باب1
سماجیات اور سماج (Sociology and Society)
I
تعارف
آئیے کچھ ایسی تجاویز سے ابتداکریں، جو آپ جیسے نوجوان طالب علموں کو اکثر دئیے جاتے ہیں۔ ایک مشورہ جو اکثر دیا جاتا ہے۔کہ ’’محنت سے پڑھیں، زندگی میں کامیابی حاصل ہوگی۔‘‘ دوسرا اکثر دیا جانے والا مشورہ ہے ’’اگر آپ یہ مضمون یا چند مخصوص مضامین پڑھیں، تو مستقبل میں اچھی ملازمت پانے کے زیادہ امکانات ہیں‘‘۔ تیسرا مشورہ ہو سکتا ہے ’’لڑکیوں کے لیے اس مضمون کا انتخاب درست نہیں کہا جاسکتا‘‘ یا ’’لڑکی ہونے کے ناطے کیا آپ کو اپنے مضامین کا انتخاب عملی اعتبار سے صحیح لگتا ہے؟‘‘۔ چوتھا مشورہ ہے ’’آپ کے خاندان کو اس کی ضرورت ہے کہ آپ کو جلد سے جلد ملازمت حاصل ہو۔ اس لیے آپ کو ایسا پیشہ منتخب نہیں کرنا چاہیے جس کے لیے طویل وقت درکار ہو‘‘ یا ’’آپ کو اپنا خاندانی کاروبار سنبھالنا ہے پھر آپ کو اس مضمون کو کیوں پڑھنا چاہتے ہیں؟
آئیے ان تجاویز کی جانچ کریں۔ کیا آپ سوچتے ہیں کہ پہلا مشورہ باقی تین مشوروں سے متضادہے؟ پہلا مشورہ، بتاتا ہے کہ اگر آپ سخت محنت کریں گے، تو آپ بہت اچھا کریں گے اور اچھی ملازمت حاصل کرسکیں گے۔ یعنی ملازمت کی ذمہ داری فرد پر عائد ہوتی ہے۔ دوسرا مشورہ اشارہ کرتا ہے کہ آپ کی ذاتی کوششوں کے علاوہ ایک ’جاب مارکیٹ‘ بھی ہے جو فیصلہ کرتا ہے کہ کس مضمون کا انتخاب، ’جاب مارکیٹ‘ میں آپ کے مواقع کو بڑھا یا گھٹا سکتا ہے۔ تیسرا مشورہ اور چوتھا مشورہ معاملے کو اور بھی زیادہ پیچیدہ بنادیتا ہے۔یہ محض مارکیٹ یا محض ہماری ذاتی کوششیں ہی نہیں جو فرق پیدا کرتی ہیں بلکہ ہماری صنف، خاندان اور سماجی پس منظر بھی اہمیت رکھتے ہیں۔
ذاتی کوششوں کی اہمیت تو بہت ہے۔ لیکن لازمی طور پر نتائج کی تخصیص نہیں کرتیں۔ ہم نے دیکھا کہ دوسرے سماجی عوامل بھی ہیں جو آخری نتائج میں اہم رول ادا کرتے ہیں۔ یہاں ہم نے صرف ’جاب مارکیٹ‘، ’سماجی معاشی پس منظر اور صنف کا ذکر کیا ہے۔ کیا آپ دیگرعوامل پر بھی غور کرسکتے ہیں۔؟ ہم ضرور پوچھ سکتے ہیں کہ اس کا فیصلہ کون کرے گا کہ اچھی ملازمت کیا ہے؟‘‘ اچھی ملازمت کے تعلق سے کیا ہر سماج کے خیالات ایک جیسے ہیں؟ کیا پیسہ ہی اس کا واحد معیارہے؟ یا پھر وقار، سماجی شناخت یا ذاتی آسودگی یا ملازمت کی قدر کو متعین کرتی ہے؟ یا پھر ثقافت اور سماجی معیارات کا اس میں کوئی کردار ہوتا ہے؟
کس طالب علم کو بہتر کارکردگی کے لیے محنت سے پڑھنا ضروری ہے۔ لیکن اس کی کارکردگی کتنی اچھی ہے، اس پر سماجی عوامل کا پورا نظام اثرانداز ہوتا ہے، روزگار منڈی (جاب مارکیٹ) کا تعین معیشت کی ضرورتوں کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ معیشت کی ضرورتیں حکومت کے اختیار کردہ معاشی اور سیاسی پالیسیوں سے بھی متعین ہوتی ہیں، کسی طالب علم کے مواقع وسیع تر سیاسی و معاشی اقدامات سے ایسے ہی اس کے سماجی و خاندانی پس منظر سے متاثر ہوتے ہیں۔ اس سے ہمیں ایک ابتدائی اشارہ ملتا ہے کہ سماجیات کس طرح انسانی سماج کا باہم مربوط کل کی حیثیت سے مطالعہ کرتا ہے اور سماج اور فرد واحد کا تعامل ایک دوسرے سے کس طرح ہوتا ہے۔ اعلیٰ ثانوی اسکول میں مضامین کو منتخب کرنے کا مسئلہ، ہر طالب علم کے لیے ذاتی غور و فکر کے باعث ہوتا ہے۔ یہ ایک وسیع عوامی مسئلہ ہے جس کا اثر اجتماعی شناخت کے طور پر طلبا پر پڑنا فطری بات ہے۔سماجیات کا کام ، ذاتی مسئلے اور عوامی مسئلہ کے درمیان تعلق کی گتھی کو سلجھانا ہے۔ اس باب کا پہلا مرکزی خیال یہی ہے۔
ہم پہلے ہی دیکھ چکے ہیں کہ اچھی ’ملازمت‘ کا مطلب مختلف سماجوں میں الگ الگ ہوتا ہے۔ ایک فرد کے لیے کسی مخصوص قسم کی ملازمت سے سماجی قدر کی وابستگی یا عدم وابستگی کا انحصار اس کے متعلقہ سماج کی ثقافت پرہوتا ہے۔ متعلقہ سماج، سے ہماری مراد کیا ہے؟ کیا اس سے مراد وہ سماج ہے جس کا وہ فرد ہے؟ وہ کون سا سماج ہے جس سے اس فرد کا تعلق ہے؟ کیا یہ پاس پڑوس کا علاقہ ہے؟ کیا یہ کمیونٹی ہے؟ کیا یہ قبیلہ یا ذات ہے؟ کیا یہ والدین کا پیشہ ورانہ حلقہ ہے؟ کیا یہ قوم ہے؟دوسرے یہ کہ اس باب میں اس پر کہ کس طرح موجودہ زمانہ میں ایک فرد کیسے ایک سے زیادہ سماج سے منسلک ہوتا ہے اور کس طرح سے حقارت سے غیر مساوی ہیں۔
تیسرے یہ کہ یہ باب سماجیات کا تعارف فلسفیانہ اور مذہبی مفاہیم اور سماج کے بارے میں ہمارے روز مرہ عام شعور کے مشاہدے سے ممتا ز معاشرے کے منظم مطالعے کے طور پر کرتا ہے۔
چوتھے سماج کے مطالعہ کا یہ ممتاز طریقہ زیادہ بہتر طور پر سمجھا جاسکتا ہے۔ اگر ہم تاریخی طور پر پیچھے مڑ کر ان ذہنی تصورات اور مادی سیاق و سباق میں اسے دیکھیں، جس میں سماجیات کی پیدائش و پرداخت ہوئی۔یہ افکار و خیالات اور مادی تبدیلیاں در اصل مغربی نوعیت کی تھیں لیکن نتیجے کے اعتبار سے عالمی حیثیت رکھتی تھیں۔ پانچویں یہ کہ ہم اسے عالمی پہلو اور ہندوستان میں سماجیات کے منظر عام پر آنے پرمنحصر کرتے ہیں۔ یہ یاد رکھنا بھی ضروری ہے کہ جس طرح ہم میں سے ہر ایک کی اپنی ایک سوانح عمری ہے اسی طرح ہر میدان علم کی بھی سوانح عمری ہوتی ہے۔ کسی مضمون کی تاریخ کو سمجھنے سے ہمیں اس حد تک مضمون کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ آخری بات یہ ہے کہ سماجیات کی وسعت اور دوسرے مضامین اس کے رشتے کے بارے میں بھی بات کی گئی ہے۔
II
سماجیاتی تخیل: ذاتی مسئلہ اور عوامی مسئلہ
ہم نے شروعات بعض تجاویز سے کی تھی جس سے ہم اس طرف ہم متوجہ ہوئے کہ فرد اور سماج کے درمیان کسی طرح جدلیاتی رشتہ ہے۔ یہ ایک ایسا نکتہ ہے جس سے نسل در نسل ماہرین سماجیات کا سروکار رہاہے۔ سی رائٹ مِلز نے اپنے سماجیاتی تخیل کے تصور کی بنیاد بالخصوص ذاتی اور عوامی مسائل کے درمیان ربط کے انکشاف پر رکھی ہے ۔یہ ایک ایسا نکتہ ہے جس پر ماہرین سماجیات کئی نسلوں سے جڑے رہے ہیں۔ سی۔ رائٹ میلز سماجیاتی تخیلات پر اپنے خیالات خاص طور پر اس بات کو سلجھانے پر ٹکا دیتے ہیں کہ فرداور عوام کے تعلقات کیسے ہیں۔
سماجیاتی تخیل ہمیں تاریخ اور سوانح حیات کو سمجھنے میں اور سماج میں ان دونوں کے تعلقات کو سمجھنے میں معاون ہے یہی اس کا فریضہ اور وعدہ ہے۔ شاید مفید ترین امتیاز جو سماجیاتی تخیل میں کام کرتی ہے وہ کسی رجحان کی ذاتی مشکلات اور سماجی ڈھانچے کے عوامی مسائل کے درمیان ہوتا ہے۔ … مشکلات فرد کے کردار میں اور دوسروں کے ساتھ اس کے قریبی تعلقات کی حد میں پیدا ہوتی ہیں۔جس کو اسے خود اور سماجی زندگی کے ان محدود میدانوں کے ساتھ جس سے کہ وہ راست اور ذاتی طور پر آگاہ ہے، سلجھانے کی کوشش کرنا ہوتا ہے۔ مسائل کا تعلق ان معاملوں سے ہے جو فرد کے ان مقامی ماحول اور اس کی باطنی زندگی سے بالاتر ہوتے ہیں۔ معاصر تاریخ کے حقائق انفرادی طور پر مردوں اور عورتوں کی کامیابی اور ناکامی کے حقائق بھی ہیں۔ جب کوئی سماج صنعتی سماج بنتا ہے تب ایک کسان مزدور بن جاتا ہے اور ایک زمیندار امیر ہوجاتا ہے یا پھر کاروباری شخص بن جاتا ہے۔ جب کسی طبقے کا عروج یا زوال ہوتا ہے توایک فرد روزگار سے جڑتا ہے یا پھر بے روزگار ہوجاتا ہے۔ جب سرمایہ کاری کی شرح بڑھتی یا گھٹتی ہے تو افراد کے دل کو آسودگی حاصل ہوتی ہے۔ پھر ان کا دل ٹوٹ جاتا ہے۔ جب جنگ شروع ہوتی ہے تب کوئی بیما ایجنٹ راکٹ لانچر، کوئی اسٹور کلرک ایک رڈار مین بن جاتا ہے۔ کوئی بیوی اکیلی رہ جاتی ہے اور کسی بچے کی بغیر باپ کے ہی پرورش ہوتی ہے۔ نہ تو فرد کی زندگی کو اور نہ ہی سماج کی تاریخ کو ان دونوں کو سمجھے بغیر سمجھا جاسکتا ہے۔ (ملز: 1959)
سرگرمی 1
ملز کی عبارت توجہ سے پڑھ کر نیچے دئیے گئے منظر اور اخبار کی رپورٹ کا جائزہ لیجیے۔ کیا آپ نے غور کیا کہ یہ منظر کس طرح ایک غریب اور بے گھر جوڑے کا ہے؟ سماجیاتی تخیل عوامی مسئلے کے طور پر بے گھری کو سمجھنے اور اس کی وضاحت میں مدد کرتا ہے۔ کیا آپ بے گھر ہونے کے اسباب کا پتہ لگا سکتے ہیں؟ آپ کی کلاس کے مختلف گروہ اس کے ممکنہ اسباب پر معلومات جمع کرسکتے ہیں۔ مثال کے طور پر روزگار کے امکانات اور گاؤں سے شہروں کی طرف منتقلی وغیرہ۔ کیا آپ یہ دیکھتے ہیں کہ ریاست کس طرح بے گھری کو ایک عوامی مسئلہ تصور کرتی ہے۔اس کے لیے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔ مثال کے طور پر ۔ ’اندرا آواس یوجنا‘۔
پردھان منتری آواس یوجنا۔ جو'2016 سے شروع ہوئی حکومت کی دیہی ترقی کی وزارت (MORD) کے ذریعہ چلائی جانے والی ایک بڑی اسکیم ہے جو بے گھر افراد اور کنبوں کے خستہ حال کچے مکانوں میں رہائش پذیر افرادکو پکے مکانوں کی تعمیر کے لیے مالی امداد کے ساتھ مزدوری امداد بھی مہیا کرائے گی ۔کیا آپ ایسے دوسرے امور کے بارے میں سوچ سکتے ہیں جو ذاتی مسائل اور عوامی امور کے درمیان رشتے کا ظاہر کرتے ہوں۔
III
سماجوں میں تکثیریت اور عدم مساوات
موجودہ دنیا میں جس سے ہمارا تعلق ہے۔ ہم ایک سے زائد سماجوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ غیر ملکی افراد درمیان ہوں تو ہمارے سماج کو ’ہندوستانی سماج‘ کے حوالے سے جانا جائے گا لیکن ہندوستانیوں کے درمیان ہم اپنے سماج کو زبان، فرقے، مذہب، ذات یا قبیلہ کے حوالے سے ہمارا سماج کہیں گے۔
یہ تنوع اس کا تعین کرنے میں مسئلہ پیدا کرتا ہے کہ ہم کس ’سماج‘ کی بات کر رہے ہیں۔ لیکن شاید یہ بھی لگتا ہے کہ سماج کی خاکہ سازی کا مسئلہ تنہا ماہرین سماجیات کا ہی نہیں ہے جیسا کہ نیچے دیئے گئے تبصرہ سے واضح ہوتا ہے۔
اپنی فلموں میں کیا دکھایا جائے اس پر غور کرتے ہوئے مشہور فلم ساز ستیہ۔ جیت۔ رے بھی حیران رہ گئے تھے:

ایک بے گھر جوڑا
آپ کو اپنی فلموں میں کیا رکھنا چاہیے؟ آپ کیا چھوڑسکتے ہیں؟ کیا آپ شہر کو پیچھے چھوڑ کر گاؤں میں جائیں گے جہاں کشادہ چراگاہوں میں گائیں چرتی ہیں اور چرواہے بانسری بجاتے ہیں۔ آپ یہاں صاف ستھری اور تازہ ترین فلم بنا سکتے ہیں جس میں ما نجھی کے گیتوں کی خوبصورت اور دل نشیں لے ہوگی یا پھر آپ ماضی میں رزمیوں کے دور میں جائیں گے جہاں دیوتاؤں اور شیطانوں کی جنگ ہوتی تھی اور بھائیوں نے بھائیوں کا قتل کیا تھا۔
یا پھر آپ رومیوں کے دور میں واپس چلے جائیں گے جہاں دیوتاؤں اور شیطانوں کی خونریز جنگ ہوتی تھیں اور جہاں بھائیوں نے بھائیوں کا ہی خون بہایا۔
سماجیات کے سامنے اہم سوال یہ ہے کہ سماج کے کس رُخ کو سامنے لایا جائے۔ ہم ستیہ جیت رے کے تبصرہ پر دوبارہ توجہ کریں تو حیران رہ جاتے ہیں کہ انھوں نے گاؤں کی جو عکاسی کی ہے کیا وہ واقعی رومانی ہے؟ نیچے دکھائے گئے گاؤں کے دلت کے بارے میں دی گئی تفصیل سے اس کا موازنہ دل چسپی سے خالی نہ ہوگا۔
میں نے جب پہلی بار اسے دیکھا وہ گاؤں کی چھپر والی چائے کی دکان کے سامنے دھول بھری سڑک پہ بیٹھا تھا۔ اپنا گلاس اور پلیٹ کو پیچھے چھپائے ہوئے جو دکان دار کے لیے اس بات کا خاموش اشارہ تھا کہ اس اچھوت کو چائے خریدنی ہے۔ مولی ایک 40 سالہ پان سے کالے پڑے ہوئے دانتوں والا ایک لاغر سا انسان تھا جس کے سر کے لمبے بال اس کے شانوں کے پیچھے پڑے تھے۔
(فری مین۔1978)
امریتا سین کا اقتباس شاید اس کو زیادہ اچھی طرح واضح کرے گا کہ کس طرح سماجوں کے درمیان اختلافات میں سب عدم مساوات کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔
کچھ ہندوستانی امیر ہیں لیکن زیادہ تر امیر نہیں ہیں۔ کچھ ہندوستانی اچھی طرح تعلیم یافتہ ہیں اور دوسرے ناخواندہ ہیں۔ کچھ عیش و آرام کی زندگی بسر کرتے ہیں جبکہ دوسرے تھوڑی سی مزدوری کے بدلے سخت محنت کرتے ہیں۔ بعض سیاسی اعتبار سے طاقتور ہیں دوسری کسی چیز پر اثر انداز نہیں ہوسکتے۔ بعض کو زندگی میں ترقی کے بڑے مواقع حاصل ہیں تو دوسروں کو ایسا کوئی موقع نہیں ملتا۔کچھ لوگوں کو پولس عزت کی نظروں سے دِکھتی ہے جبکہ دوسرے ان کے لیے بے حیثیت ۔ عدم مساوات کی یہ مختلف قسمیں ہیں اور ان میں سے ہر ایک پرغور و فکر کی ضرورت ہے۔ (سین 2005:210-11)
IV
سماجیات کا تعارف
ایک مربوط مجموعے کی حیثیت سے سماج کا مطالعہ کرنے کے لیے آپ کو سماجیاتی تخیلات اور سماجیات کے مرکزی تعلق متعارف کرایا جاچکا ہے۔ ذاتی دلچسپی اور جاب مارکیٹ پر ہماری بحث سے پتہ چلتا ہے کہ کس طرح معاشی، سیاسی، اخلاقی، خاندانی، ثقافتی، اور تعلیمی ادارے آپس میں مربوط ہیں اور کس طرح ایک فرد اس کے دباؤ میں بھی ہوتا ہے اور کچھ حد تک اسے بدلنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ اگلے کچھ اسباق میں مختلف اداروں اور ساتھ ہی ساتھ ثقافت پر تفصیل سے بات کی جائے گی۔ یہ سماجیات کی اہم اصطلاحات اور تصورات پر مرکوز ہوں گے جس سے آپ کو سماج کے بارے میں سمجھنے میں مدد ملے گی کیونکہ سماجیات انسانوں کی سماجی زندگی، گروہوں اور سماجوں کا مطالعہ ہی ہے۔ اس کا موضوع و موادایک سماجی حیوان ہونے کے ناطے ہمارا اپنا کردار اور عمل ہے۔
سرگرمی 2
حکومت ہند کے حال ہی کے راشٹریہ خاندان سروے کی رپورٹ میں یہ بتایا گیا ہے کہ صفائی کی سہولیات 60 سے زیادہ فیصد لوگوں کو دستیاب رہیں۔سماجی عدم مساوات کے دیگر اظہاریے جیسے تعلیم،صحت اور روزگا کے بارے میں معلوم کیجیے۔

سماجیات اس طرح کے کام کو انجام دینے والا پہلا مضمون نہیں ہے۔ لوگوں نے ہمیشہ سے اس سماج اور گروہ کا مشاہدہ کیا اور اس پر غور کیا ہے اور سمجھا ہے جس میں کہ وہ رہتے ہیں۔ یہ تہذیبوں اور ادوار کے فلسفیوں، روحانی معلموں اور قانون سازوں کی تحریروں سے واضح ہماری زندگیوں اور معاشرے کے بارے میں سوچنے کا یہ رجحان فلسفیوں اور سماجی مفکروں تک ہی ہے۔ ہم سب کی اپنی روزمرہ کی زندگی کے بارے میں اور دوسروں کے بارے میں بھی اپنے اپنے خیالات ہوتے ہیں اور اسی طرح اپنے سماج اور دوسرے سماجوں کے بارے میں بھی۔ یہ ہمارے روز مرہ کے خیالات اور جذبات ہی ہیں جن کے ذریعہ ہم اپنی زندگی جیتے ہیں۔ پھر بھی ایک مضمون کی حیثیت سے سماجیات میں کسی سماج کے بارے میں کیے گئے مشاہدات اور تصورات فلسفیانہ اظہار اور عام شعور دونوں سے مختلف ہیں۔
فلسفیوں اور مذہبی مفکرین کا نظریہ عموماً یہ ہوتا ہے کہ انسانی کردار میں کیا اخلاقی پہلو ہے اور کیا غیر اخلاقی اور ایک اچھے سماج میں رہنے کا ترجیحی طریقہ ضروری ہے کیا؟ سماجیات خود بھی معیاراور قدروں سے وابستہ ہے۔اس کا ارتکاز معیارات اور اقدار پر اس طرح نہیں جیسا کہ ہونا چاہیے یا ان اہداف کی سے جن کا اتباع لوگوں کو کرنا چا ہیے۔ اس کا سروکار حقیقی معاشروں میں ان کے طریقۂ عمل سے ہے۔ (باب 3 میں آپ دیکھیں گے کہ کس طرح مذہب کی سماجیات الٰہیاتی مطالعے سے جدا ہے) سماجوں کا تجرباتی مطالعہ ماہرین سماجیات کے کام کا ایک اہم حصہ ہے۔ لیکن اس کا یہ قطعی مطلب نہیں ہے کہ سماجیات کا اقدار سے کوئی تعلق نہیں۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ جب ایک ماہر سماجیات کسی سماج کا مطالعہ کرتا ہے تومشاہدے اور حقائق کے حصول کے لیے آمادہ ہی چاہے وہ اس کی ذاتی پسند کے مطابق نہ ہو۔
اس نکتے کو واضح کرنے کے لیے پیٹر برجر ایک غیر معمولی لیکن مؤثر موازنہ پیش کرتے ہیں۔ کسی سیاسی یا فوجی تصادم میں مخالف سمت کے جاسوسی نظام کے ذریعہ استعمال کی گئی معلومات کو حاصل کر لینا کافی فائدہ مند ہوتا ہے۔ لیکن ایسا اس لیے ہوتا ہےکہ ایک اچھی جاسوسی تعصب سے خالی معلومات پر مشتمل ہوتی ہے۔ اگر کوئی جاسوس اپنے اعلیٰ افسران کے نظریے اور خواہشات کو ذہن میں رکھ کر خبرنگاری انجام دیتا ہے نہ تو اس کی رپورٹیں نہ صرف علاقے پر قبضہ ہوجانے پر دشمن کے لیے بلکہ جاسوس کے اپنے فریق کے لیے بھی بے کار ہیں۔ ایک ماہر سماجیات بھی صحیح معنوں میں ایک ایسا ہی جاسوس ہے۔ اس کا کام ہے کسی بھی مقررہ حلقے میں زیادہ سے زیادہ سچی رپورٹ تیار کرنا جتنا کہ وہ کرسکتا ہے ( برجر۔17- 1963:16)
کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ماہر سماجیات کی کوئی سماجی ذمہ داری اپنے مطالعہ کے مقاصد یا کام کے بارے میں دریافت کرنے کی نہیں ہوتی جن پر سماجیاتی نتیجے کا اطلاق ہوگا۔ اس کی ذمہ داری اتنی ہی ہے جتنی کہ ایک عام شہری کی۔ لیکن اس طرح کا استفسارسماجیاتی استعار نہیں ہے یہ ایک ماہر حیاتیات کی طرح ہے جس کا حیاتیاتی علم یا تو صحت یاب کرتا ہے یا پھر مریض کو مار ڈالتا ہے۔ لیکن اس کے یہ معنی نہیں کہ ماہرین حیاتیات اس ذمہ داری سے بری ہوتے ہیں کہ وہ کس مقصد کی تکمیل کرتے ہیں۔ مگر یہاں پر سوال حیاتیات کا نہیں ہے۔
سماجیات ابتداء سے ہی خود کو ایک سائنس تصور کرتا سمجھتا ہے۔ عام شعوری مشاہدات یا فلسفیانہ نتفکر یا الہیاتی تبصروں کے برخلاف سماجیات طریقۂ کار کے سائنسی اصولوں کا پابند ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ماہر سماجیات کے قائم کردہ بیانات ثبوتوں اور شواہد کے بعض اصولوں پر عمل کرکے ہی قائم کیے جانے چاہئیں جس سے دیگر لوگوں کو ماہر سماجیات کے نتائج کی مزید ترقی کے لیے ان کی تکرار کا موقع ملے ۔ سماجیات کے دائرے میں طبعی علم اور انسانی علم، کمیتی اور کیفیتی ریسرچ کے درمیان فرق کے بارے میں کافی بحث ہو چکی ہے۔ ہمیں یہاں اس بحث میں نہیں پڑنا ہے۔ لیکن یہاں جو مناسبت ہے وہ یہ ہے کہ سماجیات کو اپنے مشاہدے اور تجزیہ میں کچھ یقینی اصولوں کو ماننا پڑتا ہے تاکہ دوسروں کے ذریعہ بھی اس کی تصدیق کرسکیں۔ اگلے حصّہ میں ہم سماجیاتی علم اور عام شعور کا موازنہ کرنے جارہے ہیں جس سے پھر اس کی تصدیق ہوتی ہے کہ سماجیات میں سماج کے مشاہدے کے طریقہ، طریق کار اور اصولوں کی کتنی اہمیت ہے۔ اس کتاب کے آخری باب سے معلوم ہوگا کہ سماج کے مطالعے کے لیے ماہرین سماجیات کو کیا اور کس طرح کا کام کرنا پڑتا ہے۔ سماجیات کا علم اور عام شعور کا ایک مفصل بیان دونوں کے درمیان فرق اور سماجیاتی نظرئیے اور طریقے کو واضح طور پر سمجھنے میں معاون ہوگا۔
V
سماجیات اور عام شعوری علم
ہم نے دیکھا کہ سماجیاتی علم مذہبی اور فلسفیانہ مشاہدوں سے کس طرح مختلف ہے۔ اسی طرح سماجیات بھی عام شعوری مشاہدوں سے مختلف ہے۔ عام شعوری وضاحتیں فطرت پسندانہ اور یا انفرادیت پسندانہ کہی جاسکنے والی وضاحت پر مبنی ہیں۔ انسانی رویے کی فطرت پسندانہ وضاحت کی بنیاد اس مفروضے پر ہے کہ ہم رویے کے فطری اسباب کی واقعی نشاندہی کرسکتے ہیں۔
سرگرمی 3
غربت کی ایک مثال نیچے دی گئی ہے اور ہم نے بے گھر لوگوں کے ذکر میں بھی اسے مفصل بیان کیا تھا۔آپ اس طرح کے دوسرے مسائل کے بارے میں سوچیے کہ انہیں کس طرح ایک فطری اور سماجیاتی طریقہ سے بیان کیا جاسکتا ہے۔
اس طرح سماجیات عام شعوری مشاہدات و خیالات اور فلسفیانہ فکر دونوں سے انحراف کرتا ہے یہ ہمیشہ یا عموماً بھی واضح نتائج کی طرف نہیں لے جاتا ہے۔لیکن با معنی اور غیر مشکوک روابط تک رسائی واسلوب کے ذریعے کی جاسکتی ہے۔ سماجیاتی علم میں نمایاں ترقیاں عموماً اضافہ جاتی اور صرف شاذ ونادر ڈرامائی پیش رفت کے ذریعے ہوتی ہیں۔
سماجیات میں تصورات، طریقۂ کار اور اعداد شمار کا پورا ایک نظام ہوتا ہے چاہے وہ باہم کتنے ہی غیر مربوط ہوں یہ عام شعور کا متبادل نہیں کہا جاسکتا۔ عام شعور تفکر سے عاری ہوتا ہے کیوں کہ وہ اپنے مآخذ کے بارے میں کوئی سوال نہیں کرتا یا دوسرے الفاظ میں یہ اپنے آپ سے سوال نہیں پوچھتا کہ ’’میں اس نظریہ پر کیوں قائم ہوں؟‘‘
| سماجیاتی | فطری | تشریح |
| موجودہ غربت کا سبب طبقاتی سماج میں پایا جانے والا عدم مساوات کا ڈھانچہ ہے اور کام کی دائمی بے ضابتگی اور کم اجرت کے شکار ہونے والے افراد اس سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔(جئے رام3: 7-1987) | لوگ اس لیے غریب ہیں کیونکہ وہ کام سے ڈرتے ہیں۔مسائل میں گرفتار خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔خاندان صحیح بجٹ بنانے کے اہل نہیں ہیں،کم ذہانت دور نا کارگی کے شکار ہوتے ہیں |
غربت |

غیر مشکوک روابط
کئی سماجوں میں، جن میں ہندوستان کے کئی حصے شامل ہیں، سلسلہ نسب اور وراثت باپ سے بیٹے کی طرف منتقل ہوتے ہیں۔ اس کو پدرنسبی نظام کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اسے ذہن میں رکھتے ہوئے عورتوں کو جائیداد میں حق دینے کا چلن بہت کم ہے۔ حکومت ہند نے کرگل کی جنگ کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہندوستانی فوجیوں کی شہادت پر ملنے والی معاوضہ کی رقم ان کی بیواؤں کو ملنی چاہیے جو کہ ان کو مہیا کرائی گئی۔
یقیناحکومت کو پہلے سے اس کے برآمد ہونے والے نتائج کا اندازہ نہیں تھا۔ اس وجہ سے بہت سی بیواؤں کو اپنے دیور کے ساتھ شادی کے لیے مجبور کیا گیا۔ کچھ معاملوں میں دیور ابھی کم سن تھا جبکہ بھابی (بعد میں بیوی) جوان عورت ہوتی تھی۔ اس کا مقصد یہ یقینی بنانا تھا کہ معاوضہ کی رقم فوت ہوئے فرد کے پدرنسبی خاندان میں ہی رہے۔ کیا آپ اس طرح کے سماجی اقدام یا حکومت کی کارروائی کے دوسرے غیر متوقع نتائج کے بارے میں سوچ سکتے ہیں؟
ماہر سماجیات کو ہمارے کسی بھی عقیدے کے بارے میں خواہ وہ کتنا ہی عزیز ہو اور خود اپنے بارے میں یہ سوال پوچھنے کے لیے تیار رہنا چاہیے کہ’’ کیا واقعی ایسا ہے ‘‘؟ سماجیات کے منظم اور استفہامی طریقے دونوں سائنسی تفتیش کی وسیع تر روایت سے ماخوذ ہیں۔
سائنسی ضابطوں کو تبھی سمجھا جاسکتا ہے جب ہم پچھلے دور میں لوٹیں اور اس سیاق یا سماجی صورت حال کو سمجھیں جن میں سماجیاتی تناظرات ظاہر ہوتے تھے۔ کیونکہ جدید سائنس میں ہورہی ترقی کا سماجیات پر گہرا اثر پڑتا ہے۔ آگے مختصراً یہ دیکھیں کہ سماجیات کی تشکیل میں کن ذہنی تصورات کا ہاتھ رہاہے۔
VI
سماجیات کی تخلیق میں معاون ذہنی تصورات
فطری ارتقاء کے سائنسی نظریات اور اور قبل جدیدمعاشروں سے متعلق قدیم سیاحوں کے اخذ کردہ نتائج کے ذریعہ قبل جدید سماجوں کے نتائج متاثر ہوکر برطانوی حکمرانوں، ماہرین سماجیات اور سماجی ماہرین بشریات نے سماجوں کو اقسام میں زمرہ بند اور سماجی ترقی میں ہونے والے مراحل میں امتیاز کرنے کی کوشش کی۔ یہ تمام خصوصیات انیسویں صدی کے ماہرین سماجیات، آگستا کامٹے، کارل مارکس اور بربرٹ کے کاموں میں پھر ظاہر ہوتی ہیں اس لیے کوشش کی گئی کہ ان کی بنیاد پر مختلف طرح کے سماجوں کو تقسیم کیا جائے۔ مثال کے طور پر۔
- قبل جدید سماجوں کے اقسام مثلاً شکاری، خوراک جمع کرنے والے، چراگاہی اور زرعی نیز زرعی غیر صنعتی معاشرے۔
- جدید سماج کی قسمیں جیسے صنعتی معاشرے۔
اس قسم کے تصور ارتقا میں یہ مفروضہ پنہاں ہوتاتھا کہ مغرب لازمی طور پر زیادہ ترقی یافتہ اور مہذب تھا، غیر مغربی سماج کو غیر مہذب اور کم تر ترقی یافتہ سمجھا جاتا تھا۔ ہندوستانی نو آبادیاتی تجربات کو اسی روشنی میں دیکھا جانا چاہیے۔ ہندوستانی سماجیات میں بھی اسی قسم کے تناؤ کو دیکھا جاسکتا ہے جس کا سرا برطانوی استعماریت کی تاریخ اور اس کے تئیں فکری اور نظریاتی رد عمل سے ملتا ہے‘‘۔ (سنگھ۔ 2004:19)۔ شاید اسی پس منظر میں ہندوستانی سماجیات نے خاص طور پر اس کی روایت کا لحاظ رکھا اور اس کی عکاس رہی ہے۔ (چودھری 2003)۔
Understanding Society, NCERT, 2005 نام کی کتاب میں ہندوستان کے ماہرین سماجیات کے خیالات، سروکار اور روایت کو زیادہ تفصیل سے مطالعہ کریں ۔
نامیاتی ارتقا سے متعلق ڈارون کے خیالات نے ابتدائی سماجیاتی فکرپرگہرا اثر ڈالا۔ سماج کا موازنہ اکثر جاندار عضویوں سے کیا جاتا تھا اور نامیاتی زندگی سے قابل موازنہ مراحل کے توسط سے اس کی نشوونما کا سراغ لگانے کی کوششیں کی گئیں۔اجزا کے ایسے نظام کے حیثیت سے جس میں ہر جز مقررہ عمل انجام دیتا ہے، سماج پر نظر ڈالنے کے اس طریقے نے خاندان یا اسکول جیسے اداروں اور طبقہ بندی جیسے ڈھانچوں کے مطالعے کو متاثر کیا ہے۔ اس کا ذکر یہاں ہم اس لیے کر رہے ہیں کہ سماجیات کی تشکیل میں کارفرما دانشورانہ افکار سماجیات کے تجرباتی حقیقت کے مطالعے کے طریقے پر براہ راست اثر انداز ہوئے ہیں۔اس طریقہ سے سماج کو دیکھنا اس نظام کا ایک جزو ہے، جس میں ہر ایک جزو کا معین وظائف ہوتا ہے اور یہ سماجی ادارے جیسے خاندان، اسکول اور ڈھانچہ جیسے کہ طبقہ بندی کے مطالعہ پر اثر پذیر ہوتے ہیں۔ ہم نے ان کا ذکر یہاں اس لیے کیا ہے کہ ذہنی فکر جن کا سماجیات کی تشکیل میں بالواسطہ گہرا تعلق رہا ہے اور وہ یہ ہے کہ سماجیات کس طرح تجرباتی حقیقتوں کا مطالعہ کرتا ہے۔
17 ویں صدی کے آخر اور 18ویں صدی کی ابتداء میں یوروپی دانشوری تحریک کا زور عقلیت اور انفرادیت پر تھا۔ وہاں سائنسی علم بھی ترقی کی منزل پر تھا اور یہ ایقان بھی کہ طبعی علوم کے طریقۂ کار کی توسیع انسانی معاملات کے مطالعے تک کی جاسکتی ہے اور کرنی بھی چاہئے ۔ غربت جسے اب تک ایک فطری مظہر تصور کیا جاتا تھا۔اب سماجی مسئلہ سمجھا جانے لگا۔ جس کا سبب انسان کی لاعلمی اور استحصال ہے۔ اسی لیے غربت کا مطالعہ اور اس کا ازالہ بھی کیا جاسکتا ہے۔ اس کے مطالعہ کا ایک طریقہ سماجی سروے تھا جو اس خیال پر مبنی تھا کہ انسانی مظاہر کی تقسیم ہے اور پیمائش ممکن ہے۔ اس سماجی سروے میں آپ باب 5 میں گفتگو کریں گے۔
ابتدائی جدید دور کے مفکرین اس بات پر متفق تھے کہ علم میں ترقی تمام سماجی برائیوں کے حل کی ضمانت ہے۔ مثال کے طور پر فرانسیسی دانشور اگست کا مٹے (1789-1857) جنہیں سماجیات کا بانی سمجھا جاتا ہے، انہیں اس کا یقین تھا کہ سماجیات انسانیت کے فلاح و بہبود میں تعاون دے سکتا ہے۔
VII
سماجیات کی تشکیل میں کارفرما مادّی مسائل
صنعتی انقلاب معاشی عمل کی ایک نئی شکل یعنی سرمایہ داری پر مبنی تھا۔ صنعتی پیداوار کی ترقی میں سرمایہ داری نظام ہی متحرک قوت بن گیا۔ سرمایہ داری میں نئے رویے اور ادارے شامل تھے۔ اب کاروباری افراد نفع کی کے دیرپامنظم حصول کی کوشش میں لگ گئے تھے۔ پیداواری کی زندگی میں بازار ایک کلیدی ذریعہ کے طور پر کام کرتے تھے اور سامان، خدمات اور محنت اشیاء بن گئیں جن کا استعمال منطقی حساب سے طے ہوتا ہے۔
نئی معیشت پہلے کے نظام سے بالکل جدا تھی اور انگلینڈ اس صنعتی انقلاب کا مرکز تھا۔ صنعت کاری کے ذریعہ جو

کام کرنےوالوں کے رہائشی علاقے وگندی بستیاں
تبدیلی آئی وہ کتنی بااثر تھی اسے سمجھنے کے لیے ہم قبل صنعتی انگلینڈ کی زندگی پر ایک سرسری نظر ڈالتے ہیں۔ صنعت کاری سے پہلے زراعت اور کپڑا سازی ،ٹکسٹائل برطانوی عوام کا اہم پیشہ تھا۔ زیادہ تر لوگ گاؤں میں رہتے تھے۔ اپنے ہندوستانی دیہاتوں کی طرح وہاں بھی کسان اور زمین دار ، لوہار اور چمڑاساز،بنکر اور کمہار ، چرواہے اور عراق تھے، سماج مختصر تھا۔ یہ نظام مراتب سماج تھایعنی مختلف لوگوں کی حیثیت اور طبقاتی حیثیت سماج میں واضح طور پر متعین تھی۔تمام روایتی سماجوں کی طرح یہ بھی قریبی تفاعل کی خصوصیت رکھتا تھا۔ صنعت کاری کے ساتھ ہی یہ تمام خصوصیات تبدیل ہوگئیں۔
اس لیے نظام کے بنیادی ترین پہلوؤں میں سے ایک اہم پہلو تھامزدور کی حیثیت میں گراوٹ کا اور مزدور انجمن گاؤں اور خاندان کے تحفظی سیاق سے کام کا نکال لیا جانا؟ انقلاب پسند اورقدامت پسند مفکرین، دونوں ہی عام مزدور کی حیثیت میں زوال پر حیرت زدہ تھے اور ہنر مند حرفت کار تو ذکر ہی کیا ہے۔
شہری مراکز کی توسیع اور ترقی ہوئی۔ ایسا نہیں ہے کہ شہر پہلے سے موجود نہیں تھے لیکن صنعت کاری سے پہلے ان کا کردار بالکل مختلف تھا، صنعتی شہروں نے بالکل ہی الگ طرح کی شہری دنیا تخلیق کی۔ جس کی نشانی تھی فیکٹریوں سے نکلنے والا دھواں اور سیاہی، نئے صنعتی مزدوروں کے طبقے کی بھیڑ بھاڑ والی بستیاں،صفائی کی کمی اور گندگی۔
نئے انداز کا سماجی تعامل بھی اس کا امتیاز تھا۔ہندی فلمی گانا شہری زندگی کے مادی پہلو کے ساتھ ساتھ تجرباتی پہلو کی بھی عکاسی کرتا ہے جو 1956کی فلم سی۔آئی۔ ڈی۔ سے لیا گیا ہے جسے محمد رفیع، گیتا دت نے اپنی آواز دی۔
اے دل ہے مشکل جینا یہاں
ذرا ہٹ کے، ذرا بچ کے
یہ ہے بامبے میری جان
کہیں بلڈنگ، کہیں ٹرامیں
کہیں موٹر کہیں مِل
ملتا ہے یہاں سب کچھ اک ملتا نہیں دل
انساں کا نہیں کہیں نام و نشاں
کہیں سٹّا، کہیں پٹّا، کہیں چوری کہیں ریس
کہیں ڈاکہ، کہیں فاقہ، کہیں ٹھوکر کہیں ٹھیس
بے کاروں کے ہیں کیا کام یہاں
بے گھر کو آوارہ یہاں کہتے ہنس ہنس
خود کاٹیں گلے سب کے کہیں اس کو بیزنس
اک چیز کے ہیں کئی نام یہاں
گیتا بری دنیا وہ ہے کہتا ایسا بھولا نہ تو بن
جو ہے کرتا وہ ہے بھرتا ہے یہاں کا یہ چلن
مندرجہ بالا گیت کے تاثرات کو مختلف ناموں سے بیان کیاگیا ۔
برطانوی کارخانوں کی مشینوں کے ذریعہ تیار مال کے آنے سے ہندوستان میں بڑی تعداد میں دستکار برباد ہوگئے کیونکہ حد سے زیادہ ترقی یافتہ کار خانوں میں ان کی کھپت نہیں ہوسکتی تھی۔ ان برباد دستکاروں کی بڑی تعداد نے اپنے گزر بسر کے لیے زراعت کو اپنا لیا۔ (دیسائی۔ 1975:70)
سرگرمی 4
نوٹ کیجیے کہ صنعتی انقلاب کا مرکز برطانیہ کس طرح تیزی کے ساتھ ایک غالب دیہی سماج سے شہری سماج میں تبدیل ہو گیا کیا یہ عمل ہندوستان جیسا تھا؟
1810:20 فی صد آبادی قصبوں اور شہروں میں رہتی تھی۔
1910:80 فی صد آبادی قصبوں اور شہروں میں رہتی تھی۔
ہندوستان میں اس عمل کا ذکر نمایاں طور پر مختلف تھا۔ شہری مراکز میں اضافہ ہوا لیکن برطانوی اشیاء کی آمد کے ساتھ زیادہ تر لوگ زراعت کی طرف منتقل ہو گئے۔
کارخانے اور اس کی مشینی طرز کی محنت کی تقسیم کا شمار عموماً کسانوں، دستکاروں، ساتھ ہی ساتھ خاندان اور مقامی طبقوں کی تباہی کی ایک شکل کے طرز پرہونے لگا۔ کارخانہ کی تشبیہ ایک معاشی قید خانے کے ساتھ دی جانے لگی جو ابھی تک فوج کی بیرک اور جیلوں تک محدود تھی۔ لیکن کارل مارکس کے مطابق کارخانہ جبرو تشدد سے پرہے لیکن آزادی دلانے کا امکان رکھتا ہے۔ یہاں مزدوروں نے بہتر زندگی کے لیے اجتماعی کارکردگی کے ساتھ ساتھ اجتماعی کاوش دونوں کے بارے میں جانا ہے۔
جدید سماجوں کے ابھرنے کا ایک اور اشارہ تھا گھڑی کے مطابق وقت کی نئی معنویت جو سماجی تنظیم کی ایک اہم بنیاد تھی۔ اس کا ایک نازک پہلو وہ طریقہ تھا جس کے سبب اٹھارہویں اور انیسویں صدی میں زرعی اور صنعتی مزدوروں کی بڑھتی ہوئی تعداد نے بڑی تیزی سے نئے کیلنڈر اور گھڑی کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالنا شروع کردیا جو کام کی قبل جدید کی شکلوں سے بالکل جدا تھا۔ صنعتی سرمایہ داری کے وجود سے پہلے کام کی رفتار، دن کے اُجالے کی مدت مفوضہ کاموں کے درمیان آرام کا وقفہ ، انتہائی مدت کی پابندیاں اور سماجی ذمہ داری جیسے عوامل کی بنیاد پر طے ہوئی تھی۔ کارخانے کی پیداوار کی ہم زمانی لازم قرار پائی۔ اس کا آغاز پابندی سے ہوا۔ اس کے علاوہ گھڑی کام کرنے کی نئی عجلت وجود میں لائی۔آجر اور کارکن دونوں کے لیے وقت ہی اب دولت ہے، جو گزارا نہیں بلکہ خرچ کیا جاتا ہے۔
سرگرمی 5
معلوم کیجیے کہ کس طرح ایک روایتی گاؤں، ایک کارخانہ اور ایک کال سینٹر میں کام کو منظم کیا جاتا ہے۔
سرگرمی 6
معلوم کیجیے کہ کس طرح صنعتی سرمایہ داری نے گاؤں اور شہروں میں رہنے والے ہندوستانیوں کی زندگی کو بدل دیا ہے۔
VIII
ہمیں یوروپ میں سماجیات کے آغاز اور اس کی نشوونما کا مطالعہ کیوں کرنا چاہئے؟
سماجیات کے زیادہ تر مسائل اور سروکاروں کا سلسلہ بھی اس زمانے سے جا ملتا ہے۔ جب یوروپی سماج میں اٹھارہویں اور انیسویں صدی میں سرمایہ داری اور صنعت کاری کی آمد کے ساتھ ہنگامہ خیز تبدیلی واقع ہورہی تھی۔ اس وقت اٹھنے والے بہت سے مسائل مثلاً شہر ی توسیع یا فیکٹری کی پیداوار، تمام جدید معاشروں سے مناسبت رکھتے ہیں۔حالانکہ ان میں کچھ باتیں ذرا الگ ہوسکتی تھیں۔ حقیقت میں ہندوستانی سماج اپنے نوآبادیاتی ماضی اور قابل یقین تنوع کے سبب ممتازہے۔ ہندوستان کی سماجیات اسی کی عکاسی کرتی ہے۔
اگر ایسا ہے تو اس وقت کے یوروپ پر توجہ مرکوز کیوںکی جائے؟ وہیں سے شروعات کرنا کیوں مناسب ہے؟ جواب مقابلتاً آسان ہے۔ کیونکہ ہندوستانیوں کا ماضی، برطانوی سرمایہ داری اور استعمار پسندی کی تاریخ سے گہرا رشتہ رکھتا ہے۔ مغرب میں سرمایہ داری کو عالمگیر وسعت کو حاصل ہوچکی تھی۔ خانے کے اندر دی گئی عبارتیں مزدور اس طریقے کے دو دوھاروں کی نمائندگی کرتی ہیں جن سے مغربی سرمایہ داروں نے دنیا کو متاثر کیا۔
آر۔ کے۔ لکشمی کا سفرنامۂ ماریشس ہمیں اس استعماری اور عالمگیر ماضی کی موجودگی کی یاد دلاتا ہے۔
یہاں افریقی اور چینی، بہاری اور ڈچ اور تمل، عربی، فرانسیسی اور انگریز سب ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر رہتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک تمل جس کے چہرے پر جنوبی ہندوستانی کا دھوکہ ہوتاتھا اور سونے پہ سہاگا یہ کہ نام رادھا کرشنا گووندن حقیقت میں مدراس سے تعلق رکھتا تھا۔ میں نے اس سے تمل میں بات کی اس نے مجھے ملی جلی فرنچ اور ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں بڑی مشکل سے جواب دے کر حیران کردیا۔ مسٹر گووند کو تمل کا علم بالکل نہیں ہے اور ان کی زبان صدیوں پہلے تمل آوازوں کی ادائیگی بن چکی ہے۔ (لکشمن۔2003)!
IX
ہندوستان میں سماجیات کا ارتقا
استعماریت جدید سرمایہ داری اور صنعت کاری کا ایک بنیادی حصہ تھی۔ اس لیے جدید معاشرے پر مغربی ماہرین سماجیات کی تحریریں ہندوستان میں ہونے والی سماجی تبدیلیوں کے سمجھنے
سرمایہ داری اور اس کے معاشروں کی عالمگیر لیکن ناہموار قلب ما ہیئت
سترہویں اور انیسویں صدی کے درمیان تقریباً 24 ملین لوگوں کو غلام بنایا گیا جدید تاریخ میں مذکور انسانی آبادی کی بڑے پیمانے پر منتقلی کے کئی واقعات میں سے اس واقعے میں 11ملین افراد امریکی سرزمینوں تک کے سفر میں زندہ بچ سکے۔ ان لوگوں کو اپنے گھروں اور ثقافتوں سے اکھاڑ کر دنیا بھر میں مختلف حصوں میں خوفناک حالات میں بھیجا گیا اور سرمایہ داری کی خدمت کے کاموں میں لگا دیا گیا۔ یہ غلامی کی ایک واضح مثال ہے کہ کس طرح لوگوں کو جدیدیت کے فروغ کے نام پر ان کی مرضی کے خلاف پھنسایا گیا۔ غلامی کا زور 1800 صدی کی ابتداء سے ہونے لگا تھا ۔ لیکن ہندوستان کے لیے یہی دور تھا جب بندھوا مزدوروں کو انگریز جہازوں میں بھر کر دور دراز کے ملکوں جیسے جنوبی امریکہ سورینام یا ویسٹ انڈیز یا پھر فیجی جزیرے میں لے گئے تاکہ ان کی سوتی کپڑے کی ملیں اور چینی کے کارخانوں کو چلایا جاسکے۔ وی۔ ایس۔ نائپال، ایک مشہور و معروف انگریزی مصنف، جن کو نوبل انعام سے بھی نوازا گیا، ان ہزاروں لوگوں میں سے ایک کے وارث ہیں جن کو زبردستی ان نا معلوم جگہوں پر لے جایا گیا جہاں سے واپسی ان کے لیے ناممکن تھی اور وہ وہیں مر بھی گئے۔
کے لیے با معنی ہیں۔جیسا کہ ہم نے شہر ی توسیع کے حوالے سے دیکھا، استعماریت میں یہ بات پنہاں تھی کہ صنعت کاری کا اثر ضروری نہیں کہ ہندوستان میں بھی اتنا ہی ہو جتنا کہ مغرب میں تھا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کے اثرات پر کارل مارکس کے تبصرے سے اس تضاد کا پتہ چلتا ہے۔
ہندوستان جو نہایت قدیم زمانے سے پوری دنیا میں کپاس کی پیداوار کا بہت بڑا مرکز تھا اب انگریزی دھاگوں اور سوتی سامان سے اٹاپڑا تھا۔ اس کی پیداوار کو انگلینڈ سے خارج کرنے یا صرف خام مال کو قبول کرنے کی شرائط کے بعد برطانوی مصنوعات سازوں کو مختصر اور عمومی محصول پر کبھی دو درجہ مشہور مقامی سوتی کپڑوں کی صنعت کو برباد کرنے کے لیے اندر آنے دیا گیا۔ (مارکس۔1852 حوالہ دیسائی 1975)۔
ہندوستان میں سماجیات کو ہندوستانی سماج کے بارے میں مغربی تحریروں اور ان کے مصنفین اور ان کے خیالات کا بھی سامنا کرنا پڑا تھا جو کہ ہمیشہ صحیح نہیں ہوتے تھے۔ ان خیالات کا اظہار نوآبادیاتی حکمرانوں اور مغربی دانشوروں دونوں کی تحریروں سے ہوتاہے۔
ان میں سے کئی کے نزدیک ہندوستانی سماج مغربی سماج کے متضاد تھا۔ ہم یہاں صرف ایک مثال لیتے ہیں۔ ایک ہندوستانی گاؤں کو کس طرح سمجھا لیا اور اسے نہ تبدیل ہونے والے گاؤں کے طور پر پیش کیا گیا۔
معاصر ویکٹوریامی ارتقائی افکار سے اتفاق رائے رکھتے ہوئے مغربی مصنفین نے ہندوستانی گاؤں کومعاشرے کی شیرخوارگی کی باقیات یا اس سے بچے رہنے والے جز کا نام دیا۔ انہوں نے انیسویں صدی کے ہندوستان میں یوروپی سماج کا ماضی دیکھا۔
ہندوستان جیسے ملکوں کی نوآبادیاتی وراثت کی ایک اور شہادت یہ تھی کہ یہاں سماجیات اور سماجی بشریات میں عموماً فرق کیا جاتا تھا۔ ایک معیاری مغربی درسی کتاب میں سماجیات کی تعریف کچھ اس طرح ہے۔
’’انسانی گروہوں اور سماجوں کا مطالعہ جس پر صنعتی دنیا کے تجزیہ پر خاص طور سے توجہ دی گئی ہو‘‘۔ (گیڈینس 2001:699)
بشریات کی ایک معیاری اور مغربی تعریف غیر مغربی اور اس لیے دیگر ثقافتوں کے سادہ معاشروں کا مطالعہ ہوگی۔ ہندوستان میں کہانی بالکل ہی مختلف ہے۔ ایم۔این سری۔ نواس، اس صورت حال کا خاکہ اس طرح کھینچتے ہیں۔
’’ہندوستان جیسے وسیع اور علاقائی، لسانی، مذہبی، مسلکی، نسلی (بشمول ذات) شہری اور دیہی تنوع والے ملک میں ’’اغیار‘‘ کی بے شمار اقسام ہیں۔ کسی ایسی ثقافت اور معاشرے میں جو ہندوستان کا ہے ’غیر‘ کا سامنا حقیقتاً آپ کو اپنے گھر کے بغل میں بھی ہوجائے گا۔‘‘ (سری نواس 1966:205)
مزید یہ کہ ہندوستان میں سماجی بشریات قدیم انسانوں کے مطالعہ سے سروکار سے بتدریج کسانوں، نسلی گروہوں، سماجی طبقات، قدیم تہذیبوں کے پہلوؤں اور خصوصیات کی طرف منتقل ہوتی ہیں۔ ہندوستان میں سماجیات اور سماجی بشریات کے بیچ فرق کی کوئی واضح لکیر نہیں ہے جو مغربی ممالک میں ان دونوں مضامین کے درمیان ہے۔ شاید ہندوستان میں جدید اور روایتی، دیہات اور بڑے شہروں کے درمیان فرق ہی اس کا سبب رہا ہو۔

اس پر بحث کیجئے کہ آپ کے خیال میں تاریخ،سماجیات،سیاسیات،معاشیات کس طرح فیشن/ملبوسات،تجارتی مقامات اور شہر کی سڑکوں کا مطالعہ کرتے ہیں۔
X
سماجیات کا دائرہ کار اور دوسرے سماجی علوم سے اس کا رشتہ
سماجیاتی مطالعے کا دائرہ کار بہت وسیع ہے۔ یہ کسی دُکان اور خریدار، کسی استاد اور طالب علم دو دوستوں یا خاندان کے افراد کے درمیان، تعامل کے تجزیے پر اپنی توجہ مرکوز کرسکتا ہے۔ اسی طرح یہ قومی مسائل جیسے،بے روز گاری، ذات پات کے متعلق تصادم، یا سرکاری پالیسی جو قبائلی آبادی کے جنگلات پر حقوق کو متاثر کرے یا دیہی مقروضیت کو بھی اپنا مرکزی موضوع بنا سکتا ہے۔ یا یہ عالمی سماجی عمل کی جانچ کرسکتا ہے جیسے نئے پچھلے مزدوری کے قانون کا مزدور طبقہ پر اثر یا الیکٹرانک میڈیا کا نوجوانوں پر اثر یا غیر ملکی یونیورسٹی کی آمد کا ملک کے تعلیمی نظام پر اثر۔ جو بات سماجیات کے میدان کا تعین کرتی ہے۔یہ نہیں کہ وہ کس چیز کا مطالعہ کرتاہے ( یعنی خاندان یا مزدور یونین یا گاؤں) بلکہ یہ کہ وہ منتخب کردہ میدان کا مطالعہ کیسے کرتا ہے۔ سماجیات سماجی سائنسوں کے گروہ کا ایک حصہ ہے جس میں بشریات، معاشیات، سیاسیات اور تاریخ شامل ہے۔ مختلف سماجی سائنس میں فرق بالکل واضح نہیں ہے اور ان سب کے بیچ دلچسپی، تصورات اور طریقوں میں مشابہت پائی جاتی ہے۔ اس لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ میدانوںمیں فرق کا ہونا کسی حد تک جباری ہے اور اسے سماجی علوم میں امتیاز کرنا اختلافات میں مبالغہ آرائی اور مماثلوں کی تلمیح کاری کے مترادف ہوگا۔ اس کے علاوہ تانیثی نظریات سے بھی علومی طریقہ کارکی زیادہ ضرورت پر روشنی پڑتی ہے۔ مثال کے طور پر کوئی سیاسی سائنس داں یا ماہر معاشیات کس طرح جنس کے کردار اور ان کی اہمیت کا مطالعہ سیاست یا معیشت میں محنت کی خاندانی یا فیضی تقسیم کیے بغیر کر سکتا ہے۔
سماجیات اور معاشیات
معاشیات اشیاء اور خدمات کی پیداوار اور تقسیم کا مطالعہ ہے۔ قدیم معاشی نظریے کا سروکار خالص معاشی متغیرات سے تھایعنی قیمت اور طلب و رسدکا رشتہ، زر کے بہاؤ میں مجموعی لاگت اور پیداوار میں تعلقات ہے۔ روایتی معاشیات کے مطالعہ کا دائرہ معاشی سرگرمی کی فہم تک ہی محدود رہاہے یعنی کسی سماج میں کمیاب اشیاء اور خدمات کا تعین معاشی سرگرمی کو ذرائع پیداوار کی ملکیت اور اس سے تعلق کے وسیع تر سانچے میں رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔تاہم معاشی تجزیہ میں غالب رجحان کا مقصد کسی طرح سے معاشی رویہ کے جامع قوانین کی تشکیل کرنا تھا۔
سماجیاتی نظریہ معاشی رویہ کو وسیع سیاق دیکھنا ہے جن میں سماجی معیارات، اقدار، رسوم اور دلچسپی شامل ہیں ۔ تجارتی سیکٹر کے منتظمین بھی اس سے آگاہ ہیں۔ اشتہاری صنعت میں وسیع سرمایہ کاری کا براہ راست تعلق طرز زندگی اور اشیا کے استعمال کے نمونوں کو نئی شکل دینے سے ہے۔ تانیثی معاشیات کا مرکزی نقطہ بنانا چاہتے ہیں نا کہ یہ نظریہ سماج کی تنظیم کا اہم نظریہ بن سکے۔ مثال کے طور پر وہ یہ دیکھنا چاہیں گے کہ گھر پر کئے گئے کام کا باہر کی پیداواریت سے کتنا تعلق ہے۔
سرگرمی 7
- کیا آپ سوچتے ہیں کہ اشتہارات واقعی لوگوں کا صارفانہ انداز بدل دیتے ہیں؟
- کیاآپ یہ سوچتے ہیں کہ اچھی زندگی کا تعین کرنے والی چیز کے تصور کی توضیح صرف معاشی طور پر کی جاسکتی ہے۔
- کیا آپ سوچتے ہیں کہ ’خرچ‘ اور ’بچت‘ کی عادتیں ثقافتی طور پر ہی تشکیل پاتی ہیں؟
معاشیات کی وضاحت شدہ وسعت اس کو حد درجہ مرکزی اور مربوط مضمون کے طور پر آسانی کے ساتھ فروغ دینے میں معاون رہی ہے۔ ماہرین سماجیات عموماً ماہرین معاشیات سے اس بات پر حسد رکھتے ہیں کہ ان کی اصطلاحات اور ان کی پیمائشیں بالکل جامع اور قطعی درست ہوتی ہیں اور اپنے نظریاتی کاموں کو عملی تجاویز میں تبدیل کرنے کی صلاحیت بھی ان کے پاس ہے جو کہ عوام کے لیے پالیسی تیار کرنے کی خاص علامت ہے۔ پھر بھی ماہرین معاشیات کی مجموعی صلاحیتوں میں اکثر رکاوٹ پیدا ہوتی ہے کیونکہ وہ انفرادی برتاؤ، ثقافتی معیار، اور ادارتی مزاحمت کو نظر اندازکرتے ہیں جبکہ ماہرین سماجیات ان کا مطالعہ کرتے ہیں۔
پیرے بور دیو نے 1998 میں لکھا :
حقیقی معاشی علم معیشت کی سبھی لاگتوں پر غورکرے گا نہ صرف ان پر جن سے تجارتی اداروں کو سروکار رہتا ہے بلکہ وابستہ جرائم خود کشی اور دوسرے معاملوں پر بھی۔
ہمیں آسودگی و خوشحال کی معاشیات کو سامنے لانے کی ضرورت ہے جو انفرادی و اجتماعی، مادی و علامتی، سرگرمی (مثلاً تحفظ) سے وابستہ اور بے کاری اور اتفاقی روزگار سے وابستہ لاگتوں کی مادی وعلامتی لاگتوں پر بھی توجہ دے۔ (مثال کے طور پر دواؤں کے استعمال کا عالمی ریکارڈ فرانس نے بنایا ہے) (سیوڈبرگ (Swedberg) 2003 سے ماخوذ )۔
معاشیات کے برعکس سماجیات عموماً تکنیکی حل نہیں فراہم کرتا بلکہ یہ سوالیہ اور تنقیدی تناظر کی حوصلہ افزائی ضرور کرتا ہے۔ یہ بنیادی مفروضیات کے سوال میں معاون ہوتا ہے اور اس طرح بحث کا ایک موقع دیتا ہے۔ نہ صرف ایک معین مقصد کے تئیں تکنیکی ذرائع بلکہ خود مقاصد کے تئیں سماجی خواہشات کے تحت بھی۔ حال ہی میں معاشی سماجیات میں نئی سرگرمی کے رجحانات شاید سماجیات کے اس وسیع اور تنقیدی دونوں تناظر کے سبب دیکھنے کو مل رہے ہیں۔
سماجیات اس صورت حال کی نسبت جو پہلے تھی، موجودہ سماجی صورت حال کی زیادہ واضح اور زیادہ مناسب تفہیم فراہم کرتا ہے۔ خواہ یہ حقائق پر مبنی معلومات کی سطح پر ہو یا مفہوم کو بہتر طور پر سمجھنے کے ذریعہ ہو کہ کیوں بعض چیزیں واقع ہو رہی ہیں (دوسرے لفظوں میں نظریاتی تفہیم کے ذریعہ)۔
سماجیات و سیاسیات
معاشیات کی ہی طرح سماجیات اور سیاسیات کے طریقۂ کار اور نظریات کے درمیان تعاملمیں اضافہ ہوا ہے۔ روایتی سیاسیات میں بنیادی طور پر دو عناصر پر توجہ دی جاتی تھی: سیاسی نظریہ اور سرکاری انتظامیہ۔ دونوں میں سے کسی شاخ نے سیاسی کردار کے ساتھ جامع تعلق کو شامل نہیں کیا۔ نظریاتی حصے میں افلاطون سے لے کر مارکس تک حکومت نے حکومت سے متعلق تصورات پر اپنی توجہ مبذول کی جبکہ انتظامیہ کے حصہ کا مرکزی نقطہ عموماً حکومت کا رسمی ڈھانچہ رہا نہ کہ اس کا حقیقی عمل۔
سماجیات سماج کے تمام پہلوؤں کے مطالعے سے مخصوص ہے۔ جبکہ روایتی سیاسیات نے خاص طور پر ان اقتدار کے مطالعہ تک خود کو محدود رکھا جن کی ضمانت رسمی تنظیم کو دی جاتی ہے۔ سماجیات بشمول حکومت اداروں کے مجموعوں کے باہمی رشتوں پر زور دیتا ہے جبکہ سیاسیات حکومت کے اندر کے سلسلۂ عمل پر توجہ دیتا ہے۔ تاہم سماجیات سیاسیات کے ساتھ تحقیق کے یکساں مفادات میں طویل عرصہ سے شریک کار رہا ہے لیکن میکس ویبر جیسے ماہرین سماجیات نے ایسا کام کیا جس کو سیاسی سماجیات کا نام دیا جاتا ہے۔سیاسی سماجیات کاارتکاز سیاسی کردار کے حقیقی مطالعہ کی شکل کے طور پر بڑھتا جا رہا ہے۔ حالیہ ہندوستانی انتخابات میں بھی رائے دہندگی کے سیاسی طریقوں کا جامع مطالعہ ہم نے دیکھا ہے۔
سیاسی تنظیموں کی رکنیت، تنظیموں میں فیصلہ سازی کے عمل، سیاسی جماعتوں کی حمایت کے سماجیاتی اسباب سیاست میں صنفی کردار وغیرہ پر بھی مطالعات انجام دیئے گئے ہیں۔
سرگرمی 8
پچھلے انتخابات کے دوران کیے گئے مطالعہ کی قسموں کی معلومات حاصل کیجیے غالباً ان میں سیاسیات اور سماجیات دونوں کی خصوصیات پائیں گے۔ بحث کیجیے کہ کیسے دونوں سائنس آپس میں باہمی عمل کرتے ہیں اور ایک دوسرے پر اثر ڈالتے ہیں۔
سماجیات اور تاریخ
اصولی طور پر مورخین زیادہ تر ماضی کا مطالعہ کرتے ہیں جبکہ ماہرین سماجیات معاصر دور یا کچھ ہی پہلے کے ماضی قریب میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ حقیقت میں چیزیں کیسے واقع ہوئیں اسے شکل دینے کے لیے مورخین پہلے اصل واقعات کی خاکہ کشی کرتے تھے، جبکہ سماجیات میں علتی رشتوں کو ثابت کرنے کی کوشش ہوتی ہیں۔
تاریخ ٹھوس تفصیلات کا مطالعہ کرتی ہے جبکہ سماجیات میں ٹھوس حقیقتوں کا نچوڑ حاصل کرکے ان کی درجہ بندی اور تعمیم کی جاتی ہے۔ آج مورخین اپنے تجزیے میں سماجیاتی طریقوں اور تصورات کو جگہ دینے میں بھی دلچسپی رکھتے ہیں۔ روایتی تاریخ بادشاہوں اور راجاؤں اورجنکوں کی تاریخ رہی ہے۔ روابط آراضی یا خاندان میں صنفی رشتوں میں تبدیلی جیسے کم پرکشش، یا دلچسپ واقعات کا مطالعہ مؤرخین نے روایتاً کم ہی کیا ہے لیکن ماہرینِ سماجیات کا بنیادی موضوع رہی ہیں۔
تاہم آج کل تو تاریخ کہیں زیادہ سماجیاتی ہوگئی ہے اور سماجی تاریخ تو تاریخ کی غذا ہے۔ یہ سماجی نمونے مردعورت کے تعلقات لوک ریت، روایات اور اہم اداروں کا مطالعہ کرتا ہے بجائے اس کے کہ حکمرانوں کے اعمال اور شہنشاہیت کا۔
سرگرمی 9
معلوم کریں کہ کس طرح مورخین نے آرٹ، کرکٹ، کپڑے، فیشن کی عمارت سازی اور آبادکاری کے طریقوں کی تاریخ کے بارے میں لکھا ہے۔
سماجیات اور نفسیات
نفسیات کو عام طور سے کردار کہا جاتا ہے، یہ بنیادی طور پر فرد کے ساتھ خود کو جوڑ لیتا ہے۔ یہ فرد کی ذہانت و آموزش، ترغیبات و یادداشت، عصبی نظام اور وقفۂ ردِّعمل، امیدیں اعصابی اور دقت کے ردعمل کے بارے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ سماجی نفسیات جو سماجیات اور نفسیات کے بیچ ایک پُل کا کام کرتا ہے، اس کی پہلی دل چسپی فرد میں برقرار رہتی ہے لیکن وہ اس بات سے بھی آگاہ رہتاہے کہ فرد سماجی گروہوں میں اجتماعی طور پر دوسروں کے ساتھ کیسا سلوک کرتا ہے۔
سماجیات سماج میں کردار اور برتاؤ کو سمجھنے میں کوشاں رہتا ہے۔مثال کے طور پر معاشی اور سیاسی نظام، خاندان اور رشتہ داری کی ثقافت کی شناخت، معیارات اور اقدار۔ یہ یاد دہانی دلچسپ ہوگی کہ خودکشی کے موضوع پر اپنے معروف مطالعے میں سماجیات کے واضح امکان اور طریقۂ کار کو ثابت کرنے کے لیے کوشاں در خائم نے خودکشی کے مرتکب یا اس کے ارتکاب کی کوشش کرنے والوں کے مختلف سماجی اوصاف سے متعلق شماریات کے حق میں ان افراد کے انفرادی ارادوں کو بحث سے خارج کردیا ۔
سماجیات اور سماجی بشریات
زیادہ تر ممالک میں سماجی بشریات میں علم آثار قدیمہ، بشریات، ثقافتی تاریخ، لسانیات، طبیعیات کی مختلف شاخوں اور انسانوں کی زندگی کے تمام پہلو جو کہ ’’سادہ سماجوں‘‘ میں تھے، شامل ہوتے ہیں۔ یہاں ہمارا سروکار صرف سماجی بشریات اور ثقافتی بشریات سے ہے کیونکہ یہ سماجیات کے مطالعہ کے بالکل قریب ہے۔ سماجیات کو جدید اور مخلوط سماجوں کا مطالعہ سمجھا جاتا ہے جبکہ سماجی بشریات کو سادہ سماجوں کا مطالعہ سمجھا جاتا ہے۔
جیسا کہ ہم نے پہلے دیکھا ہے کہ ہر ایک مضمون کی اپنی تاریخ ہوتی ہے۔ سماجی بشریات کی ترقی مغرب میں تب ہوئی جب یہ مانا جاتا تھا کہ مغرب کے تربیت یافتہ ماہرین سماجی بشریات نے غیر یوروپی سماجوں کا مطالعہ کیا جن کو عموماً ’’بیرونی‘‘ وحشی اور غیر مہذب سمجھا جاتا تھا مطالعہ کار اور موضوع مطالعہ افراد کے درمیان اس غیر مساوی رشتے پر پہلے اکثر توجہ نہیں دی جاتی تھی۔ لیکن اب وقت بدل گیا ہے اور ہمارے دیسی لوگ موجود ہیں چاہے وہ ہندوستانی ہوں یا سوڈانی، ناگا یا سنتھال یہ اب اپنے سماج کے بارے میں بولتے بھی ہیں اور لکھتے ہیں۔ ماضی کے ماہرین بشریات نے سادہ سماجوں کی تفصیلات کو بظاہر غیرجانب دارانہ انداز میں دستاویزی شکل دی۔ عملاً وہ مستقل طور پر ان معاشروں کا موازنہ آزمائش کی حیثیت سے مغربی جدید معاشروں کے نمونے سے کررہے تھے۔

آسام میں چائے کی پتی توڑنے والی مزدور عورتیں
دیگرتبدیلیوں نے بھی سماجیات اور سماجی بشریات کی نوعیت کی ازسرنو توضیح کی ہے۔ جدیدیت نے جیسا کہ ہم نے دیکھا ایک ایسے عمل کی پہل کی جس میں چھوٹے سے چھوٹا گاؤں بھی عالمگیریت کے عمل سے ضرور متاثر ہوا اس کی جیتی جاگتی مثال ہے استعماریت۔برطانوی حکومت کے تحت ہندوستان کے دور افتادہ ترین کے گاؤں نے بھی زمین سے متعلق قوانین اور اس کے انتظامیہ میں تبدیلی اور ٹیکس کی جبری وصولی کا طریقہ بدلا اور صنعتیں اور کارخانے بیٹھ گئے۔ ایک معاصر عالمی تبدیلیوں نے بھی دنیا کے اس سکڑاؤ کے عمل کو تیز کیا ہے۔ کسی سادہ سماج کے مطالعے کے پیچھے مفروضہ تھاکہ یہ ایک بند سماج ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ آج ایسا نہیں ہے۔
سرگرمی 10
معلوم کیجیے کہ آسام کے چائے کے باغات میں کام کرنے والے سنتھال طبقہ کے مزدوروں کے آباؤ اجداد ہندوستان میں کہاں سے آئے؟
آسام میں چائے کی کاشت کب شروع ہوئی؟
کیا انگریز استعماریت سے پہلے چائے پیتے تھے؟
سماجی بشریات کے تحت سادہ اور ناخواندہ سماج کے ذریعہ روایتی مطالعہ کا گہرا اثر اس مضمون کے مواد اور موضوع پر پڑا ہے۔ سماجی بشریات میں ایک کل کے طور پر سماج کے تمام پہلوؤں کے مطالعہ کا رجحان پیدا ہواہے جہاں تک اس کے اختصاص کا تعلق ہے تو وہ علاقہ کی بنیاد پر تھا مثال کے طور پر انڈومان مجموعہ جزائر نوبیر یا میلی نیسزیا۔ ماہرین سماجیات پیچیدہ سماجوں کا مطالعہ کرتے ہیں اور اس کے خاص طور پر سماج بعض ان حصوں پر توجہ دیتے تھے جسے افسر شاہی یا مذہب یا ذات یا سماجی حرکت پذیری جیسا عمل۔
سماجی بشریات کی خصوصیات طویل میدانی عمل کی روایت یاگرو کی (فیلڈ ورک) مطالعہ کمیونٹی میں رہائش ہے اور اس کے لیے نسلیاتی تحقیق کے طریقۂ کار کا استعمال کرتے ہیں اور ماہرین سماجیات اکثر شماریات اور اور سوالنامہ طریقے کا استعمال کرتے ہوئے سروے اور مقداری ڈیٹا پر بھروسہ کرتے ہیں۔ پانچویں باب میں آپ کو ان دونوں روایات کے بارے میں اور زیادہ تفصیل سے معلومات فراہم کی جائیں گی۔
آج ایک سادہ سماج اور پیچیدہ سماج میں فرق کے بارے میں خاص طور پر ازسرنو غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ہندوستان خود ہی ایک پیچیدہ و مخلوط سماج ہے جس میں روایت اور جدیدیت، گاؤں اور شہر، ذات اور قبائل، طبقہ اور برادری کا امتزاج ہے۔ گاؤں بستیاں جیسی جگہ جگہ علاقہ دہلی کے بالکل مرکز میں موجود ہیں۔ کال سینٹر ملک کے مختلف قصبوں سے یورپی اورامریکی گاہکوں کی خدمت کرتے ہیں۔
ہندوستانی سماجیات دونوں روایات اختیار کرنے کے معاملے میں فراخ دل رہا ہے۔ ہندوستان کے ماہرین سماجیات نے جب بھی ہندوستانی سماجوں کا مطالعہ کیا انہوں نے اس کے دونوں حصوں کا مطالعہ کیا نہ کہ صرف ایک ہی ثقافت کا۔ اس طرح جدید شہری ہندوستان کی پیچیدہ اور تفرقی سماجوں اور قبائل دونوں کا مطالعہ بھی کلی انداز میں ہوجاتا ہے۔
یہ اندیشہ لگارہتا تھا سادہ سماجوں کے زوال سے سماجی بشریات اپنی شناخت کھو دے گا اور سماجیات میں ضم ہوجائے گا۔ لیکن یہ بات اطمینان بخش ہے کہ دونوں مضامین میں نتیجہ خیز تبادلہ ہوا ہے اور آج طریقۂ کار اور تکنیک دونوں سے اخذ کیے جاتے ہیں۔ ریاست اور عالمگیریت کے ایسے بشریاتی مطالعے کیے گئے ہیں جو سماجی بشریات کے روایتی موضوع ومواد سے بہت مختلف ہیں۔ دوسری طرف سماجیات بھی جدید سماجوں کی پیچیدگیوں کے مطالعہ کے لیے کمیتی اور معیاری تکنیک اور کلاں اور خورد بینی طریقہ کا استعمال کررہا ہے۔ جیسا کہ پہلے کہا جاچکا ہے ہم اس پر باب5 میں بحث جاری رکھیں گے کیونکہ ہندوستان میں سماجیات اور سماجی بشریات دونوں کے درمیان قریبی تعلق رہا ہے۔