Skip to content
Mutala-e-maashira

باب  2

دیہی اور شہری سماج میں سماجی تبدیلی اور سماجی نظام


(SOCIAL CHANGE AND SOCIAL ORDER IN RURAL AND URBAN SOCIETY)

  اکثر کہاجاتا ہے کہ صرف تبدیلی ہی سماج کا نہ بد لنے والا پہلو ہے۔ جدید معاشرے میں رہنے والے کسی شخص کو بھی یہ یاد دلانے کی ضرورت نہیں ہے کہ لگا تار تبدیلی ہمارے سماج کی سب سے زیادہ مستقل خصوصیات میں سے ایک ہے۔ درحقیقت خود سماجیات کا مضمون مغربی یوروپ میں سترہویںاور انیسویں صدی کے درمیان سماج جن تیز رفتار تبدیلیوں سے گزرا ان کوسمجھنے کی ایک کوشش کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ۔  

اگرچہ سماجی تبدیلی جدید زندگی کی ایک عام اور ظاہر حقیقت ہے۔ پھر بھی یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ مقابلتاً ایک بہت ہی نئی اور حال کی حقیقت ہے۔ ایک تخمینہ کے مطابق کرۂ ارض پر انسان 5لاکھ سال سے رہ رہے ہیں لیکن ان کا مہذب وجود محض تقریباً 6 ہزار سال سے ہے ۔ تہذیب کے ان سالوں میں سے صرف گزشتہ 400برس ایسے ہیں جن میں متواتر اور تیز رفتار تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔ تبدیلی میں بھی رفتار گزشتہ 100برسوں میں بڑھی ہے۔ چونکہ تبدیلی کی رفتار میں لگا تار اضافہ ہو رہا ہے۔ لہٰذا! یہ کہنا غالباً صحیح ہو گا کہ ان سو برسوں کے دوسرے 50 سالوں میں پہلے کے پچاس سالوں کے مقابلے بتدیلی کی رفتار تیزتر رہی ہے ۔ گزشتہ پچاس برسوںمیں شاید دنیا شروع کے تیس برسوں کے مقابلے آخری بیس سالوںمیں زیادہ بدلی ہے ۔  


انسانی تاریخ کی گھڑی  

انسان زمین پر گزشتہ نصف میلین برسوں سے موجود ہیں۔ زراعت جو ایک جگہ جمی ہوئی آبادیوں کے لیے ضروری بنیاد ہے ، محض 12ہزار سال پرانی ہے۔ تہذیبیں چھ ہزار سال سے زیادہ پرانی نہیں ہیں ۔ اگر اب تک ہم انسان کے وجود کے پورے عرصہ کو ایک روز مان لیں (آدھی رات سے آدھی رات تک )تو زراعت 11:56بجے وجود میں آئی اور تہذیب 11: 57پر۔جدید معاشروںکی ابتداء 11:59بج کر30سکنڈ میں وجود میںآئی۔ غالباً اتنی ہی تبدیلی اس انسانی روز میں پچھلے 30سیکنڈ میں ہوئی ہے جتنی پورے وقت میں ۔  

ماخذ : اینتھونی گڈنز 2004سماجیات (چوتھا ایڈیشن )صفحہ 40


عملی کا م 1

اپنے بڑوں اور بزرگوں سے بات کیجیے اور اپنی زندگی کی ان چیزوں کی فہرست تیار کیجیے (a) جب آپ کے والدین آپ کی عمر کے تھے تو ان چیزوں کا وجود ہی نہ تھا (b)جب آپ کے داد ا، دادی آپ کی عمر کے تھے تو ان کا وجود نہ تھا ۔  

مثلاً کا لا وسفید اور رنگین ٹی ۔ وی؛ پلاسٹک کی تھیلیوں میں دودھ ؛ کپڑوں میں لگی زپ ، پلاسٹک کی بالٹیاں وغیرہ ۔ کیا یہ سب چیزیں آپ کے والدین کے بچپن میں موجود تھیں ؟ یا آپ کے داداپر،دادا کے زمانے میں تھیں؟ کیا آپ ایسی چیزوںکی فہرست تیار کر سکتے ہیں جو آپ کے والدین یا دا دا دادی کے زمانے میں تھیں لیکن آپ کے زمانے میں نظر نہیں آتیں ؟

سماجی تبدیلی   (SOCIAL CHANGE)

’سماجی تبدیلی‘ اتنی عام اصطلاح ہے کہ اسے کسی بھی قسم کی تبدیلی کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے اور اکثر کیا بھی گیاہے۔ اس وسیع مفہوم کو محدود کرنے کے لیے ماہرینِ سماجیات کو کافی محنت کرنا پڑی تھی تاکہ اس اصطلاح کو زیادہ واضح اور مخصوص بنا یا جا سکے کہ یہ اس طرح سماجی تھیوری کے لیے مفید بن سکے ۔ سب سے بنیاد ی سطح پر سماجی تبدیلی سے مراد ان تبدیلیوں سے ہے جو اہم ہیں۔ یعنی وہ تبدیلیاں جو کسی شے یا صورت حال کی بنیاد کو ایک مدّت کے دوران بدل ڈا لیں (گِڈّنز 42: 2005)گویا سماجی تبدیلی میں کوئی یا تمام تبدیلیاں شامل نہیں ہیں بلکہ صرف بڑی بڑی تبدیلیاں اس کے تحت آتی ہیں۔ ایسی تبدیلیاں جو چیزوں کی بنیادی ہیئت ہی بدل ڈالیں۔ تبدیلی کے بڑے ہونے کو صرف ایسے پیمانے سے نہیں ناپا جاسکتا کہ کتنی تبدیلی واقع ہوئی ہے بلکہ اس کا پیمانہ کتنا وسیع ہے۔ یعنی یہ کہ وہ سماج کے کتنے بڑے حصے پر اثر انداز ہوتی ہے۔دوسرے الفاظ میں، تبدیلیاں زور دار مگر محدود بھی ہونی چاہئیں اور وسیع بھی ۔ ان کی کچھ چھاپ اور اثر سماج کے بڑے شعبے یا حصہ پر ہونا چاہیے ، تبھی انہیں سماجی تبدیلیاں کہا جاسکتا ہے ۔  

اس مخصوص تعریف کے بعد بھی سماجی تبدیلی ایک بہت وسیع اصطلاح رہے گی ۔ اس کی مزید تعریف کی کوششوں سے اس کو ذرائع یا اسباب ، اس کی ہئیت یا یہ سماج پر جس قسم کا اثرڈالتی ہے اور اس کی رفتار کی بنیادوں پر اس کی درجہ بندی کی جاتی ہے ۔  

مثال کے طور پر ایسی تبدیلی کو ارتقاء کا نام دیا گیا ہے جو ایک عرصہ کے دوران آہستہ آہستہ واقع ہوتی ہے ۔ اس اصطلاح کو قدرتی سائنس داں چار لس ڈارون نے مشہور کیا تھا جس نے یہ نظریہ پیش کیا کہ جاندار کس طرح نشو ونما پاتے یا ارتقاء پذیر ہوتے ہیں۔یعنی وہ صدیوں یا ہزاروں لاکھوں برسوں میں خود کو قدرتی حالات کے مطابق ڈھال کر کس طرح تغیرّ پذیر ہوتے ہیں ۔ ڈارون کے نظریئے کا زور ’’نقائے اَصلح‘‘   (The survival of the fittest) پرتھا۔ یعنی صرف وہی زندہ چیزیں باقی رہتی ہیں جو اپنے ماحول کے ساتھ خود بہترین طور پر ڈھال سکیں۔ جو ماحول کے مطابق خود کو نہیں ڈھال سکتیں یا اس عمل میں سُست رفتاری کا مظاہرہ کرتی ہیں، بالآخر فنا ہو جاتی ہیں۔ ڈارون کا خیال تھا کہ انسان سمندر میں پانے والی اقسام زندگی سے یعنی مچھلیوں کی انواع واقسام سے نکلا اور نَشو ونما پائی۔ پھر ارتقاپذیر ہوتے ہوئے انہوں نے زمین پر موجود دودھ پلانے والے جانوروں کی صورت اختیار کی اور مختلف مرحلوں سے گزر تے ہوئے بندروں اور چمپانزیوں کی شکل میں نشو ونما پائی۔ حتیٰ کہ آخر میں انسانی شکل کا ارتقاء ہوا ۔ حالاں کہ ڈارون کے نظریئے میں فطری عمل کا ذکر تھا۔ لیکن جلد اس کی صورت سماجی دنیا میں تبدیل ہوگئی اور اس کے لیے ’’سماجی ڈارونیت ‘‘کی اِصطِلاح سامنے آئی۔ یہ وہ نظریہ تھا جس میں مطابقتی تبدیلی کی اہمیت پر زور دیا گیا تھا ۔ ارتقائی تبدیلی کے برعکس ، وہ تبدیلی جو نسبتاً تیزی کے ساتھ واقع ہوتی ہے۔ کبھی کبھی تو اچانک بھی ہو سکتی ہے۔ بعض اوقات انقلابی تبدیلی کہلاتی ہے ۔ اس کا استعمال سیاسی سیاق وسباق یعنی سیاسی سلسلے میں کیا جاتا ہے تب سماج کا اقتدار ی ڈھانچہ بہت تیزی سے تبدیل ہو جاتا ہے۔ جب سابق حکمرانوں کی حکومت کا تختہ مخالف لوگ پلٹ دیں ۔ ایسی مثالیں انقلاب فرانس (1789تا 1793) اور 1917کا سویت یا انقلابِ روس ہیں۔ لیکن اس اصطلاح کا استعمال زیادہ تر دوسری طرح تیز ، اچانک اور مکمل انقلابی تبدیلیوں کے لیے بھی کیا گیا ہے۔ جیسے کہ صنعتی انقلاب اور مواصلاتی انقلاب وغیرہ ۔  

عملی کام 2

انقلابِ فرانس اور صنعتی انقلاب کے حوالے سے پچھلی درسی کتابوں میں جوگفتگو کی گئی ہے ، اس پر نظر ڈالیئے ۔ وہ کون سی بڑی قسم کی تبدیلیاں تھیں جو ان میں سے ہر ایک انقلاب اپنے ساتھ لایا ؟ کیا ان تبدیلیوں کو ’’سماجی تبدیلی ‘‘کہا جا سکتا ہے ؟ کیا یہ تبدیلیاں اتنی دوررس اور اتنی تیز رفتار تھیںکہ انہیں انقلابی تبدیلی کہنا درست ہوگا ؟ اپنی کتابوں میں آپ کی نظر سے دیگر قسم کی کون سی سماجی تبدیلی ہور ہی، جسے انقلابی تبدیلی کا نام نہیں دیا جا سکتا ؟ کن اسباب سے وہ انقلابی تبدیلیاں نہیں کہی جاسکتیں ؟  

تبدیلی کی وہ قسمیں جو اپنی طبیعت اور فطرت یا ان سے پڑنے والی چھاپ اور اثر سے پہچانی جا سکتی ہیں ان میں ڈھانچہ کی تبدیلی اور خیالات ، اقدار ، اور اعتقادات کی تبدیلیاں شامل ہیں۔ ڈھانچہ کی تبدیلی سے مراد سماج کی بناوٹ میں مکمل تبدیلیاں اس کے دستور ورواج یا ان اصولوں میں تغیرّاور تبدیلی جن کی بنیاد پر یہ چلتے ہیں اور قائم ہیں ۔ (پچھلے باب میں ’’سماجی بناوٹ‘‘ پر گفتگو کو یاد کیجیے )مثال کے طورپر سکہ یا کرنسی کے طور پر کاغذی روپے کے ظہورنے مالیاتی بازاروں اور لین دین میں ایک بڑی تبدیلی کا آغاز کیا ۔ اس تبدیلی کے آنے کے وقت تک سکّے یا کرنسی زیادہ تر قیمتی دھاتوں جیسے سونے اور چاندی کی ہوتی تھیں۔ سکیّ کی قیمت براہ راست اتنے سونے اور چاندی کی قیمت کے برابر ہوا کرتی جتنی اس میں لگی ہوتی تھی ۔اس کے برعکس کاغذی کرنسی کااس پر چھپے ہوئی قیمت یا طباعت کی لاگت سے اس کاکوئی واسطہ نہیں ہوگا۔ کاغذی روپے کے پس پشت یہ خیال کار فرماتھا کہ خدمات اور اشیاء کی ادلا بد لی کو آسان بنانے کا ایک ذریعہ ہو گا نہ کہ خود میں کوئی بیش قیمت چیز ہوگا ۔ جب تک یہ اپنی قیمت قابلِ یقینی طورپر دکھاتا رہتا ہے ،یعنی جب تک قابلِ اعتماد رہتا ہے ، تقریباً ہر چیز روپے کے بطور کام کر سکتی ہے ۔ اس کے پیچھے خیال تھا ادھار بازار کی بنیاد ڈالنا اور بینک کاری ومالیات کے ڈھانچہ کو بدلنے میں مدد دینا تھا۔ ان تبدیلیوںنے معاشی زندگی کی تنظیم میں مزید تبدیلیاں پیدا کیں ۔  

اقدار اور اعتقادات کی تبدیلیاں سماجی تبدیلی بھی لا سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر بچوں اور بچپن کے بارے میں خیالات اور اعتقادات میں تبدیلیوں کی وجہ سے بہت اہم قسم کی سماجی تبدیلیاں واقع ہوئی ہیں۔ ایک وقت تھا کہ بچوں کو محض نَوخیز بالغ مانا جاتا تھا بذات خود بچپن کا کوئی خاص تصور موجود نہیں تھا اور اس سے وابستہ دوسرے خیالات موجود تھے ۔ جیسے کہ بچہ کو کیا کرنا چاہیے اور کیا نہ کرنا چاہیئے۔ مثال کے طور پر انیسویں صدی تک یہ بات صحیح اور مناسب مانی جاتی تھی کہ جوں ہی بچے اس قابل ہوں کہ کام شروع کر سکیں، انہیں کام شروع کردینا چاہیے ۔ بچے اکثر پانچ چھ برس کی عمر سے ہی

2nd

اپنے خاندان کے لوگوں کے کام میں مدد کرنا شروع کردیتے تھے ۔ کارخانوں کا ابتدائی نظام بچہ مزدوروں پر ہی منحصر تھا ۔ انیسویں صدی اور بیسویں صدی کے دوران بچپن کے زندگی کے ایک خاص مرحلے کے بارے میں خیالات کا اثر بڑھنا شروع ہوا ۔ اس کے بعد یہ بات سوچی بھی نہ جا سکتی تھی کہ چھوٹے بچے کام پر لگا ئے جائیں۔ بہت سے ملکوں نے قوانین بنا کر بچہ مزدوری کو ممنوع قرار دیا ۔ اسی وقت لازمی تعلیم کے خیالات بھی سامنے آئے اور یہ مانا جانے لگا کہ بچوں کو کام کرنے کی بجائے درس گاہوں میںہونا چاہیے۔ اس سلسلے میں بھی بہت سے قوانین پاس کئے گئے۔ حالاں کہ ہمارے ملک میں اب بھی کچھ صنعتیں ایسی ہیں جو کم از کم جزوی طو پر تو بچہ مزدور وں پر منحصر ہیں (جیسے قالین سازی ، چھوٹی چھوٹی چائے کی دکانیں اور دیگر دکانیں ، ماچس کی تیلیاں تیار کرنا وغیرہ )۔پھر بھی بچہ مزدوری غیر قانونی ہے اور بچہ کو ملازم رکھنے والے مجرموں کی طرح سزا پاسکتے ہیں ۔  

لیکن سماجی تبدیلی کو درجہ بند کرنے کا سب سے عام او ر سہل طریقہ اس کے اسباب اور ذرائع کے مطابق درجہ بندی ہے ۔کبھی کبھی اسباب کو پہلے سے داخلی اور خارجی بنیاد پر زمرہ بندکیا جاتا ہے ۔ سماجی تبدیلی کے اسباب اور ذرائع کی پانچ موٹی قسمیں ہیں: ماحولیاتی ، تکنیکی یاحرفیاتی ، معاشی ، سیاسی اور ثقافتی ۔  

3rd

ماحول   (ENVIRONMENT)

قدرت، ماحولیاتی اور طبعی ماحول کا سماج کی ساخت اور شکل وصورت پر ہمیشہ سے اہم اثر رہا ہے ۔ یہ بات دور ماضی میں خاص طور پر صحیح تھی جب انسان قدرتی اثرات کو قابو میں کرنے کے قابل نہیں تھا مثال کے طور پر ریگستانی علاقوں میں رہنے والے لوگ میدانی علاقوں میں رہنے والے اور دریاؤں کے نزدیک بسے لوگوں کی طرح ایک جگہ جم کر کھیتی باڑی نہیں کر سکتے تھے ۔ لہٰذا جس قسم کا کھاناوہ کھاتے تھے یا جس طرح کے کپڑے پہنتے تھے ، جس طرح وہ اپنی روزی کماتے تھے اور سماجی میل جول کا ان کا انداز یہ سب چیزیں بڑی حد تک ان کے ماحول کے طبعی اور آب وہوا ئی حالات سے متعین ہوتی تھیں ۔ یہی بات ان لوگوں کے بارے میں بھی سچ تھی جو بہت زیادہ سر د آب وہوا میں رہتے تھے یا بندرگاہوں کے شہروں میں مقیم تھے ؛ یا اہم تجارتی راستوں یا پہاڑی دروں کے نزدیک یا زرخیز دریائی وادیوں میں آباد تھے ۔ لیکن وقت کے ساتھ ٹیکنا لوجی وسائل میں اضافے کے ساتھ سماج پر پڑنے والے ماحولی اثرات کم ہوتے جارہے ہیں ۔ ٹکنا لوجی قدرت کی طرف سے پیدا شدہ مسائل پر حاوی آنے یا ان کے مطابق خود کو ڈھالنے میں ہماری مدد کرتی ہے اور اس طرح مختلف قسم کے ماحولوں میں رہنے والے معاشروں کے درمیان فرق کم ہوتے جار ہے ہیں ۔ دوسری جانب ٹیکنا لوجی نئے طریقوں سے قدرت کو اور اس کے ساتھ ہمارے رشتے کو بھی بدلتی ہے (اس کتاب میں ماحول پر باب کو دیکھئے )لہٰذا یہ کہنا غالباً زیادہ صحیح ہو گا سماج پر قدرت کا اثر تبدیل ہو رہا ہے نہ کہ کم ہو رہا ہے ۔  

4th

لیکن آپ یہ پوچھ سکتے ہیں کہ اس سے سماجی تبدیلی کس طرح متأثر ہو سکتی ہے ؟ ہو سکتا ہے ماحول نے سماج کو بنایا سنوارا ہو لیکن سماجی تبدیلی کے معاملے اس نے کیا اور کس طرح کاکردار ادا کیا ؟ اس سوال کا سب سے آسان اور مضبوط ترین جواب قدرتی تباہ کاریوں میں تلاش کیا جا سکتا ہے ۔ اچانک اور تباہ کن واقعات جیسے زلزلے ، آتش فشاں پہاڑ وں کا پھٹنا ، سیلاب یا اونچی سمندری لہریں (جیسے سنامی جس نے دسمبر 2004میں انڈو نیشیا ، سری لنکا ، جزائر انڈمان اور تامل ناڈو کے کچھ حصوں میں تباہی مچائی )معاشروں کو شدید طور پر تبدیل کر سکتے ہیں تاریخ میں قدرتی آفات کی ایسی متعدد مثالیں ہیں جنہوں نے سماج کو پوری طرح بدل ڈالا یا پوری طرح تباہ وبرباد کردیا تبدیلی لانے کے لیے ضروری نہیں کہ ماحولی (گردو پیش کے )یا ماحولیاتی عوامل وعناصر صرف تباہ کن ہی ہوں، یہ تعمیری بھی ہو سکتے ہیں اس کی ایک اچھی مثال   (جسے مشرق وسطیٰ بھی کہا جا تا ہے )مغربی ایشیا کیصحرائی علاقوں میں تیل کی دریافت ہے ۔ انیسویں صد ی میں کیلی فورنیا سونے کی دریافت کی طرح ، مشرق وسطیٰ میں تیل کے ذخائر نے ان معاشروں کا نقشہ پوری طرح بدل دیا ہے جہاں وہ پائے گئے ہیں ۔ سعودی عرب ، کویت یا متحدہ عرب امارات کے پاس اگر تیل کی یہ دولت نہ ہو تو ان کی صورت کچھ اور ہی ہوگی ۔  

ٹکنا لوجی اور معیشت   (TECHNOLOGY AND ECONOMY)

تکنیکی اور معاشی تبدیلی کا امتزاج زبر دست سماجی تبدیلیوں کا ذمہ دار رہا ہے بالخصوص دور جدید میں ۔ ٹیکنالوجی معاشرہ پر بہت اچھی طرح اثر انداز ہوتی ہے ۔ جیسا آپ نے او پر دیکھا یہ مدافعت اور مقابلہ کرنے ، قابو میں لانے ، اور قدرت سے کام لینے اور ہمیں اس کے مطابق ڈھالنے میں مختلف طریقوں سے ہماری مدد کرسکتی ہے ۔ بازار جیسے طاقتور ادارہ کے ساتھ مل کر ٹنکنالوجی کی تبدیلی سماج پر اتنی اثر انداز ہو سکتی ہے جتنے کہ قدرتی عوامل جیسے سنامی یا تیل کی دریافت ۔ بہت بڑی اور وسیع اور فوری طور پر نظر آنے والی سماجی تبدیلی جو ٹیکنا لوجی میں تبدیلی کی وجہ سے آئی خود صنعتی انقلاب ہے ، جس کے بارے میں آپ پڑھ چکے ہیں ۔  

آپ نے یقینا اس زبر دست سماجی ہل چل کے بارے میں پڑھا ہو گا جو بھاپ کے انجن کی بناء پیدا ہوئی بھاپ سے پیدا ہونے والی قوت کی دریافت سے بڑے پیمانے کی صنعتوں کی ابھرتی قسموں کو توانائی کا ایک ایسا ذریعہ ملا جو نہ صرف جانوروں اور انسانوں سے کہیں زیادہ طاقتور تھا بلکہ اس میں یہ صلاحیت بھی تھی وہ بغیر آرام کئے لگا تار چلتا ہی رہتا تھا ۔ جب بھاپ کو نقل وحمل کے ذرائع جیسے سمندری جہاز اور ریلوے کو چلانے کے کام میں استعمال کیا گیا تو اس نے دنیائی معیشت اور سماجی جغرافیہ کی کایا ہی پلٹ ڈالی ۔ ریل کے راستوں نے صنعت اور تجارت کو براعظم امریکہ اور ایشیا میں مغرب کی جانب توسیع کے قابل بنا یا ۔ ہندوستان میں بھی ریلوے نے معیشت کی تشکیل میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے ، بالخصوص 1853میں معرض وجود میں آنے کے بعد کے سو100 بر سوں کے دوران بھاپ سے چلنے والے سمندری جہاز وں نے بحری سفر کو بہت تیز رفتار اور قابل اعتماد بنا دیا ، اور اس طرح بین الاقوامی تجارت اور ترک وطن کی رفتار ہی بدل ڈالی۔ ان دونئی باتوں کی وجہ سے تبدیلی کی زبر دست لہریں پیدا ہوئیں جنہوں نے نہ صرف معیشت بلکہ عالمی معاشرہ کی سماجی ، ثقافتی اور آباد یاتی حد ود کو ہی بدل کر رکھ دیا ۔  

بھاپ کی قوت او راثر نسبتاً جلد ہی نظر آگئے، تاہم بعض اوقات ٹکنا لوجی کی تبدیلیوں کا سماج پر اثر بعد ہی میں نظر آتا ہے ہوسکتا ہے ایک ٹکنا لوجیاتی ایجاد یا دریافت کا فوری اثر محدود ہو، گویا وہ بے حس حرکت رہی ہو معاشی تناظر میں بعد کی کوئی تبدیلی اسی ایجاد کی سماجی اہمیت کو اچانک بدل سکتی ہے اور اسے ایک تاریخی واقعہ کے طور پر تسلیم کر اسکتی ہے ۔ اس کی کچھ مثالیں بارود اورچین میں لکھنے کے کاغذ کی دریافت ہیں ۔ جن کا صدیوں تک محدود اثر رہا جب تک انہیں مغربی یوروپ کی جدید کاری کے تناظر میں شمار نہیں کر لیا گیا اس اہم مقام سے ، جہاں ان دودریافتوں کو موافق حالات سے مدد ملی۔ بارود نے جنگ کی ٹکنالوجی کو پوری طرح بدلنے میںمدد کی اور کاغذ پر چھپائی کے انقلاب نے سماج کو ہمیشہ کے لیے بدل کر رکھ دیا ۔ گھر کے قریب کی ایک اور مثال برطانیہ میں کپڑے کی صنعت کے معاملے میں ٹکنالوجی کی اختراعات ہیں ، بازار کی قوتوں اور شاہی حکومت کے امتزاج کے ساتھ دھاگہ بنانے اور بنائی کی نئی مشینوں نے بر اعظم ہند میں ہتھ کر گھے کی صنعت کو تباہ کردیا جو اس وقت تک دنیا کی سب سے بڑی اور سب سے ترقی یافتہ صنعت تھی ۔  

عملی کا م 3

کیا آپ نے اپنی خود کی زندگی میں ایسی ٹیکنالوجیاتی تبدیلیوں کی طرف توجہ کی ہے جن کے سماجی نتائج مرتب ہوئے ہیں ۔ فوٹو کاپی کی مشین اور اس سے پڑنے والے اثر کے بارے میں سوچئے ۔ کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ فوٹو کاپی کی مشین کے اتنے زیادہ سستا اور آسانی سے دستیاب ہونے سے پہلے کی کیا حالت تھی ؟ دوسری مثال ایس ۔ ٹی ۔ ڈی اسٹیشنوں کی ہو سکتی ہے ۔ یہ معلوم کرنے کی کوشش کیجیے کہ ان کے آنے سے پہلے لوگ کس طرح رابطہ کرتے تھے جب کہ بہت تھوڑے سے گھروں میں ٹیلی فون تھے ۔ ایسی ہی کچھ دوسری مثالوں کی فہرست تیار کیجیے ۔  

بعض اوقات ایسی معاشی تنظیموں میں آنے والی تبدیلیاں ، جن کا ٹکنا لوجی سے براہ راست تعلق نہیں ہوتا ، بھی سماج کو بدل سکتی ہیں۔ ایک بہت معروف تاریخی مثال باغات کی زراعت (Plantation Agriculture)جس کے لیے مزدوروں کی بھاری ضرورت پیدا ہوئی ۔ اس مانگ یا ضرورت نے غلامی کے چلن کو قائم کرنے میں مدد کی او ر سترھویں صدی سے انیسویں صدی تک افریقہ یوروپ او ر شمالی جنوبی امریکہ میں غلاموں کی تجارت ہوتی رہی۔ ہندوستان میں بھی آسام کے چائے کے باغات کے لیے مشرقی ہندوستان (بالخصوص جھاڑ کھنڈ اور چھتیس گڑھ کے قبائلی علاقوں )سے مزدور جبراً ترک وطن کر کے گئے ۔ آج دنیا کے بہت سے حصوں میں بین الاقوامی معاہدوں او ربین الاقوامی تجارتی تنظیم (ڈبلیو ٹی او )جیسے اداروں کی جانب کے تحت کسٹم ڈیوٹی اور دیگر محصولات میں کی جانے والی تبدیلیوںکی بنا پر یہ ممکن ہے کہ پوری کی پوری صنعتیں او رپیشے ناپید ہو جائیں یا (کبھی کبھی)کچھ صنعتیں یا پیشے یکایک تجارتی اچھال اور گرم بازاری یا خوشحالی کے دورسے گزریں ۔  

سیاست   (POLITICS)

تاریخ کو لکھنے اور بیان کرنے کے پرانے طریقوں میں بادشاہوں اور انکی بیگمات کی کارگزاریوں کو سماجی تبدیلی کی سب سے اہم قوتیں مانا جاتا تھا ۔ لیکن جیسا کہ ہمیں اب معلوم ہے کہ بادشاہ اور ملکہ وسیع تر سیاسی ، سماجی اور معاشی میلانات کی نمائندگی کرتے تھے ۔ افراد کا کردار یقینا تھا لیکن وہ ایک بڑے تناظر اور پس منظر کا حصہ تھے ۔ ان معنوں میں سیاسی قوتیں بلا شبہ سماجی تبدیلی کے اہم ترین اسباب میں سے ایک سبب رہی ہیں ۔ اس کی سب سے واضح مثالیں جنگوں کی تاریخ میں ملتی ہیں ۔ جب کسی معاشرے نے دوسرے کے خلاف جنگ چھیڑی او روہ فاتح بن گیا یا مفتوح ہو گیا ، سماجی تبدیلی عام طور سے اس کا فوری نتیجہ رہا ۔ کبھی کبھی فاتح اپنے ساتھ تبدیلی کے بیج لے کر آئے اور جہاں جہاں گئے ۔ وہ بیج بوتے گئے ۔ بعض اوقات ایسا بھی ہوا کہ مفتوح فاتحوں کے درمیان تبدیلی کے بیج بونے میں کامیاب ہو گئے اور ان کے معاشروں کو سرے ہی سے بدل ڈالا ، حالانکہ تاریخ میں ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں، حالیہ جدید مثال پر غور کرنا باعث دلچسپی ہوگا ۔ یہ مثالیں امریکہ اور جاپان کی ہیں۔  

امریکہ نے دوسری عالمی جنگ میں جاپان پر مشہور زمانہ فتح حاصل کی اور یہ فتح اس نے عام تباہی کے ایسے ہتھیار روں کے استعمال سے کی جو انسانی تاریخ میں کبھی نہ دیکھے گئے تھے ، یعنی ایٹم بم ۔ جاپان کے ہتھیار ڈالنے کے بعد امریکہ نے کئی برس تک جاپان پر اپنا قبضۃ رکھا اور وہاں حکومت کی جس کے دوران بہت سی تبدیلیاں آئیں جن میں جاپان کے اندر زمینی اصلاحات بھی شامل تھیں ۔ اس وقت جاپانی صنعت امریکا صنعت کی نقل کرنے اور اس سے سیکھنے کی بہت کو شش کر رہاتھا 1970کے عشرہ آتے آتے جاپان کی صنعتی تکینک ، خاص طور پر موٹر کا ریں بنا نے کے میدان میں ، امریکہ سے بہت آگے نکل چکی تھی 1970اور 1990کے عشروں کے درمیان جاپانی صنعت دنیا پر چھاچکی تھی۔ اور یوروپ اور خاص طور پر امریکہ کی صنعتی تنظیم کو تبدیلیاں لانے پر مجبو رکردیا تھا ۔ خاص طور پر امریکہ کا صنعتی منظر نامہ جاپان کی صنعتی ٹکنا لوجی اور پیداواری تنظیم کے اثر سے یقینی طور پر تبدیل ہوگیا تھا۔ روایتی طور پر غالب بڑی بڑی صنعتیں جیسے فولاد ، موٹرکاروں اور بھاری انجیری کی صنعتوں کو زبردست دھکا لگا اور انہیں جاپانی ٹکنا لوجی اور انتظامی اصولوں کے مطابق اپنی از سر نو ساخت کرنی پڑی ۔ ابھر تی صنعتیں ، جیسے الیکٹرونک کا میدان ، بھی جاپانیوں کی ہی اُپج تھی اور وہی ان کے پیش روبنے ۔ مختصر یہ کہ چالیس بر س کے عرصے کے اندر جاپان نے امریکہ کو مات دے ڈالی۔ لیکن جنگ کے ذریعے نہیں بلکہ معاشی اور ٹکنا لوجی کے ذریعے سے ۔  

ضروری نہیں کہ سیاسی تبدیلیاں محض بین الاقوامی ہی ہوں ۔ ملک کے اندر بھی ان کا زبر دست سماجی اثر پڑ سکتا ہے ۔ ہو سکتا ہے آپ نے اس بارے میں اس انداز سے نہ سوچا ہو لیکن ہندوستان کی تحریک آزادی نہ صرف برطانوی حکومت کے خاتمے کی شکل میں سیاسی تبدیلی لائی بلکہ ہندوستانی سماج کی کایا پلٹ کر کے بھی رکھ دی ایک ابھی ماضی قریب کی مثال نیپال کے لوگوں کی طرف سے 2006میں بادشاہت کو نامنظور کرنے کی ہے ۔ زیادہ تر عام طور سے سیاسی تبدیلیاں اقتدار کی مختلف سماجی گروپوں کے درمیان از سر نو تقسیم کے ذریعے سماجی تبدیلیاں لاتی ہیں ۔  

اس نقطۂ نظر سے سوچا جائے تو عام حق رائے دہی یا ایک شخص ایک ووٹ ، کا اصول غالباً تاریخ میں سب سے بڑی سیاسی تبدیلی ہے ۔ جب تک جدید جمہوریتوں نے باقاعدہ طور پر لوگوں کو ووٹ کی طاقت نہیں دی اورجب تک حقیقی اقتدار کے استعمال کے لیے انتخابات لازمی نہیں بنائے گیے ، سماج کی بناوٹ بالکل مختلف تھی ۔ بادشاہ اور بیگمات دعویٰ کرتے تھے کہ انہیں حکومت کرنے کا الٰہی حق حاصل ہے اور وہ لوگوں کے سامنے جواب دہ نہیں تھے ۔ جب پہلی بار ووٹ دینے کے جمہوری اصول متعارف کئے گئے تو ان میں پوری آبادی کو شامل تک نہیں کیا گیا تھا ۔ درحقیقت ایک چھوٹی سی اقلیت کو ہی ووٹ کا حق تھایا ان لوگوں تک ہی محدود تھا جو اعلیٰ حیثیت کے سماجی گروپ یا کسی خاص نسل سے تعلق رکھتے ہوں یا وہاں پیداہوئے ہوں یا اتنے مالدار ہوں جن کی املاک ہوں۔ ادنیٰ طبقات یا معمولی نسل سے تعلق رکھنے والے تمام مردوں اور عورتوں اور تمام مزدوروں کو حق رائے دہی حاصل نہیں تھا ۔  

بہت طویل جدوجہد کے بعد سب کو ووٹ دینے   کا اختیار او رحق ایک اصول اور معیار بنا ، اس میں کوئی شک نہیں کہ گزشتہ ادوار کی تمام عدم مساوات اس سے ختم نہیں ہو سکیں ۔ آج بھی تمام ممالک جمہوری طرز حکومت پر عمل پیرا نہیں ہیں ۔ جہاں انتخابات منعقد کئے بھی جاتے ہیں وہاں ہیرا پھیری ہوتی ہے او راس طرح لوگوں کے پاس حکومت کے فیصلوں کو متاثر کرنے کا حق او ر اقتدار نہیں ہو سکتا ۔ لیکن اس سب کے باوجود اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ عام حق رائے دہندگی ایک ایسے طاقتور اصول کاکام کرتا ہے جو ہر معاشرے اور ہر حکومت پر دباؤ ڈالتاہے ۔ کم از کم اب تویہ نظر آنا چاہئے کہ حکومتیں لوگون کی منظوری حاصل کرتی ہیں اور وہ جائز او رقانونی حیثیت رکھتی ہیں ۔ یہ بات اپنے ساتھ بہت بڑی سماجی تبدیلی لے کر آئی ہے ۔  

ثقافت (CULTURE)  

یہاں ثقافت کا لفظ مختصر شکل میں استعمال کیا گیا ہے۔ جس میں ایسے خیالات اقدار ، اعتقادات کا بہت وسیع دائرہ آتا ہے جو لوگوں کے لیے اہم ہیں اور ان کی زندگیوں کو بنانے سنوارنے میں مدد گار ہوتے ہیں ۔ ان خیالات اور اعتقادات میں تبدیلیاں قدرتی طور پر سماجی زندگی میں تبدیلیاں پیدا کرتی ہیں ۔ کسی سماجی۔ ثقافتی ادارہ یا قانون ودستور کی سب سے عام مثال جس نے زبر دست سماجی اثر ڈالا، مذہب ہے ۔ مذہبی اعتقادات او رقواعد وضوابط   سماج کو منظم کرنے میں مدد گار ہو ئے ہیں ۔ او راس میں کوئی تعجب کی بات نہیں کہ ان اعتقادات کی تبدیلیوں سے سماج کو بدلنے میں بڑی مدد ملی ہے ۔ مذہب اتنا اہم رہا ہے کہ کچھ عالموں نے تہذیب کی تعریف مذہبی مفہوم میں کی ہے اور تاریخ کو مذہبوں کے باہمی تعلق کے طور پر دیکھا ہے ۔ تاہم جیسا کہ سماجی تبدیلی دیگر عوامل اور عناصر کے معاملے میں ہے ۔ مذہب بھی سیاق وسباق او رپس منظر میں محدود ہوتا ہے ۔ کچھ حالات میں یہ اپنا اثر پیدا کر سکتا ہے اور کچھ میں نہیں میکس ویبر (Max Weber)کے مطالعہ The Protestant Ethics and the Spirit of capitalismسے ظاہر ہو ا کہ کچھ عیسائی پروٹسٹینٹ فرقوں نے کس طرح سرمایہ دارانہ سماجی نظام کے قائم کرنے میں مدد کی ۔ یہ ان مشہور ترین مثالوں میں سے ایک ہے جس سے ثقافتی ا قدار کے معاشی او رسماجی تبدیلی پر پڑنے والی چھاپ او راثر کا پتہ چلتا ہے ۔ ہندوستان میں بھی ہمارے سامنے بہت سی مثالیں موجود ہیں جن سے معلوم ہو تا ہے کہ مذہب سماجی تبدیلی لایا ہے ۔ سب سے زیادہ معروف مثالوںمیں قدیم ہندوستان کی سماجی اور سیاسی زندگی پر بدھ مت کا اثر اور عہدوسطیٰ کے سماجی ڈھانچہ ، جس میں ذات پات کا نظام شامل ہے ، پر بھکتی تحریک کا بہت پھیلا ہوا اثر ہے ۔  

ثقافتی تبدیلی پر سماجی تبدیلی لانے کی ایک او رمثال معاشرہ میں عورتوں کے مقام کے بارے میں خیالات کا ارتقاء ہے ۔ جدید دور میں جس طرح عورتوں نے مساوات کے لیے جدو جہد کی ہے ، انہوں نے سماج کو بہت سے طریقوں سے بدلنے میں مدد دی ہے ۔ خواتین کی لڑائیوں میں دیگر تاریخی حالات نے مدد بھی پہنچائی ہے اور رکاوٹ بھی ڈالی ہے ۔ مثلاً دوسری عالمی جنگ عظیم کے دوران مغربی ممالک میں عورتوں نے کام کرنا شروع کردیاتھا اور ایسے کام کرتی تھیں جو انہوں نے پہلے کبھی نہیں کئے تھے اور جن کو ہمیشہ مرد ہی کیا کرتے تھے ۔ یہ حیققت کہ عورتیں سمندری جہاز تک بنانے کی اہل ہوگئی تھیں ، بھاری مشینوں کو چلاسکتی تھیں ؛ اسلحہ بنا سکتی تھیں اور اسی قسم کے دوسرے کام کرنے کے قابل بھی تھیں۔ ان کے مساوات کے دعوں کے قائم کرنے میں مدد کی ، لیکن یہ بات بھی اتنی ہی سچ ہے کہ اگر جنگ نہ ہوئی ہوتی تو انہیں اور زیادہ طویل عرصہ تک جدو جہد کرنا پڑتی ۔ تبدیلی کی ایک بہت ہی مختلف مثال ، جو خواتین کے درجہ اور حیثیت نے پیدا کی، صارفین کے لیے تشہیر میں ملتی ہے ۔ زیادہ تر شہری معاشروں میں عورتیں ہی گھر بار کے لیے سامان خرید نے کے فیصلے کرتی ہیں ۔ اس سے اشتہار دینے والے خواتین کی رائے اور نقطۂ نظر کے بارے میں بہت حساس ہو گئے ہیں ۔تشہیرو اشتہار پر آنے والے خرچ کا بڑا حصہ عورتوں کی جانب توجہ کرنے پر کیا جاتا ہے او راس کا اثر ذرائع ابلاغ پر پڑ تا ہے ۔ مختصر یہ کہ عورتوں کا معاشی کردار تبدیلیوں کا ایک سلسلہ شروع کر دیتا ہے جس سے زیادہ بڑی سماجی چھاپ پڑ سکتی ہے مثال کے طور پر اشتہاروں میں عورتوں کو فیصلہ سازوں یااہم لوگوں کے طور پر اس طرح دکھایا جاسکتا ہے جو پہلے نہ سوچا جاسکتا تھا اور نہ ہی اس کی حوصلہ افزائی ہو سکتی تھی ۔ عام طور پر زیادہ تر اشتہارات میں مردوں کو ہی مخاطب کیا جاتا تھا لیکن اب وہ خواتین سے بھی اتنے ہی مخاطب ہو تے ہیں اور کچھ شعبوں جیسے گھر یلو استعمال کے آلات اور مشینیں اور اشیائے صرف واستعمال کے معاملے میں خاص طور پر عورتوں ہی کو مخاطب کیا جاتا ہے لہٰذا اب سامان بنانے والوں او راشتہار دینے والوں کے لیے معاشی اعتبار سے اہم ہے کہ وہ اس پرتوجہ دیں کہ خواتین کیا سوچتی اور محسوس کرتی ہیں ۔  

ایک اور مثال اس بات کی کہ ثقافتی تبدیلی سماجی تبدیلی لاتی ہے ، کھیل کود کی تاریخ میں مل سکتی ہے ۔ کھیل کود ہمیشہ مقبول تہذیب وثقافت کا اظہار رہے ہیں، جو کبھی کبھی بہت اہمیت حاصل کرلیتے ہیں ۔ کرکٹ کا کھیل برطانوی شرفاء اور امراء کے مشغلہ کے طور پر شروع ہوا تھا ۔ پھر یہ متوسط اور مزدور طبقوں میں پھیلا اور اس کے بعد پوری دنیا کی برطانوی نو آبادیات تک پہنچ گیا۔ جوں جوں اس کھیل نے برطانیہ کے باہر جڑیں پکڑیں یہ قومی یا نسلی فخر کی علامت بنتا گیا ۔ کرکٹ کی شدید رقابت کی بہت ہی مختلف تاریخ اس کھیل کی سماجی اہمیت کو بڑے موثر انداز میں ظاہر کرتی ہے ۔ انگلینڈ اور آسٹریلیا کی رقابت نے سماجی طور پر زیر نگوں نو آبادی   (آسٹریلیا )کی ناراضگی کو آشکارا کیا جو انگلینڈ کے اعلیٰ طبقہ کے مرکز اقتدار سے اسے ملی تھی ۔ اسی طرح 1970 اور 1980کے تحت رہے ویسٹ انڈیز کی کرکٹ ٹیم کا مکمل غلبہ بھی نو آبادی کے ما تحت لوگوں کے نسلی فخر کا اظہار کرتا ہے ۔

ہندوستان میں بھی انگلستان کی کرکٹ ٹیم کو ہرانا خاص طور پر آزادی سے پہلے ایک خاص بات سمجھی جاتی تھی ۔ دوسری سطح پر برعظیم ہندوستان میں کرکٹ کی بے پناہ مقبولیت نے اس کھیل کا تجارتی رخ بدل کر رکھ دیا ہے جس پر اب جنوبی ایشیا کے شوقینوں بالخصوص ہندوستانیوں کی مرضی کا اثر ہے ۔  

جیسا کہ او پر گفتگو سے صاف ظاہر ہے کوئی ایک نظریہ یا عنصر سماجی تبدیلی کا سبب نہیں بتا سکتا ۔ سماجی تبدیلی کے اسباب داخلی بھی ہو سکتے ہیں اور خارجی بھی ، یہ ارادی حرکتوں کا نتیجہ بھی ہو سکتے ہیں اور حادثاتی واقعات کی بنا ء پر بھی۔ اس کے علاوہ سماجی تبدیلی کے اسباب اکثر ایک دوسرے سے وابستہ ہوتے ہیں۔ معاشی اور ٹیکنالوجیاتی وجوہات میں کوئی ثقافتی عنصر بھی شامل ہو سکتا ہے ۔ سیاست ماحول سے متاثر ہو سکتی ہے ۔ سماجی تبدیلی کی مختلف حدود او ر شکلوں سے واقف ہونا ضروری او راہم ہے ۔ ہمارے لیے تبدیلی ایک اہم موضوع ہے کیونکہ دور جدید اور خاص طور پر آج کے زمانے میں تبدیلی کی رفتار پہلے کے مقابلے بہت زیادہ تیز ہے حالاں کہ سماجی تبدیلی کو اس کے واقع ہونے کے بعد بہتر طو ر پر سمجھا جا سکتا ہے ، ہمیں اس کے واقع ہونے کے وقت بھی اس کی واقفیت ہونی چاہیے اور جیسے بھی ممکن ہو اس کے لیے تیاری کرنی چاہیے ۔  

سماجی نظم   (SOCIAL ORDER)

سماجی واقعات یا عملیات کا مفہوم اکثر تضاد کے ذریعے واضح ہوجاتا ہے ،بالکل اسی طرح جیسے وہ حروف جو اس صفحہ پر آپ پڑھ رہے ہیں۔ صاف صاف پڑھے جا سکتے ہیں کیوں کہ وہ پس منظر سے بالکل مختلف اور نمایاں ہیں۔اسی طریقے سے سماجی تبدیلی بطور ایک عمل تسلسل یا تبدیلی کے فقدان کے پس منظر میں با معنی ہو جاتا ہے۔یہ بات کچھ عجیب سی لگتی ہے لیکن تبدیلی ایک تصور کی شکل میں تب ہی با معنی ہوتی ہے جب کچھ ایسی چیزیں ہوں جو تبدیل نہیں ہو رہی ہیں تاکہ وہ مقابلہ یا تضاد کے امکانات پیش کریں۔دوسرے الفاظ میں سماجی تبدیلی کو سماجی نظام کے ساتھ سمجھنا ضروری ہے ،اور یہ قائم شدہ نظاموں کا وہ رجحان ہے جو تبدیلی کی مزاحمت اور اس کو منضبط کرنے کا کام کرتا ہے ۔

سماجی تبدیلی اور سماجی نظاموں کے درمیان کے رشتہ کو دیکھنے کا ایک دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اس بات پر سوچا جائے کہ سماج تبدیلی کی مزاحمت کیوں کرتا ہے ، اس کی ہمت شکنی کیوں کرتا ہے یا اسے قابو میں کیوں رکھنا چاہتا ہے ،خود کو ایک مضبوط اور مسابقتی سماجی نظام کے طرز پر قائم کرنے کے لیے ہر سماج کو وقت گزرنے کے ساتھ خود میں از سر نو جان ڈالنی چاہیے اور اپنے استحکام کو بر قرار رکھنا چاہئے ۔استحکام کا تقاضہ ہے کیونکہ چیزیں جیسے ہیں قریب قریب اسی طرح ہی چلتی رہیں ۔یعنی لوگ انھیں اصولوں کی پابندی کرتے رہیں کہ یکساں عمل یکساں نتائج ہی پیدا کرتے ہیں اور زیادہ عام انداز میں بات کی جائے افرادا اور ادارے خاصے قابل اندازہ طریقے کا طرز عمل اور سلوک کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔

عملی کام   4

ہم یکسانیت کو اکتا دینے والی اور تبدیلی کو جذبات ابھارنے والی چیز سمجھنے کے عادی ہیں ۔واقعتا یہ سچ بھی ہے ۔تبدیلی لطف اندوز بھی ہو سکتی ہے اور تبدیلی کا نہ ہونا اکتاہٹ ۔لیکن ذرا سوچئے کہ اگر آپ کو ایک طرح کا کھانا کبھی دوبارہ نہ ملے اور ہر روز ایک نئی چیز کھانے کو ملے اور ایک چیز کبھی دوبارہ نصیب نہ ہو ،اس سے قطع نظر کہ آپ کو یہ پسند ہے یا نا پسند ،تو کیسا لگے گا ؟ ایک زیادہ ڈراونا خیال یہ ہے کہ جب اسکول سے واپس آئیں تو ہر دن گھرمیں نئے لوگ نظر آئیں ۔ مختلف والدین، مختلف بہن ،بھائی تو کیا ہوگا ؟ اور کیا حال ہوگا کہ جب کبھی آپ اپناپسندیدہ کھیل کھیلیں ۔فٹ بال ،کرکٹ، والی بال یا ہاکی وغیرہ۔ تو ہر بار نئے قاعدے اور ضابطے ہوں ،اپنی زندگی کے دوسرے پہلوئوں کے بارے میں سوچئے جہاں آپ چاہیں گے کہ چیزیں اور ضرورت سے زیادہ تیزی سے نہ بدلیں ۔کیا آپ کے زندگی کچھ حصے ایسے ہیں جہاں آپ تیزی سے تبدیلی چاہیں گے ؟ ان وجوہات کے بارے میں سوچنے کی کوشش کیجیے آپ کچھ خاص معاملوں میں تبدیلی کیوں چاہتے ہیں اور کیوں نہیں چاہتے ۔

مندرجہ بالا بحث اور دلیل ان ممکنہ اسباب کے بارے میں ایک عام اور مجرد لیل تھی کہ سماج کو تبدیلی کی مخالفت یا مزاحمت کیوں کرنی پڑ سکتی ہے ۔لیکن عموماً اس بات کی ٹھوس اور مخصوص وجوہات ہوتی ہیں کہ فی الحقیقت معاشرے تبدیلی کی مخالفت کیوں کرتے ہیں۔یاد کیجیے کہ باب1 میں آپ نے سماجی ڈھانچے اور سماجی طبقاتی تفریق کے بارے میں کیا پڑھا تھا۔ بسا اوقات معاشرے غیر مساوی طور پر منقسم ہوتے ہیں، یعنی مختلف طبقات کے معاشی وسائل ،سماجی حیثیت اور سیاسی قوت پر اقتدار مقام اور درجہ مختلف ہوتا ہے ۔لہٰذا یہ تعجب کی بات نہیں ہے کہ جو لوگ بہتر اور موافق حالات میں ہوتے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ صورت حال جو ں کی توں قائم رہے جب کہ وہ لوگ جو دقتیں بھگت رہے ہیں تبدیلی کے لیے بے چین ہوتے ہیں ۔اس طرح سماج کے حکمراں اور غالب لوگ عام طور پر کسی بھی ایسی سماجی تبدیلی کی مزاحمت اور مخالفت کرتے ہیں جوان کے مقام اور حیثیت کو بدل سکتا ہے کیونکہ استحکام میں ان کا مستقل مفاد پوشیدہ ہوتا ہے۔ دوسری جانب ماتحت اور دبائے ہوئے لوگوں کو مستقل مفاد تبدیلی میں پوشیدہ ہوتا ہے ۔معمول کے مطابق حالات عام طورپر امیروں اور طاقتور لوگوں کے لیے ساز گار ہوتے ہیں اور اس لیے وہ تبدیلی کی مخالفت کر سکتے ہیں ۔معاشروں کے عموماً مستحکم رہنے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے۔  

بہر حال سماجی نظام کا تصور محض تبدیلی کی مزاحمت تک ہی محدود نہیں ہے۔اس کے مثبت معنی بھی ہیں۔ اس سے مراد اقدار اور اصولوں کو بر قرار رکھنا اور سماجی تعلقات کے ایک خاص انداز کی تشکیل نو ہے موٹے طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ سماجی نظام دو میں سے ایک طریقہ سے حاصل کیا جا سکتا ہے ایک تو جب لوگ غیر ارادی طور پرضابطے کے ایک مجموعہ کی پابندی کرنا چاہیں یا پھر جب لوگوں کو ان ضابطوں کو ماننے کے لیے مجبور کیا جائے ۔ہر سماج معاشرتی نظم کو بر قرار رکھنے کے لیے ان طریقوں کو ملا کر ان کا استعمال کرتا ہے ۔

سماجی نظام پر بے ساختہ رضا مندی بالآخر ان مشترکہ قدروں اور اصولوں سے نکلتی ہے جو اشتراکی عمل کے ذریعے داخل کی جاتی ہیں ۔(اس موضوع پر’ سماجیات کا تعارف‘ میں کی گئی گفتگو دیکھئے ) سماجی بنانے کا عمل مختلف پس منظر میں کم وبیش کارگرہو سکتا ہے مگرکتنا بھی اثر آفریں ہو فرد کی قوتِ ارادی کو پوری طرح مٹا نہیں سکتا ۔دوسرے الفاظ میں اشتراکی یا سماجی بنانے کے عمل سے لوگوں کو روبوٹ (Robot)نہیں بنایا جا سکتا جو دیے ہوئے پروگرام کے مطابق ان انسان نما پُتلوں کی طرح کام کریں ۔اس عمل سے تمام اصولوں اور قدروں کے لیے ہمیشہ مستقل رضا مندی پیدا نہیں ہو سکتی ۔ہو سکتا ہے آپ اپنی زندگیوں میں ایسے تجربے سے گزرے ہوں ۔قاعدے اور اعتقادات جو کسی خاص موقعے پر بہت فطری اور درست نظر آتے ہیں ۔دوسرے موقعہ یا وقت پر اتنے صاف طور پر درست نظر نہیں آتے ۔ ماضی میں جن چیزوں پر ہمار ا یقین واعتقاد    تھا ہم ان پر سوال اٹھانے لگتے ہیں اور جن باتوں کو ہم صحیح یا غلط سمجھتے ہیں ان کے بارے میں اپنا ذہن اور رائے بدل دیتے ہیں ۔بعض اوقات ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ ہم اپنے پرانے اعتقادات کی طرف لوٹ جائیں اور پھر ہم ان کو دوبارہ از سر نو اختیا رکر لیں ۔تو اسی طرح جہاں اشتراکیت کاری سماجی نظام کو پیدا کرنے کا زیادہ بوجھ خود اٹھاتی ہے ،یہ بذات خود اپنے میں کافی نہیں ہے  

گویا زیادہ تر جدید معاشروں کو زبردستی کرنے اور مجبور کرنے کی قوت پر بھی کسی نہ کسی شکل میں انحصار کرنا چاہئے تاکہ افراد قائم کردہ سماجی اصولوں کے پابند رہیں طاقت کی عام طور پر یہ تعریف ہے کہ آپ جو چاہتے ہیں وہ دوسروں سے کراسکیں ۔ اس سے قطع نظر دوسرے خود کیا چاہتے ہیں؟جب طاقت کا رشتہ مستحکم ہو جاتا ہے اور اپنی جگہ بنا لیتا ہے اورمتعلقہ لوگ اپنے اپنے مقام کے عادی ہو جاتے ہیں یہ غلبہ کی صورت حال ہو جاتی ہے۔اگر کوئی سماجی وجود (کوئی شخص ،ادارہ یا جماعت) عادتاً اور بطور معمول اقتدار میں ہے تو اسے غالب یا حاوی کہا جائے گا ،عام حالات میں غالب ادارے ،گروپ یا افراد سماج پر فیصلہ اور حتمی اثر قائم کرلیتے ہیں ۔ایسا نہیں ہے کہ انھیں کبھی للکار ا نہیں جا تا لیکن یہ صرف غیر معمولی زمانے میں ہی ہوتا ہے ۔حالاں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کو ایسی چیزیں کرنے کے لیے مجبور کیا جارہا ہے جو وہ نہیں کرنا چاہتے ،پھر بھی عام دنوں میں غلبہ ’’ہموار‘‘ ہوسکتا ہے ان معنوں میں کوئی لڑائی جھگڑا اور کشیدگی نہیں ہوتی ۔ (باب اول میں ’’زبردستی کا تعاون‘‘ پر کی گئی گفتگو کو ایک بار دیکھئے ) ۔ مثال کے طور پر عورتیں اپنے آبائی خاندان کے حقوق کا دعویٰ کیوں نہیں کرنا چاہتیں ؟ وہ کیوں سرداری نظام کے اصولوں اور قاعدوں پر رضا مند ہو گئیں ؟

غلبہ ،اقتدار واختیار اور قانون

( DOMINATION, AUTHORITY AND LAW )

ایسا کس طرح ہو سکتا ہے کہ غلبہ یا بر تری تصادم اور کشاکش پیدا نہ کریں جب کہ اس میں غیر مساوی تعلقات صاف طور پر ملوث ہیں اور دولت اور فوائد برابر برابر تقسیم نہیں کیے گئے ہیں ۔سوال کے ایک حصہ کا جواب ہمیں پچھلے باب کی گفتگو سے مل چکا ہے ۔ حاوی گروپ اپنی طاقت کے بل بوتے پر غیر مساوی تعلقات سے تعاون لے لیتے ہیں ۔ لیکن یہ طاقت کیوں کام کرتی ہے ۔کیا صرف طاقت کے استعمال کے خطرے کی وجہ سے کام کرتی ہے ؟ یہاں ہم سماجیات کے ایک اہم تصور جواز یا جائز قراردینا پر آتے ہیں ۔  

سماجی معنوں میں جواز یا جائز ہونے سے مراد قبولیت کے اس درجہ سے ہے جو طاقت کے رشتوں سے متعلق ہے ۔کوئی بھی جائز چیز مناسب ،منصفانہ اور موزوں کے طورپر قبول کر لی جاتی ہے ۔وسیع ترین معنوں میں اس کو مروجہ سماجی معاہدہ کے حصہ کے طورپر مان لیا جاتا ہے ۔مختصراً استحقاق کا مطلب ہے حق، معقولیت اور انصاف ۔ہم پہلے ہی دیکھ چکے ہیں کہ سماج میں طاقت اور اقتدار کی کیا تعریف بیان کی جاتی ، بذات خود طاقت بس ایک حقیقت ہے ،یہ جائز ہو بھی سکتی ہے اور نہیں بھی ۔میکس ویبر (Max Waber)نے اتھارٹی کو جائز طاقت یا اقتدار کہا ہے۔ یعنی طاقت کو مناسب اور صحیح وجائز سمجھنا چاہئے ۔مثال کے طور پر ایک پولیس افسر ایک جج یا اسکول کا مدرس یہ سب اپنے اپنے کام کے ایک حصہ کے طور پر مختلف قسم کے اقتدار واختیار کا استعمال کرتے ہیں۔یہ اختیار انھیں صاف طور پر ان کے کاموں کی تفصیل اور فرائض مہیا کرتے ہیں ۔یہ تحریری دستاویزات ہوتے ہیں جن میں ان کے اختیار کو بیان کیا جاتا ہے اور یہ بتایا جاتا ہے کہ انھیں کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں ۔

یہ حقیقت کہ انھیں اختیا ر حاصل ہے از خود یہ معنی رکھتی ہے کہ سماج کے دوسرے اراکین ،جو اس کے قواعد وضوابط کو ماننے کے لیے رضا مند ہو چکے ہیں ان کے لیے اس اتھارٹی کی تابعداری اس کے دائرہ کار میں کرنا لازم ہے ۔جج کا دائرہ کار عدالت کا کمرہ ہوتا ہے اور جب شہری عدالت میں ہوں تو ان کو جج کی بات ماننی چاہیے یااس کے اختیار کااحترام کرنا چاہیے۔ عدالت سے باہر جج دوسرے شہریوں کی طرح ہوتا ہے۔لہٰذا سڑک پر اسے پولیس افسر کے قانونی اختیا ر کو ماننا چاہیے ۔فرض کی انجام دہی کے وقت پولیس کو لوگوں کو تما م شہریوں کی حرکات وسکنات پر پورا اختیار حاصل ہوتا ہے۔ علاوہ اپنے سے بڑے افسروں کے ۔لیکن شہریوں کی ذاتی سر گرمیوں پر پولیس افسروں کو کوئی اختیار حاصل نہیں ہوتا جب تک کہ وہ غیرقانونی حرکتوں میں ملوث نہ ہوں ۔ ایک مختلف طریقے سے ٹیچر کو کلاس روم میں اپنے طلباء پر اختیار حاصل ہوتا ہے ۔مختلف اس لیے کہ استاد کے اختیار واقتدار واضح طور پر متعین نہیں کیے جاتے ہیں۔استاد کا اختیار شاگرد کے گھر تک نہیں پہنچ سکتا جہاں والدین کو بچوں کی بنیادی ذمہ داری اور ان پر اختیا ر حاصل ہوتا ہے ۔

اختیاریا اتھارٹی کی دوسری شکلیں ہوسکتی ہیں جو اتنی سختی کے ساتھ اور صاف طور پر متعین نہیں کی گئی ہیں،لیکن پھر بھی تعاون اور رضامندی حاصل کرنے کے لیے موثر ہوتی ہیں ۔اس کی ایک اچھی مثال کسی مذہبی رہنما کا اقتدار اور اختیار ہے ۔اگر چہ قوانین کے پابند مذاہب نے اس اختیار کو رسمی شکل دے دی ہے ،تاہم کسی فرقہ کا رہنما یا کسی کم رسمی درجہ کے چھوٹے مذہبی گروپ زبردست اقتدار واختیار کے حامل ہو سکتے ہیں ۔اسی طرح نامور علماء ،فنکار ،مصنفین اور دیگر دانشور اپنے اپنے میدانوں میں بہت اختیار استعمال کر سکتے ہیں ۔جو غیر رسمی ہو سکتا ہے۔یہی بات جرائم پیشہ جتھے کے لیڈر پر بھی صادق آتی ہے۔ایسے شخص کے پاس مکمل اختیار با قاعدہ تفصیلات کے بغیر ہو سکتاہے ۔واضح قواعد وضوابط کے تحت اختیا راور غیر رسمی اختیا اور غیر رسمی اختیار کے مابین فرق قانون کے تصور کے لیے اہم ہوتا ہے ۔قانون ایک واضح طور پر کو ڈ کیا ہوا یعنی با قاعدہ مرتب کردہ قاعدہ ہے۔عام طورپر یہ تحریری شکل میں ہوتا ہے اور ایسے قوانین موجود ہیں جو خصوصی طورپر بتاتے ہیں کون سے قانون کس طرح وضع یا تبدیل کیے جاتے ہیں ۔یا اگر کوئی ان کی خلاف ورزی کرتا ہے توکیاکیا جاتا ہے ۔جدید طرز کے جمہوری سماج کے پاس قوانین کا ایک مجموعہ ہوتا ہے جو اس کے قانون ساز اسمبلیاں یعنی مقننہ تیار کرتی ہے جو منتخبہ نمائندوں پر مشتمل ہوتی ہے ۔یہ قانون رسمی قواعد وضوابط بناتا ہے جن کے تحت سماج پر حکومت کی جاتی ہے ۔قوانین کا اطلاق سب شہریوں پر ہوتا ہے ۔کوئی افراد اگر کسی قانون سے متفق نہیں ہے۔تب بھی ایک شہری کی حیثیت سے اسے اس کو ماننا ہی پڑتا ہے اور ایسا کرنا ہر شہری کے لیے لازمی ہے خواہ اس کا عقیدہ کچھ بھی ہو ۔

لہٰذا غلبہ طاقت کے ذریعے کام کرتا ہے لیکن اس طاقت کا بیشتر حصہ در اصل جائز ہوتا ہے ۔جس کا بڑ احصہ قانون کی شکل میں مرتب ہوتا ہے ۔رضامندی اور تعاون ایک متواتر اور قابل اعتماد بنیاد پر حاصل کیے جاتے ہیں کیوں کہ اس ڈھانچہ کی پس پشت جواز اور با قاعدہ ادارہ جاتی مدد ہوتی ہے۔اس سے غلبہ کا اختتام نہیں ہوتا سماج کی کئی طرح کی طاقت ہوتی ہے جو سماج میں موثر طور پر کا م کرتی ہے اگر چہ طاقت نا جائز ہوتی ہے اور اگر جائز ہوتی بھی ہے تو قانون کی شکل میں مرتب نہیں ہوتی۔یہ جائز، قانونی اختیار اور دوسری قسم کی طاقت کے اختیار کا ایک مرکب ہوتا ہے ،جو سماجی نظام کی ہیئت اور وضع کا تعین کرتا ہے اور اس کی حرکیات   (dynamics)کا بھی۔

حجت بازی ،جُرم اور تشدد

( CONTESTATION, CRIME AND VOILENCE )

غلبہ ،طاقت ،جائز اختیار اور قانون کی موجودگی کے معنی میں یہ نہیں ہیں کہ ہمیشہ ہی ان کی تابع داری اور پیروی ہوتی ہے ،آپ سماج میں کشاکش اور مقابلہ کے بارے میں پہلے پڑھ چکے ہیں ۔ اسی طرح ہمیں سماج میں حجت بازی یا کٹ حجتی کی زیادہ عام شکلوں کو تسلیم کرنا چاہیے ۔حجت بازی کو یہاں محض ایک لفظ کے طور پر استعمال کیا گیا ہے ۔جس سے سماج میں کٹ حجتی کی زیادہ بڑی قسمیں ظاہر ہوتی ہیں ۔مقابلہ اور کشاکش اس سے زیادہ مخصوص معنی کے حامل ہیں اور اختلاف رائے کی ان دوسری صورتوں کو الگ کر دیتے ہیں ۔جو ایسی اصطلاحوں کو پوری طرح بیان نہیں کر سکتے ،  

ایک مثال ،مخالف تہذیبوں ،کی ہے جو نوجوانوں میں پائی جاتی ہیں ۔اس کو ’نوجوانوں کی بغاوت‘ بھی کہا جا سکتا ہے ۔یہ مروجہ سماجی اصولوں کے خلاف احتجاج یا ان کی پیروی سے انکار ہے ۔ان احتجاجات میں کئی قسم کی چیزیں ملوث ہوسکتی ہیں جیسے بال رکھنے کا ڈھنگ ،کپڑوں کے فیشن ،بول چال یا زندگی کے انداز ،زیادہ روایتی یا معیاری مخالفت کی شکلوں میں انتخابات شامل ہیں جو سیاسی مقابلہ بازی کی ایک صورت ہے ۔مخالفتوں اور تنازعات میں قانونوں اور قانونی طور پر صاحب اقتدار لوگوں کے خلاف احتجاج شامل ہیں ۔کھلے اور جمہوری معاشرے یعنی سماج اس قسم کے اختلاف کی مختلف درجوں میں اجازت دیتے ہیں۔ ایسے اختلافات کی کھلی اور پوشیدہ دونوں قسم کی حدود متعین کردی جاتی ہیں ۔ان حدود سے تجاوز کرنے پر سوسائٹی یا سماج ردِّعمل ظاہر کرتی ہے جو عام طور پر قانون لاگو کرنے والے صاحب اقتدار کرتے ہیں ۔

جیسا کہ آپ بخوبی واقف ہیں ،بطور ہندوستانیوں کے متحد ہونا ہمیں باہمی اختلاف نہیں روکتا ۔مختلف سیاسی جماعتوں کے بالکل الگ الگ ایجنڈے ہو سکتے ہیں۔اگر چہ وہ سب ایک ہی آئین کا احترام کرتی ہیں۔ایک ہی قسم کے ٹریفک قاعدوں کا علم یا ان میں یقین سڑکوں پر گرما گرما بحث کو نہیں روکتا۔بالفاظ دیگر سماجی نظم وضبط کا مطلب ضروری نہیں کہ اتفاق رائے یا یگانگت ہو ۔دوسری طرف اہم سوال یہ ہے کہ کتنا اختلاف اورمخالفت سماج برداشت کرتا ہے۔اس سوال کا جواب سماجی اور تاریخی حالات پر منحصر ہے لیکن یہ سماج میں ایک اہم دیوار کھینچتا ہے، جائز اور ناجائز کے درمیان کی سرحد قانونی اور غیرقانونی اور قابل قبول کے درمیان کی دیوار۔

حالاں کہ عام طور پر یہ سخت اخلاقی الزام کی طرح نظر آتا ہے ،جُرم کا تصور صحیح معنوں میں قانون سے لیا گیا ہے ۔جرم ایک ایسا فعل ہے جس سے کسی موجود قانون کی خلاف ورزی ہوتی ہے ۔یہ نہ اس سے زیادہ ہے نہ کم۔اس فعل یعنی جرم کی اخلاقی قیمت محض اس حقیقت سے متعین ہوتی اس سے قانون کی خلاف ورزی ہوتی ہے ۔مثلاً اگر موجودہ قانون کو غیر منصفانہ سمجھا جاتا ہے تو کوئی شخص یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ اس نے اس کو اعلیٰ ترین اخلاقی وجوہات کی بناء پر توڑا ہے۔ہندوستان کی جنگ آزادی کے رہ نما سوِل نافرمانی کی تحریک کے ایک حصے کے طورپر بالکل ایسا ہی کر رہے تھے۔   یعنی اس زمانے کے قانون کو توڑ رہے تھے ۔جب گاندھی جی نے ڈانڈی میں بر طانوی حکومت کے نمک کے قانون کوتوڑا تو انھوں نے ایک جرم کا ارتکاب کیا جس کے لیے انھوں گرفتار کر لیا گیا۔لیکن یہ جرم جان بوجھ کر اور فخر کے ساتھ کیا اور ان کے ساتھ ہندوستان کے لوگوں کوبھی ان پر ناز تھا ۔بلا شبہ صرف اس قسم کے جرم ہی سرزد نہیں کئے جاتے ۔دوسری بہت طرح کے جرائم ہیں جن کے لیے کسی اعلیٰ اخلاقی نیکی اور صفت کا دعویٰ نہیں کیا جا سکتا ۔ لیکن اہم بات یہی ہے کہ جرم قانون شکنی ہے۔قانون میں متعین کردہ جائز مخالفت کی حدود کو پار کرنا ہے ۔

تشدد کے مسئلہ کا تعلق وسیع ترین سطح پر ریاست کی بنیادی تعریف سے ہے ۔جدید ریاست کی ایک بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس کی اپنے دائرہ کار کے اندررہ کر جائز تشدد کے استعمال کی اجارہ داری ہوتی ہے ۔دوسرے لفظوں میں صرف ریاست ہی (اپنے مجاز کارکنوں کے ذریعے ) قانوناً تشدد کا استعمال کر سکتی ہے۔تشدد کے استعمال کی دوسری تمام مثالیں غیر قانونی کی تعریف میں آتی ہیں ۔ (کچھ مستنثیات ہیں جیسے خود کی مدافعت جو غیرمعمولی اور شاذ ونادر حالات کے لیئے رکھی گئی ہیں ۔) اس طرح اصول کے اعتبار سے تشدد کے ہر فعل کے بارے میں یہ مانا جاتا ہے کہ یہ ریاست کے خلاف سرزد ہوا ہے ) اگر میں کسی شخص پر حملہ کرتا ہوں یا ا س کو قتل کرتا ہوں تو ریاست ہی مجھ پر تشدد کے جائز استعمال کی اپنی اجارہ داری کی خلاف ورزی کا مقدمہ چلائے گی ۔

یہ بات بالکل عیاں اور واضح ہے کہ تشدد سماجی نظم کا دشمن ہیے۔یہ لڑائی جھگڑے کی ایک انتہائی شکل ہے جو نہ صرف قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے بلکہ اہم سماجی قاعدوں اور قدروں کی پرواہ نہیں کرتا۔ سماج میں تشدد سماجی کھنچائو کی پیداوار ہوتا ہے اور سنگین مسائل کی نشان دہی کرتا ہے ۔یہ ریاست کے اقتداراعلیٰ کے لیے بھی ایک خطرہ ہے ۔ان معنوں میں یہ جواز اوررضامندی کی برتری کی ناکامی کوبھی ظاہر کرتا ہے اورکھلے تنازعات کی ابتداء کرتا ہے۔

سماجی نظم اور گاؤں:قصبہ اور شہر میں تبدیلی  

( SOCIAL ORDER AND CHANGE IN VILLAGE, TOWN AND CITY )

اکثر وبیشتر معاشروں کو دیہی اور شہری حصوں میں منقسم کیا جا سکتا ہے۔ان حصوں میں حالات زندگی،اور اس کی بنا پر سماجی تنظیم ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہوتی ہیں۔لہٰذا اسی طرح ان کے سماجی نظم وترتیب اور اہم سماجی تبدیلی بھی ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہے۔  

ہم سب یہ سوچتے ہیں کہ ہم دیہات ،قصبات اور شہروں کامفہوم جانتے ہیں ۔لیکن در اصل ہم ان کے درمیان کس طرح فرق کرتے ہیں ؟ (باب 5میں ایم این ۔سری نواس والے سیکشن میں ‘دیہات کے مطالعہ‘ پر گفتگو بھی دیکھئے )۔سماجیاتی نقطۂ نظر سے گائوں سماجی ڈھانچہ میں اُن اہم تبدیلیوں کے ایک حصہ کے طور پر سامنے آئے جو خانہ بدوشی کی زندگی کے طریقوں سے ،جو کہ شکار ،غذا اکٹھی کرتے پھرنے اور ناپائیدار یا غیر مستقل کھیتی باڑی کے متحرک طریقوں کے بجائے غیرمتحرک یا ایسے طریقوں کے آنے سے ایک جگہ جم کر زندگی گزارنا اور بسنا شروع کیا ۔کھیتی باڑی کے غیر متحرک طریقوں یا ایسے طریقوں کے آنے سے جن میں ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا نہیں پڑتا تھا ،سماجی ڈھانچہ بھی بدلا ۔زمین میں سرمایہ کاری اور زراعت میں تکنیکی اختراعات سے فاضل یعنی جینے کی ضرورت سے زیادہ پیداوار کے امکانات پیدا ہوئے ۔غیر متحرک یا قائم کھیتی باڑی کا مطلب تھا کہ دولت اکٹھی کی جا سکتی تھی اور اسی کے ساتھ سماجی تفریق شروع ہوئی ۔زیادہ ترقی یافتہ تقسیم کار نے پیشہ ورانہ تخصیص کاری کی ضرورت کو جنم دیا۔ ان تمام تبدیلیوں نے مل کر آبادی کی ایک خاص شکل پر مبنی سماجی تنظیم کی تشکیل کی ، جو گائوں کی صورت میں سامنے آئی۔

معاشی اورانتظامی معنوں میں دیہی اور شہری بستیوں میں عام طور پر دو بڑے عوامل کی بنیاد پر امتیاز یعنی فرق کیا جاتا ہے ۔ آبادی کی گنجانی یا گھنا پن اور زراعت سے متعلق معاشی سر گرمیوں کاتناسب ۔(ظاہری شکل کے بر عکس ،سائز ہمیشہ فیصلہ کن نہیں ہوتا ،صرف آبادی کی بنیاد پر بڑے گاؤں اور چھوٹے قصبوں کو الگ کرنا یا ان   میں فرق کرنا مشکل ہوتا ہے ) گویا گاؤں کے مقابلے شہروں اور قصبوں میں آبادی بہت زیادہ گنجان ہوتی ہے یا یوں کہیے کہ ایک اکائی رقبہ میں لوگوں کی تعداد کے اعتبار سے گاؤں زیادہ چھوٹے ہوتے ہیں لیکن وہ نسبتاً زیادہ بڑے رقبہ میں پھیلے ہوتے ہیں ۔دیہات اور شہروں وقصبوں میں فرق گاؤں کی معاشی زندگی کی وسیع تر زراعتی سر گرمیوں سے بھی ہوتا ہے ۔ بالفاظ دیگر گاؤں کی آبادی کا اچھا خاصا حصہ زراعت سے وابستہ سر گرمیوں میں لگا ہوتا ہے ،اور وہاں کی پیداوار کا بڑا حصہ زراعتی پیداوار پر مشتمل ہوتا ہے اور دیہات کی زیادہ تر آمدنی زراعت سے حاصل ہوتی ہے ۔

ایک قصبے اور شہر کا فرق انتظامی تعریف کا معاملہ ہے ایک قصبہ اور شہر بنیادی طور پر ایک ہی طرح کی بستیاں ہوتی ہیں ، بس فرق سائز کا ہوتا ہے ۔ایک ’شہری جھمگٹ ‘ (سرکاری مردم شماری اور رپورٹوں میں مستعمل اصطلاح ) کا مطلب اپنے ارد گرد کے اور نیم شہری علاقوں اور بستیوں کو شامل کر کے ایک شہر –میٹرو پولٹین یا ام البلد کے علاقہ میں ایک سے زیادہ شہر ہوتے ہیں یا ایک مسلسل شہری بستی جو ایک واحد شہر سے کئی گنا بڑی ہوتی ہے ۔

ان سمتوں کے پیش نظر جن میں جدید معاشرے ترقی پذیر ہوئے ہیں ،بیشتر ملک شہر کاری کے عمل سے گز ر چکے ہیں ۔یہ وہ عمل ہے جس کے ذریعے ملک کی آبادی کا رفتہ رفتہ بڑھتا ہوا حصہ دیہات کے بجائے شہروں میں رہتا ہے ۔زیادہ تر ترقی یافتہ ممالک اب بے حد شہری ہو چکے ہیں ۔ترقی پذیر ملکوں میں بھی شہر بنانے کا رجحان ہے ۔یہ تیز تر بھی ہوسکتا ہے اورسست رفتار بھی ، لیکن جب تک اس رجحان کو روکنے کی خاص وجوہات نہ ہوں ،یہ عمل اکثر صورتوں میں جاری رہتا نظر آتا ہے ۔فی الواقع اقوام متحدہ کی رپورٹ یہ ہے کہ انسانی تاریخ میں پہلی بار 2014کے دوران دنیا کی54 فی صد آبادی شہری علاقوں میں رہتی ہے اوراندازہ یہ ہے کہ 2050تک یہ تناسب 66فی صد تک پہنچ جائے گا ۔ ہندوستانی سماج بھی شہر کاری کے تجربے سے گز ر رہا ہے ۔ شہری علاقوں میں رہنے والی آبادی کا فی صد جو 1901میں 11% سے کچھ کم تھا،آزادی کے فوراً بعد 1951میں بڑھ کر 17% سے کچھ زیادہ ہو گیا تھا ۔مردم شماری 2011کے مطابق تقریباً 37.7% ہندوستان کی آبادی شہری علاقوں میں رہتی ہے۔

دیہی علاقوں میں سماجی نظم اور سماجی تبدیلی

(SOCIAL ORDER AND SOCIAL CHANGE IN RURAL AREAS)  

چوں کہ دیہات کے اصلی حالات مختلف ہوتے ہیں اس لیے ہم یہ توقع کر سکتے ہیں کہ سماجی نظم اور سماجی تبدیلی بھی مختلف ہوگی۔ گاؤں سائز میں چھوٹے ہوتے ہیں ،اس لیے وہاں عام طور پر ذاتی نوعیت کے تعلقات ممکن ہوتے ہیں ۔گاؤں کے لوگوں کے لیے زیادہ تر لوگوں کو دیکھ کر پہچان لینا ایک عام بات ہے ۔اس کے علاوہ گاؤں کا سماجی ڈھانچہ ،زیادہ روایتی طرز و انداز کو اختیار کرنے کے لیے ماحول بناتا ہے ۔ذات پات ،مذہب اور دیگر رسوماتی اور روایتی سماجی رواج دیہات میں زیادہ گہرے اور مضبوط ہوتے ہیں۔ان وجوہات کی بناء پر ،مخصوص حالات کے علاوہ ،شہروں کے مقابلے گائوں میں تبدیلی آہستہ آہستہ آتی ہے ۔

اس کی دوسری وجوہات بھی ہیں ۔مختلف عوامل یقینی طور پر یہ بتاتے ہیں کہ سماج کے نچلے طبقوں کودیہی علاقوں میں اپنی بات کہنے کے لیے شہر کے رہنے والوں کے مقابلے بہت کم مواقع حاصل ہیں ۔دیہات میں گم نامی اورفاصلہ کے نہ ہونے کی وجہ سے وہاں کے لوگوں کے لیے مخالفت کرنا مشکل ہوتا ہے کیونکہ انھیں آسانی کے ساتھ پہچانا جا سکتا ہے اور حاوی گروپ انھیں سبق سکھا سکتے ہیں ۔اس کے علاوہ غالب طبقات کی تناسبی طاقت بہت زیادہ ہوتی ہے کیونکہ روزگار کے مواقع اور ہر قسم کے دوسرے وسائل پر زیادہ تر ان کا اختیار ہوتا ہے ،ہر چیز ان کے قبضے میں ہوتی ہے ۔اس لیے غریب لوگوں کو حاوی اور طاقتور گروپوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے کیونکہ مددا ور روزگار کے متبادل ذرائع موجود نہیں ہوتے ۔کم آبادی کے پیش نظر لوگوں کی بڑی تعداد کو اکٹھا کرنا بہت مشکل ہوجاتا ہے ،خاص طور پر اس لیے کہ ایسی کوششوں کو طاقتور لوگوں سے چھپا یا نہیں جا سکتا اور انھیں بہت جلدی دبایا جا سکتاہے ۔ مختصر یہ کہ اگر کسی گائوں میں پہلے ہی سے طاقت کاایک مضبوط ڈھانچہ موجود ہوتو اسے اکھاڑ پھینکنا بہت مشکل ہو جاتا ہے ۔یوں طاقت کی منتقلی کے معنوں میں تبدیلی سست رفتار ہوتی ہے اور دیہی علاقوںمیں دیر میں پہونچتی ہے کیوں کہ سماجی نظام زیادہ مضبوط اور لچکیلا ہوتا ہے ۔

دوسری قسموں کی تبدیلی کے بھی دیہات میں آنے کی رفتار سست ہوتی ہے کیونکہ گاؤں منتشر ہوتے ہیں اور دنیا کے باقی حصوں کے ساتھ اتنی اچھی طرح جڑے ہوئے نہیں ہوتے   جتنے کہ شہر اور قصبات ۔بلا شبہ مواصلات کے نئے طریقوں ،خاص طور پر ٹیلی فون اور ٹیلی ویژن نے اس سب کو بدل دیا ہے، لہٰذا شہروں اور دیہات ک درمیان کا ثقافتی فاصلہ ا ب بہت کم ہے یا ہے ہی نہیں ۔دوسری قسم کی مواصلاتی کڑیاں (سڑک ،ریل ) بھی وقت کے ساتھ ساتھ بہتر ہوئی ہیں اور در اصل اب کوئی گاؤں خود کو ’’دور دراز‘‘ اور ’’تنہا یا دوسرے علاقوں سے کٹاہوا ‘‘ نہیں کہہ سکتا ۔یہ وہ الفاظ ہیں جو ماضی میں بغیر سوچے سمجھے دیہات سے وابستہ کئے جاتے تھے ۔اس سے تبدیلی کی رفتار بھی قدرے بڑھی ہے ۔

صاف اور کھلی وجوہات کی بنا ء پر زراعت پر یا زرعی سماجی تعلقات سے وابستہ تبدیلیوں کا دیہی معاشروں پر بہت اہم اثر پڑتا ہے ۔لہٰذا ایسے اقدامات ،جیسے زمینی اصلاحات جوزمین کی ملکیت کے ڈھانچے کو تبدیل کرتے ہیں ،فوری طور پر اپنا اثر ڈالتے ہیں ۔ہندوستان میں آزادی کے بعد زمینی اصلاحات کے پہلے مرحلے میں ایسے زمینداروں کے ملکیتی حقوق چھین لیے گئے تھے جو خود کاشتکاری نہیں کرتے تھے اور زمین پر موجود نہیں رہتے تھے۔ان کے حقوق ان لوگوں کو دیے گئے جو واقعتا گاؤں کی زمین کی دیکھ بھال کرتے اور اس پر کاشت کرتے تھے ۔ان لوگوں میں سے زیادہ تر گروپ درمیانی ذاتوں کے تھے اور حالاں کہ اکثر وبیشتر وہ کاشتکار نہیں تھے مگرانھیں زمین کے حقوق حاصل ہوگئے ۔ ان کی تعداد کے ساتھ مل کر اس عنصر نے ان کے سماجی درجہ اور سیاسی قوت کو بڑھادیا ،کیونکہ انتخابات جیتنے کے لیے ان کے ووٹوں کی اہمیت تھی ۔ایم۔این سری نواس نے ان گروپوں کو ’’غالب ذاتوں ‘‘ کا نام دیا ہے ۔بہت سے علاقوں میں یہ باقتدار یا غالب ذاتیں معاشی طور پر بہت طاقتور ہو گئیں اور دیہات پر چھا گئیں اور اسی لیے سیاست پر بھی حاوی ہو گئیں ۔ حال کے برسوں میں انھی غالب ذاتوں کوخود اپنے سے چھوٹی ذاتوں کی مخالفت اور بغاوت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔اور یہ سب سے پس ماندہ ذاتیں ہیں جو اپنے حقوق کا دعویٰ کرنے کے لیے اٹھ کھڑی ہوئی ہیں ۔اس کی وجہ سے بہت سی ریاستوں جیسے آندھرا پردیش ،بہار، اترپردیش اور تمل ناڈو میں بڑی سماجی اتھل پتھل ہوئی ہے ۔

عملی کام 5

قومی دیہی روزگار کی گارنٹی کے ایکٹ 2005کے بارے میں مزید معلومات حاصل کیجیے ۔اس قانون کاکیا مقصد ہے ؟ اس کو اتنا اہم ترقیاتی پروگرام کیوں سمجھا جاتا ہے ؟اس پروگرام کو کیا دقتیں در پیش ہیں ؟اگر یہ کامیاب ہوتا ہے تو اس کے کیانتائج مرتب ہوں گے ؟

اسی طرح زراعت کی حرفیاتی یا تکنیکی تنظیم کی تبدیلیوں نے دیہی سماج پر فوری اثر ڈالا ہے ۔مزدور بچانے کی نئی مشینری یافصلوں کے نئے ڈھنگوں کے آجانے سے مزدوروںکی مانگ یا ضرورت میں تبدیلی آسکتی ہے اور اسی طرح مختلف سماجی گروپوں،جیسے زمین داروں ور مزدوروں کی تناسبی سودے بازی کی قوت میں تبدیلی آسکتی ہے ۔اگر یہ نئی ایجاد یں اور جدید طریقے مزدوروں کی طلب پر براہ راست اثر انداز نہیں بھی ہوتے تب بھی یہ معاشی اور ٹیکنالوجی کی تبدیلیوں کا ایک سلسلہ شروع کر سکتی ہیں۔زراعتی اشیاء کی قیمتوں میں اچانک اتار چڑھائو ،خشک سالی یا سیلاب دیہی معاشرے میں تباہی وبربادی کا سبب بن سکتے ہیں۔ ہندوستان میں کسانوں کی بڑے پیمانے پر حالیہ خود کشیاں اس کی ایک مثال ہیں ۔دوسری طرف بڑے پیمانے کے ترقیاتی پروگرام بھی ،جو دیہی علاقوں کے لیے شروع کیے گئے ہیں۔زبردست اثر ڈال سکتے ہیں، اس کی ایک اچھی مثال قومی دیہی روزگار کی گارنٹی کاقانون (National Rural Employment Gurantee Act, 2005) ہے 

شہری علاقوں میں سماجی نظم اور سماجی تبدیلی
(SOCIAL ORDER AND SOCIAL CHANGE IN URBAN AREAS)  

یہ بات سب جانتے ہیں کہ شہر بذات خودبہت پرانی چیزہے۔دورقدیم کے معاشروں میں بھی شہر ہوتے تھے ۔آبادی کے بڑے حصوں کے لیے زندگی کے طریقے کے طورپر شہر بنانا اورآباد کرنا ایک جدیدمظہرہے۔ دورجدیدسے قبل تجارت، مذہب اورجنگ جوئی شہروں کے محل وقوع اور اہمیت کافیصلہ کرنے کے لیے اہم عوامل تھے ۔ایسے شہرجوبڑے تجارتی راستوں پرواقع تھے یاجہاں موزوں گودیاں اور بندرگا ہیں تھیں، انھیں قدرتی طورپر سبقت حاصل تھی۔اسی طرح وہ شہرجوفوجی حکمت عملی کے نقطۂ نظر سے اچھی جگہوں پر واقع تھے، بہتر حالت میں تھے ۔ آخری بات یہ کہ مذہبی مقامات زائرین کی بڑی تعداد کواپنی طرف کھینچے تھے اور اس طرح شہری معیشت کے لیے مدد فراہم کرتے تھے۔ ہندوستان میں بھی ایسے پرانے شہر شیزپور (آسام) میں دریائے برہم پتر پرواقع تھاکوزی کوڈ (جسے پہلے کالی کٹ کے نام سے جانا جاتا تھا )۔ جو بحیرۂ عرب میں شمالی کیرل کے ساحل پر واقع تھا ،شامل ہیں اور مشہور ومعروف ہیں ۔

ہمارے یہاں مندروں کے شہروں اور زیارات کے مقامات کی بھی بہت سی مثالیں ہیں ،جیسے راجستھان میں اجمیر، اترپردیش میں وارانسی (جو بنارس یا کاشی کے نام سے بھی مشہور ہے ) یا تامل ناڈو میں مدورائی ۔

جیسا کہ ماہرین سماجیات نے بتایا ہے ،شہری زندگی اور جدت پسندی کا اچھا میل ہے بلکہ در اصل دونوں میں سے ہر ایک کو دوسرے کا قریبی اظہار سمجھنا چاہیے ۔حالاں کہ شہر میں بہت بڑی اور گھنی آبادی ہوتی ہے اور یہ پوری تاریخ کے دوران عوامی سیاست کی جولان گاہ رہا ہے ،شہر جدید آدمی کی جاگیر بھی ہے۔ گم نامی اور سہولتوں اور ایسے اداروں کے امتزاج کے ساتھ جنھیں صرف بڑی آبادی ہی سہارا دے سکتی ہے، ہر فرد کو حصول اور تکمیل کے بے شمار مواقع پیش کرتا ہے ۔گاؤں کے بر عکس جہاں انفرادیت کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے اور جہاں دینے کے لیے کچھ نہیں ہے، شہر فرد کی پرورش کرتا ہے ۔

لیکن جہاں ایک طرف بہت سے فن کاروں،انشاء پردازوں او ر علماء نے شہر کوفرد کے لیے جائے پناہ کہہ کر اس کی تعریف کی ہے وہیں یہ بھی سچ ہے کہ آزادی او رمواقع صرف چند افراد کو ہی  

5th

دستیاب ہوتے ہیں۔یہ کہنا زیادہ صحیح ہوگا کہ صرف سماجی اور معاشی اعتبار سے مراعات یافتہ ایک اقلیت یعنی بہت چھوٹے تعداد میں کچھ لوگوں کوہی ایک نمایاں طور پر آزاد ڈاکٹر ایک مریضہ کو دیکھتے ہوئے تکمیلی زندگی کی آسائش میسرہوتی ہے۔   شہر وں میں رہنے والے زیادہ تر لوگوں کو بڑی مجبوریوں میں رہتے ہوئے محدود آزادی ہی حاصل ہوتی ہے ۔یہ جانی پہچانی معاشی اور سماجی پابندیاں اور مجبوریاں ہیں جو مختلف قسم کے گروپوں کی رکنیت ان پر تھوپ دیتی ہے ،جن کے بارے میں آپ پچھلے باب میں پڑھ چکے ہیں۔شہر بھی گروپوں کی شناختوں کی پرورش کرتا ہے ،جو نسل ،مذہب ،ذات پات ،علاقہ اور طبقہ پر مبنی ہوتی ہیں اور جن کو شہری زندگی میں اچھی نمائندگی حاصل ہوتی ہے ۔در حقیقت نسبتاً چھوٹی جگہ میںبڑی تعداد کا اکٹھا ہو جانے سے شناختوں میں شدت آجاتی ہے اور یہ صورت حال شناختوں کو بقا ،مزاحمت اور زور دینے کی حکمت عملیوں کا حصہ بنا دیتی ہے ۔

شہروں اور قصبوں میں سماجی نظام کے زیادہ تر مسائل کا تعلق جگہ کے سوال سے ہے ۔آبادی کا زیادہ گھنا پن جگہ پر بوجھ ڈال دیتا ہے اور حکمت عملی کے بہت پیچیدہ مسائل پیدا کر دیتا ہے ۔ شہری سماجی نظم کا بنیادی کام شہر کی جگہ سے متعلق استعداد اور قوت مقابلہ کو یقینی بناتا ہے ۔اس کا مطلب ہے ایسی چیزوں کی تنظیم اور انتظام کرنا جیسے : مکانوں اور رہائش سے متعلق طریقے اور انداز بڑے پیمانے کا آمدورفت کا نظام جو لوگوں کو کام کی جگہ پہچانے اور واپس لانے کا کام کرے ۔زمین کے رہائشی،عوامی اور صنعتی استعمال کے علاقوں کو ایک دوسرے کے ساتھ رکھنے کا انتظام ۔

اور آخر میں شہر کے انتطام اور حکومت کو چلانے کے سلسلے میں حفظان صحت عامہ ،صفائی ستھرائی ،پولیس کی گشت اور دیکھ بھال، تحفظ عامہ اور شہری حکومت چلانے کی نگرانی کی ضرورت ۔ ان میں سے ہر ایک کام ایک بڑی ذمہ داری ہے اور منصوبہ بندی   عمل در آمد اور بر قراری کے بڑے مشکل چیلنج سامنے رکھتی ہے ۔ پیچیدگی میں جو چیز اضافہ کرتی ہے وہ یہ ہے کہ ان تما م کاموں کو ایسے پس منظر میں پورا کرنا ہے جہاں طبقاتی ،نسلی ،مذہبی، ذات پات وغیرہ کی بنیاد پر تفریق اور کشیدگی موجود ہیں اور متحرک ہیں ۔

مثال کے طور پر شہروں میں لوگوں کے لیے مکانوں کے انتظام کے سوال پر دنیا بھر کے سوال سامنے آجاتے ہیں۔ غریبوں کے لیے مکانوں کی کمی سے خانماں بربادی پیدا ہوتی ہے اور ’’بازاری لوگوں ‘‘ کا مظہر سامنے آتا ہے ۔یعنی ایسے لوگ جو

6th

7th

8th


  سڑکوں اور پیدل پٹریوں پر ،پُلوں کے نیچے ،غیر آباد مکانوں اور دوسری خالی جگہوں پر زندگی بسر کرتے ہیں ۔یہ گندی بستیوں کے وجود میں آنے کی بھی ایک بڑی وجہ ہے ۔سرکاری طور ایسی بستیوں کے تعریفیں مختلف ہیں لیکن گندی بستی ایک تنگ گنجان ،اور بھیڑ بھاڑ والی بستی ہے جہاں شہری سہولتیں (صفائی ستھرائی ،پانی کی فراہمی ،اور بجلی وغیرہ) نہیں ہوتیں ۔اور گھر ہرقسم کے سامان سے تیار کئے ہوئے ہوتے ہیں جوپلاسٹک کی چادروں اورگتہ کے ڈھانچوں سے لے کر کئی منزلہ پکی عمارتوں تک بنے ہوتے ہیں ۔ چوں کہ ایسی بستیوں میں دوسری جگہوں کی طرح مستقل ملکیتی حقوق نہیں ہوتے ہیں اس لیے یہ بستیاں’’دادا‘‘ لوگوں اور مسٹنڈہ غنڈوں کی آماجگاہ بن جاتی ہیں جو وہاں کے رہنے والوں پر دھونس جما تے ہیں ۔گندی بستیوں پر اختیار دوسری قسم کی غیر قانونی حرکتیں کرنے کے لیئے مواقع فراہم کرتا ہے جن میں املاک اور زمین سے متعلق جرائم پیشہ جتھے شامل ہیں ۔

شہروں میں لوگ کہاںاور کیسے رہیں گے ؟یہ ایسا سوال ہے جو سماجی ،ثقافتی شناختوں تک پہنچ جاتاہے ۔پوری دنیامیں شہروں کے رہائشی علاقے طبقہ ،اور اکثرنسل، مذہب اور اسی طرح کے دوسرے اختلاف کی بنیاد پر ایک دوسرے سے الگ رہتے ہیں۔

9th

10th

11th

12th

ایسی امتیازی شناختوں کے درمیان کشیدگیاں یہ علیحدگی پیدا کرتی ہیں اور یہ اس کا نتیجہ بھی ہوتی ہیں ۔مثال کے طور پر ہندوستان میں مذہبی فرقوں کے مابین فرقہ وارانہ کشیدگی ،جوزیادہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان ہوتی ہے ،اس کے نتیجے میں ملی جلی بستیاں ایک واحد فرقہ کی بستیوں میں بدل جاتی ہیں ۔پھر اسکا نتیجہ فرقہ وارانہ تشدد کے وقت مخصوص مکانی نمونے کی شکل میں ظاہر ہوتا یعنی ایک جگہ پر ایک فرقہ اور دوسری جگہ دوسرافرقہ آپس میں بھڑتے ہیں۔جوایک بار پھر گندی بستیوں کے قیام کو آگے بڑھاتا ہے۔ہندوستان کے بہت سے شہروں میں ایسا ہو چکا ہے اورابھی حال کے دنوںمیں 2002کے فسادات کے بعد گجرات میں دیکھا گیا ہے ۔ ’’محصور فرقوں ‘‘ کامظہرہندوستان کے شہروں میں بھی پایاجاتا ہے ۔اس سے مراد ایسی مالدار بستیوں کا قیام ہے جو اپنے گردونواح اور اطراف سے دروازوں یا دیواروں کے ذریعہ الگ کردی جاتی ہیں اور جہاں داخل ہونااور جہاں سے باہرنکلنا نگرانی اور پابندی کے تحت ہوتا ہے ۔ایسی بستیوں کی اکثر وبیشتر اپنی الگ ہی شہری سہولتیں ہوتی ہیں ،جیسے پانی اور بجلی کی سپلائی ،پہرہ اور حفاظت کاانتظام ۔

عملی کام6

کیا آپ نے اپنے شہر میں ایسی محصور بستیوں کودیکھا ہے ؟ یا آپ ان میں سے کسی میں گئے ہیں ۔اپنے بڑوںسے کسی ایسی بستی کے بارے میں معلوم کیجیے۔ چہار دیواری اور دروازے کب لگائے گئے ؟ کیا کسی نے اس کی مخالفت کی تھی ؟ اگر کی تھی تو کس نے کی تھی ؟   ایسی جگہوں پر رہنے کی کیا وجوہات ہو سکتی ہیں ؟ آپ کے خیال میں شہری سماج اور اس کے گردونواح کی بستیوںپر اس کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں ؟  

  آخری بات یہ ہے کہ مکانوں کے انداز شہر کی معیشت کے ساتھ بہت اہم طریقوں پر وابستہ ہوتے ہیں ۔شہری علاقوں کے ذرائع آمدورفت اور نقل وحمل کانظام صنعتی اور تجارتی کاموں کے مقامات کی نسبت سے رہائشی علاقوں کی جائے وقوع پر براہ راست اور شدید طورپر متاثر ہوتا ہے ۔اگر یہ ایک دوسرے سے بہت فاصلے پرہیں ،جیسا کہ اکثر ہوتا ہے ،تو اس صورت میں بڑے پیمانے کا آمدورفت کا نظام بنانا اور قائم رکھنا اشد ضروری ہے ۔کام یا ملازمت کی جگہ اور گھر کے درمیان آنا جانا ایک طرز زندگی بن جاتا ہے اور ممکنہ رکاوٹ اورگڑ بڑکا ہمیشہ نظر آنے والا ایک سرچشمہ بھی ،شہر میں کام کرنے والے لوگوں کی زندگی کے معیار پر ٹرانسپورٹ کے نظام کابراہ راست اثر پڑتا ہے ۔سڑکوں کے ذرائع آمدورفت پر انحصار اور خاص طورپر عوامی ذرائع کے بجائے نجی ذریعوں (یعنی بسوں کی جگہ کاروں) پر انحصار  

لمبی دوری کے روزانہ آنے جانے والے لوگ ایک با رسوخ اور موثر سیاسی حلقہ بن سکتے ہیں اور کبھی کبھی باقاعدہ وسیع پیمانہ کی اپنی ذیلی ثقافتیں بنا لیتے ہیں۔ مثال کے طور پر ممبئی کی مضافاتی ریل گاڑیاں ،جنھیں عام طور پر ’’مقامی ‘‘ کہا جاتا ہے ،ان کی روزانہ کے مسافروں کی بہت سی غیر رسمی انجمنیں بنی ہوئی ہیں۔ ٹرین میں سفر کے دوران کی اجتماعی سر گرمیوں میں بھجن گانا ،تہوار منانا ، سبزیاں کاٹنا ،تاش کھیلنا اور بورڈ یا تختہ پر کھیلے جانے والے کھیل (بشمول ٹورنامنٹ) یا محض عام میل جول شامل ہوتے ہیں ۔

ٹریفک کی بھیڑ بھاڑ اور گاڑیوں سے پیداشدہ آلودگی اور کثافت کا مسئلہ پیدا کرتا ہے ۔جیسا کہ اوپر کی گفتگو سے آپ پر واضح ہو گیا ہوگا رہنے کے لیے جگہ کی تقسیم کا بظاہر سیدھا سادہ معاملہ در اصل شہری سماج کا ایک بہت ہی پیچیدہ اور کثیر جہتی پہلو ہے ۔

شہری علاقوں میں سماجی تبدیلی کی شکل اور مواد کو جگہ کے مرکزی سوال کے تعلق سے بہترین طور پر سمجھا جا سکتا ہے ۔تبدیلی کاایک صاف طور پر نظر آنے والا عنصر وہ اتار چڑھاؤ ہوتے ہیں جو خاص بستیوں اور محلوں میں محسوس کیے جاتے ہیں ۔پوری دنیا میں شہر کامرکز ۔یا اصلی شہر کے بیچوں بیچ کا علاقہ۔قیمت کی بہت سی تبدیلیوں سے گزرا ہے ۔انیسویں اور بیسویں صدی میں اقتدار کا مرکز رہنے کے بعد ،شہر کا مرکز بیسویں صدی کے دوسرے نصف میں زوال کے دور سے گزرا۔یہ مضافات کے فروغ کازمانہ بھی تھا کیوں کہ مال دار طبقوں نے شہر کے اندرونی علاقوں کوچھوڑکر مختلف وجوہات کی بناء پر مضافات یعنی باہری بستیوں کی طرف رخ کرنا شروع کردیاتھا ۔مغربی ممالک کے بڑے بڑے شہروں میں شہروں کے مراکز کودوبارہ زندہ کرنے کی ابتداء ہوئی ہے ۔یہ اجتماعی زندگی کودوبارہ زندہ کرنے کی کوششوں کے طورپر کیا جا رہا ہے۔اسی سے متعلق ایک مظہر ’’شرفاء کی بستیاں بسانا ‘‘ہے جس کا مطلب ہے کہ پہلے کی نچلے طبقے کی بستیوں کو متوسط اور اعلیٰ طبقوں کی بستیوں میں تبدیل کرنا ۔جوں جوں جائدادوں کی قیمتیں بڑھتی ہیں بستیاں بنانے والوں کے لیے اس طرح کی تبدیلی کی کوشش اور تکمیل زیادہ منافع بخش ثابت ہوتی ہے ۔کسی نہ کسی وقت ایسی مہم اپنی تسکین کاباعث ہوجاتی ہے کیوں کہ مکانوں کے کرائے بڑھتے ہیں اور محلہ یا علاقہ کو ایک خوشحال کاروبار اور خوش حال مکین مل جاتے ہیں ۔ لیکن کبھی کبھی ایسی کوشش ناکام بھی ہوسکتی ہے اور بستی نچلے درجہ کے پیمانے پر نیچے آجاتی ہے اور اپنی پرانی حیثیت پر لوٹ آتی ہے ۔

عملی کام 7

کیا آپ اپنے پڑوس یا ارد گرد کے علاقہ میں ’شرفاء کی بستیاں قائم کرنے ‘‘یا’’ درجہ بلند‘‘ کرنے کا کام ہوتے دیکھا ہے ؟ کیاآپ کے علم میں ایسی مثالیں ہیں ؟ معلوم کیجیے کہ اس کے ہونے سے پہلے بستی کا کیاحال تھا ۔ اب یہ کن معنوں میں بدلی ہے ؟ ان تبدیلیوں کا مختلف سماجی گروپوں اور طبقات پر کیا اثر پڑا ہے ؟ اس کا فائدہ کس کو ہوتااور اس سے کون نقصان میں رہتا ہے ؟ اس قسم کی تبدیلیوں کا فیصلہ کون کرتا ہے ؟ کیا ووٹ دیا جاتا ہے یا کسی قسم کی کھلی بحث ہوتی ہے ؟  


  عوامی ذرائع آمدو رفت کے طریقوں میں تبدیلیاں اہم سماجی تبدیلی لا سکتی ہے ۔سستا، کارگر اور محفوظ نظام نقل وحمل شہری زندگی کو بہت مختلف بنا دیتا ہے اور معاشی تقدیر کو بدلنے کے علاوہ شہر کے سماجی کردار کی تشکیل کر سکتا ہے ۔بہت سے دانشور وں نے لندن اور نیویارک جیسے عوامی ذرائع نقل وحمل پر مبنی شہروں اور لاس اینجلز کی طرح نجی موٹر گاڑیوں پر منحصر شہروں کے فرق کے بارے میں لکھا ہے ۔مثال کے طور پر اب یہ دیکھنا ہے کہ دہلی کی نئی میڑو ریل آیا شہر کی سماجی زندگی میں کوئی اہم فرق لا سکے گی یا نہیں ۔لیکن شہروں کی سماجی زندگی میں تبدیلی کے ضمن میں خصوصاً تیزی کے ساتھ شہر کاری کرتے ملکوں کے ضمن میں اہم سوال یہ ہے کہ شہر کس طرح آبادی میں لگاتار اضافہ کا سامنا کرے گا جب کہ تارکین وطن اس کے قدرتی فروغ میں اضافہ کرنے کے لیے آتے ہی رہتے ہیں ۔


فہرست اصطلاحات  

کسٹم ڈیوٹی ،محصول  (Customs Duties, Triffs)  اس سامان پر عائد ٹیکس ملک میں آتی ہے اور ملک سے باہر جاتی ہیں جن سے ان چیزوں کی قیمت بڑھتی ہے اور مقامی طور پر تیار کے مقابلے میں مہنگی پڑتی ہیں اور اس طرح کم مسابقتی ہو جاتی ہے ۔

برتر ذاتیں  (Dominant Castes)  یہ اصطلاح جو ایم ۔این ۔سری نواس سے منسوب کی جاتی ہے ۔ان سے مراد زمین کی ملکیت رکھنے والی درمیانی ذاتیں ہیں جو تعداد میں زیادہ ہیں اور اس لیے اپنے علاقے میں انھیں سیاسی برتری حاصل ہوتی ہے ۔

محصو ر بستیاں  (Gated Communities)  شہری علاقے (عموماً اعلیٰ طبقہ اور خوش حال لوگ ) جنھیں ارد گرد نواح سے باڑ لگا کر یا دیواروں کے ذریعے اور بڑے بڑے دروازے لگا کر الگ کر دیا جاتا ہے  

شرفاء کی بستیاں بسانا   (Gentrification)  نچلے طبقہ کی (شہری) بستی کو متوسط یا امیر طبقہ کی بستی میں تبدیل کرنا  

یہودی باڑہ ،یہودی باڑی بنانا ایک طرح کے لوگوں کا محلہ بنانا (Ghetto, Ghettoization)اصل میں اس اصطلاح سے لیا گیا ہے جو اس محلہ کے لیے استعمال کی جاتی تھی جہاں عہد وسطیٰ کے یوروپی شہروں میں یہودی رہا کرتے تھے ۔آج کل یہ اصطلاح کسی بھی ایسی بستی کے لیے استعمال کی جاتی ہے جہاں ایک ہی مذہب ،نسل ،ذات یا کوئی دوسری مشترکہ شناخت کے لوگوں کا جمگھٹ ہو ۔ ایسی بستیاں بسانا وہ عمل ہے جس کے ذریعہ ملے جلے لوگوں کی بستی کو ایک ہی فرقہ کی بستی میں بدل دیا جائے ۔

جائز بنانا (Legitimation)جائز بنانے کا عمل یا وہ وجوہات جن کی بنیاد پر کسی چیز کو جائز سمجھا جائے یعنی انصاف پر مبنی، مناسب اور صحیح وغیرہ   

بڑے پیمانے کی منتقلی (Mass Transit)شہر میں لوگوں کی بہت بڑی تعداد کے لیے تیز رفتار ذرائع نقل وحمل  


مشقیں  

سوال   .1 کیا آپ اس بیان سے متفق ہوں گے تیز رفتار سماجی تبدیلی انسانی تاریخ میں مقابلتاً ایک نیا مظہر ہے ؟

سوال   .2 سماجی تبدیلی اور دوسری قسم کی تبدیلیوں میں کس طرح امتیاز کیا جا سکتا ہے ؟

سوال.3    ڈھانچہ کی تبدیلی سے آپ کیا سمجھتے ہیں ؟ایسی مثالوں کے ذریعے واضح کیجیے جو اس کتاب کے متن میں نہیں ہیں ۔

سوال.4    ماحول سے وابستہ سماجی تبدیلی کی چند قسمیں بیان کیجیے۔

سوال.5 چند قسم کی وہ تبدیلیاں بتایئے جو معیشت اور ٹیکنالوجی کی وجہ سے آئی ہیں ۔

سوال .6 سماجی نظم کا کیا مطلب ہے اور اسے کس طرح بر قرار رکھا جاتا ہے ؟

سوال.7 اتھارٹی یا اقتدار کیا ہے اور یہ کس طرح قانون کی بر تری سے جڑا ہوا ہے ؟

سوال.8 گائوں قصبہ اور شہر میں کیا فرق ہے ؟

سوال.9    دیہی علاقوں میں سماجی نظم کی چند خصوصیات کیا ہیں ؟

سوال.10 شہری علاقوں میں سماجی نظم کو در پیش مشکلات کو ن سی ہیں ؟