| تاریخیں |
افریقہ |
یوروپ |
| 6mya-500,000BP |
آسٹرالوپیتھیکس کے باقیات(5.6mya) آگ کے استعمال کی شہادت(1.4mya) |
|
| 500,000-150,000BP |
ہومو سیپینس کے باقیات(195,00BP) |
آگ کے استعمال کی شہادت (400,000BP) |
| 150,000-50,000BP |
|
|
| 50,000-3000 |
|
ہوموسیپینس کے باقیات(40,000) |
| 30,000-10,000 |
غاروں میں تصاویر/ پہاڑی ٹھکانے(27,500) |
غاروں میں تصاویر/پہاڑی ٹھکانے(خاص طور پر فرانس اور اسپین میں) |
| 8000-7000BCE |
|
|
| 7000-6000 |
مویشیوں اور کتوں کو پالتو بنانا |
گیہوں اور جو کی کاشت (یونان) |
| 6000-5000 |
|
|
| 5000-4000 |
|
|
| 4000-3000 |
گدھے کا پالتو بنانا، باجرہ کی کاشت، تانبے کا استعمال |
تانبے کا ستعمال(کریٹCrete) |
| 3000-2000 |
ہل کے ذریعہ زراعت، پہلی سلطنتیں،شہر، اہرام، کیلنڈر، ہائرو گلے فک (Hieroglyphic)رسم الخط*پپریس(Papyrus)پر تحریر (مصر) |
گھوڑے کا پالتو بنانا( مشرقی یوروپ) |
| 2000-1900 |
|
شہر،محلات، تانبے کا ستعمال، کمہار کا پہیہ، تجارت کا ارتقا (کریٹCrete) |
| 1900-1800 |
|
|
| 1800-1700 |
|
|
| 1700-1600 |
|
رسم الخط کی نشو و نما(کریٹ) |
| 1600-1500 |
|
|
| 1500-1400 |
شیشے کی بوتلوں کا استعمال(مصر) |
|
| 1400-1300 |
|
|
| 1300-1200 |
|
|
| 1200-1100 |
|
|
| 1100-1000 |
|
لوہے کا استعمال |
| 1000-900 |
|
|
| 900-800 |
پھونیشین(Phoenician)جو مغربی ایشیا سے آئے تھے کے ذریعہ شمالی افریقہ میں کارہیج |
|
| 800-700 |
لوہے کا استعمال(سوڈان) |
پہلےاولمپک کھیل( یونان776BCE) |
| 700-600 |
لوہے کا ستعمال(مصر) |
|
| 600-500 |
|
سکوں کا استعمال*(یونان)۔ رومن جمہوریہ کا قیام(510BCE) |
| 500-400 |
ایرانیوں پر مصر پر حملہ |
ایتھینز(Athens)جمہوریت کا قیام (یونان) |
| 400-300 |
مصر میں اسکندریہ شہر کا قیام(332BCE)، جو علم و ادب کا بڑا مرکز بنا |
مقدونیہ کے سکندر کی مصر اور مغربی ایشیا کی فتح(336-323BCE) |
| 300-200 |
|
|
| 200-100 |
|
|
| 100-1BC |
|
|
| تاریخیں |
ایشیا |
جنوبی ایشیا |
| 6mya-500,000BP |
آگ کا استعمال(چین700,000BP) |
روات (Riwat) میں پتھر کے عہد کی جگہ (پاکستان 1,900,000BP) |
| 500,000-150,000BP |
|
|
| 150,000-50,000BP |
ہوموسیپینس کے باقیات(مغربی ایشیا 100,000) |
|
| 50,000-30,000BP |
|
|
| 30,000-10,000BP |
کتے کا پالتو بنانا( مغربی ایشیا14,000) |
بھیم بیٹکا(مدھیہ پردیش)میں غاری تصاویر،ہوموسیپینس کے باقیات(سری لنکا25,500BP) |
| 8000-7000BCE |
بھیڑ اور بکری کا پالتو بنا۔ گیہوں اور جو کی کاشت( مغربی ایشیا) |
|
| 7000-6000 |
سور اور گائے کو پالتو بنانا(مغربی اور مشرقی ایشیا) |
ابتدائی زرعی بستیاں(بلوچستان) |
| 6000-5000 |
مرغیوں کا پالتو بنانا۔ اناجوں اور رتالوں کی کاشت( مشرقی ایشیا) |
|
| 5000-4000 |
کپاس کی کاشت (جنوبی ایشیا) تانبے کا استعمال(مغربی ایشیا) |
|
| 4000-3000 |
کمہار کے چاک کا استعمال، آمدو رفت کے لیے پہیہ کا استعمال |
|
|
(3600BCE)، تحریر میسوپوٹامیہ (3200BCE)کانسہ کا استعمال |
|
| 3000-2000 |
ہل کے ذریعہ کاشت، شہر(میسوپوٹامیہ)، سلک بنانا(چین) گھوڑے کا پالتو بنانا(وسطی ایشیا)، چاول کی کاشت( جنوب مشرقی ایشیا) |
ہڑپائی تہذیب کے شہر، رسم الخط کا استعمال(C,2700BCE) |
| 2000-1900 |
دریائی بھینسے کا پالتو بنانا(مشرقی ایشیا) |
|
| 1900-1800 |
|
|
| 1800-1700 |
|
|
| 1700-1600 |
|
|
| 1600-1500 |
شہر،تحریر، سلطنتیں(شانگ سلطنت) کانسے کا استعمال(چین)* |
|
| 1500-1400 |
لوہے کا استعمال(مغربی ایشیا) |
رگ وید کا تحریر ہونا |
| 1400-1300 |
|
|
| 1300-1200 |
|
|
| 1200-1100 |
|
لوہے کا استعمال، بڑے پتھروں کا زمانہ (Megaliths)(دکن اور جنوبی ہندوستان) |
| 1100-1000 |
ایک کوہان والے اونٹ کو پالتو بنانا(عرب) |
|
| 1000-900 |
|
|
| 900-800 |
|
|
| 800-700 |
|
|
| 700-600 |
|
|
| 600-500 |
سکوں کا استعمال (ترکی)،ایرانی سلطنت(546BCE)مع دارالسطنت پرسیپولس (Persepolis)چینی فلسفی کنفیوشیش (C.551BCE) |
مختلف علاقوں میں شہر اور ریاستیں ، پہلے سکے، جین مذہب اور بدھ مذہب کی اشاعت |
| 500-400 |
|
|
| 400-300 |
|
موریا سلطنت کا قیام(C.321BCE) |
| 300-200 |
چین میں ایک سلطنت کا قیام (221BCE)، عظیم دیوار چین کی تعمیر کا آغاز |
|
| 200-100 |
|
|
| 100-1BCE |
|
|
| تاریخیں |
براعظم امریکہ(شمالی و جنوبی) |
آسٹریلیا/جزائر بحرالکاہل |
| 6mya-500,000BP |
|
|
| 500,000-150,0000 |
|
|
| 150,000-50,000BP |
|
|
| 50,000-30,000BP |
|
ہوموسیپینس کے باقیات، بحر نوردی کی ابتدائی علامات(45,000 BP) |
| 30,000-10,00BP |
ہوموسیپینس باقیات(12,000BP) |
تصاویر(20,000BP) |
| 8000-7000BCE |
|
|
| 7000-6000 |
کدو کی ایک قسم کی کاشت |
|
| 6000-5000 |
|
|
| 5000-4000 |
سیم کی پھلی کی کاشت |
|
| 4000-3000 |
کپاس کی کھیتی،ایک قسم کے بوتل نما کدو کی کاشت |
|
| 3000-2000 |
گینیا سور کا پالتو بنانا، فیل مرغ، مکئی کی کاشت |
|
| 2000-1900 |
آلو، لال مرچ، کاساوا(Cassaval)،مونگ پھلی (Peanut)کی کاشت |
|
|
الاما(Ilama)اور الپا کا (Alpaca)کا پالتو بنانا |
|
| 1900-1800 |
|
|
| 1800-1700 |
|
|
| 1700-1600 |
|
|
| 1600-1500 |
|
|
| 1500-1400 |
|
|
| 1400-1300 |
|
|
| 1300-1200 |
|
|
| 1200-1100 |
میکسیکو خلیج کے اطراف میں اولمک(Olmec)کی سکونت، ابتدائی معبد اور مجسمے(سنگ تراشی کے نمونے) |
پولی نیسیا(Polynesia)اور مائیکرونیسیا(Micronesia)میں سکونت |
| 1100-1000 |
|
|
| 1000-900 |
ہائروگلیفک رسم الخط کی نشو و نما |
|
| 900-800 |
|
|
| 800-700 |
|
|
| 700-600 |
|
|
| 600-500 |
|
|
| 500-400 |
|
|
| 400-300 |
|
|
| 300-200 |
|
|
| 200-100 |
|
|
| 100-1BCE |
|
|
وقت کی ابتداء سے
(From the Beginning of Time)
اس باب میں انسانی وجود کے آغاز سے بحث کی گئی ہے۔ 5.6 ملین سال قبل زمین پر ایسی مخلوق ظہور پذیر ہوئی تھی، جسے ہم انسان کہہ سکتے ہیں۔ اس کے بعد انسانوں کی متعدد اقسام ظہور پذیر ہوتی رہیں اور ختم ہوتی رہیں۔ آج ہم سے ملتی شکل کے جس انسان کو دیکھتے ہیں (آئندہ اس بابت حوالہ بطور جدید انسان دیا جائے گا)۔ ایسے انسان تقریباً 160,000سال قبل پیدا ہوئے تھے۔ انسانی تاریخ کے اس طویل عرصہ کے دوران انسان اپنی غذائی ضروریات کے لیے یا تو مردار یا شکار کیے جانوروں کے ساتھ ساتھ پیڑ پودوں سے پیدا اشیاء پر انحصار کرتا تھا۔ اس نے پتھر کے اوزار بنانے اور باہم ترسیل کے طریقے سیکھ لیے تھے۔
اگرچہ کچھ عرصہ بعد اپنی غذائی ضروریات کے حصول کے لیے دوسرے طریقے بھی اختیار کر لیے گئے، لیکن شکار اور پیڑ پودوں سے غذا حاصل کرنے کا طریقہ جاری رہا۔ یہاں تک کہ موجودہ دنیا کے مختلف حصوں میں انسانی سماج آج بھی شکار کیے جانوروں اور پیڑ پودوں سے اپنی غذائی ضروریات پوری کرتا ہے۔ یہ بات ہمیں حیرت میں ڈالتی ہے کہ موجودہ طرز زندگی میں ہمیں یہ شکار کیے جانوروں اور پیڑ پودوں سے اپنی غذا حاصل کرنے والے سماج، ماضی کے متعلق جانکاری دے سکتے ہیں۔
باقیات (Fossils) قدیم نباتات، جانور یا پتھر میں تبدیل شدہ یا اکثر و بیشتر چٹانوں میں دبے انسانی باقیات یا نشانات کو کہتے ہیں۔ یہ اکثر چٹانوں میں جم جاتے ہیں اور پھر لاکھوں برس تک کے لیے محفوظ ہو جاتے ہیں۔
نوع (Species) اجسام ایک کے ایسے گروپ کو کہتے ہیں جن کا باہم اتصال ایک بار آور تولید کو پیدا کرتا ہے۔ نوع کے ایک قسم کے اجسام بار آور تخلیق کے لیے دوسرے کے ساتھ ہم صحبت نہیں ہوسکتے۔
انسانی باقیات (Human Fossils) پتھر کے اوزار اور غاری تصاویر کی دریافتیں ہمیں اولین انسان کی تاریخ سمجھنے میں بہت مدد گار ثابت ہوتی ہیں۔ اکثر اس طرح کی دریافتیں جب پہلی دفعہ سامنے آئیں تو زیادہ تر دانشوروں نے یہ ماننے سے انکار کیا کہ فاسل اولین انسان کے باقیات ہیں۔ انھیں اولین انسان کی پتھر کے اوزار بنانے یا رنگ روغن تیار کرنے کی صلاحیت پر بھی شک و شبہ تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ان دریافتوں کی سچائی کی اہمیت کو تسلیم کر لیا گیا۔
فاسل/باقیات کی مختلف صورتیں جو بے جان ہو چکی ہیں، کے ذریعہ انسانی ارتقاء کے ثبوت ملتے ہیں۔ فاسل کی تاریخ کا تعین یا تو بالواسطہ کیمیائی تجزیہ کرکے یا بلاواسطہ وقت کا تعین کرکے کیا جاسکتا ہے کہ کب ان کی تدفین عمل میں آئی اور جب ایک بار فاسل کی تاریخ معین ہوگئی تو انسانی ارتقاء کی تاریخ کو آسانی سے مرتب کیا جاسکتا ہے۔
تقریباً 200 سال قبل جب اس طرح کی دریافتیں پہلی دفعہ کی گئیں تو بہت سے دانشور یہ تسلیم کرنے کو تیار نہ تھے کہ کھدائی میں ملے یہ فاسل بشمول پتھر کے اوزار اور تصاویر واقعتا ابتدائی اقسام کے انسان سے تعلق رکھتی ہیں۔ دانشوروں کی یہ ہچکچاہٹ عام طور پر بائبل کے عہد نامہ قدیم میں مذکور اس نظریہ پر مبنی تھی جس کے مطابق انسانی اصل کی ابتداء خدا کے ایک تخلیقی عمل کی وجہ سے ہوئی ہے۔
مثال کے طور پر اگست 1856 میں نینڈرویلی (Neander Valley) (دیکھیے نقشہ 2 صفحہ 18) جو جرمنی کے شہر ڈسل ڈورف (Dusseldorf) کے قریب ایک گھاٹی ہے، میں جو مزدور چونے کے پتھر کے لیے کان میں کھدائی کر رہے تھے، انھیں وہاں ایک انسانی کھوپڑی اور کچھ انسانی پنجر کے ٹکڑے ملے۔ یہ سب کارل فوہل روٹ (Carl Fuhlrott) جو ایک مثالی اسکول ٹیچر اور فطری مورخ تھا، کے حوالے کر دیے گئے، جس کا یہ یقین تھا کہ ان کا تعلق جدید انسان سے نہیں ہے۔ اس کے بعد اس نے اس کھوپڑی پر پلاسٹر کیا اور بون یونیورسٹی (Bonn University) کے اناٹومی (Anatomy) کے پروفیسر ہرمن اسکاف ہاسن (Herman Schaaffhausen) کے پاس بھیج دیا۔ اس سال ان دونوں نے ایک مشترکہ مضمون شائع کیا جس میں اس بات کا دعویٰ کیا کہ یہ ایک ایسی انسانی کھوپڑی ہے جس کا اب وجود نہیں پایا جاتا۔ اس وقت کے دانشوروں نے اس نقطہ نظر کو تسلیم نہیں کیا اور یہ کہا کہ اس کھوپڑی کا تعلق ایک بہت قریبی زمانے کے شخص سے ہے۔
فاسل کی بازیافت
یہ ایک مشقت بھرا عمل ہے۔ پائی گئی اشیاء کے مقامات کا جاننا اس کا عہد متعین کرنے کے لیے بہت ضروری ہوتا ہے۔
اوپر ان آلات کو دکھایا گیا جو ملی اشیاء کے مقامات کا اندراج کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔ ماہر آثار قدیمہ کے بائیں طرف ایک مربع فریم ہے اس کو 10 سینٹی میٹر کے مربع میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ملی اشیاء کو مقام کے اوپر رکھنے سے اس اشیاء کی افقی حالت کا اندراج کیا جاسکتا ہے۔ داہنی طرف جو تکونہ آلہ ہے وہ اشیاء کی عمودی حالت کا اندراج کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
اوپر تصویر میں دکھایا گیا ہے کہ اس معاملے میں چاروں طرف سے مختلف قسم کے چونے کے پتھروں سے گھرے فاسل کے ٹکڑے کو کس طرح حاصل کیا جاتا ہے۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ اس کام میں کتنی مہارت اور تحمل درکار ہوتا ہے۔
انسانی ارتقاء سے متعلق مطالعہ کے سلسلے میں 24 نومبر 1859 میں شائع چارلس ڈارون (Charles Darwin) کا مضمون بعنوان نوع کی اصل پر (On the Origin of Species) ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اول طباعت کے 1250 نسخے اسی دن فروخت ہوگئے تھے ڈارون نے اس میں یہ نظریہ پیش کیا کہ انسانی وجود کی نشوونما عرصہ دراز پہلے جانوروں سے عمل میں آئی ہے۔
سرگرمی 1
زیادہ تر مذاہب میں انسانی تخلیق سے متعلق بہت سی کہانیاں بیان کی گئیں ہیں جو اکثر سائنسی دریافتوں سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ ایسی کچھ کہانیوں کا پتہ لگائیے اور ان کا موازنہ اس باب میں مذکور انسانی ارتقاء کی تاریخ سے کیجیے۔
نینڈرتھل (Neanderthal) انسان کی کھوپڑی۔ کچھ لوگوں نے اس کھوپڑی کی قدامت سے انکار کیا اور کہا کہ اس کا تعلق وحشی یا مرضیاتی فاتر العقل احمق انسان سے ہے۔
انسانی ارتقاء کی کہانی
(a) جدید انسان کے پیش رو
ان چاروں کھوپڑیوں کو دیکھیے۔
A کا تعلق ایک ایپ (Ape) سے ہے۔
B کا تعلق ایک نوع اسٹرالوپی تھیکس (Australopithecus) سے ہے (نیچے دیکھیے)۔
C کا تعلق ایک نوع ہومواریکٹس (Homo Erectus) سے ہے (لغوی معنی استوانی انسان)۔
D کا تعلق ایک نوع ہومو سیپینس (Homo Sapiens) سے ہے لغوی معنی دانشمند/ذی شعور انسان)۔ تمام موجود انسانوں کا تعلق اس نوع سے ہے۔
کھوپڑی جبڑے اور دانتوں کی بناوٹ کو غور سے دیکھئے۔ ان میں آپ بہت سی یکسانیت اور اختلافات دیکھتے ہیں ان کی فہرست بنائیے۔
تصویر میں دکھائی گئی کھوپڑیوں کی بناوٹ میں آپ جو اختلافات دیکھ رہے ہیں اس کی وجہ وہ تبدیلیاں ہیں جو انسانی ارتقاء کے نتیجے میں سامنے آئی ہیں۔ انسانی ارتقاء کی کہانی بہت طویل اور کچھ پیچیدہ ہے۔ اس سے متعلق بہت سے بے جواب سوالات ہیں اور نئے اعداد و شمار (حقائق) سے اکثر پرانی سمجھ و جانکاری میں نظر ثانی اور ترمیم کرنے میں رہنمائی کرتے ہیں۔ آئیے کچھ تدریجی انکشافات اور ان کے نتائج پر زیادہ گہرائی سے غور و فکر کریں۔
ان تدریجی انکشافات کا 36 ملین سال قبل سے 24 ملین سال قبل کے بیچ تلاش کرنے کا امکان ہے۔ ہمارے لیے اتنے طویل دوران مدت کا تصور کرنا کافی مشکل ہوتا ہے۔ اگر آپ اپنی کتاب کے ایک صفحہ کو 10,000 برسوں کے برابر مانیں جو اپنے آپ میں ایک طویل مدت ہے تو 10 صفحات 100,000 برسوں کے برابر اور 100 صفحات ایک ملین سال کے برابر ہوں گے۔ اس طرح 36 ملین سال کے بارے میں غور کرنے کے لیے 3600 صفحات کی کتاب کا تصور کرنا ہوگا ۔ یہ وہ وقت تھا جب ایشیا اور افریقہ میں حیوانیات (Primates) دودھ پلانے والے جانوروں (Mammals) کی ایک قسم کا ظہور ہوا تھا۔ اس کے بعد تقریباً 24 ملین سال قبل حیوانات میں ایک ذیلی گروپ کا ظہور ہوا، جسے ہومی نوائڈس (Hominoids) کہتے ہیں۔ اس گروپ میں ایپس (Apes) شامل ہیں۔ اور پھر کافی وقت بعد تقریباً 5.6 ملین سال قبل ہم کو پہلے ہومی نڈس (Hominids) کے وجود کی شہادت ملتی ہے۔
حیوانیات دودھ پلانے والے جانوروں کے (Primates) ایک بڑے گروپ کا ذیلی گروپ ہے۔ اس میں بندر، ایپس اور انسان شامل ہیں۔ ان کے جسم پر بال ہوتے ہیں۔ ان کا زمانہ حمل طویل ہوتا ہے۔ پستان اور مختلف قسم کے دانت ہوتے ہیں اور جسمانی درجۂ حرارت کو معمول پر رکھنے کی صلاحیت کے حامل ہوتے ہیں۔
اگرچہ ہومی نڈس کا ارتقاء ہومی نوائڈس سے ہوا تھا۔ یہ بہت سی مشترکہ یقینی خصوصیات اور بڑے اختلافات بھی رکھتے ہیں۔ ہومی نڈس کے مقابلے ہومی نوائڈس چھوٹا دماغ رکھتے تھے۔ یہ چارپایہ تھے یعنی چلنے میں چاروں ہاتھ پیر کا استعمال کرتے تھے لیکن آگے کے دونوں پیر لچکدار تھے۔ جبکہ ہومی نڈس کا جسم سیدھا اور دو پیروں پر چلتے تھے۔ ان کے ہاتھ بھی مختلف تھے جن کا استعمال اوزار بنانے اور انھیں استعمال کرنے میں کرتے تھے۔ ہم آگے زیادہ گہرائی کے ساتھ ان کے بنائے ہوئے اوزاروں کی قسموں اور ان کی اہمیت کے بارے میں جانچ پڑتال کریں گے۔
ہومی نڈس کے افریقی اصل ہونے کے سلسلے میں دو شہادتیں پائی جاتی ہیں۔ پہلی کا تعلق افریقی ایپس کے گروپ سے ہے جو کہ ہومی نڈس سے قریبی تعلق رکھتا ہے۔ دوسرے اولین ہومی نڈس فاسل مشرقی افریقہ میں پائے گئے ہیں جس کا تعلق جینس آسٹرالوپی تھیکس (Genus Australopithecus) سے ہے، جن کا وقت تقریباً 5.6 ملین سال قبل کا مانا جاتا ہے۔ اس کے بر خلاف جو افریقہ کے باہر پائے گئے ہیں وہ 1.8 ملین سال قبل سے زیادہ قدیم نہیں ہیں۔
ہاتھ کا ارتقا
Aچمپانزی کی صحیح گرفت کو ظاہر کرتا ہے۔
Bانسان کے ہاتھ کی طاقتور گرفت کو ظاہر کرتا ہے۔
Cہومی نڈ کی صحیح گرفت کو دکھاتا ہے۔
طاقتور گرفت کی نشو و نما ممکن ہے، صحیح گرفت سے ہوئی ہو۔
چمپانزی کی صحیح گرفت کا موازنہ انسان کے ہاتھ کی صحیح گرفت سے کیجیے۔
ان کاموں کی فہرست بنائیے جنہیں کرتے وقت صحیح گرفت کا استعمال کرتے ہیں۔
ہومی نڈس، ہومی نوائڈیا (Hominidae) کی فیملی سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس میں انسانوں کی تمام اقسام شامل ہیں۔ ہومی نڈس کی بشمول دماغ کا بڑا سائز جسم کا سیدھا ہونا، دوپیروں میں چلنا اور ہاتھ کی مخصوص بناوٹ امتیازی خصوصیات ہیں۔
ہومی نڈس کو مزید کئی ذیلی شاخوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ ان شاخوں کو جینس کے نام سے جانتے ہیں۔ ان میں آسٹرالوپی تھیکس اور ہومو (Homo) اہم ہیں۔ ہر ایک میں بہت سی نوع (Species) شامل ہیں۔ آسٹرالوپی تھیکس اور ہومو کے درمیان اہم اختلافات ان کے دماغ کا سائز، جبڑے اور دانتوں کے تعلق سے پائے جاتے ہیں۔ ہومو کے مقابلے میں آسٹرالوپی تھیکس کے دماغ کا سائز چھوٹا، بھاری جبڑے اور دانت بڑے ہوتے ہیں۔
ہومی نوائڈس کئی طرح سے بندروں سے مختلف ہوتے ہیں۔ ان کا جسم بڑا ہوتا ہے اور دم نہیں ہوتی ہے۔ مزید برآں ہومی نوائڈس میں بچپن کی نشوونما اور انحصار کا زمانہ طویل ہوتا ہے۔
فی الواقع، سائنسدانوں کے ذریعہ نوع کو دیے گئے تمام نام لاطینی اور یونانی زبانوں کے الفاظ سے مشتق ہیں۔ مثلاً آسٹرالوپی تھیکس نام لاطینی لفظ آسٹرال (Austral) بمعنی جنوبی اور یونانی لفظ پیتھیکوس (Pithekos) بمعنی ایپ (Ape) سے مل کر بنا ہے۔ یہ نام اس لیے دیا گیا ہے کیونکہ انسانوں کی ابتدائی ہیئت میں ایک ایپ کے خدو خال برقرار رہے، جیسے ہومو کے مقابلے میں چھوٹے سائز کا دماغ ہونا۔ پچھلے دانتوں کا بڑا ہونا اور ہاتھوں کی محدود مہارت کا ہونا۔ اس میں سیدھے کھڑے ہو کر چلنے کی صلاحیت بھی محدود تھی۔ چونکہ اب بھی وہ اپنا زیادہ وقت درختوں پر گزارتا تھا۔ وہ ایسی بہت سی خصوصیات (جیسے آگے کے ہاتھوں کا لمبا ہونا (Long Forelimbs) ہاتھ اور پیر کی ہڈیوں کا گھوما ہوا ہونا، ٹخنے کے جوڑوں کا حرکت پذیر ہونا) جو درختوں پر زندگی بسر کرنے کے لیے زیادہ موزوں تھیں، بدستور موجود تھیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اوزار بنانا اور لمبی مسافت طے کرنے کا عمل جوں جوں بڑھتا رہا ویسے ویسے بہت سی انسانی خصوصیات بھی نشوونما پاتی رہیں۔

یہ منظر مشرقی افریقہ کی رفٹ وادی (Rift Valley) کی اولڈووئی گھاٹی (Olduvai Gorge) کا ہے (دیکھئے نقشہ 1 صفحہ 15 ) ان علاقوں میں سے ایک جہاں ابتدائی انسان کی تاریخ کے نشانات پائے گئے ہیں۔ فوٹوں کے بیچ میں زمین کی مختلف سطحوں کو دیکھئے۔ ان میں سے ہر ایک سطح واضح ارضیاتی دور کو ظاہر کرتی ہے۔
مثبت بازرسی اصول فن(The Positive Feedback Mechanism)
کسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ تیران اثرات کو واضح کرتے ہیں جن کی وجہ سے کسی خصوصیت کی نشو و نما ہوئی۔
اوزاروں کے استعمال اور چھوٹے بچوں اور مختلف اشیا کو اٹھانے کے لیے ہاتھوں کا آزادی کے ساتھ استعمال ہونا۔
سائز میں اور دماغ کی استعداد کا بڑھنا
اوزار بنانا
سیدھے کھڑے ہو کر چلنا
بصری نگرانی اور شکار کی تلاش میں طویل دوری تک چلنا
ایک باکس سے دوسرے باکس کی طرف اشارہ کرنے والے تیر کے نشان یہ بتاتے ہیں کہ اس نشو و نما نے دیگر طریق عمل کو کس طرح متاثر کیا۔
آسٹرالوپی تھیکس کی دریافت، اولڈ ووئی گھاٹی
17 جولائی 1959
اولڈ ووئی گھاٹی (دیکھیے صفحہ 12) بیسویں صدی کی ابتداء میں سب سے پہلے ایک جرمن تتلی جمع کرنے والے (Butterfly Collector) نے دریافت کی تھی۔ لیکن اولڈ ووئی علاقہ کی شناخت میری اور لوئس لیکی (Mary and Louis Leakey) کے ساتھ سامنے آئی جنہوں نے یہاں 40 سال سے زیادہ مدت تک کام کیا۔ یہ وہی میری لیکی ہیں جن کی نگرانی میں اولڈ ووئی اور لائے ٹولی (Laetoli) کے آثار قدیمہ کی کھدائی ہوئی تھی۔ ان کے ذریعہ کچھ ولولہ انگیز دریافتیں سامنے آئیں۔ لوئس لیکی نے اپنی بہت سی دریافتوں میں سے ایک غیر معمولی دریافت کے متعلق لکھا ہے:
’’اس دن جب صبح اٹھا تو میرے سر میں درد اور ہلکا بخار تھا۔ میں مانتا ہوں کہ وہ دن کیمپ میں میں نے بے دلی کے ساتھ گزارا۔ کیونکہ ہم دونوں میں سے میں کام پر نہیں جا رہا تھا۔ اس لیے دوسرے کے لیے کام پر جانا ضروری ہوگیا۔ ہمیں جوکھم بھرے کام کے لیے ملی سات ہفتوں کی مدت تیزی سے گزری جارہی تھی۔ اس لیے میری سیلی اور ٹوٹس (Sally and Toots اپنے دونوں کتوں) کے ساتھ لینڈ- روور (Land-Rover) جیپ کی طرح کی ایک گاڑی میں کھدائی کے لیے نکل گئے۔ میں نے ایک اور تکان آمیز دن اسی حال میں گزارا۔
کچھ وقت بعد، شاید میں غنودگی کے عالم میں تھا۔ کیمپ کی طرف تیزی سے آئے لینڈ روور کی آواز سنی۔ مجھے لمحہ بھر کا خواب سا محسوس ہوا، مجھے لگا کہ میری کو جیسے ہمارے یہاں رہ رہے سینکڑوں بچھوؤں میں سے کسی نے ڈنک مار دیا ہو، یا کسی سانپ نے کاٹ لیا ہو جو کتوں سے بچ کر نکل گیا ہو۔
لینڈ روور کھڑ کھڑ کرکے رک گئی اور میں نے میری کی آواز سنی جو بار بار کہہ رہی تھی ’’میں نے اسے پالیا ہے!‘‘ ’’میں نے اسے پالیا!‘‘ ’’میں نے اسے پالیا!‘‘ میرے سرمیں درد کی کیفیت بدستور جاری تھی۔ میں اس کا مطلب نہیں سمجھ پا رہا تھا۔ میں نے اس سے پوچھا ’’کیا پالیا! کیا تم زخمی ہو؟‘‘ میری نے کہا ’’اسی کو! انسان، ہمارا انسان‘‘ جس کو ہم 23 سالوں سے تلاش کر رہے تھے۔ جلدی آؤ میں نے اس کے دانت تلاش کر لیے ہیں۔‘‘
’’دنیا کے اولین انسان کے متعلق نتیجۂ تحقیقات (From Finding the World's Earliest Man)سےماخوذ از ایل۔ ایس۔ بی۔ لیکی (L.S.B. Leakey) نیشنل جوگرافک (National Geographic) ،118 (ستمبر 1960)۔
اوّلین انسانوں کے باقیات کی مختلف نوع (Species) میں درجہ بندی کی گئی ہے۔ ان نوع کو اکثر ان کی ہڈیوں کی بناوٹ میں پائے جانے والے اختلافات کی بنیاد پر ایک دوسرے سے امتیازی اقسام میں الگ کیا گیا ہے۔ مثلاً ابتدائی انسانوں کی نوع کو ان کی کھوپڑی کے سائز اور خصوصی جبڑے کی بناوٹ کی بنا پر موسوم کرتے ہوئے تفریق کی گئی ہے (صفحہ نمبر 10 پر تصویر ملاحظہ کیجیے) ارتقاء کی ان ہی خصوصیات کی وجہ سے اس کو مثبت بازرسی اصول فن (Positive Feedback Mechanism) کہہ سکتے ہیں۔
مثال کے طور پر دوپیروں پر چلنے کی صفت نے انسان کے ہاتھوں کو آزادی کے ساتھ بچوں اور چیزوں کو اٹھالے جانے کے قابل بنا دیا تھا۔ جیسے جیسے ہاتھوں کا استعمال بڑھتا گیا ویسے ویسے ہی دو پیروں پر کھڑے ہو کر چلنے کی صلاحیت زیادہ بہتر ہوتی گئی۔ اسے مختلف استعمال کے لیے ہاتھوں کا آزادانہ استعمال کرنے کا فائدہ تو ملا ہی ساتھ ہی چار پیروں کے مقابلے دو پیروں پر چلنے سے جسمانی قوت بھی کم ہونے لگی۔ لیکن یہ برتری دوڑنے میں اس کے برعکس تھی۔ دو پیروں پر چلنے کے اوّلین بلاواسطہ ثبوت 3.6 ملین سال قبل کے ہیں۔ لائے ٹولی (Laetoli) تنزانیہ میں ہومی نڈ کے پیروں کے نشانات کے فاسل (ملاحظہ ہو فصل کا سرورق) اور ہادار (Hadar) ایتھوپیا میں عضو کی ہڈیوں کے ملے فاسل سے بالواسطہ پتہ چلتا ہے کہ انسان دوپیروں پر چلنے لگا تھا۔
2.5 ملین سال قبل قطبی یخ بستگی (برف کا زمانہ) کے آغاز کے ساتھ زمین کے بہت سے حصے برف سے ڈھک گئے تھے اور آب و ہوا کے ساتھ نباتات کے اندر بھی زبردست تبدیلیاں رونما ہوئیں تھیں۔ درجۂ حرارت میں کمی کے باعث اور کم بارش ہونے کے سبب جنگلوں کی بہتات کے ساتھ گھاس کے میدان بھی وسیع ہوتے گئے۔ جو رفتہ رفتہ آسٹرالوپی تھیکس کی اولین اقسام کے معدوم ہونے کا سبب بنے (جو جنگلاتی ماحول کے عادی ہوگئے تھے)۔ خشک موسمی حالات کو زیادہ بہتر طریقے پر متبادل کے طور پر بعد کی نوع نے اختیار کر لیا تھا۔ جینس ہومو (Genus Homo) کے اولین نمائندوں کا تعلق بھی ان سے ہی تھا۔
ہومو لاطینی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ’’انسان‘‘ ہیں۔ اگرچہ اس میں عورتوں کو بھی شامل کیا جاتا ہے۔ سائنسدانوں نے ہومو کو کئی مخصوص اقسام میں تقسیم کیا ہے۔ ان نوع کو ان کی امتیازی خصوصیات کے مطابق الگ الگ ناموں سے موسوم کیا گیا ہے۔ اس طرح فاسل ہوموہیبیلس (Homo Habilis) اوزار بنانے والے/سبک دست انسان)، ہومو اریکٹس (استوانی انسان (Homo Erectus) اور ہومو سیپینس (دانشمند یا ذی شعور انسان Homo Sapiens)کے بطور درجہ بندی کی گئی ہے۔
ہومو سیپینس کے فاسل ایتھوپیا میں اومو (Omo) اور تنزانیہ میں اولڈ ووٹی گھاٹی میں دریافت ہوئے ہیں۔ ہومواریکٹس کے قدیم ترین فاسل افریقہ اور ایشیا دونوں جگہوں پر جیسے کوبی فورا (Koobi Fora) اور مغربی ترکانہ (Turkana) کینیا موڈ جوکیرٹو (Modjokerto) اور سنگیران (Sangiran) میں پائے گئے ہیں۔ ایشیا میں پائے گئے فاسل افریقہ میں پائے گئے فاسل کے مقابلے میں بعد کے عہد کے ہیں۔ اس لیے یہ ممکن ہے کہ ہوی نڈس مشرقی افریقہ سے جنوبی اور شمالی افریقہ کی طرف اور جنوبی اور شمالی مشرقی ایشیا کی طرف اور شاید یوروپ بھی لگ بھگ 2اور 1.5 ملین سال قبل ہجرت کر گئے ہوں۔ اس نوع کا وجود تقریباً ایک ملین سال قبل تک باقی رہا تھا۔
کچھ مثالوں میں، فاسل کو ان مقامات کے نام پر موسوم کیا گیا ہے جہاں وہ خاص قسم کے فاسل سب سے پہلے دریافت ہوئے تھے۔ اس طرح جرمنی کے شہر ہائیڈل برگ (Heidelbe
rg) میں پائے گئے فاسل کو ہائیڈل برجینسس(Heidelbergensis) نام دیا گیا اور نینڈر وادی (Neander Valley) (دیکھیے صفحہ 18) میں پائے گئے فاسل کی درجہ بندی ہومو نینڈر تھیلینسس (Homo Neanderthalensis)کے نام سے کی گئی۔
ہوموہائیڈل برجینسس اور ہومو نینڈر تھیلینسس کے سب سے قدیم فاسل یوروپ میں پائے گئے ہیں۔ دونوں نوع (Species) قدیم (Archaic) اور ہوموسی پینسس سے تعلق رکھتے ہیں۔ ہومو ہائیڈل برجینسس (0.8-0.1 ملین سال قبل) کے فاسل افریقہ ایشیا اور یوروپ کے بہت سے مقامات پر پائے گئے ہیں۔ اندازاً 1,30,000سے 35,000 سال قبل نینڈرتھلس (Neanderthals) نے یوروپ، مغربی اور وسطی ایشیا پر قبضہ کر لیا تھا۔ تقریباً 35,000 سال قبل مغربی یوروپ میں یہ یکایک غائب ہوگئے۔

نقشہ(1a:افریقہ
نقشہ1b:مشرقی افریقہ رفٹ وادی
|
دنیا کی انسانی نسلیں |
|
| کب |
کہاں |
کون |
| 5ملین سے ایک ملین سال قبل |
سہارا کا ذیلی علاقہ۔افریقہ |
آسٹرالوپی تھیکس،اولین ہومو،ہومواریکٹس |
| ایک ملین 40,000سال قبل |
افریقہ،ایشیااور یوروپ کا وسطی عرض البلد |
ہومواریکٹس،آرکیاک،ہوموسیپینس نینڈر تھل، ہوموسیپینس سیپینس/جدید انسان |
| 45,000سال قبل |
آسٹریلیا |
جدید انسان |
| 40,000سے دورحاضر تک |
یوروپ کا اوپری عرض البلد اور ایشیا جزائر بحرالکاہل شمالی اور جنوبی امریکہ کا ریگستانی علاقہ، برساتی جنگلات |
آخری نینڈرتھلس جدید انسان |
دنیا کے نقشہ پر چارٹ میں اوپر دی گئی تبدیلیوں کو دکھائیے۔ ان چاروں عہد (بریکٹوں) کے لیے الگ الگ رنگوں کا استعمال کیجیے۔ براعظموں کی فہرست میں بتائیے کہ آپ نے (a) کہاں ایک رنگ (b)کہاں دو رنگ (c) اور کہاں دو سے زیادہ رنگوں کا استعمال کیا ہے۔
عام طور پر آسٹرالوپی تھیکس کے مقابلے ہومو بڑے سائز کا دماغ، جبڑے باہری طرف کم ابھار والے اور چھوٹے دانت (صفحہ 10 پر تصویر ملاحظہ کیجیے) رکھتے تھے۔ دماغ کے سائز کا بڑا ہونا، زیادہ ذہانت اور اعلیٰ یادداشت کا موجب ہوتا ہے۔ جبڑوں اور دانتوں میں آئی تبدیلیاں غالباً کھانے کی عادات کے اختلافات سے تعلق رکھتی تھیں۔
انسان کے ارتقاء کی کہانی
(b) جدید انسان
اگر آپ اس چارٹ پر نظر ڈالیں تو آپ دیکھیں گے کہ ہومو سیپینس کے وجود سے متعلق اولین شہادت افریقہ کے مختلف علاقوں میں ملی ہیں۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ انسان کے ظہور کا اصل مرکز کہاں تھا۔ کیا ایک ہی مرکز تھا یا متعدد مرکز تھے؟
جدید انسان کے ظہور کا اصل منبع کہاں ہے اس مسئلہ پر بہت بحث و مباحثہ ہوچکا ہے۔ اس ضمن میں دو بالکل ہی مختلف نظریات پیش کیے جاتے ہیں۔ ایک نظریہ علاقائی تسلسل ماڈل (Regional Continuity Model) (مع مختلف علاقوں میں انسان کے منبع کی موافقت میں) کی وکالت کرتا ہے اور دوسرا قائم مقام ماڈل (Replacement Model) (ایک اصل منبع افریقہ میں ہونے کی موافقت میں) کی وکالت کرتا ہے۔
علاقائی تسلسل ماڈل کے مطابق آرکیاک ہوموسیپینس کی جدید انسان کی صورت میں، مختلف معیار کے بموجب مختلف علاقوں میں رفتہ رفتہ نشوونما ہوئی۔ اس لیے جدید انسان کے دنیا کے مختلف حصوں میں پہلی دفعہ ظہور میں آنے کے تعلق سے اختلافات پائے جاتے ہیں۔ اس نظریہ کی تائید میں ایک دلیل یہ دی جاتی ہے کہ آج کے دور کے انسان میں علاقائی اختلافاتی خصوصیات ملتی ہیں۔ یہ اختلافات ہومواریکٹس اور ہوموہائیڈبرجینسس کے درمیان ایک علاقے میں رہنے کے بعد بھی پہلے سے ہی موجود تھے۔
| جدید انسان کے اولین فاسل |
|
| کہاں |
کب(سال قبل) |
ایتھوپیا اوموکیبش(Omo Kibish) |
195,000-160,000 |
جنوبی افریقہ بورڈر غار(Border Cave) ڈائی کیلڈرس (Die Kelders) کلاسیس ریورماؤتھ (Klasies River Mouth) |
120,000-50,000 |
مراکو دارالسلطان (Dar-es-Solton)
|
70,000-50,000 |
اسرائیل قافزہ اسخل(Qafzeh Skhul) |
100,000-80,000 |
آسٹریلیا منگوجھیل(Lake Mungo)
بورنیو(Borneo) نیا غار(Niah Cave) |
45,000-35,000
40,000 |
فرانس کرومیگنن نزدیس آئی زیس (Cro-Magnon,near les Eyzies) |
35,000 |

قائم مقام ماڈل اور علاقائی تسلسل ماڈل
قائم مقام ماڈل میں دکھایا گیا ہے کہ ہر جگہ انسانوں کی تمام قدیم نسلوں کی جدید انسان کے ساتھ مکمل قائم مقامی ہے۔ توارث (Genetic) اور ہم جنسی یکسانی (Anatomical Homogeneity) کی شہادت اس نظریہ کی تائید کرتی ہیں۔ جو یہ قیاس کرتے ہیں وہ یہ دلیل دیتے ہیں کہ ان میں پائی جانے والی بہت سی یکسانیت سے معلوم ہوتا ہے کہ ان باشندوں کے مورث اعلیٰ ایک ہی علاقے میں پیدا ہوئے تھے جو افریقہ کا علاقہ ہے۔ جدید انسان کے فاسل کی اولین شہادت (ایتھوپیا میں اومو) بھی قائم مقام ماڈل کی تائید کرتی ہے۔ اس نظریہ کے حامی دانشوروں کے خیال میں آج کے جدید انسان میں دکھائی دینے والے جسمانی اختلافات نتیجہ میں باشندوں کے اس تصرف (ہزاروں برسوں پر محیط) کا جو خاص علاقہ کی طرف نقل مکانی کے بعد مستقل سکونت اختیار کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
ایشیا،افریقہ،یوروپ
علاقائی تسلسل ماڈل
ایشیا،افریقہ، یوروپ
قائم مقام ماڈل

اوّلین انسان: غذا حاصل کرنے کے طریقے
اب تک ہم انسانی ہڈی پنجر کے باقیات سے متعلق شہادتوں پر ہی غور کر رہے تھے اور یہ دیکھتے رہے کہ بر اعظموں کے آرپار لوگوں کی حرکت پذیری کی تاریخ کو از سر نو تحریر کرنے کے لیے ان باقیات کا استعمال کیسے کیا جائے۔ لیکن ان سب کے علاوہ انسان کی زندگی کے روز مرہ کے معمولات پر بھی غور کرنا ضروری ہے۔ آئیے دیکھیں کہ ان پہلوؤں کا مطالعہ کیسے کیا جاسکتا ہے۔
اوّلین انسان مختلف طریقوں سے غذا حاصل کرتے تھے، جیسے غذا جمع کرنا، شکار کرنا،مردار خوری اور مچھلی پکڑنا، خوراک جمع کرنے کے عمل میں پیڑ پودوں جیسے بیج، گری دار میوہ، بیریس (Berries) پھل اور زمینی جڑ (کھمبی) کا غذا کے لیے جمع کرنا شامل ہے۔ غذا جمع کرنے کی عادت کو عام طور سے فرض کر لیا جاتا ہے۔ بلکہ ایک حد تک قطعیت کے ساتھ ثابت ہے، یہ نہایت معمولی بالواسطہ شہادت ہے۔ ہم کو وافر مقدار میں ہڈیوں کے فاسل حاصل ہیں۔ جبکہ پیڑ پودوں کے فاسل کسی قدر کمیاب ہیں۔ صرف ایک دوسرے ہی طریقے سے ہم پودوں کے متعلق معلومات حاصل کرسکتے ہیں، یعنی اگر معدن جگہ پہنچنے کے مقام پر کچھ بیج اتفاق سے جل گئے ہوں اور نتیجہ میں کاربن سازی کا عمل ہوا ہو۔ اس شکل میں یہ بیج لمبے عرصے تک باقی رہ سکتے ہیں۔ تاہم اب تک ماہر آثار قدیمہ اولین زمانہ کے یہ کاربونائسڈ (Carbonised) بیج کی وافر شہادتیں تلاش نہیں کر پائے ہیں۔
قریبی برسوں میں شکار کھیلنے (Hunting) کی اصطلاح دانشوروں کے درمیان بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے۔ اس بات کو یقین کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ اولین ہومی نڈس اپنی غذا مردہ جانوروں کی لاشوں سے گوشت سے جو اپنے آپ مر جاتے تھے یا غذا کی تلاش فوریجنگ*(Foraging) کسی جانور کے ذریعہ مارے گئے جانور کے گوشت کی شکل میں کرکے حاصل کرتے تھے۔ ساتھ ہی اس بات کا بھی امکان ہے کہ چھوٹے دودھ پلانے والے جانور جیسے گھاس خور جانور (Rodents) پرندے (اور ان کے انڈے) رینگنے والے جانور یہاں تک کہ کیڑے مکوڑے (مثلاً دیمک وغیرہ) بھی اولین ہومی نڈس کی خوراک تھے۔
شکار کرنا بعد میں غالباً 500,000 سال قبل سے شروع ہوا۔ منظم اور بالا رادہ شکار کے ساتھ ساتھ بڑے بڑے دودھ پلانے والے جانوروں کو ذبیحہ کھانے کی اوّلین شہادت دو مقامات بوکس گرو (Boxgrove) ، جنوبی انگلینڈ میں (500,000 سال قبل) اور اسکوننجن (Schoningen) جرمنی میں (400,000 سال قبل) کی ملتی ہیں (دیکھیے نقشہ 2)۔ مچھلی کا شکار یا مچھلی پکڑنا بھی ایک اہم ذریعہ خوراک تھا جیسا کہ مختلف مقامات پر مچھلی کی ہڈیوں کی دریافت سے پتہ چلتا ہے۔

کچھ یوروپی مقامات پر اس بات کی شہادت ملی ہے کہ تقریباً 35,000 سال قبل سے انسان منصوبہ بند طریقے سے شکار کرنے لگا تھا۔ اولین لوگوں نے شکار کے لیے غالباً کچھ ایسے مقامات کا انتخاب کیا تھا جسے ڈولنی ویسٹونس (Dolni Vestonice) (چیک Czech جمہوریہ دیکھیے نقشہ 2)جو ایک دریا کے قریب ہے جہاں ہرن (بارہ سنگھا) اور گھوڑے جیسے موسمی جانوروں کے جھنڈ کے جھنڈ غالباً موسم خزاں اور موسم بہار کے زمانے میں ہجرت کرکے اور دریا عبور کرکے آتے تھے اور تب ان کو بڑے پیمانے پر مارا جاتا تھا۔ اس طرح کے مقامات کا انتخاب اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ لوگ ان جانوروں کی حرکت پذیری کے متعلق اور انھیں تیزی سے بڑی تعداد میں مارنے کے طریقوں کے بارے میں جانتے تھے۔
کیا غذا اکٹھا کرنے، مردہ جانوروں کا گوشت نکالنے، شکار کرنے اور مچھلی پکڑنے میں مردوں اور عورتوں کا رول مختلف تھا؟ ہم اس کے متعلق حقیقتاً کچھ نہیں جانتے۔ آج بھی ایسے سماج پائے جاتے ہیں جن کی غذا کا انحصار شکار کے ذریعہ اور پیڑ پودوں سے غذا اکٹھا کرنے پر ہے، جہاں عورتیں اور مرد مختلف قسم کے کاموں کو انجام دیتے ہیں۔ لیکن ہم اس باب کے آخر میں دیکھیں گے کہ ماضی کے سماج اور موجودہ سماج کے مابین موازنہ کرنا ہمیشہ ممکن نہیں ہے۔
اولین انسان
درختوں سے غاروں اور کھلے مقامات تک
ہم اولین انسان کی تاریخ کو از سر نو مرتب کرنے کی کوشش، اس کی جائے بودوباش کے نمونوں کے متعلق یقینی شہادتوں کی بنیاد پر کرتے ہیں جو ہمارے پاس موجود ہیں۔ ان کے بودوباش کو جاننے کا ایک طریقہ ان کی فنی تخلیقات (Artefacts) کے بکھرے نقوش ہیں۔ مثلاً کینیا میں کلومبے (Kilombe) اور اولور گیسیلی (Olorgesailie) میں کھدائی کے بعد دھار دار اوزار اور دستی کلہاڑی ہزاروں کی تعداد میں دریافت ہوئے ہیں۔ یہ اوزار 700,000 سے 500,000 سال پرانے ہیں۔
دائیں: اولور گیسیلی کا مقام جہاں میری اور لوئس لیکی نے مشاہدہ کرنے والوں کے لیے مقام کے چاروں طرف چلنے کے لیے لکڑی کا پل بنا دیا۔
بائیں : اس مقام پر پائے گئے اوزار بشمول دستی کلہاڑی کی نزدیکی تصویر
یہ سارے اوزار ایک مقام پر کیسے جمع ہوئے ہوں گے؟یہ ممکن ہے کہ کچھ مقامات، جہاں غذا کے ذرائع وافر مقدار میں تھے، وہاں لوگ بار بار آتے رہتے ہوں گے۔ اس طرح کے علاقوں میں جاتے وقت لوگ اپنی موجودگی اور سرگرمیوں کی نشانیاں اوزار بشمول فنی تخلیقات چھوڑ جاتے ہوں گے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان فنی تخلیقات کے زمین پر ڈھیر لگ گئے۔ اور جن مقامات پر لوگوں کا جانا کم ہوتا تھا وہاں یہ فنی تخلیقات زمین پر کم تعداد میں ادھر ادھر بکھری ہوئی ملی ہیں۔
یہ بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ کچھ علاقوں میں ہومی نڈس دیگر حیوانات (Primates) اور گوشت خور (Carnivores) بھی ان کے ساتھ شرکت کرسکتے تھے۔ نیچے دیے گئے خاکہ کو دیکھیے جس میں دکھایا گیا ہے کہ کیسے یہ کام کرتے تھے۔
فنی تخلیقات (Artefacts) انسان کی بنائی ہوئی اشیا ہیں۔ یہ اصطلاح اشیا کے وسیع دائرے کے لیے مختص کی جاسکتی ہے، جیسے اوزار، تصاویر، سنگ تراشی، تصویر کی کندہ کاری وغیرہ۔
پیڑوں پر رہنے والے دیگر حیوانات
پیڑوں پر رہنے والے ہومی نڈس
پیڑوں سے غذا کھانے والے تیندوے
الو
صفائی کرنے والے ہٹالے جاتے،ہڈیاں
گوشت خور جانور لاتے، ہڈیاں
باہر جانے والی اشیا
اندر آنے والی اشیا
پٹھر اور ہڈیاں
ہومی ندس میں ہٹالے جاتے
ہڈیاں
مگر مچھ کھانے اگر/جب مقام پر سیلاب آئے
دھلائی کی اشیا،سیلاب
غیر ہومی نڈس میں حیوانات اشیا ادھر ادھر لے جاتے
پتھر
ہومی نڈس لائے
توڑنا،چبانا، کھانا
ماہرین آثار قدیمہ کا خیال ہے کہ اولین ہومی نڈس ہوموہیبیلس (Homo Habilis) کی طرح غالباً غذائی اشیاء کا بڑا حصہ جہاں انھیں دستیاب ہو جاتا وہیں کھا کر ختم کر دیتے تھے مختلف جگہوں پر سوتے تھے اور اپنا زیادہ وقت درختوں پر گزارتے تھے۔ ان مقامات پر ہڈیاں کیسے پہنچی ہوں گی؟ ان مقامات پر پتھر کس طرح پہنچے ہوں گے؟ کیا ہڈیاں محفوظ حالت میں باقی رہی ہوں گی۔
نیچے : یہ ٹیرا اماٹا کی از سر نو تعمیر کی گئی جھونپڑی کی ایک تصویر ہے۔ جھونپڑی کو دونوں طرف سے سہارا دینے کے لیے بڑے بڑے گول پتھروں کا استعمال کیا گیا ہے۔ فرش پر جو پتھر کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے بکھرے پڑے ہیں وہ ان مقامات کے ہیں جہاں بیٹھ کر لوگ اوزار بناتے تھے۔ تیر کا نشان جو کالے دھبہ کی طرف اشارہ کر رہا ہے آتش دان (چولہے) کی نشاندہی کر رہا ہے۔ کیا آپ سوچ سکتے ہیں کہ ایسی جھونپڑیوں میں رہنے والے لوگوں کی زندگی پیڑوں پر رہنے والے ہومی نڈس سے کس طرح مختلف رہی ہوگی؟
400,000 اور 125,000 سال قبل کے درمیان غار اور کھلی آسمانی جگہوں کا استعمال کیا جانے لگا۔ یوروپ کے کئی مقامات سے اس سلسلے میں شہادت ملی ہے۔ جنوبی فرانس میں لازاریٹ (Lazaret) کے غار کے اندر ایک 12 × 4میٹر کا مسکن غار کے مقابل تعمیر کیا گیا تھا۔ اس غار کے اندر دو آتش دان (چولہے) اور مختلف غذا مثلاً پھل، سبزیاں، بیج، میوہ دار پھل، پرندوں کے انڈے اور میٹھے پانی کی مچھلیاں (کارپ (Carp)، پرچ (Perch) ، ٹراؤٹ (Trout)، مچھلیوں کے نام) وغیرہ کی شہادتیں ملتی ہیں۔ جنوبی فرانس کے ساحل پر واقع ٹیرا اماٹا (Terra Amata) فامی ایک دوسرے مقام پر لکڑی اور گھاس پھوس کی چھتوں کے بنے ہوئے نازک و کمزور مسکن وقتی موسمی رہائش کے لیے تعمیر کیے گئے تھے۔

آگ میں پکے مٹی کے ٹکڑے اور جلی ہوئی ہڈیاں ساتھ میں پتھر کے اوزار چیسوانجا (Chesowanja) کینیا اور جنوبی افریقہ کے سوارٹ کرانس (Swartkrans) میں 1.4 سے ایک ملین سال قبل کے پائے گئے ہیں۔ کیا یہ قدرتی جنگل کی آگ یا آتش فشاں کے پھٹنے کا نتیجہ تھے؟ یا یہ بالارادہ آگ کے اختیاری استعمال کے ذریعہ وقوع میں آئے تھے؟ ہم یقینی طور پر نہیں جانتے۔
دوسرے طرف آتش دان (چولہے) آگ کے اختیاری استعمال کی طرف اشارے کرتے ہیں۔ آگ کے اختیاری استعمال کے بہت سے فائدے تھے، جیسے آگ غاروں میں گرماہٹ اور روشنی مہیا کراتی تھی اور اس کا استعمال کھانا پکانے کے لیے کیا جاسکتا تھا۔ اس کے علاوہ آگ لکڑی کو سخت کرنے، مثال کے طور پر نیزہ کی نوک کو سخت کرنے کے لیے استعمال کی جاتی تھی۔ آگ کی گرمی کے استعمال نے اوزاروں کو دھار دار بنانا بھی آسان کردیا تھا۔ اسی طرح ایک اہم بات یہ تھی کہ آگ کا استعمال کرکے خطرناک جانوروں کو اپنے سے دور کیا جاسکتا تھا۔
اولین انسان : اوزاروں کا بنانا
اولاً یہ یاد رکھنا کار آمد ہوگا کہ اوزاروں کے استعمال اور اوزار بنانے کی صلاحیت کو انسان تک ہی محدود نہیں کیا جاسکتا۔ پرندوں کے بہت سی چیزیں بنانے کے علم نے انسان کی معاونت کے ساتھ ہی کھانے، حفظان صحت اورسماجی مڈبھیڑ کے طریقے بتائے۔ اگرچہ کچھ چمپانزی اپنی غذا کی تلاش کے دوران اپنے ہی ہاتھ کے بنائے اوزاروں کا استعمال کرتے تھے۔
تاہم انسان کے اوزار بنانے سے متعلق کچھ خصوصیات ایسی بھی تھیں جن کا علم ایپ (Apes) کو نہیں تھا۔ جیسا کہ ہم نے دیکھا (ملاحظہ ہو صفحہ 11) کسی قدر اعضاء اور غالباً اعصاب (اعصابی نظام سے وابستہ) کے پیدا شدہ تصرفات نے ہاتھوں کے ماہرانہ استعمال کو تقویت بخشی۔ غالباً یہ انسانی زندگی میں اوزاروں کے زبردست رول کے باعث ممکن ہوا۔ اس کے علاوہ انسان کو اوزار بنانے اور اسے استعمال کرنے کے لیے جس اعلیٰ ذہانت اور پیچیدہ تنظیمی صلاحیتوں کی ضرورت تھی وہ ایپ میں ناپید تھیں۔

پتھروں کے اوزار بنانے اور ان کا استعمال کیے جانے کے اولین ثبوت ایتھوپیا اور کینیا (ملاحظہ ہو نقشہ 1) کے مختلف مقامات پر ملے ہیں۔ یہ بات قرین قیاس لگتی ہے کہ اوّلین پتھر کے اوزار بنانے والے آسٹرالوپی تھیکس تھے۔
دیگر سرگرمیوں کی صورت کی طرح اوزار بنانے کے بارے میں بھی ہم نہیں جانتے کہ یہ کام مردوں اور عورتوں یا دونوں کے ذریعہ انجام پاتا تھا۔ یہ ممکن ہے کہ مرد اور عورت دونوں پتھر کے اوزار بناتے تھے۔ خاص طور پر اس کا امکان ہے کہ عورتیں خود کو مزید برآں اپنے بچوں کو شیر خوری چھڑانے کے بعد زندہ رکھنے کے لیے اوزار بناتی اور استعمال کرتی تھیں۔
تقریباً 35,000سال قبل، جانوروں کو مارنے کی تکنیک میں نئے قسم کے اوزار مثلاً بھالے، نیزے اور تیر کمان کی ایجاد کی وجہ سے اور ترقی ملی۔ انسان ہڈیوں سے گوشت کو علیحدہ کرکے خشک کرنے، دھوئیں میں سکھانے اور ذخیرہ اندوزی کے طریقوں سے واقف ہوگیا تھا۔ اس طرح سے گوشت کو بہت دنوں تک محفوظ رکھا جاسکتا تھا۔
کچھ ابتدائی اوزار۔ یہ اوزار اولڈ ووئی میں دستیاب ہوئے تھے۔ اوپر ایک بغدہ ہے۔ یہ ایک بڑا پتھر ہے جس کے ایک طرف کے سرے کو چھیل کر دھار دار بنایا گیا ہے۔ نیچے ایک دستی کلہاڑی ہے۔ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ یہ اوزار کس کام کے لیے استعمال کیے جاتے تھے۔
اس کے بعد کچھ نئی تبدیلیاں بھی سامنے آئیں۔ مثلاً پوستین وسمور والے جانوروں (پوستین کو لباس کے طور پر استعمال کرنے کے لیے) پھندا لگا کر پکڑا جانے لگا اور سلائی کے لیے سوئی کی ایجاد۔ سلے ہوئے کپڑوں کا ثبوت تقریباً 21,000 سال قبل کا ملتا ہے۔ اس کے علاوہ چھیدنے کے لیے چھینی جیسے چھوٹے اوزار بنانے کی تکنیک کی شروعات نے ہڈی، بارہ سنگھے کے سینگ، سینگوں، ہاتھی دانت یا لکڑی پر نقاشی کرنا ممکن بنا دیا تھا۔
ایک نیزہ پھیکنے والا آلہ۔ اس کے دستہ پر نقاشی دیکھئے۔ اس کے استعمال سے شکاری لمبی دوری تک نیزہ کو زور سے پھینکنے کے قابل ہوئے۔ کیا آپ اس آلہ کا کوئی اور فائدہ مند استعمال بتا سکتے ہیں۔
چھینی سے چھیدنے کی تکنیک (The Punch Blade Technique)
(a) ایک بڑے سنگریزے کے اوپر حصہ کو پتھر کے ہتھوڑے سے صاف کیا جا رہا ہے۔
(b) اس سے چپٹی سطح تیار ہو جاتی ہے جسے نمایاں مچان (Striking Platform) کہتے ہیں۔
(c) پھر اس پر ہڈی یا سینگ سے بنے ہوئے ہتھوڑے اور چھینی کا استعمال کیا جاتا ہے۔
(d) اس سے دھار دار پٹی بن جاتی ہے جس کا چاقو کی طرح استعمال کیا جاسکتا ہے۔ یا ایک طرح کی چھینی یا بیورنس (Burins) کے اوزار بنائے جاتے تھے، جن کا استعمال ہڈی، سینگ، ہاتھی دانت یا لکڑی پر نقاشی کرنے کے لیے کیا جاتا تھا۔
(e) ہڈی پر نقاشی کا ایک نمونہ۔ اس پر جانوروں کے خاکے دیکھیے۔
ترسیل کے طریقے: زبان اور آرٹ
تمام جانداروں میں صرف اکیلے انسان ہی زبان بولتا ہے۔ زبان کی نشوونما کے متعلق بہت سے نظریات پاتے ہیں : (1) ہومی نڈس کی زبان ہاتھوں کی حرکات و سکنات پر مبنی تھی۔ (2) بول چال کی زبان پہلے صوتی تھی لیکن غیر لفظی ترسیل جیسے گانے یا گنگنانے پر مبنی تھی (3) انسان کی قوت گویائی کی شروعات غالباً ایک دوسرے کو بلانے سے ہوئی جیسے حیوانات میں دیکھا گیا ہے۔ شروعاتی دور میں انسان کچھ صوتی آوازیں رکھتا تھا اور رفتہ رفتہ یہ زبان کی شکل میں نشوونما پا گئیں۔
بول چال کی زبان کب پیدا ہوئی؟ یہ قیاس کیا جاسکتا ہے کہ ہوموہیبیلس کا دماغ کچھ مخصوص خصوصیات کا حامل تھا۔ جو ممکن ہے بولنے کے لیے کار آمد بنی ہوں۔ چنانچہ اس کے امکانات ہیں کہ قریب 2 ملین سال قبل زبان کی نشوونما ہوئی ہو۔ صوتی عضو (Vocal Tract) کا ارتقاء بھی زبان کی نشوونما میں اتنا ہی اہم تھا۔ یہ تقریباً 200,000 سال قبل وقوع پذیر ہوا۔ اس کا تعلق خاص طور پر جدید انسان کے ساتھ زیادہ تھا۔
الٹا میرا (Altamira) کی غاری تصاویر
الٹامیرا اسپین میں ایک غاری مقام ہے۔ ایک مقامی زمیندار اور شائق فن ماہر آثار قدیمہ مارسیلی نوسانز ڈی سوٹولا (Marcelino Sanz de Sautuola)کی بیٹی ماریا (Maria) نے نومبر 1879 میں غار کی چھت پر بنی اس پینٹنگ کی طرف پہلی دفعہ توجہ مبذول کرائی تھی۔ چھوٹی سی ماریا مارسیلی نوسانزڈی سوٹولا کی بیٹی غار میں دوڑ رہی تھی اور ادھر ادھر کھیل رہی تھی جبکہ اس کے والد غار کے فرش کی کھدائی کر رہے تھے۔ اچانک ماریا نے چھت پر بنی اس تصویر کو دیکھا اور کہا ’’دیکھو پاپا بیل‘‘ پہلی دفعہ میں اس کے والد اس کی بات پر ہنسے مگر دوسرے ہی لمحہ انھوں نے دیکھا اور جلد ہی اندازہ ہو گیا کہ پینٹ کے مقابلے کسی قسم کا لیپ اس پینٹنگ کے بنانے میں استعمال کیا گیا ہے۔ اور ’’اس قدر جوش میں آگیا کہ بمشکل تمام بول سکتا تھا‘‘ اسی سال اس نے ایک کتابچہ شائع کیا مگر دو دہے بعد اس کی تحقیقات کو یوروپی ماہرین آثار قدیمہ نے اس بنیاد پر خارج کر دیا کہ یہ تصاویر اتنی اچھی ہیں کہ یہ قدیم نہیں ہوسکتیں۔ (دور قدیم کے مطالعے کے لیے کارآمد نہیں ہیں)۔
الٹامیرا شمالی اسپین میں ارنا بھینسے کی تصویر
تیسری رائے یہ ہے کہ زبان کی نشوونما آرٹ کے ساتھ لگ بھگ 40,000-35,000 سال قبل ہوئی۔ بول چال کی زبان کے ارتقاء کو آرٹ کے ساتھ گہرائی کے ساتھ دیکھا جاسکتا ہے۔ چونکہ دونوں ہی ترسیل کے اہم ذرائع ہیں۔
جانوروں کی سینکڑوں تصاویر (30,000 سے 12,000 سال قبل کے درمیان کی بنی ہوئی) لیس کاکس (Lascaux) غار اور شوویٹ (Chauvet) غار جو دونوں فرانس میں واقع ہیں اور اسپین میں الٹا میرا میں دریافت ہوئی ہیں۔ یہ تصاویر ارنا بھینسا، گھوڑوں، پہاڑی بکروں، ہرن، ہاتھی (فیل پیکر)، گینڈوں، شیر، ریچھ، چیتا، لکڑ بھگوں اور الوؤں پر مشتمل ہیں۔
ان تصاویر سے متعلق بہت سے جواب طلب سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر غار کے کچھ ہی حصوں میں تصاویر کیوں بنائی گئیں دیگر حصوں میں کیوں نہیں؟ کچھ ہی جانوروں کی تصاویر کیوں بنائیں سب جانوروں کی کیوں نہیں؟ صرف آدمیوں کی ہی انفرادی طور پر اور گروپ کی شکل میں کیوں تصویر کشی کی گئی جبکہ عورتوں کی تصویر کشی صرف گروپ کی شکل میں کی گئی؟ جانوروں کے قریب آدمیوں کی تصویر کشی کی گئی مگر عورتوں کی نہیں؟ غار کے کچھ حصوں پر جانوروں کے گروپ کو کیوں پینٹ کیا گیا، جہاں آوازیں آسانی کے ساتھ جاسکتی تھیں۔
ان سوالات کی بہت سی توجیہات دی گئی ہیں۔ ان میں سے ایک یہ کہ شکار کی اہمیت کے مدنظر جانوروں کی تصاویر مذہبی رسوم اور جادو ٹونے کے ساتھ وابستہ تھیں۔ تصاویر بنانے کا کام ایک کامیاب شکار کی رسم ہوسکتا ہے۔ دوسری توجیہ یہ پیش کی جاسکتی ہے کہ یہ غاریں غالباً لوگوں کے چھوٹے گروپ کی میٹنگ کے مقامات تھے۔ یا لوگوں کے چھوٹے گروپ کی سرگرمیوں کے مقامات تھے۔ یہ گروپ شکار کرنے کی تکنیک اور معلومات کو آپس میں ذکر کرتے ہوں اگرچہ پینٹنگ اور نقاشی معلومات کو ایک نسل سے دوسری نسل تک پہچانے کا مفید ذریعہ ہیں۔
علم بشریات (Anthropology) ایک ایسا علم ہے جس میں انسانی تہذیب اور انسانی حیاتیات کے ارتقائی پہلوؤں کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔
ہاڈزا (The Hadza)
ہاڈزا شکار اور پیڑ پودوں سے غذا جمع کرنے والے لوگوں کا ایک چھوٹا سا گروپ ہے جو ایاسی (Eyasi) نامی ایک کھاری پانی کی وادی جو زمین کے پھٹنے سے بنی ہے، میں واقع جھیل ہے کہ قرب و جوار میں آباد ہے۔ مشرقی ہاڈزا کا علاقہ خشک اور چٹانی ہے جو خار دار جھاڑ جھنکار اور کیکر کے درختوں سے بھرا پڑا ہے۔ اور جنگلی غذا سے مالا مال ہے۔ صدی کے آغاز میں جانور استثنائی طور پر بڑی تعداد میں اور بالخصوص ہاتھی، گینڈا، بھینس، زراف، زیبرا، دریائی ہرن ، غزال آبی جانورمثلاً ہرن، وارتھوگ( جنگلی سور) (Worthog)، بیبون (Baboon)، شیر، چیتا، ہائے ینا (Hyena)، چھوٹے جانورمثلاً سُور (Porcupine) خرگوش، گیدڑ، کچھوا اور دیگر عام تھے۔ ہاتھی کے علاوہ یہ تمام جانور شکار کیے جاتے ہیں۔ اور ہاڈزا لوگ انھیں کھاتے ہیں۔ دنیا میں جہاں جہاں بھی حالیہ دنوں میں شکار کے ذریعہ اور پیڑ پودوں اور شکار سے غذا حاصل کرنے والے سماج ہیں، جانوروں کے مستقبل کو خطرے میں ڈالے بغیر وہاں اتنی مقدار میں گوشت کا استعمال نہیں ہوتا ہے جتنا کہ یہاں ہوتا ہے۔
کھائی جانے والی سبزیاں جڑیں، بیر باؤباب (Baobab) درختوں کے پھل وغیرہ اگرچہ عام طور پر دکھائی نہیں دیتے لیکن انتہائی خشک موسم میں وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ جس طرح کی کھائی جانے والی سبزیاں بارش کے چھ مہینوں میں دستیاب ہوتی ہیں وہ خشک موسم میں ملنے والی غذائی اشیاء سے مختلف ہوتی ہیں لیکن ان میں کبھی کمی واقع نہیں ہوتی۔ شہد اور ساتوں قسم کی شہد کی مکھیوں کے چھتے کھائے جاتے ہیں لیکن ان کا حصول سال بہ سال اور موسم بہ موسم مختلف ہو جاتا ہے۔
ملک کے اندر پانی کے ذرائع برسات کے موسم میں ہر طرف پھیلے ہوئے ہوتے ہیں۔ لیکن گرمی کے موسم میں ان کا دائرہ محدود ہو جاتا ہے۔ ہاڈزا باشندوں کے خیال کے مطابق تقریباً 5 سے 6 کلو میٹر کی دوری تک پانی کو آسانی سے لے جایا جاسکتا ہے۔ اور عام طور پر پانی کے منبع سے تقریباً ایک کلو میٹر کے دائرہ میں یہ اپنے کیمپ لگاتے ہیں۔
ملک کا ایک حصہ گھاس کے کھلے میدانوں پر مشتمل ہے لیکن ہاڈزا باشندے ان پر کبھی بھی اپنے کیمپ تعمیر نہیں کرتے۔ یہ اپنے کیمپ عام طور پر درختوں اور چٹانوں کے بیچ بلکہ وہاں بنانے کو ترجیح دیتے ہیں جہاں یہ دونوں سہولیات موجود ہوں۔
مشرقی ہاڈزا کے باشندے زمین اور اس کے ذرائع پر اپنے حق کا دعویٰ نہیں کرتے۔ کوئی بھی شخص انفرادی طور پر کہیں بھی اپنی پسند کے مطابق سکونت اختیار کر سکتا ہے۔ جانوروں کا شکار کرسکتا ہے۔ اور جڑوں، بیروں اور شہد کو جمع کرسکتا ہے اور بنا کسی پابندی کے ہاڈزا باشندہ ملک کے اندر کہیں بھی پانی لے جاسکتا ہے۔
اپنے علاقے میں شکار کے جانوروں کی غیر معمولی تعداد کے باوجود ہاڈزا باشندے جنگلی پیڑ، پودوں پر اپنی غذا کا زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ غالباً ان کی غذا کا انحصار 80 فیصد سبزیوں پر اور 20 فیصد گوشت اور شہد پر ہے۔
ان کے کیمپ عام طور پر چھوٹے ہوتے ہیں۔ لیکن برساتی موسم میں یہ ہر طرف پھیل جاتے ہیں۔ اور خشک موسم میں جہاں پانی کے ذرائع موجود ہوتے ہیں وہاں ان کی تعداد میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
خشک سالی کے موسم میں بھی ان کے یہاں غذا کی کبھی کوئی کمی نہیں ہوتی ہے۔
1960 –میں جیمس وڈبرن (James Woodburn) نامی ماہر علم بشریات (Anthropologist)کی تحریر۔
سرگرمی 3
ہاڈزا باشندہ زمین اور اس کے ذریعہ اپنے حقوق کا دعویٰ کیوں نہیں کرتے ہیں؟ ان کے کیمپ کے سائز اور مقامات میں موسم کے مطابق تبدیلی کیوں ہوتی رہتی ہے؟ خشک سالی کے زمانے میں بھی ان کے پاس غذا کی کمی کیوں نہیں ہوتی؟ کیا آپ ہندوستان میں اس طرح کے شکار اور پیڑ پودوں سے غذا حاصل کرنے والے آج کے سماجوں کے نام بتاسکتے ہیں۔
اولین سماجوں کا مندرجہ بالا بیان زیادہ تر آثار قدیمہ کی شہادت پر مبنی ہے۔ اس کے متعلق ہم زیادہ واضح طور پر اب تک نہیں جانتے۔ جیسا کہ اس باب کی ابتداء میں کہا گیا تھا کہ شکار کے ذریعہ اور پیڑ پودوں سے غذا اکٹھی کرنے والے سماج آج بھی پائے جاتے ہیں۔ کیا ہم موجودہ شکار کے ذریعہ اور پیڑ پودوں سے غذا حاصل کرنے والے سماجوں میں ماضی کے متعلق کسی طرح کی جانکاری حاصل کرسکتے ہیں؟ ہم اس سوال پر اگلے سیکشن میں بات کریں گے۔
افریقہ میں شکار کے ذریعہ اور پیڑ پودوں سے غذا جمع کرنے والے سماج سے پہلی مڈبھیڑ
مندرجہ ذیل بیان ایک افریقی گلہ بان گروہ کے ممبر کا ہے جو بنیادی طور پر کنگ سان (Kung San) کے ساتھ 1870 میں رابطہ میں آئے جو کالاہاری ریگستان (Kalahari Desert) میں رہنے والا شکار کے ذریعہ اور پیڑ پودوں سے غذا حاصل کرنے والاایک سماج ہے۔
جب ہم پہلی دفعہ اس علاقے میں آئے، سب نے ریت پر عجیب و غریب پیروں کے نشانات دیکھے۔ ہم سب متعجب تھے کہ یہ کس قسم کے لوگ ہیں۔ وہ ہم سے خوفزدہ تھے اور جب کبھی ہم ان کے پاس جاتے تو وہ ہم سے ڈر کر چھپ جاتے۔ ہم نے ان کے گاؤں دریافت کر لیے تھے لیکن وہ ہمیشہ سنسان ملے۔ کیونکہ جیسے ہی وہ اجنبیوں کو آتے دیکھتے منتشر ہو جاتے تھے۔ اور جھاڑیوں کے جھنڈ میں چھپ جاتے تھے۔ ہم نے کہا ’’اوہ یہ بہت اچھا ہے! یہ لوگ ہم سے ڈر رہے ہیں۔ یہ کمزور ہیں اور ہم آسانی سے ان کو مغلوب کرسکتے ہیں اس لیے ہم نے ان پر غلبہ کر لیا۔ یہاں نہ کوئی قتل ہوا اور نہ لڑائی۔
آپ شکار کے ذریعہ اور پیڑ پودوں سے غذا حاصل کرنے والے سماج سے مڈبھیڑ کے بارے میں زیادہ تفصیل سے باب 8 اور 10 میں پڑھیں گے۔
شکار اور پیڑ پودوں سے غذا حاصل کرنے والے سماج: زمانہ حال سے ماضی تک
علم بشریات کے مطالعہ سے جونہی موجودہ دور میں شکار کے ذریعہ اور پیڑ پودوں سے غذا حاصل کرنے والے سماجوں کے بارے میں ہمارے علم میں اضافہ ہوا۔ ہمارے سامنے ایک سوال پیدا ہوا کہ آیا موجودہ شکار کے ذریعہ اور پیڑ پودوں کے ذریعہ غذا حاصل کرنے والے سماجوں کے بارے میں جو معلومات ہمیں بہم پہنچی ہیں کیا ان کے ذریعہ ماضی کے سماجوں کو سمجھا جاسکتا ہے؟ اس موضوع پر آج دو متضاد نظریات پائے جاتے ہیں۔
ایک طرف دانشوروں کا ایک ایسا طبقہ ہے جو کہ موجودہ زمانے کے شکار کے ذریعہ اور پیڑ پودوں سے غذا حاصل کرنے والے سماج سے متعلق آثار قدیمہ کے باقیات کی مخصوص اطلاعات کا اطلاق بالواسطہ کرتا ہے۔ مثال کے طور پر کچھ ماہرین آثار قدیمہ نے ہومی نڈس کے 2 ملین سال قبل کے مقامات کے متعلق یہ بات کہی ہے کہ ابتدائی انسان ان کے ساتھ ساتھ ترکانہ جھیل (Turkana Lake) کے کنارے خشک سالی کے زمانے میں رہا کرتا تھا اور اس طرح کا معمول ہاڈزا اور کنگ سین باشندوں میں بھی دیکھنے کو ملتا ہے۔
علم الاقوام (Ethnography) معاصر نسلی گروہوں کے مطالعہ کا نام ہے۔ یہ مطالعہ معاش کے طور طریق، ٹکنالوجی، مرد عورت کا کردار، مذہبی رسوم، سیاسی ادارے اور سماجی رسم ورواج کی غائر تحقیقات پر مشتمل ہے۔
دوسری طرف دانشوروں کا ایک ایسا طبقہ ہے جو یہ محسوس کرتا ہے کہ علم الاقوام سے متعلق جانکاری کو ماضی کے سماجوں کو سمجھنے کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا کیونکہ یہ دونوں یکسر مختلف ہیں۔ مثال کے طور پر موجودہ سماجوں میں شکار کے ذریعہ اور پیڑ پودوں سے غذا حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ دیگر معاشی سرگرمیاں بھی پائی جاتی ہیں۔ یہ معاشی سرگرمیاں چیزوں کے لین دین، جنگلی پیداوار کی تجارت یا پڑوس کے کسانوں کے کھیت میں مزدوری پر مشتمل ہیں۔ اس کے علاوہ یہ سماج سیاسی جغرافیائی اور سماجی طور پر حاشیہ پر ہیں اور جن حالات میں یہ سماج رہتے ہیں وہ اولین انسان کے حالات سے بہت مختلف ہیں۔
ایک دوسری شکل یہ ہے کہ موجودہ شکار کے ذریعہ اور پیڑ پودوں سے غذا حاصل کرنے والے سماجوں کے درمیان زبردست اختلافات پائے جاتے ہیں۔ بہت سے مسائل پر متضاد اطلاعات سامنے آتی ہیں مثلاً شکار کرنے اور پیڑ پودوں سے غذا حاصل کرنے کو اب اتنی اہمیت نہیں دیتے۔ گروہوں کے سائز اور ان کی ایک جگہ سے دوسری جگہ نقل و حرکت کی اہمیت، غذا کے حصول کے سلسلے میں محنت کی تقسیم کے متعلق بھی اتفاق رائے نہیں ہے۔ اگرچہ آج عام طور پر عورتیں پیڑ پودوں سے غذا اکٹھی کرتی ہیں اور مرد شکار کرتے ہیں لیکن کچھ سماجوں میں جہاں پر مرد اور عورت دونوں شکار کرتے ہیں، پیڑپودوں سے غذا اکٹھی کرتے ہیں اور اوزار بناتے ہیں۔ کسی بھی حال میں ایسے سماجوں میں غذا حاصل کرنے کے تعلق سے عورت کا جو زبردست رول ہے اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ یا نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، اور غالباً یہی وجہ ہے کہ موجودہ شکار کے ذریعہ اور پیڑ پودوں سے غذا حاصل کرنے والے سماجوں میں عورت اور مرد کو یکساں اہمیت حاصل ہے۔ ہر چند یہاں اختلافات ہیں۔ حالانکہ آج بھی ایسے حالات ہوں تو بھی اس کی بنیاد پر ماضی کے تعلق سے کسی حتمی نتیجے پر پہنچنا ایک مشکل امر ہے۔
خاتمہ
لاکھوں سالوں تک انسان جنگلی جانوروں کا شکار اور جنگلی پیڑ پودے جمع کرکے زندگی گزارتا رہا۔ پھر 10,000 سے 4,500 سال قبل کے دوران، دنیا کے مختلف حصوں میں لوگوں نے پیڑ پودوں کو اگانا اور جانوروں کو پالتو بنانا سیکھ لیا۔ اس کے نتیجے میں زراعت اور دیہاتیت (Pastoralism) کی نشوونما ان کا طرز زندگی بن گیا۔ غذا کی تلاش سے زراعت کی طرف منتقلی انسانی تاریخ کا ایک عظیم نقطۂ انقلاب تھا۔ اس وقت ہی یہ تبدیلی کیوں ہوئی؟
سرگرمی 4
ابتدائی انسانوں کی زندگیوں کو ازسرنو مرتب کرنے کے لیے علم الاقوام سے متعلق بیانات کا استعمال کرنا کتنا فائدہ مند اور غیر مفیدہے؟
تقریباً 13,000 سال قبل آخری برف کے عہد کا خاتمہ ہوگیا تھا اور اس کے ساتھ گرم اور مرطوب موسمی کیفیات کی شروعات ہوگئی۔ اس کے نتیجے میں جنگلی جو اور گیہوں جیسے پودوں کی کاشت کے لیے حالات موافق ہوگئے۔ اسی زمانے میں جنگل اور گھاس کے میدان بھی وسیع ہوگئے۔ اور کچھ خاص جانوروں کی اقسام جیسے جنگلی بھیڑوں، بکریوں، گائے، بیل، سوروں اور گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہو گیا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ انسانی سماج بتدریج ایسے علاقوں کو ترجیح دینے لگا تھا جہاں جنگلی گھاس پھوس اور جانوروں کی بہتات تھی۔ اب نسبتاً بڑی آبادیاں ایسے علاقوں میں سال کے زیادہ حصے میں مستقل طور پر رہنے لگی تھیں۔ کچھ علاقوں کو واضح طور پر پسند کیے جانے کے ساتھ ساتھ غذائی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے دباؤ بڑھنے لگا تھا۔ ممکن ہے اس دباؤ کی وجہ سے کچھ مخصوص پودے اگانے اور جانوروں کو پالنے کی روش شروع ہوئی ہو۔ اس سے یہ قیاس ہوتا ہے کہ آب و ہوا کی تبدیلی آبادی کا دباؤ کچھ خاص قسم کے پودوں (جیسے گیہوں، جو، چاول اور باجرہ) اور جانوروں (جیسے بھیڑ، بکری، گائے، بیل، گدھا اور سور) کی جانکاری اور ان پر انحصار جیسے عوامل نے مل کر ایسی تبدیلی لانے میں اہم کردار ادا کیا۔
ایک ایسا علاقہ جہاں آج سے تقریباً 10,000 سال قبل زراعت اور دیہاتیت کا آغاز ہوا وہ بحیرۂ روم کے ساحل سے ایران کے زاغوری پہاڑی (Zagros Mountains) سلسلے تک پھیلا ہوا تھا جسے زرخیز قوس نما (Fertile Crescent) علاقہ کہتے ہیں۔ زراعت کے رواج کے ساتھ لوگوں نے ایک جگہ پر پہلے سے زیادہ عرصہ تک قیام کرنا شروع کر دیا تھا۔ اس طرح گارے، کچی اینٹوں اور پتھر سے گھر بھی بنانے شروع کر دیے تھے۔
زراعت اور دیہاتیت کی وجہ سے اور بھی بہت سی تبدیلیوں کا آغاز ہوا، جیسے مٹی کے ایسے برتن بنائے جانے لگے جن میں اناج اور دیگر پیداوار کو رکھا جاسکے اور کھانا پکایا جاسکے۔ اس کے علاوہ نئے قسم کے پتھر کے اوزاروں کا استعمال کیا جانے لگا۔ دیگر نئے اوزاروں میں جیسے ہل کا استعمال کھیتی میں ہونے لگا۔ بتدریج لوگ تانبہ اور ٹن جیسی دھاتوں سے خوب واقف ہوگئے۔ پہیہ جو برتن بنانے اور نقل و حمل دونوں کے لیے بہت اہم ہے، استعمال ہونے لگا۔
تقریباً پانچ ہزار سال قبل بڑی تعداد میں لوگوں نے ایک ساتھ شہروں میں رہنا شروع کر دیا تھا۔ یہ کیوں کر ہوا؟ نیز، شہروں اور دیگر بستیوں کے درمیان کیا فرق ہیں؟ اس طرح کے اور ایسے ہی سوالات کے جوابات باب 2 میں تلاش کریں گے۔
| ٹائم لائن 1(ملین سال قبل) |
|
| 36-24ملین سال قبل |
حیوانات؛ بندر ایشیا اور افریقہ میں |
| 24ملین سال قبل |
(اعلیٰ خاندان) ہومی نوائڈس؛ گبنس(Gibbons)ایشیائی اورنگ۔اٹان(Orang-utang)اور افریقی ایپس(Apes) (گوریلا، چمپانزی اور بونو بو(Bonobo)یا پگمی(Pygmy)چمانزی) |
| 6.4ملین سال قبل |
ہومی نوائڈس اور ہولینڈس کی مختلف شاخوں میں تقسیم |
| 5.6ملین سال قبل |
آسٹرالوپی تھیکس |
| 2.6-2.5ملین سال قبل |
اولین پتھر کے اوزار |
| 2.5-2.0ملین سال قبل |
افریقہ کا ٹھنڈا اور خشک ہونا، نتیجتاً جنگلوں میں کمی اور گھاس کے میدانوں میں بڑھوتری |
| 2.5-2.0ملین سال قبل |
ہومو |
| 2.2ملین سال قبل |
ہومو ہیپیلسس |
| 1.8ملین سال قبل |
ہومواریکٹس(استوانی انسان) |
| 1.3ملین سال قبل |
آسٹرا لوپی تھیکس کا معدوم ہونا |
| 0.3ملین سال قبل |
آرکائک سیپینس ہومو ہائڈل بر جینسس(Archaic Sapiens, Homo Heidelbergensis) |
| 0.9-0.16ملین سال قبل |
ہوموسیپینس (Homo Sapiens Sapiens)(جدید انسان) |
| ٹائم لائن 2(برسوں پہلے) |
|
| تدفین کی اولین شہادت |
300,000 |
| ہومواریکٹس(استوانی انسان) کا معدوم ہونا |
200,000 |
| نرخرہ(Voice Box)کی نشو و نما |
200,000 |
| نرمداوادی میں آرکیاک ہوموسیپینس کی کھوپڑی ملی۔ ہندوستان |
200,000-130,000 |
| جدید انسانوں کا ظہور |
195,000-160,000 |
| نینڈرتھلس کا ظہور |
130,000 |
| آتش دان(چولہے) کی اولین شہادت |
125,000 |
| نینڈرتھلس کا معدوم ہونا |
35,000 |
| آگ میں پکی مٹی کی بنی جانوروں کی چھوٹی شبیہوں کی اولین شہادت |
27,000 |
| سلائی کے لیے سوئی کی ایجاد |
21,000 |



مشق
مختصر جواب دیں
- صفحہ نمبر 12 پر دی گئی مثبت باز رسی اصول فن کی شکل کودیکھیے۔ کیا آپ ان اندر آنے والی اشیا کی فہرست بنا سکتے ہیں جن سے اوزار بنائے جاتے تھے؟ اوزار بنانے سے کون کون سے طریق عمل کو استحکام ملا؟
- انسان اور دودھ پلانے والے جانوروں جیسے بندر، سیاہ بندر(Apes)، رویہ اور جسمانی ساخت میں کچھ مخصوص مشابہت رکھتے ہیں۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ممکن ہے کہ انسان کا ارتقا ایپ سے ہوا ہو (a) رویہ (b) جسمانی ساخت: کے نام سے دو کالم بنا کر اس طرح کی مشابہتوں کی فہرست تیار کیجیے۔ دونوں کے درمیان پائے جانے والے اختلافات کا بھی ذکر کیجیے جنھیں آپ اہم سمجھتے ہیں؟
- انسان کی اصل کے تعلق سے علاقائی تسلسل ماڈل کے حق میں دیے گئے دلائل پر بحث کیجیے۔ کیا آپ کے خیال میں یہ ماڈل آثاری شہادت کی معقول تشریح کرتا ہے؟
- آپ کے خیال میں مندرجہ ذیل میں سے کون سا عمل آثار قدیمہ کے دستاویز میں سب سے بہترین ثبوت ہے: (a) غذا جمع کرنا (b) اوزار بنانا (c) آگ کا استعمال۔
مختصر مضمون لکھیے
5۔ (a) شکار کرنے اور (b) مسکن بنانے کے کام میں زبان کے استعمال سے کتنی آسانی بہم پہنچی ہوگی؟ اس پر تفصیل سے بحث کیجیے۔ اس طرح کی دوسری سرگرمیوں کے لیے ترسیل کے کن دیگر طریقوں کا استعمال کیا جاسکتا تھا؟
6۔ باب کے آخر میں دی گئی ٹائم لائن نمبر ایک اور دو میں دیے گئے کسی دو تدریجی انکشافات کا انتخاب کیجیے اور بتائیے کہ آپ کے خیال میں یہ کتنے معنی خیز ہیں۔