سلطنتیں
(Empires)
میسوپوٹامیہ سلطنت کے قیام کے پورے دو ہزار سال تک اس علاقے میں اور اس کے مشرقی و مغربی خطے میں سلطنت کے قیام کی مختلف کوششیں ہوئیں۔
چھٹی صدی قبل مسیح میں ایرانیوں نے اسیرین (Assyrian) سلطنت کے ایک بڑے حصے پر قبضہ کر لیا۔
اس علاقے میں نیز بحیرۂ روم کے سواحلی علاقوں میں تجارت کا ایک نیٹ ورک قائم ہوگیا۔ مشرقی بحیرۂ روم کے یونانی شہروں اور نو آبادیوں نے ان تبدیلیوں کے نتیجے میں ہونے والی تجارتی اصلاحات سے بھرپور استفادہ کیا۔ انہوں نے بحر اسود کے شمال میں بسنے والے خانہ بدوشوں کے ساتھ قریبی تجارت سے بھی کافی استفادہ کیا۔ یونان کی بیشتر شہری ریاستیں جیسے ایتھینز (Athens) اور اسپارٹا (Sparta)شہری زندگی کا مرکز تھیں۔ چوتھی صدی قبل مسیح کے آخر میں یونانی ریاستوں میں سے سلطنت مقدونیہ (Macedon)کے حکمراں سکندر (Alexander) نے فوجی حملوں کا ایک سلسلہ شروع کیا اور شمالی افریقہ، مغربی ایشیا نیز ایران کے علاقوں کو فتح کر لیا۔ اور بیاس ندی تک پہنچ گیا۔ یہاں اس کے فوجیوں نے مشرق کی طرف مزید آگے بڑھنے سے انکار کردیا۔ سکندر کی فوجیں واپس ہوئیں اگرچہ بہت سے یونانی یہیں پر رک گئے۔
سکندر کے زیر نگیں علاقے میں یونانی اور مقامی باشندوں کے مابین فکری اور تہذیبی روایات کا لین دین شروع ہوا۔ پورے علاقے میں ’ہیلینی‘(Hellenised) (یونانیوں کو Hellenes ہیلینس کہاجاتا تھا) اثرات کا غلبہ ہوگیا۔ اور یونانی زبان پورے خطہ کی معروف زبان بن گئی۔ سکندر کی وفات کے فوراً بعد اس کی سلطنت کا سیاسی اتحاد تو منتشر ہوگیا لیکن ہیلینی تہذیب اس علاقے میں بعد کی تین صدیوں تک کافی اہمیت کی حامل رہی۔ یہ عہد اس علاقہ کی تاریخ میں اکثر ہیلینی عہد سے موسوم کیا جاتا ہے۔ لیکن یہ طریقہ ہیلینی تصورات و خیالات کی مانند، اہمیت کی حامل دیگر تہذیبوں (خاص طور سے قدیم ایرانی سلطنت سے وابستہ ایرانی ثقافت) کو نظر انداز کردیتا ہے۔
اس کے بعد جو کچھ بھی پیش آیا اس فصل میں اسی کے اہم پہلوؤں پر بحث کی جائے گی۔
سکندر کی سلطنت کے منتشر ہوجانے کے بعد روم میں مرکزی اٹلی کے صوبائی شہروں کی چھوٹی مگر منظم فوجی قوتوں نے سیاسی اختلافات سے بھرپور فائدہ اٹھایا اور دوسری صدی قبل مسیح میں شمالی افریقہ اور مغربی روم پر قبضہ جما لیا۔ اس وقت روم ایک جمہوریہ تھا۔ حکومت کا دارومدار انتخابات کے ایک پیچیدہ نظام پر تھا۔ لیکن اس کے سیاسی اداروں میں پیدائش، دولت اور غلامی سے مستفید سماج کو قدرے اہمیت حاصل تھی۔ رومی قوتوں نے ان سلطنتوں کے درمیان جو کسی وقت میں سکندر کی سلطنت کا حصہ تھیں۔ تجارت کا جال بچھا دیا۔ پہلی صدی قبل مسیح کے وسط میں ایک پیدائشی شریف النسل فوجی کمانڈر جولیس سیزر (Julius Caesar) کی قیادت میں رومی سلطنت موجودہ انگلینڈ اور جرمنی تک پھیل گئی تھی۔
لاطینی زبان (روم میں بولی جاتی ہے) سلطنت کی خاص زبان تھی۔ اگرچہ مشرق میں بہت سے لوگ یونانی کو مسلسل استعمال کرتے رہے۔ رومیوں نے ہیلینی تہذیب کو کافی عزت دی۔ پہلی صدی قبل مسیح کے آخر میں سلطنت کے سیاسی ڈھانچے میں بہت سی تبدیلیاں آئیں۔ شہنشاہ قسطنطین کے چوتھی صدی عیسوی میں عیسائیت قبول کرنے کے بعد سلطنت پوری طرح سے عیسائی سلطنت میں تبدیل ہوگئی۔
حکومت کو آسان تر بنانے کے لیے رومی سلطنت کو چوتھی صدی عیسوی میں مشرقی و مغربی دو برابر حصوں میں تقسیم کردیا گیا۔ لیکن مغرب میں سرحدی علاقوں میں قبائل اور روم کے درمیان موجودانتظامات کو زوال لاحق ہوگیا (گوتھ Goths، ویزی گوتھ Visigoths، ونڈال Vandalsاور دیگر)۔ ان انتظامات کا تعلق تجارت، فوجی بھرتی اور سکونت سے تھا۔ نیز قبائلی اکثر و بیشتر رومی انتظامیہ پر حملے کرتے رہتے تھے۔ اختلافات کافی بڑھ گئے اور سلطنت کے داخلی اختلافات سے جاملے جس کے نتیجے میں پانچویں صدی عیسوی تک مغرب میں سلطنت روبہ زوال ہوگئی۔ قبائلیوں نے سابقہ سلطنت کی جگہ پر خود اپنی مملکتیں قائم کرلیں۔ اگرچہ نویں صدی میں مسیحی چرچ کے ابھارنے پر ان بعض مملکتوں کے اشتراک سے ایک مقدس رومی سلطنت کو قائم کر لیا گیا تھا۔ اس سے رومی سلطنت کے تسلسل کا پتہ چلتا ہے۔
یونان کے شہر کورنتھ (Corinth) کے کھنڈرات
ساتویں اور پندرہویں صدی کے درمیان مشرقی رومی سلطنت (جس کا مرکز قسطنطنیہ Constantinopleتھا) کی تقریباً پوری آراضی عربی سلطنت کے قبضہ میں آگئی۔ جس کی بنیاد پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم (جنہوں نے ساتویں صدی میں اسلام کی بنیاد ڈالی) کے متبعین نے ڈالی تھی اور دمشق کو اس کا مرکز بنایا۔ یا پھر ان کے جانشینوں نے (جو ابتدائً بغداد سے فرمانروائی کرتے تھے) اس پر قبضہ کرلیا۔ اس خطہ میں یونانی اور اسلامی روایات کے مابین قریبی باہمی عمل شروع ہوا۔ علاقہ کے تجارتی نیٹ ورک اور خوشحالی نے شبانی لوگوں بشمول مختلف ترکی قبائل کی توجہ کو شمال میں مرکوز کردیا، جو اس علاقے کے شہروں پر اکثر حملے کرتے تھے اور پھر یہاں پر اپنا اقتدار قائم کرلیا تھا۔ ان آخری حملہ آوروں میں منگول تھے جنہوں نے اس علاقے پر اپنا قبضہ کرنے کی کوشش چنگیز خاں اور اس کے جانشینوں کی قیادت میں کی تھی۔ جنہوں نے تیرہویں صدی میں وسط ایشیا، یوروپ اور چین کی طرف حرکت کی تھی۔
سلطنتوں کے قیام کی ان تمام کوششوں کا مقصد پورے علاقے میں موجود تجارتی نیٹ ورک کے وسائل پر قبضہ کرنا اور پورے خطہ اور دیگر علاقوں کے درمیان موجود رابطے مثلاً ہندوستان اور چین کے مابین روابط سے استفادہ کرنا تھا۔ تمام سلطنتوں نے انتظامی نظام کو ترقی دی تاکہ تجارت کو استحکام عطا کرسکیں۔ انہوں نے مختلف قسم کی فوجی تنظیموں کو بھی ترقی دی۔ کسی بھی سلطنت کے کارنامے اکثر اپنے جانشینوں کو ملتفت کرتے تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ فارسی، یونانی، لاطینی اور عربی نیز دیگر بولی اور لکھی جانے والی زبانیں پورے علاقے کی علامت بن گئیں۔
سلطنتیں کافی مستحکم نہیں تھیں۔ اس کا جزوی سبب مختلف علاقوں میں اسباب و وسائل سے متعلق جھگڑے اور اختلافات تھے۔ اس کا ایک سبب سلطنتوں اور شمالی علاقے کے شبانی لوگوں کے مابین تعلقات میں پیدا ہونے والے بحران سے تھا۔ ان شبانی لوگوں سے ان سلطنتوں کو تجارت میں تو تعاون ملتا ہی تھا ساتھ ہی ان کی فوجوں اور مصنوعات کو بنانے کے لئے مزدور بھی ملتے تھے۔ یہ نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ یہ تمام سلطنتیں شہری مرکزیت نہیں تھیں۔ شبانی لوگوں کے ذریعہ کسی سلطنت کا طویل اور کامیاب بندوبست کیسے کیا جاسکتا ہے چنگیز خاں اور اس کے جانشینوں کی منگول سلطنت اس بات کی ایک عمدہ مثال ہے۔
دمشق کی عظیم مسجدجس کی تعمیر کا کام 714 ء میں مکمل ہوا۔
مذاہب جو کہ مختلف نسل اور مختلف زبان بولنے والے لوگوں کو ملتفت کرتے تھے، بڑی سلطنتوں کے قیام کے لیے کافی اہمیت رکھتے تھے۔ یہ بات عیسائیت (جو کہ پہلی صدی عیسوی کے آغاز میں فلسطین میں وجود میں آئی) اور اسلام (جو کہ ساتویں صدی میں پیدا ہوا) کے تعلق سے بالکل صحیح ہے۔
ٹائم لائن II
(100 قبل مسیح سے 1300 عیسوی تک)
یہ ٹائم لائن بادشاہوں اور سلطنتوں پر مرکوز ہے۔ ان میں کچھ جیسے رومن سلطنت کا فی وسیع تھی جو تین براعظموں پر محیط تھی۔ یہی وہ زمانہ ہے جب کچھ بڑے مذاہب اور ثقافتی روایات پروان چڑھیں۔ اسی عہد میں ذی فہم ادارے ابھر کر سامنے آئے، کتابیں لکھی گئیں اور خیالات و تصورات براعظموں میں پھیل گئے۔ بہت سی چیزیں جو اب ہماری روز مرہ کی زندگی کا حصہ ہیں، ان کا سب سے پہلے استعمال اسی زمانے میں ہوا تھا۔
| تاریخیں |
افریقہ |
یوروپ |
| 100-50 ق م |
جنوب مشرقی ایشیاسے کیلے مشرقی افریقہ میںبحری راستوں کے ذریعہ متعارف ہوئے |
اسپارٹاکس (Spartacus) نے 100,000غلاموں کی بغاوت کی قیادت کی۔(73ق م) |
| 50-1 |
قلوپطرہ مصر کی رانی بنی (51-30 ق م) |
روم میں کولوسییم (Colosseum) عمارت کی تعمیر |
1-50عیسوی
|
|
|
| 50-100 |
|
|
100-150
|
اسکندریہ کے ہیرو نے ایک مشین بنائی جو بھاپ سے چلتی تھی |
رومن سلطنت اپنے عروج پر* |
| 150-200 |
اسکندریہ کے بطلیموس (Ptolemy) نے جغرافیہ پر ایک کتاب لکھی۔ |
|
200-250
|
|
|
| 250-300 |
|
|
300-350
|
ایکسم (Axum, 330)* میں عیسائیت سے شناسائی |
قسطنطین شہنشاہ بنا، قسطنطنیہ شہر کی بنیاد رکھی گئی۔ |
| 350-400 |
|
رومن سلطنت دو برابر حصوں، مشرقی اور مغربی میں تقسیم ہوئی۔ |
400-450
|
یوروپ کے ونڈالوں نے شمالی افریقہ میں ایک سلطنت قائم کی (429) |
رومن سلطنت کے قبائلیوں کے ذریعہ شمالی اور وسطی یوروپ پر حملہ |
| 450-500 |
|
گل (فرانس) کے کلووس (Clovis) کا عیسائیت قبول کرنا۔ |
500-550
|
 |
سینٹ بینڈکٹ (St. Benedict) نے اٹلی میں ایک خانقاہ قائم کی۔ (526)۔ سینٹ اگسٹائن (St. Augustine)نے انگلینڈ میں عیسائیت کو متعارف کرایا۔ (596) گریگوری عظیم (Gregory the Great 590)نے رومن کیتھولک چرچ کے اقتدار کی بنیاد رکھی۔ |
| 550-600 |
|
|
600-650
|
بوعلی سینا (Abyssinia) کی طرف کچھ مسلمانوں کی ہجرت (615) |
|
| 650-700 |
عرب مسلمانوں نے نوبیا (Nubia) جنوبی مصر، کے معاہدہ پر دستخط کئے (652) |
بیڈے (Bede)نے برطانوی چرچ اور عوام کی تاریخ (The History of English Church and People)نامی کتاب لکھی |
700-750
|
|
|
| 750-800 |
|
|
800-850
|
گھانا (Ghana) میں سلطنت کا عروج |
چارلے میگنے (Charlemagne) فرینکس کا بادشاہ، مقدس رومن شہنشاہ بنا (800) |
| 850-900 |
|
کیوو (Kiev) اور نوگورڈ (Novgorod) میں پہلی روسی ریاست کا قیام |
900-950
|
|
ویکنگ (Viking) کی مغربی یوروپ کے اطراف میں یورش |
| 950-1000 |
|
|
1000-1050
|
|
سیلیرنو (Salerno)، اٹلی میں میڈیکل اسکول کا قیام |
| 1050-1100 |
الموروید (Almoravid) سلطنت (1056-1147)کا گھانا سے جنوبی اسپین تک وسیع ہونا |
نارمنڈی کے ولیم کا انگلینڈ پر حملہ اور بادشاہ بننا (1066)پہلی صلیبی جنگ کا اعلان (1095) |
1100-1150
|
زمبابوے(1120-1450) سونے اور تانبے کی مصنوعات کی پیداوار کے مرکز کے طور پر ابھرا اور دور دراز کی تجارت کا مرکز بنا |
|
| 1150-1200 |
ایتھوپیا میں عیسائی چرچوں کا قیام |
نوٹرے ڈیم (Notre Dame) کے کیتھیڈرل) (Cathedral کی تعمیر کا آغاز |
1200-1250
|
(1200)مغربی افریقہ میں مالی (Mali) کی سلطنت کے قیام کے ساتھ ہی ٹمبکٹو (Timbuktu) علم و ادب کا مرکز بنا۔ |
اسیسی (Assisi) کے سینٹ فرانسس نے خانقاہی نظام، زہد، سادگی اور دردمندی کے اصولوں پر زور دیتے ہوئے مرتب کیا (1209)۔ انگلینڈ کے امراء (Lords) نے بادشاہ کے خلاف بغاوت کی جس نے میگنا کارٹا (Magna Carta) یعنی منشور آزادی کے مطابق حکمرانی کو قبول کیا۔ |
1250-1300
|
|
ہیپسبرگ (Hapsburg) خاندان کی حکومت کا قیام جس نے آسٹریلیا میں 1918تک حکومت کی۔ |
| تاریخیں |
ایشیا
|
جنوبی ایشیا
|
| 100-50قبل مسیح |
چین میں ہین سلطنت، ایشیا سے یوروپ تک شاہراہ ریشم کا ارتقاء
|
ہندوستان کے شمالی مغرب میں یونان کے باختروں (Bactrian) اور شاکائوں (Shakas) نے اپنی سلطنتیں قائم کیں۔ دکن میں ستواہنوں کا عروج
|
| 50-1 |
|
جنوبی ایشیاء، جنوب مشرقی اور مشرقی ایشیا اور یوروپ کے درمیان تجارت کا فروغ۔
|
| 1-50عیسوی |
عیسیٰ مسیح جو ڈائیا میں جو رومن سلطنت کا ایک صوبہ تھا، رومیوں کا عرب پر حملہ
|
|
| 50-100 |
|
شمال مغرب اور وسطی ایشیا میں کشان حکومت کا قیام
|
| 100-150 |
چین میں کاغذ کی ایجاد (118) پہلے زلزلے پیما آلے (Seismo- graph) کا ارتقاء (132)
|

|
| 150-200 |
|
|
| 200-250 |
ہان (Han)سلطنت کا خاتمہ (221)، ایران میں ساسانی (Sasanid) حکومت (226)
|
|
| 250-300 |
چین کے شاہی دربار میں چائے پارٹی (262)۔ چین میں مقناطیسی پرکار (Magnetic Compass) کا استعمال (270)
|
|
| 300-350 |
چبن کے لوگوں نے گھوڑ سواری میں رکاب کا استعمال شروع کیا۔*
|
گپتا سلطنت کا قیام * (320)
|
| 350-400 |

|
فاہیان کا چین سے ہندوستان کی طرف سفر (399)
|
| 400-450 |
|
|
| 450-500 |
|
آریہ بھٹ ماہر فلکیات (Astronomer) اور ریاضی داں
|
| 500-550 |
|
- |
| 550-600 |
جاپان میں 594میں بدھ مذہب متعارف ہوا۔ چین میں اناج کو لانے لے جانے کے لئے گرانڈ نہر کی تعمیر پچاس لاکھ مزدوروں کی مدد سے 34سال سے زائد عرصہ میں ہوئی
|
بدامی اور ایہول (Aihole) میں چالوکیائوں نے مندروں کو تعمیر کرایا۔
|
| 600-650 |
چین میں ٹانگ (Tang)خاندان کی سلطنت (618)۔ پیغمبر حضرت محمدؐ کی مدینہ کی طرف ہجرت۔ ہجری سن کا آغاز (622)۔ ساسانی سلطنت کا خاتمہ (642) |
ہیون سانگ کا چین سے ہندوستان کی جانب سفر۔ نالندہ کا ظہور ایک اہم تعلیمی مرکز کے طور پر ہوا۔
|
| 650-700 |
اموی خلافت (661-750)
|
|
| 700-750 |
اموی خاندان کی ایک شاخ نے اسپین فتح کیا۔ چین میں تانگ سلطنت کا قیام
|
عربوں کی سندھ پر فتح (712)
|
| 750-800 |
عباسی خلافت کا قیام اور بغداد ایک اہم ثقافتی اور تجارتی مرکز بنا۔
|

|
| 800-850 |
کمبوڈیا میں خمر(Khmer) ریاست کی اساس (802)
|
|
| 850-900 |
چین میں پہلی مطبوعہ کتاب (868)
|
|
| 900-950 |
|
|
| 950-1000 |
چین میں کاغذ کی کرنسی کا استعمال
|
|
| 1000-1050 |
ابن سینا ایک فارسی طبیب جس نے طب پرایک مشہور کتاب لکھی جس کا اتباع کئی صدیوں تک کیا گیا۔
|
شمال مغرب میں محمود غزنوی کے حملے۔ البیرونی کا ہندوستان کا سفر، تھنجاور میں راجہ راجیشور مندر کی تعمیر
|
| 1050-1100 |
الپ ارسلان کے ذریعہ ترکی سلطنت کا قیام (1075)
|
|
| 1100-1150 |
چین میں آتش بازی کا ریکارڈ کیا گیا پہلا مظاہرہ
|
کلہن نے راج ترنگنی تحریر کی۔
|
| 1150-1200 |
کمبوڈیا میں انگ کور سلطنت اپنی بلندی پر (1180)انگ کور واٹ (Angkor Wat) کے مندروں کی تعمیر
|
|
| 1200-1250 |
چنگیز خاں نے اپنے اقتدار کو مستحکم کیا (1206) |
دہلی سلطنت کا قیام (1206)
|
| 1200-1250 |
قبلائی خان، چنگیز خانکا پوتا چین کا شہنشاہ بنا |
امیر خسرو نے شاعری اور موسیقی کی نئی اقسام کو متعارف کرایا/ کونارک میں سوریا مندر کی تعمیر |
تاریخیں
|
براعظم امریکہ (شمالی و جنوبی) |
آسٹریلیا/جزائر بحرالکاہل |
100-50قبل مسیح
|
|

|
50-1
|
|
|
| 1-50عیسوی |
|
|
| 50-100 |
|
|
| 100-150 |
|
|
| 150-200 |
|
|
| 200-250 |
|
|
| 250-300 |
|
|
| 300-350 |
|
میکسیکومیں ٹیوٹی ہوکن (Teotihuacan) شہری ریاست کا قیام ساتھ ہی اہرام نما معبدوں کی تعمیر۔ مایان (Mayan)، رسومات کی ادائیگی کا مرکز*، علم فلکیات کا ارتقاء، تصویری رسم الخط |
|
|
|
| 350-400 |
|
 |
| 400-450 |
|
|
| 450-500 |
|
|
| 500-550 |
|
|
| 550-600 |
|
|
| 600-650 |
|
|
| 650-700 |
|
|
| 700-750 |
|
|
| 750-800 |
|
|
| 800-850 |
|
|
| 850-900 |
|
|
| 900-950 |
|
|
| 950-1000 |
شمال امریکہ میں پہلے شہر کی تعمیر (C.990) |
پولی نیسیا (Polynesia) کا جہاز راں مائوری (Maori) نے نیوزی لینڈ کو دریافت کیا۔ |
| 1000-1050 |
|
میٹھے آلو (جس کی کاشت کی ابتداء جنوبی امریکہ میں ہوئی) کاشت کے لئے پولی نیسیا کے جزائر لائے گئے۔ |
| 1050-1100 |
|
|
| 1100-1150 |
|
|
| 1150-1200 |
|
|
| 1200-1250 |
|
|
سرگرمی
کم از کم پانچ ایسے واقعات/طریق عمل کی نشاندہی کیجیے۔ جو لوگوں کے ایک خطہ یا براعظم سے دوسرے خطہ یا براعظم میں حرکت کے لیے ذمہ دار تھے۔ ان واقعات/طریق عمل کی کیا اہمیت ہے؟
تین براعظموں پر محیط ایک سلطنت
(An Empire Across Three Continents)
رومن سلطنت کافی وسیع علاقے پر محیط تھی جو موجودہ یوروپ کے زیادہ تر علاقوں، قوسی بارآور (Fertile Crescent) اور شمالی افریقہ کے وسیع علاقوں پر مشتمل تھی۔ اس باب میں ہم دیکھیں گے کہ یہ سلطنت کس طرح منظم ہوئی۔ کن سیاسی قوتوں نے اس کی قسمت کی صورت گری کی اور عوام کن سماجی طبقات میں منقسم تھے۔ آپ دیکھیں گے یہ سلطنت بہت سی مقامی ثقافتوں اور زبانوں سے مالا مال تھی۔ یہاں خواتین کی قانونی حیثیت بہت مضبوط تھی۔ جیسا کہ آج بہت سے ممالک میں دیکھنے کو ملتی ہے۔ لیکن یہاں کی معیشت بہت کچھ غلاموں کی محنت سے چلتی تھی نیز بہت سے افراد آزادی سے محروم تھے۔ پانچویں صدی سے مغرب میں سلطنت زوال پذیر تھی۔ لیکن مشرق کے نصف حصے میں غیر معمولی طور پر خوشحال اور مستحکم بنی رہی۔ آپ اگلے باب میں جس خلافت کے متعلق پڑھیں گے وہ اسی خوشحالی پر تعمیر ہوئی تھی اور اس کی شہری نیز مذہبی روایات کو وراثت میں پایا تھا۔
رومی مورخین کے پاس ماخذ کا بڑا قیمتی ذخیرہ تھا جس کو ہم اجمالی طور پر تین زمروں (a) کتابی متن (b) دستاویزات (c) آثاری باقیات میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ ہم عصر مورخین کے ذریعہ تحریر ماخذی متون، اس عہد کی تواریخ (جس کو وفائع (Annals) کہا جاتا ہے کیونکہ یہ سال بہ سال کے واقعات کی بنیاد پر مرتب کیے جاتے تھے۔ خطوط، تقاریر، خطبات، قوانین وغیرہ پر مشتمل ہیں۔ دستاویزی ماخذات خاص طور پر کتبات اور پیپری (Papyri) پر محیط ہیں۔ کتبات عام طور پر پتھروں پر کندہ کیے گئے تھے، اس لیے وہ ضائع نہیں ہوئے اور بڑی تعداد میں یونانی نیز لاطینی زبانوں میں پائے گئے ہیں۔پیپیرس (Papyrus) ایک سرکنڈے جیسا پودا تھا جو مصر کے دریائے نیل کے کناروں پر پیدا ہوتا تھا اور اس سے ہی تحریری سامان تیار کیا جاتا، جس کا روز مرہ کی زندگی میں بڑے پیمانے پر استعمال کیا جاتا تھا۔ ہزاروں کی تعداد میں معاہدہ، کھاتے، خطوط اور سرکاری دستاویزات پیپیرس پر لکھے ہوئے ملے ہیں۔ جن کو ’ماہر بردیات‘ (Papyrologists) نامی علماء نے شائع کیا ہے۔ آثاری باقیات میں مختلف قسم کا سامان شامل ہے جو ماہرین آثار قدیمہ کو (کھدائی اور زمینی سروے) مثال کے طور پر عمارتیں، یادگاریں، مختلف طرح کی تعمیرات، مٹی کے برتن، سکے،پچی کاری کا سامان، یہاں تک کہ بَرّی مناظر (Landscapes) (مثلاً ہوائی فوٹوگرافی کے ذریعہ) کی شکل میں دریافت ہوئے ہیں۔ یہ سارے ماخذ ہمیں ماضی کے متعلق بہت کچھ جانکاری مہیار کراتے ہیں جنہیں باہم ترکیب دے کر ہم بامعنی نتائج نکال سکتے ہیں۔ لیکن اس طرح نکالے گئے نتائج کتنے صحیح اور بامعنی ہیں اس کا انحصار مورخ کی مہارت پر ہے۔

عیسیٰ مسیح کی پیدائش سے لے کر ابتدائی ساتویں صدی میں 630 کی دہائی تک یوروپ کے زیادہ تر علاقوں شمالی افریقہ اور مشرق وسطیٰ پر دو طاقتور سلطنتوں نے حکمرانی کی۔ یہ دو طاقتور سلطنتیں روم اور ایران کی تھیں۔ رومی اور ایرانی آپس میں حریف تھے اور اپنی تاریخ کے زیادہ تر حصے میں یہ دونوں ایک دوسرے سے برسرپیکار رہے۔ دونوں سلطنتیں ایک دوسرے کے بہت نزدیک تھیں اور زمین کی ایک تنگ پٹی جس کے کنارے فرات ندی بہتی تھی، ان دونوں کو ایک دوسرے سے الگ کرتی تھی۔ اس باب میں ہم روم سلطنت کے متعلق پڑھیں گے۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ رومی سلطنت کی حریف ایران کی سلطنت کا ذکر برسبیل تذکرہ کرتے رہیں گے۔
اگر آپ اوپر دیے گئے نقشہ پر نظر ڈالیں تو آپ دیکھیں گے کہ یوروپ اور افریقہ کے براعظموں کو سمندر ایک دوسرے سے الگ کرتا ہے۔ یہ مغرب میں اسپین سے لے کر مشرق میں شام تک پھیلا ہوا ہے۔ اس سمندر کا نام بحرِروم ہے اور یہ رومی سلطنت کا قلب تھا۔ بحیرۂ روم اور شمال نیز جنوب کے دونوں طرف کے علاقوں پر روم کا غلبہ تھا۔ شمال میں سلطنت کی سرحدوں کو دو بڑے دریا رائن (Rhine) اور ڈینیوب (Danube)، متعین کرتے تھے اور جنوبی سرحد دور تک پھیلے سہارا (Sahara) ریگستان سے متعین ہوتی تھی۔ یہ دور تک پھیلا وسیع علاقہ رومی سلطنت کا حصہ تھا۔ کیسپین سمندر (Caspian Sea) کے جنوبی علاقے سے مغربی عرب تک اور بعض اوقات افغانستان کے ایک بڑے حصے پر ایران کا قبضہ تھا۔ ان دو عظیم طاقتوں نے دنیا کے اکثر حصوں کو آپس میں تقسیم کر لیا تھا، جسے چینی لوگ ’تاچن‘ Ta Ch'in (عظیم چین یا اندازاً مغرب) کہتے تھے۔
نقشہ 1 : یوروپ اور شمالی افریقہ
ابتدائی سلطنت
رومی سلطنت کو اجمالی طور پر دو منزلوں ابتدائی (قدیم) اور آخر (جدید) میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ ان دو منزلوں کے درمیان تیسری صدی کازمانہ ہے جو اسے دو تاریخی ادوار میں تقسیم کرتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں تیسری صدی کے خاص حصہ تک کے پورے زمانہ کو ’ابتدائی سلطنت‘ اور اس کے بعد کے عہد کو ’آخر سلطنت‘ کہا جاسکتا ہے۔
دونوں عظیم طاقتوں اور ان کی سلطنتوں کے درمیان ایک عظیم فرق یہ تھا کہ رومی سلطنت ایران کی بہ نسبت ثقافتی میدان میں کافی متنوع تھی۔ اس عہد میں پارتھیانی (Parthians) اور پھر ساسانی شاہی خاندان نے ایران پر حکومت کی۔ ان کی حکومت ایسی رعایا پر تھی جس کے اکثر افراد ایرانی تھے۔ اس کے برعکس رومی سلطنت مختلف علاقوں اور تہذیبوں کا مجموعہ تھی۔ یہ سب لوگ ایک دوسرے سے حکومت کے ایک مشترکہ نظام کی وجہ سے جڑے ہوئے تھے۔ سلطنت میں بہت ساری زبانیں بولی جاتی تھیں۔ لیکن انتظامی امور کے لیے لاطینی اوریونانی زبان کا استعمال ہوتا تھا۔ درحقیقت صرف یہی دو زبانیں تھیں۔ مشرق کے اعلیٰ طبقات یونانی لکھتے اور بولتے تھے اور مغرب کے لوگ لاطینی زبان کا استعمال کرتے تھے۔ ان زبانوں کے وسیع علاقوں کی سرحد روم کے بیچ، ٹریپولی ٹانیا (Tripolitania) کے افریقی صوبوں (جہاں لاطینی بولی جاتی تھی) اور سیرنیکا (Cyrenaica) (جہاں یونانی بولی جاتی تھی) کے درمیان سے ہو کر گذرتی تھی۔ سلطنت میں رہنے والے تمام لوگ ایک ہی بادشاہ کی رعایا تھے۔ اس بات سے قطع نظر کہ وہ کہاں رہتے تھے اور کون سی زبان بولتے تھے۔
پہلے شہنشاہ آگسٹس (Augustus) نے 27 ق م میں جو سلطنت قائم کی تھی اسے ’شہنشاہی‘ (Principate) کہا جاتا تھا۔ اگرچہ آگسٹس کے تنہا اور اقتدار کا واحد مرکز ہونے کے باوجود یہ کہانی زندہ رکھی گئی کہ وہ صرف ایک اہم شہری (لاطینی میں پرنسیپس Princeps) ہے نہ کہ مطلق العنان حکمراں۔ ایسا مجلس عمائد (Senate) کے احترام میں کیا گیا تھا۔ مجلس عمائد وہ جماعت تھی جس نے ان دنوں جب روم جمہوریہ (Republic)* تھا اقتدار پر اپنا کنٹرول رکھا۔ روم میں مجلس عمائد کا وجودکئی صدیوں تک رہا۔ یہ ایک ایسی جماعت تھی جس میں امراء اور روم کے دولت مند طبقہ کی نمائندگی تھی۔ بعد میں اس میں اطالوی زمینداروں کو بھی شامل کر لیا گیا تھا۔ رومی اور لاطینی زبان میں موجود روم کی تاریخ کا بیشتر حصّہ ان لوگوں نے لکھا ہے جن کا تعلق مجلس عمائد سے تھا۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بادشاہوں کے متعلق فیصلہ اس بنیاد پر کیا جاتا تھا کہ مجلس عمائد کے تئیں اس کا برتاؤ کیسا ہے۔ سب سے بڑا شہنشاہ وہ مانا جاتاتھا جو عمائدین کی جماعت (Senatorial Class) کے تئیں بدگمانی یا بے رحمی اور تشدد کا معاندانہ رویہ رکھتا ہو۔ بہت سے عمائد ین (Senators) جمہوریت کے ایام کی طرف واپس ہونے کے آرزو مند تھے۔ لیکن اکثر لوگوں نے محسوس کر لیا تھا کہ ایسا کرنا نا ممکن ہے۔
* جمہوریہ (Republic) ایک ایسی حکومت کا نام تھا جس میں حقیقی اقتدار مجلس عمائد کے ہاتھ میں تھا۔ مجلس عمائد برسراقتدار دولت مند خاندان کا ایسا گروہ تھا جو ’طبقہ امرا‘ کو تشکیل دیتا تھا۔ عملاً یہ طبقہ امراء کی نمائندگی کرتی تھی اور یہ حکومت مجلس عمائد (Senate) نامی تنظیم کے ذریعے چلائی جاتی تھی جمہوریہ 509ق م سے 27 عیسوی تک چلی۔ جب تک جولیس سیزر کے گود لیے بیٹے جانشین اوکٹاوین (Octavian) نے اس کا تختہ پلٹ کر اقتدار اپنے ہاتھ میں نہ لے لیا (جو بعد میں آگسٹس (Augustus) کے نام سے مشہور ہوا)۔ مجلس عمائد کی رکنیت زندگی بھر رہتی تھی اور اس کے لیے پیدائش کے مقابلے دولت اور عہدہ مراتب کو زیادہ اہمیت دی جاتی تھی۔
بادشاہ اور مجلس عمائدین(Senate) کے علاوہ شاہی حکومت کا دوسرا اہم ادارہ فوج تھی۔ اپنی حریف ایرانی سلطنت کے برخلاف جس میں فوج بالجبر** بھرتی کی جاتی تھی، روم کی فوج پیشہ ور تھی، اسے تنخواہ دی جاتی تھی اور ان کے کام کی مدت کم سے کم 25 سال ہوتی تھی۔ فی الحقیقت تنخواہ پر بھرتی کی گئی فوج کا وجود رومی سلطنت کی امتیازی خصوصیت تھی۔ رومی سلطنت میں فوج اکیلی سب سے بڑی منظم ادارہ تھی (جس میں 600,000 فوجی چوتھی صدی تک تھے)۔ اور یقینی طور پر بادشاہوں کی قسمت کا فیصلہ کرنے کی طاقت اسے حاصل تھی۔ فوجی اچھی اجرت اور ملازمت کے لیے مسلسل مظاہرے کرتے تھے۔ اور جب کبھی انہیں یہ احساس ہو جاتا کہ بادشاہ یا ان کے جنرل مصیبت میں ان کا ساتھ نہیں دے رہے ہیں تو یہ مظاہرے بسا اوقات بغاوت کی شکل اختیار کر لیتے تھے۔ رومی فوج کی جو تصویر ہمارے سامنے پیش کی گئی ہے وہ ان مورخین نے تیار کی ہے جو عمائدین کے تئیں ہمدردی رکھتے تھے۔ مجلس عمائدین فوج سے ڈرتی اور نفرت کرتی تھی۔ کیونکہ یہ ایک ایسے تشدد کا پیش خیمہ تھی جس کی پیش گوئی نہیں کی جاسکتی تھی۔ خاص طور پر تیسری صدی کے حالات میں حکومت کو اپنے بڑھتے ہوئے فوجی اخراجات کو پورا کرنے کے لیے بھاری ٹیکس لگانے پڑتے تھے۔
** بالجبر بھرتی کی ہوئی (Conscript) فوج اس کو کہتے ہیں جس میں آبادی کے کچھ طبقات کو لازماً فوجی خدمات انجام دینا ہوتا ہے۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ بادشاہ، امراء اور فوج سلطنت کی سیاسی تاریخ میں تین اہم کھلاڑی تھے۔ الگ الگ بادشاہوں کی کامیابی کا دارومدار فوج پر ان کے کنٹرول سے تعلق رکھتا تھا۔ اور جب فوجیں تقسیم ہو جاتیں تو اس کا نتیجہ عام طور پر خانہ جنگی* تھی۔ایک بدنام زمانہ سال (69 عیسوی) کو چھوڑ کر جب یکے بعد دیگرے چار شہنشاہ تخت پر بیٹھے تھے۔ پہلی دو صدیاں خانہ جنگی سے مستثنیٰ تھیں۔
ان معنی میں یہ دور نسبتاً مستحکم تھا۔ تخت و تاج کی جانشینی جہاں تک ممکن ہوتی نسل و خاندان کی بنیاد پر ہوتی تھی۔ اس سے قطع نظر کہ وہ جانشین فطری ہے یا گودلیا ہوا۔ حتیٰ کہ فوج میں بھی اس اصول پر سختی سے عمل ہوتا تھا۔ مثال کے طور پر ٹیبیریس (Tiberius 14-37) رومن بادشاہوں کی طویل فہرست میں دوسرے نمبر پر آتا ہے۔ آگسٹس (Augustus) جس نے پرنسیپیٹ (Principate) کی بنیاد رکھی تھی اس کا حقیقی فرزند نہیں تھا بلکہ اقتدار کی منتقلی کو یقینی بنانے کی خاطر اس کو گود لیا تھا۔
جولیم (Julium)، میں دکانیں جہاں بازار لگتا تھا۔ یہ منڈی 51 ق م میں ستونوں پر تعمیر کی گئی تھی۔ یہ قدیم رومی بازاروں کی توسیع تھی۔
پہلی دو صدیوں میں خارجی جنگ بھی بہت کم ہوئیں۔ آگسٹس سے ٹیبیریس کو جو سلطنت ورثہ میں ملی تھی وہ پہلے ہی اتنی وسیع تھی کہ مزید توسیع کو غیر ضروری تصور کیا گیا۔ درحقیقت آگسٹس کا عہد امن و سلامتی کے لیے یاد کیا جاتا ہے جو کہ فوجی فتوحات اور داخلی فساد کے بعد کئی دہائیوں کے بعد وجود میں آیا تھا۔ ابتدائی سلطنت میں توسیع کی واحد عظیم کوشش ٹراجن (Trajan) کے عہد میں 17-113 عیسوی کے دوران فرات کے پار کے علاقے پر بے سود قبضہ تھا۔ لیکن اس کے جانشینوں کی بدشعاری سے یہ قبضہ جاتا رہا۔
بادشاہ ٹراجن کا خواب— ہندوستان کی فتح؟
پھر ایک عظیم زلزلے سے متاثر انطاکیہ (Antioch) میں موسم سرما کے بعد، ٹراجن 16-115 میں فرات سے پارتھین (Parthian) کی راجدھانی کٹیسفون (Ctesiphon) کی طرف نیچے گیا اور پھر وہاں سے خلیج فارس کے سرے تک پہنچا۔ مورخ کاسیس ڈیو (Cassius Dio) نے بیان کیا ہے کہ وہاں وہ ہندوستان جانے والی ایک کشتی کو اشتیاق بھری نظروں سے دیکھ رہا تھا اور چاہ رہا تھا کاش! وہ سکندر کی طرح نوجوان ہوتا۔
– ماخذ : فرگوس ملر (Fergus Millar) دی رومن نیئر ایسٹ
اس عہد کی ایک اہم خصوصیت یہ تھی کہ رومی سلطنت کی بالواسطہ حکمرانی بتدریج وسعت پذیر رہی تھی۔ یہ کام باکمال طریقے سے ان تمام ماتحت مملکتوں کے سلسلے کو روم کے علاقائی ریاستی علاقوں میں شامل کرکے کر لیا گیا تھا۔ مشرق قریب ایسی مملکتوں* سے بھرا پڑا تھا۔ لیکن دوسری صدی کے ابتدائی سالوں میں وہ مملکتیں جو فرات کے مغرب میں واقع تھیں (رومی ریاستی علاقے کی طرف)، روم میں شامل کرلی گئیں تھیں (اتفاقاً اس میں بعض بے حد مالدار تھیں۔ مثال کے طور پر ہیروڈ (Herod) کی مملکت سے سالانہ آمدنی 5.4 ملین دیناری جو 125,000 کلو سونے کے مساوی تھی۔ دیناریس (Denarius) رومی چاندی کا سکہ تھا جو لگ بھگ 4.5 گرام خالص چاندی کا تھا۔
مشرق قریب: رومی سلطنت میں بحیرۂ روم کے رہنے والے لوگوں کے نقطہ نظر سے مشرق قریب کے علاقہ کا مطلب تھا بحیرۂ روم کا پورا مشرقی علاقہ خاص طور پر شام، فلسطین اور میسوپوٹامیہ کے علاقہ جورومی سلطنت کا حصہ تھے اور مبہم انداز میں آس پاس کے علاقے مثلاً عرب۔
فی الحقیقت اٹلی کو چھوڑ کو جو ان صدیوں میں صوبہ شمار نہیں کیا جاتا تھا، سلطنت کے تمام علاقے صوبوں میں منظم تھے اور ٹیکس ادا کرتے تھے۔ دوسری صدی میں اپنے عروج کے زمانے میں رومی سلطنت اسکاٹ لینڈ سے آرمینیا کی سرحدوں تک اور سہارا ریگستان سے فرات تک بلکہ بعض اوقات اس سے آگے تک پھیلی ہوئی تھی۔ یہ حقیقت ہے کہ جدید تصور میں وہاں کوئی ایسی حکومت نہیں تھی جو حکومت کے امور کو انجام دینے میں مدد کرتی۔ پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسے وسیع اور مختلف علاقوں کے مجموعہ کو جس کی آبادی دوسری صدی کے وسط میں تقریباً ساٹھ ملین تھی، بادشاہوں کے لیے اس کو کنٹرول کرنا کیسے ممکن ہوا؟ اس سوال کا جواب ہمیں سلطنت کی شہر کاری میں ملتا ہے۔
عظیم شہری مراکز جو بحیرۂ روم کے ساحلوں کے کنارے (کارتھیج، اسکندریہ اور انطاکیہ ان میں سب سے بڑے تھے) آباد تھے۔ یہ شاہی نظام کی بنیادی اساس تھے۔ صوبہ کے دیہی علاقے جو سلطنت کو کافی مقدار میں دولت فراہم کراتے تھے حکومت ان سے ٹیکس ان ہی شہروں کے ذریعے وصول کر پاتی تھی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ مقامی اعلیٰ طبقات رومی سلطنت کے انتظامی معاملات میں اور اپنے علاقوں میں اور یہاں ٹیکس وصول کرنے میں حکومت کو تعاون دیتے تھے۔ اٹلی اور دیگر صوبوں کے مابین اقتدار کی ڈرامائی منتقلی حقیقتاً روم کی سیاسی تاریخ کا ایک دلچسپ پہلو تھا۔ دوسری اور تیسری صدی کی پوری مدت میں صوبوں کے ان ہی اعلیٰ طبقات ہی سے صوبوں کے منتظم اور افواج کے افسران ہوا کرتے تھے۔ اس طرح انہوں نے منتظمین اور فوجی افسران کا ایک جدید اعلیٰ طبقہ بنا لیا تھا جو عمائدین کی جماعت کے مقابلے میں کہیں زیادہ طاقت ور تھا کیونکہ انہیں بادشاہوں کا تعاون حاصل تھا۔ جیسے ہی یہ نیا طبقہ ابھر کر سامنے آیا شہنشاہ جالینوس (Gallienus 253-268) نے عمائدین کو فوجی قیادت سے خارج کرکے ان کی حالت کو مزید مستحکم کر دیا۔ کہا جاتا ہے کہ جالینوس نے اس خوف سے کہ کہیں تمام حکومت ان کے ہاتھ سے نہ چلی جائے۔ اس سے باز رکھنے کے لیے اس نے عمائدین کو فوجی خدمت یا اس تک رسائی پر پابندی لگادی تھی۔
* یہ مقامی مملکتیں جو رومی سلطنت کی اسامی (تابع) تھیں، ان کے حکمرانوں پر بھروسہ کیا جاسکتا تھا کہ یہ اپنی افواج کا استعمال رومی سلطنت کی معاونت میں کریں گے۔ بدلے میں روم نے ان کے الگ وجود کو تسلیم کرلیا۔
پونٹ ڈوگارڈ : فرانس میں نیمس کے قریب رومن انجنیئروں کے ذریعہ پانی لے جانے کے لیے پہلی صدی ق م تعمیر کیا گیا، تین بر اعظموں میں سب سے بھاری محرابی پُل ہے ۔
مختصراً ! یہی وجہ کہ پہلی اور دوسری صدی کے آخر میں اور تیسری صدی کی ابتداء میں فوج اور انتظامیہ کو کافی حد تک صوبائی علاقوں سے لیا گیا تھا۔ کیونکہ ان علاقوں میں شہرت پھیل چکی تھی جو اٹلی میں زیادہ دیر تک محدود نہیں رہ سکتی تھی۔ لیکن مجلس عمائدین پر اٹلی نثراد لوگوں کا غلبہ بنا رہا۔ کیونکہ تیسری صدی تک ان علاقوں کے عمائدین کی اکثریت بنی رہی۔ یہ میلانات سلطنت میں اٹلی کے عام انحطاط کی سیاسی اور اقتصادی دونوں اعتبار سے عکاسی کرتے ہیں۔ نیز بحیرۂ روم کے بے حد متمدن شہری اور دولت مند حصوں مثلاً جنوبی اسپین، افریقہ اور مشرقی علاقے، جدید اعلیٰ طبقہ کے عروج کی تصویر پیش کرتے ہیں۔ رومی تصور میں شہر ایک ایسا شہری مرکز ہوتا تھا جس میں اس کا اپنا حاکم فوجداری (Magistrate)، شہری کونسل (City Council) اور ایک عملداری (Territory) ہوتی تھی، جس میں کئی گاؤں شامل ہوتے تھے جو اس کے دائرہ اختیار میں آتے تھے۔ یوں ایک شہر دوسرے شہر کے دائرہ میں نہیں آسکتا تھا۔ لیکن دیہات اکثر و بیشتر شہروں کے ماتحت آتے تھے۔ شہروں کو دیہاتوں میں اور دیہاتوں کو شہروں میں تبدیل کیا جانا ممکن تھا جو کہ عام طور پر شاہی کرم فرمائی یا (اس کے غضب کا) نتیجہ ہوتا تھا۔ شہروں میں بسنے کا ایک اہم فائدہ یہ تھا کہ جب اشیاء خوردنی کا بحران ہوتا یا قحط کا زمانہ ہوتا تو ضروریات کی فراہمی شہروں میں دیہات کے مقابلے میں زیادہ اچھی ہوتی تھی۔
سرگرمی 1
رومی سلطنت کی سیاسی تاریخ میں کون سے تین اہم کھلاڑی تھے؟ ہر ایک کے بارے میں ایک یا دو لائن تحریر کیجیے۔ رومی شہنشاہ اتنے بڑے وسیع علاقے پر کس طرح حکمرانی کا انصرام کرتے تھے؟ اس کے لیے کن کا تعاون اہمیت کا حامل تھا؟
ڈاکٹر گیلین (Doctor Galen) کے مطابق رومی شہر دیہی علاقوں کے ساتھ کیسا برتاؤ کرتے تھے۔
وہ لوگ جو تھوڑی سی بھی عقل رکھتے ہیں، ان کے لیے بہت سے علاقوں میں کئی سال تک مسلسل قحط سالی نے یہ واضح کر دیا تھا کہ بیماریوں کو جنم دینے میں کم غذائیت (Malnutrition) کا کتنا ہاتھ ہوتا ہے۔ شہری باشندے جیسا کہ ان کے یہاں رواج تھا کہ فصل کاٹنے کے فوراً بعد وہ اناج کی ایک مقدار جو آئندہ سال تک کے لیے کافی ہو سکے جمع کرکے رکھ لیتے تھے۔ ان سے ان کے سارے گیہوں، جو، سیم کی پھلیاں اور مسور (Lentils) کو لے لیا جاتا اور ان کی ایک بڑی مقدار شہر کے لیے وصول کرنے کے بعد کسانوں کے لیے صرف مختلف قسم کی دالیں چھوڑ دی جاتیں۔ موسم سرما کے لیے جو کچھ بچا رہتا اس کو استعمال کرنے کے بعد دیہاتی لوگوں کو گرمی کے موسم میں غیر صحت بخش غذا لینی پڑتی تھی۔ انہیں ٹہنیاں، درختوں کی کونپلیں، خودرو جھاڑیاں، پیاز کی گھٹیاں اور ناخوردنی پودوں کو مجبوراً کھانا پڑتا تھا۔
گیلین: آن گڈاینڈبیڈ ڈائٹ
عوامی حمام روم کی شہری زندگی کی غیر معمولی خصوصیات میں سے ایک تھے۔ (اور جب ایک ایرانی حکمراں نے ایران میں ایسے حماموں کو متعارف کرانے کی کوشش کی تو اسے وہاں کے مذہبی پیشوا کے غضب کا سامنا کرنا پڑا۔ پانی چونکہ پاک چیز تھی اور عوامی حمام میں پانی کے استعمال میں انہیں پانی کی ناپاکی یا بے حرمتی نظر آتی تھی۔) شہری باشندے اعلیٰ قسم کی تفریحات سے بھی لطف اندوز ہوتے تھے۔ مثال کے طور پر ایک کیلینڈر سے ہمیں یہ پتہ چلتا ہے کہ اسپیکٹکلا (Spectacuba) (Shows تماشے) سے کم سے کم سال کے 176 دن بھرا رہتا تھا۔
پہلی صدی عیسوی میں روم کے شکری شہرونڈونیسا (Vindonissa) (موجودہ سوئٹزرلینڈ میں) کا ایمفی تھیٹر (Amphitheatre) جو فوجی ترتیب اور فوجیوں کی تفریح کے لیے ڈرامہ اسٹیج تھی۔
تیسری صدی کا بحران
اگر پہلی اور دوسری صدی مجموعی طور پر امن، خوشحالی اور اقتصادی توسیع کازمانہ تھیں تو تیسری صدی میں داخلی تناؤ کی ابتدائی بڑی علامتیں رونما ہوئیں۔ 230 کی دہائی میں سلطنت بذات خود مختلف محاذوں پر لڑتی جھگڑتی پائی گئی۔ ایران میں ایک جدید اور بہت ہی جارحیت پسند شاہی خاندان 225 میں ظاہر ہوا (اس خاندان کے لوگ خود کو ساسانی کہتے تھے) اور صرف 15 سالوں میں بڑی تیزی سے فرات کی سمت پھیل گیا۔ ایک چٹانی پتھر کے کتبے پر تین زبانوں میں کندہ ایرانی بادشاہ شاپور اول (Shapur I) نے یہ دعویٰ کیا کہ اس نے روم کی 60,000 فوجوں کو نیست و نابود کر دیا تھا اور یہاں تک کہ انطاکیہ کی مشرقی راجدھانی پر بھی قبضہ کر لیا تھا۔ دریں اثناء تمام جرمن قبائل یا مزیدبرآں نیم وفاقی قبائلی ریاستوں (ان میں سب سے زیادہ قابل ذکر Alamanni الامانی، فرینکس Franks اور گوتھ Goths ہیں) نے رائن (Rhine) اور ڈینیوب (Denube) کی سرحدوں کے مخالف سر اٹھانا شروع کر دیا اور 233 سے 280 تک کے پورے عرصہ میں بحراسود سے آلپس (Alps) اور جنوبی جرمنی تک پھیلے ہوئے علاقے پر بار ہا حملے ہوئے۔ رومیوں کو ڈینیوب کے پار آباد بہت سے علاقوں کو مجبور ہو کر چھوڑنا پڑا، جبکہ اس عہد کے شابان مسلسل ان لوگوں کے خلاف برسرپیکار رہتے تھے جنہیں رومی غیر ملکی/وحشی (Barbarians) کے نام سے پکارتے تھے۔ تیسری صدی بادشاہوں کی جلدی جلدی تخت نشینی (25 بادشاہ 47 سالوں میں)، تناؤ اور کشیدگیوں کی واضح علامت ہے، جس کا سامنا سلطنت کو اس دور میں کرنا پڑا۔
جنس، خواندگی، ثقافت
رومی سماج کی جدید خصوصیات میں ایک خصوصیت یہ بھی تھی کہ وہاں مرکزی خاندان (Nuclear Family) (وہ خاندان جو ماں باپ اور بچوں پر مشتمل ہوتا ہے) کے نظام کا رواج وسیع پیمانے پر تھا۔ نابالغ لڑکے اپنے خاندان کے ساتھ نہیں رہتے تھے۔ اور بالغ بھائی مشترک گھر میں شاذونادر ہی رہتے تھے۔ دوسری جانب غلاموں کو خاندان میں شامل کیا جاتا تھا۔ آخر جمہوریت میں (پہلی صدی ق م) بیوی عام طور پر اپنی جائیداد شوہر کو منتقل نہیں کرتی تھی۔ جبکہ اپنے پیدائشی خاندان (Natal Family) کی جائیداد میں اس کا پورا حق ہوتا تھا۔ حالانکہ عورت کا جہیز شادی کی مدت میں شوہر کو ملتا تھا۔ عورت اپنے باپ کی اصل وارث ہوتی تھی۔ اور اپنے باپ کے فوت ہو جانے پر باپ کی جائیداد کی خود مختار مالکن بن جاتی تھی۔ یوں جائیداد کی ملکیت اور انتظامی معاملات میں رومن عورت کو قابل ذکر قانونی حقوق حاصل تھے۔ دوسرے لفظوں میں قانون کے مطابق فرد کو، نہ کہ خاندان کو۔ ایک مالی ہستی کی حیثیت حاصل تھی اور بیوی کو مکمل قانونی آزادی حاصل تھی۔ طلاق نسبتاً آسان تھی۔ بیوی یا شوہر کی طرف سے شادی کو ختم کرنے کا نوٹس (خبر) دینا ہی کافی تھا۔ دوسری طرف مردوں کی شادی یا تو ان کی عمر کی بیس کی دہائی کے آخر میں ہوتی یا تیس کی دہائی کی ابتدا میں ہوتی تھی جبکہ عورتوں کی شادی پہلی دہائی کے آخر 10 یا 20کی دہائی کے آغاز میں ہوتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ شوہر اور بیوی کے درمیان عمر میں کافی فرق ہوتا تھا جس نے ایک یقینی نابرابری کو شہ دی ہوگی۔ شادیاں عام طور پر رسم و رواج یعنی بات چیت کے ذریعہ (Arranged Marriages) سے ہوتی تھیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ عورتیں اکثر اپنے شوہروں کے ماتحت ہوا کرتی تھیں۔ آگسٹائن (Augustine)* عظیم کیتھولک پادری جس نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ شمالی افریقہ میں گذار تھا، اس کابیان ہے کہ اس کی ماں مسلسل اس کے باپ کی مار سہتی تھی اور اس چھوٹے سے قصبہ میں جس میں اس کی پرورش ہوئی تھی دوسری بہت سی بیویوں کے پاس دکھانے کے لیے خراشیں تھیں۔ خلاصہ کلام یہ کہ باپ کا بچوں کے اوپر کافی قانونی تسلط تھا۔ بعض اوقات تو یہ دہشت انگیز ہوتا تھا۔ مثال کے طور پر ناپسندیدہ اولاد سے متعلق موت و حیات کا قانونی اختیار حاصل تھا اور انہیں باہر ٹھنڈ میں مرنے کے لیے چھوڑ دیا جاتا تھا۔
* خواندگی سے مراد روز مرہ زندگی میں پڑھنا اور لکھنا، اکثر عمومی معنی ہیں۔
خواندگی کی حالت کیا تھی؟ یہ حقیقت ہے کہ سلطنت کے مختلف حصوں میں بے ضابطہ خواندگی* (Literacy) کی نسبت میں کافی حد تک تنوع پایا جاتا تھا۔ مثال کے طور پر پومپئی (Pompeii) میں جو کہ 79 ق م میں ایک آتش فشاں کے پھٹنے میں جل کر خاکستر ہو گیا تھا۔ وہاں بے ضابطہ خواندگی کے رواج کی وسیع پیمانے پرقوی شہادت ملی ہیں۔ پومپئی کی اہم گلیوں کی اکثر دیواریں اشتہارات سے لدی ہوئی تھیں اور دیواری اشتہارات (Graffiti) پورے شہر میں پائے جاتے تھے۔
ان میں سے ایک انتہائی پر مذاق دیواری اشتہار پومپئی کی دیواروں پر ملا، کہتا ہے: دیوار، میں تمہاری ستائش کرتا ہوں کہ تم اپنے اوپر اتنی بوریت آمیز تحریر کو اٹھائے ہوئے بھی تم برقرار کھڑی مسمار ہو کر گری نہیں۔
اس کے برخلاف مصر میں جہاں سینکڑوں پیپیری (Papyri) محفوظ ہیں جس میں اکثر رسمی دستاویز جیسے معاہدے جو عام طور سے پیشہ ور منشیوں کے بدست لکھے گئے ہیں۔ یہ اکثر ہم کو بتاتے ہیں کہ ایکس (x) یا وائی (y) پڑھنے اور لکھنے کے قابل نہیں ہے۔ لیکن یہاں تعلیم یقینی طور پر اعلیٰ پیمانے پر خاص طور پر مخصوص طبقات مثلاً سپاہی، فوجی افسران اور جاگیر منتظمین میں موجود تھی۔
سلطنت کی ثقافتی تنوع کی عکاسی کئی طریقوں اور سطحوں پر ہوتی نظر آتی ہے جیسے تنوع دینی مراسم، مقامی دیوتا، بولی جانے والی متعدد زبانوں، لباس کے طرز اور وضع قطع، حتیٰ کہ ان کی بستیوں میں بھی تنوع تھا۔ آرامی (Aramaic) مشرق قریب کے علاقے کی غالب زبان کا زمرہ تھا (کم از کم فرات کے مغربی علاقے) قبطی (Coptic) مصر میں بولی جاتی تھی۔ پونک (Punic) اور بربر (Berber) شمالی افریقہ میں، سیلٹک(Celtic)، اسپین اور شمال مغرب میں بولی جاتی تھی۔ لیکن یہ سب لسانی ثقافتیں خالص زبان تھیں۔ تقریباً اس وقت جب ان کا رسم الخط ایجاد کیا گیا۔ مثال کے طور پر آرامی کو صرف اور صرف پانچویں صدی کے آخر میں لکھا جانے لگا۔ حالانکہ تیسری صدی کے وسط میں بائبل کا قبطی میں ترجمہ موجود تھا۔ زیادہ تر حالات میں لاطینی زبان کے رواج نے ان مقامی زبانوں کے رسم الخط کو ختم کر دیا جو پہلے سے ہی کافی وسیع پیمانے پر رائج تھیں۔ یہ خاص طور پر کیلٹک کے ساتھ پیش آیا جس کا لکھنا پہلی صدی کے بعد بند ہو گیا تھا۔
دوسری صدی عیسوی کی عدلیہ کی وپچی کاری، اس سیر بائی نقش سےقیاس ہوتا ہے وہ بادشاہ ابگار(Abgar) کی بیوی اور اس کی فیملی کے ہیں۔
پومپئی : ایک شراب کے تاجر کا کھانا کھانے کا کمرہ اس کی دیواروں کو افسانوی جانوروں کی تصاویر سے سجایا گیا تھا۔
سرگرمی 2
رومی دنیا میں خواتین کس حد تک آزاد تھیں؟ رومی خاندان کا موازنہ آج کے ہندوستانی خاندان کی صورتحال کے ساتھ کیجیے۔
معاشی پھیلاؤ
سلطنت میں بندرگاہ، معدنیات، پتھر کی کان، اینٹوں کے بھٹے، زیتون کے تیل کی فیکٹریاں وغیرہ کافی تعداد میں تھیں، جس کی وجہ سے اس کا معاشی بنیادی ڈھانچہ کافی مضبوط تھا۔ گیہوں، شراب اور زیتون کا تیل بڑی مقدار میں تجارتی اور اسرافی سامان تھے۔ یہ سب اشیاء اسپین، گالک (Gallic) صوبہ جات، شمالی افریقہ اور مصر سے کافی مقدار میں اور اٹلی سے کم مقدار میں آتے تھے، جہاں ان کی فصلوں کے لیے بہترین حالات موجود تھے۔ سیال مادے جیسے شراب اور زیتون کے تیل مظروف (بوتل نما ڈبہ) (Container) جنہیں ایمفورا (Amphorae) (دو دستہ ظروف) کہا جاتا تھا؛ میں ایک جگہ سے دوسری جگہ لائے لے جائے جاتے تھے۔ ان مظروف کے ٹوٹے ہوئے ٹکڑے کثیر تعداد میں ابھی بھی موجود ہیں خاص طور پر (روم کے مونٹے ٹیسٹا کیو (Monte Testaccio) نامی مقام پر ایسے 50 ملین سے زیادہ ظروف کے باقیات پائے گئے ہیں)۔ مٹی کے عناصر کا بغور مشاہدہ کرنے اور ان کو پورے بحیرۂ روم کی مٹی کے نمونوں سے ملانے کے بعد ماہرین آثار قدیمہ کے لیے یہ ممکن ہوا ہے کہ وہ ان برتنوں کو دوبارہ ان کی اصل شکل میں بنا سکیں اور ہمیں یہ بتا سکیں کہ ان میں کون سی چیز رکھی جاتی تھی اور وہ کہاں پر بنائے جاتے تھے۔ اس طرح ماہرین آثار قدیمہ اب کسی حد تک وثوق کے ساتھ یہ بات کہہ سکتے ہیں کہ اسپین کے زیتون کا تیل، بطور مثال، ایک اہم تجارتی سامان تھا اور اس کی تجارت 140-160 کے درمیان کافی عروج پر تھی۔ اس زمانے میں اسپین کے زیتون کا تیل خاص طور پر ایسے دو دستہ ظروف میں لے جایا جاتا تھا جن کو ڈریسل (Dressel 20) (ان کا یہ نام اس ماہر آثارقدیمہ کے نام پر رکھا گیا جس نے سب سے پہلے ان کی شکل متعین کی تھی) کیا گیا ہے۔ اگرچہ ڈریسل20 بحیرۂ روم کے اطراف کے مقامات پر وسیع دائرے میں پھیلے ملے ہیں جس سے ایسا اندازہ ہوتا ہے کہ فی الحقیقت اسپین کے زیتون کے تیل کا وسیع پیمانے پر استعمال تھا۔ ایسے شواہد (مختلف قسم کے دو دستہ ظروف کے باقیات اور ان کی تقسیم کے نقشہ جات) کی بنیاد پر ماہرین آثار قدیمہ یہ بتا سکے کہ اسپین کے تیل پیدا کرنے والوں نے اپنے اطالوی ہم پیشہ لوگوں کے بازار پر قبضہ کر لیا تھا۔ یہ صرف اس وجہ سے ممکن ہو سکا تھا کہ اسپین کے تاجروں نے بہترین قسم کا تیل کم قیمتوں پر سپلائی کیا تھا۔ دوسرے لفظوں میں مختلف علاقوں کے بڑے زمیندار اپنی پیداواری اشیاء کے لیے بازاروں پر اپنا کنٹرول بنانے کے لیے آپس میں مقابلہ آرائی کرتے تھے۔ بعد میں شمالی افریقہ کے تاجر اسپین کے زیتون کے تیل کے تاجروں کے مقابلے میں کامیاب ہو گئے۔ اور تیسری وچوتھی صدی کے زیادہ تر حصے میں شمالی افریقہ کے زیتون کے تیل کے تاجروں کا سلطنت کے اس علاقے میں غلبہ ہو گیا۔ آخر 425 کے بعد مشرق قریب کے علاقوں نے شمالی افریقہ کے غلبہ کو ختم کر دیا تھا۔ اس کے بعد پانچویں صدی کے نصف آخر اور چھٹی صدی میں ایگین (Aegean)، جنوبی ایشیاء مائنر (Asia Minor) (ترکی)، شام اور فلسطین کے ایکسپورٹر (تاجر) شراب اور زیتون کا تیل برآمد کرنے والے تاجر بن گئے اور افریقہ کے ظروف کی بحیرۂ روم کے بازاروں میں موجودگی ڈرامائی انداز میں کم ہو گئی۔ ان اہم سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ الگ الگ خوشحالی،ان کا موثر پیداواری نظم، مخصوص اشیاء کی نقل و حمل اور ان کی اشیاء کی خوبی کے مطابق ترقی اور زوال کا شکار ہوتی گئیں۔

فرانس کے جنوبی ساحل سے دور ایک فوندی جھیل کے قریب پہلی صدی ق م میں ایک ایسا شکستہ جہاز ملا جس کے اندر دو دستہ اطالوی ظروف ملے۔ جن پر آجر کی مہر لگی ہوئی تھی۔
سلطنت کے بہت سے علاقے اپنی غیر معمولی ذرخیزی کی بنیاد پر مشہو رتھے۔ تاریخ نویسوں مثلاً اسٹرابو (Strabo) اور پلینی (Pliny) کے مطابق اٹلی میں کامپانیا (Campania)، سسلی (Sicily)، مصر میں فیوم (Fayum)، گالیلی (Galilee)، بیزاکئیم (Byzacium) (ٹیونیسا (Tunisia)، جنوبی گال (Gaul) (جسے گالیا ناربونینسس (Gallia Narbonensis) کہا جاتا تھا) اور بائیٹکا (Baetica) سلطنت کے سب سے زیادہ گھنی آبادی والے اور مالدار علاقے تھے۔ شراب کی بہترین قسمیں کامپانیا سے آتی تھیں۔ سسلی اور بیزاکئیم روم کو بڑی مقدار میں گیہوں برآمد کرتے تھے۔ گالیلی میں بڑی گنجان کھیتی ہوتی تھی (تاریخ نویس جوزفس (Josephus) نے لکھا ہے کہ یہاں کے باشندے زمین کے ہر ایک انچ میں کھیتی کرتے تھے)۔ اسپین کے زیتون کا تیل خاص طور پر جنوبی اسپین کے دریائے گودال قیویر (Guadalquivir) کے آس پاس کی بہت سی ریاستوں (Fundi) سے آتا تھا۔
سرگرمی 3
ماہرین آثار قدیمہ مٹی کے برتنوں کے باقیات پر کچھ سراغ رسانوں کی طرح کام کرتے ہیں۔ کیا آپ وضاحت کر سکتے ہیں کیوں؟ مزید بتائیے کہ اطالوی دو دستہ ظروف ہمیں رومی عہد میں بحیرۂ روم کے علاقے کی معاشی زندگی کے متعلق کیا بتاتے ہیں۔
دوسری طرف رومی علاقوں کے بڑے حصے کم ترقی یافتہ شکل میں تھے۔ مثال کے طور پر نومیڈیا (Numidia موجودالجیریا) کے دیہی علاقوں میں موسمی نقل مکانی * (Transhumance) کا کافی رواج تھا۔ چرواہے اور نیم خانہ بدوش لوگ تندور کی شکل کے جھونپڑے (Over-Shaped Huts) جنہیں ماپالیا (Mapalia) کہا جاتا تھا، اپنے ساتھ لیے ہوئے اکثر ایک جگہ سے دوسری جگہ کوچ کرتے رہتے تھے۔ جب رومی ریاستیں شمالی افریقہ تک وسیع ہو گئیں تو ان کی چراگاہیں سختی سے کم کر دی گئیں اور ان کی نقل و حرکت سختی سے منضبط کر دی گئی۔ یہاں تک کہ اسپین کے شمال کا علاقہ بھی کم ترقی یافتہ تھا۔ یہاں پر زیادہ تر کیلیٹک (Celtic) بولنے والے کسانوں کا طبقہ تھا جو پہاڑوں کی چوٹیوں پر بسے ہوئے گائوں میں رہتا تھا جنہیں کاسٹیلا (Castella) کہا جاتا تھا۔ جب کوئی رومی سلطنت کے بارے میں غور کرے تو اسے ان اختلافات کو نہیں بھولنا چاہیے۔
* موسمی نقل مکانی سے مراد گلابان لوگوں کی پہاڑی علاقوں اور نیچے کے میدانی علاقوں کے درمیان بھیڑ، بکریوں اور دیگر جانوروں کے لیے چارہ کی تلاش میں مستقل سالانہ حرکت ہے۔
ہمیں کبھی یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ یہ کیونکہ ایک ’’قدیم‘‘ دنیا تھی۔ اس لیے ان لوگوں کی معاشی اور ثقافتی زندگی غیر ترقی یافتہ اور غیر مہذب تھی۔ اس کے برخلاف بحیرۂ روم کے علاقے میں پانی کی توانائی کا کثیر الانواع استعمال کیا جاتا تھا۔ بلکہ اس سے پن چکی کی تکنیک میں ترقی ہوئی۔ اسپین کے سونے اور چاندی کی کانو ںمیں کھدائی کے لیے آبی معدنی تکنیک کا استعمال اور بھاری صنعتوں میں جن میں ان معدنیات کا کام ہوتا تھا، استعمال کیا گیا۔ پہلی اور دوسری صدی میں بہتر اور منظم بینک کا نظام اور تجارتی نیٹ ورک کا وجود اور پیسہ کا وسیع پیمانے پر استعمال، (اس وقت مجموعی پیداوار کی سطح اتنی اونچی تھی کہ 1700 سال بعد انیسویں صدی تک اس تک نہیں پہنچا جاسکتا تھا) یہ سارے دلائل ہمیں بتاتے ہیں کہ ہم مغالطہ میں ہیں اور ہم میں روم کی معیشت کا آنکنے کا میلان کتنا زیادہ ہے۔
غلاموں کے ساتھ سلوک
’’کچھ وقت بعد شہر کے ناظم خصوصی (City Prefect) لوسیس پیڈانیس سیکنڈس (Lucius Pedanius Secundus) کو اس کے غلام نے قتل کر دیا۔ قتل کے بعد، پرانی رسم کے مطابق اس چھت کے نیچے رہنے والے ہر ایک غلام لازمی طور پر پھانسی کا مستحق تھا۔ لیکن اتنی ساری معصوم جانوں کو بچانے کے لیے ایک بھیڑ جمع ہو گئی اور فساد شروع ہو گیا۔ عمائد (Senate) کے گھر کو گھیر لیا گیا۔ عمائد کے مکان میں حد سے زیادہ سختی و بدسلوکی کی مخالفت کے جذبات تھے۔ لیکن اکثریت نے تبدیلی کیے جانے کی مخالفت کی … (مجلس عمائدین) جو پھانسی کے حق میں تھی وہ غالب رہی۔ بہر حال پتھروں اور مشعلوں سے مسلح ہجوم نے اس حکم کی تعمیل نہ ہونے دی۔ نیرو نے شاہی فرمان کے ذریعہ عوام الناس کی سرزنش کی اور اس پورے راستے پر جس پر سزا یافتہ لوگوں کو پھانسی لگانے کے لیے لے جایا گیا فوج تعینات کر دی گئی۔‘‘
– ٹیسی ٹس (Tacitus 55-117) ابتدائی سلطنت کا مورخ
مزدوروں پر کنٹرول
قدیم دنیا میں غلامی کے ادارے کی جڑیں، دونوں جگہوں، بحیرۂ روم اور مشرق قریب میں بہت گہری تھیں۔ چوتھی صدی میں عیسائیت سرکاری مذہب بننے کے بعد بھی اس ادارہ کو سنجیدگی کے ساتھ، چیلنج نہ کر سکی۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ رومی معیشت میں سارا محنت کا کام غلام ہی کرتے تھے۔ یہ بات جمہوری عہد میں اٹلی کے ایک بڑے علاقے کے متعلق صحیح ہو سکتی ہے۔ (اٹلی کی کل آبادی ساڑھے سات ملین تھی جس میں سے تین ملین غلام اگسٹس کے ماتحت تھے)۔ لیکن پوری سلطنت میں ایسا معاملہ نہ تھا۔ غلام سرمایہ تھے اور کم از کم کھیتی کے متعلق لکھنے والے ایک رومی مصنف نے زمینداروں کو، غلاموں کو ایسی جگہوں پر جہاں کافی مقدار میں ان کی ضرورت ہوتی ہے (جیسے کٹائی کے لئے) یا جہاں ان کی صحت کو نقصان پہنچ سکتا ہے (ملیریا جیسی بیماری سے)، کے تناظر میں کام پر نہ لگانے کا مشورہ دیا ہے۔ یہ مشورہ انسانیت کی بنیاد پر نہیں بلکہ ٹھوس معاشی تخمینہ پر مبنی تھا۔ دوسری طرف اونچے طبقات کے لوگ غلاموں کے ساتھ اکثر وحشیانہ سلوک کرتے تھے۔ مگر عام لوگ ان پر بہت زیادہ ترس کھاتے تھے۔ دیکھیے نیرو (Nero) کے دور حکومت میں پیش آئے ایک حادثہ کے متعلق ایک مورخ کیا کہتا ہے:
پہلی صدی میں قیام امن کی وجہ سے جنگیں بہت کم ہوئیں تو غلاموں کی سپلائی بہت کم ہو گئی۔ جس کی وجہ سے کام لینے والوں کو غلاموں کی افزائش نسل* (Slave Breeding) یا سستے متبادلہ جیسے اجرت مزدوروں کا استعمال، جن سے چھٹکارا پانا آسان تھا، کی طرف رخ کرنا پڑا۔ دراصل بلا اجرت کے مزدوروں کا استعمال روم میں، خاص طور پر تعمیرات عامہ کے لیے کیا جاتا تھا، کیونکہ غلاموں سے اتنے بڑے پیمانے پر کام لینا کافی مہنگا ہوتا تھا۔ اجرت پر رکھے گئے مزدوروں کے برخلاف غلاموں کو کھانا کھلانا پڑتا تھا اور پورے سال ان کا خرچ برداشت کرنا پڑتا تھا جس کی وجہ سے اس قسم کی مزدوری مہنگی پڑتی تھی۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ بعد کے عہد کی زراعت میں غلام، کم از کم مشرقی صوبوں میں کافی تعداد میں نہیں تھے۔ دوسری طرف غلاموں اور آزاد کردہ غلاموں سے یعنی وہ غلام جن کو ان کے مالکوں نے آزاد کر دیا تھا، ان کے مالکان ان سے پوری طرح تجارتی منتظمین کی حیثیت سے کام لینے لگے۔ ظاہر ہے کہ اس پیشہ میں زیادہ لوگوں کی ضرورت نہ تھی۔ مالک اکثر اپنے غلاموں یا آزاد کردہ غلاموں کو اپنی جانب سے تجارت کرنے کے لیے یا خود ان کو ذاتی تجارت کرنے کے لیے سرمایہ دیتے تھے۔
* غلاموں کی افزائش نسل کا عمل یہ تھا کہ غلام عورتوں اور ان کے مرد ساتھیوں کو زیادہ بچے پیدا کرنے کی حوصلہ افزائی کی جاتی تھی۔ یقینا یہ بچے بھی غلام ہی ہوتے تھے۔
زراعت کے متعلق روم کے لکھنے والوں نے مزدوروں کے انتظام و انصرام پر کافی توجہ دی ہے۔ جنوبی اسپین سے آنے والے پہلی صدی کے مصنف کو لومیلا (Columella) نے سفارش کی ہے کہ زمینداروں کو اپنی ضرورت سے دوگنا کھیتی باڑی کا سازوسامان اور اوزار کا فاضل ذخیرہ رکھنا چاہیے۔ تاکہ پیداوار مسلسل ہوتی رہے، کیونکہ غلاموں کے وقت کا زیاں ان سامانوں کی قیمت سے زیادہ ہے۔ مالکوں کا عموماً یہ نظریہ تھا کہ نگرانی کے بغیر کوئی بھی کام نہیں ہوگا۔ اس لیے مزدور اور غلام دونوں کے لیے نگرانی ضروری تھی۔ نگرانی کو آسان بنانے کے لیے بعض اوقات مزدوروں کو چھوٹے چھوٹے گروپ میں تقسیم کر دیا جاتا تھا۔ کولومیلا نے دس لوگوں پر مشتمل گروپ کی سفارش کی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اس سائز کے کام کرنے والے گروپ میں کام کرنے والوں اور کام نہ کرنے والوں کا پتہ لگانا آسان ہوتا ہے۔ یہ امر مزدوروں کے انتظام و انصرام کے بارے میں تفصیلی غوروفکر کو ظاہر کرتا ہے۔ مشہور تاریخ ’’نیچرل ہسٹری‘‘ کے مصنف پلینی کلاں (Pliny the Elder) نے پیداوار کو منظم کرنے کے لیے غلاموں کے گروپ کے استعمال کی مذمت کی ہے اور اس کو سب سے گھٹیا طریقہ بتایا ہے۔ کیونکہ عام طور پر ایک جماعت میں کام کرنے والے غلاموں کے پیر ایک دوسرے کے ساتھ زنجیروں سے بندھے ہوتے تھے۔

مقابل صفحہ پر: ابتدائی تیسری صدی کا چرچل، الجیریا میں پچی کاری مع زرعی مناظر
اوپر: کھیت کی جتائی اور تخم ریزی کرتے لوگ
نیچے: انگور کے باغ میں کام کرتے لوگ
اگر یہ طریقے ظالمانہ* (Draconian) لگتے ہیں تو ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ آج کل کی دنیا کی اکثر فیکٹریاں مزدوروں کو کنٹرول کرنے کے لیے اسی طرح کے قواعد و ضوابط لاگو کرتی ہیں۔ فی الحقیقت سلطنت میں کچھ کارخانے اس سے بھی زیادہ کنٹرول رکھتے تھے۔ پلینی کلاں نے اسکندریہ کے لوبان** (Frankincense) کی فیکٹریوں کی حالت کو بیان کیا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ وہاں پر کتنی بھی نگرانی کی جائے وہ کم سمجھی جاتی تھی ’’کام کرنے والوں کے پیش بندوں (Aprons) پر مہر لگائی جاتی تھی، انہیں نقاب پہننا پڑتا تھایا جالی نما پردہ سرپر لگانا پڑتا تھا اور فیکٹری چھوڑنے سے قبل انہیں اپنے کپڑے اتارنے ہوتے تھے۔‘‘ زرعی مزدوری بہت مشقت طلب اور ناپسندیدہ تھی۔ تیسری صدی کی ابتدا کا ایک فرمان اپنے قریوں کو ’’کھیتی کا کام نہ کرنے کی خاطر‘‘ چھوڑ کر جانے والے مصری کسانوں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ زیادہ تر فیکٹریوں اور کارخانوں کے متعلق بھی غالباً یہی بات صحیح تھی۔ 398 کا ایک قانون اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ مزدوروں کو داغ دیا جاتا تھا تاکہ اگر وہ بھاگیں یا چھپنے کی کوشش کریں تو ان کو پہچانا جاسکے۔ بہت سے نجی مالکان مزدوروں کے ساتھ قرض کے اقرارنامہ کے ساتھ معاہدہ کرتے تھے تاکہ وہ دعویٰ کر سکیں کہ ان کے ملازمین ان کے قرض دار ہیں اور اس طرح سے مالکان مزدوروں پر سخت کنٹرول رکھتے تھے۔ ابتدائی دوسری صدی کا ایک مصنف ہمیں بتاتا ہے ’’ہزاروں لوگوں نے اپنے آپ کو غلامی میں کام کرنے کے حوالے کر دیا ہے، اگرچہ وہ آزاد ہیں۔‘‘ دوسرے الفاظ میں بہت سے غریب خاندان اپنی بقا کی خاطر قرض کی غلامی میں چلے گئے۔ آگسٹائن کے حال ہی میں دریافت خطوط میں ملے ایک خط کے ذریعہ ہمیں پتہ چلا کہ بعض اوقات والدین اپنے بچوں کو پچیس سال کی غلامی کے لیے بیچ دیتے تھے۔ آگسٹائن نے اپنے ایک وکیل دوست سے یہ جاننا چاہا کہ کیا یہ بچے والد کی وفات کے بعد آزاد کرائے جاسکتے ہیں۔ دیہی علاقوں میں قرض کا رواج اور بھی زیادہ تھا۔ صرف ایک مثال لے لیجیے۔ 66 ق م کے عظیم یہودی انقلاب* میں انقلابیوں نے عوامی تائید حاصل کرنے کی خاطر زمینداروں کے معاہدوں کو تلف کر دیا تھا۔
* ظالمانہ سخت قوانین (چھٹی صدی ق م میں نام نہاد قوانین جن کو یونانی قانون ساز ڈریکو (Draco) کہتے ہیں، نے زیادہ تر جرائم کی سزا موت تجویز کی تھی)۔
** لوبان ایک یونانی نام جو معطر کرنے کے لیے ایک خوشبودار رال اور عطر کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔بوس ویلیا (Boswellia) درخت کے تنے میں شگاف کر کے اس کی رال کو رسنے دیا جاتا اور اس کے خشک ہونے پر اس کی اگربتی بنتی تھی۔ لوبان کی سب سے اچھی قسم جزیرہ نما عرب سے آتی تھی۔
ایک بار پھر ہمیں محتاط رہنا چاہیے اور یہ نتیجہ نہیں اخذ کرنا چاہیے کہ سارے کے سارے مزدور اسی طرح مجبور کیے جاتے تھے۔ پانچویں صدی کے آخر کے بادشاہ اناسٹاسیس (Anastasius) نے مشرق کے تمام مزدوروں کو زیادہ اجرت دے کر اور اس طرح سے ان کو لبھا کر مشرقی سرحد کے شہر دارا (Dara) کی تعمیر تین ہفتہ سے کم مدت میں کرائی تھی۔ پیپری کے ذریعہ ہم کچھ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ چھٹی صدی میں روم کے مختلف علاقوں میں خاص طور پر مشرقی حصے میں اجرت پر مزدوری کا رواج کتنا زیادہ تھا۔
* یہ بغاوت جو ڈائیا (Judaea) میں رومی غلبہ کے خلاف ہوئی تھی۔ ’یہودی جنگ‘ کہلائی جانے والی اس بغاوت کو رومیوں نے بڑی رحمی سے کچل دیا تھا۔
سرگرمی 4
اس باب میں تین ایسے مصنفوں کا ذکر کیا گیا ہے جنہوں نے اپنی تخلیقات میں یہ لکھا ہے کہ رومی اپنے مزدوروں کے ساتھ کیسا برتاؤ کرتے تھے۔ کیا آپ ان کو پہچان سکتے ہیں؟ اس حصے کو خود سے دوبارہ پڑھیے اور ان دو طریقوں کا ذکر کیجیے جن کے ذریعہ رومی اپنے مزدوروں پر کنٹرول رکھتے تھے۔
سماجی طبقات (Social Hierarchies)
آئیے اب ہم تفصیلات سے اجتناب کرتے ہوئے سلطنت کے سماجی ڈھانچے کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مورخ ٹیسی ٹس نے ابتدائی سلطنت کے اہم طبقات اس طرح بیان کیے ہیں: عمائدین (Senators) (Patres) لغوی معنی آباواجداد شہسوار طبقہ کے معزز افراد، عوام کے قابل احترام لوگ جو بڑے گھرانوں سے وابستہ تھے، ادنیٰ طبقہ کے منتشر لوگ (Plebs Sordida)، ٹیسی ٹس کے مطابق یہ لوگ سرکسوں اور تھیٹروں میں تماشا دیکھنے کے عادی تھے اور آخر میں غلام تیسری صدی کی ابتدا، قسطنطنیہ میں عمائدین کی تعداد تقریباً ایک ہزار تھی اور لگ بھگ نصف عمائدین کا تعلق اطالوی خاندانوں سے تھا۔ آخیر سلطنت میں جس کی ابتداء قسطنطین اول (اس بادشاہ کی تصویر دیکھیے) سے چوتھی صدی کے ابتدائی حصے میں ہوئی۔ پہلے دونوں گروپوں نے جس کا ذکر ٹیسی ٹس نے کیا ہے، یکجا ہو کر ایک متحد اور بڑا طبقہ امراء (عمائدین اور شہسوار) (The Senators and the Equites)* بنایا اور ان خاندانوں میں کم از کم آدھے خاندان افریقی اور مشرقی اصل تھے۔ آخر رومی سلطنت کا طبقہ امراء بہت زیادہ مالدار تھا۔ لیکن خالص فوجی اشراف سے کئی اعتبار سے کم طاقتور تھا۔ خالص فوجی اشراف کا تعلق لگ بھگ پورے کا پورا غیر طبقہ امراء خاندانوں سے تھا۔ متوسط طبقہ (The Middle Class) میں زیادہ تر افراد کا تعلق شاہی خدمات سے منسلک نوکر شاہی اور فوج کے افراد سے تھا۔ لیکن ساتھ ہی زیادہ خوشحال تاجر اور کسان جن میں اکثر مشرقی صوبوں کے تھے، بھی اس طبقہ میں شامل تھے۔ ٹیسی ٹس نے اس ’’محترم‘‘ متوسط طبقہ کو عمائدین کے گھروں کے موکل کے طور پر ذکر کیا ہے۔ متوسط طبقہ کے بہت سے خاندانوں کی بقا اور ان کا انحصار خاص طور پر سرکاری خدمات اور ریاست پر تھا۔ ان سے نیچے بڑی تعداد میں ادنیٰ طبقہ کے لوگ تھے جنہیں اجتماعی طور پر ہومیلیورس (Humiliores) (لغوی معنی ادنیٰ) کہا جاتا تھا۔ یہ طبقہ دیہی مزدوروں کا تھاجن میں زیادہ تر بڑی بڑی جاگیروں میں مستقل طور پر ملازم رکھ لیے جاتے تھے، صنعتی اور معدنی کارخانوں میں کام کرنے والے، مہاجر مزدور جو اناج اور زیتون کی کٹائی اور صنعت تعمیر کے لیے زیادہ تعداد میں مزدور بہم پہنچاتے تھے، خود اپنا کام کرنے والے دستکاروں، جن کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ اجرت مزدوروں سے بہتر رزق حاصل کرتے تھے، کبھی کبھی کام کرنے والے مزدوروں کی ایک بڑی جماعت، خاص طور پر بڑے شہروں میں اور بلاشبہ ہزاروں غلام، جو اب بھی خاص طور پر مغربی سلطنت میں پائے جاتے تھے، پر مشتمل تھا۔
* ایکوائٹس (Equites) (نائٹ یا شہسوار) روایتی طور پر دوسرا سب سے طاقتور اور دولتمند طبقہ تھا۔ بنیادی طور پر یہ ایسے خاندان تھے جن کو گھوڑ سوار فوج میں بھرتی ہونے کی قابلیت عطا کرتی تھی۔ اس لیے اس کو شہسوار یا نائٹ کہا جاتاتھا۔ عمائدین کی طرح زیادہ تر نائٹ زمیندار ہوتے تھے۔ لیکن عمائدین کے برخلاف ان میں سے کئی جہازوں کے مالک، تاجر اور ساہوکار بھی تھے جو تجارتی سرگرمیوں میں ملوث تھے۔
پانچویں صدی کی ابتداء کا ایک مورخ اولمپیوڈورس (Olympiodorus) جو ایک سفیر بھی تھا، ہمیں بتاتا ہے کہ روم کے شہر میں رہنے والا طبقہ امراء کو ان کی جاگیر سے سالانہ آمدنی 4,000 سونے کے ابس (Ibs of Gold) تھی۔ اس میں وہ پیداوار شامل نہیں تھی جس کو بالواسطہ کھا پی لیتے تھے۔
رومی طبقہ امراء کی آمدنی — پانچویں صدی کی ابتداء میں
روم کے ہر ایک اعلیٰ گھرانے میں وہ ساری چیزیں موجود تھیں جو ایک متوسط سائز کے شہر میں ہو سکتی ہیں، جیسے رتھ کا میدان، چبوترے والے معابد، فوارے اور مختلف قسم کے حمام … بہت سے رومی گھروں کی سالانہ آمدنی ان کی جائیداد سے چار ہزار سونے کے پونڈ (Pounds of Gold) تھی جس میں اناج، شراب اور دوسری پیداوار شامل نہیں تھیں۔ اگر ان کو فروخت کیا جاتا تو سونے میں ایک تہائی کے برابر آمدنی ہوتی۔ روم میں دوسرے طبقہ کے خاندانوں کی آمدنی 1000 یا 1500 سونے کے پونڈ تھی۔
تھیبیس کے اولمپیوڈورس (Olympiodorus of Thebes)
آخر سلطنت کے نظام زر (Monetary System)کو ابتدائی تین صدیوں سے مروج چاندی پر مبنی کرنسی چھوڑنی پڑی تھی۔ کیونکہ اسپین کی چاندی کی کانوں کو پوری طرح استعمال کیا جا چکا تھا اور حکومت کے چاندی کے ذخائر خالی ہو گئے تھے جس کی بنا پر ابتدائی تین صدیوں سے جاری چاندی پر مبنی نظام زر کو چھوڑ نا پڑا۔ قسطنطین نے سونے پر مبنی نئے نظام زر کو قائم کیا اور اس کا پورے آخر سلطنت عہد میں بڑی مقدار میں استعمال ہوتا رہا۔
آخر رومی سلطنت کی نوکرشاہی میں اعلیٰ اور متوسط فوجی تربیت یافتہ طبقہ نسبتاً دولت مند تھا۔ کیونکہ انہیں تنخواہ کا ایک بڑا حصہ سونے کی شکل میں ملتا تھا اور اس کا بڑا حصّہ وہ زمین جیسی املاک و اثاثہ خریدنے میں لگاتے تھے۔ بعد کی سلطنت میں بہت زیادہ کرپشن پھیل گیا تھا۔ خاص طور پر نظام عدلیہ اور فوجی رسد ضروریات کے نظم و نسق میں۔ اعلیٰ نوکر شاہی کی رشوت ستانی اور صوبہ داروں کی لالچ، ضرب المثل بن چکے تھے۔ اگرچہ کرپشن کی ان تمام شکلوں کو قابو میں رکھنے کے لیے حکومت نے بارہا مداخلت کی۔ اس کے باوجود بھی ہم کرپشن کے بارے میں صرف ان قوانین کی معرفت سے جانتے ہیں جن کے ذریعہ اس کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی تھی اور اس لیے بھی کیونکہ مورخین اور دانشوروں کی جماعت نے اس طرح کی حرکتو ں کی بھرپور مذمت کی ہے۔ تنقید کا یہ عنصر کلاسیکی دنیا کا ایک قابل ذکر امتیاز ہے۔ رومی سلطنت ایک آمرانہ نظام پر مبنی تھی۔ دوسرے لفظوں میں اختلاف رائے کو شاذو نادر ہی برداشت کیا جاتا تھا۔ عام طور پر حکومت احتجاج کا پرتشدد جواب دیتی تھی (خاص طور پر مشرقی شہروں میں جہاں کے باشندے اکثر بے خوف ہو کر بادشاہوں کی ہنسی اڑاتے تھے) تاہم چوتھی صدی میں رومی قانون کی ایک مضبوط روایت ظہور پذیر ہو چکی تھی۔ اس نے سب سے خوفناک شہنشاہوں پر بھی لگام لگانے کا کام کیا۔ شہنشاہ اپنی من مانی کرنے میں آزاد نہ تھے۔ اور شہری حقوق کی حفاظت کے لیے قانون کا سرگرمی سے استعمال کیا جاتا تھا۔ اس لیے چوتھی صدی کے آخر میں ایمبروز (Ambrose) جیسے طاقتور بشپ نے بھی اتنی ہی طاقت سے ان کا مقابلہ کیا۔
آخر عہد قدیم (Late Antiquity)
رومی دنیا کی آخری صدیوں میں تہذیبی تبدیلی پر غور کرنے کے بعد ہم اس بحث کو ختم کریں گے۔ آخر عہد قدیم ایک ایسی اصطلاح ہے جو آج کل روم سلطنت کے ارتقاء اور زوال کے آخری دلکش عہد کو بیان کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے جو اجمالی طور پر چوتھی سے ساتویں صدی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ چوتھی صدی بذات خود ایک قابل غور ثقافتی اور اقتصادی ہیجان سے بھری تھی۔ ساتویں صدی میں اسلام کی آمد نیز بادشاہ قسطنطین کے مسیحیت کو سرکاری مذہب بنانے کا فیصلہ کرنے کے ساتھ اس عہد نے تہذیبی سطح پر مذہبی زندگی میں کافی ترقیاں دیکھیں۔ لیکن سلطنت کے ڈھانچے میں اتنی ہی اہم تبدیلیاں بھی ہوئیں جن کی شروعات ڈایوک لیٹین (Diocletian 284-305) کے عہد سے ہوئی۔
شہنشاہ قسطنطین 313 ء عیسوی، کے عظیم الجثہ مجسمہ کا ایک حصہ
حد سے زیادہ توسیع نے ڈایوک لیٹین کو سلطنت کی وسعت میں کمی کرنے کے لیے دعوت دی کہ وہ ان تمام علاقوں کو چھوڑ دے جو اقتصادی اور فوجی نقطۂ نظر سے کم اہمیت کے حامل تھے۔ اس نے سرحدوں کی قلعہ بندی کی۔ صوبائی حد بندی کو دوبارہ منظم کیا۔ غیر فوجی اہلکاروں کو فوج کے کاموں سے علاحدہ کر دیا۔ اور فوجی قائدوں (Duces) کو اتنی زیادہ خود مختاری دے دی جس کی وجہ سے یہ اور زیادہ طاقتور گروپ بن گیا۔ قسطنطین نے ان میں سے بعض تبدیلیوں کو مستحکم کیا اور اپنی طرف سے بھی کچھ دوسری سولیڈس کا اضافہ کیا۔ اس کے ذریعہ اہم اختراعات، مالی نظام سے متعلق تھیں۔ اس نے ایک نیا سکہ سولی ڈس (Solidus) متعارف کرایا جو 4.5 گرام خالص سونے کا تھا۔ یہ حقیقت میں رومی سلطنت کے ختم ہونے کے بعد بھی بہت دنوں تک رائج رہا۔ سولیڈی (Solidi) کافی وسیع پیمانے پر ڈھالا جاتا تھا اور یہ لاکھوں کی تعداد میں چلن میں تھے۔ اختراع کا دوسرا علاقہ قسطنطینہ میں دوسرے دارالحکومت کا قیام تھا (ترکی میں جدید استنبول کی جگہ پر واقع تھا اور پہلے اسے بیزنطیئم (Byzantium) کے نام سے جانا جاتاتھا) جو تین طرف سے سمندر سے گھرا ہوا تھا۔ چونکہ نئے دارالحکومت کو نئی مجلس عمائدین (Senate) کی ضرورت تھی، اس لیے چوتھی صدی میں حکمراں طبقہ کی بڑے پیمانے پر توسیع ہوئی۔ مالی نظام میں استحکام اور بڑھتی آبادی کے سبب معاشی نمو میں اضافہ ہوا۔ آثاری دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ بشمول کارخانوں کے قیام جیسے تیل نکالنے کے کولہو اور شیشہ کے کارخانے اور جدید ٹیکنالوجی میں مثلاً پینچ کے کارخانے (Screw Presses)، مختلف قسم کے پانی کی ملوں (Multiple Water-mills) کے دیہی اداروں میں قابل ذکر سرمایہ کاری ہوئی اور ساتھ ہی ساتھ مشرق کے ساتھ لمبی ساخت کی تجارت کا ازسرنو آغاز کیا گیا۔
ان تمام چیزوں نے ایک مضبوط شہری خوشحالی میں اضافہ کیا جس کی وجہ سے فن تعمیر کی نئی صورتوں اور عیش و عشرت کے مبالغہ آمیز تصور میں تیزی آئی۔ اعلیٰ حکمراں طبقہ پہلے سے زیادہ مالدار اور طاقتور ہو گیا تھا۔ مصر میں بعد کی صدیوں کے سینکڑوں پیپری دستاویزات ملے ہیں جن سے کسی حد تک متمول سماج کا پتہ چلتا ہے، جس میں پیسہ بڑے پیمانے پر رائج تھا۔ نیز دیہی ریاستوں نے سونے کی شکل میں بڑی دولت پیدا کر لی تھی۔ مثال کے طور پر چھٹی صدی میں جسٹینین (Justinian) کے عہد میں مصر سے 2.5 ملین سولیڈی (Solidi) سالانہ ٹیکس وصول ہوتا تھا (تقریباً 35,000 سونے کے ابس (Ibs of Gold)۔ دراصل مشرق قریب کے اکثر دیہی علاقے پانچویں اور چھٹی صدی میں اس قدر ترقی یافتہ اور گنجان آباد تھے جتنے کہ بیسویں صدی میں ہیں۔ یہ وہ سماجی پس منظر ہے جس کے تقابل میں ہم اس عہد کے ثقافتی نشوونما کے نمونے پیش کریں گے۔
کلاسیکی دنیا یعنی یونان (Greek) اور رومیوں کی روایتی مذہبی تہذیب اصنام پرست (Polytheist) تھی جو بہت سے طریق عبادت میں یقین رکھتے تھے جس میں رومی اور اطالوی دیوتا جیسے جوپیٹر (Jupiter)، جونو (Juno)، مینروا (Minerva) اور مارس (Mars) شامل تھے۔ اسی طرح سے ہزاروں معبدوں، خانقاہوں اور مقدس مقامات میں یونانی اور مشرقی دیویوں کی پوری سلطنت میں عبادت کی جاتی تھی۔ مُشرکوں (Polytheists) کے لیے کوئی مشترک نام یا پہچان نہ تھی، جس سے انہیں موسوم کیا جاتا۔ سلطنت میں دوسرا عظیم مذہب یہودیت تھا۔ یہودیت (Judaism) بت پرستی* (Monolith) پر مبنی نہ تھی۔ آخر عہد قدیم میں یہودی طبقات کے اندر بہت زیادہ اختلافات پائے جاتے تھے۔ اسی طرح چوتھی اور پانچویں صدی میں سلطنت کی تنصیر** (Christianisation) ایک تدریجی اور پیچیدہ عمل تھا۔ اصنام پرستی ایک دم غائب نہیں ہوئی تھی خاص طور پر مغربی علاقوں میں باقی تھی، جہاں عیسائی اسقفوں (Bishops) نے مروج اعتقادات اور عبادات کے خلاف مسلسل جنگ چھیڑ رکھی تھی اور غیر کلیسائیت***(Christian Laity) کے مقابلے میں اصنام پرستی کی ملامت کرتے تھے۔ چوتھی صدی میں مختلف مذہبی جماعتوں کے درمیان حد بندی اتنی سخت نہ تھی جتنی کہ آگے چل کر مذہبی رہنماؤں کی مسلسل کوششوں کی وجہ سے ہو گئی تھی۔ طاقتور اسقف جو اب چرچ کی قیادت کر رہے تھے، انہوں نے اپنے پیروکاروں کو کٹّرپن کے ساتھ عقیدے اور رسومات پر عمل پیدا ہونے پر زور دیا۔
* مونولتھ (Monolith) لغوی معنی ایک بڑا سنگی ٹکڑا، لیکن یہاں کسی بھی اسلوب بیان یا اظہار کے لیے استعمال کیا گیا ہے (مثلاً سماج یا کثافت) جس میں تنوع کا فقدان ہو اور سبھی ایک طرح کے لگیں۔
** تنصیر اس عمل کو کہتے ہیں جس کے ذریعہ عیسائی مذہب عوام کے مختلف طبقات میں پھیلایا گیا اور وہاں کا غالب مذہب بن گیا۔
*** غیر کلیسائیت، مذہبی طبقہ کا ایک عام ممبر جو مذہبی پیشوا یا پادریوں، جو سماج میں رسمی حیثیت رکھتے ہیں، ان کی مخالفت کرتا ہے۔
یہ نمائش گاہ (Colosseum) 79 عیسوی میں تعمیر ہوئی تھی، جہاں پیشہ ور تیغ زن، جنگلی خونخوار جانوروں سے لڑتے تھے۔ اس میں 60,000 افراد بیٹھ سکتے تھے۔
خاص طور پر مشرقی علاقوں میں عمومی خوشحالی آئی جہاں چھٹی صدی کے بیشتر حصے میں آبادی بڑھتی رہی، حالانکہ وہاں پلیگ کی وبا کا حملہ ہوا تھا جس کی وجہ سے 540 کی دہائی میں بحیرۂ روم کے علاقے متاثر ہوئے تھے۔ اس کے برخلاف مغرب میں رومی سلطنت سیاسی طور پر منتشر ہو گئی تھی۔ کیونکہ شمالی جرمنی کے طبقوں (گوتھ، ونڈال، لومبارڈ وغیرہ) نے تمام اہم علاقو ں پر قبضہ کر کے اپنی حکومت قائم کر لی تھی جو ابعدروم کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ان میں سب سے اہم اسپین میں وزی گوتھوں (Visigoths) کی حکومت تھی جس کو عربوں نے 711 اور 720 کے درمیان تاخت و تاراج کر دیا تھا اور گال (Gaul) میں فرینکوں (Franks) کی حکومت (تقریباً 511-687) اور اٹلی میں لومبارڈوں (Lombards 568-774) کی حکومت تھی۔ ان سلطنتوں نے ایک مختلف دنیا کا آغاز کیا جسے عام طور پر عہد وسطیٰ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ مشرق میں جہاں سلطنت مستحکم بنی رہی تھی وہیں جسٹینین کی حکومت شاہی حوصلہ مندی اور خوشحالی کی اعلیٰ مثال تھی۔ جسٹینین نے ونڈالوں (Vandals) سے افریقہ کو (533 میں) دوبارہ حاصل کرلیا۔ لیکن اس کے ذریعہ اٹلی کی بازیابی اوسٹروگوتھوں (Ostrogoths) سے نے اس کے ملک کو تباہ کر دیا اور لومبارڈ کے حملے کے لیے راستہ صاف ہو گیا۔ ساتویں صدی کی ابتداء میں روم اور ایران کے درمیان جنگ پھر سے بھڑک اٹھی۔ ساسانیوں نے جو تیسری صدی سے ایران پر حکومت کر رہے تھے، سبھی بڑی مشرقی علاقوں (بشمول مصر) پر بڑے پیمانے پر حملے کردیے رومی سلطنت جو اس وقت بازنطینی (Byzantium) کے نام سے جانی جاتی تھی، اس نے ان علاقوں کو 620 کی دہائی میں دوبارہ حاصل کیا۔ یہ جنوب سے آنے والے آخری بڑے طوفان سے کچھ ہی برس قبل کا واقعہ ہے۔

نقشہ 2 مغربی ایشیا
عرب میں اسلام کی اشاعت کو قدیم دنیا کی تاریخ میں سب سے عظیم سیاسی انقلاب کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔642 میں حضرت محمدؐ کی وفات کے بعد مشکل سے دس سالوں کے اندر مشرقی روم اورساسانی سلطنت کے اکثر حصے سلسلہ وار اور متحیر کن جنگوں کی وجہ سے عربوں کے قبضہ میں آگئے تھے۔ بہر حال یہ ذہن نشین رہے کہ وہ فتوحات جو (ایک صدی بعد) بالآخر اسپین، سندھ اور وسط ایشیا تک پھیل گئیں تھیں، ان کی شروعات دراصل ظہور پذیر اسلامی ریاست کے ذریعہ عرب قبائل کو سب سے پہلے عرب میں پھر شامی ریگستانی علاقے اور عراق کے علاقوں میں اسلامی ریاست کے تابع کر کے ہوئی تھی، جسے ہم آگے چل کر باب 4 میں دیکھیں گے کہ اسلام کی علاقائی توسیع کا کلیدی عنصر جزیرہ نما عرب اور یہاں کے بہت سے قبائل کے اتحاد میں پوشیدہ تھا۔
| حکمراں |
27 ق |
اوکٹاوین نے شہنشاہی (Principate) کی بنیاد ڈالی، اب اپنے آپ کو اگسٹس کہنے لگا تھا۔ |
27 ق م سے 14 عیسوی
|
تقریباً 24-79 |
پلینی کلاں کی زندگی، جو ویسوئیس (Vesuvius) میں آتش فشاں پہاڑ کے پھٹنے سے فوت ہو گیا تھا، جس کے لاوے نے رومی قصبہ پومپئی کو بھی خاکستر کر دیا تھا۔ |
اگسٹس پہلا رومی شہنشاہ 1437
|
66-70 |
یہودیوں کی عظیم بغاوت، رومی افواج نے یروشلم پر قبضہ کیا۔ |
ٹیبریس (Tiberius)
|
تقریباً 115 |
مشرق میں ٹراجن کی فتوحات کے بعد رومی سلطنت کی عظیم توسیع |
| 98-117 |
|
|
ٹراجن 117-38
|
|
سلطنت کے تمام آزاد باشندوں کو رومی شہریت دے دی گئی |
| ہاڈریین (Hadrian) |
212 |
ایران میں نئے شاہی خاندان کی حکومت کا قیام۔ اسے ساسان کے اجداد کی جانب نسبت کی وجہ سے ساسانی کہا گیا۔ |
193-211
|
224 |
فرات کے مغرب میں رومی علاقوں پر ایرانیوں نے حملہ کیا |
سیپٹیمس سیویرس (Septimius Severus)
|
250s |
کارتھیج کے قبرصی اسقف (Bishop) کو پھانسی دی گئی |
241-72
|
258
|
|
| ایران بھی شاپوراول کا عہد حکومت |
260s |
|
253-68
|
|
|
| جالینوس |
273
|
پالیمرا (Palmyra) کا کارواں شہر کو رومیوں نے تباہ و برباد کیا |
284-305
|
297
|
|
| ’فوجدار‘ (The Tetrarchy) |
تقریباً 310
|
ڈایوکلیٹین نے سلطنت کو ازسرنو 100 صوبوں میں منظم کیا |
ڈایوک لیٹین اہم حکمراں
|
312
|
قسطنطین نے سونے کا نیا سکہ (سولیڈس Solidus) جاری کیا |
| 312-37 |
324 |
قسطنطین نے عیسائی مذہب قبول کیا |
قسطنطین
|
354-430
|
ہپّو (Hippo) کا اسقف (Bishop) اگسٹائن (Augustine) کا عہد زندگی |
| 309-79 |
|
|
شاہ پور دوم کی ایران میں حکومت
|
378 |
گوتھوں نے رومی فوجوں کو ایڈرایانوپل (Adrianople) کے مقام پر شکست فاش دی۔ |
| 408-50 |
391 |
اسکندریہ میں سیراپیم (Serapeum) (سیراپیوں Serapis کے مندر) منہدم کیے گئے۔ |
تھیوڈوسیس دوم (Theodosius)
|
410 |
وزی گوتھوں (Visigoths) کے ذریعہ روم کا تخت و تاراج ہونا |
| (مشہور تھیوڈوسین کوڈ (Theodosian Code) کا مولف) |
434-53 |
اٹلاہن کی سلطنت (Attila the Hun) |
490-518
|
493 |
اوسٹروگوتھوں (Ostrogoths) نے اٹلی میں مملکت قائم کی |
| اناسٹاسیس (Anastasius) |
533-50 |
جسٹینین کے ذریعہ افریقہ اور اٹلی کی بازیابی |
527-65
|
541-570 |
بوبونک طاعون (Bubonic Plague) کا پھیلنا |
| جسٹینین |
568 |
لومبارڈوں (Lombards) نے اٹلی پر حملہ کیا۔ |
ایران میں خسرو اول کا دور حکومت531-79
|
تقریباً 570 |
حضرت محمدؐ کی پیدائش |
| 610-41 |
614-19 |
ایرانی حکمراں خسرو دوم نے مشرقی رومی علاقوں پر حملہ کر کے ان پر قبضہ کر لیا۔ |
| ہیراکلیس (Heraclius) |
622
|
حضرت محمدؐ اور ان اصحاب کی مکہ سے مدینہ ہجرت۔ |
| |
633-42 |
عربوں کی فتوحات کا پہلا اور فیصلہ کن دور، مسلم فوجوں نے شام، فلسطین، مصر، عراق اور ایران کے کچھ علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ |
|
661-750 |
شام میں امومی خاندان کی حکومت |
| |
698 |
عربوں نے کارتھیج پر قبضہ کیا |
|
711 |
اسپین پر عربوں کا حملہ |

547 عیسوی کی راوینا (Ravenna) پچی کاری میں شہنشاہ جسٹینین کو دکھاتے ہوئے۔
مشق
مختصر جواب دیں
1.اگر آپ رومی سلطنت میں ہوتے تو آپ دیہی علاقوں میں رہنا پسند کرتے یا شہر میں؟بتائیے کیوں۔
2. اس باب میں مذکورہ کچھ قصبوں ،شہروں ،دریاؤں اور سمندروں کی فہرست بنائیے اور پھر ان کو نقشہ میں تلاش کیجیے۔کیا آپ اپنی تیار کی ہوئ فہرست میں کسی بھی تین چیزوں کے بارے میں کہہ سکتے ہیں ؟
3.تصور کیجیے کہ آپ ایک رومی گھریلوعورت ہیں اور گھریلو ضروریات کے لیے خریداری کی فہرست تیار کر رہی ہیں ۔آپ کی فہرست میں کون کون سی اشیاء ہوں گی؟
4.آپ کے خیال میں رومی حکومت نے چاندی کے سکے ڈحالنا کیوں بند کردیا تھا؟اور سکہ ڈحالنے کے لیے کون سی دھات کا استعمال شروع کیا تھا۔
مختصر مضمون لکھیے۔
5.فرض کیجیے کہ شہنشاہ ٹراجن نے ہندوستان کو فتح کرلیا ہوتا اور رومی کئ صدیوں تک اس پر حکمراں رہے ہوتے۔آپ کے خیال میں آج ہندوستان کس طرح سے مختلف ہوتا ؟
6.سبق کا بغور مطالعہ کیجیے ۔رومی سماج اور معیشت کی کچھ ایسی بنیادی خصوصیات کو منتخب کیجیے جو آپ کے خیال میں اس کو پوری طرح جدید شکل میں پیش کرتی ہیں ۔