Skip to content
Nafsiyat-006


Chapter 9

محرک اورجذبہ

اس باب کے مطالعہ کے بعد آپ اس قابل ہوجائیں گے کہ

انسانی تحریک کی نوعیت کے بارے میں سمجھ سکیں گے

کچھ اہم تحریکوں کی نوعیت کو بیان کرسکیں گے

جذباتی اظہار کی نوعیت کو بیان کرسکیں گے

جذبہ اورثقافت کے تعلق کو سمجھ سکیں گے

اپنے جذبات پر قابو رکھنا سیکھ جائیں گے

مشمولات:

تعارف

محرک کی نوعیت

محرکات کے اقسام

حیاتیاتی محرکات

نفسیاتی محرکات

ماسلو کا ضروریات کا نظام مراتب

احساس نامرادی اورکشاکش

ذاتی محرک (باکس 1.9)

جذبات کی نوعیت

جذبات کی غصویاتی بنیادیں

عضویاتی جذبہ(باکس 2.9)

کذب شناہی (باکس3.9)

جذبات کی وقوفی بنیادیں

جذبات کی ثقافتی بنیادیں

جذبات کا اظہار

ثقافت اورجذباتی اظہار

ـثقافت اورجذباتی نشاندہی

منفی جذبات کا بندوبست

مابعد صدماتی بدنظمی (باکس 4.9)

امتحان سے متعلق تشویش کا بندوست (باکس 5.9)

مثبت جذبات کو بڑھانا

اپنے غصہ کا بندوبست

امتحان کی تشویش کا انتظام کرنا (باکس 6.9)

کلیدی اصطلاحات

خلاصہ

نظرثانی کے لئے سوالات

پروجیکٹ کی تجاویز


تعارف: 

مریم انجینئرنگ کے مختلف داخلہ جات امتحانوں میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے روزانہ دس سے بارہ گھنٹے سخت محنت کرتی ہے۔ شاہد جسمانی طور سے ایک معذوربچہ ہے جو ایک مہم پرجانا چاہتا ہے اورایک ماوٴنٹرنگ انسٹی ٹیوٹ میں بہترین ٹریننگ لے رہا ہے۔ امن اپنی اسکالر شپ سے پیسے بچارہا ہے تاکہ وہ اپنی ماں کو ایک تحفہ دے سکے۔ یہ چند ایسی مثالیں ہیں جوانسان کی زندگی میں جذبات کے رول کی جانب اشارہ کرتی ہیں۔ ان میں سے ہرکردار اس میں پوشیدہ محرک کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ کردار کسی مقصد کو حاصل کرنے کے لئے ہوتا ہے یہ اس وقت تک جاری رہتا ہے جب تک کہ مقصد کی حصولیابی نہ ہوجائے۔ اپنے مقاصد کی حصولیابی کے لئے لوگ مختلف تراکیب بناتے ہیں اورمختلف طریقوں کے کام کرتے ہیں۔ مریم اپنی تمام ترمحنت کے باوجود اگر فیل ہوجاتی ہے تو اس کو کیسا محسوس ہوگا۔ یا امن کے اسکالر شپ سے بچائے ہوئے پیسے اگرچوری ہوجاتے ہیں تواسے کیسا محسوس ہوگا۔شاید مریم دکھی ہوگی اورامن کوغصہ آئے گا۔ یہ باب آپ کو محرک اورجذبات اوران دونوں میدانوں سے متعلق نشوونما کے تصورات کوسمجھنے میں مددفراہم کرے گا۔ آپ احساسِ نامرادی اورکشاکش کے بارے میں بھی واقفیت حاصل کریں گے۔ بنیادی جذبات، ان کی حیاتیاتی بنیادوں، باہر اظہار، ثقافتی اثرات، محرکات سے ان کے تعلق اوراپنے جذبات کو بہتر طور پرسمجھنے میں آپ کو یہ باب مددکرے گا۔


محرک کی نوعیت:

محرک یا تحریک کاتصور اس بات پر روشنی ڈالتا ہے کہ کردار کوکیا’متحرک‘ کرتا ہے؟ واقعتاًانگریزی لفظ ’Motivation‘ لیٹن لفظ ’Movere‘ سے بنا ہے جو کاموں کی حرکات کی نشاندہی کرتا ہے۔ہمارے روزمرہ کے زیادہ ترکرداروں کی تشریح محرکات کی بنیادپر دی جاتی ہے۔ آپ اسکول یا کالج کیوں آتے ہیں؟ اس کی بہت ساری وجوہات ہوسکتی ہیں۔ مثلاً آپ علم حاصل کرنا چاہتے ہیں، دوست بنانا چاہتے ہیں۔ آپ اچھی نوکری حاصل کرنے کے لئے ڈپلومایا ڈگری حاصل کرنا چاہتے ہیں، آپ اپنے والدین کو خوش کرنا چ اہتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ ان اوردیگروجوہات کا  امتزاج اس بات کی تشریح کرے گا کہ آپ اعلیٰ تعلیم کیوں حاصل کرنا چاہتے ہیں؟ محرکات کردار کے بارے میں پیش گوئی کرنے میں بھی آپ کی مدد کریں گے۔ اگرکسی شخص کے اندر بہت زیادہ تحصیل کا محرک ہے تووہ اسکول میں، کھیل کے میدان میں، تجارت میں یا موسیقی اوردوسرے حالات میں بہت سخت محنت کرے گا۔ اس لئے محرکات وہ عام حالات ہیں جو مختلف صورت حال میں کردار کی پیش گوئی کرنے میں ہماری مددکرتے ہیں۔ بالفاظ دیگر تحریک کردار کے تعین کنندوں میں سے ایک ہے۔ جبلتیں(Instincts)، محرک قوت (Drivers)، ضروریاتی مقصد (ہدف) اورخارجی محرک سب کے سب تحریک کےایک بڑےجھرمٹ کے اندرآتے ہیں۔


محرکاتی چکّر(The Motivation Cycle)

کردار کی محرکاتی خصوصیات کو بیان کرنے کے لئے اب ماہرنفسیات حاجت یا ضرورت کے تصور کا استعمال کرتے ہیں۔ حاجت یا ضرورت کسی کمی کا نام ہے۔

حاجت کی حالت محرک قوت کو جنم دیتی ہے۔محرکِ قوت حاجت کی وجہ سے پیداشدہ تناوٴ یا اکساہٹ کی حالت ہے جو غیر مرتب کاموں کو قوت بخشتی ہے۔ جب غیر مرتب کاموں میں سے کوئی کام مقصد کی حصولیابی میں مددگار ہوتا ہے تب اس سے محرک قوت کم ہوجاتی ہے اورجاندار اپنی متوازن حالت میں واپس ہوجاتا ہے۔ اس طرح محرکاتی وقوعات کا چکر تصویر 1.9 کے ذریعہ دکھائے جاسکتے ہیں۔

45

تصویر1.9 محرکاتی چکر


حاجت

محرک قوت

اُکساہٹ

مقصود سمتی کردار

حصول

اکساہٹ میں کمی

کیا محرکات کےمختلف اقسام ہیں؟ کیا مختلف اقسام کے مرکات کی تشریح کی کوئی حیاتیاتی بنیاد ہے؟ اگرمحرکات کی تکمیل نہیں ہوتی ہے توکیا ہوتا ہے؟ یہ کچھ سوالات ہیں جن کی تشریح ہم اس باب کے حسب ذیل حصوں میں کریں گے۔


محرکات کے اقسام(Types of Motives)

بنیادی طورپر محرکات کی دوقسمیں ہیں: حیاتیاتی اورنفسیاتی سماجی محرکات۔ حیاتیاتی محرکات کو عضویاتی محرکات بھی کہا جاتا ہے کیونکہ ان کی رہنمائی زیادہ ترجسم کے عضویاتی میکانزم کے ذریعہ ہوتی ہے۔ نفسیاتی سماجی محرکات کو انسان ماحول میں دوسروں کے ساتھ تفاعل کے ذریعہ سیکھتا ہے۔

جو بھی ہودونوں طرح کے محرکات ایک دوسرے پرمنحصر ہوتے ہیں۔ یعنی کچھ حالات میں حیاتیات تحریک پیدا کرتی ہے اورکچھ دوسرے حالات میں نفسیاتی سماجی عوامل محرک کو جنم دے سکتے ہیں۔ اس لئے آپ کو یہ دماغ میں رکھنا چاہیے کہ کوئی بھی محرک اپنے آپ میں خالصتاً نہ تو حیاتیاتی ہے اورنہ ہی نفسیاتی بلکہ یہ فرد کے اندر مختلف مرکبات کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔


حیاتیاتی محرکات(Biological Motives)

 محرک کے تشریح کا حیاتیاتی یا عضویاتی طرز نظر کردار کی وجوہات کو سمجھنے کی سب سے شروعاتی کوشش ہے۔ بعدکے زیادہ ترنظریوں میں حیاتیاتی طرز نظر کے اثرات پائے جاتے ہیں۔مطابقتی کام کے تصور سے متعلق طرز نظر کا ماننا ہے کہ جاندار کے اندر حاجات (اندرونی عضویاتی غیر توازن) ہوتی ہیں جو محرک قوت پیدا کرتی ہیں اوریہ محرک قوت کسی مقصد(ہدف) کے حصول کے لئے اکساتی ہیں جس سے محرک قوت میں کمی آتی ہے۔ محرکات کی سب سے پہلی تشریح جبلت(Instinct) کے تصورپرمبنی ہے۔لفظِ جبلّت کردار کے ان پیدائشی طریقوں کی نشاندہی کرتا ہے جوآموزش سے متاثرنہ ہوکر حیاتیاتی طورپر متاثر ہوتے ہیں۔ کچھ عام انسانی جبلتوں میں تجسس، فرار، ناپسندیدگی، پدرانہ اورمادرانہ شفقت وغیرہ شامل ہیں۔ جبلتیں کسی نوع یا نسل کے سبھی ممبروں کے اندرپائے جانے والے کردار کی پیش گوئی کے طورپر رہنمائی کرنے والی اندرونی میلانات ہیں۔لفظ ’جبلّت‘ سب سے صحیح طور پر کچھ کرنے کی لگن کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ جبلّت میں تیز رفتاری ہوتی ہے جو جاندار کو اس تیزی سے چھٹکارا پانے کے لئے کچھ کرواتی ہے۔ اس طرز نظر کے ذریعہ جن حیاتیاتی حاجاتِ کی تشریح ہوتی ہے اس میں بھوک، پیاس اورنفسانی خواہشات آتی ہیں۔ یہ ضروریات انسان کی بقا کے لئے بے حد اہم ہیں۔

محرکات کے اقسام

حیاتیاتی محرکات حیاتیاتی محرکات کی پیدائشی، حیاتیاتی وجوہات جیسے ہارمونس، عصبی ٹرانسمٹر، دماغ کی ساختوں (جیسے زیریں مبدائے اعصاب، لمبک نظام وغیرہ) پر فوکس کرتے ہیں۔ جیسے بھوک، پیاس اور خواہشات

نفسیاتی سماجی محرکات: نفسیاتی سماجی محرکات نفسیای اور سماجی (اور اسی طرح سے ماحولیاتی) عوامل اور محرک پیدا کرنے کے لیے ان کے آپسی تفاعل پر زور دیتے ہیں۔ مثلاً حصول کی حاجت، الحاق، طاقت، تجسس اور کھوجنے اور خود تحقیق کے محرکات

46

تصویر2.9

بھوک(Hunger)

جب کوئی شخص بھوکا ہوتا ہے توکھانے کی حاجت ہر طرح کی ضرورت پر حاوی ہوتی ہے۔یہ لوگوں کو کھانا حاصل کرنے اورکھانے کے لئے متحرک کرتی ہے۔ بلاشبہ زندہ رہنے کے لئے ہمیں کھانا ضروری ہے۔ لیکن آپ کو بھوک کا احساس کیسے ہوتا ہے؟ تحقیقات کے نتائج بتاتے ہیں کہ بدن کے اندراورباہر بہت سے وقوعات رونما ہوتے ہیں جوبھوک پیدا کرتے ہیں یا بھوک کو روکتے ہیں۔ بھوک کے مہیجوں کے اندر پیٹ کے اندرکھنچاوٴ ہوتا جو بتاتا ہے کہ پیٹ خالی ہے، خون کے اندر گلوکوز کا کم جمائو، بدن کے اندراکٹھا کی گئی چربی اورپروٹین کی سطح کا نیچا ہونا وغیرہ شامل ہیں۔ جگر بھی بدن کے ایندھن کی کمی کے لئے جوابی عمل کرتا ہے اوردماغ کواضطراری تحریک بھیجتا ہے۔ کھانے کی مہک، لذت اورشکل کھانا کھانے کی خواہش کو پیداکرسکتے ہیں۔ یہ بات یادرکھنے کی ہے کہ ان میں سے کوئی ایک اکیلا عامل آپ کے اندریہ احساس پیدا نہیں کرتا ہے کہ آپ بھوکے ہیں۔ یہ سبھی باہری عوامل (جیسے ذائقہ، رنگ، دوسروں کو کھانا کھاتے دیکھنا کھانے کی خوشبو وغیرہ مل کر ایک ساتھ) آپ کو یہ احساس دلاتے ہیں کہ آپ بھوکے ہیں۔ اس طرح سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ ہمارا کھانا کھانے کا ارادہ ایک پیچیدہ جی بھردینے والے نظام سے مربوط ہوتا ہےجوہمارے زیرین مبدائے اعصاب، جگر اوربدن کے دوسرے حصوں اورباہری ماحول میں موجوداشارات میں موجود ہوتے ہیں۔

کچھ ماہر عضویات کا ماننا ہے کہ جگر میں استحالی وظائف کی تبدیی کی وجہ سے کھانے کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ جگر دماغ کے اس حصہ کو جسے زیرین مبتدائے اعصاب کہا جاتاہے کو سگنل بھیجتا ہے۔ زیرین مبدائے اعصاب کے دوحصے جو بھوک میں شامل ہوتے ہیں وہ طرف زیرین مبدائے کےاعصاب (ایل ۔ایچ) اوروینٹرومیڈیل زیرین مبدائے اعضا(وی۔ایم۔ایچ) ہیں ایل۔ایچ اکساہٹی حصہ ہے۔ جانورکھاناتب کھاتے ہیں جب اس حصہ میں اُکساہٹ ہوتی ہے۔ جب یہ حصہ بیکار ہوجاتا ہے توجانور کھانا کھانا بند کردیتے ہیں۔ جب یہ حصہ بیکار ہوجاتا ہے توجانور کھانا بند کردیتے ہیں۔ اوربھوک کی شدت کی وجہ سے مرجاتے ہیں۔ وی۔ایم۔ایچ زیرین مبدائے اعضا کے بیچ میں واقع ہوتا ہے جو دوسرے الفاظ میں بھوک کو کنٹرول کرنے والے اس حصہ کی شکل میں جانا جاتا ہے جو بھوک کی محرکی قوت کوروکتا ہے۔ اب کیا آپ سمجھ سکتے ہیں کہ جو لوگ زیادہ کھاتے ہیں اورفربہ ہوجاتے ہیں اورجولوگ بہت کم کھاتے کھاتے ہیں یا ڈائٹنگ پر ہوتے ہیں ان کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟

پیاس (Thirst)

اگرآپ کو بہت دیر تک پانی نہ ملے توکیا ہوگا؟آپ کو پیاس کیوں لگتی ہے؟ جب ہم کئی گھنٹوں پانی سے محروم ہوتے ہیں تومنہ اورگلاسوکھنے لگتے ہیں جس سے بدن کے ریشوں میں پانی کی کمی ہوجاتی ہے۔ سوکھے منھ کو بھگونے کے لئے پانی پینا ضروری ہوتا ہے۔ لیکن گلاسوکھنے سے ہمیشہ پیاس کا احساس نہیں ہوتا ہے بلکہ بدن کے اندرونی اعمال پیاس اورپانی پینے کے کردار کوکنٹرول کرتے ہیں۔ منھ اورگلے کے سوکھے پن کودورکرنے کے لئے ریشوں میں وافر مقدار میں پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔

پانی پینے کی تحریک خاص طور سے بدن کے حالات یعنی خلیات میں پانی کا خاتمہ اورخون کے حجم میں کمی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے جب بدن کے سیالوں میں پانی ختم ہوجاتا ہے تواندرونی خلیات سے پانی ہٹ جاتا ہے۔ زیریں مبدائے اعصاب کے اگلے حصہ میں عصبی خلیات ہوتے ہیں جنہیں اوسماریسپٹرس(Osmoreceptors) کہا جاتا ہے جو خلیات میں پانی کی کمی کی حالت میں عصبی اضطراری تحریکات پیدا کرتے ہیں۔یہ اضطراری تحریکات پیاس یا پانی کے لئے سگنل کا کام کرتے ہیں۔ جب اوسمارپسپٹرس میں پانی کی کمی سے پیاس منضبط ہوتی ہے تواسے خلیاتی پانی کی کمی کہتے ہیں لیکن پانی پینے کوکون سا میکانزم روکتا ہے؟ کچھ تحقیق کاروں کا ماننا ہے کہ جو میکانزم پانی پینے کی تشریح کرتا ہے وہی پانی پینے سے روکنے کا کام کرتا ہے۔ دوسرے لوگوں کا کہنا ہے کہ پیٹ میں پانی لینے کے نتیجہ میں مہیجوں کا پانی پینے سے روکنے میں کوئی رول ہوتا ہے۔ تاہم پیاس کی محرک قوت میں شامل قطعی (Precise) عضویاتی میکانزم کو اب بھی سمجھا جاسکا ہے۔

جنسی خواہشات(Sex)

جانوروں اورانسانوں دونوں میں ایک بہت طاقتورمحرک جنسی محرک ہے۔ جنسی کاموں میں ملوث ہونے کا محرک انسان کے کردار پر اثرڈالنے والا ایک بہت ہی طاقتورعامل ہے۔ تاہم جنسی محرک عضویاتی محرک کے علاوہ کچھ اوربھی ہے۔ یہ دوسرے بنیادی محرکات جیسے بھوک اورپیاس سے کئی معنوں میں مختلف ہے:(الف) جنسی کام انسان کے زندہ رہنے کے لئے ضروری نہیں ہے۔ (ب)جنسی کاموں کا مقصد بازتوازن(استقلال قائم رکھنے کا پورے جاندار کا رجحان یا استقامت کے ختم ہونے پر استقامت کوواپس لانے کی کوشش) نہیں ہے، اور(ت)جنستی محرکِ قوت عمر کے بڑھنے کےساتھ پیدا ہوتی ہے۔ وغیرہ۔ جانوروں میں یہ بہت سی عضویاتی حالات پر مبنی ہوتا ہے۔ انسانوں کے معاملہ میں بھی جنسی محرک قوت بہت حد تک حیاتیاتی طورپر منضبط ہوتی ہے۔ اس لئے کبھی کبھی اس کو خالص حیاتیاتی محرک قوت کے طورپر منقسم کرنا مشکل ہوتا ہے۔

ماہر عضویات کا مشورہ ہے کہ جنسی خواہش کی طاقت خون میں بہتے ہوئے کیمیاوی مادے پر منحصر ہوتی ہے، جنہیں جنسی ہارمون کہاجاتا ہے۔ جانوروں اورانسانوں دونوں پرکئے گئے مطالعوں سے ثابت ہوتا ہے کہ جنسی ہارمونس تولیدی غدودوں سے نکلتے ہیں یعنی مردوں میں گونیڈس(Gonads) اورعورتوں میں بیضہ دان جنسی محرک کیے لئے ذمہ دارہوتے ہیں۔ جنسی محرک دوسرے انڈوکرانی غدودوں جیسے کلودی غدود(Adrenal Gland) اورپٹوٹری غدود سے بھی اثرانداز ہوتا ہے۔ انسانوں میں جنسی محرک بنیادی طورپر باہری محرکوں سے اٹھتا ہے اوراس کا اظہارثقافتی آموزش پر مبنی ہوتا ہے۔

نفسیاتی سماجی محرکا(Psychosocial Motives)

سماجی محرکات زیادہ ترسیکھے ہوئے یا اکتسابی ہوتے ہیں۔ سماجی گروپ جیسے فیملی، پڑوس، احباب، رشتے دار سماجی محرکات کے حصول میں مددگارہوتے ہیں۔ یہ پیچیدہ قسم کے محرکات ہوتے ہیں جو فردکا اپنے سماجی ماحول کے ساتھ تفاعل کا نتیجہ ہوتے ہیں۔

الحاق کی ضرورت (Need for Affiliation)

روزانہ ہم ساتھی یادوست چاہتے ہیں یا دوسروں کے ساتھ تعلقات بنانا چاہتے ہیں۔ ہر شخص ہمیشہ اکیلا رہنا پسندنہیں کرتا ہے۔ جیسے ہی لوگ ایک دوسرے میں مماثلت دیکھتے ہیں ایک گروپ بنالیتے ہیں۔گروپ بنانا یا اکٹھا ہونا انسانی زندگی کا ایک اہم حصہ ہے۔ بیشتر لوگ دوسروں کے قریب آنے کی، ان کی مددلینے کی ا ن کے گروپ کا ممبر بننے کے لئے ان کے ساتھ رہنے کی کوشش کرتے ہیں۔ دوسروں کا ساتھ ڈھونڈنے اورجسمانی ونفسیاتی طورپر لوگوں کے قریب رہنے کی خواہش کو الحاق کہتے ہیں۔ اس میں سماجی قربت کے لئے محرک شامل ہوتا ہے۔ الحاق کی ضرورت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب آدمی اپنے کو خطرے میں یا بے یارومددگار محسوس کرتا ہے اوراس وقت بھی جب وہ خوش ہوتا ہے۔ جن لوگوں میں یہ ضرورت بہت زیادہ ہوتی ہے وہ دوسرے لوگوں کا ساتھ ڈھونڈتے ہیں اوران کے ساتھ دوستی قائم کرتے ہیں۔

طاقت کی ضرورت (Need for Power)

طاقت کی ضرورت ایک فردکی دوسرے فرد کے کردار اورجذبات پر منشا کے مطابق اثرپیدا کرنے کی قابلیت ہے۔ دوسروں کومتاثر کرنا، کنٹرول کرنا، مائل کرنا، راستہ دکھانا، جادو کرنا اورسب سے اہم یہ کہ دوسروں کی نظر میں اپنا نام پیدا کرنا اوراپنی شہرت وعزت بڑھانا طاقت محرک کے مقاصد ہیں۔

ڈیوڈ میکیلینڈ(David McClelland) (1975) نے طاقت تحریک کے اظہار کے چارطریقوں کوبیان کیا ہے۔ پہلا، لوگ اپنے سے باہرکھلاڑیوں کے بارے میں کہانیاں پڑھ کر اوران کےساتھ اپنا تعلق جتا کر یا مشہور ہستیوں سے اپنا تعلق جتا کر اپنے سے باہر کےوسائل سے طاقت حاصل کرنے کا کام کرتے ہیں۔ دوسرا، طاقت کا احساس اپنے اندر کے وسائل سے بھی پیدا کیا جاسکتا ہے اوربدن کوطاقتور بناکر یا خواہشت اوراضطراری تحریکوں کو قابو میں رکھ کر اس کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ تیسرا، لوگ فرد کے طورپر دوسروں پر اثرڈالنے کے لئے کام کرتے ہیں۔ مثلاً کوئی شخص دوسروں سے استدلال یا بحث کرتا ہے یا مقابلہ کرتا ہے تاکہ اس پر اپنا اثرڈال سکے۔ چوتھا، لوگ تنظیم کے ممبر کے طور پردوسروں پراثرڈالنے کے لئے کام کرتے ہیں۔ جیسے کہ سیاسی پارٹیوں کے لیڈر افراد پر اثرڈالنے کے لئے پارٹی کے ذرائع کا استعمال کرتے ہیں۔ تب بھی کسی ایک فرد کے لئے ان میں سے طاقت کی تحریک کو ظاہر کرنے کا کوئی ایک طریقہ سب پر بھاری ہوتا ہے، لیکن عمر اورتجربہ بڑھنے کے ساتھ یہ بدل جاتا ہے۔

ضرورت تحصیل(Need for Achievement)

آپ نے مشاہدہ کیا ہوگا کہ کچھ طلباء دوسروں سے آگے بڑھنے اورامتحان میں اچھے نمبرحاصل کرنے کے لئے بڑی سخت محنت کرتے ہیں کیونکہ اچھےنمبراعلیٰ تعلیم اوربہتر نوکریوں کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔ یہ تحصیل کا محرک ہی ہے جو لوگوں کے اندر اونچا مقام حاصل کرنے کے لئے خواہش کی نشاندہی کرتا ہے۔ تحصیل کے محرک کو اینڈایچ(n-Ach)بھی کہا جاتا ہے۔یہ کردار کو طاقتوربناتا ہے اوراسے سمت دیتا ہے۔ ساتھ ہی یہ حالات کے ادراک کو بھی متاثر کرتا ہے۔

سماجی نشوونما کی اہم عمر کے دوران بچے تحصیل کے محرک کی حصولیابی کرتے ہیں۔ وہ ماخذ جن سے بچے تحصیل کے محرک کوسیکھتے ہیں، ان میں والدین، دوسرے رول ماڈل اورسماجی ثقافتی اثرات شامل ہیں۔ جن لوگوں میںاعلی تحصیل کا محرک ہوتا ہے وہ نسبتاً مشکل اور کٹھن کاموں کو پسند کرتے ہیں۔ وہ اپنی کارکردگی کے نتائج جاننے کی اوسط سے زیادہ خواہش رکھتے ہیں۔ یعینی وہ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ وہ کیسا کررہے ہیں۔ جس سے مقابلہ کرنے کےلئے وہ اپنے ہدف یا مقصد سے مطابقت پیدا کرسکیں۔

تجسس اورجستجو (Curiosity and Exploration)

اکثر لوگ بغیر کسی صاف ہدف یا مقصد کے اپنے آپ کاموں میں مشغول رکھتے ہیں لیکن انہیں ان سے وہ کسی نہ کسی طرح کا لطف حاصل کرتے ہیں۔یہ کسی مخصوص شناختی ہدف کے بغیر کام کرنے کا میلان ہے۔ نئے تجربات حاصل کرنے کا رجحان اوراطلاعات حاصل کرنے سے خوشی حاصل کرنا وغیرہ تجسس کی نشانی ہے۔ اس لئے تجسس ایسے کرداروں کو بیان کرتا ہے جس کا بنیادی محرک اپنے آپ کو کاموں میں ہی مشغول رکھنا ہوتا ہے۔

کیا ہوگا اگرآسمان ہم پر گرجائے؟ (کیا ہوگا اگر.....) جیسے سوالات تعلیم یافتہ لوگوں کوجوابات حاصل کرنے کے لئے متحرک کرتے ہیں۔ مطالعات بتاتے ہیں کہ تجسس کا یہ کردار صرف انسانوں تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ جانوربھی اس طرح کا کردار ظاہر کرتے ہیں۔ہم لوگ تجسس اورحسی تہیج(stimulation) کے ذریعہ ماحول کوکھوجنے کے لئے متحرک ہوتے ہیں۔ مختلف حسی تہیجات کی ضرورت کا گہرا تعلق تجسس سے ہے۔ یہ ایک بنیادی محرک ہے اورجستجو تجسس اس کے اظہارات ہیں۔

ہمارے آس پاس کی بہت سی چیزیں جن کے بارے میں ہمیں معلومات نہیں ہوتی ہے دنیا کو کھوجنے کا طاقتورمحرک پیدا کرنے ولے بن جاتے ہیں۔ ہم ایک ہی طرح کے تجربات سے بہ آسانی بورہوجاتے ہیں اس  لئے ہم کچھ نیا تلاش کرتے ہیں۔

شیرخواراورچھوٹے بچوں کے معاملہ میں یہ محرک برا طاقتورہوتا ہے۔ وہ کھوجنے کی آواز سے تسلی حاصل کرتے ہیں جو ان کی مسکراہٹ اورکلکاریوں کے ذریعہ ظاہر ہوتی ہے۔ بچوں کی جب کھوجنے کے لئے حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی ہے تووہ رنجیدہ ہوجاتےہیں جیسا کہ آپ باب 4 میں پڑھ چکے ہیں۔

ماسلو کا ضروریات کا نظامِ مراتب(Maslow's Hierarchy of Needs)

انسانی محرک کے بہت سے نظریے ہیں لیکن ان میں سب سے مشہور نظریہ ابراہیم ایچ۔ماسلو (Abraham H. Maslow, 1968,1970) نے دیا ہے۔ انہوں نے ضروریات کو مراتب میں منظم کرکے انسانی کردار کی تصویر پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ محرک کے بارے میں ان کا زاویۂ نظر نظر یاتی اوراستفادی قدرکی وجہ سے بہت مشہور ہے۔ جسے عام طور سے ’’خودتحقیق کےنظریہ‘‘(Theory of Self-actualisation) کے نام سے جانا جاتا ہے۔   (دیکھئے تصویر 3.9)

47

تصویر3.9 ماسلو کاضروریاتِ نظام کے مراتب

خود تحقق کی ضروریات

عزت کی ضروریات

ساتھ رہنے کی ضروریات

حفاظت کی ضروریات

عضویاتی ضروریات

ماسلو کی ضرویاتِ نظام کے مراتب کا تصور ایک ایسا ہرم (پرامڈ) کے طورپر کیا جاسکتا ہے جس کا سب سے نچلا حصہ ان بنیادی عضویاتی یا حیاتیاتی ضرورت کی نمائندگی کرتا ہے جو زدگی کے لئے بنیادی ہوتی ہیں۔ جیسے بھوک، پیاس، آکسیجن وغیرہ۔ جب یہ ضروریات پوری ہوجاتی ہیں صرف تبھی خطرے کے ڈر سے آزادہونے کی ضرورت پیدا ہوتی ہے۔ یہ جسمانی اورنفسیاتی نوعیت کی حفاظت کی ضروریات ہیں۔ اس کے بعددوسروںکو تلاش کرنے کی ضرورت ان کو پیارکرنے اوران سے پیار پانےکے لئے پیدا ہوتی ہے۔ اگرہم اس ضرورت کو مطمئن کرپاتے ہیں تب ہم اپنے آپ اوردوسروں سے عزت پانے احساس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ نظام مراتب کی سب سے اعلیٰ ضرورت فرد کی اپنی صلاحیتوں کو پورے طور سے نشوونما کی طرف مائل ہونے کی عکاسی کرتی ہے۔

اسے خودتحقق کی ضرورت(Self Actualisation Need) کہتے ہیں۔وہ شخص جس نے تحقق حاصل کرلیا ہے اپنے آپ کو جانتا ہے وہ سماجی طور سے ذمہ دارہوتا ہے، تخلیق کاراورخودساخت ہوتا ہے اورنئے پن اورمقابلہ کے لئے کھلا ہوا ہوتا ہے۔ اس کے اندرمذاق کا احساس اورگہرے آپسی تعلقات کی وسعت ہوتی ہے۔

نچلے درجےکی عضویاتی ضروریات اس وقت تک نظام مراتب میں طاقتوربنی رہتی ہیں جب تک ان کی تکمیل نہیں ہوجاتی ہے لیکن جب یہ ایک بار پوری طریقہ سے پوری ہوجاتی ہیں تووہ ان سے اعلی ضروریات فرد کی توجہ اورکوششوں پر چھاجاتی ہیں۔ تاہم اس بات کاخیال رکھنا چاہیے کہ اپنی نچلی سطح کی ضروریات سے وابستہ رہنے کی وجہ سے بہت کم لوگ اعلیٰ ترین ضروریات کی سطح تک پہنچ پاتے ہیں۔

سرگرمی 1.9

کبھی کبھی اصل کام ضروریات کے نظامِ مراتب کے برخلاف ہوتے ہیں۔ فوجی اورپولیس آفیسرس دیکھنے میں خود حفاظت کی ضرورت کے برخلاف اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال کردوسروں کب بچاتے ہوئے دیکھے گئے ہیں۔

ایسا کیوں ہوتا ہے؟ اپنے ساتھیوں سے اس پر بحث کیجئے اور پھر اپنے استاد سے بحث کیجئے۔

احساسِ نامرادی اورکشاکش (Frustration and confilict)

ابھی تک ہم نے تحریک کے مختلف نظریاتی تناظر کا مطالعہ کیا ہے۔ وہ اس معنی میں محرک کے عمل کی تشریح کرتے ہیں کہ محرکاتی کام کس وجہ سے پیدا ہوتے ہیں اورمختلف محرکات کی کیا وجوہات ہیں۔ اب ہم یہ سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ جب کسی محرکاتی کام کوروک دیاجاتاہے یا کسی وجہ سے محرک ناکام ہوجاتا ہے توکیا ہوتا ہے؟ ہم یہ بھی سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ جب کسی کے اندر ایک ہی وقت میں ایک سے زیادہ محرکات یا ضروریات ہوتی ہیں توکیا ہوتا ہے؟ ایسے معاملات میں کردارکی کیا سمت ہوتی ہے؟ ان دونوں کا مطالعہ ہم تحریک سے متعلق دواہم تصورات جنہیں احساسِ نامرادی اورکشاکش کہا جاتا ہے کی شکل میں کریں گے۔

احساس نامرادی (Frustration)

کئی مواقع پر ہمارا ایسے حالات سے سابقہ ہوتا ہے کہ جب چیزیں ہماری توقع کے برخلاف چلی جاتی ہیں اور ہم اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوپاتے ہیں۔ پسندیدہ مقصد کے راستہ میں رکاوٹیں تکلیف دہ ہوتی ہیں لیکن ہم میں سے سبھی لوگ زندگی میں اس کا تجربہ مختلف مقدار میں رکھتےہیں۔ احساسِ نامرادی اس وقت رونما ہوتی ہے جب ایک متوقع پسندیدہ ہدف یامقصد کا حصول نہیں ہوپاتا ہے اورمحرک میں رکاوٹ پیدا ہوجاتی ہے۔ یہ ایک ناپسندیدہ حالت ہے جسے کوئی پسند نہیں کرتا ہے۔ احساسِ نامرادی کا نتیجہ بہت سے کرداری اورمحرکاتی جوابی عمل کی شکل میں رونما ہوتا ہے۔ ان میں جارحانہ کردار، انجماد، بھاگنا، احتراز اورچلانا بھی شامل ہیں۔ واقعتاً نامرادی وجارحیت(Frustration-Aggression) ڈولارڈ اورمیلر(Dollard and Miller) کے ذریعہ تجویز کردہ ایک بہت مشہور فرضیہ ہے جو بتاتا ہے کہ احساس نامرادی جارحیت پیدا کرتی ہے۔جارحانہ کام اکثرخودکی طرف یا رکاوٹ پیدا کرنے والے عوامل کی طرف یا کسی بدل کی طرف متوجہ ہوت اہے۔ بلاواسطہ جارحانہ کام سزا کے خوف سے روک دیاجاتا ہے۔ احساسِ نامرادی کے اصل مآخذ یا وجوہات کئی ہوتی ہیں۔ جیسے (1) ماحولیاتی طاقتیں جو عضویاتی چیزیں ہوسکتی ہیں، حالاتِ مجبوری یہاں تک کہ دیگرفرد جو کسی کو مخصوص ہدف یا مقصد تک پہنچنے سے روکتا ہے وہ بھی ہوسکتا ہے(2) ذاتی عوامل ہو سکتے ہیں، جیسے ناکافی وسائل یا وسائل کی کمی جو ہدف تک پہنچنا مشکل یا ناممکن بناتے ہیں، اور (3)مختلف محرکات کے مابین کشاکش۔

کشاکش(Conflict)

کشاکش تب واقع ہوتی ہے جب آدمی کو دومتضاد ضروریات، خواہشات یا مانگ کے مابین انتخاب کرنا ہوتا ہے۔اس کی تین بنیادی شکلیں ہیں: رغبت۔رغبت کشاکش، احتراز۔احتراز کشاکش اوررغبت۔ احتراز کشاکش۔

رغبت۔رغبت کشاکش(Appoach-approach conflict) دومثبت اورپسندیدہ متبادل کے مابین انتخاب یا چناوٴ سے پیدا ہوتی ہے۔احتراز۔احتراز کشاکش(Avoidance-Avidance Conflict) دومنفی یا دویکساں طورپر مطلوبہ متبادل کے مابین پیدا ہوتی ہے۔اصل زندگی میں ان دوطرفہ احتراز کشاکشوں میں ایسی مشکلات پہناں ہوتی ہیں جیسے دانت کے ڈاکٹر کے پاس جانے کا ڈراور نہ جانے پر دانت کا گرجانا، سڑک کے کنارے کھانا کھانا اوربھوک کے مابین چنائو وغیرہ۔ رغبت۔احتراز کشا اس وقت پیدا ہوتی ہے جب ایک ہی مقصد یا کام سے آدمی کوشش اورکراہت دونوں ہوتی ہے۔ اس طرح کی کشاکش کو ختم کرنا مشکل ہوتا ہے کیونکہ احتراز کشاکش کے مقابلہ میں یہ زیادہ تکلیف دہ ہوتی ہے۔ رغبت۔احترراز کشاکش کی خاص خصوصیت اس کی دورخیت ہے۔ یعنی مثبت اورمنفی کشاکشوں کا مرکب ہے۔ کوئی شخص نئی موٹر سائیکل خریدنا چاہتا ہے لیکن اس کے ماہاناہ اخراجات کو نہیں اٹھاناچاہتا، کھانا کھانا چاہتا ہے اوروزن نہیں بڑھاناچاہتا، کسی ایسی لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہے جسے اس کےوالدین شدت سے ناپسند کرتے ہیں وغیرہ رغبت۔احتراز کشاکش کی کچھ مثالیں ہیں۔ زندگی کے بہت سے اہم فیصلوں میں رغبت۔احتراز ابعاد شامل ہوتے ہیں۔

محرکاتی کشاکش احساسِ نامرادی کا ایک اہم سرچشمہ ہے۔ اپنی زندگی میں ہم اکثرکئی یکساں طاقت وریا یکساں طورپر اہم طاقتوں سے متاثر ہوتے ہیں جوہمیں مختلف سمتوں میں جانے کے لئے مجبورکرتی ہیں۔ تاہم بیک وقت بہت ساری خواہشات اورضروریات کا وجودکشاکش کی خصوصیت بتاتی ہیں۔

48

تصویر4.9

ضروریات یا حاجت

محرکِ قوت

اکساہٹ

نشانہ کا کردار

ناکامی

متبادل راستے

الف۱؍ الف ۲؍ الف ۳؍ الف ۴؍ الف ۵

کشاکش

احساسِ نامرادی

جارحیت

باکس9.1 ذاتی محرک

یہاں خوداوردوسروں کو متحرک کرنے کے کچھ طریقے دیئے جارہے ہیں۔ 

1. جو کچھ بھی آپ کرتے ہیں اس کا پلان بنالیجئے اورمنتظم کرلیجئے۔

2. اپنے ہدفوںیا مقاصد کی اولیت سیکھئے(ان کو 3،2،1.... وغیرہ مقام دیجئے)

3. کم مدتی نشانہ طے کیجئے(کچھ دنوں، ایک ہفتہ، ایک مہینہ وغیرہ)

4. طے شدہ نشانہ ٹھیک ہونے پر اپنے آپ کو انعام دیجئے(آپ اپنے آپ کو چھوٹی چیزوں کا انعام دے سکتے ہیں جیسے نیا قلم، چاکلیٹ یا کوئی ایسی چیز جسے آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کے پاس ہونی چاہیے لیکن اس کو کسی چھوٹے ہدف سے متعلقہ بنائیے)

5. جب بھی آپ صحیح نشانہ مارتے ہیں(کام مکمل کرتے ہیں) کامیابی کی وجہ سے ہونے پر خودکی تعریف کیجئے (کہئے’’میں نے یہ کرلیا‘‘، ’’میں نے واقعی اچھا کیا ہے‘‘، ’’میں سمجھتا ہوں کہ میں کاموں کو بخوبی کرسکتا ہوں‘‘)

6. اگرہدف مشکل ہو توان کو ددوبارہ ٹکڑوں میں بانٹیئے اوریکے بعددیگرے ان کی طرف بڑھئے۔

7. ہمیشہ ہراس محنت کو دیکھئے اوراس کے متعلق سوچئے جسے آپ نے طے شدہ ہدف کو پانے میں لگایاہے۔


کشاکش کے سبھی معاملات میں ایک کے مقابلہ میں دوسرے متبادل کا انتخاب ان کی تقابلی طاقت، ایک کی دوسرے پران کی فوقیت اورماحولیاتی عوامل پر منحصر کرتا ہے۔ کشاکش کا حل متبادل کی اچھائی اوربرائی کے بارے میں اچھی طرح سے سوچنے اورسمجھنے کے بعد صحیح متبادل کے انتخاب کے ذریعہ کیا جانا چاہیے۔ ایک بہت اہم بات یادرکھنے کی یہ ہے کہ کشاکش احساس نامرادی کو جنم دیتے ہیں۔ جو گھوم کرجارحیت پیدا کرتے ہیں۔ مثال کے طورپر ایک شخص موسیقار بننا چاہتا ہے۔ لیکن والدین کے دبائو کی وجہ سے منیجمنٹ کا کورس کررہا ہے اوراپنے والدین کی توقع کے مطابق کارکردگی کرنے کے لائق نہیں ہے۔ والدین کے ذریعہ اپنے کام میں خرا کارکردگی کی وجہ پوچھے جانے پر جارحانہ ہوجاتا ہے۔


سرگرمی9.2

حسب ذیل سوالات کے جوابات دینے کی کوشش کیجئے اورکمزورمیدان میں کام کرنے کی کوشش کیجئے۔

1. ان کاموں یا پلانوں کی فہرست دیجئے جنہیں آپ اس ہفتہ کرنا چاہتے ہیں۔

2. کیا آپ نے آنے والے مہینہ کے لئے کچھ ہدف یا مقاصدطے کئے ہیں؟ اگر ہاں تووہ کیا ہیں؟ ان کی فہرست بنانے کی کوشش کیجئے۔

3. کیا آپ روزمرہ کے کاموں کا چارٹ رکھتے ہیں؟ اگرنہیں توآپ اپنے اوقات کی منصفانہ تقسم مطالعہ، آرام، موج مستی اوردوسرے کاموں کے لئے کرتے ہوئے ایک چارٹ بنائیے۔

4. کیا آپ اپنے روزمرہ کے چارٹ کو پورا کرپاتے ہیں؟(کیا آپ کے پاس ایسا کچھ ہے؟)

5. اگرآپ روزمرہ کے کاموں کو کامیابی سے نہیں کرپاتے ہیں توآپ اُن غلط عادتوں کو جو آپ کے کاموں میں حائل ہوتی ہیں دورکرنے کے طریقوں پر غورکیجئے اورانہیں دورکرنے کی کوشش کیجئے۔


جذبات کی نوعیت(Natrure of Emotions)

صوفیہ بہت خوش ہے کیونکہ اس کے امتحان کے نتیجہ کا اعلان آج ہی ہوا ہے۔ اس نے اپنی کلاس میں ٹاپ کیا ہے۔ اس کا دوست فرحان دکھی ہے کیونکہ اس نے امتحان میں اچھے نمبرحاصل نہیں کئے ہیں۔صوفیہ کے کچھ دوست اس کی تحصیل سے حسد محسوس کررہے ہیں۔ جیون اپنی توقع کے مطابق امتحان میں کامیابی حاصل نہیں کرپایا ہے اس لئے وہ اپنے آپ پر خفا ہے اوروہ ناخوش ہے کہ اس کے والدین بہت زیادہ مایوس ہوں گے۔

خوشی، غم، اُمید، پیار، غصہ، نفرت اوربہت سے ایسے احساسات کا تجربہ ہم میں سے سبھی لوگ روزانہ کرتے ہیں۔ لفظِ’جذبہ‘ کو اکثر لوگ ’احساس‘ اورموڈ‘ جیسے الفاظ کے متبادل استعمال کرتے ہیں۔ احساس جذبہ کے خوشی اوردکھ کے ابعاد کو بتاتے ہیں۔ موڈ لمبے عرصہ کولیکن جذبہ سے کم شدت کے تاثر کی حالت ہے۔ یہ دونوں الفاظ جذبہ کے تصور کے مقابلہ میں محدود ہیں۔ جذبات اشتعال کے وضع کا ایک پیچیدہ اورذاتی احساس اوروقوفی تجزیہ ہے۔ جذبات جیسا کہ ہم محسوس کرتے ہیں ہم کو اندر سے جھنجھوڑدیتے ہیں اوراس عمل میں عضویاتی اورساتھ ہی نفسیاتی ردِّاعمال شامل ہوتے ہیں۔

جذبہ ایک ذاتی احساس ہے اورجذبات کا تجربہ ایک شخص سے دوسرے شخص میں مختلف ہوتا ہے۔ جدید نفسیات نے بنیادی جذبات کو پہچاننے کی کوشش کی ہے۔ ایسا پایا گیا ہے کہ کم سے کم چھ جذبات کا تجربہ عام ہے اورجو ہر جگہ پہچانے جاتے ہیں۔ یہ ہیں: غصہ، بے زادی، خوف(ڈر)، خوشی، دُکھ اورتعجب۔ایزارڈ(Izard) نے دس بنیادی جذبات کا ایک مجموعہ تجویز کیا ہے اوروہ ہیں: خوشی، تعجب، غصہ، بے زاری، حقارت یا توہین، خوف، شرمندگی، گناہ، دلچسپی اور ہیجان اوران کے مرکبات دوسرے جذبوں کی شکل میں ظاہر ہوتے ہیں۔ پلوچک(Plutchik) کے مطابق آٹھ بنیادی یا پرائمری جذبات ہیں اوردوسرے سبھی جذبات انہیں بنیادی جذبات کی مختلف آمیزشوں کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ انہوں نے ان جذبات کوچار متضاد جوڑوں میں ترتیب دیا ہے یعنی (1)خوشی، دکھ (2)پسندیدگی۔بیزاری۔(3)خوف۔غصہ ۔ (4)تعجب۔توقع۔

جذبات شدت (زیادہ ،کم) اورصفت (خوش، دُکھ، خوف) میں مختلف ہوتے ہیں۔ ذاتی عوامل اورحالاتی تناظر، جذبات کے تجربہ کو متاثر کرتے ہیں۔ یہ عوامل ہیں صنف، شخصیت اورمخصوص قسم کے نفسیاتی امراض۔ شواہد بتاتے ہیں کہ عورتوں میں مردوں کےمقابلہ میں غصہ کے علاوہ سبھی جذبات کی شدت زیادہ ہوتی ہے۔ مردوں میں شدید غصہ اوراس کی کثرت کا رجحان پایا جاتا ہے۔ جذبات میں یہ جنسی فرق مردوں (مقابلہ کرنا) اورعورتوں (الحاق اورنگہداشت) کے مختلف رول کی وجہ سے ہوتے ہیں۔مردوں کے رول مقابلہ سے متعلق ہوتے ہیں اورعورتوں کے رول تعلق اور شفقت سے متعلق ہوتے ہیں۔


جذبات کی عضویاتی بنیادیں (Physiological Bases of Emotions)

دُردانہ نوکری نہ ملنے کی وجہ سے مایوس ہے۔اُس نے انٹرویو کی بہت اچھی تیاری کی تھی اوراُسے اعتماد بھی تھا لیکن جیسے ہی وہ انٹر ویو کے کمرہ میں جاتی ہے وہ بہت زیادہ تنائو محسوس کرنے لگی۔ اس کے ہاتھ پیر ٹھنڈے ہوگئے اوراس کا دل زورزور سے دھڑکنے لگا اوروہ صحیح جواب دے پانے کے قابل نہیں رہی۔

ایسا کیوں ہوا؟اسی طرح کی کوئی اورحالت جس سے آپ خود گزرے ہوں، سوچنے کی کوشش کیجئے۔ کیاآپ اس کی کوئی ممکنہ وجہ بتاسکتے ہیں؟ جیسا کہ ہم دیکھیں گے جب ہم جذبات کا احساس کررہے ہوتے ہوں توہمارے اندر بہت سی جسمانی یا عضویاتی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔ جب ہم مشتعل ہوتے ہیں، ڈرے ہوتے ہیں، یا غصہ کی حالت میں ہوتے ہیں۔ تب ان عضویاتی تبدیلیوں کا مشاہدہ نسبتاً آسان ہوتا ہے۔ ہم سبھی نے یہ نوٹ کیا ہوگا کہ جب ہم غصہ ہوتے ہیں یا کسی چیز کے ئے مشتعل ہوتے ہیں توہمارے دل کی دھڑکن بڑھ جاتی ہے، کنپٹی میں ارتعاش ہونے لگتا ہے، سانس کی رفتار بڑھ جاتی ہے اوربدن کانپنے لگتا ہے۔ بہت عمدہ قسم کے آلات کے ذریعہ اُن عضویاتی تبدیلیوں کی پیمائش جو جذبات کے ساتھ رونما ہوتی ہیں بالکل صحیح ڈھنگ سے کی جاسکتی ہے۔ دونوں خوداختیاری (autonomic nervous system) اورجسدی نظام عصبی (somatic nervous system) جذبات کے اعمال میں اہم رول اداکرتے ہیں۔ جذبات کا تجربہ بہت سے عصبی عضویاتی اشتعال کی کری کا نتیجہ ہوتا ہے جس میں تھیلمس، زیرین مبدائے اعصاب، اعصابی نظام اورقشرخاص طور سے شامل ہوتے ہیں۔ ایسے اشخاص جن کے دماغ کے ان حصوں میں چوٹ پہنچتی ہے ان کوکمزور جذباتی لیاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پایا گیا ہے۔ دماغ کے چنندہ حصوں میں اشتعال پیدا کرکے بچوں اور بڑوں میں اختباری طور سے مختلف جذبات پیدا کرکے دیکھا گیا ہے۔


باکس 9.2 جذبات کی عضویات

مرکزی نظام عصبی اورحاشیاتی نظامِ عصبی دونوں جذبہ کے نظام میں کلیدی رول اداکرتے ہیں۔

تھیلمس: یہ عصبی خلیات کا ایک گروہ ہوتا ہے جو حسی عصبوں کے نشریات کے مرکزیاریلے سنٹر کا کام کرتا ہے۔ تھیلمس کا اشتعال خوف اورتشویش پیدا کرتا ہے اورخوداختیاری عمل بھی پیدا کرتا ہے۔ کینن اوربارڈ کے ذریعہ 1931ء میں تجویز کردہ جذبہ کا نظریہ جذباتی تجربات اوراسے شروع ہونے کے مابین وساطت مہیا کرنے میں تھیلمس کے رول پر زوردیتا ہے۔

زیرین مبدائے اعصاب: اس کو جذبے کے انتظام کا بنیادی سنٹر مانا جاتا ہے۔ یہ بازتوازنی توازن کا بھی انتظام کرتا ہے۔ خوداختیاری نظام عصبی کے کاموں اورانڈوگرانی غدودوں کے رسائو (secretion) کوکنٹرول کرتا ہے اورجذباتی کردار کے جسدی وضع کو منظم کرتا ہے۔

اعضائی نظام (Limbic system): تھیلمس اورزیرین مبتدائے اعصاب کے ساتھ مل کر اعضائی نظام جذبہ کے انتظام میں کلیدی رول اداکرتا ہے۔ امگڈالا(Amygdala) اعضائی نظام کا ایک ایسا حصہ ہےجس کے ذمہ جذباتی کنٹرول کا کام ہوتا ہے اورجذباتی حافظوں میں ملوث ہوتا ہے۔

قشر: قشر جذبات میں قریبی طور سے شامل ہوتا ہے۔ پھر بھی اس کے نیچے اس کے برعکس دوسرے کام کرتے ہیں۔ بائیں جانب سامنے کا قشر مثبت احساس سے متعلق ہوتا ہے جب کہ داہنے جانب سامنے کا قشر منفی احساس سے متعلق ہوتا ہے۔

49

شکل 9.5: جیمس لانجے نظریہ جذبہ

ڈر یا خوف

بڑھتی ہوئی دل کی دھڑکن اور سانس کی رفتار

سڑک یا حادثہ

جذبہ کا تجربہ

عضویاتی تبدیلیوں کا ادراک

خاص عضویاتی تبدیلیاں

مہیج


جذبہ کے سب سے پہلے نظریات میں سے ایک نظریہ جیمس (James) نے 1884ء میں دیا تھا جس کے لانجے (Lange) نے تائید کی تھی۔ اس لئے اسے جیمس لانجے نظریہ جذبہ (James-Lange Theory of emotion) کہا جاتا ہے۔ دیکھئے شکل 5.9)۔ یہ نظریہ تجویز پیش کرتا ہے کہ ماحولیاتی مہیج احشا (دل اور پھیپھڑوں کی طرح کا اندرونی عضو) سے عضویاتی جوابی اعمال پیدا کرتا ہے جن کا تعلق واپسی میں عضلاتی حرکت سے ہوتا ہے۔ مثلاً ایک غیر متوقع شور سے احشائی اورعضلاتی اعضامیں تحریکی اشتعال پیدا ہوتا ہے جو جذباتی اکساہٹ (اشتعال) کوجنم دیتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں جیمس لائجے نظریہ دلیل پیش کرتا ہے کہ آپ کی جسمانی حرکات کے بارے میں آپ کا ادراک جیسے حادثہ کے بعدتیزی سے چلتی ہوئی سانس، تیز دھڑکن، بھاگتے ہوئے پیر جذباتی اشتعال پیدا کرتے ہیں۔ یہ نظریہ دلیل پیش کرتا ہے کہ مخصوص واقعات یا مہیج خاص جسمانی تبدیلیاں پیدا کرتے ہیں اور فرد کے ذریعہ ان تبدیلیوں کا ادراک ہی محسوس کئے جانے والے جذبہ کو پیدا کرتی ہیں۔

اس نظریہ کی بہت زیادہ تنقید ہوئی۔ اس لئے اب یہ نظریہ مستعمل نہیں ہے۔ دوسرے نظریہ کی تجویز کینن(Cannon) نے 1927ء میں اوربارڈ (Bard) نے 1934ء میں کی۔ کینن بارڈ نظریہ دعوہ کرتا ہے کہ جذبہ کا پورا عمل تھیلمس کی وساطت سے ہوتا ہے۔ جذبہ پیدا کرنے والے مہیج کا ادراک کرنے کے بعد تھیلمس اس اطلاع کواک سات قشر اورڈھانچے کے عضلوں کواوراحساس انگیز عصبی نظام کو بھیجتا ہے۔ اس کے بعددرک مہیج کی نوعیت کا تعین قشر اپنے ماضی کے تجربات کےتناظر میں کرتا ہے۔ اس طرح یہ جذبہ کے ذاتی تجرب کا تعین کرتا ہے۔ اُسی کے ساتھ احساس انگیز عصبی نظام اورعضلے تضویاتی اکساہٹ پیدا کرتے ہیں اورفرد کوقدم اٹھانے کے لئے تیار کرتے ہیں۔ دیکھئے شکل  نمبر 6.9

خوداختیاری نظامِ عصبی (ANA) دونظاموں میں منقسم ہوتا ہے۔ احساس انگیز عصبی نظام اورورائے احساس انگیز عصبی نظام۔ دونوں ساتھ ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں۔ نفسیاتی دبائو کی حالت میں احساس انگیز عصبی نظام جسم کو حالت کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار کرتا ہے۔ یہ دل کی دھڑکن، بلڈ پریشر اوربلڈ شوگر وغیرہ کوکنٹرول کرتے ہوئے فرد کے اندرونی ماحول کو مضبوط بناتا ہے۔ یہ ایک طرح کا عضویاتی اشتعال پیدا کرتا ہےجو فردکودبائو کی حالت سے مقابلہ کرنے یا بھاگنے کے لئے تیارکرتا ہے۔ جیسے ہی خطرہ ختم ہوتا ہے ورائے احساس انگیز عصبی نظام کام کرنا شروع کردیتا ہے اورجسم کو سکون بخش کرکے توازن کوواپس لاتا ہے۔ یہ طاقت کو بازیافت کرتا اوراکٹھا کرتا ہے اورفرد کونارمل حالت میں واپس لاتا ہے۔

50

شکل 9.6: جیمس لانجے، نظریہ جذبہ

مہیج

تھیلمس

احساس انگیزی؍ عصبی نظام عضلے

عضویاتی بدیلیاں جو کام کرنے کے لائق بناتی ہیں

تھیلمس

قشر مغز

جذبہ کا ذاتی تجربہ


باکس3.9 آلہ کذب شناشی

آلات کذب شناسی کو پالیگراف بھی کہا جاتا ہے کیونکہ وہ بہت سے جسمانی ردعمل کا اک ساتھ گرافی ریکارڈ مہیا کرتے ہیں جو فردکے جسمانی اشتعال کی پیمائش کرتے ہیں۔ نمونہ کے طورپر آلۂ کذب شناسی بلڈ پریشر دل کی دھڑکن کی رفتار، سانس کی رفتار اورگہرائی میں تبدیلیوں اورگالوینک جلد ردعمل کی پیمائش کرتا ہے۔ جو جلد کا ردعمل کے الیکٹرک ایصالیت میں تبدیلیوں کوبتاتی ہے۔

جس شخص کاٹسٹ کیا جاتا ہے اس شخص سے شروع میں بہت سے بے تخصیص(کنٹرول) سوالات پوچھےجاتے ہیں جس سے کہ بنیادی سطح طے کی جاسکے۔ آسان سوالات کے بعدمخصوص سوالات پوچھے جاتے ہیں جو اسی طرح پوچھے جاتے ہیں کہ جو گناہ میں ملبوس شخص کے جوابی عمل کی تفتیش کرسکیں۔ آلہ کذب شناشی یا پالیگراف ان عصبی عضویابی کارناموں میں تبدیلیوں کو مندرج کرتا ہے جنہیں مشکوک شخص کے سوالات کے جوابات میں ظاہر ہونے کی امید کی جاتی ہے۔

اگر چہ پالیگراف بہت سارے معروضی ریکارڈ پیش کرتا ہے تاہم ان ریکارڈوں کا تجزیہ پیمائش کرنے والے شخص کے ذاتی فیصلہ پر مبنی ہوتا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ غیر متعلقہ عوامل جودوران پیمائش رونما ہوتے ہیں جیسے خوف، درد اورمحسوس کی گئی تشویش بھی فردکے اشتعال کومتاثر کردے۔ فرد کے لئے یہ ممکن ہے کہ وہ جھوٹ بول دے۔ اس لئے پالیگراف کی بھروسہ مندی کے نتائج مشکوک ہوتے ہیں۔ تب بھی ان کا استعمال قانون کی حفاظت کرنے والی ایجنسیاں جھوٹ کا پتہ لگانے کے لئے کرتی ہیں۔


اگرچہ ایک دوسرے کی مخالف ڈھنگ میں کام کرتے ہیں۔ پھر بھی احساس انگیز عصبی نظام اورورائے احساس انگیز عصبی نظام جذبہ کے عمل کو محسوس کرنے اوراس کو ظاہرکرنے میں ایک دوسرے کے معاون کی شکل میں کام کرتے ہیں۔


جذبات کی وقوفی بنیادیں (Cognitive Bases of Emotions)

آج زیادہ ترماہرینِ نفسیات یقین کرتے ہیں کہ ہمارے وقوف یعنی ہمارا ادراک، حافظہ اورتجزیہ جذبات کے لازمی جزوِ ترکیبی ہیں۔اسٹینلے شیکٹر اورجروم سنگر(Stanly Schachter and Jerome Singer) نے دوعوامل کے نظریے(two-fator theory) کی تجویز کی ہے۔ جس میں جذبات کے دوجزو یعنی جسمانی اشتعال اوروقوفی نشاندہی یا لیبل بتائے گئے ہیں۔انہوں نے فرض کیا ہے کہ جذبہ کا ہمارا تجربہ ہمارے موجودہ اشتعال کی واقفیت سے بڑھتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی مانا ہے کہ سبھی جذبات عضویاتی طور پر یکساں ہوتے ہیں۔ مثال کے طورپر جب آپ مشتعل یا غصہ میں ہوتے ہیں یا خوف زدہ ہوتے ہیں تودونوں حالتوں میں آپ کے دل کی دھڑکن بڑھ جاتی ہے۔ آپ عضویاتی طور پر مشتعل ہوتے ہیں اورتشریح کے لئے باہر ماحول کی طرف دیکھتے ہیں۔ اس طرح ان کی رائے میں جذباتی تجربہ اشتعال کی دانستہ تشریح چاہتا ہے۔

اگر آپ جسمانی کسرت کے بعد متحرک ہوجاتے ہیں اورآپ کو کوئی چڑھاتا ہے توکسرت سے پیدا شدہ تحریک اشتعال میں تبدیلی ہوجاتی ہے۔ اپنے نظری کوٹسٹ کرنے کے لئے شیکٹر اورسنکر (Schachter ans Singer 1962) نے فاعلون کو ایپپھرائن (Epinephrine) کا انجکشن دیا جوایک دواہوتی ہے اوربہت زیادہ اشتعال پیدا کرتی ہیں۔ اس کے بعدان فاعلوں کو ایسے لوگوں کے کردار کا مشاہدہ کرنے کو کہا گیاجو یا تومریضانہ طور پر بشاش تھے(یعنی کورے کی ٹوکری پر کاغذکےنوکیلے ٹکڑے پھینک رہے تھے) یا غصہ کی حالت میں تھے(یعنی پیر پٹختے ہوئے کمرے سے باہر جارہےتھے) جیسا کہ متوقع تھا دوسروں کے مشتعل اورغصہ کے کردار کی وقوفی تشریح فاعلوں کے خود کے اشتعال سے متاثر پائی گئی۔


جذبات کی ثقافتی بنیادیں (Cultural Bases of Emotions)

اب تک ہم کردار کی عضویاتی اوروقوف بنیادوں کا تجزیہ کررہے تھے۔باب کے اس حصہ میں ہم جذبات میں ثقافت کےرول پر غورکریں گے۔ مطالعات کے نتائج بتاتے ہیں کہ زیادہ ترجذبات پیدائشی ہوتے ہیں اورانہیں سیکھنے کی ضرورت نہیں پڑتی ہے۔ ماہرین نفسیات کی اکثریت کا یہ خیال ہے کہ جذبات کا خاص طور سے چہرے کے اظہار سے گہرا جسمانی تعلق ہوتا ہے۔ مثال کے طورپر وہ بچے جن کی بصارت پیدائشی طور پر کمزورہوتی ہے اورجنہوں نے مسکراہٹ کا کبھی مشاہدہ نہیں کیا ہے اوردوسروں کے چہروں کونہیں دیکھا ہے پھر بھی وہ  ان بچوں کی طرح مسکراتے ہیں جن کی بینائی ٹھیک ہوتی ہے۔

لیکن مختلف ثقافتوں کا موازنہ کرنے پر ہم دیکھتے ہیں کہ آموزش جذبات میں کلیدی رول اداکرتی ہے۔ ایسا دوطرح سے ہوتا ہے۔ پہلا، ثقافتی آموزش جذبات کے اظہار کو اس سے کہیں زیادہ متاثر کرتی ہے جتنا کہ تجربہ کیا گیا ہے۔ مثال کے طورپر کچھ ثقافتیں جذبات کےاظہار کی آزادی کی ہمت افزائی کرتی ہیں جب کہ دوسری ثقافتیں ماڈلنگ اورتقویت کے ذریعہ اپنے جذبات کو پبلک میں چھپاناسکھاتی ہیں۔

دوسرے، آموزش بہت زیادہ حد تک ان مہیجوں کو متاثرکرتی ہے جوجذبات ردعمل پیدا کرتے ہیں۔ یہ پایا گیا ہےکہ وہ لوگ جن کے اندر لفٹوں(اوپرلانے لے جانے والا زینہ) یا اونچائی پر جانے کا بیجا خوف ہوتا ہے وہ ان ڈروں کوماڈلنگ، کلاسیکی التزام یا احترازی التزام کے ذریعہ سیکھ لیتے ہیں۔


جذبات کا اظہار(Expression of Emotions)

کیا آپ جانتے ہیں کہ آ پ کا دوست خود ہے یا اداس ہے یا وہ نہ توخوش ہے اورنہ ہی غمگین؟کیا وہ آپ کے احساسات سمجھتا؍سمجھتی ہے؟ جذبہ ایک اندرونی تجربہ ہ جسے بالواسطہ طور پر نہیں دیکھا جاسکتا ہے۔ جذبات کولفظی یا غیر لفظی اظہار سے اخذ کیا جاتا ہے۔ یہ لفظی اورغیر لفظی مظاہرے ترسیل کے راستوں کے طور پر کام کرتے ہیں اورکسی شخص کو اپنے جذبات اوردوسر کے جذبات کوسمجھنے کے لائق بناتے ہیں۔

51

شکل :9.7 شیکٹرسِنگر کا نظریہ جذبات

درج کیا گیا باہری مہیج

عضویاتی اشتعال

وقوفی لیبلنگ

جذبہ کا تجربہ


ثقافت اورجذباتی اظہار (Culture and Emotional Expression) 

ترسیل کا لفظی راستہ بولے گئے الفاظ اوربیان کے دوسرے اوصاف جیسے رفتار، آہنگ، آواز کی اونچائی وغیرہ سے بنتا ہے۔ آواز کے ان غیر لفظی حصوں اوربیان کی مکانی خصوصیات کو ’ورائے زبان (Para-Language) کہا جاتا ہے۔ دوسرے غیر لفظی راستوں کے اندر چہرہ کے ذریعہ اظہار، حرکی (حرکت، اندازِ نشست، جسمانی حرکات وسکنات وغیرہ) اورقربت (آمنے سامنے کے تفاعل میں جسمانی دوری) کے کردار شامل ہیں۔

چہرے کے ذریعہ جذبات کا اظہار جذباتی ترسیل کا سب سے عام راستہ ہے۔ چہرہ کے ذریعہ ظاہر کی گئی معلومات کی مقدار اورقسم کا اندازہ لگانا آسان ہے کیونکہ چہرہ مکمل طور سے دوسروں کے سامنے کھلی کتاب کی طرح ہوتا ہے۔ چہرے کا اظہار ہماری روزمرہ کی زندگی میں اہم کردار اداکرتا ہے۔ کچھ ریسرچ کی شہادتیں ڈارون (Darwin) کےنقطۂ نظر کی تائید کرتی ہیں کہ بنیادی جذبات (خوشی، ڈر، غصہ، بے زاری، دُکھ اورتعجب) کے لئے چہرہ کا اظہار پیدائشی اور عالمگیر ہوتا ہے۔

جسمانی حرکات جذبات کی ترسیل اورآسان بناتی ہیں۔ کیاآپ جب غصہ میں ہوتی ہیں اورجب آپ شرم محسوس کرتے ہیں دونوں کے درمیان اپنے جسمانی حرکات میں فرق کو محسوس کرسکتے ہیں؟ تھیٹر اورڈرامہ ترسیل جذبات میں جسمانی حرکات کے اثرات کو سمجھنے کا سب بہتر موقع فراہم کرتے ہیں۔ کردار میں حرکات وسکنات اورقربت بھی اہم رول اداکرتے ہیں۔ آپ نے کلاسیکی ہندوستانی ڈانس جیسے بھرت ناٹیم، اوڈیسی، کوچی پوڑی، کتھک وغیرہ دیکھے ہوں گے اُن میں جذبات آنکھوں، ٹانگوں اورانگلیوں کی حرکات کی مدد سے ظاہر کئے جاتے ہیں۔ رقص کرنے والوں کو خوشی، دکھ، پیار، غصہ اوردوسرے طرح کے جذباتی حالات کا مظاہرہ کرنے کے لئے جسمانی اور غیر لفظی ترسیل کے قواعد میں بہت سختی سے ٹریننگ دی جاتی ہے۔

جذبہ میں شامل اعمال ثقافت سے متاثر ہوتے ہیں۔ حالیہ ریسرچ خاص طور سے جذبات میں ثقافتی مخصوصیت اورعالمگیری کے سوال سے متعلق ہوئے ہیں۔ زیادہ ترتحقیقاتی کام جذبات کے چہرے کے اظہار کے ذریعہ سے متعلق ہیں کیونکہ چہرے کا مشاہدہ کھلا ہوا، آسان اورنسبتاً پچیدگی سے مبرّا ہوتا ہے جو جذبات کے ذاتی تجربہ اورکھلے اظہار کے درمیان تعلق مہیا کرتا ہے۔ تب بھی یہ یاد رکھنے کی بات ہے کہ جذبات صرف چہرے کے ذریعہ ہی ظاہر نہیں کئے جاتے ہیں بلکہ محسوس کیاہوا جذبہ دوسرے غیر لفظی ذرائع جیسے گھورنا، حرکات وسکنات، ورائے زبان، قربت کے کردار وغیرہ کے ذریعہ بھی جذبات کی اطلاع دی جاسکتی ہے۔ حرکات وسکنات (جسانی زبان) کے ذریعہ جذباتی معنی کا اظہار ایک ثقافت سے  دوسری ثقافت میں مختلف ہوتا ہے۔ مثال کے طورپر چین میں تالیاں بجانا تشویش یا غیر اطمینانی کا اظہار ہے اورغصہ ہنسی کے ذریعہ ہی ظاہر کیاجاتا ہے۔ خاموشی کے بھی مختلف ثقافتوں میں مختلف معنی لئے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہندوستان میں گہرے جذبات کبھی کبھی خاموشی کے ذریعہ جتائے جاتے ہیں۔ مغربی ممالک میں خاموشی گفتگو کے دوران پریشانی کو بتاتی ہے۔ گھونے کے کردار میں بھی ثقافتی اختلافات پائے گئے ہیں۔ ایسا پایا گیا کہ لیٹن امریکی اورجنوبی یوروپ کے لوگ باہمی تفاعل کے دوران تفاعل کرنے والے کی آنکھوں میں آنکھیں گڑادیتے ہیں۔ ایشیا کے لوگ خاص کر ہندوستانی اورپاکستانی باہم تفاعل کے دوران چھچھلی نظر(تفاعل کرنے والے شخص سے دوردیکھنا) کو پسند کرتے ہیں۔ جسمانی جگہ کے (قربت) بھی جذباتی گفتگو کے دوران مختلف معنی ہوتے ہیں۔ دراصل جسمانی قربت میں چھونے کا کردار جذباتی گرمی کو ظاہر کرتا ہے۔مثال کے طورپر ایسا دیکھا گیا ہے کہ عربی لوگ شمالی امریکی لوگوں سے تفاعل کے دوران اجنبیت کا تجربہ کرتے ہیں کیونکہ امریکی لوگ حیطۂ شامہ سے (بہت قریب) باہررہ کرتفاعل کرنا پسند کرتے ہیں یعنی بہت قریب سے امریکی لوگ  بات چیت کرنا اچھانہیں سمجھتے جو عربی لوگوں کے لئے اجنبیت کی نشانی ہے۔

52

شکل 9.8 : جذبات کے چہرہ کے ذریعہ مظاہرہ کی تصویریں

دکھی

خوش

غصہ

خوف


سرگرمی 9.3:

جذباتی مظاہرے شدت اورقسم میں مختلف ہوتے ہیں۔ اپنے خالی وقت میں پرانی میگزینوں اوراخبارات سے مختلف جذبات کو ظاہر کرتے ہوئے، مختلف اشخاص کی تصویریں اکٹھا کیجئے۔ ان تصویروںکو کارڈ بورڈ کے ٹکڑوں پر چسپا کیجئے اوران پر نمبر شماری کیجئے۔ آپ اس طرح مختلف جذبات کے اظہار کے کارڈوں کا ایک مجموعہ تیارکرسکتے ہیں۔ اس کام میں اپنے دوستوں کوشامل کیجئے۔ ان کارڈوں کو اپنے دوستوں کے سامنے یکے بعد دیگرے رکھئے اورانہیں کارڈوں پر ظاہر کئے گئے جذبات کو پہچاننے کے لئے کہیئے۔ اوران کے جوابات نوٹ کیجئے اوردیکھئے کہ ایک ہی جذبہ کو پہچاننے میں ان میں کس قدر اختلاف ہے۔ آپ ان تصویروں کو مختلف زمروںمیں رکھنے کے لئے اپنے دوستوں سے مثبت اورمنفی شدید اورہلکا وغیرہ زمروں کا استعمال کرنے کے لئے بھی کہہ سکتے ہیں۔ یہ نوٹ کرنے کی کوشش کیجئے کہ لوگ کس طرح ایک ہی جذبہ کے اظہار میں ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔ ایسے اختلاف کی کیا وجوہات ہوسکتی ہیں؟ اپنی کلاس میں بحث کیجئے۔

ثقافت اورجذباتی نشاندہی (Culture and Emotional Labeling)

بنیادی جذبات تفصیل اورزمرہ بندی کی نشان دہی کی وسعت میں بھی مختلف ہوتے ہیں۔ انگریزی لفظ اینگر (Anger) کوبتانے کے لئےتاہیتی (Tahitian) زبان میں 46 نشانات یا لیبل ہیں۔شمالی امریکی لوگوں سے جب آزادانہ طور پر نشاندہی کرنے کے لئے کہا گیاتوانہوں نے غصہ کے جذبہ کے چہرے سے اظہار کے لئے چالیس (40)مختلف جوابی اعمال کا استعمال کیا اورحقارت کے جذبہ کے چہرے سے اظہار کے لئے اکیاسی (81)جوابی اعمال ا ستعمال کیا۔جاپان کے لوگ خوشی کے اظہار کی نشاندہی کے لئے دس(10) نشانوں کا، غصہ کی نشاندہی کے لئے آٹھ(8) اوربیزاری کی نشاندہی کے لئے چھ (6) نشانوںکا استعمال کرتے ہیں۔ پرانے چینی لٹریچر میں سات(7) جذبات یعنی خوشی، غصہ ،دُکھ، ڈر، پیار، ناپسند اورپسند کاذکر ملتا ہے۔مغربی لٹریچر میں کچھ جذبات جیسے خوشی، دُکھ،ڈر،غصہ اوربے زاری کو بنیادی انسانی جذبات کا درجہ حاصل ہے۔ حیرت، شرم، گناہ اورتوقع کوسب لوگ بنیادی جذبات نہیں مانتے ہیں۔

مختصراً یہ کہا جاسکتا ہے کہ کچھ ایسے بنیادی جذبات ہیں جوثقافتی اورنسلی تفریق کے باوجود سب کے ذریعہ ظاہر کئے جاتے ہیں اورسمجھے جاتےہیں۔ لیکن کچھ ایسے جذبات بھی ہیں جو مخصوص ثقافت میں مخصوص ہوتے ہیں۔یہ یادرکھنے کی بات ہے کہ جذبات کےاعمال میں ثقافت اہم رول ادااکرتی ہے۔ جذبے کا احساس اوراس کا اظہار دونوں مخصوص ثقافتی اصولوں کے ذریعہ ثالث اورترمیم کئے جاتے ہیں جن میںان کو ظاہر کیا جاتا ہے اورجس شدت سے ان کااظہار کیاجاسکتا ہے۔

منفی جذبات کا بندوبست (Managing Negative Emotions)

کسی دن اس طرح رہنے کی کوشش کیجئے کہ جس دن آپ کس جذبہ کا احساس نہ کریں۔ آپ کو اندازہ ہوگا کہ بغیر جذبات کے زندگی کا تصور مشکل ہے۔ جذبات ہماری روزمرہ کی زندگی اورہمارے وجود کا حصہ ہیں۔ وہ ہماری زندگی اورباہمی تعلقات کا تانا بانا بناتے ہیں۔

جذبات ایک مسلسل پیمانے پر موجود ہوتے ہیں۔ جذبہ کی بہت سی شدتیں ہوتی ہیں جن کا ہم احساس کرسکتے ہیں۔ آپ بہت زیادہ یا بہت تھوڑی خوشی محسوس کرسکتے ہیں۔ اسی طرح بہت زیادہ غم یا ذرا سی غمگینی کا احساس کرسکتے ہیں۔ تاہم ہم میں سے زیادہ ترلوگ جذبات میں توازن رکھتے ہیں۔

جب لوگوں کا کشاکشی حالات سے سابقہ پڑتا ہے تواس سے مطابقت کرنے کی کوشش کرتے ہیں اوریا توکام یا پھر دفعاً رخی ردعمل کے ذریعہ اس سے نپٹنے کی ترکیب کا سہارا لیتے ہیں۔ نبٹنے کے یہ طریقے غیر طبعی جذباتی رد اعمال جیسے تشویش اورافسردگی سے لوگوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ تشویش ایک ایسی حالت ہے جسے کوئی شخص فیل ہوجانے پرانا کی دفاع کے لئے خودپیدا کرلیتا ہے۔مثلاً اگرکوئی شخص اپنے غیر اخلاقی کام (جیسے دھوکہ دینے، چوری کرنے) کے لئے تاویلی حیلہ کا سہارالے پانے میں ناکام ہوجاتا ہے تووہ اپنے غیر اخلاقی کام کے نتیجہ سے متعلق اپنے اندر ایک شدید تشویش پیدا کرسکتا ہے۔ پرتشویش شخص کو اپنا دھیان جمانے یاچھوٹے سے چھوٹے معاملہ میںبھی فیصلہ لینے میں مشکل ہوتی ہے۔

افسردگی کی حالت انسان کے استدلالی ڈھنگ سے سوچنے، حقیقت پسندی سے محسوس کرنے اورموثر ڈھنگ سے کام کرنے کی قابلیت متاثر ہوتی ہے۔ افسردگی کی حالت انسان کے موڈ پر قبضہ جمالیتی ہے۔ اس کی مستقل نوعیت کی وجہ سے اس انسان کے اندرجو افسردگی کاشکار ہوتا ہے مختلف طرز کی علامتیں جیسے نیند کا نہ آنا، نفسی حرکی اشتعال کی سطح کا بڑھ جانا یا کم ہوجانا، سوچنے سمجھنے اوردھیان جمانے کی لیاقت میںکمی اورخوداپنے سماجی کاموں میں دلچسپی کا ختم ہوجانا وغیرہ رونماہوتی ہیں۔

ہماری روزمرہ کی زندگی میں ہم اکثر کشاکشی کے حالات کا سامنا کرتے ہیں۔ نامساعد اورپردبائو حالات میں بہت سے منفی جذبات جیسے خوف، تشویش، بے زاری وغیرہ آدمی کے اندرکافی حد تک پیدا ہوجاتے ہیں۔ اگرایسے منفی جذبات لمبی مدت تک بنے رہتے ہیں توانسان کی نفسیاتی اورجسمانی صحت کو بہت منفی طور پرمتاثر کرسکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ زیادہ تردبائو کے بندوبست کے پروگراموں میں جذبات کے بندوبست کودبائو کے بندوبست کا ایک اہم حصہ مانا جاتا ہے۔ جذبات کے بندوبست کی تکنیکوں خاص مرکوز کا منفی جذبات کو کم اورمثبت جذبات کو بڑھانا ہوتا ہے۔

اگر چہ زیادہ محققین نے صرف منفی جذبات جیسے غصہ، خوف، تشویش وغیرہ پر ہی اپنا دھیان دیا ہے لیکن حال ہی میں ’مثبت نفسیات‘(Positive Psyohology) کے میدان نے کافی شہرت حاصل کرلی ہے۔ جیسا کہ اس کے نام سے ظاہر ہے مثبت نفسیات کا تعلق ان خصوصیات کے مطالعہ سے ہے جو زندگی کو اُمید، خوشی، تخلیق، ہمت، رجائیت بشاشت وغیرہ سے مالا مال کرتی ہیں۔

باکس 9.4 ما بعد صدماتی دبائو کی بدنظمی (Post-Tranmatic Stress Disorder)

کوئی بھی ناگہانی آفت انسانی سماجی کارکردگی میں تشویشناک رکاوٹ پیدا کرتی ہےجس کے نتیجے میں بہت زیادہ سازوسامان اورماحولیاتی نقصان رونما ہوتے ہیں اور جس کی بھرپائی موجودہ وسائل کے ذریعہ فوراً نہیں کی جاسکتی ہے۔ آفت قدرتی (جیسے زلزلہ، سائیکالون، سنامی) ہو سکتی ہے یا آدمیوں کے ذریعہ پیدا کی ہوئی ہوسکتی ہے(جیسے جنگ)۔ آفت کے دوران فردجس صدہ کا احساس کرتا ہے ان میں ایسے وقعات کا صرف ادراک ہوسکتا ہے یا ایسے حالات سے وقعتاً سامنا ہوسکتا ہے جو جان لیوا ہوسکتے ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی حالت مابعد صدماتی دبائوکی بدنظمی پیداکرسکتی ہے جس کے اندر فرد کے ذہن میں یکایک تجربہ کی کوندواپس آسکتی ہے۔ اس کی وجہ سے بہت زیادہ وقفہ گذرجانے کے بعدبھی فرد کے خیال میں وہ واقعہ گھر کرسکتا ہے۔ یہ  حالت فرد کو جذباتی طور پر ہلادیتی ہے اوروہ روزمرہ کے کاموں میں نپٹنے کے مناسب طریقوں کو اپنا پانے میں ناکام ہوجاتا ہے۔ جذبات عجب طرح کے نقص مطابقتی کردار(جیسے افسردگی) اورخوداحتیاری اشتعال کے ساتھ ظاہر ہوتے ہیں۔


ماڈرون زمانہ میں جذبے کا پُراثربندوبست پراثرسماجی زندگی کے کاموں میں ایک کنجی کا کام کرتی ہے۔ حسب ذی چھوٹی چھوٹی ترکیبیں جذبات کے توازن کو بنائے رکھنے میں معاون ثابت ہوسکتی ہیں۔

خودآگہی کو بڑھانا: اپنے جذبات اوراحساسات کے بارے میں جانیئے۔ اپنے احساسات کے ’کیسے‘ اور’کیوں‘ کے بارے میں بصیرت حاصل کیجئے۔

حالت کا معروضی جائزہ: یہ تجویز دی گئی ہے کہ جذبہ واقعہ کے تجزیہ کے بعدپیدا ہوتا ہے۔ اگرواقعہ کو تجربہ کو خلل کے طورپر محسوس کیا گیا ہے توآپ کے احساس انگیز عصبی نظام کا کام بڑھ جاتا ہے اورآپ غمگین محسوس کرتے ہیں۔ اگرآپ واقع کو مخل نہیں محسوس کرتے ہیں توکوئی غم پیدا نہیں ہوتا ہے۔ اس لئے آپ خودہی یہ طے کرنے والے ہیںکہ آپ غمگین رہنا چاہتے ہیں، تشویش محسوس کرنا چاہتے یا خوشی اوراطمینان۔

خود کو روکنے کا انتظام کرنا: اس کے اندر مسلسل یاوقتاً فوقتاً اپنے ماضی کی حصولیابی، جذباتی اورجسمانی حالت، اصل اورنِیابتی (بالواسطہ)تجربات کی پیمائش قدرشامل ہوتی ہے۔ مثبت پیمائش قدرآپ کے اپنے تئیں یقین کوبڑھائیں گے جس سے آپ کے اندر صحت مند ہونے اورقناعت کے احساسات جاگیں گے۔

خود کی ماڈلنگ میں اپنے کو سب سے مشغول رکھیں: آپ خوداپنے لئے آئیڈیل بنیئے۔ اپنے ماڈل کی سب سے اچھی کارکردگی کا مشاہدہ بار بار کیجئے اورمستقبل میں ان سے اوربہتر کرنے کی تخلیقی تحریک اورمحرک حاصل کیجئے۔

ادراک کی دوبارہ تشکیل اوروقوف کی دوبارہ وضعداری: واقعات کو دوسری طرح سے دیکھنے کی کوشش کیجئے اورسکہ کے دوسرے پہلو کو نظرمیں رکھیئے۔ مثبت اوردوبارہ امید پیدا کرنے والے احساسات کو بڑھانے کے لئے اپنی سوچ کی دوبارہ تشکیل کیجئے اورمنفی سوع کواپنے سے دورہٹائیے۔

تخلیقی بنیئے: وقت گذاری کا اچھا طریقہ پیداکیجئے اوراس میں دلچسپی لیجئے۔ ایسے کام میں مشغول رہیئے جس میں آپ کی دلچسپی ہو اور جس میں آپ کو مزہ آتا ہو۔

اچھے تعلقات پیدا کیجئے اورانہیںپروان چڑھائیے: بڑےاحتیاط سے اپنے دوستوں کا انتخاب کیجئے۔ خوش اورخوش مزاج دوستوں کے ساتھ عام طورپر آپ اپنے کوخوش پائیں گے۔


باکس9.5 امتحان سے متعلق تشویش کا بندوبست

ہم میں سے بہت سے لوگوں کے لئے امتحان آنے پرپیٹ دردیا سردرد شروع ہوجاتا ہے۔دراصل سب سے پہلے لوگوں کے لئے ایسا کام یا کارکردگی جس کی پیمائش ہونے والی ہوتی ہے تشویش کن ہوتی ہے۔ ایک مخصوص سطح کی تشویش ہماری بہترکارکردگی کے لئے یقیناً ضروری ہوتی ہے لیکن اونچی سطح کی تشویش ہمارے کاموں اوربہترین تحصی میں روکاوٹ پیدا کرتی ہے۔ پریشان شخص عضویاتی اورجذباتی طور سے بہت زیادہ مشتعل ہوتا ہے۔ اس لئے اپنی قابلیت کی بہترین کارکردگی کے مطابق وہ کام کرنے کے لائق نہیں ہوتا ہے۔

امتحان دبائو پیدا کرنے کی اہلیت رکھنے والی حالت ہے اوردوسرے پر دبائو حالات کی طرح اس میں بھی دوطرح کی عہدہ برآوریا نبٹنے کی حکمت عملی پنہاں ہوتی ہیں: یعنی مانیٹرنگ یا موثرکام(Monitoring effective action) اواکھڑپن(Blunting) یا حالات سے احتراز۔

مانیٹرنگ کے اندر پردبائو حالت سےنپٹنے کے لئے موثر اوربالواسطہ عمل کیا جاتا ہے۔ مانیٹرنگ کے لئے حسب ذیل تراکیب استعمال کی جاسکتی ہیں:

اچھی تیاری کرنا: امتحان کے لئے اچھی تیاری کیجئے اوراچھی تیاری کافی پہلے سے کیجئے۔ اس کے لئے وافر وقت دیجئے۔ سوالنامے کی وضع اوربار بار پوچھے گئے سوالات سے مانوسیت پیدا کیجئے۔ یہ آپ کو اچھی پیشین گوئی کا احساس مہیا کرے گااور امتحان کے دبائو کی طاقت کوکم کرے گا۔

ریہرسل کیجئے: خودکوایک بنائوٹی امتحان سے گذاریئے یعنی آپ مصنوعی امتحان دیجئے۔ اپنے دوستوں سے اپنے علم کو جانچنے کے لئے کہیئے۔ آپ ذہنی طور سے خودبھی ریہرسل کرسکتے ہیں۔ اپنے آپ کو مکمل طور سے آرام اوربھروسہ کی حالت میں امتحان دیتے ہوئےسوچیئے اورپھر خوش رہئے۔

سیراب کرنا(Inoculation): اپنے آپ کودبائو کے خلاف سیراب کیجئے۔ ریہرسل اورامتحان دینے کے طریقہ سے مانوسیت آپ کو امتحان کی حالت کا مقابلہ کرنے کے لئے جسمانی اوردماغی طور سے بہترتیارکرتی ہے اوراعتماد پیدا کرتی ہے۔

مثبت تفکیر: اپنے اندریقین پیداکیجئے۔ ان تفکیروں کی منظّم طور سے فہرست بنائیے۔ جن سے آپ پریشان ہوتے ہیں اورپھر ان سے یکے بعددیگرے استدلالی طور پرنپٹئیے۔ اپنی خوبیوں پر زور دیجئے۔ اپنے آپ کو مثبت اورحوصلہ مند پائیں گے۔

مدد مانگیئے: اپنے دوستوں، والدین، اساتذہ اورسینئرس سے مدد مانگنے میں ہت ہچکچائیے۔ اپنے قریبی شخص سے دبائو کی حالت کے بارے میں بات کرنے سے آپ سکون محسوس کریں گے اوراس سے آپ کو بصیرت حاصل ہوگی۔ ہوسکتا ہے حالات اتنے بُرے نہ ہوں جتنے برے آپ کو لگ رہے ہیں۔

دوسری طرف اکھڑپن(Blunting) کی تراکیب میں پردبائو حالت سے احتراز شامل ہوتا ہے۔ سچا احتراز امتحان کی حالت میں نہ تواچھا ہوتا ہے اورنہ ہی ممکن ہے۔لیکن پھر بھی حسب ذیل تراکیب مفید ثابت ہوسکتی ہیں۔

آرام(Relaxation):آرام کرنا سیکھئیے۔ آرام کرنے کی تراکیب آپ کی نسوں کوآرام پہنچاتی ہیں اورآپ کو آپ کی تفکیر کو دوبارہ منظم کرنے کے مواقع فراہم کرتی ہیں۔ اس میںعام طور سے بیٹھنا یا پرسکون جگہ پر آرام سے لیٹنا، اپنے اعضاء اورعضلا کو آرام دینا اورڈھیلا چھوڑدینا، باہری اُکساہٹ کو کم کرنا، ساتھ ہی تفکیرکے بہائو کوکم کرنا اورجمانا وغیرہ شامل ہیں۔

کسرت(): دبائو کی حالت احساس انگیز عصبی نظام کو ضرورت سے زیادہ مشتعل کردیتی ہے۔ کسرت بچی ہوئی توانائی کو دوسری طرف موڑدیتی ہے۔ تھوڑے وقت کے لئے ہلکی کثرت یا پھرتیلا کھیل آپ کے مطالعہ میں آپ کو آپ مطالعہ میں دھیان جمانے میں مددپہنچائے گا۔


دوسروں کے احساسات کو محسوس کیجئے: دوسروں کے احساسات کو بھی سمجھنے کی کوشش کیجئے۔ اپنے تعلقات کو پرمعنی اورقیمتی بنائیے۔ دوسروں سے برابر کی مددتلاش کیجئے اورانہیں مدددیجئے۔

کمیونٹی خدمات میں حصہ لیجئے: دوسروں کی مددکرکےخودکی مددکیجئے۔ کمیونٹی کی خدمات(جیسے ذہنی طور پر معذوربچہ کو مطابقتی مہارت کو سیکھنے میں مدد) کرکے آپ کو خودکی مشکلات کے بارے میں اہم بصیرت حاصل ہوگی۔

کارکردگی 9.4:

ایک بے حدشدید جذباتی تجربہ کے بارے میں سوچئے جس سے آپ حال ہی میں گذرے ہوں اورواقعات کے تسلسل کی تشریح کیجئے۔ آپ اس کے ساتھ کیسے پیش آئے اوراس کا مقابلہ کس طرح کیا؟ اپنی کلاس کو اس میں شامل کیجئے۔

باکس9.6 جذباتی ذہانت(Imotional Intelligence)

جذبے کا اظہار اپنے تئیں اوردوسروں کے لئے جذبات کے بندوبست پر منحصر ہوتا ہے۔ جو لوگ اپنے اوردوسروں کے جذبات سے مانوس ہوتے ہیں اوراسی حساب سے اپنے جذبات کا بندوبست کرتے ہیں، انہیں جذباتی طور پر ذہین کہا جاتا ہے۔ جو لوگ ایسا کرنے میں ناکام رہتے ہیں وہ لوگ بہک جاتے ہیں اوران کے اندرغلط جذبات گھر کرجاتے ہیں جس کے نتیجے میں وہ کسی نا کسی نفسیاتی بیماری کا شکار ہوجاتے ہیں۔

جذباتی ذہانت سے ہمارا مطلب اپنے اوردوسروں کے جذبات کو مانیٹر کرنے، ان میں تمیز کرے اوراطلاعات کے مطابق اپنی سوچ یا تکفیر اورکاموں کی رہنمائی کی صلاحیت ہے، (Mayer & Solovey, 1999)۔

جذباتی ذہانت کا تصورذاتی بین شخصی عناصر سموئے ہوئے ہے۔ بین ذاتی عنصر کے اندرخودآگہی( منفی جذبات اوراضطراریوں کو کنٹرول میں رکھنے کی اہلیت) کے عوامل خودکی محرک قوت، پریشانیوں کے باوجود تحصیل کی محرک قوت، مقصد کو حاصل کرنے کی مہارتیں پیدا کرکےاورصحیح موقع پر فائدہ اٹھاکر کے شامل ہیں۔ جذباتی ذہانت کے بین ذاتی اوربین شخصی عناصر کے اندردوجزوآتے ہیں: سماجی آگہی(دوسروں کے احساسات کی آگہی اوران کی تعریف کرنے کا میلان) اورسماجی چابکدستی(سماجی مہارتیں جودوسروں کے ساتھ مطابقت کرنے میں مددکرتی ہیں جیسے ٹیم بنانا، کشاکش کو منظّم کرنا، مواصلات کی مہارت وغیرہ)

اپنے غصہ کا بندوبست (Managing your Anger)

غصہ ایک منفی جذبہ ہے۔یہ دماغ کو خود سے دورلے جاتا ہے یا دوسرے الفاظ میں غصے کے دوران آدمی اپنے کرداری تفاعلوں کا توازن کھودیتا ہے۔غصے کاسب سے اہم سرچشمہ احساسِ نامرادی ہے۔ تاہم غصہ اضطراریہ نہیں بلکہ یہ تکفیر کا نتیجہ ہے۔ نہ یہ اپنے آپ آتا ہے اورنہ ہی ناقابل کنٹرول ہے۔ بلکہ یہ خود سے اپنے اوپرتھوپاہوا انتخاب ہے جسے آدمی خود چنتا ہے۔ غصہ آپ کی سوچ کا نتیجہ ہے اوراس لئے آپ خود صرف اپنے خیالات کے ذریعہ ہی اس پر قابوپاسکتے ہیں۔ غصے کے بندوبست کے کچھ نکات حسب ذیل ہیں:

اپنے خیالات کی طاقت کو پہچانیئے۔

احساس کیجئے کہ صرف آپ ہی اسے کنٹرول کرسکتے ہیں۔

آپ اپنے آپ ایسی بات مت کیجئے جس سے آپ خودجل جائیں۔ منفی احساسات کو بڑھاچرھاکر مت دیکھیئے۔

دوسروں سے بدنیتی نہ کیجئے اوران کے ساتھ غلط محرکات وابستہ مت کیجئے۔

لوگوں اورواقعات کے بارے میں بکواس خیالات سے احتراز کیجئے۔

اپنے غصہ کو تعمیری شکل میں ظاہر کرنے کی کوشش کیجئے۔ جس غصہ کو آپ ظاہرکرنا چاہتے ہیںاس کی شدت اوروقفہ پر قابو پانے کی کوشش کیجئے۔

غصہ پر قابو کے لئے خوداپنے اندرجھانکیئے باہر نہیں۔

اپنے آپ میں تبدیلی لانے کے لئے وقت دیجئے۔ عادت بدلنے کے لئے کوشش اوروقت درکار ہوتے ہیں۔


مثبت جذبات کو بڑھانا(Enhancing Positive Emotions)

ہمارے جذبات کاایک مقصد ہوتا ہے۔وہ ہمیں ہمیشہ تبدیل ہوتے رہتے ماحول کے ساتھ مطابقت کرنے میں ہماری مدد کرتے ہیں اورہماری زندگی اورفلاح کے لئے اہم ہوتے ہیں۔ منفی جذبات جیسے خوف، غصہ اوربے زاری ہمیں ذہنی اورجسمانی طور پرخوف پیدا کرنے والے مہیجوں سے مقابلہ کرنے کے لئے تیار کرتے ہیں۔مثال کے طورپر اگرہمیں ڈر نہیں ہوتا توہم زہریلے سانپ کو اپنے ہاتھوں سے پکڑلیتے۔ اگرچہ منفی جذبات ان حالات میں ہماری حفاظت کرتے ہیں، تاہم ان جذبات کا بہت زیادہ یا بیجا استعمال ہماری زندگی کے لئے مضرثابت ہوسکتا ہے کیونکہ اس سے ہماری دفاعی نظام ِ مامونیت کو نقصان پہنچ سکتا ہے جس کے مضر اثرات ہماری صحت پرپڑسکتے ہیں۔

مثبت جذبات جیسے اُمید، خوشی، پراُمیدی، قناعت اوراحسان مندی ہمیں قوت بخشتے ہیں اورہماری جذباتی بہبود کوبڑھاتے ہیں۔جب ہم مثبت اثرکا احساس کرتے ہیں توانواع واقسام کے کام اورتصورات کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ہم جو مسائل ہمیں درپیش ہوتے ہیں ان کے حل کے لئے اورزیادہ توقعات اورانتخاب کے بارے میں سوچنے کے قابل ہوتے ہیں اوراس طرح ہم خوداپنے مددگار بن جاتے ہیں۔

ماہرین نفسیات نے پایا ہے کہ جن لوگوں کو خوشی اورقناعت ظاہر کرنے والیں فلمیں دکھائی گئیں ان لوگوں نے ان چیزوں کے بارے میں زیادہ تصورات دیئے جنہیں وہ کرنا چاہتے تھے بہ نسبت ان لوگوں کے جن کو ایسی فلمیں دکھائی گئیں جو غصہ اورخوف پیدا کرتی تھیں۔مثبت جذبات منفی حالات سے نپٹنے کی زیادہ صلاحیت فراہم کرتے ہیں اوربہت جلد نارمل حاات پر واپس آجاتے ہیں۔ وہ ہمیں طویل مدتی پلان اورمقاصد کو طے کرنے اورنئے تعلقات بنانے میں مددپہنچاتے ہیں۔ مثبت جذبات کوبڑھانے کے مختلف طریقے حسب ذیل ہیں:

رجائیت، پرامیدی، خوشی اورمثبت خودعزتی جیسے شخصیت کے اوصاف پیدا کرنا۔

بہت نامساعد حالات میں بھی مثبت معنی تلاش کرنا۔

دوسروں کے ساتھ خوشگوار تعلقات بنانا اورقریبی تعلقات کا مددگاری نیٹ ورک بنانا۔

کاموں میں مشغول رہنا اورمہارت حاصل کرنا۔

سماجی مدد، مقصد اورپرامیدوبامقصد زندگی کذارنے کے میں یقین رکھنا۔ ایک بامقصد زندگی گزارنا۔

روزمرہ کے زیادہ ترواقعات کی مثبت وضاحت کرنا۔



کلیدی اصلاحات

اُمِگڈالا، تشویش، اشتعال، خوداختیاری نظام عصبی، بنیادی جذبات، جسمانی باحیاتیاتی ضروریات (بھوک، پیاس، جنسی ضرورت)، مرکزی نظام عصبی کشاکش، جذباتی ذہانت، ضروریات توقیر یا احترام، امتحان کی تشویش، جذبات کا اظہار احساس نامرادی، ضروریات کا نظامِ مراتب، محرک، محرکات، ضروریات یا حاجات، طاقت کا محرک، نفسیاتی سماجی محرکات، خودتحقق، خود توقیر۔

خلاصہ:

کسی مخصوص ہدف یا مقصد کی سمت متوجہ کردار کا مسلسل عمل جوکسی متحرک کرنے والی قوت کا نتیجہ ہوتا ہے اسے محرک کہتے ہیں۔

محرک کی دواہم اقسام ہیں: حیاتیاتی۔ سماجی اورنفسیاتی محرک۔

حیاتیاتی محرک پیدائشی ہوتے ہیں اوران کی وجوہات حیاتیاتی ہوتی ہے جیسے ہارمونس، نیورٹرانسمیٹرس، دماغ کے ڈھانچے (زیرین مبدائے اعصاب، اعصابی نظام وغیرہ) بھوک، پیاس اورجنسی خواہش اس کی مثالیں ہیں۔

نفسیاتی سماجی محرک ایسے محرک ہیں جو فرد کے اس کے سماجی ماحول کے ساتھ تفاعل کے نتیجہ میں برآمد ہوتے ہیں۔ الحاق کی ضرورت، تحصیل کی ضرورت، تجسس وجستجو کی ضرورت اورطاقت کی ضرورت نفسیاتی سماجی محرکات کی مثالیں ہیں۔

ماسلو نے مختلف انسانی ضروریات کونظام مراتب میں نیچے سے اوپر کی طرف سب سے نیچے بنیادی عضویاتی ضروریات سے شروع کرتے ہوئے۔ حفاظت کی ضروریات، پیار اورالحاق کی ضروریات، عزت کی ضروریات سے گزرتے ہوئے خودتحقیق کی ضرورت کو سب سے اونچا ئی پر رکھا ہے۔

محرک سے متعلقہ دوسرے تصورات احساس نامرادی اورکشاکش ہیں۔

جذبہ اشتعال کی ایک پیچیدہ وضع ہے جس کے اندرعضویاتی اکساہٹ، احساس کی آگہی اوروہ مخصوص وقوفی نشاندہی جو اس عمل کو بیان کرتی ہے، شامل ہیں۔

کچھ جذبات جیسے خوشی، غصہ، دکھ، تعجب، ڈروغیرہ ابتدائی (بنیادی) ہیں۔ دوسرے جذبات انہی جذبات کے مرکب کے نتیجہ میں محسوس کئے جاتے ہیں۔

مرکزی اورخوداختیاری نظام عصبی جذبات کوپیدا کرنے میں کلیدی رول اداکرتے ہیں۔

ثقافیت جذبات کے اظہار اورتشریح پر بہت زیادہ اثرڈالتی ہیں۔

جذبہ لفظی اورغیر لفظی راستوں کے ذریعہ ظاہر کیاجاتا ہے۔

جسمای اورنفسیاتی فلاح کو یقینی بنانے کے لئے جذبات کا موثر بندوبست بہت ضروری ہے۔

نظرثانی کے لئے سوالات

1. محرک کے تصور کی وضاحت کیجئے۔

2. بھوک اورپیاس کی حیاتیاتی بنیادیں کیا ہیں؟

3. تحصیل، الحاق اورطاقت کی ضروریات بالغ کے کردار کوکس طرح متاثرکرتی ہیں؟ مثال کے ساتھ وضاحت کیجئے۔

4. ماسلو کی ضروریات نظامِ مراتب کے پیچھے بنیادی تصورکیا ہے؟ بحث کیجئے۔

5. کیا حیاتیاتی اشتعال جذباتی تجربہ سے پہلے پیدا ہوتے ہیں یا بعدمیں پیدا ہوتے ہیں؟ وضاحت کیجئے۔

6. کیا جذبات کی وضاحت کے لئے جذبات کی شعوری طور پرتشریح کرنا اوران کو نشان (لیبل) دینا ضروری ہے؟

موزوں مثالیں دیتے ہوئے بحث کیجئے۔

7. ثقافت جذبات کے اظہار کوکیسے متاثر کرتی ہے؟ موزوں مثالوں کے ساتھ تشریح کیجئے۔

8. منفی جذبات کا بندوبست کیوں ضروری ہے؟ منفی جذبات کے بندوبست کے طریقے بتائیے۔

پرجیکٹ کی تجاویز

ماسلو کی ضروریاتِ نظام مراتب کا استعمال کرتے ہوئے تجزیہ کیجئے کہ کس طرح کی محرکاتی قوتوں نے عظیم ریاضی داں ایس۔اے۔رمانجن اورعظیم شہنائی نواز استاد بسم اللہ خاں (بھارت رتن) کو اپنے مخصوص میدانوں میں غیر معمولی کارکردگی کے لئے تحریک پذیر کیا ہوگا؟ اب اپنے آپ کو اوردوسرے پانچ لوگوں کو مطمئن ہونے کی ضرور ت کے پس منظر میں رکھیئے کی آپ اور وہ کہاں ہیں۔ غورکیجئے اوربحث کیجئے۔

بہت سے گھروں میں فیملی ارکان بغیر نہائے ہوئے اورمذہبی کام انجام دیئے بغیر کھانا نہیں کھاتے ہیں۔ کس طرح سے مختلف سماجی اعمال نے آپ کی بھوک اورپیاس کے اظہار کومتاثرکیا ہے؟پانچ مختلف پس منظر کے لوگوں کا سروے کیجئے اوررپورٹ تیار کیجئے۔


**************