Skip to content

Mutala-e-maashira باب  3

ماحول اور سماج
ENVIRONMENT AND SOCIETY


  اپنے ارد گرد دیکھئے ۔آپ کو کیا نظر آتا ہے ؟ اگر آپ کلاس روم میں ہیں تو آپ کو طلباء یونیفارم میں یعنی اسکولوں کے لباس میں کرسیوں پر بیٹھے دکھائی دے سکتے ہیں، جن کے ڈیسکوں پر کتابیں کھلی رکھی ہیں۔ اسکول کے بستے ہیں، جن میں دوپہر کا کھانا اور پنسل باکس ہیں ۔ہو سکتا ہے سر کے اوپر پنکھے فَر فَر چل رہے ہوں۔ کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ یہ سب چیزیں ـــ —اسکول کا لباس، فرنیچر،بستے ،بجلی کہاں سے آتے ہیں ؟ اگر آپ ان کی اصل اور ابتدا کو تلاش کریں تو آپ کو پتہ چلے گا کہ ہر مادّی چیز کا سر چشمہ قدرت میں ہے ۔ہر روز ہم ایسی چیزوں کو استعمال کرتے ہیں جن کی پیداوار میں دنیا بھر کے قدرتی وسائل کا استعمال ہوا ہے ۔ آپ کے کلاس روم کی کرسی لکڑی کی بنی ہوئی ہو سکتی ہے جس میں لوہے کی کیلیں، گوند اور وارنش لگا ہوا ہے ۔جنگل یا باغ کے ایک درخت سے اس کو آپ تک پہنچنے میں بجلی ، ڈیزل ،تجارتی سہولتوں اور مواصلات جیسی چیزوں پر دارومدار کرنا پڑا ہے۔ راستہ میں یہ درختوں کے کندے کاٹنے والوں، بڑھیوں، سپروائزروں اور مینیجروں، سامان لانے لے جانے والوں، تاجروں اور ان لوگوں کے ہاتھوں سے گزری ہوںگی جو اسکول کا فرنیچر خریدنے کے ذمہ دار ہیں ۔یہ پیداوار اور تقسیم کار کرسی بنانے میں جن ضروری چیزوں کو مہّیاکرتے ہیں خود قدرت کی کئی طرح کی اشیاء اور خدمات کا استعمال کرتے ہیں ۔ کوشش کیجیے اور ان وسائل کا نقشہ تیار کیجیے۔ آپ کو جلد ہی معلوم ہو جائے گا کہ یہ رشتے کتنے پیچیدہ ہوتے ہیں !
اس باب میں ہم ماحول کے ساتھ سماجی رشتوں کا مطالعہ کریں  گے۔دیکھیں گے کہ وقت گزرنے کے ساتھ یہ کس طرح بدلے ہیں ۔   ایک جگہ سے دوسری جگہ کس طرح ان میں فرق آجاتا ہے ۔ایسے تغیرات کا تجزیہ کرنا اور منظم طریقے سے ان کے معنٰی سمجھنا بہت ضروری اوراہم ہے ۔فوری نوعیّت کے بہت سے ماحولیاتی مسائل ہیں جن کے جانب ہمیں توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ان بحرانوں پر مؤثر طریقے سے توجہ مبذول کرنے کے لیے ہمیں ضرورت ہے۔ ایک سماجیاتی خاکہ جس سے ہم یہ سمجھ سکیں کہ یہ کیوں پیدا ہوتے ہیں اور ان کو واقع ہونے سے کس طرح روکا جا سکتا ہے اور کیسے حل کیا جا سکتا ہے ؟
ہر سماج کی ایک ماحولیاتی بنیاد ہوتی ہے ۔ماحولیات کی اِصطلاح کے معنی ہیں—طبیعی اور حیاتیاتی نظاموں اور عوامل کا ایک جال جس کا ایک عنصر انسان ہیں ۔ پہاڑ اور دریا ،میدان اور سمندر اور وہ نباتات اور حیوانات جن کو یہ سہارا دیتے ہیں ، ماحولیات کا حصہ ہیں ۔کسی مقام کی ماحولیات اس جگہ کے جغرافیہ اور مائیات یا علم آب (hydrology)کے باہمی تعلق سے متأثر ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر، صرف ریگستان میں پائے جانے والے پودے اور حیوانات وہاں کی قلیل بارش، پتھریلی اور ریتیلی مٹی اور شدید درجۂ حرارت کے عادی ہوجاتے ہیں اور خود کو اس کے مطابق ڈھال لیتے ہیں ۔اسی طرح کے ماحولیاتی عوامل انسان کے ایک خاص جگہ پر رہ سکنے کو محدود بناتے اور اس کو ایک شکل وصورت عطا کرتے ہیں۔تاہم وقت گزرنے کے ساتھ انسانی حرکات وسکنات نے ماحولیات میں تبدیلی پیدا کردی ہے ۔مثال کے طور پر بنجرپن یا سیلاب کا میلان اکثر وبیشتر انسان کی دخل اندازی سے پیدا ہوتے ہیں۔کسی دریا کے بالائی حصہ کے آب گیرہ کے علاقے میں جنگلات کاٹے جانے سے دریا میں سیلاب آنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔کرۂ ارض کے گرم ہونے کی وجہ سے آب وہوا میں آئی۔ تبدیلی قدرت پر وسیع پیمانے کی انسانی حرکتوں کے اثر کی ایک اور مثال ہے ۔وقت گزرنے کے ساتھ ماحولیاتی تبدیلی کے ذمہ دار انسانی عناصر اور قدرتی عوامل کے درمیان فرق کرنا اکثر مشکل ہو جاتا ہے۔
طبعی حیاتیاتی صنعتوں کے ساتھ ساتھ ،جو انسانی کارگزاری کی وجہ سے بدل چکی ہوں ،جیسے کسی دریا کا بہاؤ اور  

عملی کام 1

کیا آپ کو معلوم ہے کہ دہلی کے پہاڑی جنگل (Ridge forest) اس علاقہ کی قدرتی نباتات نہیں ہیں بلکہ اسے انگریزوں نے 1915کے آس پاس لگایا تھا ؟ اس جنگل کا خاص اور نمایاں درخت ولایتی کیکر یا ولایتی ببول ہے جو جنوبی امریکا سے ہندوستان لایا گیا تھا،جو اب پورے شمالی ہند میں یہیں کا قدرتی درخت بن گیا ہے ۔

کیاآپ جانتے ہیں کہ اتر آنچل کے کاربیٹ نیشنل پارک کے وسیع وعریض مرغزار ،جنھیں چَورز کے نام سے جانا جاتا ہے، ایک زمانے میں زرعی کھیت تھے ؟ اس علاقہ کے گائوں کو یہاں سے منتقل کر کے دوسری جگہ بسایا گیاتھا، جو اب ایک قدیمی بیاباں معلوم ہوتا ہے۔ کیاایسی جگہوں کی کچھ اور مثالیں سوچ سکتے ہیں ۔جہاں اب قدرتی نظر آنے والا منظر در اصل ثقافتی اختراعات کی وجہ سے بدل چکا ہے ۔  


جنگلات کی مختلف اقسام کی ترکیب۔ہمارے ارد گرد دوسرے ماحولیاتی عناصر ہیں جنھیں انسان نے بنایا ہے ۔ایک زراعتی فارم جس میں مٹی اور پانی کو محفوظ کرنے کے لیے مشینیں لگی ہوئی ہیں؛ اس کے کاشت کے پودے اورسَدھائے ہوئے جانور موجود ہوں؛جہاں کیمیائی کھادوں اور کیڑے مار دواؤں کا استعمال ہوتا ہو—صاف طورپر انسان کی طرف سے قدرت کی کایا پلٹ کرنے کا کام ہے ۔شہروں کا تعمیر شدہ ماحول جسے روڑی، سیمنٹ، اینٹوں ، پتھروں ،شیشہ اور ڈامر سے بنایا گیا ہے ،اگر چہ قدرتی وسائل استعمال کرتا ہے لیکن انسان کا بنایا ہوا ہے ۔
ایک باندھ (پشتہ)
2nd
ایک چھوٹا باندھ (پشتہ)
3rd
سماجی گِرد و نواح اور ماحول حیاتیاتی طبعی ماحولیات اور انسان کی دخل اندازی کے درمیان تعلق سے ابھرتے ہیں ۔یہ ایک دو طرفہ عمل ہے۔بالکل اس طرح جیسے قدرت سماج کو شکل وصورت دیتا ہے اور سماج قدرت کوشکل دیتا ہے۔ مثال کے طور پر، ہند گنگا کے سیلابی میدان کی مٹی زور دار زراعت کو ممکن بناتی ہے ۔یہاں کی اعلیٰ پیداوار یت کی وجہ سے گھنی آبادی والی بستیاں بسی ہوئی ہیں۔ فاضل پیداوار اتنی ہوتی ہے کہ دوسری غیر زراعتی   سرگرمیوں کو بھی مدد بہم پہونچاتی ہے اور اس سے پیچیدہ نوعیت کے مراتیبی معاشرے اور ریاستیں وجود میں آتی ہیں ۔اس کے برعکس راجستھان کا ریگستان صرف چرواہوں کو سہارا دے سکتا ہے جو اپنے مویشیوں کو چارے کی فراہمی کے لیے ایک جگہ سے دوسری جگہ مارے مارے پھرتے ہیں ۔ماحولیات کے انسانی زندگی اور ثقافت کی شکل وصورت بنانے کی کئی مثالیں موجود ہیں۔دوسری جانب سرمایہ داری کی سماجی تنظیم نے دنیا بھر میں قدرت کو شکل وصورت دی ہے ۔نجی موٹر کار سرمایہ دارانہ شے کی ایک مثال ہے جس نے زندگیوں اور زمینی مناظر کو بالکل ہی تبدیل کر دیا ہے۔ شہروں میں فضائی آلودگی اور بھیڑ بھاڑ،علاقائی تنازعات اور تیل کے لیے جنگیں اور پھر کرۂ ارض کی حرارت کا بڑھنا موٹر کاروں کے صرف چند ماحولی اثرات ہیں ۔انسانی دخل اندازیوں کی بڑھتی قوت ماحولوں کو بدلنے کی اہلیت رکھتی ہیں۔ اور اکثر یہ تبدیلیاں مستقل نوعیّت کی ہوتی ہیں ۔

برطانیہ کے صنعتی انقلاب کے ماحولیاتی اثرات پوری دنیا میں محسوس کیے گیے تھے۔شمالی امریکاکے جنوبی حصے اور جزائر کیریبیّن کو لنکا شائر کے روئی کے کارخانوں کی ضرورتوں کو پورا کرنے کی غرض سے باغات میں بدل دیا گیا ۔مغربی افریقہ کے نوجوانوں کو روئی کے باغات میں مزدوروں کی حیثیت سے کام کرنے کے لیے زبردستی لے جایا گیا ۔مغربی افریقہ کی آبادی میں کمی کی وجہ سے وہاں کی زراعت زوال پذیر ہوئی اور کھیت بنجر خالی زمین میں تبدیلی ہوگئے۔ برطانیہ میں کوئلہ جلانے والے کارخانوں کے دھوئیں نے فضا کو آلودہ کر دیا ۔دیہات سے اجڑے ہوئے کسان اور مزدور کام کے لیے شہروں کی طر ف آئے اور خستہ حالت میں زندگی بسر کرنے لگے ۔روئی کی صنعت کے ماحولیاتی قدموں کے نشان تمام شہری اور دیہی ماحولوں میں نظر آنے لگے ۔


ماحول اور سماج کے درمیان باہمی تعلق کی صورت شکل سماجی تنظیم سے بنتی ہے ۔جائداد کے تعلقات فیصلہ کرتے ہیں کہ کس طرح اور کون قدرتی وسائل کو کام میں لا سکتا ہے ۔مثال کے طور پر اگر جنگل حکومت کے زیر ملکیت ہیں تو حکومت کو یہ فیصلہ کرنے کا اختیار ہوگا کہ وہ انھیں لکڑی کے سودا گروں کو پٹَّہ پر دے یا گاؤں والوں کو جنگل کی پیداوار اکٹھی کرنے دے ۔زمین او رپانی کی نجی ملکیت اس بات پر اثر ڈالے گی کہ آیا دوسرے لوگوں کی رسائی ان وسائل تک ہو سکتی ہے یا نہیں ۔اگر ہو سکتی ہے تو کن شرائط پر ۔وسائل کی ملکیت اور اختیار کا پیداواری عمل میں تقسیم کار سے بھی تعلق ہوتا ہے۔  
بے زمین مزدوروں اور عورتوں کا قدرتی وسائل سے رشتہ مردوں کی بہ نسبت مختلف ہوتا ہے ۔دیہی ہندوستان میں عورتوں کو وسائل کی قلت زیادہ در پیش ہوسکتی ہے کیونکہ ایندھن اور پانی لانے کا کام عام طور پر عورتیں کرتی ہیں لیکن ان وسائل پر ان کا کوئی اختیار نہیں ہوتا ۔مختلف سماجی گروپوں کے ماحول کے ساتھ تعلق کو سماجی تنظیم متأثرکرتی ہے ۔  
ماحول اور سماج کے درمیان مختلف قسم کے رشتے مختلف سماجی قدروں اور اصولوں اور واقفیت کے نظاموں کو ظاہر کرتے ہیں۔ سرمایہ داری کی اقدار نے قدرت کو ایسی اشیاء بنا ڈالا ہے جو منافع کے لیے خریدی اور بیچی جا سکتی ہیں ۔مثال کے طورپر، کسی دریا کے بہت سے ثقافتی مفہوم یعنی اس کی ماحولیاتی، افادی، روحانی اور جمالیاتی اہمیت کو کم کرکے محض ایک مقصد یعنی اس کے پانی کو کسی کاروباری شخص کو فروخت کر کے نفع ونقصان کی نظر سے دیکھا جاتا ہے ۔ بہت سے ملکوں میں انصاف او رمساوات کی اشتراکی قدروں کی بناء پر زمین کو بڑے زمینداروں سے چھین کر بے زمین کسانوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے ۔مذہبی اقدار کے نام پر کچھ سماجی گروپوں نے مقدس جنگلات اور جانداروں وغیرہ کی دوسری قسموں ا ور دیگر تحفظ اور انھیں حفاظت کے ساتھ رکھنے کا ذمہ لے رکھا ہے وہ یہ سمجھتے ہیں کہ انھیں خدا نے یہ حق دیا ہے کہ اپنی ضرورتوں کے مطابق ماحول کو بدل سکیں۔
ماحول او رسماج کے ساتھ اس کے تعلق کے بارے میں بہت سے مختلف قسم کے زاویہ ہائے نگاہ ہیں ۔ان اختلافات میں قدرت کی پرورش کی بحث اور آیا انفرادی خصوصیات پیدائشی ہوتی ہیں یا ماحول سے متأثرہوتی ہیں ۔ مثلاً: کیا لوگ اس وجہ سے غریب ہوتے ہیں کہ وہ پیدائشی یا قدرتی طور پر کم با صلاحیت ہیں یا محنتی ہیں یا ا س وجہ سے کہ انھیں مواقع حاصل نہیں ہیں اور وہ غیرمفید حالات میں پیدا ہوئے ہیں ؟ ماحول اور سماج کے بارے میں نظریات اور تفصیلات ان سماجی حالات سے متأثر ہوتے ہیں جن میں سے وہ نکل کر سامنے آتے ہیں ۔اس طرح ایسے خیالات پر کہ عورتیں بنیادی طور پر اور در حقیقت مرَدوں سے کم قابل ہوتی ہیں؛ کالے لوگ قدرتاً سفید فام لوگوں کے مقابلے کم اہل ہوتے ہیں ۔ ایسی سوال اٹھے تھے اور انھیں چیلنج کیا گیا تھا ۔یہ تب ہوا جب اٹھارویں صدی کے سماجی اور سیاسی انقلابات کے دوران مساوات کے خیالات زیادہ عام ہو گئے ۔نوآبادیاتی نظام نے ماحول اور سماج کے بارے میں بہت واقفیت او رمعلومات تیار کی ۔ ان معلومات کو شہنشاہی طاقتوں کو وسائل دستیاب کرانے کے لیے با قاعدہ مُرتَّب کیا جاتا تھا ۔جغرافیہ ،ارضیات ،علم نباتات ، جنگل بانی ،پَن انجینیٔرنگ علم حیوانات، ان بہت سے مضامین میں شامل تھے جو تیار کئے گئے او راداروں کی شکل میں قائم کیے گیے تاکہ نوآبادیاتی مقاصد کو پورا کرنے کے لیے قدرتی وسائل کے انتظام میں آسانی ہو ۔
ماحول کا بندوبست بہر حال ایک مشکل کام ہوتا ہے ۔ طبعی حیاتیاتی عملیات کے بارے میں کافی معلومات موجود نہیں ہیں۔ اس لیے ان کی پیشین گوئی کرنا اور ان پر قابو پانا مشکل ہوتا ہے ۔اس کے علاوہ ماحول کے ساتھ انسانی رشتے پیچیدہ تر ہوتے جارہے ہیں ۔صنعت کاری کے پھیلنے کی وجہ سے وسائل کا نچوڑا جانا تیز ہوا ہے اور بڑھتا جارہا ہے جس کی وجہ سے ماحولیاتی نظام پر غیر معمولی اثر پڑا ہے ۔ پیچیدہ صنعتی تکنیکوں اور تنظیم کے طریقوں کو جدید ترین اور مشکل قسم کے بندوبست کے نظام در کار ہوتے ہیں جو اکثر بہت نازک ہوتے ہیں اور غلطی کا شکار ہو سکتے ہیں ۔ہم پُر خطر سماج میں رہتے ہیں اور تکنیکی چیزوں کا استعمال کرتے ہیں جن کوہم پوری طرح نہیں جانتے۔چرنوبل کی طرح نیو کلیائی تباہ کاریاں،بھوپال کا صنعتی حادثہ اور یوروپ میں ’’پاگل گائے‘‘ (Mad Cow)کی بیماری وغیرہ صنعتی ماحول میں پنہاں خطروں کو ظاہر کرتے ہیں ۔

بھوپال کا صنعتی حادثہ : مورد ِاِلزام کون تھا ؟  

3دسمبر 1984کی رات کو بھوپال میں ایک جان لیوا گیس پھیلی جس سے تقریباً 4,000 لوگ مارے گئے اور دیگر 2لاکھ لوگ اپاہج ہو گئے تھے ۔بعد میں پتہ چلا کہ یہ گیس میتھائل آئی سو سائینیٹ (ایم آئی سی ) تھی جو شہر میں یونین کاربائیڈ کی کیڑے مار دوائیں بناے والے کارخانے سے حادثتاً خارج ہوگئی تھی ۔سائنس اور ماحول کے مرکز نے اپنی دوسری رپورٹ میں اس تباہی کے اسباب کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھا:  

1977میں یونین کاربائیڈ کی بھوپال میں آمد کا سب نے خیر مقدم کیا تھا کیونکہ اس کا مطلب تھا بھوپال کے لیے روزگار اور پیسہ سبز انقلاب کے بعد اور کیڑے مار دوائوں کی بڑھتی ہوئی مانگ کے پیشِ نظر
ملک کے لیے زرِ مبادلہ کی بچت ۔ایم ۔آئی۔سی پلانٹ شروع ہی سے گڑ بڑ کر رہا تھا اور اس میں رساؤ تھے ،جن میں ایک وہ بھی شامل تھا جس کے سبب پلانٹ کو چلانے والے ایک شخص کی موت واقع ہو چکی تھی ۔یہ بڑے حادثہ سے پہلے ہوا تھا ۔تاہم حکومت لگاتار تنبیہوں کی ان دیکھی کر تی رہی ۔خاص طور پر بھوپال میونسپل کارپوریشن کے افسر اعلیٰ کی تنبیہ کہ جس نے 1975میں یونین کاربائیڈ کو نوٹس جاری کر کے بھوپال سے باہر جانے کو کہا تھا ۔اس افسر کا تبادلہ کر دیا گیا اور کمپنی نے کارپوریشن کو ایک پارک کے لیے 25ہزار روپے کا چندہ دیا ۔

تنبیہیں لگاتار آتی رہیں ۔مئی 1982میں یونین کاربائیڈ ،امریکا کے تین ماہروں نے حفاظتی اقدامات کا جائزہ لیا او رچونکا دینے والی غلطیوں کی نشان دہی کی ۔ان خدشات کی خبر ایک مقامی ہفتہ وار ’’رپٹ‘‘ میں چھپی جو بعد میں 1982میں پیغمبرانہ پیشین گوئیوں کے سلسلۂ مضامین میں شکل میں سامنے آئی۔ اسی وقت فیکٹری کے ملازمین کی یونین نے مرکزی وزراء اور وزیر اعلیٰ کو بھی لکھا اور صورت حال سے متنبہ کیا۔ ریاست کے وزیر محنت نے کئی بار قانون ساز اسمبلی کے گیس کے رسنے کا صرف چند ہفتوں میں فیکٹری کو ریاست کے آلودگی کنٹرول بورڈ نے اعتراض نہ ہونے کا سرٹیفکٹ دے دیا تھا ۔ مرکزی حکومت لاپرواہی کے لیے ریاستی حکومت سے بھی آگے تھی ۔اس نے کارخانے کو اجازت نامہ دیتے وقت اس کے حفاظتی ریکارڈ کو نظر انداز کر دیا اور محکمۂ ما حولیات کی خطرناک مشینوں کے لگانے سے متعلق ہدایات اور ضوابط کی بھی ان دیکھی کی ۔

رہ نما اصولوں اور تنبیہوں کو نظر انداز کئے جانے کی وجہ صاف ہے ۔کمپنی میں طاقتور سیاست دانوں اور سرکاری افسران اعلیٰ کے رشتہ دار ملازم ہیں ۔اس کا قانونی مشیر ایک اہم سیاسی لیڈر ہے اور اس کا افسر تعلقات عامہّ کے ایک سابق وزیر کا بھتیجہ ہے۔کمپنی کا شاندار مہمان خانہ سیاست دانوں کے لیے ہر وقت حاضر تھا ۔وزیر اعلیٰ کی بیوی کے بارے میں کہا گیا کہ امریکا کے دورے کے دوران ان کی شاندار مہمان نوازی کی گئی اور کمپنی نے وزیر اعلیٰ کے وطن میں ایک فلاحی تنظیم کو 1.5لاکھ(ڈیڑھ لاکھ روپے) کا چندہ دیا تھا ۔

یونین کاربائیڈ نے بھی اس المیہ کے بعد اپنا پورا کردار ادا کیا ۔بھوپال پلانٹ کا ڈیزائن نا مکمل تھا اور اس میں بہت سی حفاظتی خصوصیات موجود نہیں تھیں ۔اس میں جلد آگاہ کرنے کا کمپیوٹری نظام موجود نہ تھا جو کہ امریکامیں اس طرح کی کمپنی کی فیکٹریوں میں ایک لازمی آلہ ہوتا ہے ۔کمپنی نے مقامی بستیوں کے ساتھ مل کر ہنگامی صورت حال میں لوگوں کو باہر نکالنے کے طور طریقے بھی تیار نہیں کئے تھے ۔پلانٹ کی دیکھ بھال بھی نہیں ہوتی تھی اور وہ مطلوبہ کار گزاری کی سطح پر کام نہیں کر رہا تھا ۔حوصلہ پست تھا کیونکہ فروخت کم ہوتی جارہی تھی اور پلانٹ اپنی استعداد کے ایک تہائی حصہ پر کام کررہا تھا ۔عملہ کی تعداد کم کردی گئی تھی اور بہت سے انجینٔیراور مشین چلانے والے کاریگر کام چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ جس کی وجہ سے موجود عملہ کے لیے تمام کام کرنا نا ممکن ہو گیا تھا۔بہت سے اوزار بے کار ہو چکے تھے ۔

مباحثہ : کون سی تنظیمیں اور ادارے بھوپال جیسی تباہی والے صنعتی حادثات کا سبب بنتے ہیں ؟ایسی تباہیوں اور بربادیوں کو روکنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا سکتے ہیں ؟  


ماحول کے بڑے بڑے مسائل اور خدشات 
(MAJOR ENVIRONMENTAL PROBLEMS AND RISKS) 

حالاں کہ ماحولی خطرات کی نسبتی اہمیت ملک بہ ملک اور پسِ منظر بہ پسِ منظر مختلف ہو سکتی ہیں،تاہم درج ذیل اہم خطرات کو پوری دنیا میں تسلیم کیاجاتا ہے۔  

A۔ وسائل کا خاتمہ  (RESOURCE DEPLETION)

ناقابلِ تجدید قدرتی وسائل کو استعمال کرتے کرتے خرچ کردینا ماحولی مسائل میں ایک سب سے زیادہ سنگین مسئلہ ہے ۔اگرچہ قدرتی ایندھن ،خاص طور پر پٹرولیم سرخیوں میں چھائے رہتے ہیں ۔لیکن پانی اور زمین کی بربادی اور خاتمہ اور بھی زیادہ تیز رفتاری سے ہورہا ہے ۔زیرِ زمین پانی کی سطح کا تیزی سے نیچے گرنا پورے ہندوستان میں ایک شدید مسئلہ ہے۔خاص طور سے پنجاب ، ہریانہ اور اترپردیش کی ریاستوں میں وہ تالاب جن میں ہزارہا ہزار برس سے پانی جمع ہوتا آرہا تھا ،چند عشروں ہی میں زراعت ، صنعت اور شہری مرکزوں کی بڑھتی ہوئی مانگ کی وجہ سے خالی ہوتے جارہے ہیں ۔دریاؤں پر باندھ بنا دیے گئے اور ان کے راستے بدل دیے گئے ۔جس سے پانی کی کھاڑیوں کی ماحولیات کو ناقابِل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے ۔شہری علاقوں میں پانی بھری جگہوں (ندی نالوں ،تالابوں وغیرہ) کو بھر کر عمارتیں کھڑی کر دی گئی ہیں ۔جس سے قدرتی نکاس کے راستے برباد ہو گئے ہیں ۔ زیرِ زمین پانی کی طرح مٹی کی اوپری سطح بھی ہزاروں سال میں بنی ہے ۔زرعی وسائل بھی خراب ماحولی بندوبست کی وجہ سے تباہ ہورہے ہیں جس کی وجہ سے مٹی کا کٹا ؤ ،پانی کا اکٹھا ہونے اور شورہ بننے جیسے مسائل پیدا ہو رہے ہیں ۔مکانوں کی تعمیر کے لیے اینٹیں تیار کرنا اوپر کی مٹی کے ختم ہونے کی ایک دوسری وجہ ہے ۔
مختلف النوّع جانوروں اور نباتات کی اقسام کے اصلی مسکن جیسے: جنگل ،مرغزار اور گیلی جگہیں کچھ دیگر قدرتی وسائل ہیں جن کا   تیزی کے ساتھ خاتمہ کا سامنا ہے ۔اس کی بڑی وجہ زراعتی علاقوں کی توسیع ہے۔ اگر دنیا کے مختلف حصوں میں، جن میں ہندوستان کے کچھ علاقے بھی شامل ہیں، حال کے برسوں میں دوبارہ جنگلات لگائے گئے ہیں۔ یعنی نباتاتی پرت میں اضافہ ہوا ہے ۔تاہم مجموعی طور پر حیاتیاتی تنوّع ختم ہونے کی طرف ہی مائل ہے ،ان مساکن (رہنے کے مقامات) کے کم ہونے سے جانداروں کی بہت سے اقسام کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے ۔ جن میں سے چند صرف ہندوستان ہی میں پائی جاتی ہیں ۔آپ نے حال کے بحران کے بارے میں پڑھا ہوگاتب پتہ چلا کہ شیروں کی آبادی تیزی سے کم ہوئی ہے باوجودیکہ سخت قوانین او ر محفوظ مقامات موجود ہیں ۔  

B ۔ آلودگی  

شہری اور دیہی علاقوں میں فضائی آلودگی کو ایک بڑا ماحولی مسئلہ سمجھا جاتا ہے ،جو سانس کی بیماریوں اور دوسری مشکلات کاسبب ہے جس سے سنگین بیماریاں ہوتی ہیں اور اموات واقع ہوتی ہیں۔ ہوا کی آلودگی کے ذرائع میں صنعتوں اور گاڑی سے

جنگلات کی کٹائی

4th
  دھوئیں کا نکلنا اور گھریلو استعمال کے لیے لکڑی اور کوئلہ کا جلایا جانا شامل ہے۔ ہم سب نے گاڑیوں اور کارخانوں سے پیدا ہونے والی آلودگی کے بارے میں سنا ہے۔ دھواں اگلتی چمنیوں اور کاروں کے گیس باہر پھینکنے والے پائپ دیکھے ہیں۔ لیکن ہم اکثر اس حقیقت کو نہیں سمجھتے ہیں کہ کھانا بنانے کی آگ سے گھر کے اندر پیدا ہونے والی آلودگی بھی خطرہ کا ایک سنگین ذریعہ ہے ۔ یہ بات خاص طور پر دیہی گھروں کے معاملے میں سچ ہے جہاں کچھ کچی  پکّی یا کم جلنے والی لکڑی او رغلط وضع کے چولھوں اور اس کے ساتھ خراب قسم کے روشن دان اور ہوا کے گزر کے ٹھیک انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے گاؤں کی عورتوں کو جوکھم اٹھانا پڑتا ہے کیوں کہ وہی کھانا بناتی ہیں۔ورلڈ ہیلتھ آرگینائزیشن کی رپورٹ بتاتی ہے کہ ۲۰۱۲ تقریبا ۷ ملین لوگوں کی موت فضائی آلودگی کی وجہ سے ہوئی یعنی عالمی اموات میں ہر آٹھ میں سے ایک۔ یہ دریافت پچہلے تخمینہ کے مقابلے دو گنے سے بہی زیادہ ہے اور یہ ثابت کرتی ہے کہ فضائی آلودگی دنیا کے واحد سب سے بڑے صحت کے خطرے کا سبب ہے۔ فضائی کثافت میں کمی سے کروڑوں لوگوں کی زندگی کو محفوظ کیا جا سکتا ہے ۔ اس سے یہ ممکن ہو گیا ہیکہ شہری اور دیہی دونوں علاقوں کو محیط وسیع تر انسانی اعداد و شمار کی مد د سے صحت کو لاحق خطرات کا تفصیلی تجزیہ کیا جاۓ۔ ۲۰۱۲ میں اندرن خانہ فضائی آلودگی کے سبب کل ۳.۳ ملین اور بیرون خانہ فضائی آلودگی کے سبب ۲.۶ ملین اموات واقع ہوئیں ۔
  
صنعتی آلودگی
5th
پانی کی آلودگی بھی ایک سنگین مسئلہ ہے جو زمین کے اوپر اور اندر کے پانی کو متأثر کرتا ہے ۔اس آلودگی کے بڑے سر چشمے صرف گھروں سے نکلنے والی غلاظت اور کارخانوں سے نکلنے والا پانی ہی نہیں بلکہ کھیتوں سے بہہ کر آنے والا پانی بھی ہے،جہاں کیمیائی کھادیں او رکیڑے مار دوائیں بڑی مقدار میں استعمال کی جاتی ہیں ۔دریاؤں وغیرہ کی آلودگی خاص طور پر اہم مسئلہ ہے ۔

بیگن کے کھیت میں کیڑے مار دوائیں چھڑکتے ہوئے  
6th

شہر آواز کی آلودگی میں مبتلا ہیں ،جو بہت سے شہروں میں عدالتی احکامات کا موضوع رہی ہیں۔آواز کی آلودگی کے سرچشموں میں بلند آواز والے لاؤڈ اسپیکر،جو مذہبی اورثقافتی موقعوں پر استعمال کیے جاتے ہیں، سیاسی مہمیں، گاڑیوں کے ہارن او ر گاڑیوں کی آمدورفت یا ٹریفک اور تعمیراتی کام شامل ہیں ۔

C۔کرّۂ ارض کی حرارت میں اضافہ  (GLOBAL WARMING)

کچھ خاص قسم کی گیسوں (کاربن ڈائی آکسائیڈ ،میتیھن اور دوسری گیسیں ) کے اخراج سے ’شیشہ کے گھر‘ کا اثر پیدا ہوجاتا ہے ۔ وہ اس طرح کے یہ گیسیں سورج کی روشنی کو قید کرلیتی ہیں اور انھیں منتشر نہیں ہونے دیتیں ۔اس کی وجہ سے عالمی درجۂ حرارت میں تھوڑا لیکن اہم اضافہ ہوا ہے۔آب وہوا میں اس تبدیلی کے نتیجہ میں قُطُبین کے برفیلے میدان پگھل جاتے ہیں اور سمندر کی سطح کو بلند کر دیتے ہیں جس سے نشیبی ساحلی علاقے زیرِآب ہو جاتے ہیں۔ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ کہ ماحولیاتی توازن متأثرہو جاتا ہے ۔عالمگیر حرارت کے بڑھنے سے پوری دنیا کی آب وہوا میں زیادہ اتار چڑھاؤ اور غیر یقینی حالت پیدا ہونے کا امکان پیدا ہو جاتا ہے ۔دنیا میں کاربن اورگرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں چین اور ہندوستان کا اہم حصہ ہے۔یہ بڑھتا ہی جا رہا ہے ۔

D۔تولیدی اعتبار سے تبدیل شدہ جاندار چیزیں (جانور او رنباتات کی تبدیل شدہ نسلیں )

جینوں کو جوڑنے اور ملانے کے نئے طریقوں کے استعمال سے سائنس داں ایک نوع کے جاندار کی جین دوسری قسم کے جاندار میں داخل کر سکتے ہیں اور اس طرح نئی خصوصیات پیدا کر سکتے ہیں۔مثال کے طور پر Bacillus thuringiensis جرثومہ روئی کی اقسام میں داخل کی گئی ہیں جس سے روئیbollworm   (ایک بڑ اکیڑہ) سے مزاحمت کر سکتی ہے۔ یعنی روئی پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا ۔تولیدی تبدیلی پودے کے بڑھنے کے وقت کو بھی کم کر سکتی ہے -سائز کو بڑھا سکتی ہے اور فصلوں کو محفوظ کر کے رکھنے کی مدت میں بھی اضافہ کر سکتی ہے۔ تاہم تولیدی تبدیلی کے ان لوگوں پر پڑنے والے طویل المدّتی  اثر کے بارے میں ابھی کچھ معلوم نہیں ہے،جو ایسی غذائیں کھاتے ہیں یا ایسی تبدیلی کا ماحولیاتی نظاموں پر کیا اثر پڑتا ہے ۔زراعتی کمپنیاں تولیدی تبدیلی کو جراثیم سے پاک بیج تیار کر نے کے لیے بھی استعمال کر سکتی ہیں جس سے کسان انھیں دوبارہ استعمال نہیں کر سکتے۔ انھیں اس بات کی ضمانت مل سکتی ہے کہ بیج ان کی منافع بخش ملکیت میں رہ سکتے ہیں اور وہ ان پر منحصر رہنے کے کے لیے مجبور ہو جاتے ہیں ۔

E۔قدرتی اور انسان کی پیدا کردہ ماحولی تباہ کاریاں 
(NATURAL AND MAN-MADE ENVIRONMENTAL DISASTERS) 

یہ زمرہ اپنی وضاحت خود کرتا ہے ۔1984میں بھوپال کی تباہ کاری جب یونین کاربائیڈ کے ایک کارخانے سے گیس کے رِسنے سے 4000 لوگ مارے گئے تھے اور 2004کی سُنامی انسان کی پیدا کردہ اور قدرتی تباہ کاریوں کی حالیہ مثالیں ہیں ۔

ماحولیاتی مسائل سماجی مسائل بھی کیوں ہوتے ہیں ؟
(WHY ENVIRONMENTAL PROBLEMS ARE ALSO SOCIAL PROBLEMS)

ماحولی مسائل مختلف گروپوں کو کیسے متأثر کر تے ہیں، یہ کام سماجی عدم مساوات کا ہے ۔سماجی مرتبہ اور قوّت اس حد کو متعیّن کرتے ہیں ۔جہاں تک لوگ خود کو ماحولی بحران سے الگ رکھ سکتے ہیں یا ان پر حاوی ہو سکتے ہیں ۔کچھ معاملوں میں انسانوں کے نکالے ہوئے حل ماحولی عدم مساوات اور تفریق کو اور بد تر بھی کر سکتے ہیں ۔گجرات کے کچھ علاقوں میں جہاں پانی کی قلت ہے، نسبتاً زیادہ امیر کسانوں نے اپنے کھیتوں میں آب پاشی کے لیے زیرِ زمین پانی کو استعمال کرنے کی غرض سے گہرے ٹیوب ویلوں کے بنانے میں پیسہ لگایا ہے ۔بارشوں کے زمانے میں زیادہ غریب کسانوں کے مٹی کے کنویں سوکھ جاتے ہیں اور ان غریب کسانوں کو پینے کے لیے بھی پانی نہیں ملتا۔ ایسے دنوں میں لگتاہے کہ جیسے امیر کسانوں کے نم اور سرسبز کھیت غریب کسانوں کا مذاق اڑارہے ہوں۔کچھ ماحولی تشویش کبھی کبھی ہمہ گیر ہوتی ہیں اور کسی خاص سماجی گروپ کے لیے مخصوص نہیں ہوتیں ۔مثال کے طورپر فضائی آلودگی کو کم کرنا یا حیاتیاتی تنوّع کو محفوظ رکھنا مفاد عامہّ میں نظر آتے ہیں۔ایک سماجیاتی تجزیہ کے مطابق عوامی ترجیحات کا تیار کرنا اور انھیں عملی جامہ پہنانا ضروری نہیں کہ ہر جگہ اور ہر صورت میں سود مندہی ہو۔ مفاد عامہ کا تحفظ فی الحقیقت سیاسی اور معاشی طورپر طاقتور گروپوں کے مفادات کو پورا کرنے کے لیے ہو سکتا ہے، یا غریبوں اور سیاسی طور پر کمزور لوگوں کے مفادات کو نقصان پہنچا سکتا ہے ۔جیسا کہ بڑے باندھوں اور گرد نواح کے تحفظ شدہ علاقوں پر بحث سے ظاہر ہوتا ہے۔بطور مفاد عامہ ماحول ایک گرما گرم بحث کا اکھاڑہ بن گیا ہے ۔
سماجی ماحولیات کا مکتبۂ خیال بتاتا ہے کہ سماجی تعلقات ، بالخصوص املاک اور پیداوار کی تنظیم ماحولی زاویۂ نظر اور رسم ورواج کی صورت وشکل تیار کرتے ہیں۔ مختلف سماجی گروپوں کا ماحول سے مختلف رشتہ ہوتا ہے اور وہ اسے الگ الگ نظریے سے دیکھتے ہیں ۔مثلاً : ایک محکمۂ جنگلات جسے آمدنی کو بڑھانے کے مقصد سے کاغذ کے کارخانے کے لیے بڑی مقدارمیں بانس فراہم کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے، جنگل کو اس کاریگر کے مقابلے مختلف نظر سے دیکھے گا جو بانس کو کاٹ کر اس سے ٹوکریاں بناتا ہے ۔ان کے مختلف نظریات اور مفادات ماحولی تصادم پیدا کرتے ہیں۔اس معنٰی میں ماحولی بحران کی جڑیں سماجی عدم مساوات میں ہوتی ہیں۔ ماحولی مسائل پر توجہ دینے کے لیے ماحول اور سماج کے رشتوں کو بدلنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ پھر اس کے لیے مختلف سماجی گروپوں–عورتوں، مردوں، شہری اور دیہاتی لوگوں، زمینداروں او رمزدوروں کے درمیان رشتوں کو بدلنے کی کوششیں در کار ہوتی ہیں۔ بدلے ہوئے سماجی رشتے مختلف معلوماتی نظاموں اور ماحول کے بندوبست کے طریقوں کو جنم دیتے ہیں اور انھیں بڑھاتے ہیں ۔

صحیح معنوں میں سماجی ماحولیات کو جو چیز ’’سماجی ‘‘ بناتی ہے وہ اِس حقیقت کو، جو اکثر نظر انداز کر دی جاتی ہے ،تسلیم کرنا ہے کہ   تقریباً ہمارے سب ہی ماحولیاتی مسائل مضبوط اور گہرے سماجی مسائل پیدا کرتے ہیں۔اس کے بر عکس موجودہ ماحولیات کو صاف طورپر سمجھا نہیں جا سکتا جب تک کہ سوسائٹی کے اندر کے مسئلوں کے ساتھ پختہ ارادے کے ساتھ نپٹا نہیں جاتا ۔ان کا حل تودور کی بات ہے ۔اس نکتہ کو مزید مادی شکل دیں تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ معاشی ،نسلی ، ثقافتی اور جنس پر مبنی ٹکرائو اور کچھ دوسری کشاکش سنگین ترین ماحولیاتی اکھاڑ پچھاڑ کی جڑیں ہیں ۔یہ یقینا قدرتی تباہ کاریوں کے علاوہ ہیں ۔

Murray Bookchin سیاسی فلسفی اور ادارہ سماجی ماحولیات کے بانی ہیں ۔


ذیل میں ماحول اور سماج کے ٹکراؤکی دو مثالیں دی گئی ہیں:  

بارش نہیں لیکن برف اور پانی کے پارک ہیں
(NO RAIN, BUT SNOW AND WATER PARKS)

پانی کے لیے ترستے وِدھربھہ میں پانی کے پارکوں اور تفریحی مراکز کی تعداد برابر بڑھ رہی ہے ۔

ماحولیات اور معاشیات کے درمیان ایک پیچیدہ رشتہ ہے۔ البتہ یہ بات یقینی ہے کہ اگر دونوں کے مابین توازن نہ رہے گا تو انسانیت کا مستقبل بھی روشن نہ ہو گا۔ پچھلے تین سو سال سے جس انداز سے معاشی ترقی جاری ہے اور جس میں بڑا زور اس بات پر ہے کہ قدرت کو اپنے قابو میں کیا جائے اور اس کو ایک طبقے کے فائدوں کے لیے بے رحمی  کے ساتھ استعمال کیا جائے ۔ اس کے نتیجہ میں جانداروں اور نباتات کی ہزاروں انواع معدوم ہورہی ہیں ۔ بظاہر صنعتی دنیا کی بڑھتی مانگ کو پورا کرنے کے لیے نا قائل تجدید توانائی پر زور اورنئی انواع کی ایک بڑی تعداد کے متعارف کرائے جانے سے ماحولیات کو زبردست نقصان پہنچا ہے۔ تمام دنیا اس بات سے فکر مند ہے کہ اگر قدرتی وسائل کے استعمال کی موجودہ روش باقی رہی اور حیاتیاتی تنوع مزید کچھ عرصے تک ختم ہوتا رہا اتو اگلی نسل کو اس کی قیمت چکانی پڑے گی۔  
پائیدار ترقی کا مطلب ایسی ترقی ہے جس میں موجوده زمانے کی ضروریات بھی پوری ہوں اور ضروریات کی تکمیل کے حوالہ سے آئندہ نسل کی اہلیت کے ساتھ بھی کوئی سمجھوتہ نہ ہو۔ اس بیان میں دو کلیدی تصور ہیں ۔ ایک ضروریات- خاص طور پر دنیا کے غریبوں کی لازمی ضروریات کا تصور ہے جسے غیر معمولی تترجیح دی جانی چاہیے اور دوسرے موجودہ اور آئندہ ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ٹیکنالوی کی صورت حال اور سماجی آرگنائزیشن کے ذریعے ماحول کی صلاحیت پر عائد کی گئی حد بندیوں کا نظریہ ہے۔ Brunt land Report اکتوبر (198)۔  
آج سرمایادارانہ ترقی کی اساس خرچ پر ہے۔ نئی چیزوں کے متعارف کرانے کے لیے پرانی چیزیں برباد کرالینی چاہئیں تا کہ لوگ مسلسل نئی مصنوعات کا استعمال کرتے رہیں ۔ دنیا میں نابرابری بڑھتی جارہی ہے۔ معاشی خوشحالی اور پیداوار کی کوئی بھی مقدار کافی نہیں ہوتی کیوں کہ اب خواہشات ایک بنا اوتار ہیں ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر وہ شخص جو غریب ہے وہ صرف اس لیے حاشیہ پر ہے۔ ایسے لوگوں نے ترقی کی سیڑھی پر قدم نہیں رکھا ہے۔ اب ہماری جرات مند اور جدید تر دنیا میں اس ستم کی ناکامی کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ باقی وہی رہے گا جس میں باقی رہنے کی توانائی ہے اور یہی وہ بات جس نے ڈارون کو پاگل بنا دیا ہو گا ۔  
ہم ایک غیر مساوی دنیا میں رہ رہے ہیں جس میں وسائل اور مواقع پر قبضہ چاہتے ہیں ۔سادگی طبقہ بندی کے پہلے سے موجود نظام نے بیشتر دستیاب وسائل اور مواقع پر قبضہ کرنے کے کام کو بھی طبقات کے لیے بہت آسان بنادیا ہے۔ ہمیں اس دنیا کورہنے لائق بنانا ہے، صرف اپنے لیے نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے۔ ہم حال کی ضرورتوں کو نظرانداز کر سکتے ہیں اور نہ مستقبل کی ضرورتوں کو فراموش ہمیں ایک ایسے سماج کی تعمیر کرنی ہے جہاں سب لوگ برابر ہوں ، جہاں وسائل کی تقسیم مساوی ہو اور جہاں مقصود ترقی ہولیکن یہ تر قی سب کے لیے ہواور کوئی اس سے باہر نہ ہو ۔ یہی چیز ہم کو پاندار بناسکتی ہے۔  
اس روشنی میں اقوام متحدہ کے 193 ممبرملکوں سمیت عالمی سول سوسائٹی نے بہت غور وفکر کر کے پائیدار ترقی کے 17 عالمی مقاصد طے کیے ہیں جس کے 69 اہداف ہیں۔ یہ مقاصد بڑی حد تک اقوام متحدہ کے سابق  سکریٹری  جنرل  بان کی مون کے اس جملہ سے ماخوذ ہیں کہ ’’چوں کہ کوئی Planet B نہیں ہے اس لیے کوئی Plan B بھی نہیں ہے‘‘۔  

جب اس علاقے کے دوسرے حصوں میں پارہ 47ڈگری ہوتا ہے ،یہاں ٹھنڈک رہتی ہے ۔ہم سے تھوڑے فاصلے پرا یک ایسا قطعہ ہے جہاں 13ڈگری درجۂ حرارت ہے۔جھلستے ہوئے درھربھہ میں یہ ہندوستان کا پہلا ’’برفانی گیند‘‘ ہے ۔اس کے فرش کو مضبوط رکھنے کے لیے صرف بجلی کا خرچ 4ہزار روپیہ روزانہ ہے۔ضلع ناگپور (دیہات )کے بازار گائوں گرام پنچایت میں ہنسی مذاق او رکھانے کے گاؤں اور تفریحی پارک میں آپ کا خیرمقد م ہے۔ دفترکے وسیع رقبہ میں مہاتما گاندھی کا مجسمہ آپ کو خوش آمدید کہہ رہا ہے۔ آپ کو یقینی طورپر روزانہ ڈسکو، آئس اسکیٹنگ، برف پر پھسلنے اور ہر قسم کی شراب سے لطف اندوز ہونے کا موقع ملتا ہے۔چالیس ایکڑ کے پارک ہی میں آپ کے لیے 18قسم کے پانی کے پھِسلَن اور کھیل حاضر ہیں ۔کانفرنسوں سے لے کر پارٹیوں تک کی خدمات حاضر ہیں ۔

پانی کو ترستے وِدَربھہ میں ایسے پارکوں اور تفریحی مراکز کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے ۔ شیو گاؤں، بُلڈانا میں ایک مذہبی ٹرسٹ مراقبہ کا مرکز اور تفریحی پارک چلاتا ہے۔اس کے اندر 30ایکڑ کی مصنوعی جھیل کو باقی رکھنے کی کوششیں ان گرمیوں میں ناکام ہوگئیں لیکن اس کوشش کے دوران بے حساب پانی ضائع ہو گیا ۔اس مرکز میں داخلہ کے ٹکٹوں کو ’’عطیے‘‘ کا نام دیا گیا ہے ۔یاوت مال میں ایک نجی کمپنی ایک عوامی جھیل سیّاحتی مقام چلاتی ہے ۔امراوتی میں ایسے دو یا اس سے زیادہ مقامات ہیں ( جو اس وقت سوکھ چکے ہیں) اور ناگپور اور اس کے اطراف میں کچھ اور بھی ہیں ۔
یہ سب ایسے علاقے میں ہو رہا ہے جہاں کبھی کبھی گاؤں کو پندرہ دن میں ایک بار پانی مل پاتا ہے اور جہاں کھیتی کے موجودہ بحران کی وجہ سے مہاراشٹر ریاست میں سب سے زیادہ تعداد میں کسانوں کی خود کشی کے واقعات ہوئے ہیں۔ ناگپورکے صحافی جے دیپ ہر دیکر کہتے ہیں: بیسیوں سال کے وِدَربھ میں پینے یا آب پاشی کے پانی کا کوئی بڑامنصوبہ مکمل نہیں ہوا ہے۔ وہ برسوں سے اس علاقہ میں کام کر رہے ہیں ۔منیجر مسٹر سنگھ زور دیکر کہتے ہیں کہ ’فن اینڈ فوڈ ویلج‘پانی کو محفوظ کرتا اور بچاتا ہے ۔ ’’ہم بہت ہی جدید قسم کے پلانٹوں کے ذریعے اسی پانی کو دوبارہ استعمال کرتے ہیں ‘‘ ۔  
لیکن ایسی گرمی میں تبخیر (پانی اڑنا) بہت زیادہ ہوتی ہے ۔ پانی صرف کھیلوں کے لیے استعمال نہیں ہوتا ۔تمام پارک اپنے باغیچوں کی صفائی ستھرائی اور اپنے تمام کاموں کے لیے پانی کا بے پناہ استعمال کرتے ہیں ۔ بلڈانا کے ونائک گائیکواڑ کا کہنا ہے۔ ’’یہ پانی اور پیسے کی زبردست فضول خرچی ہے‘‘۔ونائک خود ایک کسان ہے اور ضلع کی کسان سبھا کا لیڈر ہے ۔وہ غصّے کے لہجہ میں کہتا ہے— ’’یہ سب کرتے وقت عوام کے وسائل کو نجی منافع کی غرض سے استعمال کیا جاتا ہے ۔اس کی بجائے انھیں عوام کی پانی کی ضرورتوں کو پورا کرنا چاہیے‘‘ ۔اُدھر بازار گاؤں کے سر پنچ جمنا بائی بھی نہ تو موج مستی اور کھانے کے لیے قائم کیے گئے ’گاؤں‘سے متأثرہیں اور نہ ہی دوسروں صنعتوں سے جنھوں نے لیا تو بہت کچھ ہے مگر دیا بہت کم ہے ۔’’ہمارے لیے اس سب میں کیا رکھا ہے ‘‘؟ وہ جاننا چاہتی ہیں اپنے گاؤں کے لیے بنیادی معیار کا پانی کا منصوبہ حاصل کرنے کے واسطے پنچایت کو لاگت کا دس فیصد ی خود برداشت کرنا جو ساڑھے چار لاکھ ہے ۔’’ہم 45ہزار روپے کیسے دے سکتے ہیں ؟ ہماری کیا حالت ہے ؟ اس کام کو کسی ٹھیکہ دار کے سپر د کردیا گیا ہے۔ اس سے پروجیکٹ بن کر تیار ہو سکتا ہے ۔لیکن اس کا مطلب بالآخر زیادہ خرچ ہوگا او ر اتنے زیادہ غریب او ربے زمین کسانوں کے اس گاؤں کا اس پر کم ہی اختیار ہوگا۔ ہم جوں ہی وہاں سے روانہ ہوتے ہیں پارک میں گاندھی جی کی

خدا نہ کرے ہندوستان کبھی ایسے صنعتی نظام کو اختیا کرے جیسا مغربی ملکوں میں ہے ۔ایک چھوٹے سے جزیرے (انگلینڈ) کی بادشاہت کی معاشی شہنشاہیت نے آج دنیا کو زنجیروں میں جکڑ رکھا ہے ۔اگر 300ملین لوگوں کی پوری قوم اسی قسم کا معاشی استحصال کرنے پر اترآئے تو دنیا کو اس طرح ننگا کردے گی جیسے ٹڈی دل ۔                                           (مہاتما گاندھی)                  


  تصویر لگتا ہے مسکرارہی ہے ،شاید گاڑیاں کھڑی کرنے کی جگہ کے اس پار ’’برف کے گنبد‘‘ کو دیکھ کر ۔اس شخص کی عجیب قسمت تھی جس نے کہا تھا: ’’سادگی سے رہو تاکہ دوسرے بھی سادگی سے رہ سکیں ‘‘۔ (پی سائی ناتھ ،22جون 2005کے ’ہندو‘ اخبار میں )  
اوپر مذکورہ پانی کے پارک جیسے ترقیاتی کاموں کے نتیجے میں خشک علاقوں کے چھوٹے کسانوں کا زندہ رہنا اب نا ممکن ہوتا جارہا ہے ۔خبروں کے مطابق پچھلے چھ برسوں کے عرصے میں آندھراپردیش ،کرناٹک او رمہاراشٹر میں ہزاروں کسان اکثر وبیشتر کیڑے مار زہر پی کر خود اپنی جانیں گنوا چکے ہیں ۔ان کسانوں کو ،جو بڑے صبر کے ساتھ زراعت میں پنہاں غیر یقینی حالات کا مقابلہ کرتے رہتے ہیں ،کون سی چیز ایسا انتہائی درجہ کا اقدام کرنے کے لیے مجبور کرتی ہے ؟ صحافی پی۔سائی ناتھ کی چھان بین سے پتہ چلتا ہے کہ کسانوں کی حالیہ مصیبتیں ماحولی او ر معاشی عناصر وعوامل کے ملے جلے اثر کا نتیجہ ہیں۔ چوں کہ کسانوں کو سرکاری امداد میں نرم کاری کی کمی آتی جارہی ہے۔ اس لیے زرعی حالات بہت متلون یعنی تبدیل پذیر ہو گئے ہیں ۔ کپاس بونے والے کسان زیادہ منافع بخش او رزیادہ جوکھم بھری فصل اگاتے ہیں ۔کپاس کو کچھ آب پاشی در کار ہوتی ہے ۔یہ کیڑوں کے حملے کے لیے بھی حسّاس ہوتی ہے۔ یعنی کیڑا اسے جلد برباد کر سکتا ہے ۔لہٰذا !کپاس اگانے والے کسانوں کو آب پاشی او ر کیڑوں کی روک تھا م کے لیے پیسہ لگانے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ یہ دونوں چیزیں پچھلے چند برسوں میں زیادہ مہنگی ہو گئی ہیں۔ کانوں کی بہت زیادہ کھدائی کی وجہ سے زیرِ زمین پانی ختم ہو رہا ہے ۔اس لیے کسانوں کومزید گہرائی سے پانی حاصل کرنا پڑتا ہے۔ پھر بہت سے نقصان دہ کیڑوں پر دواؤں کا اثر بند ہوگیا ہے جس کی وجہ سے کسانوں کو نئی کیڑے مار دوائیں کئی کئی بار چھڑکنی پڑتی ہیں۔ان چیزوں کو خریدنے کے لیے کسانوں کو نجی ساہوکاروں سے قرض لینے کے لیے مجبور ہونا پڑتا ہے۔ساہوکار او رتاجر قرض پر بہت زیادہ سو د لیتے ہیں ۔اگر فصلیں برباد ہوجاتی ہیں تو کسان قرض کا پیسہ نہیں لوٹا سکتے۔نہ صرف یہ کہ وہ اپنے اہلِ خانہ کو پیٹ نہیں بھر سکتے بلکہ دیگر خاندانی فرائض جیسے اپنی اولاد کی شادی بیاہ کا انتظام بھی نہیں کر سکتے۔ مالی اور سماجی تباہی میں مبتلا ان کسانوں کا کوئی سہارا نہیں ہے۔ لگتا ہے ان کے پاس خودکُشی کرنے کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں ہے۔  
مباحثہ : کیا پانی کی قلت قدرتی ہوتی ہے یا انسان کی پیدا کردہ ؟ مختلف استعمال کنندگان کے درمیان پانی کی تقسیم میں کون سے عوامل کار فرما ہوتے ہیں ؟ پانی کے استعمال کے مختلف انداز مختلف سماجی گروہوں کو کس طرح متأثر کرتے ہیں ؟  

عملی کام   2

معلوم کیجیے کہ آپ کے گھر میں روزانہ کتنا پانی استعمال کیا جاتا ہے ۔یہ جاننے کی کوشش بھی کیجیے کہ مختلف آمدنیوں والے اتنے ہی بڑے گھرانوں میں کتنا پانی استعمال ہوتا ہے ۔مختلف خاندان پانی حاصل کرنے کے لیے کتنا وقت اور روپیہ صرف کرتے ہیں ؟ گھر میں پانی لانے کی ذمہ داری کس کی ہے ۔ لوگوں کے مختلف طبقوں کو حکومت کتنا پانی مہیا کرتی ہے ؟  


شہری ماحول : کہانی دو شہروں کی 
(THE URBAN ENVIRONMENT: A TALE OF TWO CITIES) 

شہری ماحول پر تصادم کا یہ ایک مثالی نمونہ ہے۔ 30جنوری 1995 کی صبح دہلی میں موسم سرماکا ایک اور ٹھنڈا دن تھا ۔شمالی دہلی کے اشوک وہار کے متمول بستی کا تصور کیجیے۔ شاندار مکانات سرمئی کُہرے سے چھپے تھے ۔صبح جلد جاگنے والے اپنی صبح کی سَیر کے لیے روانہ ہو رہے تھے ۔ان میں سے کچھ کے ساتھ ان کے مختلف نسلوں کے پالتو کتے بھی تھے ۔گلے کی رسی کو زور سے کھینچے ہوئے ان چہل قدمی کرنے والوں میں سے ایک صاحب جوں ہی ’پارک‘ میں جو بستی کی اکیلی کھلی جگہ ہے،داخل ہوئے ۔انھوں نے معمولی کپڑے پہنے ہوئے ایک نوجوان کو ہاتھ میں خالی بوتل لیے ہوئے وہاں سے باہر جاتے ہوئے دیکھا ۔ غصہ سے بھرے ان صاحب نے اس آدمی کو پکڑلیا اور پڑوسیوں کو بلا یا ۔کسی نے پولس کو فون کر دیا ۔گھروں کے مالکوں کے ایک گروہ اور دو پولس کے سپاہی اس شخص پر ٹوٹ پڑے اور اسے اتنا مارا پیٹا کہ وہ منٹوں ہی میں مر گیا ۔
وہ نوجوان 18سال کا دلیپ تھا جو یو م جمہوریہ کی پریڈ دیکھنے دہلی آیا تھا ۔وہ اشوک وہار میں ریل کی پٹری کے کنارے کی جھگیوں میں سے ایک اپنے چچا کے ساتھ ٹھہرا تھا ۔اس کا چچا قریب کے وزیر پور صنعتی علاقہ میں میں مزدوری کرتا تھا ۔دہلی کے دوسرے منصوبہ بند صنعتی علاقوں کی طرح وزیرپور میں بھی مزدوروں کے لیے مکانوں کا کوئی انتظام نہیں ہے ۔10ہزار سے زیادہ ان جھگیوں میں رہنے والے سب لوگ صرف تین ٹوائلٹ مشترکہ طور پر استعمال کرتے ہیں ۔ہر ٹوائلٹ میں آٹھ پاخانے ہیں۔ یعنی عملی طور پر دو ہزار سے زیادہ لوگوں کے لئے ایک پاخانہ ہے۔ اس لیے زیادہ تر لوگوں کے لیے کوئی بھی بڑی کھلی جگہ اندھیرے میں رفع حاجت کی جگہ بن جاتی ہے ۔صنعتی مزدوروں کے ’پارک‘ کے استعمال کی وجہ سے ان کے اور ان کے گھر والوں اور علاقہ کے زیادہ خوشحال لوگوں کے درمیان تعلقات خراب ہوگئے ، جس سے  گندی اور بد نما جھگیوں میں رہنے والے گھریلو نوکروں کے لیے آنے جانے کا راستہ کھل سکے ۔یہ گھریلو ملازم امیر لوگوں کے گھروں اور کاروں کی صفائی کا کام کرتے تھے۔دیوار جگہ جگہ اس لیے بھی کھولی گئی کہ جھگیوں والے رفع حاجات کے لیے آجا سکیں ۔
اس طرح دلیپ کی موت اس لمبی لڑائی کا اظہار تھا جو ایک متنازعہ جگہ کے لیے چل رہی تھی۔ جو وہاں رہنے والوں کے کچھ لوگوں کے لیے عالیشان شہری زندگی کی علامت تھی ۔ایسی جگہ جہاں ہرے بھرے درخت تفریح اور آرام کے لیے گھاس کے لان ہوں او رکچھ مسکینوں کے لیے رفع حاجت کی صرف ایک کھلی جگہ ۔اگر دلیپ کو اندر اندر سلگتے ہوئے اور تنازعہ کا علم ہوتا تو شاید وہ زیادہ چوکنا رہتا او رجب اسے للکارا گیا تو بھاگ کھڑا ہوتا اور غالباً آج وہ زندہ ہوتا۔یہ تشدّد یہیں ختم نہیں ہوا ۔جب جھگیوں کے کچھ لوگ دلیپ کی موت کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے جمع ہوئے تو پولیس نے گولی چلادی اور چار اور لوگوں کو مار ڈالا ۔
جوں جوں شہروں کا فروغ ہورہا ہے ،شہری جگہ کے لیے ٹکراؤ اور زیادہ شدید ہوتا جارہا ہے ۔جب لوگ کام کی تلاش میں اپنے وطنوں سے شہر آتے ہیں تو کمیاب قانونی رہائشی جگہ حاصل کرنے کی سکت نہیں رکھتے اور سرکاری زمینوں پر بسنے کے لیے مجبور ہوتے ہیں ۔خوشحال شہریوں اور سیلانیوں کے لیے ایسی زمین کی بڑی مانگ ہے جس پر ان لوگوں کے آرام اور سہولت کی خاطر بنیادی ڈھانچہ تعمیر کیا جا سکے ،جیسے بڑے بڑے مال (دکانیں ) ،کثیر منزلہ اور کثیر المقاصد عمارتیں ،ہوٹل اور سیاحوں کے قیام کی جگہیں۔اس کے نتیجے میں غیریب مزدوروں اور ان کے اہل خانہ کو ان جگہوں سے ہٹا کر شہر کے باہری علاقوں میں بھیجا جا رہا ہے اور ان کے گھروں کو گرایا جا رہا ہے ۔زمین کے علاوہ پانی اور بجلی بھی شہری ماحول کے بہت متنازعہ وسائل بن گئے ہیں۔  
ماخذ : "Between Violence & Desire : Space, Power and Identity in the Making of Metropolitan Delhi"(International Social Science Journal 175:89-98, 2003)  

عملی کام   3

تصور کیجیے کہ آپ ایک لڑکا یا لڑکی ہیں او رجھگی جھونپڑی میں رہتے ہیں۔ آپ کے گھر کے لوگ کیا کریں گے اور آپ کس طرح رہیں گے؟ ایک مختصر مضمون میں آپ ’اپنی زندگی کے ایک روز ‘کا بیان کیجیے ۔


مباحثہ : شہر کے غریب لوگ اکثر تنگ اور گندی بستیوں میں کیوں رہتے ہیں؟شہرمیں زمین اور مکانوں پر کن گروپوں کا اختیار ہے ؟ لوگوں کو پانی اور صفائی ستھرائی کی سہولتوں تک رسائی پر کون سے سماجی عوامل اثر انداز ہوتے ہیں ؟  

اصطلاحات  

 ہائیڈرولوجی (Hydrology): پانی اور اس کے بہاؤ کی سائنس یا کسی ملک میں آبی وسائل کا ڈھانچہ  
 ڈی فورسٹیشن (Deforestation):  درختوں کے کاٹے جانے کی وجہ سے جنگلات کا برباد ہونا ۔
گرین ہائوس (Green House) : پودوں آب وہوا کی شدت سے محفوظ رکھنے کے لیے ڈھکا ہوا ڈھانچہ ۔عام طور سے سردی سے محفوظ رکھنے کے لیے اسے ’گرم مکان‘ بھی کہا جاتا ہے۔ جس کے اندر کا درجۂ حرارت باہر کے مقابلے کچھ زیادہ گرم رہتا ہے ۔
ایمیشنز (Emissions): بے کار گیسیں جو انسان کے شروع کردہ کاموں ،عموماً صنعتوں اور گاڑیوں کے تعلق سے خارج ہوتی ہیں ۔
 ؑایفلوینٹس (Effluents): سیال شکل میں فضلہ جو کارخانوں سے نکلتا ہے ۔ 
ایکیوفرس (Aquifers): بڑے بڑے قدرتی گڈھے جن میں پانی اکٹھا ہو جاتا ہے ۔
مونوکلچر (Monoculture): جب کسی علاقے یا خطے میں صرف ایک قسم کے پودے اور درخت باقی رہ جائیں  

مشقیں

.1 ماحولیات کی اصطلاح سے آپ کیا سمجھتے ہیں ؟ اپنے الفاظ میں بیان کیجیے ۔
.2 ماحولیات صرف قدرت کی قوتوں تک ہی کیوں محدود نہیں ہے ؟  
.3  اس دو طرفہ عمل کو بیان کیجیے جس سے سماجی ماحول ابھرتے ہیں ۔
.4 ماحول او رسماج کے باہمی رشتے کو سماجی تنظیم کیوں او رکس طرح ایک شکل دیتی ہے ؟
.5 سماج کے لیے ماحولی بندوبست کرنا ایک پیچیدہ اور بڑا کام کیوں ہے؟  
.6 آلودگی سے وابستہ ماحولی خطرات کی چند اہم شکلیں کیا ہیں ؟  
.7 وسائل کے ختم ہونے سے وابستہ بڑے بڑے ماحولی مسائل کون سے ہیں ؟  
.8 وضاحت کیجیے کہ ماحولی مسائل بہ یک وقت سماجی مسائل بھی کیوں ہوتے ہیں ؟
.9 سماجی ماحولیات سے کیا مراد ہے ؟  
.10 ماحول سے وابستہ ایسے ٹکرائو میں سے چند کا بیان کیجیے جن کے بارے میں آپ جانتے ہیں یا آپ نے پڑھا ہے (ان کے علاوہ جن کی مثالیں اس کتاب میں دی گئی ہیں )۔