیکھی جاتی ہے؟ آپ کو ضرور تعجب ہوگا کہ ہم بولنا کیسے سیکھتے ہیں؟ نفسیات میں دیگر مضمونوں کی طرح زبان کے بارے میں بھی یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ کیا کارکردگی کی طرح یہ بھی وراثتی خصوصیات (فطرت) یا ترتیب کے اثرات(تربیت)کے نتیجہ پر مبنی ہوتا ہے۔زیادہ ترماہرنفسیات نے یہ تسلیم کیاکہ زبان کے سیکھنے میں فطرت اورتربیت دونوں اہم ہیں۔

B.F. Skinner کا ماننا تھا کہ جس طرح سے جانور (باب 6 میں سکھنے کو دیکھئے) بٹن کو دبانا سیکھتے ہیں اسی طرح زبان بھی سیکھی جاتی ہے۔ Behaviouristکے مطابق زبان کی ترقی سیکھنے کے اُصولوں کو ہی اپناتی ہیں۔ جیسے تعلقات (بوتل دیکھ کر بوتل لفظ سمجھنا) نقل (بڑوں کے استعمال کرنے والا لفظ، لیونل) اورمضبوطی دینا (بچہ کا صحیح لفظ نکالنے پر مسکرانا یا خوش ہونا) اس بات کے بھی ثبوت ہیں کہ بچے ایسی بھلی آوازیں نکالتے ہیں جو ماں باپ کی زبان کے موافق ہوتی ہے اورایسا کرنے پر انہیں (بچوں کو) مضبوطی بھی ملتی ہے۔ شکل دینے کے اصول کی بنا پرموافق رد عمل کا باربار اندازہ ہوتا ہے تاکہ بچے اوربڑے دونوں آخر میں وہ باتیں دہراتے ہیں۔ تلفظ میں علاقائی فرق یہ بتاتا ہے کہ کس طرح سے مختلف طریقوں کو مختلف علاقوں میں مضبوطی ملتی ہے۔


باکس 8.3   دوزبانی لسانیت اورکثیر زبانی لسانیت (Bilingualism and Multilingualism)

دوہری زبان کسی دوزبانوں میں رابطہ کرنے کی مہارت کی طرف اشارہ کرتا ہے دو سے زیادہ زبانوں کے سیکھنے کوکثیر زبان کہا جاتاہے۔ لفظ مادری زبان کی تعریف مختلف اندازمیں کی گئی ہے جیسے کسی کی دیسی زبان بھی کہتے ہیں۔ اس میں کوئی شخص پیدائش کی جگہ سے باتیں کرتا ہے، اس زبان کو عام طور پر گھر میں ہی بولاجاتا ہے، اس زبان میں ماں باتیں کرتی ہے وغیرہ۔ عمومامادری زبان کو ایک ایسی زبان کی طرح دیکھا جاتا ہے جس کا لگاوٴ جذبات سے ہوتا ہے۔ انسان کثیرمادری زبان سیکھ سکتا ہے۔ ہندوستانی سماج نچلے طبقہ کی... زبان کے پس منظر میں دیکھا جاتا ہے۔ جو دوہری؍کثیر زبان کو انفرادی اورسماجی سطح پرایک خاصیت مانتی ہے۔ زیادہ ترہندوستانی زندگی کہ مختلف شعبوں میں کام کاج کے لئے ایک سے زیادہ زبانوں کا استعمال کرتے ہیں۔ اس طرح کثیر زبان یہاں ایک طرز زندگی ہے۔ تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ دوہری؍ کثیر زبان بچوں کے وقوفی،.... اورتعلیمی صلاحیتوں میں ضافہ کرتی ہے۔



ماہرلسانیات Noam Chomskyنے زبان کی ترقی کے لئے ایک گھریلو مسئلہ پیش کیا۔ ان کے مطابق جس رفتار سے بچہ الفاظ اورگرامر بغیر پڑھے سیکھتے ہیں اس کی وضاحت سیکھنے کے اصولو ں کی بنیاد پرنہیں کی جائے گی۔ بچے ایسے جملوں کی تخلیق بھی کرتے ہیں جو انہوں نے کبھی نہیںسنا اورنہ ہی نقل کرسکتے ہیں۔ ساری دنیا کے بچو ںکے ساتھ ایک ایسا نازک دورآتا ہے۔ وہ دور جس میں وہ سیکھتے ہیں اگروہ کامیابی کے ساتھ کچھ سیکھتے ہیں تووہ زبان سیکھتے ہیں۔ ساری دنیا کے بچوں میں زبان کا فروغ انہیں مرحلوں کےذریعہ ہوتا ہے۔ Chomskyکا خیال تھا کہ زبان کی ترقی ایسی جسمانی پختگی کی طرح ہے جس پر دھیان دیا گیا ’’ایسا بچوں کےساتھ ہوتا ہے‘‘ سبھی بچے ایک جیسے گرامر کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں اورجو زبان سنتے ہیں ان کی گرامر کوآسانی سے سیکھ لیتے ہیں۔

Skinnerنے زوردے کر کہا سیکھنا یہ بتاتا ہےکہ کیوں بچے سنی ہوئی زبان کو اپناتے ہیں اورکس طرح وہ ان میں نئے الفاظ کوشامل کرتے ہیں۔ Chomsky'sکا یہ خیال کہ ہم خودبہ خود گرامرسیکھتے ہیں اس بات کی وضاحت میں مدد کرتی ہے کہ کیوں بچے بغیر پڑھائی کے زبان آسانی سے سیکھ لیتے ہیں۔


زبان کا استعمال (Language Use)

جیسا کہ ہم نے پہلے بتایا کہ زبان کا استعمال سماجی طورپر موزوں ترسیل کے طریقوں کو جاننے کی کوشش کرتا ہے۔ الفاظ کو معلومات اورجملے بنانے کے طریقے مختلف سماجی حالات میں مقصدرابطہ حاصل کرنے کے لئے زبان کے جائز استعمال کو یقینی نہیں بناتا۔ جب ہم زبان کا استعمال کرتے ہیں توہمارے کئی عملی مقاصد ہوتے ہیں جیسے گزارش کرنا، پوچھنا، شکریہ اداکرنا، مانگنا وغیرہ۔ ان سماجی مقاصد کو پانے کے لئے زبان کا استعمال بناوٹ کے نظریہ سے صحیح ہوناچاہیے اورمعقول، معنی خیز وگرامر کے لحاظ سے صحیح ہونا چاہیے۔ بچوں کو اکثر یہ دشواری ہوتی ہے کہ اپنی ضرورت کے لئے درخواست میں کس طرح کی زبان کی استعمال کی جائے۔ جب بچے بات چیت میں مشغول ہوتے ہیں توانہیںبڑوں کی طرح باتیں کرنے یا سننے میں پریشانی ہوتی ہے۔


کلیدی اصلاحات

ذہنی نمائندگی، تصورات، خیالات، ذہنی آمادگی، کاموں کا جمائو، تخلیقات، ذہنی جوش، پرانے تعلق، روشنی، زبان استدلال، ترغیبی استدلال، فیصلہ، فیصلہ لینا، تغیری تفکیر، انحرافی تفکیر مصنوعی زمین، دوہری زبان، کثیرزبان، مسئلہ کا حل، استدلال، فکر۔


خلاصہ:

تکفیر ایک پیچیدہ ذہنی عمل ہے جس کے ذریعہ ہم معومات کی ترجمانی کرتے ہیں(حاصل یا جمع معلومات)یہ ایک اندرونی عمل ہے جس کا اندازہ کارکردگی کے بنا پر کیاجاسکتا ہے۔ تکفیر میں ذہنی نمائندگی شامل ہوتی ہے جو ذہنی تصورات یا خیالات کی شکل میں ہوتے ہیں۔

مسئلہ کا حل، استدلال، فیصلہ لینا اور تخلیق تفکیر، پیچیدہ فکری عمل ہیں۔

کسی مسئلہ کا حل تفکیر ہے جو کسی مسئلہ کے حل کی جانب نشاندہی کرتی ہے۔

ذہنی تیاری،Mental Fisdness ، مہیج کی کمی جیسی کچھ رکاوٹیں کسی مسئلہ کے حل میں پیش آتی ہیں۔

مسئلہ کا حل کسی مسئلہ کے حل کی جانب جانے والی تفکیر ہے۔

کاموں کا جماوٴ، جذبہ کی کمی اوراستقلال، جیسی کچھ چیزیں مسئلہ کے حل میں اہم رکاوٹیں ہیں۔

استدلال جیسے مسئلہ کا حل مقصد پذیر ہوتی ہے۔ اس میں اخذ کرنا ہوتا ہے، جو یا توانحرافی یا ترغیبی ہوتی ہے۔

فیصلہ لینے میں ہم نتیجہ نکالتے ہیں، رائے قائم کرتے ہیں، کسی شئے یا واقعہ سے کے بارے میں جائزہ لیتے ہیں۔

فیصلہ لینے میں ہمیں موجود مختلف متبادلات میں سے ایک کوچننا چاہیے۔

فیصلہ اورفیصلہ لینا ایک دوسرے سے جڑے ہوئے عمل ہیں۔

تخلیقی تفکیر میں کچھ نئی اوراصلی چیزیں سامنے آتی ہیں۔ جو ایک خیال، شئے یا ایک مسئلہ کا حل ہوسکتی ہیں۔

تخلیقی تفکیر کے فروغ میں تخلیقی اظہار کے لئے رکاوٹوں کو دورکرنے کی ضرورت ہوتی ہے اورتخلیقی تفکیر ہنروں اورصلاحیتوں کو بڑھانے کے لئے ترکیبوں اورحکمت عملی کا استعمال کیاجاتا ہے۔

زبان ممتاز طریقے سے انسانی خوبی ہے۔اس میں علامتیں شامل ہوتی ہیں، اوریہ کچھ اصولوں کی بنیاد پرمنظم ہوتی ہیں تاکہ ارادوں ، مقاصد، احساسات، جذبہ اورخواہشات کو دوسروں تک پہنچایا جاسکے۔

زبان کی ترقی پہلے کے 3-2 سالوں کی عمر میں زیادہ ہوتی ہے۔

زبان اورفکر پیچیدہ طریقہ سے آپ میں جڑے ہوتے ہیں۔


نظرثانی کے لئے سوالات

1. تفکیر کی نوعیت کی وضاحت کریں؟

2. خیالات کیا ہیں؟ تفکیر کے عمل میں اس کے رول کی وضاحت کریں۔

3. ایک انسان کو کسی مسئلہ کے حل میں آنے والی رکاوٹوں کی پہچان کریں۔

4. استدلال مسئلہ کے حل میں کس طرح مدد کرتی ہیں؟

5. کیا صحیح اورغلط کی پہچان اورفیصلہ لینا آپس میں جڑے ہوئے عمل ہیں؟ وضاحت کریں۔

6. تخلیقی تفکیری عمل میں انحرافی تفکیر کیوں اہمیت رکھتی ہے؟

7. تخلیقی تفکیر کی کون کون سے مختلف رکاوٹیں ہیں؟

8. تخلیقی تفکیر کو کس طرح بڑھا یاجاسکتا ہے؟

9. کیا تفکیر بغیر زبان کے ہوسکتی ہے؟ وضاحت کریں؟

10 انسانوں میں زبان کس طرح سیکھی جاتی ہے؟


پروجیکٹ کی تجاویز

1. 1سال، 2سال اور3سال کے بچوں کو ایک ہفتہ تک دیکھیں، ان کی باتوں کو رکارڈ کریں اوردیکھیں کہ کس طرح بچے سیکھتے ہیں ، اوراسی مدت میں بچوں نے کتنے الفاظ سیکھے؟

2. اشتہارات کی سرخیوں، کارٹون وغیرہ کی ایک خیالی شکل بنائیں، اوراسے اپنے طریقہ سے ترتیب میں سجائیں تاکہ ان کی غیر معمولی مضمونوں کی وضاحت ہوسکے جو کسی خاص نقطۂ ہائے نظر پر مبنی ہوں۔اس کی وضاحت کے لئے ایک پیغام یا نعرہ لکھیں۔ اصلی خیالات کی تفکیر میں محسوس کئے گئے رکاوٹوں اوراقدامات پر روشنی ڈالیں۔


مسئلہ1 کے جواب

ANAGRAM, PROBLEM, SOLVE, INSIGIAT, SOLUTION

مسئلہ2کا جواب

43

مسئلہ 3 کا جواب: تین بوتلوں کے حل

اس مسئلہ کا حل ہے بوتل127.ml)B )کو پوری طرح بھریں اورتب اس میں سے پانی بوتلAمیں اتنا ڈالیں کہ وہ بھرجائے (21ml)۔ اب بوتل Bمیں106ml (127-21ml)پانی ہے۔ اس کے بعد بوتلBمیں سے اتنا پانی بوتل Cمیں ڈالیں کہ وہ بھرجاتے (3ml) اب بوتلCکے پانی کو پھینک دیں۔ اب بوتلBمیں103mlپانی ہے اوربوتلCکخال ہے۔ اب ایک بار پھر بوتلCکے پانی سے بوتلCکو بھریں۔ اب بوتلBمیں صرف 100ml  میں پانی رہ جاتا ہے۔ (تصویر2)

مسئلہ 5 کے لئے ضروری مقدار حاصل کرنے کے لئے ترتیب B-A 2Cاپنا سکتے ہیں۔ بہر حال 6واں سوال پیچیدہ ہے۔ 6ویں مسئلہ میں پانی کی ضروری مقدار 20mlہے اوربوتلوں کی وسعتB=49ml, A, 23mlاور C=3mlہے۔ دیکھئے شرکت دار اس مسئلہ کو کیسے حل کرتے ہیں۔ امید کی جاتی ہے کہ وہ پہلے اس آزمائی ہوئی ترتیب پر عمل کراس مسئلہ کےحل میں کامیاب ہوں گے۔ جس کی ترتیب49-23(2X3)]ہے وہ بغیر کسی تفکیر کے یاAسےCمیں پانی ڈالنے کےآسان طریقہ کو آمانے میں ایسا کریں گے۔ اگر آپ کے دوست اس ترکیب پر عمل کرتے ہیں توآپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ مسئلے 5 کے حل سے، ان میں ذہنی آمادگی اتنا پختہ ہے کہ بہت سے لوگ آزمائی ترکیب کے علاوہ دوسری صورتوں کے بارے میں تفکیر بھی نہیں کرپائیں گے۔

44