عرب میں اسلام کا آغاز: عقیدہ امت اور سیاست
612-632کے درمیان پیغمبر حضرت محمدؐ نے واحد معبود، اللہ کی عبادت اور ایمان والوں کی واحد جماعت (امت) کارکن بننے کی دعوت دی۔ یہ اسلام کی بنیاد تھی۔ حضرت محمدؐ زبان و تہذیب سے عرب اور پیشے سے تاجر تھے۔ چھٹی صدی کی عرب تہذیب بڑی حد تک جزیرۂ نما عرب، جنوبی شام اور میسوپوٹامیہ کے علاقوں پر محیط تھی۔
عرب قبیلوں* *میں منقسم تھے۔ ہر قبیلے کی قیادت ایک سردار (شیخ) کرتا تھا جس کا انتخاب کسی حد تک خاندانی نسبت لیکن زیادہ تر اس کی بہادری، دانشمندی اور مروت کی بنا پر ہوتا تھا۔ ہر قبیلے کے اپنے دیوتا یا دیویاں ہوتی تھیں جن کی پوجا عبادت گاہوں میں بتوں (اصنام) کے طور پر ہوتی تھی۔ بہت سے عرب خانہ بدوش (بدوی) تھے۔ یہ لوگ اپنے اونٹوں کے چارہ اور غذا (خاص طور پر کھجور) کی تلاش میں صحرا کے خشک علاقوں سے سرسبز علاقوں (نخلستانوں) کی طرف کوچ کرتے تھے۔ کچھ لوگ شہروں میں بس گئے تھے اور تجارت یا کھیتی کرنے لگے تھے۔ حضرت محمدؐ کا اپنا قبیلہ قریش مکّہ میں رہتا تھا۔ اور مرکزی عبادت گاہ، ایک مکعب نما ڈھانچہ (عمارت)، جسے کعبہ کہا جاتا تھا، پر اس کا کنٹرول تھا جس میں بت رکھے ہوئے تھے اور مکہ کے باہر کے قبیلے بھی کعبہ کو مقدس سمجھتے تھے اور اپنے اپنے بت اس عبادت گاہ میں رکھتے تھے، نیز اس عبادت گاہ کی سالانہ زیارت (حج) کرتے تھے۔ مکہ، شام اور یمن کے تجارتی راستہ کی گزرگاہ (Cross Roads) پر واقع تھا جس کی وجہ سے اس کی اہمیت اور بڑھ گئی (دیکھئے نقشہ)۔ مکہ کی عبادت گاہ مقدس (حرم) تھی جہاں تشدد ممنوع (حرام) تھا اور تمام زائرین کو پناہ دی جاتی تھی۔ حج اور تجارت کی وجہ سے خانہ بدوش اور سکونت پذیر قبائل کو ایک دوسرے سے بات چیت کرنے اور اعتقادات و رسم و رواج میں شریک ہونے کا موقع ملتا تھا۔ اگرچہ مشرک عرب کسی حد تک اعلیٰ معبوداللہ سے واقف تھے (شاید اپنے درمیان یہودی اور عیسائی قبائل کے اثر کی وجہ سے)۔ مگر ان کا فوری اور قوی لگاؤ بتوں اور عبادت گاہوں سے زیادہ تھا۔
* قبیلے وہ سماج ہیں جو خونی رشتوں کی بنیاد پر منظم ہوتے ہیں عرب قبائل خانوادوں کی خیل یا خاندانوں پر مشتمل تھے اور غیر متعلق خاندانوں کے ملنے سے قبیلے اور مضبوط ہوتے تھے۔ عرب افراد (حوالی) قبیلہ کے بااثر لوگوں کی سرپرستی میں اس کے ممبر بنتے تھے۔ اسلام لانے کے بعد بھی حوالی کے ساتھ عربوں کے ذریعہ مساویانہ سلوک نہیں کیا گیا اور وہ الگ مسجدوں میں نماز پڑھتے تھے۔
لگ بھگ 612کے قریب حضرت محمدؐ نے خود کو اللہ کا رسول اعلان کیا اور کہا کہ خدا نے ان کو حکم دیا کہ وہ صرف ایک اللہ کی عبادت کی تبلیغ کریں۔ عبادت آسان مذہبی رسوم مثلاً روزانہ نماز (صلوٰۃ) اور اخلاقی اصول جیسے خیرات دینے اور چوری سے باز رہنے پر مشتمل تھی۔ حضرت محمدؐ مشترکہ نمونہ کے مذہبی عقائد کے ماننے والے پابند افراد کی ایک جماعت (امت) بنانا چاہتے تھے۔ امت کے افراد اللہ اور دوسرے مذاہب کے افراد کے سامنے مذہب کی موجودگی یا حقیقت کے متعلق گواہی (شہادت) دیتے۔ حضرت محمدؐ کے پیغام کا اثر مکہ کے خصوصاً ان لوگوں پر ہوا جو مذہب اور تجارت کے فوائد سے محروم تھے اور ایک نئی سماجی شناخت کی تلاش میں تھے۔ جن لوگوں نے اس عقیدہ کو قبول کیا وہ مسلمان کہلائے۔ ان سے قیامت کے دن نجات اور دنیا میں رہتے سماج کے وسائل میں حصہ دینے کا وعدہ کیا گیا۔ مسلمانوں کو جلد ہی مکہ کے با اثر لوگوں کی جانب سے شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ ان لوگوں نے اپنے دیوتاؤں کے انکار کی وجہ سے تشدد اختیار کرلیا تھا اور وہ نئے مذہب کو مکہ کی ترقی اور حیثیت کے لیے خطرہ سمجھتے تھے۔ 622 میں حضرت محمدؐ کو اپنے پیروکاروں کے ہمراہ مکہ چھوڑ کر مدینہ جانا پڑا۔ حضرت محمدؐ کا مکہ سے سفر (ہجرت) اسلام کی تاریخ میں ایک اہم موڑ تھا۔ مدینہ میں آپ کی آمد سے مسلم کیلنڈر کی ابتداء ہوتی ہے۔

تیرھویں صدی کی کتاب عجائب المخلوقات میں جبریل فرشتہ کی ایک خیالی تصویر۔
عہد وسطی میں بنی جبرئیل فرشتے کی تصویر جو رسولؐ کو خدا کا پیغام لاتے تھے۔ پہلا لفظ جو یاد کروایا وہ اقرأ تھا۔ قرآن اور اقرأ کا ماخذ ایک ہے۔ اسلامی علم کائنات (Cosmology) کے مطابق دنیا میں تین قسم کی ذی ہوش مخلوق پائی جاتی ہے۔ فرشتے ان میں سے ایک ہیں دیگر دو؛ انسان اور جن ہیں۔
مذہب کی بقاء کا انحصار اس مذہب کے ماننے والے سماج کی بقاء پر ہوتا ہے۔ سماج کو اندرونی طور پر مستحکم کرنا اور خارجی خطرات سے محفوظ رکھنا ہوتا ہے۔ استحکام اور حفاظت سیاسی اداروں مثلاً ریاستوں اور حکومتوں کے متقاضی ہوتے ہیں جو یا تو ماضی سے ورثہ میں ملتی ہیں یا باہر سے مستعار لی جاتی ہیں۔ یا ان کی تشکیل خود سے کی جاتی ہے۔ حضرت محمدؐ نے مدینہ میں ایسا سیاسی انتظام تینوں ذرائع سے پیش کیا جس سے آپ کے متبعین کو مطلوبہ حفاظت ملی اور شہروں کی قدیم خانہ جنگی کا خاتمہ ہوگیا۔ امت کو ایک بڑے سماج میں تبدیل کردیا گیا تاکہ مشرکین اور مدینہ کے یہودیوں کو محمدؐ کی سیاسی قیادت میں شامل کیا جاسکے۔ مذہبی رسوم میں اضافہ کرکے اور ان کو خالص بنا کر (جیسے روزہ) اور اخلاقی اصولوں کے ذریعہ حضرت محمدؐ نے اپنے متبعین کے عقائد کو مضبوط کیا۔ امت کی بقاء کا دارو مدار کھیتی اورتجارت مزید برآں زکوٰۃ پر تھا۔ اس کے علاوہ مسلمانوں نے مکہ کے قافلوں اور قریب کے نخلستان پرچھاپے مارے۔ یہ حملے مکہ کے لوگوں کی جانب سے شدید رد عمل اور مدینہ کے یہودیوں کے ساتھ خراب تعلقات کا سبب بنے۔ مسلسل جنگوں کے بعد مکہ فتح ہوگیا اور محمدؐ کی شہرت ایک مذہبی مبلغ اور سیاسی لیڈر کی حیثیت سے دور دراز تک پھیل گئی۔
اسلامی کیلنڈر
ہجری کیلنڈر کی شروعات حضرت عمر کے زمانہ خلافت میں ہوئی۔ جس کا پہلا سال 622 عیسوی ہے۔ ہجری کیلنڈر کی تاریخ کے بعد حروف AHلکھے جاتے ہیں۔ ہجری 354دنوں کا قمری سال ہوتاہے۔ اس میں 29یا 30 دن کے بارہ مہینے (محرم سے ذی الحجہ) ہوتے ہیں۔ ہر دن غروب آفتاب اور ہر مہینہ ہلال (پہلے دن کا چاند) دیکھنے سے شروع ہوتا ہے۔ ہجری سال شمسی سال سے لگ بھگ 11دن کم ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے کوئی بھی اسلامی مذہبی تہوار بشمول رمضان کے روزے، عید اور حج کبھی بھی موسم کے مطابق نہیں ہوتا ہے۔ ہجری کیلنڈر کی تواریخ گریگورین کیلنڈر (Gregorian Calendar) (اس کی شروعات پوپ گریگوری سیزردہم (Pope Gregory XIII)نے 1582 میں کی تھی) کی تاریخوں سے میل کرانے کا کوئی آسان طریقہ نہیں ہے۔ مندرجہ ذیل فارمولے کے ذریعہ اسلامی (ھH) اور گریگورین عیسائی (c)سالوں کے درمیان کام چلاؤ طریقے سے میل کیا جاسکتا ہے۔
H × 32/33 + 622 = C
(C – 622) × 33/32 = H
کعبہ میں زائرین پندرہویں صدی کی ایک ایرانی تصویر۔
اب حضرت محمدؐ نے تبدیلی مذہب کو امت کی رکنیت کے لیے واحد معیار قرار دیا۔ صحرا کے پریشان کن حالات میں عربوں نے قوت اور اتحاد کو سراہا۔ حضرت محمدؐ کی کامیابیوں سے متاثر ہوکر بہت سے قبائل خاص طور پر بدوی اسلام قبول کرکے امت میں شامل ہوگئے۔ حضرت محمدؐ کے حلیفوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہا یہاں تک کہ پورے عرب نے اسلام قبول کرلیا۔ مدینہ ظہور پذیر اسلامی حکومت کی انتظامی راجدھانی اور ساتھ ہی مکہ اس کا مذہبی مرکز ہوگیا۔ کعبہ کو بتوں سے پاک کردیا گیا کیونکہ مسلمانوں کو نماز ادا کرتے وقت اس عبادت گاہ کی طرف رُخ کرنا تھا۔ ایک مختصر مدت میں حضرت محمدؐ عرب کے بڑے حصہ کو نئے عقیدے، نئی امت اور نئی حکومت کے ماتحت متحد کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ ابتدائی اسلامی ریاست گرچہ لمبی مدت تک عرب خاندانوں اور قبیلوں کے وفاق کے طور پر بنی رہی۔
خلافت: توسیع، خانہ جنگی اور فرقوں کا بننا
632میں حضرت محمدؐ کی وفات کے بعد کسی کے لیے بھی اسلام کا نیا پیغمبر ہونے کا دعویٰ کرنا جائز نہیں ہے۔ نتیجتاً حضرت محمدؐ کا سیاسی اقتدار جانشینی کے مقررہ اصول کے بغیر امت کی جانب منتقل ہوگیا۔ اس سے نئی اختراعات و بدعات کے لیے بہت سے مواقع فراہم ہوگئے۔ لیکن یہ مسلمانوں کے درمیان شدید اختلافات کا سبب بھی بنا۔ سب سے اہم اختراع خلافت کے ادارے کا قیام تھا جس میں امت کا قائد (امیر المومنین) نبی کا نائب (خلیفہ) بنا۔ پہلے چار خلیفہ (632-661) نے پیغمبر کے ساتھ اپنے گہرے تعلقات کی وجہ سے اپنی حکومتوں کو صحیح ثابت کردیا اور آپؐ کے ذریعہ دی گئی عام ہدایت کی روشنی میں آپؐ کے کام کو آگے بڑھایا۔ خلافت کے دو مقصد تھے پہلا امت کی تشکیل دینے والے قبائل پر قابو رکھنا اور دوسرا حکومت کے وسائل میں اضافہ کرنا۔

حضرت محمدؐ کی وفات کے بعد بہت سے قبائل نے اسلامی ریاست سے اپنا ناطہ توڑ لیا۔ کچھ نے تو اپنے پیغمبر پیش کردئے تاکہ امت کی طرز پر اپنی جماعتیں بنا سکیں۔ پہلے خلیفہ حضرت ابو بکرؓ نے ان بغاوتوں کو مسلسل جنگوں کے ذریعہ کچل دیا۔ دوسرے خلیفہ حضرت عمرؓ نے امت کی پالیسی کو توسیع کی طرف منتقل کردیا۔ خلیفہ کو معلوم تھا کہ امت کے امور کا انتظام تجارت اور زکوٰۃ کے ذریعہ ہونے والی معمولی آمدنی سے نہیں کیا جاسکتا۔ اس بات کو محسوس کرکے کہ مہم جو یانہ جنگی حملوں سے مال غنیمت حاصل کیا جاسکتا ہے، خلیفہ اور ان کے جنگی قائدوں نے مغرب میں باز نطینی سلطنت اور مشرق میں ساسانی سلطنت کے علاقوں کو فتح کرنے کے لئے اپنی قبائلی قوت کو یکجا کیا۔ اپنے عروج کے زمانے میں باز نطینی اورساسانی سلطنتوں نے بہت بڑے علاقے پر حکومت کی تھی اور اپنے سیاسی اور تجارتی مفاد کے حصول کی خاطر عرب کے اہم وسائل پر قبضہ کر رکھا تھا۔ باز نطینی سلطنت عیسائیت کو فروغ دے رہی تھی اور ساسانی سلطنت زرتشتیت جو ایران کا قدیم مذہب تھا کی سرپرستی کرتی تھی۔ عربوں کے جنگی حملوں کے وقت یہ دونوں سلطنتیں مذہبی تنازعات اور امراء کی بغاوتوں کی وجہ سے کمزور ہوگئی تھیں جس کی وجہ سے عربوں کو ان سلطنتوں کو جنگوں اور معاہدوں کے ذریعہ زیر نگین کرنا آسان ہوگیا تھا۔ تین کامیاب جنگی مہموں (637-642) کے بعد عربوں نے شام، عراق، ایران اور مصر کو مدینہ کے ماتحت کرلیا۔ جنگی حکمت عملی، مذہبی ولولہ اور مخالف کی کمزوری عربوں کی کامیابی میں مددگار ثابت ہوئی۔ مزید جنگی مہمیں وسطی ایشیا پر کنٹرول بڑھانے کے لئے تیسرے خلیفہ حضرت عثمانؓ نے شروع کیں۔ حضرت محمدؐ کی وفات کے بعد کے دس ہی سالوں کے اندر عرب اسلامی ریاست کا قبضہ دریائے نیل اور دریائے آکسس (Oxus) کے بیچ کے وسیع علاقے پر ہوگیا۔ یہ علاقے آج بھی مسلم حکومتوں کے زیرنگیں ہیں۔
تمام مفتوحہ صوبوں میں خلفاء نے گورنروں (امیروں) اور قبائلی سرداروں (اشراف) کے زیرقیادت ایک نیا انتظامی ڈھانچہ لاگو کیا۔ مرکزی خزانہ (بیت المال) کی آمدنی کا ذریعہ مسلمانوں کی طرف سے دی گئی محصول اور مال غنیمت میں سے ملنے والا حصہ تھا۔ خلیفہ کے فوجی جو زیادہ تر بدو تھے، ریگستان کے کنارے کے فوجی شہروں جیسے کوفہ اور بصرہ میں آباد ہوگئے تاکہ اپنے قدرتی علاقے سے قریب اور خلیفہ کی ماتحتی میں رہیں۔ حکمراں طبقہ اور فوجیوں کو مال غنیمت میں حصہ اور ماہواری تنخواہ (عطا) ملتی تھی۔ غیر مسلم آبادی کو خراج اور جزیہ دے کر اپنے مذہبی رسوم ادا کرنے اور مال و جائیداد رکھنے کا حق حاصل تھا۔ یہودیوں اور عیسائیوں کو ذمی (حکومت کے ذریعہ امان یافتہ) قرار دیا گیا اور ان کو اپنے مذہبی معاملات کی ادائیگی میں کافی حد تک خود مختاری دی گئی تھی۔
سیاسی توسیع اور اتحاد عرب کے قبائلی لوگوں کو آسانی سے نہیں ملتے تھے۔ علاقوں میں توسیع کے ساتھ وسائل اور عہدوں کی تقسیم سے متعلق جھگڑوں کی وجہ سے امت کی وحدت خطرے میں پڑ گئی۔ ابتدائی اسلامی ریاست کا حکمراں طبقہ پورا کا پورا مکہ کے قریش پر مشتمل تھا۔ تیسرے خلیفہ حضرت عثمانؓ (644-656) جو قبیلہ قریش سے تھے، نے زیادہ کنٹرول رکھنے کے لئے اپنے آدمیوں کو کافی مقدار میں انتظامیہ میں شامل کرلیا جس کی وجہ سے حکومت میں مکی اور دوسرے قبائل کے ساتھ تنازعات میں مزید اضافہ ہوگیا۔ عراق اور مصر میں مخالفت کے ساتھ ساتھ مدینہ میں مخالفت حضرت عثمانؓ کے قتل کا سبب بنی۔ حضرت عثمانؓ کی وفات کے بعد حضرت علیؓ چوتھے خلیفہ بنائے گئے۔
مکہ کے امراء طبقہ کی نمائندگی کرنے والوں کے خلاف حضرت علیؓ کی دو لڑائیوں کے بعد مسلمانوں کے درمیان خلیج اور زیادہ گہری ہوگئی ۔ حضرت علیؓ نے کوفہ میں قیام کیا اور جنگ جمل (657)میں حضرت محمدؐ کی بیوی حضرت عائشہؓ کی قیادت والی فوج کو شکست دی۔ لیکن وہ شام کے گورنر اور حضرت عثمانؓ کے رشتے دار معاویہ والے گروپ کو دبانے میں ناکام رہے۔ صفین (میسوپوٹامیہ) میں حضرت علیؓ کی دوسری جنگ کا خاتمہ عارضی صلح کی صورت میں ہوا جس کی وجہ سے ان کے متبعین دو گروہوں میں تقسیم ہوگئے کچھ لوگ ان کے وفادار بنے رہے اور کچھ لوگوں نے ان کا ساتھ (خیمہ) چھوڑ دیا اور یہ لوگ خوارج کے نام سے مشہور ہوئے۔ جلد ہی ایک خارجی نے حضرت علیؓ کو کوفہ کی ایک مسجد میں قتل کردیا۔ حضرت علیؓ کی وفات کے بعد ان کے متبعین ان کے بیٹے حضرت حسنؓ، امام حسین اور ان کی اولاد کے وفادار رہے۔ 661 میں معاویہ نے خود کو نیا خلیفہ ہونے کا اعلان کیا اور امومی حکومت کی بنیاد رکھی جو 750تک قائم رہی۔
خانہ جنگی کے بعد ایسا لگتا تھا کہ عربوں کا غلبہ ختم ہوجائے گا۔ اس بات کی بھی علامات موجود تھیں کہ فاتح قبائل اپنی رعایا کی تصنع بھری تہذیب کو اپنانے لگے تھے۔ قبیلہ قریش کے ایک خوشحال خاندان بنوامیہ کی قیادت میں استحکام کا دوسرا مرحلہ واقع ہوا۔
بنوامیہ اور نظم حکومت کی مرکزیت
وسیع علاقوں کی فتوحات کی وجہ سے خلافت جس کا مرکز مدینہ تھا، کا خاتمہ ہوگیا اور اس کی جگہ آمرانہ سیاست نے لے لی۔ بنوامیہ نے بہت سے سیاسی اقدامات کرکے امت کے درمیان اپنی قیادت کو مستحکم کیا۔ پہلے اموی خلیفہ معاویہ نے دارالسلطنت کو دمشق منتقل کردیا۔ اور باز نطینی سلطنت کے انتظامی اداروں اور درباری رسوم کو اپنالیا۔ انہوں نے موروثی جانشینی کی ابتداء کی اور اپنے بیٹے کو اپنا جانشین بنانے کے لئے اہم مسلمانوں کو راضی کرلیا۔ ان کے بعد آنے والے خلفاء نے بھی ان نئی چیزوں کو اپنا لیا جس کی وجہ سے بنوامیہ 90 سال تک اور بنو عباس 200سال تک حکومت پر قابض رہے۔
اب اموی حکومت ایک شاہی حکمرانی تھی اور اس کی اساس براہ راست اسلام پر نہیں بلکہ آئین جہانبانی (Statecraft) اور شامی فوجوں کی وفاداری پر تھی۔ انتظامیہ میں عیسائی مشیر اور زرتشی منشی عمال تھے۔ اگرچہ وہ اسلام سے اپنی حکومت کا جواز لیتے رہے۔ بنوامیہ ہمیشہ اتحاد کی اپیل کرتے تھے اور بغاوتوں کو اسلام کے نام پر دباتے تھے۔ انہوں نے اپنی عربی سماجی شناخت کو بنائے رکھا۔ عبدالملک (685-705)اور اس کے جانشینوں نے اسلامی اور عربی شناخت پر کافی زور دیا۔ عبدالملک کے ذریعہ کئے گئے اقدامات میں عربی کو انتظامی زبان بنانا اور اسلامی سکوں کو متعارف کرنا شامل ہے۔ خلافت میں رائج سونے کے دیناراور چاندی کے درہم اور پہلوی (ایران کی زبان) نقش، آتشی قربان گاہ اور صلیب کی نشانیوں والے باز نطینی اور ایرانی سکوں (دینریس Denariusاور دراچم Drachm) یعنی دینار و درہم کی نقل تھے۔ یہ نشانات ہٹا دئے گئے اور سکوں پر عربی نقش کی جانے لگی۔ یروشلم میں پتھر کا گنبد (Dome of the Rock) بنوا کر عبدالملک نے عرب اسلامی شناخت کے سلسلے میں بہت اہم کارنامہ انجام دیا ہے۔

پتھر کا گنبد، عبدالملک کے ذریعہ ایک چٹانی ٹیلے پر تعمیر کیا گیا اسلامی فن تعمیر کا ابتدائی بڑا کام ہے۔ یروشلم شہر میں مسلمانوں کی موجودگی کی پہاڑی چوٹی کی طرح تخلیق۔ جہاں پیغمبر حضرت محمدؐ کو رات کا سفر بہشت (معراج) کا روحانی ربط حاصل ہوا۔

عبدالملک کی سکوں میں اصلاحات
سکوں کے یہ تین نمونے باز نطینی عہد سے عرب اسلامی عہد کے سکوں میں تبدیلی کو ظاہر کرتے ہیں۔ دوسرے سکہ پر خلیفہ کو داڑھی، لمبے بال، روایتی عرب چغہ اور تلوار پکڑے دکھایا گیا ہے۔ یہ ایک مسلمان کی پہلی موجود شبیہ ہے۔ یہ عجیب بھی ہے کیونکہ بعد میں آرٹ و حرفت میں زندہ چیزوں کی شبیہ بنانا حرام ہوگیا۔ عبدالملک کے ذریعہ سکوں میں اصلاحات ریاست کے مالیات کی از سرنو تنظیم سے وابستہ تھیں۔ ان اصلاحات نے سو سال تک کامیابی کا ثبوت دیا۔ تیسرے نمونے کے مطابق سکے سانچے اور وزن کے اعتبار سے ڈھالے گئے۔

یہ پوری طرح ایک کتبانی دینار ہے جس پر کلمہ لکھا ہے’’خدا کے سوا کوئی معبود نہیں اور اس کا کوئی شریک نہیں‘‘۔

عبدالملک کے دور کا طلائی دینار جس پر اس کا نام کندہ اور تصویر نقش ہے۔

باز نطینی طلائی دینار جس پر شہنشاہ ہرکیولس اور اس کے دو بیٹوں کی شبیہ بنی ہے۔
عباسی انقلاب
بنوامیہ کو مسلم نظم حکومت میں کامیاب مرکزیت کی بہت زیادہ قیمت ادا کرنی پڑی۔ ’دعوت‘ نامی ایک بہترین منظم تحریک نے بنوامیہ کا خاتمہ کردیا اور 750 میں ان کی جگہ پر مکہ کے ایک دوسرے خاندان ’بنو عباس‘ کو لے آئی۔ بنو عباس نے اموی حکومت کو ایک برائی کے طور پر پیش کیا۔ اور وعدہ کیا کہ پیغمبرؐ کے اصلی اسلام کو زندہ کریں گے۔ اس انقلاب سے صرف شاہی خاندان میں تبدیلی نہیں ہوئی بلکہ سیاسی ڈھانچے اور اسلامی ثقافت میں بھی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔
عباسی بغاوت خراسان (مشرقی ایران) کے دور دراز علاقے سے شروع ہوئی جو دمشق سے ایک تیز رفتار گھوڑے سے بیس دن کی مسافت پر واقع ہے۔ خراسان میں عربی اور ایرانی مخلوط آبادی تھی جن کو مختلف وجوہات کی بنیاد پر حرکت میں لایا جاسکتا تھا۔ یہاں پر موجود فوجیوں میں سے اکثر عراقی تھے اور وہ شاہوں کے غلبہ کی وجہ سے ناراض تھے۔ خراسان کے عرب باشندے اموی حکومت سے خفا تھے کیونکہ اموی حکومت نے ان سے ٹیکس میں رعایت اور امتیازات دینے کا وعدہ کیا تھا جسے انہوں نے کبھی پورا نہیں کیا۔ جہاں تک ایرانی مسلمان (موالی) کا تعلق ہے تو وہ نسلی امتیاز رکھنے والے عربوں کے حقارت آمیز رویہ کا شکار تھے اور وہ بنوامیہ کو اقتدار سے باہر کرنے والی کسی بھی مہم میں شریک ہونے کے خواہش مند تھے۔
بنو عباس، پیغمبر حضرت محمدؐ کے چچا حضرت عباسؓ کی اولاد، نے مختلف غیر مطمئن گروہوں کی تائید حاصل کر لی تھی اور اقتدار حاصل کرنے کی اپنی کوششوں کو یہ کہہ کر جواز بخشا کہ پیغمبر حضرت محمدؐ کے گھرانے (اہل بیت) کے ایک مسیحا (مہدی) ان کو ظالم اموی حکومت سے نجات دلائیں گے۔ ان کی فوج کی قیادت ایک ایرانی غلام ابو مسلم کر رہا تھا جس نے آخری اموی خلیفہ مروان کو زاب ندی پر واقع جنگ میں شکست دی۔
عباسی دور حکومت میں عربوں کا اثر و رسوخ کم ہوتا گیا جبکہ ایرانی تہذیب کی اہمیت بڑھتی گئی۔ عباسیوں نے قدیم عظیم الشان ایرانی شہر سٹیسیفون (Ctesiphon)کے کھنڈرات کے قریب، بغداد میں اپنا دارالسلطنت قائم کیا۔ عراق اور خراسان کی زیادہ حصہ داری کو یقینی بنانے کے لیے فوج اور نوکر شاہی قبائلی بنیاد پر دوبارہ منظم کیا گیا۔ عباسی خلفاء نے خلافت کے مذہبی رتبہ اور امور خلافت کو مضبوط کیا۔ نیز اسلامی اداروں اور علماء کی سرپرستی کی۔ لیکن حکومت اور سلطنت کی ضرورتوں کے پیش نظر وہ ریاست کی مرکزیت کی صفت کو برقرار رکھنے پر مجبور تھے۔ انہوں نے بنوامیہ کے ذریعہ شروع کئے گئے شاندار شاہی فن تعمیر اور درباری رسوم کو برقرار رکھا۔ وہ حکومت جسے بادشاہت کے ختم کرنے پر فخر تھا اسے دوبارہ قائم کرنے پر خود کو مجبور پایا۔
خلافت کا انحطاط اور سلطنتوں کا ظہور
عباسی خلافت نویں صدی سے کمزور ہوتی گئی۔ کیونکہ نوکر شاہی اور فوج میں عرب حامی اور ایرانی گروہوں کے درمیان تصادم کی وجہ سے بغداد کا کنٹرول دور دراز کے صوبوں پر کم ہوتا گیا۔ 810میں خلیفہ ہارون رشید کے بیٹوں امین اور مامون کے حامیوں کے درمیان خانہ جنگی شروع ہوگئی، جس نے گروہ بندی کو مزید بڑھایا اور ترکی غلام افسروں (مملوک) کے ایک نئے طاقتور گروہ کو جنم دیا۔ شیعیت ایک بار پھر اقتدار کے لیے سنّی راسخ العقیدگی سے مقابلہ کر رہی تھی۔ بہت سے چھوٹے سلاطین خاندان ظہور میں آئے جیسے طاہری اور سامانی ماوراء النہر (Transoxiana) (توران یا آکسس (Oxus)کے پار کا علاقہ) میں اور تلونی (Tulunids)مصر اور شام میں جلد ہی عباسی اقتدار وسطی عراق اور مغربی ایران تک محدود ہوگیا۔ 945 میں اور بھی علاقے ہاتھوں سے نکل گئے جب ایران کے کیسپین کے علاقہ (دیلم) کے ایک شیعہ خاندان بویہ نے بغداد پر قبضہ کرلیا۔ بویہ حکمرانوں نے مختلف خطابات اپنائے بشمول قدیم ایران کا خطاب ’شہنشاہ‘ (بادشاہوں کا بادشاہ) لیکن خلیفہ کا لقب استعمال نہیں کیا۔ انہوں نے عباسی خلیفہ کو اپنی سنّی رعایا کا علامتی حاکم بنائے رکھا۔

850میں دوسرے عباسی خلیفہ المتوکل کے عہد میں تعمیر سمارا کی ایک جامع مسجد۔ اس کا مینار 50میٹر اونچا اور اینٹوں سے بنا ہے جسے میسوپوٹامیہ کے فن تعمیر کی روایت
سے تحریک پاکر تعمیر کیا گیا۔ یہ کئی صدیوں تک دنیا کی سب سے بڑی مسجد بنی رہی۔
خلافت ختم نہ کرنے کا فیصلہ ایک دانشمندانہ فیصلہ تھا۔ کیونکہ دوسرا شاہی شیعہ خاندان فاطمی اسلامی دنیا پر حکومت کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔ فاطمی شیعیت کے ذیلی فرقے اسماعیلی سے تعلق رکھتے تھے۔ اور دعویٰ کرتے تھے کہ وہ پیغمبر حضرت محمدؐ کی بیٹی حضرت فاطمہؓ کی نسل سے ہیں۔ اس وجہ سے صرف وہی اسلام کے جائز حکمراں ہیں۔ ان کی بنیاد شمالی افریقہ میں تھی۔ انہوں نے 949 میں مصر فتح کیا اور فاطمی خلافت قائم کی۔ مصر کی پرانی راجدھانی فسطاط کے بجائے ایک نئے شہر قاہرہ کو اپنا دارالحکومت بنایا۔اس شہر کی بنیاد مریخ سیارہ جسے القاھر بھی کہا جاتا ہے کے طلوع کے دن پڑی تھی۔ دو حریف سلاطین کے خاندان نے شیعہ منتظمین (Administrators)، شعراء اور علماء کی سرپرستی کی۔
سرگرمی 1
زمانۂ خلافت میں تبدیلی ہوتی گئی دارالحکومت کی جگہوں کی نشاندہی کیجیے۔ بتائیے کہ ان میں سے کون سا دارالحکومت سلطنت کے مرکز میں واقع تھا؟
950اور 1200کے درمیان اسلامی سماج واحد سیاسی نظام یا واحد ثقافتی زبان (عربی) کی وجہ سے نہیں بلکہ مشترکہ معاشی اور تہذیبی نمونے کی بنیاد پر متحد تھا۔ سیاسی تقسیم کے درمیان اتحاد کو حکومت اور سماج کو الگ کرکے اعلیٰ اسلامی ثقافت کی زبان فارسی کی شکل میں ترقی کے ذریعہ اور پختہ فکری روایات کے درمیان بات چیت کے ذریعہ قائم رکھا گیا۔ علماء، فنکار اور تاجر مرکزی اسلامی مملکتوں میں آزادانہ گھومتے تھے۔ اور انہوں نے افکار و عادات کی ترویج کو یقینی بنایا۔ ان میں سے کچھ افکار تبدیلی مذہب کی وجہ سے گاؤں کی سطح تک پہنچ گئے۔ اموی اور ابتدائی عباسی عہد میں 10فی صد سے کم والی مسلم آبادی اب بہت زیادہ ہوگئی تھی۔ اسلام کی شناخت دوسرے مذاہب سے جدا مذہب اور ثقافتی نظام کی حیثیت سے اور زیادہ واضح ہوگئی جس کی وجہ سے مذہب بدلنا ممکن اور بامعنی ہوگیا۔
دسویں اور گیارہوں صدی میں ترکی سلطنتوں کے ظہور سے عربوں اور ایرانیوں کے ساتھ ایک تیسرے نسلی گروہ کا اضافہ ہوا۔ ترک ترکستان کے وسط ایشیائی صحراؤں (گھاس کے میدان) ارال سمندر (Aral Sea) کے شمال مشرق سے چین کی سرحد تک کے خانہ بدوش قبائل سے تعلق رکھتے تھے اور انہوں نے بتدریج اسلام قبول کیا تھا (ملاحظہ ہو باب 5)۔ یہ ماہر سوار اور جنگجو تھے اور یہ عباسی سامانی اور بویہ انتظامیہ میں غلاموں اور فوجیوں کی حیثیت سے داخل ہوئے تھے، نیز اپنی وفاداری اور جنگی صلاحیتوں کی وجہ سے اعلیٰ منصب پر فائز ہوتے گئے۔ غزنوی سلطنت کا قیام الپتیگن (Alptegin) (961) کے ذریعہ عمل میں آیا اور اس کو محمود غزنوی (998-1030) نے استحکام بخشا۔ بویوں کی طرح غزنوی بھی ایک فوجی بادشاہی حکومت تھی جس کے پاس ترکوں اور ہندوستانیوں (محمود کا ایک جنرل) ہندوستانی تھا جس کا نام تلک تھا پر مشتمل فوج تھی۔ لیکن ان کی طاقت کا مرکز خراسان اور افغانستان تھا۔ ان کے لئے عباسی خلفاء حریف نہیں بلکہ قانونی جواز کا ذریعہ تھے۔ محمود اس بات سے واقف تھا کہ وہ ایک غلام کا لڑکا ہے اور خاص طور سے خلیفہ سے سلطان کا لقب حاصل کرنے کا خواہش مند تھا۔ خلیفہ شیعہ طاقت سے توازن بنائے رکھنے کے مدنظر سنّی عزنویوں کو حمایت دینے کا خواہش مند تھا۔
سلجوقی ترک توران میں سامانی اور قراخانی (مشرق بعید کے غیر مسلم ترک) فوجوں میں فوجیوں کی حیثیت سے داخل ہوئے تھے۔ بعد میں دوبھائیوں طغرل اور چاغری بیگ کی قیادت میں انہوں اپنا ایک طاقتور گروپ بنالیا۔ محمود غزنوی کی وفات کے بعد کی بدنظمی سے فائدہ اٹھا کر سلجوقیوں نے 1037میں خراسان کو فتح کرلیا۔ اور نیشاپور* کو اپنی پہلی راجدھانی بنایا۔ اس کے بعد سلجوقیوں نے اپنی توجہ مغربی ایران اور عراق (جس پر بویہ قابض تھے) کی طرف مبذول کی اور 1055میں بغداد کو دوبارہ سنی حکومت کے ماتحت لے آئے۔ خلیفہ القائم نے طغرل بیگ کو سلطان کا خطاب دیا۔ یہ ایک ایسا عمل تھا جس نے مذہبی اور سیاسی اقتدار کی علیحدگی کو واضح کردیا۔ پورے خاندان کے ذریعہ حکومت کی قبائلی خصوصیت کے مطابق دونوں سلجوق بھائیوں نے ایک ساتھ مل کر حکومت کی۔ طغرل (متوفی 1064) کا جانشین اس کا بھتیجا الپ ارسلان بنا۔ الپ ارسلان کے دور حکومت میں سلجوقی سلطنت کی توسیع اناطولیہ (موجودہ ترکی) تک ہوگئی۔
* ایک اہم فارسی اسلامی علم و ادب کا مرکز اور عمر خیام کی جائے پیدائش ۔
گیارہویں سے تیرہویں صدی کے درمیان عرب حکومتوں اور یوروپی عیسائیوں کے مابین بہت سے تصادم ہوئے۔ نیچے اس پر بحث کی گئی ہے۔ پھر تیرہویں صدی کی ابتداء میں مسلم دنیا نے اپنے آپ کو ایک بڑی مصیبت میں پایا۔ یہ خطرہ منگولوں سے تھا۔ یہ سکونت پذیر مہذب دنیا پر خانہ بدوشوں کا آخری مگر بہت خطرناک حملہ تھا (ملاحظہ ہو باب 5)۔
ایلیپّو(حلب) ایک ہٹّائٹ اسیرین اور ہیلنسٹک مقام جس کو عربوں نے 636 میں فتح کیا۔ یہ بعد کے ایک ہزار سال تک فتح نہ ہوسکا جب تک صلیبی جنگیں شروع نہ ہوگئیں۔ نصوح المتر کی کا سفر نامہ 1534-36۔
صلیبی جنگیں
قرون وسطیٰ کے اسلامی سماج میں عیسائیوں کو اہل کتاب (کتاب والے لوگ) کہاجاتا تھا۔ کیونکہ ان کے پاس ان کی اپنی الہامی کتاب (عہد نامہ جدید یا انجیل) تھی۔ عیسائیوں کو مسلم حکومتوں میں تاجر، زائر، سفیر اور مسافر کی حیثیت سے داخل ہونے کے لیے امان دی گئی تھی۔ ان میں وہ علاقے بھی شامل تھے جو کبھی باز نطینی سلطنت کے ماتحت رہ چکے تھے۔ خاص طور پر فلسطین کی مقدس سرزمین۔ یروشلم (بیت المقدس) کو عربوں نے 638میں فتح کرلیا تھا۔ لیکن یہ عیسائیوں کے تصور میں ہمیشہ حضرت عیسیٰ کو سولی پر چڑھائے جانے اور دوبارہ زندہ کئے جانے والے مقام کی حیثیت سے برقرار رہا۔ عیسائی یوروپ میں مسلم دنیا کی تصویر کی تشکیل میں سے ایک اہم سبب تھا۔
مسلم دنیا سے عداوت گیارہویں صدی میں اور واضح ہوگئی جب فارمن اور ہنگری کے باشندوں اور کچھ سلاؤ (Slavs)نے عیسائیت کو قبول کرلیا اور صرف مسلم دنیا واحد دشمن رہ گئی۔ گیارہویں صدی میں مغربی یوروپ کی سماجی اور معاشی تنظیموں یا اداروں میں تبدیلیاں رونما ہوئیں، جس کی وجہ سے عیسائی اور اسلامی دنیا کے مابین دشمنی اور زیادہ بڑھ گئی۔ پادری اور جنگجو طبقہ (ابتدائی دو طبقات ملاحظہ ہو باب 6) سیاسی استحکام زراعت اور تجارت پر منحصر معاشی ترقی کو یقینی بنانے کے لئے کوشش کر رہے تھے۔ ایک دوسرے پر سبقت لے جانے والی جاگیری ریاستوں کے درمیان فوجی تصادم کے امکانات اور لوٹ مار پر مبنی معاشی تنظیم کی طرف واپسی پر دی پیس آف گاڈ تحریک (The Peace of God Movement)کے ذریعہ قابو پالیا گیا۔ مخصوص علاقوں میں جو عبادت کی جگہوں سے قریب تھے، مخصوص اوقات میں جو چرچ کے کیلنڈر کے مطابق تھے اور مخصوص غیر محفوظ سماجی گروپ جیسے چرچ کے آدمی اور عام آدمیوں کے خلاف، فوجی تشدد کو ناجائز قرار دے دیا گیا۔ دی پیس آف گاڈ تحریک نے جاگیردارانہ سماج کے جارحانہ رجحانات کو عیسائی دنیا سے اللہ کے ’’دشمنوں‘‘ کی طرف موڑ دیا۔ اس نے ایک ایسا ماحول پیدا کردیا جس میں کافروں کے خلاف لڑنا صرف جائز ہی نہیں بلکہ قابل تعریف بھی تھا۔
1092میں بغداد کے سلجوقی سلطان ملک شاہ کی وفات کے بعد اس کی سلطنت کا انتشار شروع ہوگیا۔ اس طرح باز نطینی شہنشاہ الیکسیس اول (Alexius I)کو ایشیا مائنر (Asia Minor) اور شام کو دوبارہ حاصل کرنے کا موقع مل گیا۔ پوپ اربن دوم (Pope Urban II)کے لئے یہ عیسائیت کی احیاء کا موقع تھا۔ 1095 میں مقدس سرزمین کو آزاد کرانے کے لیے اللہ کے نام پر جنگ کی دعوت میں پوپ باز نطینی شہنشاہ کے ساتھ ہوگیا۔ 1095اور 1291 کے درمیان مغربی یوروپین عیسائیوں نے مشرقی بحیرۂ روم لیوانت (Levant) کے ساحلی ہموار علاقوں کے مسلم شہروں کے خلاف جنگ لڑنے کا منصوبہ بنایا اور جنگیں لڑیں۔ بعد میں ان جنگوں کو ’’صلیبی جنگوں*‘‘ کا نام دیا گیا۔
* پوپ نے لڑنے کے لیے حلف لینے والوں کو رسمی طور پر صلیب کا نشان دینے کا حکم دیا تھا۔
پہلی صلیبی جنگ (1098-1099) میں فرانس اور اٹلی کے فوجیوں نے شام میں انطاکیہ (Antioch) پر قبضہ کرلیا اور یروشلم پر اپنا دعویٰ کیا۔ان کی یہ جیت شہر کے مسلمانوں اور یہودیوں کی قتل و غارت گری اپنے ساتھ لائی۔ اس کا تذکرہ مسلمان اور عیسائی تذکرہ نویس دونوں نے کیا ہے۔ مسلم مصنفین عیسائیوں کی آمد کو (جنہیں افرنجی یا فرنگی کہا جاتا تھا) فرنگی حملہ کہتے ہیں۔ جلد ہی فرنگیوں نے شام۔ فلسطین کے علاقے میں چار صلیبی ریاستیں قائم کرلیں۔ مجموعی طور پر یہ علاقے آؤٹ ریمر (Outremer) (ماورائے بحر کا علاقہ) کے نام سے جانا جاتا تھا اور بعد میں صلیبیوں کو ان کی حفاظت و توسیع کا حکم دیا گیا تھا۔
آؤٹ ریمر علاقے کچھ عرصہ تک اچھی طرح باقی رہے۔ لیکن جب 1144میں ترکوں نے عدیسہ (Edessa) پر قبضہ کرلیا تو پوپ نے دوسری صلیبی جنگ (1145-1149) کے لیے اپیل کی۔ جرمنی اور فرانس کی مشترکہ فوجوں نے دمشق پر قبضہ کرنے کی کوشش کی لیکن انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا اور وہ اپنے وطن لوٹنے پر مجبور ہوئیں۔ اس کے بعد آؤٹ ریمر کی طاقت میں آہستہ آہستہ کمی آتی گئی۔ صلیبی جوش و خروش آرام دہ زندگی اور عیسائی حکمرانوں کے مابین علاقوں کی خاطر جنگ کی نذر ہوگیا۔ صلاح الدین نے ایک مصری شامی سلطنت تشکیل دے کر عیسائیوں کے خلاف جہاد کی دعوت دی اور 1187میں ان کو شکست دے دی۔ اس نے یروشلم (بیت المقدس) کو پہلی صلیبی جنگ کے لگ بھگ سو سال بعد دوبارہ حاصل کرلیا۔ اس وقت کے دستاویز بتاتے ہیں کہ صلاح الدین کا عیسائی آبادی کے ساتھ برتاؤ انسانی بنیاد پر تھا اور اس برتاؤ کے برعکس تھا جو عیسائیوں نے مسلمانوں اور یہودیوں کے ساتھ پہلے کیا تھا۔ اگرچہ اس نے مقدس مرقد چرچ (Church of the Holy Sepulchre) کو عیسائیوں کی تحویل میں دے دیا تھا، لیکن بہت سے چرچ مسجدوں میں تبدیل کردئے گئے تھے۔ اور یروشلم ایک بار پھر مسلم شہر بن گیا تھا۔
شام میں فرنگی
مختلف فرنگی حاکموں (Lords)کے یہاں محکوم مسلم آبادی کے ساتھ برتاؤ ایک دوسرے سے مختلف تھا۔ سب سے پہلے صلبیی جو شام اور فلسطین میں آباد ہوگئے تھے وہ عام طور پر بعد میں آنے والے صلیبیوں سے زیادہ متحمل تھے۔ بارہویں صدی کا ایک شامی مسلم عثمان بن منقض (Usman bin Munqidh) نے اپنی سرگذشت میں اپنے نئے پڑوسیوں کے بارے میں کچھ دلچسپ باتیں لکھی ہیں:
فرنگیوں میں سے کچھ لوگ ہیں جو اس ملک میں آباد ہوگئے تھے اور مسلمانوں کے ساتھ گھل مل گئے ہیں۔ یہ نئے آنے والوں سے بہترین لیکن وہ قاعدہ کلیہ سے مستشنیٰ ہیں اور ان سے کوئی نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا ہے۔
ایک مثال لیجیے۔ ایک مرتبہ میں نے ایک آدمی کو تجارت کی غرض سے انطاکیہ بھیجا۔ اس وقت چیف تھیوڈور سوفیانوس (Chief Theodore Sopianos) (ایک مشرقی عیسائی) وہاں موجود تھا، میں اور وہ دوست تھے۔ اس وقت وہ انطاکیہ میں ہر طرح سے طاقتور تھا۔ ایک دن اس نے میرے آدمی سے کہا ’’میرے فرنگی دوستوں میں سے ایک نے مجھے دعوت پر بلایا ہے۔ میرے ساتھ چلو اور دیکھو کہ وہ کیسے زندگی گزارتے ہیں‘‘۔ میرے آدمی نے مجھے بتایا ’’اس لئے میں اس کے ساتھ چلا گیا، ہم پہلی فرنگی جنگ میں آئے ہوئے پرانے فوجداروں (Old Knights)میں سے ایک کے گھر پہنچے۔ وہ حکومت اور فوجی خدمات سے سبکدوش ہوچکا تھا، اور اس کے پاس گذربسر کے لیے انطاکیہ میں جائیداد تھی، جہاں وہ مقیم تھا۔ اس نے ذائقہ دار اور اچھے کھانوں پر مشتمل بہترین دسترخوان سجایا۔ اس نے دیکھا کہ میں کھانا کھانے میں ہچکچا رہا ہوں، تب اس نے کہا ’’مطمئن ہوکر کھاؤ کیونکہ میں فرنگی کھانا نہیں کھاتا ہوں۔ میں کھانا پکانے کے لئے مصری عورتیں رکھتا ہوں اور جو کچھ وہ پکاتی ہیں وہی کھاتا ہوں، سور کا گوشت کبھی بھی میرے گھر نہیں آیا ہے‘‘۔ اس لئے میں نے کھانا کھایا مگر احتیاط کے ساتھ اور ہم وہاں سے رخصت ہوگئے۔

شام (Syria) میں ایک صلیبی قلعہ جو صلیبی جنگوں کے دوران (1110) تعمیر ہوا۔ یہ عربوں کے زیرنگیں علاقوں پر حملہ کرنے کے لیے ایک فوجی صدر کیمپ تھا۔ اس کے مینار (Tower) اور نہریں (Aqueducts) مملوک سلطان بیبرس (Baybars) نے تعمیر کروائیں تھیں جب 1271 میں اس نے اس پر قبضہ کر لیا تھا۔
بعد میں بازار میں گھوم رہا تھا، اچانک ایک فرنگی عورت نے مجھے پکڑ لیا اور اپنی زبان میں بڑبڑانے لگی، وہ کیا کہہ رہی تھی میں سمجھ نہیں پا رہا تھا۔ فرنگیوں کی ایک بھیڑ میرے گرد جمع ہوگئی۔ مجھے یقین ہوگیا کہ یہ میرا آخری وقت آگیا ہے۔ اچانک وہی فوجدار (Knight)آگیا۔ اس نے مجھے دیکھا اور اس عورت کے پاس گیا اور اس سے پوچھا ’’تم اس مسلمان سے کیا چاہتی ہو؟‘‘ اس نے جواب دیا ’’اس نے میرے بھائی ہرسو (Hurso)کو قتل کیا ہے‘‘۔ یہ ہرسو افیمیا (Afamiya) کا فوجدار تھا جس کو ہاما (Hama) کی فوج میں سے کسی فوجی نے قتل کردیا تھا۔ تب اس فوجدار نے چلا کر اس عورت سے کہا ’’یہ آدمی برجاسی (بورژاو یعنی متوسط درجے کا شہری) اور ایک تاجر ہے، یہ نہ لڑائی کرتا ہے اور نہ جنگ میں شریک ہوتا ہے‘‘۔ وہ بھیڑ پر بھی چلایا اور بھیڑ تتر بتر ہوگئی۔ تب اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور وہاں سے لے گیا۔ اس طرح جو میں نے کھایا تھا,اس کھانے کا اثر یہ تھا کہ اس نے مجھے موت سے بچا لیا‘‘۔
–کتاب الاعتبار
عیسائیوں کے ہاتھوں سے شہر کا نکل جانا 1189میں ایک تیسری صلیبی جنگ کا سبب بنا۔ لیکن صلیبی فلسطین کے کچھ ساحلی شہروں اور عیسائی زائرین کے لیے یروشلم میں آنے جانے کی کھلی اجازت کے سوا کچھ حاصل نہ کرسکے۔ آخر مصر کے مملوک حکمرانوں نے 1291میں تمام صلیبی عیسائیوں کو فلسطین سے بھگا دیا۔ آہستہ آہستہ یوروپ نے اسلام کے خلاف جنگ میں دلچسپی لینا چھوڑ دیا۔ اور داخلی سیاسی اور تہذیبی ترقی پر اپنی توجہ مرکوز کرلی۔
صلیبی جنگوں نے عیسائی مسلم تعلقات پر دیر تک باقی رہنے والے دو اثرات مرتب کئے۔ پہلا حکومت کا اپنی عیسائی رعایا کے ساتھ سخت رویہ اپنانا، ایسی جنگ کی تکلیف دہ یادوں اور مخلوط آبادی والے علاقوں میں حفاظت کی ضرورتوں کی وجہ سے تھا۔ دوسرا اٹلی کے تاجر طبقوں پیسا (Pisa)، جینوا (Genoa) اور وینس (Venice) کا مسلم حکومت کی بازیابی کے بعد بھی مغرب اور مشرق کے درمیان تجارت میں کافی اثر رہا۔
معیشت: زراعت، شہرکاری (Urbanisation)اور تجارت
نئے مفتوحہ علاقوں میں رہنے والوں کا بنیادی پیشہ زراعت تھا۔ اسلامی ریاست نے اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی تھی۔ زمین کے اصل مالک چھوٹے اور بڑے کسان تھے اور بعض حالات میں ریاست ان زمینوں کی مالک ہوتی تھی۔ عراق اور ایران جہاں پر کافی زمینیں تھیں، اس پر کسان کاشتکاری کرتے تھے۔ سامانی اور اسلامی عہد میں جائیداد کے مالکان ریاست کی طرف سے ٹیکس وصول کرتے تھے۔ وہ علاقے جو شبانی زندگی سے مستقل زراعت کی طرف منتقل ہوگئے تھے۔ وہاں یہ زمین گاؤں کی عام ملکیت تھی۔ آخر میں وہ بڑی بڑی جائیداد تھیں جن کو ان کے مالکان نے اسلامی فتوحات کے بعد چھوڑ دیا تھا۔ ان کو ریاست نے لے کر مسلم زعماء کو دے دیا تھا خاص طور پر خلیفہ کی فیملی کے ممبران کو۔
اناج کی زراعت: مزدوروں کا کھانا ایک ٹرے میں پیش کرتے ہوئے۔ سوڈوگیلن (Pseudo-Galen's) کی بک آف انٹی ڈوٹس
(Book of Antidotes) کا عربی ترجمہ 1199۔ (ڈاکٹر گیلن کی کہانی دیکھئے صفحہ- 65 )۔
ریاست کا زرعی زمینوں پر پورے طور سے کنٹرول تھا جو فتح مکمل ہونے پر اپنی آمدنی کا زیادہ حصہ زمین کے لگان سے حاصل کرتی تھی۔ وہ زمین جس کو عربوں نے فتح کیا اور وہ ان کے اصل مالکوں کے قبضہ میں رہی تو ایسی صورت میں ان سے ٹیکس (خراج) لیا گیا اور یہ خراج زراعت کی حالت کے مطابق پیداوار کے آدھے سے لے کر پانچویں حصے تک ہوتا تھا۔ وہ زمین جو مسلمانوں کی یا جس کی زراعت مسلمان کرتے تھے، اس پر پیداوار کا دسواں حصہ (عشر) ٹیکس لگایا جاتا تھا۔ جب غیر مسلم کم ٹیکس دینے کی غرض سے اسلام قبول کرنے لگے جس سے ریاست کی آمدنی کم ہوگئی تو اس کمی کو دیکھ کر خلفاء نے پہلے تو اس تبدیلیٔ مذہب کی ہمت شکنی اور بعد میں ٹیکس کی یکساں پالیسی اختیار کی۔ دسویں صدی سے آگے ریاست نے اپنے عہدہ داروں کو یہ اختیار دیا کہ وہ اپنی تنخواہ علاقوں کی زرعی محاصل سے لیں جس کو اقطاع (محاصل کی تفویض) کہا گیا۔
زرعی خوشحالی سیاسی استحکام کے ساتھ ساتھ آئی۔ بہت سارے علاقوں، بالخصوص وادی نیل میں ریاست نے سینچائی نظام مثلاً باندھوں اور نہروں کا بنوانا اور کنوؤں کا کھدوانا (کنویں میں اکثر و بیشترپن چرخی (Water Wheel)یا نوریہ (Noria)لگا ہوتا تھا)، یہ تمام چیزیں اچھی فصل کے لیے بہت ضروری تھیں، نے مدد دی۔ اسلامی قانون نے ان لوگوں کو ٹیکس میں رعایت دی جنہوں نے زمینوں کو کاشتکاری کے لائق بنایا۔ اس طرح بڑی تکنیکی تبدیلیوں کی عدم موجودگی کے باوجود کسانوں کی پیش قدمی اور ریاست کے تعاون سے قابل کاشت زمینوں میں اضافہ ہوا اور پیداوار کی مقدار بڑھی۔ بہت ساری نئی فصلیں مثلاً کپاس، سنترہ، کیلا، تربوز، پالک اور بیگن (بدین جان) کی اگائی گئیں۔ اور اس کو یوروپ میں برآمد بھی کیا گیا۔
اسلامی تمدن آگے بڑھتا رہا اور اس طرح بہت سارے شہر غیر معمولی طور پر نمودار ہوگئے۔ کئی نئے شہروں کی بنیاد ڈالی گئیں۔ اور اس کا مقصد دراصل ان عرب فوجوں (جند) کو سکونت پذیر کرنا تھا جو انتظامیہ کی ریڑھ کی ہڈی تھے۔ اور اس طرح کے فوجی حفاظت والے شہروں میں، جنہیں مصر کہا جاتا تھا۔ کوفہ اور بصرہ عراق میں اور فسطاط اور قاہرہ مصر میں تھے۔ عباسی خلافت (800)کی راجدھانی کی شکل میں اپنے قیام کے بعد نصف صدی کے اندر بغداد کی آبادی تقریباً ایک ملین ہوگئی۔ ان شہروں کے ارد گرد بعض پرانے قصبے مثلاً دمشق، اصفہان اور سمر قند تھے جنہیں ایک نئی زندگی ملی۔ ان شہروں کا سائز اور آبادی، کھانے کے اناج اور خام مال جیسے کپاس اور چینی کی پیداوار میں اضافے کے ساتھ یہ چیزیں ان کی وسعت میں معاون بنتی گئیں۔ اور یہ چیزیں شہری مصنوعات بنانے کے لیے بہت اہم تھیں۔ ایک وسیع نیٹ ورک کی تکمیل نے ایک قصبہ کو دوسرے قصبہ سے جوڑتے ہوئے ایک حلقہ (Circuit) بنایا۔
شہر کے قلب میں دو عمارتی کمپلیکس (Building Complex) تھے جو ثقافتی اور اقتصادی طاقت کی نشاندہی کر رہے تھے۔ان میں سے ایک جامع مسجد جو کہ اتنی بڑی تھی کہ اس کو کافی دور سے دیکھا جاسکتا سکتا تھا۔ اور وہ مرکزی بازار (سوق) تھا جہاں پر قطار میں دکانیں، ہوٹل اور صرافوں کے آفس تھے۔ شہر میں منتظمین اعیان (ریاست کی آنکھ)، علماء اور تاجروں کے گھر تھے جو کہ مرکز سے قریب رہتے تھے۔ عام طور سے شہریوں اور فوجیوں کی رہائش گاہیں باہری دائرے میں ہوتی تھیں اور ہر ایک کی اپنی مسجد، گرجا گھر اور یہودی عبادت گاہ (Synagogue) ہوتی تھی۔ اسی طرح ذیلی بازار، حمام اور ایک اہم اجتماع گھر بھی ہوتا تھا۔ اطراف کے علاقوں میں غریب دیہاتیوں کے گھر، ملک کے اردگرد سے لائی گئی مختلف طرح کی سبزیوں اور پھلوں کی مارکیٹ، کارواں سرائے، اور غیر صاف ستھری دکانیں جیسے چمڑے کو صاف کرنے اور جانوروں کو ذبح کرنے کا کام کرنے والوں کی دکانیں تھیں۔ شہر کی دیواروں کے دوسری طرف قبرستان اور سرائے تھیں جہاں پر لوگ شہر کے دروازے بند ہوجانے کے بعد آرام کرتے تھے۔ سبھی شہروں کا نقشہ ایک جیسا نہیں تھا۔ اس کا انحصار قدرتی بری مناظر، سیاسی رسم و روایات اور تاریخی واقعات کے تنوع پر تھا۔

بصرہ کی طرف جانے والی ایک کشتی اس کا عملہ ہندوستانی اور مسافر عرب ہیں۔ جدید عہد سے پہلے سامان اور مسافروں کی نقل وحمل پانی کے راستے سستی، تیز رفتار اور محفوظ تھی۔ مقامات حریری مولف حریری سے لی گئی تصویر (بارہویں صدی کا ایک قلمی نسخہ)۔ مقامات (مجلس) عربی ادب کی ایک مشہور صنف تھی۔ جس میں ایک قصہ گو ایک دغاباز اور اس کی احمقانہ آوارگی کی کہانیاں بیان کرتا ہے۔
سیاسی اتحاد، اشیاء خوردنی اور آرائش کی ضروریات کی شہری مانگ نے تبادلے کے دائرے (Circuit of Exchange)کو بڑھا دیا۔ جغرافیہ نے مسلم سلطنت کی تائید کی جو تجارت بحر ہند اور بحیرۂ روم کے درمیان تجارتی علاقوں میں پھیلی ہوئی تھی۔ پانچ صدیوں تک عرب اور ایرانی تاجروں نے بحری تجارت پر چین، ہندوستان اور یوروپ کے درمیان اجارہ داری بنائے رکھی۔ یہ تجارت زیادہ تر دو راستوں پر ہوئی۔ اس میں ایک بحر احمر اور دوسرا خلیج فارس تھا۔ زیادہ قیمتی چیزوں کی تجارت دور دراز کے علاقوں کے لیے مناسب تھی مثلاً گرم مسالے، کپڑے، چینی، مٹی کے برتن اور بارود یہ سب پانی کے جہاز کے ذریعہ چین اور ہندوستان سے بحر احمر بندرگاہ عدن اور ایذاب اور اسی طرح سیراف اور بصرہ کی خلیجی بندرگاہوں کی طرف لے جایا جاتا تھا۔ وہاں سے تجارتی مال اونٹوں کے قافلوں کے ذریعہ بغداد، دمشق اور الیپو(حلب) (Aleppo)کے گودام (مخازن دراصل لفظ مگاسن سے مشتق ہے جو خاص اشیا کے ذخیرہ کے مماثل ہے) میں مقامی کھیت یا آگے کی ترسیل کے لیے جمع کردیا جاتا تھا۔ وہ قافلے جو مکہ سے گزرتے تھے۔ ان کی تعداد بحری موسم کے زمانے میں حاجیوں کے مل جانے کے سبب بحر ہند میں بڑھ جاتی تھی (مواسیم مانسون سے ماخوذ ہے)۔ بحیرۂ روم جہاں پر ان تجارتی راستوں کی انتہا ہوتی تھی وہاں اسکندریہ کی بندرگاہ سے یوروپ کی طرف برآمد کا کام یہودی تاجر کرتے تھے۔ جن میں سے بعض تو ہندوستان سے بالواسطہ تجارت کرتے تھے جیسا کہ خود انہیں کے لکھے ہوئے خطوط جو گنیزا (Geniza) دستاویز میں محفوظ ہیں، دیکھا جاسکتا ہے۔ لیکن دسویں صدی سے قاہرہ کے تجارت اور طاقت کا مرکز بن جانے اور اٹلی کے تجارتی شہروں سے مشرقی چیزوں کی مانگ بڑھ جانے کی وجہ سے بحر احمر کے راستے کافی اہم ہوگئے تھے۔
سرگرمی2
بصرہ کی صبح کا منظر بیان کیجیے۔
کاغذ، گنیزا دستاویزات (Geniza Records)اور تاریخ
مرکزی اسلامی ممالک میں کاغذ کے متعارف ہونے کے بعد لکھنے کا کام بہت تیزی سے پھیلا۔ کاغذ (جو Linenسے بنتا ہے) چین سے آیا، جہاں کاغذ بنانے کا کام بہت پوشیدہ انداز سے ہوتا تھا۔ 751میں سمرقند کے مسلم گورنر نے چین کے بیس ہزار حملہ آوروں کو قید کرلیا جس میں بعض کاغذ بنانے کا کام بہت اچھی طرح جانتے تھے۔ پھر آنے والے سو سالوں میں سمر قندی کاغذ ایک اہم برآمد کی چیز بن گیا۔ چونکہ اسلام اجارہ داری کو منع کرتا ہے اس لئے کاغذ اسلامی دنیا کے باقی حصوں میں بھی بنایا جانے لگا۔ دسویں صدی کے وسط تک اس نے ایک حد تک پیپرس (Papyrus)کی جگہ لے لی جو کہ لکھنے کا ایک سامان تھا، جس کو ایک پودے کے اندرونی مادے سے بنایا جاتا تھا اور یہ پودا وادی نیل میں کافی تعداد میں اُگتا تھا۔ کاغذ کی مانگ بڑھ گئی اور عبدالطیف بغداد کے ایک طبیب (قرون وسطیٰ کے طلبہ کے تعلق سے اس کا بیان ملاحظہ ہو) اور جو 1193سے 1207میں رہا تھا، لکھتا ہے کہ مصری کسانوں نے اس طرح قبروں کو لوٹاکہ وہ ممی (محفوظ لاش) سے لپٹے ہوئے کاغذ کو حاصل کریں جو کہ کتان سے بنتا تھا تاکہ اس کو کاغذ بنانے والے کارخانے کو فروخت کرسکیں۔
کاغذ کی دستیابی نے تمام طرح کے تجارتی اور ذاتی دستاویزوں کو لکھنے کا کام آسان بنادیا۔ 1896میں قرون وسطیٰ کے یہودی دستاویزات کا ایک بہت بڑا ذخیرہ (گنیزا جس کا تلفظ غنیزا ہے) فطاط (پرانا قاہرہ) کے بین ازرا (Ben Ezra)یہودی عبادت گاہ کے ایک سیل بند کمرے سے دریافت کیا گیا ہے۔ خدا کے نام پر مشتمل کسی بھی تحریر کو ضائع نہ کرنے کے یہودی طرز عمل کی بدولت دستاویزات محفوظ ہوگئے۔ گنیزا میں آٹھویں صدی کے وسط تک کے لگ بھگ ڈھائی لاکھ دستاویزات اور ٹکڑے ہیں۔ زیادہ تر مواد دسویں صدی سے لے کر تیرہویں صدی تک کا ہے جو کہ فاطمی، ایوبی اور مملوک کا ابتدائی عہد تھا۔ یہ دستاویزات تاجروں، خاندان اور دوستوں کے درمیان ذاتی خطوط، معاہدے، جہیز کے وعدے، فروخت کے دستاویز، دھوبی خانے (Laundry)کی فہرست اور غیر اہم چیزوں کی معلومات پر مشتمل ہیں۔ زیادہ تر دستاویز یہودی عربی، (عربی کی ایک قسم کی عبارت جو کہ عبرانی رسم الخط ہے) میں لکھے گئے ہیں۔ اور اس کا استعمال عام طور پر یہودی قوم عہدوسطیٰ میں بحیرۂ روم کے علاقے میں کرتی تھی۔ گنیزا دستاویزات شخصی اور اقتصادی تجربات کے سلسلے میں قیمتی ہیں۔ ساتھ ہی یہ بحیرۂ روم اور اسلامی ثقافت کی دقت نظری مہیا کراتے ہیں۔ یہ دستاویزات اس بات کو بھی ظاہر کرتے ہیں کہ عالم اسلام کے عہدوسطیٰ کے تاجروں کی تجارتی مہارت اور طریق کار ان کے یوروپی ہم پیشہ لوگوں سے زیادہ ترقی یافتہ تھے۔ گوئٹین (Goitein) نے کئی جلدوں میں گنیزا دستاویزات کی بنیاد پر بحیرۂ روم کی تاریخ لکھی ہے اور امیتو گھوش نے بھی ایک گنیز خط سے تحریک پاکر اپنی کتاب In an Antique Land (ایک قدیم علاقے میں) میں ایک ہندوستانی غلام کی کہانی بیان کی ہے۔
مشرقی کنارے کا تذکرہ کریں تو ایرانی تاجروں کے فاصلے بغداد سے شاہراہ ریشم (Silk Route)کے ساتھ ساتھ بخارہ اور سمر قند (ماوراء النہر) کے نخلستانی شہروں سے ہوتے ہوئے چین کی طرف جاتے تھے تاکہ وسط ایشیائی اور چینی اشیاء جس میں کاغذ بھی شامل تھا، لائیں۔ ماوراءالنہر بھی تجارتی نیٹ ورک کی ایک اہم کڑی تھی۔ سمر قند نے بھی یوروپی چیزیں جس میں عام طور سے پوستین اور سلافی قیدی (لفظ سلاو Slaveسے بنا ہے) تھے تبادلے کے لیے تجارتی نیٹ ورک اہم حلقہ قائم کیا جو کہ شمال میں روس اور اسکینڈینیویا (Scandinavia) تک پھیلا ہوا تھا۔ اسلامی سکے جو کہ ان چیزوں کے عوض میں دئے جاتے تھے اس کا ذخیرہ وولگا ندی (Volga River) کے کنارے اور بالٹک کے علاقے (Baltic Region) میں دستیاب ہوا ہے۔ ان بازاروں میں ترکی غلام مرد و عورت خلفاء اور سلاطین کے درباروں کے لیے خریدے جاتے تھے۔
مالی نظام (ریاست کی آمدنی اور خرچ) اور مارکیٹ ایکسچینج (Exchange) نے مرکزی اسلامی ممالک میں زر (Money)کی اہمیت کو بڑھا دیا۔ سونے، چاندی اور تانبے (فلوس) کے سکوں کو ڈھال کر ان کو رائج کیا گیا۔ جو سکے اکثر و بیشتر صرافوں کے ذریعہ تھیلوں میں سیل بند ہوتے اور جن کو اشیاء اور خدمات کے بدلے ادا کیا جاتا، سونا افریقہ (سوڈان) سے چاندی وسط ایشیاء (وادی زرفشاں) سے اور قیمتی دھات و سکے یوروپ سے آتے تھے۔ یوروپ نے ان کا استعمال مشرق کے ساتھ اپنی تجارت کرنے میں کیا۔ پیسے کی بڑھتی مانگ کو دیکھ کر لوگ مجبور ہوئے کہ وہ اپنے جمع کئے ہوئے محفوظ سرمائے اور بیکار پڑی دولت کو گردش استعمال میں لائیں۔ تجارت کے پہیے میں نقد کرنسی (سکہ رائج الوقت) اور ادھار دونوں تیل کا کام کرتے ہیں۔ عالم اسلام کا عہدوسطیٰ کی اقتصادی زندگی میں سب سے اہم رول ادائیگی کے بہترین طریقے اور تجارتی تنظیم کو فروغ دینا تھا۔ تاجروں اور ساہوکاروں نے رقم کو ایک جگہ سے دوسری جگہ اور ایک فرد سے دوسرے فرد کو بھیجنے کے لیے سق(جس سے لفظ چیک ماخوذ ہے) اور ہنڈی (سُفتاجہ) کا استعمال کیا۔ وسیع پیمانے پر تجارتی کاغذات کے استعمال نے تاجروں کو ہر جگہ رقم لے جانے کی ضرورت سے آزاد کردیا۔ اور ساتھ ہی ان کے سفر کو محفوظ کردیا۔ خلیفہ نے بھی تنخواہ دینے یا شاعروں اور گویّوں کو انعام دینے میں چیک (سق) کا استعمال کیا۔
بہرحال یہ تاجروں کا روایتی معمول تھا کہ وہ خاندانی تجارت کو قائم کرتے یا غلاموں کو اپنے معاملات چلانے کی ذمہ داری سونپ دیتے۔ رسمی تجارت کے معاہدات (مضاربہ) بھی عام تھے جس میں غیر دخیل شرکاء (Sleeping Partners) بھی رأس مال (Capital) کو مسافر تاجروں کے حوالے کرتے اور نفع و نقصان کے رضامند حصے میں شریک ہوتے۔ اسلام لوگوں کو دولت کمانے سے نہیں روکتا تھا۔ لوگ ممنوعات کا لحاظ کرتے مثلاً سودی لین دین (رباء) حرام تھا۔ بہرحال لوگوں کو سود خوری (حیال) انوکھا ذریعہ، دھوکہ دہی بتایا گیا، جیسے رقم ایک طرح کے سکے میں ادھار لینا اور ادائیگی دوسرے سکے میں کرنا جبکہ کرنسی تبادلہ پر کمیشن کو پوشیدہ سود کہا گیا ہے (ہنڈی کی ابتدائی شکل)۔
الف لیلہٰ کی بہت سی کہانیاں ہم کو عہدوسطیٰ کی اسلامی سوسائٹی کی تصویر پیش کرتی ہیں جس میں سیاحوں غلاموں، تاجروں اور صرافوں کے کردار نمایاں طور پر اجاگر کئے گئے ہیں۔
علم و ثقافت
دوسرے لوگوں سے تعلقات کی بنا پر جیسے ہی مسلمانوں کے مذہبی اور معاشرتی تجربات آگے بڑھے تو امت اس بات پر مجبور ہوئی کہ وہ اپنے بارے میں غور کریں اور ان مسائل کا سامنا کریں جن کا تعلق اللہ اور دنیا سے ہے۔ ایک مسلمان کا انفرادی اور سماجی زندگی میں مثالی طرز عمل کیا ہونا چاہئے؟ پیدا کرنے کا مقصد کیا ہے اور ایک شخص یہ کیسے جانے کہ اللہ اپنی مخلوق سے کیا چاہتا ہے؟ ایک شخص کائنات کی پوشیدہ چیزوں کو کیسے سمجھے گا؟ ان سوالات کے جوابات کو ان مسلم علماء نے دیا جنہوں نے امت کی معاشرتی شناخت کو تقویت دینے اور اپنے فکری تجسّس کو مطمئن کرنے کے لیے مختلف علوم کو حاصل کیا تھا۔
وہ علم جو قرآن اور رسول کے اخلاقی نمونے (سنت) سے حاصل کیا گیا ہو اس کے ذریعہ ہی مذہبی علماء اللہ کی مرضی اور اس دنیا سے متعلق دی گئی ہدایات کو جان سکتے تھے۔ عہدوسطیٰ میں علماء نے اپنے آپ کو قرآن کی تفسیر نویسی اور حضرت محمدؐ کی مستند احادیث کی صداقت کی جانکاری کے لیے وقف کردیا تھا۔ کچھ لوگ تو قوانین کے ڈھانچے یا شریعت (سیدھا راستہ) کو تیار کرنے میں لگے رہے تاکہ وہ مذہبی رسوم (عبادت) کے ذریعہ مسلمانوں کے اللہ کے ساتھ معاشرتی معاملات سے امت کے باقی لوگوں کے ساتھ رشتے (معاملات) کا نظم و ضبط کریں۔ اسلامی قانون شریعت کو تشکیل دینے میں فقہا نے قیاس کو بھی وضع کیا۔ چونکہ قرآن اور حدیث میں ہر چیز واضح نہ تھی اور شہری آبادی سے زندگی مزید پیچیدہ ہوگئی تھی۔ مصادر کی توضیح اور اصول فقہ میں اختلافات کے باعث آٹھویں اور نویں صدی میں چار مذہبی مکتب فکر وجود میں آئے۔ یہ مالکی، حنفی، شافعی اور حنبلی تھے۔ ہر ایک کا نام اس کے رہنما فقیہہ کی طرف نسبت کرنے پر پڑا۔ یہ شریعت سنی جماعت کے اندر پائے جانے والے تمام ممکنہ شریعی مسائل کے لیے رہنما تھی۔ اگرچہ شریعت شخصی مسائل (شادی، طلاق اور وراثت) کے مقابلے تجارتی معاملات یا تعزیری اور دستوری مسائل کے سلسلے میں زیادہ واضح نہ تھی۔

بغدادکے متنصریہ مدرسہ کا صحن جس کا قیام 1233میں ہوا، یہ مدرسہ مکتب کی تعلیم ختم کرنے والے بچوں کے لیےکالج کا بھی درجہ رکھتا تھا۔یہ مدرسہ مسجد سے منسلک تھا۔ ایک بڑے مدرسہ میں ایک مسجد کا ہونا ضروری تھا ۔
قرآن
’’اگر روئے زمین کے تمام درختوں کو قلم اور تمام سمندروں کو سیاہی بنا لیا جائے
نیز اس میں سات سمندروں کا اور اضافہ کردیا جائے
پھر بھی اللہ کے نام ختم نہیں ہوسکتے۔‘‘
(القرآن سورہ 31، آیت 27)

نویں صدی میں تحریر قرآن کا ایک صفحہ جس پر سورہ نمبر 18الکہف (غار) تحریر ہے، جس میں موسیٰ اور افیسس(Ephesus)اور الیکزینڈر (ذوالقرنین) کے سات سونے والوں کا تذکرہ ہے۔ خط کوفی میں تحریر اور لال روشنائی سے اعراب لگائے گئے ہیں تاکہ زبان کا صحیح تلفظ کیا جاسکے۔
قرآن عربی زبان میں ایک الہامی کتاب ہے جس میں 114سورتیں ہیں، پہلی سورت (الفاتحہ یا آغاز) جو کہ ایک چھوٹی سی دعا ہے اس سے مستشنیٰ ہے۔ مسلمانوں کی روایت کے مطابق، قرآن کا 610اور 632عیسوی کے درمیانی وقفہ میں حضرت محمدؐ پر نزول ہوا۔ یہ الٰہی پیغامات کا مجموعہ ہے۔ اس کا نزول پہلے مکہ میں پھر مدینہ میں ہوا اور اس کی تدوین تقریباً 650میں ہوئی۔ آج جو قدیم ترین مدون قرآن ہمارے پاس موجود ہے وہ نویں صدی کا ہے۔ اس کے علاوہ اور بہت سے نامکمل ٹکڑے موجود ہیں۔ لیکن اولین ترین وہ آیتیں ہیں جو ساتویں صدی میں سکوں اور پتھر کے گنبد (Dome of the Rock) پر نقش کی گئی تھیں۔
قرآن کو اسلام کے ابتدائی ایام کی تاریخ کے مصدر کے طور پر استعمال کرنے سے کچھ پریشانی درپیش آتی ہے۔ پہلی یہ کہ یہ ایک صحف رسول ہے ساتھ ایک متن جو مذہبی اختیار عطا کرتا ہے۔ عالم دین عام طور سے اسے ’’کلام اللہ‘‘ کہتے ہیں اور اس کے لفظی مفہوم کو لازم گردانتے ہیں۔ لیکن عقلیت پسند علماء نے قرآن کی کافی وسیع تشریح کی ہے۔ 833 میں عباسی خلیفہ مامون نے اس نظریہ کو تھوپنے کی کوشش کی کہ (ایمان کی جانچ یا آزمائش کے لیے) قرآن اللہ کا کلام ہونے کے بجائے اس کی مخلوق ہے۔ دوسری مشکل یہ ہے کہ قرآن اکثر و بیشتر استعارہ کی زبان میں گفتگو کرتا ہے۔ اور ’’قدیم عہد نامہ‘‘ (توریت) کے برعکس واقعات کو بیان کرنے کے بجائے اس کی طرف صرف اشارہ کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عہدوسطیٰ کے مسلم علماء کو قرآنی آیات کا ادراک کرنا پڑا۔ اور قرآن کے مطالعہ و تفہیم میں مدد دینے کے لیے بہت سی احادیث رقم کی گئیں۔
آخری شکل اختیار کرنے سے پہلے شریعت کو مختلف علاقوں کے مروجہ قوانین (عرف) اور اسی طرح سیاسی و سماجی احکام (سیاسی شریعت) سے متعلق حکومت کے قوانین سے ہم آہنگ کرلیا گیا تھا۔ تاہم مروجہ قوانین نے دیہی علاقوں کے ایک بڑے حصّے میں اپنے اثر و رسوخ کو باقی رکھا اور جائیداد میں لڑکیوں کی وراثت جیسے مسائل میں شریعت سے مسلسل پہلو تہی کرتے رہے اور بیشتر حکومتوں میں حاکم یا اس کے عہدہ داران حکومت کی سلامتی کے معاملات کو معمول کے مطابق حل کرتے رہے اور منتخب مسائل کو بھی قاضی (جج) کے حوالے کرتے تھے۔ اس وقت ہر شہر اور ہر محلہ میں حکومت کی طرف سے ایک قاضی متعین ہوتا تھا جو شریعت کے سخت نافذ کرنے والے کے بجائے نزاعی معاملات میں ایک حاکم یا پنچ تھا۔
عہدوسطیٰ کے اسلام میں مذہبی لوگوں کی ایک جماعت وجوود میں آئی جنہیں صوفیاء کہا جاتا ہے۔ انہوں نے رہبانیت (ترک دنیا) اور تصوف کے ذریعہ اللہ کے بارے میں مزید ذاتی اور گہری معرفت حاصل کی۔ سماج جس قدر مادیت اور لذت میں کھویا ہوا تھا۔ اسی قدر صوفیاء نے زہد (دنیا سے قطع تعلق) اختیار کیا اور صرف خدا پر بھروسہ (توکل) کیا، آٹھویں اور نویں صدی میں عشق خدا اور وحدۃالوجود اس بات کا اعتقاد رکھتا ہے کہ اللہ اور اس کی مخلوق ایک ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسانی روح اپنے خالق میں حلول کرجاتی ہے اور اللہ سے وحدت صرف اس سے سچے عشق کے ذریعہ ہی حاصل کی جاسکتی ہے۔ رابعہ بصری (متوفی 891) نے اپنے اشعار میں اس عشق کا پرچار کیا ہے۔ بایزید بسطاسی ( متوفی 874) وہ پہلے ایرانی صوفی ہیں جنہوں نے فنافی اللہ (اللہ میں گم ہوجانا) کی اہمیت کی تعلیم دی۔ صوفیاء و جدو عشق اور محبت کے جذبات کو ابھارنے کے لیے سماع (موسیقی) کا استعمال کرتے تھے۔
مذہبی تعلقات، مراتب اور جنس سے قطع نظر تصوف کا دروازہ تمام لوگوں کے لیے کھلا تھا۔ ذوالنون مصری (متوفی 861) جس کا مقبرہ آج بھی اہرام مصر کے قریب دیکھا جاسکتا ہے، نے عباسی خلیفہ متوکل کے سامنے یہ اعلان کیا تھا کہ ’’اس نے حقیقی اسلام ایک بوڑھی عورت سے اور حقیقی بہادری ایک آب بردار سے سیکھی“۔ مذہب کو ذاتی زیادہ اور اداراتی کم بنا کر تصوف نے کافی شہرت حاصل کی۔ اور راسخ العقیدہ اسلام کے سامنے ایک چیلنج کھڑا کردیا۔
1490 کے ایرانی قلمی نسخے میں رقص کرتے ہوئے درویشوں کی ایک تصویر جس میں چار آدمیوں کو رقص کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے ان میں صرف
ایک شخص کے ہاتھوں کی پوزیشن صحیح ہے کچھ لوگ حالت حال میں سر گھماتے ہوئے دور کھڑے ہیں۔
سائنس اور یونانی فلسفہ سے متاثر ہوکر سائنسدانوں اور مسلم فلسفیوں نے اللہ اور کائنات کا ایک متبادل تصور پیش کیا۔ ساتویں صدی کے دوران حالانکہ پرانی یونانی تہذیب جو رفتہ رفتہ روبہ زوال تھی، اس کے باقیات بازنطینی اور ساسانی سلطنتوں میں پائے جاسکتے تھے۔ اسکندریہ، شام اور میسوپاٹامیہ میں جو کبھی سکندر کی سلطنت کا ایک حصہ تھا، یہاں کے مدارس میں دیگر موضوعات کے ساتھ یونانی فلسفہ، ریاضیات اور طب کی بھی تعلیم دی جاتی تھی۔ اموی اور عباسی خلفاء نے یونانی اور شامی کتابوں کا عیسائی علماء کے ذریعہ عربی میں ترجمہ کروایا تھا۔ یہاں تک کہ مامون کے عہد میں ترجمہ کے فن نے ایک بہتر منظم سرگرمی کی شکل اختیار کرلی تھی۔ مامون نے بغداد میں ’’بیت الحکمۃ‘‘ کی بنیاد ڈالی، جہاں علماء کام کرتے تھے اور اسے لائبریری کے ساتھ ساتھ ایک علمی ادارہ کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا تھا۔ ارسطو کی کتابیں ’’اقلیدس کے عناصر‘‘ (Elements of Euclid) اور بطلیموس (Ptolemy) کی ’’الماجست‘‘ (Almagest) عربی علماء کی توجہ کا مرکز تھیں۔ نیز، اسی عہد میں علم ہیئت (Astronomy) ریاضیات اور طب سے متعلق ہندوستانی کام کو بھی عربی میں منتقل کیا گیا۔ یہ کتابیں یوروپ پہنچی اور سائنس و فلسفہ کی طرف واضح رغبت کو تیز تر کردیا۔
سرگرمی3
اس پیراگراف پر تبصرہ کیجیے کہ کیا آج کے طالب علم کے لئے بھی یہ موزوں ہے؟
مثالی طالب علم
عبدالطیف، بارہویں صدی میں بغدادکا ایک طب اور قانون کا عالم اپنے مثالی طالب علم کے بارے میں بیان کرتا ہے:
میں تم کو مشورہ دیتا ہوں کہ تم سائنس کو غیر مفید کتابوں سے حاصل نہ کرو۔ اگرچہ تم کو اس کے سمجھنے کے بارے میں اپنی صلاحیت پر پورا بھروسہ ہو۔ ہر وہ سائنس جن کو تم حاصل کرنا چاہتے ہو اس کو اس کے استاد کی طرف رجوع کرو، اگر تمہارا استاد اپنے علم میں محدود ہو تو اس سے اس وقت تک وہ تمام معلومات حاصل کرتے رہو جس کو وہ دے سکتا ہو جب تک کہ تمہیں اس سے باکمال استاد نہیں مل جاتا۔ تمہیں اس کی عزت و احترام کرنا چاہئے۔ جب تم ایک کتاب پڑھو تو تمہاری کوشش ہونی چاہئے کہ تم اس کو زبانی یاد کرلو اور اس کے معنی کو پورے طور پر سیکھ لو۔ تم یہ تصور کرو کہ وہ کتاب غائب ہوگئی ہے اور وہ تم کو دوبارہ نہیں ملے گی تو تم کو اس کے ضائع ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ ہر ایک کو تواریخ، سوانح حیات اور قوموں کے تجربات کا مطالعہ کرنا چاہئے۔ اور اس طرح وہ اپنی مختصر سی زندگی میں ایسا محسوس کرے گا گویا کہ وہ ماضی کے لوگوں کے ساتھ زندگی گزار رہا ہو اور ان کے ساتھ اس کے گہرے تعلقات ہیں۔اس طرح ان کی اچھائیوں اور برائیوں کو جان لو۔ تمہیں اپنے اخلاق و کردار کو پہلے کے مسلمانوں کی طرح نمونہ بنانا چاہئے۔ اس لئے تم کو رسولؐ کی سیرت پڑھنی چاہئے اور ان کے نقش قدم پر چلنا چاہئے۔ تمہیں اپنی طبیعت پر اچھی رائے رکھنے کے بجائے اس پر غیر مطمئن ہونا چاہئے۔ تمہیں اپنی فکر تعلیم یافتہ لوگوں اور ان کی تخلیقات پر مرکوز کرنی چاہئے اور جلد بازی سے بچتے ہوئے احتیاط سے آگے بڑھنا چاہئے۔ جس نے مطالعہ کی تکلیف کو نہیں اٹھایا وہ علم کی لذت سے لطف اندوز نہیں ہوپائے گا۔ اپنے مطالعہ اور غور و فکر کے بعد اللہ کے نام کے ذکر میں مشغول ہوجاؤ اور اس کی بڑائی بیان کرو۔ تم پر کوئی بڑی مصیبت آئے تو تم شکایت نہ کرو۔ جان لو کہ علم کبھی ختم نہیں ہوتا۔ ایک نشانی اور خوشبو چھوڑ جاتا ہے۔ جو اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ یہ صاحب علم ہے اور اس پر روشنی کی ایک کرن چمکتی ہے جو اس کے علم کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
– احمد ابن القاسم ابن اصیبیہ۔ عیون العنب
نئے موضوعات کے مطالعہ نے تنقیدی جانکاری کو ترقی دی اور اسلامی دانشورانہ زندگی پر گہرا اثر ڈالا۔ مذہبی علماء نے غور و فکر کیا۔مثلاً وہ جماعت جو معتزلہ کے نام سے جانی جاتی ہے، نے اسلامی عقائد کے دفاع میں یونانی منطق اور علم کلام کا استعمال کیا۔ فلاسفہ نے لمبے چوڑے سوالات کئے اور ان کے نئے جوابات دئے۔ ابن سینا (980-1037) ایک پیشہ ور طبیب اور فلسفی کا قیامت کے دن دوبارہ زندہ کئے جانے پر ایمان نہ تھا۔ اس کی ماہر دینیات نے زبردست مخالفت کی۔ ابن سینا کی طبی تصانیف کو بڑے پیمانے پر پڑھا گیا۔ اس کی سب سے زیادہ با اثر کتاب ’’القانون فی الطب‘‘ (ادویات کا قانون) ہے۔ یہ ایک ملین الفاظ کا مسودہ ہے جس کے اندر 760 ادویات کا تذکرہ ہے جن کو اس کے ہم عصر دوا ساز فروخت کرتے تھے۔ ساتھ ہی ساتھ اس کتاب میں اس کے اپنے تجربات کا تذکرہ ہے جس کو اس نے اسپتال (بیمارستان) میں انجام دیا تھا۔ یہ کتاب قانون، علم الغذا (غذائی ضابطوں کے ذریعہ علاج) کی اہمیت، آب و ہوا اور ماحول کا صحت پر اثر اور بعض بیماریوں کی وبائی نوعیت کی توضیح کرتی ہے۔ القانون کو یوروپ میں درسی نصاب میں شامل کیا گیا جہاں اس کتاب کا مصنف بوعلی سینا (Avicenna) (اویسینا)کے نام سے جانا جاتا ہے (ملاحظہ ہو باب 7)۔ یہ کہا جاتا ہے کہ سائنسداں اور شاعر عمر خیام اپنی موت سے ٹھیک پہلے یہ کتاب پڑھ رہا تھا اس کی سونے کی خلال الہیات کے باب کے صفحات کے درمیان پائی گئی۔
عہدوسطیٰ کے اسلامی سماج میں ایک انسان کے اندر اچھی زبان اور تخلیقی تصور سب سے زیادہ قابل تعریف خوبیاں تھیں۔ یہ خوبیاں ایک انسان کے مراسلے کو ادب کی سطح تک پہنچاتی تھیں۔ ادب ایک اصطلاح تھی جس کو لفظی اور ثقافتی شائستگی کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ ادب اظہار و بیان کا وسیلہ ہے جس میں شاعری (نظم یا قرینے سے انتظام) اور نثر (منتشر الفاظ) شامل ہیں۔ جس کا مطلب ضرورت کے تحت یاد کرنا اور استعمال کرنا ہوتا تھا۔ اور اسلام سے پہلے کی سب سے مشہور شعری صنف قصیدہ تھا جس کو عباسی عہد کے شعراء نے ترقی دی اور اس میں اپنے سرپرستوں کی کامیابی کی ستائش کی ہے۔ فارسی النسل شعراء نے عربی شاعری کو دوبارہ زندہ کیا اور عربوں کی ثقافتی برتری کو چنوتی دی۔ابو نواس (متوفی 815) جو کہ فارسی النسل تھا، نے کلاسیکی شاعری کو اسلام کی حرام کردہ لذتوں سے لطف اندوزی کی غرض سے نئے مضمون مثلاً شراب اور امرد پرستی، وضع کئے۔ ابو نواس کے بعد شاعروں نے اپنے جذبات کا اظہار مذکر کے طور پر کیا۔ اگرچہ موخرالذکر عورت ہی کیوں نہ ہو۔ اسی روایت کی پیروی کرتے ہوئے صوفیوں نے اس نشہ کی ستائش کی جو نشہ روحانی محبت کی شراب سے ہوتا ہے۔
جس وقت عربوں نے ایران کو فتح کیا اس وقت پہلوی، قدیم ایران کی مقدس کتابوں کی زبان، زوال پذیر تھی۔ پہلوی کی ایک شکل جدید فارسی کے نام سے جانی جاتی ہے۔ اس میں عربی کے کافی الفاظ پائے جاتے ہیں، نے جلد ترقی کی۔ خراسان اور ماوراءالنہر (Transoxiana) میں سلطنتوں کے قیام کے بعد جدید فارسی ثقافت اونچائیوں پر پہنچ گئی۔ ساسانی درباری شاعر رود کی (متوفی 940) کو بابائے جدید فارسی شاعری‘ مانا جاتا ہے۔ جدید فارسی شاعری میں نئی قسم کی شاعری مثلاً غزل اور رباعی شامل تھے۔ رباعی معروف بہ رباعیات، چار مصرعوں کا بند ہے جس میں پہلے کے دو مصرعہ تمہید ہوتے ہیں۔ تیسرے مصرعہ میں سلیقے سے توازن قائم رکھا جاتا ہے اور چوتھا مصرعہ اصل بات کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کی وضع کے برخلاف رباعی کے موضوع کی کوئی حد نہیں ہے۔ اس کا استعمال محبوب کی خوبصورتی کو بیان کرنے اور سرپرست کی مدح سرائی کرنے یا فلسفیوں کے خیالات کو بیان کرنے کے لیے کیا جاتاہے۔ رباعی عمر خیام (1048-1131) کے ہاتھوں منتہائے کمال کو پہنچ گئی۔ عمر خیام ایک ماہر فلکیات اور ریاضی داں تھا جو زیادہ تر بخارا، سمر قند اور اصفہان میں رہا۔
گیارہویں صدی کی ابتداء میں غزنی فارسی ادبی زندگی کا مرکز بن گیا۔ شعراء فطری طور پر شاہی دربار کی آب و تاب کی جانب کھنچے چلے گئے۔ حکمرانوں نے بھی اپنے وقار کو بڑھانے کے لیے علم و فن کی سرپرستی کی اہمیت کو محسوس کیا۔ محمود غزنوی نے شاعروں کی ایک جماعت اپنے گرد جمع کی جنہوں نے دیوان اور مثنویاں تحریر کیں۔ سب سے ممتاز شاعر فردوسی (متوفی 1020) تھا جس نے شاہنامہ (بادشاہوں کی کتاب) کو لکھنے میں 30سال لگائے۔ اس میں رزمیہ شاعری کے 50,000اشعار ہیں اور جو اسلامی ادب کا شاہکار بن گیا ہے۔ شاہنامہ روایات اور داستانوں کا مجموعہ ہے۔ ان میں سب سے زیادہ مشہور رستم کی داستان ہے) جس میں ایران کو اس کے وجود میں آنے سے لے کر عرب کی فتح تک شاعرانہ انداز میں نقشہ کھینچا گیا ہے۔ غزنوی روایات کی مناسبت کے ساتھ آگے چل کر فارسی ہندوستان میں انتظامی اور ثقافتی زبان بن گئی۔
تیرہویں صدی کا ایک عربی قلمی نسخہ جس میں دمنہ (گیدڑ) کو شیر (اسد) سے بات کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے ۔
بغداد کے کتب فروش ابن ندیم (متوفی 895) کی کتاب فہرست (کتاب الفہرست) بیان کرتی ہے کہ اخلاقی تعلیم اور قاری کی تفریح کے لیے بہت سا نثری کام ہوا اور ان میں سب سے قدیم جانوروں کی حکایات کا مجموعہ ہے جو کہ ’کلیلہ و دمنہ‘ (دو گیڈروں کے نام جو کہ اس کتاب کے اہم کردار ہیں) کے نام سے جانی جاتی ہے۔ اور جو ’’پنچ تنتر‘‘ کا پہلوی زبان سے عربی میں ترجمہ ہے۔ اور سب سے مشہور اور آخری ادبی کاموں میں جانباز ہیرو سکندر (الاسکندر) اور سند باد یا ان غمگین عاشقوں مثلاً قیس (جو کہ مجنوں اور پاگل کے طور پر جانا جاتا ہے) کی کہانیاں تھیں۔ یہ کہانیاں صدیوں تک زبانی اور تحریری شکل میں ترقی کرتی گئیں۔ الف لیلہٰ ایک دوسری کہانیوں کا مجموعہ ہے جس کو ایک اکیلی قصہ گو شہر زاد نے اپنے شوہر کو یکے بعد دیگرے راتوں کو سنایا۔ اس کا مجموعہ اصلّا ہند۔فارسی میں تھا اور آٹھویں صدی میں بغداد میں اس کا ترجمہ عربی میں ہوا۔ آگے چل کر مملوک عہد کے دوران قاہرہ میں اس کے اندر بہت ساری کہانیوں کا اضافہ کیا گیا۔ یہ کہانیاں مختلف طرح کے لوگوں جیسے سخی، بے وقوف، سادہ لوح اور عیار لوگوں کی تصویر کشی کرتی ہیں۔ ان کہانیوں کو تعلیم دینے اور تفریح طبع کے لیے بیان کیا گیا۔ بصرہ کے جاحظ (متوفی 868) اپنی کتاب ’’کتاب البخلاء‘‘ (بخیلوں کی کتاب) میں بخیلوں کے متعلق تفریحی قصوں کو جمع کیا گیا اور ساتھ ہی ساتھ لالچی لوگوں کا تجزیہ بھی کیا۔
نویں صدی کے بعد ادب کا دائرہ وسیع ہوگیا جس میں سوانح حیات، اخلاقی رسائل، شہزادوں کے آئینے (آئین جہاں بانی) مزید برآں تاریخ اور جغرافیہ بھی شامل ہوگئے۔ تعلیم یافتہ مسلم سماج کے اندر تاریخ لکھنے کا رواج قائم ہوا۔ علماء، طلبہ اور تعلیم یافتہ عوام تاریخی کتابیں پڑھتے تھے۔ تاریخ حکمرانوں اور عہدہ داروں کے اچھے کارناموں کی مدح سرائی، سلسلۂ سلاطین کی کامیابیاں اور ساتھ ہی ساتھ انتظامی تکنیک کی مثالیں مہیا کراتی تھیں۔دو بڑے تاریخی کاموں میں بلا ذری (Baladuri) (متوفی892) کی ’ انساب الاشراف‘ (امراء کے نسب نامے) اور طبری (متوفی 923) کی ’تاریخ الرسل والملوک‘ (رسولوں اور بادشاہوں کی تاریخ) ہیں جن میں اسلامی عہد کے ساتھ پوری انسانی تاریخ کی واضح تصویر کشی کی گئی ہے۔ خلافت کی تقسیم کے ساتھ ہی مقامی تاریخ لکھنے کی روایت نے ترقی کی۔ فارسی میں سلسلۂ سلاطین، شہروں یا علاقوں کے متعلق کتابیں لکھی گئیں تاکہ عالم اسلام کی رنگا رنگی اور وحدت کا گہرا مطالعہ کیا جاسکے۔
جغرافیہ اور سفرنامہ (رحلۃ) نے ادب کی ایک خاص صنف کو مرتب کیا۔ اس میں تاجروں اور سیاحوں کے مشاہدات کے ساتھ یونانی، ایرانی اور ہندوستانی کتابوں کی معلومات کو یکجا کردیا گیا۔ ریاضیات کے متعلق جغرافیہ میں بودو باش والی دنیا ہمارے تین براعظم کے مماثل خط استواء سے متوازی اقالیم (واحد اقلیم) میں تقسیم کی گئی تھی۔ ہر شہر کے اصل مقام کو فلکیاتی اعتبار سے متعین کیا گیا۔ مقدسی (متوفی 1000) کی بیانیہ جغرافیہ کی کتاب ’احسن التقاسیم‘ (بہترین تقاسیم) دنیا کے لوگوں اور ملکوں کا ایک تقابلی مطالعہ ہے اور بیرونی تجسس کا ایک دفینہ ہے۔ مسعودی کی کتاب ’مروج الذہب‘ (سنہرے سبزہ زار) جو کہ 943 میں لکھی گئی، جغرافیہ اور عام تاریخ دونوں پر مشتمل ہے۔ اور جو دنیاوی ثقافت کی تمام اقسام کو تفصیل سے بیان کرتی ہے۔ البیرونی کی مشہور کتاب ’تحقیق مالی الھند‘ (تاریخ ہند)، گیارہویں صدی کے کسی بھی مسلم مصنف کی عظیم کاوش تھی جس میں عالم اسلام سے آگے کی دنیا کو دیکھا گیا اور دوسری ثقافتی روایات کی اہمیت کا مشاہدہ کیاگیا۔
دسویں صدی تک ایک اسلامی دنیا رونما ہوچکی تھی جس کو سیاحوں نے آسانی سے تسلیم کرلیا۔ مذہبی عمارات اس دنیا کی عظیم خارجی نشانیاں تھیں۔ اسپین سے وسط ایشیا تک مسجدیں، خانقاہیں اور مقبرے، ایک طرح کی بنیادی نقش و نگار، محراب گنبد، میناریں اور کھلے صحن پھیلے بڑے تھے۔ پہلی اسلامی صدی میں مسجد نے ایک ممتاز تعمیراتی وضع حاصل کرلی۔ (کھمبوں کے سہارے بنی چھتیں) جس نے انسانی تجربے و مہارت کے علاقائی تفسیر کو واضح کیا۔ مسجد میں ایک کھلا صحن ہوتا جہاں ایک فوارہ یا حوض ہوتا اور وہاں سے کچھ دوری پر ایک قوسی چھت والا (مسلسل محراب دار) (Vaulted Hall)ہال ہوتا جہاں نماز پڑھنے والوں کی لمبی قطار (صف) اور امام مجتمع ہوسکتے تھے۔ ہال کے اندر دو مخصوص خصوصیات پائی جاتیں۔ ایک تو دیوار کے اندر محراب جو کہ مکہ کی سمت (قبلہ) کی طرف اشارہ کرتی ہے اور دوسری منبر جہاں جمعہ کی نماز میں خطبہ دیا جاتا ہے۔ عمارت سے منسلک مینار ہوتا ہے جس کو مقررہ اوقات میں ایمان والوں کو نمازوں کی طرف بلانے اور نئے مذہب کی موجودگی کی علامت کے بطور استعمال کیا جاتا ہے۔ روزانہ کی پانچ وقت کی نمازوں اور ہفتہ واری خطبوں کا ٹائم ٹیبل شہروں اور گاؤں میں لگے رہتے۔

فلسطین کے خِربت المفجر میں آٹھویں صدی کے ایک محل کے حمام کا پچی کاری کیا گیا فرش۔ تصور کیجیے کہ خلیفہ درخت پر براجمان ہے: نیچے کا منظر جنگ
اور امن کو ظاہر کر رہا ہے۔