Skip to content
Shumariyatbara-e-mashiyat

باب 8

اشاریہ نمبر ( Index Numbers )s

1
اس با ب کے مطالعے کے بعد اتنی استعداد ہو جا نی چاہیے کہ آپ ـ:
  • اشاریہ نمبر کی اصطلاح کے معنی سمجھ سکیں گے؛
  • کچھ بڑے پیمانے پر استعمال کیے جا نے والے اشاریہ نمبروں سے واقف ہو سکیں؛ 
  • اشاریہ نمبر کا شمار کر سکیں ؛
  • اس کی حدوں کو جان سکیں ۔

1.تعارف 

آپ نے پچھلے ابواب میں پڑھا کہ کس طرح ڈیٹا کے انبار سے خلاصہ پیمائشیں حاصل کی جا سکتی ہیں ۔اب آپ پڑھیں گے کہ متعلقہ متغیرات کے گروپ میں تبدیل کی خلاصہ پیمائشوں کو کس طرح حاصل کیا جا تا ہے 
ایک طویل وقفے کے بعد روی بازار جا تا ہے ۔ اسے پتہ چلتا ہے کہ زیادہ تر اشیا ء کی قیمتیں تبدیل ہو گئی ہیں ،کچھ اشیا مہنگی ہو گئی ہیں جبکہ کچھ دوسری سستی ہو گئی ہیں ۔بازار سے واپس آنے کے بعد وہ اپنے والد کو ہر ایک شئے جو اس نے خرید ی ہیں اس میں ہونے والی تبدیلی کے بارے میں بتا تا ہے یہ ان کے لیے حیران کن بات تھی ،صنعتی سیکٹر بہت سے ذیلی سیکٹروں کی پیداوار بڑھ رہی ہے جبکہ بعض ذیلی سیکٹروں میں اس میں گراوٹ پیدا ہو رہی ہے ،یہ تبدیلی یکساں نہیں ہو تیں ۔ تبدیلی کی انفرادی خرچ کا بیان سمجھنے میں مشکل ہوگا ۔کیا کوئی واحد شکل ان تبدیلیوں کا خلاصہ کر  سکتی ہے ۔درجہ ذیل مسئلوں پر ایک نظر ڈالیں 

مسئلہ1

ایک صنعتی ور کر1982 میں1000 روپئے کما رہا تھا ، آج کل وہ12000 روپئے کما رہا ہے ، کیا اس کی زندگی کو اس دور میں 12گنا بڑھا ہو ا کہا جا سکتا ہے ؟ان کی تنخواہ کتنی چاہیے تھی کہ وہ اتنا ہی خوش حال ہو سکے جتنا پہلے تھا ؟

مسلہ 2

آپ نے اخباروں میں سنسیکس(sensex) کے بارے میں پڑھاہوگا سنسیکس8000پوا ئنٹ پار کر ہا ہے ،در حقیقت اس سے خوشی کی لہر دوڑ جا تی ہے ، جب حال ہی میں سنسیکس 600پوائنٹ گر گیا تب 15,3,690 کروڑ روپیوں کی سر مایہ کاروں کی دولت تلف ہو گئی ۔در اصل یہ سنسیکس ہے کیا َ؟

مسلہ 3

حکومت کہتی ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں اضافے کے سبب شرح افرا ط زر تیزی سے نہیں بڑھے گی کوئی شرح افراط زر کی پیما ئش کیسے کرے گا ؟
یہ ان سوالات کے نمونے ہیں جن کا سامنا آپ کوروز مرہ کی زندگی میں کر نا پڑتا ہے ۔ اشاریہ نمبر کا مطالعہ ان سوالوں کا تجزیہ کرنے میں مدد گا ر ہو تا ہے۔ 

2.اشاریہ نمبر کیا ہے ؟

اشاریہ متغیرات سے متعلق گروپ کی قدر میں تبدیلیوں کی پیمائش کے لیے ایک شمار یاتی تر کیب ہے ۔ یہ مختلف یا متفرق تنا سب کے عام رجحان کو ظاہر کر تا ہے ،جس سے یہ شما ر کیاجا تا ہے ، یہ دو مختلف صورت حال میں متعلقہ متغیرات کے گروپ میں اوسط تبدیلی کی پیمائش ہے ، ایک جیسے زمروں جیسے افراد ، اسکو ل ، اسپتال وغیرہ کے درمیان موازنہ کیا جا سکتا ہے ، اشاریہ نمبر متغیرات جیسے اشیا کی مخصوص فہر ست صنعت کے مختلف سیکٹر میں پیداوار کی حجم مختلف زراعتی فصلوں کی پیداوار کے اخراجا ت زندگی وغیرہ کی قدر میں تبدیلیوں کی پیمائش کر تا ہے ۔ 
2
کیا تم سمجھ گئے
کیا آپ اسے آسان ترین بنا سکتے ہیں

حسب روایت اشاریہ نمبر کا اظہار فی صد کی اصطلاح میں کیا جا تا ہے ، دو مد توں میں یہ وہ مدت جس سے موازنہ کیا جا تا ہے ۔اسے بنیادی مدت کے طورپر جا نا جا تا ہے ،بنیادی مدت میں قدر جو کہ اشاریہ نمبر کو دی جا تی ہے ، کسی مدت کا اشاریہ نمبر اس کے تنا سب میں ہو تا ہے ، اس طر ح250 کا اشاریہ نمبر اس بنیادی مدت سے ڈھا ئی گنا کا اظہا ر کر تاہے 
حسب روایت اشاریہ نمبر کا اظہار فی صد کی اصطلاح میں کیا جا تا ہے ، دو مد توں میںیہ وہ مدت جس سے موازنہ کیا جا تا ہے ۔اسے بنیادی مدت کے طورپر جا نا جا تا ہے ،بنیادی مدت میں قدر جو کہ اشاریہ نمبر کو دی جا تی ہے ، کسی مدت کا اشاریہ نمبر اس کے تنا سب میں ہو تا ہے ، اس طر ح250 کا اشاریہ نمبر اس بنیادی مدت سے ڈھا ئی گنا کا اظہا ر کر تاہے 
   قیمت اشاریہ نمبر بعض اشیا کی قیمتوں کی پیمائش کر تے ہیں اور موازنے کو ممکن بناتے ہیں ، اگر چہ قیمت اشاریہ نمبر کا وسیع استعمال کیا جا تا ہے  پیدا واری اشاریہ بھی معیشت میں پیدا وار کی سطح کا ایک اہم اظہار یہ ہے ۔

.3اشاریہ نمبر کی تشکیل 

 درج ذیل سیکشنوں میں اشاریہ نمبر کی تشکیل کے اصولوںکی قیمت اشاریہ نمبروں کے ذریعہ سمجھا یا جا سکا ۔
آیئے درج ذیل مثال پر غور کر یں 

 مثال 1:

 سادہ مجموعی قیمت اشاریہ کا شمار  

جدول  8.1

——————————————————————
شے بنیادی مدت قیمت حالیہ مدت قیمت فی صد تبدیلی
——————————————————————
2 4 100
5 6 20
4 5 25
2 3 50
——————————————————————

اس مثال میں جیسا کہ آپ مشاہدہ کر تے ہیں ہر شے کے لیے فی صد تبدیلیا ں مختلف ہیں اگر فی صد تبدیلیا ں بھی چار مدوں کی یکساں ہو تیں تب تبدیلی کو بیان کر  نے کے لئے ایک واحد پیمائش کا فی ہوتی ، بہر حال فی صد تبدیلیاں متفرق ہیں اور ہر مد کے لئے فی صد تبدیلی کی رپورٹنگ الجھا نے والی ہونگی ، ایسا اس وقت واقع ہو تا ہے جب اشیا ء کی تعداد کا فی بڑی ہو جو کہ حقیقی بازار صورتِ حال میں عام بات ہے ، ایک قیمت اشاریہ ان تبدیلیوں کو واحد ہندسی پیمائش کر تا ہے اشاریہ نمبر کی تشکیل کے دو طریقے ہیں ، یہ طریقے مجموعی اوراوسطی نسبتوں کے طریقے (Method of Averaging Relative)ہیں۔

 مجموعی طریقہ

  اشارہ مجموعی اشاریہ قیمت کے لیے فار مولہ ہے
3
 جہاں P0 ا ور P1 موجودہ مدت اور بنیادی مدت میں علی الترتیب ظا ہر کر تا ہے ۔ 
مثال1سے ڈیٹا کا استعمال کر تے ہوئے سادہ مجموعی اشاریہ قیمت ہے
4
  یہاں یہ کہا جائے گا کہ قیمت 38.5 فی صد بڑھ جا ئے گی ۔ 
 کیا آپ جا نتے ہیں کہ اس طرح ایک اشاریے کا محدود استعمال ہے ؟
وجہ یہ ہے کہ مختلف اشیا کی قیمتوں کی پیمائش کی اکا ئیاں یکساں نہیں ہیں۔ یہ بے وزن یا نے اہمیت ہے کیونکہ مدوں کی اضافی اہمیت یا وزن کے طور پر ہو ں ۔ لیکن حقیقت میں یہ واقع ہوتا ہے ۔ حقیقتاً اہمیت کے لحاظ سے خرید ی گئی مدیں متفرق ہوتی ہیں ۔ غذائی مدیں ہمارے اخراجات کا ایک بڑے تناسب کا احاطہ کر تی ہیں ۔ ایسے معاملے میں کا فی وزنیت کے ساتھ کسی مد کی قیمت میں مساوی اضافہ اور کم وزنیت کے ساتھ کسی  مدمیں اضافہ قیمت اشاریہ میں مجموعی تبدیلی کے مختلف اشاریہ ہے۔
5 
 ایک اشاریہ نمبر وزنیائی اشاریہ اس وقت بن جا تا ہے جب مدوں کی اضافی اہمیت کا خیال رکھا جا ئے گا۔ یہا ں ہر وزن مقداری وزن ہیں ۔ وزنیا ئی مجموعی اشاریہ بنانے کے لئے ہمیں اچھی طرح صراحت کے ساتھ مجموعہ اشیا ء لی جا تی ہے اور ہر سال اس کی قیمت شمار کی جا تی ہے ، اس طرح یہ ایک مقررہ مجموعہ اشیا کی بدلتی قدر کی پیمائش کر تا ہے ، چونکہ ایک مقررہ یا معینہ مجموعے کے ساتھ کل قدر میں قیمت میں تبدیلی کے سبب ، تبدیلی ہوتی ہے اس لیے وزنیائی مجموعی اشاریے کے مختلف طریقوں میں وقت کے حوالے سے مختلف مجموعوں کا استعمال کیا جا تا ہے. 

6
رقم وہی ہے مگر ٹوکری چھوٹی ہے!!!

 مثال 2:

 وزنیا ئی مجموعی اشاریہ قیمت کا شمار کیجیے ۔

———————————————————————

 جدول   8.2 

بنیادی مدت حالیہ مدت
شے قیمت مقدار قیمت مقدار
———————————————————————
   
 7
2 10 4 5
5 12 6 10
4 20 5 15
2 15 3 10
———————————————————————

8
 اس طریقے میں بنیادی مدت کی مقداروں کا استعما ل وزن کے طور پر کیا جا تا ہے ایک وزنیا تی مجموعی اشاریہ قیمت جس میں بنیا دی مقداروں کو وزن کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے اسے لیز پیپر کی قیمت کے اشاریہ کے طور پر بھی جا نا جا تا ہے  اس کے ذریعہ اس سوال کی وضاحت ہو تی ہے بنیادی مدت پر کہ اگر اشیا ء کامجموعہ خرچ 100روپیے تھا تب اشیا ء کے اسی مجموعے کے لیے حالیہ مدت میں کیا اخراجات ہو نے چاہیے ؟ جیسا کہ آپ یہاں دیکھتے ہیں کہ بنیادی مدت کی مقداروں کی قدر قیمت بڑھنے سے 35.5 فی صد بڑھ گئی ہے بنیادی مدت کی مقدار وں کو وزن کے طور پر استعمال کر تے ہوئے قیمت کے بارے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ35.5 فی صد بڑھ گئی ہے۔
 چونکہ موجود مدت کی مقداریں بنیا دی مدت کی مقداروں سے مختلف ہیں لہذا موجود مدت کے وزنوں کا استعمال کر تے ہوئے اشاریہ نمبر ، اشاریہ نمبر کی مختلف قدر عطا کر تا ہے۔
9

 یہ موجود مدت کی مقداروں کا استعمال وزنوں کے طور پر کر تا ہے ، وزنیاتی مجموعی اشاریہ قیمت جو موجود مدت کی مقداروں کا استعمال وزنوں کے طور پر کر تا ہے یا شے کا اشاریہ قیمت کے طور پر جا نا جا تا ہے یہ اس طرح سوال کے جواب دینے میں مدد گار ہو تا ہے کہ اگر پر مجموعہ اشیا جو کہ بنیا دی مدت میں صرف کی گئی تھی اور اگر اسی پر 100روپیے خرچ کیا جا تا تو اسی مجموعہ اشیا یہ موجود ہ مدت میں کتنا خرچ ہو نا چا ہیے یا شے قیمت اشاریہ  32.1فی صد قیمت بڑھنے کی تر جماتی کر تا ہے ۔موجود مدت کے دونوں کا استعمال کر تے ہوئے قیمت کے بارے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ 32.1 فی صد بڑھی ہے ۔

 نسبتوں کو اوسط کرنے کا طریقہ

  جب صرف ایک شے ہو تب قیمت اشاریہ بنیادی اشاریہ بنیا دی مدت کی نسبت موجود ہ مدت میں شے کی قیمت کا تناسب ہے جو کہ عام طور پر فی صد اصطلاح میں ظاہر کیا جا تا ہے ، اوسطی نسبتوں کا  طریقہ ان نسبتوں کا اوسط اختیا ر کر تا ہے جب بہت سی اشیا ہوں ۔ قیمت نسبت کا استعمال کر تے ہوئے قیمت اشاریہ نمبر کو درج ذیل طور پربیان کیا جا سکتاہے 
10
 جہاںppعلی التر تیب موجود مدت اور بنیادی مدت میں (نسبتی عدد ظاہر کرنے والا حصہ ) شے کی قیمت ظاہر کر تے ہیں نسبتpکو بھی دیںith) ( شے کی اضافی قیمت کے طور پر جا نا جاتا ہے nاشیا کی تعداد کی علامت ہے ، موجود ہ مثال میں
  11
 اشاریہ وزنیاتی حسابی جیسے درج ذیل طور پربیا ن کیا جاتا ہے۔ 
12
جہاںW=وزن ہے۔
 وزنیاتی قیمت اضافی اشاریہ میں وزن کا تعین بنیادی مدت کے دوران ان پر اخراجا ت کے تناسب یا فی صد کے ذریعہ کیا جا تا ہے ، یہ استعمال کیے جا نے والے فارمولے پر مبنی موجودہ مدت کی بھی دلالت کر سکتا ہے یہ لازما ، کل اخراجا ت میں مختلف اشیا کے قدر حصے ہیں با لعموم بنیادی مدت کے وزن کے مقابلے تر جیح دی جا تی ہے ، اس کی وجہ  یہ ہے کہ ہر سال وزن کا شمار کر نا آسان نہیں ہے ، یہ مختلف مجموعوں کی بدلتی قدروں سے بھی منسوب کیا جا تا ہے ۔ یہ حتمی طور پر قابل موازنہ نہیں ہیں ، مثال 3 وزنیاتی قیمت اشاریہ کے شمار کے معلوما ت کی قسم بتا تی ہے جس کی ضرورت کسی کو پڑ تی ہے ۔

مثال 3

جدول 8.3

——————————————————————————
شے بنیادی سال کی قیمت موجودہ سال کی قیمت قیمت اضافی وزن فی صد میں
(روپے میں)    (روپے میں)
——————————————————————————

2 4 200 40
5 6 120 30
4 5 125 20
2 3 150 10
——————————————————————————
وزنیاتی قیمت اشاریہ ہے
13
وزنیاتی قیمت اشاریہ 156ہے۔ قیمت اشاریہ 56فی صد بڑھا ہے۔ غیر وزنیاتی قیمت اشاریہ اور وزنیاتی قیمت اشاریہ کی قدر میں فرق ہوتا ہے جیسا کہ نہیں ہونا چاہئے۔ وزنیاتی اشاریہ میں کافی اضافہ مثال 3 کیمیں نہایت اہم مد کے دو چند ہونے کے سبب ہوتا ہے۔

سرگرمی

  • مثال 2میں دیے گئے ڈیٹا میں بنیادی مدت کی قدر وں کے ساتھ موجودہ مدت کی قدروں کا باہم تبادلہ کریں۔ لاس پیر کے اور پاشے کے فارمولے کا استعمال کرتے ہوئے قیمت اشاریہ شما رکریں پچھلی مثال سے آپ کس فرق کا مشاہدہ کرتے ہیں۔

.4بعض اہم اشاریہ نمبرات

صارف قیمت اشاریہ (CPI)کو جسے مصارف زندگی اشاریہ کے طور پر جانا جاتا ہے ،پروہ قیمتوں میں اوسط تبدیلی کی پیمائش کرتا ہے۔ صنعتی ورکروں کے لئے CPIاضافہ پذیرعمومی افراط زر (inflation) کا موزوں اظہاریہ سمجھا جاتا ہے، جو کہ عام لوگوں کے مصارف زندگی پر قیمت کے اضافے کا بالکل صحیح اثر ظاہر کرتا ہے۔

صارف قیمت اشاریہ

ہندوستان میں تین صارف قیمت اشاریہ (CPI)کی تخلیق ہوئی ہے۔یہ ہیں: صنعتی ورکروں کے لئے CPI(2001 بنیادی سال کے طور پر)، CPIبرائے شہری غیر جسمانی محنت والے ملازمین (85-1984بنیاد کے طور پر ) اور CPI برائے زراعتی مزدور (87-1986بنیاد کے طورپر) صارفین کے ان تین بڑے زمروں کی مصارف زندگی پر خردہ قیمت میں تبدیلیوں کے اثر کے تجزیے کے لئے ہر مہینے معمولات کے مطابق انہیں شمار کیا جاتا ہے۔ صنعتی ورکروں اور زرعی مزدوروں کے لئے CPIبیربیورو شملہ کے ذریعہ شائع کیا جاتا ہے۔ مرکزی شماریاتی تنظیم شہری غیر جسمانی محنت والے (Urban non manual) ملازمین کے لئے CPIنمبر شائع کرتی ہے۔ یہ ضروری ہے کیونکہ ان کا مثالی مجموعہ صرف بہت سے غیر یکساں مادوں پر مشتمل ہوتا ہے۔

صنعتی ورکروں کے لئےCPIمیں وزن اسکیم (100=2001)اہم شے گروپوں کے ذریعہ درج ذیل جدول میں دی گئی ہے۔ غذا ایک نہایت اہم زمرہ ہے ،کسی بھی قسم کی غذا کی قیمت میں اضافہ CPIپر خاصا اثر ڈالتا ہے اس سے حکومت کے متواتر بیان کہ تیل کی قیمت میں اضافہ سے افراط زر نہیں ہوگا ،اس کی وضاحت بھی ہوتی ہے۔
———————————————
اہم گروپ وزن ( Weight )
———————————————
غذا اور مشروب     45.86
پان ، تمباکو اور منشیات 2.38
 لباس اور جوتے             6.53
ہاوسنگ                    10.07
مختلف گروپ    20.82
جنرل                    100 
———————————————
ماخذ: معاشی سردے15-2014 حکومت بند

اس بیان پر غور کریں کہ صنعتی ورکروں کے لئے (2001=100)CPIجنوری 2005میں 277ہے۔ اس بیان کا مطلب کیا ہے؟ اس کا مطلب ہے کہ اگر صنعتی ورکر ایک مثالی مجموعہ اشیا کے لئے 2001 میں 100 روپے خرچ کررہا تھا تب اسے  دسمبر2014میں277روپے کی ضرورت پڑے گی تاکہ وہ ایک مماثل مجموعہ اشیا کو خرید نے کا اہل ہوسکے۔ یہ مزدوری نہیں ہے کہ وہ مجموعہ اشیا خرید تا ہے اہم بات یہ ہے کہ آیا وہ اسے خرید نے کی استعداد رکھتا ہے یا نہیں۔

مثال 4

مصارف قیمت اشاریہ نمبر کی تخلیق
یہ مشق بتاتی ہے کہ مصارف زندگی 214میں فی صد گراوٹ آگئی ہے ۔ 100سے زیادہ بڑا اشاریہ کسی بات کا اظہار کرتا ہے؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ اونچے مصارف زندگی مزدور یوں اور تنخواہوں میں فرازی مطابقت(Upward adjustment)ناگزیر بنادیتے ہیں۔

14
جدول 8.4
مد  وزن% میں بنیادی مدت قیمت
( روپے )
موجودہ مدت قیمت
( روپے )
R=P/PX100
( % میں )
W,R,
غذا
ایندھن
لباس
کرایہ
متفرق
35
10
20
15
20
150
25
75
30
40
145
23
65
30
45
96.67
92.00
86.67
100.00
112.50
3883.45
920.00
1733.40
1500.00
2250.00
9786.85

 

تھوک قیمت اشاریہ

 تھوک اشاریہ قیمت میں شے کے وزنوں کا تعین بنیادی سال کے دوران گھریلو پیداوار کی شے کی قدر بشمول اور در آمد محصول در آمدات کی قدر کے ذریعہ کیا جاتا ہے۔ یہ ہفتہ وار بنیاد پر دستیاب ہے۔ اشیا کو موٹے طو رپر تین زمروں ابتدائی مدیں، ایندھن، پاور لائیٹ اور لبریکنٹس اور مصنوعہ اشیاء میں درجہ بند کیا جاتا ہے۔ وزن اسکیم ذیل میں دی گئی ہے۔ ہم ایندھن ،پاور ،لائیٹ اور لبریکنٹس کا کم تر وزن وضاحت کرتا ہے کہ حکومت کس طرح اس طرح کے بیان کہ تیل کی قیمت میں اضافے سے کم سے کم قلیل مدتی طور پر افراط زر نہیں واقع ہوگی، سے بچ نکلتی ہے۔

جدول 8.5

صنعتی پیداوار کے سیکٹر
————————————————————
سیکٹر    وزن
————————————————————
کانکنی                                62 22.0  
مینوفیکچرنگ                  77.6
بجلی                                  8.0
جنرل انڈیکس                         100.0                
————————————————————
ماخذ: وزارت شماریات اور نفاذ پروگرام

اضافہ اس رقم کے مساوی ہوتا ہے جو 100سے تجاوز کرتی ہے اگر اشاریہ150ہے تب50فی صد فرازی تطابق مطلوبہ ہوگی۔ ملازمین کی تنخواہوں میں 50فی صد اضافہ کرنا ہوگا۔

تھوک قیمت اشاریہ

تھوک قیمت اشاریہ نمبر عام قیمت سطح میں تبدیلی ظاہر کرتا ہے ۔ CPIکے برعکس CPIاس میں صارف زمرے کا کوئی حوالہ نہیں ہوتا۔ اس میں خدمات جیسے حجام کی اجرت،مرمت وغیرہ پر مشتمل مدیں نہیں شامل ہوتیں۔
1993-94بطور بنیاد سال WPI(تھوک قیمت اشاریہ) مارچ 2005میں189.1ہے۔ اس بیان کا کیا مطلب ہے؟اس کا مطلب یہ ہے کہ عام سطح قیمت اس دور میں بڑھ کر 89.1     فی صد ہوگئی ہے۔

صنعتی پیداوار اشاریہ

صنعتی پیداوار شاریہ نمبر متعدد صنعتوں پر مشتمل صنعتی پیداوار کی سطح میں تبدیلیوں کی پیمائش کرتا ہے۔ اس میں عوامی اور پرائیویٹ سیکٹر شامل ہوتے ہیں۔ یہ مقدار اضافی کی وزنیاتی اوسط ہے۔ اشاریہ کے لئے فارمولے۔
16
ہندوستان1993-94کو بنیاد سال کے طور پر بدلے ہوئے ان دنو ںاس کا شمار ہر مہینے کیا جاتا ہے۔ جدول 8.6میں آپ کچھ صنعتی گروپنگ کا ان کے وزنوں کے ساتھ اشاریہ نمبر دیکھ سکتے ہیں۔

جدول 8.6

صنعتی پیداوار کے سیکٹر
—————————————————
گروپ                                   وزن
—————————————————
پرائمری                       34.1  
سرمایہ جاتی اشیا                8.2   
انٹرمیڈیٹ اشیا                         17.2    
ڈھانچہ 12.3  
صارف پائدار                            12.8
صارف غیر پائدار                        15.3
عام انڈیکس                              100.0
—————————————————
ماخذ: وزرات شماریات نفاذ پروگرام، 17-2016  
 
جیسا کہ جدول دکھاتا ہے بڑے صنعتی زمروں کی کار کردگی نمو متفرق ہے عام اشاریہ ان زمروں کی اوسط کار کردگی پیش کرتا ہے۔ کان کنی اور پتھر کان کنی کی نسبتاً کم ترین کار کردگی عام اشار یے کو کیو نہیں ڈھادیتی ہے؟

زراعتی پیداوار کا اشاریہ نمبر

زراعتی پیداوار کا اشاریہ نمبر اضافی مقدار کی ایک وزنیاتی اوسط ہے ۔ اس کی بنیادی مدت 2007-08میں ختم ہونی والی تین سال کی مدت ہے۔ 2013-14میں زراعتی پیداوار کا اشاریہ نمبر129.2تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ زراعتی پیداوار سال 2007-08 سے 22.2فی صد بڑھ گئی ہے ۔ اس اشاریہ میں اناجوں کا وزن50.07فی صد ہے۔

بمبئی اسٹاک ایکسچینج

سینسکس بامبے ،اسٹاک ایکسچینج سیسنٹو انڈکس کی مختصر شکل ہے جس کی بنیاد1978-79ہے سینسکس کی قدر اس مدت کے حوالے کے سے ہوتی ہے یہ ہندوستانی اسٹاک مارکٹ کے لئے معیار نقطہ حوالہ (Bench Mark)اشاریہ ہے۔ یہ 30اسٹاک پر مشتمل ہے جو کہ معیشت کے 13سیکڑوں اور درج فہرست ان کمپنیوں کی نمائندگی کرتا ہے جو اپنی متعلقہ صنعتوں میں اولین ہیں۔ اگر سینسکس بڑھتا ہے یہ دلالت کرتا ہے کہ بازار بہتر حالت میں ہے اور اصل کار کمپنیوں سے بہتر کمائیوں کی توقع کی جاسکتی ہے یہ اس سے یہ بھی اشاریہ ملتا ہے کہ اصل کاروں یا سرمایہ کاروں کا اعتماد معاشیات کی بنیادی صحت میں بڑھ رہا ہے۔
17

سینسکس(Sensex)

اخبار کی خبروں میں آپ اس طرح کے بیان بھی اکثر پڑھتے ہونگے۔
سینکس8700کا نشان پار کرگیا۔BSE یہ8650 پوائنٹس پر بند ہوا۔ اصل کار دولت(Investor Wealth) 9,000کروڑ بڑھ گئی ۔ سینکس اپنی تاریخ میں پہلی بار8700کا مارک پار کرگیا لیکن یہ 8650مارک پر بند ہوا جو کہ بند ہونے کی ایک نئی یادگار سطح تھی۔
سینکس میں اضافہ اس تاریخ تک نہایت اونچی سطح پر ہے جو عام طور پر معشیت کی بہترحالت کی غمازی کرتی ہے۔ جب شیئر کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے جو کہ سینکس میں اضافے کے ذریعہ ظاہر ہوتا ہے ۔ تب شیئر ہولڈروں کی دولت کی قدر بھی بڑھتی ہے۔

دوسری خبر پر نظر ڈالیں:

مسلس30دنوں میں سینکس600گرگیا۔ 1,53, 690کروڑ روپے اصل کار دولت کا نقصان ہوا جب کہ دومتواتردنوں میں سینکس338پوائنٹ گرا،یہ نقصان 6.8%یا  اکتوبر4کے مقابلے598 پوائنٹس پر تھا جب کہ یہ 8800 پوائنٹس اب تک 5فی صد مساوی اونچائیوں کو پار کرگیا تھا۔ اس عرصے میں 1,53,690کروڑ ہے یا 6.7%لڑھکنے کے ذریعہ اصل کار دولت نقصان میں رہی۔
اس سے یہ ظاہر ہو کہ معیشت کے ساتھ سب کچھ ٹھیک نہیں۔ اصل کاروں کے لئے فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ وہ سرمایہ لگا ئیں یا نہیں۔
حالیہ سالوں میں ایک اورصاف اشاریہ انسانی ترقیاتی اشاریہ ہے بہت جلد پیدا کار قیمت اشاریہ تھوک قیمت اشاریہ کی جگہ لے لے گا۔
18
واہ !
میں امیر ہوگیا

پیدا کار قیمت اشاریہ

پیدا کار قیمت اشاریہ نمبر پیدا کاروں کے تناظر میں قیمت میں تبدیلیوں کی پیمائش کرتا ہے ۔ یہ بشمول ٹیکس، تجارتی حاشیہ اور ٹرانسپورٹ لاگتیں صرف بنیادی قیمتوں کا استعمال کرتاہے۔ تھوک قیمت اشاریہ (2004-05=100)کی نظر ثانی کے لئے ورکنگ گروپ بشمول دیگ راشیا WPIسے PPIمیں اول بدل کی قابل عمل صورت کا جائزہ لے رہا ہے۔جیسا کہ بہت سے ملکوں میں ہوتا ہے۔

.5اشاریہ نمبر کی تخلیق میں اپنائے جانے والے امور

 اشاریہ نمبر کی تشکیل کرتے وقت بعض اہم امور آپ کو ذہن میں رکھنا چاہئے:
  • آپ کے لئے اشاریے کا مقصد بالکل واضح ہونا چاہئے۔ جب کسی کو قدر اشاریے کی ضرورت ہو تب حجم اشاریہ غیر موزوں ہوگا۔
  • جب صارفین کے مختلف گروپوں کے لئے اشیاء مساوی طور پر اہم نہیں ہوتیں تب صارفین قیمت اشاریے کی تشکیل کی جاتی ہے۔ پٹرول کی قیمت میں اضافے سے غریب زراعتی مزدوروں کی حالات زندگی پر راست اثر نہیں پڑتا۔ اسی طرح کسی اشاریے میں مدوں کو نمائندگی کی خاطر شامل کرنے کے لئے محتاط طریقہ سے انتخاب کرنا چاہئے۔ تب ہی آپ تبدیلی کی بامعنی تصویر حاصل کریں گے۔
  • ہر اشاریے کی ایک بنیاد ہونی چاہئے۔ یہ بنیاد جتنا ممکن ہوسکے باقاعدہ (normal)ہونا چاہئے۔ انتہائی قدروں کو بنیادی مدت کے طور پر نہیں منتخب کیا جانا چاہئے۔مدت بھی بہت دور ماضی کی نہیں ہونی چاہئے۔ 1993اور 2005کے درمیان موازنہ 1960اور 2005کے درمیان موازنے کی نسبت زیادہ با معنی ہے۔ بہت سی مدیں موجودہ مدت میں 1960کے مثالی مجموعہ صرف سے خارج ہوچکی ہیں اس لیے کسی اشاریہ نمبر کے بنیادی سال حسب معمول آ ویٹ (تازہ ترین) ہونا چاہئے۔
  • دوسرا امر فارمولے کا انتخاب ہے جو کہ زیر مطالعہ سوال کی نوعیت پر منحصر ہے۔ لاس پیر کے اشاریے اور پائے کے اشاریے کے درمیان فرق صرف ان فارمولوں میں استعمال کیے جانے والے وزن ہیں۔
  • اس کے علاوہ معتبری کے مختلف درجوں کے ساتھ ڈیٹا کے متعدد ذرائع ہوتے ہیں۔ کمزور معتبری کا ڈیٹا گمراہ کن نتائج دیگا۔ لہدا ڈیٹا کو اکٹھا کرنے میں واجب خیال رکھا جانا چاہئے۔ اگر پرائمری ڈیٹا کا استعمال نہیں کیا جارہا ہے تب ثانوی ڈیٹا کے نہایت معتبر ذرائع کا انتخاب کیا جانا چاہئے۔

سرگرمی

  • مقامی بازار سے ایک ہفتے میں کم سے کم 10مدوں کے ڈیٹا جمع کریں۔ ایک ہفتے کے لئے یومیہ قیمت اشاریہ کی تخلیق  کے لئے دونوں طریقوں کے اطلاق میں آپ کو کن مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

.6معاشیات میں شماریہ نمبر

آپ کو اشاریہ نمبروں کے استعمال کی ضرورت کیوں پڑتی ہے ؟ تھوک قیمت اشاریہ نمبر (WPI)صارف قیمت اشاریہ CPIاور صنعتی پیداوار اشاریہ IIPکا استعمال پالیسی سازی میں بڑے پیمانے پر کیا جاتا ہے۔
  • صارف قیمت اشاریہ CPIیا مصارف زندگی اشاریہ نمبر اجرت سے متعلق بات چیت میں، آمدنی پالیسی کی تشکیل ، کرایہ کنٹرول ،ٹیکس کاری اور عام معاشی پالیسی رفع کرنے میں مددگار ہوتے ہیں۔
  • تھوک قیمت اشاریہ (WPI)کا استعمال مجموعات جیسے قومی آمدنی ، پونچی تشکیل وغیرہ کی بنیاد پر قیمتوں میں تبدیلی کے اثرات کو ختم کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔
  • WPI   افراط زر کی شرح کی پیمائش کے لئے بڑے پیمانے پراستعمال کیا جاتا ہے۔ افراط زر قیمتوں میں عام اور مسلسل اضافہ ہے ۔ اگر افراط زر کافی زیادہ ہوتا ہے ۔ رقم یا زر مبادلے کے وسیلے اور حساب کی ایک اکائی کے طور پر اپنے روایتی عمل سے محروم ہوسکتی ہے تو عام قدر کو کم ترکرنے میں اس کا بتدائی اثر واقع ہوتا ہے۔ ہفتہ وار افراط زر کی شرح ذیل میں دی گئی ہے۔ 
19
جہاں20اور  تا ویں اور21 ویں ہفتوں کے WPIکی دلالت کرتا ہے۔
  • CPI زر کی قوت خرید اور اصل اجرت شمار کرنے میں استعمال کیا جاتا ہے۔ 
(I)قوت خرید زر1=/مصارف زندگی اشاریہ
(II)اصل اجرت= (رقم اجرت/مصارف زندگی اشاریہ ) ×100
اگر CPI۔ (100=1982)جنوری 2005میں 526ہے، جنوری 2005میں روپے کا مساوی درج ذیل دیا گیا ہے۔
                22
اس کا مطلب ہے کہ اس کی قدر 1982میں 19پیسے ہے اگر صارف کی اجرت رقم 10,000روپے ہے تب اس  کی اصل اجرت ہوگی۔
           23
اس کا مطلب ہے 1982میں 1,901روپے کی وہیں قوت خرید ہے جو کہ جنوری 2005میں 10,000روپے ہے۔ اگر وہ 1982میں 3,000کی معیار زندگی کو برقرار رکھنے کے لئے اضافے کے سبب یادہ خراب حالت میں 1982کی معیاری زندگی برقرار رکھنے کے لئے جزوضربی 24سے بنیادی مدت کی تنخواہ کو ضرب دینے کے ذریعہ اس کی تنخواہ 15,780روپے تک بڑھنی چاہئے۔
  • صنعتی پیداوار کا اشاریہ ہمیں صنعتی سیکٹر میں پیداوار میں تبدیلی کے بارے میں مقداری عدد فراہم کرتا ہے۔
  • زراعتی پیداوار اشاریہ ہمیں زراعتی سیکٹر کی کار کردگی حساب کردہ رقموں کا جدول (ready   reconer)فراہم کرتا ہے۔
  • سینکس اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کے لئے مفید رہنما ہے اگر سینکس بڑھتا ہے تب سرمایہ کار معیشت کی مستقبل کی کار کردگی کے بارے میں پر امید رہتا ہے یہ سرمایہ کاری کے لئے مناسب وقت ہوتا ہے۔

ہم ان اشاریہ نمبروں کوکہاں سے حاصل کرسکتے ہیں؟

بعض وسیع طو رپراستعمال کیے جانے والے اشاریے سروے  CPI,WPI،اہم فیصلوں کی پیداوار کا اشاریہ نمبر،صنعتی پیداوار کے اشاریہ ،بیرونی تجارت کے اشاریے  کی حکومت ہند کی سالانہ اشاعت ہوتی ہے۔

سرگرمی

  • اخباروں سے جانچ لیجئے اور 10مشاہدات کے ساتھ سینکس کا ایک ٹائم سیریز بنایے اس وقت کیا واقع ہوتا ہے جب صارف قیمت اشاریہ کی بنیاد 1982سے منتقل کرکے 2000کردیا جائے۔

7.اختتام

اوسطاً اشاریہ نمبر کا طریقہ ہمیں مدوں کی ایک بڑی تعداد میں تبدیلی کی واحد پیمائش کو شمار کرنے کا اہل بناتا ہے۔ اشاریہ نمبر قیمت ،مقدار، حجم وغیرہ کے لئے شمار کیے جاسکتے ہیں۔ یہ فارمولوں سے واضح ہے کہ اشاریہ نمبروں کو محتاط طو رپر توضیح کیے جانے کی ضرورت ہے۔ مدوں کو شامل کیا جانا اور بنیادیمدت کے انتخاب اہم ہیںاشاریہ نمبر پالیسی سازی میں انتہائی اہم ہے جیسا کہ مختلف استعمالوں سے ظاہر ہے۔

خلاصہ

  • مدوں کی بڑی مقدار میں اضافی تبدیلی کی پیمائش کے لئے اشاریہ نمبر ایک شمار یاتی ترکیب ہے۔
  • ایک اشاریہ نمبر کے شمار کے لئے متعدد فارمولے ہیں اورہرفارمولے کی محتاط توضیح کی ضرورت ہوتی ہے۔
  • فارمولے کا انتخاب بڑی حد تک دلچسپی یا ضرورت کے موضوع پر مبنی ہے۔
  • وسیع استعمال کیے جانے والے اشاریہ نمبر تھوک قیمت اشاریہ، صرف قیمت اشاریہ ، صنعتی پیداوار کا اشاریہ ، زراعتی پیداوار کا اشاریہ اور سینکس ہیں۔ 
  • اشاریہ نمبر معاشی پالیسی سازی میں ناگزیر ہیں۔

مشقیں

1. وہ اشاریہ نمبر جو مدوں کی اضافی یا نسبتی اہمیت کے لئے تیا رکیا جاتا ہے اسے جانا جاتا ہے۔ 
(i) وزنیاتی اشاریہ
(ii) مادہ مجموعی اشاریہ
(iii) نسبت کا سادہ اوسط (Simple average relatives)
.2 وزنیاتی اشاریہ نمبروںمیں اکثر وزن مشتمل ہوتا ہے۔
(i) بنیادی سال پر
(ii) موجودہ سال پر
(iii) بنیادی اور موجودہ سال دونوں پر
3. بہت کم وزن کے ساتھ شے کی قیمت میں تبدیلی کا اثر اشاریے میں ہوگا۔
(i) کم 
(ii) زیادہ 
(iii) غیر معین
4. صارف قیمت اشاریہ کس میں تبدیلیوں کی پیمائش کرتا ہے؟
(i) خردہ قیمتوں میں
(ii) تھوک قیمتوں میں
(iii) پیداکار قیمتوں میں
5. صنعتی ورکرو کے لئے صارف قیمت اشاریہ میں مد جس میں سب سے زیادہ وزن (اہمیت)  ہو ۔ وہ ہے۔
(i) غذا
(ii) مکان سے متعلق
(iii) لباس
6. بالعموم،افراط زر (Inflaction) کا شمار
(i) تھوک قیمت اشاریہ کے استعمال کرنے کے ذریعہ کیا جاتاہ ے۔
(ii) صارف قیمت اشاریہ کے استعمال کرنے کے ذریعہ کیا جاتا ہے۔
(iii) پیداکار قیمت اشارے کے استعمال کے ذریعہ کیا جاتا ہے۔
7. ہمیں اشاریہ نمبر کی ضرورت کیوں ہوتی ہے۔
8. بنیادی مدت کی مطلوبہ خصوصیات کیا ہے؟
9. کیوں یہ ضروری ہے کہ صارفین کے مختلف زمروں کے لئے محتلف CPI(صارف قیمت اشاریہ) ہوں؟
10. صنعتی ورکروں کے لئے صارف قیمت اشاریہ کی پیمائش کرتا ہے؟
11. قیمت اشاریہ اور مقدار اشاریہ کے درمیان کیا کر تا ہے۔
12. کیا کسی قیمت میں تبدیلی قیمت اشاریہ نمبر میں ظاہر ہوتی ہے؟
13. شہری غیر جسمانی محنت والے ملازمین کے لئے CPIنمبر کیا ہندوستان کے صدر کے مصارف زندگی میں تبدیلیوں کا اظہار کرتا ہے؟
14۔ 1980اور 2005کے دوران کسی صنعتی مرکز کے ورکروں کے ذریعہ درج ذیل مدوں پر کیے جانے والے فی کس ماہانہ اخراجات ذیل میں دیے گئے ہیں ۔ ان مدوں کے وزن علی الترتیب ہیں:75,10,5,6اور4 ہیں۔ 1980 کو بنیادی سال مانتے ہوئے 2005میں مصارف زندگی کے لئے وزنیاتی اشاریہ نمبر تیار کیجئے۔
——————————————————————————
مد 1980میں قیمت 2005 میں قیمت
——————————————————————————
غذا 100 200
لباس    20   25  
ایندھن اور روشنی      15 20  
گھر کا کرایہ               30                40                 
متفرق 35 65
——————————————————————————
 15. درج ذیل جدول کا بغور مطالعہ کیجئے اور اپنے تبصرے دیجئے۔

1993-94کی بنیاد پر صنعتی پیداوار کا اشاریہ
—————————————————————————

صنعت % میں وزن 97-1996 04-2003
—————————————————————————
عمومی اشاریہ 100 130.8 189.0
کان کنی اور پتھر کی کان کنی 10.73 118.2 146.9
مصنوعاتی 79.58 133.6 196.6
بجلی 10.69 122.0 172.6
—————————————————————————

16. اپنی فیملی میں صرف کی اہم مدوں کو درج فہرست کرنے کی کوشش کیجیے۔
17. اگر کسی شخص کی تنخواہ بنیادی سال میں 4,000روپے سالانہ ہے اور موجودہ سال میں 6,000روپے ہے اس کی تنخواہ میں اسی معیار زندگی کو برقرار رکھنے کے لئے کس حد تک اضافہ ہونا چاہئے۔ اگر CPI 400ہے؟
18. صارف قیمت اشاریہ جون 2005کے لئے 125تھا غذا اشاریہ 120تھا اور دیگر مدوں کا 135غدا پر دیے کے کل وزن کافی صد کیا ہے؟
19. کسی شہر میں مڈل کلاس فیملیوں کے بجٹ کے سلسلے میں ایک تفتیش کے ذریعہ درج معلومات فراہم ہوتی ہے۔
1995کے مقابلے سال  2004کا مصارف زندگی اشاریہ کیا ہے؟
————————————————————————————
مدوں پر اخراجات %غذا %10 ایندھن %20 لباس %15 کرایہ %20 متفرق
————————————————————————————
2004 میں (قیمت روپے میں) 1500 250 750 300  400
1995 میں قیمت(روپے میں) 1400 200 500 200 250
————————————————————————————

20. دو ہفتوں کے لئے اپنی فیملی کے یومیہ اخراجات ،خریدی گئی مقداریں اور یومیہ خریداریوں کی فی اکائی ادا کی گئی قیمتوں کو درج کیجئے۔ قیمت میں تبدیلی آپ کی فیملی پر کس طرح اثر انداز ہوگی؟
.21 ذیل میں ڈیٹا دیے گئے ہیں
—————————————————————————————————————————————————
ماخذ: معاشی سروے ، حکومت ہند 2005-2004
سال صنعتی ورکروں کا CPI شہری غیر جسمانی محنت والے ملازمین کا CPI زراعتی مزدوروں کا CPI۔ WPI
(100=1982) (100=1985-84) (100=1986-87) (100=1993-94)
1995-96 313 257 234 121.6
1996-97 342 283 256 127.2
1997-98 366 302 264 132.8
1998-99 414 337 293 140.7
1999-00 428 352 306 145.3
2000-01 444 352 306 155.4
2001-02 463 390 309 161.3
2002-03 482 405 319 166.8
2003-04 500 420 331 175.9
—————————————————————————————————————————————————

ماخذ: معاشی سروے 2004-05 حکومت ہند ۔
      (i)    مختلف اشاریہ نمبروں کا استعمال کرتے ہوئے افراط زر کی شرح شمار کیجیے۔
  (ii) اشاریہ نمبروں کی اضافی قدروں پر تبصرہ کیجئے۔
        ( III ) کیا وہ قابل موازنہ ہیں؟
22. کچھ اہم مدوں پر کسی خاندان کے ماہانہ اخراجات اور ان مدوں پر جی ایس ٹی کی قابل اطلاق شرحیں مندرجہ ذیل ہیں۔
———————————————————————————————————
مدیں                                             ماہانہ خرچ ( روپیوں میں )                               جی ایس ٹی کی شرح فیصد میں
———————————————————————————————————
اناج                                                      1500                                                   0                      
انڈے                                                     250                                                    0
گوشت۔ مچھلی                                             250                                                    0
دوائیں                                                     50                                                      5
کوکنگ گیس                                               50                                                      5
ٹرانسپورٹ                                                 100                                                    5
مکھن                                                       50                                                     12
ببول                                                       10                                                     12
ٹماٹر کیچ اپ                                               40                                                     12
بسکٹ                                                      75                                                     18
کیک پیسٹری                                                25                                                    18                                              
برانڈ کپڑے                                               100                                                    18                                   
ویکوم کلینر کار                                             1000                                                  28  
———————————————————————————————————
اس خاندان کے لیے ٹیکس کی اوسط شرح کا حساب لگائیے۔
جی ایس ٹی کی اوسط کی تحسیب کے لیے وزن شدہ اوسط ( Weighted Average )کے فارمولے کا استعمال ہوگا۔ اس صورت میں اشیا کی ہر کیٹگری پر اوزان اخراجات کے حصے ہیں ۔ کل وزن خاندان کے کل اخراجات کے مساوی ہے۔ اس میں جی ایس ٹی کی مختلف شرحیں متغیرات ہیں۔
——————————————————————————————————
کیٹگری                                      اخراجات                                   جی ایس ٹی شرح )xy             (X
——————————————————————————————————   
کیٹگری  1                                   2000                                             0                         0
کیٹگری  2                                   200                                               0.05                    10
کیٹگری  3                                  100                                                0.12                    12
کیٹگری  4                                  200                                                0.18                    36
کیٹگری  5                                 1000                                               0.26                   280
                                            3500                                                                         338
——————————————————————————————————
جہاں تک اس خاندان کا تعلق ہے درمیانہ جی ایس ٹی شرح ہے ( 338) / ( 3500 ) = 0.966 9.66% 

سرگرمی

  • اپنے کلاس ٹیچر سے وسیع استعمال کیے جانے والے اشاریہ نمبروں کی ایک فہرست بنانے میں مشورہ حاصل کریں۔ ماخذ کے اشاریہ والے ابھی حال کے ڈیٹا حاصل کریں۔ کیا آپ بتاسکتے ہیں کہ کسی اشاریہ نمبر کی کیا اکائی ہے؟
  • پچھلے 10سالوں میں صنعتی ورکروں کے لیے صارف قیمت اشاریہ کا جدول بنایے اور زر کی قوت خرید شمار کیجئے۔ یہ کیسے تبدیل ہورہا ہے۔