باب1
سماجی ڈھانچہ ،طبقاتی تقسیم اورمعاشرتی عوامل
SOCIAL STRUCTURE, SOCIAL STRATIFICATION AND SOCIAL PROCESSES IN SOCIETY
تعارف
(INTRODUCTION)
آپ کو یاد ہو گا کہ اس سے پہلے کی سماجیات کی کتاب (’’سماجیات کا تعارف‘‘ این سی ای آر ٹی 2006 )کی ابتداء ذاتی مشکلات اور سماجی مسائل کے مابین تعلق پر ایک گفتگو آپ کے ساتھ ہوئی تھی۔ ہم نے یہ بھی دیکھا کہ افراد کس طرح اجتماعی چیزوں جیسے گروپ ، طبقات ، جنس ، ذاتوں اور قبیلوں میں منقسم ہوتے ہیں ۔ بلاشبہ آپ میں سے ہر ایک محض کسی ایک قسم کی اجتماعیت کا حصہ یارکن نہیں ہو تا بلکہ بہت سی ہم وقتی اجتماعیتوں سے منسلک ہو تا ہے۔ مثال کے طور پر آپ اپنے ہمجولیوں کے گروپ کے رکن ہیں ، اپنے خاندان اور رشتہ داروں کا ایک جزو ہیں ، اپنے ہم جنسوں اور طبقہ کا حصہ ہیں ،اپنے ملک اور خطہ سے بھی منسلک ہیں ۔ اس طرح ہر فرد کا سماجی ڈھانچے اور طبقاتی نظام میں ایک مخصوص مقام ہو تا ہے۔(کتاب ’’سماجیات کا تعارف‘‘ کے صفحات۲۸ تا ۳۵ دیکھیں )اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ لوگوں کی سماجی وسائل تک رسائی کے ڈھنگ اور طور طریقے اور سطحیں بھی مختلف ہوتی ہیں ۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اسکول کے تعلق سے (اگر ایک شخص اسکول جاتا ہے)کسی فرد کے لیے زندگی میں منتخب کرنے کے لیے جو مواقع میسر ہو سکتے ہیں، ان کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ وہ سماج کے کس طبقے سے آتا ہے۔ اسی طرح اس کے لباس ، غذا ، آرام وتفریح کے مواقع ، صحت کی سہولتوں تک رسائی۔ غرض یہ کہ اس پورے طرز زندگی کا تعین بھی سماجی طبقہ سے ہوتا ہے۔ سماجی ڈھانچے کی طرح سماج میں طبقاتی تقسیم بھی انفرادی حرکت کو محدود اور مسدود کرتی ہے ۔
سماجیاتی نظریہ کا ایک اہم مقصد فرد اور سماج کے مابین رشتہ رہا ہے ۔ آپ کو سی ، رائٹ مِل کی منطقی مناظرہ کا یا جدلی سماجیاتی تصورکی وہ تشریح یادہوگی جو ایک فرد کی سوانح حیات اور سماج کی تاریخ کے باہمی تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔ ہمیں فرد اور سماج کے مابین جدلی تعلق کو سمجھنے کے لیے اس باب میں ان تین مرکزی تصورات— یعنی سماجی ڈھانچہ ، طبقاتی تقسیم اور سماجی عوامل پر گفتگو اور بحث کرنے کی ضرورت ہے۔ اگلے چند ابواب میں ہم جاننے کی کوشش کریں گے کہ دیہی اور شہری معاشروں میں سماجی ڈھانچہ کس طرح مختلف ہو تا ہے، ماحول اور سماج کے وسیع تر تعلقات کیا ہیں؟ آخری دوابواب میں مغربی سماجی مفکرّین اور ہندوستانی ماہرینِ عمرانیات (سماجیات )اور ان کی تحریروں پر نظر ڈالیں گے۔ جس سے ہمیں سماجی ڈھانچہ ، طبقاتی تفریق اور سماجی عوامل کے خیال کو مزید سمجھنے میں مددملے گی ۔
اس باب میں جن مرکزی سوالوں پر بحث کرنے کی کوشش کی گئی ہے، وہ یہ ہیں کہ فرد کس حد تک سماجی ڈھانچے سے آزاد ہے اور کس حد تک اس کے سامنے مجبور ہے یااس کا پابند ہے ؟ سماج میں فرد کی حیثیت یاطبقاتی نظام میں اس کا مقام انفرادی پسند پر کس حد تک اثر ڈالتے ہیں ؟ کیا سماجی ڈھانچہ اور سماجی طبقاتی نظام لوگوں کے طرزِ عمل کو متأثر کرتے ہیں ؟ کیا یہ باتیں افراد کے باہمی امداد ، باہمی مسابقت اور باہمی تصادم کے طریقوں کی تشکیل کرتی ہیں ؟
اس باب میں ہم مختصر اً سماجی ڈھانچے اور سماج کی طبقاتی ترتیب کی اصطلاحات پر بات چیت کریں گے ۔(ہم کتاب کے ’’حصہ اوّل‘‘ کے دوسرے باب میں سماجی طبقاتیت پر قدرے تفصیلی بحث کرچکے ہیں )لہٰذا! اب ہم آگے بڑھتے ہوئے تین سماجی عوامل— یعنی باہمی امداد یا مل جل کر کام کرنا ، مقابلہ یا مسابقت اور تصادم یا کشاکش پر توجہ مرکوز کریں گے۔ ان میں سے ہر ایک عمل کے بارے میں بتاتے ہوئے ہم یہ دیکھنے کی کوشش کریں گے کہ سماجی ڈھانچہ اور طبقاتی تقسیم وترتیب کس طرح سماجی طریقِ عمل پر اثر انداز اور اس سے متصادم ہوتے ہیں ۔ بالفاظ دیگر افراد اور گروہ کس انداز سے ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں، آپس میں کیوں کر مقابلہ کرتے ہیں۔ سماجی ڈھانچے اور طبقاتی نظام میں اپنی حیثیت کے مطابق کس طرح ایک دوسرے کے ساتھ ٹکراتے ہیں ۔
سماجی ڈھانچہ اور طبقاتی ترتیب وتقسیم
(Social Structure and Stratification)
سماجی ڈھانچہ کی اصطلاح اس حقیقت کی جانب اشارہ کرتی ہے کہ سماج کی ایک بناوٹ یاساخت ہے۔ یعنی وہ ایک خاص انداز یا طریقوں سے منظم َ اور مر ّتب ہے ۔جن سماجی ماحول میں ہم رہتے ہیں وہ محض واقعات یا افعال کے ایک بے ترتیب اور بے ڈھنگے مجموعہ پر مشتمل نہیں ہے بلکہ لوگوں کے برتاؤ اور باہمی رشتوں میں بنیادی ضابطے یا شکلیں ہوتی ہیں۔ سماجی ڈھانچے کا تصور انہی ترتیبوں اور نمونوں کی نشاندہی کر تا ہے۔ ایک حد تک سماج کی بناوٹ کی خصوصیات کو کسی عمارت کے ڈھانچے کے مشابہ سمجھنا مدد گار ہو تا ہے ۔ عمارت کی دیواریں ہوتی ہیں ، فرش ہوتا ہے، چھت ہوتی ہے۔یہ مل کر عمارت کو ایک خاص شکل دیتے ہیں۔ (گِڈّنْز 667: 2004 )
لیکن اگر اس کو بہت زیادہ سختی کے ساتھ استعمال کیا جائے تو یہ استعارہ کافی گمراہ کن ہو سکتا ہے ۔ سماجی ڈھانچے انسانی افعال اور تعلقات سے بنے ہوتے ہیں ۔ ان کی شکل اور ترتیب مدتِ وقت اور وسعت کے فاصلے سے بنتی ہے ۔ گویا سماجیاتی تجزیہ میں تخلیق اور سماجی ڈھانچہ ایک دوسرے کے ساتھ بہت قریب سے وابستہ ہیں ۔ مثال کے طور پر ایک اسکول اور ایک خاندانی ڈھانچے کو دیکھیے ۔ ایک درس گاہ میں کچھ طور طریقے سالہا سال دہرا ئے جاتے ہیں اور ادارے کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔مثلاً داخلوں کا طریقۂ کار، اخلاقی اصول ، سالانہ جشن ، روزانہ صبح کا اجتماع اور بعض صورتوں میں اسکول کا ترانہ ۔ اسی طرح کنبوں یا خاندانوں میں برتاؤ کے خاص طریقے ، شادی کی رسومات اور طور طریقے ، باہمی تعلقات کے بارے میں خیالات ، فرائض اور توقعات طے کر دیے جاتے ہیں۔ اگر خاندان یا درس گاہ کا کوئی بزرگ رکن فوت ہو جائے اور ان کی جگہ نئے لوگ لے لیں تب بھی تنظیم کاکام برابر چلتا رہتاہے ۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ خاندان یا درس گاہ میں تبدیلیاں ضرور آجاتی ہیں ۔
مندرجہ بالاسرگرمی اور گفتگو انسانی معاشروں کو ایسی عمارتوں کے طور پر سمجھنے میں ہمارے لیے مدد گار ہو سکتی ہے جو ہر لمحہ انہی اینٹوں سے از سرِ نو تعمیر کی جارہی ہیں جن سے وہ بنی ہیں۔ اس لیے کہ جیسا ہم نے خود دیکھا کہ انسان درس گاہوں اور خاندانوں میں تبدیلیاں لاتے ہوئے بھی ڈھانچے (سماجی ڈھانچہ ) کی افزائشِ نو میں ردّوبدل پیدا کرتے ہیں، وہ مختلف سطحوں پر اپنی روزمرّہ کی زندگی میں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں۔یہ حقیقت بھی اتنی ہی سچ ہے کہ وہ ایک دوسرے سے مسابقت یا مقابلہ بھی کرتے ہیں جو اکثر بد مزاجی اور بے رحمی کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ امداد باہمی کے جذبے کے ساتھ ساتھ سماج میں شدید ٹکراؤ بھی دیکھتے ہیں۔ جیسا کہ ہم اس باب میں آگے چل کر دیکھیں گے۔ امداد باہمی کے لیے لوگوں کو مجبور کیا جاسکتاہے جس سے ٹکراؤ اور کش مکش کو چھپانے کا کام کیا جاسکتاہے ۔
ایمل درخائم (Emile Durkheim)اور (اس کے بعد بہت سے سماجیاتی ماہرین اور مصنفین )نے جس اہم خیال اور نقطۂ نظر کی پیروی کی، یہ ہے کہ معاشرے یا سماج اپنے لوگوں کے فعل وعمل پر سماجی جبریا دباؤ ڈالتے ہیں۔درخائم کی دلیل یہ تھی کہ سماج کو فرد پر برتریت حاصل ہے ۔ سماج انفرادی فعل وعمل کے مجموعے سے کہیں زیادہ ہے۔ اس میں وہ مضبوطی ہے اور وہ اتنا ٹھوس ہے کہ اس کا موازنہ مادّی ماحول کے ڈھانچوں سے کیا جا سکتا ہے ۔
دیہی وشہری علاقے کے مختلف قسم کے مکانات



عملی کام 1
اپنے دادا، دادی اور ان کی نسل کے دوسرے لوگوں سے گفتگو کر کے معلوم کیجیے کہ کن باتوں میں خاندانوں یا اسکولوں میں تبدیلیاں آئی ہیں اور کن کن باتوں میں وہ جوں کے توں رہے ہیں۔
پرانی فلموں ؍ ٹی ، وی ؍ ناٹکوں ؍ ناولوں میں خاندانوں کو جس انداز سے پیش کیا گیا ہے اس کا موازنہ موجودہ دَور کی تصویر کشی سے کیجیے ۔
کیا آپ اپنے خاندان میں سماجی طرزِ عمل کی باقاعدگیوں اور مشکلوں کا مشاہدہ کر سکتے ہیں ؟ دوسرے لفظوںمیں کیا آپ اپنے خاندان کا ڈھانچہ اور بناوٹ بیان کر سکتے ہیں ؟
اپنے اساتذہ سے گفتگو کر کے معلوم کیجیے کہ وہ اسکول کو بطور ایک ڈھانچہ کس طرح سمجھتے ہیں ؟ کیا طلباء، اساتذہ اور عملے کے دوسرے لوگ ڈھانچہ کو صحیح سلامت رکھنے یا اس کی تخلیق ِ نو کرنے کے مقصد سے مخصوص انداز میں کام کرنا ضروری ہے ؟ کیا آپ اپنے اسکول یا خاندان میں کسی تبدیلی کو یاد کر سکتے ہیں ؟ کیا ایسی تبدیلیوں کی مخالفت ہوئی تھی ؟ اگر ہاں تو کس نے مخالفت کی تھی اور کیوں ؟
ایک ایسے شخص کے بارے میں سوچیے جو کئی دروازوں والے کمرے میں کھڑا ہے ۔ کمرے کی ساخت اس شخص کی ممکنہ حرکتوں اور سرگرمیوں کی وسعت یا حدود کو محدود کردیتی ہے۔ مثلاً دروازوں اور دیواروں کی جائے وقوع باہر جانے اور اندر آنے کے راستوں کو متعین کرتی ہے۔ درخائم کے مطابق سماجی ڈھانچہ بھی اسی طرح ہماری حرکتوں کو محدود کر دیتا ہے ، یعنی بطور فرد ہم جو کچھ کر نا چاہیں اس پر پابندیاں ہو تی ہیں اور اس کی حدیں مقرر کی جاتی ہیں ۔ یہ ہمارے لیے ایک خارجی چیزہے۔ جیسے کمرے کی دیواریں ۔
دوسرے سماجی مفکرین جیسے کارل مارکس– سماجی ڈھانچے کی بندشوں پر نمایاں زور دیتے ہیں لیکن بیک وقت انسانی تخلیقیت یا اس کی سماجی ڈھانچے کی تشکیل ِنوکا ایک وسیلہ ہونے کی اہلیت پر بھی اصرار کرتے ہیں ۔ مارکس کی دلیل تھی کہ انسان تاریخ بناتے ضرور ہیں لیکن اپنی حسب خواہش نہیں اور نہ ہی اپنی پسند کے حالات میں بلکہ تاریخی اور ساختیاتی صورتِ حال جس میں وہ ہیں۔
اپنے مشہور بیان میں درخائم نے اس نقطۂ نظر کا اظہار کیاہے :
جب میں بطور ایک بھائی، شوہر یا شہری کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریوں کو نبھا تا ہوں اور اپنے کیے ہوئے وعدوں کو پورا کرتاہوں تو اس طرح میں اپنی ان ذمہ داریوں کو سرانجام دیتا ہوں جن کا تعین قانون او ررسم رواج میں کیا گیا ہے۔ جو میرے اور میرے افعال سے باہر کی چیزیں ہیں ۔ اسی طرح ایک اہلِ ایمان کو اپنی پیدائش کے وقت ہی سے اپنی مذہبی زندگی کے اعتقادات اور رواجوں کے بارے میں معلوم ہو جاتا ہے جو اسے بنے بنائے اور تیار مل جاتے ہیں ۔ اگر یہ سب اس کے وجود میں آنے سے پہلے ہی موجود تھے تو اس کا مطلب ہے کہ یہ اس کی شخصیت سے باہر موجود ہیں ۔ اپنے خیالات کے اظہار کے لیے اشاروں کے جس نظام کا میں استعمال کرتا ہوں ، اپنے قرض چکانے کے لیے روپے پیسے کے جس طریقہ کو کام میں لاتا ہوں ، کاروباری تعلقات میں ادھار کے جن وسائل یا آلۂ کار سے استفادہ کرتا ہوں ، اپنے پیشے میں جن طور طریقوں کو بروئے کار لاتا ہوں ، وغیرہ وغیرہ سب اس استعمال سے آزادانہ طور پر کام کرتے ہیں۔ جو استعمال میں ان کا کرتاہوں ،بدلے کے طورپر سماج کے ہر فرد کو نظر میں رکھتے ہوئے مندرجہ ذیل رائے زنی ان میں سے ہر ایک لیے کی جا سکتی ہے ۔
ماخذ : درخائم ایمل؛"The Division of Labour in Society pp. 50-1, Durkheim Emile A Free Press'' 1933 paperback, the MachMillan Company, NewYork)
درسی کتاب سماجیات کا تعارف، گیارھویں جماعت(این سی ای آرٹی2006) کے باب 2میں سماج کی طبقاتی تقسیم کے تصور کو ذہن میں لائیے جہاں یہ کہا گیا ہے کہ : سماجی طبقاتی ترتیب سے مراد ہے سماج میں مختلف گروپوں کے درمیان مادّی یا علامتی صلہ یا انعامات کے معاملے میں ساختہ یعنی باقاعدہ بنائی گئی عدم مساوات کا موجود ہونا ۔ جب کہ ہر سماج میں کسی نہ کسی طرز کی سماجی طبقاتی تقسیم موجود ہوتی ہے۔ جدید معاشروںمیں اکثر وبیشتر دولت اور اقتدار کے وسیع اختلافات نظر آتے ہیں۔ حالانکہ آج کے سماج میں طبقاتی ترتیب کی سب سے زیادہ نمایاں شکلیں درجاتی تقسیم ہیں۔لیکن نسل اور ذات پات ، یا علاقہ اور فرقہ، قبیلہ اور جنس کی بنیادوں پر سماجی تفریق بھی جاری ہے۔
عملی کام 2
ایسی مثالوں کے بارے میں سوچیے جو اس بات کو آشکارا کریں کہ انسان کِس طرح سماجی ڈھانچہ کا پابند اور مجبور ہے۔ ایسی مثالوں پر بھی غور کیجیے کہ افراد کیوں کر سماجی ڈھانچے کا ڈٹ کر مقابلہ کر تے ہیں اور اسے بدل دیتے ہیں ۔ پچھلی کتاب میں سماجی میل جول پر ہماری گفتگو کو یاد کیجیے (صفحات 78-79 )۔
آپ کو یاد ہو گا کہ سماجی ڈھانچے سے مراد سماجی برتاؤ اور طرزِ عمل کی ایک خاص نمونے پر تشکیل، اسی طرح وسیع تر سماجی ڈھانچہ کے ایک حصے کے طور پر سماجی طبقاتی نظام کی خصوصیت عدم مساوات کا ایک خاص انداز ہے ۔ عدم مساوات کوئی ایسی چیز نہیں ہے جسے سماج کے افراد کے درمیان بلا سوچے سمجھے یوں ہی تقسیم کیا جاتا ہے ۔ اس کا تعلق باقاعدہ اور منظم طور پر مختلف قسم کے سماجی گروہوں کی رکنیت سے ہو تا ہے ۔ ایک مخصوص گروپ کے لوگوں کی خصوصیات مشترک یعنی یکساں ہوں گی۔ اگر ان کی حیثیت اعلیٰ تر ہے تو وہ اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ ان کی یہ حیثیت ان کی اولاد کو بھی حاصل ہو ۔ طبقاتی تفریق وترتیب کے تصوّر سے مراد یہ خیال ہے کہ سماج غیر مساوی گروپوں کے ایک خاص شکل کے ڈھانچے میں منقسم ہے ۔ عام طور پر اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ یہ مخصوص سماجی ڈھانچہ آنے والی تمام نسلوں میں بھی قائم رہے گا (جے رام 22: 1987 )
ایسے مختلف فوائد کے درمیان امتیاز کرنا ضروری ہے جنہیں غیر مساوی طور پر تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ایسے فوائد کی تین بنیادی شکلیں ہیں جو مراعتی گروپوں کو حاصل ہو سکتے ہیں :
(a) زندگی کے مواقع : وہ تمام مادی فوائد جو ان کے ملنے والے کی زندگی کے معیار اور کوائلٹی کو بہتر بنا سکیں ۔ اِس میں صرف دولت اور آمدنی کے فائدے شامل نہیں ہیں بلکہ ایسے فوائد بھی جیسے صحت، ملازمت کا تحفظ اور آرام وتفریح ۔
(b) سماجی مرتبہ : سماج کے دوسرے اراکین کی نگاہ میں عزت ووقار۔
(c) سیاسی اثر و رسوخ : ایک گروہ کی دوسروں پر غالب آنے کی اہلیت یا فیصلہ سازی کے معاملے میں غلبہ یا فیصلوں سے فائدہ اٹھانا ۔
تینوں سماجی عوامل کے ضمن میں درج ذیل گفتگو بار بار اس طریقے کی طرف توجہ مبذول کرائے گی جس سے سماج کی طبقاتی ترتیب جیسے جنس اور درجہ کی مختلف بنیادیں سماجی عوامل کو محدود کرتی ہیں اور ان میں رخنہ پیدا کرتی ہیں ۔ جو مواقع اور وسائل افراد اور گروپوں کو مسابقت کرنے ، ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر کام کرنے یا باہمی ٹکراؤ کا راستہ اختیار کرنے کے لیے دستیاب ہوتے ہیں۔ ان کی تشکیل سماجی ڈھانچے اور سماجی طبقاتی نظام سے ہوتی ہے ۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ سماج میں موجود طبقاتی نظام کے ڈھانچے میں تبدیلیاں لانے کے لیے لوگ ضرور کچھ نہ کچھ کرتے ہیں ۔
عملی کام 3
روز مرہ کی زندگی میں باہمی امداد (مل جل کر کام کرنا ) ،مقابلہ یا مسابقت اور آپسی ٹکرائو کی کچھ مثالوں کے بارے میں سوچیے ۔
سماجیات میں معاشرتی عوامل کو سمجھنے کے دو طریقے
(TWO WAYS OF UNDERSTANDING SOCIAL PROCESSES IN SOCIOLOGY)
پچھلی کتاب سماجیات کا تعارف ،گیارھویں جماعت میں آپ عام سمجھ بوجھ پر مبنی عِلم کی حدود اور خامیاں دیکھ چکے ہیں ۔ مشکل یہ نہیں ہے کہ عام سمجھ بوجھ کا علم لازمی طور پر غلط ہو تا ہے۔ بلکہ یہ ہے کہ اس کی جانچ نہیں ہوتی اور اسے صحیح سمجھ کر جوں کا توں تسلیم کرلیا جاتا ہے ۔ اس کے برعکس سماجیاتی نقطۂ نظرہر چیز پر سوال اٹھاتا ہے۔ کسی بھی چیز کو یوں ہی قبول نہیں کرتا۔ لہٰذا کسی ایسی وضاحت سے مطمئن نہیں ہو گا جس میں یہ کہاگیا ہو کہ انسان ایک دوسرے کے ساتھ مسابقت یا مقابلہ یا ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر اس لیے کام کرتے ہیں کیوں کہ ایسا کرنا انسانی فطرت ہے ۔ ایسی توضیحات کے پسِ پشت یہ مفروضہ ہے کہ انسانی فطرت میں کوئی ایسی قدرتی یا پیدائشی اور آفاقی چیز موجود ہے جس کی وجہ سے یہ عوامل کا ر فرما ہوتے ہیں ۔ تا ہم جیسا کہ ہم پہلے دیکھ چکے ہیں سماجیات کا علم نہ تو نفسیاتی اور نہ ہی قدرتی توضیحات سے مطمئن ہو تاہے (پچھلی کتاب سماجیات کا تعارف کے صفحات 7-8دیکھیں )۔سماجیات امداد باہمی ، مسابقت اور ٹکراؤ کے عوامل کی تشریح سماج کے اصلی ڈھانچے کے معنوں میں کرتی ہے ۔

سماجیات کا تعارف میں ہم نے اس پر گفتگو کی کہ سماج میں کس طرح اختلافاتِ اجتماعی اور مفاہمتیں پائی جاتی ہیں (صفحات -25 24اور 36)۔ہم نے دیکھا کہ تفاعلی اورتصادمی نظریات مختلف سماجی اداروں اور روایات کو سمجھنے میں ایک دوسرے سے الگ خیالات رکھتے ہیں۔ خواہ یہ خاندان ہو، معیشت ہو یا سماجی طبقاتی ترتیب یاسماجی کنٹرول۔ لہٰذا یہ تعجب کی بات نہیں ہے کہ یہ دونوں نظریات ان عوامل کو کچھ مختلف انداز میں سمجھتے ہیں ۔ کارل مارکس (عموماً ٹکراؤ کے نظریہ سے وابستہ سمجھے جانے والے )اور ایمل ڈرکھیم (عام طور پر تفاعلی نظریہ سے وابستہ سمجھا جاتا ہے )۔دونوں کا خیال ہے کہ انسانوں کو اپنی بنیادی ضرورتیں پوری کرنے اور از سرِ نو تخلیق کا کام کرنے کے لیے باہمی امداد کرنا لازم ہے ۔
ٹکراؤ یا کشاکش کا نظریہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ باہمی تعاون کی یہ شکلیں تاریخ کے ایک سماج سے دوسرے سماج میں کس طرح تبدیل ہوئیں ۔ مثال کے طور پر یہ نظریہ اس بات کو مانتا ہے کہ سیدھے سادھے معاشرے میں جہاں کوئی فاضل پیدا وار نہیں ہوتی تھی ، باہمی تعاون اپنے افرادی گروہوں کے درمیان تھا، جودرجہ، ذات یا نسل کی بنیاد وں پر منقسم نہیں تھے ۔ لیکن جن معاشروں میں فاضل پیدا وار کی جاتی ہے ، خواہ وہ جاگیردارانہ معاشرہ ہو یا سرمایہ دارانہ،غالب طبقہ فاضل پیداوار کو ہڑپ لیتا ہے۔ اس طرح باہمی تعاون میں شدید ٹکراؤ اور مسابقت پیدا ہوجاتے ہیں ۔
ٹکراؤ کا نقطۂ نظر اس بات کو زور دے کر پیش کرتا ہے کہ گروپ اور افراد کا مقام پیداواری تعلقات کے نظام میں غیرمساوی ہے اور تفریق پر مبنی ہے ۔ اس طرح کار خانے کا مالک اور مزدور روزمرہ کے کام میں باہمی تعاون تو ضرور کرتے ہیں لیکن مفادات کا ایک خاص ٹکراؤ ان کے تعلقات کی حدود کی وضاحت کرتا ہے ۔
تصادم کا نقطۂ نظر جس فہم پر مبنی ہے وہ یہ ہے کہ ذات پات، اونچ نیچ یاسر داری نظام کی بنیاد پر جومعاشرے منقسم ہیں، ان میں لوگوں کے کچھ گروپ محروم ومجبور ہیں۔ ان کے ساتھ امتیازی سلوک بر تا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں حاوی اور غالب گروپ عدم مساوات کے اس نظام کو بہت سے ثقافتی اقدار کے ذریعے برقرار اور جاری رکھتے ہیں۔ اکثر وبیشتر جبر یہاں تک کہ تشدد کا استعمال بھی کرنے سے گریز نہیں کرتے۔ جیسا کہ آپ اگلے ، کچھ پیرا گرافوں میں دیکھیں گے۔ ایسا نہیں کہ تفاعلی نقطۂ نظر ایسی اقدار یا پابندیوں کے یہ ان کے دائرہ کار کو بحیثیت پورے سماج کے لیے سمجھتا ہے، نہ کہ ان غالب اور حاوی گروہوں کے طور پر جن کا سماج پر قبضہ ہے ۔
تفا علی نقطۂ نظر کا مقصد خاص طور پر سماج کی نظامی ضروریات سے ہے۔ چندعملی احکامات ، عملی طور پر مطلوبہ چیزیں اور مطلوبہ ولازمی شرائط ان سب سے مراد وہ وسیع ترین شرائط ہیں جو کسی نظام کے لیے درکار ہوتی ہیں( لہٰذا جو اس کو زندہ رکھتی ہیں اور اس کی بربادی کو روکتی ہیں )جیسے :
(i) نئے اراکین کے ساتھ میل جول
(ii) رابطہ کا ایک مشترکہ نظام
(iii)افراد کو کردار تفویض کرنے کے طریقے ۔
آپ بخوبی جانتے ہیں کہ تفاعلی نقطۂ نظر یا نظریہ کی بنیاد اس مفروضہ پر قائم ہے کہ سماج کے مختلف اعضاء یا حصوں کو پورے سماج کے چلنے اور اس کی برقرار ی کے لیے ایک کردار ادا کرنا ہو تا ہے ۔ اس زاویۂ نظر سے دیکھا جائے تو ظاہر ہو گا کہ
بابُل مورا ، نَیہّر چھوٗٹُو ہی جائے
بابل کی دعائیں لیتی جا
جاتجھ کو سکھی سنسار ملے
میکے کی کبھی نہ یاد آئے
سسرال میں اتنا پیار ملے
باہمی اشتراک وتعاون، مسابقت یا مقابلہ اور ٹکراؤ یا کشاکش تمام معاشروں کی آفاقی یعنی مشترک خصوصیات ہیں ۔ یہ سماج میں انسانوں کے درمیان ناگزیر باہمی تعلقات اور اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوششوں کا نتیجہ ہوتی ہیں ۔ چونکہ توجہ نظام کی برقرار ی اور اس کے جاری رہنے پر مرکوز ہوتی ہے۔ اس لیے ٹکراؤ اور مقابلہ بازی اس نظرسے دیکھی جاتی ہے کہ اکثر صورتوں میں ان کا کوئی نہ کوئی حل نکل ہی آتا ہے۔ یہ چیزیں یعنی کشاکش اور مسابقت مختلف طریقوں سے سماج کے لیے مدد گار بھی ثابت ہوسکتی ہیں ۔
سماجیاتی مطالعہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ سماجی اقدار او ر میل جول کے طریقے او رانداز بسا اوقات اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ ایک خاص سماجی نظام قائم رہے باوجودیکہ اس کا جھکاؤ سماج کے ایک حصے کے مفادات کی طرف ہو تا ہے۔ دوسرے الفاظ میں باہمی تعاون ، مسابقت اور کشاکش کے مابین رشتہ اکثر پیچیدہ ہو تا ہے اور اسے آسانی سے جد انہیں کیا جا سکتا ۔
عملی کام 4
بحث کیجیے کہ ایا خواتین متعدد اقداری مجبوریوں کی بناء پر تعاون کر رہی ہیں یا کشا کش اور مقابلہ میں الجھنے سے انکار کر رہی ہیں ۔ کیا وہ مردوں کے حقِّ وراثت کے مروجہ معیار کے سلسلے میں اس لیے تعاون کررہی ہیں۔
اگر وہ ایسا نہ کریں تو اپنے بھائیوںکی شفقت سے محروم ہو سکتی ہیں ؟ اوپر کے بکس میں دیا ہوا گیت ایک مخصوص علاقے کا گیت ہے لیکن یہ عورتوں کے پیدائشی خاندان کو چھوڑ دینے کے ڈر کو جگاتا ہے کیونکہ ہمارا سماج پدرانہ ہے ۔
یہ سمجھنے کے لیے باہمی تعاون ٹکراؤ کی صورت کس طرح اختیار کر سکتا ہے۔ زبر دستی تھوپے ہوئے اور رضا کارانہ باہمی تعاون کے فرق کو جاننے کے لیے ہم ایک بہت ہی متنازعہ مسئلہ یعنی عورتوں کے اپنے پیدائشی خاندان میں جائداد کے حق کی جانب نظر ڈالتے ہیں ۔ سماج کے مختلف حصوں میں یہ جاننے کے لیے ایک مطالعہ کیا گیا کہ والدین کی اِملاک کے بارے میں کیا رویہ ہے ۔ ( کتاب’’ سماجیات کا تعارف‘‘ ، کے صفحات 41 تا 46 دیکھیں)عورتوں کی ایک اچھی خاصی تعداد (41.7فی صد) نے ایک موضوع کو ابھارا۔ جس کا مرکزی خیال بیٹی کی محبت اور بیٹی سے محبت تھا ۔یہ خیال تب ابھر کر سامنے آیا جب وہ عورتیں جائداد میں اپنے حقوق کی بات کر رہی تھیں ، لیکن ان کا زور شفقت سے زیادہ خوف پر تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ خاندانی جائداد پر پورا یا کسی حصے پر دعویٰ نہیں کریں گی کیونکہ اس سے بھائیوں کے ساتھ ان کے تعلقات خراب ہوجائیں گے یا ان کے بھائیوں کی بیویاں ان سے نفرت کرنے لگیں گی، اس کے نتیجے میں انہیں اپنے پیدائشی خاندان میں کبھی خوش آمدید نہیں کہا جائے گا۔ خواتین کے املاک کے حق کو دینے سے انکار کرنے کی وجہ یہی رہی ہے ۔ جو عورت اپنا حصہ مانگے تو وہ ’’خودغرض‘‘ یا ’’حق لینے والی‘‘ مانی جاتی ہے۔ ان احساسات اور بظاہر اس کے برعکس احساسات، جن کی بناء پر آبائی خاندان میں حصہ بنے رہنے کی خواہش عورتوں میں موجود ہے ، دونوں کے درمیان ایک قریبی تعلق بھی تھا تا کہ پیدائشی خاندان کے لیے عملی طور پر اس کی خوشحالی میں ہاتھ بٹایا جا سکے اور بحران کے وقت وہاں موجود رہا جا سکے ۔

دلہن ڈولی میں دولہے کے گھر جاتی ہوئی
عملی کام 2آپ کو یہ سمجھنے میں مدد دے گی بظاہر تعاون کے طرزِ عمل کو کس طرح سماج کی گہری کشاکش کی پیداوار کے طورپر دیکھا جاسکتا ہے۔ لیکن جب اس طرح کے تنازعات اور کشاکش کو کھل کر ظاہر نہیں کیا جا تا ہے یا انہیں للکارا نہیں جاتا تو یہ تأثر پیدا ہو تا ہے کہ سماج میں کوئی ٹکراؤ نہیں ہے ، صرف باہمی تعاون ہے ۔ ایک عملی نقطۂ نظر اکثر ’’نباہ ‘‘کی اِصطلاح ایسی صورتِ حال کی وضاحت کے لیے استعمال کرتا ہے جیسی کہ اوپر بیان کی گئی ہے۔ یعنی جس میں عورتیں اپنے پیدائشی خاندان میں جائیداد کے حقوق کا دعویٰ نہیں کرتیں۔ باوجود ٹکراؤ کے یہ سمجھوتہ اور بقائے باہمی کی ایک کوشش ہے ۔
عملی کام 5
تعاون اور تقسیم ِکار
(COOPERATION AND DIVISION OF LABOUR)
باہمی تعاون کا تصّور انسانی برتاؤ کے بارے میں کچھ مفروضوں پر مبنی ہے ۔ یہ دلیل دی جاتی ہے کہ انسانی تعاون کے بغیر زندگی کی بقا مشکل ہے ۔ مزید برآں یہ دلیل بھی دی جاتی ہے کہ ہمیں حیوانات کی دنیا میں بھی تعاون نظر آتا ہے —خواہ وہ چیونٹیاں ہوں یاشہد کی مکھیاں یا دودھ پلانے والے جانور ۔ حیوانات سے مقابلہ کرتے ہمیں بہر حال احتیاط برتنی چاہیے ۔ اس نکتہ کی وضاحت اور مثال کے لیے ہم علم سماجیات میں دو مختلف نظر یاتی روایات کو دیکھیں گے جو ایمل ڈرکھیم اور کارل مارکس نے پیش کی ہیں ۔
سماجیات بیشتر طور پر اس مفروضے سے اتفاق نہیں کرتی کہ فطرتِ انسانی لازمی طور پر وحشیانہ بدخو ٗیا گندگی ہے۔درخائم کی دلیل اس خیال کی مخالفت ہے کہ دور قدیم کے انسان جن کی بھوک اور پیاس ، جو کبھی تسلی بخش طور پر پورے نہیں ہوتے ، وہی اور صرف وہی ان کی خواہشات ہیں ۔ اس کی دلیل ہے کہ اس کے بجائے لوگ اخلاقی زندگی کی ان دیکھی کرتے ہیں ۔ یعنی وہ اثر جو سماج اپنے لوگوں پر ڈالتا ہے اور موجود اور منتخب کرنے کی جد وجہد کے وحشیانہ کاموں کے اثر کو زائل کرتا ہے ۔ جہاں کہیں سماج ہیں وہاں ایثار پسندی اور ہمدردی بھی ہوتی ہے ، کیونکہ یک جہتی اور اتحاد ہو تا ہے ۔ ہم انسانیت کی ابتداء سے ہی ہمدردی اور قربانی کا جذبہ پاتے ہیں بلکہ کبھی کبھی یہ بے اعتدالی کی حد تک بھی نظر آتا ہے ۔ (ڈرکھیم 1933)
ڈرکھیم کی نظر میں یک جہتی ، جو سماج کی اخلاقی قو ّت ہے،سماج کی کچھ ضرورتوں کو پورا کرتا ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ تقسیمِ کار قدرت کا ایک قانون ہے اور انسانی کردار کا ایک اخلاقی اصول بھی ۔
ڈرکھیم نے مشینی اور جسمانی یک جہتی میں امتیاز کیا جو صنعتی انقلاب سے قبل اور اس کے بعد کے پیچیدہ صنعتی سماجوں کی خصوصیت تھی۔ سماج میں یہ دونوں باہمی اشتراک وتعاون کی شکلیں ہیں ۔
میکانکی یاجسمانی یک جہتی ایک دوسرے کے قریب آنے کی ایک شکل ہے جو بنیادی طور سے یکسانیت پر موقوف ہوتی ہے۔ ایسے معاشرے کے زیادہ تر لوگوں کی زندگیاں بہت ملتی جلتی ہوتی ہیں جن میں تخصیص اور تقسیم کا ر بہت ہی کم ہوتی ہے، وہ بھی عمر اور جنس سے وابستہ ہوتی ہے ۔ مشترکہ اعتقادات اور جذبات اور مشترک ضمیر اور شعور کی بنیاد پر خود ایک دوسرے کے ساتھ بندھے اور جڑے ہوتے ہیں ۔ جسمانی یک جہتی سماج کے باہمی میل ملاپ کی وہ شکل ہے جو تقسیمِ کا ر پر مبنی ہوتی ہے۔ اس کا نتیجہ سماج کے اراکین کے ایک دوسرے پر انحصار کی شکل میں نکلتا ہے، جو ٗں جو ٗں لوگ زیادہ مخصوص طور پر اپنے کاموں میں ماہر ہوتے جاتے ہیں ان کاایک دوسرے پر انحصار بھی بڑھتا ہے ۔ ایک کنبہ جو گزر بسر کی کھیتی باڑی میں لگا ہو تا ہے ایسے دوسرے کا شتکاروں کی مدد کے بغیر بھی جی سکتا ہے لیکن کسی کپڑے یا کاریں تیار کرنے والے کار خانے میں تخصیص کا ر مزدور دوسرے بہت طرح کے تخصیصِ کاروں کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے ، جوان کی بنیادی ضرورتیں فراہم کرتے ہیں ۔
کارل مارکس بھی انسانی زندگی اور حیوانات کی زندگی میں امتیاز کرتا ہے۔ جب کہ ڈرکھیم نے باہمی ہمدردی اور یک جہتی پر زور دیا اور کہا کہ یہ انسانی دنیا کا طرّۂ امتیاز ہے کہ مارکس نے بیداری پر زور دیا ۔ وہ لکھتا ہے :
’’انسان کو بیداری ، مذہب وغیرہ جانوروں سے ممتاز کر سکتے ہیں۔ جو ں ہی وہ اپنی گزر بسر کے ذرائع پیدا کرنے کی ابتداء کرنے لگتے ہیں۔ انسان خود کو حیوانات سے ممتاز کرنا شروع کردیتے ہیں ۔ یہ ایسا قدم ہے ان کی طبعی تنظیم سے متأثر ہوتا ہے۔ اپنی گزر بسر کے ذرائع پیدا کر کے لوگ بالواسطہ طور پر اپنی مادّی زندگی پیدا کررہے ہیں۔‘‘ (مارکس 37:1872)
مارکس کے اوپر دیے ہوئے الفاظ ممکن ہے دیکھنے میں مشکل نظر آئیں لیکن یہ ہمیں اس بات کو سمجھنے میں مدددیں گے کہ انسانی زندگی کا باہمی تعاون حیوانات کے باہمی تعاون سے کیوں کر مختلف ہے ۔ اس لیے کہ تعاون کے لیے نہ صرف خود کو حالات کے مطابق ڈھالنے اور ایک دوسرے کے لیے گنجائش پیدا کرتے ہیں بلکہ اس عمل کے دوران سماج کو تبدیل کرنے کا کام بھی کرتے ہیں ۔ مثال کے طور پر برسہا برس سے مرد اور عورتیں خود کو قدرتی مجبوریوں کے مطابق بناتے آئے ہیں ۔
ٹکنا لوجی کی مختلف اختراعات نے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ نہ صرف انسانی زندگی کو تبدیل کر کے رکھ دیا بلکہ کچھ معنوں میں خود قدرت کو بھی بدل دیا ۔ باہمی اشتراک اور تعاون کے ذریعے انسان غیر محرکانہ طور پر خود کو نہیں ڈھال لیتے بلکہ جس سماجی یا قدرتی دنیا کے ساتھ مطابقت پیدا کرتے ہیں اس کو بدلنے کا کام بھی کرتے ہیں ۔ پچھلی کتاب میں ثقافت سے متعلق باب میں ہم نے اس موضوع پر بات چیت کی تھی کہ ہندوستانیوں نے انگریزی زبان کے ساتھ کس طرح مطابقت پیدا کی تھی ، کس طرح اس کو جگہ دی تھی، کیوں کر تعاون کیا تھا؟ جب کہ برطانوی نو آبادیاتی نظام سے ان کو کوئی اچھا تجربہ نہیں ہوا تھا ۔ نہ صرف یہ بلکہ اس عمل کے درمیان انگلش، کس طرح ایک زندہ سماجی وجود بنی (صفحہ 72)۔
جب کہ ڈرکھیم اپنے عملی نقطۂ نظر سے اور مارکس کے ٹکراؤکے نظریئے سے دونوں ہی تعاون باہمی پرزور دیتا ہے۔ پھر بھی ان کے درمیان اختلاف ہے ۔ مارکس کی نظر میں تعاون ایسے معاشرے میں رضا کا رانہ نہیں ہوتا جہاں طبقات موجود ہوں۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ ’’سماجی قو ّت یعنی متنوّع پیداکا ر قوت جو مختلف افراد کے تعاون سے ابھر تی ہے کیونکہ یہ تقسیم کار کے سبب پیدا ہوتی ہے۔ ان کے رضا کارانہ تعاون کی وجہ سے نہیں بلکہ قدرتی طور پر آتی ہے ۔ ان افراد کو اپنی متّحدہ قو ّت کی طرح نہیں بلکہ ایک غیر قوت کی طرح نظر آتی ہے جو ان سے باہر موجود ہے ۔ (مارکس 53:1872)
مارکس نے بیگانہ پن کی اصطلاح مزدوروں کی محنت کے ٹھوس مقدار اور محنت کی پیدا وار پر سے اختیار کے گنوادینے کے لیے استعمال کی ۔ دوسرے الفاظ میں وہ اپنے کام کو کرنے کے ڈھنگ کا اختیار گنوادیتے ہیں۔ اپنی محنت کے پھل پر بھی کوئی حق حاصل نہیں ہوتا ایک لوہار، بنکر یا کمہار کے احساسِ تکمیل وتخلیق کا موازنہ ایک کارخانے کے مزدورسے کیجیے، جس کا کام پورے دن محض ایک بٹن کو دبا نا یا کسی لیور کو کھینچنا ہو تا ہے ۔ ایسی صورت حال میں تعاون ایک تھو پا ہوا اور زبر دستی کا تعاون ہے ۔
مقابلہ ایک تصو ّر اورایک عملکے طورپر
(COMPETITION AS AN IDEA AND PRACTICE)
جیسا کہ تعاون کا معاملہ ہے مقابلہ کے تصور پر بحث ومباحثہ بھی اکثر اس خیال سے شروع ہو تا ہے کہ یہ آفاقی اور فطری ہو تا ہے لیکن ہم اپنی پچھلی گفتگو کی طرف لوٹتے ہیں جس میں کہا گیا تھا کہ سماجیاتی توضیح کس طرح مطالعہ کی وضاحت سے مختلف ہوتی ہے ، مقابلہ کو ایک سماجی وجود کے طور پر سمجھنا ضروری ہوگا جو تاریخ کے ایک خاص مقام پر ابھر کرسامنے آتا ہے اور سماج پر حاوی ہو جاتا ہے۔ دَورِ حاضر میں یہ خیال غالب ہے اور اکثر ہمارے لیے یہ سوچنا مشکل ہو جاتا ہے کہ کوئی ایسا سماج بھی ہو سکتا ہے جہاں مقابلہ ایک رہنمائی قوت نہیں ہے ۔
اسکول کی ایک استانی کا واقعہ جس نے افریقہ کے دوردراز حصے میں بچوں کے ساتھ اپنے تجربے کو بیان کیا ہے اس طرف توجہ مبذول کراتا ہے کہ مقابلہ کی تشریح سماجیاتی طور پر کی جانی چاہیے نہ کہ ایک قدرتی مظہر کے طور پر۔ یہ واقعہ استانی کے اس مفروضے کا ذکر کر تا ہے کہ بچے مقابلے کی دوڑ کے خیال سے قدرتی طور پر بہت لطف اندوزہوں گے جس میں جیتنے والے کو انعام میں چاکلیٹ دیا جائے گا ۔ اسے بڑی حیرت ہوئی جب اس کی تجویزپر کسی پسندیدگی کا اظہار نہیں کیا گیا بلکہ ایسا لگا کہ اس سے کافی تشویش پیدا ہوئی ہے اور لوگوں کو تکلیف پہنچی ہے ۔ مزید کھوج لگانے پر پتہ چلا کہ لوگوں نے ایسے کھیل پر اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیا جس میں جیتنے والے اور ہارنے والے ہوں گے ۔ انہوں نے ان کے کھیل کو د کی مخالفت کی۔ چوں کہ ان کی نظر میں کھیل باہمی تعاون اور اجتماعی تجربہ ہے، نہ کہ ایسا مقابلہ کہ جس میں کچھ کو باہر کر دیا جائے گا اور کچھ انعام پائیں گے ۔
تاہم دَورِ حاضر میں مقابلہ ایک غالب قدر اور رواج بن گیا ہے۔ سماجیات کے کلاسیکی مفکرین جیسے ایمائل درخائم اور کارل مارکس نے علی الترتیب معاشروں میں انفرادیت اور مقابلہ پر نظر ڈالی ہے ۔ دونوں ہی باتیں جدیدسرمایہ دار معاشروں کے کام کرنے کے طریقوں کے لیے فطر ی ہیں ۔ بہتر کارکردگی اور زیادہ سے زیادہ نفع کمانے پر ہے ۔
سرمایہ داری نظام کے مفروضے مندرجہ ذیل ہیں ۔
• تجارت کی توسیع
• تقسیم ِکار
• تخصص اور
• بڑھتی پیدا وار یت
بالذات پائدار نشوونما کے عملوں (Processes)کو سرمایہ دارانہ مرکزی خیال سے تقویت ملتی ہے: بازار کے کھلے مقابلے میں شامل ذی عقل افراد جن میں سے ہر ایک زیادہ سے زیادہ منافع حاصل کرنے کی کوشش میں مصروف کارہے۔
مقابلہ کا نظریہ سرمایہ داری کا سب سے اہم نظریہ ہے۔ اس نظریے کے پیچھے جو منطق کام کرتی ہے وہ یہ ہے کہ بازار اس طریقے سے کام کرتا ہے جس نے زیادہ سے زیادہ کارگزاری یقینی ہو سکے۔ مثال کے طور پر مقابلہ کا جذبہ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ نسبتاً زیادہ نمبر حاصل یا تعلیم میں بہترین طلباء کو با وقار اور بہترین کالجوں میں داخلہ مل سکے اور پھر ان کو بہترین ملازمت مل سکے ۔ ہر معاملہ میں ’’بہترین ‘‘سے مراد اس چیز سے ہوتی ہے جوبڑے سے بڑے مادّی صلہ کو یقینی بنا دے ۔
عملی کام 6
حال میں ہندوستان میں حکومت کے اس فیصلے پر زبر دست بحث چِھڑی ہے کہ دیگر پس ماندہ طبقات (O B C)کے لیے 27فی صدی ریزرویشن دیا جائے۔ یعنی اتنی نشستیں ان کے لیے یقینی طور پر محفوظ ہوں ۔ رسالوں ، اخباروں اور ٹی وی پر اس تجویز کی موافقت یا مخالفت میں مختلف دلائل اکٹھا کیجیے ۔
اسکول چھوڑ نے والے طلباء کی شرح کی معلومات جمع کیجیے۔ خاص طور پر ابتدائی مدرسوں کے بارے میں( پچھلی کتاب کے 59-57دیکھیں )
یہ مان کرکہ اسکول چھوڑنے والے بچوں میں زیادہ نچلے طبقے کے ہوتے ہیں۔ اعلیٰ تعلیم کے زیادہ تر اداروں پر اعلیٰ ذات کے طلباء کا غلبہ ہے۔ آپ تعاون ، مقابلہ اور ٹکراؤ کے تصورات پر مندرجہ بالا سیاق و سباق میں گفتگو کیجیے ۔
دوسری فطری تشریحات کی طرح اس نقطۂ نظر کو کہ انسان فطری طور پر ایک دوسرے سے مقابلہ کرتے ہیں، تنقیدی نقطۂ نگاہ سے سمجھنے کی ضرورت ہے (پچھلی کتاب کا صفحہ 8دیکھیے)۔بطور قابل قبول قدر کے مقابلہ سرمایہ داری کی آمدپر پھلا پھولا ۔ نیچے دیئے ہوئے باکس میں دیئے ہوئے اقتباسات کو پڑھیے اور ان پر گفتگو کیجیے ۔
غیر قدامت پسنداور آزاد خیال مفکرّین جیسے جے ۔ ایس ۔ مل نے محسوس کیا کہ عام طور پر مقابلہ کے اثرات ضرررساں ہوتے ہیں ۔ تاہم اس کا خیال تھا کہ اگر چہ آج کے زمانے میں سب کی سب کے خلاف لڑائی ہے لیکن بیک وقت یہ سب کے لیے لڑائی ہے۔ یہ اس معنی میں کہ معاشی مقابلہ کا مقصد کم سے کم لاگت پر زیادہ سے زیادہ پیدا وار کرنا ہے مزید برا ٓں ، سماج کی وسعت اور انفرادیت ، مختلف طرح کے مفادات ، جو اس کے تمام لوگوں کو یکجا اور متحد رکھتے ہیںاسی صورت میں زندہ رہتے ہیں جب مقابلہ کی جد وجہد کی ضرورتیں اور اس کی فوری اہمیت فرد پر ان کے لیے مجبور کردیتے ہیں ۔
ہو سکتا ہے انیسویں صدی کے سرمایہ دارانہ نظام کی پوری آزاد معیشت اور باہمی مقابلہ معاشی فروغ کے لیے اہم رہے ہوں ۔ امریکی معیشت کی غیر معمولی تیز رفتار ترقی ممکن ہے ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں مقابلہ کے زیادہ امکانات کی وجہ سے ہوئی ہو لیکن پھر بھی ہم مقابلہ کی حد یا مقابلہ کے جذبے کی شدت اور مختلف معاشروں میں معاشی فروغ کی رفتار کے درمیان کسی باہمی تعلق کا ثبوت نہیں دے سکتے ۔ دوسری طرف یہ فرض کرنے کی وجوہات موجود ہیں کہ مقابلہ میں کچھ اثرات ناخوشگورا ہوتے ہیں ۔(بوٹومور 174-5:1975)
عملی کام7
اس موضوع پر ایک مباحثہ کا اہتمام کیجیے جس میں اس بات کی موافقت یا مخالفت پر بحث ہو کہ مقابلہ سماج کے لیے ایک اچھی چیزہے اور ترقی کے لیے اشد ضروری ہے ۔ اسکول کے تجربات کی بنیاد پر ایک مضمون لکھیے جس کا موضوع ہو کہ مقابلہ کس طرح مختلف طلباء پر اثر انداز ہوتا ہے ۔
یہ نظریہ فرض کر کے چلتا ہے کہ افراد برابری کی بنیاد پر مقابلہ کرتے ہیں۔ یعنی یہ کہ تمام افراد تعلیم ، ملازمت یا وسائل کے لیے مقابلہ کرنے میں برا بری کی حیثیت میں ہوتے ہیں ۔ لیکن جیسا کہ عدم مساوات سماجی طبقاتی تفریق پر گفتگو کے دوران کہا گیا ہیکہ افراد کا سماج میں مقام ایک نہیں ہو تا ۔ اگر ہندوستان میں بچوںکی زیادہ تر تعداد اسکول نہیںجاتی یا وقت سے پہلے ہی اسکول چھوڑ دیتی ہے تو وہ مقابلے سے بالکل ہی باہر رہتے ہیں ۔
عملی کام 8
ایسے مختلف موقعوں کی شناخت کیجیے جب ہمارے سماج میں افراد کو مقابلہ کرنا پڑتا ہے ۔ اسکول میں داخلے سے شروع کیجیے اور زندگی کے مختلف مرحلوں تک جایئے ۔
ٹکراؤاور باہمی تعاون
(CONFLICT AND COOPERATION)
ٹکراؤ کی اصطلاح سے مراد ہے مفادات کا تصادم ۔ ہم پہلے ہی دیکھ چکے ہیں کہ ٹکراو کا نظریہ ماننے والوں کا خیال ہے کہ سماج میں وسائل کی قلت کس طرح ٹکراو پیدا کرتی ہے کیونکہ لوگ ان وسائل پر اختیارحاصل کرنے کے لیے جد وجہد کرتے ہیں ۔ ٹکراؤ کی مختلف بنیادیں ہیں ۔ ٹکراؤ طبقہ یا ذات کی بناء پر ہو سکتا ہے ، قبیلہ یا جنس (مرد، عورت )کی وجہ سے ہو سکتا ہے یا نسلی یا مذہبی بنیادوں پر ۔ نوجوان طلباء کے ناتے آپ سماج میں موجود ٹکراو کی وسعت سے اچھی طرح واقف ہیں ۔ تاہم مختلف قسم کے ٹکراو کا پیمانہ اور ہیت مختلف ہوتی ہے ۔
عملی کام 9
آج دنیا میں موجود مختلف قسم کے ٹکراؤ پر غو ر کیجیے ۔ سب سے بڑے پیمانے پر قوموں اور قوموں کے گُٹوں کے مابین ٹکراؤ موجود ہیں ۔ قوموں کے اندر بھی ٹکراؤ پائے جاتے ہیں ۔ ان سب کی ایک فہرست بنا یئے او رپھر اس بات پر گفتگو کیجیے کہ وہ کن طریقوں سے مختلف ہیں اور کن طریقوں سے ایک دوسرے کے مشابہہ ۔
ایک عام فہم نظریہ جس کو بہت سے لوگ مانتے ہیں یہ ہے کہ سماج میں ٹکراؤ ایک نئی چیز ہے ۔ ماہرینِ سماجیات نے اس جانب توجہ مبذول کی ہے کہ ترقی کے مختلف مراحل پر ٹکراؤ اپنی شکل اور فطرت بدلتے رہتے ہیں۔ لیکن کسی بھی سماج کا ہمیشہ ایک حصہ رہے ہیں ۔ سماجی تبدیلیاں اورناموافق حالات اور امتیازی سلوک کے شکار لوگوں کا جمہوری حقوق پر اصرار اورکُھل کر بولنا، ٹکراو کو کھل کر سامنے لاتے ہیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ٹکراو کے اسباب پہلے موجود نہیں تھے۔ باکس میں دیا گیا اقتباس اس بات کو زور دیکر بیان کرتا ہے ۔
آج ترقی پذیر ممالک نئے اور پرانے کے در میان ٹکراؤ کے اکھاڑے بن گیے ہیں ۔ پرانا نظام نئی قوتوں کا سامنا زیادہ عرصہ تک نہیں کر سکتا اور نہ وہ نئی حاجتوں اور لوگوں کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے قابل ہے لیکن موت کے قریب بھی نہیں ہے ۔ درحقیقت پرانا نظام ابھی بالکل زندہ ہے ۔ ٹکراؤ سے ایک نامناسب بحث ومباحثہ ، نا اتفاقی ، الجھن ، کبھی کبھی کشت وخون بھی واقع ہو جاتا ہے ۔ ایسے حالات میں ایک ماہر ِسماجیات کے لیے گزرے ہوئے خوبصورت لمحات کی طرف دیکھنا پرکشش بن جاتا ہے۔ وہ ان کی یاد یں دل میں لیے رہتے ہیں ۔ لیکن اگر وہ ایک لمحہ کے لیے سوچے تو اسے یقین ہو جائے گا کہ پرانا نظام ٹکراؤ اور کشاکش سے آزاد نہ تھا۔ اس کی وجہ سے آبادی کے بڑے حصوں پر غیر انسانی مظالم ہوئے ۔ ایک نظریاتی زاویۂ نگاہ جس کے مطابق ٹکراو بے اعتدال یا معمول کے خلاف ہے یا جو سائنس کے نام پر توازن ایک مخصوص قدرکے ساتھ عطا کرتا ہے، ترقی پذیر معاشروں کے مطالعہ کی راہ میں ایک رکاوٹ بن سکتا ہے ۔ (سری نواس 159-60:1972)
"Social change in Modern India"
یہ سمجھنا بھی اہم ہے کہ ٹکراؤ نا اتفاقی یا کھلے تصادم کی شکل میں جب اس کا کُھلَّم کُھلَّا اظہار کیا جاتا ہے ۔ مثال کے طور پر کسانوں کی کوئی تحریک زمینی وسائل پر ایک گہری کشاکش کا کھلااظہار ہے ۔ لیکن تحریک کی عدم موجودگی کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ٹکراؤ ہے ہی نہیں ۔ اس لیے اس باب میں ٹکراو ٔ، غیر رضا کارانہ باہمی تعاون اور مزاحمت پر زور دیا گیا ہے ۔
آئیے! اب سماج میں پائی جانے والی چند کشمکشوں کا جائزہ لیں۔ اورٹکراؤ ،باہمی اشتراک وتعاون اور مقابلہ کے درمیان قریبی رشتہ کو بھی دیکھیں ۔ ہم یہاں صرف دو مثالیں لینگے ۔ پہلی مثال خاندان اور گھر بار کی ہے اور دوسری زمین سے متعلق تنازعات کی ۔
روایتاً خاندان اور گھر بار اکثر وبیشتر ہم آہنگ اکائیوں کی طرح دیکھے جاتے تھے جہاں باہمی تعاون ایک غالب عمل تھا اور بے غرضی اور باہمی ہمدردی انسانی کردار کی بنیاد ی قوت ۔ گزشتہ تیس بر س کے دوران عورتوں کے نقطۂ نگاہ کے تجزیہ سے اس مفروضہ پر بہت سے سوال اٹھے ہیں ۔ امرتیہ سین جیسے کئی مدبّرین نے زبر دستی پیدا کیے جانے والے باہمی تعاون کے امکان پر غور کیا ہے ۔
نہ صرف یہ کہ مختلف جماعتوں کو باہمی تعاون سے بہت کچھ حاصل ہو سکتا ہے ، ان کی انفرادی سرگرمیوں کو بھی صاف اور ظاہر تعاون کی شکل اختیار کرنا چاہیے۔ ایسے حالات میں بھی جب کہ اچھے خاصے اختلافات اور ٹکراؤ موجود ہوں بھلے ہی سماجی ٹیکنالوجی کے انتخاب میں مفادات کا سنگین تصادم بھی کیوں نہ ہو ، خاندانی تنظیم کا تقاضہ ہے کہ ایسے اختلافات اور جھگڑوں کو باہمی تعاون کے سانچے میںڈھال لیا جائے اور تنازعات اور تصادموں کو کردار سے انحراف سمجھا جائے ۔(سین 147:1990)
چونکہ ٹکراؤ کو اکثر وبیشتر کھل کر ظاہر نہیں کیا جا تا۔ یہ پایا گیا ہے کہ سماج کے کم تر اور ماتحت لوگ ، خواہ وہ گھر کی عورتیں ہوں یا زراعتی سماج کے کسان ، ٹکراؤ سے نمٹنے کے لیے مختلف ترکیبیں استعمال کرتے ہیں اور باہمی تعاون کو یقینی بنانے کے لیے کچھ نہ کچھ کرتے ہیں ۔ بہت سے سماجی مطالعات سے معلوم ہوا ہے کہ پوشیدہ ٹکراؤ اور ظاہر تعاون عام ہیں ۔ درج ذیل اقتباس عورتوں کے طرزِ عمل اور گھروں میں باہمی تعلقات کے بہت سے مطالعہ جات سے اخذ کیا گیا ہے ۔
مادی دباؤ اور باہمی تعاون کے لیے دیئے گئے محرکات تقسیم تک پھیلے ہوتے ہیں۔ تقسیم کے عمل پر ظاہری ٹکراؤ کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ اس کے بجائے فیصلہ سازی ، ضروریات اور ترجیحات کا ایک نظام مراتب ہے (جو عمر ، جنس اور زندگی کے چکرّ سے وابستہ ہے )ایسا نظامِ مراتب جس کو عورت اور مرد دونوں مانتے نظر آتے ہیں ۔ گویا عورتیں سرِ تسلیم خَم کر دیتی ہیں۔ بلا شبہ آگے بڑھ کر گھرانوں کے مابین تقسیم کے کام میں امتیازانہ رواجوں اور عادتوں کی حوصلہ افزائی کا کام کرتی ہیں تا کہ انکا اپنا طویل المدّت تحفظ یقینی ہو جائے۔ گھر کے باہر تعلقات اور وسائل تک رسائی کی اجازت نہ دیئے جانے کی وجہ سے یہ ان کے اپنے مفاد میں ہو تا ہے کہ بیٹے کو ترجیح کے رواج کو مانیں ، جو اس ثقافت کا ایک خاصہ ہے۔ یہ عورتیں بہت زیادہ بے غرض ، الفت اور لگاؤ میں مصروف ہو جاتی ہیں تاکہ اپنے بیٹوں کے دلوں کو اپنے حلیفوں کے طور پر جیت لیں۔ اس طرح اپنے غیر یقینی مستقبل کو یقینی بنا سکیں ۔ مادرانہ ہمدردی اور لگاؤ غالباً شمالی ہند کے میدانی علاقوں میں بیٹوں کی طرف عام میلان پایاجاتا ہے۔ اس کو ہم اس نظر سے ممکنہ خطرات کے لیے عورتوں کا جواب ہے ۔ عورتیں مکمل طور پر کمزور اور بے سہا را نہیں ہوتیں۔ لیکن مردوں کی فیصلہ سازی کی ان کی مخالفت پوشیدہ ہوتی ہے۔ معتبر حلیفوں (رشتہ داروں یا پڑوسیوں) کا چھوٹے موٹے کاروبار کے لیے استعمال جوان کی طرف سے یہ کام کریں ، چھپے چوری پیسہ ادھار لینا یا دینا اور جنس پر مبنی نظریات جسے پردہ اورماں ہونے کے مفہوم جیسے معاملات پر سود ے بازی اور بات چیت کچھ ایسی ترکیبیں ہیں جن کے ذریعے عورتوں نے مردوں کی قوت کا مقابلہ کیا ہے۔ (عبد اللہ اور زینسٹین، 1982، وھائٹ ، 1992) عورتوں کی مزاحمت اس طرح کی روپوش صورت اختیار کرلیتی ہے جس سے ظاہر ہو تا ہے کہ گھر میں تعاون کے علاوہ ان کے پاس دوسرا کوئی راستہ نہیں ہے۔ کھلم کھلا ٹکراو کی راہ جو کھم بھری ہے (کبیر 129 : 1996)
تسلیم شدہ باتوں اور عقل عامہ کے مفروضوں پر سوال اٹھانے کی سماجیاتی روایت کے مطابق اس باب میں تعاون ، تصادم اور مقابلہ کے اعمال کو تنقیدی نظرسے پر کھا گیا ہے ۔ سماجیاتی نقطۂ نگاہ سے یہ عمل ، فطری اور قدرتی نہیں ہے ۔ یہ ان کو دیگر سماجی تبدیلیوں کے ساتھ جوڑ کر دیکھتا ہے ۔ مندجہ ذیل پیرا گرافوں میں آپ ایک سماجیاتی مطالعہ کے بارے میں پڑھیں گے جوزمین سے متعلق سرشتوں اور ہندوستان میں بھوٗدان ، گرام دان پر کیا گیا ہے ۔ باکس کو پڑھیے اور دیکھئے کہ سماج میں پایا جانے والا باہمی تعاون واشتراک کس طرح ٹیکنا لوجی اور پیدا وار کی معاشی ترتیب کے ساتھ سماجیاتی طور پر جوڑا جا سکتا ہے ۔
زمین کے تنازعات کا معاملہ
ہر بخش نام کے ایک راجپوت نے ناتھوٗہیر (پٹیل )سے 1956 میں 100روپے قرض لیے تھے۔ اس کے لیے اپنی دو ایکڑ زمین (غیر رسمی طور پر )گروی رکھ دی تھی ۔ ہر بخش اسی سال چل بسا اور اس کے جانشین گنپت نے 1958میں زمین واپس لینے کا دعویٰ کیا۔ اس کے لیے اس نے 200روپے دینے کی پیش کش کی ۔ ناتھونے گنپت کو زمین واپس دینے سے انکار کردیا ۔ گنپت کوئی قانونی کارروائی نہیں کر سکتا تھا کیونکہ یہ لین دین مال گزاری کے ریکارڈوں میں درج نہ تھا ۔ ان حالات میں گنپت نے تشدّد کا سہارا لیا اور 1959میں زمین پر کاشت کرنے لگا۔ (گرام دان کے ایک سال بعد)گنپت جو پولیس کے سپاہی کی حیثیت سے ملازمت کرتا تھا ، پولیس کے افسروں پرا ثر ڈالنے میں کامیاب ہوا ۔ جب پٹیل پھلیرا (پولیس تھانہ ہیڈ کوارٹر )گیا تو اسے پولیس اسٹیشن لے جایا گیا اور اس سے زبر دستی یہ منوایا گیا کہ وہ گنپت کو زمین واپس کر دے گا ۔ بعد میں گاؤں والوں کی ایک میٹنگ بلوائی جس میں اسے روپیہ دے دیا گیا اور گنپت کو زمین واپس مل گئی ۔ (اومن : 1972 )
ٹیکنا لوجی کی آمدنے بھی باہمی تعاون اور اشتراک کی ضرورت کو کم کر دیا تھا ۔ مثلاً کنویں سے سینچائی کرنے کے ایک اوزار یعنی چرس کو چلانے کے لیے بیلوں کی دو جوڑیاں اور چار آدمی در کار ہوتے ہیں ۔ چار بیلوں کی قیمت ایک معمولی سے کسان کے بس سے باہر کی چیز ہے۔ ایک متوسط گھرانے کے پاس مطلوبہ انسان یعنی چار آدمی ہونا بھی مشکل ہو سکتا ہے ۔ ایسے حالات میں انہیں بیل اور آدمی دوسرے گھرانوں سے (رشتہ دار، پڑوسی ، دوست وغیرہ) قرض لینے پڑتے ہیں اور اس کام کے بدلے کام کرکے چکانے کا وعدہ کرنا پڑ تا ہے ۔ لیکن اگر چرس جس کے لیے زیادہ پیسہ درکار ہوتا ہے آب پاشی کے لیے ریہٹ (ایرانی پہیہ) استعمال کیا جائے تو محض ایک جوڑی بیلوں اور چلانے کے لیے ایک شخص کی ضرورت ہوگی ۔ آب پاشی کے معاملے میں تعاون کی ضرورت زیادہ پیسہ لگانے اور کار گزار ٹکنا لوجی کے استعمال سے کم ہو جاتی ہے ۔ اسی طرح کسی نظام میں ٹکنا لوجی کامعیار لوگوں اور گروپوں کے درمیان باہمی تعاون اور اشتراک کا تعین کرسکتا ہے ۔
"Stablity and change: An Analysis of Bhoodan-Gramdan Movement in 1972 India" p.88 : ماخذ
عملی کام 10
زمین کے معاملے میں ٹکراؤ کا درج ذیل بیان پڑھیے ۔ اس میں موجود مختلف سماجی گروپوں کی شناخت کیجیے ۔ قوت کے کردار اور وسائل تک رسائی کو غور سے دیکھیے ۔
نتیجہ (CONCLUSION)
اس باب میں یہ کوشش کی گئی ہے کہ ایک جانب ڈھانچہ اور طبقاتی ترتیب کے درمیان کے رشتے کو سمجھا جائے اور دوسری جانب سماجی اعمال جیسے باہمی تعاون مقابلہ اور ٹکراؤ کو ۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ یہ تینوں سماجی عمل ایک دوسرے سے مختلف ہیں لیکن پھر بھی یہ اکثر ایک ساتھ رہتے ہیں۔ ایک دوسرے کی جگہ لے لیتے ہیں اور بعض اوقات پوشیدہ انداز میں موجود رہتے ہیں۔ جیسا کہ زبردستی لادے ہوئے باہمی تعاون کے بارے میں کی گئی اوپر کی گفتگو سے ظاہر ہے ۔ ہم سرگرمیوں کے ساتھ اس گفتگو کو ختم کرتے ہیں۔ جن میں حقیقی زندگی کے واقعات بیان کیے گیے ہیں اور جن سے آپ اپنی سماجی گروپوں کے لیے کام کرتے ہیں۔ جن کا مقام سماجی اور طبقاتی ترتیب میں جدا جدا ہے ۔
عملی کام 11
رپوٹ کو اچھی طرح پڑھیئے اور سماجی ڈھانچہ ، طبقاتی ترتیب اور سماجی عوامل کے مابین تعلق پر گفتگو کیجیے ۔ یبان کیجیے کہ کس طرح دوکردار پُشپااور سنتوش سماجی ڈھانچہ اور طبقاتی تقسیم کے نظام کی وجہ سے مجبور اور لاچار ہیں ۔ کیا ان دونوں کی زندگیوں میں تعاون باہمی ، مقابلہ اور تصادم کی تینوں عملیات کو پہچانا جاناممکن ہے ؟ کیا ان شادیوں کو باہمی تعاون کے عمل کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے ؟ کیا ان شادیوں کوایسی کارروائیاں سمجھا جا سکتا ہے جو ملازمتوں کے مسابقتی بازار میں زندہ رہنے کے لیے اختیار کرتے ہیں۔ کیونکہ شادی شدہ جوڑوں کو ترجیح دی جاتی ہے ؟ کیا آپ کو ٹکراؤ کی کوئی علامت نظر آتی ہے ؟
8مئی 2006 کا Outlook رسالہ
"Meet the Parents : Teen marriages, migrant labour and cane factories in crisis A vicious cycle."
تھوڑی سی توڑ مروڑ کے ساتھ یہ بھی وہی پرانی کہانی ہے۔ 14برس کا سنتوش شِنڈے ، ان بے زمینی مزدوروں کا بیٹا ہے جو اپنی کی تعلیم کے لیے 8000روپے کا قرض لیتا ہے ۔ اب ساہو کار اپنا پیسہ واپس چاہتا ہے ۔ لہٰذا شنڈے او راس کی بیوی اس شخص سے پیشگی تنخواہ لیتے ہیں، جو شہر میں نو کریاں دینے والا اکیلا آدمی ہے۔ گنیّ کے کار خانے کا ٹھیکہ دار ہے ۔ یہاں مشکل یہ ہے کہ یہ لوگ صرف شوہر اور بیوی ہیں اور ان کا ایک چھنپولڑ کا۔ لہٰذا شنڈے اور اس کی بیوی کو سنتوش کے لیے جلدی میں ایک دلہن تلاش کرلیتے ہیں ۔ وہ ہے پُشپَا جس کی عمر بھی 14سال ہے ۔ وہ مہاراشٹر کے ضلع عثمان آباد میں واقع ان لوگوں کے گاؤں سے ان کے ساتھ کرنا ٹک چلی جاتی ہے ۔ راستے میں ایک جگہ رک کر مندر میں سادگی کے ساتھ شادی کر لیتے ہیں ۔
۔۔۔۔اس کا ایک نام بھی ہے Gatekinیعنی دروازہ کا رشتہ دار ’’غالباً یہ لفظ ان عارضی کیمپوں سے آیا ہے جو نقلِ مکانی یا ہجرت کرنے والے مزدور گنیّ کی کٹائی کے موسم میں کار خانے کے دروازے کے باہر قائم کر لیتے ہیں ۔ ٹھیکہ دار تین لڑکوں سے زیادہ شادی شدہ جوڑوں کو کام کے لیے پسند کرتے ہیں۔ اس لیے کہ ان لوگوں کا مہینوں تک ٹکے رہنے کا امکان ہو تا ہے ۔
تقریباً مغربی مہاراشٹر کے گناّ پلنے کے کارخانے، جو کبھی ہندوستان کی چینی کا ایک تہائی حصہ پیدا کیا کرتے تھے، اب بحرانی دور سے گزررہے ہیں۔ جس کی وجہ سے چلتے پھرتے اور باہر سے آنے والے مزدوروں کے لیے کام کے مواقع بہت کم ہو گیے ہیں۔ کچھ تخمینوں کے مطابق کہ ان کا کارخانوں پر 1900کروڑ روپے کا قرض ہو گیا اور اس سال 177میں سے 120کو مجبور ہو کر مشکل سے نکالنے کے لیے مرکزی حکومت کے 1.650روپے کے پیکج سے فائدہ حاصل کرنا پڑا ۔ لیکن تھوڑے تھوڑے سے پیسے نے مہا جر مزدور وں کی تکلیف اور بڑھادی ہے ، جو کھیتوں میں خوب لگ کر اور تیزی کے ساتھ چھ مہینے لمبے گنیّ کے موسم میں گنا ّکا ٹ رہے ہیں۔ انہیں کام ملنا دشوار تر ہو گیا ہے اور اجر تیں بے حد نیچے آگئی ہیں ۔
گنگلی سنتوش نے جو اب 16برس کا ہو گیا ہے اور جس کی مونچھیں پھیل رہی ہیں ، ابھی ابھی دسویں کے امتحان میں بیٹھا ہے ۔پُشپا جو ایک اچھی متعِلّم ہے اپنی تعلیمی خواہشوں کو اپنے ڈیڑھ بر س کے بیٹے کی دیکھ بھال کے ساتھ متوازن کرتی ہے ۔ پھر گھر اور کھیت کا کام بھی ہے ۔ جیسا کہ اس کا کہنا ہے ’’ میری شادی بڑی عجلت میں ہوئی ۔ کبھی کبھی میری سمجھ میں بھی نہیں آتا کہ آخرمیری شادی کب ہوئی تھی ؟ یہ سب کچھ کب ہوا ؟ جب اس سے پوچھا گیا کہ کیا اس کی صحت پر اس کا برا اثر پڑا ہے تو یہ نوجوان ماں کہتی ہے۔ ’’میں ان باتوں کے بارے میں سوچنے کی ہی کوشش ہی نہیں کرتی ہوں جن پرمیرا کوئی بس نہیں چل سکتا۔اس کی بجائے میں ان باتوں پر توجہ دیتی ہوں جو میں اب کر سکتی ہوں ۔‘‘ اس کے سسرال والے کہتے ہیں کہ وہ آگے اپنی پڑھائی بھی جاری رکھ سکتی ہے، جب اسے کوئی وظیفہ مل جائے۔ بصورت دیگر یہ نوجوان جوڑاممبئی ہجرت کر جائے گا اور وہاں مزدوری یا اور کوئی کام کرے گا ۔
عملی کام :12
رپورٹ کو غور سے پڑھیے اور عملی کام 11میں دیئے گئے وکرم اور نتن کو درپیش مقابلہ اور سنتوش اور پُشپَا کو درپیش مقابلہ کافرق بتایئے ۔
The Week(7مئی 2006 )میں ایک خاص مضمون شائع ہوا تھا جس کا عنوان تھا
The New Workaholies: Their Goals, Money, Risks, Health" چوںکہ ہندوستان کی معیشت 8فی صد ی کی در سے چھلانگیں ماررہی ہے ، تمام سیلنڈروں پر گولیاں چلاتی جارہی ہیں ہے ۔ کارو بار کے ہر میدان میں ہزاروں نوکریاں پیدا ہور ہی ہیں۔ بدلتے ہوئے روپے اور کام کرنے کے نئے انداز سامنے آرہے ہیں ۔ لہٰذا نوجوان پیشہ ورانہ ماہر فوری صلہ چاہتے ہیں۔ ترقیاں جلد اور تیزی سے آنی چاہئیں ۔ اور پیسہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔غیر معمولی تنخواہیں ، دیگر سہولتیں اور تنخواہوں میں بڑے بڑے اضافے ۔۔۔۔۔۔۔ عظیم محرک پوری دنیا کو گھماڈالتا ہے 27سالہ وکر م سا منت کو جس نے حال ہی میں ایک بی ۔ پی ۔ او میں کام شروع کیا ہے یہ بتانے میںبالکل جھجک نہیں ہے کہ بہتر تنخواہ کے لیے اس نے پچھلی نو کری چھوڑی ، وہ کہتا ہے پیسہ ایک اہم چیز ہے لیکن میرے نئے آجر پوری طرح جانتے ہیںکہ میں اس ہر ایک روپیہ کا اہل ہوں جو مجھے ادا کیا جاتا ہے ۔
نوجوان کا م کے دھیتوں کو جو چیز آگے بڑھارہی ہے وہ یہ ضرورت ہے کہ کارپوریٹ (بڑی بزنس اور کمپنیاں )کی سیڑھیوں کس طرح چھلانگ مار کر اوپر پہنچا جائے ، بجائے اس کے کہ ہر ڈنڈے پر نپے تلے قدم رکھ کر احتیاط کے ساتھ چڑھا جائے ۔ ’’جی ہاں ‘‘ میں اگلا عہدہ جلد چاہتا ہوں نہ کہ اس وقت جب میں گنجاہو نا شروع ہو جاؤں گا ۔ نتن کاکہنا ہے ، جس نے اگلی چھلانگ کا انتظار کر نے سے انکار کر دیا اور آئی سی آئی سی آئی (ICICI)سے عہدے کی ترقی کے ساتھ پھدک کر اسٹینڈ رڈ چار ٹر ڈ پہنچ گیا اور اس کے بعد بطور علاقائی مینجر (ZONAL MANAGER)آپٹی مکس (OPTIMIX)چلا گیا ۔
مشکل الفاظ کی تشریح
ALTRUISM: کسی خود غرضی یا ذاتی مفاد کے بغیر دوسروں کی مدد کرنے کا اصول ۔
ALIENATION: مارکس نے اس اصطلاح کا استعمال محنت کشی کی نوعیت اور اپنی محنت سے بنائی ہوئی چیزوں پر سے مزدوروں کے اختیار کے ختم ہونے کے لیے کیا تھا ۔
ANONIE : ڈرکھیم کے لیے ایسی کیفیت جس میں کردار کے رہ نما اصول ومعیار ختم ہو جاتے ہیں اور افراد کو سماجی پابندیوں یا رہ نمائی کے بغیرآزاد چھوڑ دیا جاتا ہے۔
Capitalism : ایک ایسا معاشی نظام جس میں ذرائع پیدا وار نجی ملکیت میںہو تے ہیں۔انہیں اس طرح منظم کیا جاتاہے کہ بازار کے سہارے منافع اکٹھا ہو تا رہے۔ اس میں محنت اجرتی مزدوروں کی ہوتی ہے۔
Division of Labour: کاموں کاتخصص جس کے ذریعے مختلف پیشے ایک پیداوار ی نظام میں یکجا کردیئے جاتے ہیں۔ تمام سماجوں میں تقسیم کاری کی کوئی نہ کوئی بنیادی شکل پائی جاتی ہے بالخصوص عورتوں اور مزدوروں کے وضع کیے گئے کاموں کے درمیان ۔ صنعتی ترقی کے ساتھ تقسیمِ کار پہلے کے کسی قسم کے پیداواری نظام سے زیادہ پیچیدہ ہوگیا ۔ جدید دنیا میں تقسیم کا دائرۂ کار بین الاقوامی ہوگیا ہے ۔
Dominant Ideology: مشترکہ خیالات یا اعتقادات جو حاوی وغالب گروپوں کے مفادات کو جائز قرار دینے کا کام کرتے ہیں۔ایسے نظریات ہر ایسے سماج میں پائے جاتے ہیں جہاں گروپو ں کے مابین منظم اور پیوستہ نابرابری پائی جاتی ہے۔ نظریاتی تصور اقتدار کے تصور سے بہت میل کھاتاہے کیونکہ نظریاتی نظام گروپوں کے اقتدار کو جائز ٹھہرانے کا کام کرتے ہیں ۔
Individualism: عقائد یا طریقہ ٔہائے فکر جن کی پوری توجہ خود مختار فرد پر مرکوز ہوتی ہے نہ کہ گروپ پر ۔
Laissez-faire Liberalism: ایک سیاسی اور معاشی نقطۂ نظر جو معیشت میں حکومت کی عدم مداخلت اور بازار کی نیز مالکانِ جائداد کی آزادی پر مبنی ہے ۔
Mechanical Solidarity: ڈرکھیم کے مطابق ایسے روایتی کلچر یا ثقافتیں جن میں تقسیم کار کم ہوتی ہے ان میں میکانکی اتحاد نمایاں طور پرپایا جاتا ہے ۔چوں کہ سماج کے زیادہ تر لوگ ایک ہی طرح کے پیشوںمیں لگے ہوتے ہیں ، اس لیے وہ مشترک تجربہ اور مشترکہ اعتقادات کی بنا پر آپس میں جڑے ہوتے ہیں ۔
Modernity: سماجی عمل کا امتیاز ، پیچیدگیاں اور محرّکات جو اٹھارویں اور انیسویں صدی میںکھل کر سامنے آئے اور جن کی وجہ سے زندگی کے روایتی طریقوں سے ایک واضح فرق سامنے آیا۔ یہ اصطلاح ان سب کو یکجا کرنے کے لیے وضع کی گئی ۔
Organic solidarity: ڈرکھیم کے مطابق ایسے معاشرے جن کا خاصہ جسمانی اتحاد اور یگا نگت ہوتا ہے، یہ لوگوں کے معاشی انحصار باہمی پر مبنی ہوتی ہے۔ لوگ دوسروں کی حصہ داری کو تسلیم کرتے ہیں اور اس کی اہمیت کو سمجھتے ہیں۔ جوں جوں تقسیم کار زیادہ پیچیدہ ہوتا جاتا ہے ، لوگوں کا اک دوسرے پر انحصار بڑھتا جاتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ ہر شخص کو ایسے سامان اور خدمات درکار ہوتی ہیں جو دوسرے پیشوں کے لوگ فراہم کرتے ہیں۔ معاشی لین دین کے رشتے اور باہمی انحصار سماجی اتفاقِ رائے تیار کرنے میں مشترکہ اعتقادات کی جگہ لے لیتے ہیں ۔
Social Constraint:اس اصطلاح سے مراد وہ حقیقت ہے کہ ایسے گروپ اور معاشرے جن کاہم ایک حصہ ہیں ،ہمارے کردار پراس طرح اثر انداز ہوتے ہیں کہ ہم انہی کی طرح بن جاتے ہیں ۔ سماجی دباؤ کے بارے میں درخائم کا خیال انہی سماجی حقائق کے امتیازی اوصاف میںسے ایک ہے ۔
Structures: عام طور پر اس کا مطلب ہوتا ہے تنظیم کے تیار کردہ خاکے اور شکل وصورت جو کسی نہ کسی طریقے سے انسانی کردار کی رہنمائی کرتے ہیں یا رکاوٹیں پیدا کرتے ہیں۔
مشقیں
.1 ایسے مختلف زراعتی اور صنعتی کاموں پر گفتگو کیجیے جن میں باہمی اشتراک وتعاون کی ضرورت ہوتی ہے ۔
.2 کیا اشتراک باہمی ہمیشہ رضا کارانہ ہو تا ہے یا زبر دستی تھوپا جاتا ہے؟ اگر زبر دستی کر ایا جاتا ہے تو کیا اس کی وجہ قانونی پابندیاںہیں یا سماجی اقدار کی قوت ؟ مثالوں کے ساتھ بحث کیجیے ۔
.3 کیا آپ ہندوستانی سماج سے لی گئی ٹکراؤ یا تصادم کی مثالیں معلوم کر سکتے ہیں ؟ ہر مثال میں ٹکراو کے اسباب پر گفتگو کیجیے ۔
.4 ایک مضمون لکھئے جو ٹکراؤ اور تنازعات کے حل کی مثالوں پر مبنی ہو ۔
.5 ایک ایسے سماج کا تصور کیجیے جہاں مقابلہ موجود نہیں ہے ۔ کیا ایسا ممکن ہے ؟ اگر نہیں تو کیوں ؟
.6 اپنے والدین اور بڑوں ، دادا ، دادی یا ان کے ہی زمانے کے دوسرے لوگوں سے بات کیجیے کہ کیا جدید معاشرہ میںپہلے کی بہ نسبت زیادہ مقابلہ آرائی یا ٹکرائوہے ۔ اگر آپ سمجھتے ہیںکہ واقعی ایسا ہی ہے تو آپ اس کی سماجیاتی توضیح وتشریح کس طرح کریںگے ؟