باب 2
اصطلاح، تصور اور سماجیات میں ان کا استعمال
(Terms, Concepts and their use in Sociology)
تعارف
پچھلے باب میں ہم سماج اور سماجیات ان دونوں تصورات سے متعارف ہوئے۔ ہم نے دیکھا کہ سماجیات کا مرکزی کام سماج اور فرد کے باہمی تعلقات کی چھان بین کرنا ہے ۔ ہم نے یہ بھی دیکھا کہ افراد سماج میں من مانی ڈھنگ سے نہیں رہ سکتے۔ وہ اجتماعی گروہوں جیسے خاندان، قبیلہ، ذات، طبقہ، نسل اور قوم کا حصہ ہوتے ہیں۔ اس باب میں ہم آگے گروہوں کی اقسام جنہیں افراد تشکیل دیتے ہیں، غیر مساوی نظم و ترتیب کی قسمیں، طبقہ بندی کا نظام جس کے تحت تمام افراد اور گروہوں کا اپنا مقام ہے، سماجی کنٹرول کے کام کرنے کے طریقے وہ کردار جو افراد کے ہیں اور ان کی ادائیگی اور وہ حیثیت جن پر وہ ہیں، ان سب کو سمجھنے کی کوشش کریں گے۔
دوسرے الفاظ میں ہم اس کی جستجو کرنے لگتے ہیں کہ کس طرح سماج اپنے فرائض خود بخود انجام دیتا ہے۔ کیا اس میں ہم آہنگی ہے۔ کیا حیثیت اور کردار طے شدہ ہوتے ہیں؟ سماجی اختیار کس طرح استعمال کیا جاتاہے؟ کس طرح کی نا برابریاں موجود ہیں؟ سوال پھر بھی باقی رہ جاتا ہے کہ اسے سمجھنے کے لیے ہمیں مخصوص اصطلاحات اور تصورات کی ضرورت کیوں ہوتی ہے؟جب ہم اپنے روز مرہ زندگی میں حیثیت اور کردار یا سماجی اختیار جیسی اصطلاح استعمال کرتے ہیں تو سماجیات کے لیے ہمیں خاص اصطلاحات کی ضرورت کیوں پڑتی ہے؟
کسی مضمون مثلاً نیوکلیائی طبیعیات جو عام لوگ نہیں جانتے اور جن کے لیے عام بول چال کی زبان میں کوئی لفظ نہیں ہے، فطری طور پر ضروری ہو جائے گا کہ اس کی اپنی اصطلاحات ہوں تاہم سماجیات کے لیے اصطلاحات اور بھی زیادہ ضروری ہیں۔ صرف اس لیے کہ اس کا مواد مضمون جانا پہچانا ہے اور انہیں واضح کرنے کے لیے الفاظ موجود ہیں۔ ہم اپنے آس پاس کے سماجی اداروں سے اتنی اچھی طرح واقف ہوتے ہیں کہ ہم انہیں واضح طور پر باریکی سے نہیں دیکھ سکتے ہیں۔ (برجر1976:25)۔
مثال کے طور پر ہم یہ محسوس کرسکتے ہیں کہ چونکہ ہم خاندان میں رہتے ہیں اس لیے اس کے بارے میں سب کچھ جانتے ہیں۔یہ سماجیاتی علم کو عام شعور سے حاصل کی گئیں معلومات کے مساوی قرار دینا ہوگا بلکہ فطری وضاحت ہوگی۔ جس کے بارے میں ہم باب1 میں بحث کر چکے ہیں۔
پچھلے باب میں ہم نے یہ بھی دیکھا کہ ایک مضمون کی حیثیت سے سماجیات کی کس طرح سوانح حیات روئداد یا تاریخ ہے۔ ہم نے دیکھا کہ کس طرح کچھ مادی اور ذہنی تبدیلیوں نے سماجیات کے پس منظر اور اس پر مشاہدہ کی تشکیل کی۔ اسی طرح سماجیاتی تصورات کی بھی کہانی سنائی جانے کے قابل ہے۔بہت سے تصورات قبل جدید سے جدید تک کے سفر میں ہونے والی تبدیلیوں کو سمجھنے اور ا ُن کی خاکہ کشی سے سماجی مفکروں کے سروکارکی عکاسی کرتے ہیں۔دیگر نے اس کی شروعات کرکے انسانی رویے کو سمجھنے کی کوشش کی ۔ دیگر نے اس کی شروعات کلاں ساختوں مثلاً طبقہ ، ذات ، بازار ریاست یا یہاں تک کہ معاشرے سے کی ۔
مثال کے طور پر ماہرین سماجیات نے مشاہدہ کیا کہ آسان، چھوٹے اور روایتی سماجوں میں باہمی تفاعل قریبی اور اکثر آمنے سامنے کے ہوتا ہے۔ جدید وسیع سماجوں میں یہ تفاعل رسمی ہوتا ہے۔ اسی لیے انہوں نے ابتدائی اور ثانوی گروہوں اور معاشرہ سے سماج انجمن کے درمیان امتیاز کیا ہے۔ دوسرے تصورات جیسے طبقہ بندی یہ اس سروکار کی عکاسی کرتے ہیں جو کسی معاشرے کے گروہ بندی کے درمیان ساخت بندی یا برابریوں کو سمجھنے میں ماہر ین سماجیات کے ذہنوں میں ہیں۔
سماج میں تصورات پیدا ہوتے ہیں جس طرح سماج میں مختلف قسم کے افراد اور گروہ ہوتے ہیں ٹھیک اسی طرح کئی قسم کے تصورات اور خیالات ہوتے ہیں۔ سماجیات کی خصوصیت یہی ہے کہ وہ سماج پر مختلف پہلوؤں سے نظر ڈالتا ہے اور جدید کی لائی ہوئی حیرت انگیز تفاعلی تبدیلیوں کو دیکھتا ہے۔ہم نے دیکھا ہے کہ کس طرح سماج کے ارتقاء کے ابتدائی مرحلے پر بھی سماج کو متضاد اور متنازع انداز میں سمجھنے کی کوششیں ہوئیں۔ اگر کارل مارکس کے لیے طبقہ اور تصادم سماج کو سمجھنے کے اہم اصطلاحات تھے تو ایمائل درخائم کی اہم اصطلاحات سماجی اتحاد اور اجتماعی شعور تھیں۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد کے دور میں سماجیات پر ساختی پسندوں کا بہت گہرا اثر پڑا جنہوں نے سماج کو بنیادی ڈر پر ہم آہنگی قرار دیا۔ انہوں نے سماج کا موازنہ ایک عضویہ سے کرنا زیادہ سود مند سمجھا جس میں مختلف اجزاء کا تفاعل کلیت کو قائم رکھتا ہے۔ دوسرے وہ مفکرین جو خاص طور پر کارل مارکس سے متاثر تھے، انہوں نے سماج کو فطرتاً تصادم زدہ قرار دیا ۔
منصب اور کردار جیسے تصورات فرد سے شروع ہوئے ہیں۔ سماجی تسلط یا طبقہ بندی جیسے تصورات وسیع تر سیاق سے نکلے جسکے اندر افراد کو پہلے سے ہی رکھا گیا ہے۔
اہم نکتہ یہ ہے کہ یہ درجہ بندیاں اور قسمیں جن کا ذکر ہم سماجیات میں کرتے ہیں، ہماری مدد کرتی ہیں اور یہ ایسا ذریعہ ہیں جن سے ہم حقیقت کو سمجھ سکتے ہیں۔ یہ سماج کو سمجھنے والے تالے کھولنے کی چابیاں ہیں۔ سمجھنے کے ہمارے اس عمل میں یہ ابتدائی نقطہ ہے حرف آخر نہیں۔ لیکن کیا ہوگا اگر ان چابیوں پر زنگ لگ جائے یا مڑ جائیں یا چابیاں نہ لگیں اور ہماری کوششوں میں کھری نہ اتریں۔ ان حالات میں ہمیں چابیوں کو بدلنے یا سدھارنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ سماجیات میں ہم تصورات اور درجات کا استعمال کرتے ہیں اور ساتھ ساتھ ان کو جانچتے بھی ہیں۔
اکثر و بیشتر ایک ہی سماجی شناخت کے بارے میں مختلف انداز کی توضیحات یا تصورات یا محض مختلف خیالات کے بھی یکجا ہو جانے سے خاص دقت پیش آتی ہے۔ نظریہ تفاعلیت۔ طریقہ کار کا تعدد خاص طور پر سماجیات میں بہت نمایاں اور یونہی رہے گا کیونکہ سماج میں خود ہی تنوع ہے۔
سرگرمی 1
کلاس میں مباحثہ کے لیے کسی ایک موضوع کا انتخاب کیجیے:
- ترقی جمہوریت میں معاون ہے یا رکاوٹ۔
- صنفی مساوات سماج میں ہم آہنگی پیدا کرتی ہے یا تفریق۔
- سزائیں یا وسیع پیمانے پر گفتگو تصادم کو ختم کرنے کا بہترین طریقہ ہے۔
دوسرے موضوعات کے بارے میں سوچیں۔
کس قسم کے اختلافات پیدا ہوتے ہیں؟ کیا وہ اس بارے میں مختلف تصورات کی عکاسی کرتے ہیں کہ ایک اچھا سماج کس طرح کا ہونا چاہیے۔
کیا وہ انسان کے بارے میں مختلف خیالات کو ظاہر کرتے ہیں؟
II
سماجی گروہ اور سماجیات
سماجیات انسانوں کی سماجی زندگی کا مطالعہ ہے۔ انسانی زندگی کی ایک واضح خصوصیت یہ ہے کہ انسان سماجی گروہوں

یہ کس طرح کے گروپ میں
کے ساتھ تعامل و ترسیل کرتے ہیں اورسماجی مجموعوں کی تشکیل بھی کرتے ہیں سماجیات کا تقابلی اور تاریخی پس منظر دو واضح غیرمضرتصورات کو سامنے لانا ہے۔ پہلا یہ ہے کہ ہر ایک سماج میں چاہے وہ قدیم ہو جاگیردارانہ ہو یا جدید ہو، ایشیائی ہو، یوروپین یا افریقی ہو، انسانی گروہ اور مجموعے موجود ہوتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ مختلف سماجوں میں گروہوں اور مجموعوں کی الگ الگ قسمیں ہوتی ہیں۔
یہ ضروری نہیں ہے کہ لوگوں کا مجمع سماجی گروہ کی تشکیل کرے۔ مجموعی تعداد صرف لوگوں کا گروہ ہوتی ہے جو کسی ایک وقت میں ایک ہی جگہ ہوتے ہیں لیکن ایک دوسرے سے کوئی واضح تعلق نہیں رکھتے۔ کسی ریلوے اسٹیشن یا ہوائی اڈے یا بس اسٹاپ پر انتظار کرتے یا سنیما دیکھتے ہوئے افراد بھیڑ کی مثال ہیں۔ ان مجموعی تعداد کو نیم گروہ کا نام دیا جاتا ہے۔ یہ کس طرح کے گروہ ہیں؟
کوئی نیم گروہ ایک مجموعہ یا ملاجلا گروہ ہوتا ہے جس میں ساخت یا تنظیم کی کمی ہوتی ہے اور جس کے افراد گروہ کے وجود کے تئیں انجان یا پھر کم آگاہ ہوتے ہیں۔ سماجی طبقے، حیثیت دارگروہ، عمر اور جنس کے گروہ ہجوم کو نیم گروہ کی مثال کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔ جیسا کہ یہ مثالیں واضح کرتی ہیں نیم گروہ وقت اور مخصوص حالات میں سماجی گروہ بن سکتا ہے۔ مثلاً ایک خاص سماجی طبقہ یا ذات یا برادری سے جڑے افراد کو ایک اجتماعی شکل کے طور پر منظم نہ کیا جاسکتا ہو۔ ابھی ان میں ’’ہم‘‘ کا جذبہ ڈالنا باقی ہو۔ لیکن طبقوں اور ذاتوں نے وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ سیاسی گروہوں کو پیدا کیا ہے۔ اسی طرح ہندوستان کے مختلف فرقوں کے لوگوں نے لمبے برطانوی تشدد کے ساتھ ساتھ اپنی پہچان کو ایک گروہ کے طور پر بھی ترقی دی ہے۔ ایک ملک جس کا ملا جلا اور مشترکہ مستقبل ہے۔ تحریک نسواں نے خواتین کے گروہوں اور تنظیم کا تصور دیا۔ یہ تمام مثالیں ہمارے ذہن کو اس طرف متوجہ کرتی ہیں کہ کس طرح گروہ ابھرتے ہیں، بدلتے ہیں اور آگے بڑھتے ہیں۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ کسی سماجی گروہ میں کم از کم مندرجہ ذیل خصوصیات ہونی چاہئیں:
سرگرمی2
ہر ایک عنوان کے تحت کوئی مناسب نام لکھیے۔ذات کسی ذات کے خلاف تحریک ذات پر مبنی کوئی سیاسی جماعت طبقہ طبقہ پر مبنی تحریک طبقہ پر مبنی کوئی سیاسی جماعت خواتین تحریک نسواں خواتین کی کوئی تنظیم قبیلہ کوئی قبائلی تحریک قبیلہ/قبیلوں پر مبنی کوئی سیاسی جماعت دہی کوئی ماحولیاتی تحریک کوئی ماحولیاتی تنظیم بحث کریں کہ کیا یہ تمام ابتداء میں ہی ایک سماجی تنظیم تھے یا نہیں اور اگر کچھ نہیں تھے تو ہم کس بنیاد پر ان کے لیے لفظ سماجی تنظیم کا استعمال کر سکتے ہیں۔ |

(i) تسلسل کے لیے مستقل تعامل
(ii) ان معاملات کا مستحکم انداز
(iii) دوسرے افراد کے ساتھ پہچان بنانے کے لیے اپنائیت کا جذبہ یعنی ہر فرد کے پاس خود اپنے گروہ اور اپنے مجموعہ،ضوابط اور رسوم کے بارے میں معلومات ۔
(iv) مشترک دلچسپی
(v) عام معیارات اور اقدار کی قبولیت و رواج اور علامات
(vi) ایک قابل وضاحت ڈھانچہ
یہاں سماجی ساخت سے مراد افراد یا گروہوں کے درمیان تفاعل کے تسلسل و تکرار سے ہے اس طرح سماجی گروپ سے مراد متواتر تفاعل کرتے ہوئے ان لوگوں کے مجموعے سے ہے جن میں مخصوص سماج کی عام دل چسپی،ثقافت اور روایات مشترک ہوں۔
گروہوں کی قسمیں(Types of Groups)
گروہوں پر مبنی اس حصے کے مطالعے سے آپ جان لیں گے کہ مختلف ماہرین سماجیات اور ماہرین بشریات نے گروہوں کو مختلف قسموں میں تقسیم کیا ہے۔ تاہم آپ کو جو بات متاثر کرے گی وہ یہ ہے کہ طبقہ بندی کے اس طریقے میں بھی ایک خاص انداز ہے۔ زیادہ تر معاملات میں وہ جدید اور وسیع پیمانے کے معاشرے اس طریقے سے متضاد ہیں کہ لوگ روایتی اور چھوٹے سماجوں میں ایک جدید اور برے سماجوں میں کس طرح اپنے اپنے گروہ بناتے ہیں۔ جیسا کہ پہلے بتایا جا چکا ہے کہ روایتی سماجوں میں نزدیکی اور قربت آمنے سامنے کے تعلق سے ہوتی ہے جو جدید سماجوں میں غیر ذاتی لا تعلقی اور دوری کے حوالے سے ہوتی ہیں۔ تاہم یہ اختلاف شاید مکمل طور پر حقیقت کی وضاحت نہیں کرتا۔
ابتدائی اور ثانوی سماجی گروہ (Primary and Secondary Social Groups)
جن گروہوں سے ہمارا تعلق ہے وہ سب ہمارے لیے یکساں طور پر اہم نہیں ہوتے۔ کچھ گروہ ہماری زندگی کے مختلف پہلوؤں کو متاثر کرتے ہیں اور ہمیں دوسروں کے قریب لاتے ہیں۔ ’’ابتدائی گروہ‘‘ کی اصطلاح کا استعمال لوگوں کے ایک چھوٹے گروہ کے لیے ہوتا ہے جنھیں قربت ،آمنے سامنے کے روابط اور تعاون ایک دوسرے سے جوڑتے ہیں۔ ابتدائی گروہ کے افراد میں تعلقات کے لیے ایک جذبہ ہوتا ہے۔ خاندان، گاؤں اور دوست احباب ابتدائی گروہ کی مثال ہیں۔
سرگرمی 3
نوخیزوں کے زمرۂ عمر کی وضاحت کیجیے۔ کیا یہ نیم گروہ یا سماجی گروہ ہیں؟ کیا زندگی کے مخصوص مرحلے کے طور پر نوخیزی عمر اور نو خیز جیسے تصورات ہمیشہ سے ہی موجود رہے ہیں؟ روایتی سماجوں میں بچوں کے بلوغت کے مرحلے میں داخل ہونے کی کیا علامت تھی؟کیا موجودہ دور میں اس گروہ/نیم گروہ کو مضبوط بنانے سے بازار کی پالیسی اور اشتہارات کا کوئی تعلق ہے؟ ایک اشتہار کی شناخت کیجیے جو نوخیز یا نوخیز زمرۂ عمر سے کم عمر کے بچوں کو اپنا ہدف بناتا ہے؟ طبقہ بندی سے متعلق پیشکش کو پڑھیے اور اس سے بحث کیجیے کہ غریب اور امیر،اونچے اور نچلے طبقے ،تفریق زدہ اور مراعات یافتہ ذات کے لیے نوخیزی زندگی کے مختلف تجربات کا مفہوم رکھ سکتی ہے ۔

دو قسم کے گروہوں کا موازنہ کریں
ثانوی گروہ مقابلتاً بڑے ہوتے ہیں اور ان میں رسمی اور غیر ذاتی تعلقات ہوتے ہیں۔ ابتدائی گروہ کا رخ افراد کی طرف ہوتا ہے جب کہ ثانوی گروہ مقاصد کو مد نظر رکھتے ہیں۔اسکول،سرکاری دفاتر، اسپتال،طلباء کی انجمن وغیرہ ثانوی گروہ کی مثالیں ہیں۔
برادری اور سماج یا انجمن(Community and Society of Association)
مختلف اور متضاد سماجی تعلقات اور طرز زندگی کی بنیاد پر پرانی اور نئی روایتی اور جدید، دیہی و شہری زندگی کا موازنہ تب سے چلا آرہا ہے جب سے قدیم ماہرین سماجیات نے اس مضمون کے لئے لکھنا شروع کیا۔
لفظ ’برادری‘ سے مراد ان انسانی رشتوں سے ہے جو بہت زیادہ ذاتی، گہرے، اور دیر پا ہوتے ہیں جہاں ایک فرد کی حصہ داری سچے دوستوں یا ایک منظم گروہ میں خاندان جتنی اہم نہیں ہوتی۔
سماج یا انجمن سے مراد ہر وہ چیز ہے جو برادری کے برعکس ہو۔ سماج کا مفہوم خاص طور پر جدید شہری زندگی کے غیر ذاتی، باہری اور عارضی رشتوں سے ہے۔ تجارت اور صنعت کی یہ ضرورت ہے کہ ہر فرد کا دوسرے افراد کے ساتھ غیر ذاتی،سطحی اور عارضی رشتہ ہو۔ ہم ایک دوسرے کو جاننے کے بجائے معاہدہ یا اقرار کرتے ہیں۔ آپ برادری کو ابتدائی گروہ اور انجمن کو ثانوی گروہ جیسا تصورسکتے ہیں۔
سرگرمی 4
کسی ایسی انجمن کیمعاہدۂ شرکت کی نقل حاصل کیجیے جسے آپ جانتے ہوں یا جس کے بارے میں معلومات فراہم کرسکتے ہوں، مثال کے طور پر کوئی رہائشی رفاہی انجمن، انجمن نسواں، کوئی اسپورٹس کلب آپ کو اس کے اغراض و مقاصد، رکنیت اور دیگر اصول و ضوابط کے بارے میں جس سے اس کا نظم چلتا ہو معلومات حاصل ہوں گی۔کسی بڑی خاندانی تقریب سے اس کا موازنہ کیجیے۔
آپ یہ دیکھیں کہ کسی رسمی گروہ کے افراد کا باہمی ربط وقت کے ساتھ ساتھ گہرا ہو جاتا ہے اور وہ خاندان اور دوستوں کی طرح ہو جاتے ہیں۔ اس سے یہ نکتہ سامنے آیا ہے کہ یہ تصورات مستقل اور نہ بدلنے والے ہوتے ہیں بلکہ وہ تو سماج اور اس کی تبدیلیوں کو سمجھنے کی بنیاد اور ذرائع ہوتے ہیں۔
اندرونی و بیرونی گروہ (In-Groups and Out-Groups)
اندرونی گروہ میں اپنائیت کا جذبہ ہوتا ہے۔ یہ جذبہ ’ہمیں‘ یا ’ہم‘ کو ’انہیں‘ یا ’وہ سب‘ سے الگ کرتا ہے۔ ایک اسکول میں پڑھنے والے بچے اس اسکول سے باہر کے بچوں کے مقابلے میں ایک اندرونی گروہ کی تشکیل کرسکتے ہیں۔ کیا آپ ایسے کسی دوسرے گروہ کے بارے میں سوچ سکتے ہو؟
اس کے برعکس ایک بیرونی گروہ وہ ہوتا ہے جس سے اندرونی گروہ کے لوگ بے تعلق ہوتے ہیں۔ کسی بیرونی گروہ کے افراد کو اندرونی گروہ کے افراد کی عداوت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ مہاجرین کو اکثر بیرونی گروہ مانا جاتا ہے جبکہ اپنے اور پرائے کی درست تعریف وقت اور سماجی سیاق کے ساتھ بدلتی رہتی ہے۔
مشہور ماہر سماجیات ایم۔ این۔ سری نواس نے 1948رام پورہ میں مردم شماری کرتے وقت یہ دیکھا کہ وہاں کس طرح نئے اور پرانے مہاجرین کے بیچ امتیاز کیا گیا تھا۔ وہ لکھتے ہیں :
’’میں نے گاؤں والوں کو اُن جملوں کا استعمال کرتے ہوئے سنا جو مجھے بے حد اہم معلوم ہوئے۔ نئے مہاجرین کو حقارت آمیز طریقے سے ننّے مونّے بنداور تو، (کل یا پرسوں آتے ہوئے) کہہ کر پکارا جاتا تھا جبکہ پرانے مہاجرین کا ذکر ’ارشو چندا بنداورو‘ (بہت پرانے آئے ہوئے) یا ’کھادم کلا گالو‘ (پرانی نسل) کے طور پر ان کا ذکر کیا گیا تھا۔‘‘ (سری نواس 1996:33)۔
سرگرمی 5
دوسرے ممالک یا ہمارے ملک کے مختلف حصوں سے مہاجرین کے تجربات کے بارے میں معلوم کیجیے۔ آپ کو معلوم ہوگا کہ گروہوں کے رشتے بدلتے اور ترمیم ہوتے رہتے ہیں۔ ایک بیرونی گروہ کے افراد اندرونی گروہ کے افراد تسلیم کر لیے جاتے ہیں۔ کیا آپ تاریخ کے حوالے سے اس عمل کے بارے میں معلومات فراہم کرسکتے ہیں؟
حوالہ گروہ(Reference Group)
لوگوں کے سامنے ہمیشہ ایسے دوسرے گروہ موجود ہوتے ہیں جن کی وہ عزت کرتے ہیں اور ان کے جیسا بننا چاہتے ہیں۔ وہ گروہ جن کے طرز زندگی کی نقل کی جاتی ہے حوالہ گروہ کہلاتے ہیں۔ ہم ایسے گروہوں سے متعلق تو نہیں ہوتے لیکن اپنی شناخت اس گرو سے متعلق ضرور کرواتے ہیں۔ ثقافت، طرززندگی، حوصلہ اور مقاصد کی حصولیابی کے سلسلے میں حوالہ گروہ ایک اہم ذریعہ ہوتے ہیں۔
استعماریت کے زمانے میں کئی متوسط طبقے کے ہندوستانیوں نے بالکل انگریزوں کی طرح عمل کرنے کی کوشش کی۔ اس طرح انہیں جیسی خواہشات رکھنے والے گروہ کے لیے انہیں حوالہ گروہ کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔ لیکن یہ عمل صنفی تفریق پر مبنی تھا یعنی مردوں اور عورتوں کے لیے الگ الگ پیمانے تھے۔ اکثر ہندوستانیو ں جیسے لباس پہننا چاہتے تھے اور انہیں کی طرح کھانا بھی کھانا چاہتے تھے۔ لیکن وہ ساتھ ساتھ یہ بھی چاہتے تھے کہ ہندوستانی خواتین اپنا رہن سہن ہندوستانی ہی رکھیں یا وہ اس کے آرزو مند بھی نظر آتے تھے کہ ہندوستانی خواتین پوری طرح سے نہ سہی پر تھوڑا بہت انگریز خواتین کے رہن سہن کو ضرور اپنائیں۔ کیا آپ اسے آج بھی قابل قبول مانتے ہیں؟
ہم سر گروہ (Peer Groups)
یہ ایک طرح کا ابتدائی گروہ ہے جو عموماً ہم عمر افراد یا یکساں پیشے کے لوگوں کے درمیان بنتا ہے ہم سر دباؤ سے مراد ساتھی کے ذریعہ ڈالے گئے سماجی دباؤ سے ہے کہ انسان کو کیا کرنا چاہیے یا کیا نہیں۔
سرگرمی 6
کیا آپ کے دوست یا آپ کے ہم سر افراد آپ کو متاثر کرتے ہیں کیا آپ اپنے کپڑوں، کردار، اپنی پسند کی موسیقی، اپنے پسند کی فلموں کے بارے میں ان کی پسندیدگی یا ناپسندیدگی سے متاثر ہوتے ہو؟ کیا آپ اسے سماجی دباؤ مانتے ہیں؟ بحث کرو۔
سماجی طبقہ بندی
سماجی طبقہ بندی سے مراد سماجی گروہوں کے درمیان ساخت بند نا برابری کی موجودگی ہے۔ یہ نا برابری مادی یا علامتی انعامات تک رسائی کی شکل میں ہوتی ہے۔ اس طرح طبقہ بندی کی آسان وضاحت و لوگوں کے مختلف گروہوں کی غیر برابری کی شکل کے طور پر کی جاسکتی ہے۔ اکثر سماجی طبقہ بندی کا موازنہ زمین کی سطح پر موجود چٹان کی پرتوں سے کیا جاتا ہے۔سماج کو تقسیم شدہ پرت کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔ جس میں درجہ وار کئی پرتیں شامل ہوتی ہیں۔ سب سے اوپری طبقے کو زیادہ مراعات جب کہ نچلے طبقے کو سب سے کم سہولیات فراہم ہوتی ہیں۔
سماج کی تنظیم میں طبقہ بندی کا اہم مقام ہونے کے سبب اقتدار اور مفاد کی نا برابری سماجیات کے مطالعے کا مرکزی نکتہ رہا ہے۔ ہر ایک فرد اور خاندان کی زندگی کا ہر ایک پہلو طبقہ بندی سے متاثر ہوتا ہے۔صحت، لمبی عمر، حفاظت، تعلیمی کامیابی،کاموں کی تکمیل اور سیاسی اثر و رسوخ کے مواقع یہ تمام چیزیں نا برابری کی تقسیم کو منظم طریقے سے واضح کرتی ہیں۔
تاریخی طور پر انسانی سماج میں طبقہ بندی کے چار اہم نظام موجود رہے ہیں۔ غلامی، ذات ،جاگیر اور طبقہ۔ غلامی نا برابری کی انتہائی شکل ہے جس میں کچھ لوگوں کا دوسروں پر عملاً اختیار ہوتا ہے یہ چھوٹی موٹی شکلوں میں کئی وقتوں اور کئی جگہوں پر موجود رہی ہے۔ لیکن غلامی کی دو اہم مثالیں اٹھارہویں اور انیسویں صدی میں قدیم یونان اور روم اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی جنوبی ریاستوں کی ہیں۔ ایک رسمی ادارے کی شکل میں غلامی کے اس نظام کو آہستہ آہستہ جڑ سے اکھاڑا گیا۔ لیکن ہم نے ابھی بھی بندھوا مزدوری جاری رکھی ہے جس میں زیادہ تر بچے ہی ہوتے ہیں۔ جاگیر دارانہ یوروپ کی خصوصیت جاگیریں رہی ہیں۔ ہم جاگیر کے بارے میں یہاں ذکر نہیں کریں گے بلکہ سماجی طبقہ بندی کے نظام کی شکل کے طور پر ذات اور طبقے کا مختصراً ذکر کریں گے۔ سماجی طبقہ بندی کی شکل کے طور پر طبقہ، ورن، جنس وغیرہ کے بارے میں ہم اگلی کتاب ’’سماج کی سمجھ‘‘ (Understanding Society NCERT-2006) میں پڑھیں گے۔
ذات(Caste)
ذات کی بنیاد پر طبقہ بندی نظام میں فرد کی حیثیت پیدائش کی بنیاد پر حاصل رتبہ پر قائم ہوتی ہے اور یہ حیثیت اس رتبے کی بنیاد پر نہیں ہوتی جو کسی فرد نے خود اپنی زندگی میں حاصل کیا ہو۔ کہنے کا مطلب یہ قطعاً نہیں کہ کسی طبقاتی سماج میں حصولیابی پر نسل اور جنس جیسی حیثیت سے منسوب اوصاف کا مسلط کردہ کوئی منظم دباؤ ہو۔تاہم طبقاتی سماج کے مقابلے میں ذات کی بنیاد پر بنے سماج میں افراد کی حیثیت کا تعین حاصل شدہ رتبے کے ذریعہ ہوتا ہے۔
روایتی ہندوستان میں مختلف ذاتیں سماجی برتری کی تشکیل کرتی ہیں۔ ذات کی ساخت میں ہر ایک کا مقام دوسروں کے تعلق سے اس کی پاکیزگی یا آلودگی کی شکل میں واضح تھا۔ بنیادی عقیدہ یہ تھا کہ پجاری جو کہ برہمن ذات کے تھے۔ سب سے زیادہ پاکیزہ ہیں باقی سبھی لوگوں سے افضل ہیں اور پنچ ماس جن کو کئی ’بار باہری ذات‘ کہا گیا سب سے زیادہ حقیر ہے۔ روایتی نظام کا تصور عموماً برہمن، چھتریہ، ویشیہ اور شودر سے واضح کیا گیا ہے۔ حقیقت میں پیشہ سے منسوب ذات پر مبنی بے شمار گروہ ہوتے ہیں جنہیں Jats کہا جاتا ہے۔
ہندوستان میں ذات کے نظام میں وقت کے ساتھ ساتھ تبدیلی آئی ہے۔ اونچی کہلائی جانے والی ذاتوں کی پاکیزگی کو قائم رکھنے کے لیے اپنی ہی ذات میں شادی (داخلی زوجیت) و مذہبی رسومات میں نیچی کہلائی جانے والی ذاتوں کے ساتھ رابطے سے احتراز ضروری سمجھا جاتا تھا۔ شہری توسیع سے ہونے والی تبدیلیوں سے اسے واقعی خطرہ لاحق ہوا۔ مشہور ماہر سماجیات اے۔ آر دیسائی کے مندرجہ ذیل مشاہدے کو پڑھیے۔ شہر کے دوسرے سماجی اثرات پر ماہرین سماجیات اے۔ آر دیسائی کا تبصرہ اس طرح ہے۔
جدید صنعتوں سے جدید شہر وجود میں آئے جن میں بین الاقوامی ہوٹلوں، ریستران، تھیٹر، ٹرام، بسوں، ریلوں کا جال تھا۔شہروں کے درمیان ہوٹل، ریستراں کام کرنے والوں اور متوسط طبقہ کے لوگوں کے لیے بنایا گیا تھا سبھی ذات اور مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد جمع ہوتے تھے۔ ٹرین اور بسوں میں لوگوں کے کندھے اکثر نچلی ذات والوں کے ساتھ رگڑ جاتے تھے۔۔۔ پھر بھی یہ نہیں فرض کر لینا ایک تفریق چاہیے کہ ذات کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ (دیسائی 1975:248)
تبدیلی تو واقع ہوئی لیکن تفریق (بھید بھاؤ) کو دور کرنا اتنا آسان نہیں ہوتا جیسا کہ صیغہ متکلم میں دیا گیا مخاطب بیانیہ پیش کرتا ہے۔
کسی مل میں اس طرح کا کھلا ہوا بھید بھاؤ نہ ہو جیسا کہ گاؤں میں ہوتا ہے۔ لیکن ذاتی تفاعل کے تجربے سے ایک دوسری کہانی سناتے ہیں۔ پرمار نے مشاہدہ کیا:
’’وہ ہمارے ہاتھوں سے پانی بھی نہیں پیتے تھے اور ہم سے بات چیت کرتے وقت کئی بار نازیبا الفاظ کا استعمال کرتے تھے۔ یہ اس لیے ہے کہ وہ یہ محسوس کرتے تھے اور یقین رکھتے تھے کہ وہ اعلیٰ ہیں۔ برسوں سے ایسا ہی چلا آرہا ہے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ہم کتنا اچھا لباس پہنے ہوتے ہیں۔ وہ کچھ چیزوں کو اپنانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔‘‘ (فرینکو ایٹ ال۔ 2004:150)۔
آج بھی ذات کی بنیاد پر شدید تفریق موجود ہے۔ اس وقت جمہوریت کے طریقۂ کار نے ذات پات نظام کو متاثر کیا ہے۔ مفادی گروہ کے طور پر ذات نے طاقت حاصل کی ہے۔ ہم نے تفریق زدہ ذات والے گروہ کو سماج میں اپنے جمہوری حقوق پر اصرار کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
طبقہ(Class)
طبقہ کی کئی بار وضاحت کرنے کی کوشش کی گئی۔ یہاں ہم مارکس ویبر اور نظریۂ تفا علیت کے مرکزی خیالات کا ذکر مختصراً کریں گے۔ مارکس کے نظریہ میں سماجی طبقہ بندی کی تعریف ان رشتوں کے حوالے سے کی جاتی ہے جو ان رشتوں اور پیدا وار کے ذرائع کے درمیان ہوتے ہیں۔ سوال پوچھا جاسکتا ہے کہ کیا گروہ کا پیداوار کے ذرائع جیسے زمین یا فیکٹری پر بھی حق ہوتا ہے؟ یا وہ صرف اپنی محنت و مشقت سے ہی مالک ہوتے ہیں؟ ویبر نے لفظ ’زندگی کے مواقع‘ کا استعمال کیا ہے جس کا مفہوم بازار کی استطاعت، منافع اور نتیجے سے ہے۔ ویبر یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ نا برابری معاشی تعلقات پر ٹکی ہوسکتی ہے لیکن بے کار اور سیاسی طاقت کی بنیاد پر بھی ہوسکتی ہیں۔
سماجی طبقہ بندی کے تفاعلی نظریے کی شروعات عام مفروضات یا تفاعلیت کے یقین کے ساتھ ہوتی ہے کہ کوئی بھی سماج بے طبقہ اور بغیر طبقہ بندی کے نہیں ہے۔اہم تفاعلی ضروریات اس بات کی وضاحت کرتی ہیں کہ سماجی طبقہ بندی کی موجودگی ہمہ گیر ضرورت کے تحت ہے۔ ہر ایک فرد کو سماجی ڈھانچے میں باقی رکھنے کے لیے الگ الگ ضروریات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے سماجی طبقہ بندی یا نا برابری کو لاشعوری طور پروضع کردہ ایسا سماجی وسیلہ ہے جس کے ذریعے معاشرے اس کا تعین کرتے ہیں کہ اہم ترین منصبوں پر قابل ترین لوگوں کو رکھا جا رہا ہے ۔
کسی روایتی ذات پر مبنی نظام میں سماجی نظامِ مراتب متعین ،سخت گیر، نسل در نسل چلنے والا ہوتا ہے۔ اس کے برعکس جدید طبقاتی نظام کھلاہوا ہے اور حصولیابی پر مبنی ہے۔ جمہوری سماجوں میں کوئی بھی چیز کسی محروم ترین طبقے یا ذات کے فرد کو بیٹھنے سے قانوناً نہیں روکتی ۔
سرگرمی 7
مرحوم صدر کے۔ آر۔ نارائن کی زندگی کے بارے میں اور زیادہ معلومات حاصل کیجیے۔ اس حوالے سے حاصل شدہ اور حاصل کردہ حیثیت، ذات، اور طبقہ کی تصور کی وضاحت کیجیے۔
حصولیابی کی اس قسم کی کہانیاں ضرور موجود ہیں جوحد درجہ تحریک کا سر چشمہ ہیں۔ زیادہ تر حصوں کے لیے طبقاتی نظام کا ڈھانچہ برقرار ہے۔ سماجی حرکت پذیری کا سماجی مطالعہ یہاں تک کہ مغربی سماجوں میں بھی مکمل حرکت پذیری کے مثالی نظریے سے کافی دور ہے۔ سماجیات کو دونوں دعوؤں یعنی ذات کے نظام اور تفریق کی تکرار کے تئیں جذباتی ہونا پڑتا ہے۔ خاص طور پر وہ جو اس نظام کی نچلی سطح پر ہیں نہ صرف سماجی بلکہ معاشی طور پر بھی محروم ہیں۔ دیہی ہندوستان میں آدھی سے زیادہ درج فہرست قبائلی آبادی خط افلاس سے نیچے ہے۔ یہ تناسب درج فہرست ذاتوں کے لیے قدرے کم یعنی تقریباً 43% بلکہ اس سے بھی کم ہے۔ یہ دوسرے پسماندہ طبقوں کے لیے اور کم یعنی تقریباً 34%ہے (دیش پانڈے 2003:114)۔
حیثیت اور کردار(Status and Role)
دو تصورات ’حیثیت‘ اور کردار کو اکثر جڑواں تصور کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ حیثیت ایک سماج یا گروہ میں محض ایک مقام ہے ہر ایک سماج اور ہر ایک گروہ، میں ایسے کئی مقام ہوتے ہیں اور ہر ایک فرد ایک وقت میں ایسے کئی مقام پر فائز ہوتا ہے۔ اس طرح حیثیت سے مراد سماجی مقام اور ان سے وابستہ معین اختیارات اور فرائض سے ہے۔ اس کی مثال یہ ہے کہ ماں کی ایک حیثیت ہوتی ہے جس میں اس کردار کو نبھانے کے کئی معیار ہوتے ہیں اور ساتھ ہی کچھ ذمہ داریاں اور حقوق بھی۔
کردار حیثیت کا حرکی یا کرداری پہلو ہے ۔ حیثیت حاصل کی جاتی ہے لیکن کردار نبھایا جاتا ہے۔ یہاں یہ کہا جاسکتا ہے کہ حیثیت ایک ادارہ جاتی کردار ہے اور یہ وہ کردار ہے جو سماج میں یا سماج کے کسی خاص ادارے میں منضبط، معیاری، اور رسمی بن چکا ہے۔
یہ واضح ہونا چاہیے کہ جدید پیچیدہ سماج میں جیسا کہ ہمارا سماج ہے ایک فرد اپنی زندگی میں مختلف حیثیتوں پر فائز ہوتا ہے۔ ایک اسکول کے طالب علم کی حیثیت سے آپ اپنے استاد کے شاگرد ہوسکتے ہیں، ایک دکان دار کے لیے خریدار، بس ڈرائیور کے لیے مسافر، اپنے ہم ولد کے لیے بھائی یا بہن یا ڈاکٹر کے لیے مریض۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ ہم اس فہرست میں مزید اضافہ کرسکتے ہیں۔ کوئی سماج جتنا چھوٹا اور آسان ہوگا ایک فرد کی حیثیت اس میں اتنی ہی کم ہوگی۔
ایک جدید سماج میں جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ ایک فرد کی بہت سی حیثیتیں ہوتی ہیں جسے سماجیات میں مجموعۂ حیثیت کا نام دیا گیا ہے۔ انسان اپنی زندگی کے مختلف مراحل پر الگ الگ حیثیتوں کو حاصل کرتا ہے۔ ایک بیٹا باپ بن جاتا ہے۔ باپ دادا اور پردادا وغیرہ۔ اسے حیثیت کے ایک سلسلے کا نام دیا جاتا ہے۔ کیونکہ اس کا مفہوم زندگی کے مختلف مراحل پر حاصل کی گئی حیثیتوں سے ہے جن کا ایک تسلسل ہوتا ہے۔
حاصل شدہ حیثیت ایک سماجی حیثیت ہے جسے ایک فرد پیدائش سے حاصل کرتا ہے چاہے وہ اُسے قبول کرے یا نہ کرے۔ حاصل شدہ حیثیت کے لیے عمر، ذات اور رشتہ داری کو اہم اساس مانا گیا ہے۔ آسان اور روایتی سماج حاصل شدہ حیثیتوں سے پہچانے جاتے ہیں۔ دوسری طرف حاصل کردہ (اکتسابی) حیثیت وہ سماجی حیثیت ہے جسے ایک فرد اپنی خواہش، صلاحیت کارکردگی، فضیلت اور پسند کے ذریعہ حاصل کرتا ہے۔ حاصل کردہ حیثیت کے لیے سب سے زیادہ اہم اساس تعلیمی لیاقت، آمدنی، پیشہ ورانہ لیاقت ہے۔ جدید سماجوں کی خصوصیات کا تعین حصولیابی کے ذریعہ کیا جاتا ہے اور اس کے ممبران کو کارکردگی کی بنیاد پر عزت دی جاتی ہے۔ آپ نے اکثر و بیشتر یہ جملہ سنا ہوگا۔ ’’تمہیں اپنے آپ کو ثابت کرنا ہوگا۔‘‘ روایتی سماجوں میں آپ کی حیثیت پیدائش کے ساتھ ہی طے ہوگئی تھی۔ تاہم جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے، جدید سماجوں میں جو حصولیابی پرمبنی سماج ہوتے ہیں اکتسابی حیثیت کی اہمیت رکھتی ہے۔
حیثیت اور وقار ایک دوسرے سے جڑی اصطلاحات ہیں۔ ہر ایک حیثیت کے مطابق حقوق اور قدریں ہوتی ہیں۔ قدریں سماجی رتبے سے وابستہ ہوتی ہیں۔ اس رتبے سے منسوب فرد یا اس کے عمل سے نہیں۔ حیثیت سے وابستہ قدروں کو وقار کہتے ہیں۔ اپنے وقار کی بنیاد پر لوگ اپنی حیثیت کو اونچایا نیچا درجہ دے سکتے ہیں۔ ایک دکاندار کے مقابلے میں ڈاکٹر کا وقار زیادہ ہوتا ہے، اگرچہ اس کی آمدنی کم ہوتو بھی۔ اس پر توجہ دینا ضروری ہے کہ کس پیشہ کو وقار کا پیشہ مانا جاتا ہے۔ یہ تصور سماج اور وقت کے ساتھ بدلتا رہتا ہے۔
سرگرمی 8
آپ کے سماج میں کس طرح کی ملازمت کو باوقار ملازمت مانا جاتا ہے۔ اپنے دوستوں کے ساتھ موازنہ کیجیے۔ یکسانیت اور فرق پر بحث کیجیے۔ اس کے اسباب کو سمجھنے کی کوشش کیجیے۔
لوگ اپنے کردار کو سماجی توقعات یعنی ذمہ داری قبول کرنے اور ذمہ داری نبھانے کے مطابق ادا کرتے ہیں۔ ایک بچہ اس بنیاد پر کسی عمل کو سیکھتا ہے کہ دوسرے لوگ کس طرح اس کے رویے کو جانچتے اور پرکھتے ہیں۔
کرداری کا ٹکراؤ ایک یا زائد ذمہ داریوں سے منسوب کرداروں کے درمیان عدم مطابقت سے ہے۔ یہ اس وقت سامنے آتا ہے جب دو یا زائد کرداروں سے متضاد امیدیں باندھی جائیں۔ ایک عام سی مثال متوسط طبقہ کی ملازمت پیشہ خاتون کی ہوسکتی ہے جسے گھر پر ماں اور بیوی کے کردار میں اور ملازمت کے مقام پر اپنے پیشہ کے مطابق کردار میں مہارت دکھانی پڑتی ہے۔
سرگرمی 9
معلوم کیجیے کہ گھریلو ملازم اور تعمیراتی مزدور کس طرح کے ٹکراؤ کا سامنا کرتے ہیں؟
یہ عام خیال ہے کہ مردوں کو کرداری تصادم کا سامنا نہیں ہوتا۔ سماجیات چونکہ تجرباتی اور تقابلی دونوں میدانوں سے تعلق رکھتا ہے۔مختلف انداز سے اس کی وضاحت کرتا ہے۔
’’کھاسی مادرنسبی مردوں کے لیے شدید کرداری پیدا ہوتی ہے۔ وہ ایک طرف اپنے پیدائشی گھر اور دوسری طرف اپنی بیوی اور بچوں کو لے کر بہت زیادہ پریشان ہوجاتے ہیں۔ وہ اپنے بچوں کو حکم کا پابند بنانے کے خاطر خواہ خود کو اختیار سے محروم محسوس کرتے ہوں اور یہاں تک کہ مرنے کے بعد خود کی کمائی ہوئی جائیداد کو اپنے بچوں کو دینے کی آزادی بھی نہیں ہوتی۔
کھاسی عورت کو یہ دباؤ زیادہ شدت سے متاثر کرتا ہے۔ عورت کو ہر گز پوری طرح یقین نہیں دلایا جا سکتا کہ اس کے شوہر کو خود اپنے گھر کے مقابلے میں اس کی بہن کے گھر میں زیادہ اپنائیت کا احساس نہیں ہوتا۔(نونگ بری 2003:190)۔
کردار کی سانچہ بندی عمل سے جو سماج کے کسی مخصوص کردار کومستحکم کر دیتا ہے۔ مثال کے طور پر مرد اور عورت اکثر سانچہ بند کرداروں میں سماجی طور پر ڈھالے جاتے ہیں یعنی کمانے والے اور گھر چلانے والی کا۔ سماجی کرداروں اور حیثیتوں کو اکثر جامد اور نا قابل تبدیل سمجھا جاتا ہے جو غلط ہے۔ یہ محسوس کیا جاتا ہے کہ افراد ان توقعات کو سمجھنے لگتے ہیں جو کہ کسی معاشرے میں سماجی حیثیت سے ساتھ وابستہ ہوتی ہے۔ وہ ان کرداروں کو اس طرح نبھاتا ہے جس طرح ان کی توضیح کی گئی ہے۔ سماجی اختلاط کے ذریعہ افراد کرداروں کو اپناتے ہیں اور انہیں نبھانا سیکھتے ہیں۔ تاہم اس بات کو سمجھنے میں غلطی ہوئی۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ افراد ذمہ داریوں کو قبول کرتے ہیں نہ کہ ان کی تشکیل یا ان سے سمجھوتہ کرتے ہیں۔ حقیقت میں سماجی اختلاط وہ عمل ہے جہاں افراد ایک بے جان چیز نہیں ہوتے جو کہ صرف حکم یا کسی پروگرام کا انتظار کرتے ہوں۔ افراد لگاتار چلنے والے سماجی تفاعل کے عمل کے ذریعہ سماجی کرداروں کو سمجھنے اور اپنانے لگتے ہیں۔ یہ وضاحت شاید آپ کے لیے فرد اور سماج کے تعلقات کی عکاسی کرے گی جس کے بارے میں ہم نے پہلے باب میں پڑھا تھا۔
کردار اور حیثیت معین اور مقرر نہیں ہوتے۔ لوگ کرداروں اور حیثیتوں میں تفریق کے خلاف لڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر ذات، نسل اور جنس کی بنیاد پر ہونے والی تفریق۔ ان کے ساتھ سماج میں کچھ ایسے بھی شعبے موجود ہوتے ہیں جو ان تبدیلیوں کی مخالفت کرتے ہیں اور اس طرح لوگوں کو اصول توڑنے پر سزا بھی دی جاتی ہے۔ اس لیے سماج نہ صرف کرداروں اور حیثیتوں کے ساتھ بلکہ سماجی ضبط کے ساتھ بھی کام کرنا ہے۔
سرگرمی 10
اخبارات کی رپورٹ جمع کیجیے جہاں سماج کے غالب طبقات ان لوگوں پر کنٹرول کرنے اور سزا دینے کی کوشش کرتے ہیں جنہوں نے سماج کی قدروں کی خلاف ورزی کی ہو اور حد سے تجاوز کیا ہو۔
سماج اور سماجی ضبط (Society and Social Control)
سماجی ضبط سماجیات میں بہت زیادہ استعمال ہونے والا ایک تصور ہے۔ اس سے مراد ان مختلف ذرائع سے ہے جن کے ذریعہ سماج اپنے سرکش اور نافرمان افراد کو دوبارہ راہ راست پر لاتا ہے۔
آپ کو یاد ہوگا کہ تصورات کے معانی کے بارے میں سماجیات مختلف تناظر ات اور مباحث پیش کرتا ہے۔ آپ کو یہ بھی یاد ہوگا کہ کس طرح تفاعلی ماہرین سماجیات نے سماج کو بنیادی طور پر مربوط اور نظریہ تصادم کے حامی ماہرین سماجیات نے اصلاً خاص طور پر غیر مساوی غیر منصفانہ اور استحصالی تصور کیا ہے۔ ہم نے یہ بھی دیکھا کہ کس طرح کچھ ماہرین سماجیات نے فرد اور سماج پر زیادہ توجہ دی ہے اور دوسروں نے طبقہ، نسل اور ذات جیسے مجموعوں پر توجہ دی ہے۔
تفاعلی نظریے کے مطابق سماجی ضبط سے مراد ہے افراد اور گروہوں کے عمل کو مضبوط کرنے کے لیے طاقت کا استعمال۔ سماج میں نظام کو بنائے رکھنے کے لیے قدروں اور مثالوں کو قائم کرنا۔ سماجی ضبط کو ایک طرف افراد یا گروہوں کے منحرف عمل کو باضبط کرنے کے لیے اور دوسری طرف افراد کے درمیان پیدا ہونے والے تناؤ اور تصادم کو کم کرنے کے لیے اور سماج میں نظم و ضبط بنائے رکھنے کے لیے اپنایا جاتا ہے۔ اس طرح سماجی ضبط کو سماج میں استقرار کے لیے ضروری سمجھا جاتا ہے۔
سماجی ضبط کا آخری اور بلا شبہ سب سے پرانا ذریعہ جسمانی طاقت کا استعمال ہے یہاں تک کہ جدید جمہوریت کے کھلے خیالات والے سماج میں بھی آخری دلیل تشدد ہی ہے۔ کسی بھی ریاست کی پولس طاقت یا اس کے مساوی کسی دوسری طاقت کے استعمال کے بغیر نہیں رہ سکتی۔ کسی بھی تفاعلی سماج میں تشدد کے استعمال کو کم سے کم اور آخری حربے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ روز مرہ کے سماجی ضبط کے لیے سختی کے استعمال کا خوف ہی کافی سمجھا جاتا ہے۔ جب افراد ایسے منظم گروہوں میں رہتے ہیں اور کام کرتے ہیں جس میں وہ انفرادی طور پر جانے جاتے ہیں اور جس کے لیے وہ وفاداری کا جذبہ بھی رکھتے ہیں (وہ قسم جسے ماہرین سماجیاتی ابتدائی گروہ کہتے ہیں) تو حقیقت میں بیک وقت انحرافی رویے والے کے لوگوں کو راہ راست پر لانے کے لیے کنٹرول کے طاقتور اور تیز ذریعہ کا استعمال کیا جاتا ہے۔ سماجی ضبط کا ایک پہلو جس پر زور دینا ضروری ہے درحقیقت وہ اکثر غلط دعووں پر مبنی ہوتا ہے۔ ایک چھوٹا بچہ اپنے ہم سر گروہ میں اپنے بڑے بھائی جسے ضرورت کے وقت کسی مخالف کو پیٹنے کے لیے بلا یا جاسکتا ہے، کے ذریعہ اہم ضبط کا کام انجام دے سکتا ہے۔ ایسے کسی بھائی کی غیر حاضری میں بھائی کا تصور کرنا بھی ممکن ہے۔ یہ چھوٹے بچے کے رابطہ عامہ کے ہنرکا سوال ہوگا کہ کیا وہ اپنے تخیل کو حقیقی ضبط میں بدلنے میں کامیاب ہوگا یا نہیں (برجر 84:90)۔
تصادم کے حامی ماہرین سماجیات اکثر سماجی ضبط کو زیادہ تر ایسے نظریے کے طور پر سمجھتے ہیں جس سے سماج کے غالب طبقے کا باقی سماج پر ضبط قائم کیا جاسکتا تھا۔ استحکام کو سماج کے ایک طبقے کا دوسرے طبقے پر مغلوب ہونے کی بنیاد کے ذریعے دیکھا جائے گا۔ اسی طرح قانون کو طاقتوروں اور ان کے مفاد کو سماج پر رسمی اثر کے طور پر دیکھا جائے گا۔
سماجی ضبط کا مفہوم سماجی عمل، تکنیکوں اور طریقہ کار سے ہے جن کے ذریعہ انفرادی یا اجتماعی عمل کو منضبط کیا جاتا ہے۔ اس کے معنی اثرات اور گروہوں کے عمل کو منضبط کرنے کے لیے طاقت کا استعمال ہے اور سماج میں امن و استحکام کے لیے اقدار اور مقررہ طریقے نافذ کرانا ہے۔
سماجی ضبط رسمی یا غیر رسمی ہوسکتا ہے۔ جب ضبط کی قانونی تدوین منظم اور دوسرے رسمی طریقوں کا استعمال کیا جاتا ہے تو یہ رسمی سماجی ضبط کے طریقے اور ذرائع کے طور پر جانا جاتا ہے۔مثال کے طور پر قانون اور ریاست جدید سماج میں سماجی ضبط کے رسمی ذرائع اور طریقوں پر زور دیا جاتا ہے۔
ہر ایک سماج میں ایک دوسری طرح کا بھی سماجی ضبط ہوتا ہے جسے غیر رسمی سماجی ضبط کہتے ہیں۔ یہ انفرادی، غیر سرکاری اور قانوناً غیر تدوین شدہ ہوتا ہے۔ غیر رسمی ضبط کے طریقوں میں ہم مسکراہٹ،منہ چڑانا، اشاراتی زبان، ناراضگی، تنقید، ہنسی مذاق، طنز وغیرہ شامل ہوتے ہیں۔ ایک ہی سماج میں ان کے استعمال میں اختلافات پائے جاسکتے ہیں لیکن روز مرہ کی زندگی میں ان کا بہت زیادہ اثر ہوتا ہے۔
سرگرمی 11
آپ اپنی زندگی سے کچھ ایسی مثالوں کے بارے میں سوچ سکتے ہو کہ غیر سرکاری سماجی ضبط کس طرح کام کرتا ہے؟ کیا آپ نے اپنی جماعت یا اپنے ہم عمر گروہ کا مشاہدہ کیا ہے کہ ایک بچہ جو رویے کا عمل کرتا ہے اس کے ساتھ کیا سلوک کیا جاتا ہے؟ کیا آپ نے ایسے واقعات دیکھے ہیں جب بچوں کو ان کے ہم سر گروہ اس بات کے لیے پریشان کرتے ہیں کہ وہ بھی ان کی طرح بن جائیں؟
پھر بھی بعض معاملات میں سماجی ضبط کے غیر رسمی طریقے تعمیل یا اطاعت نافذ کرنے کے لیے نا کافی ہوسکتے ہیں۔ غیر رسمی سماجی ضبط کے مختلف ذرائع ہیں۔ خاندان، مذہب، رشتے وغیرہ کیا تم نے ناموسی قتل کے بارے میں سنا ہے؟ مندرجہ ذیل اخباری رپورٹ پڑھ کر سماجی ضبط کے مختلف ذرائع کو پہچانیے۔
ذات سے باہر شادی کرنے پر ایک شخص نے اپنی بہن کو جان سے مار ڈالا
پولیس نے پیر کو کہا کہ یہاں ایک انیس سالہ لڑکی کے بڑے بھائی نے اس کا سر قلم کرکے ناموسی قتل کا ارتکاب کیا جب وہ گہری نیند میں سو رہی تھی۔ پولس کے مطابق یہ واقع بروز پیر تب پیش آیا جب وہ لڑکی ایک اسپتال میں داخل تھی اور اس وقت سو رہی تھی۔
منظوری انعام یا سزا کا ایک طریقہ ہے جو سماجی توقعات کے مطابق رویے کی شکلوں کومستحکم رکھتی ہے۔ سماجی ضبط مثبت یا منفی ہوسکتا ہے۔ سماج کے افراد کو توقع کے مطابق اچھا عمل کرنے پر اچھا انعام دیا جاسکتا ہے جب کہ دوسری طرف منفی منظوری کا استعمال اصولوں کو نافذ کرنے کے لیے اور انحراف کی روک تھام کے لیے کیا جاتا ہے۔
انحراف کا مفہوم اس عمل سے ہے جو سماج یا گروہ کے زیادہ تر افراد کے اصولوں یا قدروں کے مطابق نہیں ہوتے ہیں۔ انحراف کو موٹے طور پر مختلف ثقافتوں یا ذیلی ثقافتوں میں فرق کرنے والے اصول اور اقدار تصور کیا جاتا ہے۔ اسی طرح انحراف کے تصورات کو دعووں کا سامنا کرنا پڑا اور یہ دور تبدیل بھی ہوتے رہے۔ مثال کے طور پر ایک سماج میں خلا باز بننے کی خواہش مند خاتون کو ایک وقت میں ضابطے سے منحرف سمجھا جائے گا اور دوسرے وقت میں اس کی تعریف کی جائے گی آپ پہلے ہی یہ جان چکے ہیں کہ کس طرح سماجیات عام شعور سے مختلف ہے۔ اس باب میں آنے والی خاص اصطلاحات اور تصورات معاشرے کی سماجیاتی فہم کی طرف بڑھنے میں آپ کی مدد کریں گے۔
فرہنگ
نظریاتی تصادم (Conflict Theories): ایک سماجیاتی تناظر جو انسانی معاشروں میں موجود، تناؤ تقسیم اور مقابلہ کرنے والی دلچسپیوں پر توجہ مرکوز کرتا ہو۔ نظریۂ تصادم کے ماہرین یہ مانتے ہیں کہ سماج میں ذرائع کی کمی اور ان کی قیمت ہی تصادم کو پیدا کرتی ہے کیونکہ انسانی گروہ ان ذرائع تک رسائی اور اُن پر قابو پانا چاہتے ہیں۔ نظریۂ تصادم کے دوسرے کئی ماہرین مارکس کی تحریروں سے بہت زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔
تفاعلی نظریہ (Functionalism): ایک نظریاتی تصور جو اس خیال پر مبنی ہے کہ سماجی واقعات کو ان کاموں کی شکل میں سب سے اچھی طرح واضح کیا جاسکتا ہے جنہیں وہ ادا کرتے ہیں یعنی سماج کے تسلسل میں اُن کا تعاون کرتے ہیں۔ اگر ہم اس پر غور کریں تویہ معلوم ہوگا کہ سماج ایک پیچیدہ نظام ہے جس کے مختلف اجزاء ایک دوسرے سے مربوط ہوتے ہیں اور قابل فہم انداز میں کام کرتے ہیں۔
شناخت (Identity): ایک فرد یا گروہ کے مزاج کی وہ خصوصیات جو یہ بتاتی ہیں کہ وہ کون ہیں اور ان کے لیے وہ کیا معنی رکھتی ہیں۔ شناخت کے بعض اہم ذرائع میں جنس،قومیت، نسلیت اور سماجی طبقہ شامل ہیں۔
ذرائع پیداوار (Means of Production): وہ ذرائع جن سے سماج میں میں اشیاء کی پیداوار انجام دی جاتی ہے جس میں نہ صرف تکنیک بلکہ پیداوار کے سماجی تعلقات بھی شامل ہوتے ہیں۔
خورد سماجیات اور کلاں سماجیات (Microsociology and Macrosociology): آمنے سامنے کے تفاعل کے دوران روز مرہ کے کردار کا مطالعہ اکثر سماجیات کہلاتا ہے۔ سماجیات میں تجزیہ ذاتی طور پر چھوٹے گروہوں میں ہوتا ہے۔ یہ کلاں سماجیات سے مختلف ہے جو کہ بڑے سماجی ڈھانچے سے وابستہ ہے جیسے سیاسی یا معاشی نظام۔ حالانکہ یہ مختلف دکھائی دیتے ہیں لیکن ان کا آپس میں قریبی تعلق ہے۔
پیدائش (Natal) : یہ کسی کی جائے پیدائش یا وقت سے وابستہ تصور ہے۔
معیار (Norms) : کردار کے اصول جو کسی ثقافت کی قدروں کی ٹھوس شکل کا اظہار کرتے ہیں جو کردار کی دی گئی قسموں کے بارے میں مشورہ دیتے ہیں یا پھر ان کی ممانعت کرتے ہیں۔ معیار کے پیچھے ہمیشہ ایک یا دوسری طرح کی منظوری شامل ہوتی ہے جو غیر رسمی نا منظوری سے رسمی مثال کے طور پر جسمانی سزا یا سزائے موت میں بدلتی رہتی ہے۔
منظوری (Sanctions) : انعام یا سزا کا طریقہ جو سماجی طور پر متوقع کردار کو استحکام فراہم کرتا ہے۔
مشقیں
1۔ سماجیات میں ہمیں خاص اصطلاحات اور تصورات کے استعمال کی ضرورت کیوں ہوئی؟
2۔ سماج کے ایک فرد کے طور پر آپ مختلف گروہوں کے ساتھ تفاعل کرتے ہوں گے؟ سماجیاتی نظریے سے آپ ان گروہوں کو کس طرح دیکھتے ہیں؟
3۔ کیا آپ نے اپنے سماج میں موجود طبقہ بندی کے نظام کا مشاہدہ کیا ہے؟ انسان کی زندگی کس طرح اس طبقہ بندی سے متاثر ہوتی ہے؟
4۔ سماجی ضبط کیا ہے؟ کیا آپ سوچتے ہیں کہ سماج کے مختلف مراحل پر سماجی ضبط کے طریقے الگ الگ ہوتے ہیں؟ بحث کیجیے۔
5۔ مختلف حیثیتوں اور کردار کو پہچانیے جنہیں آپ ادا کرتے ہیں اور جن میں آپ کی شمولیت ہوتی ہو؟ کیاآپ یہ سوچتے ہیں کہ کردار اور حیثیت میں تبدیلی آتی ہے؟ بحث کیجیے کہ یہ کب اور کس طرح بدلتے ہیں۔
مطالعے
برجر، ایل۔ پیٹر 1976 Invitation to Sociology: A Humanistic Perspective ۔ پینگوئن ہارمنڈس ورتھ ۔
باٹومور، ٹوم، اینڈ روبرٹ نسبیٹ، 1978۔ اے ہسٹری آف سوشیولاجیکل انالیسزز۔ بیسک بکس، نیویارک ۔
باٹومور ٹوم۔ 1972 سوشیولاجی، ونٹیج بکس: نیویارک۔
دیش پانڈے، ستیش، 2003 کنٹم پریری انڈیا : اے سوشیولوجیکل ویو، وائی کنگ، دہلی۔
فرنانڈو، فرینکو۔ میک وان، جوتسنا اینڈ راماناتھن سوگنا، 2004 جرنیز ٹو فریڈم دلت نریٹیوز : سامیا، کولکتہ۔
گیڈینس انتھونی، 2001۔ سوشیولاجی : فورتھ ایڈیشن۔ بولیٹی پریس کیمبرج۔
جئے رام این، 1987۔ انٹرو ڈکٹری سوشیولاجی : میک ملین انڈیا لمیٹیڈ، دہلی
نونگبری۔ ٹپلت2003 جینڈر اینڈ دی کھاسی فیملی اسٹرکچر: دی میگھالیہ سکسیشن ٹوسیلف ایکوائرڈ : پروپرٹی ایکٹ، 1984، ان ایڈ ریگے، شرمیلا : سوشیولاجی آف جینڈر دی چیلنج آف فیمینسٹ سوشیولاجیکل نالج، صفحہ 194-182 سیز پبلیکیشنز نئی دہلی۔ صفحہ 183تا 194۔
سری نواس، ایم۔ این۔ 1996 ویلج، کاسٹ، جینڈر اینڈ میتھڈ، آکسفورڈ یونیورسٹی پریس، نئی دہلی۔