Skip to content
Mutala-e-maashira

باب  5

ہندوستان کے ماہرینِ سماجیات

Indian Sociologists



جیسا کہ آپ نے اپنی پہلی کتاب’ سماجیات کا تعارف‘ کے ابتدائی باب میں پڑھا کہ یہ مضمون نسبتاً یوروپی سیاق وسباق میں بھی نیا ہے اور اس کی شروعات تقریباً ایک صدی پہلے ہوئی ہے۔ہندوستان میں سماجیاتی طرزِ حکومت میں دلچسپی ایک صدی سے تھوڑا زیادہ ہی قدیم ہے لیکن یونیورسٹی کی سطح پر سماجیات کی باضابطہ تدریس یونیورسٹی آف بامبے میں 1919میں شروع ہوئی۔1920 کے دہے میں دودیگر یونیورسٹیوں—کلکتہ اور لکھنؤ میں بھی سماجیات اور انسانیات کی تدریس اور تحقیق کے پروگرام کی شروعات ہوئی۔آج ہر بڑی یونیورسٹی میں سماجیات، سماجی انسانیات یا انسانیات کا شعبہ ہے۔ اکثر ان مضامین میں ایک سے زیادہ کی تدریس کا انتظام ہے۔
آج کل سماجیات کوہندوستان میں اکثر تسلیم شدہ چیزوں کی طرح ہی تسلیم کیے جانے کا میلان پایا جاتا ہے۔لیکن ایسا ہمیشہ نہیں تھا۔ابتدائی دنوں میں یہ واضح نہیں تھا کہ ہندوستانی سماجیات کس طرح کی ہو اور آیا یہ کہ حقیقتاً ہندوستان کو سماجیات کی ضرورت ہے بھی یا نہیں۔بیسویں صدی کے پہلے چوتھائی حصے میں جنہیں اس مضمون سے دلچسپی پیدا ہوئی انہیں فیصلہ لینا تھا کہ ہندوستان میں اس کا کردار کیا ہوگا۔اس باب میں آپ کوہندوستانی سماج کی کچھ بانی شخصیتوں سے متعارف کرایا جائے گا۔ان دانشوروں نے اسے مضمون کی شکل دینے اور ہمارے تاریخی اور سماجی سیاق وسباق میں مطابقت پذیری کرنے میں مدد کی۔سب سے پہلے، اگر مغربی سماجیات جدیدیت کو معنویت فراہم کرنے کی کوشش میں ابھری تو ہندوستان جیسے ملک میں اس کا کیا کردار ہوگا؟ ہندوستان بھی جدیدیت کے سبب ہونے والی تبدیلیوں کے تجربے کے دورسے گزررہا تھا۔ لیکن ایک اہم فرق یہ تھا کہ یہ ایک نوآبادی تھی۔ہندوستان میں جدیدیت کا پہلا تجربہ نو آبادیاتی طورپر مغلوب ہونے کے تجربے کے ساتھ بالکل گندھ جانا تھا۔دوسرے، اگرمغرب میں سماجی انسانیات ظہور میں آیا ابھی تب بھی یوروپی سماج کو قدیم ترین ثقافتوں کے بارے میں تجسّس پیدا ہوا کہ اس نے ہندوستان میں کیا کردار نبھایا ہوگا۔ قدیم اور ترقی یافتہ تمدن کون سا تھا بلکہ اس میں کون سے قدیم سماج موجود تھے؟ آخر میں مقتدراعلیٰ، آزاد ہندوستان میں سماجیات کا مفید کردار کیا رہا ہوگا جبکہ ملک کے طور پر اسے منصوبہ بند ترقی اور جمہوریت کے ساتھ اپنی مہم جوئی شروع کرنی تھی؟
ہندوستانی سماجیات کے اولین لوگوں نے نہ صرف ان جیسے سوالات کے اپنے خود کے جوابات دریافت کیے بلکہ انہوں نے خود کے لیے نئے سوالات بھی وضع کیے۔ان سوالوں کے جواب صرف ہندوستانی سیاق وسباق میں عملی سماجیات کے تجربے کے ذریعہ ہی ممکن تھے۔ کیونکہ یہ پہلے سے تیار نہیں تھے۔جیسا کہ اکثر معاملے میں ہوتا ہے کہ شروعات میں جوماہرینِ سماجیات اور انسانیات ہوئے وہ زیادہ تراتفاقی طور پر ہوئے۔مثال کے لیے ہندوستان میں سماجی انسانیات کے ابتدائی اور معروف اولین لوگوں میں سے ایک ایل۔کے۔اننت کرشن ایّر(1861 - 1937 ) تھے جنہوں نے اپنے کیرئیر کی شروعات ایک کلرک کی حیثیت سے کی۔آگے چل کر اسکول ٹیچر بنے اور بعد میں موجودہ کیرل میں کوچین ریاست میں کالج لیکچرر مقرر ہوئے۔1902 میں کوچین کے دیوان کے ذریعہ ریاست کے نسلی وثقافتی تنوع کے مطالعے کے لیے سروے میں ان کی مدد طلب کی گئی۔برطانوی حکومت سبھی رجواڑہ ریاستوں کے ساتھ ساتھ اپنے زیرِاقتدار پریزیڈنسی میں بھی اسی طرح کے سروے کرانا چاہتی تھی۔ اننت کرشن ایرّ نے اس کام کو ارنا کُلم میں مہاراجہ کالج میں ایک کالج ٹیچر کے طورپر کام کرنے کے دوران اور اختتامِ ہفتہ پرنسل نگاری کے غیرتنخواہ یافتہ سُپرنٹنڈنٹ کے طورپر اپنے فرائض انجام دیتے ہوئے اس کام کو خالصتاً رضاکارانہ بنیاد پر پورا کیا۔اس دور کے برطانوی ماہرین انسانیات اور منتظمین نے ان کے کام کی کافی ستائش کی اور بعد میں انہیں اسی طرح کے نسلیاتی سروے کے لیے میسور ریاست میں بلایا گیا۔
اننت کرشن ائیر شاید نجی طور پر علم حاصل کرنے والے پہلے ماہرِ انسانیات تھے جو ایک عالم اور ماہرِتعلیم تھے۔انہیں یونیورسٹی آف مدراس میں لیکچرکے لیے مدعوکیا گیا۔یونیورسٹی آف کلکتہ میں بحیثیت ریڈر ان کی تقرّری ہوئی۔ جہاں انہوں نے ہندوستان میں پہلے پوسٹ گریجوئٹ شعبۂ انسانیات کی بنیاد رکھنے میں مدد کی۔ وہ 1917سے 1932تک یونیورسٹی آف کلکتہ میں رہے۔اگرچہ علمِ انسانیات میں ان کے پاس کوئی باضابطہ اہلیت نہیں تھی لیکن انہیں ہندوستانی سائنس کانگریس میں شعبۂ نسلیات کا سربراہ منتخب کیا گیا۔ یوروپی یونیورسٹیوں کے ان کے دورے کے لیکچر کے دوران جرمن یونیورسٹی نے انہیں اعزازی ڈاکٹریٹ سے نوازا۔انہیں کوچین ریاست نے راؤ بہادر اور دیوان بہادر کے خطابات بھی عطا کیے۔

وکیل شرت چندر رائے (1942 - 1871) ایک اورمتفقہ ماہرِانسانیات تھے۔ ہندوستان میں اس مضمون کے اولین لوگوں میں سے ایک تھے۔کلکتہ کے ریپن کالج میں قانون کی ڈگری لینے سے پہلے رائے انگریزی میں گریجوئٹ اورپوسٹ گریجوئٹ کی

گووندسدا شوگھورے   (1983 - 1893)

2nd
جی۔ایس۔گھورے مغربی ہندوستان کے کونکن ساحلی خطے میں ایک شہرمالون میں 12؍دسمبر1893 کو پیدا ہوئے تھے۔ ان کے خاندان کا ایک تجارتی کاروبار تھا جو کسی زمانے میں پھلتا پھولتا تھا لیکن بعد میں زوال پذیر ہوا۔
1913  :   بی۔اے۔ڈگری کے لیے سنسکرت آنرس کے ساتھ بامبے میں الْفِنْسٹَن کالج میں داخلہ لیا۔1916میں اس کی تکمیل کی۔ 1918میں اسی کالج سے سنسکرت اور انگریزی میں ایم۔اے کی ڈگری 
حاصل کی۔
1919   : سماجیات میں بیرونِ ملک ٹریننگ کے لیے بامبے یونیورسٹی نے انہیں اسکالرشپ کے لیے منتخب کیا۔ابتدائی طور پر اپنے زمانے کے ممتاز ماہرِسماجیات   ایل۔ٹی ہوب ہائوس کے ساتھ مطالعہ کے 
لیے لندن اسکول آف ایکونامکس گئے۔ بعد میں ڈبلیو۔ایچ۔ریورس کے ساتھ مطالعے کے لیے کیمبرج گئے اور اس کے ثقافتی نفوذ کے تناظر سے کافی متأثر ہوئے۔
1923 : 1922 میں ریورس کی اچانک موت کے بعد اے۔سی۔ہیڈن کے ماتحت ڈگری کے لیے مقالے لکھے۔
1924 :  کلکتہ میں مختصرقیام کے بعد وہ جون میں بامبے یونیورسٹی میں سماجیات کے شعبے میں ریڈر اور ہیڈ مقرّر ہوئے۔اگلے 35سالوں تک وہ بامبے یونیورسٹی میںشعبے کے سربراہ رہے۔
1936   : بامبے یونیورسٹی کے شعبے میں پی۔ایچ۔ڈی پروگرام کی شروعات ہوئی۔کسی ہندوستانی یونیورسٹی میں سماجیات میں پہلی پی۔ایچ۔ڈی ڈگری گھورے کی نگرانی میں جی۔آر۔پردَھان کونوازی گئی۔ایم اے کورس کی نظرثانی کی گئی اور 1945 میں ایک مکمل کورس کا پروگرام بنایا گیا۔
1951   : گھورے نے ہندوستانی عمرانیاتی سماج قائم کیا اور اس کے بانی صدر بنے۔ہندوستانی عمرانیاتی سماج کا جرنل سوشیولوجکل بلیٹن 1952 میں شروع کیا گیا۔
1959 : گھورے یونیورسٹی سے ریٹائر ہوئے لیکن ان کی سرگرم عملی زندگی جاری رہی۔ خاص طور پر اشاعت کے میدان میں۔ ریٹائرمنٹ کے بعد ان کی 30میں 17 کتابیں شائع ہوئیں۔
90 سال کی عمر میں 1983میں ان کی وفات ہوئی۔

  ڈگری حاصل کرچکے تھے۔جلد ہی انہوں نے وکالت شروع کردی تھی۔ 1898میں انہوں نے کرشچن مشنری اسکول میں انگریزی کے استاد کی حیثیت سے رانچی جانے کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلے نے ان کی زندگی میں انقلاب پیدا کردیا۔ اگلے چالیس سالوں تک وہ رانچی میں رہے۔ چھوٹا ناگپور خطے میں (موجودہ جھارکھنڈ) کے قبائلی لوگوں کی ثقافت اور سماج کے امور پر ان کو مہارت حاصل تھی۔ انسانیاتی معاملوں میں رائے کی دلچسپی اس وقت شروع ہوئی جب انہوں نے اسکول کا کام چھوڑ دیا اور رانچی عدالت میں وکالت کا کام شروع کردیا۔آخرکار عدالت میں سرکاری ترجمان کی حیثیت سے تقرری ہوئی۔
رائے کو عدالت میں قبائلی رواجوں اور قوانین کی ترجمانی کی پیشہ روانہ ضرورتوں کے تحت ضمنی مقاصد کے حصول کے لیے قبائلی سماج میں گہری دلچسپی پیدا ہوگئی تھی۔ انہوں نے قبائلی کمیونٹیوں میں زبردست دورہ کیا اوران پر گہرائی سے فیلڈ ورک انجام دیا۔یہ سب انہوں نے شوقیہ بنیاد پر کیا لیکن رائے کی سخت محنت وکوشش اور گہرے مشاہدے کا تفصیلی نتیجہ یک موضوعی قیمتی مقالے اور تحقیقی مقالات کی شکل میں نکلا۔مُنڈا، اُراؤں اور کھاریاؤں پر اپنے مشہور مقالات کے علاوہ ان کے پورے کیرئیر میں ہندوستانی اور برطانوی اکیڈمک جرنلوں میں ایک سو سے زیادہ مقالے شائع ہوئے۔رائے ہندوستان اور برطانیہ میں ماہرینِ انسانیات کی حیثیت سے بہت زیادہ معروف ومقبول ہوگئے۔ چھوٹا ناگپور میں ایک مستند شخصیت مانے جاتے تھے۔ 1922 میں انہوں نے Man in India   جرنل کی شروعات کی۔ ہندوستان میں اپنی قسم کا ابتدائی جرنل تھا جسے اب بھی شائع کیا جاتا ہے۔
اننت کرشن ایراور شرت چندررائے دونوں ہی حقیقی بانی تھے۔ 1900کے ابتدائی دہے میں انہوں نے اس مضمون کی شروعات کی جو اس وقت ہندوستان میں موجود نہیں تھا۔ اسے فروغ دینے کے لیے کوئی ادارہ نہیں تھا۔دونوں ہی ہندوستان میں پیدا ہوئے ، رہے اور ان کا یہیں انتقال ہوا جہاں برطانیہ کی حکمرانی تھی۔اس باب میں چار اور ہندوستانی ماہرینِ سماجیات کا تعارف کیا جائے گا جو ایرّ اور رائے کے بعد پیدا ہوئے۔وہ حالانکہ نوآبادیاتی دور میں پیدا ہوئے لیکن آزادی کے دور میں بھی ان کا کیریر جاری رہا اور انہوں نے پہلے باضابطہ اداروں کے قیام میں مدد کی۔ جس نے ہندوستانی سماجیات کی شروعات کی۔1890کے دہے میں جی۔ایس۔گھورے اور ڈی۔پی۔مکھرجی پیدا ہوئے۔ اگرچہ ان پر سماجیات کی مغربی روایتوں کاگہرا اثر پڑا، لیکن وہ کچھ ان سوالوں کے ابتدائی جوابات دینے کے اہل ہوئے، جو ان سے پوچھے جانے لگے تھے کہ ہندوستانی سماجیات کو خصوصی طور پر کیا شکل اختیار کرنی چاہیے؟
جی۔ ایس۔گھورے کو ہندوستان میں اداریاتی سماجیات کا بانی سمجھا جاتا ہے۔انہوں نے پینتیس سال تک بامبے یونیورسٹی میں سماجیات کے اولین پوسٹ گریجویٹ ٹیچنگ ڈپارٹمنٹ کی سربراہی کی۔انہوں نے بیشتر محققین کی رہنمائی کی جنہوں نے بعد میں اس مضمون میں اہم حیثیت اختیار کی۔ انہوں نے ہندوستانی سماجیاتی سماج بھی قائم کیا اور اپنے جرنل ’’سوشیولو جیکل بلیٹن‘‘ کا اجرا کیا۔ ان کی علمی تحریر یں نہ صرف تعداد کے اعتبار سے بہت تھیں بلکہ موضوعات کے لحاظ سے بھی وقیع تھیں۔اس زمانے میں یونیورسٹی تحقیق کے لیے مالیاتی اور اداراتی مدد بہت ہی محدود تھی۔ گھورےؔ نے سماجیات کو ایک ایسے مضمون کے طور پر پروان چڑھایا جس کی مانگ کافی بڑھتی جارہی تھی۔ گھورے کا بامبے یونیورسٹی کا شعبہ پہلا تھا جو اُن کی ان دو خصوصیات کو کامیابی کے ساتھ نافذ کررہا تھا جس کی توثیق بعد میں اُن کے جانشینوں کے ذریعہ پرجوش طورپر کی گئی۔یہ تھیں: ایک ہی ادارے میں تدریس اور تحقیق کا سرگرم اتحاد اور سماجی انسانیات اور سماجیات کو ایک مخلوط مضمون میں مدغم کرنا۔
ذات اور نسل پر اُن کی تحریریں غالباً سب سے زیادہ معروف ہیں۔ گھورے نے جن دیگر مرکزی خیال پر تحریریں لکھیں ان میں شامل تھیں: قبائلی قرابت داری، خاندان اور شادی، ثقافت، تمدن اور شہروں کے تاریخی کردار، مذہب، تصادم اور یک جہتی کی سماجیات۔ ان ذہنی اور سباقی معاملوں میں جن کا اثر گھورے پر پڑا ان میں سب سے زیادہ اہم غالباً انتشاریت، ہندو مذہب اور فکر، قوم پرستی اور ہندوشناخت کے ثقافتی پہلو شامل ہیں۔
اہم نفسِ موضوع جن پر گھورے نے کام کیا وہ قبائلی یا آدی واسی ثقافتیں تھیں۔درحقیقت اس مضمون پر اُن کی تحریریں اور خاص طورپر ویریئرایلون کے ساتھ اس کی بحث ہی تھی جس سے وہ پہلی بار سماجیات کے باہر اور عملی دنیا میں مشہور ہوئے۔1930 اور 1940 کے دہے میں ہندوستان میں قبائلی سماجوں کے مقام اور ریاست کو اس سلسلے میں کیا عمل کرنا چاہیے اس پرکافی مباحثہ منعقد ہوتا تھا۔بہت سے برطانوی منتظم وماہرینِ سماجیات کو ہندوستان کے قبائیلیوں میں کافی دلچسپی تھی۔ انھیں اصل ہندوازم سے کافی الگ امتیازی ثقافت کے حامل قدیمی لوگ مانتے تھے۔وہ یہ بھی مانتے تھے کہ معصوم اور سادہ قبائل ہندوثقافت اور سماج کے ساتھ رابطے کے ذریعہ استحصال اور ثقافتی تنزلی برداشت کریں گے اسی وجہ سے انہوں نے محسوس کیا کہ قبائلیوں کو تحفظ فراہم کرنے اور ان کی طرزِ زندگی اور ثقافت کو برقرار رکھنے کی ذمہ داری ریاست کی تھی، کیونکہ اس پر اصل ہندوثقافت کے ساتھ جذب ہونے کا مستقل دباؤ پڑرہا تھا۔تاہم قوم پرست ہندوستانی ہندوستان کے اتحادمیں اور ہندوستانی سماج اور ثقافت کی جدیدکاری کی ضرورت کے بارے میں اتنے ہی مغلوب الجذبات تھے۔وہ مانتے تھے کہ قبائلی ثقافت کو محفوظ رکھنے کی کوششیں گمراہ کن تھیں۔ اس کا نتیجہ قدیمی ثقافت کے میوزیم کے طور پر پس ماندہ حالت کی صورت میں نکلا۔ہندوازم کی بہت سی خصوصیات کے باوجود وہ اس میں اصلاح کی ضرورت کو مانتے تھے۔وہ محسوس کرتے تھے کہ قبائلی نظام کو بھی بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔گھورے قوم پرست نظریے کے معروف ترجمان تھے۔ ہندوستان کے قبائل کو پسماندہ ہندوکی حیثیت سے خصوصیات کے تعین پر زور دیتے تھے، نہ کہ انھیں امتیازی ثقافتی گروپ سمجھتے تھے۔انہوں نے قبائلی ثقافتوں کے وسیع تنوع کی تفصیلات بیان کیں تاکہ یہ ظاہر کیا جاسکے کہ طویل عرصے سے ان کا ہندوازم کے ساتھ مستقل تفاعل تھا۔اس طرح وہ سیدھے طور پر انجذاب کے اس عمل میں بہت پیچھے تھے جس عمل میں سب ہی ہندوستانی کمیونیٹیاں گزررہی تھیں۔ یہ خصوصی دلیل یعنی ہندوستانی قبائلی شاید ہی کبھی اس قسم کی قدیم کمیونیٹوں سے الگ تھلگ رہے ہوں جن کا ذکر قدیم انسانیاتی متوّن میں کیا گیا تھا۔یہ حقیقتاً تنازعہ نہیں تھا۔ اختلاف یہ تھا کہ اصل ثقافت کے اثر کا کس طرح تعین قدر کیا جائے۔تاسین پسند (Protectionist) مانتے تھے کہ انجذاب قبائیلیوں کے شدید استحصال اور ثقافتی مجبوری کا نتیجہ ہوسکتا تھا۔جبکہ دوسری طرف گھورےؔ اور قوم پرستوں کی دلیل تھی کہ یہ خراب اثرات قبائلی ثقافتوں کے لیے ہی مخصوص نہیں تھے بلکہ سب ہی ہندوستانی سماج کے پسماندہ اور محروم طبقات کے لیے عام بات تھی۔یہ ترقی کی راہ میں ناگزیر مشکلات تھیں۔

سرگرمی 1  

آج بھی ہم اس طرح کے مباحثے میں شامل دکھائی دیتے ہیں۔عصری تناظر میں سوال کے مختلف پہلو پر بحث کیجیے۔ مثال کے لیے بہت سی قبائلی تحریکیں اپنی امتیازی ثقافتی اور سیاسی شناخت پر اصرار کرتی ہیں۔درحقیقت جھارکھنڈ اور چھتیس گڑھ کی ریاستوں کی تشکیل ایسی ہی تحریکوں کے جوابی عمل میں کی گئی تھیں۔قبائلی کمیونیٹیوں کے ان غیرمتناسب بوجھ پر خاصا اختلاف ہے جسے ترقیاتی پروجیکٹوں جیسے بڑے باندھ، کانوں اور فیکٹریوں کے نام پرقبائلی کمیونیٹیوںکو برداشت کرنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔اس طرح کے کشاکش کے امور دریافت کیجیے۔آپ اور آپ کی کلاس کے ساتھیوں کو ان مسائل کے بارے میں کیا محسوس کرنا چاہیے؟

ذات اور نسل کے بارے میں گھوٗرے کے خیالات

(Ghurye on Caste and Race)

جی۔ایس۔گھورےؔ کی علمی شہرت کیمبرج میں اس کی ڈاکٹر کی ڈگری کے لیے تحریر کیے گئے یک موضوعی مقالے کی بنیاد پر تھی، جسے (Caste and Race in India (1932 کے نام سے بعد میں شائع کیا تھا۔گھورے کی تخلیق نے لوگوں کی توجہ مبذول کی۔ کیونکہ اس میں اس وقت ہندوستانی انسانیات کے اہم معاملوں پر دھیان دیا گیا تھا۔اس کتاب میں نسل اور ذات کے درمیان رشتے کے بارے میں اس وقت کے اہم نظریات کے بارے میں تفصیلی طور پر تنقیدی جائزہ لیا گیا تھا۔برطانوی نوآبادیاتی عہدیدار ہربرٹ رِسلے، جو نسلیاتی امور میں گہری دلچسپی رکھتا تھا، اس غالب نظریے کا اہم محرّک تھا۔اس نظریے میں یہ بتایا گیا تھا کہ انسان کو اس کی جسمانی خصوصیات (جیسے کھوپڑی کا دائرہ، ناک کی لمبائی، یا کاسۂ سر کا حجم یا کھوپڑی کا وہ حصہ جہاں دماغ واقع ہوتا ہے) کی بنیاد پر امتیازی اور علاحدہ نسلوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔
رِسلے اور دیگر یہ مانتے تھے کہ نسلی اقسام کے ارتقا کے مطالعے کے لیے ہندوستان ایک منفرد لیباریٹری ہے۔ کیونکہ ذات پات میں مختلف گروپوں میں باہمی شادی کے لیے سختی سے ممانعت اور ایسا صدیوں سے ہوتا آ رہا تھا۔رسلے کی خاص دلیل یہ تھی ذات نسل سے نکلی ہے کیونکہ مختلف نسلی گروپ لگتا ہے امتیازی نسلی اقسام سے متعلق ہوتے ہیں۔بالعموم، اونچی ذات کے لوگوں میں تقریباً ہندآریائی نسلی اوصاف پائے جاتے ہیں جبکہ نچلی ذاتیں غیرآریائی آدی واسیوں، منگولوں یا دیگر نسلی گروپوں سے متعلق دکھائی دیتی ہیں۔ناک کی لمبائی، کاسۂ سر کے حجم وغیرہ کے لیے اوسط پیمائش کی اصطلاح میں گروپوں کے درمیان فرق کی بنیاد پر رِسلے اور دوسرے لوگوں نے تجویز دی کہ نچلی ذاتیں ہندوستان کے اصل آدی واسی تھے۔انہیں آریائی لوگوں کے ذریعہ محکوم بنالیا گیا تھا جو اور کہیں سے آئے تھے اور ہندوستان میں بس گئے تھے۔
گھورے، رِسلے کے ذریعہ پیش کی گئی بنیادی دلیل سے غیر متفق نہیں تھے لیکن یہ صرف جزوی طور پر درست تھا۔ انہوں نے مخصوص کمیونٹی کے لیے خصوصی پیمائش کی تقسیم میں تنوع کو سمجھے بغیر صرف اوسط کے استعمال کرنے کے مسئلے کی طرف نشاندہی کی۔گھورے مانتا تھا کہ اونچی ذات کے آریائی ہونے اور نچلی ذات کے غیرآریائی ہونے کا رِسلے کا نظریہ موٹے طور پر صرف شمالی ہندوستان کے لیے صحیح تھا۔ہندوستان کے دیگر حصوں میں انسانی جسم کی پیمائشوں میں بیّن گروہی فرق بہت زیادہ یا منظم نہیں تھا۔اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ انڈو گنگا میدان کے علاوہ زیادہ ترہندوستان سے مختلف نسلی گروپ کافی عرصے سے ایک دوسرے میں ملتے جلتے رہے تھے۔اس طرح، نسلیاتی پاکیزگی صرف اصل ہندوستان (شمالی ہندوستان) میں آپسی شادی کی ممانعت کے سبب محفوظ تھیں۔باقی ملک میں داخلی زوجیت (صرف ایک مخصوص ذات یا گروپ میں شادی کرنا) کا رواج صرف انہیں گروپوں میں شروع ہوا تھا جو پہلے ہی سے نسلی طور پر متنوّع تھے۔
آج ذات کے نسلی نظر یے کو نہیں مانا جاتا۔ لیکن 20 ویں صدی کے پہلے نصف میں اسے صحیح سمجھا جاتا تھا۔مؤرخین کے درمیان آریوں اور برصغیر میں ان کی آمد کے بارے میں متضاد رائے پائی جاتی ہے۔تاہم گھورے کی تخلیق کے وقت اس موضوع کے متعلق اُمور تھے جس کے سبب اس کی تحریروں نے توجہ مبذول کی۔
گھورے کو ذات کی جامع تعریف پیش کرنے کے لیے جانا جاتا ہے۔اس کی تعریف درج ذیل چھ خصوصیات پر زور دیتی ہیں:
(i) ذات ایک ادارہ ہے جو قطعاتی تقسیم پر مبنی ہے۔اس کا مطلب ہے ذات پات پر مبنی سماج کو مزیدبند، باہمی طور پر مخصوص حصے یا قطعہ یا خانے میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ ہرذات اسی طرح کا ایک خانہ ہے۔یہ بند اس لیے ہے کہ ذات کا فیصلہ پیدائش کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔جو بچے کسی مخصوص ذات کے والدین کے یہاں پیدا ہوئے ہیں وہ ہمیشہ اسی ذات سے وابستہ ہونگے۔جبکہ دوسری طرف ذات کی ممبرشپ حاصل کرنے میں پیدائش کے علاوہ کوئی دوسرا طریقہ نہیں ہے۔ مختصراً کسی فرد کی ذات پیدائش پر پیدائش کے ذریعہ کیا جاتا ہے اسے نہ تو نظر انداز کیا جاسکتا ہے نہ ہی تبدیل کیا جاسکتا ہے۔
(ii)  ذات پات کا سماج درجہ بندی کی تقسیم پر مبنی ہے۔ ہر ذات دیگر ذات کے بالکل مساوی نہیں ہوتی یعنی ہر ذات یا تو دوسرے سے اونچی ہوتی ہے یا نیچی، نظریاتی طور پر (اگرچہ عملاًنہیں) کوئی بھی دو ذات کبھی مساوی نہیں ہوتیں۔
(iii)  ذات کے ادارے میں لازماً سماجی تعامل پر پابندی شامل ہوتی ہے۔ خاص طور پر کھانے پینے میں شرکت کے معاملے میں۔ یہاں تفصیلی قواعد ہیں کہ جو یہ بیان کرتے ہیں کہ کس طرح کی غذا کو کن سے گروپوں کے درمیان ساجھا کیا جاسکتا ہے۔یہ اصول پاکیزگی اورآلودگی کے نظریے پر مبنی ہوتے ہیں۔یہی بات سماجی تعامل پر بھی لاگو ہوتی ہے۔ خاص طور پر چھواچھوت کے معاملے میں جہاں کسی مخصوص ذات کے لوگوں کو چھوٗنا بھی ناپاک تصور کیا جاتا ہے۔
(iv) درجہ بندی اور ممنوعہ سماجی باہمی تعامل کے اصولوں کی پابندی کرتے ہوئے ذات پات میں مختلف ذاتوں کے تفریقی حقوق اور فرائض بھی شامل ہوتے ہیں۔یہ حقوق اور فرائض نہ صرف مذہبی رواجوں پر مشتمل ہوتے ہیں بلکہ ان کی توسیع دنیوی امور تک ہوتی ہے۔ذات پات کے سماج میں روز مرّہ زندگی کے نسلیاتی حساب کتاب مختلف ذات کے لوگوں کے درمیان جو باہمی تعاملات ظاہر کرتے ہیں وہ انہیں اصولوں کے تحت ہوتے ہیں۔
(v) ذات کا نظام پیشے کے انتخاب کومحدود کرتا ہے۔ جیسے کہ ذات کا فیصلہ خود پیدائشی اور موروثی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔سماج کی سطح پر مخصوص پیشوں کے ساتھ محنت کی تقسیم کی سخت شکل کے طور پر ذات عمل کرتی ہے جو کہ مخصوص ذاتوں کے لیے مخصوص کیا جاتا ہے۔
(vi) ذات کے نظام میں شادی پر سخت پابندیاں شامل ہوتی ہیں۔ذات سے متعلق داخلی زوجیت یا شادی اسی ذات میں ہوتی ہے اوراکثر خارجی زوجیت کے اصول بھی پائے جاتے ہیں یا ان کے بارے میں اصول ہوتا ہے جن سے وہ شادی نہیں کرسکتے۔ مجاز اور غیر مجاز گروپوں کے بارے میں یہ مجموعہ اصول ذات پات کے نظام کی تخلیق میں مددگار ہوتا ہے۔
گھورے کی تعریف نے زیادہ منظم طور پر ذات کے مطالعہ میں مددکی۔اس کی تصوّراتی تعریف قدیمی متون میں دی گئی صلاح پر مبنی تھی۔عملاً ذات کے نظام کی بہت سی خصوصیات میں تبدیلی واقع ہورہی تھی۔ اگرچہ یہ سب ہی بعض شکل میں جاری تھیں۔اگلے کئی دہوں تک نسلیاتی فیلڈورک سے آزاد ہندوستان میں ذات کے نظام میں جو کچھ واقع ہورہا تھا اس کے بارے میں گراں قدر رو داد فراہم ہونے میں مدد ملی۔

1920 اور 1950 کے دہے میں ہندوستان میں سماجیات کو دوبڑے شعبوں —ممبئی اور لکھنؤ سے متعلق کیا گیا تھا یا جوڑا گیا تھا۔دونوں کی شروعات سماجیات اور معاشیات کے متحدہ

دُھرجاتی پرساد مکھرجی   (1894-1961)

ڈی۔پی۔مکھرجی 5اکتوبر 1894کو متوسط بنگالی برہمن فیملی میں پیدا ہوئے جہاں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی طویل روایت چلی آرہی تھی۔ سائنس میں انڈرگریجوئٹ ڈگری اور تاریخ اور ایکونامکس میں پوسٹ گریجوئٹ ڈگری کلکتہ یونیورسٹی سے حاصل کی۔
1924 : لکھنؤ یونیورسٹی میں ایکونامکس اور سوشیولوجی کے شعبے میں لیکچرر مقرر ہوئے۔
1938-41 :     برطانوی ہندوستان کے صوبۂ متحدہ (موجودہ اترپردیش) کی کانگریس کی پہلی حکومت میں ڈائریکٹر آف انفارمیشن کے طور پر مقرر ہوئے۔
1947 : یوپی لیبرانکوائری کمیٹی کے ممبر کے طورپر کام کیا۔
1949 : لکھنؤ یونیورسٹی میں پروفیسر(وائس چانسلر کے خاص احکام کے تحت) مقرر ہوئے۔
1953 : علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ایکونامکس کے پروفیسر مقرر ہوئے۔
1955 : نئی تشکیل شدہ انڈین سوشیولوجکل سوسائٹی کا صدارتی خطبہ دیا۔
1956 : سوئزرلینڈ میں گلے کے کینسرکے سلسلے میں ایک بڑا آپریشن کیا گیا۔5؍دسمبر 1961کو وفات ۔

  شعبے کے طورپر ہوئی۔جبکہ اس دور میں ممبئی میں اس شعبے کی سربراہی جی۔ایس۔گھورے نے کی۔ لکھنؤکے شعبے میں تین اہم شخصیتیں تھیں— رادھا کمل مکھرجی (بانی)، ڈی۔پی۔مکھرجی اور ڈی۔این۔مجومدار کی مشہور تین ارکان۔اگرچہ یہ تینوں ہی معروف تھے اور ان کا کافی احترام کیا جاتاتھا لیکن ڈی۔پی۔مکھرجی غالباً سب سے زیادہ مقبول تھے۔انہیں عام طور پر ڈی۔پی کے نام سے جانا جاتا تھا۔وہ اپنے ہم عصروں میں سب سے زیادہ ذی اثر عالم تھے۔ نہ صرف سماجیات میں بلکہ علمی میدان سے الگ دانش وروں اور عوام میں بھی مقبول تھے۔ ان کا اثراور مقبولیت ان کی عالمانہ تحریروں سے ہی نہیں ان کی تدریس، علمی تقاریب میں ان کی تقریر، میڈیا میں ان کے کام بشمول اخبار میں مقالے اور ریڈیو پروگرام کے ذریعہ بھی کافی حاصل ہوئی تھی۔ ڈی۔پی تاریخ اور معاشیات سے سماجیات کے شعبے میں آئے۔ ادب، موسیقی، فلم، مغربی اور ہندوستانی فلسفہ، مارکس ازم، سیاسی معیشت اور ترقیاتی منصوبہ بندی جیسے متنوّع مضامین میں کافی دل چسپی رکھتے تھے۔ ان پر مارکس ازم کا کافی گہرا اثر پڑا۔ اگرچہ عمل کے لیے سیاسی پروگرام کی نسبت سماجی تجزیے کے طریقے کے طورپر اس میں زیادہ عقیدہ رکھتے تھے۔ ڈی۔پی نے انگریزی اور بنگالی میں بہت سی کتابیں تحریر کیں۔ان کی Introduction to Indian Music ایک اولین تخلیق ہے جسے اس صنف میں قدیم سمجھا جاتا ہے۔

روایت اور تبدیلی پر ڈی۔پی۔مکھرجی کے خیالات

D.P. Mukerji on Tradition and Change

چونکہ ڈی ۔پی ہندوستانی تاریخ اور معاشیات سے مطمئن نہیں تھے۔ لہٰذا انہوں نے سماجیات کی طرف رجوع کیا۔ انہوں نے بہت شدت سے محسوس کیا کہ ہندوستان کی اہم امتیازی خصوصیت اس کا سماجی نظام تھا اور اس بنا پر ہرسوشل سائنس کے لیے اس کی گہرائی میں جانا ضروری ہے۔ہندوستانی سیاق وسباق کا فیصلہ کن پہلو— سماجی پہلو، تاریخ اور سیاست تھا۔ ہندوستان میں مغرب کی نسبت معاشیات کم ترقی یافتہ تھا۔تاہم سماجی جہات کافی وقیع تھے جیسا کہ ڈی۔پی نے لکھا ہے... ...   ’’میرا ماننا ہے کہ ہندوستان میں ایک سماج تھا جو تھوڑا مختلف تھا۔درحقیقت اس میں بہت کچھ تھا۔ اس کی تاریخ، اس کی معاشیات یہاں تک کہ اس کا فلسفہ ۔ میں نے محسوس کیا یہ ہمیشہ سماجی گروپوں اور زیادہ سے زیادہ معاشرتی افراد پر مرتکز تھی۔‘‘ (مکھرجی   1955:2)
ہندوستان میں سماج کی مرکزیت جیسا کہ پہلے خیال کیا گیا ہے کہ ہندوستان کی سماجی روایتوں کا مطالعہ کرنے اور انہیں جاننے کے لیے ہندوستانی ماہرِسماجیات کا اولین فرض بن جاتا ہے۔ ڈی۔پی کے لیے یہ مطالعہ صرف ماضی کے تئیں مطالعہ نہیں تھا بلکہ اس میں تبدیلی کی احساس پذیری بھی شامل ہے۔ اس طرح روایت ایک جاندار روایت تھی جو اپنا ربط ماضی کے ساتھ برقرار رکھتی ہے لیکن حال کے ساتھ بھی اس کی مطابقت رہتی ہے۔ اور اس طرح وقت کے ساتھ ساتھ اس کا ارتقا ہوتا رہتا ہے۔جیسا کہ وہ لکھتا ہے، ’’ہندوستانی ماہرِ سماجیات کو صرف ماہر سماجیات ہونا بھی کافی نہیں ہے۔اسے سب سے پہلے ہندوستانی ہونا چاہیے۔ یعنی اسے لوک رواج اور روایات کا خیال اس سماجی نظام کو سمجھنے کے لیے رکھنا چاہیے۔اس کے علاوہ اس کے اندر اور باہر کیا واقع ہے۔اس نظریے کے مطابق وہ مانتا تھا کہ ماہرینِ سماجیات کو ’اعلیٰ‘ اور ’کم تر‘ دونوں زبانوں اور ثقافتوں کا مطالعہ کرنا چاہیے اور اس سے واقفیت حاصل کرنی چاہیے۔ نہ صرف سنسکرت، فارسی یا عربی بلکہ مقامی بولیوں کا بھی مطالعہ کرنا چاہیے‘‘۔
ڈی۔پی نے دلیل دی کہ ہندوستانی ثقافت اور سماج، مغربی مفہوم میں، انفرادیت پسندانہ نہیں ہے۔خواہشوں کی تکمیل کااوسط ہندوستانی انفرادی انداز سے کم یا زیادہ سختی کے ساتھ مقررکرتاہے، وہ شاید ہی اس سے انحراف کرتا ہے۔اس طرح ہندوستانی سماجی نظام بنیادی طور پر گروپ، ملک،ذات پات کے عمل کے تئیں متعین ہوتا ہے نہ کہ رضاکارانہ انفرادی عمل۔
اگرچہ رضاکاری کی شروعات شہری متوسط طبقات کے رسوخ کے ساتھ شروع ہوئی تھی لیکن ہندوستانی ماہرِسماجیات کے مطالعہ کے لیے خود دلچسپ مضمون کے طورپر ظاہر ہونا چاہیے۔ ڈی۔پی نے نشاندہی کی کہ لفظ روایت کا اصل معنی سمجھنا چاہیے۔ اس کا مساوی سنسکرت یا تو پرمپرا ہے یعنی سلسلہ یا ایتیہہ (aitihya) جو اسی مشتق اتیہاس یا تاریخ سے نکلا ہے۔ اس طرح روایتوں کا اصل ماضی میں ہے جو کہانیوں اور اساطیر کو بار بار یاد کرنے اور سنانے اور بتانے کے ذریعہ جاری ہے۔تاہم ماضی سے اس تعلق کا مطلب تبدیلی نہ ہونا نہیں ہے، لیکن یہ اس کے ساتھ تطابق کا عمل ظاہر کرتا ہے۔تبدیلی کے داخلی اور بیرونی ذرائع ہمیشہ ہر سماج میں موجود ہوتے ہیں۔مغربی سماجوں میں تبدیلی کا داخلی ذریعہ جن کا عام طور پر حوالہ دیا جاتا ہے، وہ ہے معیشت لیکن یہ ذریعہ ہندوستان میں مؤثر نہیں ہے۔ ڈی۔پی مانتے تھے کسی ہندوستانی سیاق وسباق میں طبقاتی تصادم ہموار تھے اور ذات پات کی روایتوں کے ذریعہ ان کا احاطہ کیا گیا تھا، جہاں نئے طبقاتی رشتے بہت تیزی کے ساتھ اب بھی نہیں ابھرے تھے۔اس ادراک کی بنیاد پر اس نے یہ نتیجہ اخذکیا تھا کہ فعال ہندوستانی سماجیات کے لیے پہلا کام تبدیلی کی داخلی اور غیر معاشی وجوہات کے جواز تلاش کرتا تھا۔
ڈی۔پی مانتے تھے کہ ہندوستانی روایتوں میں تبدیلی کے تین اصولوں کو تسلیم کیا گیا تھا۔ جن کو شروتی، اسمرتی اور انوبھو کہا جاتا ہے۔ان میں سے آخری انوبھویا ذاتی تجربہ ایک انقلابی اصول ہے۔ تاہم ہندوستانی سیاق وسباق میں ذاتی تجربہ اجتماعی تجربے میں ہی پھلتا پھولتا ہے۔اس کا مطلب ہے کہ ہندوستانی سماج میں تبدیلی کے نہایت اہم اصول انوبھو یا گروپوں کے اجتماعی تجربے کی تعمیم کی گئی تھی۔اعلیٰ روایتیں اسمرتی اور شروتی میں مرکوز تھیں لیکن انہیں وقتاً فوقتاً گروپوں یا مسالک کے اجتماعی تجربے کے ذریعہ چیلنج ملا۔ جیسا کہ بھکتی تحریک کی مثال میں ظاہر ہوتا ہے۔ ڈی۔پی نے زور دیا کہ ہندوستان میں یہ صرف ہندوؤں کے لیے صحیح نہیں تھا بلکہ مسلم ثقافت کے لیے بھی صحیح تھا۔ہندوستان میں (اسلام میں) صوفیوں نے مقدس متون کی بہ نسبت پیار اورتجربے پر زور دیا اور یہ تبدیلی لانے میں اہم ثابت ہوا۔ اس طرح ڈی۔پی کے لیے ہندوستانی سیاق وسباق نہیں ہے جہاں دلیل وحجت (بدھی وچار) تبدیلی کے لیے غالب قوت ہے؛ انوبھو اور پریم (تجربہ اورپیار) تاریخی طور پر تبدیلی کے عوامل کے طور پر سب سے برتر ہے۔
ہندوستانی سیاق وسباق میں تصادم اور بغاوت اجتماعی تجربات کے ذریعہ عمل کے لیے مائل ہوتا ہے۔لیکن روایت کی لچک یقینی بناتی ہے کہ تصادم کا دباؤ بغیر اس میں تعطل پیدا کیے روایتی تبدیلی پیش کرتی ہے۔لہٰذا غالب راسخ الاعتقادی کے تکراری دور کے مقبول بغاوتوں کے ذریعہ چیلنج پیش کیا جاتا ہے جو راسخ الاعتقادی کو تبدیل کرنے میں کامیاب ہوتی ہے۔لیکن انجام کار اس بدلی ہوئی روایت میں دوبارہ جذب ہوجاتی ہے۔ بغاوت کے ذریعہ تبدیلی یہ عمل محراب سی بننے والی روایت   کے حدود پر مشتمل ہوتا ہے جو کہ ذات پر مبنی سماج کی علامت ہوتا ہے۔جہاں طبقات کی تشکیل اور طبقاتی شعور مزاحم ہوتا ہے۔ ڈی۔پی کے نظریات میں روایت اور تبدیلی پر مغربی عقلی روایتوں کے ناوابستہ دَین کی سب ہی مثالوں کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔اس سلسلے میں ترقیاتی منصوبہ بندی بھی شامل تھی۔روایت کی نہ تو پوجا کی جاتی تھی اور نہ ہی اسے نظرانداز کیا جاتا۔ ٹھیک اسی طرح جیسے جدیدیت کی ضرورت تو تھی لیکن اسے اندھادھند طریقے سے   اپنایا نہیں جاسکتا تھا۔ ڈی۔پی کو بیک وقت جہاں روایت پر فخر تھا، وہیں وہ اس کے ناقد تھے۔اس کے ساتھ ہی ساتھ وہ جدیدیت کے ناقد مداح تھے جسے انہوں نے اپنے ذہنی تناظر میں وضع کرتے ہوئے تسلیم کیا۔

سرگرمی   2

زندہ روایت(living tradition) کا کیا مطلب ہے؟ بحث کیجیے۔ ڈی۔پی۔مکھرجی کے مطابق روایت ماضی کے ساتھ اس کی کچھ باتیں قائم رکھنے کے ذریعہ تعلق برقرار رکھتی ہیں۔ساتھ ہی ساتھ اس میں نئی چیزوں کو شامل کرتی ہیں۔جاری   روایت میں کچھ پرانے عناصر کے ساتھ ساتھ نئے عناصر بھی شامل ہوتے ہیں۔مخصوص رواجوں کے سلسلے میں اپنے پڑوس میں یا فیملی میں یا لوگوں کی مختلف نسلوں میں کیا تبدیل ہوا ہے، کیا تبدیل نہیں ہوا ہے اس بارے میں اگرآپ دریافت کرنے کی کوشش کریں تو آپ اس کے معنی زیادہ بہتر اور ٹھوس مفہوم حاصل کرسکتے ہیں۔یہاں ان موضوعات کی فہرست دی گئی ہے جس کے بارے میں آپ کوشش کرسکتے ہیں۔

آپ کی عمرگروہ کے بچوں، بچیوں، کے ذریعہ کھیلے جانے والے کھیل  

عورتوں اور مردوں کے ذریعہ پہنے جانے والے مثالی لباس اور  

عام طور پر منائے جانے والے تہوہاروں کے طریقے کی ضرورت ہے: وہ کون سے پہلو ہیں جو اب بھی اُس وقت سے نہیں تبدیل ہوئے ہیں جب سے آپ جانتے ہیں اور کون سے پہلو تبدیل ہوئے ہیں؟ رواج یا تقریب کے سلسلے میں کیا فرق اور یکسانیت ہے؟
 (i) 
10 سال پہلے
(ii) 
20 سال پہلے
(iii) 
40 سال پہلے
(iv) 
60 یا اس سے زیادہ سال پہلے۔ 

اپنی دریافت کے ساتھ پوری کلاس سے بحث مباحثہ کیجیے۔


اے۔آر۔ڈیسائی ایک منفرد ماہر سماجیات تھے جو سیاسی پارٹی کے باضابطہ ممبر کے طور پر سیاست میں سیدھے طور پر شامل تھے۔ ڈیسائی تا عمر مارکسی تھے اور بڑودہ میں اپنے انڈرگریجویٹ کے دنوں میں مارکسی سیاست میں شمولیت اختیار کی تھی، اگرچہ بعد میں انہوں نے کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کی اپنی ممبرشپ سے استعفا دے دیا تھا۔اپنے زیادہ تر کیریر میں   وہ ان مختلف قسم کے مارکسی سیاسی گروپوں میں وابستہ رہے جو بڑی پارٹی سے الگ تھے۔ ڈیسائی کے والد بڑودہ ریاست میں اوسط درجے کے سرکاری ملازم تھے اور ساتھ ہی ساتھ ایک معروف ناول نگار بھی تھے۔انہیں سوشلزم اور گاندھی نوعیت کی ہندوستانی قوم پرستی دونوں کے ساتھ ہمدردی تھی۔ابتدائی عمر میں ہی ان کی ماں کا انتقال ہوگیا۔ڈیسائی کی پرورش ان کے والد نے کی اور بڑودہ ریاست میں مختلف عہدوں پر اپنے والد کے باربار تبادلوں کے سبب انہوں نے ایک مہاجرانہ زندگی گزاری۔

اکچھے رمن لعل ڈیسائی   (1915-1994)

اے ۔آر۔ڈیسائی 1915   میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم بڑودہ میںحاصل کی اس کے بعد سورت اورممبئی میں تعلیم حاصل کی۔
1934-39 : کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے ممبربنے؛ ٹروٹسکائٹ کو ماننے والے گروپوں میں شمولیت اختیار کی۔
1946 : جی۔ایس۔گھورے کی نگرانی میں ممبئی سے پی۔ایچ۔ڈی حاصل کی۔
1948 : ڈیسائی کا پی ۔ ایچ۔ڈی مقالہ کتاب کی شکل میں شائع ہوائی جس کاعنوان تھا:"The Social Background of Indian Nationalism"
1951 : ممبئی یونیورسٹی میں سماجیات کے شعبے میں مقرر ہوئے۔
1953-81 : ریویلشنری سوشلسٹ پارٹی کے ممبررہے۔
1961 : "Rural Transition in India" شائع ہوئی۔
1967 : پروفیسر اور شعبے کے سربراہ مقرر ہوئے۔
1975 : State and Society in India : Essays in Dissent شائع ہوئی۔
1976 : شعبۂ سماجیات سے سبک دوش ہوئے۔
1979 : Peasant Struggles in Indiaشائع ہوئی۔
1986 : "Agrarian Struggles in India after Independence" شائع ہوئی۔
12؍نومبر1994کو انتقال ہوا۔

بڑودہ میں گریجویشن پڑھائی کے بعد آخرکار ڈیسائی نے گھورے کے ماتحت مطالعہ کے لیے سماجیات کے ممبئی شعبہ میں داخلہ لیا۔انہوں نے ہندوستانی قوم پرستی کے سماجی پہلوئوں پر ڈاکٹر کی ڈگری کے لیے یک موضوعی مقالہ تحریر کیا۔ 1946 میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری سے نوازے گئے۔ ان کی تھیسِس 1948 میں "The Social Background of Indian Nationalism" کے عنوان سے شائع ہوئی جو کہ غالباً ان کی سب سے معروف تخلیق تھی۔ اس کتاب میں ڈیسائی نے ہندوستانی قوم پرستی کا مارکسی تجزیہ پیش کیا۔ جس میں معاشی عمل کاری اور تقسیم کو نمایاں حیثیت دی گئی تھی۔ ساتھ ہی ساتھ برطانوی استعمار پسندی کی مخصوص نوعیت پر بھی توجہ مبذول کی گئی تھی۔اگرچہ اس کی تنقید ہوئی تھی لیکن یہ کتاب بہت مقبول ہوئی اور اس کی اشاعت کئی بار ہوئی۔ دیگر نفس موضوعات جن پر ڈیسائی نے کام کیا وہ کسان تحریکیں اور دیہی سماجیات، جدیدیت، شہری امور، سیاسی سماجیات، ریاست کی شکلیں اور انسانی حقوق پر تھے۔چونکہ ہندوستانی سماجیات میں مارکس ازم بہت زیادہ نمایاں یا ذی اثر نہیں تھا اس لیے اے۔آر۔ڈیسائی کو ہندوستانی سماجیات میں بلکہ اس کی نسبت دیگر مضمون میں زیادہ بہتر طور پر جانا گیا۔اگرچہ انہوں نے بہت سے اعزاز حاصل کیے اور انڈین سوشیولوجیکل سوسائٹی کے صدر چنے گئے۔ہندوستانی سماج میں ان کی غیر معمولی شخصیت قائم رہی۔

ریاست کے موضوع پر اے،آر،ڈیسائی کے خیالات
(A.R. DESAI ON THE STATE)

جدید سرمایہ دارانہ ریاست ایک اہم موضوع تھا جس میں اے۔آر۔ڈیسائی کو دلچسپی تھی۔ جیسا کہ ہمیشہ ہوتا رہا ہے اس معاملے میں ان کا انداز نظرمارکسی تناظر میں ہوا کرتا تھا۔مضمون جس کا عنوان تھا "The myth of the welfare state" میں اس تصور کی تفصیلی تنقید کے ساتھ اس کے نقائص کی بھی نشاندہی کی۔سماجیاتی ادب میں دستیاب اہم تعریفوں کو سمجھنے کے بعد ڈیسائی نے ایک فلاحی ریاست کی درج ذیل منفرد خصوصیات کی شناخت کی۔
(i) فلاحی ریاست ایک مثبت ریاست ہے۔اس کا مطلب ہے قدیم لبرل سیاسی نظر یے کے ’اصول عدم مداخلت۔‘ Laissez-faire کے برخلاف فلاحی ریاست کا کام صرف امن وامان قائم رکھنے کی کم ازکم ضرورت نہیں تھی۔فلاحی ریاست ایک مداخلت کی حامی ریاست تھی۔ سماج کی بہتری کے لیے سماجی پالیسیوں کو وضع کرنے اور ان کے نفاذ کے لیے اپنے نمایاں اختیارات کو سرگرمی کے ساتھ استعمال کرتی ہے۔
(ii) فلاحی ریاست ایک جمہوری ریاست ہے۔جمہوریت کو فلاحی ریاست کے ظہور کے لیے لازمی شرائط سمجھا جاتا تھا۔رسمی جمہوری ادارے خاص طور پر کثیرجماعتی انتخابات کو فلاحی ریاست کی خصوصیات سمجھا جاتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ لبرل مفکرین اس تعریف کے لحاظ سے سوشلسٹ اور کمیونسٹ ریاستوں کو اس سے خارج کرتے تھے۔
(iii) فلاحی ریاست میںمخلوط معیشت ہوتی ہے۔مخلوط معیشت کا مطلب وہ معیشت جہاں نجی سرمایہ دارانہ کاروباری ادارے اور ریاستی یا عوامی ملکیت کے ادارے ساتھ ساتھ موجود ہوتے ہیں۔فلاحی ریاست سرمایہ دارانہ یا پونجی بازار کو نہ تو ختم کرنا چاہتی ہے اور نہ ہی صنعت اور دیگر میدان میں سرکاری سرمایہ کاری کو روکنا چاہتی ہے۔کافی حد تک ریاستی سیکٹر بنیادی اشیا اور سماجی بنیادی ڈھانچے پر مرتکزہوتے ہیں۔ جبکہ نجی صنعت صارف اشیا سیکٹر پر حاوی ہوتی ہے۔
اس کے بعد ڈیسائی کچھ آزمائشی کسوٹی کی تجویزپیش کرتا ہے۔ جس کے مقابلے میں فلاحی ریاست کی کارکردگی کی پیمائش کی جاسکتی ہے۔یہ ہیں:
(i) کیا فلاحی ریاست غربت، سماجی امتیاز اورا پنے سب ہی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بناتی ہے؟
(ii) کیا فلاحی ریاست امیر سے غریب کوآمدنی کی بعض تقسیم کی پیمائشوں اور دولت کو جمع کرنے سے روکنے کے ذریعہ آمدنی کی نابرابری کو ہٹاتی ہے؟
(iii) کیا فلاحی ریاست معیشت کو اس طرح تبدیل کرتی ہے کہ سرمایہ داروں کے نفع کمانے کا محرک کمیونیٹی کی حقیقی ضرورتوں کے تابع ہوتا ہے؟
(iv) کیا فلاحی ریاست معاشی تیزی اور کساد بازاری کے دور سے آزاد مستحکم ترقی کو یقینی بناتی ہے؟
(v) کیا یہ سبھی کو روزگار فراہم کرتی ہے؟
ان کسوٹی کا استعمال کرتے ہوئے ڈیسائی ان ریاستوں کی کارکردگی کا معائنہ کرتا ہے۔ جنہیں اکثرفلاحی ریاستوں کے طور پر بیان کیا جاتا ہے، جیسے برطانیہ، ریاست ہائے متحدہ امریکا اور زیادہ تر یوروپ کے ممالک اور ان کے دعووں کو زیادہ مبالغہ سے بیان کرتا ہے۔اس طرح اکثر جدید سرمایہ دار ریاستیں حتی کہ زیادہ ترقی یافتہ ممالک اپنے سبھی شہریوں کو کم سے کم سطح کے معاشی اور سماجی تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہتی ہیں۔ وہ معاشی نابرابری کو کم کرنے کی نا اہل ہوتی ہیں اور اکثر اس کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں۔ نام نہاد فلاحی ریاستیں بازار کے اتار چڑھائو سے مستحکم ترقی کو مجاز بنانے میں بھی ناکام ہوتی ہیں۔زائد معاشی صلاحیت اور بے روزگاری کی اونچی سطح بھی ایک اور ناکامی ہے۔ان دلائل کی بنیاد پر ڈیسائی یہ نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ فلاحی ریاست کا تصورکسی حد تک بے حقیقت ہے۔
اے۔آر۔ڈیسائی ریاست کے مارکسی نظریے پر بھی لکھتے ہیں۔ ان تحریروں میں ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ڈیسائی یک طرفہ نظریہ نہیں اختیار کرتے بلکہ کمیونسٹ ریاستوں کے نقائص پر کھلے عام تنقید کرتے ہیں۔وہ کمیونزم کے ماتحت بھی جمہوریت کی اہمیت پرزور دینے کے لیے مارکسی مفکرین کا حوالہ دیتے ہیں۔اس پر مضبوط دلیل دیتے ہیں کہ سیاسی آزادی اور قانون کی حکمرانی سبھی اصل سوشلسٹ ریاستوں میں ضرور ہونی چاہیے۔

سرگرمی   3

اے۔آر۔ڈیسائی مارکسی اور سوشلسٹ نقطۂ نگاہ سے فلاحی ریاست پر تنقید کرتے ہیں۔یعنی وہ ریاست سے توقع کرتے ہیں کہ وہ مغربی سرمایہ دارفلاحی ریاستوں کے ذریعہ جو کچھ کیا جاتا ہے اس کی نسبت بہت زیادہ کریں گی۔ اس کے بالکل برخلاف آج بالکل مخالف نقطۂ نظر پایا جاتا ہے جس کے مطابق ریاست کو زیادہ کچھ نہیں کرنا چاہیے بلکہ اسے اکثر چیزوں کو آزاد بازار پر چھوڑ دینا چاہیے۔ کلاس میں ان نقطۂ نظر پر بات کیجیے۔دونوں نظریے پر منصفانہ سماعت کو یقینی بنانا چاہیے۔

ان سبھی چیزوں کی فہرست بنائیے جوآپ کے پڑوس میں ریاست یا حکومت کے ذریعہ انجام دی جاتی ہیں۔ پہلے اپنے اسکول سے شروعات کیجیے۔لوگوں سے دریافت کیجیے کہ آیا یہ فہرست حالیہ سالوں میں بڑی ہوتی جارہی ہے یا چھوٹی۔کیا ریاست پہلے کے مقابلے میں زیادہ چیزیں انجام دے رہی ہے یا کم؟ اگر ریاست ان چیزوں کو انجام دینا بند کردے تو آپ کے خیال میں کیا واقع ہوگا؟ کیا آپ اور آپ کا پڑوس اور اسکول بہتر ہوئے ہیں یا بدتر یا کوئی اثر نہیں پڑا ہے؟ کیا امیر، متوسط طبقہ اور غریب لوگوں کے بارے میں یہی رائے ہے یا اسی انداز میں متأثر ہوں گے اگر ریاست اپنی کچھ سرگرمیوں کو بند کردیں ؟

ایک فہرست بنائیے–جوآپ کے گردوپیش میں ان خدمات اور سہولیات کے بارے میں جسے ریاست فراہم کرتی ہے اور دیکھیے کہ کس طرح کلاس گروپوں کی رائے میں اختلاف پایا جاتا ہے کہ آیا انہیں جاری رکھنا چاہیے یا بند کردینا چاہیے (مثال کے لیے، سڑکیں، پانی کی سپلائی، بجلی کی سپلائی، گلی کی لالٹین، اسکول، صفائی ستھرائی، پولیس، اسپتال، بس، ٹرین، فضائی نقل وحمل)،اسی طرح اس سلسلے میں اور متعلقہ چیزوں کے بارے میں سوچیے۔


  آزادی کے بعد غالباً سب سے معروف ہندوستانی ماہر عمرانیات ایم۔این۔سری نواس ہیں جنہیں دو پی۔ایچ۔ڈی ڈگری ملی۔ایک ممبئی یونیورسٹی سے اور ایک آکسفورڈ یونیورسٹی سے– سری نواس ممبئی میں گھورے کے طالب ِعلم تھے۔سری نواس کی ابتدائی ذہنی معلومات آکسفورڈ میں سماجی انسانیات کے شعبے میں ان کے گزرے ہوئے سالوں میں اور بھی زیادہ نکھرگئی تھیں۔اس وقت برطانوی سماجی علم انسانیات مغربی انسانیات میں ایک غالب قوت تھی۔اس مضمون کے مرکزی مقام پر ہونے کے سبب سری نواس بھی اس تحریک میں شریک رہے۔سری نواس کے ڈاکٹر کی ڈگری کے لیے تحریر کیاگیا مقالہ"Religion and Society among the Coorgs of South India" شائع ہوچکا تھا۔اس کتاب کے ذریعہ سری نواس کو برطانوی سماجی انسانیات میں ساختی، عملی تناظری غلبہ کے اس مفصل نسلیاتی اطلاق کے ساتھ بین الاقوامی شہرت حاصل ہوئی۔سری نواس کی تقرری آکسفورڈ میں ہندوستانی سماجیات میں نئی تخلیق شدہ لیکچرشپ میں ہوئی۔ لیکن 1951 میں ہندوستان واپسی پر استعفا دے دیا اور بڑودہ میں مہاراجہ سیاجی راؤیونیورسٹی میں نئے بنائے گئے شعبے کے سربراہ بنے۔ 1959میں وہ دہلی اسکول آف ایکونا مکس میں ایک نے قائم کیے گئے شعبے کے لیے دہلی آئے۔یہ جلد ہی ہندوستان میں سماجیات کے ایک اولین مرکز کے طورپرمعروف ہوا۔سری نواس اکثر شکایت کرتے تھے ان کی زیادہ تر توانائی ادارہ بنانے میں خرچ ہوئی اور تحقیق کے لیے انہیں کوئی وقت نہیں ملا۔ان مشکلات کے باوجود سری نواس نے ذات جدیدیت اور سماجی تبدیلی کی دیگر عمل کاری، دیہی سماج اور بہت سے دیگر امور جیسے موضوعات پر کام کا امتیازی ادارہ تیار کیا۔ سری نواس نے اپنے بین الاقوامی رابطوں اور تعلق کے ذریعہ عالمی نقشے میں ہندوستانی سماجیات کو قائم کرنے میں مدد کی۔برطانوی سماجی انسانیات اور ہندوستانی سماجیات کو قائم کرنے میں مدد کی۔برطانوی سماجی انسانیات اور ساتھ ہی ساتھ

میسور نرسمہاچارسری نواس  (1999 - 1916)

3rd
ایم۔این سری   نواس 16 ؍نومبر1916 کو میسور میں ایک اینگربرہمن خاندان میں پیدا ہوئے۔ان کے والد ایک زمیندار تھے۔ انہوں نے میسور پاور اور لائٹ شعبے میں کام کیا۔ان کی ابتدائی تعلیم میسور یونیورسٹی میں ہوئی اور بعد میں جی۔ایس۔گھورے کے ماتحت ایم اے کرنے ممبئی گئے۔
1942 :   کورجوں میں شادی اور خاندان پر ایم اے کی تھیسِس لکھی جو کتاب کی شکل میں شائع ہوئی۔
1944 :   پی ایچ ڈی تھیسس (دو جلدوں میں) جی ایس گھورے کی نگرانی میں ممبئی یونیورسٹی میں داخل کی۔
1945 :   آکسفورڈ کے لیے روانہ ہوئے۔ ریڈکلف برائون کے ماتحت پہلے مطالعہ کیا اور بعد میں ایوانس پریٹ چارڈ کے ماتحت مطالعہ کیا۔
1947 :    ڈی۔فل۔ کی ڈگری آکسفورڈ سے سماجی انسانیات میں ملی۔ہندوستان واپس ہوئے۔
1948 :    آکسفورڈ میں ہندوستانی سماجیات میں لیکچرر مقرر ہوئے۔رام پور میں فیلڈورک انجام دیا۔
1951 :    آکسفورڈ سے مستعفی ہوئے اور مہاراجہ سیاجی راؤ یونیورسٹی بڑودہ میں اس کے شعبۂ سماجیات میں پروفیسر شپ اختیار کی۔
1959 :    دہلی اسکول آف ایکونامکس میں شعبۂ سماجیات قائم کرنے کے لیے پروفیسرشپ اختیار کی۔
1971 :    بنگلور میں سماجیات اور معاشیات کا ادارہ قائم کرنے کے لیے دہلی یونیورسٹی چھوڑ دیا۔
30؍نومبر1999کو انتقال ہوا۔

امریکی انسانیات خاص طور پر یونیورسٹی آف شکاگو (جو اس وقت عالمی انسانیات کا ایک طاقتورمرکزتھا) سے ان کا گہرا رابطہ تھا۔جی۔ایس۔گھورےؔ اور لکھنؤ کے ماہرین سماجیات کی طرح سری نواس بھی سماجیات دانوں کی نئی نسل کو تربیت دینے میں کامیاب رہے جو آنے والے دہوں میں اس مضمون کے اولین لوگوں میں شامل ہوئے۔

گاؤں کے بارے میں ایم۔این۔سری نواس کے خیالات

M.N. Srinivas on the Village

سری نواس کے لیے ہندوستانی گاؤں اور دیہی سماج ہمیشہ دلچسپی کا موضوع رہے۔اگرچہ دورے اورانٹرویوکے اہتمام کے لیے انہوں نے گاؤں کے مختصر دَورے کیے۔ لیکن یہ اس وقت تک مکمل نہیں ہوا جب تک کہ انہوں نے میسور کے قریب ایک سال تک فیلڈورک نہ انجام دیا۔اس طرح انہوں نے دیہی سماج کے بارے میں حقیقتاً بنیادی معلومات حاصل کیں۔فیلڈورک کا تجربہ ان کے کیریئر اورا ن کے ذہنی سفر کے لیے فیصلہ کن ثابت ہوا۔1950اور 1960کے دہے میں دیہی سماج کے مفصل نسلیاتی روٗداد پیش کرنے کے سلسلے میں ضروری اجتماعی کوشش کی حوصلہ افزائی اور ارتباط میں سری نواس کے ذریعہ کافی مدد ملی۔دیگر دانشوروں جیسے ایس ۔سی۔دوبے اور ڈی ۔این مجمدار کے ساتھ سری نواس اس زمانے میں ہندوستانی سماجیات کے غالب میدان دیہی معاملات کو پیش کرنے کے آلۂ کار تھے۔
گاؤں پر سری نواس کی تحریریں موٹے طور پر دوطرح کی تھیں۔ دیہاتوں میں کیے گئے فیلڈورک کی نسلیاتی روداد یا اس پر بحث سب سے پہلے انجام دی گئی تھی۔ان کی تحریر کی دوسری قسم میں سماجی تجزیے کی اکائی کے طور پر ہندوستانی گاؤں کے بارے میں تاریخی اور تصوراتی مباحثے شامل تھے۔دیسی مطالعات کے خلاف دلیل دیتے ہوئے لوئی ڈومنٹ جیسے بعض سماجی ماہرین سوچتے تھے کہ ذات جیسے سماجی ادارے گاؤں جیسی کچھ چیزوں کے مقابلے زیادہ اہم تھے۔گاؤں بہرحال ایک خاص مقام پر رہنے والے لوگوں کا صرف مجموعہ تھا۔ گاؤں ختم ہوسکتے ہیں یا جاری رہ سکتے ہیں۔ لوگ ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں جاسکتے ہیں لیکن ذات یا مذہب جیسے اداروں کی وہ پیروی کرتے ہیں اور جہاں کہیں بھی وہ جاتے ہیں ان کے ساتھ موجود ہوتے ہیں۔اسی وجہ سے ڈومنٹ مانتا تھا کہ زمرے کے طورپر گاؤں کو زیادہ اہمیت دینا گمراہ کن ہوگا۔ اس نظریے کے برعکس سری نواس کا ماننا تھا کہ گاؤں ایک متعلقہ سماجی ہستی ہے۔تاریخی شہادتیں ثابت کرتی ہیں کہ گاؤں متحدہ شناخت کے طور پر عمل کرتے ہیں اور دیہی یکجہتی دیہی سماجی زندگی میں کافی نمایاں تھی۔ سری نواس نے برطانوی ماہرِسماجیات پر بھی تنقید کی ہے۔ جس نے ہندوستانی گاؤں کی غیر تغیرپذیر، خود کفیل، چھوٹی جمہوریتوں، کے طور پر تصویر پیش کی تھی اس پر بھی تنقید کی تاریخی اور سماجیاتی شہادت کا استعمال کرتے ہونے سری نواس نے ظاہر کیا کہ گاؤں میں درحقیقت نمایاں تبدیلی واقع ہوتی تھی۔ مزید برآں گاؤں کبھی خود کفیل نہیں تھے اور علاقائی سطح پر مختلف قسم کی معاشی، سماجی اور سیاسی رشتوں میں شامل تھے۔
تحقیق کے ایک مقام کے طور پر گاؤں ہندوستانی سماجیات کو بہت سے فوائد عطا کرتے تھے۔ نسلیاتی تحقیقی طریقوں کی اہمیت سمجھانے کے مواقع انھیں کے ذریعہ فراہم کیے گیے۔ گاؤں نے تیز سماجی تبدیلی کی عینی شہادت پیش کی جو نئے آزاد ملک کی حیثیت سے ہندوستان کی منصوبہ بند ترقی کے پروگرام کی شروعات پر ہندوستانی دیہاتوں میں واقع ہورہے تھے۔ دیہی ہندوستان کی ان بھرپور توضیحات کی اس وقت کے شہری ہندوستانیوں اور پالیسی سازوں کے ذریعہ کافی ستائش ہوئی جس سے وہ تأثر قائم کرنے کے اہل ہوئے کہ ہندوستان کا دل کہے جانے والے گاؤں میں کیا واقع ہورہا تھا۔ ایک آزاد ملک کے سیاق وسباق میں سماجیات جیسے مضمون کے لیے اس طرح دیہی مطالعے کے ذریعے ایک نیا کردار فراہم ہوا۔ قدیم لوگوں کے مطالعے پر پابندی عائد کرنے کی نسبت یہ اسے جدید سماج سے متعلق یا مربوط بھی بنایا جا سکتا ہے۔

سرگرمی   4

فرض کیجیے آپ کے کچھ دوست ہوتے جو کسی دوسرے سیارے یا تہذیب سے زمین پر پہلی بار آرہے ہوتے اور انھوں نے گاؤں، کے بارے میں کبھی کچھ نہیں سنا ہوتا تب آپ گاؤں کی شناخت کے ایسے کون سے پانچ اشارے دے سکتے ہیں جس سے ان کو اس سلسلے میں واقفیت حاصل ہو؟

اسے ایک چھوٹے گروپ میں انجام دیجیے۔ اس کے بعد ان پانچ اشاروں کا موازنہ مختلف گروپوں کے ذریعہ فراہم کیے گئے اشاروں سے کیجیے۔ کون سی خصوصیات زیادہ ظاہر ہوئی ہیں؟ کیا زیادہ عام خصوصیت گاؤں کی تعریف کی کوئی قسم وضع کرتی ہیں؟ (یہ جانچ کرنے کے لیے آیا کہ آپ کی تعریف زیادہ بہتر ہے، خود سے سوال کیجیے: کیا کوئی ایسا گاؤں ہوگا جہاں گائوں کی تعریف میں بیان کی گئی سبھی یا زیادہ تر خصوصیات نہ موجود ہوں؟


سرگرمی   5

1950کے دہے میں گاؤں کے مطالعے میں شہری ہندوستانیوں کو کافی دلچسپی تھی جس سے اس زمانے کے ماہرین سماجیات نے یہ مطالعے انجام دینا شروع کیے۔ کیا آپ محسوس کرتے ہیں کہ آج بھی
شہری لوگوں کو گاؤں میں دلچسپی ہے ؟ ٹی۔وی اخباروں اور فلموں میں گاؤں کا ذکر کتنی بار ہوتا ہے؟ اگر آپ شہر میں رہتے ہیں تو کیاآپ کی فیملی گاؤں کے رشتہ د اروں کے ساتھ رابطے قائم رکھتی ہے؟ کیا اس طرح کے رابطے آپ کے والدین یا آپ کے دادا وغیرہ کی نسل سے متعلق تھے؟ کیا آپ شہر کے کسی ایسے شخص کو جانتے ہیں جس نے گاؤں میں ہجرت کی ؟ کیا آپ ایسے لوگوں کو جانتے ہیں جو واپس جانا پسند کریں گے؟ اگر آپ جانا چاہیں تو ان لوگوں کو شہر کو چھوڑنے اور گاؤں میں رہنے کی خواہش کے لیے کیا وجہ بیان کریں گے؟ اگر آپ کسی ایسے شخص کو نہیں جانتے، تو آپ کیوں ایسا سوچتے ہیں کہ لوگ گاؤں میں رہنا پسند نہیں کرتے؟ اگر آپ قصبے یا شہرمیں رہنا چاہیں تو گاؤں چھوڑنے کی خواہش کے لیے کیا وجہ بیان کریں گے؟




خلاصہ Conclusion  

نئے آزاد جدید ملک کے سیاق و سباق میں اس مضمون کے امتیازی کردار کی وضع میں ان چار ہندوستانی ماہرین سماجیات سے کافی مدد ملی۔ انھوں نے یہاں مختلف طریقوں سے مثالیں پیش کیں جس میں سماجیات کو ہندوستانی رنگ دیا گیا۔ اس طرح گھورےؔ نے مغربی ماہرین انسانیات کے ذریعہ معین کیے گیے سوالات کے ساتھ اس کی شروعات کی۔ لیکن قدیمی متون کے اپنے گہرے علم کے لحاظ سے اور تعلیم یا فتہ ہندوستانیوں کی رائے   اپنے مفہوم میں پیش کیں۔ بالکل مختلف پسِ منظرسے آنے کے باوجود ، ایک پوری طرح مغربی سانچے میں ڈھلے ہوئے جدید دانش ورجیسے ڈپی۔پی۔ مکھرجی نے ہندوستانی روایت کی اہمیت کو (اس کے نقائص کواندھادھند طریقے سے مانے بغیر) ازسرنو دریافت کیا۔ مکھرجی کی طرح اے۔آر۔ڈیسائی پر بھی مارکس اِزم کا زبردست اثر پڑا۔ انھوں نے اس وقت ہندوستانی ریاست کا تنقیدی جائزہ لیا جب اس طرح کی تنقیدیں شاذونادر ہی ہوتی تھیں۔ مغربی سماجی انسانیات کے اہم مرکز میں تربیت یافتہ ایم۔ این۔ سری نواس نے اپنی تربیت ہندوستانی سیاق وسباق کے مطابق بنایا اور20ویں صدی کے آخری نصف میں سماجیات کے لیے نیا ایجنڈا (لائحہ عمل) وضع کرنے میں مدد کی۔
جب بعد کی نسلیں اپنے پیش روؤں سے سیکھتی اور انجام کار ان کی پیروی کرتی ہیں تو یہ اس مضمون کی مضبوطی اور قوت کی علامت ہوتا ہے۔ یہی بات ہندوستانی سماجیات میں بھی واقع ہورہی ہے، بعد کی نسلوں نے ان پیش روؤں   کے کاموں کی تخلیقی تنقید کی اور اس مضمون کو مزید فروغ دینے میں مدد گار ہوئے۔ سیکھنے اور تنقید پر اس عمل کی علامتیں نہ صرف اس کتاب میں دکھائی دیتی ہیں بلکہ پورے ہندوستانی سماجیات میں ظاہر ہوتی ہیں۔

اصطلاحات

منتظم وماہرین انسانیات:   اس اصطلاح سے ان برطانوی انتظامی عہدیداروں کا (Administrator-anthro/ pologist) پتہ چلا ہے جو 19ویں اورابتدائی 20ویں صدی میں برطانوی ہندوستانی حکومت میں ملازمت کرتے تھے اور انسانی تحقیق، بالخصوص سروے اورمردم شماری کے اہتمام میںکافی دلچسپی رکھتے تھے۔ ان میں سے کچھ ملازمت کے بعد کافی تحقیق، بالخصوص سروے اور مردم شماری کے اہتمام میں کافی دلچسپی رکھتے تھے۔ ان میں سے کچھ ریٹائرمنٹ کے بعد کافی معروف ہوئے۔ ان میں کچھ اہم نام تھے: ایڈگرتھرسٹن، ویلیئم کروک، ہربرٹ رِسلے اور جے۔ایچ۔ہٹَّن۔
پیمائش جسم واعضائے انسانی   :  (Anthropometry) انسانیات کی شاخ جس میں انسانی جسم کی پیمائشکرنے خاص طور پر کاسہ سر(کھوپری) کا حجم اور ناک کی لمبائی ناپنے کے ذریعے انسان کی نسلی اقسام— کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔
اِنجذاب (Assimilation) : وہ عمل جس کے ذریعہ کوئی ثقافت (عام طور پر بڑی یا زیادہ غالب) دھیرے دھیرے دوسرے کو جذب کر لیتی ہے۔ جذب شدہ ثقافت، جاذب ثقافت میں اس طرح گھل مل جاتی ہے کہ عمل کے آخر میں وہ بالکل ظاہر نہیں ہوتی۔
داخلی ازدواج (Endogamy) :   ایک سماجی ادارہ جوقرابت دار گروپ کی حد کو متعین گروپوں کے باہر شادی کو ممنوع قراردیتاہے۔ اس کی عام مثال داخلی زوجیت ہے جہاں شادی صرف اُسی ذات کے لوگوں کے ساتھ ہوسکتی ہے۔
خارجی ازدواج(Exogamy): ایک سماجی ادارہ قرابت دار گروپ کی حد کو متعین کرتا ہے جس کے ساتھ یا جن میں ازدواجی رشتوں کو ممنوع کیا جاتا ہے؟ شادیاں ان ممنوعہ گروپوں سے باہر کی جاتی ہیں۔ ان کی عام مثالوں میں شامل ہے خونی رشتہ داروں کے ساتھ شادی کی ممانعت(Sapind exogamy)یا ایک ہی سلسلۂ نسب کے ممبران (سگوتر خارجی زوجیت) یا ایک ہی گاؤں یا خِطّ کے رہنے والے لوگ (دیہی/خِطیّ سے متعلق خارجی زوجیت)
اصول عدم مداخلت (Laissez-faire) : ایک فرانسیسی محاورہ (جس کے لفظی معنی’ تعارض   نہ کرو‘ یا ’اکیلا چھوڑدو‘) جو ایک سیاسی اور معاشی نظریہ کی نشاند ہی کرتا ہے۔ اس نظریہ میں معیشت اور معاشی رشتوں میں ریاست کی مداخلت کو کم سے کم کرنے کی وکالت کی گئی ہے۔ یہ عام طور پر آزاد بازار کی انضباتی قوتوں اور کار کردگی میں یقین رکھتا ہے۔

مشقیں

  .1   اننت کرشن ایئر اورشرت چندر رائے نے سماجی انسانیات پر کس طرح مل کر کام کیا؟
.2    قبائلی کمیونٹیوں کو کس طرح ہم آہنگ کیا جائے؟ اس بارے میں اس کے حق اور مخالفت میں اہم دلائل کیا تھے؟  
.3 ہندوستان میں نسل اور ذات کے درمیان رشتوں پرہر برٹ رِسلے اور جی ایس۔ گھورےؔ کے موقف کی وضاحت کیجیے۔
.4   ذات کی سماجی انسانیاتی تعریف کا خلاصہ کیجیے۔
.5 زندہ روایت(living tradition) سے ڈی۔پی۔ مکھرجی کی کیا مراد ہے؟ وہ کیوں اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ہندوستانی ماہرین سماجیات کی جڑیں اس روایت میں واقع ہیں؟
.6 ہندوستانی ثقافت اور سماج کی تخصیص کیا ہیں اور کس طرح یہ انداز تبدیلی پر اثر انداز ہوتی ہے؟
.7 فلاحی ریاست کیا ہے؟ اے۔آر۔ڈیسائی نے اس کے حق میں کیے گئے دعووں پر کیوں تنقید کی؟
.8 ایم۔این۔ سری نواس اور لوئی ڈومنٹ کے ذریعہ گاؤں کو سماجی تحقیق کا موضوع بنائے جانے کے حق میں اور مخالفت میں کیا دلائل دیے گیے تھے؟
.9 ہندوستانی سماجیات کی تاریخ میں دیہی مطالعات کی کیا اہمیت ہے؟ دیہی مطالعے کو فروغ دینے میں ایم۔ این۔ سری نواس نے کیا کردار ادا کیا؟

حوالہ جات  

اسٹیٹ اینڈ سو سائٹی ان انڈیا: ایسیزاِن ڈِسنٹ (1975)   اے آر ڈیسائی ، پاپولرپرکاشن، ممبئی
فیشنگ وپوسٹ کولونیل ڈیسپلین : ایم این سری نواس اینڈ انڈین سوشیولوجی، اوبرائی، سندراور دیش پانڈے (پریس میں) ستیش دیش پانڈے
کاسٹ اینڈ دیس ان انڈیا (1969) ایس، کے پرمانک، روات پبلیکیشنزجے پوراور دہلی
ویوز اینڈ کائونسٹرویو(1964) ڈی، پی مکھرجی، دی یونیورسل پبلیشرز، لکھنؤ
انڈین ٹریڈیشن اینڈ سوشل چینج (1955)ڈی پی مکھرجی، آل انڈیا سوشیولوجکل کانفرنس (دہرادون) میں صدارتی خطبہ
انڈین سوشیولوجی: رفلیکشن اینڈ انڈوس پیکشنس (1986) ، ٹی۔کے، اومن اور پارتھا این مکھرجی، پاپولرپرکاشن، ممبئی
ہاتھ ویز: ایپروچیز ٹو دی اسٹڈی آف سوسائٹی اِن انڈیا (1994)، ٹی۔این،مدن، آکسفورڈ، یونیورسٹی پریس، نئی دہلی
ٹووارڈس اے پراکسی لوجیکل انڈرسٹینڈنگ آف انڈین سوسائٹی: دی سوشیولوجی آف ، اے ۔آر ڈیسائی، سجاتاپٹیل، اوبرائی، سندر اور دیش پانڈے، (پریس میں)
انڈیاز ویلیسجز(1955)ایم۔این۔سری نواسن، شعبہ ترقیات، حکومت بنگال، حکومتِ بنگال پریس، کولکاتا
دی ایڈین ولیج: مائتھ اینڈ ریلیٹی (1987)ایم۔این۔سری نواس،(ڈومننٹ کاسٹ اینڈ ادرایسیز میں) ، آکسفور، یونیورسٹی پریس، نئی دہلی
ڈیسپلینیری بایوگرفیز: ایسیز اِن دی ہسٹری آف انڈین سوشیولوجی اینڈ سوشل اینتھروپولوجی، اوبرائی، پیٹریسیا، نندی سندراور ستیش دیش پانڈے (پریس میں)، پرماننٹ بلیک، نئی دہلی
دی انڈیا آف انڈین سوسائٹی: جی ایس گھورے اینڈ دی میکنگ آف انڈین سوشیولوجی، کیرول اپادھیائے، اوبرائی، سندراور دیش پانڈے، (پریس میں)