خانہ بدوش سلطنتوں کی اصطلاح متضاد معلوم ہوتی ہے۔ خانہ بدوش مدلل طور پر ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونے والے ایک خاندان میں منظم اور نسبتاً بغیر فرق والی معاشی زندگی اور غیر مکمل سیاسی ڈھانچہ رکھنے والے تھے۔ دوسری طرف سلطنت کی اصطلاح اپنے ساتھ مادی محل وقوع لئے ہوئے ہے۔ اسی طرح ایک ایسا استحکام جو پیچیدہ سماجی اور معاشی ڈھانچوں اور ایک وسیع انتظامی نظام کے ذریعہ دور دراز علاقوں پر حکومت کرنے سے ماخوذ ہے۔ لیکن جس تناظر میں یہ تعریفات بنائی گئیں وہ غیر تاریخی اور محدود نظر آتی ہیں۔ یہ تعریفات یقینی طور پر اس وقت بے معنی ہو جاتی ہیں جب ہم خانہ بدوش لوگوں کے ذریعہ قائم کی گئی کچھ شاہی سلطنتوں کا مطالعہ کرتے ہیں۔
باب 4 میں ہم مرکزی اسلامی علاقوں میں سلطنت کے قیام کے بارے میں پڑھ چکے ہیں جس کی اصل جزیرہ نما عرب کے خانہ بدوش روایات میں مضمر ہیں۔ اس باب میں ایک مختلف قسم کے خانہ بدوش لوگوں کا مطالعہ کیا گیا ہے۔ چنگیز خان کی قیادت میں وسط ایشیا کے منگولوں نے ایک ایسی بین بر اعظمی سلطنت کا قیام کیا جو تیرہویں اور چودہویں صدی میں یوروپ اور ایشیا تک پھیلی ہوئی تھی۔ چین میں زراعت پر مبنی سلطنت کے قیام کی بہ نسبت پڑوس میں رہنے والے منگولیا کے خانہ بدوش ان کے مقابل میں کمتر، پیچیدہ، سماجی اور معاشی دنیا میں زندگی گزار رہے تھے۔ لیکن وسط ایشیا کے خانہ بدوش سماج الگ تھلگ جزیرے کے باشندے نہیں تھے جو تاریخی تبدیلیوں سے متاثر نہ ہوں۔ ان معاشروں نے دوسرے لوگوں سے میل جول کیا اور اس بڑی دنیا سے انہوں نے سیکھا اور اس پر اثر ڈالا جس کا وہ حصہ تھے۔
اس باب میں ہم مطالعہ کریں گے کہ منگولوں نے چنگیز خان کی زیر قیادت میں کس طرح سے اپنے روایتی ،سماجی اور سیاسی عادات و اطوار کو ایک خوفناک فوجی تنظیم اور حکومت کرنے کے ایک بہترین طریقے کے طور پر استعمال کیا۔منگولوں کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ مختلف لوگوں کے مختلف معاشی نظام کو چلانے کے لئے منگول اپنی صحرائی روایات کو حال ہی میں الحاق کئے گئے علاقوں پر نہیں تھوپ سکتے تھے۔ انہوں نے جدید طریقے نکالے اور صلح و مصالحت سے کام لیا اور ایک خانہ بدوش سلطنت قائم کی جس نے یوروپ و ایشیا کی تاریخ پر بہت زیادہ اثرات مرتب کئے۔ یہی نہیں بلکہ اس نے ان کے اپنے سماج کی ترکیب اور صنعت کو ہمیشہ ہمیش کے لئے تبدیل کر دیا تھا۔
صحرائی باشندوں نے عام طور پر بذات خود کوئی ادب تخلیق نہیں کیا۔ اس لئے خانہ بدوش معاشروں کے بارے میں ہمیں علم خاص طور پر وقائع، سفرناموں اور دستاویزوں کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے جنہیں شہروں کے ادباء نے لکھا تھا۔ ان مصنفین نے اکثرو بیشتر خانہ بدوش لوگوں کی زندگی کے بارے میں انتہائی لا علمی اور جانب دارانہ رپورٹیں پیش کی ہیں۔ منگلولوں کی شاندار شاہی کامیابی نے بہر حال بہت سے ادباء کی توجہ اپنی طرف مبذول کی۔ ان میں سے کچھ لوگوں نے اپنے تجربات کی بناء پر سفر نامے لکھے اور کچھ لوگوں نے منگول آقاؤں کی خدمت کی خاطر وہیں قیام کیا۔ یہ افراد مختلف پس منظر سے تعلق رکھتے تھے۔ ان میں بودھ، کنفیوشش کے ماننے والے (Confucian)، عیسائی، ترک اور مسلم تھے۔ اگر چہ یہ منگولوں کی رسم و رواج سے مانوس نہیں تھے۔ ان میں سے بہت سے لوگوں نے ہمدردی پر مبنی بیانات پیش کئے ہیں۔ یہاں تک کہ قصیدے جس میں صحرائی لوٹ مار کے متعلق شہر کے مصنفین کے ذریعہ کی گئی ملامت کو چیلنج کیا۔ اس وجہ سے منگولوں کی تاریخ، یہ سوال اٹھانے کے لئے دلچسپ معلومات فراہم کرتی ہے کہ سکونت پذیر معاشروں نے عام طور پر کس طرح سے خانہ بدوشوں کو غیر ترقی یافتہ اور وحشی* (Barbarians) بنا کر پیش کیا۔
* باربیرین (Barbarian) اصطلاح یونانی لفظ باربیروس (Barbaros) سے مشتق ہے جس کے معنی غیر یونانی ہیں۔ جن کی زبان بے ترتیب آوازوں ’بر۔بر‘ (Bar-Bar) کی طرح ہیں یونانی متون میں باربیرینس کی بچوں کی اس طرح تصویر کشی کی گئی ہے جو بولنے سے معذور یا کامل طور پر غیر ناطق، بزدل، بوالہوس، عیش پسند، ظالم، کاہل، لالچی اور سیاسی اعتبار سے حکمرانی کرنے سے معذور۔ یہ رسمی تعریف ادیبوں نے رائج کی جو اس اصطلاح کا استعمال جرمن قبائل گالی اور ہن کے لیے کرتے تھے۔ چینیوں نے صحرائی باربیرینس کے لیے دوسری اصطلاح استعمال کی تھی لیکن ان میں سے کوئی بھی اصطلاح مثبت معنی نہیں رکھتی۔
شاید روس کے دانشوروں کے ذریعہ منگولوں پر بہت اہم تحقیق کی گئی ہے جس کا آغاز اٹھارہویں اور انیسویں صدی میں ہوا جب ژار حکومت نے وسط ایشیا پر اپنا قبضہ مستحکم کر لیا تھا۔ یہ کارنامہ استعماری ماحول میں انجام پایا تھا اور بڑے پیمانے پر جائزے کی یاد داشت پر مشتمل تھا جنہیں سیاحوں، فوجیوں ، تاجروں اور علمائے آثار قدیمہ نے پیش کیا تھا۔ بیسویں صدی کی ابتداء میں سوویت جمہوریت کی توسیع کے بعد ایک نئی مارکسی تاریخ نگاری میں یہ دلیل پیش کی گئی کہ پیداوار کے رائج طریقے نے سماجی تعلقات کی نوعیت کے متعین کیا ہے۔ اس نے چنگیز خان اور منگول سلطنت کو انسانی ترقی کے ایک ایسے درجہ میں رکھا جس میں پیدا وار قبائلی طریقے سے جاگیر دارانہ طریقے کی طرف منتقل ہو رہی تھی اور نسبتاً غیر طبقاتی معاشرہ ایک ایسے معاشرے کی طرف منتقل ہو رہا تھا؛جہاں آقا، زمینوں کے مالکان اور کسانوں کے درمیان بہت وسیع اختلافات تھے۔ تاریخ کی اس طرح متعین تشریح کرنے کے باوجود منگولوں کی زبانوں، ان کے سماج اور تقافت سے متعلق بورس یا کولیوچ ولا دیمیرتسوف (Boris Yakovlevich Vladimirtsov) جیسے دانشوروں کے ذریعے بہترین تحقیق ہوئی۔دوسرے دانشوروں مثلاً ویسیلی ولا دیمیروچ بارٹولڈ (Vasily Vladimirovich Bartold) نے حکومتی موقف کو پوری طرح اختیار نہیں کیا۔ اس وقت جب اسٹالن (Stalin) نظام حکومت علاقائی قوم پر ستی کے بارے میں بہت زیادہ محتاط تھا۔ بارٹولڈ چنگیز خان کی قیادت میں منگولوں اور اس کے جانشین کی ترقی اور کامیابیوں کے بارے میں مثبت اور ہمدردانہ بیانات کی وجہ سے سینسر (Censors) کی مصیبتوں میں پھنس گیا۔ حکومت نے اس کے تخلیقی کا موں پر پوری طرح پابندی لگا دی۔ 1960 کی دہائی میں بہت زیادہ آزاد پسندخرشیف (Khurschev) کے دور میں اور اس کے بعد اس کی تخلیقات نو جلدوں میں چھپ سکیں۔
دانشوروں کو بین براعظمی منگول سلطنت کے وسعت کی وجہ سے بہت سی زبانوں میں لکھے ماخذ دستیاب ہوئے۔ شاید ان میں سب سے اہم ماخذ چینی، منگولی، فارسی اور عربی زبان میں ہیں۔ لیکن نہایت اہم مواد، اٹلی ، لاطینی ، فرانسیسی اور روسی زبانوں میں بھی دستیاب ہیں۔ اکثر اوقات ایک ہی مواد دو زبانوں میں لکھا جاتا تھا اور ان کے مشمولات میں فرق ہو تا تھا۔ مثال کے طور پر چنگیز خان سے متعلق بیان کرنے والی سب سے پہلی کتاب کے چینی اور منگولی نسخے جس کا عنوان (Monggolun niuea Tobea'an) (منگولوں کی مخفی تاریخ The Secret History of the Mongols) ہے، بالکل مختلف ہیں۔ اور مارکوپولو (Marco Polo) کے ذریعہ لکھے گئے منگول دربار کے بارے میں سفرناموں کے اطالوی اور لاطینی نسخے ایک دوسرے سے مشابہت نہیں رکھتے ہیں۔ چونکہ منگولوں نے خود سے بہت کم ادب تخلیق کیا ’’اور ان کے متعلق‘‘ غیر ملکی ثقافتی ماحول کے نقطئہ نظر سے کافی مصنفین نے لکھا ہے۔ لہذا مورخین کو کئی بار ماہر لسانیات کی حیثیت سے دو ہرا کام کرنا پڑا تاکہ وہ جملوں کے ان معنی کو اختیار کریں جو منگول استعمال سے زیادہ قریب ہوں۔ ایگور ڈی ریچیولچ (Igor de Rachewiltz) جیسے اسکالر کی کتاب The Secret History of Mongols (منگولوں کی مخفی تاریخ) اور گرہارڈ ڈیورفر (Gerhard Doerfer) کی منگول اور ترکی اصطلاحات، جو فارسی زبان میں در آئی ہیں کہ متعلق کاوشیں ، ان مشکلات کو ظاہر کرتی ہیں جو وسط ایشیاء کے خانہ بدوشوں کی تاریخ کے مطالعہ میں درپیش ہیں۔ جیسا کہ ہم اس باب کے بقیہ حصوں میں دیکھیں گے کہ ان دانشوروں کی ناقابل انکار کارناموں کے باوجود چنگیز خان کے بارے میں بہت کچھ معلوم ہونا باقی ہے۔ اور منگول عالمی سلطنت ابھی تک ایک صبر آزما محنتی محقق کی تحقیق کی منتظر ہے۔
تعارف
تیرہویں صدی کی ابتدائی دہائیوں میں یورو ایشیائی (Euro-Asia) براعظم کی عظیم سلطنتوں نے ان خطرات کو محسوس کر لیا جو وسط ایشیا کے صحرا میں ایک نئی سیاسی طاقت کی آمد کی وجہ سے پیش آئے تھے۔ چنگیز خان (متوفی 1227) نے منگول لوگوں کو متحد کر لیا تھا۔ چنگیز خان کی سیاسی بصیرت، وسط ایشیا کے صحراؤں میں منگول قبائل کا نیم وفاقی ریاستیں قائم کرنے سے کہیں زیادہ آگے دیکھ رہی تھی۔ خدا کی طرف سے اس کو پوری دنیا پر حکومت کرنے کا عارضی اختیار (ہدایت) تھا۔ منگول قبیلوں پر اپنے تسلط کو مستحکم کرنے میں اگرچہ اس کی اپنی زندگی ختم ہوگئی تھی۔ فوجیوں کی قیادت اور ہدایت کرتے ہوئے شمالی چین، ماوراءالنہر ، افغانستان، مشرقی ایران اور روس کے صحرائی علاقوں میں جنگیں کیں اور اس کی نسلوں نے وطن سے کوسوں دور چنگیز خان کے خواب کو پورا کرنے کے لیے اور دنیا کی اب تک کی سب سے عظیم الشان سلطنت بنانے کے لیے دور دراز سفر کئے۔

یہ چنگیز خان کے بہترین تصورات کے جذبہ کی بنا پر تھا کہ اس کے پوتے مونگ (Mongke 1251-60) نے فرانس کے حکمراں لوئس نہم (Louis IX 1266-70) کو خبردار کیا کہ ’’جنت میں صرف ایک ہی ابدی آسمان ہے، اس زمین پر ایک ہی فرماروا چنگیز خان ہے۔ قدرت (خدا) کا بیٹا۔ جب ابدی آسمان کی طاقت کے ذریعہ پوری دنیا سورج طلوع ہونے سے لے کر غروب ہونے تک مسرت اور امن میں ایک ہو جائے گی تب یہ واضح ہو جائے گا کہ ہم کیا کرنے جا رہے ہیں۔ اگرچہ تم ابدی آسمان کے فرمان کو سمجھ چکے ہو پھر بھی تم اس پر توجہ دینے اور اس پر یقین کرنے پر یہ کہتے ہوئے راضی نہیں ہو کہ ہمارا ملک بہت دور ہے۔ ہمارے پہاڑ عظیم الشان ہیں۔ ہمارا سمندر کشادہ ہے۔‘‘ اور اس زعم میں تم ہمارے خلاف فوج لائے ہو۔ ہم جانتے ہیں کہ ہم کیا کرسکتے ہیں۔ وہ جس نے مشکل کو آسان بنایا اور جو دور تھا اس کو قریب کیا ’’وہ ابدی آسمان جانتا ہے۔‘‘
یہ خالی دھمکیاں نہیں تھیں۔ چنگیز خان کے ایک دوسرے پوتے باتو (Batu) کی فوجی کارروائیوں 1236-41 کے ذریعہ روس کے علاقوں کو ماسکو تک تباہ کر دیا۔ پولیند اور ہنگری پر قبضہ کر لیا اور ویانا (Vienna) کے باہر خیمہ زن ہوا۔ ایسا لگتا ہے کہ ابدی آسمان تیرہویں صدی میں منگولوں کی طرف تھا اور چین کے بہت سے حصوں مشرقی وسطیٰ اور یوروپ نے چنگیز خان کی آباد دنیا کی فتوحات میں خدا کا غضب ’’فیصلہ کے دن (قیامت)‘‘ کے آغاز کو دیکھا۔
بخارا پر قبضہ
ایران کے منگول حکمرانوں کا وقائع نگار، تیرہویں صدی کے آخر کا ایک فارسی تاریخ نویس جوینی (Juwaini) نے 1220 میں بخارا پر قبضہ کے واقعہ کو بیان کیا ہے۔ جوینی لکھتا ہے کہ شہر کی فتح کے بعد چنگیز خان ایک تقریباتی میدان میں گیا جہاں شہر کے مالدار لوگ موجود تھے اور ان سے خطاب کیا ’’اے لوگوں! جان لو کہ تم نے بڑے گناہوں کا ارتکاب کیا ہے۔ تمہارے درمیان جو بڑے لوگ ہیں انھوں نے گناہوں کا ارتکاب کیا ہے۔ اگر تم مجھ سے پوچھو، کیونکہ میں خدا کا عذاب ہوں، اگر تم نے بڑے گناہ کا ارتکاب نہ کیا ہوتا تو خدا تمہارے اوپر مجھ جیسا عذاب نہیں بھیجتا۔‘‘ ایک آدمی بخارا پر قبضہ کے بعد وہاں سے بھاگ گیا تھا۔ اور خراسان چلا آیا تھا۔ اس سے شہر کی تباہی کے بارے میں پوچھا گیا تو اس نے جواب دیا کہ ’’وہ آئے (انھوں نے دیواروں کو منہدم کر دیا) انھوں نے جلا دیا۔ انھوں نے قتل کیا اور انھوں نے لوٹ مار کی اور وہ چلے گئے۔‘‘
سرگرمی 1
آپ تصور کیجئے کہ جوینی کا بخارا پر قبضہ سے متعلق بیان درست ہے۔ آپ اپنے آپ کو بخارا اور خراسان کے ان لوگوں میں سے ایک تصور کیجئے جنھوں نے ان تقریروں کو سنا ہے تو آپ پر کس طرح کا اثر مرتب ہوگا؟
منگولوں نے کس طرح ایک ایسی سلطنت تشکیل دی جس نے ایک دوسرے ’’دنیا کے فاتح‘‘ سکندر کی کامیابیوں کو کم تر بنا دیا؟ صنعتی عہد سے قبل کمتر اطلاعاتی ٹیکنالوجی کے دور میں منگولوں کے ذریعہ وسیع سلطنت کو چلانے اور اس پر کنٹرول رکھنے کے کس قسم کی مہارتیں اپنائی گئیں تھیں؟ ایک ایسے شخص کے لیے جو حد درجہ اپنے اخلاق کے بارے میں خود اعتمادی کے ساتھ باخبر تھا۔ اور خدا کی طرف سے حکومت کرنے کو اپنا حق سمجھتا تھا۔ چنگیز خان نے اپنی سلطنت میں شامل مختلف سماجی اور مذہبی گروپوں سے کس طرح رابطہ رکھا؟ اپنی مطلق العنان سلطنت بنانے کا۔ اس تنوع کا کیا ہوا؟ ہمیں اپنی بحث آسان سوالوں کے ساتھ شروع کرنی چاہیے جن سے منگول اور چنگیز خان کے سیاسی اور سماجی پس منظر کو بہتر طور پر سمجھ سکیں کہ منگول کون تھے؟ وہ کہاں رہتے تھے؟ کس کے ساتھ ان کا میل جول تھا؟ اور ہم ان کے سماج اور سیاست کے بارے میں کس طرح واقف ہوئے؟
منگول مختلف قسم کے لوگوں پر مشتمل جماعت تھی۔ اور لسانی مشابہت کی بنا پر مشرق میں تاتاریوں (Tatars) کھیتان (Khitan) اور مانچوس (Manchus) اور مغرب میں ترکی قبائل سے منسلک تھے۔ کچھ منگول چرواہے تھے، جبکہ دوسرے شکار کرکے غذا اکٹھی کرتے تھے جو چرواہے تھے۔ وہ گھوڑے، بھیڑ کسی حد تک گائے، بیل، بکریاں اور اونٹ پالتے تھے۔ انھوں نے خانہ بدوشوں کی طرح وسط ایشیا کے صحراؤں میں جو موجودہ منگولیا کی حکومت کے علاقے میں ہے، زندگی گزارتے تھے۔ یہ ایک (اور ابھی تک) شاندار بری مناظر کا علاقہ مع وسیع افق، چکر دار میدانی علاقے اور مغرب میں برف سے ڈھکے ہوئے الٹائی (Altai) پہاڑوں سے گھرا ہوا ہے۔ جنوب میں گوبی (Gobi) کا بے آب و گیاہ صحرا، شمال مغرب میں اونون (Onon) اور سیلینگا (Selenga) ندیاں بہتی ہیں۔ اور لاتعداد چشمے برفیلے پہاڑوں سے پگھل کر بہہ رہے ہیں۔ گھنی وافر مقدار میں چراگاہ کے لئے گھاس اور شکار کے لیے چھوٹے جانور قابل ذکر تعداد میں بہترین موسم میں دستیاب تھے۔ شکار کے ذریعہ غذا اکٹھی کرنے والے سائبیریا کے جنگلوں میں گلہ بانوں کے شمال میں رہتے تھے۔ وہ چرواہوں کے مقابلے میں زیادہ منکسر المزاج تھے اور گرمی کے مہینوں میں شکار کئے گئے جانوروں کی پوستین کی تجارت کرکے اپنی زندگی بسر کرتے تھے۔ اس پورے علاقے میں درجۂ حرارت بہت زیادہ ہوتا تھا۔ شدید ترین ٹھنڈ کے ایام کے بعد خشک اور مختصر گرمی آتی تھی۔ چرا گاہ کے طور پر استعمال ہونے والی زمینوں پر سال کے مختصر حصوں میں کھیتی ممکن تھی۔ لیکن منگولوں نے (مغرب بعید کے کچھ ترکوں کے بر خلاف) کھیتی نہیں کی۔ نہ تو چراگاہوں پر مشتمل معیشت اور نہ ہی شکار اکٹھا کرنے پر مبنی اقتصاد میں گھنی آبادی والی بستیوں کو زندہ رکھ سکتی تھی۔ نتیجتاً اس علاقے میں کوئی شہر نہ بن سکا تھا۔ منگول، خیموں، جرس (Gers) میں رہتے تھے۔ اور اپنے مویشیوں کی خاطر موسم سرما کی چراگاہوں سے موسم گرما کی چراگاہوں کی طرف کوچ کرتے رہتے تھے۔

اونون ندی کا میدانی علاقے میں سیلاب
نسلی اور لسانی تعلقات نے منگولوں کو متحد کر رکھا تھا۔ لیکن وسائل کی کمی کی وجہ سے ان کا سماج پدری سلسلے پر مبنی نسلوں میں تقسیم تھا۔ مالدار خاندان بڑے تھے۔ ان کے پاس زیادہ جانور اور چراگاہیں تھیں۔ اس لیے بہت سے متبعین رکھتے تھے اور مقامی سیاست میں وہ زیادہ بارسوخ تھے۔ موسمی زمانی قدرتی آفات چاہے وہ خلاف معمول شدید سرد موسم سرما ہو جب شکار کے جانور اور جمع کی ہوئی اشیائے خوردنی ختم ہو جاتی تھیں یا خشک سالی جو سبزہ زاروں کو جھلسا دیتی تھی، کی وجہ سے خاندان چارے کی تلاش میں دور دراز علاقوں تک سفر کرنے پر مجبور ہوتے، جس کی وجہ سے چراگاہوں کی بابت جھگڑے ہوتے تھے۔ اور سامان زندگی کی تلاش میں لوٹ مار پر مبنی حملے کرتے تھے۔ خاندانوں کے گروپ وقتاً فوقتاً جارحانہ اور دفاعی مقاصد کے تحت مالدار اور طاقتور نسلوں سے اتحاد کر لیتے تھے۔ لیکن مستثنیات کو چھوڑ کر یہ وفاق؛ عام طور پر چھوٹے اور دیر پا نہیں ہوتے تھے۔ چنگیز خان کے منگولوں اور ترکوں کے قبائل وفاق کے سائز کا غالباً صرف اس وفاق سے مقابلہ کیا جاسکتا ہے جس کو پانچویں صدی میں اٹیلا (Atila) (متوفی 453)نے کیا تھا۔
نیچے ترک اور منگول لوگوں کی وسط ایشیا کی عظیم صحرائی وفاقی حکومتوں کی فہرست دی گئی ہے۔ یہ سب ایک ہی علاقے میں سکونت پذیر نہیں تھے اور نہ ہی مساوی طور پر وسیع تھے۔ اور نہ ہی ان کی داخلی تنظیم پیچیدہ تھی۔ انھوں نے خانہ بدوش عوام پر لائق توجہ اثر ڈالا تھا لیکن ان کے یہ اثرات چین اور اس کے قرب وجوار کے علاقوں پر مختلف تھے۔
سنگ نو (Hsiung-nu)
(200 ق م) ترک
جوان جوآن (Juan-juan) (400 عیسوی) منگول
ایپتھلائٹ ہن (Epthalite Huns) (400 عیسوی) منگول
توچوہے (Tu-Chueh)
(550 عیسوی) ترک
اوئی غور (Uighurs)
(740 عیسوی) ترک
ختان (Khitan)
(940 عیسوی) منگول
اٹیلا کے برخلاف چنگیز خان کا سیاسی نظام بہت زیادہ مستحکم تھا اور اس نے اپنے بانی کے سیاسی وجود کو قائم رکھا۔ یہ نظام اس قدر مستحکم تھا کہ چین، ایران اور مشرقی یوروپ کی بڑی فوجوں کو جو اعلیٰ ساز وسامان سے آراستہ تھیں، شکست دینے پر قادر تھا۔ اور جب انھوں نے ان علاقوں پر اپنا قبضہ جمالیا تو انھوں نے پیچیدہ زرعی معیشتوں اور شہری آبادیوں، سکونت پذیر سماجوں کا نظم و نسق کیا، جو ان کے اپنے سماجی تجربے اور وطن سے بالکل مختلف تھے۔
اگرچہ زرعی اور خانہ بدوش معیشتوں کی سماجی اور سیاسی تنظیمیں بہت مختلف تھیں۔ ہر مشکل سے ایک دوسرے کے لیے اجنبی تھیں۔ بلا شبہ صحرائی علاقوں کے ناکافی وسائل نے منگولوں اور دوسرے وسط ایشیائی خانہ بدوشوں کو اپنے پڑوسی چین کے لوگوں کے ساتھ تجارت اور اشیاء کے مبادلہ پر مجبور کیا۔ یہ مشترکہ طور پر دونوں فریق کے لیے فائدہ مند تھا۔ زرعی پیداوار اور لوہے کے برتن چین سے گھوڑوں، پوستین اور صحرا میں شکار کئے گئے جانوروں کے عوض مبادلہ کرتے تھے۔ تجارت کشاکش کے بنا ممکن نہ تھی۔ خاص طور پر جب دو گروپ زیادہ نفع حاصل کرنے کے لیے بغیر کسی جھجھک کے فوجی دباؤ کا استعمال کرتے تھے۔ جب منگول نسل کے لوگ متحد ہو جاتے تو منافع بخش شرائط اور تجارت کے لیے آمادہ کرنے پر اپنے چینی پڑوسیوں کو مجبور کرسکتے تھے۔ اور بعض اوقات تجارتی تعلقات و شرائط لوٹ مار کرنے کے لیے ترک کر دی جاتی تھیں۔ یہ تعلقات اسی وقت تبدیل ہوتے جب منگولوں کے درمیان ابتری پیدا ہوتی تھی۔ ایسے حالات میں چینی پورے اعتماد کے ساتھ صحراؤں میں اپنے اثرات کا استعمال کرتے۔ یہ سرحدی جنگیں سکونت پذیر سماج کو اور زیادہ کمزور کر دیتی تھیں۔ انھوں نے زراعت میں خلل ڈالا اور شہروں کو لوٹا۔ جبکہ دوسری طرف خانہ بدوش تصادم کے علاقے سے بہت کم نقصان اٹھا کر لوٹ آتے۔ اپنی پوری تاریخ کے دوران چین نے خانہ بدوش لوگوں کی بے جا مداخلت کی وجہ سے زبردست نقصان اٹھایا اور مختلف حکومتوں — یہاں تک کہ آٹھویں صدی قبل مسیح پہلے سے اپنی رعایا کی حفاظت کی خاطر دفاعی دیواریں تعمیر کرائیں۔ تیسری صدی قبل مسیح سے مشترکہ دفاع کے لیے دفاعی دیواروں کی تکمیل کا کام شروع کیا گیا جسے آج ہم ’’عظیم دیوار چین‘‘ کے نام سے جانتے ہیں، جو شمالی چین کے زرعی سماجوں پر خانہ بدوشوں کی یورشوں سے مزاحمت اور خوف کے خلاف ایک موثر بصری عہد نامہ ہے۔

چنگیز خان کا دورۂ زندگی
چنگیز خان تقریباً 1162 میں اونون ندی (Onon River)کے قریب پیدا ہوا تھا جو موجودہ منگولیا کے شمال میں واقع ہے۔ اس کا نام تموجن (Temujin) رکھا گیا۔ وہ یسوگئی (Yesugei) کا بیٹا تھا جو کیات (Kiyat) کا فوجی سردار تھا۔ کیات کچھ خاندانوں پر مشتمل تھا جس کا تعلق بورجی گڈ (Borjigid) خاندان سے تھا۔ اس کے باپ کا اوائل عمر میں قتل کر دیا گیا تھا۔ اس کی ماں اوئلون ایکے (Oelun-eke) نے تموجن، اس کے بھائیوں اور اس کے سوتیلے بھائیوں کو بڑی مشکل سے پالا۔ آنے والی دہائی مصیبتوں سے بھری تھی۔ تموجن کو گرفتار کر لیا گیا اور غلام بنالیا گیا۔ اس کی شادی کے کچھ دنوں بعد ہی اس کی بیوی بورٹے (Borte) کو اغوا کر لیا گیا اور اسے دوبارہ حاصل کرنے کے لیے اس کو جنگ کرنی پڑی۔ ان پریشانی کے سالوں میں اس نے کچھ اچھے دوست بنائے۔ نوجوان بوغور چو (Boghurchu) اس کا پہلا حلیف تھا۔ اور ہمیشہ ایک بھروسہ مند دوست رہا۔ جموقا (Jamuqa) اس کا سگا بھائی اندا (Anda) اس کا دوسرا دوست تھا۔ تموجن نے اپنے باپ کے بزرگ بھائی کیری آئیٹس (Kereyits) کے حکمراں طغرل (Tughril) اونگ خان (Ong Khan) کے ساتھ پرانے اتحاد کو دوبارہ بحال کیا۔
1180 اور 1190 کی دبائی کے درمیان تموجن اونگ خان کا حلیف بنا رہا۔ تاکہ اس اتحاد کا استعمال جموقا جیسے طاقتور دشمن کو شکست دینے کے لیے کرسکے جو اس کا پرانا دوست تھا اور اب اس کا بدترین دشمن بن گیا تھا۔ اس کو شکست دینے کے بعد تموجن کو بڑی خود اعتمادی کے ساتھ دوسرے قبیلوں جیسے طاقتور تاتاریوں (اس کے والد کے قاتلین) کیری آئیٹس (Kereyits)اور اونگ خان کے خلاف 1203 میں حملہ کرنے کا حوصلہ ہوا۔ 1206 میں نائمان (Naiman) لوگوں اور طاقتور جموقا کی آخری شکست نے تموجن کو صحرائی علاقوں کی سیاست میں ایک بااثر شخصیت کے طور پر پیش کیا۔ منگول سرداروں کی اسمبلی قرل تئی (Quriltai) میں اس کی اس پوزیشن کو تسلیم کر لیا گیا جہاں وہ منگولوں کا عظیم خان (Great Khan) قاآن (Qa'an) کی حیثیت سے چنگیز خان، بحری خان (Oceanic Khan) یا عالم گیر حکمران (Universal Ruler) کے خطابات کے ساتھ تخت نشین ہوا۔
1206 میں قرل تئی کے تھوڑے ہی پہلے چنگیز خان نے منگولوں کا زیادہ موثر اور منضبط فوجی قوت کے طور پر دوبارہ منظم کیا۔ (ذیل کے حصوں کو ملاحظہ کیجئے) جس نے اس کی مستقبل کی مہمات کی کامیابی میں آسانی بہم پہنچائی۔ اس کی پہلی تشویش چین کو فتح کرنے میں تھی جو اس وقت تین قلمرو میں منقسم تھا۔ شمال مغرب صوبوں میں تبتی (Tibetan) اصل کے سی سیا (Hsi Hsia) لوگ تھے۔ جرچن (Jurchen) جس کا چن خاندان (Chin dynasty) پیکنگ (Paking) سے شمالی چین پر حکمرانی کرتا تھا۔ سنگ خاندان (Sung Dynasty) جن کے قبضہ میں جنوبی چین تھا۔ 1209 تک سی سیا (Hsi-Hsia) شکست کھا چکے تھے۔ 1203 میں چین کی عظیم دیوار میں رخنہ ڈال دیا گیا تھا اور پیکنگ شہر 1215 میں لوٹ لیا گیا۔ 1234 تک چن (Chin) کے خلاف لمبی لڑائیاں جاری رہیں۔ بایں ہمہ چنگیز خان اپنی جاری فوجی کارروائی سے کافی مطمئن تھا اور 1216 میں اپنے وطن منگولیا واپس لوٹ آیا اور علاقے کے فوجی معاملات کو اپنے ماتحتوں کے سپرد کر دیا۔
1218 میں قراخیتا (Qara Khita) کی شکست کے بعد جو چین کے شمال مغرب کے تین شان (Tien Shan) پہاڑوں پر قابض تھا، منگول سلطنت دریائے آمو (Amu Darya) اور ماوراءالنہر (Transoxiana) اور خوارزم کی ریاستوں تک وسیع ہوگئی۔ خوارزم کا حکمراں سلطان محمد نے جب منگول سفیروں کا قتل کر دیا تو چنگیز خان کے جوش انتقام کا شکار بنا۔ 1219 اور 1221 کے درمیان کی فوجی کارروائیوں میں عظیم شہر اوترار (Otrar) بخارا، سمرقند، بلخ، گورگنج، مرو، نیشا پور، اور ہرات نے اپنے آپ کو منگول فوج کے سپرد کر دیا۔ مزاحمت کرنے والے شہر برباد کر دیے گئے۔ نیشاپور میں جہاں ایک منگول شہزادہ محاصرہ کے دوران قتل کر دیا گیا تھا وہاں چنگیز خان نے حکم دیا کہ ’’شہر کو اس طرح برباد کر دیا جائے کہ اس جگہ پر ہل چلایا جاسکے اور اپنے مطالبۂ انتقام (شہزادہ کی موت کی وجہ کے لیے) میں یہاں تک کیا جائے کہ کتے اور بلی بھی زندہ نہ چھوڑے جائیں۔‘‘
منگولوں کے ذریعہ کی گئی تباہی کا تخمینہ
چنگیز خان کی فوجی کارروائیوں سے متعلق تمام بیانات اس بات پر متفق ہیں کہ جن شہروں نے اس کی حکم عدولی کی تھی ان پر قبضہ کے بعد اس نے بہت زیادہ لوگوں کو قتل کیا۔ ان کی تعداد دل دہلا دینے والی ہے۔1220 میں نیشا پور پر قبضہ کے وقت 1,747,000 افراد قتل کر دیے گئے تھے۔ جبکہ 1222 میں ہرات میں قتل ہونے والے افراد کی تعداد 1,600,000 تھی اور 1258 میں بغداد میں قتل کئے گئے افراد کی تعداد 800,000تھی۔ چھوٹے شہروں میں لوگ متناسب نمائندگی کے اعتبار سے اس مصیبت سے دو چار ہوئے۔ ناسا (Nasa) میں 70,000 لوگ مرے۔ ضلع بیہاق (Baihaq) میں 70,000 لوگ اور صوبہ کوہستان کے تن (Tun) قصبہ میں 12,000 افراد قتل کر دیے گئے۔
دور وسطیٰ کے وقائع نویسوں نے ان اعداد و شمار کو کیسے حاصل کیا؟
جوینی (Juwaini) جوالی خان کا فارسی وقائع نگار تھا، اس نے بیان کیا ہے کہ 1,300,000 لوگ مرو میں قتل کئے گئے تھے۔ وہ اس تعداد پر اس طرح پہنچا کیونکہ لاشوں کی گنتی میں تیرہ دن لگے اور ہر دن انھوں نے ایک لاکھ لاشیں شمار کیں۔
منگول فوجوں نے سلطان محمد کا آذر بائجان تک پیچھا کیا اور کریمیا (Crimea) کے مقام پر روس کی فوج کو شکست دی۔ اور کیسپین سمندر (Caspian Sea) کو نرغہ میں لے لیا۔ فوج کے ایک دوسرے حصے نے سلطان کے بیٹے جلال الدین کا افغانستان اور سندھ صوبہ تک تعاقب کیا۔ سندھ ندی کے کناروں سے چنگیز خان نے شمالی ہندوستان اور آسام سے ہو کر منگولیا واپس جانے کے بارے میں سوچا۔ لیکن شدید گرمی، فطری وطن اور برے شگون جس کو اس کے کاہن شامن (Shaman) نے بتایا تھا کی وجہ سے اس نے اپنا ارادہ ترک کر دیا۔
اپنی زندگی کا بیشتر حصہ فوجی لڑائیوں میں گزارنے کے بعد چنگیز خان 1227 میں فوت ہوگیا۔ اس کی فوجی کامیابیاں حیران کن تھیں اور یہ اس کی نئی اختراعات اپنانے کی قابلیت اور صحرائی لڑائی کے مختلف پہلوؤں کو بہت ہی فعال فوجی فن لشکر کشی میں تبدیل کرنے کی وجہ سے تھیں۔ منگولوں اور ترکوں کی گھوڑ سواری میں مہارت نے فوج کو تیز رفتاری اور حرکت پذیری کا موقع فراہم کیا۔ گھوڑے کی پشت پر بیٹھ کر ان کے نشانہ لگانے کی صلاحیتوں میں مزید نکھار آگیا جو لگاتار شکار کی ان مہموں پر جانے کی وجہ سے تھا جس نے ان کی جنگی حرکت کو دو چند کرنے کا موقع دیا تھا۔ صحرا کے شہسوار ہمیشہ تیزی سے سفر کرتے تھے اور ایک جگہ سے دوسری جگہ جلدی منتقل ہو جاتے تھے۔ لیکن اب انھوں نے اپنے علاقے اور موسم کے متعلق تمام جانکاریوں کا استعمال ناقابل تصور کاموں کو انجام دینے کے لیے کیا۔ انھوں نے سخت ترین سردیوں میں اپنی جنگی کارروائیاں جاری رکھیں اور منجمد ندیوں کو دشمنوں کے شہروں اور فوجی کیمپوں میں داخل ہونے کے لیے عام شاہراہ کے طور پر استعمال کیا۔ عام طور پر خانہ بدوش لوگوں کو حصار بند لشکر گاہوں کے خلاف محاذ میں نقصان اٹھانا پڑتا تھا۔ لیکن چنگیز خان نے محاصراتی حربی مشین (Siege Engines) اور آتش گیر گولہ باری (Naphtha Bombardment) کی اہمیت کو بہت جلد سمجھ لیا تھا۔ اس کے انجینئروں نے ہلکا نقل پذیر آلہ (Light portable equipment) تیار کیا تھا جو دشمنوں کے خلاف تباہ کن اثرات ڈالنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔
تقریباً 1167
|
تموجن (Temujin) کی پیدائش |
1160-1170کی دہائی
|
غلامی اور جدو جہد بھرے سال گزرے |
| 1180-1190 کی دہائی |
اتحاد کی تشکیل کا دور |
1203-27
|
توسیع اور فتوحات |
| 1206 |
تموجن کو ’’چنگیز خان‘‘ منگولوں کا عالمگیر حکمران‘‘ اعلان کیا گیا |
1227
|
چنگیز خان کی وفات
|
60-1227
|
تین خانان ک حکومت اور منگول اتحاد جاری رہا۔
|
| 1227-60 |
چنگیز خان کے بیٹے اوگوڈی (Ogodei) کا عہد۔ |
1246-49
|
اوگوڈی کے بیٹے گویوک (Guyuk) کا عہد۔ |
| 1251-60 |
چنگیز خان کے سب سے چھوٹے بیٹے تولائے (Tulay) کے لڑکے مونگ کے (Mongke) کا عہد ۔ |
1236-42
|
چنگیز خان کے بڑے بیٹے جوچی (Jochi) کے لڑکے باتو (Batu) کی زیر قیادت روس، ہنگری، پولینڈ اور آسٹریا میں فوجی مہمیں۔
|
| 1253-55 |
مونگ کے کی زیر قیادت ایران اور چین پر از سر نو فوجی مہموں کی شروعات ۔ |
1258
|
بغداد پر قبضہ اور عباسی حکومت کا خاتمہ، مونگ کے، کے چھوٹے بھائی ہلاکو (Hulegu)کی ماتحتی میں ایران میں ال خانی سلطنت کا قیام، ال خان اور بوچی کے مابین آویزش کی ابتداء۔ |
| 1260 |
قبلائی خان (Qubilai Khan) کی خان اعظم کی حیثیت سے پیکنگ میں تخت نشینی۔ چنگیز خان کے جانشینوں میں آویزش، منگول قلمرو کی آزاد نسلوں، ٹولوئی (Toluy) چغتائی اور جوچی (اوگوڈی کی نسل کی شکست اور ٹولوئی کی نسل میں انضمام) میں تقسیم ۔ ٹولوئی نسل: یو آن (Yuan) خاندان سلاطین، چین میں اور ایران میں ال خانی حکومت چغتائی ماورا النہر کے شمال کے صحرائوں اور ترکستان میں۔ جوچی کی نسل روس کے صحرائوں میں، جنھیں مشاہدین نے ’طلائی جرگہ‘ (Golden Horde) کی حیثیت سے بیان کیا ہے۔
|
1257-67
|
باتو کے بیٹے برکے (Berke) کا عہد حکومت: ’طلائی جرگہ‘ کا نستوری عیسائیت سے اسلام کی طرف مائل ہونا۔ باضابطہ طور پر اسلام 1350 کی دہائی میں قبول کیا۔ مصر اور طلائی جرگہ کے درمیان ال خانیوں کے خلاف اتحاد کی ابتداء۔ |
| 1295-1304 |
ایران میں ال خانی حکمراں غازان خان کا عہد حکومت۔ اس کے بدھ مذہب چھوڑ کر اسلام قبول کرنے کے بعد بتدریج دیگر ال خانی سرداروں نے بھی اسلام قبول کیا۔ |
1368
|
یوآن (Yuan) خاندان سلاطین کا چین سے خاتمہ ۔ |
| 1370-1405 |
تیمور کی حکومت جو ایک برلاس ترک تھا۔ اور چغتائی سلسلہ نسل کے ذریعہ اس نے چنگیز خان کی نسل سے ہونے کا دعویٰ کیا۔ اس نے ایک صحرائی سلطنت قائم کی جس میں ٹولوئی (چین کو چھوڑ کر) چغتائی اور جوچی کے زیر تسلط علاقے شامل تھے۔ اس نے اپنے آپ کو گورگن (Guregen) ’شاہی داماد‘ کے خطاب سے نوازا اور چنگیز خان کی نسل کی ایک شہزادی سے شادی کی۔ |
1495-1530
|
تیمور اور چنگیز خان کا خلف ظہیر الدین بابر فرغانہ اور سمرقند کے تیموری سلطنت کے علاقوں کا جانشین بنا۔ وہاں سے معزول کیا گیا اور کابل پر قبضہ کیا۔ 1526 میں دہلی اورآگرہ کو فتح کیا اور ہندوستان میں مغل سلطنت کی بنیاد رکھی۔ |
| 1500 |
شیبانی خان کا ماورا النہر پر تسلط جو جوچی کے سب سے چھوٹے لڑکے شیبان کی اولاد تھا۔ اس نے شیبانی اقتدار (شیبانیوں کو ازبک بھی کہا جاتا ہے جس کے نام پر موجودہ ازبکستان کا نام پڑا) کو ماورا النہر کے علاقہ میں مستحکم کیا اور بابر و دیگر تیموری بادشاہوں کو اس علاقے سے نکال باہر کیا۔ |
1759
|
چین کے مانچوس لوگوں (Manchus) نے منگولیا فتح کیا۔ |
| 1921 |
جمہوریہ منگولیا |

باربیرینس (وحشی) ایک یوروپی آرٹسٹ کے خیال میں۔
منگول چنگیز خان کے بعد
چنگیز خان کی موت کے بعد منگول توسیع کو ہم دو نمایاں مرحلوں میں تقسیم کرسکتے ہیں: پہلا مرحلہ 1236-42 کے درمیان جب اہم کامیابیاں روس کے صحرائوں، بلغار، کیو (Kiev)، پولینڈ اور ہنگری میں حاصل ہوئیں تھیں۔ دوسرا مرحلہ 1255-1300 کے درمیانی سالوں پر محیط ہے۔ اس دور میں پورا چین (1279) ، ایران، عراق اور شام فتح ہوئے تھے۔ ان فوجی مہموں کے بعد سلطنت کی سرحدیں مستحکم ہوگئیں تھیں۔
1203 کے بعدکی دہائیوں میں منگول فوجی طاقتوں نے چند شکستوں کا سامنا کیا۔ لیکن قابل غور ہے کہ 1260 کی دہائی کے بعد مغرب میں فوجی کارروائیوں میں اصلی تیزی برقرار نہ رہ سکی۔ اگرچہ ویانا (Vienna) اور اس کے آگے مغربی یوروپ پر اور اسی طرح مصر، منگول فوجوں کے قبضہ میں تھا۔ لیکن ہنگری کے صحراؤں سے پسپائی اور مصری فوجوں کے ہاتھوں شکست نے نئے سیاسی رجحانات کے ظہور کی طرف اشارہ دیے۔ اس کے دو پہلو تھے۔ پہلا منگول فیملی کے اندر جانشینی سے متعلق اندرونی سیاست کا نتیجہ تھا جہاں پر جوچی اور اوگوڈی کی پہلی دو نسلوں نے عظیم خان کے منصب پر قابض ہونے کی غرض سے اتحاد کر لیا تھا۔ یہ مفادات یوروپ میں فوجی کارروائیاں جاری رکھنے سے زیادہ اہم تھے۔ دوسری مجبوری یہ پیش آئی کہ چنگیز خان کی نسل کی ٹولوئی شاخ کے جانشینوں نے جوچی اور اوگوڈی سلسلہ نسب سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو حاشیہ پر پہنچا دیا۔ چنگیز خان کے سب سے چھوٹے لڑکے ٹولوئی کے خلف مونگ کے کے تخت شاہی پر متمکن ہوتے ہی 1250 کی دہائی کے درمیان ایران میں فوجی مہموں کا سلسلہ جوش و خروش کے ساتھ شروع ہوگیا۔ لیکن جب 1260 کی دہائی میں ٹولوئیوں کی دلچسپیاں چین کو فتح کرنے میں بڑھ گئیں تو فوجوں اور فوجی رسد کو منگول قلمرو کے مرکزی علاقوں کی طرف بڑے پیمانے پر موڑ دیا گیا۔ نتیجتاً منگولوں نے مصر کی فوج کے خلاف چھوٹی اور کم تعداد میں فوج، میدان جنگ میں اتاری۔ ان کی ہار اور ٹولوئیوں کی فیملی کی چین کے ساتھ پہلے سے ہی مشغولیت، منگولوں کی مغرب میں توسیع کے خاتمہ کا سبب بنی۔ ساتھ ہی ساتھ جوچیوں اور ٹولوئیوں کی نسل کے درمیان روس، ایران کے سرحدی جھگڑوں نے جوچیوں کو یوروپ میں مزید فوجی مہموں سے روک دیا۔
مغرب میں منگول توسیع کے التوا میں پڑ جانے سے چین میں ان کی فوجی مہموں کو نہیں روکا گیا جسے منگولوں کے زیر قیادت دوبارہ متحد کیا گیا تھا۔ متناقص طور پر ان عظیم الشان کامیابیوں کے وقت، حکمراں خاندان کے افراد کے درمیان داخلی سرکشی ظاہر ہونے لگی۔ آنے والے حصہ میں ہم ان وجوہات پر بحث کریں گے جو منگولوں کی سیاسی مہم جوئی میں عظیم الشان کامیابیوں کا سبب بنیں، لیکن ساتھ ہی ان اسباب پر بھی بحث کی جائے گی جو ان کی ترقی میں رکاوٹ بنے۔
سماجی سیاسی اور فوجی تنظیم
منگولوں اور اس طرح کے دوسرے خانہ بدوش معاشروں میں تمام تندرست اور بالغ مرد مسلح ہوتے تھے اور ضرورت کے وقت یہی مسلح افواج میں شامل ہوتے تھے۔ مختلف منگول قبیلوں کے اتحاد کے بعد اور مختلف لوگوں کے خلاف لگاتار جنگی کارروائیوں نے چنگیز خان کی فوج میں نئے افراد متعارف ہوئے۔ جس کی وجہ سے نسبتاً چھوٹی، پیچیدہ ترتیب، حیران کن حد تک مختلف العناصر لوگوں کی بڑی جماعت بن گئے۔ اس میں ترکک اوئی غور (Turkic Uighurs) جیسے گروپ شامل تھے جنھوں نے ان کی طاقت کو برضا تسلیم کیا۔ اس میں شکست خوردہ لوگ بھی شامل تھے مثلاً کیرائیٹس (Kereyits) جن کو متحدہ وفاقی ریاست میں ان کی پرانی دشمنی کے باوجود رکھا گیا تھا۔
چنگیز خان نے اپنی متحدہ وفاقی ریاست میں شامل ہونے والے مختلف گروپوں کی پرانی قبائلی شناخت کو مٹانے کا کام منظم طور پر کیا۔ اس کی فوج پرانے صحرائی نظام کی اعشاری اکائیوں کے مطابق منظم کی گئی۔ جو دہائی (10s)سینکڑہ (100s) اور ہزار (1000s) (نظری طور پر) اور دس ہزار پر مشتمل تھی۔ پرانے نظام میں خاندان اور قبیلہ اعشاری اکائیوں کے اندر وجود رکھتے تھے۔ چنگیز خان نے اس رواج کو ختم کر دیا۔ اس نے قدیم قبیلائی گروپ بندی کو تقسیم کر دیا۔ اور اس کے ممبران کو نئی فوجی اکائیوں میں بانٹ دیا۔ جس فرد نے بھی اپنے نامزد گروپ سے بغیر اجازت دوسرے گروپ میں جانے کی کوشش کی اس کو سخت سزا ملی۔ فوجیوں کی سب سے بڑی اکائی جو تقریباً 10,000 فوجیوں (تومانTuman)پر مشتمل تھی۔ اس میں مختلف قبیلوں اور خاندانوں کے افراد کے غیر مکمل گروپ شامل تھے۔ اس تبدیلی نے پرانے صحرائی سماجی نظام کو بدل دیا اور مختلف نسلوں اور قبیلوں کو ملا کر اس کے مورث اعلیٰ چنگیز خان نے ان سب کو ایک نئی شناخت عطا کی۔
نئی امدادی فوجوں کو اس کے چار بیٹوں خاص طور پر اس کی فوج کی اکائیوں، جنھیں نویاں (Noyan) کہا جاتا تھا، کے منتخب سرداروں (Captains) کی ماتحتی میں کام کرنا تھا۔ نئی قلمرو میں متبعین کی ایک جماعت بھی اہم تھی جس نے چنگیز خان کی خدمت سخت مصیبت میں وفاداری کے ساتھ کئی برسوں تک کی تھی۔ چنگیز خان نے اس میں سے کچھ افراد کو اپنا خونی بھائی آندا (Anda) کہہ کر عوامی طور پر عزت بخشی۔ اور دوسرے آزاد لوگ جو کم رتبہ والے تھے ان کو اپنے ’نوکر‘ کا مخصوص درجہ عطا کیا۔ یہ ایک ایسا خطاب تھاجو ان کے اور آقا کے درمیان قریبی تعلقات کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس درجہ بندی نے خاندان کے پرانے سرداروں کے حقوق کو محفوظ نہیں رکھا۔ نئے طبقہ امراء نے اپنا رتبہ منگولوں کے عظیم خان کے ساتھ اپنے قریبی تعلقات کی بنا پر حاصل کیا تھا۔
اس نئے نظام مراتب میں نئے فتح کئے گئے لوگوں پر حکومت کرنے کی ذمہ داری چنگیز خان نے اپنے چار بیٹوں کو سونپ دی۔ یہ چار الوس (Ulus) پر مشتمل تھا۔ یہ ایک ایسی اصطلاح ہے جس سے درحقیقت متعین علاقے مراد نہیں ہوتے۔ چنگیز خان کی پوری زندگی میں لگاتار فتوحات ہوتی رہیں۔ اور سلطنت کا دائرہ وسیع ہوتا رہا، جہاں سرحدیں ہمیشہ بے حد سریع الحرکت تھیں۔ مثال کے طور پر سب سے بڑے بیٹے جوچی کو روس کے صحرا ملے تھے۔ لیکن اس کے علاقے الوس کی نہایت بعید حد مقرر نہیں تھی۔ اس کی حد مغرب میں اس دوری تک تھی جہاں تک اس کے گھوڑے دوڑ سکتے تھے۔ دوسرے لڑکے چغتائی کو ماوراالنہر کا صحرا اور اس کے بھائی کے علاقوں سے متصل پامیر (Pamir) پہاڑوں کے شمال کے علاقے دئے گئے تھے۔ غالباً ان علاقوں میں تبدیلی آئی ہوگی۔ جب جوچی نے مغرب کی طرف پیش قدمی کی تھی۔ چنگیز خان نے اس بات کا اشارہ دیا کہ اس کا تیسرا لڑکا اوگوڈی خان اعظم کی حیثیت سے اس کا جانشین ہوگا اور جانشینی کے بعد اس شہزادہ نے اپنی راجدھانی قراقرم میں قائم کی۔ چھوٹے لڑکے ٹولونی کو منگولیا کے آبائی علاقے ملے تھے۔ چنگیز خان نے سوچا کہ اس کے لڑکے مل جل کر حکومت کریں گے اور اس حقیقت کو واضح کرنے کے لیے شہزادوں کی ذاتی امدادی فوجوں تما (Tama) کو ہر ایک الوس میں تعینات کیا گیا تھا۔ فیملی کے افراد کے درمیان حکومت کا مفہوم مشترک تھا۔ اور یہ بات سرداروں کے اجتماع قرل تائس (Quriltais) سے نمایاں ہوتی تھی جہاں پر فیملی یا حکومت سے متعلق آنے والے موسم میں جنگی کارروائیوں، مال غنیمت کی تقسیم، چراگاہوں اور جانشینی سے متعلق تمام فیصلے متفقہ طور پر لئے جاتے تھے۔

چنگیز خان کی متعدد بیویاں تھیں اور وہ بہت سے بچوں کا باپ تھا۔ اس کی مہارانی بورتے کے چار لڑکے ، اس خاندانی شجرے کی مختلف شاخیں بنے۔ اس کے بڑے لڑکے جوچی کے خاندان میں کوئی بھی عظیم خان پیدا نہیں ہوا۔ مگر اس خاندان کے پاس عظیم طاقت تھی۔ گویوک کی موت کے بعد جوچی کے لڑکے باتو کی او گودئی کے خاندان کو حمایت دینے سے انکار کے سبب طاقت تولائی خاندان کے ہاتھوں میں آگئی، جس نے مونگے اور قبلائی کے لیے اقتدار کے دروازے کھول دیے۔ تولائی، بورکے اور آرغ بوکے کوئی بھی شبیہ دستیاب نہیں ہے۔ تنفر آمیز خانوں کے علاوہ دیگر سبھی کو ان کے روایتی منڈے ہوئے سروں کے ساتھ دکھایا گیا ہے۔
چنگیز خان پہلے سے ہی ایک تیز رفتار ہرکارہ نظام رائج کر چکا تھا جو اس کی سلطنت کے دور دراز علاقوں کو ایک دوسرے سے مربوط کرتا تھا۔ تازہ دم گھوڑے اور گھوڑ سوار متعینہ دوری پر قائم چوکیوں میں تعینات کئے گئے تھے۔ اس سیلی نظام کو جاری رکھنے کے لیے خانہ بدوش منگول اپنے ریوڑ، گھوڑے یا مویشیوں کا دسواں حصہ بطور ٹیکس ادا کرتے تھے۔ اس کو قوبکر (Qubcur) ٹیکس کہا جاتا تھا۔ یہ ایک ایسا ٹیکس تھا جس کو خانہ بدوش افراد اس کے کثیر فوائد کی وجہ سے رضا مندانہ طور پر دیتے تھے۔ ہرکارہ نظام یام (Yam) میں چنگیز خان کی وفات کے بعد مزید نکھارا ٓگیا اور اس کی رفتار اور اعتماد نے سیاحوں کو حیران کر دیا۔ اس نے خان اعظم کو اس قابل بنایا کہ وہ براعظموں پر مشتمل اپنی وسیع سلطنت کے دور دراز علاقوں میں ہونے والے واقعات کی نگرانی کرسکے۔
بہر حال مفتوحہ لوگوں نے بڑی مشکل سے اپنے نئے خانہ بدوش آقاؤں کے ساتھ شناخت کا رشتہ محسوس کیا۔ تیرہویں صدی کے نصف اوّل میں شہر تباہ کر دئے گئے تھے۔ کاشت کی زمینیں برباد ہوگئیں تھیں۔ تجارت اور دستکاری کی پیداوار میں خلل پڑا تھا۔ لاکھوں لوگ صحیح اعداد و شمار اس وقت کی مبالغہ آمیز رپورٹوں میں غائب ہوگئے، قتل کر دئے گئے اور اس سے کہیں زیادہ لوگ غلام بنا لئے گئے تھے۔ تمام طبقات کے لوگوں (جس میں اشراف سے لے کر کسان تک شامل تھے) نے مصیبتوں کا سامنا کیا۔ نتیجتاً عدم استحکام کی وجہ سے بے آب و گیاہ ایرانی مرتفع علاقے کی زیر زمین نہریں جنھیں قناتس (Qanats) کہا جاتا تھا، کی زمانی مرمت (Periodic Maintenance) نہیں کی جاسکی تھی اور ان کے بے مرمت پڑے رہنے کی وجہ سے یہ علاقہ صحرا بن گیا۔ یہ ماحولیاتی تباہی کا باعث بنا اور جس سے خراسان کے کچھ حصے آج تک ابھر نہیں پائے۔
ایک بار جب فوجی مہموں کا غبار تھم گیا تو یوروپ اور چین کے درمیان زمینی سطح پر رابطہ قائم ہوا۔ منگول فتح (Pax Mongolica) کے بعد دور امن کی وجہ سے تجارتی تعلقات پختہ ہوگئے۔ شاہراہ ریشم کے ذریعہ تجارت اور سفر منگولوں کے تحت اپنے عروج پر پہنچ گئے تھے۔ لیکن پہلے کے برخلاف تجارت کے راستے چین میں ختم نہیں ہوتے تھے۔
یہ شمال میں نئی سلطنت کے قلب منگولیا اور قراقرم تک جاتے تھے۔ منگول سلطنت سے ربط کو برقرار رکھنے کے لیے ترسیل اور سفر میں آسانی ضروری تھی اور مسافروں کو محفوظ طریقے سے سیاحت کی خاطر پاس (Pass) (فارسی میں پیزا (Paiza) منگولیا میں جیرجے (Gerege) دیا جاتا تھا۔ اس مقصد کے لیے تاجر باج ٹیکس (Baj Tax) ادا کرتے تھے اور اس کے ذریعہ سے سبھی لوگ منگول خان کے اقتدار کو تسلیم کرتے تھے۔
سرگرمی 2
ان علاقوں کو جہاں سے شاہراہ ریشم گزرتی تھی اور اس راستہ پر تاجروں کو دستیاب اشیاء کو قلمبند کیجئے۔ اس نقشہ میں منگول طاقت کے انتہائی عروج کے دوران شاہراہ ریشم کے آخری مشرقی کنارے کی نشاندہی نہیں کی گئی ہے۔ کیا آپ اس میں ان شہروں کے مقامات متعین کرسکتے ہیں جن کی یہاں نشاندہی نہیں کی گئی ہے؟ کیا یہ بارہویں صدی عیسوی میں شاہراہ ریشم پر ہوسکتے تھے؟ کیوں نہیں؟
تیرہویں صدی عیسوی میں منگول سلطنت میں رہنے والے خانہ بدوش اور سکونت پذیر عناصر کے درمیان تضادات بھی کم ہوتے گئے۔ مثال کے طور پر 1230 کی دہائی میں جب منگولوں نے شمالی چین میں چن خاندان سلاطین کے خلاف کامیاب جنگ لڑی اس وقت منگول قیادت کے اندر دباؤ ڈالنے والا ایک طاقتور گروپ موجود تھا جو تمام کسانوں کو قتل کرنے اور ان کے کھیتوں کو چراگاہوں میں تبدیل کرنے کی وکالت کر رہا تھا۔ لیکن 1270 کی دہائی تک جب سنگ خاندان کی شکست کے بعد جنوبی چین کا منگول سلطنت میں الحاق ہو گیا تھا تو اس وقت چنگیز خان کے پوتے قبلائی خان (متوفی 1294) شہروں اور کسانوں کے محافظ کے طور پر سامنے آیا۔ 1290 کی دہائی میں ایران کے منگول حکمراں غازان خان (متوفی 1304) نے جو چنگیز خان کے سب سے چھوٹے لڑکے ٹولوئی کا خلف تھا، فیملی کے افراد اور دوسرے فوجی سرداروں کو خبردار کیا تھا کہ کسانوں کو لوٹنے سے احتراز کریں۔ اس کی وجہ سے ایک مستحکم قلمرو قائم نہیں ہوئی۔ اس نے اپنے ایک خطاب میں نصیحت جس سکونت پذیرانہ اور جذباتی لہجے میں کی تھی اس سے چنگیز خان بھی تھرا گیا ہوگا۔
نقشہ 2 منگولوں کی فوجی مہمیں
سرگرمی 3
یہاں چرواہوں اور کسانوں کے بیچ آویزش کیوں تھی؟ کیا چنگیز خان اپنے خانہ بدوش کمانڈروں کے سامنے اپنی تقریر میں اس نوعیت کے جذبات کا اظہار کر پاتا؟
غازان خان کی تقریر
غازان خان (1295-1304) پہلا ال خانی حکمراں تھا جس نے اسلام قبول کیا تھا۔اس نے مندرجہ ذیل تقریر منگول ترک خانہ بدوش قائدوں کے سامنے کی تھی۔ یہ تقریر غالباً اس کے فارسی وزیر رشید الدین کے ذریعہ کی گئی تھی اور یہ وزیر کے خطوط میں شامل ہے:
’’میں فارسی کسانوں کی طرف نہیں ہوں۔ اور اگر ان سب کو لوٹنے سے کوئی مقصد حل ہو رہا ہے تو اس کام کو کرنے کے لیے مجھ سے زیادہ طاقتور کوئی نہیں ہے۔ آؤ ہم سب مل کر انھیں لوٹ لیں۔ لیکن اگر تم مستقبل میں اپنے دسترخوان پر اناج اور کھانے کو یقینی بنانا چاہتے ہو تو یہ ضروری ہے کہ میں تمہارے ساتھ سختی سے پیش آؤں۔ تمہیں حکمت کی بات ضرور سیکھنی چاہیے۔ اگر تم کسانوں کی بے عزتی کرتے ہو، ان کے بیلوں اور بیج کو لیتے ہو اور ان کی فصلوں کو روندتے ہو تو تم مستقبل میں کیا کرو گے؟ ۔۔۔۔۔لازمی طور پر وفادار کسانوں کو باغی کسانوں سے الگ رکھا جانا چاہیے۔۔۔۔‘‘
چنگیز خان کے دور حکومت میں ہی منگولوں نے مفتوحہ معاشروں کے افراد کو شہری منتظمین کی حیثیت سے بھرتی کر لیا تھا۔ بعض اوقات ان کے تبادلے ہوتے تھے۔ چین کے سیکریٹری ایران میں اور ایران کے سیکریٹری چین میں بھیجے جاتے تھے۔ ان لوگوں نے دور دراز کے علاقوں کو متحد کرنے میں مدد کی اور ان کے ثقافتی حالات اور تربیت سکونت پذیر زندگی پر خانہ بدوشوں کی تیز دھار تباہی کو کند کرنے کے لیے ہمیشہ مفید تھے۔ منگول خان ان پر اس وقت تک اعتماد کرتے تھے جب تک یہ لوگ اپنے آقاؤں کی آمدنی میں اضافہ کرتے رہتے تھے۔ یہ منتظمین بعض اوقات قابل لحاظ اثر ڈالنے میں کامیاب ہو جاتے تھے۔ 1230 کی دہائی میں چینی وزیر یے لوجوئسی (Yeh-lu-Chu-Tsai) نے اوگوڈی کی حد درجہ لالچی صفات کو ختم کر دیا تھا۔ جوینی فیملی نے تیرہویں صدی کے نصف آخر میں ایسا ہی کردار ایران میں ادا کیا تھا۔ اور صدی کے آخر میں وزیر رشید الدین نے ایک ایسی تقریر تیار کی جسے غازان خان نے اپنے منگول ہم وطنوں کے سامنے پیش کی تھی جس میں اس نے ان سے کسانوں کو ہراساں کرنے کے بجائے ان کی حفاظت کرنے کی بات کی تھی۔
خانہ بدوش کے حقیقی صحرائی وطن سے دور علاقوں میں جو منگولوں کا نیا وطن تھا سکونت پذیر ہونے کا دباؤ زیادہ تھا۔ تیرہویں صدی کے وسط تک مشترکہ میراث کا شعور جس میں تمام بھائی شریک تھے، کی جگہ آہستہ آہستہ انفرادی خاندانی سلطنتوں نے لے لی۔ ہر ایک اپنے علیحدہ الوس پر حکمرانی کرتا تھا۔ یہ ایک ایسی اصطلاح ہے جو اب علاقائی تسلط کا مفہوم لئے ہوئے ہے۔ یہ جزوی طور پر جانشین کے لیے جدوجہد کا نتیجہ تھا، جہاں چنگیز خان کی اولاد نے خان اعظم کے منصب کے لیے اور قیمتی چراگاہوں کی زمین کے لیے ایک دوسرے پر سبقت لینے لگے تھے۔ تولوئی کی نسل نے چین اور ایران میں حکومت کی اور جہاں انھوں نے یو آن (Yuan) اور ال خانی سلطنتوں کو قائم کیا۔ جوچی کی نسل نے علاقائی جرگہ (Golden Horde) تشکیل دیا اور روس کے صحراؤں پر حکمرانی کی۔ چغتائی نسل کے جانشینوں نے ماوراءالنہر کے صحراؤں اور موجودہ ترکستان کے علاقوں پر حکومت کی۔ نمایاں طور پر خانہ بدوشوں کی روایات وسط ایشیا (چغتائی کے خلاف) اور روس (طلائی جرگہ) کے صحراؤں کے باشندوں کے درمیان بہت عرصہ تک باقی رہیں۔
چنگیز خان کے جانشینوں کا بتدریج جدا نسلی گروپوں میں تقسیم ہونا اس بات کی ضمنی طور پر دلالت کرتا ہے کہ ان کے ربط میں گذشتہ فیملی کی یادداشت اور روایات میں بھی تبدیلیاں آگئیں۔ ظاہری طور پر یہ اس مسابقت کا نتیجہ تھا جو بنی عم قبائل (Cousin Claus) کے درمیان جاری تھا۔ اور یہاں پر ٹولوئی کی نسل کے افراد اس معاملے میں زیادہ ماہر تھے کہ خاندانی اختلافات کو اپنے نقطہ نظر سے ان تاریخی کتابوں میں پیش کرسکیں جو ان کی سر پرستی میں لکھی گئیں۔ یہ بڑی حد تک چین اور ایران پر ان کے تسلط کا اور ادیبوں کی ایک بڑی جماعت جن کو ان کے خاندان کے افراد بھرتی کرسکتے تھے، کا نتیجہ تھا۔ بڑی حد تک مغالطہ آمیز سطح پر ماضی سے ترک تعلق کا مطلب برسر اقتدار حکمرانوں کی خوبیوں کو ماضی کے بادشاہوں کے مقابلے میں نمایاں کرنا تھا۔ اس مقابلہ آرائی میں خود چنگیز خان کو بھی الگ نہیں رکھا۔ تیرہویں صدی کے آخر میں ال خانی ایران میں لکھے گئے وقائع میں تفصیلی طور پر خان اعظم کے ذریعہ کئے گئے خونریز قتل عام کو پیش کیا اور مرنے والوں کی تعداد کو مبالغہ آرائی کے ساتھ بیان کیا ہے۔ مثال کے طور پر ایک چشم دید رپورٹ کے بالمقابل کہ 400 فوجیوں نے بخارا قلعہ کا دفاع کیا تھا جبکہ ایک ال خانی وقائع میں بیان کیا گیا کہ 30,000 فوجی بخارا کے قلعہ پر حملے میں مارے گئے۔ اگرچہ ال خانی رپرٹوں میں ابھی تک چنگیز خان کی مدح سرائی کی گئی ہے۔ اور ان میں راحت کا ایک بیان بھی دیا ہے کہ وقت بدل چکا تھا اور ماضی کی عظیم قتل و غارت گری ختم ہو چکی تھی۔ چنگیز خان کی وراثت کافی اہم تھی۔ لیکن اس کے برخلاف اس کو سکونت پذیر ناظرین کے سامنے اپنے آپ کو منوالینے والے ہیرو کے طور پر ظاہر کرنا تھا۔ یہ زیادہ دنوں تک اپنے آپ کو اپنے اجداد کے طریقہ پر نہیں رکھ سکے تھے۔
ڈیوڈ آیالون (David Ayalon) کی تحقیق کے بعد یاسا (Yasa) پر حالیہ تحقیق ہوئی ہے۔ یہ وہ ضابطہ قانون ہے جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ چنگیز خان نے اس کو 1206 کے قرل تئی (Quriltai) میں اعلان کیا تھا۔ اس میں تفصیلی طور پر ان پیچیدہ طریقوں کو بیان کیا گیا ہے جس میں خان اعظم کی یاد میں اس کے جانشینوں کے ذریعہ رواج دئے گئے تھے۔ ابتدائی ضابطہ سازی میں اس اصطلاح کو یا ساق (Yasaq) لکھا گیا تھا جس کا مطلب قانون، فرمان یا حکم تھا۔ درحقیقت یاساق کے متعلق جو کچھ تفصیلات ہمارے پاس ہیں وہ انتظامی قواعد وضوابط جیسے شکار کا نظام، فوج اور ڈاک کے نظام سے متعلق ہیں۔ تیر ہویں صدی کے وسط میں منگولوں نے اس سے متعلق اصطلاح یا ساکو عام مفہوم میں چنگیز خان کے قانونی ضابطہ کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا تھا۔
اگر ہم اس وقت پیش آنے والے کچھ دوسرے واقعات پر نظر ڈالیں تو اصطلاح کے معنی میں تبدیلیوں کو سمجھ سکتے ہیں۔ تیرہویں صدی میں منگول متحدہ لوگوں کی حیثیت سے ظاہر ہوئے تھے اور انھوں نے دنیا کی اس وقت تک سب سے بڑی سلطنت قائم کی۔ انھوں نے نہایت پر تصنع معاشروں پر ان کی اپنی تاریخ، تہذیب اور قانون کے ساتھ حکومت کی۔ اگرچہ منگولوں نے سیاسی طور پر علاقوں پر غلبہ کر لیا تھا لیکن وہ عددی طور پر اقلیت میں تھے۔ صرف ایک راستہ تھا جس کے ذریعہ اپنی شناخت اور امتیاز کو محفوظ رکھ سکتے تھے وہ تھا اپنے آباءو اجداد کے ذریعہ دئے گئے مقدس قانون پر دعویٰ کرنا۔ غالب امکان یہی ہے کہ یاسا منگول قبائل کے رسم و رواج اور روایات کی تدوین تھی۔ لیکن اس کو چنگیز خان کے ضابطہ قانون کی طرف منسوب کر دیا گیا۔ منگولوں نے بھی چنگیز خان کو موسیٰ اور سلیمان کی طرح ایک ’’واضح قوانین‘‘ (Lawgiver) ہونے کا دعویٰ کیا جن کا حاکمانہ ضابطہ ان کی رعایا پر نافذ کیا جاسکے۔ یاسانے منگولوں کو مشترکہ عقائد رکھنے کی بنیاد پر مربوط بنائے رکھا۔ اس نے چنگیز خان اور اس کے اخلاف سے ان کی قرابت داری کو تسلیم کیا اور اگرچہ انھوں نے سکونت پذیر طرز زندگی کے مختلف پہلوؤں کو اپنا لیا تھا۔ اس چیز نے انھیں اپنی نسلی شناخت کو برقرار رکھنے اور اپنے قانون کو شکست خوردہ رعایا پر نافذ کرنے کے لیے اعتماد بخشا۔ یہ حد درجہ اختیار دینے والا نظریہ تھا۔ اگرچہ چنگیز خان کا شاید اس طرح کا ضابطہ قانون بنانے کا منصوبہ نہیں تھا۔ یقینی طور پر اسے اس کی سیاسی بصیرت سے تحریک ملی تھی اور جس نے عالمگیر منگول سلطنت قائم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
سرگرمی 4
کیا چنگیز خان سے عبداللہ خان کو علیحدہ کرنے والی چار صدیوں کے درمیان یاسا کے معنی میں تبدیلی آئی؟ حافظ تابش نے چنگیز خان کے یاسا کارشتہ عبداللہ خان کی مسلم تقریباتی میدان میں عبادت کے حوالے سے کیا دیا ہے؟
یاسا(Yasa)
1221 میں بخارا کے فتح کے بعد چنگیز خان نے یہاں کے مسلم مالدار باشندوں کو تقریباتی میدان میں جمع کیا تھاا ور ان کو متنبہ کیا تھا۔ اس نے انھیں گنہ گار کہا تھا اور گناہ کا کفارہ اپنے پوشیدہ اموال کے ذریعہ ادا کرنے کے لیے تنبیہ کی تھی۔ یہ واقعہ ڈرامائی تھا اور اس قابل تھا کہ اس کی مصوری کی جائے۔ اس واقعہ کو لوگوں نے لمبے عرصہ تک یاد رکھا۔ سولہویں صدی کے آخر میں عبداللہ خان جو چنگیز خان کے بڑے لڑکے جوچی کی بعید نسل سے تعلق رکھتا تھا۔ بخارا کے اسی تقریباتی میدان میں گیا تھا۔ چنگیز خان کے بر خلاف عید کی نماز ادا کرنے گیا تھا۔ اس کے تاریخ نویس حافظ تابش نے اپنے آقا کے مسلم تقویٰ کو بیان کیا ہے اور ایک حیرت انگیز توضیح شامل ہے کہ ’’یہ عمل چنگیز خان کے یاسا کے مطابق تھا۔‘‘
نتیجہ : دنیا کی تاریخ میں چنگیز خان اور منگولوں کا مقام
آج جب ہم چنگیز خان کو یاد کرتے ہیں تو ہمارے تصور میں صرف فاتح اور شہروں کو تباہ کرنے والے کی حیثیت سے اس کی تصویر آتی ہے۔ اور ایسے شخص کی حیثیت سے جو ہزاروں لوگوں کو موت کا ذمہ دار تھا۔ تیرہویں صدی عیسوی میں چین، ایران اور مشرقی یوروپ کے بہت سے باشندوں نے صحراؤں کے ان خانہ بدوشوں کے گروہوں کی طرف خوف اور کراہت سے دیکھا تھا۔ تاہم منگولوں کے لیے چنگیز خان اب تک کا عظیم رہنما تھا۔ اس نے منگولوں کو متحد کیا۔ اور انھیں لامتنا ہی قبائلی جنگوں اور چینی استحصال سے آزاد کرایا۔ ان کے لیے خوشحالی لایا۔ ایک بڑی بین براعظمی سلطنت قائم کی اور تجارتی راستوں اور بازاروں کو بحال کیا جنھوں نے دور دراز کے سیاحوں وینیٹین مارکوپولو (Venetian Marco Polo) جیسے سیاح کی توجہ اپنی طرف مبذول کرائی۔ متضاد تصویریں صرف ایک مختلف پس منظر کا مسئلہ نہیں ہیں۔ انہیں ہم کو تھوڑی دیر روکنا چاہیے اور یہ بتانا چاہیے کہ ایک (فرمانروا) نظریہ کیسے تمام دوسرے نظریوں کو ختم کر سکتا ہے۔
شکست خوردہ سکونت پذیر لوگوں کے خیالات سے الگ ہٹ کر ایک لمحہ کے لیے آپ تیرہویں صدی میں منگول سلطنت کے صرف سائز (رقبہ) پر غور کیجئے کہ جس نے مختلف لوگوں کو جماعتوں اور عقائد سے ہم آغوش کیا۔ اگرچہ منگول خانان بذات خود مختلف النوع عقائد جیسے شامنی مذہب (Shaman) بودھ، عیسائی، اور آخر میں اسلام سے تعلق رکھتے تھے مگر انھوں نے اپنے ذاتی عقائد کو عوامی پالیسی کے طور پر نافذ نہیں کیا۔ منگول حکمرانوں نے تمام گروہوں اور مذاہب کے لوگوں کو منتظمین کے طور پر اور مسلح دستوں میں بھرتی کیا۔ ان کی حکومت کثیر نسلی، کثیر لسانی اور کثیر مذہبی تھی جس کو اپنے متنوع دستور سے کوئی خطرہ نہ تھا۔
یہ اس زمانے میں قطعاً خلاف معمول بات تھی۔ اور مورخین اب ان طریقوں کا مطالعہ کر رہے ہیں جن کے ذریعہ منگولوں نے بعد میں آنے والی حکومتوں (مثلاً ہندوستان کی مغل حکومت) کو نظریاتی نمونے اتباع کرنے کے لیے پیش کئے۔
منگولوں اور کسی بھی خانہ بدوش حکومت کی دستاویزی شہادت کی نوعیت سے اس فکری تحریک کو فی الواقع سمجھانا ممکن ہے کہ جس کی وجہ سے لوگوں کے متفرق گروپوں کے وفاق کے اندر ایک سلطنت کی تشکیل کی خواہش کا جذبہ پیدا ہوا۔ منگول سلطنت آخر کار اپنے مختلف ماحول کے مطابق تبدیل ہوگئی۔ لیکن اس کے بانی کی فکری تحریک ایک طاقتور قوت کے طور پر برقرار رہی۔ چودہویں صدی کے آخر میں ایک دوسرے بادشاہ تیمور نے جو پوری دنیا پر تسلط قائم کرنے کی آرزو رکھتا تھا، خود کو بادشاہ اعلان کرنے میں جھجھک محسوس کرتا تھا۔ کیونکہ وہ چنگیز خان کی نسل سے نہیں تھا۔ اس نے اس وقت اپنی آزاد خود مختاری کا اعلان کیا جب چنگیز خان سے تعلق رکھنے والی فیملی کا داماد گورگن (Guregen) بن گیا۔
منگولوں کے ذریعہ بغداد کی تسخیر چودہویں صدی میں رشید الدین تبریز کی تاریخ میں ایک قلمی تصویر۔
آج سوویت قبضہ کی دہائیوں کے بعد منگولیا ایک آزاد ملک کی حیثیت سے اپنی پہچان دوبارہ بنا رہا ہے۔ اس نے چنگیز خان کو عظیم قومی ہیرو قرار دیا ہے اور عوامی طور پر اس کی بہت زیادہ تعظیم و تکریم کی جاتی ہے۔ اور اس کی کامیابیوں کو فخریہ طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ منگولیا کی تاریخ کے ایک نہایت اہم موڑ پر چنگیز خان دوبارہ منگول لوگوں کے لیے ایک آہنی شخصیت کی حیثیت سے ظہور پذیر ہوا ہے۔ جو عظیم ماضی کی یادداشت کو بیدار کرکے فوجی تشخص کی تشکیل میں قوت فراہم کرے گا اور یہی شناخت ملک کو مستقبل کی طرف لے جائے گی۔
قبلائی خان اور چابی کیمپ میں
مشق
مختصر جواب دیجئے
- منگولوں کے لیے تجارت اتنی زیادہ اہم کیوں تھی؟
- چنگیز خان نے منگول قبیلوں کو نئے سماجی اور فوجی گروہوں میں تقسیم کرنے کی ضرورت کیوں محسوس کی؟
- کس طرح یاسا کے متعلق بعد کے منگولوں کے تاثرات ان کشیدہ تعلقات کو نمایاں کرتے ہیں جو چنگیز خان کی یادداشت کے ساتھ وابستہ تھے۔
- ’’اگر تاریخ شہر کے ادیبوں کے ذریعہ پیش کئے گئے تحریری دستاویزات پر منحصر ہے تو خانہ بدوش معاشروں کو ہمیشہ معاندانہ طور پر پیش کیا جائے گا۔‘‘ کیا آپ اس بیان سے متفق ہیں؟ کیا آپ اس وجہ کو بتائیں گے کہ کیوں فارسی وقائع نگاروں نے منگول مہموں میں مارے گئے لوگوں کی تعداد کو اتنا بڑھا چڑھا کر بیان کیا ہے؟
مختصر مضمون لکھئے
5۔ منگول اور بدو سماجوں کے خانہ بدوش عناصر کو ذہن میں رکھتے ہوئے آپ کی رائے میں کس طرح ان کے جداگانہ تاریخی تجربات مختلف تھے؟ آپ ان اختلافات کی کس طرح توضیح کریں گے؟
6۔ کس طرح درج ذیل بیان پیکس منگولیا (Pax Mongolica) (منگول فتح) جیسے منگولوں نے تیرہویں صدی کے وسط میں قائم کیا تھا، کے کردار کو وسیع کرتا ہے۔
فرانس کے لوئس نہم نے ایک فرانسسکن راہب ولیم آف روبرک (William of Rubruck) کو خان اعظم منگول کے دربار میں ایک سفارت پر بھیجا تھا۔ وہ 1254 میں مونگ کے کی راجدھانی قراقرم پہنچا اور وہ لورین (Lorraine) (فرانس میں) کی ایک پیکویٹ (Paquette) کے تعلق میں آیا جسے ہنگری سے لایا گیا تھا۔ اور جو ایک شہزادہ کی بیویوں میں سے ایک بیوی کی خادمہ تھی۔ جو ایک نستوری عیسائی تھی۔ یہ دربار میں فارس کے رہنے والے سنار کے تعلق میں آیا جس کا نام گیلوم باوچر (Geullaume Boucher) تھا جس کا بھائی پیرس کے گرانڈ پونٹ (Grand Pont)میں رہتا تھا۔ اس شخص کو پہلے ملکہ سورغا کتانی (Sorghaqtani) اور پھر مونگ کے کے چھوٹے بھائی نے اپنے یہاں نوکر رکھ لیا روبرک کو پتا چلا کہ عظیم درباری تہواروں کے موقع پر نستوری راہبوں کو پہلے ان کے نشانات و لوازم کے ساتھ اس کے بعد مسلم علماء بودھ اور ٹاؤسٹ (Taoist) خان اعظم کو برکت و سعادت کی دعا دینے کے لیے داخل ہوتے تھے۔