باب 3
سماجی اداروں کی فہم
(Understanding Social Institutions)
I
تعارف
اس کتاب کی ابتداء فرد اور سماج کے باہمی تفاعل کے بارے میں بحث کے ساتھ ہوئی۔ ہم نے دیکھا کہ ہم میں سے ہر ایک سماج کا فرد ہونے کی حیثیت سے کسی مقام پر فائز ہوتا ہے۔ ہم میں سے ہر ایک کی ایک حیثیت اور ایک کردار یا پھر بہت سے کردار ہوتے ہیں۔ لیکن یہ اتنے سہل نہیں ہوتے ہیں جنہیں کہ ہم سب نے افراد کی حیثیت سے منتخب کرتے ہیں۔ وہ کردار فلموں کے کردار کی طرح بھی نہیں ہوتے جنہیں ایک اداکار اپنی مرضی سے منظور یا پھر نامنظور کر سکے۔ یہاں سماجی ادارے ہوتے ہیں جو افراد پر دباؤ یا ضبط اور ان کے لیے سزا یا انعام کا فیصلہ کرتے ہیں۔ وہ ادارے ریاست کی طرح ’کلاں‘ سماجی ادارے یا پھر خاندان کی طرح خود سماجی ہو سکتے ہیں۔ یہاں اس باب میں ہم سماجی اداروں سے متعارف ہوں گے اور یہ بھی کہ سماجیات/سماجی بشریات کس طرح ان کا مطالعہ کرتا ہے۔ اس باب میں کچھ اہم سماجی اداروں جیسے (i) خاندان، شادی اور رشتہ داری (ii)سیاست (iii) معاشیات (iv) مذہب (v) تعلیم کے بارے میں مختصراً ذکر کریں گے جس کے ذریعہ بعض اہم مرکزی میدانوں کا ایک نہایت مختصر تصور پیش ہوگا۔
وسیع مفہوم میں ایک ادارہ اُسے کہا جاتا ہے جو بنائے گئے یا کم سے کم قانون یا روایات کے ذریعہ منظور شدہ اصولوں کے مطابق کام کرتا ہے جس کے منضبط اور تسلسلی عمل کو جانے بغیر ہم انہیں سمجھ نہیں سکتے۔ ادارے افراد کے اوپر دباؤ تو قائم کرتے ہی ہیں ساتھ ہی ساتھ یہ افراد کو مواقع بھی فراہم کرتے ہیں۔
اداروں کو اپنے آپ میں مقصد کے طورپر بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ درحقیقت لوگوں نے خاندان ’مذہب‘ ریاست یہاں تک کہ تعلیم کو بھی اپنے آپ میں ایک مقصد کی حیثیت سے ہی دیکھا ہے۔
سرگرمی 1
ایسی مثالوں کے بارے میں سوچیے کہ لوگ کس طرح خاندان، مذہب اور ریاست کے لیے قربانی دیتے ہیں۔
ہم نے پہلے بھی دیکھا کہ سماجیات کے اندر تصورات کی فہم میں تضاد اور اختلاف ہے۔ہم تعاملی اور تصادمی پس منظر سے بھی متعارف ہوئے اور یہ دیکھا کہ انہوں نے ایک ہی چیز پر مختلف پہلوؤں سے نظر ڈالی ہے جیسے طبقہ بندی یا پھر سماجی ضبط۔ اس میں کوئی تعجب نہیں کہ سماجی اداروں کو اور بھی اچھی طرح سے جاننے کے ذرائع ہیں۔
تفاعلی نظریہ سماجی اداروں کو سماجی معیاروں، عقائد، قدروں اور کردار کا ایک پیچیدہ مجموعہ سمجھتا ہے جو سماج کی ضرورتوں کے جواب میں ہوتے ہیں۔ سماجی ادارے سماجی ضروریات کی تسکین کے لیے ہوتے ہیں۔ اس طرح سماج میں ہمیں رسمی و غیر رسمی سماجی ادارے دکھائی دیتے ہیں جیسے خاندان اور مذہب غیر رسمی سماجی اداروں کی مثال ہیں جبکہ قانون اور (رسمی) تعلیم رسمی سماجی ادارے ہیں۔
تصادمی فکر والوں کا ماننا ہے کہ سماج میں تمام افراد کا یکساں مقام نہیں ہوتا۔ تمام سماجی ادارے چاہے وہ خاندان، مذہب سیاست معیشت، قانون، تعلیم، طبقہ، ذات برادری یا جنس کے حوالے سے ہو سماج کے غالب طبقوں کے حق میں ہی عمل پذیر ہوتے ہیں۔ بااثر سماجی عمل نہ صرف سیاسی اور معاشی اداروں پر اپنا حق جماتے ہیں بلکہ وہ یہ بھی طے کرتے ہیں کہ حکمراں طبقہ کی فکر سماج کی فکر بن جائے۔ سماج کی عام ضروریات کے نظریہ سے یہ فکر بہت ہی مختلف نظرآتی ہے۔
جیسے جیسے آپ اس باب کا مطالعہ کریں گے آپ یہ سوچ سکیں گے کہ کس طرح سماجی ادارے افراد پر ضبط (کنٹرول) قائم کرتے ہیں اور ساتھ ہی مواقع بھی فراہم کرتے ہیں۔ آپ اس پر بھی توجہ دیں گے کہ سماج کے مختلف طبقوں پر کیا ان کا اثر غیر مساوی ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر آپ یہ بھی پوچھ سکتے ہیں کہ خاندان کس طرح مردوں اور عورتوں پر دباؤ قائم کرنے کے ساتھ ہی ساتھ انہیں مواقع بھی فراہم کرتے ہیں؟ سیاسی یا قانونی ادارے کس طرح مراعات اور بے دخلی کو متاثر کرتے ہیں؟
II
خاندان، شادی اور رشتہ داری
شاید دوسری کوئی شناخت اتنی فطری نہیں جتنا کہ خاندان۔ عموماً ہم یہ اندازہ لگاتے ہیں کہ دو سرے تمام خاندان بھی ویسے ہی ہیں جیسا کہ ہمارا خاندان جس میں کہ ہم رہتے ہیں۔ کوئی اور سماجی ادارہ اتنا عمومی اور غیر تغیر پذیر نہیں رہا جتنا کہ خاندان، سماجیات اور سماجی بشریات نے کئی دہائیوں تک مختلف بین ثقافتوں میں یہ ظاہر کرنے کے لیے حلقہ جاتی تحقیق کی کہ مختلف سماجوں میں خاندان، شادی اور متعلقہ اداروں کی الگ شکل وصورت ہونے کے باوجود بھی یہ ادارے سماج کے لیے اہم ہوتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ خاندان، (نجی حلقہ) معاشی، سیاسی، ثقافتی و تعلیمی (عمومی حلقہ) حلقے سے کس طرح وابستہ ہوتا ہے۔ آپ کو پھر سے یہ یاد کرایا جاسکتا ہے کہ مختلف حلقوں سے تبادلۂ خیال کی ضرورت کیوں پڑتی ہے جس کا ذکر ہم نے باب 1 میں کیا تھا۔
تفاعلی فکر کے ماہرین کا ماننا ہے کہ خاندان اہم کاموں کو انجام دیتا ہے جو کہ سماج کی بنیادی ضرورتوں اور سماج کے نظم و ضبط کو مستقل بنانے میں معاون ہوتے ہیں۔ تفاعلی نظریہ یہ دلیل دیتا ہے کہ اگر خواتین خاندان کی دیکھ بھال کریں اور مرد خاندان کے لیے روزی روٹی کمائیں تب جدید صنعتی سماج کے وظائف اچھی طرح ادا ہوتے ہیں۔ پھر بھی ہندوستان میں دوسرے مطالعے کے ذریعہ یہ پتہ چلتا ہے کہ صنعتی و معاشی طرز کے تحت خاندانوں کو مرکزی (نیوکلیئر) ہونے کی ضرورت نہیں (سنگھ 83:1993) یہ صرف ایک مثال ہے جو یہ ظاہر کرتی ہے کہ کس طرح ایک سماج کی طرز جو کہ تجربہ کی بنیاد پر ہے ہم اُسے لازماً عمومی نہیں بناسکتے۔
تفاعلی نظریہ کے ماہرین نے مرکزی خاندان کو صنعتی سماج کے تقاضوں سے نپٹنے والی بہترین فیصلہ اکائی کے طور پر دیکھا ہے۔ اس قسم کے خاندان میں گھر کا ایک بالغ فرد گھر سے باہر کام کرتا ہے اور دوسرا بالغ فرد گھر اور بچّوں کی دیکھ بھال کرتا ہے۔ عملی طور پر نیوکلیئر خاندان میں ان مساوتی کرداروں میں شوہر کو روز ی کمانے والے کے طور پر مشینی طرز کا کردار اپناناہوتا ہے عورت کو خاندان کے ڈھانچہ میں موثر جذباتی کردار ادا کرنے والی تصور کیا جاتا ہے (گیڈینس- 2001) اس تصور پر صرف صنفی ناانصافی کے سبب سوالیہ نشان نہیں لگتا بلکہ اس لیے بھی کہ جو تجرباتی مطالعہ دوسری ثقافتوں میں انجام دیے گئے ہیں اور تاریخ یہ واضح کرتی ہے کہ یہ حقیقت نہیں ہے۔ حقیقت میں آپ کام اور معیشت کی بحث میں دیکھیں گے کہ سلے ہوئے کپڑوں کی برآمدات جیسی موجودہ صنعت میں عورتوں کی محنت و مزدوری کا بہت بڑا حصّہ شامل ہوتا ہے۔ تعلقات کے ٹوٹنے سے بھی اس بات کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ مرد ہی گھروں کے حاکم اعلیٰ ہوتے ہیں۔ نیچے دیا ہوا باکس اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ ضروری نہیں کہ یہ سچ ہو۔
خاندان کی شکلوں میں فرق
ہندوستان میں مرکزی خاندانوں سے مشترکہ خاندانوں کے چلن کے بارے میں ایک اہم بحث چھڑ گئی ہے۔ ہم نے پہلے بھی یہ دیکھا کہ سماجیات کس طرح عام شعور کے تاثرات پر سوال کھڑے کر چکا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مرکزی خاندان ہندوستان میں ہمیشہ سے محروم ذاتوں اور طبقوں میں خاص طور پر موجود رہا ہے۔
عورت کی سربراہی والے خاندان
جب مرد شہروں کی طرف ہجرت کر جاتے ہیں تو خواتین کو کھیت کی جتائی اور کھیتی کے کاموں کی دیکھ ریکھ کرنی ہوتی ہے۔ کئی بار وہ اپنے گھر کو چلانے والی تنہا خاتون بن جاتی ہے۔ اس قسم کے گھروں کو خاتون مرکوز گھر کے نام سے جانا جاتا ہے۔ بیوگی بھی اس قسم کے گھروں کے نظام کی تخلیق کرتی ہے یا اس طرح کی صورتِ حال مردوں کی دوسری شادی کرلینے اور اپنی پہلی بیوی بچّوں یا دوسرے افراد جو کہ اُس پر منحصر تھے انہیں وقت پر پیسہ نہ بھیجنے کے سبب بھی پیدا ہو سکتی ہے۔ ایسے حالات میں عورت کو خود ہی اپنے خاندان کی کفالت کرنی ہوتی ہے۔ جنوبی-مشری مہاراشٹر اور شمالی آندھراپردیش کے کولم قبائلی طبقوں میں خواتین مرکوز گھر ایک منظور شدہ ضابطے کے طور پر تسلیم کیے جاتے ہیں۔
|
یہ قبول کرتا ہوں کہ ان میں سے زیادہ تر مشترکہ خاندانوں میں رہتے تھے۔ (شاہ : 1998)
یہ پھر سے ایک وسیع تعمیم (Generalisation) ہے لیکن سماجیاتی پس منظر میں یہ ہمیں عام شعور کے تاثرات پر آنکھ بند کر کے یقین کرنے کے خلاف محتاط کرتا ہے اور یہ واضح کرتا ہے کہ مشترکہ خاندان تیزی سے ختم ہورہے ہیں۔ یہ ہمیں اس بات سے بھی آگاہ کرتا ہے کہ محتاط تقابلی اور تجرباتی مطالعے کی ضرورت ہے۔
غور کیجیے کہ کس طرح خاندان اور رہائش میں فرق ہوتا ہے۔

کام اور گھر
مطالعات سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ کس طرح مختلف سماجوں میں خاندان کی الگ الگ شکلیں موجود ہیں۔رہائش کے قانون کے مطابق کچھ سماج اپنے شادی اور خاندانی روایات میں مادر نسبی ہیں جبکہ دوسرے پدر نسبی۔ پہلی صورت کے حوالے سے نئے شادی شدہ جوڑے کو بیوی کے والدین کے ساتھ رہنا پڑتا ہے جب کہ دوسری صورت میں شادی شدہ جوڑے کو شوہر کے والدین کے ساتھ رہنا پڑتا ہے۔ پدرنسبی خاندانوں کے نظام میں اختیارات اور غلبہ مردوں کے پاس ہوتا ہے۔ مادر نسبی خاندان میں خواتین خانگی کے معاملات میں فیصلہ لینے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں جہاں بھی مادر نسبی خاندان موجود ہیں اُن تمام باتوں کا دعویٰ مادر نسبی خاندانوں کے بارے میں نہیں کیا جاسکتا ہے۔
خاندان دوسرے سماجی حلقوں اور خاندانی تبدیلیوں سے مربوط ہوتے ہیں
ہم روز مرہ کی زندگی میں عموماً یہ دیکھتے ہیں کہ خاندان دوسرے حلقوں جیسے معاشی یا سیاسی حلقوں سے علاحدہ اور مختلف رہتے ہیں۔ پھر بھی آپ یہ دیکھیں گے کہ خاندان، گھر بار، اس کی ساخت اور اصولوں سے سماج بہت زیادہ جڑے ہوتے ہیں۔ ایک دلچسپ مثال جرمنی کو متحد کرنے کے نامعلوم نتائج کی ہے۔ 1990 کی دہائی میں متحد ہونے سے قبل خاندانوں کو حاصل سہولیات جو کہ حفاظت و فلاح و بہبود کے تحت مہیا کرائی گئی تھیں انہیں نئی جرمن حکومت نے واپس لے لیا جس کے سبب جرمنی میں شادی کے نظام میں بہت تیزی کے ساتھ گراوٹ دیکھی گئی۔ غیر محفوظ معاشی حالات میں اضافہ کے احساس کی وجہ سے لوگ شادی سے انکار کرنے لگے۔ اس معاملہ کو بھی ایک نامعلوم نتیجہ کے طور پر سمجھا گیا (باب 1)۔
اس طرح کلاں معاشی عمل کے سبب خاندان اور رشتہ داری میں تبدیلی آتی رہتی ہے لیکن اس تبدیلی کی سمت تمام ممالک اور حلقوں میں ہمیشہ ایک جیسی نہیں ہو سکتی۔ ان کے علاوہ اس کا یہ بھی مفہوم نہیں کہ پچھلے سارے معیار اور ڈھانچے پوری طرح برباد ہو گئے بلکہ تبدیلی اور تسلسل پہلو بہ پہلو ملتے ہیں۔
1901-2001 کے بیچ ہندوستان میں جنس کا تناسب
| جنسی تناسب | سال | جنسی تناسب | سال |
| 946 941 930 926 {927}* |
1951 1961 1971 1981 1991 |
972 964 955 950 945 |
1901 1911 1921 1931 1941 2001 |

فیملی کس طرح جنس پر مبنی ہوتی ہے؟
لوگوں میں یہ عقیدہ عام تھا کہ لڑکا ضعیفی میں والدین کا سہارا بنے گا اور لڑکیاں شادی کے بعد گھر سے چلی جائیں گی۔ نتیجہ میں خاندان میں لڑکوں پر زیادہ خرچ ہونے لگا۔ اس حیاتیاتی حقیقت کے باوجود کہ لڑکوں کے مقابلے لڑکیوں کے زندہ رہنے کے بہتر مواقع ہوتے ہیں ہندوستان میں کم عمر میں مرنے والے گروہوں میں لڑکیوں کی تعداد لڑکوں کے مقابلہ میں بہت زیاد ہے۔
| دختر جنین کشی (Female Focticide) کے واقعات سے لڑکیوں کی جنسی تناسب میں یکایک گراوٹ آنے لگی۔ بچوں میں جنس کاتناسب 2011 میں گھٹ کر ایک ہزار لڑکوں کے مقابلے 919لڑکیاں اور پھر 2001 میں ایک ہزار لڑکوں کے مقابلے یہ اوسط 927 رہ گیا ہے۔ بچوں کی تعداد میں جنس کے تناسب کی بنیاد پر تنزلی میں فی صد اضافہ کسی بڑے خطرے کا پیش خیمہ ہے۔وہ صوبے جو خوشحال ہیں جیسے پنجاب، ہریانہ، مہاراشٹر اور مغربی شمالی صوبے اُن میں حالات اور بدتر ہیں۔ پنجاب میں ایک ہزار لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کا تناسب گھٹ کر صرف 846 رہ گیا ہے۔ پنجاب اور ہریانہ کے کچھ ضلعوں میں یہ تناسب گر کر 800 سے بھی نیچے آگیا ہے۔ |
سرگرمی 2
ایک تیلگو عبارت واضح کرتی ہے: ایک بیٹی کی پرورش کرنا دوسروں کے آنگن میں پودے کو پانی دینے کی طرح ہے۔ ایسی دوسری کہاوتوں کا پتہ لگائیں جو کہ اس کے برعکس ہیں۔بحث کیجیے کہ کس طرح مشہور سماجی کہاوتیں معاشرے کی سماجی روایات کی جھلک پیش کرتی ہیں۔ |
شادی کا ادارہ
تاریخی اعتبار سے شادی کی وسیع قسمیں اور شکلیں مختلف سماجوں میں موجود رہی ہیں۔ یہ بھی پایا گیا کہ یہ مختلف وظائف انجام دیتا ہے۔حقیقت میں شادی کرنے والے جوڑوں کے لیے جس طرح کا اہتمام کیا جاتا ہے وہ اس کا انکشاف کرتا ہے کہ شادیوں میں رسم ورواج کی حیرت انگیز قسمیں موجود ہیں۔
سرگرمی 3
مختلف سماجوں میں شادی کے ساتھیوں کی تلاش کے مختلف طریقوں کے بارے میں معلومات حاصل کیجیے۔ |
شادی کی قسمیں
شادی کی بہت سی قسمیں ہیں۔ ان قسموں کو شادی کرنے والے جوڑوں کی تعداد اور کون کس کے ساتھ شادی کر سکتا ہے، کے ضابطے کی بنیاد پر پہچانا جاسکتا ہے۔ قانونی طور پر شادی کرنے والے جوڑوں کی تعداد کے حوالے سے شادی کی دو قسمیں پائی جاتی ہیں۔ (1) یک زوجیت (2) کثیر زوجیت۔ یک زوجیت افراد پر یہ پابندی عائد کرتی ہے کہ ایک وقت میں ایک ہی کے ساتھ شادی ہو سکتی ہے۔ اس نظام کے تحت ایک وقت میں ایک مرد صرف ایک ہی عورت کے ساتھ اور ایک عورت ایک ہی مرد کے ساتھ شادی کر سکتی ہے۔ یہاں تک کہ جہاں کثیر زوجیت کی اجازت ہے حقیقت میں وہاں پر بھی یک زوجیت کا رِواج وسیع پیمانہ پر پایا جاتا ہے۔
زیادہ تر سماجوں میں افراد کو دوبارہ شادی کرنے کی اجازت اپنے شریک حیات کی موت یا پھر طلاق کی صورت میں ہوتی ہے لیکن اُن کے بھی ایک وقت میں ایک سے زیادہ شوہر یا بیویاں نہیں ہو سکتے۔ اس طرح کی یک زوجیت کو سلسلہ وار یک زوجیت کا نام دیا جاتا ہے۔ زیادہ تر مقامات پر بیوی کی موت کے بعد شوہر کو دوسری شادی کرنے کا رواج رہا ہے لیکن جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ اعلیٰ ہندو طبقے کی بیواؤں کو دوبارہ شادی کرنے کی ممانعت تھی۔ لیکن بیواؤں کی دوبارہ شادی کرنے کا مسئلہ 19 ویں صدی کی اصلاحی تحریک کی مہم کا ایک اہم حصہ بن گیا تھا۔ شاید آپ کو اس بارے میں بہت زیادہ معلومات نہ ہوں کہ آج کے جدید ہندوستان میں عورتوں کی آبادی کا تقریباً 10 فی صد حصّہ وہ ہے جس میں 55 فی صد وہ عورتیں ہیں جن کی عمر پچاس سال سے زیادہ ہے اور وہ بیوہ ہیں (چین 2000:353 )۔
کثیر زوجیت وہ قسم ہے جو ایک وقت میں ایک سے زائد شریک حیات پر مبنی ہے۔ اس میں نا تو کثیر زوجیت (ایک شوہر کے ساتھ دو یا زائد بیویاں) یا کثیر شوہری (ایک بیوی کے دو یا زائد شوہر) کی شکل پائی جاتی ہے۔ عموماً جن سماجوں میں معاشی حالات سخت ہوتے ہیں ان سماجوں میں اس قسم کی شادیاں ایک خواب ہو سکتی ہیں۔ کیونکہ ان حالات میں تنہا ایک مرد اپنی بیوی اور بچوں کی کفالت اچھی طرح نہیں کر سکتا اس کے علاوہ بہت زیادہ غریبی کے حالات بھی لوگوں پر محدود آبادی کے لیے دباؤ ڈالتے رہتے ہیں۔
شادیوں کے معاملے میں اہتمام: اصول اور ہدایت
کچھ ایک سماجوں میں شادی کرنے والے ساتھیوں کا انتخاب والدین/رشتہ داروں کے ذریعہ کیا جاتا ہے جبکہ کچھ ایسے بھی دوسرے سماج موجود ہیں جن میں اپنے ساتھی کے انتخاب کو لے کر افراد کو مقابلتاً زیادہ آزادی حاصل ہوتی ہے۔
داخلی و خارجی زوجیت کا اصول
کچھ سماجوں میں شادی کو لے کر پابندیاں گہری ہوتی ہیں جبکہ دوسرے چند سماجوں میں شادی کرنے یا نہ کرنے کے اصول بہت ہی زیادہ واضح اور خاص طور پر معیّن ہوتے ہیں۔ شادی کی قسموں کو اس اصول کے تحت بنایا جاتا ہے کہ شادی کرنے والا اہلیت/نااہلیت رکھتا ہے یا نہیں۔ اسی بنیاد پر شادیوں کو داخلی و خارجی زوجیت میں بانٹا گیا ہے۔
داخلی زوجیت کے اصول کے تحت ایک فرد کو اسی ثقافتی گروہ کے اندر شادی کرنی ہوتی ہے جس کا کہ وہ رکن ہے۔ مثال کے طور پر ذات، خارجی زوجیت میں داخلی زوجیت کے برعکس فرد کو اپنے /اپنی گروہ سے باہر شادی کرنی ہوتی ہے۔ داخلی وخارجی زوجیت کو رشتہ داری کی چند اکائیوں کے حوالہ سے جانا جاتا ہے جیسے کہ گوتر، ذات، نسل اور نسلیاتی یا مذہبی گروہ۔ ہندوستان میں خاص طور پر شمالی ہندوستان کے کچھ حصّوں میں دیہاتی خارجی زوجیت کا چلن ہے۔ دیہاتی خارجی زوجیت اس بات کا تعین کرتی ہے کہ بیٹیوں کی شادیاں اُن خاندانوں میں کی جائیں جن کا گھر گاؤں سے دور ہو۔ یہ اس بات کو یقینی صورت دیتا ہے کہ دلہن کا اپنے سُسرالی گھر کے ساتھ خوشگوار تال میل اُس کے گھر والوں کی دخل اندازی کے بغیر اچھی طرح سے چلتا رہے۔ جغرافیائی دوری اور اس پر غیر مساوی تعلقات جو کہ پدرنسبی نظام میں موجود ہیں اس کو یقینی شکل دیتے ہیں کہ شادی شدہ لڑکیاں اکثر اپنے والدین سے مل نہیں پاتیں۔ اس طرح اپنے آبائی گھر سے لڑکی کا جدا ہونا یقینا تکلیف دہ موقع ہوتا ہے۔ رخصتی کی اس تکلیف کو لوگ گیتوں میں مرکزی تصور بنا کر اس طرح پیش کرتے ہیں۔
بابا ہم پرندوں کے جھُنڈ کی طرح ہیں
ہمیں دور اُڑنا ہوگا: ہماری اُڑان بہت لمبی ہوگی،
ہمیں نہیں معلوم کہ ہم کہاں جائیں گے؛
بابا میری پالکی آپ کے محل سے نہیں جاسکتی
(کیونکہ اس کے دروازے بہت چھوٹے ہیں)
بیٹی، میں ایک اینٹ نکال دوں گا
(راستے کو بڑا کرنے کے لیے تاکہ تیری پالکی اُس میں سے چلی جائے)
لیکن تجھے اپنے گھر جانا ہوگا
(چنّنا : WS26:1993 )
اپنے خوبصورت بال میں کنگھاکرلو
دولھا جلد آئے گا اور تمہیں دور لے جائے گا
ڈھول تیز تیز بج رہے ہیں شہنائی کی مدھم مدھم آواز سنائی دے رہی ہے
کسی اجنبی کا بیٹا مجھے چھین لے گا
میرے کھیل کے ساتھیو اپنے کھلونوں کے ساتھ آؤ
آؤ کھیل لیں اور پھر کبھی نہیں کھیل پائیں گے
جب میں کسی اجنبی کے گھر روانہ ہو جاؤں گی۔
سرگرمی 4
شادی کے مختلف گیتوں کو جمع کیجیے اور بحث کیجیے کہ وہ شادی اورصنفی رشتوں کی
سماجی حرکیات کس طرح عکاسی کرتے ہیں
|
سرگرمی5
کیا آپ نے کبھی شادی کے اشتہارات دیکھے ہیں؟ اپنی جماعت کو گروہوں میں تقسیم کیجیے اور مختلف اخبارات، رسالے اور انٹرنیٹ دیکھیے۔ اپنے نتائج پر بحث کیجیے۔ کیا آپ سوچتے ہیں کہ داخلی زوجیت کا اصول آج بھی رائج ہے؟ شادی کے لیے انتخاب کو سمجھنے میں یہ آپ کی کس طرح مدد کرتے ہیں؟ زیادہ اہم یہ ہے کہ یہ سماج میں کس طرح کی تبدیلیوں کی طرف اشارہ کرتا ہے؟ |
خصوصاً جو خاندان، رشتہ داری اور شادی کی وضاحت کرنے والے
خاندان ایسے افراد کا ایک گروہ ہے جو بلاواسطہ قرابت داری کی بنیاد پر ایک دوسرے سے وابستہ رہتے ہیں اور جس کے بالغ ممبران کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ بچوں کی دیکھ بھال کریں۔ رشتہ داری افراد کے درمیان تعلقات کی ایک ڈور ہوتی ہے جو یا تو شادی کے ذریعہ یا پھر ورثہ میں ملتی ہے اور جو خون کے رشتہ داروں کو آپس میں جوڑتی بھی ہے (ماں، باپ، بھائی بہن وغیرہ)۔ شادی کو دو بالغ (مرد اور عورت) افراد کے درمیان سماجی معلومات اور جائز جنسی تعلقات کی سماجی منظوری کی حیثیت سے واضح کیا جاسکتا ہے۔ جب دو افراد کی شادی ہوتی ہے تو آپس میں تعلقات بھی قائم ہوتے ہیں اس طرح شادی کا رشتہ لوگوں کو آپس میں وسیع پیمانے پر جوڑتا ہے۔ کسی شوہر یا بیوی کے والدین، بھائی، بہن اور دوسرے خونی رشتہ دار شادی کے ذریعہ آپس میں رشتہ دار بن جاتے ہیں۔آبائی مقام پر آباد خاندان شناختی خاندان کہلاتا ہے اور جس خاندان میں کسی شخص کی شادی ہوتی ہے وہ افزائش نسل والا خاندان کہلاتا ہے۔ خون کے رشتہ داروں کو ہم جدّی اور شادی کے ذریعہ بننے والے رشتوں کو نسبی رشتہ کہتے ہیں۔ کام اور معاشی اداروں کو لے کر جب ہم اگلے حصّہ میں بڑھیں گے تو آپ دیکھیں گے کہ کیسے خاندان اور معاشی زندگی کا آپس میں گہرا تعلق ہوتا ہے۔
III
کام اور معاشی زندگی
کام کیا ہے؟
بچوں اور نوعمر طالب علموں کی حیثیت سے ہم یہ تصوّر کرتے ہیں کہ جب ہم بڑے ہوں گے تو ہم کس طرح کا کام کریں گے۔ یہاں کام سے مراد اجرتی روزگار سے ہے۔ جدید دور میں کام کی سب سے زیادہ واضح تشریح یہی ہے۔
یہ حقیقت ایک سادے تصور کو واضح کرتی ہے، بہت سے کاموں کی قسمیں اجرتی روزگار کے تصور کے مطابق نہیں ہوتیں۔ مثال کے طور پر غیر رسمی معیشت میں اختیار کیے جانے والے بیشتر روزگار کو بلاواسطہ طور پر رسمی روزگار کی شماریات میں درج نہیں کیا جاتا ہے۔ غیر رسمی معیشت کا مفہوم باقاعدہ روزگار کے دائرے سے ہٹ کر کیا جانے والا بیرونی معاملہ ہے۔ اس میں عموماً کیے گئے کام یا خدمات کے بدلے میں نقد ادائیگی کی جاتی ہے لیکن کبھی کبھی ان میں اشیاء یا خدمات کا سیدھا مبادلہ بھی ہوتا ہے۔
ہم کام کو جسمانی اور ذہنی محنت سے کیے جانے والے اُجرتی یا غیر اُجرتی کاموں کے طور پر جان سکتے ہیں جن کا مقصد انسان کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اشیاء اور خدمات کی پیداوار کرنا ہے۔
کام کی جدید شکلیں اور تقسیم محنت
سماج کی قبل جدید شکلوں میں لوگ زیادہ تر زراعت کرتے تھے یا مویشی پالتے تھے تاکہ اُن سے گزربسر ہو سکے۔ صنعتی ترقی یافتہ سماج میں صرف تھوڑی سی آبادی ہی ہے جس کا پیشہ زراعت ہے اب تو زراعت کا پیشہ خود بھی صنعتی بن چکا ہے کیونکہ زیادہ تر کام اب مشینوں سے ہوتے ہیں نہ کہ ہاتھوں سے۔ ہندوستان جیسے ملک کی زیادہ تر آبادی آج بھی گاؤں میں رہتی ہے اور زراعت و دوسرے گاؤں سے متعلق پیشوں کو اپنائے ہوئے ہے۔
| ایسا کوئی بھی پیشہ نہیں تھا جسے ٹنّی کی گرینی نے زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پر آزمایا نہ ہو۔ اپنی پیالی اُٹھانے کی عمر سے ہی اس نے روزانہ دو وقت کی روٹی اور کپڑوں کے عوض میں لوگوں کے گھروں میں متفرق کام کرنا شروع کر دیا تھا۔ متفرق کاموں کے صحیح معنی کیا ہیں یہ وہ ہی لوگ جان سکتے ہیں جنہوں نے دوسرے بچوں کے ساتھ ہنسنے اور کھیلنے کی عمر میں وہ نوکری کی ہو۔ بچّے کے جھنجھناہلانے سے لے کر، ماسٹرجی کے سر کی مالش کرنے تک کوئی بھی غیر دلچسپ کام ’متفرق نوکری‘ کی فہرست میں آتا ہے۔(تغتائی 2004:125)۔ اپنے مشاہدے کے ذریعہ یا ادب اور یہاں تک کے فلموں سے بھی اس طرح کیے گئے مختلف قسم کے کاموں کے بارے میں معلوم کیجیے اور ان پر بحث بھی کیجیے |

مختلف نوعیت کے کام
سرگرمی 6
دیہی پیشوں سے جڑے ہندوستانیوں کے تناسب کے بارے میں معلوم کیجیے جو کہ ساتھ ہی ان پیشوں کی ایک فہرست بھی تیار کریں۔ |
ہندوستان میں اور بھی دوسرے رجحانات ہیں جیسے کہ خدماتی سیکٹر میں توسیع، جدید سماجوں کے معاشی نظام کی ایک
سب سے اہم خصوصیت تقسیم محنت کا اعلیٰ پیچیدہ نظام لاتعداد اور مختلف پیشوں میں تقسیم ہو گیا ہے جن میں لوگوں نے مہارت حاصل کر لی ہے۔روایتی سماجوں میں غیر زراعتی کام کو دستکاری کی مہارت کے ساتھ جوڑا جاتا تھا۔ دستکاری کے ہنر کو لمبی تربیت کے ذریعہ سیکھا جاتا تھا۔ دستکار عموماً کاریگری کے ہر ایک حصّہ کو شروع سے لے کر آخر تک انجام دیتے تھے۔
سرگرمی 7
معلوم کیجیے کہ حالیہ برسوں میں کیا ہندوستان میں خدماتی سیکٹر میں بھی تبدیلی آئی۔ وہ سیکٹر کون سے ہیں؟ |
جدید سماج اس بات کا بھی شاہد ہے کہ کام کے موقع و محل میں بھی تبدیلی آئی ہے۔ صنعتی تحریک سے پہلے زیادہ تر کام گھر پر کیے جاتے تھے اور کام کو انجام دینے میں گھر کے سبھی لوگ اجتماعی طور پر ہاتھ بٹاتے تھے۔صنعتی تکنیک میں ترقی جیسے بجلی اور کوئلے سے چلنے والی مشینوں نے بھی کام اور گھر کے درمیان علاحدگی میں ہاتھ بٹائے سرمایہ داروں کے کارخانے صنعتی ترقی کا اصلی مرکز بن گئے۔
سرگرمی8
کیا آپ نے کسی ماہر بنکر کو کام کرتے ہوئے دیکھا ہے؟ معلوم کیجیے کہ ایک عدد شال تیار کرنے میں کتنا وقت لگتا ہے؟ |
کارخانوں میں ملازمت کرنے والے لوگ مہارتی کام میں تربیت یافتہ تھے جس کے بدلے انہیں مزدوری بھی ملتی تھی۔ مزدوروں میں پیداوار کی مقدار اور نظم و ضبط کو برقراررکھنے کے لیے منیجر ان کے کاموںکی نگرانی کرتا تھا۔
جدید سماجوں کی ایک اہم خصوصیت ہے معاشی باہمی انحصار کا بہت زیادہ پھیلاؤ۔ہم سب اُن کاریگروں پر منحصر رہتے ہیں جو ہماری زندگی کی ضرورتوں کو قائم رکھنے والی اشیاء اور خدمات کے لیے پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔بعض استثنا کے ساتھ جدید سماجوں میں زیادہ تر لوگ اسی غذا، اپنے مکان یا اپنی ضرورت کی اشیاء خود نہیں پیدا کرتے۔
| سرگرمی 9 اپنے رہائشی مکان میں استعمال ہونے والے سامان اور کپڑے جنھیں آپ پہنتے ہیں ان سب کی ایک فہرست تیار کریں اور یہ بھی معلوم کریں کہ انہیں کس نے اور کیسے تیار کیا؟ |
کام کی قلبِ ماہیت /کایا پلٹ
صنعتی سلسلۂ عمل کاریاں ان آسان اعمال میں تقسیم ہو گئیں جن کی درست طور پر وقت بندی، تنظیم اور نگرانی کی جا سکتی تھی۔بڑے پیمانے پر پیداوار کے وسیع بازار کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک نمایاں شرقی اختراع حرکت پذیر اسمبلی لائی (درجہ وار صنعتی پیداوار کی ترتیب )۔ صنعتی پیداوار کی ضرورت تھی مہنگے آلات اور لگاتار دیکھ بھال کرنے والے ملازمین کی جن کے زیر نگرانی یہ نظام چل سکے۔
پچھلی کئی دہائیوں سے ایک تبدیلی دیکھنے کو ملی ہے جو کہ اکثر و بیشتر لچکدار پیداوار یا کام کی لا مرکزیت کہلاتی ہے۔ یہ بحث کی جاتی ہے کہ عالمگیریت کے اس تیز رفتار دور میں فرموں اور ممالک کے درمیان مسابقت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ فرموں کے لیے یہ ضروری ہو گیا ہے کہ وہ بدلتے ہوئے بازار کے حالات کے مطابق پیداوار کو منظم کریں۔ ایک نیا نظام کیسے کام کرتا ہے مزدوروں پر اس کا کیا اثر پڑ سکتا ہے اسے سمجھنے کے لیے بنگلور میں ایک کپڑے کی صنعت میں کیے گئے مطالعہ کا اقتباس پڑھیے۔
صنعت بنیادی طور پر ایک بہت بڑی مانگ کے سلسلے کا ایک اہم اور ضروری حصّہ ہوتی ہے اور اس طرح صنعت کار کی آزادی
پیداوار کے دو طریقوں پر بحث کریں۔ ایک فیکٹری میں کپڑوں کی بنائی کا ایک منظر دو جگہوں پر نیچے دکھایا گیا ہے۔


ایک گاؤں میں دھان کی صفائی اور چھٹائی
ایک حد تک ہی محدود ہوتی ہے۔ ڈیزائن بنانے والے سے لے کر آخر صارف تک درحقیقت ایک سو سے زائد مراحل ہوتے ہیں۔ تنخواہ میں اضافہ کو لے کر مزدوروں کے ذریعہ کیے گئے پُر امن احتجاج کی وجہ سے صنعت کار اپنے کام کو کسی دوسری جگہ منتقل کریں گے جو کہ یونین کے لیڈران کی پہنچ سے دور ہوگا۔ چاہے یہ موجودہ کم مزدوری کی ادائیگی کا معاملہ ہو یا پھر تھوڑی بہت ترمیم کے ساتھ اسے زیادہ کرنے کی بات۔ خوردہ دکان داروں کی حمایت حاصل کرنا بھی اس سلسلہ میں کیا اہم ہوگا انہیں بھی فہرست میں رکھیں تاکہ سرکار اور مقامی ایجنسیوں پر دباؤ بنایا جاسکے تاکہ مزدوری کی زیادہ ادائیگی کی ساخت اور اس کے موثر طریقوں کو عملی جامہ پہنایا جاسکے۔ اس طرح یہاں پر بین الاقوامی رائے قائم کرنے کے لیے فورم بنانے کا نظریہ ہے۔(رائے چودھری 2005:2254)
اوپر دی گئی رپورٹ کا مطالعہ پوری توجہ کے ساتھ کریں۔ اس طرف توجہ دیں کہ کس طرح پیداوار کے نئے نظام اور ملک سے باہر خریداروں کے اداروں نے پیداوار کی معاشیات اور سیاست کو بدل دیا ہے۔
IV
سیاست
سیاسی اداروں کا تعلق سماج میں طاقت کی تقسیم سے ہے۔ دو تصورات جو کہ سیاسی اداروں کو سمجھنے میں تنقیدی ہیں وہ ہیں طاقت اور اختیار۔ طاقت افراد یا گروہوں کے ذریعہ دوسروں کی مخالفت کرنے کے باوجود اپنی خواہش پوری کرنے کی اہلیت ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ ان کے پاس دوسروں کی قیمت پر ایسا کرنے کا اختیار ہوتا ہے۔ کسی سماج کے پاس معین مقدار میں اختیارات ہوتے ہیں اور کچھ اس کا استعمال کرتے ہیں جبکہ دوسرے نہیں۔ دوسرے الفاظ میں کوئی فرد یا گروہ اختیارات کو اس لیے نہیں رکھتا کہ وہ بالکل الگ تھلگ پڑجائے بلکہ دوسروں کے ساتھ تعلقات بنانے کے لیے بھی انہیں رکھتا ہے۔
طاقت کے اس تصور میں وسیع، صاف اور واضح طور پر شامل ہیں: خاندان میں بڑوں کے ذریعہ بچّوں کو گھریلو کاموں میں لگانا، اسکول میں پرنسپل کے ذریعہ نظم وضبط قائم کرنا، کارخانے میں جنرل منیجر کے ذریعہ کام کو تقسیم اور اپنی پارٹی کے کاموں کو کنٹرول کرنے والے سیاسی لیڈر-پرنسپل کو اسکول میں نظم وضبط بنائے رکھنے کا اختیار ہے، سیاسی پارٹی کے صدر اعلیٰ کو پارٹی سے کسی ممبر کو نکالنے کا اختیار ہے۔ ہر ایک معاملے میں فرد کا یا گروہ کو اس حد تک اختیارات حاصل ہوتے ہیں کہ دوسروں کو ان کی خواہش کا احترام کرنا پڑتا ہے اور انہیں ماننا بھی پڑتا ہے۔ ان معنوں میں سیاسی امور یا سیاست کا تعلق طاقت سے ہے۔
لیکن اپنے مقاصد کے حصول میں طاقت کس طرح عمل پذیر ہوتی ہے؟ کچھ لوگ کیوں دوسروں کے حکم کو مانتے ہیں؟ ان تمام سوالوں کے جواب ’اختیار‘ سے وابستہ تصور کے حوالہ سے اخذ کیے جاسکتے ہیں؟ اختیارات کو ہی طاقت کے ذریعہ سے ہی استعمال کرتے ہیں۔ اختیار طاقت کی وہ شکل ہے جس کی قانونی حیثیت کو تسلیم کیا جاتا ہے یعنی جسے صحیح اور منصفانہ مانا جاتا ہے یہ اداراتی ہے کیونکہ یہ قانونی بنیاد پر قائم ہوتا ہے۔ عام طور پر لوگ طاقتور لوگوں کے اختیارات کوتسلیم کرتے ہیں کیونکہ وہ ان کے نظم و ضبط کو درست اور منصفانہ مانتے ہیں۔اکثر ایسے نظریات وجود میں آتے ہیں جو توجیہ کے اس عمل میں مدد دیتے ہیں۔
غیر ریاست معاشرے
غیر ریاستی سماجوں کے تجرباتی مطالعات سے جو کہ ماہرین بشریات نے تقریباً ساٹھ سال پہلے کے تھے یہ واضح کرتے ہیں کہ کس طرح جدید حکومتی نظام کے بغیر بھی نظم و ضبط کو قائم رکھا جاتا تھا۔ اجزاء کے درمیان متوازن تضاد تھا۔ واضح اختلاط رشتہ داری شادی اور رہائش کی بنیاد پر ہونے کے باوجود بھی دوستوں اور مخالفوں کو شادی اور رہائش، رسم و رواج میں شریک کیا جاتا تھا حالانکہ مخالفت اور کانٹ جھانٹ کی جوڑ توڑ جو کہ رشتہ داری کی بنیاد پر ہوتی ہے وہ بھی شامل ہوتی ہے۔
جیسا کہ ہم سبھی یہ جانتے ہیں کہ ایک جدید سماج کا معین ڈھانچہ اور رسمی طریقۂ عمل ہوتا ہے۔ تو کیا بغیر ریاست والے سماجوں کی مندرجہ بالا غیر رسمی طریقہ ان کی خصوصیات کے طور پر ریاست والے سماجوں میں بھی موجود نہیں ہیں؟
ریاست کا تصوّر
ریاست کا وجود وہیں ہوتا ہے جہاں حکومت کی سیاسی تنظیمیں (پارلیمنٹ یا کانگریس اور سول سروس کے عہدیدار جیسے ادارے) ایک مخصوص علاقے پر حکمرانی کرتے ہوں۔ حکومت کے اختیار کو قانونی نظام اور پالیسیاں نافذ کرنے کے لیے اس کی فوج کو بروئے کار لانے کی صلاحیت سے سہارا ملتا ہے۔تفاعلی نظریے میں ریاست کو سماج کے سبھی طبقات کے مفادات کے نمائندے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ تصادمی نظیریے میں ریاست کو سماج کے غالب طبقات کے نمائندے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ جدید ریاستیں، روایتی ریاستوں سے بالکل مختلف ہیں۔ ان ریاستوں کی تعریف اقتدار اعلیٰ، ریاست اور اکثر قومیت کے تصور کے ساتھ کی جاتی ہے۔ اقتدار اعلیٰ ایک مخصوص مملوکہ علاقے پر ریاست کے غیر متنازع سیاسی حکمرانی کی دلالت کرتا ہے۔
اول یہ کہ خود مختار ریاست وہ ریاست ہیں جس میں شہریت سیاسی شراکت کے حقوق سے منسلک ہو بلکہ انہیں ایسی جدوجہد کے ذریعہ حاصل کیا گیا تھا جس نے بادشاہوں کے حقوق کو محدود کیا یا انہیں بڑی مستعدی کے ساتھ اکھاڑ پھینکا تھا۔ فرانسیسی انقلاب اور ہمارے ہندوستان میں آزادی کی جدوجہد اس طرح کی تحریک کی دو اہم مثالیں ہیں۔
سرگرمی10
پتہ لگائیں کہ مختلف ممالک میں خواتین کوحق رائے دہندگی کب ملا۔ آپ ایسا کیوں سوچتے ہیں کہ رائے دہندگی کے حقوق اور عوامی عہدے کے لیے کھڑے ہونے کا حق حاصل ہونے کے باوجود خواتین کی اطمینان بخش نمائندگی نہیں ہے؟ کیا وسیع معنوں میں طاقت کا تصور پارلیمنٹ اور دوسرے اداروں میں خواتین کی کم سے کم نمائندگی کو موجودہ تقسیم محنت کو خواتین کی سیاسی زندگی میں حصّہ داری کے پہلو کو متاثر کرتا ہے؟ معلوم کیجیے کہ پارلیمنٹ میں خواتین کے لیے 33 فی صد ریزرویشن کی مانگ کیوں کی جارہی ہے؟ |
شہری کے حقوق میں شامل ہیں شہری، سیاسی اور سماجی حقوق۔ شہری حقوق میں افراد کو اپنی مرضی کے مطابق کہیں بھی رہنے کی آزادی، بولنے اور مذہب کی آزادی، اپنی جائیداد کا حق اور قانون کے ذریعہ مساوی طور پر انصاف پانے کا حق شامل ہے۔ سیاسی حقوق میں انتخاب میں حصّہ لینے اور عوامی عہدوں پر کھڑے ہونے کا حق شامل ہے۔ زیادہ تر ممالک میں حکومتیں عام حق رائے دہی کے نظریے کو ماننے سے انکار کرتی تھیں۔ شروعاتی برسوں میں نہ صرف قوانین کو بلکہ مردوں کی ایک بڑی تعداد کو بھی انتخابات سے باہر رکھا جاتا تھا کیونکہ ایک معینہ مقدار میں جائیداد کا رکھنا ان کے لیے اہلیت کا معیار قرار دیا گیا تھا ۔خواتین کو ایک لمبے عرصہ تک حق رائے دہندگی کے لیے انتظار کرنا پڑا۔
تیسرے قسم کے شہری حقوق سماجی حقوق ہیں جن کا تعلق ہر ایک فرد کو معاشی فلاح اور حفاظت مہیا کرانے کے کم از کم خصوصی اختیارات سے ہے جس کے ذریعہ وہ بخوشی زندگی گزار سکے۔ ان اختیارات میں صحت کے مفادات، بے روزگاری بھتہ، کم سے کم مزدوری کا تعین، سماجی یا فلاحی حقوق شامل ہیں۔ یہ وسیع معنوں میں فلاحی ریاستوں کے تصور کو پیش کرتے ہیں جو مغربی سماجوں میں دوسری عالمی جنگ کے دوران قائم ہوئے تھے۔ قبل سوشلسٹ ممالک کی ریاستوں نے کافی حد تک اس حلقہ میں اسے نافذ کیا ہے۔ زیادہ تر ترقی پذیر ممالک میں درحقیقت اس کا کوئی وجود نہیں تھا؟ آج کل ساری دنیا میں انھیں ریاست پر باراور معاشی ترقی میں رکاوٹ کہہ کر سماجی حقوق پر حملے کیے جارہے ہیں۔
قومیت کی تعریف ایک سیاسی طبقہ کا حصّہ ہونے کی علامتوں اور عقائد کے مجموعے کے طور پر کی جا سکتی ہے۔ اس طرح کسی فرد کو اپنے برطانوی، ہندوستانی، انڈونیشیائی یا فرانسیسی ہونے یااُن سے وابستگی کے جذبے کا احساس ہوتا ہے۔ عموماً افراد ہمیشہ کسی نہ کسی قسم کے سماجی گروہوں جیسے خاندان، گوتر یا مذہبی طبقہ سے اپنی پہچان رکھنے کا احساس رکھتے ہیں لیکن پھر بھی قومیت جدید ریاستوں کی ترقی کے ساتھ ہی ظاہر ہوئی ہے۔عالمی بازار میں تیزی کے ساتھ ترقی اور قومیت کے گہرے احساسات اور ٹکراؤ موجودہ دنیا کی پہچان بن چکے ہیں۔
سرگرمی11
سماجی حقوق کو نافذ نہ کرنے والے ممالک کے بارے میں معلومات کریں۔ پتہ لگائیں کہ اس بارے میں کیا صفائی دی جاتی ہے۔ بحث کریں اور یہ دیکھیں کہ کیا معاشی اور سیاسی حلقوں کے درمیان کوئی تعلق ہے۔ |
سرگرمی 12
ان واقعات کے بارے میں معلومات جمع کریں جو عالمی سطح پر آپس میں ربط و ضبط کے تعلقات اور ساتھ ہی ساتھ نسلیاتی، مذہبی اور قومی تصادم کی تقسیم کو واضح کرتے ہیں۔ بحث کریں کہ سیاست اور معاشیات ان میں کس طرح کا کردار ادا کرتے ہیں؟ |
سماجیات کی دلچسپی نہ صرف رسمی سرکاری نظام کے ساتھ رہی ہے بلکہ طاقت کے وسیع مطالعے میں بھی رہی ہے اس کی دلچسپی کا مرکز جماعتیں، طبقے، ذات، فرقے، نسلیں، زبان اور مذاہب کے درمیان طاقت کی تقسیم رہی ہے۔ اس کا مرکز صرف مخصوص سیاسی جماعتیں بلکہ یہ اسکول، بینک اور مذہبی اداروں جیسی انجمنوں سے ہے اب اس کی سرحدیں گاؤں سے نکل کر بین الاقوامی تحریک (جیسے کہ خواتین اور ماحولیات) تک پھیل چکی ہیں۔
V
مذہب
مذہب بہت لمبے عرصہ سے مطالعہ اور غوروفکر کا موضوع رہا ہے۔ باب 1 میں ہم نے دیکھا کہ معاشرے کے بارے میں سماجیاتی نتائج کس طرح مذہبی غوروفکر سے مختلف رہے ہیں۔ مذہب کا سماجیاتی مطالعہ مذہب کے مذہبی یا الہیاتی مطالعہ سے کئی پہلوؤں سے الگ ہے۔ پہلا تو یہ ہے کہ یہ تجرباتی مطالعہ انجام دیتا ہے کہ مذہب سماج میں حقیقتاً کیسے کام کرتا ہے اور دوسرے اداروں کے ساتھ اس کا کیا رشتہ ہے؟ دوسرا یہ کہ یہ تقابلی طریقۂ کار کا استعمال کرتا ہے اور تیسرا، یہ سماج اور ثقافت کے دوسرے پہلوؤں جیسے عقائد،روایات اور اداروں کے بارے میں تحقیق کرتا ہے۔
تجرباتی طریقۂ کار کا یہ مطلب ہے کہ ماہر ین سماجیات مذہبی مظاہر کے بارے میں ایک منصفانہ نظریہ نہیں رکھتے۔ تقابلی طریقہ ان معنوں میں اہم ہے کیونکہ یہ ہر ایک سماج کو ایک ہی سطح پر ایک ساتھ لاتا ہے۔ یہ کسی قسم کی طرف داری اور ذاتی جھکاؤ کے بغیر مطالعہ میں معاون ہوتا ہے۔ سماجیاتی تناظر کے معنی ہیں مذہبی زندگی کو صرف گھریلو زندگی اور معاشی و سیاسی زندگی کے ساتھ جوڑ کر ہی قابل فہم بنایا جاسکتا ہے۔
مذہب سبھی معلوم سماجوں میں موجود ہوتا ہے۔ حالانکہ مذہبی عقائد اور چلن ایک ثقافت سے دوسری ثقافت میں الگ ہوتے ہیں۔ وہ خصوصیات جو تمام مذہبوں میں یکساں طور پر ہوتی ہیں، وہ ہیں:
– علامتوں کا مجموعہ، اس کے نام سے ابتداء کرنے کا احساس جولائقِ احترام اور پر جلال ہے۔
– رسومات یا رواج
– عقیدت مندوں کا ایک طبقہ
مذہب سے وابستہ رسومات بہت سی ہوتی ہیں۔ رسومات کی ادائیگی میں شامل ہیں عبادت کرنا، وظیفہ پڑھنا، گانا گانا، کچھ خاص قسم کے کھانے کھانا (یا پرہیز کرنے کے لیے کہنا)، کچھ خاص دنوں میں روزہ رکھنا اور اسی طرح دوسری چیزیں۔ چونکہ رسومات کی ادائیگی مذہبی علامتوں کی نشاندہی کرتی ہے اس لیے انہیں عموماً عادتوں اور عام زندگی کے عمل سے بالکل جدا طور پر دیکھا جاتا ہے۔ کسی کے احترام میں شمع یا دیا جلانا جسے کہ مقدس مانا جاتا ہے، اہمیت کے اعتبار سے کمرے میں روشنی کرنے سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ زیادہ تر مذہبی رسومات کو افراد کے ذریعہ اپنی معمول کی زندگی میں انجام دیا جاتا ہے لیکن عام مذاہب میں عقیدت مندوں کے ذریعہ اجتماعی رواجوں کا بھی چلن ہے۔ منضبط رواج خاص جگہوں جیسے چرچ، مسجدوں،مندروں اور خانقاہوں پر بھی منعقد کیے جاتے ہیں۔
مذہب کا تعلق ایک پاکیزہ تعلیم سے ہے۔ اس بارے میں غوروفکر کریں کہ مختلف مذہبوں کے ماننے والے جب مقدس جگہوں پر داخل ہوتے ہیں تو سب سے پہلے کیا کرتے ہیں؟ مثال کے طور پر کچھ سرکو ڈھانک لیتے ہیں جبکہ کچھ لوگ ایسا نہیں کرتے، جوتے اُتار دیتے ہیں یا خاص قسم کے کپڑے پہنتے ہیں وغیرہ۔ ان سب میں عقیدت کا جذبہ، مقدس مقامات یا حالات کا احترام اور عزت کا جذبہ یکساں موجود ہوتا ہے۔
ایمائل درخائم کی تقلید کرنے والے مذہب کے ماہرین سماجیات اُن مقدس مقامات کو سمجھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں جو ہر ایک سماج میں دنیاوی چیزوں سے الگ ہوتا ہے۔ زیادہ ترمعاملات میں پاکیزگی میں مافوق الفطرت کے اجزاء ہوتے ہیں۔ زیادہ تر کسی درخت یا مندر کی پاکیزگی کے ساتھ یہ عقیدہ جڑا ہوتا ہے کہ اس کے پیچھے کوئی مافوق الفطرت طاقت ہے اس لیے یہ مقدس ہیں۔ پھر بھی یہ توجہ دینا ضروری ہو جاتا ہے کہ ابتداء میں بُودھ اور کنفیوشیس عقیدوں میں مافوق الفطرت کا کوئی تصوّر نہیں تھا لیکن جن افراد یا اشیاء کو وہ مقدس مانتے تھے ان کے لیے اس میں تسلی بخش عقیدت موجود تھی۔
مذہب کا سماجیاتی مطالعہ کرتے وقت آیے ہم یہ سوال پوچھتے ہیں کہ دوسرے سماجی اداروں کے ساتھ اس کا کیا تعلق ہے۔ مذہب کا طاقت اور سیاست کے ساتھ بڑا گہرا رشتہ ہے۔ مثال کے طور پر تاریخ میں سماجی تبدیلی کے لیے وقتاً فوقتاً مذہبی تحریکیں ہوئی ہیں جیسے مختلف ذات مخالف تحریکیں یا جنس کی تفریق کو لے کر کی جانے والی تحریکیں۔ مذہب کی فرد کے ذاتی عقیدے بھر کا معاملہ نہیں ہے بلکہ اس کا ایک عوامی مزاج بھی ہے۔ اس عوامی مزاج کے سبب ہی مذہب سماج کے دوسرے اداروں سے زیادہ اہم ہوتا ہے۔
ہم نے دیکھا کہ سماجیات طاقت کو کیسے وسیع معنوں میں دیکھتا ہے۔ اس لیے سیاسی و مذہبی حلقوں کے درمیان تعلقات کو جاننے میں سماجیات کی دلچسپی ہوتی ہے۔ قدیم ماہرسماجیات کا عقیدہ یہ تھا کہ جوں جوں سماج جدید ہوتا جائے گا، مذہب کا زندگی کے دوسرے پہلوؤں پر اثر کم ہوتا جائے گا، غیر مذہبی تصور اس عمل کی وضاحت کرتا ہے۔ عصری حالات و واقعات سماج کے مختلف پہلوؤں پر مذہب کے اہم کردار کے بارے میں معلومات فراہم کرتے ہیں۔ آپ یہ کیوں سوچتے ہیں کہ ایسا ہے۔
میکس ویبر (1920-1864) کی مثالی تحقیق یہ ظاہر کرتی ہے کہ سماجیات سماجی و معاشی کردار کو مذہب کے تعلق سے دوسرے حلقوں میں کس طرح دیکھتا ہے۔ ویبر کا یہ دعویٰ ہے کہ کالوینیزم (پروٹیسٹنٹ عیسائی مذہب کی ایک شاخ) معاشی نظام کی ایک شکل کے طور پر سرمایہ داری کی ارتقاء اور ترقی کو اہم طریقوں سے متاثر کرتا ہے۔ کالوِن عقیدے کے لوگوں کا ماننا تھا کہ دنیا کی خلقت خدا کی حمد و ثنا کے لیے ہوئی ہے یعنی کوئی بھی کام اس کی حمدوثنا کے لیے ہی کیا جاتا ہے یہاں تک کے دنیاوی کاموں کو بھی عبادت کا درجہ دیا گیا۔ اس سے بھی اہم ہے کالوِن عقیدت مندوں کا قسمت کے تصور میں یقین جس کے معنی ہیں کہ کون جنت میں جائے گا اور کون جہنم میں یہ پہلے سے ہی طے ہوتا ہے چونکہ لوگوں کو یہ معلوم نہیں کہ کون جنت میں جائے گا اور کون جہنم میں۔ اس لیے لوگوں کو اس دنیا میں اپنے کاموں میں ہی خدا کی مرضی کے اشاروں کو تلاش کرنا چاہیے۔ اس طرح ایک فرد چاہے وہ جو بھی کام کرتا ہو اگر وہ اپنے کام میں بااصول اور کامیاب رہتا ہے تو اسے خدا کی خوشنودی کا اشارہ سمجھا جاتا ہے۔ کمائی ہوئی دولت کو دنیاوی عیش و آرام کے لیے خرچ نہیں کرنا چاہیے بلکہ کسی کالوِن عقیدے کے لحاظ سے اخلاقی اصول یہ تھا کہ کفایت شعاری کی جائے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ روپے پیسے کا سرمایے میں اضافہ کرنے کے لیے لگانا ایک طرح کا مقدس عقیدہ بن گیا یہ تصور کہ زیادہ پیسہ لگا کر اشیاء تیار کی جائیں تاکہ اس کے ذریعہ زیادہ اضافہ حاصل کیا جاسکے اس طرح سرمایہ میں اضافہ ہوتا ہے۔ ویبر اس نظریۂ بحث کو پیش کرنے کے لیے پوری طرح اہل نظر آتے ہیں۔ مذہب کے اس معاملہ میں کالوِن کا نظریہ معاشی ترقی پر اثر انداز ہوتا ہے۔
مذہب کا مطالعہ ایک الگ شناخت کے طور پر نہیں کیا جاسکتا۔ سماجی طاقتیں ہمیشہ اور لازمی حیثیت سے مذہبی اداروں سے جڑی ہوتی ہیں اور انہیں متاثر بھی کرتی ہیں۔ سیاسی مباحثہ، معاشی حالات اور جنس کے معیار ہمیشہ ہی مذہبی کردار کو متاثر کرتے رہیں گے۔ بدلتے ہوئے مذہبی اصولی سماج کی سوچ کو متاثر اور کبھی کبھی متعین بھی کرتے ہیں۔ دنیا کی نصف آبادی خواتین کی ہے اسی لیے سماجیاتی طور پر یہ پوچھنا بھی ضروری ہو جاتا ہے کہ انسانی آبادی کے اتنے بڑے خطّہ کے ساتھ مذہب کا کیسا رشتہ ہے؟ مذہب سماج کا ایک اہم حصّہ ہے اور دوسرے حصوں کے ساتھ پیچیدہ طور پر بندھا ہے۔ سماجیات کے ماہرین کا کام ان مختلف تعلقات کو واضح کرنا ہے۔ روایتی سماجوں میں مذہب عموماً مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔ مذہبی علامت اور رسم و رواج اکثر و بیشتر سماج کے مادی و فنکارانہ ثقافتوں کے ساتھ مل کر وحدت کو ظاہر کرتے ہیں۔ یہ جاننے کے لیے کہ سماجیات کس طرح مذہب کا مطالعہ کرتا ہے نیچے دیے گئے بوکس میں اقتباس کو توجہ کے ساتھ پڑھیں۔
VI
تعلیم
تعلیم ساری عمر چلنے والا عمل ہے جس میں سیکھنے کے رسمی وغیر رسمی دونوں ہی ادارے شامل ہوتے ہیں۔ یہاں ہماری بحث صرف اسکول کی تعلیم تک ہی محدود ہوگی۔ ہم سب یہ جانتے ہیں کہ اسکول میں داخلہ لینا کتنا اہم ہوتا ہے۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ ہم میں سے کچھ کے لیے اسکول اعلیٰ تعلیم اور آخر میں روزگار حاصل کرنے کے لیے پہلی سیڑھی ہے۔ ہم میں سے کچھ کے لیے یہ ضروری سماجی ہنری حاصل کرنے کا ایک ذریعہ ہو سکتی ہے۔ ان تمام معاملوں میں ایک بات جو عام طور پر محسوس کی گئی وہ ہے تعلیم کی ضرورت۔
| بہت سے خارجی عوامل نے مذہبی ماہرین کی روایتی طرز زندگی کو متاثر کیا ہے۔ ان میں اہم ترین ناسک میں روزگار اور تعلیمی مواقع میں اضافہ ہے… آزادی کے بعد مذہبی رہنماؤں کی طرز زندگی میں بڑی تیزی سے تبدیلی ہو رہی ہے۔ اب وہ اپنی بیٹیوں و بیٹوں کو اسکول بھیجتے ہیں اور روایتی کاموں سے الگ ہٹ کر ملازمت کے لیے انہیں تربیت بھی دی جاتی ہے۔ … دوسری زیارت گاہوں کی طرح ناسک میں بھی مذہبی سرگرمیوں کے لیے دوسرے ضمنی مرکزوں کی ترقی ہوئی ہے۔ کسی بھی زائر کے لیے گوداوری کے پاکیزہ پانی کو تانبہ کے لوٹے میں بھر کر لے جانا ایک معمول بن گیا ہے۔ تانبہ کے کاریگروں نے یہ برتن انہیں مہیا کر دیا۔ زائرین خود بھی انہیں خریدتے تھے تاکہ گھر پہنچ کر تحفہ کے طور پر انہیں اپنے دوستوں و رشتہ داروں میں تقسیم کریں۔ کافی عرصے تک ناسک کو پیتل، تانبہ اور چاندی کے پختہ کار ماہر دستکاروں کی حیثیت سے جانا جاتا تھا۔ چونکہ ان مصنوعات کی مانگ غیر منضبط اور غیر معین ہوتی تھی اس لیے گھر کے تمام بزرگ افراد کو اس کام میں مدد کے لیے نہیں لگایا جاسکتا تھا۔… بہت سارے دستکار صنعت کے چھوٹے یا پھر بڑے پیمانے کی تجارتوں میں داخل ہو گئے۔(آچاریہ1974: 401 -399) |
سماجیات اس ضرورت کو گروہ کی وراثت کی ترسیل/ ابلاغ کے ایک عمل کے طور پر سمجھتا ہے جو کہ ہر ایک سماج میں عام ہوتی ہیں۔ آسان اور پیچیدہ جدید سماجوں میں ایک وصفی فرق ہوتا ہے پہلے معاملہ میں کسی قسم کے رسمی اسکول کی ضرورت نہیں ہوتی بچے خود بخود یہی بڑوں کے ساتھ سرگرمیوں میں شامل ہوکر روایات اور زندگی کے وسطی طور طریقوں کو سیکھ لیتے تھے۔ پیچیدہ سماجوں میں ہم نے دیکھا کہ معاشی تقسیم محنت دنوں دن بڑھتی جارہی ہے جس نے کام کو گھروں سے الگ کر دیا ہے۔ اس کے لیے خصوصی تعلیم اور مہارت حاصل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ریاست کے نظام میں ترقی ہو رہی ہے ساتھ ہی قدم اور خیالات کی پیچیدہ علامات میں بھی۔ ایسے حالات میں آپ کس طرح غیر رسمی تعلیم کو حاصل کریں گے؟ والدین اور دوسرے بزرگ اپنے علم کو اگلی نسل تک غیر رسمی طور پر کیسے پہنچائیں گیں؟ ایسے سماجی حالات میں تعلیم کو رسمی اور واضح ہونا ضروری ہو گیا ہے۔
مزید یہ کہ جدید پیچیدہ سماج آسان سماجوں کے مقابلہ میں عموماً عالمی قدروں پر منحصر ہوتے ہیں یہی بات اسے آسان سماجوں سے الگ کرتی ہے جو خاندان، رشتہ دار، قبیلے، ذات اور مذہب جیسی مخصوص قدروں کی بنیاد پر ہوتے ہیں۔ جدید سماجوں میں اسکول کی تکنیکی یکسانیت کے فروغ، ہم معیار حوصلہ افزائی اور عمومی قدروں کی ترقی کے لیے کی جاتی ہے۔ اس کے بہت سے طریقے موجود ہیں مثال کے طور پر ایک شخص اسکول کے بچوں کی ایک جیسی پوشاک کی بات کرسکتا ہے۔ کیا آپ ہم معیاری کو ترقی دینے والی دوسری خصوصیات کے بارے میں سوچ سکتے ہیں؟
ایمائیل درخائم کے مطابق ایسا کوئی سماج نہیں جس میں عام بنیادوں پر کچھ مخصوص خیالات، جذبات اور روایات موجود نہ ہو۔ تعلیم کو سماجی حیثیت میں تفریق کیے بغیر بچوں کو یہ تمام باتیں ذہن نشیں کرانی چاہیے۔ (دُرخائم 1956:69)
تعلیم کو مخصوص پیشہ کے لائق بنانے والی اور ساتھ ہی سماج کی خصوصی قدروں کو جذب کرنے والی بھی ہونا چاہیے۔
تفاعلی نظریہ کے ماہرین تعلیم کی عام سماجی ضرورتوں اور سماجی معیاروں کی بات کرتے ہیں۔ وظائفی نظریہ کے ماہرین کے مطابق تعلیم سماجی ساخت کو بنانے، نیا کرنے اور ثقافت کی ترسیل و ترقی کے کاموں کو انجام دیتی ہے۔تعلیمی نظام اس سلسلہ میں بھی اہم ہوتا ہے کہ اس نظام کے ذریعہ افراد سماج میں اپنے مستقبل کے کردار کا انتخاب کرتا ہے یہ کسی بھی فرد کی قابلیت کو ثابت کرنے کا موقع بھی دیتی ہے۔ اسی لیے تعلیم کو مختلف حیثیتوں کے لوگوں کو ان کی قابلیت کے مطابق منتخب کرنے کی ایک ایجنسی کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔ باب 2 میں کردار اور سماجی طبقہ بندی کے وظائفی تصور پر ہماری بحث کو پھر سے یاد کیجیے۔

اس منظر پر بحث کیجیے
سماج کو غیر مساوی اور تقسیمی ماننے والے ماہرین سماجیات کے لیے تعلیم اہم تقسیمی ایجنٹ کی صورت میں کام کرتا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ تعلیم کے مواقع میں غیر مساوات کا ہونا سماجی طبقہ بندی کی ہی ایک اہم پیداوار ہے۔ دوسرے الفاظ میں اپنی سماجی-معاشی حیثیت کے مطابق ہی مختلف قسم کے اسکول پر منحصر ہوتے ہیں چونکہ ہم کچھ اس طرح کے اسکولوں میں داخل ہوتے ہیں تو پھر ہمیں اسی طرح کے مختلف مراعات اور آخر کار ویسے ہی مواقع حاصل ہوتے ہیں۔
مثال کے طور پر کچھ لوگ یہ بحث پیش نہیں کرتے ہیں کہ اسکول کی تعلیم اشراف اور عام لوگوں کے بیچ موجودہ فرق کو اور بھی زیادہ گہرا کرتی ہے مراعتی اسکول میں جانے والے بچوں میں خود اعتمادی آجاتی ہے جبکہ محروم طبقہ کے بچے اس کے برعکس احساس کمتری کا احساس کرتے ہیں۔ (پاٹھک 2002:151)۔ اس کے علاوہ دوسرے بہت سارے بچے اور بھی ہیں جو اسکول نہیں جاسکتے یا جانا چھوڑ دیتے ہیں مثال کے لیے اس رپورٹ کا مطالعہ کریں:
اس وقت تو اسکول میں آپ بچوں کو دیکھ رہے ہیں لیکن اگر آپ فصل پکنے کے وقت آئیں تو آپ کو درج فہرست ذات (Sc) اور درج فہرست قبائل (ST) کا بچہ نہیں ملے گا۔ جب ان بچوں کے والدین باہر کام کرتے ہیں تو ان پر کچھ ذمہ داریاں آجاتی ہیں اور ان طبقوں سے تعلق رکھنے والی لڑکیاں کبھی کبھی اسکول نہیں جاتی کیونکہ وہ مختلف قسم کے گھریلو اور آمدنی بڑھانے والے کام کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر ایک 10 سال کی لڑکی بیچنے کے لیے گائے کا سوکھا گوبر اُٹھاتی ہے (پرتیچی 2002:60)۔
مندرجہ بالا رپورٹ یہ اشارہ کرتی ہے کہ جنس اور ذات کی بنیاد پر تفریق کس طرح تعلیمی مواقع میں ٹکراؤ پیدا کرتی ہے۔

اس منظر پر بحث کیجیے
یاد کرو کہ کس طرح ہم نے ابتداء میں اس کتاب کے باب 1 میں دیکھا تھا کہ کسی بچے کی اچھی ملازمت کے مواقع پر لاتعداد سماجی عوامل کا کیسے اثر پڑتا ہے۔ سماجی اداروں کے کام کے طریقوں کو سمجھنے میں اس عمل کا صحیح تجزیہ کرنے میں اب آپ کو بہتر مدد ملنی چاہیے۔
سرگرمی13
ایک کنڈرگارڈن اسکول کے مطالعے سے یہ پتہ چلتا ہے کہ بچوں نے کیا سیکھا ہے:-کھیل کی سرگرمیوں کے مقابلہ میں کام کی سرگرمی زیادہ اہم ہوتی ہے۔ -کام میں کچھ ایک یا پھر تمام سرگرمیوں میں اُستاد کی ہدایت کو شامل کیا جاتا ہے۔ -کام لازمی ہوتا ہے اور خالی وقت کی سرگرمی کو کھیل کہتے ہیں۔(اپیل102:1979) آپ کیا سوچتے ہیں؟بحثکریں۔ |
فرہنگ
شہری (Citizen): ایک سیاسی کمیونٹی کا فرد جس کی رکنیت کے ساتھ حقوق اور فرائض دونوں جُڑے ہوتے ہیں۔
تقسیم محنت (Division of Labour): خاص طرح کے کام جن کی مدد سے مختلف قسم کے کاموں کو پیداوار کے نظام میں لگایا جاتا ہے۔ تمام سماجوں میں تقسیم محنت کی سب سے چھوٹی ابتدائی شکل ضرور موجود ہوتی ہے پھر بھی صنعتی ترقی کے ساتھ پہلے کی پیداوار کے نظام کے مقابلہ تقسیم محنت وسیع طور پر پیچیدہ ہوگیا ہے۔ جدید دنیا میں تقسیم محنت بین الاقوامی موضوع بن گیا ہے۔
جنس (Gender): ہر ایک جنس کے افراد کے کردار کے بارے میں مناسب سمجھی جانے وای سماجی توقعات، جنس کو سماج کے بنیادی منظم نظریہ کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
تجرباتی تحقیق (Empirical Investigation): ایک واقعاتی جانچ جو کہ ایک دیے ہوئے حلقہ میں سماجیاتی مطالعہ کے لیے کی جاتی ہے۔
داخلی زوجیت (Endogamy): ایک مخصوص ذات، طبقے یا قبائلی گروہ کے اندر کی جانے والی شادی۔
خارجی زوجیت (Exogamy): ایک خاص گروہ کے رشتوں سے باہر کی جانے والی شادی۔
طرز فکر (Ideology): ایسے آپسی خیالات یا عقائد جو مغلوب گروہوں کے مفاد کو صحیح ثابت کرتے ہوں۔ طرز فکر ایسے تمام سماجوں میں موجود ہوتی ہے جن میں گروہوں کے درمیان منظم اور نقش کندہ غیر مساوات پائی جاتی ہیں۔ طرز فکر کا تصور طاقت سے جڑا ہے کیونکہ یہ گروہوں کی طاقت میں فرق کو جائز ٹھہراتی ہے۔
استحقاق (Legitimacy): یہ یقین کہ ایک مخصوص سیاسی حکم منصفانہ اور جائز ہے۔
یک زوجیت (Monogamy) : جس شادی میں صرف ایک شوہر یا ایک زوجہ ہو۔
کثیر زوجیت (Polygamy): وہ شادی جو ایک وقت میں ایک سے زیادہ شوہر یا زوجہ پر مشتمل ہو۔
کثیر شوہریت (Polyandry): جس شادی میں ایک عورت کے کئی شوہر ہوں۔
کثیر زوجیت (ایک سے زیادہ بیویاں ہوں) (Polygyny): جس شادی میں ایک شوہر کی بہت ساری بیویاں ہوں۔
خدماتی صنعتیں (Service Indnstries): تیار اشیاء کے مقابلے خدمات کی پیداوار سے جڑی صنعت جیسے نقل و حمل کی صنعت۔
ریاستی سماج (State Society): ایسا سماج جس میں سرکار کے رسمی اجزاء شامل ہوں۔
بناریاستی سماج (Stateless Society): ایسا سماج جس میں سرکار کے رسمی اجزاء شامل ہوں۔
بناریاستی سماج (Stateless Society): ایسا سماج جس میں سرکار کے رسمی اداروں کی کمی ہو۔
سماجی حرکت پذیری (Social Mobility): ایک حیثیت یا ایک پیشہ سے دوسرے پیشہ کی طرف حرکت کرنا۔
مقتدراعلیٰ (Sovereignty): کسی مخصوص مملوکہ علاقے میں ریاست کی غیر تنازع سیاسی حکمرانی۔
مشقیں
1۔ غور کریں کہ آپ کے سماج میں شادی کے کون کون سے اصول و ضوابط کو مانا جاتا ہے۔ جماعت میں دوسرے طلباء کے ذریعہ کیے گئے مشاہدہ کا موازنہ اور بحث کیجیے۔
2۔ معلوم کریں کہ کس طرح رُکنیت،رہائش کی طرز اور یہاں تک کہ باہمی ربط کا طریقہ خاندان میں وسیع معنوں میں معاشی،سیاسی اور ثقافتی تبدیلی لاتا ہے مثال کے طور پر ہجرت۔
3۔ کام پر ایک مضمون لکھیے۔ موجودہ پیشوں کی وسعت اور ان میں کس طرح تبدیلی واقع ہورہی ہے؟ ان دونوں پر روشنی ڈالیے۔
4۔ سماج میں موجودہ حقوق پر بحث کیجیے وہ کس طرح ہماری زندگی کو متاثر کرتے ہیں؟
5۔ سماجیات کس طرح مذہب کا مطالعہ کرتا ہے؟
6۔ ’اسکول بحیثیت ایک سماجی ادارہ‘ اس پر ایک مضمون لکھیں۔ اپنے مطالعہ اور ذاتی مشاہدوں دونوں کے ذریعہ مثالیں پیش کریں۔
7۔ بحث کیجیے کہ کس طرح یہ سماجی ادارے آپس میں تفاعل کرتے ہیں۔ کیا آپ سینیئر طالب علم ہونے کی حیثیت سے اپنی طرف سے بحث کر سکتے ہیں؟ یہ بحث کریں کہ مختلف سماجی ادارے آپ کی نشوونما میں کیسے اشتراک کرتے ہیں۔ کیا آپ پوری طرح باضبط ہیں یا آپ سماجی اداروں کی ممانعت کرکے ان کی دوبارہ وضاحت کرسکتے ہیں؟
مطالعے
آچاریہ، ہیم لتا۔ (1974) ’’چینجنگ رول آف ریلیجیس اسپیشلیسٹس ان ناسک- دی پلگرم سٹی‘‘۔ ان ایڈ۔راؤ۔ایم۔ایس۔ این اربن سوشیولاجی ان انڈیا: ریڈر اینڈ سورس بُک، اُورینٹ لانگ مین، نئی دہلی صفحہ 391-403۔
ایپل،مائیکل-ڈبلیو 1979۔ آئیڈیولاجی اینڈکری کولم-روٹلیج اینڈ کیگان پال،لندن۔
چغتائی، عصمت۔ 2004- ٹنیز گرینی ان کنٹم پوریری انڈین شارٹ اسٹوریز: سیریز 1، ساہتیہ اکیڈمی، نئی دہلی۔
دوبے-لیلا2001۔ اینتھروپولوجیکل ایکسپلوریشنز ان جینڈر: انٹرسیکٹنگ فیلڈس، سیج پبلیکیشنز، نئی دہلی۔
درخائم-ایمائیل 1956۔ ایجوکیشن اینڈ سوشیولاجی، دی فری پریس، نئی یورک۔
پاٹھک- اویجیت، 2002۔ سوشل امپلی کیشنز آف اسکولنگ: نالیج، پیڈاگاگی اینڈ کانشیسنیس، رینبو پبلیشرز، دہلی۔
پراتیچی 2002۔ دی پراتیچی ایجوکیشن رپورٹ، پراتیچی ٹرسٹ، دہلی۔
رائے- چودھری، سُپریہ۔ 2005۔ ’لیبر ایکٹیویزم اینڈ ویمن اِن دی ان آرگینائسڈ سیکٹر‘: گارمنٹ ایکسپورٹ اینڈسٹری اِن بینگلور، ایکنامک اینڈ پالیٹیکل ویکلی، مئی 28 تا جون 4 صفحہ 2250-2255۔
شاہ، اے۔ ایم۔ 1998۔ فیملی ان انڈیا: کریٹیکل ایسیز، اورینٹ لانگ مین، حیدر آباد۔
سنگھ-یوگیندر 1993۔ سوشل چینج ان انڈیا: کرائسس اینڈ ری سائیلینس۔ ہرآنند پبلیکیشنز، نئی دہلی۔
اوبرائے، پیٹریشیا، 2002، ’فیملی، کنشپ اینڈ میرج ان انڈیا‘، اسٹوڈینٹز بریٹنیکا، انڈیا، جلد 6، صفحہ 145-150 انسائیکلوپیڈیا بریٹنیکا پرائیوٹ لمیٹیڈ، نئی دہلی۔