Skip to content
Shumariyatbara-e-mashiyat

باب 1

تعارف ( Introduction )

1

اس باب کا مطالعہ کرنے کے بعد آپ اس قابل ہو جائیں گے کہ یہ :

  •   جان سکیں کہ معاشیات کاتعلق کن موضوعات سے ہے؛
  • سمجھ سکیں کہ کس طرح معاشیات صَرف ، پیداوار اور تقسیم میں معاشی سرگرمیوں کے مطالعے کے ساتھ وابستہ ہے:
  •    سمجھ سکیں کہ صَرف ، پیداوار اور تقسیم کو بیان کرنے میں شماریات کا علم کیوں مددگار ہو سکتا ہے:
  •   معاشی سرگرمیوں کو سمجھنے میں شماریات کے بعض استعمال کے بارے میں سیکھ سکیں۔

معاشیات کیوں؟

اسکول کی پچھلی کلاسوں میں آپ شاید ایک مضمون کے طور پر معاشیات کا مطالعہ پہلے ہی کر چکے ہیں۔ آپ کو بتایا گیا ہوگا کہ اس مضمون میں بالخصوص جس کا مطالعہ کیا جاتا ہے اسے الفریڈ مارشل (جدید معاشیات کا ایک بانی) نے ’’زندگی کے عام کاروبار میں انسان کا مطالعہ‘‘ کہا تھا۔ آئیے ہم سمجھیں کہ اس کا مطلب کیا ہے۔ جب آپ اشیاء خریدتے ہیں (آپ اپنی خود کی ضرورتوں یا اپنی فیملی کی یا کسی دیگر شخص جس کو آپ تحفہ دینا چاہتے ہیں، کی پسند کو ذہن میں رکھتے ہیں) توآپ کو صارف (Consumer) کہا جاتا ہے۔
جب آپ منافع کی خاطر اشیاء فروخت کرتے ہیں (آپ ایک دوکاندار ہو سکتے ہیں) تو آپ کو فروخت کار (Seller) کہاجاتا ہے۔
جب آپ اشیاء پیدا کرتے ہیں یا تیار کرتے ہیں (آپ ایک کاشتکار یا صنعت کار ہو سکتے ہیں) تب آپ کو ناتج /پیداکار  (Producer)کہا جاتا ہے۔
جب آپ برسر روزگار ہوتے ہیں، تو آپ کسی دوسرے شخص کے لیے کام کرتے ہیں، اور اس کے لیے آپ کو معاوضہ ملتا ہے  (آپ کسی کے یہاں ملازمت کر سکتے ہیں جو کہ آپ کو مقررہ اُجرت یا تنخواہ ادا کرتا ہے) تو آپ کو ملازم(Service Holder)  کہا جاتا ہے۔
جب آپ معاوضے کے لئے دوسروں کو کچھ طرح کی خدمات فراہم کرتے ہیں (آپ وکیل، ڈاکٹر، بینک یاٹیکسی ڈرائیور یا اشیاء کے ٹرانسپورٹر یعنی نقل و حمل کا کام کرنے والے شخص ہو سکتے ہیں) تو آپ کو خدمت فراہم کار (Service Provider)  کہا جاتا ہے۔
ان سبھی معاملوں میں آپ کو کسی معاشی سرگرمی میں نفع بخش طور پر مصروف کہا جائے گا۔ معاشی سرگرمیاں وہ ہیں جو پیسہ حاصل کرنے کے لئے(Monetary gain) کے لیے انجام دی جاتی ہیں۔ یہی وہ معاشی سرگرمیاں ہیں جن کو  ماہرین معاشیات زندگی کا عام کاروبار کہتے ہیں۔

سرگرمیاں

  • اپنے خاندان کے اراکین کی مختلف سرگرمیوں کی فہرست تیّار کیجئے۔ کیا آپ انہیں معاشی سرگرمیاں کہیں گے؟ اسباب بتائیے۔
  • کیا آپ اپنے آپ کو ایک صارف سمجھتے ہیں؟ اگر سمجھتے ہیں تو کیوں؟

ہم کچھ دئیے بغیر کوئی چیز حاصل نہیں کر سکتے۔


اگر آپ نے کبھی الٰہ دین اور اُس کے جادوئی چراغ کی کہانی سنی ہے تو آپ اس بات سے متفق ہوں گے کہ الٰہ دین ایک خوش قسمت شخص تھا کہ جب کبھی اور جو کچھ بھی وہ چاہتا تھا، اسے محض اپنے جادوئی چراغ کو رگڑنا ہوتا تھا جس پر ایک جن اس کی خواہش پوری کرنے کے لیے حاضر ہو جاتا تھا۔ جب وہ رہنے کے لیے ایک محل چاہتا، جن اُس کے لیے فوراً ہی تیار کر دیتا۔ بادشاہ سے اُس کی بیٹی کا ہاتھ مانگنے کے لیے جب اُس نے اسے قیمتی تحائف دینے کی خواہش ظاہر کی تو اسے یہ سب پلک جھپکتے ہی حاصل ہو گیا۔ اصل زندگی میں ہم الٰہ دین کی طرح خوش قسمت تو نہیں ہو سکتے۔ گو کہ،اس ہی کی طرح ہماری بھی لامحدود خواہشات ہوتی ہیں لیکن ہمارے پاس جادوئی چراغ تو ہے نہیں۔ ایک مثال لیں آپ کو خرچ کرنے کے لیے جیب خرچ  ملتا ہے، بالفرض وہ زیادہ ملتا تو آپ وہ ساری چیزیں خرید سکتے جن کی آ پ کو ضرورت یا خواہش ہوتی۔ چونکہ آپ کا جیب خرچ محدود ہے، اس لیے آپ کو صرف ان چیزوں کا انتخاب کرنا ہوگا جن کی ضرورت آپ زیادہ محسوس کرتے یں۔ اصل میں یہی معاشیات کی بنیادی تعلیم ہے۔

سر گرمیاں

  • کیا آپ خود اس طرح کی چند دیگر مثالوں کے بارے میں سوچ سکتے ہیں جہاں کسی شخص کو جس کی ایک مقررہ آمدنی ہے، کون سی چیزیں اور کتنی مقدار میں منتخب کرنی پڑتی ہیں، جنہیں وہ مطلوبہ قیمتوں پر خرید سکتا ہے، (اُنہیں رائج قیمتیں کہا جاتا ہے)؟

کیا ہوگااگر ان قیمتوں میں اضافہ ہوجائے؟

کمیابی یا قلّت (Scarcity)  سبھی معاشی مسائل کی جڑ ہے۔ فرض کیجئے کہ کسی طرح کی کوئی قلّت نہ ہوتی  تو پھر کسی طرح کا کوئی معاشی مسئلہ بھی نہ ہوتا، اور نیز یہ کہ آپ کو معاشیات کا مطالعہ بھی نہیں کرنا پڑتا۔ ہماری روز مرّہ زندگی میں ہمیں کمیابی کی مختلف شکلوں کا سامنا کرنا ہوتا ہے۔ ریلوے کی بکنگ کھڑکیوں پر لمبی قطاریں، کھچا کھچ بھری بسیں  اور ٹرینیں، ضروری اشیاء کی قلت، نئی فلم دیکھنے کے لیے ٹکٹ حاصل کرنے کی بھاگم بھاگ وغیرہ، یہ سب کمیابی کو ہی ظاہر کرتے ہیں۔ ہمیں کمیابی کا سامنا اس لیے کرنا پڑتاہے کہ وہ چیزیں جو ہماری ضرورتوں کی تسکین کرتی ہیں دستیابی میں محدود ہیں، کیا آپ کمیابی کی کچھ اور مثالیں سوچ سکتے ہیں؟
پیداکاروں کے پاس موجود وسائل ہیں وہ محدود ہیں اور اس کے دیگر متبادل استعمال بھی ہیں۔ غذا کامعاملہ لیجئے جسے آپ روزانہ کھاتے ہیں، یہ آپ کی غذائی ضرورتوں کو پورا کرتا ہے۔ کھیتی باڑی میں مشغول کسان فصلیں اُگاتے ہیں جن سے آپ کو غذا حاصل ہوتی ہے۔ کسی بھی نقطہ وقت یہ زراعت میں استعمال کیے جانے والے وسائل جیسے زمین،محنت، پانی،   کیمیائی کھاد وغیرہ مخصوص ہوتے ہیں۔ ان سبھی وسائل کو دوسرے کاموں میں بھی استعمال کیاجاتا ہے مثلاً  غیر غذائی فصلوں جیسے ربر، کپاس، پٹ سن، وغیرہ کی پیداوار میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح وسائل کے  متبادل استعمال سے پیدا کی جانے والی مختلف اشیاء کے درمیان انتخاب کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔

سرگرمیاں

  • اپنی ضرورتوں کی شناخت کریں۔ ان میں سے آپ کتنی پوری کر سکتے ہیں؟ ان میں کتنی ادھوری رہ جاتی ہیں؟ انہیں پورا کر پانے میں آپ اہل کیوں نہیں ہو پاتے؟
  • کمیا بی کی وہ مختلف اقسام کیا ہیں، جن کا سامنا آپ روز مرہ کی زندگی میں کرتے ہیں؟ ان کے اسباب کی شناخت کیجئے۔

صَرف،پیداوار اور تقسیم

اگر آپ نے اس بارے میں غور و فکر کیا ہے تو آپ نے محسوس کیا ہوگا کہ معاشیات میں مختلف قسم کی معاشی سرگرمیوں میں مصروف انسان کا مطالعہ شامل ہے۔اس کے لیے آپ کو مختلف معاشی سرگرمیوں جیسے پیداوار، صَرف اور تقسیم کے بارے میں معتبر حقائق جاننے کی ضرورت ہوتی ہے۔ معاشیات کو اکثر تین حصوں میں بیان کیا جاتا ہے، یہ ہیں: صرف، پیداوار اور تقسیم۔
2
کیا خریدیں اور کیا چھوڑیں!!!

ہم جاننا چاہتے ہیں کہ صارف اپنی آمدنی کے پیش نظر کیسے فیصلہ کرتا ہے۔ یعنی بہت سی دستیاب اشیاء میں سے اسے کیا خریدنا ہے جب کہ وہ قیمتوں سے واقف ہو، اس طرح بہت سی متبادل اشیاء میں سے اس کو انتخاب کرنا ہوتا ہے۔ یہی صَرف کا مطالعہ ہے۔
اس طرح ہم یہ بھی معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ پیداکاریہ فیصلہ کس طرح کرتا ہے کہ اسے بازار کے لئے کیا تیار کرنا ہے  جبکہ وہ لاگتوں اور قیمتوں سے واقف ہوتا ہے۔ اس طرح کا مطالعہ ’پیداوار‘ سے متعلق ہوتا ہے۔
آخر میں ، ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ملک میں جو کچھ تیار کیا جاتا ہے،(اسے مجموعی گھریلو پیداوار،GDPکہا جاتا ہے) اس سے ہونے والی قومی آمدنی یا کل آمدنی کو مقررہ اُجرتوں (اور تنخواہوں) منافع اور سود کے ذریعہ کس طرح تقسیم کیا جاتا ہے (ہم یہاں پر بین الاقوامی تجارت اور اصل سرمایہ کاری سے ہونے والی آمدنی کے بارے میں نہیں غور کریں گے)۔ یہ تقسیم کا مطالعہ کہلاتا ہے۔
پھر معاشیات کے مطالعے کے ان تین روایتی حصوں کے علاوہ جن کے بارے میں ہم تمام حقائق جاننا چاہتے ہیں،  جدید معاشیات میں ملک کو درپیش بعض بنیادی مسائل کو بھی خصوصی مطالعات کے لیے شامل کرنا ہوتا ہے۔
مثال کے طور پر، آپ یہ جاننا چاہیں گے کہ ہمارے سماج میں کیوں یا کس حد تک بعض گھرانے  دوسروں کے مقابلے زیادہ کمانے کے اہل ہوتے ہیں۔ آپ شاید یہ جاننا چاہیں گے کہ ملک میں کتنے لوگ واقعی غریب ہیں، کتنے متوسط طبقے (مڈل کلاس) کے ہیں، کتنے نسبتاً امیر ہیں وغیرہ وغیرہ۔ آپ یہ بھی جاننا چاہیں گے کہ کتنے لوگ ناخواندہ ہیں جن کو وہ ملازمت نہیں ملے گی جس میں تعلیم کی ضرورت ہوتی ہے اور کتنے لوگ ایسے ہیں جو اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں اور ان کے لیے ملازمت کے بہتر مواقع دستیاب ہوں گے وغیرہ وغیرہ۔ بہ الفاظ دیگر، سماج میں غربت اور عدم مساوات سے متعلق مزید حقائق پر سوالات کے جواب سے اعداد کی شکل میں آپ واقف ہو سکتے ہیں۔
 دوسرے لفظوں میں اعداد کے نقطۂ نظر سے، آپ مزید حقائق جاننا چاہیں گے جس سے کہ آپ کو سماج میں غربت اور عدم مساوات کے بارے میں سوالوں کے جواب مل سکتے ہیں۔ اگر آپ غربت اور کلی طور پر عدم مساوات کا سلسلہ پسند نہیںکرتے اور سماج کی برائیوں کے بارے میں کچھ کرنا چاہتے ہیں تو اس بابت حکومت کی طرف سے کی جانے والی مناسب کارروائیوں کوجاننے سے قبل آپ کو ان تمام چیزوں کے بارے میں حقائق جاننے کی ضرورت ہوگی۔ اگر آپ حقائق جانتے ہیں تو یہ بھی ممکن ہو سکتا ہے کہ آپ اپنی زندگی کو بہتر بنانے کا منصوبہ بنائیں۔ اسی طرح آپ نے سنامی ، زلزلہ، برڈ فلو جیسی تباہ کن قدرتی آفات کے بارے میں سنا ہوگا یا شاید آپ کو اس کا تجربہ بھی ہوا ہو، یہ وہ خطرات ہیں جو ہمارے ملک کے لیے خدشات کے باعث ہیں اور اس طرح انسان کی، زندگی کے عام کاروبار، پر بہت زیادہ اثر انداز ہوتے ہیں۔ ماہرین معاشیات ان چیزوں کا جائزہ لے سکتے ہیں بشرطیکہ وہ جانتے ہوں کہ ان قدرتی آفات سے متعلق جو کہ بھاری نقصان کا باعث ہوتی ہیں، باضابطہ اور درست طور پر حقائق کو کس طرح جمع کرناہے اور اُنہیں تیار کرنا ہے۔ آپ شاید اس بارے میں سوچ سکتے ہیں اور خود سے سوال کر سکتے ہیں کہ کیا یہ صحیح نہیں ہے کہ جدید معاشیات میں غربت کی پیمائش، آمدنیوں کی تقسیم کس طرح ہوتی ہے آمدنی یا یافت کے مواقع اور تعلیم سے اس کا تعلق کس طرح منسلک ہوتا ہے، ماحولیاتی تبدیلی کا ہماری انسانی زندگی پر اثرانداز ہوناوغیرہ وغیرہ  میں شامل بنیادی مہارتوں کو سیکھنا شامل کیا ہے۔
کے عام کاروبار، پر بہت زیادہ اثر انداز ہوتے ہیں۔ ماہرین معاشیات ان چیزوں کا جائزہ لے سکتے ہیں بشرطیکہ وہ جانتے ہوں کہ ان قدرتی آفات سے متعلق جو کہ بھاری نقصان کا باعث ہوتی ہیں، باضابطہ اور درست طور پر حقائق کو کس طرح جمع کرناہے اور اُنہیں تیار کرنا ہے۔ آپ شاید اس بارے میں سوچ سکتے ہیں اور خود سے سوال کر سکتے ہیں کہ کیا یہ صحیح نہیں ہے کہ جدید معاشیات میں غربت کی پیمائش، آمدنیوں کی تقسیم کس طرح ہوتی ہے آمدنی یا یافت کے مواقع اور تعلیم سے اس کا تعلق کس طرح منسلک ہوتا ہے، ماحولیاتی تبدیلی کا ہماری انسانی زندگی پر اثرانداز ہوناوغیرہ وغیرہ  میں شامل بنیادی مہارتوں کو سیکھنا شامل کیا ہے۔
 یقینا اگر آپ ان خطوط پر سوچتے ہیں تو بے شک آپ یہ بھی تسلیم کریں گے کہ ہمیں شماریات (جو کہ ایک باضابطہ شکل میں منتخب حقائق سے متعلق اعداد کا مطالعہ ہے) کو جدید معاشیات کے سبھی جدید نصابات میں شامل کیے جانے کی ضرورت کیوں ہوتی ہے۔

کیا اب آپ معاشیات کی درج ذیل تعریف جسے بہت سے ماہرین معاشیات استعمال کرتے ہیں، متفق ہوں گے؟
 ’’معاشیات مطالعہ ہے ان باتوں کا کہ افراد اور سماج کو کس طرح ان کمیاب  وسائل کو جو متبادل وسائل کے طور پر بھی کام میں لائے جا سکتے ہیں، مختلف اشیا کی پیداوار کے لئے استعمال کرنا ہوتا ہےوہ اشیا جو ان کی ضرورتوں کی تکمیل کرتی ہیں اور سماج میں مختلف افراد اور گروہوں کے درمیان صرف کے لئے انہیں کیسے تقسیم کرنا ہے‘‘

سر گرمی

  • درج بالا بحث کی روشنی میں، کیا آپ کہہ سکتے ہیں کہ دی گئی یہ تعریف اب کچھ ناکافی سی لگتی ہے؟ اس میں اور کیا بات کہنے سے رہ گئی ہے؟


2.  معاشیات میں شماریات

پچھلے سیکشن میں آپ کو بعض مخصوص مطالعات کے بارے میں بتایا گیا تھا جن کا تعلق کسی ملک کو درپیش بنیادی مسائل سے ہے۔ ان مطالعات میں اس بات کی ضرورت ہوتی ہے کہ ہم اعداد کی بنیاد پر معاشی حقائق کے بارے میں مزیدجانیں۔ ایسے معاشی حقائق کو اعداد و شمار یا معلومات کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔
ان معاشی مسائل کے بارے میں معلومات جمع کرنے کا مقصد ان کے پس پردہ مختلف اسباب کی روشنی  میں ان کو سمجھنا اور ان کی وضاحت کرنا ہے۔ دوسرے لفظوں میں ہم ان کا تجزیہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مثلاً جب ہم غربت کی تکالیف کا تجزیہ کرتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ ہم مختلف عوامل جیسے بے روزگاری، لوگوں کی کم پیداواری صلاحیت، پس ماندہ ٹکنالوجی وغیرہ کے تعلق سے اس کی وضاحت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
لیکن غربت کے تجزیے سے کیا مقصد پورا ہوگا جب تک ہم اسے کم کرنے کے طریقوں کو دریافت کرنے کے اہل نہ ہو جائیں؟ لہٰذا ہم ان اقدامات کا پتہ لگانے کی بھی کوشش کر سکتے ہیں جن سے معاشی مسئلے کو حل کرنے میں مدد ملے۔ معاشیات میں اس طرح کے اقدامات کو پالیسیوں کے طور پر جانا جاتا ہے۔
لہٰذا،کیا آپ محسوس کرتے ہیںکہ اس صورت میں کسی مسئلے کا کوئی تجزیہ اس وقت تک ممکن نہیں ہو پائے گا جب تک کہ کسی معاشی مسئلے میں پنہاں مختلف عوامل پر اعداد و شمار اور تفصیلات دستیاب نہ ہوں؟ اور ایسی صورتحال میں اسے حل کرنے کے لئے کوئی پالیسی وضع نہیں کی جا سکتی۔ اگر ایسا کرنا ہے تو پھر بڑی حد تک معاشیات اور شماریات کے درمیان بنیادی رشتوںکو سمجھنا ہوگا۔

3.  شماریات کیا ہے؟

اس مرحلے پر آپ غالباً شماریات کے بارے میں مزید جاننے کے لیے تیار ہیں۔ آپ اس سلسلے میں بہت کچھ جاننا چاہیں گے کہ ’’شماریات‘‘(Statistics) کس بارے میں ہے؟ معاشیات میں اس کے مخصوص استعمال کیا ہیں؟ کیا اس کے کوئی اور بھی معنی ہیں؟ آئیے دیکھیں کہ کس طرح ہم ان سوالوں کا جواب دے سکتے ہیں کہ اس مضمون کے بارے میں بہتر واقفیت حاصل ہو سکے۔
ہماری روز مرہ کی گفتگو میں لفظ"Statistics"کا استعمال اور دو صاف طور پر مختلف مفہوم واحد اور جمع میں کیا جاتا ہے۔ جمع کے مفہوم میں"Statistics" کا مطلب ہے وہ  عددی حقائق جنہیں  باقاعدہ طور پر جمع کیا گیا ہو،جیسا کہ آکسفورڈ ڈکشنری میں بیان کیا گیا ہے۔ اس طرح جمع کے مفہوم میں تو شماریات باضابطہ اعداد و شمار Statisticsکا سیدھا سا مطلب تفصیلی معلومات ہے۔


کیا آپ جانتے ہیں کہ کی اصطلاح  شماریات کا واحد کی ترکیب میں مطلب ہے ’’جمع کرنا، درجہ بندی کرنا، شماریات یا شماریاتی حقائق، استعمال کرنے کی سائنس۔‘‘


معلومات یا شماریات سے ہماری مراد مقداری یا ماہیتی (کیفیتی، Qualitative) حقائق دونوں سے ہے جسے معاشیات میں استعمال کیا جاتاہے۔ مثال کے لیے معاشیات میں دیے گئے ایک بیان جیسے ’’ہندوستان میں چاول کی پیداوار جو 974-75 میں 39.58 ملین ٹن تھی بڑھ کر1984-85 میں 58.64ملین ٹن ہو گئی۔‘‘یہ ایک مقداری حقیقت ہے۔ عددی شماریات جیسے 39.58ملین ٹن، اور 58.64 ٹن 1974-75اور 1984-85 کے لیے علی الترتیب ہندوستان میں چاول کی پیداوار کی شماریات ہیں۔
مقداری معلومات کے علاوہ معاشیات میں ماہیتی معلومات کا بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ اس طرح کی معلومات کی اہم خصوصیت ہے کہ یہ ایک واحد فرد یا افراد کے گروپ کی صفات جن کا اندراج ضروری ہو صحیح طور پر بیان کر سکتا ہے۔ بھلے ہی مقداری اصطلاح میں ان کی پیمائش نہ کی جا سکتی ہو۔ ’’جنسی‘‘ (Gender)  ایک مثال لیں جس سے کسی فرد کے بارے میں فرق ظاہر ہوتا ہے کہ وہ مرد ہے یا عورت، لڑکا ہے یا لڑکی۔ اس سے درجہ یا حقیقت (جیسے بہتر یا خراب، بیمار یا صحت مند یا زیادہ صحت مند، غیر ہنر مند، یا نہایت ہنر مند وغیرہ) کی بابت کسی فرد کے بارے میں معلومات بیان کرنا اکثر ممکن ہو جاتا ہے۔ اس طرح کی ماہیتی یا کیفی معلومات ( قیمتوں، آمدنیوں، ادا کیے گئے ٹیکس وغیرہ کے بارے میں) باضابطہ طور پر جمع اور ذخیرہ کی جاتی ہے خواہ یہ واحد فردکے لیے ہو یا افراد کے گروپ کے لیے ہو۔
اگلے ابواب میں ہم مطالعہ کریں گے کہ شماریات معلومات یا ڈیٹا کو جمع کرنے اور ان کی ترتیب دینے پر مشتمل ہے۔ اگلا قدم اعداد و شمار (معلومات) کو جدولی، ڈائیگرامی اور گرافی شکلوں میں پیش کرنا ہے۔ اس کے بعد معلومات کی تلخیص مختلف عددی اشاریوں جیسے اوسط، انحراف(Variance)معیاری انحراف وغیرہ کو شمار کرنے کے ذریعہ کی جاتی ہے جو کہ اکٹھا کیے گئے مجموعہ معلومات کی وسیع خصوصیات کو پیش کرتا ہے۔

سرگرمیاں

  • مقداری اور ماہیتی یاکیفیتی معلومات کی دو مثالوں کے بارے میں غور کریں۔
  • درج ذیل میں کون سا آپ کو کیفیتی معلومات کا تاثر دے گا؟
خوبصورتی،ذہانت، کمائی گئی آمدنی، مضمون میں حاصل کئے گئے نمبر، گانے کی صلاحیت، سیکھنے کی صلاحیت۔

4.  شماریات کیا عمل انجام دیتا ہے

اب آپ جان گئے ہیں کہ کسی ماہر معاشیات کے لیے شماریات ایک لازمی وسیلہ ہے جو کسی معاشی مسئلہ کو سمجھنے میں اس کے لیے مددگار ہوتا ہے۔ اس کے مختلف طریقوں کا استعمال کرکے معاشی مسئلے کی کیفیتی اور مقداری حقائق کی مدد سے اس کے پس پردہ اسباب کو دریافت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ جب ایک بار مسئلے کے اسباب کی شناخت ہو جاتی ہے تو اس سے نمٹنے کے لیے مخصوص پالیسیوںکا وضع کرنا آسان ہو جاتا ہے۔
لیکن شماریات کا دائرہ کار اور بھی وسیع ہے۔ اس سے کوئی ماہر معاشیات جامع اور معین شکل میں حقائق کو پیش کر سکتا ہے۔  جس سے بیان کی گئی بات  کو مناسب طور پر سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ جب شماریاتی معنوں میں معاشی حقائق کو ظاہر کیاجاتا ہے تو وہ ہر طرح سے درست ہو جاتا ہے۔ درست حقائق مبہم بیانات کی نسبت زیادہ قابل قبول ہوتے ہیں۔ مثال کے لیے ٹھیک ٹھیک اعداد کے ساتھ کہنا جیسے کہ حالیہ زلزلے میں کشمیر میں 310 افراد کی موت ہوئی تھی، زیادہ درست ہے اور اس طرح یہ ایک شماریاتی معلومات ہوگی جبکہ یہ کہنا کہ سیکڑوں لوگوں کی موت ہو گئی ہے تو یہ شماریاتی معلومات نہیں ہوگی۔
شماریات کچھ عددی پیمائشوں (جیسے اوسط، انحراف وغیرہ، جس کے بارے میں آپ بعد میں پڑھیں گے) میں کثیر معلومات کو مختصر یا جامع کرنے میں مددگار ہوتاہے۔ یہ عددی پیمائش معلومات کی تلخیص میں مدد کرتی ہیں۔ مثال کے لیے اگر لوگوں کی تعداد بہت زیادہ ہے تو معلومات میں ان سبھی لوگوں کی آمدنیوں کو یاد رکھنا آپ کے لیے ناممکن ہوجائے گا۔ تاہم کسی کے لیے مجمل عدد (Summary figure) جیسے اوسط آمدنی کو یاد رکھنا آسان ہو جاتا ہے، جسے شماریاتی طور پر حاصل کیا جاتاہے۔ اس طرح شماریات کثیر معلومات کے بارے میں بامعنی مجموعی معلومات پیش کرتا ہے۔
 عموماً مختلف عوامل کے درمیان رشتوں کا پتہ کرنے میں شماریات کا استعمال کیا جاتاہے۔ مثلاً جب کسی شئے کی قیمت بڑھ جاتی ہے یا گھٹ جاتی ہے تو اس کی مانگ پر کیا فرق پڑتا ہے؟ کسی ماہر معاشیات یا طالب علم کی یہ دلچسپی معلوم کرنے میں ہوں گی کہ کسی شئے کی رسد پر اس کی قیمت میں تبدیلی کاکیا اثر پڑے گا؟ یا جب سرکاری اخراجات بڑھ جاتے ہیں تو عام قیمت پر کس درجہ  اثر پڑتا ہے؟ اس طرح کے سوالات کے جواب تبھی دئیے جا سکتے ہیں جب مختلف معاشی عوامل کے درمیان رشتے پائے جاتے ہوں جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے، آیا اس طرح کے رشتے پائے جاتے ہیں یا نہیں، اس کی توثیق ان کی معلومات میں شماریاتی طریقوں کے اطلاق کے ذریعہ آسانی سے کی جا سکتی ہے۔ بعض معاملوں میں ماہر معاشیات ان کے درمیان مخصوص رشتے اخذ کرلیتے ہیں اور یہ جانچ کرنا چاہتے ہیں کہ آیا یہ مفروضہ جو رشتوں کے بارے میں اُنہوں نے قائم کیا ہے، وہ ہے یا نہیں۔ ماہر معاشیات اسے صرف شماریاتی تکنیکوں کا استعمال کرکے ہی دریافت کر سکتے ہیں۔

دوسری مثال میں،ماہر معاشیات کو کسی دیگر عامل میں تبدیلیوں کے سبب کسی معاشی حاصل میں تبدیلیوں کی پیش گوئی کرنے میں دلچسپی ہو سکتی ہے۔ مثال کے لیے اسے مستقبل میں قومی آمدنی پر موجودہ سرمایہ کاری کے اثر کے بارے میں جاننے میں دلچسپی ہو سکتی ہے، یہ عمل شماریات کی معلومات کے بغیر انجام نہیں دیا جا سکتا۔
کبھی کبھی منصوبوں اور پالیسیوں کو وضع کرتے وقت مستقبل کے رجحانات کو جاننے کی ضرورت ہوتی ہے۔ مثلاً ایک معاشی منصوبہ ساز کو 2005ء میں یہ فیصلہ کرنا پڑ سکتا ہے کہ 2010ء میں معیشت(Economy)کو کتنی پیداوار کرنی چاہئے۔ دوسرے لفظوں میں، کسی کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ 2010ء کے لیے معیشت کے پیداواری منصوبے کا فیصلہ کرنے کی بنیاد پر اُس سال یہ صَرف کی متوقع سطح کیا ہو سکتی ہے۔ اس صورتحال میں 2010ء میں صرف کے بارے میں اندازے پر مبنی موضوعاتی (Subjective) فیصلہ لینا ہوگا۔ متبادل صورت میں 2010ء میں صَرف کی پیش گوئی کے لیے شماریاتی لوازم کار کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ جو کہ پچھلے سالوں یا سروے کے ذریعہ حاصل کیے گئے حالیہ سالوں کے صرف کی معلومات پر مبنی ہو سکتی ہے۔ اس طرح شماریاتی طریقے موزوں معاشی پالیسیوں کو وضع کرنے میں مددگار ہوتے ہیں جس سے معاشی مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

5.  اختتام ( Conclusion )

آج، سنجیدہ معاشی مسائل جیسے قیمتوں میں اضافہ، بڑھتی آبادی، بے روزگاری، غربت وغیرہ کا تجزیہ کرنے کے لیے ہم شماریات کا استعمال زیادہ سے زیادہ کر رہے ہیں تاکہ  ان اقدامات کو دریافت کر سکیں جن سے اس طرح کے معاشی مسائل کو حل کیا جا سکتا ہے۔ 
مزید برآں معاشی مسائل کو حل کرنے میں ایسی پالیسیوں کے اثرات کا جائزہ  مددگار ہوتا ہے۔ مثال کے لیے شماریاتی تکنیکوں کا استعمال کرکے آسانی سے تحقیق کی جا سکتی ہے کہ کیا فیملی پلاننگ کی پالیسی مستقل بڑھتی آبادی کے مسئلے پر قابو پانے میں مؤثر ہے۔


شماریاتی طریقے فہم عامہ (Common Sense) کا بدل نہیں ہیں،!

ایک دلچسپ کہانی ہے جسے شماریاتی مزاج کے لیے بیان کیا جاتا ہے۔ یہ کہاجاتا ہے کہ چار افراد کا ایک خاندان (شوہر، بیوی اور دو بچے) ایک بار کسی ندی کو پار کرنے کے لیے روانہ ہوئے۔ باپ کو ندی کی اوسط گہرائی معلوم تھی۔ لہٰذا، اُس نے اپنے خاندان کے افراد کی اوسط لمبائی کا حساب لگایا۔ چونکہ فیملی کے ممبروں کی اوسط لمبائی پانی کی اوسط گہرائی سے زیادہ تھی۔ اس نے سوچا کہ وہ ندی کو محفوظ طریقے سے پار کر لیں گے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ندی کو پار کرتے وقت فیملی کے کچھ افراد (بچّے) پانی میں ڈوب گئے۔
کیا اوسط شمار کرنے کے شماریاتی طریقے میں خامی تھی یا اوسطوں کے غلط استعمال میں؟


معاشی پالیسیوں کی فیصلہ سازی میں شماریات اہم کردار ادا کرتا ہے۔مثلاً عالمی سطح پر تیل کی بڑھتی قیمتوں کے سلسلہ میں یہ فیصلہ کرنا ضروری ہو سکتا ہے کہ ہندوستان کو 2010 میں تیل کتنا درآمد کرنا چاہئے۔ درآمد کرنے کا فیصلہ 2010 میں تیل کی متوقع ملکی پیداوار اور ممکنہ مانگ پر منحصر ہوگا۔ شماریات کے استعمال کے بغیر یہ نہیں طے کیا جا سکتا کہ تیل کی متوقع گھریلو پیداوار  کیا ہے اور تیل کی ممکنہ مانگ کیا ہوگی۔ اسی طرح تیل کی درآمد کا فیصلہ اس وقت تک نہیں کیا جا سکتا جب تک کہ ہم تیل کی حقیقی ضرورت نہ جانیں۔ یہ اہم معلومات جو تیل درآمد کرنے کی فیصلہ سازی میں مددگار ہو سکتی ہے صرف شماریاتی طور پر ہی حاصل کی جاسکتی ہے۔

خلاصہ

  • ہماری ضرورتیں غیر محدود ہیں لیکن اشیاء جو کہ ہماری ضرورتوں کو پورا کرتی ہیں، ان کی پیداوارمیں استعمال کیے جانے والے وسائل محدود اور کمیاب ہیں، کمیابی سبھی معاشی مسائل کی بنیاد ہے۔
  • وسائل متبادل استعمال ہوتے ہیں۔
  • اپنی مختلف ضرورتوں کی  تکمیل کےلیے صارفین کے ذریعہ اشیاء کی خریداری صَرف یا کھپت ہے۔
  • پیدا کار (Producer) کے ذریعہ بازار کے لیے اشیاء کی تیاری کو پیداوار (Production)کہتے ہیں۔
  • اُجرتوں، منافعوں، کرایوں اور سودوں میں قومی آمدنی بانٹنے کے عمل کو تقسیم (Distribution) کیا 
جاتا ہے۔
  • شماریات معلومات کا استعمال کرتے ہوئے معاشی رشتوں کو دریافت کرتی ہے اور ان کی توثیق 
کرتی ہے۔
  • مستقبل کے رجحانات کی پیش گوئی کے لیے شماریاتی لوازم کارکا استعمال کیا جاتا ہے۔
  •        معاشی مسائل کا تجزیہ کرنے اور اُنہیں حل کرنے کے لئے پالیسیاں وضع کرنے میں شماریاتی طریقے مددگار ہوتے ہیں۔

مشق

.1 درج ذیل بیانات پر صحیح / غلط کا نشان لگائیے۔
 (a) شماریات صرف مقداری معلومات پر بحث کرتی ہے۔
(b) شماریات معاشی مسائل کو حل کرتی ہے۔
(c) معاشیات کے لیے بغیر معلومات کی شماریات بے سود ہے۔
2. بس اسٹینڈ یا بازار میں ہونے والی سرگرمیوں کی فہرست بنائیے۔ ان میں سے کون سی معاشی سرگرمی ہوگی۔
3. معاشی ترقی کی موزوں پالیسیوں کو وضع کرنے میں حکومت اور پالیسی شماریاتی معلومات کا استعمال کرتے ہیں۔دو مشالیں دے کر تشریح کیجئے۔
4. آپ کے پاس غیر محدود ضرورتیں اور ان کی تکمیل کے لیے محدود وسائل ہیں، آپ کس طرح انتخاب کریں گے کہ ضرورتوں کی تکمیل کی جا سکے۔
5. اپنی ضرورتوں کی تکمیل آپ کیسے کریں گے؟
6. معاشیات کا مطالعہ کیوں ہو؟ جواز پیش کیجئے؟
7. شماریاتی طریقے فہم عامہ کا نعم البدل نہیں ہیں۔اپنی روزمرّہ زندگی کی مثالوں کے ساتھ تبصرہ کیجئے۔