Skip to content
Shumariyatbara-e-mashiyat

باب 4

ڈیٹا کی پیشکش ( Presentation of Data )

26

اس باب کا مطالعہ کرنے کے بعد آپ اس قابل ہوجائیں گے کہ

  • جدولوں کا استعمال کرتے ہوئے ڈیٹا پیش کرسکیں گے؛
  • موزوں ڈائیگراموں کا استعمال کرتے ہوئے ڈیٹا کی تصویر کشی کرسکیں ۔

1.تعارف ( Introduction )

پچھلے ابواب میں آپ پڑھ چکے ہیں کہ کس طرح ڈیٹا جمع کیا جاتا ہے اور منظم کیا جاتا ہے۔ چونکہ ڈیٹا عام طور پر ضخیم ہوتے ہیں، اس لیے ضرورت اس بات کی ہوتی ہے کہ انھیں مختصر اور معقول شکل میں پیش کیا جائے۔ یہ بات ڈیٹا کو بالکل ٹھیک طور پر اس طرح پیش کیا جائے کہ جمع کیے گئے ضخیم ڈیٹا بلا وقت کار آمد و قابل استعمال بنائے جاسکیں اور آسانی کے ساتھ سمجھے جاسکیں۔ ڈیٹا کو پیش کرنے کی عام طور پر تین شکلیں ہوتی ہیں۔
متنی یا بیانیہ پیشکش :
جدولی پیشکش:
ڈائیگرامی پیشکش:

2.ڈیٹا کی بیانیہ پیشکش

( Textual presentation of Data )


متنی پیشکش میں، ڈیٹا کو متن کے اندر بیان کیا جاتا ہے۔ جب ڈیٹا کی مقدار بہت زیادہ نہ ہو تو پیشکش کی یہ شکل نہایت موزوں ہوتی ہے۔ درج ذیل معاملوں پر نظر ڈالیں۔

معاملہ 1

بہار کے ایک شہر میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف 8 ستمبر 2005 کو ایک ’’بند‘‘ (ہڑتال) کا اہتمام کیا گیا، 5 پٹڑول پمپ کھلے پائے گئے اور 17 بند تھے جب کہ 2 اسکول بندتھے اور باقی 9 اسکول کھلے تھے۔

معاملہ 2

ہندوستان کی مردم شماری2001کی رپورٹ کے مطابق ہندوستان کی آبادی بڑھ کر102کروڑ ہوگئی جس میں صرف 49کروڑ عورتیں تھیں جب کہ53کروڑ مرد تھے۔ 74 کروڑ لوگ دیہی ہندوستان میں رہتے ہیں اور صرف 28کروڑ قصبوں اور شہروں میں رہتے ہیں۔ پورے ملک میں جہاں 62کروڑ غیر ورکرس آبادی تھی وہیں اس کے مقابلے 40کروڑ ورکرس تھے۔ غیر ورکرس آبادی میں شہری آبادی کا کافی بڑا حصہ تھا (یعنی 19 کروڑ جب کہ اس کے مقابلے دیہی آبادی کا کم حصہ تھا (9 کروڑ) 74 کروڑ کی دیہی آبادی میں 31کروڑ ورکرس  تھے جب کہ ان دونوں معاملوں میں ڈیٹا کو صرف متن میں ہی پیش کیا گیا ہے۔ پیش کرنے کے اس طریقے کی ایک بڑی خامی یہ ہے کہ ان کے سمجھنے کے لیے کسی کو پیشکش کے پوری متن کا مطالعہ کرنا ہوگا لیکن ساتھ ہی ساتھ اس میں پیشکش کے بعض نقاط پر خصوصی توجہ دی جاسکتی ہے۔
1
oh no

3۔ ڈیٹا کی جدولی پیشکش

(Tabulal Presentation of Data)

جدولی پیشکش میں ڈیٹا کو قطاروں (افقی طور پر پڑ ھیں) اور کالموں (عمودی طور پر پڑھیں) میں پیش کیا جاتا ہے۔ مثال کے لیے جدول 4.1 دیکھیں جس میں خواندگی شرح کے بارے میں جدولی شکل میں معلومات دی گئی ہے۔ اس میں 3 قطاریں ہیں (مرد، عورت اور کل کے لیے) اور 3 کالم ہیں (شہری، دیہی اور کل کے لیے)۔ اسے 3×3 جدول کہا جاتا ہے جس میں معلومات کی 9 مدیں 9 باکس میں جسے جدول کے ’’خانے‘‘ (Cell) کہاجاتا ہے، فراہم کی جاتی ہے۔ ہر خانہ وہ معلومات بیان کرتا ہے جو تعداد (دیہی آبادی، شہری آبادی اور کل خواندگی فی صد) کے ساتھ جنس (مرد، عورت اور کل) کے وصف سے متعلق ہے۔ جدول سازی نہایت میں اہم فائدہ یہ ہے کہ یہ ڈیٹا کو مزید شماریاتی عمل اور فیصلہ سازی کے لیے منظم کرتا ہے۔ جدول سازی میں درجہ بندی کو چار اقسام میں استعمال کیا جاتا ہے۔
  • کیفیتی 
  • مقداری
  • زمانی اور 
  • مکانی

کیفیتی درجہ بندی

(Qualitative Classification)

جب درجہ بندی کیفیتی خصوصیات جیسے سماجی حیثیت، مادی حیثیت، قومیت وغیرہ کے لحاظ سے انجام دی جاتی ہے تب اسے کیفیت درجہ بندی کہاجاتا ہے۔ مثال کے لیے، جدول 4.1 میں درجہ بندی کے لیے خصوصیات ’’جنس‘‘ اور وقوع ہیں جن کی نوعیت کیفیتی ہے ۔

جدول 4.1

جنس اور وقوع کے لحاظ سے بہار میں خواندگی فی صد
_____________________________
جنس دیہی شہری کل
_____________________________
عورت 57.70 80.80 60.32
مرد 30.03 63.30 33.40
_____________________________
کل 44.42 72.71 47.53
_____________________________
ماخذ: ہندوستان کی مردم شماری 2001، عارضی آبادی مجموعی

مقداری درجہ بندی

(Qualitative Classification)

مقداری درجہ بندی میں، ڈیٹا کی درجہ بندی ان خصوصیت کی بنیاد پر کی جاتی ہے جو نوعیت کے اعتبار سے مقداری ہیں۔ دوسرے لفظوں میں ان خصوصیات کی پیمائش مقداری طور پر کی جاسکتی ہے۔ مثال کے لیے عمر، قد، پیداوار، آمدنی وغیرہ مقداری خصوصیات ہیں۔درجات کی تشکیل حدوں کا تعین کرنے کے لیے کی جاتی ہے جسے زیر غور خصوصیات کی قدروں کے لیے کلاس یا درجہ بندی کہاجاتا ہے ۔ مقداری درجہ بندی کی ایک مثال جدول 4.2 میں دی گئی ہے۔

جدول 4.2

بہار میں ایک انتخابات کے مطالعے میں 542 جواب دہندگان کی ان کی عمر کے لحاظ سے تقسیم 
 ——————————————————————————
فی صد جواب دہندگان کی تعداد  عمر گروپ (سال)
——————————————————————————
0.55 3 20-30
11.25 61 30-40
24.35 132 40-50
28.24 153 50-60
25.83 140 60-70
9.41 51 70-80
0.37 2 80-90
——————————————————————————
100.00 542 کل

ماخذ:اسمبلی انتخابات پٹنہ مرکزی حلقہ رائے دہندگان 2005 اے۔این۔ سنہا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل اسٹڈیز پٹنہ یہاں درجہ بندی کی جانے والی خصوصیت عمر (سالوں میں) ہے اور قابل تعین مقدار ہے۔

سرگرمیاں

اسٹار نیوز، زی نیوز، بی بی سی ورلڈ، سی این این، آج تک اور ڈی ڈی نیوز کے لیے اپنی کلاس کے طلبا کی ترجیحی پسند پر ڈیٹا پیش کرنے کے سلسلے میں ایک جدول بنا ہے۔
  • ایک جدول بنائیے جو 
(i) قد (لمبائی سنٹی میٹر میں) اور 
(ii) اپنی کلاس کے طلبا کے وزن (کلو گرام) پر مشتمل ہو۔


زمانی درجہ بندی (Temporal Classification)

اس درجہ بندی میں وقت کی درجہ بندی کرنے والا متغیرہ بن جاتا ہے اور ڈیٹا کی زمرہ بندی وقت کے لحاظ سے کی جاتی ہے۔ وقت گھنٹوں، دنوں، ہفتوں، مہینوں، سالوں وغیرہ میں ہوسکتا ہے۔ مثال کے لیے، دیکھیں جدول 4.3۔

جدول 4.3

ایک چائے کی دوکان کی ماہانہ فروخت 1995 سے 2000 تک 
—————————————————
سال  فروخت (لاکھ روپے  میں)
—————————————————
1995 79.2
1996 81.3
1997 82.4
1998 80.5
1999 100.2
2000 91.2
—————————————————

ماخذ: غیر مشتہرمعلومات
ماخذ:اسمبلی انتخابات پٹنہ مرکزی حلقہ رائے دہندگان 2005 اے۔این۔ سنہا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل اسٹڈیز پٹنہ یہاں درجہ بندی کی جانے والی خصوصیت عمر (سالوں میں) ہے اور قابل تعین مقدار ہے۔

سرگرمی
اپنے اسکول کے دفتر جائیں اور پڑھنے والے طلبا کی پہلے دس سال کی معلومات پر مبنی ڈیٹا جمع کریں۔لائبریری پچھلے دس سالوں سے سال کے آخر میں یہ ڈیٹا مکمل کرتی ہے۔ جدول میں ڈیٹا پیش کریں۔

مکانی درجہ بندی

 

جب درجہ بندی کسی مقام کے مطابق کی جائے تو اسے  مکانی درجہ بندی کہا جاتا ہے۔ یہ مقام گاؤں، قصبہ، بلاک، ضلع، ریاست، ملک وغیرہ ہوسکتا ہے۔
یہاں درجہ بندی میں شامل خصوصیت دنیا کے ممالک ہیں۔ درج ذیل جدول مکانی درجہ بندی کی ایک مثال ہے۔

جدول 4.4

ایک سال میں کل برآمد کے حصے کے طور پر ہندوستان کی باقی دنیا سے برآمد (فی صدمیں)
————————————————————————
مقام برآمد کا حصہ
————————————————————————
یو ایس اے (ریاست ہائے متحدہ امریکا) 12.5
جرمنی 2.4
دیگر یوروپی یونین 10.9
یو کے برطانیہ 3.9
جاپان 2.2
روس 0.7
 مغربی ایشیا۔ گلف کوپ کونسل                         15.3  
دیگر ایشیا                                               29.4  
دیگر 18.8
————————————————————————
کل 100.0
————————————————————————
 
کل برآمد: امریکی ڈالر 314.40 ملین)

.4 ڈیٹا کی جدول سازی اور جدول کے اجزاء

Trabulation of Data and Parts of Table

ایک جدول بنانے کے لیے پہلے یہ سیکھنا اہم ہے کہ ایک اچھے شماریاتی جدول کے اجزاء کیا ہیں۔ جب ان اجزاء کو نظامی طور پر مرتب انداز میں ایک ساتھ رکھا جاتا ہے تو یہ جدول کی شکل اختیار کرتے ہیں۔ کسی جدول کی صورت گری کا نہایت آسان طریقہ یہ ہے کہ بعض وضاحتی نوٹ کے ساتھ قطاروں اور کالموں میں ڈیٹا کو پیش کیا جائے۔ جدول سازی ایک صورت، دو صورت یا تین صورت درجہ بندی کا استعمال کرتے ہوئے انجام دی جاسکتی ہے جو کہ اس میں شامل خصوصیات کی تعداد پر منحصر ہے۔ ایک اچھے جدول میں لازمی طور پر درج ذیل ہونا چاہیے۔

سرگرمی

ایک جدول بنائیے جس میں اپنی کلاس کے طلبا سے ان کی اپنی ریاستوں/ رہائشی علاقوں کے لحاظ سے جمع کیے گئے ڈیٹا کو شامل کیا گیا ہو۔


(i)جدول نمبر

جدول میں شناختی مقصد کے لیے جدول نمبر کی تفویض کی جاتی ہے۔ اگر ایک سے زیادہ جدول پیش کیے جاتے  ہیں تب جدول نمبر ہی ہے جو ایک جدول کو دوسرے جدول سے الگ کرتا ہے۔ یہ نمبر جدول کے عنوان کے اوپر یا اس کی شروعات میں دیا جاتا ہے۔ عام طور پر جدول کے نمبرات صحیح اعداد کے عنوان کے اوپر یا اس کی شروعات میں دیئے جاتے ہیں۔ عام طور پر جدول کے نمبرات   صحیح اعداد ہوتے ہیں جو کہ عروجی ترتیب میں ہوتے ہیں اگر کتاب میں کافی جدول ہوں۔ ذیلی اعداد جیسے 1.2، 3.1 وغیرہ جدول کی اس کے وقوع کے لحاظ سے شناخت کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ مثال کے لیے جدول نمبر 4.5 کو چوتھے باب میں پانچویں جدول کے طور پر پڑھا جاسکتا ہے وغیرہ وغیرہ (دیکھیں جدول 4.5)

(ii)عنوان

جدول کا عنوان جدول کے مواد کے بارے میں بتاتا ہے۔ یہ بہت ہی واضح و مختصر اور الفاظ کا انتخاب (پیرایۂ اظہار) محتاط اور توجہ کے ساتھ کیا جانا چاہیے تاکہ جدول سے جو تشریحات اخذ کی جائیں وہ واضح ہوں اور کسی طرح کے ابہام سے پاک سے ہوسکیں۔ اسے جدول کے اوپر جدول نمبر کے بعد یا ٹھیک نیچے دیا جانا ہوتا ہے۔ (جدول 4.5 دیکھیں)

(iii)تعارفی الفاظ یا کالم کی سرخیاں

جدول میں ہر کالم کے اوپر کالم کا نام دیا جاتا ہے تاکہ کالم کے اعداد و شمار واضح ہوسکیں۔ اسے تعارفی الفاظ یا کالم کی سرخیاں کہا جاتا ہے (دیکھیں جدول 4.5)

(iv)جدول کا بایاں حاشیہ (Stubs) یا قطار کی سرخیاں

تعارفی الفاظ یا کالم کی سرخیوں کی طرح جدول کی ہر قطار میں سرخی دی جانی ہوتی ہے۔ قطاروں کے عنوان کو بایاں حاشیہ بھی کہا جاتا ہے اور پورے بائیں کالم کو بایاں حاشیہ کالم کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔ قطار کی سرخیوں کی ایک مختصر تشریح بھی جدول میں بائیں ہاتھ کے اوپر دی جاسکتی ہے۔ (جدول 4.5)

(v)جدول کا مرکزی حصہ 

جدول کا مرکزی حصہ اہم حصہ ہوتا ہے اور یہ حقیقی ڈیٹا پر مشتمل ہوتا ہے جدول میں کسی عدد یاڈیٹا کا وقوع مقرر ہوتا ہے اور جدول کے قطار اور کالم کے ذریعہ اس کا تعین ہوتا ہے۔ مثال کے لیے دوسری قطار اور چوتھے کالم میں ڈیٹا یہ ظاہر کرتا ہے کہ2001 میں دیہی ہندوستان میں 25 کروڑ عورتیں غیر ورکرس (یعنی کسی کام یا ملازمت میں نہیں ہونا) تھیں (جدول 4.5 دیکھیں)

(vi) پیمائش کی اکائی

جدول میں اعداد کی پیمائش کی اکائی (حقیقی ڈیٹا) ہمیشہ عنوان کے ساتھ بیان ہونی چاہیے اگر اکائی پورے جدول میں تبدیل نہیں ہوتی۔ اگر جدول کی قطاروں یا کالموں کے لیے مختلف اکائیاں ہوں تو ان اکائیوں کو بائیں حاشیے (Stubs) یا تعارفی الفاظ (Captions) کے ساتھ بیان کیا جانا چاہیے۔ اگر ہندسے بڑے ہوں تو انھیں تقریبی عدد صحیح میں کیا جانا چاہیے اور تقریبی کیے جانے کے طریقے کو ظاہر کیا جانا چاہیے (جدول 4.5 دیکھیں)

(vii) ماخذ نوٹ

یہ ایک مختصر بیان یا مجموعہ الفاظ ہے جو جدول میں پیش کیے گئے ڈیٹا کے ماخذ کی نشان دہی کرتا ہے۔ اگر ایک سے زیادہ ماخذ ہوں تو سبھی ماخذ کو ماخذ نوٹ میں لکھا جانا چاہیے۔ ماخذ نوٹ عام طور پر جدول کی سطح پر تحریر کیا جاتا ہے (دیکھیں جدول 4.5)
2
جدول 4.5 جنس اور وقوع کے لحاظ سے ورکرس اور غیر ورکرس کے لحاظ سے ہندوستان کی آبادی
کالم کی سرخیاں/ تعارفی الفاظ
کروڑ اکائی
جدول کا بایاں حاشیہ یا قطار کی سرخیاں
جدول مرکزی حصہ
زیریں حاشیہ: ہندسوں کو کروڑ کے قریبی کیا گیا ہے
زیریں حاشیہ
ماخذ: ہندوستان کی مردم شماری 2001
(نوٹ: جدول 4.5 وہی ڈیٹا پیش کرتا ہے جو ڈیٹا کی متنی پیشکش میں معاملہ کے ذریعہ پہلے ہی جدولی شکل میں پیش کیا جا چکا ہے)
(viii) حاشیہ یا زیریں حاشیہ
حاشیہ (Foot note) جدول کا آخری حصہ ہے۔ حاشیہ جدول کے ڈیٹا مواد جو کہ خود وضاحتی نہیں ہوتے اور ان کی وضاحت پہلے نہیں کی گئی ہوتی ہے، ان کی امتیازی خصوصیت کی توضیح کرتا ہے۔

سرگرمیاں

  • ایک جدول کی تشکیل کے لیے کتنی قطاریں اور کالم لازمی طور پر ہونے چاہئیں؟
  • کیا جدول کے کالم/ قطار کی سرخیاں مقداری ہوسکتی ہیں؟
  • جدول 4.2 جدول 4.3 کے اعداد  کو سالم کرکے آپ جدول پیش کر سکتے ہیں۔
  • صفحہ 57 پردیئے گئے معاملہ 2 پہلے جملہ کو پیش کیجئے۔ اس سے متعلق تفصیلات آپ کو پچھلے صفحات میں ملیں گی۔

5 .ڈیٹا کی ڈائیگرامی پیشکش

(Diagramatic Presentation of Data)

ڈیٹا کو پیش کرنے کا یہ تیسرا طریقہ ہے۔ یہ طریقہ جدولی یا متنی پیشکش کے مقابل ڈیٹا کے ذریعہ واضح کیے جانے والی حقیقی صورتِ حال کی تیز ترین فہم فراہم کرتا ہے۔ ڈیٹا کی ڈائیگرامی پیشکش اعداد میں شامل نہایت مجرد (abstract) تصورات کو کافی موثر طور پر زیادہ ٹھوس اور آسانی سے سمجھ میں آنے والی شکل میں منتقل کرتی ہے۔
ڈائیگرام کم درست ہوسکتے ہیں لیکن ڈیٹا پیش کرنے میں جدول کی نسبت زیادہ مؤثر ہوتے ہیں۔
عام استعمال میں ڈائیگرام مختلف قسم کے ہوتے ہیں۔ ان میں کچھ اہم درج ذیل ہیں:
(i) جیومیٹری ڈائیگرام
(ii) تواتری ڈائیگرام
(iii) حسابی لائن گراف

جیومیٹریائی ڈائیگرام

بار ڈائیگرام اور پائی ڈائیگرام ڈیٹا کی پیشکش کے لیے جیومیٹری  ڈائیگرام کے زمرے میں آتے ہیں۔ بار ڈائیگرام بھی تین قسم کے ہوتے ہیں۔ سادہ، کثیر اور جزو بار ڈائیگرام۔

بار ڈائیگرام

سادہ بار ڈائیگرام

بار ڈائیگرام (یعنی کھڑی لکیریں ڈال کربنایا گیا ڈائیگرام) ڈیٹا بار کے گروپ پر مشتمل ہوتاہے۔ بار کی اونچائی یا لمبائی ڈیٹا کے مستطیل بار کے گروپ پر مشتمل ہوتا ہے۔ بار کی اونچائی یا لمبائی ڈیٹا قدر کا اظہار کرتی ہے۔ بار کا نچلا سرا  اساس لائن کو اس طرح چھوتا ہے کہ بار ڈائیگرام کے باروں کو ان کی نسبتی اونچائی کے ذریعہ بصری طور پر موازنہ کیا جاسکتا ہے اور ڈیٹا کے لحاظ سے تیزی سے سمجھا جاسکتا ہے۔ اس کے لیے ڈیٹا تواتری یا غیر تواتری قسم کا ہوسکتا ہے۔ غیر تواتری قسم کا ڈیٹا ایک مخصوص خصوصیت کا ہوتا ہے بالفرض وقت کے مختلف نقاط پیداوار، حاصل، آبادی وغیرہ یا مختلف ریاستوںکولیا جاتاہے اور ڈائیگرام بنانے کے لیے خصوصیات کی قدروں کے لحاظ سے متعلقہ اونچائیوں کے موافق بار بنائے جاتے ہیں۔ خصوصیات کی قدریں (پیمائش شدہ یا شمار شدہ) ہر قدر کی شناخت برقرار رکھتی ہیں۔ شکل 4.1بار ڈائیگرام کی ایک مثال ہے۔

سرگرمی

  • آپ نے اپنی کلاس کے طلبا کے بارے میں ڈیٹا پیش کرنے کا جدول بنایا تھا۔ اسی جدول کے لیے بار ڈائیگرام بنا ہے۔
3PNG
بہتر محسوس ہوتا ہے
غیر ورکرس
اصل ورکرس
حاشیائی ورکرس
کروڑ

 

2011 2011 2012 2012
اہم ہندوستانی ریاستیں مرد عورت مرد عورت
آندھرا پردیش
آسام
بہار
جھارکھنڈ
گجرات
ہریانہ
کرناٹک
کیرالا
مدھیہ پردیش
چھتیس گڑھ
میاراشٹر
اڈہشہ
پنجاب
راجستھان
تمل ناڈو
اترپردیش
اتراکھند
مغربی بنگال
ہندوستان
70. 3
71.3
59.7
67.3
79.7
78.5
76.1
94.2
76.1
77.4
86.0
75.3
75.2
75.7
82.4
68.8
83.3
77.0
75.3
50.4
54.6
33.1
38.9
57.8
55.7
56.9
87.7
50.3
51.9
67.0
50.5
63.4
43.9
64.4
42.2
59.6
59.6
53.7
75.6
78.8
73.4
78.4
87.2
85.3
82.9
96.0
80.5
81.5
89.8
82.4
81.5
80.5
86.8
79.2
88.3
82.7
82.1
59.7
67.3
53.3
56.2
70.7
66.8
68.1
92.0
60.0
60.6
75.5
64.4
71.3
52.7
73.9
59.93
70.1
71.2
65.5

5
شرح خواندگی ( فی صد میں )
اہم ریاستیں
ڈاٹا ماخذ جدول 4.6
شکل 4.1 ہندوستان کی اہم ریاستوں کے ذریعہ شرح خواندگی دکھاتے ہوئے بارڈائیگرام، 2011 ( شرح خواندگی کا سات سال اور اس سے زیادہ کی آبادی سے تعلق ہے )

ڈیٹا کی مختلف اقسام میں ڈائیگرامی نمائندگی کے مختلف طریقے مطلوب ہوسکتے ہیں بار ڈائیگرام تواتری قسم اور غیر تواتری قسم کے متغیرات اور اوصاف دونوں کے لیے موزوں ہے۔ مجرد متغیرات جیسے فیملی، سائز، ڈائس (پانسے) یہ نشانات امتحان وغیرہ میں گریڈ اور اوصاف جیسے جنس، مذہب، ذات، ملک وغیرہ بار ڈائیگراموں کے ذریعہ پیش کیا جاسکتا ہے۔ بار ڈائیگرام غیرتواتری ڈیٹا جیسے آمدنی، اخراجات، پروفائل، بر آمد/ در آمد کے لیے زیادہ آسان ہوتے ہیں۔ کوئی زمرہ جس میں دیگر زمرے (مغربی بنگال کی خواندگی) کی نسبت طویل بار ہوتا ہے اس میں دیگر کی نسبت زیادہ پیمائش شدہ ( یا شمار شدہ) ہوتا ہے۔ بار (کالم بھی کہا جاتا ہے) کو عام طور پر ٹائم سیریز ڈیٹا میں استعمال کیا جاتا ہے۔ (1980-2000 کے درمیان اناج کی پیداوار، کام میں شراکت داری کی شرح میں عشری تغیر، پچھلے سالوں میں رجسٹر یافتہ بے روزگار ی، شرح خواندگی وغیرہ) شکل 4.2۔
بار ڈائیگراموں کی مختلف شکلیں جیسے کثیر بار ڈائیگرام جزوبار ڈائیگرام ہوتی ہیں۔

سرگرمیاں

  • کتنی ریاستوںمیں ہندوستان کی اہم ریاستوں میں سے، میں2001میں قومی اوسط کی نسبت عورتوں کی زیادہ شرح خواندگی تھی؟
  • کیا2001اور1991کے دو متواترمردم شماری سالوں میں ریاستوں میں عورتوں کی زیادہ سے زیادہ اور کم سے کم شرح خواندگی کے درمیان فاصلہ کم ہوا ہے؟

کثیر بار ڈائیگرام

کثیر بار ڈائیگرام (شکل 4.2)کا استعمال ڈیٹا کے دویا زیادہ مجموعوں کا موازنہ کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ مثال کے لیے آمدنی اور اخراجات یا مختلف سالوں کے لیے برآمد اور درآمد، مختلف کلاسوں میں مختلف مضامین میں حاصل کیے گئے مارکس۔
7
شرح خواندگی ( فی صد میں )
اہم ریاستیں
ڈیٹا ماخذ: جدول 4.6
شکل 4.2 کثیر بار(کالم) ڈائیگرام جوکہ ہندوستان کی اہم ریاستوں کی2001 اور1991 کے دو مردم شماری سالوں میں خواتین کی شرح خواندگی دکھاتا ہے۔

جزو بار ڈائیگرام

(Componant Bar Diagram)

جزو بار ڈائیگرام یا چارٹ (شکل 4.3) کو جسے ذیلی ڈائیگرام بھی کہا جاتا ہے، یہ مختلف اجزائے ترکیبی (عناصر یا اجزاء جس سے کوئی چیز بنائی جاتی ہے) کی سائزوں کا موازنہ کرنے میں بہت مفید ہیں اور اس کے علاوہ ان کے اجزاء لازمی کے درمیان رشتوں پر روشنی ڈالتا ہے۔ مختلف پیداواروں سے ہونے والی فروخت، ایک مثالی ہندوستانی فیملی میں اخراجات کا اندازہ (غذا، کرایہ، دوا، تعلیم، بجلی وغیرہ اجزا کے طور پر) وصولی اور اخراجات کے لیے بجٹ کا صرفہ، لیبروفورس کے اجزا، آبادی وغیرہ مثالیں ہیں۔ جزوبار ڈائیگراموں کو عموماً موزوں طور پر شیڈ یا رنگین کیا جاتا ہے۔
تشریح: یہ شکل 4.6 سے نہایت آسانی سے اخذ کیا جاسکتا ہے کہ ان سالوں میں خواتین کی شرح خواندگی پورے ملک میں اضافے پر تھی۔ اسی طرح شکل سے دوسری توضیح بھی کی جاسکتی ہے راجستھان جیسی ریاستوں میں شرح خواندگی میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

جدول 4.7

بہار کے ایک ضلع میں 6.15 سال کی عمر کے بچوں کا 
اسکولوں میں جنس کے لحاظ سے اندراج (فی صد میں)
————————————————————————————
جنس اندراج(فی صد) اسکول سے الگ بچے(فی صد)
————————————————————————————
لڑکا 91.5 8.5
لڑکی 58.6 41.4
کل 78.0 22.0
————————————————————————————
ڈیٹا ماخذ: غیر مطبوعہ ڈیٹا

جزوبار ڈائیگرام دو یا زیادہ اجزاء میں بار اور اس کی ذیلی تقسیموں کو ظاہر کرتا ہے۔ مثال کے لیے بار 6تا 14 سال کی عمر گروپ میں بچوں کی کل آبادی دکھاسکتا ہے ۔یہ اجزاء ان کا تناسب دکھاتے ہیں جن کا اندراج ہوچکا ہے اور جن کا اندراج نہیں ہوا ہے۔ جزو بار ڈائیگرام مقررہ عمر گروپ رینج میں لڑکوں، لڑکیوں اور کل بچوں کے مختلف جز بار پر مشتمل ہوتا ہے جیساکہ شکل 4.3 میں دکھایا گیا ہے جزو بار ڈائیگرام بنانے کے لیے سب سے پہلے ایک بار کو -x محور پر اس کی اونچائی جو کہ بار کی کل قدر کی مساوی ہوتی ہے، بنایا جاتا ہے ] موجودہ ڈیٹا کے لیے بار کی اونچائی 100 اکائیاں ہے (شکل 4.3)[۔ دوسری صورت میں اونچائی بار کی کل قدر کی مساوی ہوتی ہے اور اجزاء کی اونچائیوں کو وحدانی طریقہ (unitary method) کا استعمال کرتے ہوئے حل کیا جاسکتا ہے۔ چھوٹے اجزاء کو بار میں تقسیم کرنے میں ترجیح دی جاتی ہے۔
ڈیٹا ماخذ: جدول 4.7

پائی ڈائیگرام 

پائی ڈائیگرام بھی جزو ڈائیگرام لیکن جزو بار ڈائیگرام کے برعکس، یہ ایک دائرہ جس کا رقبہ اجزاء میں متناسب تقسیم ہوتا ہے، پیش کرتا ہے۔
8
شکل 4.3 کے ایک ضلع  میں پرائمری سطح پر اندراج کثر پائی ڈائیگرام (مدور ڈائیگرام)

 (شکل 4.4)
اسے پائی چارٹ (مدورخاکہ) بھی کہاجاتا ہے۔ دائرے کو مرکز سے محیط تک سیدھی لائنیں بنانے کے ذریعہ اتنے حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے جتنے اجزاء ہوتے ہیں۔
پائی چارٹ(Pie Charts) کو عام طور پر کسی زمرے کی مطلق قدروں کے ساتھ نہیں بنایا جاتا ہے۔ ہر زمرے کی قدریں پہلے سبھی زمروں کی کل قدر کے فی صد کے طور پر ظاہر کی جاتی ہیں پائی چارٹ میں دائرہ نصف قطر (radius) کی اپنی قدر کے قطع نظر یہ سمجھا جاتا ہے کہ اس میں 9کے 100 مساوی حصے ہوتے ہیں۔ زاویہ دریافت کرنے کے لیے دو دائرے کے مرکز پر کسی خاص نقطے پر بنے گا، ہر جزو کی فی صد قدر کو 3.6 کے ذریعہ ضرب دیا جاتا ہے، اجزاء کے فی صدوں کا دائرے کے زاویائی اجزاء میں تبدیلی کی ایک مثال جدول 4.8 میں دکھائی گئی ہے۔
10
!This is fantastic 
یہ نوٹ کرنا دلچسپ ہے کہ جزوبار ڈائیگرام کے ذریعہ پیش کیے گئے ڈیٹا کا بہتر اظہار اتنے ہی مساوی طور پر پائی چارٹ کے ذریعہ کیا جاسکتا ہے، صرف ایک ضرورت یہ ہوگی کہ اجزاء کی مطلق قدروں کو اس سے پہلے کہ اسے پائی ڈائیگرام کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہو، اسے فی صدوں میں تبدیل کیا جانا ہوتا ہے۔

جدول 4.8

بھارتی آبادی کے پیشے کے لحاظ سے تقسیم(کروڑ)

———————————————————————
حیثیت آبادی فی صد زاویا ئی جزو
———————————————————————
حاشیائی ورکر 12 9.9      36
اصل ورکر     36          29.9.     107
غیر ورکر            73    60.3 217
———————————————————————
کل 102 100.0 360
———————————————————————


12
اصل ورکر
حاشیائی ورکر
غیر ورکر
ڈیٹا ماخذ جدول4.8
شکل 4.4 بر سر روز گار حیثیت کے لحاظ سے ہندوستانی آبادی(2001) کے مختلف زمروں کےلئے پائی ڈائیگرام

سر گرمیاں

  • جز و بار ڈائیگرام کے ذریعہ شکل 4.4 میں پیش کئے گئے ڈیٹا کا اظہار کیجئے۔
  • کیا پائی کا رقبہ پائی ڈائیگرام کے ذریعہ ظاہر کئے جانے والے ڈیٹا کی کل قدر سےکسی طرح مختلف ہوتا ہے۔

تواتری ڈائیگرام

ٖFrequency Diagram)

گروپ بند تواتری تقسیم کی شکل ڈیٹا کو عام طور پر تواتری ڈائیگراموں جیسے ہسٹو گرام (تناسبی ترسیم)، تواتری کثیر الاضلاع، تواتری منحنی، او جائیو (مجموعی تعددی گراف)

مستطیل ترسیم(Histogram)

مستطیلی ترسیم یہ دو ابعادی ڈائیگرام ہے۔یہ مستطیلوں (rectangles) کا ایک مجموعہ ہے جو کلاس حدوں (x -محور کے ساتھ) اور کلاس تواتر کے تناسبی رقبوں کے درمیان وقفوں کے طور پر اساسوں کے ساتھ ہوتا ہے (شکل 4.5)۔ اگر کلاس وقفے مساوی چوڑائی کے ہیں، جو کہ عموماً مستطیلوں کے رقبے ہیں تب وہ اپنے متعلقہ تواتروں کے متناسب ہوتے ہیں۔ تاہم، بعض قسم کے ڈیٹا میں، کلاس وقفوں کی متغیر چوڑائی کا استعمال آسان ہوتا ہے اور کبھی کبھی ضروری ہوجاتا ہے۔ مثال کے لیے، جب اموات کے موضوع پر اموات کی جدول سازی کرتے ہیں تب یہ کافی بامعنی اور مفید بھی ہوگا کہ نہایت مختصر عمر وقفوں (2,1,0 سال28,7,0دن) کو نہایت شروع میں رکھا جائے جب کہ شرح اموات آبادی کے دیگر زیادہ عمر کے حصوں میں شرح اموات کے مقابلے زیادہ اونچی ہوتی ہے۔ اس طرح کے ڈیٹا کے گرافی اظہار کے لیے مستطیل کے رقبے کے لیے اونچائی، اونچائی کی حاصلی تقسیم(quotient)(یہاں تواتر)اور اساس (یہاں کلاس وقفوں کی چوڑائی) ہوتی ہے۔ جب وقفے مساوی ہوں یعنی جب سبھی مستطیلوں کی ایک ہی اساس ہو تب رقبے کو موازنے کے لیے کسی  وقفے کے تواتر کے ذریعہ آسانی سے ظاہر کیا جاسکتا ہے۔ جب اساس اپنی چوڑائی میں متفرق ہوں تب مستطیلوں کی اونچائیوں کو قابل موازنہ پیمائشوں کو حاصل کرنے کے لیے توافق(adjust)کیا جاتا ہے۔ ایسی صورت حال کا جواب مطلق تواتر کے بجائے تواتری کثافت (کلاس تواتر کو کلاس وقفے کی چوڑائی کے ذریعہ تقسیم کیا جاتا ہے) ہے۔

جدول 4.9

کسی شہر کے ایک علاقے میں یومیہ اجرت کمانے والوں کی تقسیم
——————————————————————
یومیہ اجرت(روپے میں) اجرت پانے والوں کی تعداد
——————————————————————    
45-49 2    
50-54 3    
55-59 5    
60-64 3    
65-69 6    
70-74 7    
75-79   12    
80-84           13      
85-89  9    
90-94  7    
95-99  6    
100-104     4     
105-109     2    
110-114                                   3
119-115        3
————————————————————————    
ماخذ: غیر شائع شدہ ڈیٹا  

چونکہ ہسٹوگرام مستطلیل ہوتے ہیں اس لیے اساسی خط کے متوازی اور اسی جسامت کا ایک خط کلاس وقفے کے تواتر (یا تواتری کثافت) کے مساوی عمودی فاصلے پر کھینچا جاتا ہے۔ ہسٹوگرام مجرد یا غیر مسلسل متغیرہ/ ڈیٹا کے لیے کبھی نہیں بنایا جاتا۔ چونکہ ایک وقفہ یا نسبتی پیمانہ کلاس وقفے کی نچلی کلاس حد کو سابقہ وقفے مساوی یا غیر مساوی کی اوپری کلاس حد کو آمیختہ (fuse) کردیتا ہے، اس لیے مستطلیل بالکل متصل ہوتے ہیں اور دو متصل مستطیلوں کے درمیان کوئی کھلی جگہ نہیں ہوتی۔ اگر کلاسیں مسلسل نہیں ہیں تو انھیں پہلے مسلسل کلاسوں میں بدلا جاتا ہے جیساکہ باب 3 میں بیان کیا گیا ہے۔ کبھی کبھی دو متصل مستطیلوں کے درمیان مشترکہ حصہ (شکل 4.6) تسلسل کا بہتر تاتر دیتے ہوئے چھوڑدیا جاتا ہے۔ نتیجے میں حاصل ہونے والی شکل دوہرے زینے کا تاثر دیتی ہے۔ ہسٹو گرام بالکل بار ڈائیگرام کی طرح دکھائی دیتا ہے۔ لیکن ان دونوں کے درمیان جیساکہ پہلا تاثر ملتا ہے اس کی نسبت مماثلت کے بجائے فرق زیادہ ہوتا ہے۔ درمیان میں جگہ چھوڑنا اور چوڑائی یا بار کا رقبہ سبھی اختیاری ہیں۔ یہ بار کی اونچائی ہے، نہ کہ چوڑائی یا رقبہ جس کا کوئی سرا ہو، ایک اکیلا عمودی خط وہی مقصد پورا کرسکتا ہے جو بعض چوڑائی کا بار مزیدبرآں ہسٹو گرام میں دو مستطیلوں کے درمیان کوئی جگہ نہیں چھوڑی جاتی لیکن بار ڈائیگرام میں دو متصل باروں کے درمیان کچھ جگہ ضرور چھوڑی جاتی ہے (سوائے کثیر بار یا جزو بار ڈائیگرام میں)۔ اگرچہ باروں کی یکساں چوڑائی ہوتی ہے۔ بار کی چوڑائی موازنے کی غرض سے غیر اہم ہوتی ہے۔ ہسٹو گرام میں چوڑائی اتنی ہی اہم ہے جتنا کہ اس کی اونچائی۔ ہمارے پاس مجرد اور مسلسل متغیرات کے بار ڈائیگرام ہوسکتے ہیں لیکن ہسٹو گرام صرف مسلسل متغیرہ کے لیے ہی بنایا جاتا ہے۔ ہسٹو گرام تواتری تقسیم کے طریقے کی قدر گرافی کے طور پر بھی فراہم کرتا ہے جیساکہ شکل 4.5 میں دکھایا گیا ہے اور نقطہ وار عمودی خط کا -x مختص (roordinate) طریق عمل عطا کرتا ہے۔

تواتری کثیر الاضلاع

(Frequency Polygon)

 تواتر کثیرالاضلاع مستقیم خطوط  ( سیدھی لائن ) کے ذریعےمستوی حدود ہے، عام طور پر چار یا زائد خطوط ہوتے ہیں۔
تواتر کثیرالاضلاع ہسٹو گرام کا ایک متبادل ہے اور خود ہسٹوگرام سے مشتق ہوتا ہے۔ تواتر کثیرالاضلاع منحنی کی شکل کا مطالعہ کرنے کے لیے ہسٹوگرام سے مشتق ہوتا ہے۔ تعدد کثیرضلعی منحنی کی ساخت کا مطالعہ کرنے کے لیے ہسٹو گرام میں فٹ کیا جاسکتا ہے۔ہسٹوگرام کے متصل مستطیلوں کے اوپری جانب کے وسطی نقاط کو باہم  ملانے پر کثیر ضلعی بنائی جا سکتی ہے ۔ تعددی کثیر ضلعی بنانےکا طریقہ ہے۔ یہ خط اساس کے دوسرے چھوڑ دیتا ہے اور منحنی کے تحت آنے والے رقبے کے شمار کو رد کردیتا ہے۔ خط اساسی پر اس طرح حاصل کیے گئے دو آخری یا سرے کے نقطوں کو تقسیم کے ہر سرے پر قدری عنصر تواتر کے ساتھ دو کلاسوں کی وسطی قدروں پر ملاتا اوراس کا حل ہے۔ شکستہ خطوط یا نقطے اس ملان کو خط اساس کے ساتھ دوسروں  پر انجام دیتے ہیں۔ منحنی کے تحت کل رقبہ ہسٹوگرام میں رقبے کی طرح کل تواتر یا نمونے کی سائز کا اظہار کرتا ہے۔
13
اجرت کمانے والوں کی تعداد  ( تواتر )
یومیہ اجرت ( روپیے میں )
مسلسل کلاسیں ( تبدیلی کے بعد)
ڈیٹا ماخذ: جدول 4.9
شکل 4.5 کسی شہر کے ایک علاقے میں یومیہ اجرت پانے والوں کی تقسیم کاہسٹو گرام
14
اجرت کمانے والوں کی تعداد
یومیہ اجرت ( روپیے میں )
مسلسل کلاسیں ( تبادلے conversion کے بعد )
شکل4.6 جدول 4.9 میں دیئے گئے ڈیٹا کے کھینچا گیا تواتری کثیر الاضلاع تواتری منحنی

15
تواتر
ہمواری
یومیہ اجرت پانے والوں کی تعداد
یومیہ اجرت ( روپیے میں )
شکل 4.7 جدول 4.9 کے لئے تواتری منحنی
تعددی کثیر ضلعی گروپ گروپ بند تواتری تقسیم پیش کرنے کے لیے ایک نہایت عام طریقہ ہے۔ دونوں کلاس حدوں اور کلاس مارکس کا استعمال کلاس وقفوں کی چوڑائی متناسب مساوی ہونے کے سبب -x محور کے ساتھ دو متصل کلاس مارکس کے درمیان کیا جاسکتا ہے۔ ڈیٹا کی ترسیم کرنا آسان ہوجاتا ہے اگر کلاس مارکس گراف پیپر کی بھاری لائنوں پر واقع ہوتے ہیں۔ کوئی حرج نہیں خواہ کلاس حدوں یا وسطی نقاط کا استعمال -x محور میں کیا جائے، تواترات (عرضی مختص کی طرح) کی ترسیم ہمیشہ کلاس وقفوں کے وسطی نقطے کے مقابل ہوتی ہے۔ جب سبھی نقاط کی ترسیم گراف میں کرلی جاتی ہے انھیں مختصر خطوط مستقیم کے ایک سلسلے کے ذریعہ باہم ملایا جاتا ہے۔ شکستہ خطوط دو وقفوں کے وسطی نقاط کو باہم ترسیم شدہ منحنی کے دوسروں کے ساتھ ملاتے ہیں، ایک شروعات میں اور دوسرا آخر میں۔ (شکل 4.6)۔ جب یکساں محور پر پلاٹ کی گئی دو یا زائد تقسیموں کا موازنہ کرتے ہیں تو تواتری کثیر الاضلاع ممکن ہے کہ زیادہ مفید ثابت ہو کیوں کہ دو یا زیادہ تقسیموں کے عمودی اور افقی خطوط ہسٹوگرام میں منطبق (coincide)ہوسکتے ہیں۔

تواتری منحنی، تواتری کثیر الاضلاع کے نقاط سے گزرتے ہوئے ہموار آزادانہ منحنی کھینچنے کے ذریعہ جتنا قریبی طور پر ممکن ہے حاصل کی جاتی ہے۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ تواتری کثیر الاضلاع کے سبھی نقاط سے گزرنا ہو لیکن یہ ان کے ذریعہ جتنا قریبی طور پر ممکن ہے گزرنا ہے (شکل 4.7)

اوجائیو (مجموعی تعددی گراف)

اوجائیوں کو تدریحی تواتری منحنی بھی کہاجاتا ہے۔ چوں کہ دو قسم کے تدریجی تواترات ہوتے ہیں، مثال کے لئے قسم سے کم اورقسم سے زیادہ جس کے مطابق کسی بھی گروپ بند تواتری تقسیم ڈیٹا کے لیے دو اوجائیے ہوتے ہیں، یہاں سادہ تواترات کے بجائے جیساکہ تواتری کثیرالاضلاع کے معاملے میں ہے تدریجی تواترات کو تواتری تقسیم کی کلاس حدوں کے مقابل لا۔ محور کے ساتھ پلاٹ کیا جاتا ہے۔ اوجائیوں سے کم تدریحی تواترات کلاس وقفوں کی متعلقہ اوپری حدوں کے مقابل پلاٹ کیے جاتے ہیں جب کہ اوجائیوں سے کم زیادہ کے لیے تدریجی تواترات کو کلاس وقفوں کی متعلقہ نچلی حدوں کے مقابل پلاٹ کیا جاتا ہے۔ دو اوجائیوں کی دلچسپ شکل مجموعی طور پر یہ ہے کہ ان کے تقاطع نقطہ (intersection point) وسطانیہ تواتری تقسیم کا (median) عطا کرتا ہے (شکل 4.8) جیساکہ دو اوجائیوں شکلیں اشارہ کرتی ہیں، اوجائیوں کم کبھی گھٹتی نہیں اور اوجائیوں سے زیادہ کبھی بڑھتی نہیں ہیں۔

جدول 4.10

جدول 4.10 ( a )  جدول 4.10 ( b ) 
ریاضی میں حاصل کیے گیے مارکس کی تواتری تقسیم ریاضی میں حاصل کیے گیے مارکس کی تقسیم 
ریاضی میں حاصل کیے گیے مارکس کی تواتری تقسیم ریاضی میں حاصل کیے گیے مارکس کی تقسیم 

ریاضی میں حاصل کیے گئے مارکس کی تواتری تقسیم

مارکس طلبا کی تعداد تدریجی تواتر سے کم تدریجی تواتر سے زیادہ
j X
0-20 6 6 64
20-40 5 11 58
40-60 33 44 53
60-80 14 58 20
80-100 6 64 6
کل 64

حسابی لائن گراف

( Arithmetic line graph )

حسابی لائن گراف کو ٹائم سیریز گراف بھی کہاجاتا ہے اور ڈیٹا کو پیش کرنے کا ڈائیگرامی طریقہ ہے۔ اس میں وقت (گھنٹہ، دن، تاریخ، ہفتہ، مہینہ، سال، وغیرہ) -x محور کے ساتھ اور متغیرہ کی قدر (ٹائم سیریز ڈیٹا)-y محور کے ساتھ پلاٹ کی جاتی ہے۔ ان پلاٹ کیے ہوئے نقطوں کو ملانے کے ذریعہ لائن گراف کہا جاتا ہے، اس طرح جو حاصل کیا جاتا ہے اسے حسابی لائن گراف (ٹائم سیریز گراف) کہا جاتا ہے۔ اس سے طویل مدتی ٹائم سیریز ڈیٹا میں رجحان، وقفہ واریت (Priodicity) وغیرہ میں مدد ملتی ہے۔

سرگرمی

  • کیا اوجائیو ں تقسیم کی قدروں کو جو یہ ظاہر کرتا ہے اس کی شناخت میں مددگار ہوتا ہے؟

16
کم سے کم 
ریاضی میں مارکس
توتر
شکل(a) ۔ 4.8 جدول4.10 میں دیئے گئے ڈیٹا کے لئے اوجائیوں سے کم سے کم زیادہ سے زیادہ تواتر

17
زیادہ سے زیادہ اوجائیو
( کم سے کم اوجائیو )
وسطانیہ
تواتر
ریاضی میں مارکس
  شکل4.8 ( b ) : جدول4.10 میں دیے گئے ڈیٹا کے لیے اوجائیو سے کم سے کم زیادہ سے زیادہ تواتر
جدول4.11

ہندوستان کی برآمدات اور در آمدات کی قدر(100 کروڑ میں)
————————————————————
سال            برآمدات درآمدات
————————————————————
1993-94            698 731
1994-95           827 900
 1995-96          4 106             1227 
 1996-97          1188                 1389
1997-98           1301                1542
1998-99           1398                1783
1999-2000      1591                 2155
2000-01           2036                 2309
2001-02          2090                  2452
2002-03          2549                  2964
2003-04          2934                  3591
2004-05          3753                  5011
2005-06          4564                  6604
2006-07          5718                 8815
2007-08         6559                 10123
2008-09        8408                   13744
2009-10        8455                   13637
2010-11         11370                16835
2011-12        14660                23455
2012-13        16343                26692
2013-14        19050                27154 
—————————————————
ماخذ: DGCI&S کولکاتا
 
یہاں آپ شکل 4.9 سے دیکھ سکتے ہیں کہ 1998 تا 1999 کی مدت کے لیے اگرچہ درآمدات برآمدات سے کہیں زیادہ تھے لیکن 1998-99 کے بعد رفتار کی شرح میں اضافہ ہوتا رہا اور ان دونوں (درآمدات اور برآمدات) کے درمیان فرق 1995 کے بعد زیادہ وسیع ہوگیا۔

6.اختتام ( Conclusion )

کس طرح جمع کئے گئے ڈیٹاکو مختلف شکلوں جیسے متنی،جدولی اور ڈائیگرامی کا استعمال کرتے ہوئے پیش کیا جا سکے گا،اب تک آپ اسے سیکھ ہی چکے ہیں۔اب آپ کسی دئے گئے ڈیٹا کے مجموعے کے لئے ڈیٹا پیشکش کی وضع اور ساتھ ہی ساتھ استعمال کئے جانے والے ڈائیگرام کی قسم کا موزوں انتخاب بھی کر سکتے ہیں۔اس طرح آپ ڈیٹا کی با معنی،جامع اور با مقصد پیشکش کرسکتے ہیں۔
18
برآمدات
درآمدات
قدریں 100کروڑ روپیے میں
سال

شکل 4.9 جدول 4.11 میں دیئے گئے ٹائم سیریز ڈیٹاکے لئے حسابی لائن گراف

 خلاصہ

  • ڈیٹا (حتی کہ ضخیم ڈیٹا) بامعنی اظہار کی پیشکش ہوتا ہے۔
  • مختصر ڈیٹا (مقدار)  متنی پیشکش کے مقصد کی بہتر تعمیل ہوتی ہے۔
  • ڈیٹا کی بڑی مقدار کے لیے جدولی پیشکش ایک یا زیادہ متغیرات کے لیے ڈیٹا کے کسی حجم کو سمونے میں مددگار ہوتی ہے۔
  • جدولی ڈیٹا کو ڈائیگراموں کے ذریعہ پیش کیا جاسکتا ہے جوکہ دیگر صورت میں پیش کیے گئے حقائق کو تیز ترین سمجھنے کا اہل بناتا ہے۔

مشقیں

درج ذیل سوالوں کا جواب لکھیے، 1 تا10 چنتے ہوئے جواب درست کیجیے
1. بار ڈائیگرام ہے
(i) یک بعدی ڈائیگرام
(ii) دو ابعادی ڈائیگرام
(iii) کسی بعد کے بغیر ڈائیگرام
(iv) ان میں سے کوئی نہیں
.2 ہسٹو گرام کے ذریعہ جو ڈیٹا پیش کیا جاتا ہے وہ گرافی طور پر درج ذیل میں کیا دریافت کرنے میں مددگار ہوسکتا ہے۔
(i) درمیانہ (mean)
(ii) طربقہ (mode)
(iii) وسطانیہ (Mediam)
(iv)  یہ سبھی
3 . گراف کے لحاظ سے اوجائیو مدد گار ہوسکتا ہے۔
(i) بہتاتیہ (mode)
(ii) درمیانہ (mean)
(iii) وسطانیہ (Mediam)
(iv) ان میں سے کوئی نہیں
4. حسابی لائن گراف کے ذریعہ پیش کیا گیا ڈیٹا کیا سمجھنے میں مدد گار ہوتا ہے۔
(i) طویل مدتی رجحان
(ii) ڈیٹا میں دوریت(Cyclicity in Data)
(iii) ڈیٹا میں موسم سے مطابقت
(iv) درج بالا سبھی
5. ذیل کے بیانات کے سامنے صحیح یا غلط لکھئے۔
(i) بار ڈائیگرام میں بار کی چوڑائی کوئی ضروری نہیں کہ مساوی ہو (صحیح/غلط)
(ii) ہسٹو گرام میں مستطیلوں کی چوڑائی لازمی طور پر مساوی ہونا چاہیے (صحیح/غلط)
(iii) ہسٹو گرام کی تشکیل صرف ڈیٹا کی مسلسل درجہ بندی کے ساتھ کی جاسکتی ہے (صحیح/غلط)
(iv) ہسٹوگرام اور کالم ڈائیگرام ڈیٹا کی پیشکش کے ایک ہی طریقے ہیں (صحیح/غلط)
(v) تواتری تقسیم کا طریقہ ہسٹوگرام کی مدد سے گرافی طور پر جانا جاسکتا ہے (صحیح/غلط)
(vi) تواتری تقسیم کا وسطانیہ (mediam) اوجائیو سے نہیں جانا جاسکتا (صحیح/غلط)
6.  ڈائیگراموںمیں کون سی قسم ہے جو درج ذیل کو پیش کرنے میں زیادہ موثر ہے؟
(i) سال میں ماہانہ بارش
(ii) مذہب کے لحاظ سے دہلی کی آبادی کی ترکیب
(iii) فیکٹری میں اجزاء کی لاگت
7 . مثال 4.2 میں بالفرض آپ ہندوستان میں شہری غیر ورکرس کے حصے میں اور شہرکاری کی نچلی سطح میں اضافے کو نمایاں کرنا چاہتے ہیں۔ جدولی شکل میں آپ اسے کیسے کریں گے؟
8. ہسٹو گرام کی ڈرائیگ کا طریقہ عمل کس طرح الگ ہوجاتا ہے جب تواتری جدول میں مساوی کلاس وقفوں کے مقابل کلاس وقفے غیر مساوی ہوں؟
9. انڈین شوگرملس ایسوسیشن نے رپورٹ کیا کہ، دسمبر 2001 کے پہلے پندرہ روز میں شکر کی پیداوار تقریباً 3,87,000 ٹن تھی جب کہ اس کے مقابلے پچھلے سال 2001 کے اسی پندرھواڑا میں شکر کی پیداوار 3,78,000 ٹن تھی۔ دسمبر 2001 کے پہلے پندرھواڑے میں فیکٹریوں سے شکر کی کل نکاسی 2,83,000 گھریلوں صرف کے لیے اور برآمدات کے لیے 41,000ٹن تھی جب کہ اس کے مقابلے پچھلے موسم کے اسی پندرھواڑے میں گھریلوں صرف کے لیے 1,54,000 ٹن اور برآمدات کے صفر نکاسی تھی۔
(i) جدول  شکل میں ڈیٹا پیش کریں
(ii) بالفرض آپ ان ڈیٹا کو ڈائیگرامی شکل میں پیش کرتے ہیں تب آپ کون سا سا ڈائیگرام استعمال کریں گے اور کیوں؟
(iii) ان ڈیٹا کو ڈائیگرامی شکل میں پیش کیجیے۔
.10 درج ذیل جدول عامل لاگت پر GDP میں تخمینہ شدہ شعبہ جاتی حقیقی شرح نمو (پچھلے سال کے دوران شرح فی صد میں تبدیلی واقع ہوتی تھی)
——————————————————————————————
سال    زراعت اور متعلقہ سیکٹر صنعت خدمات
——————————————————————————————
1994-95                     5.0 9.2 7.0
1995-96                     0.9- 11.8 10.3
1996-97                9.6 6.0 7.1
1997-98                    1.9- 5.9 9.0
1998-99                7.2 4.0 8.3
1999-2000                       0.8     6.9    8.2                         
——————————————————————————————
ڈیٹا کو کثیر ٹائم سیریز گرافوں کے طور پر ظاہر کریں۔