تحریر (رسم الخط) کی نشوونما
ہر معاشرے کے پاس اپنی زبان ہوتی ہے جو خاص بولی جانے والی آوازوں کو خاص معانی کا جامہ پہناتی ہے۔ یہ زبان مواصلت ہے۔ تحریر بھی زبانی مواصلت ہی ہے مگر دوسرے طریقے سے۔ جب ہم تحریر یا رسم الخط کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں تو ہم یہی سمجھتے ہیں کہ بولی جانے والی آوازیں مرئی علامات کے ذریعہ پیش کی جارہی ہیں۔ میسوپوٹامیہ کی اولین تختیاں جو تقریباً 3200 ق م میں لکھی گئی تھیں، وہ تصاویر اور اعداد جیسی علامات پر مشتمل ہیں۔ ان کی لومڑی، مچھلی اور روٹی کے ٹکڑوں وغیرہ پر مشتمل تقریباً 5,000 فہرستیں ملتی ہیں اور کچھ جنوب میں واقع شہرارک کے مندروں میں آنے والی یا تقسیم کی جانے والی اشیاء کی فہرستیں تھیں۔ واضح طور پر اس تحریر کا آغاز اس وقت ہوا جب معاشرے کو کاروباری اندراجات (ریکارڈ) کو محفوظ رکھنے کی ضرورت پیش آئی۔ کیونکہ شہروں میں کاروباری معاملات مختلف اوقات میں انجام پاتے ہیں اور ان معاملات میں بہت سے افراد اور مختلف قسم کے سامانوں کی شمولیت ہوتی ہے۔

چکنی مٹی کی ایک تختی جس پر دونوں طرف خط پیکانی میں لکھا ہے۔ یہ ایک ریاضی کی مشق ہے۔ تختی پر مشاہدہ کی جانے والی سطح کے سب سے اوپر ایک مثلث اور اس کے آر پار کچھ لکیریں بنی ہیں۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ حروف چکنی مٹی پر دباکر بنائے گئے ہیں۔
میسوپوٹامیہ کے لوگ چکنی مٹی کی تختیوں پر لکھتے تھے۔ کاتب پہلے مٹی کو گیلا کرتا پھر اسے ایک ایسے سائز میں تھپکتا جسے بآسانی ایک ہاتھ سے پکڑا جاسکے۔ پھر اس کی سطح کو پوری ہوشیاری سے ہموار کرتا۔ اس کے بعد نرسل کے نوکیلے سرے کو آڑے ترچھے انداز میں بھیگی مٹی کی ہموار سطح پر دباتا تھا جس سے نوکدار دوشاخہ مثل (خط پیکانی Cuneiform*) کے علامات چھپ جاتے اورایک بار دھوپ میں سوکھ جانے کے بعد وہ مٹی سخت ہوجاتی اور تختیاں مٹی کے برتن کی مانند لازوال ہو جاتیں۔ جب کبھی تحریری ریکارڈ یا یہ کہیے کہ دھات کے ٹکڑوں کی سپردگی موزوں نہ رہتی تو تختیوں کو پھینک دیا جاتا۔ ایک مرتبہ جب سطح سوکھ جاتی تو تختی پر علامات کو دباکر بنانا ناممکن ہوتا تھا۔ اس لیے ہر معاملہ …… خواہ چھوٹا ہی کیوں نہ ہو علیحدہ تحریر شدہ تختی کا متقاضی ہوتا۔ باایں سبب میسوپوٹامیہ کے مقامات میں تختیاں سینکڑوں کی تعداد میں وقوع پذیر ہوئیں اور یہ سب ماخذ کی فراوانی کا نتیجہ ہے کہ ہم میسوپوٹامیہ کے بارے میں معاصر ہندوستان سے کہیں زیادہ جانتے ہیں۔
* لفظ کیونی فورم (Cuneiform) لاطینی لفظ کیونیس (Cuneus) سے مشتق ہے جس کے معنی پانہ/ پچر ٹھونکنا اور فورما (Forma) کے معنی صورت/پیکانی کے ہیں۔
تقریباً 2600 ق م تک حروف خط پیکانی کی شکل اختیار کر چکے تھے اور زبان سمیرین (Sumerian) تھی۔ اس وقت تحریر کا استعمال صرف دستاویزات کے لیے نہیں ہوتا تھا، بلکہ فرہنگ سازی، زمین کی منتقلی کو قانونی جواز عطا کرنے، بادشاہوں کے کارناموں کو بیان کرنے اور زمین و جائیداد کے قانونِ اندراج میں بادشاہ کی جانب سے کی گئی تبدیلیوں کا اعلان کرنے کے لیے بھی تحریر کو استعمال کیا جاتا تھا، جیسا کہ پہلے گذر چکا ہے۔ سمیرین زبان جو میسوپوٹامیہ کی قدیم معلوم شدہ زبان ہے یہ 2400 ق م کے بعد آہستہ آہستہ اکیڈین (Akkadian) زبان سے بدل گئی۔ خط پیکانی کو اکیڈین زبان میں پہلی صدی عیسوی تک استعمال کیا جاتا رہا۔ یہ واقعہ 2,000 سال سے بھی زیادہ کا ہے۔
تحریر کا طرز (طریقہ)
وہ اصوات جو خط پیکانی کی علامت کے ذریعہ لکھی جاتی تھیں، وہ صرف ایک حرف صحیح (Single Consonant) یا حرف علت (Vowel) علت ہی نہیں ہوتے تھے (مثلاً m (ایم) یا a (اے) انگریزی حروف تہجی) بلکہ ان میں ارکان تہجی بھی ہوتے تھے (پڑھنا la-or-put، in-or) اس طرح وہ علامات جنہیں ایک میسوپوٹامیائی کاتب کو سیکھنی پڑتی تھیں وہ سینکڑوں کی تعداد میں ہوتی تھیں اور اسے اس قابل ہونا پڑتا تھا کہ وہ انہیں گیلی تختی پر سوکھنے سے پہلے لکھ سکے۔ چنانچہ کتابت یا تحریر ایک صنعت اور نہر کی حیثیت رکھتی تھی۔ بلکہ اس سے بھی زیادہ اہمیت کی حامل ہوتی تھی۔ یہ ایک عظیم فکری کارنامہ تھا جو ایک مخصوص زبان کے صوتی نظام کو مرئی شکل میں پیش کرتا تھا۔
خواندگی (تعلیم)
میسوپوٹامیہ میں کچھ ہی لوگ پڑھنا اور لکھنا جانتے تھے۔ صرف یہی نہیں کہ ان کے یہاں سیکھنے کے لیے سینکڑوں علامات تھیں، بلکہ ان میں سے اکثر کافی پیچیدہ ہوتی تھیں (ملاحظہ ہو صفحہ 34)۔ اور جب کوئی بادشاہ پڑھ سکتا تھا تو یہ تاکید ضرور کرتا کہ اس بات کو اس کے فخریہ کتبہ میں مندرج (ریکارڈ) کیا جائے۔ کچھ بھی ہو تحریر بیشتر طور پر طرز گفتگو کو منعکس کرتی ہے۔
کسی بھی سرکاری حاکم کا خط بادشاہ کو پڑھ کر سنایا جاتا تھا۔ اس لیے اس کا آغاز یوں ہوتا تھا ’’میرے آقا الف کے نام: بولیے …… پس آب کا غلام ب کہتا ہے …… میں نے ان تمام ذمہ داریوں کو پورا کر دیا جو مجھے دی گئیں تھیں ……۔‘‘ تخلیق سے متعلق ایک دیومالائی نظم یوں ختم ہوتی ہے:
’’ہم کو چاہیے کہ ہم ان ابیات کو محفوظ کرلیں۔ بڑے ان کو پڑھائیں۔
اہل دانش اور علماء اس پر بحث کریں؛
باپ اسے اپنے بچوں کے سامنے بار بار دہرائیں؛
(یہاں تک کہ) چرواہوں کے کان بھی ان ابیات کو سننے کے لیے کھلے رہیں۔‘‘
تحریر کے استعمال
انمر کر (Enmerkar) کے متعلق سمیری زبان میں لکھی گئی ایک طویل رزمیہ نظم سے شہری زندگی، تجارت اور فن تحریر کے مابین رشتہ واضح ہوتا ہے۔ انمرکر ارک کے ابتدائی حکمرانوں میں سے ایک تھا۔ میسوپوٹامیائی روایت کے اعتبار سے ارک ایک بہترین شہر کے مساوی شہر تھا اور عام طور سے ’’شہر‘‘ (The City) کے نام سے جانا جاتا تھا۔
ابتدائی ایام میں انمرکر، سمیر (Sumer) کی پہلی تجارتی تنظیم سے منسلک ہوا تھا۔ رزمیہ میں کہا گیا ہے کہ ’’تجارت غیر معروف تھی‘‘۔ شہر کے ایک معبد کی تزئین کاری کے لیے انمر کر کو نیلے چمکدار پتھر یعنی لاجورد (Lapis Lazuli) اور قیمتی دھاتوں کی ضرورت پیش آئی تو اس نے انہیں حاصل کرنے کے لیے قاصد کو دور دراز علاقہ ’’آراٹا‘‘ (Aratta) کے سردار کے پاس بھیجا۔ قاصد نے بادشاہ کے الفاظ کو غور سے سنا، رات میں ستاروں کے مطابق چلا اور دن میں سورج کی بتائی راہ پر چلتا رہا۔ راستے میں اونچے پہاڑوں کو عبور کرنے کے لیے اوپر چڑھتا اور اترتا رہا۔ اور سوسا (Susa) (ایک شہر) کے عوام نے پہاڑیوں کے نیچے ننھے چوہوں کی طرح اسے سلام کیا۔* یوں پانچ، چھ اور سات پہاڑی سلسلے اس نے عبور کیے۔ قاصد آراٹا کے سردار سے لاجورد یا چاندی حاصل نہیں کر سکا، جس وجہ سے اسے بار بار یہاں سے وہاں کا لمبا سفر کرنا پڑا۔ ساتھ ہی ساتھ ارک کے بادشاہ کی دھمکیاں اور وعدے وعید بھی لے جانے پڑتے۔ آخر کار قاصد کے ’’منہ سے الفاظ نکلنا مشکل ہو گئے‘‘ اور تمام پیغامات کو خلط ملط کر دیا۔ تب ’’انمر کرنے اس کے ہاتھ میں چکنی مٹی کی ایک تختی بنا کردی اور اس میں الفاظ کو لکھا۔ ان دنوں چکنی مٹی کی تختی پر الفاظ یا تحریر کو لکھنے کا رواج نہیں تھا۔‘‘
* شاعر کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جب قاصد بہت اونچائی یعنی پہاڑ پر چڑھتا تو وادی کی گہرائی میں تمام چیزیں اسے چھوٹی دکھائی پڑتی تھیں۔
دی گئی تحریر شدہ تختی کو آراٹا کے حاکم نے جانچا اور پرکھا ’’بولے گئے الفاظ‘‘ ناخنوں (Nails) * کے مانند تھے۔ اسے دیکھ کر اس کی پیشانی پر بل پڑگئے۔ وہ تختی کو گھورتا رہا۔
* خط پیکانی میں لکھے الفاظ دھاردار شکل کے ہوتے تھے اس لیے ناخنوں کی طرح لگتے ہیں۔
اس واقعہ کو حقیقی سچائی کے طور پر نہیں دیکھا جاسکتا۔ اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ میسوپوٹامیہ کی حد تک جس چیز نے تجارت اور فن تحریر کو منظم کیا وہ بادشاہت ہے۔ اس نظم سے ہمیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ معلومات کو یکجا کرنے اور پیغامات کو دور دراز علاقے میں بھیجنے کا ذریعہ ہونے کے ساتھ ساتھ تحریر سے میسوپوٹامیہ کی شہری تہذیب کی برتری کی علامت کی بھی جھلک ملتی ہے۔
جنوبی میسوپوٹامیہ کی شہر کاری (Urbanisation)
معبد اور بادشاہ
جنوبی میسوپوٹامیہ میں بستیوں کی ترقی کی ابتداء 5000 ق م سے ہونے لگی تھی۔ ان بستیوں میں کچھ کا ظہور قدیم شہروں کے طور پر ہوا۔ یہ شہر کئی طرح کے ہوتے تھے: وہ شہر ۔جن کی معبدوں کے گرد رفتہ رفتہ نشوونما ہوئی، وہ شہر جو تجارتی مراکز کی حیثیت سے ترقی کرگئے تھے اور شاہی یا سلطانی شہر ان میں سے یہاں پر شہر کی پہلی دو قسموں سے بحث کی جائے گی۔
جنوب کا سب سے قدیم معلوم معبدتقریباً 5000 ق م (نقشہ)۔
ابتدائی بسنے والوں نے (جن کی اصل کا پتہ نہیں) اپنے گاؤں میں منتخب مقامات پر معبدوں کو بنانا اور ازسر نو تعمیر کرنا شروع کیا۔ انتہائی قدیم معبد جس کا پتہ چلا ہے وہ کچی اینٹ کی بنی ہوئی ایک چھوٹی سی درگاہ (Shrine) تھی۔ اس وقت معبد مختلف دیوتاؤں مثلاً ارکا چاند دیوتا یا ارکی محبت و جنگ کی دیوی انانا (Inanna) کی رہائش گاہیں ہوا کرتے تھے۔ اینٹوں کی بنی ہوئی عمارتیں وقت کے ساتھ ساتھ بڑی ہوتی گئیں۔ ان میں کھلے صحن کے اردگرد بہت سے کمرے ہوتے تھے۔ شروع کے بعض معبد عام گھروں کی طرح بالکل الگ نہیں ہوتے تھے۔ کیونکہ معبد خدا کا گھر ہوتا تھا۔ معبدوں کی باہری دیواریں مقررہ وقفے پر اندر اور باہر کی جانب آتی جاتی رہتی تھیں، جبکہ عام عمارات کے ساتھ ایسا معاملہ نہیں تھا۔
خدا عبادت کا مرکزی نقطہ تھا: دیوی یا دیوتا کے لئے لوگ اناج، دہی اور مچھلی لاتے تھے (قدیم معبدوں کے فرشوں پر مچھلی کی ہڈیوں کی موٹی پرتیں جمی ہوئی تھیں)۔ نظریاتی طور پر خدا کھیتی کی زمینوں، ماہی گاہوں اور مقامی لوگوں کے ریوڑوں کا مالک ہوتا تھا۔ وقت آنے پر اجرائے عمل (مثال کے طور پر تیل نکالنا، اناج پیسنا، کتائی اور اونی کپڑوں کی بنائی) بھی معبدوں میں کی جاتی تھی۔ خانگی ضروریات سے زائد پیداوار کا نظم ونسق، تاجروں کی خدمات، اناج، ہل میں جوتے جانے والے جانور، روٹی، جو کی شراب، مچھلی وغیرہ کی تقسیم اور بٹوارہ کے ریکارڈ رکھنے کے طور پر بتدریج معبدوں کی سرگرمیاں بڑھتی گئیں اور معبد اہم شہری ادارہ بن گئے لیکن اس کے علاوہ دیگر اسباب بھی موجود تھے۔
طبیعی زرخیزی کے باوجود زراعت خطرات کا موضوع تھا۔ کسی سال فرات سے نکلنے والے قدرتی آبنائے بہت زیادہ پانی لاتے اور فصلوں کو بہالے جاتے تھے اور کبھی وہ اپنے راستے بالکل ہی بدل دیتے تھے۔ جیسا کہ آثار قدیمہ کے دستاویزات بتاتے ہیں کہ میسوپوٹامیہ کی تاریخ میں گاؤں معیاری طور پر ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کر دیے جاتے تھے۔ انسانوں کے ذریعہ پیداکردہ مشکلات بھی تھیں۔ جو لوگ آبنائے کے اوپری علاقے میں آباد تھے وہ اپنے کھیتوں میں بہت زیادہ پانی استعمال کرلیتے تھے جس کی وجہ سے دوسرے لوگوں کو پانی نہیں مل پاتا تھا۔ اس طرح وہ لوگ نہروں میں جمع ہوئی گاد (مٹی) کی صفائی پر دھیان نہیں دیتے تھے جس سے پانی کا بہاؤ رک جاتا اور نیچے پانی نہیں ملتا تھا۔ اس کی وجہ سے میسوپوٹامیہ کے ابتدائی دیہاتوں میں زمین اور پانی کی خاطر اکثر لڑائیاں ہوتی تھیں۔
تقریباً 3000ق م کے بعد کا ایک معبد۔ ایک کھلاصحن اور اندرونی و بیرونی حصہ (کھدائی کے بعد)
ٍ
جب اس علاقے میں مسلسل جنگیں ہوتی تھیں تو فاتح سردار اپنے پیروکاروں کے درمیان لوٹے ہوئے مال کو تقسیم کرکے ان کو اپنا احسان مند بنالیتے تھے اور شکست خوردہ جماعتوں کے افراد کو اپنے محافظ یا غلام کی حیثیت سے رکھ لیتے تھے، تاکہ وہ اپنے اثر و رسوخ اور دست مال کو بڑھا سکیں۔ کچھ جنگی قائد، آج یہاں ہیں کل کہیں اور چلے جائیں گے۔ بعد میں ایک ایسا وقت آیا جب کچھ ایسی قیادت آئی جس نے سماج کی فلاح پر زیادہ توجہ دینی شروع کی اور نئے اداروں اور رواجوں کو قائم کیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ فاتح حکمرانوں نے اپنے دیوتاؤں کو قیمتی نذرانے پیش کرنے شروع کر دیے اور سماج کے معبدوں کو خوبصورت بنانے لگے۔ حکمراں لوگوں کو سماج اور دیوتا کی خاطر پتھر اور دھات لانے کے لیے باہر بھیجتے تھے۔ معبد کی درآمدات اور برآمدات کا حساب رکھا جاتا تھا اور معبد کی دولت کو اچھے طریقے سے تقسیم کیا جاتا تھا، جیسا کہ انمر کر سے متعلق نظم سے واضح ہوتا ہے۔ اس سے بادشاہ کو بلند مرتبہ اور سماج پر قیادت کا اختیار حاصل ہوتا تھا۔
ہم باہمی طور پر مضبوط کرنے والی ترقی کے ایک ایسے دور کا تصور کر سکتے ہیں جس میں سرداروں نے گاؤں کو اپنے قریب آباد ہونے کے لیے حوصلہ افزائی کی تاکہ وقت آنے پر جلدی سے فوج اکٹھا کر سکیں۔ اس کے علاوہ لوگ ایک دوسرے کے نزدیک رہ کر خود کو زیادہ محفوظ سمجھتے ہوں گے۔ ارک سب سے قدیم معبدوں کا ایک شہر تھا۔ یہاں ہم کو مسلح بہادروں اور مقتولین کی تصویریں ملتی ہیں۔ آثارقدیمہ کے ذریعہ بڑی احتیاط سے کیے گئے ایک سروے سے پتہ چلتا ہے کہ تقریباً 3000 ق م میں جب ارک کا علاقہ 250 ہیکٹیئر تک وسیع ہو گیا تھا جو آنے والی صدیوں میں وجود میں آنے والے موہن جوداڑو کا دوگنا تھا۔ اس وقت دور درازکے چھوٹے چھوٹے گاؤں غیر آباد ہوگئے تھے اور ایک بڑی تعداد میں آبادی یہاں منتقل ہوئی تھی۔ ایک معنی خیز بات یہ بھی ہے کہ ارک شہر کے چاروں طرف ابتدائی زمانے میں ہی ایک حفاظتی دیوار بنادی گئی تھی۔ اس شہر نے تقریباً 4200 ق م سے 400 عیسوی تک مستقل اپنا وجود بنائے رکھا اور تقریباً 2800 ق م تک اس کا رقبہ 400 ہیکٹیئر ہو گیا تھا۔

اوپر: گہرے سبزرنگ کی پتھر کی سل* (Stele) میں ایک داڑھی والے شخص کو دودفعہ دکھایا گیا ہے۔ اس کے سرپر بندھی پٹی اور بالوں، کمر پر بندھی پٹی اور لمبے لبادہ (اسکرٹ) کو دیکھیے۔ نیچے کے منظر میں اسے ایک بڑے تیرکمان سے شیر پر حملہ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے اوپر کے منظر میں یہ ہیروآخر کار اپنے نیزہ سے بپھرے ہوئے شیر کو مار دیتا ہے (تقریباً 3200 ق م)
جنگی قیدیوں اور مقامی لوگوں کو لازمی طور پر معبد یا بالواسطہ حکمراں کے لیے کام کرنا پڑتا تھا۔ زرعی ٹیکس کے مقابلے کام کرنا لازمی تھا۔ جو لوگ کام کرتے تھے انہیں مزدوری اناج کی شکل (Ration) میں دی جاتی تھی۔ سینکڑوں ایسی راشن کی فہرستیں ملی ہیں جس میں کام کرنے والے لوگوں کے ناموں کے آگے دیے جانے والے اناج، کپڑے یا تیل وغیرہ کی مقدار درج ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ان معبدوں میں سے ایک معبد کی تعمیر کے لیے 1500 آدمیوں نے پانچ سال تک ہر روز دس گھنٹے کام کیا تھا۔
حکمراں کے حکم سے عوام کو پتھر یا کچی دھات لانے، معبد کی خاطر اینٹیں بنانے یا معبد کی تعمیر میں لگانے کے لیے مناسب سامان لانے کے لیے دور دراز ملکوں میں بھیجتا تھا۔ اس لیے تقریباً 3000 ق م میں ارک میں تکنیکی ترقی بھی ہوئی۔ کانسہ کے اوزار مختلف قسم کی دستکاریوں میں استعمال کیے جانے لگے۔ لکڑی چونکہ اس قابل نہ تھی جو بڑے ہالوں کی چھت کے وزن کو برداشت کر سکے۔ اس لیے ماہرین فن تعمیر نے اینٹوں کے ستون بنانا سیکھ لیا تھا۔
* اسٹیلس (Steles)پتھر کی ایسی سل ہوتی ہیں جن پر کتبہ کاری یا کندہ کاری کی گئی ہوتی ہے۔
تقریباً 3200 ق م کا اسطوانی مہر کا نقش، اس نقش میں داڑھی والے مسلح کھڑے شخص کی تصویر، جس کا لباس اور بالوں کا اسٹائل اوپر اسٹیلس* (پتھر کی سل) میں دکھائے گئے ہیروکی طرح کا ہے۔ تصویر میں تین جنگی قیدی جن کے ہاتھ بندھے ہیں دکھائے گئے ہیں اور چوتھا شخص جنگی قائد سے عاجزانہ التجا کر رہا ہے۔
سینکڑوں لوگ مخروطی شکل کی اینٹیں بنانے اور پکانے کے کام پر رکھے گئے تھے۔ یہ اینٹیں معبد کی دیواروں میں لگائی جاتی تھیں۔ مختلف رنگوں میں رنگی ہوئی یہ اینٹیں رنگین پچی کاری پیش کرتی تھیں۔ مجسمہ سازی میں، جس کے لیے یہاں پتھر دستیاب نہ تھے بلکہ برآمد کیے جاتے تھے، انتہائی درجہ کامیابی حاصل ہوئی۔ اس زمانہ کا تکنیکی اعتبار سے بھی یہ دور آفرین واقعہ ہے جس کو ہم شہری معیشت کے لیے موزوں کہہ سکتے ہیں۔ وہ کمہار کا پہیہ ہے۔ ورکشاپ میں بڑے پیمانے پر ایک قسم کے درجنوں برتن ایک ہی وقت میں تیار کیے جاسکتے تھے۔
مہر- ایک شہری فنی تخلیق (Artefact)
ہندوستان میں قدیم عہد میں پتھروں کی مہریں ثبت کی جاتی تھیں۔ میسوپوٹامیہ میں ایک ہزار ق م کے آخر تک پتھر کی اسطوانی لہروں کے درمیانی سوراخ میں ایک لکڑی ڈال کر اس کو گیلی مٹی پر گھمایا جاتا تھا اور اس طرح اس پر ایک مسلسل تصویر بن جاتی تھی۔ ان پر ماہر دستکاروں کے ذریعہ نقش و نگار بنائے جاتے تھے۔ بعض اوقات ان پر مالک، اس کے دیوتا اور اس کے رسمی منصب وغیرہ لکھے ہوتے تھے۔ کسی برتن یا کپڑوں کے گٹھر، کے منہ پر باندھی ہوئی ڈوری پر مٹی کو لیپ کران میں رکھی ہوئی چیزوں کی حفاظت کی غرض سے مہر لگائی جاسکتی تھی۔ اگر اسے چکنی مٹی کی تختی پر لکھے ہوئے خط پر ثبت کردیا جاتا تھا تو یہ خط کے مستند ہونے کی دلیل ہوتی تھی۔ اس طرح مہر عوامی زندگی میں شہری باشندوں کے رول کی نشاندہی کرتی ہیں۔
پانچ قدیم اسطوانی مہریں اور ان کے نشانات
آپ نشان (ٹھپے) پر کیاد یکھتے ہیں بیان کیجیے۔ کیا ان پر پیکانی رسم الخط نقش کیا گیا ہے؟
شہری زندگی
ہم جان چکے ہیں کہ ممتاز حکمراں طبقہ کا ظہور ہو چکا تھا۔ سماج کا ایک چھوٹا سا طبقہ دولت کے بڑے حصے کا مالک ہو گیا تھا۔ اس حقیقت کو کچھ بادشاہوں اور رانیوں کے ساتھ اُرکے مقام پر دفن کی گئی قیمتی اشیاء (زیورات، سونے کے برتن، لکڑی کے آلاتِ موسیقی جن پر سفید خول اور چمکدار لاجورد کی پچی کاری کی گئی تھی، سونے کے تقریباتی خنجر وغیرہ) اچھی طرح واضح کرتی ہیں۔ لیکن عام انسانوں کے حالات کیا تھے؟
ہم قانونی متون (جھگڑوں، موروثی معاملات وغیرہ) کے حوالے سے جانتے ہیں کہ میسوپوٹامیہ کے سماج میں نیوکلیئر فیملی * کو کامل نمونہ مانا جاتا تھا۔ باوجود یہ کہ شادی شدہ لڑکا اور اس کی فیملی اکثر والدین کے ساتھ ہی رہتی تھی۔ باپ فیملی کا مکھیا ہوتا تھا۔ ہم شادی کے طریقہ کار سے متعلق بہت کم جانتے ہیں۔ شادی کی رضامندی کے متعلق ایک اعلان کیا جاتا تھا اور دلہن کے والدین شادی کے لیے اپنی منظوری دیتے تھے۔ اس کے بعد دولہے والے دلہن والوں کو تحفہ دیتے تھے۔ شادی کی رسم پوری ہو جانے کے بعد دونوں طرف کے لوگ ایک دوسرے کو تحائف دیتے۔ ایک ساتھ کھانا کھاتے اور معبدوں میں نذرانے پیش کرتے تھے۔ جب دلہن کی ساس اسے لینے آتی تو دلہن کو اس کے والد کی جائیداد میں سے حصہ دیا جاتا تھا۔ باقی تمام چیزیں جیسے باپ کا گھر، جانور اور کھیت وغیرہ اس کے بیٹوں کو وراثت میں ملتے تھے۔
* نیوکلیئر فیملی (Nuclear Family) ایک شخص اس کی بیوی اور بچوں پر مشتمل ہوتی ہے۔
آئیے اب اُر شہر پر نظر ڈالیں۔ یہ ان شہروں میں سے ایک شہر ہے جہاں سب سے پہلے کھدائی کی گئی تھی۔ ار ایک ایسا شہر ہے جس کے عام گھر منظم طور پر 1930 کی دہائی میں کھودے گئے تھے۔ تنگ چکردار گلیاں بتاتی ہیں کہ پہیہ دار گاڑیاں بہت سے گھروں تک نہیں پہنچ سکتی تھیں۔ اناج کی بوریاں اور ایندھن کی لکڑیاں گدھوں کے ذریعہ پہنچتی ہوں گی۔ تنگ گھماؤدار گلیاں اور گھروں کی بے ڈھب شکل و صورت سے بھی شہری منصوبہ بندی کے فقدان کا پتہ چلتا ہے۔ گلیوں میں اس طرح کی نالیاں نہیں تھیں جیسا کہ اس کے ہم عصر موہن جوداڑو میں پائی گئیں ہیں۔ بلکہ اُر میں نالیاں اور مٹی کے پائپ داخلی صحن میں پائے گئے ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ گھروں کی چھتیں اندر کی طرف ڈھلواں بنائی جاتی تھیں۔ اور برسات کا پانی نالی کے پائپوں کے ذریعہ داخلی صحن کے گندے پانی کے حوض** (Sumps) میں جاتا تھا۔ ایسا اس لیے کیا جاتا رہا ہوگا تاکہ موسلادھار بارش کے بعد غیر پختہ گلیوں کو بہت زیادہ کیچڑ سے بچایا جاسکے۔
* سمپ (Sump) (پانی یاتیل کا خزانہ) زمین میں پوشیدہ وادی یا نشیبی زمین ہوتی ہے جس میں پانی اور بدرو کا پانی بہتا ہے۔
نقشہ:2 تقریباً 2000 ق م میںار شہر کے رہائشی علاقے کا نقشہ۔ کیا آپ اس نقشہ میں گھماؤ دار گلیوں کے علاوہ دو یا تین بند تنگ گلیاں تلاش کر سکتے ہیں؟
تاہم ایسا معلوم ہوتا ہے کہ لوگ گھروں کے کچرے گلیوں میں پھینکتے تھے، جہاں یہ لوگوں کے پیروں تلے روندتا رہتا تھا۔ اس کی وجہ سے گلیاں اونچی ہو گئیں نتیجتاً کچھ وقت بعد گھروں کے دروازوں کو بھی اونچا کرنا پڑتا تھا تاکہ برسات کے بعد گھروں میں کیچڑ بہہ کر نہ آئے۔ کمروں میں روشنی کھڑکیوں سے نہیں بلکہ دروازوں سے آتی تھی جو صحنوں میں کھلتے تھے۔ اس طرح سے فیملی کی پردہ داری بھی ہوجاتی تھی۔ گھروں کے متعلق اوہام پرستی موجود تھی جس کا ذکر ارکی شگونی تختیوں میں موجود ہے۔ بلند دہلیز دولت سے نوازتی تھی۔ اگر سامنے کا دروازہ دوسرے کے گھر کی جانب نہیں کھلتا تھا تو وہ مبارک تھا لیکن لکڑی کا صدر دروازہ اگر باہر کی طرف (اندر کے بجائے) کھلتا تھا تو عورت اپنے شوہر کے لیے موجب اذیت ہوسکتی تھی۔
نقشہ 3 : مری شہر کا محل وقوع
ار میں ایک شہری قبرستان تھا جس میں شاہی خاندان اور عوام کی قبریں دریافت ہوئی ہیں۔ لیکن کچھ لوگ عام گھروں کے فرش کے نیچے بھی دفن کیے ہوئے ملے ہیں۔
چراگاہی (شبانی) علاقہ میں ایک تجارتی مرکز
2000 ق م کے بعد شاہی راجدھانی مری (Mari) نے خوب ترقی کی۔ آپ دیکھیں گے (ملاحظہ ہو نقشہ 2) کہ مری شہر زرعی اعتبار سے جنوب کے نہایت ہی زرخیز میدانی علاقے میں واقع نہیں ہے بلکہ دریائے فرات کی اوپر دھارا سے بہت زیادہ آگے واقع ہے۔ نقشہ 3 میں اشاراتی رنگ کے ذریعہ یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اس علاقے میں کھیتی اور مویشی پالن ایک ساتھ کیے جاتے تھے۔ مری سلطنت کے کچھ طبقات کسانوں اور چرواہوں دونوں پر مشتمل تھے۔ لیکن زمین کا زیادہ تر حصہ بھیڑ بکریوں کی چراگاہ کے طور پر استعمال ہوتا تھا۔
ایک جنگجو اپنے ہاتھوں میں ایک لمبا نیزہ اور بٹی ہوئی بید کی ٹہنی کی ایک ڈھال پکڑے ہوئے۔
امورائٹس لوگوں کے مخصوص لباس کو غور سے دیکھیے جو صفحہ نمبر 39 پر دکھائے گئے سمیرین جنگجو سے مختلف ہے۔ یہ تصویر تقریباً 2600 ق م میں ایک سیپی پر کندہ کی گئی تھی۔
چرواہوں کو جب اناج، دھات کے اوزاروں وغیرہ کی ضرورت ہوتی تو وہ ان کو اپنے جانوروں، پنیر، چمڑے اور گوشت کے بدلے میں حاصل کرتے تھے۔ باڑے میں رکھے جانے والے جانوروں کے گوبر کی کھاد بھی کسانوں کے لیے بہت فائدہ مند ہوتی تھی۔ تاہم اسی حالت میں کسانوں اور چرواہوں کے درمیان جھگڑے ہو جاتے تھے۔کبھی ایسا ہوتا کہ گلہ بان اپنے جانوروں کے گلہ کو پانی پلانے کے لیے بوئے ہوئے کھیت سے گزار لے جاتے جس سے فصل تباہ ہو جاتی۔ یہ گلہ بان (گڈریا) حرکت پذیر تھے اور زرعی دیہاتوں پر دھاوا بول دیتے اور ان کے ذخیرہ کی گئی اشیاء کو ضبط کر لیتے تھے۔ جہاں تک ان کا تعلق ہے، سکونت پذیر لوگوں کے گروپ بھی چرواہوں کا ندی اور نہر کے معین راستوں میں سے کسی ایک راستہ کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک رسائی روک دیتے تھے۔
میسوپوٹامیہ کی مکمل تاریخ میں مغربی صحرا کے خانہ بدوش سر سبز زرخیز مرکزی زرعی علاقے میں دراندازی کرتے رہتے۔ چرواہے اپنے جانوروں کو گرمی کے موسم میں تخم ریزی کیے گئے علاقے میں لاتے تھے۔ کچھ گروپ چرواہوں، فصل کاٹنے والے مزدوروں اور کرائے کے فوجیوں کی حیثیت سے آتے تھے۔ بعض اوقات مالدار ہو جاتے اور یہیں سکونت پذیر ہو جاتے۔ بعض لوگوں نے اپنی حکومت قائم کرنے کی قوت حاصل کرلی تھی۔ یہ لوگ بشمول اکیڈین، امورائٹس (Amorites)، اسیرین اور آرمینائی (Aramaeans) تھے (آپ باب 5 میں ان شبانی (چرواہے) سماجوں کے حکمرانوں کے بارے میں زیادہ تفصیل سے پڑھیں گے) مری کے بادشاہ امورائٹس تھے جن کے لباس یہاں کے اصل باشندوں کے لباس سے مختلف تھے۔ انہوں نے صرف میسوپوٹامیہ کے دیوتاؤں کو قدر کی نگاہ سے دیکھا بلکہ صحرا کے دیوتا داگان(Dagan) کے لیے مری میں ایک مندر بھی بنوایا۔ میسوپوٹامیہ کا تمدن و سماج مختلف تمدن اور سماجوں کے لیے کھلا تھا۔ اس تہذیب کی بقا کا سبب غالباً یہی تہذیبی اختلاط تھا۔
مری کے بادشاہ کو ہمیشہ ہوشیار و خبردار رہنا پڑتا تھا۔ کیونکہ سلطنت میں مختلف قبیلوں کے چرواہوں کو گھومنے پھرنے کی آزادی تھی۔ لیکن ان پر کڑی نظر رکھی جاتی تھی۔ چرواہوں کے کیمپوں کا ذکر بادشاہوں اور سرکاری حکام کے خطوط میں بکثرت پایا جاتا ہے۔ ایک خط میں ایک افسر بادشاہ کو لکھتا ہے کہ وہ رات میں آگ کے اشارے بکثرت دیکھتا رہا ہے۔ یہ اشارے ایک خیمہ سے دوسرے خیمہ کو بھیجے جارہے تھے اور وہ شک کرتا ہے کہ کہیں چھاپا مارنے یا حملہ کرنے کا منصوبہ تو نہیں بنا یا جارہا۔
مری تجارتی لحاظ سے نہایت اہم مقام پر فرات ندی کے کنارے واقع تھا۔ یہاں سے لکڑی، تانبہ، ٹن، تیل، شراب اور بہت سے سامان جو کشتیوں پر دریائے فرات سے جنوب اور ترکی، شام اور لبنان کے اونچے علاقوں کے درمیان لائے لے جائے جاتے تھے۔ مری تجارت کے ذریعہ خوش حال ہونے والے شہر کی بہترین مثال ہے۔ جنوبی شہروں کو جانے والی کشتیاں جو سان کرنے والے پتھر، لکڑیاں، شراب اور تیل کے مرتبان پر مشتمل ہوتی تھیں، مری میں رکتی تھیں۔ اس شہر کے افسران باہر جاکر ان کشتیوں پر لدے سامان کا معائنہ کرتے (ایک کشتی شراب کے تین سو مرتبان یا مٹکے رکھ سکتی تھی) اور ان کو آگے جانے کی اجازت دینے سے پہلے لدے سامان کی قیمت کا لگ بھگ دسواں حصہ بطور ٹیکس لے لیتے تھے۔ جو، اناج کی خاص کشتیوں میں آتا تھا۔ سب سے اہم بات یہ کہ تختیوں پر الاشیا (Alashiya) قبرص کا جزیرہ جو اپنے کانسہ کے لیے مشہور تھا، کے کانسہ کا ذکر لکھتا ہے اور ٹن بھی ایک تجارتی سامان تھا۔ اسی طرح کانسہ ہتھیار اور اوزاروں کے لیے اہم صنعتی سامان تھا۔ اس لیے اس کی تجارت بڑی اہمیت کی حامل تھی۔ اگرچہ مری سلطنت فوجی اعتبار سے زیادہ مضبوط نہ تھی۔ پھر بھی یہ غیر معمولی طور پر خوشحال تھی۔
مری شہر میں بادشاہ زمری لم کا محل (1810-1760 ق م)
مری کا عظیم الشان محل شاہی خاندان کی رہائش گاہ تھا۔ یہ ملکی نظم و نسق کا مرکز اور مصنوعات، خاص طور پر دھات کے زیورات بنانے کا مرکز بھی تھا۔ اس زمانے میں یہ اتنا مشہور تھا کہ شمالی شام سے ایک کم عمر بادشاہ صرف اس محل کو دیکھنے کی غرض سے مری آیا تھا۔ وہ اپنے ساتھ مری کے بادشاہ زمری لم کے نام اس کے ایک دوست کا تعارفی خط بھی لایا تھا۔ یومیہ فہرست سے پتہ چلتا ہے کہ بادشاہ کے دسترخوان پر روزانہ بڑی مقدار میں کھانا پیش کیا جاتا تھا۔ کھانا جو، آٹا، روٹی، گوشت، مچھلی اور جو اور انگور کی شراب پر مشتمل ہوتا تھا۔ بادشاہ دوسرے لوگوں کے ساتھ کھانا غالباً سفید پتھر جڑے فرش والے صحن نمبر 106 میں یا اس کے اردگرد کھاتا تھا۔ نقشہ دیکھنے سے آپ کو پتہ چلے گا کہ شاہی محل میں داخل ہونے کا صرف ایک ہی راستہ تھا اور وہ شمال میں تھا۔کشادہ لمبے صحن مثلاً نمبر 131 کا فرش بڑے خوبصورت پتھروں سے جڑا گیا تھا۔ بادشاہ دوسرے ممالک کی معزز شخصیات اور اپنے خاص لوگوں کا استقبال کمرہ نمبر 132 میں کرتا ہوگا۔ اس کمرے کی سبھی دیواروں پر مصوری کی گئی تھی جو مہمانوں کو مبہوت کر دیتی رہی ہوگی۔ یہ محل 2.4 ہیکٹیئر رقبہ میں واقع مع 260 کمروں کے ایک وسیع عمارت تھی۔

سرگرمی 3
نقشہ میں داخلی دروازہ سے اندرونی ایوان تک جانے کا راستہ تلاش کیجیے: آپ کے خیال میں گوداموں میں کیا رکھا جاتا ہوگا؟ باورچی خانہ کو کیسے شناخت کیا جاسکتا ہے۔
کاتبوں کا دفتر ساتھ میں بینچ اور چکنی مٹی کی تختیوں کا ذخیرہ رکھنے کے لیے مٹی دان
صحن
میسوپوٹامیہ کے شہروں کی کھدائی
آج کل جو لوگ میسوپوٹامیہ کی کھدائی کر رہے ہیں وہ صحت و صداقت اور ریکارڈ درج کرنے میں ماضی کے لوگوں سے کہیں زیادہ اعلیٰ معیار اپناتے ہیں۔ چنانچہ کچھ لوگوں نے ار کے طرز پر بڑے علاقوں کی کھدائی کی ہے۔ مزید برآں کچھ ہی ماہرین آثار قدیمہ کے پاس اتنے فنڈ ہوتے ہیں کہ وہ کھدائی کرنے والوں کی بڑی ٹیم کو ملازم رکھ سکیں۔
ابوسلابخ (Abu Salabikh) جیسے چھوٹے شہر کو لیجیے۔ 2500 ق م میں اس کا رقبہ لگ بھگ 10 ہیکٹیئر اور آبادی دس ہزار سے کم تھی۔ اس کی باہری دیواروں کا مجمل نقشہ سب سے پہلے اوپر سے مٹی کھرچ کر تیار کیا گیا تھا۔ اس کھرچنے کے عمل میں ٹیلے کی اوپری سطح کو کسی بیلچہ یا دیگر اوزار کے دھاردار اور چوڑے سرے سے کچھ ملی میٹر مٹی کو کھرچا جاتا ہے۔ جبکہ مٹی کی نچلی سطح کسی قدر نم ہوتی ہے۔ پھر بھی ماہرین آثار قدیمہ مختلف رنگوں، بناوٹوں اور اینٹوں کی دیواروں کی قطاروں یا کھڈوں یا دیگر خصوصیات سے پتا لگا سکتے ہیں۔ اور جن تھوڑے بہت گھروں کا پتہ چلا تھا ان کی کھدائی کی گئی تھی۔ ماہرین آثار قدیمہ نے پودوں اور جانوروں کے باقیات کی خاطر ٹنوں مٹی کو چھانا اور اس کھدائی کے دوران درختوں اور جانوروں کی بہت سی نوع کی شناخت کی گئی۔ انہیں بڑی مقدار میں جلی ہوئی مچھلیوں کی ہڈیاں بھی ملی ہیں۔ جو بہہ کر گلیوں میں آگئی تھیں۔ گوبر کے اپلے بطور ایندھن جلانے کے بعد پودوں کے بیج اور ریشے ملے ہیں۔ ان ہی کی وجہ سے اس طرح باورچی خانوں کی پہچان ہوئی۔ رہائشی کمروں کے بارے میں پتہ دینے والی اشیاء بہت کم دستیاب ہوئیں۔ کم عمر کے سور کے دانت گلیوں میں ملنے کی وجہ سے ماہرین آثار قدیمہ نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ میسوپوٹامیہ کے دوسرے شہروں کی طرح یہاں بھی سور آزادانہ گھومتے رہے ہوں گے۔ فی الحقیقت ایک گھر میں مدفون شخص کے مشمولات میں سور کی چند ہڈیاں ملی ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ لازمی طور پر مردہ آدمی کو سور کا کچھ گوشت اس کی دوسری زندگی میں کھانے کے لیے دیا گیا ہوگا۔ ماہرین آثار قدیمہ نے یہ پتہ لگانے کے لیے کہ کن کمروں کے اوپر (پوپلر کے درخت کے لٹھے، کھجور کے پتے، گھاس پھوس وغیرہ) کی چھت تھی اور کون سے کمرے بغیر چھت کے کھلے آسمان میں تھے۔ کمرے کے فرش کا بڑی باریکی سے مطالعہ کیا گیا۔
میسوپوٹامیہ کی تہذیب میں شہر
میسوپوٹامیہ کے لوگ شہری زندگی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے جس میں مختلف طبقات اور تمدن کے لوگ ساتھ ساتھ رہتے تھے اور جب یہ شہر جنگ میں تباہ ہو گئے تب انہوں نے ان شہروں کو اپنی شاعری میں یاد کیا۔
میسوپوٹامیہ کے لوگوں کو اپنے شہروں پر کتنا فخر تھا۔ اس کا چبھتا ہوا ذکر ہمیں گل گمیش (Gilgamesh) کی رزمیہ کے آخر میں ملتا ہے جو بارہ تختیوں پر لکھی گئی تھی۔ گل گمیش کہتا ہے کہ اس نے انمرکر کے کچھ وقت بعد شہرارک پر حکومت کی تھی۔ یہ ایک عظیم ہیرو تھا جس نے دور دور تک لوگوں کو زیر کر رکھا تھا اور جب اس کے بہادر دوست کی موت ہو گئی تو اسے کافی دھکا لگا۔ تب اس نے یہ طے کیا کہ دنیا کو گھیرے ہوئے پانی کو پار کرے اور پھر وہ حیات جاوداں کے راز کو ڈھونڈنے نکلا۔ اس مردانہ کوشش کے بعد جس میں وہ ناکام رہا، شہرارک واپس آگیا۔ وہاں اس نے شہر کی فصیل کے کنارے اِدھر اُدھر چل کر اپنے آپ کو تسلی دی۔ اپنی پختہ اینٹوں کی بنی ہوئی عمارتوں کو سراہا۔ یہی وہ شہرارک کی فصیل ہے جہاں بہادری اور جدوجہد کی عظیم کہانی ناکام ہو جاتی ہے۔ گل گمیش یہ کبھی نہیں کہتا کہ میں گرچہ مرجاؤں گا اور میرے بچے میرے بعد تک زندہ رہیں گے جیسا کہ ایک قبائلی ہیرو کرتا ہے۔ اس شہر میں کافی تسلی ملتی ہے جسے اس کے لوگوں نے بنایا تھا۔
تحریر کا ورثہ(رسم الخط)
رائج حکایات کو توزبانی منتقل کیا جاسکتا ہے لیکن سائنس کو تحریری نصوص کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ دانشوروں کی نسلیں اسے پڑھ سکیں اور بنیاد بنا سکیں۔ اور شاید میسوپوٹامیہ کا عظیم ورثہ جو دنیا کو ملا وہ ریاضیات اور اوقات کے حساب کی عالمانہ روایت ہے۔
لگ بھگ 1800 ق م کی تختیاں ہیں جس میں ضرب، تقسیم کے جداول، مربع، جذ رالمربع (Square-root) اور سود مرکب (Compound Interest) کے جداول ہیں۔ 2 کا جذ رالمربع کچھ یوں دیا گیا ہے:
1 + 24/60 + 51/602 + 10/603
اگر آپ اس کو حل کریں تو آپ کو اس کا جواب 1.41421296 کی شکل میں ملے گا جو صحیح جواب 1.41421356 سے تھوڑا ہی مختلف ہے۔ اس زمانے کے طلبہ کو مندرجہ ذیل سوالات بھی حل کرنے پڑتے تھے۔ مثلاً فلاں علاقے کی زمین انگشت بھر پانی میں غرق ہے۔ پانی کا حجم بتائیے؟
ایک ابتدائی لائبریری
لوہے کے عہد میں جنوبی اسیریا کے باشندوں نے ایک سلطنت قائم کی تھی جو 720 سے 610 ق م کے درمیان اپنے پورے عروج پر تھی اور مغرب میں مصر تک پھیلی ہوئی تھی۔ سلطنت کی معیشت کا دارومدار غارت گری، جبری مزدوری اور خراج پر تھا، جو اناج، جانور، دھات اور دستکاری کے سامان کی شکل میں رعایا کی وسیع آبادی سے وصول کیا جاتا تھا۔
اسیریا کے عظیم بادشاہوں نے جو مہاجر تھے جنوبی خطہ، بابل کو اعلیٰ تہذیب کا مرکز تسلیم کیا تھا۔ اور ان کے آخری بادشاہ آسوربانی پال (Assurbanipal 668-627BCE) نے اپنی راجدھانی نینوا میں جو کہ شمال میں واقع ہے، ایک لائبریری قائم کی تھی۔ تاریخ، رزمیہ، علم شگون، علم نجوم، حمد اور نظموں کی تختیوں کو جمع کرنے کی کافی کوشش کی۔ پرانی تختیوں کو حاصل کرنے کے لیے اس نے اپنے منشیوں کو جنوب میں روانہ کیا۔ کیونکہ جنوب کے منشی ایسے اداروں کے پروردہ تھے جہاں انہیں درجنوں تختیوں کی نقل کرنی پڑتی تھی اور بابل میں کچھ ایسے قصبے تھے جہاں تختیوں کے بڑے مجموعے تیار کیے جاتے تھے اور حاصل کرنے کے لیے کافی مشہور تھے۔ تقریباً 1800 ق م کے بعد اگرچہ لوگوں نے سیمرین زبان بولنا ترک کر دیا تھا، پھر بھی اسکولوں میں فرہنگی نصوص، علامتی فہرستوں اور دولسانی (سیمرین اور اکیڈین) تختیوں وغیرہ کی مدد سے اب بھی پڑھائی جاتی تھی۔ یہاں تک کہ 650 ق م میں خط پیکانی کی تختیاں جو 2000 ق م سے بہت پہلے لکھی گئی تھیں، پڑھی اور سمجھی جاسکتی تھیں۔ نیز آسوربانی پال کے آدمیوں کو یہ بھی پتہ تھا کہ سابقہ تختیوں یا ان کی نقول کو کہاں ڈھونڈھا جاسکتا ہے۔
اہم نصوص مثلاً گل گمیش کے رزمیہ کے نقول اور نسخے تیار کیے گئے۔ نقل نویس ان پر اپنا نام اور تاریخ لکھتے تھے۔ کچھ تختیوں کے آخر میں آسوربانی پال کا ذکر ملتا ہے۔
’’میں آسوربانی پال دنیا کا بادشاہ، اسیریا کا بادشاہ جسے دیوتاؤں نے کثیر عقل سے نوازا ہے اور جس نے عالمانہ فضل کے متعلق تفاصیل کو حاصل کیا ہے، میں نے دیوتاؤں کی عطا کردہ ذہانت کو تختیوں پر رقم کر دیا …… ان کی تحقیق کی اور مختلف تختیوں سے ان کا موازنہ کیا اور اپنے خدا ’’نابو‘‘ (Nabu) کے مندر کی لائبریری میں، میں نے ان کو آنے والی نسلوں کے لیے اپنی زندگی کی خاطر اور اپنی روح کی بھلائی کی خاطر اور اپنے تخت شاہی کی بنیادوں کی بقا کے لیے محفوظ کردیا ………‘‘۔
اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس وقت فہرست نگاری کا بھی رواج تھا۔ چنانچہ تختیوں سے بھرے ایک ٹوکرے، جس پر چکنی مٹی کے نشان سے اس طرح لیبل کیا گیا ’’جھاڑ پھونک سے متعلق 'n' تختیوں کی تعداد جس کو 'X' نے تحریر کیا ہے۔‘‘ آسوربانی پال کی لائبریری میں کل ایک ہزار نصوص (مواد) تھے جو تقریباً تیس ہزار تختیوں پر مشتمل تھے اور ان کو موضوع کے اعتبار سے منقسم کیا گیا تھا۔
چاند کی زمین کے گرد گردش کے مطابق سال کی تقسیم بارہ مہینے میں اور ماہ کی تقسیم چار ہفتوں میں اور دن کی تقسیم 24 گھنٹوں میں کی گئی ہے۔ یہ سب جسے آج ہم اپنی روز مرہ کی زندگی میں اپنائے ہوئے ہیں، یہ تمام ہمیں میسوپوٹامیہ کے لوگوں سے ملی ہیں۔ اوقات کی اس تقسیم کو سکندر کے جانشینوں نے اپنا یا تھا۔ پھر ان سے رومن دنیا کو منتقل ہوا اور پھر اسلامی دنیا کو ملا اور پھر اسلامی دنیا سے عہدوسطیٰ کے یوروپ کو ملا (یہ سب کیونکر ہوا باب 7 میں ملاحظہ کیجیے)۔
سرگرمی 4
آپ ایسا کیوں سوچتے ہیں کہ اسور بانی پال اور نابونیڈس نے میسوپوٹامیہ کی قدیم روایات کی حفاظت کی؟
سورج اور چاند گرہن بھی مشاہدہ میں آئے اسے سال مہینے اور تاریخ کے اعتبار سے نوٹ کر لیا گیا۔ اس لیے ان کے یہاں رات میں آسمان میں ستاروں اور مجموعہ نجوم کی مشاہدہ کی گئی کیفیات کا مکمل ریکارڈ ملتا ہے۔
میسوپوٹامیہ کے لوگوں کے ان سارے اہم کارناموںمیں سے ایک کا بھی وجود ممکن نہ ہوتا اگر لکھنے کا رواج نہ ہوتا اور اسکول جیسے شہری ادارے نہ ہوتے جہاں طلبہ سابقہ تختیوں کو پڑھتے اور ان کو نقل کرتے تھے۔ نیز ان میں سے بعض طلبہ کو نہ صرف انتظامی امور کا ریکارڈ رکھنے کی تربیت دی جاتی تھی بلکہ انہیں ایسا دانشمند بنایا جاتا تھا جو اپنے پیش روؤں کے اعمال کو بنیاد بنا سکیں۔
ہم غلطی پر ہوں گے اگر ہم پہلے سے ہی یہ سوچ لیں کہ میسوپوٹامیہ کی شہری دنیا ایک جدید نظریہ ہے۔ بالآخر ہمیں ان دو طرح کی ابتدائی کوششوں کو دیکھنا ہوگا جن کے تحت ماضی کے متون اور روایات کو تلاش کرنے اور محفوظ رکھنے کی کوشش کی گئی تھی۔
ایک ابتدائی ماہر آثار قدیمہ
نابوپولاسار (Nabopolassar) جنوبی دلدلی علاقہ کا ایک باشندہ تھا۔ اس نے بابل کو 625 ق م میں اسیرین کے غلبہ سے آزاد کرایا تھا۔ اس کے جانشینوں نے اپنے علاقے کو وسیع کیا اور بابل میں تعمیری منصوبے کو منظم کیا۔ اس وقت سے بلکہ ایران کے اکیمینڈس (Achaemenids) کے 539 ق م میں بابل کی فتح کے بعد سے لے کر 331 ق م تک جس وقت کہ سکندر نے بابل کو فتح کیا، اس عرصہ میں بابل دنیا کا اولین اہم شہر تھا اور 850 ہیکٹیئر سے زیادہ رقبہ پر پھیلا ہوا تھا۔ تہری دیواریں، عالی شان محل اور عبادت گاہیں، زیگورت (Ziggurat) یا سیڑھی نما مینار اور جلوس کے لیے ایک خاص راستہ تھا، جو مذہبی رسوم کے مرکز کی طرف جاتا تھا۔ اس کے تجارتی گھرانے دور دراز تک تجارتی معاملات یعنی کاروبار کرتے تھے۔ ریاضی دانوں اور نجومیوں نے کچھ نئے انکشافات بھی کیے تھے۔
نوبونیڈس (Nobonidus) آزاد بابل کا آخری حکمراں تھا۔ وہ لکھتا ہے کہ ارکا خدا خواب میں اس کے پاس آیا اور اسے حکم دیا کہ ایک ایسی پجارن کی تقرری کرے جو جنوب بعید کے قدیم شہرکے مذہبی امور کی ذمہ داری سنبھال سکے۔ وہ لکھتا ہے:
’’چونکہ ایک لمبے عرصے سے قابل احترام پجارن کے منصب کو فراموش کر دیا گیا تھا اور اس کی امتیازی خصوصیات کہیں ظاہر تک نہیں کی گئی تھیں۔ تب میں نے خود اس کے بارے میں دن بہ دن سوچا……‘‘
وہ آگے کہتا ہے کہ اسے ایک قدیم بادشاہ کی پتھر کی کتبہ دار سل (Stele) ملی جس کا عہد حکومت آج کے حساب سے تقریباً 1150 ق م مانتے ہیں۔ اس پتھر کی سل پر اس نے اس پجارن کی تصویر کو کندہ پایا۔ اس نے لباس اور زیورات جو اس پر نقش تھے، ان کا مشاہدہ کیا۔ یوں وہ اس قابل ہوا کہ اپنی بیٹی کو ویسا ہی لباس پہنائے تاکہ بحیثیت پجارن اسے وقف کر سکے۔
ایک دوسرے موقع پر نوبونیڈس کے آدمیوں نے اسے ایک ٹوٹا ہوا مجمسہ دیا جس پر سارگوں (Sargon)، اکاڈ (Akkad) کے بادشاہ کا نام نقش تھا۔ (آج ہم جانتے ہیں کہ تقریباً 2370 ق م کے قریب اس کی حکومت تھی)۔ دراصل نوبونیڈس اور دیگر بہت سے مفکرین نے ماضی کے اس عظیم بادشاہ کے بارے میں سن رکھا تھا۔ نوبونیڈس نے سوچا کہ مجسمہ کی مرمت ہونی چاہیے وہ لکھتا ہے کہ ’’کیونکہ دیوتاؤں کی تعظیم کی خاطر اور بادشاہت کے احترام میں ’’میں نے ماہر دست کاروں کو بلا بھیجا اور اس کے سر کو بدل دیا۔‘‘
|
ٹائم لائن |
| تقریباً6000-7000ق م |
شمالی میسوپوٹامیہ کے میدانی علاقوں میں زراعت کی شروعات |
| تقریباً5000ق م |
جنوبی میسوپوٹامیہ میں قدیم ترین معبدوں کی تعمیر |
| تقریباً3200ق م |
میسوپوٹامیہ میں تحریر کا آغاز |
| تقریباً3000ق م |
ارک کا ایک بڑے شہر کے طور پر ترقی کرنا، کانسہ کے اوزاروں کے استعمال میں اضافہ |
| تقریباً2500-2700ق م |
ابتدائی بادشاہوں کا دور بشمول افسانوی حکمراں گل گمیش کی ممکنہ حکومت |
| تقریباً2600ق م |
پیکانی رسم الخط(Cuneuform Scrip)کی نشو و نما |
| تقریباً2400ق م |
سمیرین کے ذریعہ اکاڈین کا قائم مقام ہونا |
| تقریباً2370ق م |
سارگون، اکڈ(Akkad)بادشاہ |
| تقریباً2000ق م |
شام، ترکی اور مصر تک پیکانی رسم الخط کا پھیلاؤ، مری(Mariاور بیبیلون (Babylon)کا اہم شہری مرکز کے طور پر ظہور |
| تقریباً1800ق م |
ریاضیاتی متن(Mathematical Text)کی تصنیف، سمیرین زبان کا بولنا اب موقوف ہوا۔ |
| تقریباً1100ق م |
اسیرین سلطنت کا قیام |
| تقریباً1000ق م |
لوہے کا استعمال |
| تقریباً610-720ق م |
اسیرین سلطنت |
| تقریباً627-668ق م |
اسوربانی پال کی حکمرانی |
| 331ق م |
سکندر کی بیبیلون پر فتح |
تقریباً پہلی صدی عیسوی
1850عیسوی |
اکاڈین زبان اور پیکانی رسم الخط کا استعمال رہا
پیکانی رسم الخط کا معہ حل کر لیا گیا، یعنی پڑھ لیا گیا۔ |

مشق
مختصر جواب دیں
- ہم یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ قدرتی زرخیزی اور اعلیٰ پیمانے پر غذائی پیداوار، ابتدائی شہر کاری (Urbanisation) کے اسباب تھے؟
- مندرجہ ذیل میں سے ابتدائی شہر کاری کے لیے وہ کون سے ضروری حالات و اسباب تھے جن کی وجہ سے شہر کاری ہوئی؟ اور آپ کے خیال میں شہروں کے فروغ کے کیا نتائج ہیں:
(a) نہایت زرخیز کاشتکاری (b) بحری نقل و حمل (c) دھات اور پتھر کی کمی
(d) محنت کی تقسیم (e) مہروں کا استعمال
(f) بادشاہوں کی فوجی طاقت جس نے محنت کو لازمی بنادیا؟
3۔ حرکت پذیر گلہ بانی چرواہے لازمی طور پر شہری زندگی کے لیے خطرہ کیوں نہیں تھے؟
4۔ قدیم معبد بہت کچھ ایک گھر جیسے کیوں ہوں گے؟
مختصر مضمون لکھیے
5۔ ایک دفعہ شہری زندگی شروع ہونے کے بعد کون سے نئے ادارے وجود میں آئے۔ ان میں سے کون سے ادارے بادشاہ کی پہل پر منحصر ہوں گے؟
6۔ ہمیں میسوپوٹامیہ کی تہذیب کے بارے میں پرانی کہانیاں کیا بتاتی ہیں؟