Skip to content
Shumariyatbara-e-mashiyat

باب 2

ڈیٹا جمع کرنا ( Collection of Data )

1

اس باب کا مطالعہ کرنے کے بعد آپ اس قابل ہو جائیں گے کہ آپ:

  • ڈیٹا جمع کرنے کا مطلب اور مقصد سمجھ سکیں؛
  • ابتدائی اور ثانوی وسائل کے درمیان امتیاز کرسکیں؟
  • ڈیٹا جمع کرنے کے طریقے جان سکیں؛
  • مردم شماری (census) اور نمونہ کاری جائزے (Sample Surveys) کے درمیان امتیاز کرسکیں؛
  • نمونہ کاری کی تکنیکوں سے واقف ہوسکیں؛
  • ثانوی ڈیٹا کے بعض اہم وسائل کے بارے میں جان سکیں۔

1. تعارف 

پچھلے باب میں ، آپ نے پڑھا کہ معاشیات کیا ہے۔ آپ نے معاشیات میں شماریات کے کردار اور اہمیت کے بارے میں بھی مطالعہ کیا۔ اس باب میں، آپ ڈیٹا کے وسائل اور ڈیٹا جمع کرنے کے طریقے کے بارے میں مطالعہ کریں گے۔ڈیٹا جمع کرنے کا مقصد کسی مسئلے کے ٹھیک ٹھاک اور واضح حل تک پہونچنے کے لیے کوائف کو نمایاں کرنا ہے۔
معاشیات میں آپ کے سامنے اکثر اس طرح کے بیان آتے ہیں،
’’کافی اتار چڑھاؤ کے بعد 91-1990 میں اناج کی پیداوار بڑھا کر176 ملین ٹن ہوگئی اور 97-1996 میں 199 ملین ٹن ہوگئی لیکن 98-1997 میں گر کر 194 ملین ٹن ہوگئی۔ اناج کی پیداوار میں اس کے بعد اضافہ ہوتا رہا اور 02-2001 میں یہ 212 ملین ٹن تک پہونچ گئی۔‘‘
اس بیان میں، آپ مشاہدہ کرسکتے ہیں کہ اناج کی پیداوار مختلف سالوں میں ایک جیسی نہیں رہتی۔ یہ سال در سال اور فصل در فصل بدلتی رہتی ہے۔ چونکہ ان کی قدروں میں ردوبدل ہوتی ہے، اس لیے انھیں متغیرہ یعنی تبدیل ہونے والا کہاجاتا ہے۔ ان متغیرات (Variables) کو عام طور پر حروف Y, X یا Z کے ذریعہ پیش کیا جاتا ہے۔ ہر متغیرات کی قدریں مشاہد ہیں۔ مثال کے لیے ، ہندوستان میں اناج کی پیداوار 71-1970 میں 100 ملین ٹن اور02- 2000 میں 220 ملین ٹن کے درمیان بدلتی رہتی ہیں جیساکہ درج ذیل جدول میں دکھایا گیا ہے۔سالوں کو متغیرہXاورہندوستان میں اناجوں کی پیداوار (ملین ٹن میں) متغیرہ Y کے ذریعے پیش کی جاتی ہے۔

جدول 2.1 

ہندوستان میں اناج کی پیداوار
(ملین ٹن)
______________________
Y X
___________________---
1970-71 108
1978-79 132
1979-80 108
1980-81 176
1996-97 199
197-98 194
2000-2 212
______________________

یہاں یہ متغیرات X اور Y کی قدریں ’ڈیٹا‘ ہیں جن سے ہم ہندوستان میں اناج کی پیداور کے رجحان کے بارے میں معلومات حاصل کرسکتے ہین۔ اناج کی پیداوار کے بارے میں اتار چڑھاؤ (Fluctuation) جاننے کے لیے ہمیں ہندوستان مین اناج کی پیداوار پرمتعدد وسیلوں ’ڈیٹا‘ کی ضرورت ہوتی ہے۔ ’ڈیٹا‘ وہ وسیلہ یا لازمہ ہے جس سے ہمیں معلومات فراہم کرنے کے ذریعے مسائل کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔
آپ ضرور یہ جاننے کے خواہش مند ہوں گے کہ یہ ’ڈیٹا، کہاں سے حاصل کیے جاتے ہیں اور انھیں ہم کیسے جمع کرتے ہیں؟ درج ذیل سیکشنوں میں ڈیٹا کی اقسام، ڈیٹا جمع کرنے کے طریقے اور ذرایع اور ڈیٹا حاصل کرنے کے وسائل کے بارے میں بحث کریں گے۔

.2 ڈیٹا کے وسائل کیا ہیں؟

شماریاتی ’ڈیٹا‘ دو ذرائع وسائل سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔ شمار کار(enumerator) (وہ شخص جو ڈیٹا جمع کرتا ہے؟ دریافت کرنے یا تفتیش کا اہتمام کرنے کے ذریعہ ڈیٹا جمع کرسکتا ہے۔ اس طرح کے ڈیٹا کو ابتدائی ڈیٹا کہا جاتا ہے کیوں کہ یہ ابتدائی معلومات پر مبنی ہوتے ہیں۔ مان لیجیے آپ اسکولی طلباء کے درمیان کسی فلمی ستارے کی مقبولیت کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں۔ اس کے لیے آپ کو مطلوبہ معلومات جمع کرنے کے لیے ان سے سوالات دریافت کرنے کے ذریعے اسکولی طلبا کی ایک بڑی تعداد سے پوچھ تاچھ کرنی ہوگی۔ اس کے نتیجے میں جو ڈیٹا آپ کو حاصل ہوتا ہے وہ ابتدائی ڈیٹا کی ایک مثال ہے۔
اگر کوئی ڈیٹا جمع کیا جائے اور کسی دوسری ایجنسی کے ذریعہ اس کی جانچ پڑتال کرواکے جدول کاری کرنے کے بعد جو ڈیٹا حاصل ہوتا ہے اِسے ثانوی ڈیٹا کہتے ہیں۔انھیں اشاعت یافتہ وسائل جیسے سرکاری رپورٹیں، دستاویزات، جریدے، ماہرین معاشیات کو تحریر کردہ کتب یا دیگر ذرائع مثلاً ویب سائٹ سے حاصل کیا جا سکتا ہے اس طرح ڈیٹا اس کے ذریعے کے لیے ابتدائی ہے جو پہلی بار انھیں جمع کرتا ہے اور عمل کاری کرتا ہے اور ان وسائل کے لیے ثانوی ہے جو بعد میں اس طرح کے ڈیٹا کا استعمال کرتے ہیں۔ ثانوی ڈیٹا کا استعمال وقت اور لاگت کی بچت کے لیے کیا جاتا ہے۔ مثال کے لیے طلبا کے درمیان فلمی ستارے کی مقبولیت پر ڈیٹا جمع کرنے کے بعد آپ ایک رپورٹ شائع کرسکتے ہیں۔ اگر کوئی شخص اس طرح کے مطالعے کے لیے آپ کے ذریعے جمع کیے گئے ڈیٹا کا استعمال کرتا ہے تو یہ ثانوی ڈیٹا بن جاتا ہے۔

.3 ڈیٹا کو ہم کس طرح جمع کریں 

کیا آپ جانتے ہیں کہ ایک صانع (Manufecturer) کس طرح کسی شے کی پیداوار کے بارے میں فیصلہ کرتا ہے یا کس طرح کوئی سیاسی پارٹی کسی امیداوار کے بارے میں فیصلہ کرتی ہے؟ وہ لوگوں کے ایک بڑے گروپ سے اس مخصوص شے یا امیدوار کے بارے میں سوالات پوچھنے کے ذریعہ جائزہ لینے کا اہتمام کرتے ہیں۔ جائزوں کا مقصد قیمت، کوالٹی، افادیت جیسی بعض خصوصیات (اگر شے کی پیداوار کامعاملہ ہے) اور مقبولیت، ایمانداری وفاداری (اگر امیدوار کا معاملہ ہے) کو بیان کرنا ہوتا ہے۔ جائزہ کا مقصد ڈیٹا جمع کرنا ہے۔ سروے یا جائزہ افراد سے معلومات اکٹھا کرنے کا ایک طریقہ ہے۔

 تیاری کے لیے وسائل

 وسائل کی نہایت عام قسم جو جائزوں کے لیے استعمال کی جاتی ہے وہ ہے سوال نامہ یا انٹرویو شیڈول۔ سوال نامے کا اہتمام یا تو جواب دہندہ (Respondent)  کے ذریعہ خود ہی کیا جاتا ہے یامحقق (شمار کنندہ) یا تربیت یافتہ تفتیش کار کے ذریعہ اسے انجام  دیا جاتا ہے۔ سوال نامے یا انٹرویو شیڈول تیار کرتے وقت آپ کو درج ذیل نکات ذہن میں رکھنے چاہئیں۔
  • سوال نامہ بہت زیادہ طویل نہیں ہونا چاہیے ۔ سوالات کی تعداد جتنی ممکن ہوسکے کم سے کم ہونی چاہیے۔ طویل سوال نامے لوگوں کے لیے اسے مکمل کرنے کا حوصلہ پست کرتے ہیں۔
  • سوال آسان اور قابل فہم ہوں نیز مشکل الفاظ کے استعمال سے بچنا چاہیے۔
  • سوال کا سلسلہ اس طرح ہونا چاہیے کہ پہلے عام سوالات ہوں اس کے بعد خصوصی سوالات۔ سوال نامہ عام سوالات سے شروع کیا جانا چاہیے اور پھر زیادہ خصوصی سوالات کی طرف بڑھنا چاہیے۔ اس سے جواب دہندگان آسانی محسوس کریں گے۔ مثال کے لیے:

ناقص سوالات

(i) کیا بجلی کی اجرتوں میں اضافے کا کوئی جواز ہے؟
(ii) کیا آپ کے علاقے میں بجلی سپلائی (فراہمی) پابندی کے ساتھ رہتی ہے؟

اچھے سوالات

(i) کیا آپ کے علاقے میں بجلی کی فراہمی پابندی کے ساتھ رہتی ہے؟ 
(ii) کیا بجلی کی اجرتوں میں اضافے کا کوئی جواز ہے؟
  • سوالات جامع اور واضح ہونے چاہئیں۔ مثال کے لیے

ناقص سوال

معقول حلیے میں دیکھنے کے لحاظ سے آپ لباس پر اپنی آمدنی کا کیا فی صد خرچ کرتے ہیں؟

اچھا سوال

آپ لباس پر اپنی آمدنی کا کتنا فی صد خرچ کرتے ہیں؟
  • سوالات مبہم یا غیر واضح نہیں ہونے چاہئیں تاکہ جواب دہندگان تیزی سے، درست اور واضح طور پر جواب دینے کے اہل ہوسکیں۔ مثال کے لیے:

ناقص سوال

کیا آپ ایک مہینے میں کتابوں پر بہت زیادہ رقم خرچ کرتے ہیں؟

اچھا سوال    

آپ ایک مہینے میں کتابوںپر کتنا خرچ کرتے ہیں؟
200 سے کم
ii۔ 200 تا 300 روپے
iii۔ 300 تا 400 روپے
iv۔ 400 روپے سے زیادہ
  • سوال دوہری نفی میں استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ ’’کیا آپ نہیں‘‘ جیسے سوال سے شروعات کیے جانے سے بچنا چاہیے۔ کیونکہ اس سے جانب داری پرمبنی جوابات حاصل ہوسکتے ہیں۔ مثال کے لیے:

ناقص سوال

  • کیا آپ ایسا نہیں سوچتے کہ تمباکو نوشی (Smoking) ممنوع ہونی چاہیے؟

اچھا سوال

کیا آپ ایسا سوچتے ہیں کہ تمباکو نوشی کا امتناع ہونا چاہیے؟
  • ایساسوال نہیں کیا جانا چاہیے جس سے مطلوبہ جواب پانے کا مقصد حاصل ہو اس سے جواب دہندہ کو اشارہ مل جاتا ہے کہ کیسا جواب دینا چاہیے۔ مثال کے لیے:

ناقص سوال

آپ اس اعلی درجے کی چائے کا ذائقہ کتنا پسند کرتے ہیں؟

اچھا سوال

آپ اس چائے کا ذائقہ کتنا پسند کرتے ہیں؟
  • سوال میں جواب کے متبادل کا اشارہ نہیں ملنا چاہیے۔ مثال کے لیے:

ناقص سوال

کیا آپ کالج کے بعد جاب کرنا پسند کریں گی یا خاتون خانہ (House wife) بننا چاہیں گی؟

اچھا سوال

اگر ممکن ہوا تو کیا آپ جاب کرنا پسند کریں گی؟
سوال نامہ معین مقدار (Closed ended) پر مبنی (یا ساختی ؛(Structured) یا غیر معین مقدار پر مبنی (یا غیر ساختی) سوالات پر مشتمل ہوتا ہے۔
معین مقدار پر مبنی یا ساختی سوالات یا تو دو طرفہ (Two way0 )سوال ہوتے ہیں یا تعددی انتخاب (کئی میں سے انتخاب) کا سوال ہوتا۔ جب صرف دو ممکنہ جوابات ’ہاں‘ یا ’نہیں‘ والے سوال ہوں تو انھیں دو طرفہ سوال کہا جاتا ہے۔
جب جوابات کے دو سے زیادہ انتخاب کا موقع یا امکان ہو تب انھیں تعددی انتخاب کا سوال کہا جاتا ہے، یہ زیادہ مناسب ہوتے ہیں۔
مثال کے لیے :
سوال: آپ نے زمین کو کیوں فروخت کیا؟
(i) قرضوں کو چکانے کے لیے
(ii) بچوں کی تعلیم کے سلسلے میں مالیاتی فراہمی کے لیے
(iii) دوسری کسی جائیداد میں سرمایہ کاری کے لیے 
(iv) کوئی دیگر وجہ (براہ کرم صراحت کریں)
معین مقدار پر مبنی سوالات کاتجزیہ کرنے میں استعمال کرنے، شمار کرنے اور اشارہ سازی کرنے کے لحاظ سے آسان ہوتے ہیں۔ کیونکہ سبھی جواب دہندگان دیے گئے متبادلات سے جواب دیتے ہیں۔ لیکن انھیں لکھنا مشکل ہے کیوں کہ متبادلات  کے دونوں پہلوؤں کو پیش کرنے کے لیے واضح طور پر تحریر کیا جانا ہوگا۔ یہ بھی امکان ہے کہ فرد کے صحیح جواب دیے گئے متبادل میں نہ پیش کیے گئے ہوں۔ اس کے لیے کسی دیگر کا انتخاب فراہم کیا جاتا ہے، جہاں جواب دہندہ اپنا جواب تحریر کرسکتا ہے، جس کی پیش بینی محققین کے ذریعہ نہیں کی جاتی۔ مزید برآن تعددی انتخاب کے سوالات کی ایک حد یہ بھی ہے کہ متبادلات جن کے بغیر جواب دہندگان مختلف طور پر جواب دے سکتے ہیں، فراہم کرنے کے ذریعہ یہ جوابات محدود رکھنے پر مائل ہوتے ہیں۔
غیر معین مقدار پر مبنی سوالات میں زیادہ انفرادی جوابات کی گنجائش رہتی ہے لیکن ان کی تشریح کرنا مشکل ہوتا ہے اور شمار کرنا دقت طلب ہوتا ہے کیوں کہ جوابات میں کافی فرق ہوتا ہے۔ مثال کے لیے،
سوال: عالم کار ی (globlization) کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟

ڈیٹا جمع کرنے کے طریقے

کیا آپ نے کبھی ٹیلی ویژن شو دیکھا ہے جس میں رپورٹروں کے ذریعہ بچوں، گھریلوں عورتوں یا عام لوگوں سے امتحان کی کارگردگی یا صابن کے برانڈ یا کسی سیاسی پارٹی سے متعلق سوالات پوچھے جاتے ہیں؟ ان سوالات کے پوچھنے کا مقصد ڈیٹا جمع کرنے کے لیے سروے انجام دینا ہے۔ ڈیٹا جمع کرنے کے تین بنیادی طریقے ہیں (i) ذاتی انٹرویو (ii) ڈاک کے ذریعہ سروے (سوال نامہ بھیج کر)، اور (iii) ٹیلی فون کے ذریعہ انٹرویو

ذاتی انٹرویو

اس طریقے کا استعمال اس وقت کیا جاتا ہے جب محقق کو سبھی ممبروں تک رسائی کرنی ہوتی ہے۔ محقق ( یا تفتیش کار) جواب دہندگان کے ساتھ آمنے سامنے انٹرویوں کا اہتمام کرتا ہے۔
2
ذاتی انٹرویو کو مختلف اسباب کی بنا پر ترجیح دی جاتی ہے۔ جواب دہندہ اور انٹرویو لینے والوں کے درمیان ذاتی رابطہ قائم کیا جاتاہے۔ انٹرویو لینے والے کے لیے مطالعے کی توضیح کا اور جواب دہندگان کے کسی استفسار کے جواب دینے کا موقع حاصل ہوتا ہے۔ انٹرویو لینے والا جواب ہندہ سے ان جوابات پر کھل کر بولنے کی استدعا کرسکتا ہے جن کی خاص طور پر اہمیت ہو۔ غلط تعبیر یا تشریح اور غلط فہمی سے بچا جاسکتا ہے۔ جواب دہندگان کے رد عمل پر نظر رکھنے سے اضافی معلومات فراہم ہوسکتی ہے۔
ذاتی انٹرویو کی کچھ خرابیاں بھی ہوتی ہیں۔ یہ طریقہ مہنگا ہے کیوں کہ اس میں تربیت یافتہ انٹرویو کار کی ضرورت پڑتی ہے۔ سروے پورا کرنے میں طویل وقت درکار ہوتا ہے، محقق کی موجودگی جواب دہندگان کو وہ کہنے سے باز رکھ سکتی ہے جو وہ حقیقتاً سوچتے ہیں۔

ڈاک کے ذریعہ سوال نامہ بھیجنا

جب سروے میں ڈیٹا کو ڈاک کے ذریعہ اکٹھا کیا جاتا ہے تو ہر فرد کو ڈاک کے ذریعہ سوال نامہ بھیجنا ہوتا ہے جس میں اسے پورا کرنے اور ایک مقررہ تاریخ تک واپس بھیجنے کی درخواست کی جاتی ہے۔ اس طریقے کے فائدے یہ ہیں کہ ، یہ کم مہنگا ہوتا ہے۔ اس میں محقق کے لیے یہ ممکن ہوتا ہے کہ وہ دور دراز کے لوگوں تک بھی رسائی حاصل کرے جن تک ذاتی طور پر یا ٹیلی فون کے ذریعہ رابطہ کرنا مشکل ہوجاتاہے۔ اس میں انٹرویو لینے والوں کے ذریعہ جواب دہندگان پر اثرانداز ہونے کی گنجائش نہیں رہتی۔ اس میں جواب دہندگان کے لیے سوالوں کے جوابات دینے کے لیے کافی وقت لینے کا  موقع بھی حاصل رہتا ہے۔ 
3PNG
آج کل آن لائن سروے یا (Short messaging SMS) کے ذریعہ کیے جانے والے سروے زیادہ مقبول ہورہے ہیں۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ آن لائن سروے کس طرح انجام دیے جاتے ہیں؟
ڈاک کے ذریعہ کیے جانے والے سروے کی خرابیاں بھی ہیں: اس بات کا کم موقع ہوتا ہے کہ ہدایات واضح کرنے میں کچھ مدد مل سکے، لہذا سوالوں کی غلط تشریح کا امکان رہتا ہے۔ ڈاک کے ذریعہ یہ بھی ممکن ہے کہ بعض عوامل جیسے سوال نامے کو بغیر مکمل کیے ہوئے واپس بھیجنے، سوال نامے کو بالکل ہی نہ واپس کرنے، ڈاک میں ہی سوال نامہ گم ہوجانے وغیرہ کے سبب جواب کی شرح بہت کم ہو۔

ٹیلی فون کے ذریعہ انٹرویو

ٹیلی فون کے ذریعہ انٹرویو میں، تفتیش کار ٹیلی فون پر جواب دہندگان سے سوالات پوچھتے ہیں۔ ٹیلی فون انٹرویو  میں فائدے یہ ہیں کہ یہ ذاتی انٹرویو کی نسبت سستے ہیں۔ سوالات کی صراحت کرنے کے ذریعہ جواب دہندہ کو محقق سے مدد مل سکتی ہے۔ ٹیلی فون کے ذریعہ انٹرویو ان معاملوں میں زیادہ بہتر ہوتا ہے جہاں ذاتی انٹرویو میں بعض سوالوں کے جواب دینے میں جواب دہندگان کو تردد ہوتا ہے۔
4

سرگرمیاں

  • آپ کو کسی ایسے شخص سے معلومات اکٹھی کرنی ہے جو ہندوستان کے کسی دور دراز کے گاؤں میں رہتا ہو۔ اس سے معلومات اکٹھی کرنے کے لیے ڈیٹا جمع کرنے کا سب سے زیادہ مناسب طریقہ کیا ہوگا؟لکھئے
  • معیارتعلیم کے بارے میں آپ کو سرپرستوں کا انٹرویو لینا ہے۔اگر اسکول کے پرنسپل وہاں موجود ہوں کس قسم کے مسائل درپیش ہوں گے؟

اس طریقے کی خامی یہ ہے کہ چونکہ بہت سے لوگوں کے پاس اپنے ٹیلی فون نہیں ہوتے اس لیے ان لوگوں تک رسائی نہیں ہوپاتی۔ ٹیلی فون انٹرویو میں جواب دہندگان کے ظاہری رد عمل بھی نہیں حاصل ہوپاتے جو کہ حساس امور پر معلومات حاصل کرنے میں مددگار ہوتے ہیں۔

آزمائشی جائزہ (Pilot Survey)

 ایک بار سوال نامہ تیار ہوجائے تو ایک چھوٹے گروپ کے ساتھ آزمانے کا اہتمام کرنا زیادہ مفید ہوگا اسے آزمائشی جائزہ یا سوال نامے کی ما قبل جانچ (Pre-Testing) کہا جاتا ہے۔ آزمائشی جائزہ سروے کے بارے میں ابتدائی تصور فراہم کرنے میں آپ کا مددگار ہوتا ہے۔ یہ سوال نامے کی پہلی جانچ کرنے میں مدد کرتا ہے۔ اس طرح آپ سوالوں کے نقص یا خامی اور دقتوں کے بارے میں جان سکیں گے۔ آزمائشی جائزہ سوالوں کی مناسبت کا اندازہ لگانے، ہدایات کی صراحت، شمار کنندگان کی کارکردگی اور اصل سروے میں شامل لاگت اور وقت کا اندازہ لگانے میں مددگار ہوتا ہے۔

.4  مردم شماری اور نمونہ جائزے

مردم شماری یا مکمل شمار

ایک سروے جس میں آبادی کا ہر عنصر شامل ہوتا ہے اسے مردم شماری یا سر شماری یامکمل شمار کا طریقہ کہا جاتا ہے۔  اگرہندوستان میں کل آبادی کا مطالعہ کرنے میں بعض ایجنسیوں کی دلچسپی ہے تب ایسی صورت میں ہندوستان کے دیہی اور شہری علاقوں میں اسے سبھی گھروں سے معلومات حاصل کرنی ہوتی ہیں۔ اس طریقے کی لازمی خصوصیت یہ ہے کہ یہ پوری آبادی میں ہر انفرادی اکائی کا احاطہ کرتا ہے۔ آپ کچھ کا انتخاب اور دیگر کو چھوڑ نہیں سکتے۔

خوبیاں خرابیاں

ذاتی انٹرویو

  • جواب کی اعلی ترین شرح          • بہت زیادہ مہنگا
  • سبھی طرح کے سوالات کے استعمال کی گنجائش                    • جواب دہندگان پر اثر انداز ہونے کا امکان
  • غیر معین مقدار پر مبنی سوالات کو استعمال کرنے میں بہتر        •زیادہ وقت طلب 
  • مبہم یا غیر واضح سوالوں کی صراحت کی گنجائش
2

میل کردہ




  • کم گراں            •  ناخواندہ کے لیے نہیں استعمال کیا جاسکتا 
  • دور دراز کے علاقوں میں پہونچنے کا واحد طریقہ           •   جواب کے لیے درکار طویل وقت
  • جواب دہندگان پر اثر انداز ہونے کا امکان نہیں            • مبہم سوالوں کی وضاحت کا امکان نہیں ہوتا
  • جواب دہندگان کی شناخت کو ظاہر نہیں کرتا      •  رد عمل نہیں دیکھے جاسکتے
  • حساس سوالوں کے لیے بہتر
3PNG

ٹیلیفونک انٹرویو


  • نسبتاً کم لاگت محدود استعمال
  • نسبتاً جواب دہندگان پر کم اثر اندازی رد عمل کو نہیں دیکھا جاسکتا
  • نسبتاً جواب کی اعلی شرح جواب دہندگان اثر انداز ہونے کا امکان
4

آپ ہندوستان کی مردم شماری سے واقف ہوں گے جو کہ ہر دس سال پر انجام دی جاتی ہے۔ اس میں گھر گھر پوچھ تاچھ انجام دی جاتی ہے اور ہندوستان کے ہر گھر کا احاطہ کیا جاتاہے۔ پیدائش اور اموات کی شرح، خواندگی، روزگار (Employmen)امکان زندگی (Life expectancy)، آبادی کی جسامت اور ترکیب وغیرہ کے بارے میں آبادیاتی ڈیٹا جمع کیے جاتے ہیں اور رجسٹرار جنرل آف انڈیا کے ذریعہ انھیں شائع کیا جاتا ہے۔ ہندوستان کی آخری مردم شماری فروری 2001 میں انجام دی گئی تھی۔
2001کی مردم شماری کے مطابق ہندوستان کی آبادی 102.70کروڑ تھی۔1901کی مردم شماری کے مطابق یہ 23.83 کروڑ تھی۔ ایک سو سال کے عرصے میں ہمارے ملک کی آبادی 78.87 کروڑ بڑھ گئی۔ 1981کی مردم شماری سے پتہ چلتا ہے کہ 1960کے دہے اور1970کے دہے کے دوران آبادی میں اضافہ کی شرح تقریباً یکساں تھی۔ 1991کی مردم شماری سے پتہ چلتا ہے1980کے دہے میں آبادی کا سالانہ شرح اضافہ 2.14 فی صد تھا جو کہ2001کی مردم شماری کے مطابق1990کے دہے کے دوران گھٹ کر1.93فی صد ہوگیا۔
5
میں مردم شماری کے شعبے سے آیا ہوں۔ کیا آپ کے قیمتی وقت میں سے 15 منٹ لے سکتا ہوں۔

6
 

’’یکم مارچ 2001 کے 00.00 گھنٹے پر ہندوستان کی آبادی 1027،015،247عورتیں شامل تھیں۔ اس طرح ہندوستان چین کے بعد ایسا دوسرا ملک بن گیا جس کی آبادی ایک بلین سے اوپر پہونچ گئی۔‘‘
ماخذ: ہندوستان کی مردم شماری 2001 

نمونہ جاتی جائزہ

شماریات میں آبادی یا موجودات کا مطلب تمام اشیا مدات یامعروضات سے ہے جو زیر غور یا زیر مطالعہ ہوں۔ اس طرح آبادی (Population) یا موجودات (Universe) ایک گروپ ہے جس میں مطالعے کے نتائج کے اطلاق کا ارادہ کیا گیا ہو۔ آبادی ہمیشہ ان تمام افراد/مدات پر مشتمل ہوتی ہے جو سروے کے مقصد کے لحاظ سے خصوصیات (یا خصوصیات کا مجموعہ) رکھتے ہوں۔ کسی نمونے کو منتخب کرنے میں پہلا کام آبادی کی شناخت کرنا ہے۔ جب ایک بار آبادی کی شناخت کرلی جاتی ہے تب محقق(Researcher)نمائندہ نمونہ (Representative Sample) منتخب کرتا ہے کیوں کہ پوری آبادی کا مطالعہ کرنا مشکل کام ہے۔ ایک نمونہ آبادی کے ایک گروپ یا سیکشن کی دلالت کرتا ہے جس سے معلومات حاصل کی جانی ہوتی ہے۔ ایک اچھا نمونہ (نمائندہ نمونہ) عام طور پر آبادی کی نسبت بہت چھوٹا ہوتا ہے اور زیادہ کم ترین لاگت اور مختصر ترین وقت میں آبادی کے بارے میں معقول اوردرست معلومات فراہم کرسکتا ہے۔
فرض کیجیے آپ کسی مخصوص خطے میں لوگوں کی اوسط آمدنی کا مطالعہ کرنا چاہتے ہیں۔ مردم شماری کے طریقے کے لحاظ سے آپ کو اس خطے میں ہر فرد کی آمدنی دریافت کرنی ہوگی،خطے میں لوگوں کی اوسط آمدنی حاصل کرنے کے لیے انھیں جمع کرنا ہوگا اور افراد کی تعداد سے تقسیم کرنا ہوگا۔ اس طریقے میں کافی زیادہ اخراجات کی ضرورت ہوگی کیوں کہ اس میں شمار کنندگان کی کافی بڑی تعداد کو لگانے کی ضرورت ہوگی۔ متبادل صورت میں آپ  خطے سے کچھ افراد کے نمائندہ نمونہ منتخب کرتے ہیں اور ان کی آمدنی دریافت کرتے ہیں۔ افراد کے منتخب گروپ کی اوسط آمدنی کو پورے خطے کے افراد کی اوسط آمدنی کے ایک تخمینے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ مثال:
  • عنوان برائے تحقیق: منی پور کے ضلع چورا چاند پور میں زراعتی مزدوروں کی معاشی حالت کامطالعہ
  • آبادی: چورا چاند پور ضلع میں تمام زراعتی مزدور
  • نمونہ: چورا چاند پور ضلع میں کل زراعتی مزدوروں کا دس فی صد۔
اکثر جائزے نمونہ جاتی جائزے ہوتے ہیں۔ شماریات میں نمونہ جاتی جائزوںSample Survey کو ترجیح دی جاتی ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہیں۔ ایک نمونہ کم ترین لاگت اور مختصر ترین وقت میں معقولیت کے ساتھ معتبر اور درست معلومات فراہم کرسکتے ہیں۔ چوں کہ نمونے آبادی کی نسبت زیادہ مختصر ہوتے ہیں اس لیے عمیق دریاقتوں کا اہتمام کرنے کے ذریعہ زیادہ تفصیلی معلومات جمع کی جاسکتی ہیں۔ چوں کہ ہمیں شمار کنندگان کی ایک بہت چھوٹی ٹیم کی ضرورت ہوتی ہے اس لیے انھیں تربیت دینا زیادہ آسان اور ان کے کام پر نگرانی رکھنا زیادہ موثر ثابت ہوتا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ آپ کو نمونہ کاری (Sampling) کیسے کرنی ہے؟ نمونہ کاری کی دو اہم قسمیں ہیں، اتفاقی (Random) اور غیر اتفاقی(Non-Random)۔ درج ذیل بیان سے ان میں فرق واضح ہوگا۔

سرگرمیاں

  •         ہندوستان اور چین میں اگلی مردم شماری کن سالوں میں انجام دی جائے گی؟
  • اگر آپ کو کلا س XI کی معاشیات کی نئی درسی کتاب کے بارے میں طلبا کی رائے کا مطالعہ کرنا ہے تو آپ کی آبادی (کل شمار) اور نمونہ کیا ہوگا؟
  •   اگر کوئی محقق پنجاب میں گیہوں کا اوسط پیداوار کا نتیجہ لگانا چاہتا ہے تو اس کی آبادی (کل شمار) اور نمونہ کیا ہوگا؟

اتفاقی نمونہ کاری

جیسا کہ نام سے ظاہر ہے،اتفاقی نمونہ کاری وہ ہے جہاں آبادی (نمونوں) سے انفرادی اکائیوں کو اتفاقی طور پر منتخب کیا جاتا ہے۔حکومت کسی خاص علاقے کے گھریلو بجٹ پر پیٹرول کی قیمت میں اضافے کے اثر کو متعین کرنا چاہتی ہے۔ اس کے لیے 30 گھروں کا ایک نمائندہ(اتفاقی)نمونہ لیا جاتا ہے اور مطالعہ کیا جاتا ہے۔ اس علاقے کے سبھی 300 گھروں کے نام کاغذکی پرچیوں پر لکھے جاتے ہیں اور انھیں اچھی طرح ملا دیا جاتا ہے، اس کے بعد 30 ناموں کے انٹرویو لیے جاتے ہیں جنہیں ایک ایک کرکے منتخب کیا جاتا ہے۔
7
ایک آبادی کا 20 کچے
اور 20پکے گھر

ایک غیر نمائندہ نمونہ
ایک نمائندہ نمونہ

اتفافی نمونہ کاری میں ہر فرد کے پاس منتخب ہو جانے کا مساوی موقع ہوتا ہے اور افراد جو منتخب ہوتے ہیں وہ بالکل انھیں کی طرح ہوتے ہیں جو منتخب نہیں ہوتے۔ اوپر کی مثال میں آبادی کی سبھی 300 نمونہ کاری اکائیاں (ان میں نمونہ کاری فریم بھی کہا جاتا ہے)30 اکائیوں کے اکائیوں کے نمونے میں شامل کئے جانے کا مساوی موقع حاصل ہوتا ہے،لہذا اس طرح جو نمونہ نکالا جاتا ہے،اتفاقی نمونہ کاری ہے۔اسے لاٹری طریقہ کہا جاتا ہے۔اسے ایک اتفاقی عدد جدول کا استعمال کرنے کے ذریعہ بھی کیا جاتا ہے۔

 رجحاناتExitPolls

آپ نے دیکھا ہوگا کہ جب کوئی انتخاب ہوتا ہے تب ٹیلی ویزن کے نٹ ورک انتخاب سے متعلق خبر فراہمی (Coverage) انجام دیتے ہیں۔ وہ جیتنے والی پارٹی کی پیشن گوئی کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔ انھیں ایگزٹ پول کے ذریعہ انجام دیا جاتا ہے۔ جس میں ان ووٹروں کے اتفاقی نمونے لیے جاتے ہیں جو پولنگ بوتھ سے باہر نکلتے ہیں۔ ان سے پوجھا جاتا ہے کہ انھوں نے کسے ووٹ دیا ہے۔ ووٹروں کے نمونے کے ڈیٹا سے جیتنے والے کی پیشین گوئی کی جاتی ہے۔

سرگرمی

آپ کو ہندوستان میں پچھلے پچاس سالوں میں اناج کی پیداوار کے رجحان کا تجزیہ کرنا ہے۔ چونکہ سبھی سالوں کا ڈیٹا جمع کرنا مشکل ہے اس لیے آپ کو دس سالوں کی پیداوار کا نمونہ منتخب کرنا ہے۔ اتفاقی اعداد جدول کا استعمال کرتے ہوئے آپ اپنا نمونہ کس طرح منتخب کریں گے۔


غیر اتفاقی نمونہ کاری

ایسی صورت حال بھی پیدا ہوسکتی ہے کہ آپ کو بستی میں 100گھروں میں سے10کا انتخاب کرنا ہو۔ یہ آپ کو فیصلہ کرنا ہے کہ کون سے گھرکو منتخب کرنا ہے اور کون سے گھر کو نہیں۔ آپ ان گھروں کو چن سکتے ہیں جن میں محل وقوع کے اعتبار سے آپ کو آسانی ہو یا ان گھروں کو چن سکتے ہیں جن کے بارے میں آپ کو یا آپ کے دوست کو واقفیت ہو۔ اس معاملے میں 10 گھروں کو منتخب کرنے میں آپ کو اپنی رائے (جانب داری) استعمال کرنی پڑرہی ہے۔100گھروں سے 10گھر کو منتخب کرنے کا یہ طریقہ اتفاقی انتخاب نہیں ہے۔ غیر اتفاقی نمونہ کاری کے طریقے میں پیداوار کی سبھی اکائیوں کو منتخب ہونے کا مساوی موقع نہیں ملتا اور تفتیش کار کی آسانی و سہولت یا فیصلہ نمونے کے انتخاب میں ایک اہم کردار نبھاتا ہے۔ انھیں بالخصوص رائے، مقصد، سہولت یا مقررہ حصے (Quota) کی بنیاد پر انتخاب کیا جاتا ہے اور اس طرح یہ غیر اتفاقی نمونے ہیں۔

.5 نمونہ کاری اور غیر نمونہ کاری خامیاں

نمونہ کاری کی خامیاں

نمونے کا مقصد آبادی کا ایک تخمینہ لگانا ہے۔ نمونہ کی خامی سے مرادہے آبادی کے وصف یاانفرادی خصوصیت کے نمونہ تخمینے اور اصل قدر (جو کہ اوسط آمدنی وغیرہ ہوسکتی ہے) کے درمیان فرق ہے۔ یہ وہ خامی ہے جو اس وقت رونما ہوتی ہے جب آپ آبادی سے لیے گئے نمونے کا کوئی مشاہدہ کرتے ہیں۔ اس طرح آبادی (جوکہ نہیں معلوم) کے پیرامیٹر کی اصل قدر اور اس کے تخمینے (نمونے سے) کے درمیان فرق کو نمونہ کاری کی خامی کہتے ہیں۔ ایک 
شماریات برائے معاش گیارھویں جماعت صفحہ 24(الف)
بڑا نمونہ لے کر ہی نمونہ کاری کی خامیوں کی وسعت (magnitude)کو کم کرنا ممکن ہے۔
منی پور کے 5کسانوں کی آمدنیوں کے ایک معاملے پر غور کریں۔ متغیر Xکسانوں کی آمدنی کو ظاہر کرتا ہے۔
 آمدنی،700،650،600،550،500ہے ۔
5÷ ( 500+550+600+650+700)= آمدنی کا اوسط
                               5÷3000=           ,,
                                      600=   آمدنی کا اوسط
      
اب مان لیجئے کہ ہم دو افراد کا ایک نمونہ منتخب کرتے ہیں جہاں xیہ 500اور600ہے
2÷ ( 500+600 ) = نمونہ اوسط
           2÷1100 =      ,,
                 550= نمونہ اوسط

9
یہاں 
تخمینہ –اصل قدر =تخمینہ کی نمونہ کاری کی خامی
600-550= ''
50 =تخمینہ کی نمونہ کاری کی خامی

غیر نمونہ کاری کی خامیاں

غیر نمونہ کاری کی خامیاں نمونہ کاری کی خامیوں کے بالمقابل میں زیادہ قابل لحاظ ہیں ۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ نمونہ کاری کی خامیوں کو بڑا نمونہ لے کر کم سے کم کیا جا سکتا ہے۔لیکن غیر نمونہ کاری کی خامیوں کو کم کرنا مشکل ہے ۔ بھلے ہی اس کے لیے کوئی بڑا نمونہ لے لیا جائے۔یہاں تک کہ مردم شماری میں غیر نمونہ کاری کی خامیاں شامل ہوں۔
غیر نمونہ کاری کی کچھ خامیاں یہ ہیں۔

ڈیٹا کے حصول میں خامیاں

اس قسم کی خامیاں غلط جوابات کو درج کرنے سے پیدا ہوتی ہیں۔ فرض کرو کہ ٹیچر طلبا سے ٹیچر کی میز کی لمبائی ناپنے کے لیے کہتا ہے۔ طلبا کے ذریعہ کی جانے والی پیمائش مختلف ہوسکتی ہے۔ یہ فرق پیمائشی ٹیپ (فیتہ) میں فرق، طلباء کی لاپرواہی وغیرہ کے سبب ہوسکتا ہے۔ اسی طرح فرض کیجیے کہ آپ سنتروں کی قیمتوں پر ڈیٹا جمع کرنا چاہتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ ہر دوکان اور ہر بازار میں اس کی قیمتیں الگ الگ ہوسکتی ہیں۔ اس کے علاوہ قیمتوں میں اس کی کوالٹی کے اعتبار سے بھی فرق ہوتا ہے۔ لہذا، ہم صرف اوسط قیمتیں ہی لے سکتے ہیں۔ اندراج میں بھی غلطیاں واقع ہوسکتی ہیں کیونکہ شمار کنندگان یا جواب دہندگان اندراج میں یا ڈیٹا کی نقل نویسی میں غلطیاں کرسکتے ہیں۔ مثال کے لیے وہ 31 کے بجائے 13 کا اندراج کرسکتا ہے۔

عدم جوابی کی خامیاں

نمونہ میں موجود شخص جب مصاحب کار ربط قائم کرنے میں ناکام ہوجائے یا ربط شدہ شخص پوچھی گئی معلومات کا جواب نہ دے تب عدم جواب کی خامیاں رونما ہوتی ہے۔ اس معاملے میں نمونے کا مشاہدہ نمائندہ یا مثالی نہیں ہوسکتا۔

نمونہ کاری کی جانب داری

نمونہ کاری کی جانب داری اس وقت واقع ہوتی ہیں جب نمونہ کاری منصوبہ اس طرح کا ہو کہ ہدف آبادی کے بعض ممبران کو نمونے میں نہ شامل کیا گیا ہو۔

.6 ہندوستان میں مردم شماری اور این۔ایس۔ایس۔او

قومی اور ریاستی سطح پر کچھ ایجنسیاں ہوتی ہیں جو شماریاتی ڈیٹا جمع کرتی ہیں، اس کی عمل کاری کرتی ہیں اور اسے جدولی شکل دیتی ہیں۔ قومی سطح پرمردم شماری کی کچھ بڑی ایجنسیوں میں  (NSSO) نیشنل سیمپل سروے آرگنائزیشن مرکزی شماریاتی تنظیم (CSO)، رجسٹرار جنرل آف انڈیا، ڈائرکٹریٹ جنرل آف کمرشیل انٹلی جینس اور اسٹیٹکس (DGCIS) لیبربیورو وغیرہ شامل ہیں۔
ہندوستان کی مردم شماری آبادی کی نہایت مکمل اور مستقل آبادیاتی ریکارڈ فراہم کرتی ہے۔ 1881سے ہر دس سال پر مردم شماری کا اہتمام پابندی سے کیا جاتا ہے۔ آزادی کے بعد پہلی مردم شماری 1951 میں ہوئی تھی۔ ان مردم شماری کے ذریعہ آبادی کے مختلف پہلوؤں جیسے حجم، گھناپن، جنسی تناسب، خواندگی، نقل پذیری، دیہی و شہری تقسیم وغیرہ، پر معلومات جمع کی جاتی ہے۔ ہندوستان میں مردم شماری معاشی اور سماجی مسائل کو جاننے ڈیٹا کی مفید اندازمیں تشریح اور تجزیہ کے لیے کیا جاتا ہے۔
نیشنل سیمپل سروے آرگنائزیشن (NSSO)، سماجی و معاشی امور پر قومی پیمانے پر سروے کا اہتمام کرنے کے سلسلے میں حکومت ہند کے ذریعے قائم کیا گیا تھا۔ NSSO متواتر وقفے وقفے پر مستقل سروے انجام دیتا ہے۔ مختلف سماجی و معاشی موضوعات پر NSSO کے سروے کے ذریعے جمع کیے گئے ڈیٹا رپورٹوں اور اس کے سہ ماہی جرنل ’’سرویکشن‘‘ کے ذریعہ جاری کیے جاتے ہیں۔ NSSOخواندگی، اسکول میں ہونے والے اندراج، تعلیمی خدمات سے استفادہ، روزگار،بے روزگاری، مینوفیکچرنگ اور سروس سیکٹر انٹر پرائیزز، مریضانہ یا غیر صحتمندانہ کیفیت، زچگی، بچہ کی دیکھ بھال، عوامی تقسیمی نظام (PDS) وغیرہ سے استفادہ کے متعلق معیاری اندازے فراہم کرتا ہے۔NSSO کا 59 ویں دور کا سروے(جنوری تا دسمبر 2003) زمین، مویشی املاک، دین داری اور اصل کاری پر مبنی تھا۔ NSSO کے 60 ویں دور کا سروے (جنوری تا جون 2004) غیر صحتمندانہ کیفیت اور صحت کی دیکھ بھال سے متعلق تھا۔NSSO  صنعتی سرگرمیوں کی تفصیلات اور مختلف اشیاء کی قیمت خورد کو بھی جمع کرتا ہے۔ منصوبہ بندی کے لیے حکومت ہند اس کا استعمال کرتی ہے۔

.7 اختتام

معاشی حقائق جو اعداد کی اصطلاح میں ظاہر کیے جاتے ہیں ڈیٹا کہلاتے ہیں۔ ڈیٹا جمع کرنے کا مقصد کسی مسئلے کو سمجھنا، وضاحت کرنا اور تجزیہ کرنا اور اس کے پس پردہ اسباب کا پتہ لگانا ہے۔ ابتدائی ڈیٹا کو سروے(جائزہ) کے اہتمام کرنے کے ذریعہ حاصل کیا جاتاہے۔سروے میں مختلف اقدامات شامل ہوتے ہیں جن کی منصوبہ بندی نہایت محتاط طور پر کیے جانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایسی متعدد ایجنسیاں ہیں جوشماریاتی ڈیٹا کو جمع کرتی ہیں، عمل کاری کرتی ہیں، جدولی شکل دیتی ہیں اور انھیں شائع کرتی ہیں، انھیں ثانوی ڈیٹا کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔ تاہم ڈیٹا کے ذرائع اور ڈیٹا جمع کرنے کے طریقے کا انتخاب مطالعے کے مقصد پر منحصر ہوتا ہے۔

خلاصہ

  • ڈیٹا وہ ذریعہ ہے جو معلومات فراہم کرنے کے ذریعہ کسی مسئلے کے سلسلے میں بہتر و جامع نتیجے پر پہنچنے میں مدد کرتا ہے۔
ابتدائی ڈیٹا ابتدائی معلومات پر مبنی ہوتا ہے۔
  • سروے ذاتی انٹرویو، بذریعہ ڈاک سوالنامہ اور ٹیلی فون سے انٹرویو لیے جانے کے ذریعہ انجام دیا جاسکتا ہے۔
  • مردم شماری میں آبادی سے متعلق ہر فرد/ اکائی کا احاطہ کیا جاتا ہے۔
  • نمونہ آبادی منتخب کیا گیا ایک مختصر ترین گروپ ہے جس سے متعلقہ معلومات طلب کی جاتی ہے۔
  • اتفاقی نمونہ کاری میں ہر فرد کو معلومات فراہم کرنے کے لیے منتخب کیے جانے کا مساوی موقع دیا جاتا ہے۔
  • نمونہ کاری کی خامیاں اصل آبادی اور تخمینہ کے درمیانی فرق کے سبب پیدا ہوتی ہیں۔
  • ڈیٹا حاصل کرنے میں غیر نمونہ کاری کی خامیاں جواب نہ مل پانے یا انتخاب میں جانب داری برتنے کے ذریعہ پیدا ہوتی ہیں۔
  • ہندوستان کی مردم شماری اور قومی نمونہ سروے تنظیم قومی سطح پر دو اہم ایجنسیاں ہیں جو ڈیٹا کو جمع کرتی ہیں، عمل کاری کرتی ہیں اور بہت سے اہم معاشی و سماجی مسائل پر جدولی شکل عطا کرتے ہیں۔

مشقیں

1. درج ذیل سوالات کے لیے کم سے کم چار مناسب متبادلات وضع کریں۔
(i) جب آپ کوئی نیا لباس خریدتے ہیں تب کون سا پہلو اہمیت کا حامل ہوتا ہے؟

(ii) آپ کمپیوٹروں کو اکثر کیسے استعمال کرتے ہیں؟
(iii) درج ذیل میں کون سے اخبارات آپ پابندی سے پڑھتے ہیں؟
(iv) پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کو جائزہ قرار دیا گیا ہے۔
(v) آپ کی فیملی کی ماہانہ آمدنی کیا ہے؟
2. پانچ دو طرفہ سوال (ہاں، یا نا کے ساتھ) وضع کیجیے۔
درج ذیل بیانات کے سامنے صحیح یا غلط کے نشان لگائیے؟
3. درج ذیل بیانات کے سامنے صحیح یا غلط کے نشان لگائیے؟
  (i) ڈیٹا کے کئی ذرائع ہیں۔ (صحیح غلط)
(ii) ٹیلی فون کے ذریعہ سروے ڈیٹا جمع کرنے کا نہایت موزوں طریقہ ہے، جب آبادی ناخواندہ ہو اور ایک بڑے علاقے میں پھیلی ہوئی ہو۔ 
(iii) محقق کے ذریعہ جمع کیے گئے ڈیٹا کو ثانوی ڈیٹا کہا جاتا ہے۔(صحیح ؍غلط)
(iv) نمونوں کے غیر اتفاقی انتخاب میں بعض جانب داری بھی شامل ہوتی ہے۔(صحیح ؍غلط) 
(v) غیر نمونہ کاری میں خامیوں کو بڑے نمونے لیے جانے کے ذریعہ کم ترین کیا جاسکتا ہے ۔(صحیح غلط)
4. درج ذیل سوالوں کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے۔ کیا آپ ان سوالوں کے ساتھ کوئی مسئلہ دریافت کرتے ہیں؟ اگر ہاں ، تو کس طرح؟
(i) آپ قریب ترین بازار سے کتنی دور رہ سکتے ہیں؟
(ii) اگرکوڑا کرکٹ میں صرف 5 فی صد پلاسٹک تھیلے ہوں تو کیا ہمیں اس پر پابندی لگادینی چاہیے؟
(iii) کیا آپ پٹرول کی قیمت میں اضافے کی مخالف نہیں کریں گے؟
(iv)   کیا آپ کیمیکل فرٹلائزروں کے استعمال سے متفق ہیں؟
 (v)کیا آپ اپنے کھیتو ں میں فرٹلائزروں کا استعمال کرتے ہیں؟
(vi)   آپ کے کھیت میں فی ہیکٹر کیا پیداوار ہیں؟
5. آپ بچوں میں سبزیاں آٹا نوڈلس کی مقبولیت پر تحقیق کرنا چاہتے ہیں۔ اس معلومات کو جمع کرنے کے لیے موزوں سوال 
نامے وضع کیجیے۔
200 کھیتوں والے کسی گاؤں میں فصل اگانے کے طریقے دریافت کرنے کے سلسلے میں ایک مطالعے کا اہتمام کرنا ہے۔ ان میں 50 کھیتوں کا سروے کیا گیا،%50گیہوں اُگاتے ہیں۔ آبادی اور نمونہ سائز کیا ہوگا؟
7. نمونہ آبادی اور متغیرہ میں ہر ایک کی دو مثالیں دیجیے۔
8. درج ذیل طریقوں میں کون سا  بہتر نتیجہ دیتا ہے اور کیوں؟
(a) مردم  شماری (b) نمونہ
9. درج ذیل میں کون سی خامیاں زیادہ قابل لحاظ ہیں اور کیوں؟
(a) نمونہ کاری کی خامیاں (b) غیر نمونہ کاری کی خامیاں
10 . فرض کیجیے آپ کی کلاس میں 10 طلبا ہیں۔ آپ ان میں سے تین کا انتخاب کرنا چاہتے ہیں۔ کتنے نمونے ممکن ہیں؟
11. اپنی کلاس میں 10 میں سے 3 طلبا کا انتخاب کرنے کے لاٹری طریقے کا استعمال آپ کس طرح کریں گے؟
12. کیا لاٹری طریقے سے آپ کو ہمیشہ اتفاقی نمونہ حاصل ہوتا ہے؟ وضاحت کیجیے۔
13. کیا سروے (جائزوں) کی نسبت نمونے زیادہ بہتر نتائج فراہم کرتے ہیں آپ کے جواب کے لیے اسباب کیا ہیں؟