Skip to content
Shumariyatbara-e-mashiyat

باب 5

مرکزی میلان کی پیمائش ( Measures of Central Tendency ) 

1

اس باب کا مطالعہ کرنے کے بعد آپ اس قابل ہو جائیں گے کہ:

  • ایک واحد عدد کے ذریعہ ڈیٹا کے سیٹ کی تلخیص کی ضرورت سمجھ سکیں ؛
  • مختلف قسم کی اوسطوں کی شناخت اور ان کے درمیان امتیاز کرسکیں ؛
  • مختلف قسم کی اوسطوں کا شمار کرنا سیکھ سکیں گے؛
  • ڈیٹا کے ایک مجموعے سے بامعنی نتائج نکال سکیں گے؛
  • کسی صورتحال میں کون سا اوسط زیادہ کار آمد ثابت ہو گا یہ سمجھنے کے اہل ہو سکیں ۔

1.تعارف

پچھلے باب میں آپ نے ڈیٹا کی جدولی اور گرافی پیش کش کے بارے میں پڑھا ۔ اس باب میں آپ ان مرکزی میلان کی پیمائشوں کا مطالعہ کریں گے جو ڈیٹا کی مختصراً وضاحت کرنے کا ہندسی طریقہ ہے۔ آپ روز مرہ زندگی میں ڈیٹا کے کافی بڑے مجموعے کے خلاصہ کرنے کی مثالیں دیکھ سکتے ہیں ۔ امتحان میں کسی کلاس کے طلباء کے ذریعہ حاصل کیے گئے نمبروں کی اوسط، علاقے میں ہونے والی بارش کی اوسط ،فیکٹری کی اوسط پیداوار ، کسی مقام میں رہنے یا فرم میں کام کرنے والے افراد کی اوسط آمدنی وغیرہ۔
بیجو ایک کسان ہے ۔وہ گاؤں میں اپنی زمین پر اناج اگاتا ہے اس گاؤں کا نام بالا پور ہے جو کہ بہار کے بکسر ضلع میں ہے یہ گاؤں 50چھوٹے کسانوں پر مشتمل ہے۔ بیجو کے پاس 1ایکڑ زمین ہے آپ کو بالا پور کے چھوٹے کسانوں کی معاشی صورتحال جاننے میں دلچسپی ہے۔ آپ بالاپور گاؤں میں بیجو کی معاشی حالت کا موازنہ کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے لئے آپ اس کی ملکیت کی اراضی کے رقبے کا موازنہ بالاپور کے دیگر کسانوں کی ملکیت کی اراضی کے رقبے سے کرنے کے ذریعہ تشخیص کرسکتے ہیں ۔ آپ یہ دیکھنا چاہیں گے کہ آیا بیجو کی ملکیت کی زمین:
1. عام مفہوم میں اوسط سے زیادہ ہے
(ذیل میں حسابی اوسط دیکھیں)
2. آدھے کسانوں کی ملکیت کے زمینوں کے رقبے سے زیادہ ہے۔(وسطانیہ [Median]دیکھیں)
3. اکثر کسانوں کی ملکیت کی زمینوں کے رقبے سے زیادہ ہے۔
( بہتاتیہ (Mode)دیکھیں)
بیجو کی نسبتی معاشی حالت کی تشخیص کے سلسلے میں آپ کو بالاپور کے کسانوں کی ملکیت کی اراضی کے ڈیٹا کے پورے مجموعے کی تلخیص کرنی ہوگی۔ اسے مرکزی میلان (Central tendency)کا استعمال کرنے کے ذریعہ انجام دیا جاسکتا ہے۔ جو کہ ڈیٹا کو واحد قدر میں اس طرح خلاصہ کرتا ہے کہ یہ واحد قدر پورے ڈیٹا کی نمائندگی کرسکتی ہے مرکزی میلان کی پیمائشیں ڈیٹا کو ایک مثالی یا نمونہ قدر میں ڈیٹا کا خلاصہ کرنے کا ایک طریقہ ہے۔
مرکزی میلان یا ’اوسطوں‘ کی متعدد شماریاتی پیمائشیں ہیں۔ عام طور جو اوسط زیادہ استعمال کیے جاتے ہیں وہ تین ہیں:
  • حسابی اوسط(Artih metic mean)
  • وسطانیہ یا وسطی(Median)
  • بہتاتیہ(Mode)
آپ نوٹ کریں کہ اوسطوں کی دو مزید قسمیں ہوتی ہیں۔ جیومیتریائی درمیانہ اور ہارمونک درمیانہ جو کہ بعض حالات میں موزوں ہوتے ہیں تاہم فی الحال اوپر بیان کیے گئے تین قسموں کے بارے میں ہماری بحث محدود رہے گی۔

.2 حسابی اوسط یا حسابی درمیانہ

مان لیجئے چھ فیملیوں کی ماہانہ آمدنی (روپیوں میں) درج ذیل دی گئی ہے۔
1630،1625،1525،1400،1500،1600
اوسط فیملی آمدنی کو آمدنیوں میں جمع کرنے اور فیملیوں کی تعداد سے تقسیم کرنے کے ذریعہ حاصل کی جاتی ہے۔
2
یہ اشارہ کرتا ہے کہ اوسطاً ایک فیملی 1,547روپے کماتی ہے۔
حسابی اوسط کا استعمال مرکزی میلان کی پیمائش کے لئے عام طور پر کیا جاتا ہے اس کی تعریف کل مشاہدات کی قدروں کی جمع کو مشاہدات کی تعداد سے تقسیم کرنے کے طور پر کی جاتی ہے اورعام طور 3PNGکے ذریعہ ظاہر کیا جاتا ہے بالعموم ،اگر مشاہدات4کے طور پر ہیں تب حسابی اوسط اس طرح ظاہر کیا جاتا ہے۔
5
جہاں6یہ سبھی مشاہدات کی جمع اور N یہمشاہدات کی کل تعداد ظاہر کرتے ہیں۔
 حسابی اوسط کا شمار کیسے کیا جاتا ہے؟
حسابی اوسط کے شمار کا مطالعہ دو عام زمروں کے تحت کیا جاسکتا ہے۔
.1 غیر گروپ بند ڈیٹا کے لئے حسابی اوسط
.2 گروپ بند ڈیٹا کے لئے حسابی اوسط

غیر گروپ بند ڈیٹا کے لئے حسابی اوسط

راست طریقہ

راست طریقہ کے ذریعہ حسابی اوسط،سلسلے میں تمام مشاہدات کی جمع کو مشاہدات کی کل تعداد کے ذریعہ تقسیم کرنا ہے۔

مثال 1
اس ڈیٹا سے حسابی اوسط کا شمار کیجئے جو کہ معاشیات کے ٹیسٹ میں کلاس کے طلباء کے مارکس ظاہر کرتا ہو یہ مارکس ہیں: 58,78,55,50,40
7
معاشیات کے ٹیسٹ میں طلباء کے ذریعہ حاصل کئے گئے اوسط نمبر 56.2

مفروضات اوسط طریقہ  

اگر ڈیٹا میں مشاہدات کی تعداد زیادہ ہے اور /یا اعداد بڑے ہیں تب راست طریقے حسابی اوسط شمار کرنا مشکل ہے۔ مفروضاتی اوسط طریقے کا استعمال کرنے کے ذریعہ شمار کو آسان بنایا جاسکتا ہے۔ڈیٹا کے مجموعے جوکہ مشاہدات کے بڑی تعداد کے ساتھ ساتھ بڑی ہندسی شکلوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس سے وقت بچانے کے خیال سے آپ مفروضہ اوسط طریقے کا استعما ل کرسکتے ہیں ۔ یہاں ڈیٹا میں کسی مخصوص ہندسہ کو منطق یا تجربے کی بنیاد پر حسابی اوسط کے طور پر فرض کرتے ہیں۔ تب آپ ہر مشاہدہ سے مذکورہ مفروضاتی اوسط کے انحراف (deviation)(اوسط سے گریز) اختیار کرسکتے ہیں۔ آپ اس کے بعد ان انحراف کی جمع سازی کرسکتے ہیں اور ڈیٹا میں موجود مشاہدات کی تعداد کے ذریعہ تقسیم کرسکتے ہیں مفروضہ اوسط کی جمع اور مشاہدات کی تعداد سے انحراف کی جمع کے منتاسب اختیار کرنے کے ذریعہ حقیقی حسابی اوسط یا درمیانہ کا تخمینہ لگا یا جاتا ہے ۔ علامتی طور پر ۔
8
اوسط
A  = مفروضہ اوسط
N  = مشاہدات کی کل تعداد
D =  انفرادی مشاہدہ سے مفروضہ اوسط کا انحراف
یعنی d=X–A
اس کے بعد سبھی انحرافات کا جوڑ اسی طرح لیا جاتا ہے۔
9
آپ کو یاد ہو نا چاہیے کہ کوئی بھی قدر چاہے ڈیٹا میں موجود ہو یا نہیں ،مفروضہ اوسط کے طور پر اختیار کی جاسکتی ہے شمار کو آسان کرنے کے خیال سے ڈیٹا میں مرکزی طور پر واقع قدر کو مفروضہ اوسط کے طور پر منتخب کیا جاسکتا ہے۔

مثال 2
درج ذیل ڈیٹا 10فیملیوں کی ہفتہ وار آمدنی دکھا تا ہے۔
فیملیJ I H G F E D C B A
ہفتہ وار700 100 750 5000 80 420 2500 400 360
 آمدنی 850 (روپئے میں)
فیملی اوسط آمدنی کا شمار کیجئے۔

جدول 5.1

مفروضہ اوسط طریقے کے ذریعہ حسابی اوسط کا شمار

Q
0     0 850 A
15- 150- 700 B
75- 750- 100 C
10- 100- 750 D
415+ 4150+ 5000 E
77- 770- 80 F
43- 430- 420 G
165+ 1650+ 2500 H
45- 450- 400 I
49- 490- 360 J
—————————————————————
266+              2660+              11160

مفروضاتی اوسط طریقے کا استعمال کرتے ہوئے حسابی اوسط
11
اس طرح دونوں طریقوں کے ذریعہ فیملی کی اوسط ہفتہ وار آمدنی 1,116 روپے اسے آپ راست طریقہ استعمال کرتے ہوئے جانچ کرسکتے ہیں۔
اس طرح دونوں طریقوں کے ذریعہ فیملی کی اوسط ہفتہ وار آمدنی 1,116 روپے اسے آپ راست طریقہ استعمال کرتے ہوئے جانچ کرسکتے ہیں۔

مرحلہ وار انحراف طریقہ

ایک مشترکہ جز وضربی کے ذریعہ مفروضہ یا مفروضاتی اوسط سے لیے گئے سبھی انحرافات کو تقسیم کرنے کے ذریعہ شمار کو اور بھی آسان بنایا جاسکتا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ بڑے عددی آنکڑو ں سے بچاجائے ۔ جیسے ،اگر d=X–Aبہت بڑا ہے تب dدریافت کریں اسے درج ذیل طور پر انجام دیا جاسکتا ہے۔
               12     
فارمولا ذیل میں دیا گیا ہے۔
           13
 C=مشترک جزوضربی
، N= مشاہدات کی تعداد ، A=مفروضہ اوسط۔
اس طرح آپ مرحلہ یا زینہ وار طریقے کے ذریعہ مثال 2میں حسابی اوسط کا شمار کرسکتے ہیں ۔
14
گروپ بند ڈیٹا کے لئے حسابی اوسط کا شمار

مجرد سلسلہ راست طریقہ 

مجرد سلسلوں کے معاملے میں ہرمشاہدے کے مقابل تواتر مشاہدے قدر کے ذریعہ ضرب دیا جاتا ہے۔اس طرح حاصل کی گئی قدروں کا خلاصہ کیا جاتا ہے اور تواتر ات کی کل تعداد کے ذریعہ تقسیم کیا جاتا ہے ۔ علامتی طور پر
15
جہاں ،16متغیرات اور تواترات کے حاصل کی جمع ہے۔17تواترات کی جمع 

مثال3

 ایک رہائشی کالونی میں تین سائز کے پلاٹس ہیں: sq m 300 اور m sq 200, m sq- 100 پلاٹس کی تعداد 200, 50 اور 10 ہے۔

جدول5.2

راست طریقے کے ذریعہ حسابی اوسط کا شمار

———————————————————
           پلاٹس کی سائز       پلاٹ , =  d, =x - 200
                   fd            100            fx    (f )     x
———————————————————

100         200           20000     1-      200-
200        50              10000      0      0
300       10                3000      1+     10
             260              33000     0       190-
 
راست طریقہ 
استعمال کرتے ہوئے حسابی اوسط
        
 
   math 1

       
 
لہذا، رہائشی کالونی میں اوسط پلاٹ سائز 126.92 sq m ہے۔

مفروضاتی اوسط طریقہ

انفرادی سلسلوں کے معاملے میں جیساکہ شمار یا حساب کو مفروضاتی اوسط طریقے کا استعمال کرنے کے ذریعہ مادہ ترمیم کے ساتھ آسان بنایا جاسکتا ہے جیسا کہ پہلے بیان کیاگیا ہے۔ چونکہ ہر مد کا تواتر (f)یہاں دیا گیا ہے۔ ہم ہر انحراف (d)تواتر سے ضرب دیتے ہیں اور22 حاصل کرتے ہیں۔ اس کے بعد ہم22حاصل کرتے ہیں۔ اگلا مرحلہ سبھی تواترات کی جمع یعنیeeeeحاصل کرنا ہے۔ اس کے  بعد fffحاصل کریں۔ آحر میں حسابی اوسط کا شمار 23کے ذریعہ مفروضہ اوسط کا طریقہ استعمال کرتے ہوئے کیا جاتا ہے۔

زینہ وار انحراف طریقہ 

اس معاملے میں انحرافات کو مشترکہ جز وضربی (Common factor) 'C' کے ذریعہ تقسیم کیا گیا ہے۔ جو کہ شمار کی تسہیل کرتا ہے یہاں ہم قیاس کرتے ہیں کہ12=d تاکہ آسان حساب کے لئے عددی آنکڑوں کی سائز (جسامت) کم کی جاسکے۔ اس کے بعد fd'اور22حاصل کرتے ہیں۔ آخر میں زینہ وار یا مرحلہ انحراف طریقہ درج ذیل طور پر دیا گیا ہے۔
15

سرگرمیاں

  • مثال میں دیے گئے ڈیٹا کے اوسط فارم سائز زینہ وار انحراف اور مفروضاتی اوسط طریقوں کا استعمال کرتے ہوئے دریافت کریں۔

یہاں کلاس وقفے دیے گئے ہیں۔ حسابی اوسط کا شمار کرنے کا عمل، مسلسل سیریز معاملے میں اسی طرح ہے جیسا کہ غیر مسلسل یا مجرد سلسلوں میں ہے۔ صرف ایک فرق یہ ہے کہ مختلف کلاس وقفوں کے وسطی نقاط لیے جاتے ہیں آپ کو یہاں نوٹ کرنا چاہئے کہ کلاس وقفے غیر شمولی (باہم غیر شامل) یا شمولی یا غیر مساوی سائز کا ہوسکتا ہے۔غیر شمولی کلاس وقفہ کی مثال بالفرض 10-20,0-10وغیرہ ہے ۔ شمولی کلاس وقفے کی مثال بالفرض 10-9/0-9وعیرہ ہے ۔ غیر مساوی کلاس وقفے کی مثال بالفرض 20-50,0-20وغیرہ ہے ان سبھی معاملوں میں حسابی اوسط کا شمار اسی طریقے سے انجام دیا جاتا ہے۔

مثال 4

درج ذیل طلباء کے اوسط مارکس (a)راست طریقہ (b)زینہ وار انحراف طریقے کا استعمال کرتے ہوئے شمار کیجئے۔

راست طریقہ

مارکس (حاصل کے 30-20 20-10 10-0
 گئے نمبر) 60-50 50-40 40-30
طلبہ کی تعداد 25 15 12 5

جدول5.3

راست طریقے سے غیر شمولی کلاس وقفے کے لئے اوسط 
مارکس کا شمار

مارکس
( 1 )
طلبا کی تعداد
( f )
( 2 )
وسطی قدر
( m )
( 3 )
fm
( 4 )
d, = ( m-35) /10
( 5 )
fd,
( 6 )
0-10
10-20
20-30
30-40
40-50
50-60
60-70
5
12
15
25
8
3
2
70
5
15
25
35
45
55
65
25
180
375
875
360
165
130
2110
3-
2-
1-
0
1
2
3

15-
24-
15-
0
8
6
6
34-

مرحلے:

.1 mسے ظاہر کرتے ہوئے ہر کلاس کے لئے وسطی قدریں حاصل کیجئے۔
.2 25حاصل کریں اور راست طریقے کے فارمولے کا اطلاق کریں۔
26
مارکس 

زینہ وار انحراف طریقہ

27حاصل کریں
A=35لیں (کوئی بھی اختیاری عدد)
=Cمشترکہ جز وضربی
28

حسابی اوسط (A.M.)کی دو دلچسپ خصوصیت

آپ کے حساب کی جانچ کرنے کے لئے یہ جاننا دلچسپ اور مفید ثابت ہوگا کہ حسابی اوسط کے سلسلے میں مدوں کے انحرافات کی جمع ہمیشہ صفر کے مساوی ہوتی ہے۔ بطور علامت 29
تاہم حسابی اوسط انتہائی قدروں (extreme vlaues)کے ذریعہ اثر انداز ہوتا ہے۔ کوئی بھی بڑی قدر خواہ کسی بھی سرے پر ہو اس میں اتار چڑھاؤ پیدا کرسکتی ہے۔

وزنیاتی حسابی اوسط :

جب آپ حسابی اوسط کا شمار کرتے ہیں تب کبھی کبھی مختلف مدوں کو ان کی اہمیت کے لحاظ سے وزن دینا اہم ہوجاتا ہے ۔ مثال کے لئے دو اشیاء ہیں آم اور آلو، آپ آم(p1 )اورآلو  (p2)کی اوسط قیمت جاننے  میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ حسابی اوسط 30ہوگی تاہم آپ آلوکی (p2)قیمت میں اضافے کو زیادہ اہمیت دینا چاہتے ہیں اسے انجام دینے کے لئے آپ آم کی مقدار(91,)اور آلو کی مقدا(92)کو ’’وزن‘‘ (Weight) کے طور پر استعمال کرسکتے ہیں۔
 اب مقداروں کے ذریعہ حسابی اوسط کی وزنیت ہوگی ۔
                    31
بالعموم وزنیاتی حسابی اوسط درج ذیل کے ذریعہ دی جاتی ہے۔
32
جب قیمتیں بڑھتی ہیں تو آپ کو ان اشیاء کی قیمت کے اضافے میں دلچسپی ہوسکتی ہے جو کہ آپ کے لئے زیادہ اہم ہیں آپ باب 8میں اشاریہ (Index number)کی بحث میں اس کے بارے میں مزید مطالعہ کریں گے۔

سرگرمیاں

  • درج ذیل مثال کے لئے حسابی اوسط کی اس خصوصیت کی جانچ کیجئے۔X : 4,6,8,10,12 
  • اوپر کی مثال میں اگر اوسط 2سے بڑھ جاتا ہے تب انفرادی مشاہدات کے لئے کیا ہوگا اگر سبھی پر مساوی طو رپر اثر پڑتا ہے۔
  • اگر پہلے تین مدوں میں2کا اضافہ ہوتا ہے تب آخری دو مدو ں کی قدریں کیا ہونی چاہئے تاکہ اوسط یکساں رہ سکے۔
  • 96کے ذریعہ قدر 12کو بدلیں۔حسابی اوسط کے ساتھ کیا ہوگا۔ تبصرہ کیجئے۔

.3 وسطانیہ 

حسابی اوسط ڈیٹا میں انتہائی قدرںکی موجودگی سے اثر پڑتا ہے اگر آپ مرکزی میلان کی پیمائش کرنا چاہتے ہیں جو کہ ڈیٹا کی وسطی مقام (Position)پر مبنی ہے تب یہ انتہائی مدوں کے ذریعہ متاثر نہیں ہوتی۔ وسطانیہ متغیرہ کی یہ وہ لحاظ مقام قدر ہے جو دومساوی حصوں میں بٹاؤ (distribution)کو تقسیم کرتی ہے۔ ایک حصہ ان تمام قدروں پر مشتمل ہوتا ہے جو وسطانیہ قدر سے بڑا یا مساوی ہوتا ہے اور دوسرا اس سے کم یا مساوی قدروں پر مشتمل ہوتا ہے۔ جب ڈیٹا کا مجموعہ مقدار (Magnitude)کی ترتیب میں مرتب ہوتا ہے ۔ وسطانیہ ،وسطی درمیانی عنصر ہوتا ہے۔

وسطانیہ کا شمار 

وسطانیہ کا حساب سب سے چھوٹے سے سب سے بڑے ڈیٹا کو مرتب کرنے اور وسطی قدر کو شما کرنے کے ذریعہ آسانی سے کیا جاسکتا ہے۔

مثال 5

فرض کیجئے کہ ڈیٹا مجموعے میں ہمارے پاس درج ذیل مشاہدات ہیں: 4,12,10,8,1,6,7,5,اور.3
ڈیٹا کو معددی یا چڑھتی ترتیب میں مرتب کرنے پر آپ کے پاس ہوگا:
1,3,4,5,6,7,8,10,12
33
’وسطی اسکور‘6ہے۔ لہذا وسطانیہ 6ہے ، نصف تعداد 6سے بڑی ہے۔ اور نصف اعداد اس سے چھوٹے ہیں۔
اگر ڈیٹا میں جفت (Even)اعداد ہیں تو دو مشاہدات ایسے ہوں گے جو وسطی میں ہونگے اس معاملے میں وسطانیہ کا شمار دو قدروں کے درمیانے کی حسابی اوسط کے طو رپر شمار کیا جاتا ہے۔

مثال6

درج ذیل ڈیٹا 20طلباء کے مارکس فراہم کرتا ہے ۔ آپ کو وسطانیہ مارکس کا شمار کرنا ہے۔

25, 72, 28, 65, 29, 60, 30, 54, 32, 53,
33, 52, 35, 51, 42, 48, 45, 47, 46, 33

چڑھتی ترتیب میں ڈیٹا کو مرتب کرنے پر آپ پاتے ہیں۔
25, 28, 29, 30, 32, 33, 33, 35, 42, 
45, 46, 47, 48, 51, 52, 53, 54, 60, 
34
آپ دیکھ سکتے ہیں وسطی میں دو مشاہدات ہیں یعنی 45اور 46۔ وسطانیہ دو مشاہدات کی اوسط لینے کے ذریعہ حاصل کیا جاسکتا ہے۔
مارکس35وسطانیہ
وسطانیہ شمار کرنے کے لحاظ سے یہ ضروری ہے کہ وسطانیہ کے مقام کا علم ہو یعنی مد جس پر وسطانیہ واقع ہے کو سمجھیں۔ وسطانیہ کے مقام کو درج ذیل فارمولے کے ذریعہ شمار کیا جاسکتا ہے:
وسطانیہ کا مقام36
جہاںN =مدوں کی تعداد ہے۔
آپ غور کرسکتے ہیں کہ درج بالا فارمولا ایک مرتب صف میں آپ کو وسطانیہ کا مقام عطا کرتا ہے نہ کہ خود وسطانیہ کو وسطانیہ کا شمار درج دیل فارمولے سے کیا جاسکتا ہے۔
وسطانیہ 37مد کی سائز
مجرد سلسلے(Discrete Series)
مجرد سلسلوں کے معاملے میں وسطانیہ کا مقام یعنی 37مد کو مجموعی تواتر کے ذریعہ شناخت کیا جاتا ہے۔ اس مقام پر مطابق قدر وسطانیہ کی قدر ہے۔

مثال 7

افراد کی تعداد کا تواتری بٹاؤ اور ان کی متعلقہ آمدنیاں (روپے میں) ذیل میں دی گئی ہیں وسطانیہ آمدنی کا شمار کیجئے۔
آمدنی (روپے میں) 10,20,30,40
افراد کی تعداد 2,4,10,4
وسطانیہ آمدنی کے شمار کے سلسلے میں آپ تواتری بٹاؤیا تواتری تقسیم تیار کرسکتے ہیں جیسا کہ نیچے دی گئی ہے۔

جدول5.4

مجرد سلسلوں کے لئے وسطانیہ کا شمار
————————————————————————
آمدنی (روپے میں) افراد کی تعداد (f) مجموعی تواتر (cf)
————————————————————————
10 2 2
20 4 6
30 10 16
40 4 20
————————————————————————

38 مشاہدے میں واقع ہے ۔ اسے مجموعی تواتر کے ذریعہ آسانی سے شناخت کیا جاسکتا ہے۔ 10.5داں مشاہدہ 16کے C.fمیں واقع ہے۔ اس کے مطابق آمدنی 30روپے ہے، اس لیے وسطانیہ آمدنی 30روپے ہیں۔

39
وسطانیہ
پیمائش کا پیمانہ ( انچوں میں )

مسلسل سیریز

مسلسل سیریز کے معاملے میں آپ وسطانیہ کلاس کا وہا ں پتہ کرسکتے ہیں جہاں40ویں مدد نہ کہ 37ویں مد واقع ہے۔ تب وسطانیہ جیسا کہ ذیل میں دکھا یا گیا ہے،حاصل 6کیا جاسکتا ہے۔
42
جہاں L=وسطانیہ کلاس کی نچلی حد
جہاں c.f=وسطانیہ کلاس کے پیش روکلاس کا مجموعی تواتر
f= وسطانیہ کلاس کا تواتر
h=وسطانیہ کلاس وقفے کی قدر
اگر تواتر غیر مساوی سائز یا قدر کا ہے تو کسی تطابق  (adjustment)کی ضرورت نہیں ہے۔

مثال8

درج ذیل ڈیٹا کسی فیکٹری میں دہاڑی کام کرنے والے افراد سے متعلق ہے وسطانیہ دہاڑی (یومیہ اجرت) کا شمار کیجئے۔
یومیہ اجر (روپے میں) 55-60 50-55 45-50 40-45 35-40 30-35 25-30 20-25
ورکرس کی تعداد 7 13 15 20 30 33 28 14
یہاں ڈیٹا کو صعودی یا چڑھتی ترتیب میں مرتب کیا جاتا ہے۔
درج بالا مثال میں وسطانیہ کلاس سلسلے کی (N/2)ویں مد  جو43یعنی جو 80 ویں مد کی قدر ہے جو کہ 40-35کلاس وقفے میں واقع ہے۔
وسطانیہ کا فارمولا اطلاق کرنے پر 

جدول 5.5

مسلسل سیریز کے لئے وسطانیہ کا شمار

—————————————————————
یومیہ اجرت (روپے میں) ورکرس کی تعداد (f) مجموعی تواتر
—————————————————————
20-25 14 14
25-30 28 42
30-35 33 75
35-40 30 105
40-45 20 125
45-50 15 140
50-55 13 153
55-60 7 160
—————————————————————
44
اس طرح وسطانیہ یومیہ اجرت 35.83روپے ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ %50ورکرس3 35.8سے کم یا مساوی پارہے ہیں اور %50ورکر اس اجرت سے زیادہ مساوی پارہے ہیں۔
آپ کو یاد رکھنا چاہئے کہ مرکزی میلان کی پیمائش کے طو رپر وسطانیہ سلسلے میں بھی قدروں کے لئے حساس نہیں ہے۔ یہ ڈیٹا کے مرکزی مدو ں کی قدروں پر ارتکاز کرتا ہے۔

سرگرمیاں

  • سلسلے کی بھی چار قدروں کی اوسط اور وسطانیہ دریافت کیجئے ۔ آپ کیا مشاہدہ کرتے ہیں؟

جدول 5.6

محتلف سلسلوں کا اوسط اور وسطانیہ

سلسلہ X  (متغیرہ قدریں) اوسط وسطانیہ
1،2،3 ? ?
1,2,30 ? ?
1,2,300 ? ?
1,2,3000 ? ?
  • کیاوسطانیہ انتہائی قدروں سے متاثر ہوتا ہے؟
  • کیا اوسط مرکز سے دور واقع ہے؟
  • کیا وسطانیہ اوسط کے مقابلے میں زیادہ بہتر طریقہ ہے؟

کوارٹائل

کوارٹائل وہ پیمائش ہے جو کہ ڈیٹا کو چار مساوی حصوں میں تقسیم کرتا ہے۔ ہر حصہ مشاہدات کے مساوی عدد پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس طرح تین کوارٹائل ہوتے ہیں۔ پہلا کوارٹائل (Qکے ذریعہ ظاہر کیا جاتا ہے) یا نچلے کوارٹائل میں اس کے نیچے تقسیم مدوں کا 25%ّٓ ّْ اس سے بڑا ہوتا ہے ۔ دوسرا کوارٹائل (Q2کے ذریعہ ظاہر کیا جاتاہے یا وسطانیہ میں اس کے نیچے مدوں کا 50%ہے اور اس کے اوپر مشاہدات کا 50%ہے۔ تیسرا کوارٹائل (Q3کے ذریعہ ظاہر کیا جاتا ہے ) یا اوپری کوارٹائل میں اس کے نیچے تقسیم کی مدوں کا %75ہے اور اس کے اوپر کا% 25ہے اس طرح Q1اور Q2اور Q3دو حدوں کو ظاہر کرتا ہے جس کے اندر ڈیٹا کا مرکزی %50واقع ہوتا ہے۔
45
وسطانیہ 
اوپری کوارٹائل
نچلا کوارٹائل
چڑھتی ترتیب میں مرتب قدریں

صدیہ  ( Percentiles )

صدیہ بٹاؤ کو سومساوی حصو ںمیں تقسیم کرتا ہے، لہذا آپ 99تقسیمی مقامات حاصل کرسکتے ہیں، اسے 46کے ذریعہ ظاہر کیا جاتا ہے P50وسطانیہ قدر ہے اگر آپ نے مینجمنٹ کے داخلہ امتحان میں 82پرسنٹائل حاصل کیا ہے۔ تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کا مقام امتحان میں شامل ہونے والے کل امیدواروں کے 18فی صد سے نیچے ہے ۔ اگر کل ایک لاکھ طلباء شامل ہوئے تو آپ کا مقام کیا ہوگا ۔

کوارٹائل کا شمار

کوارٹائل کی شناخت کا طریقہ انفرادی اور مجرد سیریز کے معاملے میں وسطانیہ کی طرح ہے مرتب سیریز کیQ2اور Q3کی قدر درج ذیل فارمولے کے ذریعہ حاصل کی جاسکتی ہے۔
                47
N+1) =Q1 )ویں مد کی سائز
N+1) =Q2) ویں مد کی سائز
یہاں Nمشاہدات کی تعدا ہے۔

مثال9

کسی امتحان میں دس طلباء کے ذریعہ حاصل کیے گئے مارکس کے ڈیٹا سے کوارٹائل کی قدر شمار کیجئے۔
, 11,35,41,12,32،،22,26,14,30,18
چڑھتی ترتیب ڈیٹا کو مرتب کرنے پر
،11,12,14,18,22,26,30,32,35,41 
48
مد دوسرا-تیسرامد)0.75-دوسرا مد=
 (14.12) 12+0.75=
 مارکس13.5=

سرگرمی

  • آپ خود Q3دریافت کریں

.5 بہتاتیہ(Mode)

کبھی کبھی آپ کو سیریز کی نہایت مثالی قدر یا وہ قدرجس کے گرد مدو ں کا پیش ترین ارتکاز واقع ہوتا ہے ،جاننے میں دلچسپی ہوسکتی ہے۔ مثال کے لیے ایک اشیاء سازکو جوتوں کی سائز جاننے میں دلچسپی ہوسکتی ہے کس ناپ کی زیادہ سے زیادہ مانگ ہے۔ یا شرٹ کی قسم جاننے کی خواہش ہوسکتی ہے جس کی مانگ اکثر وبیشتر ہو۔ لفظ Modeفرانسیس، لفظ "La Mode"سے اخذ کیا گیا ہے جو تقسیم کی نہایت مروجہ قدروں کی نشاندہی کرتا ہے کیونکہ اسے سیریز میں بہت زیادہ بار دہرایا جاتا ہے۔ بہتاتیہ نہایت کثیر الوقوع مشاہدہ کی گئی ڈیٹا قدر ہے۔ یہ Moکے ذریعہ ظاہر کی جاتی ہے۔

بہتاتیہ کا شمار

مجرد سیریز

ڈیٹا سیٹ5,4,4,3,2,1,پر غور کریں اور اس ڈیٹاکے لئے بہتاتیہ 4ہے کیونکہ یہ ڈیٹا میں4انتہائی کثیر الوقوع (دوبار ) ہے۔

مثال10

درج ذیل مجرد سیریز پر ایک نظر ڈالیں:
متغیرہ 10,20,30,40,50
تواتر 2,8,20,10,5
یہاں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ تواتر 20ہے، بہتاتیہ کی قدر 30ہے اس معاملے میں ، چونکہ بہتاتیہ کی قدر منفرد ہے لہذا ڈیٹا ایک بہتاتیہ(Unimodel)ہے لیکن حسابی اوسط اور وسطانیہ کے برعکس کوئی مزدوری نہیں کہ بہتاتیہ منفر دہو۔ آپ کے پاس ڈیٹا دو بہتاتیہ (Bimodel)یا دو بہتاتیے سے زیادہ (کثیر بہتاتیہ (Multi model)بھی ہوسکتا ہے ۔ یہ ممکن ہے کہ کوئی بھی بہتاتیہ نہ ہو اگر تقسیم(Distribution)میں کسی 

D1=بہتاتیہ کلاس کےتواتر اور بہتاتیہ کلاس کےپیش رو کلاس کے تواتر(علامت نظر انداز کر کے) کے درمیانفرق ہے۔
D2= بہتاتیہ کلاس کے تواتر اور بہتاتیہ کلاس کےپس رو کلاس(قابل نظر انداز علامت) کے تواتر کے درمیان فرق ہے۔
آپ غورکرسکتے ہیں کہ مسلسل سیریز کے معاملےمیں کلاس دیگر قدر کی نسبت کوئی قدر زیادہ بار بار نہ ظاہر ہوتی ہو۔ مثال کے لیے ایک سلسلے4,4,3,3,2,2,1,1,میں کوئی بہتاتیہ نہیں ہے۔
49

مسلسل سیریز( Continuous serious)

مسلسل تواتری تقسیم کے معاملے میں بہتاتیہ کلاس وہ کلاس ہے جس کا تواتر سب سے زیادہ بہتاتیہ کو درج ذیل فارمولے  کا استعمال کرنے کے ذریعہ شمار کیا جاسکتا ہے۔
              65
یہاں L=بہتاتیہ کلاس کی نچلی حد ہے۔
وقفے مساوی ہونے چاہئیں اور سیریز شمار کرنے کے لئے غیر شمولی ہونا چاہئے۔ اگر وسطی نقاط دیے گئے ہیں تب کلاس وقفے حاصل ہوتے ہیں۔

مثال 11

بہتاتیہ ورکر فیملی کی ماہانہ آمدنی درج ذیل ڈیٹا سے شمار کیجئے
آمدنی ماہانہ (000روپے ہیں)
50سے کم 45سے کم 40سے کم 35سے کم 30سے کم 25سے کم 20سے کم 15سے کم 
بہتاتیہ ورکر فیملی کی ماہانہ آمدنی درج ذیل ڈیٹا سے شمار کیجئے

39
وسطانیہ
پیمائش کا پیمانہ ( ینچوں میں )
جدول 5.7
گروپ کاری جدول

 
 آمدنی ( 000,روپیے میں )                                     I II  III  IV  V  VI
 45-50                                                        97-95=2
40-45                                                         95-90=5
35-40                                                          90-80=10
30-35                                                         80-60=20                                                       
25-30                                                          60-30=30
20-25                                                         30-12=18
15-20                                                          12-4=8
  7





30
48





 15
50
26
 17
68
 
35
56
60
  
جدول5.8
تجزیہ جدول

 کالم  45-50  40-45  کلاس وقفے
35-4-   30-35
 25-30     20-25  15-20   10-15
 I
II
III
IV
V
VI
——
کل
  X



——
1
  X
X
X
——
3
  X
X
X
X
X
X
——
6

 X

X
X

3
  
X

1
 

فیملیوں کی تعداد

97,95,90,80,60,30,12,4
جیسا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ یہ مجموعی تواتری تقسیم کا معاملہ ہیں ۔ بہتاتیہ شمار کرنے کے سلسلے میں آپ کو اسے غیر شمولی سیریز میں رکھنا ہوگا۔ اس مثال میں یہ سیریز نزولی یا گھٹتی ترتیب میں ہے۔ گروپ کار ی اور تجزیہ جدول بہتاتیہ کلاس کے تعین کے لئے بنانا ہوگا۔
بہتاتیہ کی قدر 30-25کلاس وقفے میں واقع ہوتی ہے ۔ معائنہ کے ذریعہ بھی اسے دیکھا جاسکتا ہے یہ ایک بہتاتیہ کلاس ہے۔
54
فارمولے کا استعمال کرتے ہوئے آپ بہتاتیہ کی قدر حاصل کرسکتے ہیں جو کہ درج ذیل ہے۔
(000’ روپے میں)Mo
55
اس طرح بہتاتیہ ورکر فیملی کی ماہانہ آمدنی27، 273 روپے ہے۔

سرگمیاں 

  • جو کمپنی درج ذیل اشیا بناتی ہے
اس کے لئے کون سی اوسط زیادہ مناسب ہوگی۔
(i) ڈائریاں اور نوٹ بک
(ii) اسکول بیگ
(iii) جینز اور ٹی شرٹ
مرکزی میلان کی پیمائش کا استعمال کرتے ہوئے چینی غذا کےلئے طالب علم کی پسند جاننے کےلئے کلاس میں ایک مختصر سروے انجام دیجئے۔
  • کیا بہتاتیہ(Mode) کا گرافی طور پر تعین کیاجاسکتا ہے؟

.6 حسابی اوسط ،وسطانیہ اور بہتاتیہ کا اضافی یا نسبتی مقام بالغرض ہم ظاہر کرتے ہیں۔

حسابی اوسط= Me

وسطانیہ = M1

بہتاتیہ = Ma

اس طرح ہے Oeاور i لاحقے ہیں۔ تبصروں کی اضافی قدر ہیں Me>Mi>MoیاMe<Mi<Mo (لاحقے ابجدیترتیب میں واقع ہوتے ہیں)وسطانیہ ہمیشہ حسابی اوسط اور بہتاتیہ کے درمیان ہوتا ہے۔

.7اختتام

مرکزی میلان یا اوسطوں کی پیمائشوں کا استعمال ڈیٹا کے خلاصے کے لئے کیا جاتا ہے۔ یہ ڈیٹا سیٹ کو بیان کرنے میں انتہائی واحد نمائندہ قدر کی صراحت کرتا ہے۔ حسابی اوسط بہت زیادہ عمومی طور پر استعمال کیا جانے والا اوسط ہے۔ اسے شمار کرنا آسان ہے اور اور یہ سبھی مشاہدات پر مبنی ہوتا ہے۔ لیکن یہ انتہائی مدوں کی موجودگی کے ذریعہ غیر مناسب طور پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اس طرح کے ڈیٹا کے لئے وسطانیہ بہتر خَاصہ ہے بہتاتیہ کا استعمال عام طو رپر مقداری ڈیٹا بیان کرنے کے لئے کیا جاتا ہے۔ وسطانیہ اور بتہاتیہ کو آسانی سے گرافی طور پر شمار کیا جاسکتا ہے۔ غیر محدود کی تقسیم کے معاملے میں بھی انہیں آسانی سے شمار کیا جاسکتا ہے اس طرح یہ اہم ہے کہ ایک موزوں اوسط کا انتخاب کیا جائے۔ جو کہ تقسیم کے تجزیے اور نوعیت کے مقصد پر مبنی ہو۔


خلاصہ

  • مرکزی میلان کی پیمائش کے واحد قدر کے ساتھ ڈیٹا خلاصہ کرتا ہے جو کہ پورے ڈیٹا کی نمائندگی کرسکتا ہے۔
  • حسابی اوسط مشاہدات کی تعداد کے ذریعہ مشاہدات کی قدروں کی جمع کو تقسیم کرنے کے طور پر معین کیا جاتا ہے۔
  • حسابی اوسط سے مدوں کے انحراف کے جمع ہمیشہ صفر کے مساوی ہوتی ہے۔
  • کبھی کبھی مختلف مدوں کو ان کی اہمیت کے لحاظ سے وزن دینا اہم ہوجاتا ہے۔
  • وسطانیہ اس معنی میں تقسیم کی مرکزی قدر ہے کہ وسطانیہ کی قیمت اقدار کی تعداد وسطانیہ سے زیادہ اقدار کی تعداد کے مساوی ہوتی ہے۔
  • کوارٹائل چار مساوی حصوں میں قدروں کے کل سیٹ کو تقسیم کرتے ہیں۔
  • بہتاتیہ وہ قدر ہے جو نہایت تواتر کے ساتھ واقع ہوتی ہے۔


مشقیں

.1 درج ذیل معاملوں میں کون سی اوسط مناسب ہوگی؟
(i) تیار ملبوس کی اوسط سائز
(ii) کلاس میں طلبا کی اوسط ذہانت
(iii) ایک فیکٹری میں فی شفت اوسط پیداوار
(iv) صنعتی ادارے میں اوسط اجرتیں
(v) مطلق انحرافات کی جمع کب اوسط سے کم ہوتی ہے؟
(vi) متغیرہ کی مقداریں کب تناسب میں ہوتی ہیں؟
(vii) غیر محدود تواتری تقسیم کے معاملے میں۔
.2 ہر سوال میں دئیے گئے متبادل میں سے صحیح جواب چُنیے۔
(i) کیفیتی پیمائش کے نہایت موزوں ہے
(a) حسابی اوسط(Arithmetic mean)
(b) وسطانیہ (Median)
(c) بہتاتیہ (Mode)
(c) جیومیتریہ اوسط
(d) ان میں سے کوئی نہیں
(ii) انتہائی مدوں کی موجودگی کے ذریعہ کون سی اوسط زیادہ متاثر ہوتی ہے؟
(a) وسطانیہ
(b) بہتاتیہ
(c) حسابی اوسط
(d) جیوستریہ اوسط
(e) ہارمونی اوسط
(iii) حسابی اوسط (A.M.)سے nقدروں کے انحراف کی الجبری جمع ہے۔
ان میں سے کوئی نہیں
(a)۔ n
(b)۔ o
(c)۔ 1
(d) ان میں سے کو ئی نہیں
جواب[(iii) c (ii) b (i)]
.3 بتایے کہ آیادرج ذیل بیانات صحیح ہیں یا غلط
(i) وسطانیہ سے مدوں کے انحراف کی جمع مضر ہے۔
(ii) محض اکیلے اوسط ہی سیریز ے موازنے کے لئے کافی نہیں ہے۔
(iii) حسابی اوسط بہ لحاظ مقام قدر ہے۔
(iv) اوپری کوارٹائل مدوں کے اوپر %25کی نچلی قدر ہے۔
(iv) وسطانیہ انتہائی مشاہدات کے ذریعہ غیر مناسب طور پر متاثر ہوتا ہے۔
جواب[(i) غلط (ii) صحیح (iii) غلط (iv) صحیح(v) غلط]
.4 درج ذیل دے گئے ڈیٹا کی حسابی اوسط اگر 28ہے  تو دریافت کیجئے 
الف) غائب تواتر تو سیریز (ب) سیریز کا وسطانیہ 
منافع فی خردہ فروش دوکان (روپے میں) 10-0 20-10 30- 20 40-30 50-40 60-50
خردہ فروش  دکانوں کی تعداد 12 18 27 - 17 6
[جواب: غائب تواتر 20ہے اور وسطانیہ کی قدر 27.5ہے]
.5 درج ذیل جدول فیکٹری میں دس ورکرس کی یومیہ آمدنی ہے حسابی اوسط دریافت کیجئے۔
 ورکرس کی تعداد
G I H G F E D C B A
یومیہ آمدنی(روپے میں)
120 150 180 200 250 300 220 350 370 260
(جواب :240روپے)

6. درج ذیل معلومات 150فیملیوں کی یومیہ آمدنی 5پرمشتمل ہے حسابی اوسط کا شمار کیجئے۔
آمدنی (روپے میں) فیملیوں کی تعداد
75سے زیادہ 150
85سے زیادہ 140
95سے زیادہ 115
105سے زیادہ 95
115سے زیادہ 70
125سے زیادہ 60
135سے زیادہ 40
145سے زیادہ 25
(جواب 16.3روپے)

.7 کسی گاؤں میں 350فیملیوں کی آراضی کا رقبہ نیچے دیا گیا ہے آراضی کی وسطانیہ سائز بتایے۔

اراضی کی سائز (ایکڑ میں) 100سے کم 200-100 300-200 400-300 400سے زیادہ
فیملیوں کی تعداد 40 89 148 64 39
(جواب 241.22ایکڑ)
.8 درج ذیل سیریز کسی فرم میں برسرروزگار ورکرس کی یومیہ آمدنی سے متعلق ہے۔ شمار کیجئے (a)نچلے %50 ورکرس کی زیادہ سے زیادہ آمدنی(b)سب سے اوپر%25ورکرس کے ذریعہ کمائی جانے والی آمدنی (c) نچلے %25ورکرس کے ذریعہ کمائی جانے والی سب سے زیادہ آمدنی
 یومیہ آمدنی (روپے میں) 14-10 19-15 24-20 29-25 34-30 39-35
ورکرس کی تعداد 5 10 15 20 10 5

(اشارہ: وسطانیہ شمار کیجئے، نچلا اور اوپری کوارٹائل )
(جواب: (الف) 25.11روپے (ب)19.92روپے (ج)29.13روپے
.9 درج ذیل جدول کی گاؤں میں 150کھیتوں کی کلو گرام فی ہیکٹر میں حاصل پیداوار فراہم کرتا ہے۔ اوسط ،وسطانیہ ،بتہاتیہ، حاصل پیداوار کا شمار کیجئے۔
حاصل پیداوار (فی ہیکٹر کلو گرام) 53-50 56-53 59-56 62-59 65-62 68-65 71-68 74-71 77-74
کھیتوں کی تعداد 3 8 14 30 36 28 16 10 5
(جواب: اوسط63.82کلو گرام فی ہیکٹر، وسطانیہ 63.67کلو گرام فی ہیکٹر ، بہتاتیہ 63.29کلو گرام فی ہیکٹر )