Skip to content
I



باب 5


سماجیات: تحقیقی طریقے

( Sociology : Research Methods)



I

تعارف

کیا کبھی آپ کو حیرت ہوئی ہے کہ سماجیات جیسے مضمون کو سماجی علوم یا سوشل سائنس کیوں کہا جاتا ہے۔ دیگر کسی مضمون سے کہیں زیادہ سماجیات ان چیزوں کے بارے میں مطالعہ کرتا ہے جن  سے اکثر لوگ پہلے ہی سے واقف ہیں۔ ہم سبھی ایک سماج میں رہتے ہیں اور ہم پہلے ہی سے سماجیات کے نفس موضوع، سماجی گروپوں، اداروں، معیارات،رشتوں وغیرہ کے بارے میں اپنے تجربات کے ذریعہ کافی حد تک جانتے ہیں۔ تب یہ پوچھنا مناسب لگتا ہے کہ پھر کون سی ایسی وجہ ہے جو ماہر سماجیات کو سماج کے دیگر ممبروں سے منفرد کرتی ہے۔ اسے سماجی سائنس داں بھلا کیوں کہا جائے؟

دیگر سبھی سائنسی مضامین کی طرح یہاں بھی اہم عنصر طریقہ یا طریقہ عمل ہیں جن کے ذریعہ علم کو جمع کیا جاتا ہے۔ آخری تجزیے میں سبھی ماہر سماجیات عام آدمیوں سے مختلف ہونے کا دعویٰ کرسکتے ہیں۔ اس لیے نہیں کہ وہ کتنا جانتے ہیں یا وہ کیا جانتے ہیں بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ کیسے اپنا علم حاصل کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سماجیات میں طریقہ کار کی خاص اہمیت ہے۔

جیسا کہ آپ پچھلے ابواب میں دیکھ چکے ہیں کہ سماجیات لوگوں کے عملی و حقیقی تجربات میں کافی گہری دلچسپی لیتا ہے۔ مثال کے لیے دوستی یا مذہب یا بازاروں میں مول بھاؤ کرنے جیسے سماجی مظاہر کا مطالعہ کرتے وقت ماہرین سماجیات محض یہ نہیں جاننا چاہتے کہ تماشائیوں کے ذریعہ کیا دیکھا یا مشاہدہ کیا جاتا ہے بلکہ وہ یہ بھی جاننا چاہتے ہیں کہ اس میں شامل لوگوں کی رائے واحساسات کیا ہیں؟ ماہرین سماجیات ان لوگوں کے نقطہ نگاہ کو بھی اپنانے کی کوشش کرتے ہیں جن کا وہ مطالعہ کرتے ہیں، انہیں کی آنکھوں کے ذریعہ دنیا دیکھنا چاہتے ہیں۔ مختلف ثقافتوں میں لوگوں کے لیے دوستی کا کیا مطلب ہے؟ کوئی مذہبی فرد کسی مخصوص مذہبی رسم کو انجام دیتے وقت کیا سوچتا یا سوچتی ہے؟ کس طرح دکاندار اور گاہک ایک بہتر قیمت کے لیے مول بھاؤ کرتے وقت ایک دوسرے کے الفاظ اور اشاروں کو سمجھتے اور سمجھاتے ہیں؟ ایسے سوالوں کے جوابات ان میں شامل افراد کے عملی تجربات کا ایک حصّہ ہے اور ان میں سماجیات کی گہری دلچسپی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ بیرونی اور داخلی دونوں کے زاویہ نگاہ کو سمجھا جائے جو کہ سماجیات میں طریقہ کار کو خصوصی اہمیت حاصل ہونے کا ایک اور سبب ہے۔

II

طریقہ کار سے متعلق بعض مسائل

اگرچہ ’’طریقہ‘‘ (یا اس کا مترادف) کی بدل کی حیثیت سے اسے اکثر عام طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ لفظ منہاجیات یا طریقیات (Methodology) درحقیقت طریقے کے مطالعے کی دلالت کرتا ہے۔ طریقیات سے متعلق امور یا سوالات اس طرح سائنٹفک علم جمع کرنے کے عام مسائل کے بارے میں ہے جو کسی خصوصی طریقے، تکنیک یا طریقۂ عمل سے کہیں زیادہ بڑھ کر ہے۔ ہم ان طریقوں پر ایک نظر ڈالنے سے شروعات کر سکتے ہیں۔ جس میں ماہرین سماجیات ایسا علم پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں جسے سائنٹفک ہونے کا دعویٰ کیا جاسکتا ہے۔

سماجیات میں معروضیت اور موضوعیت

روز مرہ بول چال کی زبان میں لفظ معروضی (Objective) کا مطلب ہے، غیر متعصب، غیر جانبدار یا صرف حقائق پر مبنی۔ کسی بھی شے کے بارے میں معروضی یا حقیقی ہونے کے لیے ہمیں شے کے بارے میں اپنے جذبات یا رویوں کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔ دوسری طرف موضوعی کا مطلب کچھ ایسی چیز ہے جو انفرادی اقدار اور ترجیحات پر مبنی ہو۔ آپ نے پہلے بھی سیکھا ہوگا کہ سبھی سائنس سے معروضی ہونے کی توقع کی جاتی ہے تاکہ صرف حقائق پر مبنی غیر متعصب علم پیش کیا جاسکے۔ لیکن علم طبیعی کی نسبت سماجی علم میں ایسا کرنا بہت مشکل ہے۔

مثال کے طور پر جب کوئی ماہر ارضیات (Geologist) چٹانوں کا مطالعہ کرتا ہے یا ماہرین نباتیات پودوں کا مطالعہ کرتے ہیں تب وہ محتاط رہتے ہیں کہ ان کے ذاتی میلانات یا ترجیحات ان کے کاموں پر اثر انداز نہ ہوں۔ انہیں حقائق کو ہی پیش کرنا چاہیے۔ ان کو کسی مخصوص سائنٹفک نظریے یا کسی نظریے کو ماننے والے کے تئیں اپنی پسند کے ذریعہ اپنی تحقیق کے نتائج پر اثر نہیں پڑنے دینا چاہیے۔ تاہم، ماہر ارضیات اور ماہر نباتیات جن کا مطالعہ کرتے ہیں مثال کے لیے چٹانوں یا پودوں کی قدرتی دنیا کا، وہ خود اس کا حصّہ نہیں ہوتے۔ اس کے برخلاف سماجی سائنس داں جس دنیا میں رہتے ہیں اس کا ہی مطالعہ کرتے ہیں یہ انسانی رشتوں کی سماجی دنیا ہے۔ اس سے سماجیات جیسے سماجی علوم میں معروضیت کے لیے خصوصی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ سب سے پہلا مسئلہ جانبداری کا ہی ہے کیونکہ ماہرین سماجیات بھی سماج کے افراد ہیں، اس لیے ان کی بھی عام لوگوں کی طرح پسندنا پسند ہوگی۔  ماہر سماجیات جو فیملی رشتوں کا مطالعہ کر رہا ہے وہ خود بھی کسی فیملی کا ممبر ہوگا اور اس کے تجربات ممکن ہے اس پر اثر انداز ہوں۔ حتیٰ کہ جب ماہر سماجیات کا اس گروپ کے ساتھ راست ذاتی تجربہ نہ ہو جس کا وہ مطالعہ کر رہا ہے تو بھی یہ امکان رہتا ہے کہ اس کے خود کے سماجی سیاق و سباق کی قدروں اور تعصبات یا پہلے سے قائم شدہ آراء  کا اس پر اثر ہو۔ مثال کے لیے اپنے سے الگ کسی ذات یا کمیونٹی کا مطالعہ کرتے وقت ماہر سماجیات اس کمیونٹی کے اس کے اپنے ماضی میں یا موجودہ سماجی ماحول میں رائج رویوں سے متاثر ہو سکتا ہے۔ ماہرین سماجیات ان خطروں سے کیسے بچ سکتے ہیں؟ ایک طریقہ تو یہ ہے کہ تحقیق کے موضوع کے بارے میں اپنے خود کے خیالات و احساسات کی متواتر جانچ سختی کے ساتھ کرتا رہے۔ اکثر ماہر سماجیات اپنے کام پر کسی بیرونی تناظر کو اختیار کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اپنے آپ کو اور اپنی تحقیق کو دوسروں کی نظروں سے دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس تکنیک کو ’خود انعکاسیت‘‘ یا کبھی کبھی محض ’انعکاسیت‘ کہا جاتا ہے۔ ماہر سماجیات اپنے خود کے رویوں اور خیالات کے موضوعات کی لگاتار خود جانچ کرتے رہتے ہیں۔ وہ دوسروں کے زاویہ نگاہ کوشعوری طور پر اپنانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں خاص طور پر وہ ان کی تحقیق کے موضوعات ہیں۔

انعکاسیت کا ایک عملی پہلو اہم ہے کہ جو کچھ کیا جارہا ہے، اس کا محتاط دستاویزی اندراج کرنا۔ تحقیقی طریقوں کی برتری کے دعووں کا ایک حصہ سبھی عملی کاریوں کی دستاویز سازی اور ثبوت کے تمام وسائل کے رسمی حوالے دینے میں پنہاں ہے۔ یہ یقینی بناتا ہے کہ ہمارے ذریعہ کسی نتیجے پر پہنچنے کے لیے کی گئی تدابیر کو دوسرے لوگ اپناسکتے ہیں اور ہم ٹھیک ہیں یا نہیں وہ خود دیکھ سکتے ہیں اس سے ہمیں اپنی سوچ یا منطق کے خطوط کو پرکھنے یا دوبارہ جانچ کرنے میں بھی مدد ملتی ہے۔ تاہم خود انعکاسی ماہر سماجیات کے ذریعہ کوشش کیے جانے پر بھی ہمیشہ غیر شعوری جانبداری کا امکان بنا رہتا ہے۔ اس امکان کو برتنے کے لیے ماہر سماجیات اپنے سماجی پس منظر کی ان خصوصیات کا واضح ذکر کرتے ہیں جو تحقیق کیے جانے والے موضوع پر جانبداری کے ممکنہ ذرائع سے متعلق ہوں۔ اس سے پڑھنے والے جانبداری یا میلان کے امکانات سے آگاہ ہو جاتے ہیں اور تحقیقی مطالعے کو پڑھتے وقت وہ ذہنی طور پر اس کی تلافی کر سکتے ہیں۔ آپ باب 1 سے رجوع کر سکتے ہیں اور سیکشن کو دوبارہ پڑھ سکتے ہیں، اس میں فہم عامہ اور سماجیات میں فرق کے بارے میں بات کی گئی ہے۔


سرگرمی1
کیا آپ خود کا مشاہدہ اسی طرح کرسکتے ہیں جس طرح کہ آپ دوسروں کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ آپ نے خود کو : (i) اپنے بہترین دوست (ii) اپنے حریف یا دشمن (iii) اپنے ٹیچر کے تناظر میں جیسا دیکھا ہو اس پر ایک مختصر بیان تحریر کیجیے۔ آپ خود کا تصور ان لوگوں کے طور پر کیجیے اور ان کے زاویہ نگاہ سے خود کے بارے میں سوچیے۔ یاد رکھیے کہ خود کو ’میں‘، ’میرا‘ کے بجائے ’’وہ‘‘ یعنی واحد غائب (Third Person) میں بیان کیجیے۔اس کے بعد آپ اپنی کلاس کے ساتھیوں کے ذریعہ لکھے گئے اسی طرح کے بیان کو دیکھ سکتے ہیں۔ ایک دوسرے کے بیانات پر بحث کریں۔ آپ انہیں کتنا صحیح یا دلچسپ پاتے ہیں؟ کیا ان بیانوں میں کوئی حیرت انگیز بات بھی ہے؟


سماجیات میں معروضیت (Objectivity) کے ساتھ ایک اور مسئلہ یہ حقیقت ہے کہ عام طور پر سماجی دنیا میں سچائی کے بہت سے تصورات ہیں۔ مختلف واضح نقاط سے چیزیں مختلف نظر آتی ہیں اور اس طرح سماجی دنیا میں مثالی طور پر حقیقت کے متعدد مسابقتی نقطہ نظر یا تشریحات شامل ہیں۔ مثال کے لیے اچھی قیمت کیا ہے اس بارے میں ایک دکاندار یا گاہک کی الگ الگ رائے ہو سکتی ہے۔ اچھی غذا کے تصور کے بارے میں جوان اور بوڑھے لوگوں کی رائے مختلف ہو سکتی ہے وغیرہ وغیرہ۔ فیصلہ کرنے کا کوئی سادہ طریقہ نہیں ہے جس کی تشریح درست یا زیادہ صحیح ہو اور اس معنی میں سوچنا اکثر مددگار نہیں ہوتا۔ اصل میں، سماجیات اس طرح فیصلہ لینے یا نتیجہ اخذ کرنے کی کوشش نہیں کرتا کیونکہ وہ درحقیقت اس بات میں دل چسپی لیتا ہے کہ لوگ کیا سوچتے ہیں اور وہ کیوں سوچتے ہیں اور وہ کیا سوچتے ہیں۔

مختلف نقطہ نگاہ ہونے کے سبب سماجی علوم میں خود ہی مزید پیچیدگی پیدا ہوتی ہے۔ اپنے دیگر معاون سماجی علوم کی طرح ہی سماجیات بھی کثیر مثالی نمونے پر مبنی علم ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس شعبے میں مسابقتی اور باہم متضاد مکاتب فکر ساتھ ساتھ موجود ہیں (سماج کے متصادم نظریات کے بارے میں ہوئے مباحثہ کو باب 2 میں دیکھیں)۔

ان سب سے معروضیت بہت مشکل اور پیچیدہ بن جاتی ہے۔ درحقیقت معروضیت کے پرانے تصور کو بڑے پیمانے پر متروک یا فرسودہ تناظر مانا جاتا ہے۔ سماجی سائنس داں اب نہیں مانتے کہ ایک معروضی، غیر دلچسپ سماجی علم کا تصور قابل حصول ہے؛ دراصل اس طرح کا مثالی تصور واقعی گمراہ کن ہو سکتا ہے۔ اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ سماجیات کے ذریعہ کوئی مفید علم نہیں حاصل کیا جاسکتا یا معروضیت ایک بے کار تصور ہے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ معروضیت کو پہلے سے حاصل آخری نتیجے کے بجائے ہدف کو مسلسل جاری رہنے والے عمل کے طور پر سوچا جانا چاہئے۔

متعدد طریقے اور طریقوں کا انتخاب

چونکہ سماجیات میں بہت سچائیاں اور بہت سے تناظر ہوتے ہیں۔ اس لیے یہ زیادہ حیرت کی بات نہیں ہے کہ اس میں کثیر طریقے بھی ہوتے ہیں۔ سماجیاتی سچائی کی طرف کوئی اکیلی منفرد راہ نہیں جاتی۔ بے شک تحقیق سے متعلق مختلف قسم کے سوالات کو حل کرنے میں بہت سے طریقے اپنائے جاتے ہیں، اس کے لیے کچھ زیادہ موزوں ہوتے ہیں کچھ کم۔ مزید برآں ہر طریقے کی اپنی مضبوطی اور کمزوری ہوتی ہے۔ زیادہ اہم ہے کہ یہ پوچھا جائے کہ آیا چنا ہوا طریقہ سوال کا جواب دینے کے لیے مناسب ہے یا نہیں۔

مثال کے لیے اگر کوئی یہ جاننا چاہے کہ زیادہ تر ہندوستانی خاندان کیا اب بھی مشترکہ خاندان ہیں یا نہیں تو اس کے لیے مردم شماری یا سروے زیادہ بہتر طریقہ ہوگا۔ تاہم اگر کوئی چاہے کہ مشترکہ اور نیوکلیئر خاندانوں میں عورتوں کی حیثیت کا موازنہ کیا جائے تب انٹرویو، کیس مطالعات یا شریک کار کا مشاہدہ یہ سب مناسب طریقے ہو سکتے ہیں۔

ماہرین سماجیات کے ذریعہ عام طور پر استعمال کیے جانے والے مختلف طریقوں کی درجہ بندی یا زمرہ بندی کے مختلف طریقے ہیں۔ مثال کے لیے مقداری یا صفاتی طریقوں کے درمیان امتیاز کرنا روایتی طریقہ ہے۔ مقداری طریقہ قابل شمار یا قابل پیمائش متغیرات (تناسب، اوسط اور اسی طرح کے دیگر) سے متعلق ہے جبکہ صفاتی طریقہ زیادہ تجریدی ہے اور مظاہر جیسے رویے، جذبات وغیرہ کی پیمائش مشکل ہے۔ ان طریقوں کے درمیان بھی متعلقہ فرق پایا جاتا ہے ایک تو  قابل مشاہدہ مطالعہ کرتا ہے جبکہ دوسرے میں ناقابل مشاہدہ معنی، اقدار اور توضیحاتی چیزوں کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔

درجہ بندی کیے جانے والے طریقوں میں ایک اور طریقہ یہ ہے کہ ثانوی یا پہلے سے دستیاب اعداد و شمار (دستاویزوں یا دیگر ریکارڈوں یا فنون کی شکل میں) پر انحصار کرنے والے طریقوں اور تازہ یا ابتدائی ڈیٹا پیش کرنے والے طریقوں میں فرق کیا جائے۔ اس طرح تاریخی طریقے مثالی طور پر آرکائیو(Archives)  میں پائے جانے والے ثانوی مواد پر انحصار کرتے ہیں جبکہ انٹرویو کے ذریعہ ابتدائی ڈیٹا کی تخلیق ہوتی ہے وغیرہ وغیرہ۔

زمرہ بندی کا ایک اور طریقہ یہ ہے کہ جزوی یا خورد (Micro)کو کلی (Macro) سے الگ کیا جائے۔ جزوی کو واحد محقق کے ساتھ عام طور پر چھوٹے قریبی ماحول میں کام کرنے کے لیے وضع کیا جاتا ہے۔ اس طرح انٹرویو اور شرکاء کے مشاہدے کو خورد طریقے کے طور پر سمجھا جاتا ہے۔ کلی طریقے وہ ہیں جو جواب دہندگان اور تفتیش کنندگان کی بڑی تعداد کی شمولیت کے ساتھ بڑے پیمانے پر تحقیق کو سلجھاتے ہیں۔ سروے تحقیق کلی طریقے کی بہت ہی عام مثال ہے حالانکہ کچھ تاریخی طریقے بھی کلاں (Macro) مظاہر کا حل نکالتے ہیں۔

درجہ بندی کا طریقہ خواہ کچھ بھی ہو، یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ یہ روایت کا معاملہ ہے۔ مختلف طریقوں کے درمیان تقسیم کرنے والی لائن بہت زیادہ واضح نہیں ہے۔ اکثر ایک طریقے کو دوسرے طریقے میں بدلنا یا ایک کا دوسرے کے ساتھ تکمیلی ہونا ممکن ہوتا ہے۔

عام طور پر طریقے کا انتخاب حل کیے جانے والے تحقیقی سوال کی نوعیت، محقق کی ترجیحات اور وقت یا ذرائع کی بندشوں کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ سماجیات میں حالیہ رجحان مختلف موافق نقاط سے اسی تحقیقی مسئلے پر کثیر طریقوں کے استعمال کی تائید کرنا ہے۔ اس کو کبھی کبھی ’’مثلثی پیمائش‘‘ (Triangulation) کہا جاتا ہے، یعنی وہ عمل جس میں بعض چیز کو مختلف سمتوں سے دہرایا یا باریکی سے پیش کیا جاتا ہے۔ اس طرح ایک دوسرے کی تکمیل کے لیے مختلف طریقوں کا استعمال کیا جاسکتا ہے تاکہ ہر ایک طریقے کے ذریعہ خود نتیجہ اخذ کرنے کے بجائے زیادہ بہتر نتیجہ اخذ کیا جائے۔

چونکہ سماجیات میں نہایت امتیازی طریقے وہ ہیں جو ’’ابتدائی‘‘ ڈیٹا پیش کرنے کے لیے وضع کیے گئے ہیں لہٰذا انہیں پر زور دیا جاتا ہے۔ حلقہ جاتی تحقیق (فیلڈ ورک) کے زمرے پر مبنی طریقوں میں بھی سب سے زیادہ ممتاز طریقوں یعنی سروے، انٹرویو اور شریک کار (شرکتی) مشاہدہ کو ہم متعارف کرائیں گے۔

 مشاہدۂ شرکت کنندہ

 (Participant Observation)

سماجیات میں بالخصوص سماجی انسانیات میں مقبول مشاہدۂ شرکت کنندہ ایک خصوصی طریقے کی دلالت کرتی ہے جس کے ذریعہ ماہر سماجیات سماج، ثقافت اور ان لوگوں کے بارے میں جن کا وہ مطالعہ کر رہا ہے، سیکھتا ہے (یاد کریں، سماجیات اور سماجی انسانیات پر بحث، باب 1 سے)۔

یہ طریقہ دیگر طریقوں سے بہت سی باتوں میں مختلف ہے۔ سروے یا انٹرویو جیسے ابتدائی اعداد و شمار اکٹھا کرنے کے دیگر طریقوں کے برعکس فیلڈ ورک میں تحقیق کے موضوعات کے ساتھ تعامل کا ایک طویل عرصہ شامل ہوتا ہے۔ مثالی طور پر ماہر سماجیات یا سماجی انسانیات کئی مہینے عموماً ایک سال یا کبھی کبھی اس سے زیادہ بھی ان لوگوں کے درمیان گزارتے ہیں جن کا انہیں مطالعہ کرنا ہوتا ہے۔ اصل باشندہ نہ ہونے یعنی خارجی (Outsider) ہونے کے سبب ماہر انسانیات کو اصل باشندوں کی زبان سیکھ کر ان کی روز مرہ زندگی میں قریبی طور پر شرکت کر کے ان کی ثقافت میں گہرائی سے فرق ہونا پڑتا ہے تاکہ وہ اسی طرح داخلی لوگوں کے سبھی ظاہری و باطنی علم و مہارت کو حاصل کر سکے۔ اگرچہ ماہر سماجیات یا ماہر انسانیات کی دلچسپی عام طور پر مخصوص شعبوں میں ہوتی ہے لیکن شرکتی مشاہدہ فیلڈ ورک کا مجموعی مقصد اس کمیونٹی ’’مجموعی طرز زندگی‘‘ کو سیکھنا ہوتا ہے۔ درحقیقت یہ ماڈل اس بچے جیسا ہے، یعنی اس میں ماہرین سماجیات و ماہرین انسانیات سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنے ذریعہ اپنائی جانے والی کمیونٹی کے بارے میں ہر چیز کو اسی کلی یا جامع انداز میں سیکھیں جیسا کہ چھوٹا بچہ دنیا کے بارے میں سیکھتا ہے شرکتی مشاہدہ کو اکثر ’فیلڈورک‘ کہا جاتا ہے۔یہ اصطلاح علوم طبیعی خاص طور پر نباتیات، حیوانیات، علم ارضیات وغیرہ جیسے علوم طبیعی سے اخذ کی گئی ہے۔ ان مضامین میں سائنس داں صرف لیباریٹری میں ہی نہیں کام کرتے بلکہ اپنے مضامین یا موضوعات (جیسے چٹان، حشرات یا پودے) کے بارے میں جاننے کے لیے انہیں فیلڈ میں بھی جانا ہوتا ہے۔

III

سماجی انسانیات میں میدانی تحقیق

 (فیلڈورک)

فیلڈورک ایک ٹھوس سائنٹفک طریقے کے طور پر سوشل سائنس کی حیثیت سے علم انسانیات کو قائم کرنے میں اہم کردار نبھاتا ہے۔ قدیم ماہرین انسانیات اجنبی قدیم ثقافتوں میں دلچسپی لینے والے غیر پیشہ ور مشتاق تھے۔ وہ غیر عملی (Armchair) دانش ور تھے جنہوں نے دور دراز کی کمیونٹیوں (جہاں انہوں نے کبھی سفر نہیں کیا) کے بارے میں معلومات سیاحوں، مبلغین، نو آبادیاتی منتظمین، فوجیوں اور مطلوبہ مقامات تک گئے لوگوں کے ذریعہ اکٹھا کیں اور اسے مرتب کیا۔ مثال کے لیے جیمنرفریزر کی مشہور کتاب ’’دی گولڈن بوؤغ‘‘ جو قدیم ماہرین انسانیات کے لیے باعث تحریک تھی،وہ پوری طرح ثانوی ذرائع پر مبنی تھی جیسا کہ قدیمی مذہب پر ایمائل درخائم کی تخلیق تھی۔ انیسویں صدی کے آخر میں اور بیسوں صدی کے پہلے دہے میں بہت سے ابتدائی ماہرین انسانیات نے جن میں کچھ فرد پیشے سے علم طبیعی کے ماہرین بھی تھے، انہوں نے منظم طریقے سے سروے کرنے اور قبائل کی زبانوں، روایتوں، رسوم اور عقائد کا خود مشاہدہ کرنا شروع کیا۔ ثانوی ذرائع پر انحصار کو غیر عالمانہ مان کر خود سے کیے گئے کاموں سے بہتر نتیجہ حاصل ہونے پر اس بڑھتے ہوئے متعصبانہ میلان کو مدد ملی۔

1920 کے دہے تک شرکتی مشاہدہ یا فیلڈ ورک کو سماجی انسانیات کی تربیت اور اہم طریقے کے لیے جس کے ذریعہ علم پیش کیا جاتا ہے، ایک لازمی جز سمجھا جانے لگا۔ تقریباً سبھی ذی اثر دانش وروں نے اپنے اپنے میدان میں ایسے فیلڈ ورک انجام دیے ہیں جو حقیقت میں بہت سی کمیونٹی اور جغرافیائی مقامات فیلڈ ورک کی امتیازی مثالوں سے وابستہ ہونے کے سبب مشہور ہوئے۔

برونیسلا میلینووسکی اور فیلڈورک کی دریافت

حالانکہ وہ پہلا شخص نہیں تھا جس نے اس طریقے کا استعمال کیا۔ دیگر دانشوروں کے ذریعہ دنیا بھر میں اس کی مختلف شکلوں پر کام کیا جا چکا تھا۔ برونیسلاو میلینو وسکی، ایک پولش ماہر انسانیات تھا جو برطانیہ میں بس گیا تھا۔ ایسا مانا جاتا ہے کہ اس نے سماجی انسانیات میں فیلڈ ورک کو ایک امتیازی طریقے کے طور پر قائم کیا۔ 1914 میں یوروپ میں پہلی جنگ عظیم کے شروع ہونے کے وقت وہ آسٹریلیا کے سفر پر تھا جو کہ اس وقت برٹش حکومت کا ایک حصہ تھا۔ چونکہ جنگ میں پولینڈ کا الحاق جرمنی نے کر لیا تھا اس لیے برطانیہ نے اسے دشمن ملک قرار دیا تھا اور پولینڈ کا شہری ہونے کے سبب میلینووسکی تکنیکی طور پر وہ دشمن غیر ملک بن گیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ لندن اسکول آف ایکونامکس میں ایک معزز پروفیسر تھا اور برطانوی اور آسٹریلیا کے صاحب اختیار لوگوں کے ساتھ اس کے اچھے تعلقات تھے۔ لیکن چونکہ وہ تکنیکی طور پر ایک غیر ملکی دشمن تھا اس لیے قانون کے لحاظ سے اسے ایک مخصوص مقام پر نظر بند رہنا یا ایک مقرر حد میں رہنے کا پابند ہونا ضروری تھا۔

بہر حال، میلینووسکی آسٹریلیا کے متعدد مقامات اور جنوبی بحرالکاہل کے جزائر کا دورہ اپنی انسانیاتی تحقیق کے لیے کرنا چاہتا تھا۔ لہٰذا اس نے صاحبان اقتدار سے درخواست کی اسے اپنی نظر بندی ٹروبرائنڈ (Trobriand) جزائر میں پوری کرنے کی اجازت دی جائے جو کہ جنوبی بحرالکاہل علاقے میں برطانوی و آسٹریلیائی حکومت کے قبضے میں تھا۔ اس پر آسٹریلیائی حکومت نے منظوری دے دی اور اس کے سفر کے لیے مالی وسائل بھی فراہم کیے اور میلینووسکی نے ٹروبرائنڈ جزائر میں ڈیڑھ سال گزارے۔ وہ وہاں کے مقام گاوؤں میں خیمے میں رہے، ان کی مقامی زبان سیکھی اور ان کی ثقافت کے بارے میں سیکھنے کے سلسلے میں وہاں کے باشندوں سے گہرائی کے ساتھ تعامل کیا۔ اس نے اپنے مشاہدات کاریکارڈ محتاط اور تفصیلی طور پر رکھا اور اس کے لیے اس نے ایک یومیہ ڈائری بھی رکھی۔ اس نے بعد میں ان فیلڈ نوٹوں اور ڈائریوں کی بنیاد پر ٹروبرائنڈ ثقافت پر کتابیں لکھیں۔ یہ کتابیں جلد ہی مقبول ہو گئیں اور آج بھی انہیں کافی اچھی تخلیق سمجھا جاتا ہے۔

اپنے ٹروبینڈ تجربے سے پہلے بھی میلینووسکی نے یہ یقین ظاہر کیا تھا کہ علم انسانیات کا مستقبل ماہر انسانیات اور مقامی ثقافت کے درمیان راست اور بغیر کسی ثالث کے تعامل پر ہی منحصر ہے۔ وہ قائل تھے کہ یہ کام تب تک ذہنی مشغلے کی حیثیت سے آگے نہیں بڑھے گا جب تک کہ اس کام میں مشغول افراد کی زبان کو گہرائی سے سیکھ کر منظم طور پر خود مشاہدہ نہ کریں۔ اس مشاہدے کے لیے ماہر انسانیات کو مقامی لوگوں کے درمیان رہنا ہوگا اور اس کام کے لیے قصبے یا باہر سے بلائے گئے وہاں کے باشندوں سے انٹرویو کی جگہ ان کی زندگی کو قریب سے دیکھنا ہوگا۔ ترجمان کے استعمال سے بھی بچا جانا چاہئے۔یہ تبھی ممکن ہے جب ماہر انسانیات مقامی لوگوں سے سیدھی بات چیت کریں تبھی ان کی ثقافت کے بارے میں صحیح اور مستند اطلاع حاصل کی جاسکتی ہے۔

لندن اسکول آف ایکونامکس میں اس کی ذی اثر حیثیت اور ٹروبرائنڈ میں اس کے کام کی شہرت نے میلینووسکی کو علم انسانیات کے طلباء کے لیے فیلڈ ورک سے متعلق فراہم کی جانے والی تربیت کو ایک لازمی جزو کے طور پر ادارہ جاتی کرنے کی مہم کا اہل بنایا۔ اس سے مضمون کو ٹھوس سائنس کے طور پر مقبولیت حاصل کرنے میں مدد ملی جو فاضلانہ پہلو سے بہت اہم تھا۔


ماہرین سماجی انسانیات فیلڈورک(میدانی تحقیق) کرتے وقت اصل میں کیا عمل انجام دیتا ہے؟ عام طور پر وہ کمیونٹی جس کا اسے مطالعہ کرنا ہے، اس کی مردم شماری کے ذریعہ شروعات کرتا یا کرتی ہے۔ اس کے تحت کمیونٹی میں رہ رہے لوگوں کی تفصیلی فہرست بنانا شامل ہے جو ان کے جنس، عمر گروپ اور فیملی سے متعلق معلومات پر مشتمل ہوتی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ گاؤں یا بستی کا طبیعی خاکہ بنانے کی بھی کوشش کی جاتی ہے جس میں مکانوں اور دیگر سماجی طور پر متعلقہ مقامات کے وقوع بھی شامل ہیں۔ماہرین انسانیات کے ذریعہ استعمال کی جانے والی ایک اہم تکنیک بالخصوص ان کے فیلڈورک کے شروعاتی مرحلے میں کمیونٹی کی شجریات تیار کرنا ہے۔ یہ مردم شماری میں حاصل معلومات پر مبنی ہو سکتی ہے۔اس میں مزید توسیع ہوتی ہے کیونکہ اس میں انفرادی ممبران کے لیے شجرہ (Family Tree) بنانا بھی شامل ہے اور شجرہ جتنا ممکن ہو سکتا ہے، ماضی کی طرف پھیلایا جاسکتا ہے۔ مثال کے لیے کسی مخصوص گھر یا فیملی کے سربراہ سے اس کے رشتے داروں، بھائیوں، بہنوں اور چچازاد بھائی بہنوں کی اس کی اپنی نسل میں، اس کے بعد اس کے ماں باپ کی نسل میں اس کے والدین، اس کے بھائیوں و بہنوں وغیرہ کے بارے میں، اس کے بعد دادا دادی اور اس کے بھائیوں، بہنوں کے بارے میں اور مزید اسی طرح پوچھا جائے گا۔ یہ سلسلہ بہت سی نسلوں تک چلے گا جسے فرد یاد رکھ سکے۔ کسی فرد سے حاصل معلومات کو دیگر رشتے داروں سے انہیں سوالات کو پوچھنے کے ذریعہ دہری جانچ ہو سکے گی اور توثیق کے بعد ایک نہایت تفصیلی شجرہ بنایا جاسکے گا۔ یہ عمل ماہرین سماجی انسانیات کو کمیونٹی کے قرابت داری نظام کہ کسی فرد کی زندگی میں مختلف رشتہ دار کس طرح کا کردار نبھاتے ہیں اور ان رشتوں کو کیسے بنایا رکھا جاسکتا ہے، سمجھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

نسب نامے کے ذریعہ ماہر انسانیات کو کمیونٹی کی ساخت کے بارے میں جاننے میں مدد ملتی ہے اور عملاً اس سے فرد کو لوگوں سے ملنے اور کمیونٹی کی طرز زندگی کے بارے میں معلومات حاصل ہوتی ہیں۔ اس بنیاد پر چل کر ماہرانسانیات مستقل کمیونٹی کی زبان سیکھتا ہے۔ وہ کمیونٹی کی زندگی کا مشاہدہ کرتا ہے اور ایک تفصیلی نوٹ تیار کرتا ہے جس میں کمیونٹی کی زندگی کے نمایاں پہلوؤں کو بیان کیا جاتا ہے۔ ماہر انسانیات کی دلچسپی خاص طور پر تیوہاروں، مذہب دیگر اجتماعی تقریبات، ذرائع معاش، خاندانی تعلقات، بچوں کی پرورش کے مختلف طریقے وغیرہ جیسے موضوعات میں ہوتی ہے۔ ان اداروں کے بارے میں جاننے اور کمیونٹی کے ممبران کے ذریعہ کی جانے والی سرگرمیوں کے بارے میں ختم نہ ہونے والے سوال پوچھنے کے لیے ماہر انسانیات کو مشق کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہی وہ مفہوم ہے جس میں ماہر انسانیات ایک بچے کی طرح ہوتا ہے جو ہمیشہ کیوں، کیا وغیرہ سوال پوچھتا رہتا ہے۔ اس پر عمل کرتے وقت ماہر انسانیات عموماً زیادہ تر معلومات کے لیے ایک یا دو لوگوں پر منحصر ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کو اطلاع دہندگان یا خاص اطلاع دہندہ کہا جاتا ہے۔ ابتدائی دنوں میں اصلاح مقامی اطلاع دہندہ کا بھی استعمال کیا جاتا تھا۔ اطلاع دہندگان ماہر انسانیات کے لیے استاد کا کام کرتے ہیں اور ماہر انسانیات تحقیق کے پورے عمل میں نہایت اہم کارکن ہوتے ہیں۔ اس طرح فیلڈ ورک ماہر انسانیات کے ذریعہ تیار کیے گئے تفصیلی فیلڈ نوٹ بھی اتنے زیادہ اہم ہوتے ہیں۔ ان کو ہر دن بغیر کسی ناغہ کے لکھا جانا ہوتا ہے اور اسے روز مرہ کی ڈائری کی شکل میں تکمیل کی جاسکتی ہے یا اسے اختیار کیا جاسکتا ہے۔


سرگرمی2
فیلڈورک کی بعض مشہور مثالوں میں شامل ہیں: انڈمان نکوبار جزائر پر ریڈ کلیف براون، سوڈان میں نیورپر ایوان پرٹ چارڈ، ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں مختلف مقامی امریکی قبیلوں پر فرانز بوآس (Franz Boas)، سمویا پر مارگریٹ گیرٹز، بالی میں کلیفورڈ گیرٹز وغیرہ۔ دنیا کے نقشے میں ان مقامات کی نشاندہی کیجیے کہ ان جگہوں پر مشترک کیا ہے؟ ایک ’اجنبی‘ ثقافت میں ان مقامات پر رہنے والے ماہر انسانیات کے لیے کیا رہا ہوگا؟ انہوں نے کون سی بعض دشواریوں کا سامنا کیا ہوگا؟


IV

سماجیات میں فیلڈورک

ماہرین سماجیات جب فیلڈ ورک (حلقہ جاتی تحقیق) انجام دیتے ہیں تب ان کے ذریعہ کم و بیش یہی تکنیک اپنائی جاتی ہے۔سماجیاتی فیلڈورک اپنے مواد کے لحاظ سے جو فیلڈورک کے دوران انجام دیا جاتا ہے اتنا متفرق نہیں ہوتا بلکہ جہاں انجام دیا جاتا ہے، اس کے سیاق و سباق میں اور تحقیق کے مختلف شعبوں یا موضوعات کے درمیان تقسیم پر زور دیا جاتا ہے۔ اس طرح کوئی بھی ماہر سماجیات کمیونٹی میں ہی رہتا ہے اور سماج کا داخلی حصہ بننے کی کوشش کرتا ہے۔ تاہم ایک ماہرانسانیات کے برخلاف جو فیلڈورک کرنے کے لیے دور دراز کے قبائلی علاقے میں چلا جاتا ہے، کے بجائے ماہر سماجیات اپنا فیلڈورک سبھی قسم کی کمیونٹیوں کے درمیان ہی رہ کر کرتا ہے۔ مزید برآں، سماجیاتی فیلڈورک میں کوئی ضروری نہیں ہے کہ اسی مقام پر سکونت رکھی جائے اگرچہ ماہرسماجیات کو بھی اپنا زیادہ تر وقت کمیونٹی کے ممبران کے درمیان گزارنا پڑتا ہے۔

مثال کے لیے ایک امریکی ماہرسماجیات ولیم فوٹے وایٹے نے اپنا فیلڈورک ایک بڑے شہر میں اطالوی امریکی پسماندہ بستی میں گلی کے ’گینگ‘ ممبران کے درمیان رہ کر کیا اور ایک مشہور کتاب ’’اسٹریٹ کارنر سوسائٹی‘‘ لکھی۔ وہ اس علاقے میں ساڑھے تین سال رہے اور زیادہ تر نہایت غریب بے روزگار جوانوں کے گینگ یا گروپ کے ممبران کے درمیان وقت گزارا۔ یہ گینگ یا گروپ تارکین وطن کی کمیونٹی کی امریکہ  میں پیدا ہوئی پہلی نسل کا تھا۔ سماجیاتی فیلڈ ورک کی یہ مثال حالانکہ انسانیاتی فیلڈورک سے زیادہ قریب تر ہے تاہم اس میں اہم فرق بھی ہیں (باکس میں دیکھیں)۔ سماجیاتی فیلڈورک کے اس طرح کے ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کی مختلف شکلیں ہو سکتی ہیں جیسا کہ دوسرے امریکی ماہر سماجیات Michael Burawoy کے فیلڈ ورک میں کیاہے۔ اس نے شکاگو فیکٹری میں کئی مہینے تک میکینک کے طور پر کام کیا اور کامگاروں کے زاویہ نگاہ سے کام کے تجربات کے بارے میں لکھا۔

سماجیات میں فیلڈورک — بعض دشواریاں

ماہر انسانیات جس نے دنیا کے دور دراز کے علاقے میں قدیم قبائل کا مطالعہ کیا تھا، اس کے مقابلے جدید امریکی کمیونٹی کے طالب علم کو نمایاں طور پر مختلف مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پہلے درجے میں اس کا معاملہ خواندہ لوگوں کے ساتھ پڑتا ہے۔ یہ یقینی ہے ان میں سے بعض لوگ اور غالباًبہت سے لوگ اس کی تحقیق رپورٹ پڑھیں گے۔ اگر وہ ضلع کا نام بدل دے جیسا کہ میں نے کیا ہے تب بہت سے بیرونی لوگ یہ پتہ نہیں لگا پائیں گے کہ یہ مطالعہ کہاں پر حقیقت میں کیا گیا ہے۔ ضلع کے لوگ بے شک جانیں گے کہ یہ ان کے بارے میں ہے اور بدلے ہوئے نام بھی ان افراد کو نہیں چھپاسکتے۔ انہیں محقق کے بارے میں یاد ہے اور ان لوگوں کے بارے میں جانتے ہیں جن سے وہ وابستہ تھے اور مختلف گروپوں میں کون کون لوگ شامل تھے ان کے بارے میں وہ کافی جانتے ہیں اس غلطی کا امکان نہایت کم ہوتا ہے۔

ایسی صورتحال میں محقق پر بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ وہ ضرور چاہے گا کہ یہ کتاب ضلع کے لوگوں کے لیے کچھ مددگار ثابت ہو، وہ چاہے گاہ کہ ایسے اقدامات کرے جس سے کسی طرح کے نقصان پہنچنے کا امکان کم سے کم ہو جائے۔ وہ پوری طرح اس امکان کو جانتا ہے کہ اس کتاب کی اشاعت سے بعض افراد کو مشکل پیش آسکتی ہے۔ 

ولیم فوٹ وایٹے، اسٹریٹ کارنر سوسائٹی صفحہ 342۔    


ہندوستانی سماجیات میں ایک اہم طریقہ جس میں فیلڈورک طریقوں کا استعمال کیا جاتا رہا ہے، وہ ہے گاؤں کے مطالعات۔ 1950 کے دہے میں متعدد ماہرین انسانیات اور سماجیات ہندوستانی اور غیر ملکی دونوں کے دیہی زندگی اور سماج پر کام کرنے کی شروعات کی۔ ابتدائی ماہرین انسانیات کے ذریعہ کیے جانے والے قبائل کمیونٹی پر مطالعات جیسا مساوی کردار گاؤں نے ادا کیا۔ یہ بھی ایک بندھی ہوئی کمیونٹی (Bounded Community) تھی اور اتنی مختصر تھی کہ ایک اکیلے فرد کے ذریعہ اس کا مطالعہ کیا جاسکتا تھا۔ یعنی ماہر سماجیات گاؤں میں تقریباً ہر ایک کے بارے میں جانتا تھا اور وہاں کی زندگی کا مشاہدہ کر سکتا تھا۔ مزید برآں، علم انسانیات نو آبادیاتی ہندوستان میں قوم پرستوں میں بہت زیادہ مقبول نہیں تھی کیونکہ اس کا بہت زیادہ تعلق قدیمی سماج سے تھا۔ بہت سے پڑھے لکھے ہندوستانیوں کا ماننا تھا کہ انسانیات جیسے مضامین میں نو آبادیاتی میلان پایا جاتا ہے کیونکہ وہ ترقیاتی یا مثبت پہلو کے بجائے ان نو آبادیاتی سماجوں کے غیر جدید پہلوؤں کو نمایاں کرتے تھے۔ اس لیے کسی بھی ہندوستانی ماہر سماجیات کے لیے صرف قبیلوں کا مطالعہ کرنے کے بجائے گاؤں اور استعماریت (Colonialism) کے درمیان تعلق پر بھی سوال پوچھے جانے لگے تھے بعد میں میلینو وسکی، ایوان پرٹ چارڈ اور متعدد دیگر افراد کے ذریعہ کیے گئے فیلڈ ورک کے کلاسیکی کاموں نے یہ ثابت کر دیاکہ جن جگہوں اور لوگوں کے بارے میں فیلڈورک کیے گئے تھے وہ ان ملکوں کے جہاں سے مغربی ماہرین انسانیات آئے تھے، نو آبادیاتی سامراج کے حصے تھے۔

تاہم طریقۂ کار اسباب کے علاوہ گاؤں پر کیے گئے مطالعات اس لیے بھی اہم تھے کیونکہ انہوں نے نئے آزاد ہندوستان میں ہندوستانی سماجیات کے نام سے ایک ایسا مضمون فراہم کیا تھا جو کافی دل چسپ تھا۔ دیہی ہندوستان کی ترقی پزیری میں حکومت کی دل چسپی تھی۔ قومی تحریک کے ذریعہ اور خاص طور پر مہاتما گاندھی گاؤں کو اوپر اٹھانے کے پروگراموں میں سرگرمی کے ساتھ حصہ لے رہے تھے۔ اس کے علاوہ شہر کے تعلیم یافتہ ہندوستانی بھی دیہی زندگی میں بہت زیادہ دلچسپی لے رہے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان میں سے اکثر کی بعض فیملی گاؤں میں تھی اور حالیہ تاریخی تعلق گاؤں سے وابستہ تھا۔ سب سے بڑھ کر گاؤں وہ مقامات تھے جہاں اکثر ہندوستانیوں نے اپنی زندگی گزاری (اور اب بھی رہ رہے تھے) انہیں اسباب کی بنا پر گاؤں پر مطالعہ ہندوستانی سماجیات کے لیے نہایت اہم تھے اور دیہی سماج کا بہتر طور پر مطالعہ کرنے کے لیے فیلڈ ورک طریقے نہایت موزوں تھے۔

سرگرمی 3

اگر آپ گاؤں میں رہتے ہیں تو اس کے بارے میں ایسے شخص کو بتائیں جو وہاں کبھی نہ گیا ہو۔ گاؤں میں آپ کی زندگی کی کون سی ایسی خصوصیات ہوں گی جن پر آپ زیادہ زور دینا چاہیں گے؟ آپ نے گاؤں کو کسی فلم یا ٹیلی ویژن پر جیسا دکھایا جاتا ہے ویسا بھی دیکھا ہوگا۔ ان گاؤں کے بارے میں آپ کیا سوچتے ہیں اور یہ آپ کے گاؤں سے کیسے مختلف ہیں؟ فلم میں یا ٹیلی ویژن پر دکھائے گئے شہروں کے بارے میں غور کیجیے۔ کیا آپ ان میں رہنا پسند کریں گے؟ اپنے جواب کے لیے اسباب بھی بتایے۔

اگر آپ کسی قصبے یا شہر میں رہتے ہیں تو اپنے ایسے پڑوسی کو اس کے بارے میں بتائیں جو کبھی وہاں نہ گیا ہو۔ آپ کے پڑوس میں آپ کی زندگی کی اہم خصوصیات کون کون سی ہیں جن کے بارے میں آپ زور دینا چاہیں گے؟ فلم یا ٹیلی ویژن میں دکھائے گئے شہر کے پڑوس سے آپ کا پڑوس کس طرح سے مختلف (یا مماثل) ہے؟ آپ نے فلم میں یا ٹیلی ویژن پر دکھائے گئے گاؤں کا بھی مشاہدہ کیا ہوگا: کیا آپ ان میں رہنا پسند کریں گے؟ اپنے جواب کے حق میں اسباب بھی بتائیے۔


 مشاہدۂ شرکت کنندہ کی بعض حدود

آپ پہلے ہی دیکھ چکے ہیں کہ شرکتی مشاہدہ میں کیا کیا جاسکتا ہے۔ اس کی اہم خوبی یہ ہے کہ یہ ’’داخلی فرد‘‘ (اندر کا شخص) کے تناظر میں زندگی کی نہایت اہم اور تفصیلی تصویر پیش کرتا ہے۔ یہ داخلی فرد کا تناظر ہی ہے کہ جو معقول حد تک وقت لگانے اور کوشش کیے جانے پر عظیم نتیجہ پیش کرتا ہے جیسا کہ فیلڈورک متقاضی ہوتا ہے۔ دیگر زیادہ تر تحقیقی طریقے کافی طویل عرصے کے دوران فیلڈ کے تفصیلی علم کا دعویٰ نہیں کرسکتے کیونکہ وہ مختصر اور تیز فیلڈ دورے پر مبنی ہوتے ہیں۔ فیلڈورک کے ذریعہ ابتدائی اثرات میں درستگی کی جاسکتی ہے جو کہ اکثر غلط یا جانب داری پر مبنی ہوتی ہے۔ اس سے محقق اپنے دلچسپی کے موضوع میں تبدیلیاں اختیار کر سکتا ہے اور مختلف صورتحال یا سیاق و سباق کے لحاظ سے اثرات جاننے میں بھی اسے مدد مل سکتی ہے۔مثال کے لیے کسی عمدہ فصل کے موسم میں اور خراب فصل کے سال میں سماجی ساخت یا ثقافت کے مختلف پہلو ابھرتے ہیں۔ لوگ الگ الگ برتاؤ کرتے ہیں جب وہ باروزگار یا بے روزگار ہوتے ہیں اور اسی طرح کے معاملوں میں لوگوں کے برتاؤ مختلف ہو سکتے ہیں۔ چونکہ فیلڈ میں ’کل وقتی‘ مصروفیت کے ساتھ وہ زیادہ عرصہ گزارتا ہے اس لیے شرکتی مشاہدان بہت سی غلطیوں اور جانبداریوں سے بچ سکتا ہے جن سے سروے، سوالناموں یا قلیل مدتی مشاہدہ کے ذریعہ نہیں بچا جاسکتا۔

دیہی مطالعات کو انجام دینے کے مختلف انداز

دیہی مطالعات کے لیے مختلف طریقے 1950 اور 1960 کے دہے کے دوران گاؤں کے بارے میں مطالعہ کرنا ہندوستانی سماجیات کی اہم گہری مشغولیت بن گئی تھی لیکن اس سے کافی پہلے ایک مشنری جوڑا ولیم اور چارلوئے نے جو اترپردیش کے ایک گاؤں میں 5 سال تک رہا۔ اس نے ایک مشہور دیہی مطالعہ "Behind Mud Walls" تحریر کیا۔ وایزر کی یہ کتاب ان کی مشنری کام کی ایک ذیلی تخلیق تھی۔ ولیم وایزر حالانکہ ایک ماہر سماجیات کی شکل میں تربیت یافتہ تھے اور اس سے پہلے بھی جحمانی نظام پر کئی کتابیں لکھ چکے تھے۔

1950کے دہے میں کیے گئے دیہی مطالعات مختلف سیاق و سباق میں کیے گئے تھے اور مختلف طریقوں سے کیے گئے تھے۔ ’’قبیلے‘‘ یا ’’بندھواکمیونٹی‘‘ کی جگہ گاؤں نے لے لی تھی لیکن اس کے ساتھ ساتھ کلاسیکی سماجی انسانیاتی طرز نمایاں تھا۔ غالباً اس طرح کے فیلڈورک کی بہتر معروف مثال ایم۔این۔ سری نواس کی مشہور کتاب "The Remembered Village" میں پیش کی گئی تھی۔ سری نواس نے میسور کے قریب ایک گاؤں جس کا نام رام پورہ تھا، ایک سال گزارا۔ اس کی کتاب کا عنوان اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ سری نواس کے فیلڈنوٹ کسی آگ میں جل کر تباہ ہو گئے تھے اور اس نے گاؤں کے بارے میں اپنی یادداشت سے لکھا۔ ایک دیگر مشہور دیہی مطالعہ 1950 کے دہے میں ایس۔سی۔ دوبے کے ذریعہ تحریر کیا گیا "Indian Village" ہے۔ عثمانیہ یونیورسٹی میں ایک ماہر سماجی انسانیات کے طور پر دوبے کثیر مضامین ٹیم کا ایک ممبر تھا۔ اس ٹیم میں زراعتی علوم، معاشیات، علم حیوانات اور طب کے شعبے شامل تھے۔ اس نے سکندرآباد کے قریب شمیرپٹ نام کے گاؤں کا مطالعہ کیا۔ یہ بڑا مجموعی پروجیکٹ محض گاؤں کے مطالعے سے متعلق نہیں تھا بلکہ اسے ترقی دینا بھی اس کا مقصد تھا۔ درحقیقت شمیرپٹ ایک قسم کی لیباریٹری تھی جہاں دیہی ترقیاتی پروگراموں کو وضع کرنے میں تجربات انجام دیے جاسکتے تھے۔

گاؤں کے مطالعات کی ایک اور طرز 1950 کے دہے میں ’کورنیل ولیج اسٹڈی پروجیکٹ‘ میں دکھائی دیتا ہے۔ کارنیل یونیورسٹی کے ذریعہ شروع کیے گئے پروجیکٹ میں امریکی ماہرین سماجی انسانیات، نفسیات داں اور ماہرین لسانیات کا ایک گروپ تھا جنہوں نے ہندوستان کے اسی خطے میں جس کو مشرقی اترپردیش کہا جاتا ہے، اس کے متعدد گاؤں کا مطالعہ کیا۔ دیہی سماج اور ثقافت کے  کثیر شعبہ جاتی مطالعے کی یہ ایک نہایت اہم تعلیمی پروجیکٹ تھا۔ اس پروجیکٹ میں ہندوستانی دانش ور بھی شامل تھے جنہوں نے امریکیوں کو تربیت دینے میں مدد کی اور جو بعد میں ہندوستان سماج کے معروف دانش ور بنے۔


اپنی نوعیت کے لحاظ سے فیلڈورک میں عام طور پر ایک طویل وقت تک چلنے والی اور کسی اکیلے محقق کے ذریعہ کی جانے والی عمیق تحقیق شامل ہے۔ اس طرح یہ دنیا کے ایک نہایت چھوٹے حصے کا احاطہ کر سکتا ہے عام طور پر ایک اکیلا گاؤں یا کوئی ایک چھوٹی سی کمیونٹی۔ ہم کبھی بھی مطمئن نہیں ہوپاتے کہ آیا ماہر انسانیات یا ماہر سماجیات کے ذریعہ کیے گئے فیلڈورک کے دوران پائے گئے نتیجے کبھی بھی بڑی کمیونٹی (یعنی دیگر گاؤں میں، علاقوں یا ملک میں) میں وہی ہوں گے یا یہ استثنائی ہیں۔ یہ غالباً فیلڈورک کی سب سے بڑی خرابی ہے۔ فیلڈ ورک طریقے کی ایک اور اہم حد یہ ہے کہ ہم کبھی مطمئن نہیں ہوتے کہ آیا یہ اس ماہر انسانیات کی آواز ہے جو ہم سن رہے ہیں یا ان لوگوں کی آواز ہے جن کا مطالعہ کیا جارہا ہے لیکن اس بات کا ہمیشہ امکان رہتا ہے کہ ماہر انسانیات کے ذریعہ اس کے نوٹ میں جو لکھا جائے گا اسے آیا شعوری طور پر یا غیر شعوری طور پر انتخاب کیا جارہا ہے اور اس کی کتابوں یا آرٹیکل کو پڑھنے والوں کو اسے کیسے پیش کیا جائے گا۔ چونکہ ہمارے پاس ماہرانسانیات کے سوائے کوئی دوسرا نقطہ نگاہ یا شکل دستیاب نہیں ہے اس لیے اس میں جانبداری یا غلطی کا امکان بنا رہتا ہے حالانکہ یہ خدشہ اکثر تحقیقی طریقوں میں موجود رہتا ہے۔

زیادہ عام طور پر فیلڈورک طریقوں پر تنقید اس لیے کی جاتی ہے کہ یہ یک طرفہ تعلقات پر مبنی ہوتے ہیں۔ ماہر انسانیات یا ماہر سماجیات سوال پوچھتا ہے اور جوابات پیش کرتا ہے جو لوگوں کے لیے کہے جاتے ہیں۔ اس کے برخلاف کچھ دانشوروں نے زیادہ مکالماتی وضع کی تجویز پیش کی ہے یعنی فیلڈورک کے نتائج پیش کرنے کے وہ طریقے جہاں جواب دہندگاں اور لوگ سیدھے طور پر شامل ہو سکیں۔ زیادہ ٹھوس معنی میں اس میں دانش ور کے کام کو کمیونٹی کی زبان میں منتقل کر دیا جاتا ہے اور اس پر ان کی رائے معلوم کی جاتی ہے اور ان کے جوابات کو ریکارڈ کر لیا جاتا ہے۔ جیوں جیوں محقق اور جس پر تحقیق کی جاتی ہے، ان کے درمیان سماجی معاشی اور سیاسی دوری یا خلا کم ہوتا ہے تیوں تیوں اس بات کا امکان بڑھتا جاتا ہے کہ دانش ور کے زاویہ نگاہ پر سوال کیا جائے گا اور خود لوگوں کے ذریعہ انہیں تسلیم کیا جائے گا یا ان کی اصلاح کی جائے گی۔ یقینی طور پر اس سے سماجیاتی تحقیق زیادہ متنازع اور زیادہ پیچیدہ ہو جائے گی۔ لیکن طویل مدتی طور پر اس سے ایک اچھی بات یہ ہوگی کہ اس سے سوشل سائنس کو آگے لے جانے اور اسے مزید جمہوری بنانے اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو علم بانٹنے اور اس میں تنقیدی نگاہ سے حصہ لینے میں مدد ملے گی۔

سروے

غالباً سروے ہی زیادہ معروف سماجیاتی طریقہ ہے جو اب جدید عوامی زندگی کے ایک حصہ کے طور پر عموماً اپنایا جانے والا طریقہ بن چکا ہے۔ آج اس کا استعمال سبھی طرح کے سیاق و سباق میں پوری دنیا میں کیا جارہا ہے۔ یہ سیاق و سباق صرف اکیلے سماجیات کے نہیں رہ گئے ہیں۔ ہندوستان میں بھی ہم نے مختلف غیر تعلیمی مقاصد کے لیے سروے کے بڑھتے ہوئے استعمال کا مشاہدہ کیا ہے۔ اس میں انتخابی نتائج کی پیش بینی، اشیا کو فروخت کرنے کے لیے فروخت کار کی حکمت عملیاں تیار کرنا اور کئی طرح کے موضوعات کے بارے میں مقبول رائے سامنے لانا شامل ہے۔

جیسا کہ خود لفظ سے ظاہر ہے کسی بھی سروے میں عمومی جائزہ فراہم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ کسی بھی موضوع پر محتاط طور پر منتخب کیے گئے لوگوں کے نمائندہ گروپ سے حاصل اطلاع یہ وسیع یا جامع تناظر ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کو عموماً جواب دہندگان کے طور پر جانا جاتا ہے۔ یہ محققین کے ذریعہ ان سے پوچھے گئے سوالوں کا جواب دیتے ہیں۔ سروے تحقیق عام طور پر ایک بڑی ٹیم کے ذریعہ انجام دی جاتی ہے جس میں منصوبہ بنانے والے، مطالعے کا خاکہ تیار کرنے والے (محققین) اور ان کے معاون اور مددگار شامل ہوتے ہیں (ان کو تفتیش کنندگان اور تحقیق معاون کہاجاتا ہے)۔ سروے کے سوالات مختلف شکلوں میں پوچھے جاسکتے ہیں اور ان کے جواب دیے جاسکتے ہیں۔ اکثر تفتیش کنندہ کے ذاتی دورے کے دوران زبانی پوچھا جاتا ہے اور کبھی کبھی ٹیلی فون پر بات چیت کے ذریعہ۔ جوابات تفتیش کنندگان کے ذریعہ پیش کیے گئے سوالات سے یا ڈاک کے ذریعہ بھیجے گئے سوالات پر تحریری طور پر بھی دیے جاسکتے ہیں۔ آخر میں کمپیوٹروں اور ٹیلی مواصلاتی تکنیک کے بڑھتے استعمال کے نتیجے میں آج الکٹرانک طور پر سروے کرنا بھی ممکن ہوگیا ہے۔ اس فارمیٹ میں جواب دہندہ ای میل انٹرنیٹ یا اسی طرح کسی اور الیکٹرانک ذریعہ سے سوالات حاصل کرتا ہے اور ان کے جوابات دیتا ہے۔ سماجی سائنٹفک طریقے کے طور پر سروے کا خاص فائدہ یہ ہے کہ اس کے ذریعہ آبادی کے صرف چھوٹے سے حصے کا مطالعہ کر کے اس کے نتائج کو بڑی آبادی کے لیے عمومی طور پر لاگو کیا جاسکتا ہے۔ اس طرح اہتمام کیے جاسکنے والے وقت، کوشش اور زور لگانے کے ساتھ سروے کے ذریعہ بہت بڑی آبادی کے بارے میں مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سماجی علوم اور دیگر شعبوں میں یہ طریقہ مقبول ہے۔

شماریات کی شاخ کی دریافتوں جسے نمونہ کاری نظریہ کہا جاتا ہے، کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انتخابی ہونے کے باوجود نمونیاتی سروے قابل تعمیم نتیجہ فراہم کر سکتا ہے۔ اس مختصر و آسان ترکیب کو ممکن بنانے والا کلیدی عنصر نمونے کی نمائندگی ہے۔ ہم کس طرح دی گئی آبادی میں سے نمائندہ نمونہ منتخب کرتے ہیں؟ موٹے طور پر نمونے کا انتخابی عمل دو اہم اصولوں پر مبنی ہے۔

مردم شماری اور قومی نمونہ سروے تنظیم

ہر دس سال میں کیا جانے والا ہندوستان کی آبادی کا سروے دنیا میں اس طرح کا سب سے بڑا سروے ہے۔ (ہم سے زیادہ آبادی والا ملک صرف چین ہے جہاں باقاعدگی کے ساتھ مردم شماری کا اہتمام نہیں ہوتا) اس میں لاکھوں تفتیش کنندگاہ اور کافی تعداد میں انصرامی تنظیم شامل ہوتی ہے ظاہر ہے کہ حکومت ہند کے ذریعہ اس پر کثیر رقم خرچ کی جاتی ہے۔ تاہم اس صرفہ کے بدلے میں ہندوستان میں رہنے والے ہر ایک گھر کا واقعتا جامع سروے کیا جاتا ہے اور ہندوستان میں رہنے والے ایک ارب سے زیادہ لوگ اس میں شامل ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ایسے تفصیلی سروے بار بار نہیں کیے جاسکتے۔ دراصل متعدد ترقی یافتہ ملکوں نے ایک بھی مکمل مردم شماری نہیں کراتی ہے۔ اس میں وہ اپنی آبادیاتی ڈیٹا کے لیے نمونہ سروے پر منحصر ہیں۔ کیونکہ ایسے سروے کا فی حد تک صحیح پائے گئے ہیں۔ ہندوستان میں قومی نمونہ سروے تنظیم (NSSO) غربت اور بے روزگاری کی سطح (اور دیگر موضوعات پر) یہ ہر سال سروے کرتا ہے ۔ یہ ہر پانچ سال میں ایک تفصیلی سروے کرتا ہے جس میں تقریباً 1.2 لاکھ لوگ شامل ہوتے ہیں جن کے پورے ہندوستان میں 6 لاکھ سے زیادہ افراد اس میں آتے ہیں۔ مطلق اصطلاح میں اسے ایک بڑا نمونہ مانا جاتا ہے اور NSSO کے ذریعہ کیے گئے ان سروے کو دنیا میں باقاعدہ طور پر کرائے گئے سب سے بڑے سروے میں مانا جاتا ہے۔ تاہم ہندوستان کی کل آبادی چونکہ 100 کروڑ سے زیادہ ہے لہٰذا آپ دیکھ سکتے ہیں کہ NSSO کے پنچ سالہ سروے میں شامل نمونہ صرف 0.06 فی صد لوگوں کے بارے میں ہے یا محض ہندوستان کی آبادی کے ایک فی صد کے بیسویں حصے سے تھوڑا زیادہ ہے۔ چونکہ ان کا انتخاب سائنسی طریقے کے ذریعہ ہوتا ہے لہٰذا یہ پوری آبادی کا نمائندہ ہوتا ہے۔ اتنے چھوٹے تناسب پر مبنی ہونے کے سبب NSSO نمونہ آبادی کی خصوصیات کا اندازہ لگانے کا اہل ہے۔

پہلا اصول یہ ہے کہ آبادی میں سبھی متعلقہ ذیلی گروپوں کو تسلیم کیا جائے اور نمونے میں نمائندگی دی جائے۔ اکثر بڑی آبادیاں ایک جیسی نہیں ہوتیں۔ ان میں امتیازی ذیلی زمرے ہوتے ہیں۔ اسے طبقہ بندی (Stratification) کہا جاتا ہے۔ (نوٹ: یہ طبقہ بندی کا شماریاتی تصور ہے جو کہ طبقہ بندی کے سماجیاتی تصور سے مختلف ہے اس کا آپ نے باب 4 میں مطالعہ کیا ہے)۔

مثال کے لیے ہندوستان کی آبادی پر غور کرتے وقت ہمیں اس حقیقت پر غور کرنا ہوگا کہ یہ آبادی دیہی اور شہری سیکٹروں میں تقسیم ہے جو کہ ایک دوسرے سے بہت مختلف ہے۔ جب ہم کسی ایک ریاست کی دیہی آبادی پر غور کرتے ہیں تب ہمیں اس حقیقت کا خیال رکھنا ہوگا کہ یہ آبادی گاؤں میں مختلف حجم میں رہتی ہے۔ اسی طرح ایک گاوؤں کی آبادی کی طبقہ، ذات، جنس، عمر، مذہب یا دیگر کسوٹی میں طبقہ بندی کی جاسکتی ہے۔ مختصراً طبقہ بندی کا تصور ہمیں بتاتا ہے کہ نمونے کی نمائندگی دی گئی آبادی کے سبھی متعلقہ طبقوں کی خصوصیات ظاہر کرنے والے اس کے افراد پر منحصر ہے۔ کس طرح کے طبقے کو موزوں مانا جائے یہ تحقیقی مطالعے کے مخصوص مقاصد پر منحصر ہے۔ مثال کے لیے مذہب کے تئیں رویوں پر تحقیق کرتے وقت یہ اہم ہوگا کہ سبھی مذاہب کے ممبران کو شامل کیا جائے۔ ٹریڈیونینوں کے تئیں رویوں پر تحقیق کرتے وقت یہ ضروری ہوگا کہ کامگاروں، منیجروں اور صنعت کاروں اور دیگر متعلقہ اداروں کو شامل کیا جائے۔

نمونے کے انتخاب کا دوسرا اصول یہ ہے کہ حقیقی اکائی یعنی شخص یا گاؤں یا گھر خالصتاً اتفاق پر مبنی ہونا چاہئے۔ اس کو  اتفاق کاری کے طور پر منسوب کیا جاتا ہے جو خود احتمال کے تصور پر منحصر ہے۔ آپ نے ریاضی کے نصاب میں احتمالیت کے بارے میں پڑھا ہوگا۔ احتمال کا تعلق واقعہ ہونے کے مواقع (یا اس کے برخلاف) سے ہے۔ مثال کے لیے جب ہم سکہ اچھالتے ہیں تب یہ یا تو چت (سر کی طرف) یا پٹ (پشت کی طرف) پڑتا ہے۔ عام سکوں میں چت یا پٹ موقع یا احتمال تقریباً یکساں یعنی ہر ایک کے لیے 50 فی صد دکھائی دیتا ہے۔ یہ دونوں واقعہ دراصل اسی وقت ہوتا جب آپ سکّہ اچھالتے ہیں یعنی یہ چت آتا ہے یا پٹ یہ خالصتاً اتفاق یا موقع پر منحصر ہے۔ اس طرح کے واقعات کو اتفاقی واقعات کہا جاتا ہے۔

ہم نمونے کے انتخاب میں اسی تصور کا استعمال کرتے ہیں۔ ہم یہ یقینی بنانے کی کوشش کرتے ہیں کہ نمونے کا جزو ہونے کے لیے منتخب کیے جانے والے حقیقی فرد یا گھر یا گاؤں خالصتاً اتفاق کے ذریعہ چنے جائیں۔ کسی اور طرح سے نہیں۔ اس طرح نمونے میں چنا جانا لاٹری جیتنے کی طرح ہی قسمت کی بات ہے۔ یہ تبھی صحیح ہو سکتا ہے جب نمونہ ایک نمائندہ نمونہ کے طور پر ہوگا۔ اگر ایک سروے ٹیم صرف ان گاؤں کو منتخب کرتی ہے جو اس کے نمونے میں بڑی شارع عام کے قریب ہوں تب نمونہ اتفاقی نمونہ نہیں ہوگا بلکہ جانبداری پر مبنی نمونہ ہوگا۔ اسی طرح اگر ہم زیادہ تر مڈل کلاس گھروں یا ان گھروں کو چنتے ہیں جنہیں ہم جانتے ہیں تب نمونے کو پھر جانبداری پر مبنی کہا جاسکتا ہے۔ نقطہ یہ ہے کہ آبادی میں متعلقہ طبقے کی شناخت کے بعد نمونیاتی گھروں یا جواب دہندگان کا حقیقی انتخاب پوری طرح اتفاق پر مبنی ہونا چاہئے۔ اسے مختلف طریقے سے یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ اس کے لیے مختلف تکنیکوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اس میں عام ہے لاٹ یا لاٹری نکالنا، پانسے پھینکنا، اس مقصد کے لیے خاص طور پر بنائے گئے اتفاقی عدد کے جدول کا استعمال، کیلکولیٹریا کمپیوٹروں کے ذریعہ بنائے گئے اتفاقی اعداد۔

نمونیاتی جائزہ (Sample Survey) کا انتخاب کیسے کیا جاتا ہے۔ اسے جاننے کے لیے آئیے ہم ایک ٹھوس مثال لیں۔ مان لیجیے ہم ایک ایسے مفروضے کی جانچ کرنا چاہتے ہیں جس میں چھوٹی، زیادہ قریبی کمیونٹیوں میں رہنا،زیادہ بڑی، زیادہ غیر شخصی کمیونٹیوں میں رہنے کی نسبت زیادہ بین کمیونٹی  ہم آہنگی پیش کرتا ہے۔ آسانی کے لیے آئیے فرض کریں کہ ہمیں ہندوستان میں ایک اکیلی ریاست کے دیہی سیکٹر میں صرف دلچسپی ہے۔ نمونے کے انتخاب کا سہل ترین ممکنہ عمل ریاست میں سبھی گاؤں کی آبادی کے ساتھ ان کی فہرست بنانے سے شروع ہوگا (اس طرح کی فہرست مردم شماری کے اعداد و شمار سے حاصل کی جاسکتی ہے)۔ اس کے بعد ہمیں ہر ایک چھوٹے اور بڑے گاؤں کے پیمانے متعین کرنے ہوں گے۔ گاؤں کی اصل فہرست سے ہمیں سبھی مجھولے گاؤں یعنی وہ جونہ چھوٹے یا بڑے ہیں، ان کو ہٹانا ہوگا۔ اب ہمارے پاس گاؤں کی سائز کے مطابق ایک ترمیم شدہ فہرست ہوگی۔ ہماری تحقیق سے متعلق سوالوں کے مطابق ہم کو ہر زمرے یعنی چھوٹے اور بڑے گاؤں کو یکساں اہمیت دینی چاہئے۔ لہٰذا ہم ہر ایک زمرے سے 10 گاؤں کو چننے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ اس کے لیے چھوٹے اور بڑے گاؤں کی فہرست بنائیں گے اور ہر ایک فہرست سے لاٹری کے ذریعہ دس دس گاؤں کا انتخاب بے ترتیب یا اتفاقی طور پر کریں گے۔ اب ہمارے پاس جو نمونہ ہے وہ ریاست کے 10 چھوٹے اور 10 بڑے گاؤں پر مشتمل ہے۔ ہم ان گاؤں کا مطالعہ یہ جاننے کے لیے شروع کر سکتے ہیں کہ ہمارا ابتدائی مفروضہ صحیح تھا یا نہیں۔

سرگرمی 4

کچھ سروے جو آپ کی نظروں سے گزرے ہیں ان کے بارے میں اپنے لوگوں کے درمیان اس پر بحث کیجیے۔ یہ انتخابی سروے یا اخباروں یا ٹیلی ویژن چینلوں کے ذریعہ کیے جانے والے دیگر چھوٹے سروے ہو سکتے ہیں۔ جب سروے کے نتائج کی اطلاع کی گئی تھی تب کیا حاشیائی غلطی کا ذکر کیا گیا تھا؟ کیا آپ کو نمونے کے سائز کے بارے میں بتایا گیا تھا اور اسے کس طرح منتخب کیا گیا تھا؟ جہاں تحقیقی طریقے کے ان پہلوؤں کی صاف طور پر صراحت نہ کی گئی ہو وہاں آپ سروے کے بارے میں ہمیشہ مشکوک رہیں گے کیونکہ ان کے بارے میں دریافت کا تعین قدرتی نہیں ہو سکتا ہے۔ سروے طریقوں کا غلط استعمال مقبول میڈیا میں اکثر کیا جاتا ہے جہاں متعصبانہ اور غیر نمائندہ نمونے کی بنیاد پر بڑے بڑے دعوے کیے جاتے ہیں۔ آپ ایسے سروے کے بارے میں جو آپ کے علم میں آئے ہوں، اس نقطہ نظر سے بحث کرسکتے ہیں۔

بے شک،یہ ایک نہایت سادہ وضع ہے، اصل تحقیقی مطالعات میں عام طور پر زیادہ پیچیدہ وضع ہوتی ہے جس میں نمونے کو چننے کا عمل کئی مراحل میں تقسیم ہوتا ہے اور اس میں کئی زمرے شامل ہوتے ہیں لیکن بنیادی اصول یکساں رہتا ہے۔ ایک چھوٹے نمونے کا انتخاب محتاط طور پر کیا جاتا ہے تاکہ اس طرح وہ پوری آبادی کی نمائندگی کر سکے یا اس کے لیے ہو۔ اس کے بعد نمونے کا مطالعہ کیا جاتا ہے اور اس سے حاصل نتائج کو پوری آبادی کے لیے عام کیا جاتا ہے۔ سائنسی طریقے سے چنے گئے نمونے کی شماریاتی خصوصیات یقینی بناتی ہیں کہ نمونے کی خصوصیات اس آبادی کی خصوصیات ملتی جلتی ہوں جس سے اسے لیا گیا ہے۔ ان میں تھوڑا فرق ہو سکتا ہے لیکن اس طرح کے واقع ہونے والے انحرافات (Deviations) کی صراحت کی جاسکتی ہے۔ اسے حاشیائی غلطی یا نمونیاتی غلطی کے طور پر جانا جاتا ہے۔ یہ محققین کی غلطی سے نہیں بلکہ اس بات سے پیدا ہوتی ہے کہ ہم بہت بڑی آبادی کے لیے چھوٹے نمونے کا استعمال کررہے ہیں۔ نمونیاتی سروے کے نتائج کی اطلاع دیتے وقت محققین کو اپنے نمونے کی سائز اور وضع اور حاشیائی غلطی کو ضرور بتانا چاہئے۔

سرگرمی 5

اگر آپ کے سروے کا مقصد درج ذیل سوالوں کا جواب دینا ہوتو آپ اپنے اسکول میں سبھی طلباء کے سروے کے لیے ایک نمائندہ نمونہ چننے کے بارے میں کیا کریں گے؟

(i) جن طلباء کے کئی بھائی و بہن ہیں وہ ان طلباء کے مقابلے جن کے ایک بھائی یا بہن ہیں (یا کوئی نہیں) ہیں، پڑھائی میں بہترہیں یا خراب؟

(ii)  پرائمری اسکول (کلاس I تا V)، مڈل اسکول (کلاس VI تا IX) اور سینٹر اسکول (کلاس X تا XII) میں وقفے کے وقت سب سے زیادہ مقبول سرگرمی کون سی ہے؟

(iii) کیا کسی طالب علم کا پسندیدہ مضمون اس کے عزیز استاد کے ذریعہ پڑھا جانا چاہئے؟ اس سلسلے میں لڑکوں اور لڑکیوں کے درمیان کوئی فرق ہے کیا؟ نوٹ: ان میں سے ہر ایک سوال مختلف نمونہ و خاکہ بناہے۔


سروے طریقے کی اہم خوبی یہ ہے کہ نسبتاً کم وقت اور رقم میں بڑی آبادی کے بارے میں ایک وسیع جائزہ فراہم ہو سکتا ہے۔ جتنا بڑا نمونہ ہوگا، اس کے صحیح نمائندے ہونے کا موقع اتنا ہی زیادہ ہوگا، یہاں پر سب سے بڑے یا انتہائی معاملے کے طور پر مردم شماری کو لیا جاسکتا ہے جس میں پوری آبادی شامل ہوتی ہے۔ عملاً کئی ہزار کی تعداد پر 30 تا 90 عدد نمونے کی سائز ہوتی ہے (نیشنل سیمپل سروے پر دیکھیں باکس)۔ صرف نمونے کی سائز ہی اہم نہیں ہے اس کے چننے کا طریقہ بھی زیادہ اہم ہے۔ بے شک، نمونے کے انتخاب کے بارے میں فیصلہ اکثر عملی غور و خوض پر مبنی ہوتا ہے۔

ایسی صورتحال میں جہاں مردم شماری زیادہ قابل عمل نہ ہو، مجموعی طور پر آبادی کا مطالعہ کرنے کے لیے صرف سروے میں ایک دستیاب ذریعہ بن جاتا ہے۔ سروے کا منفرد فائدہ یہ ہے  کہ یہ ایک مجموعی تصویر پیش کرتا ہے یعنی ایسی تصویر جو اکیلے افراد کے بجائے اجتماعیت پر مبنی ہو۔ بہت سے سماجی مسائل اور امور اس اجتماعی سطح پر دکھائی دینے لگتے ہیں۔ تفتیش کی بہت زیادہ خورد سطح پر ان کی شناخت نہیں کی جاسکتی۔

تاہم، دیگر تحقیقی طریقوں کی طرح سروے طریقے کی بھی خامیاں ہوتی ہیں۔ حالانکہ یہ طریقہ بڑے پیمانے پر کو ریج کا امکان پیش کرتا ہے لیکن یہ کوریج کی گہرائی کی حیثیت پر (یعنی گہرائی کے ساتھ کوریج نہیں ہو پاتا) عام طور پر ایک تفصیلی سروے کے جزو کے طور پر جواب دہندگان سے عمیق اطلاع حاصل کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ جواب دہندگان کی تعداد اور زیادہ ہونے کے سبب ہر فرد پر محدود وقت ہی صرف کیا جاتا ہے۔ 

مجموعی شماریات؛ جنسی تناسب میں خطرناک گراوٹ

آپ نے باب 3 میں جنسی تناسب میں تیز گراوٹ کا مطالعہ کیا ہے۔ حالیہ دہوں میں لڑکوں کی تعداد کی نسبت لڑکیوں کے جنم لینے کی تعداد کم سے کم ہوتی جارہی ہے۔ پنجاب، ہریانہ، دہلی اور ہماچل پردیش جیسی ریاستوں میں یہ مسئلہ تشویشناک حد تک پہنچ چکا ہے۔

جنسی تناسب (نو عمر یا بچے) 5 تا 6 سال کی عمر میں فی 1000 لڑکوں کی تعداد پر لڑکیوں کی تعداد کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ تناسب مجموعی طور پر ہندوستان اور کئی ریاستوں یعنی دونوں میں ان دہوں میں تیزی سے کم ہو رہا ہے۔ یہاں پر ہندوستان اور کچھ منتخب ریاستوں کے لیے 1991 اور 2000 کی مردم شماری میں دیے گئے اوسط نو عمر یا کم سن جنسی تناسب کو دیا گیا ہے۔

0۔6 سال کے عمر گروپ میں فی 1000 لڑکوں پر لڑکیوں کی تعداد

2001 1991

927
793
820
865
878
892

945
875
879
915
928
951
ہندوستان
پنجاب
ہریانہ
دہلی
گجرات
ہماچل پردیش

2nd


بچہ جنسی تناسب ایک مجموعی (یا کلاں) متغیرہ ہے جو صرف تبھی دکھائی دیتا ہے جب آپ بڑی آبادی کے لیے شماریات کی جانچ کرتے ہیں (یا انہیں ایک ساتھ رکھتے ہیں) ہم انفرادی خاندانوں پر نظر ڈال کر نہیں بتا سکتے کہ یہاں اتنا بڑا مسئلہ ہے۔

کسی بھی انفرادی خاندان میں جن پر ہم نے نظر ڈالی ہو لڑکوں اور لڑکیوں کے نسبتی تناسب کی تلاش ہمیشہ دیگر فیملیوں میں مختلف تناسب کے ذریعہ کی جاسکتی ہے۔ یہ مردم شماری یا بڑے پیمانے پر سروے جیسے طریقے کے استعمال کے ذریعہ پتہ لگایا جاسکتا ہے جس سے کہ مجموعی طور پر کمیونٹی کے لیے مجموعی تناسب کو شمار کیا جاتا ہے اور مسئلے کی شناخت کی جاسکتی ہے۔ کیا آپ دیگر سماجی امور کے بارے میں سوچ سکتے ہیں جسے صرف سروے یا مردم شماریوں کے ذریعہ مطالعہ کیا جاسکتا ہے؟


اس کے ساتھ ہی ساتھ سروے کے سوالنامے بھی نسبتاً زیادہ تعداد میں تفتیش کنندگان کے ذریعہ جواب دینے والوں کو فراہم کرائے جاتے ہیں۔ یہ متعین کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ پیچیدہ سوالوں یا جن سوالوں کے لیے تفصیلی معلومات چاہئیں انہیں جواب دہندگان سے ٹھیک ایک ہی طرح سے سوال پوچھا جائے گا۔ سوال پوچھنے یا جوابات درج کرنے کے انداز میں فرق ہونے پر سروے میں غلطیاں ہو سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کسی بھی سروے کے لیے سوالنامے (کبھی کبھی سروے کے ذرائع (Survey instrument) کہا جاتا ہے) کا خاکہ بھی محتاط عدد پر تیار کیا جانا ہوتا ہے۔ چونکہ خود محققین کے بجائے اس کا استعمال دیگر افراد کے ذریعہ کیا جانا ہوتا ہے۔ لہٰذا اس کے استعمال کے دوران اس میں غلطی کو دور کرنے یا ترمیم کی گنجائش کا کم ہی امکان رہتا ہے۔ یہ دیکھتے ہوئے کہ تفتیش کنندہ اور جواب دہندہ کے درمیان کوئی طویل مدتی رشتہ نہیں ہوتا اس لیے ان میں کوئی واقفیت یا اعتماد نہیں ہوتا کیونکہ سوالات جو سروے میں پوچھے جاسکتے ہیں وہ اس طرح کے ہوتے ہیں جو صرف اجنبیوں کے درمیان ہی پوچھے جاسکتے ہیں۔ ذاتی یا حساس قسم کے سوالات نہیں پوچھے جاسکتے یا اگر پوچھے بھی جاتے ہیں تو شاید ان کے جوابات سچائی سے نہ دے کر محتاط طور پر دیے جائیں۔ اس طرح کے مسائل کو کبھی کبھی ’’غیر نمونیاتی غلطیاں‘‘ کہا جاتا ہے یعنی ایسی غلطیاں جو نمونیاتی عمل کے سبب نہ ہوں بلکہ تحقیقی خاکے میں نقائص یا خامیوں کے سبب ہوں یا اس کے نافذ یا اطلاق کیے جانے کے طریقوں کے سبب ہوں۔ بدقسمتی سے ان میں سے کچھ غلطیوں کا پتہ لگانا اور ان سے بچنا مشکل ہوتا ہے۔ اس کے سبب سروے کے لیے غلطی کرنا اور آبادی کی خصوصیات کے بارے میں گمراہ کن یا غلط اندازہ لگانا ممکن ہوتا ہے۔ آخر میں کسی بھی سروے کے لیے اہم حدیہ ہے کہ کامیابی کے ساتھ انجام دینے کے لیے یہ مضبوطی کے ساتھ غیر لچکدار سوالنامے کی ساخت پر مبنی ہو۔ مزید برآں، خواہ سوالنامے کا خاکہ کتنا بھی اچھا کیوں نہ ہو، اس کی کامیابی آخر میں تفتیش کنندگان اور جواب دہندگان کے درمیان باہمی تبادلہ خیالات کی نوعیت پر مبنی ہے اور بالخصوص جواب دہندگان کی نیک خواہشات اور تعاون پر مبنی ہے۔

انٹرویو

کوئی بھی انٹرویو محقق اور جواب دہندہ کے درمیان بنیادی طور پر ہدف گیر بات چیت ہوتی ہے۔ حالانکہ اس کے ساتھ کچھ تکنیکی پہلو جڑے ہوتے ہیں لیکن فارمیٹ کی سادگی مغالطہ پیدا کرنے والی ہو سکتی ہے کیونکہ اچھا انٹرویو لینے والا بننے کے لیے کافی تجربہ اور مہارت ہونی چاہئے۔ انٹرویو میں سروے کے استعمال کے مطابق بنائے گئے سوالنامے اور شرکتی مشاہدہ طریقوں کے مثال پوری طرح کھلی بات چیت کے درمیان کی صورت ہوتی ہے۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ اس کے فارمیٹ کا انتہائی لچیلاپن ہے۔ سوالوں کو دوبارہ بیان کیا جاسکتا ہے یا بالکل مختلف طریقے سے پوچھا جاسکتا ہے۔ بات چیت میں ہوئی پیش رفت (یا پیش رفت نہ ہونے) کی بنیاد پر موضوع یا سوالوں کی ترتیب بدلی جاسکتی ہے۔ جن موضوعات پر اچھا مواد پیش کیا جارہا ہے ان کی توسیع کی جاسکتی ہے اور جن معاملوں میں غیر موافق رد عمل پیدا ہورہے ہوں ان کو مختصر کیا جاسکتا ہے یا کسی دیگر موقع پر بعد میں جاننے کے لیے ملتوی کیا جاسکتا ہے اور یہ سب خود انٹرویو کے دوران کیا جاسکتا ہے۔ دوسری طرف جہاں تحقیقی طریقے کے طور پر انٹرویو سے فائدے ہیں وہیں اس سے نقصانات یا خامیاں بھی ہیں۔ اس کے اس لچیلے پن کے سبب جواب دہندہ کا مزاج یا کیفیت بدل جانے کے سبب یا پھر انٹرویو کرنے والے کی یکسوئی میں کمی کے سبب انٹرویو نقصان دہ بن سکتا ہے۔ اس معنی میں ایک غیر مستحکم اور ناپیش گفتنی (Unpredictable) وضع جب کام کرتی ہے تب بہت اچھا کرتی ہے ورنہ جب کام نہیں کرتی تب یہ بری طرح ناکام ہوتی ہے۔

انٹرویو لینے کے مختلف انداز ہیں اور اس کے نسبتی فوائد کے لحاظ سے اس کے بارے میں رائے اور تجربات الگ الگ ہیں۔ کچھ افراد بہت ہی زیادہ ڈھیلی ساختی وضع کو ترجیح دیتے ہیں۔ ان کے پاس صرف موضوعات کی چیک لسٹ (جانچ فہرست) ہوتی ہے نہ کہ حقیقی سوالات، بہت سے دوسرے زیادہ ساختی یا منظم ہونا پسند کرتے ہیں جس میں سبھی جواب دہندگان سے خصوصی سوالات پوچھے جاتے ہیں۔ کسی انٹرویو کو کیسے ریکارڈ کیا جاتا ہے یہ حالات اور ترجیحات کے لحاظ سے متفرق ہو سکتا ہے۔ اس میں حقیقی ویڈیو یا آڈیو ریکارڈنگ سے لے کر انٹرویو کے دوران تفصیلی نوٹ تیار کرنا یا یادداشت پر بھروسہ کرنا اور اور انٹرویو کے ختم ہونے پر اس کو تحریر کرنا شامل ہے۔ ریکارڈوں وغیرہ جیسے سازوسامان کے بار بار استعمال کرنے سے جواب دہندہ پریشانی محسوس کرتا ہے اور بات چیت کافی حد تک رسمی بن جاتی ہے۔ دوسری طرف اہم معلومات پر کبھی کبھی غور نہیں کیا جاتا یا اسے بالکل نہیں ریکارڈ کیا جاتا جب کہ ریکارڈ رکھنے والے دیگر کم جامع طریقوں کا استعمال کیا جارہا ہوتا ہے۔ کبھی کبھی طبیعی یا سماجی حالات جس میں انٹرویوکا اہتمام کیا جارہا ہے اس میں ریکارڈنگ کے طریقے کا تعین کیا جانا ہوتا ہے۔ وہ طریقہ جس میں انٹرویو کو بعد میں اشاعت کے لیے یا تحقیقی رپورٹ کے ایک حصے کے طور پر لکھا جانا ہوتا ہے، اس میں بھی فرق ہوتا ہے۔ کچھ محققین تحریر یا ریکارڈ کی ہوئی نقل کی ادارت کو ترجیح دیتے ہیں اور ایک مرتب سلسلہ واربیان پیش کرنا چاہتے ہیں جبکہ دوسرے جہاں تک ممکن ہو سکتا ہے اصل بات چیت کے زمرے میں برقرار رکھنا چاہتے ہیں اور اس لیے سبھی ضمنی فقرے اور اصل موضوع سے الگ جملے کو بھی اس میں شامل کرتے ہیں۔

انٹرویو کو اکثر دیگر طریقوں بالخصوص شرکتی مشاہدہ اور سروے کے ساتھ یا اس کے تکملہ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اہم اطلاع دہندگان کے ساتھ طویل بات چیت (شرکتی مشاہدہ مطالعہ میں خاص اطلاع دہندہ) اکثر ٹھوس معلومات فراہم کرتی ہے جس سے اس کے ساتھ جڑے ہوئے مواد کا تعین ہوتا ہے اور صراحت ہوتی ہے۔ اس طرح عمیق انٹرویو سروے کے نتائج کو گہرائی اور جزویات فراہم کر سکتا ہے۔ تاہم ایک طریقے کے طور پر انٹرویو جواب دہندہ اور محقق کے درمیان شخصی رسائی اور رابطے کی حد یا باہمی اعتماد پر منحصر ہے۔

فرہنگ

مردم شماری (Census): ایک جامع و تفصیلی سروے جس میں آبادی کے ہر ممبر کا احاطہ کیا جاتا ہے۔

شجریات (Genealogy): ایک توسیعی فیملی شجرہ جونسلوں میں خاندانی رشتوں کا خاکہ پیش کرتا ہے۔

غیر نمونیاتی غلطی (Non-Sampling Error): سروے نتائج کی وہ غلطیاں جو طریقوں کی وضع یا اطلاع میں غلطیوں کے سبب واقع ہوئی ہیں۔

آبادی (Population): شماریاتی مفہوم میں بڑی جسامت (افراد کی، گاؤں، اہل خاندان وغیرہ) جس سے نمونہ وضع کیا جاتا ہے۔

احتمال (Probability): کسی چیز کے واقع ہونے یا نہ ہونے یا برخلاف کا امکان (شماریاتی مفہوم میں)

سوالنامہ (Questionnaire): سوالوں کی وہ تحریری فہرست جسے سروے یا انٹرویو میں پوچھا جاتا ہے۔

اتفاق کاری (Randomisation): یہ یقینی بنانا کہ کوئی واقعہ (جیسے کسی نمونے میں کسی مخصوص مد کا انتخاب) خالصتاً اتفاق پر منحصر ہوتا ہے، اس کے علاوہ کچھ نہیں۔

اضطراریت (Reflexivity): کسی کے بارے میں محقق کی مشاہدہ اور تجزیہ کرنے کی اہلیت

نمونہ (Sample): ایک بڑی آبادی سے اخذ کیا گیا جزو یا انتخاب (عام طور پر مختصر)

نمونیاتی غلطی (Sampling Error) : سروے کے نتائج میں ناگزیر حاشیائی غلطی، کیونکہ یہ پوری آبادی کے بجائے صرف چھوٹے نمونے سے لی گئی معلومات پر مبنی ہوتی ہے۔

طبقہ بندی (Stratification): شماریاتی مفہوم میں آبادی کے ان امتیازی گروپوں میں ذیلی تقسیم جو کہ جنس، وقوع، مذہب، عمر وغیرہ متعلقہ معیار پر مبنی ہوتے ہیں۔

مشقیں

سماجیات میں خاص طور پر سائنٹفک طریقہ کا سوال کیوں اہم ہے؟

سماجی علوم بالُخصوص سماجیات جیسے مضامین میں معروضیت (Objectivity) زیادہ پیچیدہ کیوں ہے اس کے بعض اسباب کیا ہیں؟

ماہرین سماج معروضیت سے متعلق ان مشکلات سے نمٹنے کی کس طرح کی کوشش اور جدوجہد کرتے ہیں؟

اضطراریت (Reflexibility) کا کیا مطلب ہے اور سماجیات میں یہ کیوں اہم ہے؟

وہ کون سی بعض چیزیں ہیں جو شرکتی مشاہدہ کے دوران نسل نگار اور ماہرین سماجیات انجام دیتے ہیں۔

طریقے کے طور پر شرکتی مشاہدے کی خوبیاں اور کمزوریاں کیا ہیں؟ 

سروے طریقے کے بنیادی عناصر کیا ہیں؟ اس طریقے کے اہم فائدے کیا ہیں؟

نمائندہ نمونہ چننے میں شامل بعض کسوٹیاں کیا ہیں؟

سروے طریقے کی بعض کمزوریاں کیا ہیں؟

10۔ تحقیقی طریقے کے طور پر انٹرویو کی اہم خصوصیات بیان کیجیے۔

مطالعات

باومین، زایگ منٹ، 1990ء تھنکنگ سوشیولوجکلی۔ باسل بلیک ویل، آکسفورڈ یونیورسٹی، پریس، نئی دہلی۔

بیکر، ہاورڈ ایس- 1970، سوشیولوجکل ورک: میتھڈ اینڈ سبسٹینس، دی پنگوئین پریس، الین لین۔

بیٹل، اینڈرے اور مدن، ٹی۔ این۔ ایڈ1975۔ این کاؤنٹر اینڈ ایکسپرینس: پرسنل اکاونٹس آف فیلڈورک۔ وکاس پبلشنگ ہاؤس، دہلی۔

برگیز، رابرٹ جی ایڈ، 1982، فیلڈریسرچ: اے سورس بک اینڈ فیلڈ مینول جارج ایلن اینڈ ان ون، لندن۔

کوسر، لیوس، ریہیا، اے۔بی۔ اسٹیفن، پی۔ اے۔ اینڈ ناک، ایس، ایل 1983، انٹروڈکشن ٹو سوشیولوجی، ہارکورٹ، بریس جوہانوچ، نیویارک۔

سری نواس، ایم۔ این۔ شاہ، اے۔ ایم۔ اینڈ رام سوامی، ای۔ اے۔ ایڈ۔ 2002۔ دی فیلڈ ورک اینڈ دی فیلڈ، پرابلمس اینڈ چیلنجز ان سوشیولوجکل انوسٹیگیشن، دوسری اشاعت، آکسفورڈ یونیورسٹی پریس، نئی دہلی۔