باب 3
ڈیٹا کی تنظیم کاری ( Organisation of Data )

اس باب کا مطالعہ کرنے کے بعدآپ اس قابل ہو جائیں گے کہ:
- مزید شماریاتی تجزیے کے لیے ڈیٹا کی درجہ بندی کرسکیں گے؛
- مقداری اور کیفیتی درجہ بندی کے درمیان امتیاز کرسکیں گے؛
- تواتری تقسیم کا جدول تیار کرسکیں گے؛
- کلاسوں کو وضع کرنے کی تکنیک جان سکیں گے؛
- ملان کے نشان زدگی طریقے (Tally marking method)جان سکیں؛
- ایک متغیرہ (univariate) اور دو متغیرہ (bivariate) تواتری تقسیمی کے درمیان امتیاز کرسکیں گے۔
1.تعارف
پچھلے باب میں آپ نے سیکھا کہ ڈیٹا کس طرح جمع کیا جاتا ہے۔ آپ نے مردم شماری اور نمونہ کاری کے درمیان فرق بھی جانا۔ اس باب میں، آپ جانیں گے کہ ڈیٹا جو آپ نے جمع کیا ہے، اس کی درجہ بندی کیسے کی جاتی ہے۔ خام ڈیٹا (جس کا تجزیہ نہ کیا گیا ہو) کی درجہ بندی کا مقصد ان کو اس طرح منظم کرنا ہے کہ مزید شماریاتی تجزیے میں آسانی ہوسکے۔
کیا آپ نے کبھی اپنے مقامی کباڑی جسے آپ پرانے اخبار، ٹوٹے پھوٹے گھریلو سامان، خالی بوتلیں، پلاسٹک وغیرہ فروخت کرتے ہیں، کا مشاہدہ کیا ہے۔ وہ ان چیزوں کو آپ سے خریدتا ہے اور انھیں فروخت کردیتا ہے جو ان کی بازگردانی (ان اشیا کو کار آمد بنانے کے لیے نئی شکل دینا) کرتے ہیں۔ لیکن اس کی دوکان میں اتنے سارے کباڑے سے اس کے لیے اپنے کاروبار کو سنبھالنا مشکل ہوجاتا اگر وہ اسے مناسب طور پرترتیب نہ دیتا۔ اس صورت ِحال سے سہولت کے ساتھ نمٹنے کے لیے وہ مختلف کباڑوں کو مناسب طور پر گروپ بندی یا درجہ بندی کرتا ہے۔ وہ پرانے اخباروں کو ایک ساتھ رکھتا ہے اور انھیں رسی سے باندھتا ہے۔ تمام خالی شیشے کی بوتلوں کو ایک بورے میں رکھتا ہے۔ وہ اپنی دوکان کے ایک کونے میں دھات کے سامان کا ڈھیر لگاتا ہے اور ’’لوہا‘‘، ’’تانبہ‘‘، ’’المونیم‘‘، ’’پیتل‘‘ وغیرہ جیسے گروپوں میں ان کو چھانٹتا ہے۔ اس طرح وہ اپنے کباڑ کو مختلف گروپوں ’’اخبارات‘‘، ’’پلاسٹک‘‘، ’’شیشہ‘‘، ’’دھات‘‘ میں گروپ بندی کرتا ہے، اور انہیں اس طرح مرتب کرتا ہے۔ جب اس کا کباڑ مرتب اور درجہ بند ہوجاتا ہے تب اس کے لیے آسان ہوجاتا ہے کہ وہ کسی خریدار کے طلب کرنے پر کسی مخصوص سامان کو دے سکے۔

oh! No, it an utter chaos
اسی طرح جب آپ اپنی اسکولی کتابوں کو ایک خاص ترتیب میں لگاتے ہیں تو اسے برتنا آپ کے لیے آسان ہوجاتا ہے۔ پر انھیں مضامین کے لحاظ سے درجہ بند کرسکتے ہیں جہاں ہر مضمون ایک گروپ یا ایک درجہ بن جاتا ہے۔ لہذا جب آپ کو تاریخ پر کسی مخصوص کتاب کی ضرورت ہوتی ہے بطور مثال آپ کو ’’تاریخ‘‘ گروپ میں رکھی کتاب کو تلاش کرنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ ورنہ آپ جس مخصوص کتاب کو تلاش کررہے ہیں اس کا پتہ کرنے کے لیے پورے کتابوں کے ذخیرے کو تلاش کرنا ہوگا۔
جب ہم اشیاء یا چیزوں کی درجہ بندی کرتے ہیں تو ہمارا قیمتی وقت اور محنت بچتی ہے۔ اسے کسی بے ترتیب طریقے سے نہیں انجام دیا جاتا۔ کباڑی والے گروپ کے پاس جو کباڑ کا سامان ہوگا وہ مارکیٹ کے صنعت کے حساب سے ہوگا۔مثال کے لیے شیشے کے گروپ کے تحت اسے خالی بوتلیں، ٹوٹے پھوٹے آئینے اور کھڑکی کے شیشے وغیرہ رکھنے ہوتے ہیں۔ اسی طرح جب آپ اپنی تاریخ کی کتابوں کو ’’تاریخ گروپ کے تحت درجہ بند کرتے ہیں تو آپ اس گروپ میں مختلف مضمون کی کتابیں نہیں رکھیں گے۔ ورنہ گروپ بنانے کا پورا مقصد بے کار ہوجائے گا۔ لہذا، درجہ بندی گروپوں یا درجوں میں یکساں چیزوں کو مرتب کرنے یا منظم کرنے کو کہا جاتا ہے۔
سرگرمی
- اپنے مقامی ڈاکخانے یہ دریافت کرنے کے لیے جائیں کہ خطوط کو کس طرح چھانٹا جاتا ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ کسی خط میں پن کوڈ کس بات کی علامت ہوتا ہے؟ اپنے ڈاکیے سے دریافت کریں۔
2 .خام ڈیٹا
کباڑی کے کباڑ کی طرح ہی غیر درجہ بند ڈیٹا یا خام ڈیٹا نہایت غیر منظم ہوتے ہیں۔یہ اکثر بہت طویل ہوتے ہیں اور انھیں برتنا باعث زحمت ہوتا ہے۔ ان سے بامعنی نتائج نکالنا بہت تھکادینے والا کام ہوگا کیوں کہ یہ آسانی سے شماریاتی طریقے نہیں حاصل کرتے۔ اس لیے ایسے ڈیٹا کی مناسب تنظیم اور پیشکش کی ضرورت کسی نظامی شماریاتی تجزیے کو انجام دینے سے پہلے ہوتی ہے لہذا ڈیٹا کو جمع کرنے کے بعد اگلا قدم ایک درجہ بند شکل میں انھیں منظم کرنا اور پیش کرنا ہے۔
مان لیجیے آپ ریاضیات میں طلبا کی کارکردگی جاننا چاہتے ہیں اور آپ نے اپنے اسکول کے 100 طلبا کے ریاضی میں حاصل کیے گئے نمبروں پر مبنی ڈیٹا جمع کیا ہے۔ اگر آپ اسے جدول کے طور پر پیش کرتے ہیں تو کچھ جدول 3.1کی طرح دکھائی دے سکتا ہے۔
جدول 3.1
کسی امتحان میں 100 طلبا کے ذریعہ حاصل کیے گئے
ریاضی کے نمبر
40 49 100 66 56 51 60 10 45 47
41 51 55 59 48 62 55 56 59 60
50 62 65 57 59 50 66 64 69 42
90 55 14 20 56 17 75 37 30 64
54 56 49 90 34 25 14 55 51 62
66 65 85 60 82 40 82 49 47 70
65 55 28 12 48 70 69 64 44 49
22 14 56 0 80 71 41 25 40 49
35 30 12 59 61 43 70 46 53 66
25 90 14 32 39 82 76 57 44 45
Its managable now
یا آپ نے اپنے پڑوس میں غذا پر ان کے اوسط اخراجات معلوم کرنے کے لیے 50 گھروں کی غذا پر ہونے والے ماہانہ اخراجات پر ڈیٹا اکٹھا کرسکتے ہیں۔ اس معاملے میں جمع کیے گئے ڈیٹا کو جدول کی شکل میں پیش کیا جاسکتا تھا جو کہ جدول 3.2 سے مشابہ ہوگا۔
جدول 3.2
50گھروں کی غذا پر ماہانہ گھریلواخراجات (روپے میں)
2760 1735 3473 1559 1904
4439 1855 1753 1612 2041
2523 2346 1823 1085 5090
1183 2152 1110 1360 1211
2712 2628 1105 1315 1218
1171 1183 1264 1812 4248
2048 1137 1953 1180 1007
3676 2621 1324 1583 2025
2575 2177 1962 1832 1397
1396 3222 1146 1365 1293
جدول 3.1اور جدول 3.2 دونوں خام یا غیر درجہ ڈیٹا والے ہیں۔ دونوں جدول میں آپ پاتے ہیں کہ اعداد کسی بھی ترتیب(چڑھتی؍اترتی) میں مرتب نہیں کئے گئے ہیں۔اب اگر آپ سے پوچھا جائے کہ جدول 3.1 سے ریاضی میں سب سے زیادہ نمبر کتنے ہے۔ تب آپ کو 100 طلبا کے حاصل نمبروں کو پہلے یا تو عروجی (Ascending) یا نزولی (Desending) ترتیب میں منظم کرنا ہوگا۔ یعنی یہ اکتاہٹ والا کام ہوتا ہے۔ یہ زیادہ تھکادینے والا کام بن جاتا ہے اگر آپ کو 100 کے بجائے 1000 طلبا کو برتنا ہو۔ اسی طرح جدول 3.2میں آپ غور کریں گے کہ آپ کے لیے یہ تحقیق کرنا مشکل ثابت ہوگا کہ 50 گھروں کا اوسط ماہانہ اخراجات کیا ہیں۔ اگر یہ تعداد بڑی ہوتی بالفرض 5000 گھروں کی تو یہ مشکل کئی گنا بڑھ جاتی ہے بالکل ہمارے کباڑی والے کی طرح جسے کسی مخصوص مد کو دریافت کرنے کے لیے نڈھال ہوجانا پڑتااگر اس کا کباڑ بہت زیادہ اور غیر مرتب ہوتا۔ آپ کو اسی طرح کی صورت حال کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے اگر آپ کسی خام ڈیٹا سے جو کہ کافی بڑا ہے، کوئی معلومات حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ اگر ہم اسے ایک جملے میں کیہں تو یہ کہیں گے کہ کسی بڑے غیر درجہ بند ڈیٹا سے معلومات حاصل کرنے کا کام بہت تھکادینے والا کام ثابت ہوگا۔ خام ڈیٹا کی تلخیص کی جاتی ہے اور اس کی درجہ بندی کرنے کے ذریعہ اسے جامع و مکمل بنایا جاتا ہے۔ جب ایک جیسی خصوصیات کے حقائق ایک جیسے درجے میں رکھے جاتے ہیں تو انھیں کوئی بھی آسانی سے پتہ لگاسکتا ہے، ان کا موازنہ کیا جاسکتا ہے اور بغیر کسی دقت کے نتائج اخذ کیے جاسکتے ہیں۔ آپ نے باب 2 میں مطالعہ کیا کہ حکومت ہند ہر دس سال پر آبادی کی مردم شماری کا اہتمام کرتی ہے۔ 2001 کی مردم شماری تقریباً بیس کروڑ لوگوں سے رابطہ قائم کیا گیا۔مردم شماری کے خام ڈیٹا اتنے زیادہ مقدار میں اور متفرق اجزاء پر مشتمل ہوتے ہیں کہ ان ڈیٹا سے کوئی بامعنی نتیجہ نکالنا تقریباً نا ممکن کام ہوتا ہے لیکن جب اسی ڈیٹا کی درجہ بندی جنسی، تعلیمی، ازدواجی حیثیت، پیشے وغیرہ کے لحاظ سے کی جاتی ہے تب بھارت کی آبادی کی ساخت اور اس کی فطرت کو آسانی سے سمجھا جاسکتا ہے۔
خام ڈیٹا متغیرات اور مشاہدات پر مشتمل ہوتا ہے ۔ خام ڈیٹا جیسا کہ جدول 3.1 اور 3.2 میں دیا گیا ہے مشاہدات پر مخصوص متغیروں یا گرہوں پر مشتمل ہوتا ہے۔
جدول 3.1پر غور کریں جو 100طلباکے ریاضی میں حاصل کردہ نشانات کو ظاہر کرتا ہے۔ہم ان نشانات کو کیسے سمجھیں گے۔ان نشانات کا مشاہدہ کرکے ریاضی کے اُستاد اُن کے طلبا کی کارکردگی پر سوچیں گے۔ کتنے طلباء کامیاب نہیں ہوئے ہیں۔ہم اس ڈیٹا کی درجہ بندی کیسے کریں؟ یہ ہمارے ذہن میں ہوتا ہے۔ اس معاملے میں طلبا کی کارکردگی کو گہرائی سے سمجھنے کا خواہشمند اُستاد ہوتا ہے۔وہ ممکنہ طور پر تعددی تقسیم(frequency distribution) بنانے کو پسند کرے گا۔
سرگرمی
- ایک سال کے لیے اپنی فیملی کے کل ہفتہ وار اخراجات کے ڈیٹا جمع کیجیے اور اسے جدول میں مرتب کیجیے۔ دیکھیے کہ آپ کے پاس کتنے مشاہدات ہیں۔ ڈیٹا تو ماہانہ مرتب کیجیے اور دیکھیے کہ مشاہدات کی کتنی تعداد ہے۔
3.ڈیٹا کی درجہ بندی
ایک درجہ بندی کے گروپ یا درجات مختلف طور پر انجام دیے گئے ہیں۔ اپنی کتابوں کو مضامین ’’تاریخ، جغرافیہ، ریاضی، سائنس وغیرہ کے لحاظ سے درجہ بندی کرنے کے بجائے آپ انھیں ایک ابجدی ترتیب میں مصنف کے لحاظ سے بھی درجہ بند کرسکتے ہیں۔ یا آپ اشاعت کی سال کے مطابق بھی درجہ بند کرسکتے ہیں۔ ان کی درجہ بند ی کرنے کا جو طریقہ آپ چاہتے ہیں وہ آپ کی ضرورت کے لحاظ سے ہوگا۔
اسی طرح خام ڈیٹا کو مختلف طریقوں میں درجہ بند کیا گیا ہے جو زیر غور مقصد پر منحصر ہوگا۔ انھیں وقت کے لحاظ سے بھی درجہ بند کیا جاسکتا ہے۔ اس طرح کی درجہ بندی کو تاریخ وار درجہ بندی (Chronological Classification) کے طور پر جانا جاتا ہے۔ اس طرح کی درجہ بندی میں ڈیٹا کو یا تو عروجی یا نزولی ترتیب میں وقت جیسے سال، تین مہینوں ، مہینوں، ہفتوں وغیرہ کے حوالے کے ساتھ درجہ بند کیا جاتا ہے۔ درج ذیل مثال یہ ظاہر کرتی ہے کہ ہندوستان کی آبادی کی درجہ بندی سال کے لحاظ سے کی گئی ہے۔ متغیرہ ’آبادی‘ ایک سلسلہ وقت ہے کیوں کہ یہ مختلف سالوں کے لیے قدروں کے ایک سلسلے کی تصویر کشی کرتا ہے۔
مثال 1
ہندوستان کی آبادی (کروڑوں میں)
___________________________
سال آبادی (کروڑوں میں)
___________________________
1951 35.7
1961 43.8
1971 54.6
1981 68.4
1991 81.8
2001 102.7
__________________________
مکانی درجہ بندی (Spatial Classification) میں ڈیٹا کو جغرافیائی وقوع جیسے ملکوں، ریاستوں، شہروں، اضلاع وغیرہ کے حوالے سے درجہ بند کیا جاتا ہے۔ مثال2 میں مختلف ملکوں کی پیداوار دکھائی گئی ہے۔

What a difference
مثال 2
مختلف ملکوں کے لیے گیہوں کی پیداوار
_________________________________________
ملک گیہوں کی پیداوار (کلو گرام؍ ایکڑ)
_________________________________________
کناڈا 3594
چین 5055
فرانس 7254
جرمنی 7998
ہندوستان 3154
پاکستان 2787
________________________________________
ماخذ: ایک نظر ہندوستانی زرعی اعداد وشمار پر، 2015
کبھی کبھی آپ کو وہ خصوصیات حاصل ہوتی ہوں گی جنھیں مقداری طور پر نہیں ظاہر کیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح کی خصوصیات کو کیفیتی یا توصیفی کہا جاتا ہے۔ مثال کے لیے قومیت، خواندگی، مذہب، جنس، ازدواجی حیثیت وغیرہ۔ تاہم ان اوصاف کی درجہ بندی کیفیتی خصوصیات کی موجودگی یا غیر موجودگی کی بنیاد پر کی جاسکتی ہے۔ اوصاف کی بنا پر ڈیٹا کی اس طرح کی درجہ بندی کو کیفیتی (qualitation) درجہ بندی کہا جاتا ہے۔ درجہ ذیل مثال میں ہم پاتے ہیں کسی ملک کی گروپ بندی کیفیتی متغیرہ ’جنس‘ کی بنیاد پر کی گئی ہے۔ ایک مشاہدہ یا تو مرد ہوسکتا ہے یا عورت۔ ان دونوں خصوصیات کی مزید درجہ بندی زدواجی حیثیت (کیفیتی متعیرہ) کی بنیاد پر کی جاسکتی ہے۔ جیساکہ ذیل میں دیا گیا ہے۔
سرگرمیاں
- مثال 1 میں معلوم کیجئے کہ کون سے سالوں میں ہندوستان کی آبادی سب سے کم اورسب سے زیادہ تھی۔
- مثال 2 میں وہ ملک دریافت کیجیے جس کی گیہوں کی پیداوار ہندوستان کی نسبت تھوڑی زیادہ ہے۔ فی صد کی اصطلاح میں یہ کتنا ہوگا؟
- پیداوار کی عروجی ترتیب میں مثال 2 کے ممالک مرتب کیجیے۔ کیا پیداوار کی نزولی ترتیب میں یہی مشق ہوسکتی ہے۔
مثال 3

آبادی
مرد
شادی شدہ
غیر شادی شدہ
عورت
شادی غیر شادی شدہ
پہلے مرحلے میں درجہ بندی وصف یعنی مرد یا غیر مرد (عورت) کی موجودگی اور غیر موجودگی پر مبنی ہوتی ہے۔ دوسرے مرحلے پر درجہ مرد اور عورت کی ذیلی تقسیم دوسرے وصف یعنی آیا وہ شادی شدہ ہے یا غیر شادی شدہ کی موجودگی یا غیر موجودکی کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔
جبکہ دوسری طرف لمبائی، وزن، عمر، آمدنی طلبا کے مارکس وغیرہ جیسی خصوصیات فطرتاً مقداری یا کمیتی ہیں ان خصوصیات کے ڈیٹا کو جب جمع کیا جاتا ہے تو ان کو درجوں میں گروپ بند کیا جاتا ہے اسے مقداری درجہ بندی (Quantitave Classification) کیا جاتاہے۔
سرگرمی
l مثال 1 اور مثال 2 پر غور کریں اسے مقداری درجہ بندی کے طور پر بھی موزوں بنائیں اگر چہ ان کی درجہ بندی بالترتیب تاریخ وار اور مکانی طور پر کی گئی۔ یہ سوچنے کی کوشش کریں اور اسباب کا بھی انداز لگائیں کہ کیوں یہ مقداری درجہ بندیاں ہیں۔
مثال 4
100 طلبا کے ریاضی میں حاصل نمبروں کی تواتری تقسیم
————————————————
مارکس تواتر
————————————————
0-10 1
10-20 8
20-30 6
30-40 7
40-50 21
50-60 23
60-70 19
70-80 6
80-90 5
90-100 4
کل 100
مثال 4جدول 3.1 میں دیے گئے 100 طلبا کے ریاضی میں مارکس کی مقداری درجہ بندی تواتری تقسیم کے طور پر دکھائی گئی ہے۔
سرگرمی
l مثال 4 کے تواتر کی قدروں کو کل تواتر کے تناسب یا فی صد کے طور پر ظاہر کیجیے۔ نوٹ کیجیے کہ اس طریقے سے جو تواتر ظاہر کیا گیا ہے اسے نسبتی تواتر(Relation Frequency) کے طور بر جانا جاتا ہے۔
l مثال 4میں کون سے درجے کو ڈیٹا کا سب سے زیادہ ارتکاز کیا گیا ہے؟ کل مشاہدات کے فی صد کے طور پر اسے ظاہر کریں۔ کون سے درجے پر سب سے کم ڈیٹا کاارتکاز کیا گیا ہے؟
4 .متغیرات: مسلسل اور مجرد
متغیرہ کی ایک آسان تعریف جو آپ نے پچھلے باب میں پڑھی تھی اس سے یہ نہیں پتہ چلتا کہ یہ کس طرح متنوع ہوتا ہے۔ متغیرات مخصوص تغیرات کی بنا پرمتغیر ہوتے ہیں ۔ انھیں موٹے طور پر دو قسم میں درجہ بند کیا جاتا ہے۔
.1مسلسل اور
2 .مجرد یا غیر مسلسل
ایک مسلسل متغیر میں کوئی بھی ہندسی قدر لی جاسکتی ہے۔ اس میں سالم قدروں 4,3,2,1، (...کسری قدروں (
اور ان قدروں کو لیا جاسکتا ہے جو کہ پوری طرح کسر (Fraction) نہیں ہیں جیسے 



مثال کے لیے طالب علم کا قد جیسے وہ بڑا ہوتا ہے بالفرض 90cm سے 150cm ہے، ان کے درمیان سبھی قدروں کو لیا جائے گا۔ یہ ان قدروں کو لے سکتا ہے جو صحیح اعداد جیسے
90cm، 100cm، 108cm، 150cm
ہو۔ یہ کسری قدروں جیسے 90.85، 102.34، 104.99 وغیرہ جو کہ صحیح اعداد نہیں ہیں، انھیں اختیار کرسکتا ہے۔ اس طرح متغیر ’’قد یا لمبائی‘‘ ہر قرین قیاس قدر میں ظاہر ہونے کا اہل ہے اور اس کی قدروں کو لامحدود تدریج (gradation) میں تفصیلی تجزیہ بھی کیا جاسکتا ہے۔ مسلسل متغیرہ کی دیگر مثالیں وزن، وقت، دوری وغیرہ ہے۔

مسلسل متغیرہ کے بر خلاف ایک مجرد یا غیر مسلسل متغیرہ صرف مخصوص قدریں اختیار کرسکتا ہے۔ اس کی قدر صرف محدود ’’جست‘‘ (یعنی یکبارگی) تبدیل ہوسکتی ہے۔ یہ ایک قدر سے دوسری قدر میں یکبارگی یا ایک دم تبدیل ہوجاتا ہے لیکن یہ ان کے درمیان کوئی وسطی قدر نہیں اختیار کرتا۔ مثال کے لیے مختلف کلاسوں میں ’’کلاس میں طلبا کی تعداد ’’جیسے متغیرہ ان اقدار کو اختیار کرے گا جو کہ صرف صحیح اعداد ہیں۔ یہ کوئی کسری قدر جیسے 0.5 نہیں اختیار کرسکتا کیوں کہ ’’طالب علم کا نصف ’’بے معنی ہے۔ لہذا یہ 25 اور 26 کے درمیان 25.5 جیسی قدر نہیں اختیار کرسکتا بلکہ اس کے بجائے یا تو 25 یا 26 قدر ہوسکتی ہے۔

ہم جو مشاہدہ کرتے ہیں وہ یہ کہ چونکہ اس کی قدر 25 سے 26 میں تبدیل ہوتی ہے ان کے درمیان کی قدریں یعنی کسر میں اس کے ذریعہ نہیں اختیار کی جاسکیں۔ لیکن یہ تاثر نہیں ملتا کہ مجرد متغیرہ کسی کسری قدر کو نہیں اختیار کرسکتا۔ مان لیجیے x ایک متغیرہ ہے جو کہ
جیسی قدریں اختیار کرتا ہے تو کیا یہ ایک مجرد متغیرہ ہے؟ ہاں، کیوں کہ اگرچہ x کسری قدریں اختیار کرتا ہے اس لیے یہ دو متصل کسری قدروں کے درمیان کسی قدر کو نہیں اختیار کرسکتا۔ یہ
میں اور
میں ’’ایک دم تبدیلی‘‘ (Jumps) ہوتا ہے۔ لیکن
اور
یا
اور
کے درمیان قدر نہیں لے سکتا۔
جیسی قدریں اختیار کرتا ہے تو کیا یہ ایک مجرد متغیرہ ہے؟ ہاں، کیوں کہ اگرچہ x کسری قدریں اختیار کرتا ہے اس لیے یہ دو متصل کسری قدروں کے درمیان کسی قدر کو نہیں اختیار کرسکتا۔ یہ
میں اور
میں ’’ایک دم تبدیلی‘‘ (Jumps) ہوتا ہے۔ لیکنسرگرمیاں
- مسلسل اور مجرد کے طور پر درج ذیل متغیرات میں امتیاز کیجیے علاقہ، حجم، درجہ حرارت،پانسے، بانسے (Dice) پر دکھائی دینے والا عدد، حاصل پیداوار، آبادی، بارش، سڑک پر کاروں کی تعداد اور عمر۔
پہلے ہم نے ذکر کیا ہے کہ مثال 4، جدول 3.1 میں دکھائے گئے 100 طلبا کے ریاضی حاصل نمبروں کی تواتری تقسیم ہے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کس طرح کلاسوں میں 100 طلبا کے 100 مارکس کی گروپ بندی کی گئی ہے۔ آپ کو حیرت ہوگی کہ کس طرح ہم نے جدول 3.1 کے خام ڈیٹا سے اسے حاصل کیا تھا لیکن اس سے پہلی کہ ہم اس سوال کا حل کریں، آپ کو یہ جاننا چاہیے کہ تواتری تقسیم کیا ہے۔
5 .تعددی تقسیم کیا ہے
(What is Prequency Distribution)
تعددی تقسیم (frequency distribution) ، ایک مقداری متغیرہ کے خام ڈیٹا کو درجہ بند کرنے کا ایک جامع طریقہ ہے۔ یہ دکھاتی ہے کہ کس طرح متغیرہ یہاں طالب علم کے ذریعہ شمار کیے کئے ریاضی میں حاصل نمبر کو مختلف قدروں کو مختلف کلاسوں میں ان کے مطابق کلاس تواترات کے ساتھ تقسیم کیا جاتا ہے۔ اس معاملے میں ہمارے پاس مارکس کے دس درجات 0-10، 10-20، 90-100 ہیں۔ اصطلاح کلاس تواتر کا مطلب مخصوص کلاس میں قدروں کی تعداد ہے۔ مثال کے لیے کلاس 30-40 میں جدول 3.1 کے خام ڈیٹا سے مارکس کی 7 قدریں پاتے ہیں۔ یہ ہیں 32, 39, 35, 34, 37, 30 کلاس کا تواتر 30-40 اس طرح 72 ہے۔ لیکن آپ حیرت کریں گے کہ 40 کو جو خام ڈیٹا میں دوبار آرہاہے۔ 30 تا 40 کلاس میں نہیں شامل کیا گیا ہے۔ اگر اسے 30-40 کے تعددمیں شامل کیا جاتا تو 7 کے بجائے 9 آتا۔ اگر آپ اس باب کا مطالعہ بغور کریں گے اور تحمل اختیار کریں گے تو یہ پہیلی حل ہوجائے گی۔ آپ جواب خود ہی دریافت کرلیں گے۔
تعدد تقسیم جدول میں ہر کلاس، کلاس حدوں سے بندسی ہوتی ہے۔ کلاس کی حدیں کلاس کے دوسرے ہیں۔ کم ترین قدر کو کم تر کلاس حد کہا جاتا ہے اور سب سے زیادہ قدر کو اوپر کلاس حد کہا جاتا ہے۔ مثال کے لیے کلاس 60-70 کے لیے کلاس حدیں 60 اور 70 ہیں۔ اس کی نچلی کلاس حد 60 ہے اور اس کی اوپری کلاس حد 70 ہے۔ وقفہ کلاس یا وسعت کلاس اوپری کلاس حد اور نچلی کلاس حد کے درمیان فرق ہے۔ 60-70 کلاس کیل یے کلاس وقفہ 10 ہے۔ (اوپر کلاس حد نفی نچلی کلاس حد)
کلاس کا اوسط نقطہ یا کلاس مارک کلاس کی وسطی قدر ہے۔ یہ کلاس کی نچلی کلاس حد اور اوپری کلاس حد کے درمیان نصف فاصلے پر واقع ہوتا ہے اور درج ذیل طریقے سے اس کی تحقیق کی جاسکتی ہے۔
کلاس کا وسطی نقطہ یا کلاس مارک= (اوپری کلاس حد+ نچلی کلاس حد؍(1).........................................2 کلاس مارک یا ہر کلاس کی وسطی قدر کا استعمال کلاس کی نمائندگی کے لیے کیا جاتا ہے جب ایک بار خام ڈیٹا کی کلاسوں (درجوں) میں گروپ کاری کی جاتی ہے، مزید شمار کے لیے انفرادی مشاہدات کا استعمال نہیں کیا جاتا۔ اس کے بجائے کلاس مارک کا استعمال کیا جاتا ہے۔
تعددی منحنی (frequency curve) ،تعددی تقسیم کی کرافی نمائندگی ہے۔ شکل 3.1 ہماری درج بالا مثال میں ڈیٹا کی تواتری تقسیم کی ڈائیگرامی پیش کش دکھاتی ہے۔ تعددی منحنی حاصل کرنے کے لیے ہم -x محور پر کلاس مارکس اور -y محور پر تواتر کا خاکہ کھینچتے ہیں۔
جدول 3.3
نچلی کلاس حدیں، اوپری کلاس حدیں اور کلاس مارک
—ّّّّّّّّّّّّّّّّّّّّّّّّّّّّّّّّّّّّّّّّّّّّّّّّّّّّّّّّّّّ———————————————————
کلاس مارکس اوپری کلاس نچلی کلاس توتر کلاس
حد حد
————————————————————
5 10 0 1 0-10
15 20 10 8 10-20
25 30 20 6 20-30
35 40 30 7 30-40
45 50 40 21 40-50
55 60 50 23 50-60
65 70 6 19 60-70
75 80 70 6 70-80
85 90 80 5 80-90
95 100 90 4 90-100
————————————————————
شکل 3.1 ڈیٹا کی تواتری تقسیم کی ڈائیگرامی پیش کش
تعددی تقسیم کیسے تیار کریں
(How to prepare a frequency distribution)
شکل3.1: ڈیٹا سے شکل کے ذریعہ تعددی تقسیم کا اظہار
1.کیا ہمارے پاس مساوی یا غیر مساوی کلاس وقفے ہونے چاہئیں؟
2 .کتنی کلاسیں (درجات) ہمارے پاس ہونے چاہئیں؟
3. ہر کلاس کی سائز کیا ہونی چاہیے؟
4. کلاس حدود کو ہم کیسے معلوم کریں۔
5. ہر کلاس کے لیے ہم کس طرح تعدد لیں
ہمارے پاس کتنی کلاسیں ہونی چاہئیں
(How many classes should we have)
کلاسوں کی تعداد متعین کرنے سے پہلے، ہمیں یہ معلوم کرنا چاہیے کہ ہمارے پاس موجود متغیر کسی حد تک قدر میں تبدیلیاں پیدا کرتا ہے۔متغیرہ کی قدر میں اس طرح کے تغیرات اس کی رینج کے ذریعہ اخذ کیے جاتے ہیں۔ رینج متغیر کی سب سے بڑی اور سب سے چھوٹی قدروں کے درمیان فرق ہے۔ ایک بڑی رینج اشارہ کرتی ہے کہ متغیرکی قدریں کافی وسیع ہیں۔ جب کہ دوسری طرف ایک چھوٹی رینج ظاہر کرتی ہے متغیر کی قدروں کی توسیع کافی تنگ ہے۔ ہماری مثال میں متغیر ’’طالب علم کے مارکس‘‘ کی رینج 100 ہے کیوں کہ کم ترین مارکس 0 اور بیش ترین مارکس 100 ہے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ متغیرہ میں کافی تغیر ہے۔
رینج کی قدر حاصل کرنے کے بعد، جب ایک بار ہم وقفہ کلاس (Class Interval) کا فیصلہ کرتے ہیں تب کلاسوں کی تعداد کا تعین کرنا آسان ہوجاتا ہے۔ نوٹ کیجیے کہ رینج سبھی کلاس کے وقفوں کی جمع ہے۔ اگر کلاس کے وقفے مساوی ہیں تب رینج کلاسوں کی تعداد کا حاصل ہے اور وقفہ کلاس ایک واحد کلاس ہے۔
سرگرمیاں
درج ذیل کی رینج معلوم کیجیے
- مثال 1 میں ہندوستان کی آبادی
- مثال 2 میں گیہوں کی پیداوار
رینج = کلاسوں کی تعداد x وقفہ کلاس .........2
رینج کی قدر دی گئی ہے، کلاسوں کی تعداد بڑی ہوگی اگر ہم چھوٹے کلاس وقفوں کا انتخاب کرتے ہیں۔ بہت زیادہ کلاسوں کے ساتھ تواتری تقسیم بھی بہت زیادہ متوقع ہوگی۔ ایسی تقسیم کو برتنا آسان نہیں ہے۔ لہذا ہمارے پاس ڈیٹا کا معقول دقیق مجموعہ ہونا چاہیے۔ جب کہ رینج کی قدر دی گئی ہے، اگر ہم ایک ایسے وقفہ کلاس کا انتخاب کرتے ہیں جو کہ کافی بڑا ہے تب کلاسوں کی تعداد بہت کم ہوجاتی ہے۔ مجموعہ ڈیٹا تب بہت زیادہ دقیق ہوسکتا ہے اور ہم اس کے تنوع کے بارے میں معلومات کا نقصان نہیں اٹھانا چاہتے مثال کے لیے، بالفرض رینج 100 ہے اور وقفہ کلاس 50 ہے تب کلاسوں کی تعداد محض 02 (یعنی
ہوگی۔ حالانکہ کلاسوں کی تعداد کے تعین کے لیے کوئی متعین (بندھا ٹکا) اصول نہیں بس اس کے لیے اکثر عمومی ضابطے یا قیاس (Rule of thumb) کا استعمال کیا جاتا ہے کہ کلاسوں کی تعداد 5 اور 15 کے درمیان ہونی چاہیے۔ ہماری مثال میں ہم نے 10 کلاسوں کو چنا ہے۔ چوں کہ رینج 100 ہے اور وقفہ کلاس 10 ہے اس لیے کلاسوں کی تعداد
ہے ہر کلاس کی سائز کیا ہوگی۔
ہوگی۔ حالانکہ کلاسوں کی تعداد کے تعین کے لیے کوئی متعین (بندھا ٹکا) اصول نہیں بس اس کے لیے اکثر عمومی ضابطے یا قیاس (Rule of thumb) کا استعمال کیا جاتا ہے کہ کلاسوں کی تعداد 5 اور 15 کے درمیان ہونی چاہیے۔ ہماری مثال میں ہم نے 10 کلاسوں کو چنا ہے۔ چوں کہ رینج 100 ہے اور وقفہ کلاس 10 ہے اس لیے کلاسوں کی تعداد
ہے ہر کلاس کی سائز کیا ہوگی۔اس سوال کا جواب پچھلے سوال کے جواب پر منحصر ہے۔ مساوات (2) دکھاتا ہے کہ متغیرہ کی رینج دی گئی ہے، جب ایک بار ہم وقفہ کلاس کا فیصلہ کرتے ہیں، تب کلاسوں کی تعداد کا تعین کرنا آسان ہوجاتا ہے۔ اسی طرح جب ایک بار ہم کلاسوں کی تعداد کا فیصلہ کرتے ہیں تب ہم وقفہ کلاس کا تعین کرسکتے ہیں۔ اس طرح ہم پاتے ہیں کہ یہ دو اخذ کردہ نتیجے ایک دوسرے کے ساتھ باہم مربوط ہیں۔ ہم کسی ایک کے باریے میں فیصلہ نہیں لے سکتے جب تک دوسرے پر نہ فیصلہ لیا جائے۔
مثال 4 میں ہمارے پاس کلاسوں کی تعداد 10 ہے۔ رینج کی قدر 100 دی گئی ہے، تب مساوات (2) کے حساب سے کلاس کے وقفے خود بخود 10 ہوجاتے ہیں۔ نوٹ کیجیے کہ موجودہ سیاق و سباق میں ہم نے جن کلاس وقفوں کو چنا ہے وہ قدر (حجم) میں مساوی ہیں۔ تاہم ہمیں ان کلاس وقفوں کو چننا پڑسکتا ہے جو کہ مساوی قدر کے نہیں ہوتے۔ ایسے معاملے میں کلاسوں کی غیر مساوی وسعت ہوتی ہے۔
کلاس حدوں کو ہمیں کس طرح متعین کرنا چاہیے؟
(How should we determine the class limits?)
جب ہم مسلسل متغیر کے خام ڈیٹا کی تواتری تقسیم کے طور پر درجہ بندی کرتے ہیں، ہم حقیقتاً کلاسوں میں انفرادی مشاہدات کی گروپ کاری کرتے ہیں۔ کلاس کی اوپری کلاس حد کی قدر اس کلاس کی نچلی کلاس حد کی قدر کے ساتھ وقفہ کلاس شامل کرنے کے ذریعہ حاصل کرتے ہیں۔ مثال کے لیے کلاس 20-30 کی اوپری کلاس حد 10+20=30 ہے جہاں 20 نچلی کلاس حد ہے اور 10 وقفہ کلاس ہے۔ یہ طریقہ دیگر کلاسوں کے لیے دہرایا جاتا ہے۔
لیکن ہم پہلی کلاس کی نچلی کلاس حد کا فیصلہ کس طرح کرتے ہیں؟ یعنی کہ، 0پہلی کلاس 0-10 کی نچلی کلاس کی حد کیوں ہے؟ پانسہ اس لیے ہے کہ ہم پہلی کلاس کی نچلی حد کے طور پر متغیرہ کی کم ترین قدر چنتے ہیں۔ در حقیقت ہمیں پہلی کلاس کی نچلی حد کے طورپر متغیرہ کی کم ترین قدر کی نسبت کم قدر چننا ہوتا ہے۔ اسی طرح آخری کلاس کی اوپری کلاس حد کے لیے ہمیں متغیرہ کی بیش ترین قدر کی نسبت زیادہ بڑی قدر چننا ہوگا۔ یہاں یہ غور کرنا اہم ہے کہ جب تواتری تقسیم کی تشکیل کی جاتی ہے تب کلاس کی حدوں کو اس طرح چننا چاہیے کہ ہر کلاس کا وسطی نقطہ یا کلاس نشان جہاں تک ممکن ہو کوئی قدر جس کے قریب ڈیٹا مرتکز ہونے کی طرف مائل ہوتا ہو اس کے ساتھ انطباق (coincide)کرے۔
ہماری مثال میں 100 طلباء کے مارکس پر، ہم پہلی کلاس 0-10 کی نچلی حد کے طور پر 0 کو منتخب کرتے ہیں کیوں کہ کم ترین مارکس0 تھا۔ اور یہی وجہ ہے کہ ہم اس کلاس کی نچلی کلاس حد کے عدد نہیں منتخب کرسکتے۔ اگ ہم نے ایسا کیا ہوتا تو ہم مشاہدہ 0 کو خارج کردیتے تب پہلی کلاس 0-10 کی اوپری حد کلاس کی نچلی کلاس حد کے ساتھ وقفہ کلاس شامل کرنے کے ذریعہ حاصل کی جاتی۔ اس طرح پہلی کلاس کی اوپری کلاس 10-0=10 بن جاتی ہے اور اس طریق عمل کی پابندی دیگر کلاسوں کے لیے بھی کی جاتی ہے۔
کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ پہی کلاس کی اوپر کلاس حد دوسری کلاس کی نچلی کلاس حد کے مساوی ہے؟ اور دونوں 10 کے مساوی ہیں۔ دیگر کلاسوں کے لیے اس کا مشاہدہ کیا جاتا ہے کیوں؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے خام ڈیٹا کی درجہ بندی کا اخراجی یا غیر شمولی (Exclusive Method) طریقہ استعمال کیا ہے۔ اس طریقے کے تحت ہم کلاسوں کی تشکیل اس طرح کرتے ہیں کہ ایک کلاس کی نچلی حد کا انطباق اس کی پچھلی کلاس کی اوپری کلاس حد کے ساتھ ہو۔
مسئلہ جس کا سامنا ہم آگے چل کر کریں گے وہ یہ ہے کہ ہم کسی مشاہدہ کی درجہ بندی کس طرح کرتے ہیں جو کہ کسی مخصوص کلاس کی اوپری کلاس حد کے نہ صرف مساوی ہو بلکہ اگلی کلاس کی نچلی کلاس حد کے بھی مساوی ہو۔ مثال کے لیے ہم پاتے ہیں کہ مشاہدہ 30 کلاس 30-20 کی اوپری کلاس حد کے مساوی ہے اور کلاس 30-40کی نچلی کلاس حد کے بھی مساوی ہے۔ پھر دو کلاسوں 30-20 یا 40-30 یا کلاس 40-30 میں رکھ سکتے ہیں۔ یہ ایک ایسی صورت حال ہے (جس میں مسئلے کے دو متضاد حل ممکن ہوں) ہے جس میں کسی کو ہم پوش (Overlapping) کلاسوں میں ڈیٹا کی درجہ بندی کرتے وقت عام طور پر سامنا کرنا پڑتاہے۔ اس مسئلے کو اخراجی یا غیر شمولی طریقے میں درجہ بندی کے اصول کے ذریعہ حل کیا جاتا ہے۔
اخراجی یا غیر شمولی طریقہ
(Exclusive method)
اس طریقے سے کلاسوں کی تشکیل اس طرح ہوتی ہے کہ ایک کلاس کی اوپری کلاس حد اگلی کلاس کی نچلی کلاس حد کے مساوی ہو۔ اس طریقے سے ڈیٹا کے تسلسل کو بر قرار رکھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ درجہ بندی کا یہ طریقہ مسلسل متغیرہ کے ڈیٹا کے معاملے میں زیادہ موزوں ہے۔ اس طریقے کے تحت وقفے میں اوپری کلاس حد کو خارج کیا جاتا ہے لیکن کلاس کی نچلی حد کو شامل کیا جاتا ہے۔ اس طرح ایک مشاہدہ جو طریقے کے لحاظ سے اوپری کلاس حد کے بالکل مساوی ہو، وہ اس کلاس میں نہیں شامل ہوگا لیکن اگلی کلاس میں شامل کیا جائے گا۔ جب کہ دوسری طرح اگر یہ نچلی کلاس حد کے مساوی ہوتا تو اسے اس کلاس میں شامل کیا جاتا۔ طلبا کے مارکس کی ہماری مثال میں مشاہدہ 40 جو کہ جدول 3.1 کے خام ڈیٹا میں دوبار واقع ہوتا ہے، کلاس 30-40 میں نہیں شامل کیا گیا ہے۔ یہ اگلی کلاس 40-50 میں شامل کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم پائے ہیں کہ تواتر کلاس 30-40 کے مطابق 9 کے بجائے 7 ہے۔
کلاسوں کی تشکیل کرنے میں ایک اور طریقہ ہے اور اسے درجہ بندی کے شمولی طریقے (inclusive method) کے طورپر جانا جاتا ہے۔
شمولی طریقہ (Inclusive method)
غیر شمولی طریقے کے مقابلے میں شمولی طریقہ کلاس وقفے میں اوپری کلاس حد کو خارج نہیں کرتا۔ یہ کلاس میں اوپری کلاس کو شامل کرتا ہے۔ اس طرح دونوں کلاس حدیں کلاس وقفے کا حصہ ہیں۔
جدول 3.4
ایک کمپنی میں 550 ملازمین کی آمدنیوں کی تواتری تقسیم
——————————————————
آمدنی (روپے میں) ملازمین کی تعداد
——————————————————
800-899 50
900-999 100
1000-1099 200
1100-1199 150
1200-1299 40
1300-1399 10
——————————————————
کل 550
——————————————————
مثال کے لیے، جدول 3.4 کی تواتری تقسیم میں کلاس 899-800 میں ان ملازمین کو شامل کرتے ہیں جن کی آمدنی یا تو 800 روپے ہے یا 800 اور 899 روپے کے درمیان یا 899 روپے ہے۔ اگر ملازم کی آمدنی 900 روپے ہی ہو تب اسے اگلی کلاس 900-999 میں رکھا جاتا ہے۔
کلاس وقفے میں تطابق
جدول 3.4 میں شمولی طریقے کا ایک قریبی مشاہدہ یہ دکھائے گا کہ اگرچہ متغیرہ ’’آمدنی مسلسل متغیر ہے لیکن جب کلاسیں بنائی جاتی ہیں تو اس طرح کا تسلسل برقرار نہیں رہتا ہم کلاس کی اوپری حد اور اگلی کلاس کی نچلی حد کے درمیان فرق یا عدم تسلسل پاتے ہیں۔ مثال کے لیے پہلی کلاس 899 کی اوپری حد اور دوسری کلاس کی نچلی حد 900 کے درمیان ہم 1 کا فرق (gap)پاتے ہیں۔ تب ہم ڈیٹا کی درجہ بندی کرتے وقت متغیرہ کے تسلسل کو کسی طرح یقینی بناسکتے ہیں؟ یہ کلاس وقفے میں ایک تطابق (adjustment) کرنے کے ذریعہ حاصل کیا جاتا ہے۔ یہ تطابق درج ذیل طریقے سے انجام دیا جاتا ہے۔
1. دوسری کلاس کی نچلی حد اور پہلی کلاس کی اوپری حد کے درمیان فرق کا پتہ کریں ۔ مثال کے لیے جدول 3.4 میں دوسرے کلاس کی نچلی حد 900 ہے اور پہلی کلاس کی اوپری حد899ہے۔ ان کے درمیان 1کا فرق ہے۔ یعنی (1=899-9000۔
2. (i) میں پائے گئی فرق کو دو سے تقسیم کریں یعنی
۔
۔3 [2]. میں حاصل کی قدر کو سبھی کلاسوں کی نچلی حدوں سے گھٹائیں (نچلی کلاس حد 0.5)
4 [2]. میں حاصل کی گئی قدر کو سبھی کلاسوں کی اوپری حد میں جمع کریں (اوپری کلاس حد (0.5+
اس تطابق کے بعد جو کہ تواتری تقسیم میں ڈیٹا کا تسلسل بحال کرتا ہے، جدول 3.4 کو جدول 3.5 میں ترمیم کیا گیا ہے۔
جدول 3.5
ایک کمپنی کے 550 ملازمین کی آمدنیوں کی تواتری تقسیم
———————————————————————
آمدنی (روپے میں) ملازمین کی تعداد
——————————————————————
799.5-899.5 50
899.5-999.5 100
999.5-1099.5 200
1099.5-1199.5 150
1199.5-1299.5 40
1299.5-1399.5 10
——————————————————————
کل 550
——————————————————————
کلاس حدوں میں تطابق کے ساتھ مساوات (1) جو کلاس مارک کا تعین کرتا ہے، اس کی ترمیم درج ذیل طور پر کی جائے گی۔
تطابق شدہ کلاس مارک = (تطابق شدہ اوپری کلاس حد تطابق شدہ نچلی کلاس حد) 2/
ہمیں ہر کلاس کے تعدد کو کس طرح حاصل کرنا چاہیے
(How should we get the frequency for each class)
سادہ اصطلاح میں، مشاہدے کی تواتر کا مطلب ہے کہ خام ڈیٹا میں مشاہدہ کتنی بار واقع ہوتا ہے۔ ہمارے جدول 3.1 میں، ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ قدر
40 تین بار واقع ہوئی ہے، 0 اور 10 صرف ایک بار، 49 پانچ بار واقع ہواہے وغیرہ وغیرہ۔ اس طرح 40 کا تواتر 3 ہے 0کا 10,1 کا 1 ہے، 49 کا 5 وغیرہ۔ لیکن جب ڈیٹا کی گروپ بندی کلاسوں میں کی جاتی ہے جیساکہ مثال 3 میں ہے ہے تب کلاس تواتر ایک مخصوص کلاس قدروں کی تعداد کی دلالت کرتا ہے۔ مخصوص کلاس کے مقابل کلاس کے تواتر کا شمار ملان نشانوں کے ذریعہ انجام دیا جاتا ہے۔
ملان نشان لگانے کے ذریعہ کلاس تواتر دریافت کرنا
(Finding class frequency by tally marking)
ہر طالب علم کے لیے جن کے مارکس اس کلاس میں شامل کیے گئے ہیں، ایک ملان نشان (tally) [/] کلاس کے مقابل لگایا جاتا ہے۔ مثال کے لیے، اگر طالب علم کے حاصل کیے گئے مارکس 57 ہیں تب ہم ملان نشان [/] کو کلاس 60-50 کے مقابل لگاتے ہیں۔ اگر مارکس 71 ہیں تو ملان نشان کلاس کو 80-70 کے مقابل لگایا جاتا ہے۔ اگر کسی کو 40 مارکس ملے ہیں تو ملان کو کلاس 50-40 کے مقابل لگایا جاتا ہے۔ جدول 3.6، جدول 3.1 سے ریاضی میں 100 طلبا کے مارکس کی ملان نشان زدگی دکھاتا ہے۔ملان کو شمار کرنا اس وقت آسان ہوجاتا ہے جب ان میں سے چار کو //// طور پر لگایا جاتا ہے اور پانچویں ملان نشان کو ان کے کاٹتے ہوئے
اس طرح سے لگایا جاتا ہے۔ ملان نشانوں کو اس کے بعد پانچ کے گروپوں کے طور پر شمار کیا جاتا ہے۔ لہذا، اگر کلاس میں 16 ملان نشان ہیں تب ہم آسانی کی خاطر اسے اس طرح لگاتے ہیں
، /
/ اس طرح کلاس مع تواتر اس کلاس کے مقابل ملان نشانوں کی تعداد کے مساوی ہے
جدول 3.6
ریاضی میں100 طلبا کےمارکس ملان نشان کرنا
| کلاس | مشاہدہ | ملان نشان | تواتر | کلاس مارک |
| 0-10 10-20 20-3- 30-40 40-50 50-60 60-70 70-80 80-90 90-100 |
0 10.14.17.12.14.12.14.14 25.25.20.22.25.28 30.37.34.39.32.30.35 47.42.49.49.45.45.47.44.40.44.49.46 41.40.43.48.48.49.49.40.41 59.51.53.56.55.57.55.51.50.56.59.56 59.57.59.55.56.51.55.56.50.55.54 60.64.62.66.69.64.64.60.66.69.62.61 56.60.65.62.65.66.65 70.75.70.76.70.71 82.82.82.80.85 90.100.90.90 |
1 8 6 7 21 23 19 6 5 4 |
5 15 25 35 45 55 65 75 85 95 |
|
| کل | 100 |
معلومات کانقصان(Loss of information)
تواتری تقسیم کے طور پر ڈیٹا کی درجہ بندی میں خامیاں بھی ہوتی ہیں جب خام ڈیٹا کی تلخیص اسے جامع و مختصر اور قابل فہم بناتے ہوئے کی جاتی ہے تب یہ خام ڈیٹا میں پائی جانے والی تفصیلات کو نہیں ظاہر کرتا۔ خام ڈیٹا کی درجہ بندی کرنے میں معلومات کا نقصان ہوتا ہے اگرچہ درجہ بند ڈیٹا کے طور پر اس کی تلخیص کرکے بہت کچھ حاصل کیا جاتا ہے۔جب ایک بار ڈیٹا کو کلاسوں (درجوں) میں گروپ بند کرلیا جاتا ہے تب مزید شماریاتی حساب میں انفرادی مشاہدہ کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔ مثال 4 میں کلاس 30-20 ، مشاہدات 25,22,20,25,25 اور 28 پر مشتمل ہے۔ لہذا جب ان ڈیٹا کو تعددی تقسیم میں ایک کلاس 20-30 کے طور پر گروپ بند کیا جاتا ہے تب موخر الذکر صرف کلاس (یعنی تواتر 6=) میں ریکارڈوں کی تعداد نہ کی ان کی حقیقی قدریں فراہم کرتا ہے۔ اس کلاس میں سبھی قدروں کو کلاس وقفہ یا کلاس نشان (یعنی 25) کی وسطی قدر کے مساوی باور کیا جاتا ہے۔ مزید شماریاتی حساب صرف کلاس مارک کی قدروں پر مبنی ہے، نہ کہ اس کلاس میں مشاہدات کی قدروں پر۔ یہ بات دیگر کلاسوں کے لیے بھی صحیح ہے۔ اس طرح شماریاتی طریقوں میں مشاہدات کی حقیقی قدروں کے بجائے کلاس مارک کے استعمال سے معلومات کا نمایاں طور پر نقصان ہوتا ہے۔حالاں کہ خام ڈیٹا جیساکر آئیے ظاہر کیا گیا ہے کو مزید قابل فہم بتایا جا سکتا ہے)
غیر مساوی کلاسوں کے ساتھ تعددی تقسیم
(Frequency distribution with unequal classes)
اب تک آپ مساوی کلاس وقفوں کی تعددی تقسیم کے ساتھ واقف ہوچکے ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ کس طرح ان کی تشکیل خام ڈیٹا سے ہوتی ہے۔ لیکن بعض معاملوں میں تواتری تقسیم غیر مساوی کلاس وقفوں کے ساتھ ہوتی جو کہ زیادہ مناسب ہیں۔ اگر آپ مثال 4کی تعددی تقسیم کا مشاہدہ کرتے ہیں جیساکہ جدول 3.6 میں ہے تب آپ غور کریں گے کہ زیادہ تر مشاہدات کا ارتکاز 60-50, 50-40 اور 70-60 کلاسوں میں ہے۔ ان کے علی الترتیب تواتر 21، 23 اور 19 ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ 100 طلبا میں سے 63 (21+23+19) طلباان کلاسوں میں مرتکز ہوئے ہیں۔ اس طرح ڈیٹا کا 63 فی صد 40 اور 70 کے درمیان واقع ہیں۔ ڈیٹا کا باقی 37 فی صد کلاسوں 10-0، 20-10، 30-20، 40-30، 80-70، 90-80 اور 100-90 میں واقع ہیں۔ یہ کلاسیں مشاہدات کے ساتھ قلیل واقع ہیں۔ مزید آپ یہ بھی غور کریں گے کہ ان کلاسوں میں مشاہدات نسبتاً ان سے جو دیگر کلاسوں میں ہیں، اپنے متعلقہ کلاس مارکس زیادہ انحراف کرتے ہیں۔ لیکن اگر کلاسیں اس طرح تشکیل دی جاتی ہیں کہ کلاس کے مارکس جتنا ممکن ہوسکتا ہے کوئی قدر جس کے گرد کلاس میں موجود مشاہدات ارتکاز کی طرف مائل ہوتا ہے اس کے ساتھ انطباق کرے، تب اس صورت میں غیر مساوی کلاس وقفہ زیادہ مناسب ہے جدول 3.7 غیر مساوی کلاسوں کی اصطلاح میں جدول 3.6 کی وہی تقسیم ظاہر کرتا ہے۔ ہر ایک کلاس 50-40، 60-50 اور 70-60 دو کلاسوں میں تقسیم ہیں۔ کلاس 50-40، 45-40 اور 50-45 میں تقسیم
ہے، کلاس 60-50، 55-50 اور 60-55 میں تقسیم ہے اور کلاس 70-60، 65-60 اور 70-65 میں تقسیم ہے۔ نئی کلاسوں 45-40، 50-45، 55-50، 60-55، 65-60، اور 70-65 کا کلاس وقفہ 5 ہے۔ دیگر کلاسوں 10-0، 20-10، 30-20، 40-30، 80-70، 90-80 اور 100-90اپنے 10 کے کلاس وقفے کو برقرار رکھتے ہیں۔ اس جدول کا آخری کالم ان کلاسوں کے لیے کلاس مارکس کی نئی قدروں کو ظاہر کرتا ہے۔ جدول 3.6 میں کلاس مارکس کی پرانی قدروں کے ساتھ ان کا موازنہ کریں۔ غور کریں کہ ان کلاسوں میں مشاہدات اپنی نئی کلاس مارک قدروں کی نسبت اپنی پرانی کلاس مارک قدروں سے زیادہ انحراف کرتے ہیں۔ اس طرح نئی کلاس مارک قدریں پرانی قدروں کی نسبت ان کلاسوں میں ڈیٹا کی زیادہ نمائندگی کرتی ہیں۔

شکل 3.2 تواتری منحنی خط
شکل 3.2 میں جدول 3.7 کی تقسیم کا تواتری منحنی خط دکھایا گیا ہے۔ جدول کے کلاس مارکس x- محور پر کھینچے گیے ہیں جب کہ تواترات کی ترسیم -y محور پر کی گئی ہے۔
سرگرمی
اگر آپ شکل 3.2 کا موازنہ شکل 3.1 سے کرتے ہیں، تو آپ کیا مشاہدہ کرتے ہیں؟ کیا آپ ان کے درمیان کوئی فرق پاتے ہیں؟ کیا آپ اس کی وضاحت کرسکتے ہیں؟
تعددی صف(Frequency array)
اب تک آپ نے ریاضی میں 100 طلبا کے فی صد مارکس کا استعمال کرتے ہوئے مسلسل متغیرہ کے لیے ڈیٹا کی درجہ بندی پر بحث کی ہے۔ مجرد یا غیر مسلسل متغیرہ کے لیے اس کے ڈیٹا کی درجہ بندی کو تعددی صف کے طور پر جانا جاتا ہے۔ چوں کہ مجرد متغیرہ سالم قدروں کو اختیار کرتا ہے نہ کہ دو صحیح یا سالم قدروں کے درمیان وسطی کسری قدروں کو، اس لیے ہمارے پاس وہ تواترات ہوتے ہیں جو اس کی ہر سالم قدر کے مطابق ہوں۔
جدول 3.8
خاندانوں کی جسامت کا تواتری صف
—————————————————————
خاندانوں کی جسامت خاندان کی تعداد
—————————————————————
1 5
2 15
3 25
4 35
5 10
6 5
7 3
8 2
—————————————————————
کل 100
—————————————————————
جدول 3.7
غیر مساوی کلاسوں کی تواتری تقسیم
| کلاس | مشاہدہ | تواتر | کلاس مارک |
| 0-10 10-20 20-30 30-40 40-45 45-50 50-55 55-60 60-65 65-70 70-80 80-90 90-100 |
0 10.14.17.12.1412.14.14 25.25.20.22.25.28 30.37.34.39.32,30.35 42.44.40.44.41.40.43.40.41 47.49.49.45.45.47.49.46.48.48.49 51.53.51.50.5150,54 59.56.55.57.55.56.59.56.59.57.59.55 56.55.56.55 60.64.62.64.64.60.62.61.60.62 66.69.66.69.66.65.65.66.65 70.75.70.76.70.71 82.82.82.80.85 90.100.90.90 |
1 8 6 7 9 12 7 16 10 9 6 5 4 |
5 15 25 35 42.5 47.5 52.5 57.5 62.5 67.5 75 85 95 |
| کل | 100 |
جدول 3.8 میں درج بالا مثال تواتری صف کو واضح کرتا ہے۔
متغیرہ خاندان کی جسامت ایک مجرد متغیرہ ہے جو صرف سالم قدروں کو اختیار کرتا ہے جیساکہ جدول میں دکھایا گیا ہے۔ چوں کہ یہ دو متصل سالم قدروں کے درمیان کسی بھی کسری قدر کو نہیں اختیار کرتا اس لیے اس تواتری صف یہ کوئی کلاسیں یا درجات نہیں ہیں، یہاں کوئی کلاس وقفہ بھی نہیں ہوگا۔ چوں کہ مجرد تواتری تقسیم میں درجات موجود نہیں ہوتے اس لیے کوئی کلاس مارک بھی نہیں ہوتا۔
جدول 3.9
20 فرموں کے فروخت کی دو متغیری تواتری تقسیم (لاکھ روپے میں) اور اشتہار کے اخراجات (ہزارروپوں میں)
| 115-125 | 125-135 | 135-145 | 145-155 | 155-165 | 165-175 | کل | |
| 62-64 64-66 66-68 68-70 70-72 |
2 1 1 |
1 1 2 1 |
3 2 1 |
1 2 |
1 | 1 | 3 4 5 4 4 |
| کل | 4 | 5 | 6 | 3 | 1 | 1 | 20 |
.6دو متغیری تعددی تقسیم
Bivariate frequency distribution
واحد متغیرہ کی تواتری تقسیم کو واحد یا یک متغیرہ تقسیم کہتے ہیں۔ مثال 3.3 واحد متغیری ’طالب علم کے مارکس‘ کی یک متغیرہ تقسیم کہا جاتا ہے۔ دو متغیری تواتری تقسیم دو متغیروں کی تعددی تقسیم ہے۔
جدول3.9دو متغیرات اور20کمپنیوں کے اشتہار کے اخراجات (لاکھ روپے میں) دکھاتا فروخت کی قدروں کو مختلف کالموں میں درجہ بندی کی گئی ہے اور اشتہار کے اخراجات کی قدروں مختلف قطاروں میں درجہ بند کیا گیا ہے۔ مہرخانہ متعلقہ قطار اور کالم قدروں کو دکھاتا ہے۔ مثال کے لیے 3 فر موں میں جن کے فروخت 135 تا 145 لاکھ ہیں اور ان کے اشتہار کے اخراجات 64 تا 66 ہزار ہیں۔متغیرہ تقسیم کے استعمال کے بارے میں باب 8 ہم رشتگی (Correlation) میں بیان کریں گے۔
.7 اختتام ( Conclusion )
ابتدائی اور ثانوی وسائل سے اکٹھا کیے گئے ڈیٹا خام یا غیر درجہ بند ہوتے ہیں۔ جب ایک بار ڈیٹا کو اکٹھا کیا جاتا ہے تب اگلا قدم مزید شماریاتی تجزیے کے لیے ان کی درجہ بندی کرتا ہے۔ درجہ بندی سے ڈیٹا میں تنظیم پیدا ہوتی ہے۔ اس باب کے ذریعہ آپ یہ جاننے کے اہل ہوجاتے ہیں کہ کسی طرح ڈیٹا کی درجہ بندی جامع انداز میں تواتری تقسیم کے ذریعہ کی جاسکتی ہے۔ جب آپ درجہ بندی کی تکنیکوں کے بارے میں واقف ہوجاتے ہیں تو آپ کے لیے مسلسل اور مجرومتغیرات دونوں کی تواتری تقسیم کی تخلیق کرنا آسان ہو جاتا ہے۔
خلاصہ
- خام ڈیٹا کی تنظیم درجہ بندی کے ذریعہ کی جاتی ہے۔
- تعددی تقسیم سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کس طرح متغیرہ کی مختلف قدروں کو مختلف کلاسوں میں ان کے موافق کلاس تواترات کے ساتھ تقسیم کیا جاتا ہے۔
- غیر شمولی یا اخراجی طریقے میں اوپری کلاس حد کو خارج کیا جاتا ہے لیکن نچلی کلاس حد کو شامل کیا جاتا ہے۔
- شمولی طریقے میں اوپری اور نچلی کلاس حدوں دونوں کو شامل کیا جاتا ہے۔
- تعددی تقسیم میں آگے کے شماریاتی حساب مشاہدات کی قدروں کے بجائے صرف کلاس مارک قدروں پر مبنی ہوتے ہیں۔
- کلاسوں (درجات) کی تشکیل اس طرح کی جاتی ہے کہ ہر کلاس کے کلاس مارک جتنا ممکن ہوسکتا ہے اس قدر کے قریب آتے ہیں جس کے گرد کلاس میں موجود مشاہدات مرتکز ہونے کی طرف مائل ہوتے ہیں۔
مشقیں
1 .درج ذیل میں کون سے متبادلات صحیح ہیں۔
(i) کلاس کا وسطی نقطہ مساوی ہوتا ہے۔
(a) اوپری کلاس حد اور نچلی کلاس حد کی اوسط کے
(b) اوپر کلاس حد اور نچلی کلاس حد کے حاصل کے
(c) اوپری کلاس حد اور نچلی کلاس حد کے تناسب کے
(d)ان میں سے کوئی نہیں
(ii) دو متغیروں کی تعددی تقسیم کو جانا جاتا ہے۔
(a) یک متغیری تقسیم کے طور پر
(b) دو متغیری تقسیم کے طور پر
(c) کثیر متغیرات تقسیم کے طور پر
(d) ان میں سے کوئی نہیں
(iii) درجہ بند ڈیٹا میں شماریاتی حساب مبنی ہے
(a) مشاہدات کی حقیقی قدروں پر
(b) اوپری کلاس حدوں پر
(c) نچلی کلاس حدوں پر
(d) کلاس کے وسطی نقاط پر
(iv) غیر شمولی یا اخراجی طریقے کے تحت
(a) کلاس کی اوپری کلاس حد کلاس وقفے میں خارج کی جاتی ہے
(b) کلاس وقفے میں کلاس کی اوپری کلاس حد کو شامل کیا جاتا ہے
(c) کلاس وقفے میں کلاس کی نچلی کلاس حد کو خارج کیا جاتا ہے
(d) کلاس وقفے میں کلاس کی نچلی کلاس حد کو شامل کیا جاتا ہے
(v) رینج ہے
(a) سب سے بڑے اور سب سے چھوٹے مشاہدات کے درمیان فرق
(b) سب سے چھوٹے اور سب سے بڑے مشاہدات کے درمیان فرق
(c) سب سے بڑے اور سب سے چھوٹے مشاہدات کی اوسط
(d) سب سے چھوٹے مشاہدے اور سب سے بڑے کی نسبت
2. چیزوں کی درجہ بندی میں کیا کوئی فائدہ ہے؟ اپنی روز مرہ کی زندگی سے کسی ایک مثال کے ساتھ وضاحت کیجیے۔
3. متغیر کیا ہے؟ مجرد اور مسلسل متغیر کے درمیان امتیاز کیجیے۔
4. ڈیٹا کی درجہ بندی میں استعمال کیے جانے والے غیر شمولی اور شمولی طریقوں کی توضیح کیجیے
5 . جدول 3.2 میں ان ڈیٹا کا استعمال کیجیے جو 50 گھروں کی غذا پر ماہانہ گھریلوں اخراجات (روپے میں) سے متعلق ہیں اور
(i) غذا پر ماہانہ گھریلو اخراجات کی رینج حاصل کیجیے
(ii) کلاس وقفوں کے موزوں تعداد میں رینج تقسیم کیجیے اور اخراجات کی تواتری تقسیم حاصل کیجیے
(vi) ان گھروں کی تعداد دریافت کیجیے جن کے غذا پر ماہانہ اخراجات ہیں۔
(a)۔ 2000 روپے سے کم
(b)۔ 3000 روپے سے کم
(c)۔ 1500 روپے اور 2500 روپے کے درمیان
6 . ایک شہر میں 45 خاندانوں کا سروے سیل فون جو وہ استعمال کرتے ہیں ، کی تعداد کے سروے کے لیے کیا گیا تھا۔ ان کے جواب کی بنا پر تواتری صف تیار کیجیے
1 3 2 2 2 2 1 2 1 2 2 3 3 3 3
3 3 2 3 2 2 6 1 6 2 1 5 1 5 3
2 4 2 7 4 2 4 3 4 2 0 3 1 4 3
جیسا کہ نیچے درج کیا گیا ہے
7 .درجہ بند ڈیٹا میں معلومات کا نقصان کیا ہے؟
8 .کیا آپ اس بات سے متفق ہیں کہ درجہ بند ڈیٹا خام ڈیٹا کے مقابلے بہتر ہے؟
9 .یک متغیرہ اور دو متغیرہ تعددی تقسیم کے درمیان امتیاز کیجیے
10. درج ذیل ڈیٹا سے 7 کے کلاس وقفے لیتے ہوئے شمولی طریقے کے ذریعے تواتری تقسیم تیار کیجئے۔
28 17 15 22 29 21 23 27 18 12 7 2 9 4 6
1 8 3 10 5 20 16 12 8 4 33 27 21 15 9
3 36 27 18 9 2 4 6 32 31 29 18 14 13
15 11 9 7 1 5 37 32 28 26 24 20 19 25
مجوزہ سرگرمی
- اپنی پرانی مارک شیٹوں سے وہ مارکس دریافت کیجیے جو آپ نے پچھلی کلاس میں ریاضی ششماہی اور سالانہ امتحانات میں حاصل کیے ہیں۔ انھیں سال کے لحاظ سے مرتب کیجیے۔ جانچ کیجیے کہ آیا مارکسی جو آپ نے مضمون میں حاصل کیا ہے وہ متغیرہ ہے یا نہیں۔ یہ بھی دیکھیے کہ ان سالوں میں آپ نے ریاضی میں اصلاح کی ہے۔