Skip to content
Tareekh-e-alampermabnimauzat

باب  6

III

بدلتی روایات(changing Traditions)

تین طبقات
بدلی تہذیبی روایات
تہذیبوں کا تصادم
TC5-1


بدلتی روایات

(Changing Traditions)  



ہم دیکھ چکے ہیں کہ نویں صدی عیسوی کے آتے آتے کس طرح ایشیا اور امریکہ کے بڑے حصے میں عظیم سلطنتوں کی نشوونما اور توسیع ہوئی۔ ان میں کچھ خانہ بدوش تھیں اور کچھ ترقی یافتہ شہروں اور تجارتی نیٹ ورک پر مبنی تھیں۔ مقدونی، رومی اور عربی سلطنتوں اور ان سے قبل کی (مصری، سیرین، چینی اور موریائی سلطنتوں) میں فرق یہ تھا کہ یہ وسیع و عریض علاقوں پر پھیلی تھیں۔ ان کی نوعیت براعظم یا بر اعظم پار کی تھی۔ منگول سلطنت اسی انداز کی ایک سلطنت تھی۔
ان حالات میں مختلف ثقافتی مڈبھیڑ فیصلہ کن تھیں۔ زیادہ تر سلطنتیں اکثر و بیشتر اچانک وجود میں آئیں۔ لیکن یہ ہمیشہ ان تبدیلیوں کا نتیجہ تھیں جو سلطنت کی راہ میں طویل عرصے سے پوشیدہ ہوتی ہیں۔
تاریخ عالم میں روایات کئی طرح سے بدلتی ہیں۔ نویں صدی سے 17ویں صدی کے دوران مغربی یوروپ میں جسے ہم جدید دور سے جوڑتے ہیں، اس تبدیلی کی رفتار سست تھی۔ مذہبی اعتقادات کے بجائے سائنسی تجربات پر مبنی سائنسی علم کا ارتقاء، سرکاری تنظیموں پر سنجیدہ غور و فکر، حکومت کے غیرفوجی افسروں کے آغاز پر توجہ کے ساتھ پارلیمنٹ اور قانونی ضوابط اور تکنیکی اصلاحات کو زرعی اور صنعتی میدانوں میں استعمال کیا گیا۔ ان تبدیلیوں کے اثرات بڑی شدت سے یوروپ کے باہر محسوس کئے گئے تھے۔
جیسا کہ ہم نے دیکھا کہ پانچویں صدی کے آتے آتے مغرب میں رومی سلطنت کا زوال ہوچکا تھا۔ مغربی اور وسطی یوروپ میں رفتہ رفتہ رومی سلطنت کے باقیات کو انتظامی ضروریات اور قبائلیوں کی ضروریات کے لئے جس نے وہاں بڑی سلطنتیں بنائیں، اختیار کیا گیا تھا۔ لیکن یہ ہندوستان، چین اور بازنطینی سلطنتوں کے مقابلے میں غیر معمولی طور پر کمزور تھیں۔ اگرچہ مشرقی یوروپ کے مقابلے مغربی یوروپ کے شہری مراکز چھوٹے تھے۔
نویں صدی عیسوی تک تجارتی اور شہری مراکز جیسے ایکس (Aix)۔ لندن، روم اور سینا (Sienna) چھوٹے ہونے کے باوجود منتشر نہیں ہوئے تھے۔ نویں صدی عیسوی سے گیارہویں صدی عیسوی تک مغربی یوروپ کے بیرون شہروں میں اہم ترقیاں ہو گئیں تھیں۔ چرچ اور شاہی حکومت نے رومی اداروں اور قبائلیوں کے روایتی قوانین میں اتحاد قائم کرلیا تھا جس کی سب سے عمدہ مثال نویں صدی کی ابتداء میں مغربی اور وسطی یوروپ میں چارل میگنے (Charlemagne) کی سلطنت تھی۔ تاہم اس کے سریع زوال کے باوجود شہری مراکز اور تجارتی جال باقی بنا رہا۔ اگرچہ یہ مراکز ہنگیریوں (Hungarians)، وائی کنگس (Vikings) اور دیگر لوگوں کے بھاری حملوں کی زدپر بنے رہے۔
جو کچھ بھی ہوا اسے جاگیر داری کا نام دیا گیا۔ یہ جاگیرداری قلعوں (Castles) اور جاگیری قلعوں (Manor Houses) کے گرد زرعی پیداوار کی علامت بن گئی تھی جہاں زمیندار (Lords) جاگیر کی زمین کے مالک ہوتے جس پر کسان (زرعی غلام) کھیتی کرتے تھے۔ یہ زمیندار وفاداری، اشیا اور خدمت کے لیے ان کے عہد و پیمان لیتے۔ یہ زمیندار اپنے سے بڑے زمینداروں کو جو بادشاہ کے منصب دار (Vassals) ہوتے تھے، کو عہد و پیمان دیتے تھے۔ کیتھولک چرچ (پاپائیت پر مبنی تھا) نے اس صورت حال کی حمایت کی اور خود بھی بڑی بڑی املاک کا مالک بن بیٹھا۔ دنیا کے اس حصہ میں جہاں زندگی غیر مستحکم۔ ادویات کا گھٹیا معیار اور متوقع پست معیار زندگی عام تھی۔ چرچ نے برتاؤ و سلوک کے طریقوں کا مظاہرہ کیا جس سے حیات بعدالموت آسان ہوسکے۔ خانقاہیں قائم ہوئیں جہاں خدا ترس افراد کیتھولک پادریوں کے بنائے اصول کے مطابق خدا کی خدمت کے لیے خود کو وقف کرسکتے تھے۔ بعینہٖ چرچ اسی طرح تعلیمی نیٹ ورک کا حصہ تھے، جیسے کہ اسپین سے باز نطین کی مسلم ریاستوں میں چلائے جاتے تھے اور یہ یوروپ کے ماتحت چھوٹے راجاؤں کو مشرقی بحر روم اور دور دراز کے علاقوں کو وافر مقدار میں دولت مہیا کراتے تھے۔
انہوں نے ان بدلتے حالات کا (بارہویں صدی سے) وینس (Venice) اور جینوا(Genoa) کے بحر روم کے سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی کی۔ اس وجہ سے جاگیر دار طبقہ پر تجارت اور شہروں کے اثرات واضح دکھائی دیے۔ ان کے جہاز مسلم ممالک اور مشرقی رومی سلطنت کے باقیات کے ساتھ ترقی پذیر تجارت کرتے رہے۔ اس علاقے کی دولت کشش اور عیسیٰ ؑ سے وابستہ مقدس مقامات کو مسلمانوں سے آزاد کرانے کے جذبے سے بھی متاثر تھے۔ یوروپی بادشاہوں نے صلیبی جنگوں کے دوران بحر روم کے دوسری جانب کے لوگوں سے بھی تعلقات مضبوط کئے۔ یوروپ کی اندرونی تجارت میں سدھار ہوا (جو میلوں (Fairs))، بحر بالٹک اور بحر شمالی کے ساحلی شہروں پر مرکوز تھی اور محرک بڑھتی ہوئی آبادی تھی)۔

TC5-2
آوگنون میں پوپس کا محل، جنوبی فرانس میں چودھویں صدی کا ایک قصبہ

TC6-3
پندرہویں صدی میں وینس میں ڈوگ کا محل  

تجارتی توسیع کے مواقع اور زندگی کی اقدار کا بدلتا رویہ ایک ساتھ واقع ہوئے۔ انسانیت اور جانداروں کا احترام جس کی نشاندہی زیادہ تر اسلامی ادب و فنون میں کی گئی ہے، نیز یونانی فنی تخلیقات اور نظریات کی مثالیں جو باز نطینی تجارت کے ذریعہ یوروپ آئیں، اس نے یوروپین دنیا کو نئے انداز میں دیکھنے کا حوصلہ بخشا۔ چودہویں صدی عیسوی سے (جسے نشاۃ الثانیہ کہا جاتا ہے) خصوصاً شمالی اٹلی کے شہروں میں متمول حضرات حیات بعدالموت پر بہت کم دھیان دیتے تھے بلکہ زندگی کے معجزات پر زیادہ توجہ دیتے تھے۔ سنگ تراشوں، مصوروں اور قلم کاروں نے انسانیت اور دنیا کی تلاش میں دلچسپی لینا شروع کی۔
پندرہویں صدی کے اختتام تک ان حالات نے تلاش و جستجو اور سیاحت کو اتنا بڑھا وا دیا جتنا اس سے قبل کبھی نہیں دیا گیا۔ سمندری راستوں کی تلاش ہوئی۔ اسپینوں اور پرتگالیوں کو جو شمالی افریقہ سے تجارت کرتے تھے، اس سے مزید نیچے افریقہ کے ساحل تک جانے لگے۔ بالآخر راس امید (The Cape of Good Hope) سے ہوتے ہوئے ہندوستان تک سفر کرنے لگے جو یوروپ میں مسالوں کی مانگ کی وجہ سے ایک مصور کی حیثیت سے کافی شہرت رکھتا تھا۔ کولمبس نے ہندوستان کا مغربی راستہ تلاش کرنے کی کوشش کی۔ 1492میں اس جزیرہ پر پہنچا جسے یوروپین ویسٹ انڈیز کہتے ہیں۔ دیگر کھوجیوں نے قطب شمالی (Arctic)کی طرف سے ہندوستان اور چین کا شمالی راستہ تلاش کرنے کی کوشش کی۔
یوروپی سیاحوں نے اپنے ان سفروں کے دوران مختلف لوگوں کا سامنا کیا۔ اس کے علاوہ وہ ان سے سیکھنا بھی چاہتے تھے تو دوسری طرف پایائیت نے شمالی افریقہ کے سیاح اور جغرافیہ داں حسن الوزان (Hasan-al-Wazan) (جو بعد میں یوروپ میں لیوافریکنس (Loe Africanus) کے نام سے مشہور ہوا) کے کام کی حوصلہ افزائی کی گئی۔ اس نے پوپ لیو (Leo) دہم کے لئے سولہویں صدی میں افریقہ کا پہلا جغرافیہ لکھا۔ جیسوٹ (Jesuit) چرچ کے لوگوں نے سولہویں صدی میں جاپان کا مشاہدہ کیا اور اس کے بارے میں لکھا۔ سترہویں صدی کے آغاز میں ایک انگریز ول ایڈمس (Will Adams) جاپانی شوگن توکا گاوا لیاسو (Shogun Tokugawa Ieyasu) کا دوست اور صلاح کار بن گیا۔ حسن الوزان کی طرح یوروپی لوگوں کی جب امریکی براعظموں کے لوگوں سے مڈبھیڑ ہوئی تو اکثر ان لوگوں میں گہری دلچسپی لی اور ان کے لئے کام بھی کیا۔ مثال کے طور پر ایک ازٹیک (Aztec) عورت جو بعد میں ڈونا میرینا (Dona Marina) کے نام سے مشہور ہوئی جس نے میکسیکو کے اسپینی فاتح کورٹس (Cortes)کو اپنا دوست بنایا اور جس نے اس کے لئے ترجمانی اور گفت و شنید کے کام انجام دئیے تھے۔
بسا اوقات یوروپین اپنے حریفانہ مقابلے میں انتہائی محتاط، عیارانہ اور جوکھم بھرے طریقے اختیار کرتے۔ اور جب انہوں نے اپنی تجارتی اجارہ داری قائم کرنے کی کوشش کی تو اسلحہ کے زور پر اپنا اقتدار مسلط کیا۔ جیسا کہ پرتگالیوں نے 1498 میں واسکو ڈی گاما کے کالی کٹ موجودہ کوزی کوڈے آنے کے بعد بحر ہند میں کوشش کی تھی۔ دیگر معاملوں میں نئے لوگوں کو جاہل اور گنوار تصور کرتے اور ان کے ساتھ جابرانہ، ستم شکار اور ظالمانہ رویہ اختیار کرتے تھے۔ میزان پر اپنی برتری ظاہر کرتے تھے۔ کیتھولک چرچ نے مختلف تہذیب و تمدن اور زبانوں کے مطالعہ کا مرکز ہونے کے باوجود ان دونوں طرح کے رویوں کی حمایت کی۔ یہاں تک کہ غیر عیسائی لوگوں پر حملہ کرنے پر بھی اکسایا۔
غیر یوروپی لوگوں کے خیالات کے مطابق یوروپین کے ساتھ ان کا حریفانہ مقابلہ تھا۔ سترہویں صدی کے آخر تک اگرچہ یوروپین نے اسلامی علاقوں، ہندوستان اور چین سے اپنا شوق و تجسس بنائے رکھا۔ جفاکش تاجروں اور جہاز رانوں نے اپنی معلومات کے مطابق وسیع دنیا کا تصور دینے میں اپنا مختصر تعاون دیا۔ جاپانیوں نے جلد ہی یوروپین کی ٹکنالوجی کے گُر سیکھ لئے تھے۔ مثال کے طور پر سولہویں صدی کے اواخر تک بڑے پیمانے پر بندوقیں بنانا شروع کردیا تھا۔ اور پھر یوروپین کو ساحلی شہر ناکا ساکی تک محدود کردیا تھا۔ امریکہ میں ازٹیک سلطنت کے مخالفین نے یوروپین کو کچھ وقت کے لئے ازٹیک اقتدار کو چنوتی دینے کے لئے استعمال کیا۔ اسی زمانے میں یوروپی لوگوں کے ذریعہ لائی گئی بیماریوں نے وہاں کے لوگوں کو ویران کردیا۔ سولہویں صدی کے اواخر تک کچھ علاقوں کی آبادی کا تقریباً 90فی صد لوگ موت کا شکار ہوگئے۔

ٹائم لائن III

(1300 صدی عیسوی سے 1700 عیسوی تک)


TC6-4

زیر مطالعہ دور یوروپ میں بہت سے اہم واقعات کا شاہد ہے، بشمول زرعی تبدیلیوں اور کسانوں کی زندگی کے۔ اس میں بہت سے تہذیبی ارتقاء کے معاملات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اس ٹائم لائن میں براعظموں کے آپسی تعلقات کی طرف توجہ مبذول کرائی گئی ہے جو بہت سی تجارتی ترقی کے واقعات سے متاثر ہوئے۔ ان تعلقات کا اثر مختلف میدانوں میں تھا۔ اگرچہ ایک مدت سے خیالات و تصورات۔ ایجادات اور سامان کا آپس میں تبادلہ ان براعظموں کے درمیان موجود تھا۔ اور زمین، ذرائع اور تجارتی راستوں کو کنٹرول کرنے کے لئے سلطنتوں کے مابین ہمیشہ جنگیں ہوتی رہیں جس کے نتیجے میں اگر لوگ مارے نہیں گئے تو یہ مرد و عورت ہمیشہ بے گھر اور غلام بنائے جاتے رہے۔ زیادہ تر حالات میں لوگوں کی زندگی بدتر ہوتی گئی۔

تاریخیں افریقہ یوروپ
1300-1325 الحمبرا اور گریناڈا اسپین میں اہم ثقافتی مرکز کے طور پر ابھرے
1325-1350 مصر میں پلیگ (1348-55)* انگلینڈ اور فرانس کے درمیان سو سالہ جنگ (1337-1453) کالی موت (پلیگ کی قسم) پورے یوروپ میں پھیل گئی (1348)
1350-1375 ابن بطوطہ کی سہارا ریگستان کی کھوج بین فرانس کے کسانوں کا زیادہ ٹیکس لگائے جانے کے خلاف مظاہرہ
1375-1400 انگلینڈ میں کسانوں کی بغاوت (1381)؛ جیوفری چوسر (Geoffrey Chaucer) نے The Canterbury Tales تحریر کی جو انگریزی زبان میں اول ترین کہانیوں کا مجموعہ اور تصنیف ہے
1400-1425
1425-1450 پرتگالیوں نے غلاموں کی تجارت شروع (1442)
1450-1475 مغربی افریقہ میں سونگھائی (Songhai) سلطنت کا قیام جو سہارا ریگستان کے اطراف کے تجارتی نیٹ ورک پر مبنی تھی یوروپ میں پہلی طبع شدہ کتاب کا ظہور؛ لیونارڈو دا ونچی (1452- 1519) اٹلی کا پینٹر، آرکٹیکٹ اور موجد تھا
1475-1500 بادشاہ بوکونگو (Bokongo)کو پرتگالیوں نے عیسائی بنایا انگلیڈ میں ٹوڈور حکومت (Tudor Dynesty) کا قیام
1500-1525 امریکہ میں افریقی غلاموں نے گنّے کی کاشت شروع کی (1510)؛ عثمانی ترکوں نے مصر کو فتح کیا (1517) یوروپ میں پہلی دفعہ (1517) جنوبی امریکہ سے آئی کافی پینے کی شروعات۔ تمباکو، چاکلیٹ، ٹماٹر اور ٹرکی مرغ یوروپ میں متعارف ہوئے۔ مارٹن لوتھر کے ذریعہ کیتھولک چرچ میں اصلاحات کی کوشش (1517)
1525-1550 کوپرنیکس نے نظام شمسی کے متعلق اپنا نظریہ پیش کیا (1543)
1550-1575 ولیم شیکسپئیر (1564-1616) انگلینڈ کا ڈرامہ نگار
1575-1600 زاکاریسی جانسین (Zacharias Janssen) نے مائیکرواسکوپ ایجاد کیا (1590)
1600-1625 نائیجیریا کی اویو (Oyo) سلطنت اقتدار کی اونچائیوں پردھات کے کاموں کے مراکز* Don Quixote نے اولین ناول اسپینی زبان میں لکھا(1605)
1625-1650 ولیم ہاروے نے ثابت کیا کہ پورے جسم سے خون دل کے ذریعہ خارج ہوتا ہے
1650-1675 پرتگالیوں نے کونگو سلطنت کو تباہ کیا (1662) فرانس کا بادشاہ لوئس XIV (1638-1715)
1675-1700 پیٹر عظیم (Peter the Great 1682-1725) نے روس کو جدید بنانے کی کوشش کی
تاریخیں ایشیا جنوبی ایشیا
1300-1325
1325-1350 وجے نگر سلطنت کا قیام (1336)*
1350-1375 چین میں *منگ (Ming)خاندان کی حکومت (1368سے آگے)
1375-1400
1400-1425 علاقائی سلطنتوں کا ظہور
1425-1450
1450-1475 عثمانی ترکوں نے قسطنطنیہ کو فتح کیا (1453)
1475-1500 واسکو ڈی گاما ہندوستان پہنچا (1498)
1500-1525 پرتگالیوں کی چین آمد اور چینی مزاحمت۔ مکائو (Macao) سے جبراً اخراج (1522)
1525-1550 شمالی ہندوستان پر بابر نے مغل حکومت قائم کی۔ پانی پت کی پہلی جنگ (1526)
1550-1575 اکبر (1556-1605) کے ذریعہ مغل سلطنت کا استحکام
1575-1600 جاپان میں کابو کی (Kabuki) ڈرامہ اسٹیج کیا گیا (1586) ایران کے شاہ عباس (1587-1629) نے فوجی تربیت کے لئے یوروپی طریقوں کو متعارف کرایا۔
1600-1625 جاپان میں Tokugawa Shogunate کا قیام (1603) برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی کا قیام (1600)
1625-1650 جاپان کے ساتھ تمام یوروپین کی سوائے ڈچ کے تجارت کی ممانعت(1637)؛ چین میں مانچو حکومت (1644سے آگے) جو تقریباً 300سال تک باقی رہی۔ چین کی چائے اور سلک کی یوروپ میں بڑھتی مانگ
1650-1675
1675-1700
تاریخیں براعظم امریکہ (شمالی و جنوبی)
1300-1325 ایزٹیک (Aztec) راجدھانی ٹینوکٹٹ لان (Tenochtitlan) میں میکسیکو (1325) کے معابدوں کی تعمیر۔ آبپاشی اور شماریات کے نظام (Quipu) (Accounting System) کی ترقی*
1325-1350
1350-1375
1375-1400
1400-1425
1425-1450
1450-1475 انکا (Incas) قوم نے پیرو (Peru) پر اپنا اقتدار قائم کیا (1465)
1475-1500 کولمبس ویسٹ انڈیز پہنچا (1492)
1500-1525 اسپینیوں کی میکسیکو پر فتح (1521) میگیلان (Magellan) ایک اسپینی جہازراں، بحرالکاہل پہنچا (1519)
1525-1550 فرانسیسی کھوجی (Explorers) کناڈا پہنچے (1534)
1550-1575 اسپینیوں کی پیرو (Peru) پر فتح (1572)
1575-1600 ڈچ جہازراں اتفاقاً آسٹریلیا پہنچے
1600-1625 انگلینڈ نے شمالی امریکہ میں اپنی پہلی نوآبادی Colonyقائم کی1607؛ پہلی دفعہ مغربی افریقہ سے غلام ورجینیا (Virginia)  لائے گئے(1619) اسپینی جہاز راں تاہیٹی(Tahiti) پہنچے (1660)
1625-1650 ڈچوں نے نیو ایمسٹرڈم (New Amsterdam) کی بنیاد ڈالی جسے اب نیویارک کہا جاتا ہے (1626)؛ ماسا چوسیٹس (Massachusetts) میں پہلی پرنٹنگ پریس لگائی گئی ڈچ جہازراں ایبل تسمان (Abel Tasman) کے جہازوں کا لاعلمی میں آسٹریلیا کے گرد چکر لگانا۔ وہ بعد میں وان ڈائی مینس لینڈ (Van Diemen's Land) پر اترا۔ جس کو بعد میں تسمانیہ (Tasmania) کہا گیا۔ وہ نیوزی لینڈ بھی پہنچا لیکن اس نے سوچا کہ یہ اسی خشکی کا دور تک پھیلے سلسلہ کا حصہ ہے۔
1650-1675 ویسٹ انڈیز میں پہلی دفعہ گنے کی کاشت کا آغاز (1654)
1675-1700 فرانسیسی نوآبادیات مسی سیپّی(Mississippi) کا بعد میں بادشاہ لوئس XIVکے نام لوسیانا (Louisiana) نام رکھا گیا

سرگرمی

آپ نے محسوس کیا ہوگا کہ کالم 6(آسٹریلیا/ جزائر بحرالکاہل) میں بہت کم ریکارڈ کی گئیں تاریخیں درج ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس علاقے کے لوگ اکثر واقعات کو ریکارڈ کرنے کے دیگر طریقے بشمول پینٹنگ جیسے کہ اوپر دکھائی گئی ہے*، استعمال کرتے تھے۔ پہلے کے پانچ کالموں میں سے کم از کم ایک واقعہ/ طریق عمل کو درج کیجیے۔ دکھائی گئی آسٹریلیائی مصور کی پینٹنگ میں شاید کوئی قیمتی معلومات درج ہو۔ ایک دوسری فہرست میں پانچ باتوں کا اندراج کیجیے جو آپ کو غیر متعلق لگتی ہوں۔

تین طبقات

(The Three Orders)


اس باب میں ہم نویں اور سولہویں صدی کے درمیان مغربی یوروپ کے اندر واقع ہونے والی سماجی، اقتصادی اور سیاسی تبدیلیوں کے بارے میں پڑھیں گے۔ رومی سلطنت کے زوال کے بعد مشرقی اور مرکزی یوروپ کی جرمن نسل کی بہت سی جماعتوں نے اٹلی، اسپین اور فرانس کے علاقوں پر قبضہ کرلیا۔
متحدہ سیاسی قوت کے فقدان کی وجہ سے فوجی تصادم ایک عام بات تھی اور اپنی زمینوں کے تحفظ کے لیے ذرائع کو جمع کرنے کی ضرورت بہت اہمیت کی حامل تھی۔ اس کی خصوصیات رومی شہنشاہی روایات اور جرمن مراسم دونوں اخذ کی گئی تھیں۔عیسائیت، جوچوتھی صدی سے رومی سلطنت کا سرکاری مذہب تھی، روم کے زوال کے باوجود باقی رہی اور رفتہ رفتہ مرکزی اور شمالی یوروپ میں پھیل گئی۔ چرچ بھی یوروپ میں بہت ساری زمینوں کا مالک اور ایک سیاسی قوت بن گیا۔
تین طبقات، جن پر اس باب میں خاص طور پر گفتگو کی گئی ہے، دراصل تین سماجی درجے____ عیسائی مذہبی پیشوا، زمینوں کے مالک، امراء اور کسان ہیں۔ ان تینوں طبقات کے مابین بدلتے ہوئے رشتے کئی صدیوں سے یوروپ کی تاریخ سازی میں ایک اہم سبب رہے ہیں۔
پچھلے سو سالوں میں یوروپی مؤرخین نے علاقوں کی تاریخ پر تفصیلی کام کیا ہے۔ یہاں تک کہ گاؤں پر انفرادی تذکرے قلمبند کیے ہیں۔یہ اس لیے ممکن ہوسکا کیونکہ عہد وسطیٰ کے تعلق سے دستاویزات، زمینوں کی ملکیت، قیمت اور مقدمے کی تفصیلات کی شکل میں بہت سارا مواد موجود ہے، مثلاً چرچ پیدائش، ازدواج اور اموات کا ریکارڈ رکھتے تھے، جس سے خاندان کے ڈھانچے اور آبادی کو سمجھنے میں بھی مدد ملی۔
چرچوں پر کندہ کی ہوئی تحریریں تجارتی تنظیموں سے متعلق معلومات فراہم کرتی ہیں اور گیتوں اور کہانیوں سے تہواروں اور قومی سرگرمیوں کا سراغ ملتاہے۔
مؤرخین ان چیزوں کا استعمال اقتصادی اور سماجی زندگی اور طویل مدت میں ہونے والی تبدیلیوں (مثلاً آبادی میں اضافہ) یا مختصر مدت میں ہونے والی تبدیلیوں (مثلاً کسانوں کی بغاوت) کو سمجھنے کے لیے کرسکتے ہیں۔
جاگیر دارانہ نظام پر کام کرنے والے فرانس کے متعدد اہل علم میں بلاک (Bloch) سب سے پہلے لوگوں میں سے ایک ہے۔مارک بلاک(Marc Bloch, 1886-1944) اہل علم کی اس جماعت سے تعلق رکھتا تھا جن کا ماننا تھا کہ تاریخ سیاسی حالات، بین الاقوامی تعلقات اور اکابرین کی سوانح عمریوں کے علاوہ بھی یہ بہت ساری چیزوں پر مشتمل ہے۔ وہ تاکید کے ساتھ کہتا تھا کہ انسان کی تاریخ سازی میں جغرافیہ کا اہم کردار ہے اور لوگوں کے رویے اور باہمی سلوک کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔
بلاک کا جاگیردارانہ سماج(Feudal Society) یوروپ، خاص طور پر 900 اور 1300 کے مابین فرانسیسی سماج سے متعلق ہے جس میں غیر معمولی تفصیل کے ساتھ سماجی تعلقات، نظام، مراتب، زرعی تنظیم اور وقت کی عام تہذیب کا تذکرہ کیا گیا ہے۔
اس کا کام المناک طور پر اس وقت رک گیا جب دوسری عالمی جنگ کے دوران نازیوں نے اسے گولی ماردی۔

عہد وسطیٰ کی اصطلاح سے مراد یوروپی تاریخ کا وہ وقفہ ہے جو پانچویں سے پندرہویں صدی پر محیط ہے۔

جاگیردارانہ نظام : ایک تعارف

’’جاگیرداری‘‘ اصطلاح مؤرخین نے ان اقتصادی، قانونی، سیاسی اور سماجی تعلقات کو بیان کرنے کے لیے استعمال کی ہے جو عہد وسطیٰ میں یوروپ کے اندر پائی جاتی تھیں۔ یہ جرمن لفظ "Feud"سے مشتق ہے جس کے معنی ہے ’’ایک قطعۂ زمین‘‘، اور اس سے مراد سماج کی ایک ایسی قسم ہے جو وسط فرانس میں پلی بڑھی اور بعد ازاں انگلینڈ اور جنوبی اٹلی میں پروان چڑھی۔

TC6-11
نقشہ 1: مغربی یوروپ

اقتصادی نقطۂ نظر سے جاگیرداری سے مراد زرعی پیداوار کی ایک ایسی قسم ہے جو لارڈز اور کسانوں کے درمیان پائے جانے والے تعلقات کی بنیاد پر قائم ہے۔ کسان اپنی اور ساتھ ہی ساتھ لارڈ کی زمینوں میں کاشت کاری کرتے، وہ لارڈز کے لیے مشقت آمیز خدمات انجام دیتے جو اس کے عوض انہیں فوجی تحفظ فراہم کرتے تھے۔ لارڈز کسانوں پر مکمل عدالتی اختیار رکھتے تھے۔اس طرح جاگیرداری نے معیشت کے دائرے سے نکل کر زندگی کے سماجی اور سیاسی پہلوؤں کو بھی اپنے اندر شامل کر لیا تھا۔
اگرچہ جاگیردارانہ نظام کی جڑیں رومی سلطنت کے اندر انجام دیے جانے والے کاموں اور فرانسیسی بادشاہ چارل میگنے (742-814) کے زمانہ سے ملتی ہیں۔یہ یوروپ کے بہت بڑے حصّہ میں ایک مسلم طریقِ زندگی کے بہت بعد گیارہویں صدی میں سامنے آیا ہے۔

انگلینڈ اور فرانس

گال (Gaul)جو رومی سلطنت کا ایک صوبہ ہے۔ دو وسیع سواحل، پہاڑی سلسلوں، طویل دریاؤں، جنگلوں اور ایسے وسیع میدانوں پر مشتمل ہے جو کاشت کاری کے لیے موزوں ہیں۔
فرینکیوں نے، جو ایک جرمن قبیلہ تھا، گال کو اپنا ایک نام، فرانس، دیا۔ چھٹی صدی سے اس علاقے میں بادشاہت قائم تھی اور فرینکی/ فرانسیسی بادشاہ حکمرانی کرتے تھے جو عیسائی تھے اور فرانسیسی چرچ سے گہرا تعلق رکھتے تھے جو 800 میں اس وقت مزید مضبوط ہوگیا جب پوپ نے شاہ چارل میگنے (Charlemagne) کو اپنی حمایت * کی یقین دہانی کے لیے ’’مقدس رومی شہنشاہ‘‘ کے خطاب سے نوازا۔
ایک تنگ آبنائے کے درمیان انگلینڈ۔ اسکاٹ لینڈ کا وہ جزیرہ واقع ہے جسے گیارہویں صدی میں فرانس کے صوبہ نارمینڈی کے ایک نواب نے فتح کیا تھا۔

*قسطنطنیہ میں مشرقی چرچ کے قائد کے اسی طرح کے تعلقات بازنطینی شہنشاہ سے بھی تھے۔


فرانس کی ابتدائی تاریخ

481 کلووس فرینکز کا بادشاہ بن جاتا ہے۔

486 کلووس اور فرینکز شمالی گال کی فتحیابی کا آغاز کرتے ہیں۔

496 کلووس اور فرینکز عیسائیت قبول کرلیتے ہیں۔

714 چارلس مارٹل محل کا مئیر بن جاتا ہے۔

751مارٹل کا بیٹا پیپن فرینکی فرمانروا کو معزول کردیتا ہے، بادشاہ بن جاتا ہے۔ اور شاہی سلسلہ کی تشکیل 

کرتا ہے۔فتوحات پر مبنی جنگیں اس کی سلطنت کے حلقے کو دوگنا کردیتی ہیں۔

768 پیپن کا بیٹا چارل میگنے /چارلس اعظم اس کا جانشین بن جاتا ہے۔

800 پوپ لیوو ثالثؔ چارل میگنے کو مقدس رومی شہنشاہ کا تاج پہناتا ہے۔

840 ناروے سے وکنگس (Vikings) کے حملے شروع ہوتے ہیں۔

تین طبقات

فرانسیسی مذہبی پیشواؤں کا ماننا تھا کہ لوگ تین ’’طبقات‘‘ میں سے کسی ایک سے لازمی طورپر تعلق رکھتے ہیں جو دراصل ان کے کام کی نوعیت پر منحصر ہے۔ ایک اسقف کے بقول ’’یہاں چند لوگ دعا کرتے ہیں، دوسرے چند لوگ جنگ میں حصّہ لیتے ہیں، تاہم کچھ دوسرے لوگ کام کرتے ہیں۔‘‘ اس طرح سماج کے تین طبقات بڑے پیمانے پر پادری، امراء اور کسان ہیں۔

بارہویں صدی میں Bingen کے Abbess Hildegard نے لکھا: ’’ایک اصطبل میں اپنے سارے مویشیوں___گایوں، گدھوں، بھیڑوں اور بکریوں کو بنا کسی تفریق کے پالنے کے لیے کون سوچے گا۔ اس لیے ضروری ہے کہ انسانوں کے مابین بھی تفریق قائم کی جائے تاکہ وہ ایک دوسرے کو خراب نہ کردیں… خدا زمین ہی کی طرح آسمان میں بھی اپنے بندوں کے درمیان امتیاز قائم رکھتا ہے۔ وہ سب سے محبت کرتا ہے تاہم ان کے درمیان مساوات نہیں ہے‘‘۔


'Abbey'مشتق ہے Syriac abba سے جس کے معنی ہیں باپ۔ Abbeyکا نظم و نسق Abbot یا Abbess چلاتے تھے۔

دوسرا طبقہ-امراء

مذہبی پیشوا خود کو پہلے طبقہ اور امراء کو دوسرے طبقہ میں رکھتے ہیں۔ لیکن دراصل امراء سماجی کارکردگی میں مرکزی کردار نبھاتے تھے۔ ایسا اس لیے ہے کیونکہ زمینوں پر انہیں کا قبضہ تھا اور یہ قبضہ جیسے اسامی کے نام سے جانا جاتا ہے، کے رواج کے نتیجے میں سامنے آیا۔
فرانس کے بادشاہ اسامیوں کے ذریعہ لوگوں سے جڑے ہوئے تھے، بالکل جرمن لوگوں کے مابین رائج اس عمل کی طرح جس کا ایک حصہ فرینکز بھی تھے۔ بڑے زمیندار___امراء ___ بادشاہوں کے اسامی ہوتے تھے اور کسان زمینداروں کے اسامی سمجھے جاتے تھے۔ امراء کا کوئی بھی فرد بادشاہ کو اپنا بڑا بزرگ تسلیم کرتا تھا اور باہم ایک عہد کرتے تھے کہ بڑا بزرگ/ لارڈ (’لارڈ‘ ایک ایسے لفظ سے مشتق ہے جس کا مطلب ہے ایک ایسا شخص جو روٹی مہیا کرتا ہے) اسامی کی حفاظت کرے گا اور بدلے میں وہ اس کا وفادار رہے گا۔ اس تعلق سے وابستہ مفصل رسوم و رواج اور چرچ میں بائبل کی قسم کھاتے ہوئے عہد و پیمان کے تبادلے ہوتے تھے۔ اس تقریب میں اسامی ایک تحریری منشور یا عصایا پھر مٹی کا ایک ڈھیلا وصول کرتا تھا جو اس زمین کی ایک علامت سمجھا جاتا تھا جو اسے اس کے مالک سے مل رہی ہے۔

TC6-13
فرانسیسی امراء شکار کے لیے جاتے ہوئے پندرہویں صدی کی تصویر

امراء ایک مراعاتی رتبہ سے لطف اندوز ہوتے تھے۔ وہ اپنی زمینوں پر مطلق اور دائمی اختیار رکھتے تھے۔ وہ فوجیں (جنہیں "Feudal levies" کہا جاتا تھا) تشکیل دے سکتا تھا۔ لارڈ اپنی عدالت کا آپ حاکم تھا اور اپنے ذاتی سکے بھی ڈھال سکتا تھا۔ وہ ان تمام لوگوں کا لارڈ ہوتا تھا جو اس کی زمین پر آباد ہوتے تھے۔ وہ ان وسیع زمینوں کا مالک ہوتا تھا جن میں اس کی اپنی رہائش گاہ، اس کے ذاتی کھیت اور چراگاہیں اور اس کے زیر سایہ بسنے والے کسانوں کے مکانات اور کھیت شامل ہوتے تھے۔ اس کے مکان کو جاگیر کے نام سے جانا جاتا تھا۔ اس کی شخصی آراضی میں کسان کاشت کاری کرتے تھے اور ضرورت پڑنے پر انہیں پیادہ سپاہیوں کے طور پر بھی استعمال کیا جاسکتا تھا اور اس کے ساتھ ہی اپنے کھیتوں میں بھی کام کرتے تھے۔

جاگیردارانہ ریاست

لارڈ کا اپنا ایک جاگیری مکان ہوتا تھا۔ وہ گاؤں پر بھی قبضہ رکھتا تھا۔ کچھ لارڈز سینکڑوں گائوں پر قبضہ رکھتے تھے، جہاں کسان رہتے تھے۔ ایک معمولی جاگیری جائیداد میں درجنوں خاندان شامل ہوتے تھے جبکہ بڑے جاگیر پچاس ساٹھ خاندانوں پر مشتمل ہوتے تھے۔ روزانہ ضروریاتِ زندگی سے متعلق تقریباً ساری چیزیں اسٹیٹ (Estate) پر مل سکتی تھیں____ اناج کھیتوں میں اگائے جاتے تھے، لوہار اور بڑھئی لارڈ کے احکام کی بجاآوری کرتے تھے اور اس کے اسلحوں کی مرمت کرتے تھے جبکہ راج مستری اس کی عمارتوں کی دیکھ بھال کرتے تھے۔ عورتیں کپڑے بنتی تھیں اور بچے لارڈ کی انگور سے شراب کشید کرنے والی مشینوں میں کام کرتے تھے۔ اسٹیٹ میں جنگلات بھی شامل ہوتے تھے جہاں لارڈشکار کیا کرتے تھے۔ انہیں جنگلات میں چراگاہیں ہوتی تھیں جہاں اس کے مویشی اور گھوڑے چرتے تھے۔ وہاں ایک چرچ اور دفاع کے لیے ایک قلعہ بھی ہوتا تھا۔

TC6-14
تیرہویں صدی کی ایک جاگیر ریاست (Manorial Estate)

سرگرمی 1

مختلف معیاروں____پیشہ، زبان، دولت اور تعلیم ____ پر قائم سماجی امتیاز مراتب پر بحث کیجیے۔ عہد وسطیٰ کے فرانس کا میسوپوٹامیہ اور رومی سلطنت سے موازنہ کیجیے۔

تیرہویں صدی سے نائٹ کے خاندان والوں کی رہائش کے استعمال کے لیے کچھ قلعوں کو بڑا بنایا جاتا تھا۔ درحقیقت نارمین کے حملے سے پیشتر انگلینڈ میں قلعے عملی طور پر غیر معروف تھے اور انہیں سیاسی تنظیم اور فوجی قوت کے مراکز کے طور پر جاگیر دارانہ نظام کے تحت ہی ترقی دی گئی۔
جاگیر مکمل طور پر خود کفیل نہیں ہوسکتی تھی کیونکہ نمک، چکی کے پاٹ اور دھات کی مصنوعات باہری ذرائع سے حاصل کیے جاتے تھے۔ وہ لارڈ جو تعیش کی زندگی گزارنا چاہتے تھے۔ اور قیمتی ساز و سامان، آلاتِ موسیقی اور بیرونی زیورات خریدنے کے شائق تھے انہیں یہ چیزیں دوسری جگہوں سے حاصل کرنی پڑتی تھیں۔
نائٹ
نویں صدی سے یوروپ کے اندر عام طور پر جنگیں ہونا شروع ہوگئیں۔ ناتجربہ کار سپاہی کافی نہیں تھے اور اچھے شہسواروں کی ضرورت محسوس کی جارہی تھی۔ اسی چیز نے لوگوں کی ایک نئی حمایت____ نائٹ کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ ان کا تعلق لارڈز سے تھا بالکل اسی طرح جس طرح لارڈز کا تعلق بادشاہ سے تھا۔ لارڈ نائٹ کو ایک قطعۂ زمین دیتا تھا (جسے فیف (Fief) کے نام سے یاد کیا جاتا تھا) اور اس کی حفاظت کا عہد کرتا تھا۔ فیف وراثت میں مل سکتی تھی۔ یہ 1,000 سے 2,000 ایکڑ یا اس سے زیادہ پر محیط ہوتی تھی جس میں نائٹ اور اس کے خاندان کے لیے ایک مکان، ایک چرچ اور اس کے تحت رہنے والے لوگوں کے لیے دوسری تنصیبات کے علاوہ پن چکی اور انگور سے شراب کشید کرنے کا کارخانہ ہوتا تھا۔ جاگیر کی طرح کی زمین میں بھی کسان کاشت کاری کرتے تھے۔ اس کے عوض نائٹ اپنے لارڈ کو برابر فیس دیتا تھا اور جنگلوں میں اس کی طرف سے لڑنے کا وعدہ کرتا تھا۔ اپنی مہارت کو برقرار رکھنے کے لیے نائٹ روزانہ شمشیر زنی اور مصنوعی چیزوں کے ساتھ مختلف ترکیبوں کی مشق کرتے تھے۔ نائٹ ایک سے زیادہ لارڈز کا خدمت گار ہوسکتا تھا لیکن اس کی سب سے اولین وفاداری اپنے لارڈ کے ساتھ ہوتی تھی۔

اگر میرا محبوب لارڈ قتل کردیا جاتا ہے تو اس کے نصیب کا ساتھ میں بھی دوں گا اگر اسے پھانسی دی جاتی ہے تو اسی کے پہلو میں مجھے بھی تختِ دار پر چڑھا دو۔ اگر اسے زندہ جلادیا جاتا ہے تو اس کے ساتھ میں بھی جل جاؤں گا اور اگر وہ غرق ہوجاتا ہے تو مجھے بھی اس کے ساتھ غرق ہوجانے دو۔

ماخوذ: Doon de Mayenceتیسری صدی کی ایک فرانسیسی نظم جسے نائٹ کی مہم جوئی   کی یاد میں گایا گیا ہے۔

بارہویں صدی سے فرانس میں رمتا گوئیے (Minstrels) ایک جاگیر سے دوسری جاگیر تک ایسے گیت گاتے تھے جن میں بہادر بادشاہوں اور نائٹوں سے متعلق____کچھ تاریخی اور کچھ من گھڑت____ کہانیاں   ہوتی تھیں۔ ایک ایسے زمانہ میں جہاں زیادہ لوگ پڑھ بھی نہیں سکتے تھے اور مسودات بہت کم تھے۔ سفر کرتے ہوئے یہ گوئیے بہت معروف تھے۔ بہت سی جاگیری حویلیوں میں بڑے ہال کے اوپر تنگ بالکنیاں ہوتی تھیں جہاں حویلی کے لوگ کھانا کھانے کے لیے جمع ہوتے تھے____ یہ مغنی شعراء کی گیلری ہوتی تھی جشن کے وقت گلوکار جہاں امراء کو تفریح فراہم کراتے تھے۔

پہلا طبقہ- پادری

کیتھولک چرچ کے اپنے کچھ قواعد تھے۔ وہ ان زمینوں کے مالک ہوتے تھے جو انہیں حکام سے ملتی تھیں اور مذہبی ٹیکس عائد کرسکتے تھے۔ اس طرح یہ ایک کافی طاقتور ادارہ تھا جو بادشاہوں پر موقوف نہیں تھا۔ مغربی چرچ کے اوپرپوپ تھا جو روم میں رہتا تھا۔اسقف اور پادری یوروپ میں عیسائیوں کی رہنمائی کرتے تھے جن سے مل کر پہلے ’’طبقات‘‘ میں سے ایک بنتا تھا____ بیشتر گائوں میں ان کے اپنے چرچ ہوتے تھے جہاں ہر اتوار کو لوگ جمع ہوکر مذہبی پیشوا کا خطاب سنتے تھے اور ایک ساتھ عبادت کرتے تھے۔
ہر شخص مذہبی پیشوا نہیں بن سکتا تھا۔زرعی غلاموں پر پابندی تھی اور یہی حال جسمانی طور پر معذور لوگوں کا بھی تھا۔ عورتیں مذہبی پیشوا نہیں بن سکتی تھیں اور جو مرد مذہبی پیشوا تھے وہ شادی نہیں کرسکتے تھے۔ اسقف مذہبی امراء تھے۔ وسیع ارضی جائیداروں کے مالک لارڈز ہی کی طرح اسقف بھی وسیع آراضی کا استعمال کرتے تھے اور عظیم محلات میں رہتے تھے۔ چرچ کو حق حاصل تھا کہ کسان سال میں جو کچھ پیدا کرتے ہیں اس کا دسواں حصہ لے لے جسے ’’عشر‘‘ (Tithe) کہا جاتا تھا۔ عطیات کی شکل میں بھی پیسہ آتا تھا جسے امراء زندگی بعد الموت میں اپنی اور اپنے فوت شدہ اقرباء کی خیر و فلاح کے لیے دیتے تھے۔
چرچ میں انجام دی جانے والی کچھ اہم رسوم جاگیری رؤساء کے درمیان رائج رسوم کی رسمی نقل تھیں۔ بندھے ہوئے ہاتھ اور خمیدہ سروں کے ساتھ عبادت کے وقت جھکنا نائٹ کے اس وقت کے عمل کی بعینہ نقل تھی جب وہ اپنے لارڈ سے اپنی وفاداری کا عہد و پیمان لیتا تھا۔ بالکل اسی طرح خدا کے لیے ’’لارڈ‘‘ کی اصطلاح کا استعمال بھی جاگیردارانہ تہذیب کی ایک اور مثال تھی جو چرچ کے معمولات کے طریقۂ کار میں ملتی ہے۔ بائیں طور پر مذہبی اور جاگیر دارانہ نظام کی زرپرست دنیا میں بہت سی رسوم و رواج اور علامتیں مشترک تھیں۔

سرگرمی 2

عہد وسطیٰ کی جاگیر میں، محل میں اور عبادت گاہ میں مختلف سماجی طبقات کے لوگوں کے مابین رویوں کے متوقع انداز کی مثالوں پر بحث کیجیے۔

راہب

چرچ کے علاوہ مخلص عیسائیوں کی ایک دوسری تنظیم تھی۔ کچھ بہت ہی مذہبی لوگوں نے، ان پادریوں کے برعکس جو قصبوں اور گائوں میں رہتے تھے، الگ تھلگ زندگی گزارنے کو ترجیح دی۔ وہ مذہبی جماعتوں کی شکل میں رہتے تھے جنھیں دیر خانقاہ (Monasteries) کہا جاتا تھا جو عام طور پر انسانی بستیوں سے دور ہوا کرتی تھیں۔ ان میں سے دو مشہور خانقاہیں سینٹ بینڈکٹ (St. Benedict) کے ذریعہ 529 میں اٹلی کے اندر اور کلونی (Cluny) کے ذریعہ 910 میں برگنڈی (Burgundy) کے اندر قائم کی گئی۔

مونیسٹری یونانی لفظ مونوز ('Monos') سے مشتق ہے جس کے معنی ہے ایک ایسا شخص جو بالکل تنہا رہتا ہو۔

راہب اپنی بقیہ زندگی خانقاہوں میں رہ کر، عبادت، مطالعہ اور محنت کے کام جیسے کاشت کاری میں گزارنے کا عہد کرتے تھے۔ بڑے پادریوں کے برخلاف اس طرح کی زندگی مرد اور عورت دونوں گزار سکتے تھے۔ مرد راہب بن جاتے اور عورتیں راہبہ بن جاتی تھیں۔ چند ایک کے علاوہ ساری خانقاہیں ایک ہی جنس کے لوگوں پر مشتمل ہوتی تھیں۔ الغرض مردوں اور عورتوں کے لیے الگ الگ خانقاہیں ہوتی تھیں۔ بڑے پادریوں کی طرح راہب اور راہبہ بھی شادی نہیں کرتے تھے۔
10سے 20 مردوں / عورتوں کی چھوٹی سی جماعتوں سے آگے بڑھ کر خانقاہوں نے سینکڑوں افراد پر مشتمل جماعتوں کی شکل اختیار کرلی جن میں ایسی بڑی بڑی عمارتیں اور آراضی ہوتی تھیں جن کے ساتھ اسکول، کالج اور ہسپتال ہوتے تھے۔ یہ فنونِ لطیفہ کے فروغ میں حصّہ لیتی تھیں۔ Abbess Hildegard (دیکھئے اوپر، صفحہ137) ایک ماہر موسیقار تھا اور اس نے چرچ میں دعاؤں کے اجتماعی نغمات کے عمل کو فروغ دیا تیرہویں صدی سے راہبوں کی کچھ جماعتوں نے____ جنہیں فرائز کہا جاتا تھا____ خانقاہوں میں محدود نہ رہ کر ایک جگہ سے دوسری جگہ جاکر دعوت و تبلیغ کا کام کرنے اور خیرات و عطیات پر گزر بسر کرنے کا فیصلہ کیا۔

TC6-15
فیرن برا (Farnborough) انگلینڈ میں سینٹ مائیکل کی بینیڈ کٹائن خانقاہ



Benedictine کی خانقاہوں میں قوانین کے 73 ابواب پر مشتمل ایک مسودہ جس کے مطابق کئی صدیوں تک راہبوں نے عمل کیا۔ چند قوانین جن پر انہیں عمل کرنا تھا درج ذیل ہیں:

باب6: راہبوں کو بولنے کی اجازت شاذ و نادر ہی دی جانی چاہئے۔

باب7: انکسار کا مطلب انقیاد ہے۔

باب33: کسی راہب کی کوئی شخصی جائیداد نہ ہونی چاہئے۔

TC6-16

باب 47: کاہلی روح کی دشمن ہے اس لیے فرائرز اور سسٹرز کو چاہئے کہ کچھ خاص اوقات میں محنت کے کام کریں اور کچھ معین وقت میں مقدس کتاب خوانی میں مصروف رہیں۔

باب48: خانقاہ اس انداز میں ترتیب دی جانی چاہئے کہ اس کے احاطے کے اندر ضروریات زندگی سے متعلق ساری چیزیں____ پن چکی، باغ اور مرمت خانے دستیاب ہوں۔


چودہویں صدی کے آتے آتے خانقاہوں کے مقصد اور قدروقیمت کے تعلق سے شکوک و شبہات بڑھنے لگے۔ انگلینڈ میں لینگلینڈ (Langland) کی نظم (C.1360-70) Pier's Plowman میں کچھ راہبوں کی تعیش پسند زندگی کا ’’سادگی پسند کسانوں، چرواہوں اور عام غریب مزدوروں‘‘ کے ’’ایمانِ کامل‘‘ سے تقابل کیا گیا ہے۔ انگلینڈ میں بھی چوسر (Chaucer) نے کینٹر بری ٹیلس (درج ذیل اقتباس ملاحظہ کیجیے) کے عنوان سے ایک نظم لکھی جس میں ایک راہبہ، ایک راہب اور فرائر کی طربیہ شبیہ پیش کی گئی ہے۔

اپریل میں جب شیریں قطرے گرتے ہیں

اور مارچ کے قحط زدہ حصے کو جڑ تک چھید دیتے ہیں

اور ننھے پرندے نغمے گاتے ہیں

ایسے نغمے جو راتوں کی نیند اڑادیں…

(اس طرح قدرت انہیں کچوکے لگاتی ہے اور وہ مصروفِ عمل ہوجاتے ہیں)؛

پھر وہ لوگ جنہیں زیارت کے لیے لمبی مسافت طے کرنی ہے؛

اور وہ زائرین (پامرز*) جودور کے ان مذہبی پیشواؤں کے بیرونی مقدس مقامات کی چاہت میں نکلتے ہیں جن کی عزت مختلف ممالک میں کی جاتی ہے۔ اور بالخصوص انگلینڈ کے ہر ضلع سے وہ کینٹر بری (Canterbury) کے لیے سفر کرتے ہیں۔

(جیفری چوسر) (C.1340-1400) Geoffrey Chaucer ماخوذ از: (دی کینٹر بری ٹیلس The Canterbury Tales


* وہ راہب جو دور دراز کے مقدس مقامات کی زیارت کے لیے سفر کرتا ہے۔


چرچ اور سماج

اگرچہ یوروپ کے لوگ عیسائی ہوگئے تھے مگر اب بھی وہ جادو اور عوامی روایات کے تئیں کچھ قدیم اعتقادات کے حامل تھے۔ عیسائی اور ایسٹر چوتھی صدی ہی سے کیلنڈر کی تاریخ بن چکے تھے۔ عیسیٰ کی پیدائش نے، جسے 25 دسمبر کو منایا جاتا تھا، روم کے ایک قدیم تہوار کی جگہ لے لی تھی جس کی تاریخ شمسی کیلنڈر کے ذریعہ متعین کی جاتی تھی۔ ایسٹر عیسیٰ کی تصلیب اور زمین سے ان کے اٹھائے جانے کو مناتے تھے لیکن اس کی تاریخ متعین نہیں تھی کیونکہ اس کی جگہ ایک قدیم تہوار نے لے لی تھی جسے طویل موسمِ سرما کے بعد موسمِ بہار کی آمد کے لیے منایا جاتا تھا اور جس کی تاریخ قمری کیلنڈ سے متعین کی جاتی تھی۔ روایات کے مطابق اس دن ہر گاؤں کے لوگ اپنے گاؤں کی زمینوں کا ٹور کرتے تھے۔ عیسائیت کی آمد کے بعد بھی وہ ایسا کرتے رہے لیکن وہ اسے 'Parish' (کسی مذہبی پیشوا کی زیر نگرانی کا علاقہ) کے گاؤں کا نام دیتے تھے۔ محنتی کسان، مقدس دن/ تعطیل (Holy Day/holiday)کا خیر مقدم کرتے تھے کیونکہ اس دن انہیں کام نہیں کرنے ہوتے تھے۔ ایسا دن عبادت کے لیے وقف ہوتا تھا۔ لیکن عام طور پر لوگ اس دن کا ایک خاطر خواہ حصہ تفریح اور کھانے پینے میں گزارتے تھے۔ زیارت ایک عیسائی کی زندگی کا اہم حصہ تھی اور بہت سے لوگ شہیدوں کے مزاروں اور بڑے چرچوں تک پہونچنے کے لیے دور دراز کا سفر کرتے تھے۔

تیسرا طبقہ - کسان، آزاد اور مقید (غلام)

آئیے اب ہم لوگوں کی سب سے بڑی اکثریت کی باتیں کریں جن کے بل بوتے پر پہلے دونوں طبقے کے لوگ قائم تھے۔ کاشت کار دو طرح کے تھے۔ آزاد کسان یا زرعی غلام (سرف Serfs لفظ "to serve"سے مشتق ہے) تھے۔ آزاد کسان لارڈ کی اسامی کی حیثیت سے زمینوں کے مالک تھے۔ مردوں کو فوجی خدمات دینی ہوتی (سال میں کم از کم چالیس دنوں کے لیے) تھیں۔ کسانوں کے خاندان کو ہفتے کے کچھ دن، عام طور پر تین لیکن اکثر اس سے زیادہ دن، لارڈ کی اسٹیٹ (جاگیر) میں جاکر کام کرنے کے لیے مختص کرنے ہوتے تھے۔ اس خدمت سے حاصل ہونے والا فائدہ جسے Labour-rentکہا جاتا تھا بلاواسطہ طور پر لارڈ کو پہنچتا تھا۔ مزید برآں ان سے دوسرے کام بھی لیے جاسکتے تھے جس کاکوئی معاوضہ نہیں ہوتا تھا جیسے خندقیں کھودنا، جلانے کے لیے لکڑیاں جمع کرنا۔ چہاردیواریاں بنانا، سڑکوں اور عمارتوں کی مرمت کرنا۔ کھیتوں میں مدد کرنے کے علاوہ عورتوں اور بچوں کو دوسرے کام بھی کرنے پڑتے تھے۔ وہ دھاگے کاتنے، کپڑے بنتے، موم بتیاں بناتے اور لارڈ کے استعمال کے لیے انگور سے شراب کشید کرتے تھے۔ ایک بالواسطہ ٹیکس تھا جسے "Taille"(ٹیل) کہا جاتا تھا اور جسے راجہ بسا اوقات کسانوں پر عائد کردیتا تھا (پادری اور اشراف اس ٹیکس کی ادائیگی سے مستثنیٰ کردئے جاتے تھے۔

TC6-17
ایک انگریز کاشت کار، سولہویں صدی کا خاکہ  

زرعی غلام زمینوں میں کاشتکاری کرتے لیکن یہ زمینیں لارڈ کی ہوتی تھیں۔ ان کی پیداوار کا بیشتر حصہ لارڈ کو دے دیا جاتا تھا۔ انہیں ان کھیتوں میں بھی کام کرنا پڑتا تھا جو کلی طور پر لارڈ کے ہوتے تھے۔ اس کا انہیں کوئی معاوضہ نہیں ملتا اور وہ لارڈ کی اجازت کے بغیر اسٹیٹ سے باہر نہیں جاسکتے تھے۔ لارڈ کو زرعی غلاموں کے بل بوتے پر متعدد اجارہ داریاں حاصل تھیں۔ وہ آٹا پیسنے کے لیے صرف لارڈ ہی کی مل (چکی)، روٹی پکانے کے لیے صرف اسی کا تندوراور شراب اور بئیر کشید کرنے کے لیے صرف اسی کی شراب نکالنے کی مشینیں استعمال کرسکتے تھے۔ لارڈیہ فیصلہ بھی کرسکتا تھا کہ زرعی غلام کس سے شادی کرے یا غلام کے انتخاب پر اسے نواز سکتا تھا۔ لیکن ایسا وہ کسی رقم کے عوض میں کرتا تھا۔

انگلینڈ

جاگیر دارانہ نظام کو انگلینڈ کے اندر گیارہویں صدی میں فروغ حاصل ہوا۔  
چھٹی صدی میں مرکزی یوروپ سے اینجلز (Angles)اور سیکسنز (Saxons) انگلینڈ میں بس گئے تھے۔ ملک کا نام انگلینڈ دراصل Angle-Landکی ایک شکل ہے۔ گیارہویں صدی میں نارمنڈی*کے نواب (Duke) ولیم نے فوج کے ساتھ انگلش چینل کو عبور کیا اور انگلینڈ کے سیکسن بادشاہ کو شکست دی۔ اسی وقت سے فرانس اور انگلینڈ کے بیچ تجارت اور قلمرو کے تنازعات کو لے کر عام طور پر جنگیں ہونے لگیں۔

* انگلینڈ کی موجودہ ملکہ ولیم اول کی اولاد ہیں

ولیم اول نے زمینوں کی پیمائش کرائی اور اسے ان 180نارمین امراء (Norman Nobles) کے درمیان تقسیم کردیا جو اس کے ساتھ کوچ کرکے آئے تھے۔ لارڈز بادشاہ کے بڑے اسامی بن گئے جن کے لیے ضروری تھا کہ وہ بادشاہ کو فوجی تعاون پیش کریں۔ ان کے لیے ضروری تھا کہ وہ بادشاہ کو نائٹوں (Knights)کی ایک خاص تعداد مہیا کرائیں۔ بادشاہوں نے جلد ہی اپنی زمینوں کا کچھ حصہ نائٹوں کو تحفے کے طور پر دینا شروع کردیا جو اس کے عوض بادشاہوں کی خدمت کے لیے تیار رہتے تھے۔ تاہم بادشاہ اپنے نائٹوں کا استعمال ذاتی جنگوں کے لیے نہیں کرسکتے تھے جو انگلینڈ میں ممنوع تھیں۔ اینگلو۔ سیکسن کسان مختلف سطحوں کے زمین کے مالکان کی اسامی بن جاتے تھے۔

TC6-18
ہیور (Hever) قلعہ، انگلینڈ تیرہویں صدی


سماجی اور اقتصادی تعلقات کو متاثر کرنے والے عوامل

اس وقت جب کہ پہلے دونوں طبقات کے افراد سماجی نظام کو غیر متبدل اور مستحکم تصور کر رہے تھے وہاں کچھ ایسے اسباب بھی تھے جو اس نظام کو بدل رہے تھے۔ ان میں سے کچھ جیسے ماحول میں تغیر، تدریجی اور قریب قریب ناقابل ادراک تھے۔ دوسرے کچھ ڈرامائی تھے مثلاً کاشتکاری سے متعلق ٹکنالوجی اور زمینوں کے استعمال کے تئیں رونما ہونے والی تبدیلیاں وغیرہ۔ نتیجے کے طور پر اس نے لارڈ اور اسامیوں کے مابین قائم سماجی اور اقتصادی رشتوں کو متاثر کیا۔ آئیے ہم ان عوامل کا ایک ایک کرکے جائزہ لیں۔

ماحول

پانچویں سے دسویں صدی تک یوروپ کا زیادہ تر حصہ جنگلات سے ڈھک چکا تھا۔ اس وجہ سے قابل کاشت زمین محدود تھی۔ کسان بھی اپنے حالات کے تئیں بے اطمینانی کی وجہ سے ظلم و جور سے فرار اختیار کرکے جنگلات میں پناہ لے رہے تھے۔ اس دوران یوروپ سخت سرد لہروں سے جوجھ رہا تھا۔ سخت اور طویل سردی کا سبب بنی فصلوں کے اگنے کے لیے مختصر موسم اور عام طور پر کاشتکاری سے حاصل ہونے والے منافع کی کمی ہو رہی تھی۔
گیارہویں صدی سے یوروپ کے اندر گرمی ہونے لگی۔ اوسط درجۂ حرارت بڑھ گیا جس کا زراعت پر زبردست اثرپڑا۔ اب کسانوں کے پاس اناج اگانے کے لیے زیادہ وقت تھا۔ اور مٹی اب جنگل سے کم نشیبی تھی۔ اور زیادہ آسانی سے جوتی جاسکتی تھی۔ ماحولیات کے مورخین نے یوروپ کے بہت سے حصوں میں جنگلات کے خطوط کو قابل لحاظ حد تک سکڑتے ہوئے محسوس کیا ہے۔ اس وجہ سے قابل کاشت علاقہ کا پھیلنا ممکن ہوا۔

زمین کا استعمال

ابتدا سے کاشتکاری سے متعلق ٹکنالوجی بہت فرسودہ تھی۔ کسان کو حاصل مشینی مدد میں سے صرف لکڑی کا وہ ہل تھا جسے بیل کھینچتے تھے۔ یہ ہل سطح زمین کو صرف کھرچ سکتا تھا۔ اور مٹی کی قدرتی پیداواری قوت کو باہر لانے کی صلاحیت اس میں نہ تھی۔ اس لیے زراعت بہت محنت کا کام تھا۔ زمینوں کو ہاتھ سے کھودا جاتا تھا جو عام طور پر چار سالوں میں ایک بار ہوتا تھا۔ نیز ہاتھ سے بہت سے کام انجام دینے ہوتے تھے۔
فصلوں کو باری باری اگانے کا ایک غیر موثر طریقہ بھی رائج تھا۔زمین کو دو حصوں میں تقسیم کردیا جاتا تھا۔ ایک حصے میں موسم گرما کے گیہوں خزاں کے موسم میں بوئے جاتے تھے اور دوسرے حصہ کو غیر مزروعہ چھوڑ دیا جاتا تھا۔ اس غیر مزروعہ زمین میں دوسرے سال رائی بوئی جاتی تھی اور دوسرے حصے کو غیر مزروعہ چھوڑ دیا جاتا تھا۔ ایسا کرنے سے زمین دن بدن خراب ہوتی گئی اور قحط سالی بھی ایک عام بات تھی۔ تباہ کن قحط سالی کی جگہ طویل ناقص تغذیہ نے لے لی اور غریبوں کے لیے جینا دشوار ہوگیا۔
ان ساری مشکلات کے باوجود لارڈز آمدنیوں کو بڑھانے کے لیے فکرمند تھے۔ چونکہ زمین کی پیداوار کو بڑھانا ممکن نہ تھا اس لیے کسان مجبور کیے جاتے تھے کہ جاگیری اسٹیٹ (Manorial Estate) کی ساری زمینوں میں کاشتکاری کریں اور اس میں اس سے زیادہ وقت دیں جتنے کے وہ قانونی طور پر پابند تھے۔ کسان ظلم وجور کے آگے آسانی سے نہیں جھکتے تھے۔ چونکہ وہ کھلے طور پر مزاحمت نہیں کرسکتے تھے اس لیے انہوں نے مجہول مقاومت کا سہارا لیا۔ وہ اپنی زمینوں کو جوتنے میں زیادہ وقت صرف کرتے اور اس سے حاصل شدہ پیداوار کا بیشتر حصہ اپنے لیے رکھ لیتے۔ وہ بلامعاوضہ مزید خدمات پیش کرنے سے بھی گریز کرتے۔ انہوں نے چراگاہوں اور جنگلات کے مسئلہ پر لارڈز سے ٹکراؤ مول لیا۔ وہ ان زمینوں کو پوری قوم کے لیے استعمال ہونے والے ذرائع کی حیثیت سے دیکھتے تھے۔ جبکہ لارڈز انہیں اپنی ذاتی ملکیت گردانتے تھے۔

زراعت سے متعلق نئی تکنیک

گیارہویں صدی کے آتے آتے اس ضمن میں متعدد تکنیکی تبدیلیوں کے ثبوت ملتے ہیں۔
لکڑی کے ابتدائی ہلوں کے بجائے کسانوں نے بھاری فولادی نوکدار ہل اور ہل کی پھال کا استعمال شروع کردیا۔ یہ ہل زیادہ گہرائی تک کھود سکتے تھے۔ اور ہل کی پھال بالائی مٹی کو مناسب انداز سے الٹ دیتی تھی۔ اسی طرح مٹی کی غذائیت والا حصہ بہتر طور پر استعمال میں آرہا تھا۔
جانوروں کو ہل میں جوتنے کا طریقہ بھی بہتر ہوگیا تھا۔ گردن میں جوتنے کے بجائے کندھوں میں جوتنے کا طریقہ استعمال میں آگیا۔ اس سے جانوروں کو زیادہ طاقت لگانے میں مدد ملی۔ گھوڑوں کو اب زیادہ بہتر فولادی نعلیں لگائی جانے لگیں جس سے ان کے پیر مڑنے سے محفوظ ہوگئے۔ زراعت کے لیے ہوا اور پانی کی توانائی کا استعمال بڑھ گیا۔ انگور سے شراب کشید کرنے اور اناج کو پیسنے کے لیے یوروپ میں پانی اور ہوا کی مدد سے چلنے والی مزید پن چکی (Mills) قائم کی گئیں۔
زمینوں کے استعمال میں بھی تبدیلی آئی۔ دو کھیتوں سے تین کھیتوں کے نظام کی طرف تبدیلی سب سے زیادہ انقلابی عمل تھا۔ اس کے مطابق کسان زمین کو تین سالوں میں دو سال استعمال کرسکتے تھے۔ اس شرط کے ساتھ کہ وہ ان میں موسم خزاں میں ایک فصل لگائیں اور ڈیڑھ سال بعد دوسری فصل اگائیں۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ کسان اپنی مالکانہ حقوق والی آراضی کوتین حصوں میں تقسیم کر سکتے تھے۔ وہ ایک میں انسانوں کے استعمال کے لیے خزاں کے موسم میں گیہوں یا رائی، دوسرے میں موسم بہار میں انسانوں کے استعمال کے لیے مٹر، سیم کی پھلیاں اور مسور اور گھوڑوں کے لیے جئی اور جو اگا سکتے تھے۔ تیسرا حصہ غیر مزروعہ رہتا تھا۔ وہ کھیت کے تینوں حصوں کو باری کے اعتبار سے ہر سال استعمال کرتے تھے۔
ان اصلاحات اور ترقیوں کے ساتھ کھیت کے ہر حصہ سے پیدا ہونے والی غذائی مقدار میں بہت جلد اضافہ ہوگیا۔ غذائی اقسام کی فراہمی دوگنی ہو گئی۔ مٹر اور سیم کی پھلیوں جیسے پودوں کی زیادہ کاشتکاری کی وجہ سے عام یوروپیوں کی غذامیں سبزیوں کے پروٹین کا اضافہ ہوگیا۔ اور ان کے جانوروں کے لیے زیادہ بہتر چارہ فراہم ہونے لگا۔ اس سے کاشتکاروں کے لیے بہتر مواقع پیدا ہوگئے۔ اب وہ کم زمینوں سے زیادہ سے زیادہ غذائی اقسام پیدا کرسکتے تھے۔سو ایکڑ جو کسی کسان کے کھیتوں کا اوسط سائز ہوتا تھا، تیرہویں صدی میں گھٹ کر 20سے 30ایکڑ رہ گیا۔ مالکانہ حقوق والی آراضی جو کم ہونی تھی اس میں زیادہ مستعدی کے ساتھ کاشتکاری ہوسکتی تھی اور مطلوبہ محنت کو کم کیا جاسکتا تھا۔ اس نے کسانوں کو دوسری سرگرمیوں میں حصہ لینے کے لیے مواقع فراہم کیے۔
ان تکنیکی تبدیلیوں میں سے کچھ کے لیے زیادہ پیسے درکار تھے۔ پن چکی اور پون چکی قائم کرنے کے لیے کسانوں کے پاس رقم نہیں تھی۔ اس کے لیے لارڈز نے اقدا مات کیے۔ لیکن بہت سارے معاملات مثلاً قابل کاشت زمینوں کی توسیع میں کسانوں نے پیش قدمی کی۔ انہوں نے فصلوں کو تین کھیتوں کی گردش کی طرف بدل دیا۔ اور گاؤں میں لوہار خانے اور چھوٹی چھوٹی بھٹیاں قائم کیں جہاں فولاد کے نوکدار ہل اور گھوڑوں کی نعلیں سستے داموں میں بنائی اور مرمت کی جاتی تھیں۔
گیارہویں صدی سے وہ شخصی معاہدے جو جاگیر دارانہ نظام کی اساس ہوا کرتے تھے، کمزور پڑنے لگے کیونکہ اقتصادی معاملات کی بنیاد زیادہ سے زیادہ پیسوں پر قائم ہوتی جارہی تھی۔ لارڈز کے لیے خدمات کے بجائے کرایہ کا مطالبہ آسان تھا۔ اور کاشتکاری تاجروں کو غلہ (دوسرے سامانوں کے عوض دینے کے بجائے) نقدی کے بدلے فروخت کرتے تھے جو اس کے بعد اس طرح کے سامانوں کو قصبوں میں بیچنے کے لیے جاتے تھے۔ نقدی کے بڑھتے ہوئے استعمال نے قیمتوں پر اثر انداز ہونا شروع کردیا جو خراب پیداوار کی صورت میں مزید اوپر اٹھ جاتی تھیں۔ مثال کے طور پر انگلینڈ میں 1270 اور 1320کے درمیان زراعت سے وابستہ اشیا کی قیمتیں دوگنی ہوگئیں۔

چوتھا طبقہ؟ نئے شہر اور شہری لوگ

زراعت میں توسیع کے ساتھ اس سے وابستہ تین چیزیں: آبادی، تجارت اور قصبات میں بھی اضافہ ہوا۔ یوروپ کی آبادی ایک اندازے کے مطابق 1000میں 42ملین سے بڑھ کر 1200میں 62 ملین اور 1300میں 73ملین ہوگئی۔بہتر تغذیہ نے زندگی کے لمحات کو بڑدھا دیا۔ تیرہویں صدی کے آتے آتے یوروپ کا عام باشندہ آٹھویں صدی کے مقابلے 10سال مزید جینے کی توقع رکھتا تھا۔ عورتوں اور بچیوں کی عمریں مردوں کے مقابلے میں کم ہوتی تھیں، کیونکہ مرد زیادہ اچھی غذا کا استعمال کرتے تھے۔
سلطنت روما کے زوال کے بعد اس کے شہر ویران اور تباہ و برباد ہوگئے تھے۔ لیکن جب گیارہویں صدی میں زراعت کو فروغ حاصل ہوا اور وہ بڑی آبادی کو روزی فراہم کرنے کے قابل ہوگئی تو شہر اور قصبات ایک بار پھر بڑھنے شروع ہوگئے۔ وہ کسان جن کے پاس فروخت کرنے کے لیے اضافی اناج تھا انھیں ایک ایسے مقام کی ضرورت تھی جہاں وہ اسے فروخت کرنے کے لیے ایک مرکز قائم کرسکیں۔ اور جہاں سے وہ اپنی ضروریات کے سامان اور کپڑے خرید سکیں اور رفتہ رفتہ چھوٹے چھوٹے بازار کے مراکز وجود پانے لگے۔ جن کی شکل رفتہ رفتہ شہر جیسی ہوگئی، یعنی چوراہے، چرچ اور ایسی سڑکیں بن گئیں جہاں تاجر دکانیں اور مکان بناتے اور جہاں شہر کے چلانے والوں کے اجتماع کے لیے ایک آفس بھی ہوتا۔ دوسرے مقامات پر شہر بڑے بڑے قلعوں، اسقف کے اسٹیٹ (Bishop estaes) یا بڑے چرچوں کے گرد آباد ہوتے تھے۔

TC6-19
ریمس (Reims) فرانس کیتھیڈرل ٹاؤن، سترہوی صدی میپ

سرگرمی 3

شہر کے اس خاکے اور نقشہ کو دھیان سے دیکھیں اور غور کریں کہ عہد وسطیٰ کے یوروپی شہروں کی نمایاں خصوصیات کیا تھیں؟ دوسری جگہوں اور دوسرے عہد کے شہروں سے وہ کس حیثیت سے جداگانہ تھے؟

شہروں میں اپنی خدمات پیش کرنے کے بجائے لوگ ان لارڈز کو ٹیکس ادا کرتے تھے جن کی زمین پر شہر آباد تھے۔ کسان خاندان کے نوجوانوں کے لیے لارڈز کے قبضہ سے آزاد ہوکر شہروں میں نقدی کے عوض کام کرنے کے مواقع تھے۔
’’شہر کی آب و ہوا آزادی عطا کرتی ہے‘‘ ایک مشہور کہاوت بن گئی۔ آزادی کے متمنی بہت سے زرعی غلام فرار ہوکر شہروں میں روپوش ہونے لگے۔ اگر ایک غلام ایک سال اور ایک دن کے لیے بھی اپنے لارڈ کی گرفت سے بچ جاتے تو آزاد ہوجاتے۔ شہروں کے زیادہ تر لوگ آزاد کسان اور فرار ہونے والے وہ زرعی غلام تھے جو محنت و مشقت کے کام کرتے تھے۔ دکاندار اور تاجر بہت سے تھے۔ بعدمیں خاص مہارتوں کے حامل افراد مثلاً بینکر (ساہوکار) یا وکلاء کی ضرورت پیش آئی۔ بڑے شہروں میں 30,000 تک آبادی ہوا کرتی تھی جن کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ وہ سماج کا چوتھا طبقہ تھے۔
گلڈ (پیشہ وران کی انجمن) معاشی تنظیم کی بنیاد تھی۔ ہر دستکاری یا صنعت گلڈ کے تحت منظم تھی۔ جو ایک ایسی تنظیم تھی جو پیداوار کے معیار، اس کی قیمت اور اس کی خرید کو کنٹرول کرتی تھی۔ ’’گلڈ ہال‘‘ ہر شہر کا ایک حصہ تھا جس میں تقریبات کا انعقاد ہوتا اور جہاں مختلف گلڈز (Guilds)کے قائدین سرکاری طور پر ملاقات کرتے تھے۔ نگہبان (Guards)شہر کی فصیل کی نگرانی کرتے اور امن و امان برقرار رکھتے۔ بلدیاتی جلوس اور دعوتوں میں موسیقار بلائے جاتے اور سرائے کے مالک مسافروں کی دیکھ بھال کرتے تھے۔
گیارہویں صدی کے آتے آتے مغربی ایشیا سے گزرنے والے تجارت کے نئے راستے ترقی پانے لگے (ملاحظہ ہو باب نمبر 5) اسکینڈی نیوین (Scandinavian) تاجر شمالی سمندر کو عبور کرتے ہوئے لباس کے لیے فر (Furs)ہنٹنگ ہاکس (Hunting hawks)کے تبادلے کے لیے جنوب کی طرف آنے لگے۔ انگریزی تاجر ٹن فروخت کرنے کے لیے آتے تھے۔ بارہویں صدی تک فرانس میں تجارت اور دستکاری بڑھنے لگی۔ پہلے دستکار ایک جاگیر سے دوسری جاگیر کا سفر کرتے تھے۔ اب انہیں آسان لگنے لگا کہ ایک جگہ بیٹھ کر سامان بنائے جائیں اور غذا کی اقسام حاصل کرنے کے لیے ان کی تجارت کی جائے۔ جوں جوں شہروں کی تعداد بڑھتی گئی اور تجارت عام ہوتی گئی۔ شہروں کے تاجر دولت مند اور طاقتور ہوتے گئے۔ یہاں تک کہ وہ اشراف (امراء) کی طاقت کا حریف بن گئے۔

TC6-20
سالسبری کیتھیڈرل انگلینڈ


’’جگہ کی تنگی، جسے ہم نے عام طور پر جشن کے دن محسوس کیا ہے، اس کی وجہ سے کیونکہ عورتیں مردوں کے سروں کے اوپر سے قربان گاہ کی طرف جانے کے لیے مجبور ہوتی تھیں جس کی وجہ سے بہت تکلیف اور شور و غل ہوتا تھا (ہم نے فیصلہ کیا کہ مقدس چرچ کو بڑا اور اونچا بنایا جائے…
ہم نے نئی کھڑکیوں کی شاندار اقسام کو مختلف علاقوں کے ماہرین کے ہاتھوں پینٹ کرنے کا بندوبست کیا… کیونکہ یہ کھڑکیاں اپنے شاندار کمال فن (Execution)، اور پینٹ کیے گئے نیلگوں شیشوں پر فراخدلی کے ساتھ خرچ کی گئی رقم کی وجہ سے بہت اہمیت کی حامل ہیں، اس لیے ان کی حفاظت کے لیے ہم نے ایک ماہر سرکاری دستکار اور ایک سنار کو مقرر کیا ہے جنہیں ان کے الاؤنس یعنی ان کو سکے قربان گاہ سے اور ’’برادران‘‘ (Brethren) کے عام گودام سے آٹا ملتا رہے گا اور جو فنون لطیفہ کی ان اشیا کے تئیں دیکھ بھال کے تعلق سے اپنے فرائض کی انجام دہی میں کوتاہی نہیں برتیں گے۔‘‘  
– ایبوٹ سوگر Abbot Suger (1081-1151)نے پیرس کے قریب سینٹ ڈینس (St. Denis)کی خانقاہ کے متعلق لکھا۔
TC6-21
کھڑکی کا ایک منقش شیشہ (Stained-glass) چارٹریس کیتھیڈرل (Chartres Cathedral) فرانس، پندہویں صدی


کیتھیڈرل (Cathedral) شہر

دولت مند تاجروں کا پیسہ خرچ کرنے کا ایک انداز یہ بھی تھا کہ وہ چرچ کو عطیات دیتے تھے۔ بارہویں صدی میں فرانس کے اندر بڑے بڑے چرچ، جنہیں کیتھیڈرل کہا جاتا تھا، بنائے جانے لگے۔ ان کا تعلق دراصل خانقاہوں سے ہوتا تھا۔ لیکن سماج کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے بہت سے لوگ محنت، وسائل کی فراہمی اور نقدی کے ذریعہ ان کی تعمیر میں حصہ لیتے تھے۔ کیتھیڈرل پتھر سے بنائے جاتے تھے جنہیں مکمل ہونے میں برسوں لگ جاتے تھے۔ جب ان کی تعمیر کا سلسلہ شروع ہوتا تو اس کے اطراف کا علاقہ زیادہ آباد ہوجاتا اور جب ان کی تعمیر مکمل ہوجاتی تو وہ زیارت کا مرکز بن جاتے۔ اور اس طرح ان کے اردگرد چھوٹے چھوٹے شہر وجود میں آنے لگے۔
کیتھیڈرل کو اس انداز میں تعمیر کیا جاتا تھا کہ ہال کے اندر مذہبی پیشوا کی آواز سنی جاسکے جہاں بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوتے تھے۔ انہیں اس طرح بنایا جاتا کہ راہبوں کے گیت اچھے لگیں اور عبادت کے لیے بلانے والی گھنٹیوں کی آواز دور سے سنی جاسکے۔ کھڑکیوں کے لیے دودھیا شیشے استعمال کیے جاتے تھے۔ دن کے وقت کیتھیڈرل کے اندر موجود لوگوں کے لیے وہ سورج کی دھوپ کو منعکس کرتے تھے۔ اور غروب آفتاب کے بعد موم بتیوں کی روشنی میں وہاں بیٹھے ہوئے لوگ باہر کے لوگوں کو نظر آتے تھے۔ دودھیا شیشوں والی کھڑکیاں بائبل میں مذکور کہانیوں کو تصویروں کی مدد سے بیان کرتی تھیں جنہیں ناخواندہ لوگ ’’پڑھ‘‘ سکتے تھے۔

چودھویں صدی کا بحران

چودھویں صدی میں یوروپ کا اقتصادی پھیلاؤ دھیما پڑگیا۔ اس کے تین اسباب تھے۔
تیرہویں صدی کے آخر میں شمالی یوروپ کے اندر پچھلے 300سالوں کے موسم گرما کی گرمی کی جگہ سرد موسم نے لے لی۔فصلیں اگانے کے موسم میں ایک سال کی کمی آگئی اور بالائی خطوں میں فصل اگانا مشکل ہوگیا۔ طوفان اور سمندری سیلاب نے کھیتوں کو خراب کردیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ حکومتوں کو ٹیکس کی شکل میں ملنے والی آمدنی کم ہوگئی۔تیرہویں صدی سے پیشتر سازگار موسمی حالات نے بڑے پیمانے پر جنگلات اور چراگاہوں کو زراعت کے قابل بنانے کے مواقع فراہم کیے تھے۔ لیکن سخت جتائی نے فصلوں کو تین کھیتوں کی گردش کے رواج کے باوجود بھی مٹی کی کس بل نکال دی تھی۔ کیونکہ مٹی کی مناسب تحفظ کے ساتھ صفائی نہیں ہوپاتی تھی۔ چراگاہوں کی کمی نے چوپایوں کی تعداد کم کر دی۔ آبادی کے اضافے نے وسائل زندگی کو پیچھے چھوڑ دیا اور اس کا فوری نتیجہ قحط سالی کی شکل میں سامنے آیا۔ 1315اور 1317اور پھر 1329میں یوروپ کو سخت قحط سالی نے آدبوچا اور 1320کی دہائی میں کثیر تعداد میں مویشی ہلاک ہوئے۔
مزید برآں آسٹریا اور سربیا میں چاندی کی کانوں سے حاصل ہونے والی دھات میں گراوٹ کی وجہ سے دھات کی نقدی میں سخت کمی آگئی جس سے تجارت کو سخت نقصان پہنچا۔ اس صورت حال نے حکومتوں کو مجبور کردیا کہ وہ زر مبادلہ میں چاندی کی مقدار کو کم کریں اور اس میں سستی دھاتوں کی آمیزش کریں۔
ابھی بدترین حالات آنا باقی تھے۔ جیسے جیسے تیرہویں اور چودہویں صدی میں تجارت پھیلی۔ یوروپی بندرگاہوں پر دور دراز ملکوں سے مال بردار جہاز آنا شروع ہوگئے۔ جہازوں کے ساتھ چوہے بھی آئے، جو اپنے ساتھ مہلک طاعون (سیاہ موت) کے جراثیم بھی لائے۔ مغربی یوروپ جو پچھلی صدیوں میں قدرے الگ تھلگ تھا، اس مہلک وبا سے 1347 اور 1350 کے مابین دوچار ہوا۔ جدید تخمینہ کے مطابق اس وبا کے مہلوکین پورے یوروپ کا 20فیصد تھے۔ جبکہ بعض مقامات پر مہلوکین کا تناسب آبادی کا 40فیصد تھا۔

’’بہت سے بہادر مرد اور حسین خواتین نے اپنے اقرباء کے ساتھ ناشتہ کیا اور اسی رات دوسری دنیا میں اپنے اجداد کے ساتھ رات کا کھانا تناول فرمایا۔ لوگوں کی خستہ حالی قابل دید تھی۔ وہ ہزاروں کی تعداد میں ہر روز بیمار پڑتے اور بے یارو مددگار دم توڑ دیتے۔ بہت سے لوگ کھلی گلیوں میں مر گئے اور دوسرے اپنے گھروں کے اندر موت کا شکار ہوگئے جس کا پتہ ان کی سڑتی ہوئی لاشوں کی بدبو سے چلا۔ چرچ کے مقدس آنگن ان لاشوں کے بڑے انبوہ کی تدفین کے لیے ناکافی تھے جن کے ڈھیر سینکڑوں کی تعداد میں کھائیوں میں اس انداز سے پڑے ہوئے تھے جیسے جہازوں کے ہولڈ میں سامان پڑا ہوا ہو جو کہ تھوڑی مٹی سے ڈھکا ہو۔‘‘

– Giovanni Boccaccio (1313-75), Italian author.

تجارتی مراکز کی حیثیت سے شہر سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔ احاطہ کے اندر مثلاً خانقاہوں اور دیروں میں رہنے والے لوگوں سے اگر کوئی مرد طاعون سے متاثر ہوجاتا تو جلد ہی سارے لوگ اس کا شکار ہوجاتے اور ہر صورت میں قریب قریب کوئی بھی نہیں بچتا۔ طاعون کے سب سے زیادہ شکار بچے، نوجوان اور بوڑھے ہوتے۔اس طاعون کے بعد 1360اور 1370 کی دہائیوں میں طاعون کے نسبتاً چھوٹے واقعات پیش آئے۔ اور یوروپ کی آبادی جو 1300میں 73ملین تھی 1400میں گھٹ کر 45ملین رہ گئی۔
معاشی بحران کے ساتھ ساتھ یہ بلائے ناگہانی سخت سماجی اتھل پتھل کا سبب بنی۔ آبادی کی کمی، مزدوروں کی قلّت کی شکل میں سامنے آئی۔ زراعت اور صنعت کے مابین زبردست عدم توازن پیدا ہوگیا۔ کیونکہ لوگوں کی تعداد اتنی نہیں تھی کہ دونوں جگہوں پر یکساں طور پر مصروف عمل ہوسکیں۔ زراعتی پیداوار کی قیمتوں میں کمی آگئی کیونکہ خریدنے والے افراد کم تھے۔ سیاہ موت کے بعد انگلینڈ میں مزدوروں نے خاص طور پر زرعی مزدوروں کی مانگ 250 فیصد بڑھ جانے کی وجہ سے اجرتوں میں اضافہ ہوگیا۔ بچے ہوئے مزدور اپنی پہلی اجرتوں کے مقابلے دوگنی اجرتوں کا مطالبہ کرسکتے تھے۔

سماجی بے چینی

اس طرح لارڈز کی آمدنی بری طرح متاثر ہوئی اور امراء کی آمدنی اس لیے کم ہوگئی کیونکہ زرعی پیداوار کی قیمتیں گھٹ گئیں اور مزدوروں کی اجرتوں میں اضافہ ہوگیا۔ پریشانی کے عالم میں انہوں نے ٹھیکے پر پیسہ لگانا چاہا جس روایت کو انہوں نے حال ہی میں شروع کیا تھا۔ اور اس طرح مزدوروں کی خدمات دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کرنے لگے۔ اس کی کسانوں، خاص طور پر تعلیم یافتہ اور خوشحال لوگوں نے زبردست مخالفت کی۔ 1323میں فلینڈرز (Flanders) 1358میں فرانس اور 1381 میں انگلینڈ کے اندر کسانوں نے بغاوت کی۔
اگرچہ بغاوتیں بے رحمی سے کچل دی گئیں مگر یہ بات اہمیت کی حامل ہے کہ یہ بغاوتیں سب سے زیادہ شدومد کے ساتھ ان علاقوں میں پیش آئیں جہاں معاشی وسعت کی خوشحالی کا تجربہ کیا جاچکا تھا۔ جو اس بات کی نشانی تھی کہ کسان ان منافع کے تحفظ کے لیے کوشاں تھے جو انہوں نے پچھلی صدیوں میں حاصل کیے تھے۔ شدید ظلم و تشدد کے باوجود کسانوں کی سخت مخالفت سے پتہ چلتا ہے کہ قدیم جاگیردارانہ تعلقات دوبارہ نافذ نہیں کیے جاسکتے تھے۔ پیسے کی معیشت اتنی آگے نکل چکی تھی کہ اسے واپس نہیں لایا جاسکتا تھا۔ اس لیے اگرچہ لارڈز بغاوتوں کو کچلنے میں کامیاب ہوگئے تاہم کسانوں نے اس بات کو پایۂ ثبوت تک پہنچا دیا کہ زمانہ قدیم کی جاگیر دارانہ مراعات کو دوبارہ زندہ نہیں کیا جاسکتا۔

سرگرمی 4

تاریخ کے ساتھ دئے گئے واقعات و حالات کو پڑھئے اور بیانیہ انداز میں انہیں باہم جوڑئیے۔

گیارہویں تا چودہویں صدی

1066 نارمین نے اینگلو سیکسن کو شکست دی اور انگلینڈ کو فتح کرلیا۔

1100 اور اس کے بعد۔ فرانس میں کیتھیڈرل تعمیر کیے جانے لگے۔

1315-17 یوروپ میں زبردست قحط سالی۔

1347-50 سیاہ موت۔

1338-1461 انگلینڈ اور فرانس کے مابین ’’سوسالہ جنگ‘‘۔

1381 کسانوں کی بغاوتیں۔



سیاسی تبدیلیاں

ان سماجی حالات کے شانہ بہ شانہ سیاسی میدان میں بھی ترقی ہورہی تھی۔ پندرہویں اور سولہویں صدی میں یوروپی بادشاہوں نے اپنی فوجی اور معاشی حالت مضبوط کرلی۔ جو طاقتور ریاستیں انہوں نے قائم کیں وہ یوروپ کے لیے اتنی ہی اہم تھیں جتنی رونما ہونے والی سیاسی تبدیلیاں۔ اس لیے ان بادشاہوں کو مورخین نے ’’نئے شہنشاہوں‘‘ کا نام دیا ہے۔ فرانس میں لوئس XI، آسٹریلیا میں میکس ملین، انگلینڈ میں ہنری VII اور اسپین میں ایزابیل اور فرڈینینڈ جیسے مطلق العنان حکمرانوں نے ایک مستقل فوج کی تشکیل کی۔ ایک مستقل نوکر شاہی اور قومی ٹیکس شروع کیااور سمندر پار۔ اسپین اور پرتگال میں۔ یوروپ کی توسیع میں کردار نبھانے شروع کردئے۔ (ملاحظہ ہو باب نمبر 8)۔

TC6-23
انگلینڈ کی مہارانی ایلزبیتھ I ایک پکنک پر، آخری   سولہویں صدی  

ان شہنشاہوں کی فتح کا سب سے اہم سبب وہ سماجی تبدیلیاں تھیں جو بارہویں اور تیرہویں صدی کے دوران رونما ہوئیں تھیں۔ لارڈشپ اور اسامی کے جاگیر دارانہ نظام کی تنسیخ اور معاشی نمو کے سست رفتار تناسب نے ان بادشاہوں کو سب سے پہلے یہ موقع فراہم کیا کہ وہ اپنی محدود حد تک مضبوط رعایا کو اپنے قابو میں کرسکیں۔ حکمرانوں نے اپنی فوج کو جاگیردارانہ تقرری (Feudal Levies) کے نظام کے ساتھ بانٹ دیا اور پیشہ وارانہ طور پر ایسی ماہر پیادہ فوج کو متعارف کرایا۔ جو بندوقوں سے مسلح تھی اور بلاواسطہ طور پر توپ خانوں کو اپنے قبضہ میں لے لیا (ملاحظہ ہو باب نمبر 5)۔ اور آتشی طاقت کے سامنے امراء کی مزاحمت کے قدم اکھڑ گئے۔

نئی شہنشاہیت

  1461-1559 فرانس میں نئے شہنشاہ
  1474-1556 اسپین میں نئے شہنشاہ
  1485-1547 انگلینڈ میں نئے شہنشاہ

ٹیکس میں اضافہ کرکے شہنشاہ زیادہ بڑی فوجوں کو سنبھالنے کے لیے آمدنی حاصل کرلیتے تھے جو ان کا دفاع کرتیں تھیں ان کی سرحدوں کو وسعت دیتیں اور شاہی حکام کی حمایت میں اندرونی مزاحمتوں کو کنٹرول میں رکھتیں۔ امراء کی طرف سے بغیر کسی مزاحمت کے مرکزیت کیسے وجود میں نہیں آتی۔ شہنشاہیت کے مقابلے ہر طرح کی مخالفت کے پس پشت ایک ہی سوال تھا جو ٹیکس سے وابستہ تھا۔ انگلینڈ میں 1549, 1547, 1536, 1497اور 1553 میں بغاوتیں ہوئیں اور دبا دی گئیں۔ فرانس میں لوئس XI (1461-83) کو نوابوں اور شہزادوں کے خلاف ایک لمبی جدوجہد کرنی پڑی۔ چھوٹے امراء نے جو عام طور پر مقامی اسمبلی کے ممبر ہوتے تھے، اپنی طاقت کی اس شاہی حق تلفی کے خلاف مزاحمت کی۔ سولہویں صدی میں فرانس کے اندر ہونے والی ’’مذہبی‘‘ جنگیں کسی حد تک شاہی مراعات اور علاقائی آزادی کے مابین کی رسہ کشی کا ایک حصہ تھیں۔
امراء نے اپنے وجود کو برقرار رکھنے کے لیے ایک ہتھکنڈے کا سہارا لیا۔ نئی حکومتوں کی مخالفت کے بجائے وہ راتوں رات ان کے وفادار بن گئے۔ اسی وجہ سے شاہی آزادی کو جاگیر داری کی ترقی یافتہ شکل کہا جاسکتا ہے۔ درحقیقت لوگوں کا وہی طبقہ۔ لارڈز۔ جو جاگیر دارانہ نظام میں حاکم تھا اب بھی سیاست کے گلیاروں میں انہیں کا غلبہ تھا۔ انہیں انتظامی امور میں مستقل مناصب عطا کیے گئے تھے۔ تاہم کئی اہم حیثیتوں سے یہ نئی حکومت مختلف تھی۔  
TC6-25
نیمورس قلعہ (Nemours Castle) فرانس، پندرہویں صدی

بادشاہ اب اہرام کی اس چوٹی پر مزید بیٹھا نہیں رہ سکتا تھا جہاں وفاداری شخصی انحصار اور اعتماد کی بات تھی۔ وہ اب ایک وسیع درباری سماج کے درمیان سرپرست اور گاہک کے مابین رشتوں کا تانا بانا تھا۔ ہر شہنشاہیت کو خواہ کمزور ہو یا مضبوط، ان لوگوں کے تعاون کی ضرورت تھی جو ملک کو چلا سکیں۔سرپرستی اس طرح کے تعاون کی یقین دہانی کا ذریعہ بن گئی اور جو پیسوں سے خریدی اور بیچی جاسکتی تھی۔ اس لیے پیسہ ایک ایسا اہم ذریعہ بن گیا جس کی مدد سے امراء کے علاوہ دوسرے عناصر مثلاً تاجر اور ساہوکار دربار میں رسائی حاصل کرسکتے تھے۔ وہ بادشاہ کو وقتی طور پر پیسہ دیتے جس سے وہ سپاہیوں کی اجرتیں ادا کرتے۔ اس طرح حکام نے ریاست کے نظام میں غیر جاگیری عناصر کے لیے جگہ نکال لی۔
طاقت کے اس ڈھانچہ میں رونما ہونے والی ان تبدیلیوں سے فرانس اور انگلینڈ کی بعد کی تاریخیں ترتیب دی گئیں۔ کم سن بادشاہ لوئس XIII کے زمانہ حکومت 1614 میں فرانس کی مجلس مشاورت کی ایک میٹنگ منعقد ہوئی جسے اسٹیٹ جنرل کے نام سے جانا جاتا ہے (جس میں تین اسٹیٹ/ طبقات۔ پادری، امراء اور باقی افراد نمائندگی کے لیے تین ایوان تھے۔) اس کے بعد تقریباً دو سو سالوں۔ 1789 تک یہ میٹنگ نہیں بلائی گئی۔ کیونکہ بادشاہ ان تینوں طبقات کو حکومت میں شامل نہیں کرنا چاہتے تھے۔
انگلینڈ میں جو کچھ ہوا وہ بالکل مختلف تھا۔ نارمین کے حملے سے پہلے ہی اینگلو سیکسن کی ایک طاقتور کو نسل تھی جس کی طرف کسی ٹیکس کے نفاذ سے پیشتر بادشاہ کو رجوع کرنا پڑتا تھا۔ اسی کو بعد میں پارلیمنٹ کہا جانے لگا جو ہاؤس آف لارڈز (House of Lords)جس کے ممبران لارڈز اور پادری ہوتے تھے۔ اور ہاؤس آف کامنس (House of Commons)جس کے ممبران شہروں اور دیہی علاقوں کی نمائندگی کرتے تھے، پر مشتمل تھی۔ شاہ چارلس اول نے پارلیمنٹ کا اجلاس بلائے بغیر گیارہ سالوں (1629-40)تک حکومت کی۔ پھر وہ پارلیمنٹ کی میٹنگ بلانے کے لیے مجبور ہوگیا، کیونکہ اسے پیسوں کی ضرورت تھی تو پارلیمنٹ کی ایک جماعت نے اس کے خلاف جنگ چھیڑنے کا فیصلہ کیا اور بعد میں اسے پھانسی دے کر ایک جمہوریہ کی بنیاد ڈالی۔ یہ سلسلہ زیادہ دنوں تک قائم نہ رہ سکا اور شہنشاہیت پھر سے بحال ہوگئی لیکن اس شرط کے ساتھ کہ برابر پارلیمنٹ کی میٹنگ بلائی جاتی رہے گی۔

مشق  

مختصر جواب دیں  

  1. فرانس کے ابتدائی جاگیردارانہ سماج کی دو خصوصیات بیان کیجیے۔
  2. آبادی کی سطح پر طویل مدت تبدیلیوں نے یوروپ کے سماج اور معیشت پر کیسے اثر ڈالا؟
  3. نائٹس (Knights) کیوں نا پید ہوگئے اور ان کا زوال کب ہوا؟
  4. عہد وسطیٰ کی خانقاہوں کے کام کیا تھے؟

مختصر مضمون لکھیے:

تصور کیجیے اور عہد وسطیٰ کے فرانسیسی شہر کے کسی دستکار کی زندگی کے ایک دن کا خاکہ پیش کیجیے۔
فرانسیسی زرعی غلام اور رومی غلام کے حالات زندگی کا موازنہ کیجیے۔