Skip to content
Mutala-e-maashira

باب  4

مغربی دنیا کے ماہرینِ سماجیات کا تعارف 
(INTRODUCING WESTERN SOCIOLOGISTS)


کبھی کبھی سماجیات کو ’عہدانقلاب ‘ کی اولاد کہا جاتا ہے ۔وجہ یہ ہے کہ اس کی پیدائش انیسویں صدی میں مغربی یوروپ میں ہوئی۔ اس سے پہلے کی تین صدیوں کی ان انقلابی تبدیلیوں کے بعد ہوئی جنھوں نے لوگوں کے طرزِ زندگی کو مستقل طور پر بد ل کر رکھ دیا تھا۔تین انقلابی تبدیلیوں نے سماجیات کے ظہور کا راستہ صاف کیا:روشن خیالی یا سائنسی انقلاب ؛ انقلابِ فرانس اور صنعتی انقلاب ۔ان عملوں نے نہ صرف یوروپی سماج کو پوری طرح بدل دیا بلکہ جیسے جیسے دنیا کے دوسرے حصے یوروپ کے ربط میں آئے، تبدیل ہوتے گئے ۔
اس باب میں تین سماجی مفکرین : کارل مارکس (Karl Marx)،ایمائل درخائم (Emile DurKheim)اور میکس ویبر (Max Weber)کے بنیادوں اور اہم خیالات پر گفتگو کی جائے گی ۔ان لوگوں نے بطور سماجیات کی قدیم روایت کے ایک حصے کے طورپر اس مضمون کی بنیاد رکھی ۔ ان کے خیالات اور بصیرت آج کے دور میں بھی اہمیت اور معنویت کے حامل ہیں ۔بلا شبہ ان خیالات کی تنقید بھی ہوئی ہے اور ان میں بڑی ردّوبدل بھی کی گئی۔ لیکن چوں کہ سماج کے بارے میں خیالات خود سماجی حالات سے متاثٔر ہوتے ہیں ،اس لیے ہم اس پسِ منظرکا بھی چند الفاظ میں ذکرکریں گے جس میں سماجیات کا ظہورہوا۔

سماجیات کا پس منظر The Context of Sociology

یوروپ کا عہدجدید اور جدّت کے حالات تین اہم عوامل کے ذریعے وجود میں آئے ۔یہ تھے : روشن خیالی یاعہدخردپسندی کا طلوع ؛ سیاسی اقتدارِ اعلیٰ کی جستجو جسے انقلابِ فرانس نے ٹھوس شکل دی اور بڑے پیمانے پر اشیا کی صنعت سازی جس کا آغاز صنعتی انقلاب نے کیا ۔چوںکہ ان تینوں پر پہلے باب میں تفصیلی گفتگو کی جا چکی ہے ۔اس لیے یہاں ہم ان اہم ترین اور تاریخی تبدیلیوں کے چند دانشور انہ نتائج کا ہی ذکر کریں گے ۔

عملی کام   1

’’یوروپ میں دورِ جدید کی آمد ‘‘پر باب’’سماجیات کا تعارف‘‘ کی گفتگو کو دوبارہ دیکھیے یہ تین عوامل کس طرح تبدیلیوں سے وابستہ تھے ؟

روشن خیالی کا دور   The Enlightenment     

سترہویں اور اٹھارویں صدیوں کے دوران یوروپ میں دنیا کے بارے میں بالکل نئے خیالات کا ظہور ہوا ۔’روشن خیالی‘ کے نام کے یہ نئے فلسفے ایسے تھے جن میں انسان کو کائنات کے مرکز کے طور پر مقام دیا گیا اور عقل واستدلال پر مبنی فکر کو انسان کی مرکزی خصوصیت مانا گیا۔ عقل پر مبنی تنقیدی نظر سے سوچنے کی صلاحیت نے انسان کو تمام علم کا خالق بھی بنا دیا اور استعمال کنندہ بھی۔دوسری جانب صرف وہ لوگ جو سوچنے اور استدلال کرنے کے اہل ہوںمکمل طور پر انسان کہے جا سکتے ہیں ۔ جن میں یہ اہلیت نہ ہو نامکمل انسان ہی رہیں گے ۔ ایسے لوگوں کو پوری طرح سے ارتقا پذیر نہیں سمجھا گیا بلکہ انھیں دورِ قدیم کے معاشروں کے باشندے یا ’’وحشی ‘‘ مانا گیا ۔انسانی کارنامہ ہونے کی وجہ سے سماج عقلی تجزیہ کی اطاعت گزار تھی اور اس طرح دوسرے انسانوں کے لیے قابلِ فہم ۔عقل کے انسانی دنیا کی تعیّن کا ر خصوصیت بننے کے لیے ضروری تھا کہ قدرت ،مذہب اور دیوتاؤں کے آسمانی افعال کو ان کے مرکزی مقام سے اکھاڑ دیا جائے جو دنیا کو سمجھنے کے پرانے طریقوں پر مبنی تھے ۔ اس کے معنٰی ہیں کہ روشن خیالی ان ذہنی رویوّں کی بنا پر ممکن ہوئی اور انھی کے آگے بڑھانے میں ممدّ و معاون ثابت ہوئی جنھیں آج ہم غیرمذہبی (سیکولر) سائینٹفک اور انسانیت نواز کہتے ہیں ۔  

انقلابِ فرانس The French Revolution  

انقلابِ فرانس (1789)نے انفرادی اور قومی ملکی سطح پر سیاسی اقتدارِ اعلیٰ کی آمد آمد کی صدا بلند کی ۔انسانی حقوق کے اعلان (Declaration of Human Rights) نے شہریوں کے حقوق پر بہت زور دیا اور پیدائشی فوقیتوں کے جائز ہونے پر سوال اٹھائے ۔اس نے اس مذہبی اور جاگیردارانہ اداروں کی جابر حکومت سے فرد کی آزادی کا آغاز کیا جو انقلاب سے پہلے فرانس پر مسلط تھی ۔ کسانوں کو جن میں زیادہ تر زرعی غلام یا (غلام مزدور) تھے یا امرا اور شرفا کے طبقے کی جاگیروں میں غلامی کی زندگی بسر کر رہے تھے غلا می سے آزادکر دیا گیا ۔ایسے مختلف ٹیکسوں کو جو کسان چرچ یا جاگیرداروں کو دیا کرتے تھے، ردّ کر دیا گیا ۔جمہوریہ کے آزاد شہریوں کی حیثیت سے خود مختار افراد کے حقوق دئے گئے اور انھیں ریاست کے اداروں اور قانون کی نظر میں برابری کا درجہ حاصل ہوا ۔ریاست پر خود مختار فرد کی نجی زندگی کا احترام کرنا لازمی ہوگیا۔ اور اب سرکاری قوانین   لوگوں کی گھریلو زندگی میں داخل نہیں ہو سکتے تھے ۔
ریاست کے عوامی حکومتی علاقہ اور گھر کی نجی سلطنت کے درمیان ایک دیوار حائل کر دی گئی تھی ۔سرکاری اور نجی دائروں میں مناسب اور موزوں کے تعلق سے نئے خیالات بننے لگے۔مثال کے طور پر مذہب اور خاندان زیادہ ’نجی ‘ ہو گئے جب کہ تعلیم (خاص طور پر اسکولی تعلیم ) زیادہ ’عوامی ‘ بن گئے ۔اس کے علاوہ خود قومی ریاست کی از سر نو تعریف کر دی گئی اور اس کو ایک آزاد اور خود مختار وجود جس کی ایک مرکزی حکومت ہو ،بنا دیا گیا ۔ انقلابِ فرانس کے مقاصد یعنی مساوات ،اخو ّت ،اور آزادی نئی جدّت پسند ریاست کے نعرے بن گئے ۔

صنعتی انقلاب The Industrial Revolution

جدید قسم کی صنعت کی بنیادیں صنعتی انقلاب نے رکھیں ،جو برطانیہ میں اٹھارویں صدی کے اواخر اور انیسویں صدی کے شروع میں شروع ہوا ۔ اس انقلاب کے دو بڑ ے پہلو تھے ۔پہلا ،صنعتی پیداوار پر سائنس اور ٹیکنالوجی کا اطلاق ،خصوصاً نئی مشینوں کی ایجاد اور توانائی کے نئے وسائل کا استعمال ۔دوسرا ،یہ کہ صنعتی انقلاب نے مزدوروں اور بازار کو منظم کرنے کے ایسے نئے ڈھنگ بنائے اور ا س پیمانے پر بنائے جیسا کہ اس سے پہلے کبھی نہ دیکھا گیا تھا ۔نئی مشین جیسے کاتنے کی مشین (جس نے کپڑا تیار کرنے والے کارخانوں کی کارگزاری کو بہت زیادہ بڑھا دیا ) اور توانائی حاصل کرنے کے نئے طریقوں (جیسے مختلف طرز کے بھاپ کے انجن ) نے پیداوار کے عمل کو آسان بنا دیا۔ فیکڑی کے نظام اور سامان کی بڑی تعداد میں پیداوارکو بڑھا دیا ۔یہ سامان اب دنیا بھر کے دور دراز کے بازاروں کے لیے نہایت ہی بڑے پیمانے پر تیا ر کئے جانے لگے ۔ چیزوں کی پیداوار میں استعمال کیا جانے والا خام مال بھی پوری دنیا سے حاصل کیا جانے لگا ۔جدید طرز کی بڑے پیمانے کی صنعت اب ایک عالمی مظہر بن گئی ۔
پیداوار کے نظام کی ان تبدیلیوں کے نتیجے کے طور پر سماجی زندگی میں بھی بڑی اہم تبدیلیاں آنے لگیں ۔شہری علاقوں میں قائم کردہ کارخانوں کو وہ مزدور چلاتے تھے جو دیہی علاقوں سے گھر بار چھوڑکر کام کی تلاش میں شہروں کی طرف آنے لگے تھے ۔فیکڑی میں کم اجرتوں کا مطلب تھا کہ مرد ،عورتیں اور یہاں تک کہ بچوں کو بھی گھنٹوں پُر خطرحالات میں روزی کمانے کے لیے کام کرنا پڑتا تھا ۔جدید صنعت نے شہر میں رہنے والوں کو دیہات کے لوگوں پر چھا جانے کے قابل بنا دیا ۔شہر اور قصبے انسانی آبادی کے بسنے کی نمایاں شکلیں بن گئے اور چھوٹے گھنی آبادی والے علاقوں میں غیر مساوی بڑی بڑی بستیاں بس گئیں ۔امیر اور طاقتور شہروں میں رہنے لگے اور ایسا ہی مزدور طبقہ نے کیا۔ اس نے شہروں میں تنگ اور گندی بستیوں میں غربت اور غلاظت کے بیچ رہنا شروع کردیا۔ حکومت چلانے کے نئے طریقوں نے ،جن کی بنیاد پر حفظانِ صحت ،صفائی ستھرائی،جرائم کی روک تھا م اور عام ترقیاتی کام وغیرہ کی ذمہ داری حکومت نے اپنے ہاتھوں میں لی ۔ معلومات کی نئی قسموں کے لیے مانگ پیدا کی ۔سماجی علوم اور بالخصوص سماجیات جزوی طور پر اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ابھر کر سامنے آئے ۔
شروع ہی سے سماجیاتی فکر وخیال صنعتی سماج میں واقع ہونے والی تبدیلیوں کے سائنسی تجزیہ سے متعلق رہا ہے ۔اس کی وجہ سے مشاہدین نے یہ دلیل دینی شروع کردی کہ کہ سماجیات نئے صنعتی سماج کی سائنس ہے۔ سماجی کردار کے رجحانات کے بارے میں تجرباتی بنیاد پر معلومات کی گفتگو جدید صنعتی سماج کے آنے پر ہی ممکن ہو سکی ۔ریاست کی پیدا کردہ سائنٹفک معلومات جو اس نے اپنے سماج پر نگرانی رکھنے اور اسے برقرار رکھنے کے لیے تیار کی ،سماج پر عکاسی کی بنیاد بنی ۔سماجیاتی نظریہ اس خود عکاسی کا نتیجہ تھا ۔

کارل مارکس   (1818-1883)

سوانح حیات  

2nd
کارل مارکس 5مئی 1818کو جرمنی کے پُروشیاکے رائن لینڈ صوبہ کے ایک حصہ میں ٹرائر کے مقام پرپیدا ہوئے ۔وہ ایک خوشحال آزاد خیال وکیل کے بیٹے تھے ۔
1834-1836:بونّ یونیورسٹی میں قانون کی تعلیم حاصل کی اور پھر برلن یونیورسٹی میں Young Hegeliansسے بہت متاثٔر ہوئے ۔
1841: جینا یونیورسٹی سے فلسفہ میں ڈاکٹریٹ کا مقالہ مکمل کیا ۔
1843ـ: جینی وَون ویسٹ فالن (Jenny von Westphalen)سے شادی کی او رپیرس منتقل ہو گئے ۔
1844: پیرس میں فریڈرک اینگلس سے ملاقات ہوئی جو ہمیشہ کے لیے دوست بن گئے ۔
1847: کامگاروں کی بین الاقوامی انجمن (International Working Men's Association) کی جانب سے ایک دستاویز تیار کرنے کے لیےمدعو کیے گئے جس میں انجمن کے اغراض ومقاصد بیان کیے گئے تھے ۔یہ دستاویز مارکس اوراینگلس نے مل کر تیار کی اور کمیونسٹ پارٹی کے مینی فیسٹو یعنی منشور کی صورت میں 1848میں شائع ہوئی ۔
1849: جلا وطن کر دیے گئے اور لندن بھیج دیے گئے جہاں اپنی وفات تک رہے ۔
1852: The Eighteenth Brumaire of Louis Bonaparte   شائع ہوئی ۔
1859: (A Contribution to the Critique of Political Economy) شائع ہوئی۔  
1867: کیپٹل (Capital)جلد اول شائع ہوئی ۔
1881: اہلیہ جینی وون ویسٹ فالن کی وفات ۔
1883:ـ مارکس کا انتقال ہوا اور لندن کے ہائی گیٹ قبرستان میں دفن کیے گئے ۔

کارل مارکس جرمن تھے لیکن انھوں نے دانشورانہ تخلیق کا زیادہ تر عرصہ برطانیہ میں جلاِ وطنی کے دوران گزارا ۔ان کے انقلابی سیاسی نظریات نے انھیں جرمنی ،فرانس اور آسٹریا سے جلا وطن کرایا ۔حالاں کہ مارکس نے فلسفہ کی تعلیم حاصل کی تھی لیکن وہ فلسفی نہیں تھے ۔وہ ایک سماجی مفکرّ تھے جنھوں نے ظلم وستم اوراستحصال کوختم کرنے کی وکالت کی ۔ان کو یقین تھا کہ سائنسی اشتراکیت سے یہ مقصد حاصل ہو سکتا ہے ۔اس کے لیے وہ سرمایہ دارانہ سماج کے تنقیدی جائزے میں مصروف ہو گئے تاکہ اس کی کمزوریوں کو بے نقاب کیا جا سکے او راسے ختم کیا جا سکے ۔ مارکس کی دلیل تھی کہ انسانی معاشرہ کا فروغ مختلف مرحلوں میں ہوا ہے ۔ یہ مراحل تھے: ابتدائی یا قدیم کمیونزم یعنی اشتمالیت، دَورِ غلامی، جاگیردارانہ نظام اور سرمایہ داری ۔سرمایہ داری انسانی ترقی کا سب سے آخری مرحلہ تھا ۔لیکن مارکس کا خیال تھا یہ اشتراکیت کے لیے راہ ہموار کردے گا ۔
سرمایہ دارانہ سماج کا نمایاں وصف الگ تھلگ کرنے کا   شدید ترعمل ہے جو کئی سطحوں پر کام کرتا ہے ۔پہلا یہ کہ جدید سرمایہ دارانہ معاشرہ ایسا معاشرہ ہے جہاں انسانوں کو قدرت سے اتنا الگ تھلگ کر دیا جاتا ہے جتنا پہلے کبھی نہیں ہوا تھا ۔دوسرا یہ کہ ایک دوسرے سے الگ تھلگ کیا جاتا ہے کیوں کہ سرمایہ دارانہ نظام سماجی تنظیم کی پچھلی اجتماعی شکلوں کو انفرادی بناتا ہے ۔جوں جوں رشتے بازار سے زیادہ وابستہ ہو تے جاتے ہیں یہ عمل مزید تیز ہو جاتا ہے ۔تیسرا یہ کہ کامگاروں کی بڑی تعداد کو اپنی محنت کے پھل سے دور کر دیا جاتا ہے۔ اس لیے کہ مزدور جو کچھ پیدا کرتے ہیں وہ ان کی ملکیت نہیں ہوتا ۔مزید برآں یہ کہ خود کام کے نتیجے میں مزدورجو کچھ پیدا کرتے ہیں وہ ان کی ملکیت نہیں ہوتا ۔ایک زمانہ تھا جب ہنرمند دستکار اپنی محنت پر اختیار رکھتے تھے ۔آج مزدوروں کے کام کے دن کا فیصلہ کارخانے کی انتظامیہ کرتی ہے۔آخری بات یہ کہ ان تمام علیحدگیوں کا مجموعی اثر یہ ہوتا ہے کہ انسانوں کو خود ہی سے الگ کر دیا جاتا ہے اور انھیں اپنی زندگیوں کو ایسے نظام بنانے کے لیے جدّوجہد کرنی پڑتی ہے جس میں وہ زیادہ آزاد تو ہوتے ہیں لیکن الگ تھلگ بھی ہو جاتے ہیں اور انہیں پہلے کے مقابلے اپنی زندگی پر کم اختیار حاصل ہوتا ہے ۔
تاہم اگر چہ سرمایہ دارانہ نظام استحصالی اور جابرانہ نظام تھا۔مارکس کے خیال میں یہ انسانی تاریخ کا ایک ترقی یافتہ مرحلہ تھا کیوں کہ اس نے ایسے ضروری حالات پیدا کئے جن سے ایسے فلاحی مستقبل کی بنیاد پڑی جو غربت اور استحصال سے پاک ہو۔سرمایہ دارانہ معاشرہ کو اسی کے شکار یعنی مزدور طبقہ کے لوگ پوری طرح بدل ڈالیں گے جو متحد ہوکر اجتماعی طور پر اس نظام کا تختہ پلٹنے کے لیے ایک انقلاب برپا کریں گے۔ ایک آزاد اور مساوات پر مبنی اشتراکی سماج کا قیام کریں گے۔سرمایہ داری کی کارکردگی کو سمجھنے کے لیے مارکس نے اس نظام کے سیاسی ،سماجی اور خاص طور پر اس کے معاشی پہلوؤں کا تفصیلی مطالعہ کیا ۔  
معیشت کے بارے میں مارکس کا تصور پیداوار کے اس طریقے کے خیال پر مبنی تھا جو ایک تاریخی دور کے ساتھ وابستہ تھے۔وسیع نظام پیداوار کا حامی ہو۔ قدیم دور کی اشتمالیت، غلامی،جاگیر داری اور سرمایہ داری —سب پیداوار کے طریقے ہیں ۔اس عام سطح پر پیداواری طریقہ کسی دَور کی کلّی طرزِزندگی کی خصوصیت کی تو ضیح کرتا ہے۔ اگر اسے زیادہ مخصوص سطح پر دیکھاجائے تو طریقۂ پیداوار کو عمارت جیسا اس معنی میں تصور کر سکتے ہیں کہ اس میں ایک بنیاد اور ایک بالائی ڈھانچہ ہوتا ہے یا کچھ ایسی چیز جو بنیاد کے اوپر کھڑی ہو۔ بنیاد یا معاشی بنیاد ابتدائی طور پر معاشی ہوتی ہے۔ اس میں پیداواری رشتے شامل ہوتے ہیں۔ پیداواری قوّتوں سے مراد زمین ، محنت،ٹکنالوجی ، توانائی کے وسائل (جیسے بجلی ،کوئلہ، پٹرولیم وغیرہ) جیسے سبھی ذرائع سے ہے۔ پیداواری رشتے سبھی معاشی رشتوں اور سبھی طرح کی مزدور تنظیموں (جو پیداوار کے عمل میں شامل ہوتی ہیں)سے منسوب ہوتے ہیں۔ پیداواری رشتے،رشتۂ املاک (زیا دہ رشتے جو پیداوار کے ذرائع پر ملکیت یا کنٹرول پر مبنی ہو) سے بھی منسوب ہیں۔
مثال کے لیے،پیداوار کے اس طریقہ میں جسے قدیم اشتمالیت کہاجاتا ہے، پیداواری قوتیں زیادہ تر قدرتی یعنی جنگلات ،زمین ،جانور وغیرہ پر مشتمل ہوتی تھیں۔جس میں پتھر کے سادہ اوزار اور شکار سے متعلق ہتھیار جیسی ٹکنالوجی بھی شامل تھیں۔ اسی طرح پیداواری رشتے کمیوینٹی (Community) کے املاک پر مبنی تھے (کیونکہ اس وقت انفرادی طور پر نجی جائیداد کا وجود نہیں تھا) اس میں شکار کرنے اورغذا اکٹھا کرنے کی قبائلی شکلیں شامل ہیں جو تنظیِم محنت کی رائج شکلیں تھیں۔
اس طرح معاشی بنیاد پیداواری قوتوں اور پیداواری رشتوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ اسی بنیاد پر سماجی ٗ ثقافتی اور سیاسی ادارے واقع ہوتے ہیں۔ اس طرح مختلف ادارے جیسے مختلف مذہب ، فن ، قانون، ادب یا عقائد اور نظریات کی مختلف اشکال، اس بالائی ڈھانچے (جس کی تعمیرکسی نظریہ کی بنیاد پر ہوئی ہے) کے اجزا ہیں۔ مارکس نے دلیل دی کہ لوگوں کے نظریات اور عقائد اس معاشی نظام سے اخذ کیے گیے ہیں جس کے وہ جز تھے۔ انسان اپنی روزی کس طرح کماتا ہے یہی متعیّن کرتا ہے کہ وہ کس طرح سوچتا ہے۔مادی زندگی نظریات کو وضع کرتی ہے، نظریات مادی زندگی کی تشکیل نہیں کرتے۔ یہ استدلال مارکس کے زمانے کی جو غالب افکار تھے، اس کے بالکل برعکس تھا۔ اس وقت یہ دلیل عام تھی کہ انسان جو کچھ چاہتا ہے اس کے بارے میں سوچنے میں آزاد ہے اور یہ کہ نظریات بھی مادّیت کی تشکیل کرتے ہیں۔
مارکس نے معاشی ساختوں اور عمل کاری پر کافی زور دیا کیونکہ وہ مانتا تھا کہ پوری انسانی تاریخ میں معاشی نظریات ابتدائی سماجی نظام کی بنیادوں کی تشکیل کرتے ہیں۔ اگر ہم سمجھیں کہ کس طرح معیشت عمل کرتی ہے اور ماضی میں یہ کس طرح تبدیلیاںلاتی رہی ہیں۔تو اس کی دلیل تھی کہ ہم مستقبل میں سماج کو کس طرح بدلیں‘یہ سیکھ سکتے ہیں۔ لیکن ایسی تبدیلی کس طرح لائی جا سکتی ہے؟ مارکس کا جواب تھا : صرف طبقاتی جِدّوجُہد   کے ذریعے۔

  طبقاتی جدوجہد Class Struggle

مارکس کے لیے سماجی گروپوں میں لوگوں کی درجہ بندی کا نہایت اہم طریقہ مذاہب، زبان، قومیت یا یکساں شناختوں کے بجائے پیداواری طریقہ عمل کا تھا۔ اس نے دلیل دی کہ وہ لوگ جو سماجی پیداواری عمل میں یکساں حیثیت رکھتے ہیں بالآ خر ایک طبقے کی تشکیل کریں گے۔ پیداواری عمل میں ان کے مقام اور رشتۂ املاک کی بنیاد پر یکساں مفادات اور مقاصد میں شامل ہوتے ہیں، خواہ وہ اسے فوری طور پر نہ قبول کرسکیں۔ طبقات کی تشکیل تاریخی عمل کے ذریعہ ہوتی ہے جو کہ مسلسل پیداوار کی شرائط اور قوتوں میں تبدیلی کے ذریع تشکیل پاتا ہے ۔نتیجہ کے طور پر پہلے سے موجود طبقات کے درمیان تصادم بھی ہوتے ہیں۔چونکہ طریقۂ پیداوار یعنی پیداوار کی ٹیکنالوجی اور پیداوار کے سماجی رشتے میں تبدیلی واقع ہوتی ہے، اس لیے مختلف طبقات کے درمیان تصادم پیدا ہوتا ہے ۔ اس کا نتیجہ جدوجہد کی شکل میں برآمد ہوتا ہے۔ مثال کے لیے: پیداوار کا سرمایہ دارانہ طریقہ مزدور طبقہ کی تخلیق کرتا ہے جو کہ نیا شہری، بے ملکیت گروپ ہے اور جاگیر دارانہ زراعتی نظام کی تخریب کے ذریعہ وجود میں آیا ہے۔ پابند کھیت مزدور اور چھوٹے کسانوں کو ان کی زمینوں سے بے دخل اور ذریعۂ معاش کے ان کے ابتدائی وسائل سے محروم کردیا گیا۔ تب وہ شہروں میں اپنی بقا کے لیے ذرائع تلاش کرنے کے سلسلے میں جمع ہوئے ۔قانون و پولیس کے دباؤ سے انھیں نئی بنی ہوئی فیکٹریوں میں کام کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ اس طرح ایک بڑے نئے سماجی گروپ کی تشکیل ہوئی۔ جن کے پاس اِملاک نہیں تھی اور وہ اپنی روزی روٹی کے لیے کام کرنے پر مجبور ہوئے۔ اس سے پیداواری عمل کاری میں ان کی شرکت ہوئی اورمزدوروں کا طبقہ پیدا ہوا۔
کارل مارکس طبقاتی جدوجہدکے نظریے کا بانی تھا۔ وہ مانتا تھا کہ طبقاتی جدوجہد سماج میں تبدیلی کی اہم محُرّک قوت تھی۔ کمیونسٹ مینی فیسٹو(جو پروگرام عمل بھی تھا) میں مارکس اور اینگلس نے اپنے خیالات واضح اور جامع انداز میں پیش کیے۔ اس کی شروعاتی سطور میں بیان کیا گیا: ’’اب تک موجود سبھی سماجوں کی تاریخ طبقاتی جدوجہد کی تاریخ ہے۔‘‘ انھوں نے انسانی تاریخ کے سلسلوں کو تلاش کرنے کی کوشش کی اور بیان کیا کہ کس طرح مختلف تاریخی ادوار میں طبقاتی   جدوجہدکی نو عیّت الگ الگ رہی ہے۔ چونکہ سماج کا ارتقا امتیازی مراحل کے ذریعہ قدیم سے جدید کی طرف ہوا ہے ۔لہٰذا ظالم اور مظلوم طبقات کے درمیان تصادم کی مخصوص قسم کے ذریعہ ہر ایک خصوصیت کا تعین کیا جاتا ہے۔ مارکس اور اینگلس نے لکھا: ’’آزاد انسان اور غلام، طبقۂ امرا اور عام آدمی یا مزدور طبقہ، مالک اور غلام، تنظیم کا مالک اور کار یگرمختصراً ظالم اور مظلوم مستقل ایک دوسرے کے مقابل کھڑے ہیں۔کبھی چھپی ہوئی، کبھی کھلے طور پر لگا تار جنگ کی صورت میں مبتلا ہوتے ہیں۔ ہر مرحلے کے اہم مخالف طبقات کی شناخت کی متضاد پیداواری عمل کاری کے ذریعہ ہوتی تھی۔ سرمایہ داری میں بورـژوا(یا سرمایہ دار طبقہ) کی پیداوار کے سبھی ذرائع(جیسے قابلِ سرمایہ کاری پونجی، موجود فیکٹریاں اورمشینری، زمین وغیرہ) پر ملکیت حاصل تھی۔جبکہ دوسری طرف، مزدور طبقہ ماضی میں پیداوار کے تمام ذرائع سے محروم ہو چکا تھا۔ اس طرح سرمایہ دارانہ سماجی نظام میں مزدوروں کے پاس اپنی کوئی مرضی یا انتخاب نہیں تھا۔ سوائے اس کے کہ وہ اپنی بقا کے لیے اجرت کی غرض سے اپنی محنت کو فروخت کریں۔ کیونکہ ان کے پاس کچھ بھی نہیں تھا۔حتٰی کہ جب دو طبقات معروضی طور پر ایک دوسرے کی مخالفت کرتے ہیں تب خود بخود تصادم میں نہیں مبتلا ہوتے بلکہ تصادم واقع ہونا اُن کے لیے ضروری ہو جاتاہے تاکہ ان میں اپنے مفادات اور شناختوں کا اور اپنے حریف کے مفادات اور شناخت کا ذاتی طور پر شعور پیدا ہو۔ اس طرح کا طبقاتی شعورتب ہی پیداہوتا ہے جب سیا سی طور پر متحرک کیا جائے جس سے کہ طبقاتی تصادم واقع ہوتا ہے۔ اس طرح کے تصادم سے پہلے کے مغلوب یا ماتحت طبقات کے ذریعہ غالب یا حکمراں طبقے (یاطبقات کے اتحاد )کا خاتمہ کردیا جاتا ہے۔ اسی کو’ انقلاب‘ کہا جاتا ہے۔ مارکس کے نظریے میں معاشی عمل کاری سے تضاد پیدا ہوتے ہیں اور سلسلہ وار طبقاتی تصادم پیدا ہوتا ہے۔ لیکن معاشی عمل کاری خود بخود انقلاب نہیں پیدا کرتی بلکہ اس میں سماجی کی کلّی کا یا پلٹ کے لیے سماجی اور سیاسی عمل کاری کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔

سرگرمی   2

اگر چہ اسے بھی ’ کلاس‘کہا جاتا ہے۔کیاآپ اور آپ کے کلاس ساتھیوں کے ذریعہ تشکیل کیے گیے گروپ مارکسی مفہوم میں کلاس(طبقہ) کی تشکیل کرتے ہیں؟آپ اس خیال کے حق میں اور مخالفت میں کیا دلیل دے سکتے ہیں؟ کیا فیکٹری میں کام کرنے والے اور زرعی مزدور اسی کلاس سے متعلق ہیں؟ ایک فیکٹری میں کام کرنے والے ورکرس اورمینیجروں کے بارے میں کیا خیال ہے؟ کیا یہ دونوں ایک ہی طبقے سے تعلق رکھتے ہیں؟ کیا امیر صنعت کاریا فیکٹری کا مالک جو شہر میں رہتا ہے اور اس کے پاس کوئی زراعتی زمین نہیں ہے انھیں اسی طبقے میں رکھا جا سکتا ہے جس میں گاؤں میں رہنے والے غریب زرعی مزدور شامل ہیں اور جن کے پاس کوئی زمین نہیں ہے ؟ ان زمین کے مالکوں کو جن کے پاس کافی زمین ہیں اور چھوٹے کاشتکار جن کے پاس زمین کا ایک چھوٹا قطعہ ہے۔ کیا یہ دونوں ایک ہی طبقے سے متعلق ہیں، اگرچہ وہ ایک ہی گاؤں میں رہتے ہوں؟یا دونوں ہی زمین کے مالک ہیں؟ آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟

ان مثالوں کے سلسلے میں اپنے جوابات کے لیے اسباب کے بارے میں غور وفکر کریں۔تجویزتصور کریں۔ مثالوں میں مذکور لوگوں کے کون سے مفادات مشترک ہوسکتے ہیں۔بڑے سماجی نظام میں خاص طور پر پیداواری عمل کاری کے لحاظ سے یہ کن حیثیت کے حامِل ہیں؟ غور کریں۔


معاشی اور سماجی وسیاسی عمل کاری کے درمیان رشتہ پیچیدہ کیوں بن جاتا ہے ؟اس کی ایک وجہ نظریات کا موجود ہونا ہے ۔ ہردور میں حکمراں طبقات غالب نظریے کوفروغ دیتے ہیں۔ یہ غالب نظریہ یادنیا کو دیکھنے کا طریقہ حکمراں طبقہ اور موجودہ سماجی نظام کے غلبے کا جواز پیش کرنے کی طرف مائل ہوتا ہے۔ مثال کے لیے غالب نظریے سے غریب لوگوں کے اس عقیدے کو فروغ دے سکتے ہیں کہ وہ غریب اس لیے نہیں ہیں کہ ان کا استحصال امیروں کے ذریعہ کیا جاتا ہے بلکہ اس لیے ہیں کہ ان کی قسمت میں ایسا لکھا ہوا ہے ۔یا یہ ان کی پچھلی زندگی کے برے اعمال کا نتیجہ ہے وغیرہ۔ تا ہم غالب نظریات ہمیشہ کامیاب نہیں ہوتے اور انھیں متبادل عالمی نظریے یا حریف نظریات سے چیلنج کیا جاتا ہے ۔چونکہ طبقات کے درمیان شعورغیر یکساں طور پر فروغ پاتے ہیں ۔ لہٰذاکسی مخصوص تاریخی صورتحال میں ایک طبقہ کس طرح عمل کرے گا، اسے پہلے سے متعیّن نہیں کیا جاسکتا۔ اس بنا پر مارکس کے مطابق معاشی عمل کاری عموماً طبقاتی تصادم پیداکرنے کی طرف مائل ہوتی ہے اگرچہ یہ سیاسی اور سماجی صورت حاصل پر منحصر ہوتی ہے۔اگر موافق صورتحال حاصل ہیں تو طبقات تصادم انقلاب کی انتہاتک پہنچ جاتے ہیں۔

ایمائل درخائم   (1858-1917)

3rd
ایمائل درخائم 15اپریل1858کو جرمن سرحد پر فرانس کے لورین خطّے میں ایپی نال میں پیدا ہوا تھا۔ اس کا تعلق راسخ العقیدہ یہودی خاندان سے تھا۔ اس کے والد، دادا اور پر دادا یہودیوں کے مذہبی پیشوا تھے۔ ایمائل کو بھی شروع میں رَبِیّ کی تربیت کے لیے اسکول بھیجا گیا تھا۔
1876: فلسفے کے مطالعے کے لیے پیرس میں ’’ ایکولے نَورمیل سُپر یو‘ر ‘‘ داخلہ لیا۔
1887: یونیورسٹی آف بورڈیوکس میں سماجی علوم اور تعلیم کے شعبے میں لکچرر مقرر ہوئے۔
1893: اپنی ڈاکٹریٹ کی ڈگری کے لیے تفصیلی مقالہ Division of Labour in Society شائع کیا۔
1895: Method Rules of Sociological شائع ہوئی۔
1897: فرانس میں پہلا سماجی سائنس جرنل ‘Anee Sociologique'’شروع ہوا جس میں اس کا حاصلِ مطالعہ Suicide شائع ہوا۔
1902: چیئرآف ایجوکیشن کے طور پر پیرس یونیورسٹی میں تقرری۔ بعد میں 1913میں چیئر کا نام ایجوکیشن اور سوشیولوجی رکھا گیا۔
1912: 'The Elementary Forms of the Religious Life'شائع ہوئی۔
1917: پہلی عالمی جنگ میں اپنے بیٹے اینڈر کی موت کے بعد وہ دل شکستہ تھا۔ 59سال کی عمر میں اس کی موت واقع ہوئی۔



ایمائل درخائم کو ایک باضابطہ مضمون کی حیثیت سے سماجیات کے بانی کے طور پرسمجھا جاسکتا ہے۔کیوں کہ 1913میں پیرس میں وہ سماجیات کے پہلے پروفیسر بنے تھے۔ راسخ العقیدہ یہودی خاندان میں پیدا ہونے کے سبب ان میں اپنی ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے لیے رَبیِّ اسکول (یہودیوں کا مذہبی اسکول) بھیجا گیا۔ اس کے بعد اس نے ایکولے نورمیل سُپریور (Ecole Normale Superieure) میں 1876میں داخلہ لیا۔ اس نے اپنی مذہبی شناخت کوختم کرتے ہوئے خود کو لاادری (Agnostic)قرار دیا۔ تا ہم ان کی اخلاقی تربیت کااثر ان کی سماجیاتی سوچ پر دکھائی دیتا ہے۔ اخلاقی ضوابط سماج کی بنیادی خصوصیات ہیں جو کہ افراد کے کرداری انداز کو متعیّن کرتی ہیں۔ مذہبی خاندان سے آنے کے سبب درخائم نے مذہب کی رواداری پر مبنی فہم کو فروغ دینے کے تصور کو عزیز رکھا۔یہ اس کی آخری کتاب ‘Elementary Forms of Religious Life’تھی جس میں وہ آخرکار اپنی خواہش کی تکمل کا اہل ہوسکا۔
  درخائم کی نظر میں ایک سماجی حقیقت تھا جو فرد سے زیادہ اخلاقی کمیوینٹی کے طور پر موجود ہوتا ہے۔ وہ بندھن جو لوگوں کو گروپوں میں باندھتے ہیں، سماج کے وجود کے لیے اہم تھے۔یہ بندھن یا تعلق یا سماجی یکجہتی افراد پر دباؤ پیش کرتے ہیں کہ وہ گروپ کے معیار اور توقعات کے مطابق عمل کریں۔یہ مختصر دائرے میں تبدیلی کو محدود کرتے ہوئے فرد کے طرز ِکردار پر بندش لگاتے ہیں۔ سماجی عمل میں انتخاب کے محدود ہونے کا مطلب یہ ہے کہ کردار چونکہ ایک طرز کی پابندی کرتا ہے اس لیے   اس کی پیش گوئی کی جاسکتی ہے۔ لہٰذا طرز کردار کا مشاہدہ کرنے کے ذریعہ معیار،ضوابط اور سماجی اتحاد یا یکجہتی،جو انھیں منضبط کرتے ہیں، کی شاخت کرنا ممکن تھا۔ اس طرح دیگر صورت میں غیر مرئی چیزوں جیسے نظریات، معیارات، اقدار وغیرہ کے وجود کی تجرباتی طور پر توثیق لوگوں کے سماجی کردار کے طریقوں کا مطالعہ کرنے کے ذریعہ کی جاسکتی ہے کیوںکہ یہ سب سماج میں ایک دوسرے سے متعلق ہوتے ہیں۔
درخائم کی نظر میں اجتماعی اتفاق کے ذریعہ افراد پر عائد کیے گیے اخلاقی ضوابط میں معاشرتی طور طریقے کو حاصل کیا جانا تھا۔ یہ روز مرہ کی زندگی کے عمل سے ظاہر تھا۔ سماج کی سائنسی فہم، درخائم جس کو فروغ دینے کا متلاشی تھا، وہ اخلاقی حقائق کو تسلیم کرنے پر بنی تھی۔ اس نے لکھا: ’’اخلاقی حقائق دیگر چیزوں کی طرح مظاہر ہیں۔ یہ عمل اصولوں پر مشتمل ہیں جوبعض امتیازی خصوصیات کے ذریعہ قابلِ شناخت ہیں ۔تب ان کامشاہدہ کرنا، انھیں بیان کرنا، ان کی درجہ بندی کرنا اور ان کی توضیح کرتے ہوئے مخصوص قوانین وضع کرنا ممکن ہوگا ‘‘(درخائم 1964:32 ) اخلاقی ضوابط مخصوص سماجی شرائط کے اظہار تھے۔ جہاں اخلاق ایک سماج کے لیے موزوں تھا وہیں دوسرے کے لیے غیرموزوں تھا۔لہٰذا ڈرکھیم کے لیے رائج سماجی شرائط اخلاقی ضوابط سے اخذ کی جاسکتی تھیں۔ اس سے سماجیات علم طبعی جیسا بنا اور بلاکم وکاست سائنسی مضمون کے طور پر سماجیات کو قائم کرنے کے ایک بڑے مقصد کی تعمیل ہوتی تھی۔

سماجیات پر درخائم کا تصور Durkheim’s Vision of Sociology

نئے سائنسی مضمون کے طورپر سماجیات کے بارے میں ڈرکھیم کی بصیرت کی خصوصیت کایقین دو تو ضیحی اوصاف کے ذریعہ کیا گیا تھا۔ اولاً سماجیات کا موضوع یعنی سماجی حقائق کا مطالعہ دیگر علوم سے مختلف تھا۔ سماجیات خود امتیازی طور پر اس سطح سے متعلق ہے۔ جسے ابھری ہوئی سطح کہا جاتا ہے یعنی پیچیدہ یا مربوط اجتماعی زندگی کی سطح جہاںسماجی مظاہر اُبھر سکتے ہیں۔ یہ سماجی مظاہر، مثال کے لیے مذہب یا فیملی جیسے ادارے یا سماجی اقدار جیسے دوستی یا حبُّ الوطنی وغیرہ صرف مربوط کُل میں ممکن تھے جو کہ اس کے کُل کے اجزا کی   نسبتاًاور اس سے مختلف) کافی بڑے تھے۔ اگرچہ یہ پوری طرح افرد سے ُمرتَّب ہے لیکن فٹ بال یا کرکٹ ٹیم جیسی اجتماعی سماجی وجود کچھ مختلف شے ہو جاتی ہے۔ یہ محض گیارہ افراد کے مجموعے کے علاہ بہت کچھ ہے۔ ٹیموں ، سیاسی پارٹیوں، گلی کے گروہ، مذہبی کمیونٹیوں، اقوام وغیرہ کا تعلق افراد کی سطح کی نسبتاً مختلف سطح کی حقیقتیں ہیں۔ یہی ابھرتی سطح ہے جس کا مطالعہ سماجیات کے ذریعہ کیا جاتا ہے۔
سماجیات کی درخائم کی بصیرت کی دوسری توضیحی خصوصیت اکثر علوم طبعی کی طرح ہی تھی۔ یعنی اسے بھی ایک تجرباتی مضمون ہونا تھا۔ درحقیقت یہ دعوی کرنا مشکل تھا۔کیوں کہ سماجی مظاہر اپنی فطرت کے لحاظ سے تجریدی (غیرمادّی) ہیں۔ ہم اجتماعی ہستی جیسے جَین کمیونٹی یا بنگالی (یا ملیالیم یا مراٹھی) بولنے والی کمیوینٹی یا نیپالی یامصری قومی کمیونیٹیوں کو نہیں دیکھ سکتے۔ کم سے کم ہم انھیں سیدھے طور پر نہیں دیکھ سکتے جیسے کہ ہم پیڑ یا لڑکے یا بادل کو دیکھ سکتے ہیں۔ حتی کہ جب سماجی مظہر چھوٹا ہو جیسے کہ کوئی فیملی یا تھیٹر گروپ جسے ہم سیدھے طور پر ان افراد کو ہی دیکھ سکتے ہیں جو اجتماعیت کی تشکیل کرتے ہیں ،نہ کہ خود اجتماعیت کو دیکھ سکتے ہیں۔ درخائم کی ایک نہایت اہم حصولیابی اس کی یہ توضیح تھی کہ سماجیات ایک مضمون ہے جس کا تعلق غیر مادّی وجود جیسے سماجی حقائق سے ہے۔ تاہم مشاہدہ اور تجرباتی طور پر قابلِ توثیق شہادت کی بنیاد پر اسے سائنس کہا جا سکتا ہے۔ سماجی حقائق اگر چہ راست طور پر قابل مشاہدہ نہیں ہیں لیکن طرز ِکردار کے ذریعہ بالواسطہ طور پر ان کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔ 'Suicide'کے اپنے مطالعہ میں اس نے نئے قسم کے تجرباتی ڈاٹا کے استعمال کے ذریعہ ایک معروف مثال قائم کی۔ اگرچہ 'Suicide' کا ہر انفرادی معاملہ فرد اور اس کے حالات کے لحاظ سے مخصوص تھا لیکن مجموعی طور پر کمیونٹی میں خود کشی کی اوسط شرح سیکڑوں کی تعداد پار کر چکی تھی جو کہ ایک سماجی حقیقت تھی۔ اس طرح سماجی حقائق کا مشاہدہ سماجی کردار اور بالخصوص سماجی برتاؤ کے مجموعی انداز کے ذریعہ کیا جاسکتا ہے۔
تو کیا ہیں یہ سماجی حقائق؟ سماجی حقائق چیزوں کی طرح ہیں۔ یہ فرد کے لیے خارجی ہیں لیکن ان کے برتاؤ پر بندش لگاتے ہیں۔ قانون ، تعلیم اور مذہب جسے ادارے سماجی حقائق کی تشکیل کرتے ہیں۔ سماج حقائق اجتماعی نمائندگی ہے جو لوگوں کی اشتراک سے پیدا ہوتی ہے۔ یہ کسی شخص کے لیے مخصوص نہیں ہے بلکہ اس کی نوعیت عمومی ہے۔عقائد،احساسات یا اجتماعی رواج جیسے اوصاف اس کی مثالیں ہیں۔

سماج میں محنت کی تقسیم Division of Labour in Society

اپنی پہلی کتاب ' Division of Labour in Society' میں درخائم نے قدیم سے جدید تک کے سماج کے ارتقا کی وضاحت کے لیے تجزیہ کے اپنے طریقے کا مظاہرہ کیا۔ اس نے سماج کی درجہ بندی سماجی یگانگت یا اتحاد کی فطرت (جوکہ سماج میں موجود ہوتی ہے) کے ذریعہ کی۔ اس نے دلیل دی کہ قدیم سماج جہاں میکانکی یگانگت کے لحاظ سے منظم تھا۔ وہیں جدید سماج حیاتی (Organic) اتحاد پر مبنی تھا۔ میکانکی اتحاد اس کے انفرادی ممبروں کی یکسانیت کی بنیاد پر دریافت کیا جاتا ہے اور ان سماجوں میں پایا جاتا ہے جہاں چھوٹی آبادیاں ہوں۔ اس میں مثالی طور پر مختلف خود کفیل گروپ کا ایک مجموعہ شامل ہوتا ہے جہاں مخصوص گروپ کا ہر فرد ایک جیسی سرگرمیوں یا کاموں میں لگا ہوتا ہے۔ چونکہ لوگوں کے درمیان اتحاد، یکانگت یا بندھن یکسانیت اور ذاتی رشتوں پر مبنی ہوتا ہے اس لیے ایسی سوسائیٹوں میں اختلاف کو زیادہ برداشت نہیں کیا جاتا ۔ معیارات یا اقدار کی کسی طرح کی خلاف ورزی سخت سزا کا مو جِب ہوتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں میکانکی اتحاد پر بنی سماجوں میں کمیونٹی کے اقدار سے انحراف کو روکنے کے لیے جبر یہ قوانین وضع کیے گئے ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ فرد اور کمیونٹی شدت کے ساتھ مربوط تھے۔ کیوں کہ انھیں ڈر تھا کہ ان اصولوں کی خلاف ورزی کا نتیجہ کمیونٹی کے انتشار کی صورت میں برآمد ہو سکتا ہے۔
حیاتی اتحاد جدید سماج کی خصوصیات کا تعین کرتا ہے اور یہ اس کے ممبران کی غیر یکسانیت پر مبنی ہے۔ بڑی آبادی کی سوسایٹوں میں یہ پایا گیا کہ جہاں زیادہ تر سماجی رشتے لازمی طور پر غیر شخصی ہوتے ہیں۔ ایسی سوسائٹی اداروں پر مبنی ہوتی ہے اور اس کے گروپوں کے اجزا یا اکائیاں خود کفیل نہیں ہوتے ۔بلکہ اپنی بقا کے لیے دیگر اکائیوں یا گروپوں پر منحصر ہوتے ہیں۔ باہمی انحصار حیاتی اتحاد کا لازمی جز ہے۔ یہ افراد کو محترم خیال کرتا ہے اور ان کی الگ الگ ضرورتوں اور ان کے متعدد کرداروں اور حیاتی بندھنوں کو تسلیم کرتا ہے۔ جدید سماج کے قوانین نوعیت کے اعتبار سے ’جبری‘ (repressive) کی نسبت قابلِ تلافی (restitutive) ہوتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جدید سماجوں میں قانون کا مقصد غلط چیز جو مجرمانہ عمل کے ذریعہ انجام دی جاتی ہے، اسے درست یا اصلاح کی جاسکتی ہے۔ اس کے برعکس قدیم سماجوں میں غلط کام کرنے والوں کو سز ادی جاتی تھی اور ان کے عمل کے لیے یہ ایک طرح سے اجتماعی انتظام کی ایک شکل عائد کی جاتی تھی۔ جدید سماج میں فرد کو کچھ شخصی آزادی دی گئی ہے جبکہ قدیم سماج میں فرد پوری اجتماعیت کا پابند تھا ۔

میکس ویبر(1920 1864-)

4th
میکس ویبر21اپریل 1864کو اِرفرٹ، (جرمنی )میں پروشین خاندان میں پیداہوا۔ اس کے والد ایک مجسٹریٹ اورسیاست داں تھے۔ جو اقتدار شاہی کے سرگرم حامی اور بسمارک کے پیر‘ وکار تھے۔ اس کی ماں کا تعلق ہیڈل برگ کی ایک ممتاز آزاد خیال خاندان سے تھا۔
1882 :        قانون کی پڑھائی کے لیے ہیڈل برگ بھیجا گیا۔
1884-88 :    گوٹینجن اور برلن کی یونیورسٹیوں میں پڑھائی کی۔
1889 :          'A Contribution to the History of Medieval  
                      Business Organisations'
                     پراپنی ڈاکٹر کی ڈگری کے لیے تفصیلی مقالہ پیش کیا۔
1891 :         استاد کے منصب پر فائزہونے میں اہلیت حاصل کرنے کے لیے
                    'Roman Agrarion History and the  
                    Significance for Public and Private Law'پر اپنا مقالہ داخل کیا۔
1893 :         میرین شِنگرسے شادی کی۔
1894-96 :   پہلے فریبرگ اور اس کے بعد ہیڈل برگ میں ایکونا مکس کے پروفیسر مقررہوئے۔
1897-1901 :  اعصابی خلل کا شکار ہوکر بیمار پڑے۔ کام کرنے کے قابل نہ رہے۔روم کا سفر کیا۔
1901 :          علمی کام پھر شروع کیا۔
1903:           'Archives for Social Science and Social Wefare'نام کے جرنل کے معاون مُدیر بنے۔
1904 :         امریکا کا سفر کیا 'The Protestant Ethic and the Spirit of Capitalism'نام کی کتاب شائع کی۔
1918 :         ویانا میں سماجیات میں خاص طور پر ان کے لیے تخلیق کیے گیے پروفیسری کے منصب پر فائز ہوئے۔
1919 :        یونیورسٹی آف میونخ میں ایکونامکس کے پروفیسر بنے۔
1920 :        ویبر کا انتقال ہوا۔
1920 :        ان کی تقریباً سبھی اہم تخلیقات، جن سے وہ مشہور ہوئے، کا ترجمہ کیا گیا اور ان کی Capitalism (1930) میں شامل ہیں:

The Protestant Ethic and the Spirit of Max Weber: Essays in Sociology (1946) Max Weber on the Methodology of the Social Sciences (1949) The Religion of India (1958)

Economy and Society (1968, جلدیں ,3)


جدید سماجوں کی ایک امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ گروپوں اورتنظیمو ں کی تشکیل کے   لیے یکساں مقاصد کے حامل افراد رضا کا رانہ طور پر ایک ساتھ آتے ہیں۔ اگر چہ یہ مخصوص مقاصد کے تئیں گروپ کی طرف جھکاؤ ہوتا ہے۔ تب بھی وہ ایک دوسرے سے الگ الگ ہوتے ہیں اور اپنے ممبروں کی پوری زندگی کو اس عمل میں نہیں شامل کرتے۔ اس طرح مختلف سیاق وسباق میں افراد کی بہت سی الگ الگ شناختیں ہوتی ہیں۔ اس سے افرادکمیوینٹی کے سائے سے نکل آنے کے اہل ہوتے ہیں، اور کام جووہ انجام دیتے ہیں اور کردار جو وہ ادا کرتے ہیں اس کے لحاظ سے اپنی الگ پہچان قائم کرتے ہیں۔ چونکہ سبھی افراد غذا، لباس، رہائش اور تعلیم جیسی اپنی بنیادی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے دوسروں پر انحصار کرتے ہیں۔ اس لیے دوسرں کے ساتھ ان کا رابطۂ عمل بڑھتا ہے۔ غیرشخصی اصول اورضوابط اس طرح کی سوسائٹیوں میں سماجی رشتوں کو منضبط کرنے کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔کیونکہ بڑی آبادی میں شخصی یا مخصوص رشتوں کو زیادہ عرصے تک نہیں قائم رکھا جاسکتا ہے۔

سرگرمی   3

محنت کی سماجی تقسیم کے بارے میں درخائم اور مارکس نے جو کہا ہے اس کا موازنہ کرنے کی کوشش کیجیے۔ یہ دونوں اس بات پرمتفق ہیں کہ جیسے جیسے سماج کا ارتقا ہوتا ہے پیداوار کی سماجی تنظیم کا ارتقا زیادہ پیچیدہ ہوتا ہے۔ محنت کی تقسیم اور بھی زیادہ تفصلی بن جاتی ہے اور اس سے مختلف سماجی گروپوں میں باہمی انحصار ناگزیر ہوجاتا ہے۔لیکن جہاں درخائم   اتحاد یا یگانگت پر زور دیتا ہے۔ مارکس تصادم پر اصرار کرتا ہے۔ آپ اس سلسلے میں کیا سوچتے ہیں؟

جدید سماج کے بارے میں مارکس کیوں غلط ہوسکتا ؟ کیا آپ اس کے اسباب کے بارے میں سوچ سکتے ہیں؟ مثال کے لیے کیا آپ ان صورتِ حال یا مثالوں کاتصور کرسکتے ہیں جہاں لوگ گروپوں یا اجتماعیت کی تشکیل کے لیے ایک ساتھ آسکتے ہیں حالاں کہ ان کا طبقاتی پس منظر مختلف ہے اور ان کے مفادات میں بھی تضاد ہے؟ کِسی کو قائل کرنے کے لیے کہ مارکس کی بات میں اب بھی وزن ہوسکتا ہے، آپ کیا جوابی دلائل دے سکتے ہیں؟

کیا آپ اس کی وجہ بتاسکتے ہیں کہ جدید سماج میں فرد کو مزید آزادی دینے کے بارے میں درخائم کیوں غلط ہوسکتا ہے؟ مثال کے لیے—کیا یہ صحیح نہیں ہے کہ ابلاغ عامہ(خاص طور پر ٹیلی ویژن کے ذریعہ) جیسے کپڑوں یا موسیقی میں مقبول فیشن کو معیار بند کرنے کے تئیں مائل ہوتا ہے؟ آج مختلف سماجی گروپوں، مختلف ممالک،ریاست یا خطوں میں نوجوان اب ایک جیسی موسیقی یا ایک طرح کے کپڑے پہننا زیادہ پسند کرتے ہیں۔ ایسا پہلے کبھی نہیں تھا۔ اس سے کیا درخائم غلط نہیں ثابت ہوتا؟ اس سیاق وسباق میں اس کے حق میں اور مخالفت میں کیا دلیل دیں گے؟ یادرکھیے سماجیات ،ریاضی کی طرح نہیں ہے جہاں عموماً ایک ہی صحیح جواب ہوتا ہے۔ سماج اور انسانوں کے ساتھ کسی بھی معاملے میں یہ ممکن ہے کہ کئی صحیح جوابات ہوں یا کسی ایک سیاق وسباق میں کوئی جواب صحیح ہو اور دوسرے میں غلط یا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جزوی طور پر صحیح ہو اور جزوی طور پر غلط وغیرہ۔ دوسرے لفظوں میں سماجی دنیا بہت پیچیدہ ہے اور وقتاً فوقتاً مقام درمقام بدلتی رہتی ہے۔ ان سب سے یہ بات زیادہ اہم ہوجاتی ہے کہ یہ سیکھیں کہ اسباب کے بارے میں ہمیں کس طرح بغور سوچنا ہے کہ کیوں کوئی مخصوص جواب کسی مخصوص سیاق وسباق میں صحیح یا غلط ہوسکتا ہے۔


سماج میں محنت کی تقسیم سے درخائم کے متعلّقہ کاموں کا بہتر مشاہدہ ہے ۔نئے امتیازی مضمون کے ساتھ سائنسی مضمون کی تخلیق کی اس کی کوشش (جو تجرباتی طور پر معقول ثابت ہوسکتی ہے) کی جھلک سماجی حقائق کے طور پر سماجی اتحاد کی مختلف اقسام کے بارے میں جس طرح وہ بحث کرتا ہے اس سے صاف طور پر عیاں ہوتی ہے۔ سماجی بندھنوں کے اس مقصد اور سیکولر تجزیہ کے ذریعہ سماج کی اقسام کی وضاحت ہوتی ہے۔ اسی سے سماج کے نئے سائنس کے طور پر سماجیات کی بنیاد رکھی گئی۔
میکس ویبراپنے وقت کا ایک اولین جرمن سماجی مفکرّ تھا۔ کافی عرصے تک جسمانی اور ذہنی طور پر خراب صحت کے باوجود اس نے سماجیاتی تخلیق کی ایک شاندار میراث چھوڑی۔ بہت سے موضوعات پر اس کی کافی تفصیلی اور جامع تحریریں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ لیکن سماجی عمل ، طاقت اور غلبہ کی توضیحی سماجیات کے فروغ پر زیادہ   توجہ مبذول کی۔ ویبر کادوسراہم موضوع جدید سماج میں رشتوں کا عمل اور اس عمل کے ساتھ دنیا کے مختلف مذاہب کے رشتے تھے۔

میکس ویبر اور توضیحی سماجیات Max Weber and Interpretive Sociology

ویبر نے دلیل دی کہ سماجی علوم کا مجموعی مقصد سماجی عمل کی توضیحی فہم   کوفروغ دینا تھا۔ یہ علوم اِسی طرع علوم طبعی سے بہت مختلف تھے جن کا مقصد طبعی دنیا کو چلانے والے قوانین فطرت کے مقصد کی دریافت کرنا تھا۔ چونکہ سماجی علوم کی بنیادسماجی عمل تھا اور   انسانی عمل لازمی طور پر موضوعی معنی میں ہے لہٰذا سماجی علوم (Social Science)کی دریافت کے طریقے علوم طبعی کے طریقوں سے مختلف بھی ہوتے تھے۔ویبر کے لیے سماجی عمل میں سب ہی انسانی کردار شامل تھے جو کہ بامعنٰی تھے (یعنی وہ عمل جس سے عامل کسی معنویت سے وابستہ ہو)۔ سماجی عمل کا مطالعہ کرنے میں ماہرِ سماجیات کا کام عامل کے ذریعہ منسوب معنویت کو دریافت کرنا تھا۔ اس کام کو انجام دینے کے لیے ماہرسماجیات کو عامل کی جگہ خود کو رکھنا اور یہ تصور کرنا ہوتا کہ یہ معنویت کیا تھی یا کیا ہوسکتی تھی؟سماجیات اس طرح احساساتی ہم آہنگی فہم (Empathetic) کی ایک مرتّب شکل تھی یعنی وہ سمجھ جو کسی کے لیے احساساتی ہم آہنگی(Sympathy) پر مبنی ہو۔ معروضیت کی ایک خاص اور پیچیدہ قسم ہے جسے سماجی علوم پروان چڑھاتے ہیں اس پر بحث کرنے والوں میں ویبر سب سے پہلاشخص تھا۔ سماجی دنیا موضوعی انسانی معنویت،اقدار، احساسات، میلان خاطر، نصب العین وغیرہ کی بنیاد پر دریافت کی گئی تھی۔ اس دنیا کا مطالعہ کرنے میں سماجی علوم لازمی طور پر ان موضوعی معنویت کو برتتے۔ ان معنی کو حاصل کرنے اور انھیں درست طور پر بیان کرنے میں سماجی سائنس دانوں کو ان لوگوں کی جگہ (جن کے عمل کا وہ مطالعہ کررہے ہیں) خود کو رکھنے(خیالی طور پر) کے ذریعہ ، احساساتی ہم آہنگی سمجھنے کے لیے مستقل عمل کرنا ہوتا تھا۔ لیکن یہ تفتیش معروضی طور پر انجام دینی ہوتی تھی اگرچہ اس کا تعلق موضوعی موادسے تھا۔
اس طرح احساساتی ہم آہنگی میں ماہرِ سماجیات کو اپنے خود کے ذاتی عقائد اور رائے کو شامل کیے بغیر (جس سے کہ اس کے عمل پر کسی طرح کا اثر پڑتا ہو)سماجی عاملین کی موضوعی معنویت اور محرکات کو پوری ایمانداری سے درج کیے جانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں ماہرینِ سماجیات کو دوسروں کے موضوعی احساسات کو بیان کرنا ہوتا ہے نہ کہ فیصلہ کرنا۔ ویبرؔ اس طرح کی معروضیت کو قدری غیر جانبداری کہتا ہے۔ ماہرِ سماجیات کو ان قدروں کو اپنے احساسات وخیالات کا اثر ڈالے بغیر موضوعی قدروں کو غیر جانبدادانہ طریقہ سے درج کرنا چاہیے۔ ویبرؔ تسلیم کرتا ہے کہ ایسا کرنا بہت مشکل تھا کیوں کہ سماجی سائنس داں بھی سماج کے ممبر تھے اور ہمیشہ ان کے اپنے موضوعی عقائد اور میلانات ہوتے تھے۔ تا ہم انھیں نہایت خود نظمی کے ساتھ عمل کرنا ہوتا تھا۔ فولادی عزم کے ساتھ تجربہ کرنا تھا تاکہ دوسروں کی قدروں اور عالمی نظریات کو بیان کرتے وقت، قدری غیر جانبداری برقرار رکھی جاسکے۔
ہم احساس یا احساساتی ہم آہنگی کے علاوہ ویبرؔ سماجیات کے مثالی قسم کے تجربے کے لیے دوسرے طریقۂ کار کی بھی تجویز پیش کرتا ہے۔ مثالی قسم سماجی مظہر کا ایک منطقی طور پر موافق نمونہ ہے جو کہ اس کی نہایت اہم خصوصیات پر روشنی ڈالتا ہے۔ ایک تصوراتی ذریعہ ہونے کے سبب یہ تجزیہ کرنے میں مدد گارہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ حقیقت کی بالکل صحیح تصویر پیش کرتا ہے۔ مثالی اقسام میں حقائق کی کچھ خصوصیات کو جنھیں تجزیاتی طور پر اہم سمجھا جانا ہوتا ہے انھیں بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاسکتاہے۔ اور دیگر خصوصیات کو نظرانداز یا کم اہمیت کا ٹھہرایا جاسکتا ہے۔ موٹے طور پر دیکھا جائے تویقینا مثالی قسم حقیقت کے قریب ہونی چاہیے لیکن اس کا اصل کام زیرِ مطالعہ سماجی مظاہر کی اہم خصوصیات اور متعلقات کو پیش کرنے کے ذریعہ تجزیے میں مدد کرنا ہے ۔ ایک مثالی قسم کے ماڈل کے بارے میں فیصلہ کیا جانا چاہیے کہ یہ کس طرح تجزیے اور فہم کے لیے مدد گار ہے نہ کہ یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ کس طرح درست اورتفصیلی بیان پیش کرتا ہے۔
ویبرؔنے مثالی قسم کے ماڈل کو ’عالمی مذاہب‘ کی اخلاقیات اور مختلف تہذیب و تمدن میں سماجی دنیا کے درمیان رشتے کے تجزیے کے لیے استعمال کیا تھا۔ یہ اس سیاق وسباق میں تھا کہ ویبر نے اپنی رائے پیش کی تھی کہ عیسائیت میں مخصوص پروٹسٹنٹ مسالک کی اخلاقیات کا یوروپ میں سرمایہ داری کے فروغ پر گہرا اثر تھا۔
ویبرنے مثالی قسم کا استعمال تین طرح کے اقتدار کو سمجھانے کے لیے بھی کیا تھا۔ ان تینوں کی تعریف روایتی ، کرشمائی اورعقلی وقانونی کے طور پر کی گئی۔ جہاں روایتی اقتدار کی بنیاد رسم اور رواج یا نظیر تھی وہیں کرشمائی اقتدار کو’’اُلوہی ذرائع‘ یا ’خدائی عطیہ‘سے اخذ کیا گیا تھا اور عقلی وقانونی اقتدار، اقتدار کی قانونی حد بندی پر مبنی تھا۔ عقلی وقانونی اقتدار جو کہ جدید دور میں رائج ہے اس کی مثال بیورو کریسی میں ملتی تھی۔

افسرشاہی    Bureaucracy

یہ تنظیم کی ایک قسم تھی جو داخلی دنیا یا نجی زندگی سے لوگوں کی علاحدگی پر مبنی تھی۔ اس کا مطلب یہ کہ عوامی دائرے میں لوگوں کے برتاؤ یا کردار کو واضح اصول وضوابط کے ذریعہ منضبط کرنا تھا۔ مزیدبرآںعوامی ادارے کے طور پر بیوروکر یسی کے ذریعہ عہدیداروں کی طاقت کو ان کی ذمہ داریوں کے لحاظ سے محدود کیا گیا اور انھیں مطلق قوّت نہیں عطا کی گئی۔
افسر شاہی اقتدار کے درج ذیل اوصاف کے ذریعہ اس کی خصوصیت کا تعین کیا جاتا ہے—
(i)         عہدیداروں کے منصبی کام؛
(ii)         سلسلۂ مراتب میں حیثیتوں کی ترتیب
(iii)         تحریری دستاویز پر انحصار
(iv)        دفترِانتظامیہ
(v)         دفتر کاطرزِعمل  
(i) عہدیداروں کے منصبی کام بیوروکریسی میں عہدیداروں کا دائرۂ اختیار متعیّن ہوتا ہے۔جواصولوں، قوانین اور انتظامی ضوابط کے ذریعہ منضبط ہوتا ہے۔دفتر شاہی سے متعلق تنظیم کی تقسیم سرکاری فرائض کے طور پر ایک متعین طریقے سے ہوتی ہے۔ مزید برآں اعلیٰ حُکّام کے جاری کیے گئے احکامات کی تعمیل مستحکم طریقہ سے ماتحتوں کے ذریعہ کی جاتی ہے لیکن عہدیداروں کی ذمہ داریوں کی حد بندی ان کے حکام کے ذریعہ حتمی طور پر کی جاتی ہے۔چونکہ فرائض کی تکمیل باقاعدہ بنیاد پر کی جاتی ہے۔ اس لیے صرف انھیں لوگوں کو انھیں انجام دینے کے لیے ملازمت پر رکھا جاتا ہے جو مطلوبہ اہلیتوں کے حامل ہوتے ہیں۔ بیورو کریسی میں سرکاری حیثیت کا تعلق مدتِ ماموری سے نہیں ہوتا کیونکہ یہ حیثیت کے حامل شخص کے عہدۂ مدتِ سے الگ برقرار رہتی ہے۔
(ii) سلسلۂ مراتب میں حیثیتوں کی ترتیب: حکام اور دفتر کو تدریجی طور پر سلسلۂ مراتب میں رکھا جاتا ہے جہاں اعلیٰ عہدیدار ماتحتوں کے نگراں ہوتے ہیں۔ اس سے نچلے عہدیداروں کے فیصلوں سے اطمینان نہ ہونے کی صورت میں اعلیٰ عہدیداروں سے اپیل کرنے کی گنجائش برقرار رہتی ہے۔
(iii) تحریری دستاویز پر انحصار: بیورو کرٹیک تنظیم کا انتظام تحریری وستاویزوں (فائیلوں) کی بنیاد پر کیا جاتا ہے جن کو ریکارڈوں کے طور پر محفوظ رکھا جاتا ہے۔بیورو یا دفتر کی فیصلہ سازی میں اجتماعیت ہوتی ہے۔ یہ عوامی عملداری کا ایک جزء بھی ہے جو کہ عہدیداروں کی نجی زندگی سے بالکل الگ ہے۔
(iv)  دفترِانتظامیہ : چونکہ دفترِ انتظامیہ کو اختصاص حاصل ہوتا ہے۔یہ جدید سرگرمی ہوتی ہے۔ لہذا   اس کے عمل کو انجام دینے کے لیے تربیت یا فتہ اور ماہر عملے کی ضرورت ہوتی ہے۔
(v) دفتر کا طرزِ عمل: چونکہ آفس سے متعلق سرگرمی میں عہدیداروں کو آفس میں اپنے متعین گھنٹوں سے قطع نظر پوری توجہ دینی ہوتی ہے۔ لہٰذا! آفس میں عہدیدار کا طرزِ عمل جامع اصولوں اور ضوابط سے متعیّن ہوتا ہے۔ اس سے اس کا عوامی طرز عمل اس کی نجی زندگی کے برتاؤ یا کردار سے الگ ہوتا ہے۔ مزید برآں یہ اصول اور قواعدو ضوابط چونکہ قانونی طور پر تسلیم شدہ ہوتے ہیں، اس لیے عہدیدار جو ابدہ ہوتے ہیں۔
وبیرکے ذریعہ سیاسی اقتدار کی جدید شکل کے طور پر بیوروکریسی کی متعین خصوصیات یہ ظاہر کرتی ہے کہ کس طرح کسی کام کرنے والے افراد کو اپنی مہارتوں اور تربیت دونوں کے لیے منظوری حاصل تھی۔ انھیں نافذ کرنے یا عمل میں لانے کے لیے

سرگرمی    4

آپ کے خیال میں درج ذیل گروپ یا سرگرمیاں کس حد تک ویبر کے مفہوم میں بیورو کریسی سے متعلق اقتدار کے عمل میں شامل ہیں؟

(a)آپ کی کلاس (b)آپ کا اسکول(c)ایک فٹ بال ٹیم (d)گاؤں میں پنچایت سمتی (e)کسی مقبول فلمی ستارے کے چاہنے والوں کی انجمن (f)ٹرین یا بس کے باقاعدہ مسافروں کا گروپ (g)مشترکہ فیملی(h)دیہی کمیوینٹی(i)جہاز کا عملہ (j)جرائم پیشہ کا گروہ(k)مذہبی رہنما کے پیروٗ کار اور(l)سینماہال میں فلم دیکھنے والے۔

آپ کی بحث کی بنیاد پر ان گروپوں میں کس کی خصوصیت کو آپ دفتر شاہی سے متعلق سمجھنا چاہیں گے؟ یاد رکھیے کہ اس کے حق میں یا خلاف— دونوں کے اسباب کے بارے میں بحث کیجیے۔ ان لوگوں کی بات بھی سنیے جو اس سے متفق نہیں ہیں۔


مطلوبہ اختیار کے ساتھ ذمہ داریاں تفویض کی گئی تھیں۔ کام اور اختیار کی قانونی حد بندی بے لگام اختیارات پر بندش لگاتی تھی اور عہدیداروں کو اپنے متعلقہ عام لوگوں کے تئیں جوابدہ بناتی تھی۔ کیونکہ کام عوامی عمل داری میں انجام دیا جاتا تھا۔

فرہنگ اصطلاحات

بے گانگی یا اجنبیت (Alienation) : سرمایہ دار سماج میں ایک عمل جس کے ذریعہ انسانوں کو فطرت، دیگرانسانوں ، ان کے کام ، ان کی پیداوار اور ان کی اپنی فطرت یا خود سے الگ کیا جاتا ہے یا دوری بنائے رکھی جاتی ہے۔
روشن خیالی(Enlightenment)اٹہارہویں (18) صدی کا ایک دور جب یوروپ میں فلسفیوں/ مفکرین نے مذہبی نظریات کی برتری کو مسترد کردیا۔ سچائی کے ذرائع کے طور پر تعقل یا اسباب پر زور دیا اور نوعِ انسانی کو ہی صرف دلیل یا سبب کا اکیلا حاصل مانا۔
سماجی حقائق(Social Fact) :   سماجی حقیقت کے پہلو جو برتاؤ اور عقائد (جو افراد کے ذریعہ تخلیق نہیں کیے گئے لیکن مجموعی انداز سے متعلق ہیں) اور ان کے برتاؤ یا کردار پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
پیداوار کا طریقہ(Mode of Production) : یہ مادّی پیداوار کا ایک نظام ہے جو ایک طویل عرصے تک جاری رہتا ہے۔ ہر طریقۂ پیداوار میں اس کے ذرائعِ پیداوار (مثال کے لیے ٹیکنالوجی، پیداواری تنظیم کی مختلف شکلیں)اور پیداواری رشتوں (مثلاً غلامی، اجرتی مزدوری) کے ذریعہ تفریق کی جاتی ہے۔
دفتر(Office) : دفتر شاہی (بیورو کریسی) کے سیاق وسباق میں مخصوص اختیارات اورذمّہ دا ریوں کے ساتھ عوامی عہدہ یا غیر ذاتی حیثیت اورر سمی اختیارہیں۔ آفس اس شخص سے جس کی اس میں تقرری ہوتی ہے اس سے الگ وجود رکھتا ہے۔ (یہ اس یکساں لفظ کے دیگر معنی سے بالکل مختلف ہے جس سے حقیقی بیوورکریٹک ادارے یا اس کے وقوع جیسے: پوسٹ آفس، پنچایت آفس، وزیراعظم کے آفس یا میرے والدین کے آفس وغیرہ کا اظہار ہوتا ہے۔)


مشقیں

.1 سماجیات کے نمو کے لیے روشن خیالی (Enlightenment) کیوں اہم ہے؟
.2    صنعتی انقلاب سماجیات کے ابھرنے میں کس طرح مددگار ثابت ہوا؟
.3    طریقۂ پیداوار کے مختلف اجزا کیا ہیں؟
.4     مارکس کے مطابق طبقات میں تصادم کیوں پیدا ہوا؟
.5    سماجی حقائق کیا ہیں؟ ہم ان کی شناخت کس طرح کرتے ہیں؟
.6     میکانکی اور حیاتی اتحاد کے درمیان کیا فرق ہے؟
.7     اخلاقی ضوابط کس طرح سماجی اتحاد کی نشاند ہی کرتے ہیں؟ مثال دے کر سمجھا ئیے۔
.8      بیوروکریسی کی بنیادی خصوصیات کیا ہیں؟
.9      سوشل سائنس میں ضروری معروضیت(objectivity)کی قسم کے بارے میں خاص یا قابلِ امتیاز کیا ہے؟
.10     کیا آپ کسی ایسے نظریے کی شناخت کرسکتے ہیں جس سے حالیہ زمانے میں ہندوستان میں سماجی تحریکوں نے جنم لیا؟
.11     مارکسؔ اور ویبر نے ہندوستان کے بارے میں کیا لکھا؟ دریافت کیجئے۔
.12     آپ کے خیال میں ہمیں کیوں ان مفکرین کی تخلیق کا مطالعہ کرنا چاہیے جن کا انتقال کافی عرصہ قبل ہوچکا ہے؟ ان کا مطالعہ کیوں نہیں کرنا چاہیے؟ کیا اس کے کچھ اسباب ہوسکتے ہیں؟

حوالہ جات

میکس ویبر : ان اِنٹلکچوئل پورٹریٹ (1960)رین ہارڈ بنڈکس اینکربُکس، نیویارک
دی ڈیویژن آف لیبراِن سوسائٹی (1964) ترجمہ: جارج سِمپسَن مَیک مِلن، نیویارک
اَرلی سوشیولوجی ESO-13-1 (2004) اِگنوٗ ، نئی دہلی