یوروپ کے بہت سے ملکوں میں چودہویں صدی سے سترہویں صدی کے آخیر کے وقفہ میں شہروں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا تھا۔ ساتھ ہی ایک مختلف ’’شہری تمدن‘‘ نے بھی ترقی کی۔ شہر کے لوگ خود کو دیہات کے لوگوں سے زیادہ تہذیب یافتہ سمجھنے لگے۔ شہروں کو بادشاہ اور کلیسا سے کسی حد تک خود مختاری حاصل تھی خاص طور پر وینس اور روم تعلیم و فن کے مراکز ہو گئے تھے۔ مالدار طبقہ اور امراء فنکاروں اور مصنفین کی سرپرستی کرتے تھے۔ اس زمانے میں طباعت کی ایجاد کی وجہ سے کتابیں اور مطبوعات بہت سے لوگوں کو فراہم ہونے لگی تھیں۔ ان میں دور دراز شہروں اور دیہاتوں میں رہنے والے لوگ بھی شامل تھے۔ یوروپ میں تاریخ کا شعور بھی پروان چڑھا اور لوگ اپنی ’’جدید‘‘ دنیا کا موازنہ روم اور یونان کی ’’قدیم‘‘ دنیا سے کرنے لگے۔
مذہب کو اس نظر سے دیکھا جانے لگا کہ ہر شخص خود اپنے لیے اس کا انتخاب کرے۔ نظام شمسی کو سمجھنے والے سائنسدانوں نے کلیسا کے زمین کے محور کائنات ہونے کے عقیدے کو غلط ثابت کردیا اور جغرافیہ کی نئی معلومات نے یوروپی نظریہ، جس کے مطابق بحیرہ روم دنیا کا وسط تھا، کی تکذیب کردی۔ (ملاحظہ ہو باب 8)۔
چودہویں صدی سے یوروپ کی تاریخ سے متعلق دستاویزوں، مطبوعہ کتابوں، تصویروں، مجسموں، عمارتوں اور کپڑوں کی شکل میں بہت زیادہ مواد موجود ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر یوروپ اور امریکہ کے آرکائیوز (Archives) آرٹ گیلریوں اور میوزیم میں نہایت احتیاط کے ساتھ محفوظ ہیں۔انیسویں صدی سے مورخین اس دور کی تہذیبی تبدیلیوں کو بیان کرنے کے لیے نشاۃ ثانیہ (لغوی معنی دوبارہ پیدائش) کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔ سوٹزر لینڈ کے جیکب برک ہارڈ (Jacob Burckhardt 1818-97) نے اس بات پر سب سے زیادہ زور دیا۔ وہ سوٹزرلینڈ کی بیسلے یونیورسٹی (University of Basle) سے منسلک تھا۔ وہ جرمن مورخ لیوپولڈ وان رینکے (Leopold Von Ranke 1795-1886) کا شاگرد تھا۔ رینکے نے اسے تعلیم دی تھی کہ مورخ کا اولین مقصد حکومت کے محکموں کی فائلوں اور دستاویزات کی مدد سے سیاست اور حکومت کے متعلق لکھنا ہے۔ برک ہارڈ اپنے استاد کے ذریعہ مقرر کیے گئے ان محدود مقاصد سے مطمئن نہ تھا۔ اس کے نزدیک تاریخ نویسی کا مطلب سیاست سے ابتداء اور سیاست پر ہی انتہا نہ تھا بلکہ تاریخ کا تعلق تہذیب سے اتنا ہی گہرا تھا جتنا کہ سیاست سے۔
اس نے 1860 میں ’’اٹلی کے نشاۃ ثانیہ کی تہذیب (The Civilisation of the Renaissance in Italy) نامی کتاب لکھی۔ اس نے اپنے قارئین کی توجہ ادب، فن تعمیر اور پینٹنگ کی طرف مبذول کرائی اور بتایا کہ کس طرح انسان شناسی کلچر چودہویں صدی سے سترہویں صدی تک اٹلی کے شہروں میں پروان چڑھا۔ اس نے لکھا ہے کہ اس تہذیب کا امتیازی وصف ایک نیا اعتقاد تھا جس کے مطابق ایک آدمی ذاتی طور پر اپنے فیصلے خود لینے اور اپنی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کی اہلیت رکھتا ہے۔ وہ وسطی زمانے کے انسان جس کی فکر پر کلیسا کا غلبہ تھا، کے مقابلے ’’جدید‘‘ تھا۔
اٹلی کے شہروں کا احیاء
مغربی رومن سلطنت کے زوال کے بعد اٹلی کے بہت سے شہر جو تہذیبی اور سیاسی مراکز تھے وہ بربادی کا شکار ہو گئے تھے۔ وہاں پر متحدہ حکومت کا فقدان تھا اور روم میں پوپ جو اپنی ریاست میں خود مختار ہوتا تھا، وہ اب اہم سیاسی شخصیت نہ رہی۔
جب مغربی یوروپ جاگیر دارانہ معاہدوں (Feudal Bonds) کے ذریعہ ازسرنو تشکیل پا رہا تھا اور لاطینی کلیسا کی ماتحتی میں متحد ہو رہا تھا نیز مشرقی یوروپ بازنطینی سلطنت کی ماتحتی میں متحدہ ہو رہا تھا اور مغرب بعید میں اسلام ایک مشترکہ تہذیب کی بنیاد رکھ رہا تھا، اس وقت اٹلی کمزور اور اپنے میں منقسم تھا۔ گرچہ یہی سرگرمیاں اطالوی تہذیب کی احیاء میں مدد گار ثابت ہوئیں۔

باز نطینی سلطنت اور اسلامی ممالک کے درمیان تجارت کی توسیع کی وجہ سے اٹلی کی ساحلی بندرگاہوں کی اہمیت دوبارہ بڑھ گئی۔ بارہویں صدی میں جب منگولوں نے شاہراہ ریشم (ملا خطہ ہو باب 5)کے ذریعے چین کے ساتھ تجارت کا آغاز کیا اور اسی طرح سے یوروپی ملکوں کے ساتھ بھی تجارت میں اضافہ ہوا تو اس وقت اٹلی کے شہروں نے مرکزی کردار ادا کیا۔ انھوں نے خود کو زیادہ دنوں تک طاقتور سلطنت کا حصہ نہیں سمجھا بلکہ آزاد شہری ریاست سمجھا۔ ان میں سے دو فلورنس (Florence) اور وینس (Venice) جمہوری تھیں اور بہت سی درباری شہری ریاستیں۔ (Court Cities) تھیں جن پر شہزادے حکمرانی کرتے تھے۔
ان شہروں میں سب سے اہم ایک وینس اور دوسری جینوا (Genoa) تھی۔یہ یوروپ کے دوسرے حصوں سے مختلف تھیں۔ یہاں پر نہ تو پادریوں کا سیاسی غلبہ تھا اور نہ ہی یہاں طاقتور جاگیردار تھے۔ شہر کے مالدار تاجر اور ساہوکار شہر کے نظم ونسق میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے جس کی وجہ سے شہریت کا تصور مضبوط ہوا۔ یہاں تک کہ جب ان شہریوں پر ظالم اور جابر فوجی حکمراں ہوتے تھے اس وقت بھی شہر کے لوگ شہری کہلانے میں فخر محسوس کرتے تھے۔
شہری ریاست
کارڈینل گیسپارو کونٹا رینی (Cardinal Gasparo Contarini 1483-1542) نے ’’دولت مشترکہ اور وینس کی حکومت (The Commonwealth and Government of Venice 1534) میں اپنی شہری ریاست کی جمہوری حکومت کے بارے میں لکھا ہے:جہاں تک ہمارے وینیٹین دولت مشترکہ (Venetian Commonwealth) اداروں کا تعلق ہے تو شہر کے سارے اختیارات ۔۔۔اس کونسل کو حاصل تھے جس میں شہر کے پچیس سال سے زائد عمر کے سبھی افراد شامل کیے جاتے تھے۔
اب میں پہلے یہ سمجھانا چاہوں گا کہ کیسے اور کس دانشمندی کے تحت ہمارے آباء واجداد نے حکم دیا تھا کہ عام آدمیوں کو ان شہریوں کے ساتھ شامل نہیں کرنا چاہیے جن کے اختیار میں پوری دولت مشترکہ ہوتی ہے۔۔۔۔ کیونکہ عام آدمیوں کے ذریعہ کی جانے والے حکومتوں کے شہر بہت سی پریشانیوں اور عوامی بغاوتوں کا سامنا کرتے ہیں۔ کچھ لوگوں کا نظریہ اس کے برخلاف تھا۔ ان کا خیال تھا کہ یہ بہتر ہوگا کہ دولت مشترکہ کی حکومت اس طریقہ کار کی بجائے صلاحیت اور دولت کی کثرت کی بنیاد پر کی جائے۔ لیکن ایماندار شہری اور وہ لوگ جن کی پرورش آزادانہ ماحول میں ہوئی ہے وہ عموماً غریبی کا شکار ہو جاتے ہیں۔۔۔ اسی وجہ سے ہمارے عقل مند اور ہوشیار اجداد نے یہ فیصلہ کیا کہ حکومت کا حق دولت کی مقدار کی بجائے نسلی برتری کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ لیکن اس شرط کے ساتھ کہ صرف اہم اور معزز لوگ ہی حکومت نہ کریں (کیونکہ اس طرح اقتدار دولت مشترکہ کی بجائے چند افراد کے ہاتھوں میں ہوگا) بلکہ دوسرے تمام شہری بھی جو ذلیل بن کر پیدا نہیں ہوئے ہیں: تاکہ جو لوگ پیدائشی معزز تھے یا جو اپنے اخلاق کی بنا پر معزز بنے ہیں ان سبھی کو حکومت کرنے کا حق حاصل ہو‘‘۔

جی بیلینی کی 1500 میں بنائی پینٹنگ ’’مندس صلیب کے تبرکات کی بحالی‘‘ 1370 کے واقعہ کی باز طلبی اور یہ چودہویں صدی میں وینس میں قائم کی گئی۔
چودھویں اور پندرہویں صدی
1300 پاڈوآ یونیورسٹی (Padua University) میں انسان دوستی (Humanism) کی تعلیم۔
1341 روم میں پیٹرارچ (Petrarch) کو ’’ملک الشعراء‘‘ (Poet Laureate) کا خطاب ملا۔
1349 فلورنس (Florence) میں یونیورسٹی کا قیام۔
1390 جیفری چائوسر (Geoffrey Chaucer) کی کتاب کینٹر بری ٹیلس (Canterbury Tales) کی اشاعت۔
1436 برنیلچی (Brunelleschi) نے فلورنس میں گنبد (Duomo) کا ڈیزائن تیار کیا۔
1453 عثمانی ترکوں نے قسطنطنیہ کے باز نطینی حکمراں کو شکست دی۔
1454 گنٹن برگ (Gutenberg) نے قابل نقل وحمل صورت میں بائبل کی اشاعت کی۔
1484 سورج کا مشاہدہ کرکے پرتگال کے ریاضی دانوں نے عرض البلد کا حساب لگایا۔
1492 کولمبس امریکہ پہنچا۔
1495 لیونارڈو دی ونچی (Leonardo da Vinci) نے دی لاسٹ سپر (The Last Supper) کو پینٹ کیا۔
1512 مائیکل اینجلو (Michelangelo) نے سسٹائن چیپل (Sistine Chapel) کی اندرونی چھت کو پینٹ کیا۔
سرگرمی 1
اٹلی کے نقشے پر وینس Venice کو دکھائیے اور اوپر دی گئی پینٹنگ کو غور سے دیکھئے۔ آپ کس طرح شہر کو بیان کریں گے اور کس طرح یہ شہر اسقفی شہروں (Cathedral Towns) سے مختلف ہیں؟
یونیورسٹیاں اور انسان دوستی (Humanism)
یوروپ میں ابتدائی یونیورسٹیوں کا قیام اٹلی کے شہروں میں ہوا۔ پاڈوآ یونیورسٹی اور بولوگنا یونیورسٹی (Bologna University) گیارہویں صدی سے قانونی تعلیم کے مراکز تھیں۔ کیونکہ شہر میں تجارت ایک اہم سرگرمی تھی اس لیے دستاویز لکھنے اور لکھے ہوئے دستاویزات کی تشریح کرنے کے لیے وکیلوں اور ناظر رجسٹری (قانونی مشیر اور محافظ دستاویز کا مجموعہ) کی مانگ میں اضافہ ہو رہا تھا۔ کیونکہ تحریری معاہدوں کے بغیر بڑے پیمانے پر تجارت ممکن نہ تھی، اس وجہ سے تعلیم کے لیے قانون بحیثیت ایک مضمون پسندیدہ مضمون تھا، لیکن اب زور دوسری طرف دیا جانے لگا تھا۔ اس کا مطالعہ ابتدائی رومن تمدن کے تناظر میں ہونے لگا۔ فرانسسکو پیٹرارچ (1304-78) (Francesco Petrarch) اس تبدیلی کا نمائندہ ہے۔ پیٹرارچ کے مطابق عہد پارینہ ایک ایسی امتیازی ثقافت تھی جس کو قدیم رومن اور یونانی زبان کے حقیقی الفاظ کے ذریعہ بہتر طور سے سمجھا جاسکتا تھا۔ اس لیے اس نے قدیم مصنفین کی کتابوں کو بغور مطالعہ کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔
اس تعلیمی پروگرام کا مطلب بہت سی ایسی چیزوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنا تھا جو صرف مذہبی تعلیمات کی بنیاد پر حاصل نہیں کی جاسکتی تھیں۔ یہ وہ تہذیب تھی جس پر مورخین انیسویں صدی میں ’’انسان دوستی‘‘ کا لیبل چسپاں کرنے والے تھے۔ پندرہویں صدی کی ابتداء سے ’’انسان شناس‘‘ (Humanist) کی اصطلاح گرامر، بلاغت، شاعری، تاریخ اور فلسفہ اخلاق کے اساتذہ کے لیے استعمال کی جانے لگی تھی۔ لاطینی لفظ Humanitas (جس سے Humanities علم وادب مشتق ہے) کو صدیوں قبل جولیس سیزر (Julius Caesar) کے ایک ہم عصر رومن وکیل اور مضمون نگار سسرو (Cicero) (106-43ق م) نے تہذیب کے معنی میں استعمال کیا تھا۔ یہ مضامین مذہب سے اخذ نہیں کیے گئے تھے اور نہ مذہب سے ان کا کوئی تعلق تھا۔ نیز بحث ومباحثہ کے ذریعہ لوگوں نے مہارتوں کی نشوونما پر زور دیا۔
فلورینس کے ایک انسان شناس گیوانی پیکوڈیلا مران ڈیلا (1463-94) (Giovanni Pico della Mirandola) نے آن دی ڈگنٹی آف مین (On the Dignity of Man) (1486) میں بحث ومباحثہ کی اہمیت پر لکھا ہے۔
پلیٹو اور ارسطو (Plato and Aristotle) کے بارے میں یہ صحیح تھا کہ وہ معرفت حق کی خاطر زیادہ سے زیادہ بحث ومباحثہ کی مشقوں میں اپنے آپ کو شریک کرنا چاہتے تھے جس طرح سے جسمانی ورزش سے قوت میں اضافہ ہوتا ہے اسی طرح بلاشبہ ان الفاظ کے اکھاڑوں میں دماغی قوت میں اضافہ اور مضبوطی آتی ہے۔
ان انقلابی خیالات نے بہت سی یونیورسٹیوں خاص طور پر پیٹرارچ Petrarch) (کے آبائی شہر فلورنس میں قائم کی گئی نئی یونیورسٹی کی توجہ اپنی طرف مبذول کرائی۔ چودہویں صدی کے آخر تک علم یا تجارت کے میدان میں اس شہر کا کوئی اہم مقام نہ تھا لیکن پندرہویں صدی میں معاملات ڈرامائی انداز میں تبدیل ہوگئے۔ ایک شہر کی شہرت اس کے عظیم شہریوں اور دولت کی وجہ سے ہوتی ہے۔ فلورنس کی شہرت کا سبب دو انسان ہیں۔ پہلا ایک عام آدمی دانتے الگہیری (Dante Alighieri, 1265-1321) جس نے مذہبی موضوعات پر لکھا اور دوسرا شخص گیوٹو (Giotto 1267-1337) نامی فنکار جس نے زندگی کے مشابہ تصاویر بنائیں جو قدیم فنکاروں کے ذریعے بنائی گئیں تصنع آمیز تصاویر سے بالکل مختلف تھیں۔ اسی وقت سے اس شہر نے اٹلی کے سب سے اہم فکری اور فنی تخلیق کے مرکز کی حیثیت سے ترقی کی۔ ’’نشاۃ ثانیہ کا آدمی‘‘ (Man of Renaissance) کی اصطلاح عام طور پر بہت سے امور میں دلچسپی اور مہارت رکھنے والے آدمی کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ کیونکہ اس دور کے معروف لوگ بیک وقت عالم، سفیر، عالم دینیات اور فنکار تھے۔
فلورینس 1470 میں بنایا گیا ایک اسکیچ
مقام ایسی، اٹلی میں گوئٹو کے ذریعہ معصوم بچے عیسیٰ کی بنائی گئی تصویر
تاریخ کا انسان شناس (Humanist) نظریہ
صدیوں کی تاریکی کے بعد انسان شناس نظریہ کے پیرو کاروں نے ’’حقیقی تہذیب‘‘ کی بحالی کی کوشش کی۔ ان کے مطابق تاریک عہد کا آغاز رومن سلطنت کے خاتمہ کے بعد ہوا۔ ان کی اتباع کرتے ہوئے بعد کے مفکرین نے بے چوں وچرا یہ مان لیا کہ یوروپ میں نئے عہد کی شروعات چودہویں صدی سے ہوئی ہے۔ سلطنت روم کے زوال کے ہزار برس بعد ازمنۂ وسطی / عہد وسطیٰ کی اصلاح استعمال کی گئی۔ اور یہ کہا گیا کہ ازمنۂ وسطیٰ میں لوگوں کی عقلوں پر کلیسا کا اس قدر غلبہ تھا کہ رومن اور یونان کے علوم کا نام ونشان مٹ گیا۔ انسان شناس نظریہ کے پیرو کاروں نے پندرہویں صدی اور اس کے بعد عہد کے لیے ’’جدید‘‘ لفظ کا استعمال کیا ہے۔
انسان شناس اور بعد کے مفکرین کے ذریعہ مستقل ادوار میں تاریخ کی تقسیم
پانچویں سے چودہویں صدی تک از منۂ وسطیٰ
پانچویں سے نویں صدی تک تاریک ادوار
نویں گیارہویں صدی تک ابتدائی از منہء وسطی
گیارہویں سے چودہویں صدی تک اخیر از منہء وسطی
پندرہویں صدی اور اس کے بعد عہد جدید
حال ہی میں مورخین نے اس تقسیم پر سوال اٹھایا ہے۔ اس عہد کے یوروپ کے بارے میں مزیدتحقیق اور دریافت کی وجہ سے اسکا لرز صدیوں کے مابین واضح فرق کرنے میں تردد کرتے ہیں کہ ان میں سے بعض تہذیبی اعتبار سے عروج پرتھیں اور بعض اس کے برعکس۔ یہ نامناسب ہے کسی عہد پر ’’تاریک دور‘‘ کالیبل چسپاں کردیا جائے۔
سائنس اور فلاسفی
عربوں کی دین
از منہء وسطی میں راہب اور پادری بہت سی رومن اور یونانی تصنیفات سے واقف تھے۔ لیکن ان کو وسیع پیمانے پر نہیں جانا جاتا تھا۔ چودہویں صدی میں بہت سے مفکرین وعلماء یونانی مصنفین مثلاً افلاطون اور ارسطو کی تصانیف کے تراجم کو پڑھنے لگے تھے۔ اس کے لیے وہ اپنے علماء کے نہیں بلکہ ان مترجمین کے ممنون تھے جنھوں نے پرانے مخطوطات کو بڑی احتیاط سے محفوظ رکھا اور ان کا ترجمہ کیا۔ (عربی میں پلیٹو کو افلاطون اور ارسٹوٹل کو ارسطو کے نام سے جانا گیا)۔
جب یوروپی علماء یونانی اسکالرز کو عربی ترجمہ کے ذریعہ پڑھ رہے تھے۔ اس وقت یونان کے لوگ عربی اور فارسی علماء کی علمی خدمات کا ترجمہ کر رہے تھے تاکہ دوسرے یوروپی لوگوں کو مزید علمی مواد مہیا کرایا جاسکے۔ یہ علمی خدمات طبیعی سائنس (Natural Science)، ریاضی، فلکیات، طب اور کیمیا کے میدان میں تھیں۔ پٹولیمی (Ptolemy) کی الماجست (Almagest) (فلکیات سے متعلق کتاب جو 140 میں لکھی گئی تھی اور بعد میں عربی میں اس کا ترجمہ ہوا) کے ساتھ عربی کا حرف تعریف ’’ال‘‘ موجود ہے جو اس کے عربی کے ساتھ رشتے پر دلالت کرتا ہے۔ مسلم مصنفین جو دنیائے اٹلی میں مفکرین شمار کیے گئے وہ ابن سینا* (لاطینی میں اوی سینا Avicenna 980-1037) ایک عرب طبیب اور وسط ایشیا کا فلسفی) اور الرازی (Rhazes) میڈیکل انسائیکلوپیڈیا کے مصنف تھے۔ اندلس (اسپین) کے ایک عربی فلسفی ابن رشید (لاطینی میں Averroes 1126-1198) نے فلسفہ اور مذہبی اعتقادات کے درمیان کشیدگی حل کرنے کی کوشش کی۔ اس کے طریقۂ کار کو عیسائی مفکرین نے اپنایا تھا۔
*ان افراد کے ناموں کی یوروپی ہجے کی وجہ سے بعد کی نسل کو یہ لگاکہ یہ سب یوروپین ہیں۔
اس زمانے میں اسکول صرف لڑکوں کے لیے تھے۔
’’فن کائنات سے پوری طرح جڑا ہوا ہے جو کوئی اسے حاصل کرسکتا ہے۔حاصل کرے۔۔۔۔۔۔اس کے علاوہ آپ اپنے زیادہ تر کام جیومیٹری کی ذریعہ ثابت کرسکتے ہیں۔ آپ کا تخلیقی کام زندگی سے جتنا زیادہ قریب ہوگا وہ اتنا ہی حسین دکھائی پڑے گا۔۔۔۔۔۔ کوئی انسان اپنے تخیّل سے اس وقت تک خوبصورت تصویر نہیں بنا سکتا جب تک کہ اس نے زندگی کی بہت زیادہ نقل کرکے اس کو اپنے دماغ میں محفوظ نہ کر لیا ہو۔‘‘
–البریکٹ ڈیورر (Albrecht Durer 1471-1528)
ڈیورر کے ذریعہ بنائی گئی یہ پینٹنگ (عبادت کرتے ہوئے ہاتھ) ہمیں سولہویں صدی کے اٹلی کی تہذیب کا پتہ دیتی ہے۔ اس وقت لوگ کافی دیندار تھے لیکن ان کو اس بات کا کامل یقین تھا کہ انسان پائے کمال کے قریب کو حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور دنیا و کائنات کے مخفی راز کو حل کرسکتا ہے۔
انسان شناس نظریہ کے پیرو کاروں نے لوگوں سے رابطہ قائم کرنے کے لیے مختلف طریقے اپنائے۔ اگر چہ یونیورسٹیوں کے نصاب میں قانون، طب اور دینیات کا غلبہ برقرار رہا لیکن انسان شناس مضامین دھیرے دھیرے نہ صرف اٹلی بلکہ دوسرے یوروپی ممالک کے اسکولوں میں متعارف ہوئے۔
فنکار اور حقیقت پسندی
انسان شناس نظریہ کے پیرو کاروں نے اپنے عہد کے لوگوں کی ذہن سازی صرف رسمی تعلیم ہی کے ذریعہ نہیں کی بلکہ آرٹ، فن تعمیر اور کتابوں نے بھی انسان شناس افکار کو موثر بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
فنکار ماضی کی تخلیقات کے مطالعہ سے تخلیقی تحریک لے رہے تھے۔ رومن تہذیب کے مادی آثار کی چاہت اتنی ہی شدید تھی جتنی کے بچے ہوئے قدیم نقوش (Texts) کی۔ زوال روم کے ایک ہزار سال بعد، قدیم روم اور دوسرے غیر آباد شہروں کے کھنڈرات میں آرٹ کے تباہ شدہ ٹکڑے دریافت ہوئے۔ صدیوں قبل بنائی گئیں مردوں اور عورتوں کی مکمل اور مناسب سائز کی تصویروں نے اٹلی کے سنگتراشوں کو اس روایت کو برقرار رکھنے پر مجبور کر دیا۔ ڈوناٹیلو (Donatello 1386-1466) نے اپنی زندگی سے مشابہ مجسموں کے ذریعہ ایک نئے دور کا آغاز کیا۔
مائیکل اینجلوکی بنائی تصویر ’’دی پائٹا‘‘ حضرت مریم حضرت عیسٰی کو گود میں اٹھائے ہوئے
سائنسدانوں کی علمی خدمات نے فنکاروں کی تخلیق کی درستگی کے مسئلہ کا حل پیش کردیا۔ ہڈیوں کی ساخت کا مطالعہ کرنے کے لیے فنکار طبی اسکولوں کی تجربہ گاہوں میں گئے- بیلجیئم کے رہنے والے پاڈوآ یونیورسٹی (Padua University) میں ادویات کے پروفیسر اینڈریس ویسالیوس (Andreas Vesalius 1514-64) نے سب سے پہلے انسانی جسم کی چیر پھاڑ کی۔ یہ جدید علم الاعضاء (Physiology) کی شروعات تھی۔
سرگرمی 2
سولہویں صدی کے اطالوی آرٹسٹوں کے کاموں میں مختلف سائنٹفک عناصر کو بیان کیجیے۔
لیونارڈو دی ونسی (Leonardo da Vinci 1452-1519) کے ذریعہ بنائی گئی خود کی ہی تصویر ہے جو علم نباتات (Botany)، علم تشریح الا عضاء (Anatomy)، ریاضی اور آرٹ میں غیر معمولی دلچسپی رکھتا تھا۔ اس نے مونا لیزا (Mona Lisa) اور لاسٹ سپر (Last Supper) نامی تصاویر بنائیں۔
اس کا ایک خواب تھا کہ وہ فضا میں اُڑ سکے۔ اس نے سالوں تک پرندوں کے اڑنے کا مشاہدہ کیا اور اڑنے والی مشین (Flying Machine) کو ڈیزائن کیا تھا۔
وہ اپنے دستخط ’’لیونارڈو دی ونسی تجربات کا شاگرد‘‘ نام سے کرتا تھا۔
مصور اب پرانے تخلیقی کام کو نمونے کے طور پر استعمال نہیں کرتے تھے بلکہ سنگتراشوں کی طرح حقیقت پسندی سے کام لینے کی ہر ممکن کوشش کرتے تھے۔ انھیں علم ہوا کہ جیومیٹری کے علم کی وجہ سے انھیں تناسب کو سمجھنے میں مدد ملی اور سورج کی روشنی کی حرکت کا مشاہدہ کرکے انھوں نے اپنی تصاویر کو سہ ابعادی (Three-dimensional) صفت سے نوازا، پینٹنگ کی غرض سے تیل کے استعمال نے پینٹنگ کے رنگوں کو پہلے سے کہیں زیادہ مالا مال کردیا۔ بہت سے ملبوسات کے رنگوں اور ڈیزائن میں چینی اور فارسی فن کا اثر موجود ہے، جسے منگولوں نے فراہم کیا تھا (ملاحظہ ہو باب 5)۔
اس وجہ سے علم تشریح الا عضاء، جیومیٹری، طبیعیات اور خوبصورتی کیا ہے کہ جس نے اٹلی کے فن کو نیا کمال بخشا جس کو حقیقت پسندی کا نام دیا گیا۔ یہ روایت انیسویں صدی تک برقرار رہی۔
سولہویں صدی کے اٹلی کے فن تعمیر نے رومی سلطنت کے دور کی عمارتوں کی خصوصیات کی نقل کی۔
فن تعمیر
پندرہویں صدی میں روم کے شہر کی قابل دید تجدید کاری ہوئی۔ 1417 سے پوپ سیاسی طور پر طاقتور ہوگئے تھے کیونکہ 1378 میں دو حریف پوپوں کے انتخاب کی وجہ سے جو سیاسی کمزوری تھی وہ ختم ہوچکی تھی۔ انھوں نے لوگوں کو روم کی تاریخ کا مطالعہ کرنے کے لیے ابھارا۔ ماہرین آثار قدیمہ نے روم کے باقیات کی بہت احتیاط سے کھدائی کی (علم آثار قدیمہ ایک نیافن تھا)۔ اس کی وجہ سے فن تعمیر میں ایک نئے طرز کی حوصلہ افزائی ہوئی جو در حقیقت شاہی رومی طرز جسے اب کلاسیکی کہا جاتا ہے، کا احیاء تھا۔ پادریوں، مالدار تاجروں اور طبقۂ امراء نے کلاسیکی فن تعمیر سے واقف معماروں کی خدمات حاصل کیں۔ فنکار اور سنگتراش عمارتوں کو تصویروں اور مجسموں سے سنوارنے اور ان کی منبت کاری کی خاطر بلائے گئے۔
کچھ افراد مصوری، سنگتراشی اور فن تعمیر میں یکساں مہارت رکھتے تھے۔ اس سلسلے میں سب سے بہترین مثال مائیکل اینجلو بوناروٹی (Michelangelo Buonarroti 1475-1564) کی ہے۔ اس نے سسٹائن چیپل (Sistine Chapel) کے چھت کی روغن کاری پوپ کے لیے کی تھی یہ مجسمہ سازی Pieta کہلاتی ہے اور مائیکل اینجلو سینٹ پیٹرس چرچ کے گنبد کے ڈیزائن کرنے کی وجہ سے ابدی شہرت کا مالک ہو گیا۔ یہ ساری چیزیں روم میں ہیں۔ فلّپو برونیلیشی (Filippo Brunelleschi 1337-1446) ماہرفن تعمیر (معمار) جس نے فلورینس کے قابل دید گنبد (Duomo) کو ڈیزائن کیا تھا۔ اس نے اپنے تخلیقی سفر کا آغاز ایک سنگتراش کی حیثیت سے کیا تھا۔
اس دور کی ایک اہم تبدیلی یہ تھی کہ لوگ پہلے کی طرح گروپ یا انجمن پیشہ وران کے نام یا ممبر کی حیثیت سے نہیں بلکہ انفرادی طور پر مشہور ہونے لگے۔
گنبد (Duomo) ، فلورینس کیتھیڈرل کا گنبد جس کو برونیلیشی (Brunelleschi) نے ڈیزائن کیا تھا۔
لیون بٹسٹا البرٹی (Leon Batista Alberti 1404-1472) نے فن تعمیر اور فنی نظریہ کے متعلق کتابیں تحریر کیں۔ ’’میں اس کو معمار کہوں گا جو انسانیت کی فلاح و بہود کے لائق تخلیقی کاوشوں کو عظیم وزن کی حرکت اور اجسام کے اتحادو اجتماع کے ذریعہ بہترین جمال کے ساتھ تکمیل کرسکے۔‘‘
ابتدائی مطبوعہ کتابیں
اگر دوسرے ممالک کے افراد عظیم فنکاروں کی تعمیرات، مجسمے اور پینٹنگ دیکھنا چاہتے تھے تو ان کو اٹلی آنا پڑتا تھا۔ لیکن تحریر ہوئے الفاظ کی صورت میں جو اٹلی میں لکھا جاتا تھا وہ دوسرے ملکوں تک جاتا تھا۔ یہ سولہویں صدی کے سب سے بڑے انقلاب۔ طباعت کی ٹکنالوجی میں مکمل مہارت کی وجہ سے ہوا تھا۔ اس کے لیے یوروپین دوسرے لوگوں جیسے طباعت ٹکنالوجی کے لیے چینیوں اور منگول حکمرانوں کے ممنون تھے۔ کیونکہ منگولوں کے دربار میں پوروپی تاجروں اور سفیروں کی آمدورفت کی وجہ سے ہی یوروپی ان چیزوں سے واقف ہوئے (اس طرح تین اہم ایجادات آتشیں اسلحہ، پرکار اور تختہ شمار (Abacus) کے معاملے میں ہوا)۔
پہلے متن کچھ ہی لوگوں کے پاس قلمی نسخوں کی صورت میں ہوتے تھے۔ سب سے پہلے پرنٹنگ پریس بنانے والے جرمن باشندے جوہنس گٹن برگ (Johannes Gutenberg 1400-1458) کے چھاپے خانے میں بائبل کے 150 نسخے 1455 میں چھپے۔ پہلے ایک پادری بائبل کے ایک نسخے کو لکھنے میں لگ بھگ اتنا ہی وقت لے لیتا تھا۔
اٹلی میں 1500 تک بہت سے کلاسیکی متون کی طباعت ہوچکی تھی۔ یہ سبھی تقریباً لاطینی زبان میں تھے۔ مطبوعہ کتابوں کی دستیابی کی وجہ سے ان کو خریدنا ممکن تھا اور طلبہ پوری طرح لیکچر نوٹس پر منحصر نہ رہے۔ افکارو خیالات اور معلومات پہلے سے کہیں زیادہ تیزی کے ساتھ پھیلنے لگے۔ نئے افکار کی ترویج کرنے والی کتابیں سینکڑوں قارئین کے پاس جلدی سے پہنچ سکتی تھی۔ اس طرح لوگ انفرادی طور پر بھی کتابیں پڑھ سکتے تھے۔ کیونکہ اب انسان کے لیے ذاتی کتابیں خریدنا ممکن ہوگیا تھا۔ اس وجہ سے لوگوں کے پڑھنے کے شوق میں اضافہ ہوا۔
پندرہویں صدی کے آخر میں انسان شناس نظریہ کے الپس (Alps) کوہستانی علاقے سے وسیع پیمانے پر پھیلنے کی اصل وجہ یہ ہے کہ مطبوعہ کتابوں کا رواج تھا۔ اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ پہلے کی فکری تحریکیں کچھ ہی علاقوں تک کیوں محدود رہیں۔
انسان کے متعلق نیا نظریہ
انسان شناس نظریہ اور کلچر کی اہم خصوصیت یہ تھی کہ انسان کی زندگی پر مذہب کا کنٹرول ڈھیلا ہوگیا۔ اٹلی کے لوگ مادی دولت، طاقت اور شہرت کی جانب بہت زیادہ مائل تھے لیکن یہ ضروری نہیں تھا کہ یہ لوگ غیر مذہبی ہوں۔ وینس کے ایک انسان شناس نظریہ کا حامل فرانسسکو بار بیرو (Francesco Barbaro 1390-1454) نے ایک پمفلٹ لکھ کر دولت کے حصول کا دفاع کیا اور اس کو ایک خوبی قرار دیا۔ لیونزا والا (Leronzo Valla 1406-1457) جس کا خیال تھا کہ تاریخ انسان کو کامل زندگی کی خاطر جدو جہد کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ آن پلیزر (On Pleasure) میں اس نے خوشی کے خلاف عیسائی حکم کی تنقید کی ہے۔ اس وقت لوگوں کے اخلاق کو بہتر بنانے کی بھی فکر کی۔ ایک آدمی کو کس طرح تہذیب سے بات کرنی چاہیے، کس طرح کا لباس پہننا چاہیے اور مہذب انسان کو کون سی مہارتیں سیکھنی چاہئیں، ان باتوں کی طرف رہنمائی کی۔
انسان شناس نظریہ کے حامی لوگوں کا یہ بھی خیال تھا کہ افراد اپنی زندگی طاقت اور دولت کے حصول کے علاوہ دوسرے طریقوں سے سنوار سکتے تھے۔ یہ فکر اس عقیدے سے جس کے مطابق انسانی فطرت کے متعدد پہلوؤں سے میل کھاتی تھی، پر یہ خیالات تین طبقاتی نظام کے خلاف تھا جن پر جاگیرداری سماج یقین کرتا تھا۔
نکولو میکاؤلی (Niccolo Machiavelli) اپنی کتاب دی پرنس (The Prince 1513) کے پندرہویں باب میں انسانی فطرت کے بارے میں لکھتا ہے:۔
’’تخیلاتی چیزوں کو ایک طرف چھوڑ کر صرف ان ہی چیزوں کو مان کر جن کا حقیقی وجود ہے، میں کہتا ہوں کہ جب بھی آدمی کے بارے میں بحث ہوتی ہے (خاص طور پر شہزادوں کے بارے میں جن پر زیادہ نظر ہوتی ہے) تو وہ بہت سی صفات کے لیے جانے جاتے ہیں جو یا تو تعریف یا ملامت کا مستحق بناتی ہیں۔ مثال کے طور پر کچھ لوگ فیاض سمجھے جاتے ہیں اور کچھ لوگ بخیل، کچھ لوگ محسن ہوتے ہیں تو کچھ احسان قبول کرنے والے، کچھ لوگ ظالم ہوتے ہیں اور کچھ لوگ رحم دل، ایک انسان بے ایمان ہوتا ہے دوسرا ایماندار، ایک آدمی نامرد اور بزدل ہوتا ہے تو دوسرا طاقتور اور ہمت والا، ایک آدمی خوش اخلاق تو دوسرا مغرور ہوتا ہے، ایک بھولا بھالا تو دوسرا فریبی، ایک ضدی تو دوسرا نرم خو، ایک سنجیدہ تو دوسرا غیر سنجیدہ، ایک مذہبی تو دوسرا مشکوک اور اسی طرح سے۔‘‘
میکاؤلی کا یقین تھا کہ ’’تمام آدمی برے ہیں اور ہمیشہ اپنی بری فطرت کو ظاہر کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ کسی حد تک اس کا سبب یہ ہے کہ انسانی خواہشات نہ ختم ہونے والی ہیں‘‘۔ میکاؤلی کے نزدیک ہر انسانی کام کی محرک اس کی ذاتی منفعت ہے۔
عورتوں کی امنگیں
شہریت اور انفرادیت کے نئے تصور سے عورت خارج تھی۔ عوامی زندگی پر اعلیٰ خاندان کے مردوں کا غلبہ تھا اور اپنے خاندان کی قسمت کا فیصلہ بھی انھیں کے ہاتھ میں تھا۔ وہ اپنے لڑکوں کو تعلیم دیتے تھے تاکہ عام زندگی میں یا خاندانی کارو بار میں ان کی جگہ لے سکیں۔ اور چھوٹے بچوں کو کلیسا بھیجتے تھے۔ باوجود یہ کہ ان کا جہیز اپنی خاندانی تجارت میں استعمال کرتے تھے۔ عورت کو عام طور پر یہ کہنے کا کچھ بھی اختیار نہ تھا کہ ان کے شوہر اپنی تجارت کو کیسے چلائیں۔ اکثر شادیوں کا مقصد تجارتی معاہدوں کو مضبوط کرنا ہوتا تھا۔ اگر مناسب جہیز کا انتظام نہ ہو پاتا تو لڑکیوں کو راہبہ کی زندگی گزارنے کے لیے کلیسا بھیج دیا جاتا۔ درحقیقت عورت کا عوامی کردار محدود تھا۔ بنیادی طور پر اسے گھر کے محافظ اور نگراں کی حیثیت سے دیکھا جاتا تھا۔
تاجروں کے یہاں عورتوں کی حالت اگر چہ کچھ مختلف تھی۔ دکانداروں کی عورتیں دکان چلانے میں اکثر ان کی معاون ہوتی تھیں۔ ساہوکار اور تاجر جب کام کی غرض سے باہر جاتے تو ان کی عورتیں گھریلو تجارت کی دیکھ بھال کرتی تھیں۔ اور جب کسی تاجر کی وفات جلدی ہو جاتی تو اس کی بیوہ کو اعلیٰ خاندان کے مقابلے میں زیادہ عوامی کردار ادا کرنے پڑتے تھے۔
انسان شناسی میں تعلیم کی اہمیت سے متعلق کچھ عورتیں فکری اعتبار سے کافی حساس اور تخلیقی قوت کی حامل تھیں۔ وینیٹین کیسنڈرا فیڈل (Venetian Cassandra Fedele 1465-1558) نے لکھا ہے کہ ’’گر چہ تعلیم عورت کو کوئی انعام اور معزز عہدہ دینے کا وعدہ نہیں کرتی پھر بھی عورت کو تعلیم حاصل کرنا اور اسے گلے لگانا ضروری ہے۔‘‘وینیٹین کیسنڈرا فیڈل ان عورتوں میں سے ایک تھیں جنھوں نے اس تصور پر کہ ’’عورت انسان شناس اسکالر کی خصوصیات سے عاری ہے،سوال اٹھایا تھا۔ فیڈل لاطینی اور یونانی میں اپنی مہارت کے لیے جانی جاتی تھی۔ اور پڈوآ یونیورسٹی (University of Padua) میں لیکچر دینے کے لیے مدعو کی گئی تھی۔

بال تھاسر کاسٹگ لیون (Balthasar Castiglione) مولف وسفیر، اس نے اپنی کتاب کورٹیئر (The Courtier 1528) میں لکھا ہے:
’’جہاں تک عورت کے طور طریقے، بات چیت، اشارات وکنایات اور رویہ کا تعلق ہے، میں سمجھتا ہوں کہ اس کو کسی بھی طرح مرد کے مشابہ نہیں ہونا چاہیے۔ چنانچہ یہ انصاف بہت ہی معقول ہے کہ آدمی ایک ہوشمند اور قومی شجاعت کو پیش کرتا ہے۔ اس لیے عورت کے لیے بہتر ہے کہ وہ اتنی ہی زیادہ نرم اور لطیف نزاکت کی مالک ہو نیز اس کی ہر حرکت میں نسوانیت کی مٹھاس ہو۔ اس کے اٹھنے اور بیٹھنے میں بلکہ ہر عمل سے یہ ظاہر ہو کہ وہ عورت ہے اور مردوں سے کوئی مشابہت نہیں ہے۔ اگر ان اصول اخلاق کو ان قوانین میں شامل کرلیا جائے جو ان شریف لوگوں نے درباریوں کو سکھائے ہیں تو میں سمجھتا ہوں کہ عورت کو اس قابل ہونا چاہیے کہ ان میں سے بہت کا استعمال کرسکے اور اپنے آپ کو عمدہ تہذیب سے آراستہ کرسکے۔ کیونکہ میرے خیال میں بہت سے ذہنی فضائل عورتوں کے لیے بھی اتنے ہی اہم ہیں جتنے مردوں کے لیے، جیسے ایک اچھے خاندان سے ہونا تصنع سے بچنا، فطری حسین، اخلاقِ حسنہ، چالاک اور ہوشیار ہونا نہ تو حسد وغرور پایا جاتا ہو اور نہ ہی بد زبانی وخود نمائی عورتوں کے لائق کھیل کود اچھی طرح اور خوبصورتی کے ساتھ کھیل سکتی ہو۔
فیڈل کے یہ خیالات اس عہد کے عام تعلیمی تصور پر روشنی ڈالتے ہیں۔ یہ ان وینیٹین (Venetian) عورتوں میں سے ایک تھیں جنھوں نے جمہوریت پر اس وجہ سے تنقید کی تھی کہ اس سے آزادی کا ایک بہت ہی محدود مفہوم ابھر کر سامنے آتا تھا جو عورتوں کے خلاف اور مردوں کے حق میں تھا۔ دوسری قابل ذکر عورت مینٹوآ کی مارچیسا ازا بیلاڈی ایسٹے (Marchesa of Mantua Isabella d'Este 1474-1539) تھی جو اپنے شوہر کی عدم موجودگی میں حکومت کرتی تھی۔ اور مینٹوآ جو ایک چھوٹی سی ریاست تھی اس کے دربار کو چلاتی تھی۔ یہ اپنی عقلی ذکاوت کی وجہ سے کافی مشہور تھی۔ عورتوں کی تحریروں سے ان کے یقین کلّی کا پتہ چلتا ہے کہ مردوں کے زیر تسلط دنیا میں اپنی شناخت قائم کرنے کے لیے انھیں اقتصادی طاقت، جائیداد اور تعلیم کی کتنی ضرورت ہے۔
سرگرمی 3
ایک عورت (فیڈل) کے ذریعہ عورتوں کی اور ایک مرد (کیسٹی گیلون) کے ذریعہ مردوں کی خواہشات کا موازنہ کیجیے۔ کیا ان کے ذہن میں صرف عورتوں کی کوئی مخصوص جماعت تھی؟
عیسائیت کے اندر مباحث
تجارت اور سیاست، فوجی فتوحات اور سفارتی تعلقات نے اٹلی کے قصبوں اور محکموں کو باہر کی دنیا سے جوڑ رکھا تھا۔ مالدار اور تعلیم یافتہ طبقہ نئے تمدن کو سراہتا تھا اور اس کی نقالی کرتا تھا۔ لیکن عام آدمی جو لکھ پڑھ نہیں سکتا تھا اس کے اندر کچھ ہی نئے خیالات داخل ہو پائے تھے۔
پندرہویں اور سولہویں صدی کے آغاز میں شمالی یوروپ میں بہت سے یونیورسٹی کے اسکالرز انسان شناس تصورات کے گرویدہ ہو گئے۔ اپنے اٹلی کے ساتھیوں کی طرح انھوں نے بھی عیسائیوں کی مقدس کتابوں کے ساتھ کلاسیکی یونانی اور رومن متون پر روشنی ڈالی۔ لیکن اٹلی کے برخلاف جہاں انسان شناس تحریک پر پیشہ ور اسکالرز کا غلبہ تھا، شمالی یوروپ میں انسان شناس کلیسا کے ممبران کو اپنی طرف کھینچ رہے تھے وہ اس بات کی دعوت دے رہے تھے کہ وہ مذہبی رسومات قدیم متن کے مطابق ادا کریں اور غیر ضروری رسومات جو ان کے مطابق ایک سادہ مذہب میں در آئی تھیں ان کو ترک کردیں۔ انسانوں کے متعلق ان کا ایک بالکل نیا نظریہ تھا کہ وہ آزاد اور ذی العقول کارکنان ہیں۔ ایک بعید خدا ہے جس نے آدمی کو تخلیق کیا ہے اور دونوں جہاں کی سعادت و خوشی حاصل کرنے کے لیے اس نے اسے آزاد زندگی جینے کی مکمل آزادی دی ہے۔ اس عقیدے سے متاثر ہو کر بعد کے فلسفیوں نے اس نظریہ کی طرف با ر بار توجہ کی۔
مسیحی انسان شناسی کے علمبرداروں مثلاً انگلینڈ کے تھامس مور (Thomas More 1478-1535) اور ہالینڈ کے اراس مس (Erasmus 1466-1536) نے سوچا کہ کلیسا عوام سے خواہش کے مطابق پیسہ وصول کرنے اور لالچ کا ادارہ بن کر رہ گیا ہے۔ اور پادریوں کامحبوب مشغلہ بخشش نامہ (Indulgences Documents) بیچنا ہے جو خریدار کے لیے بظاہر کردہ گناہوں کے بوجھ کا کَفّارہ سمجھا جاتا تھا۔ اسی طرح مقامی زبانوں میں چھپے بائبل کے ترجمے سے مسیحیوں کو محسوس ہوا کہ ان کے مذہب میں دھوکہ دھڑی اور لوٹ کھسوٹ کے لیے کوئی اجازت اور جگہ نہیں ہے۔
تقریباً یوروپ کے تمام حصوں میں کلیسا کی جانب سے عائد کیے گئے ٹیکسوں کے خلاف کسانوں نے بغاوت شروع کردی۔ دریں اثنا عوام پادریوں کے بالجبر استحصال کو برا مانتے تھے۔ شہزادے خستہ حال ریاستوں کے امور میں دخل اندازی کرتے تھے۔ عوام کو اس وقت خوشی محسوس ہوئی جب انسان شناس علمبرداروں نے یہ واضح کیا کہ عدلیہ اور مالی اختیارات جو پادریوں کو ایک دستاویز کے ذریعہ ملے ہیں جس دستاویز کو ’’کونسٹینٹائن کا عطیہ‘‘ (Donation of Constantine) کہا جاتا ہے، ایسے دستاویز جاری کرنے کا اختیار کانسٹینٹائن نے دیا تھا جو پہلا عیسائی رومن باشندہ تھا۔ انسان شناس مفکرین نے یہ نشاندہی کی کہ دستاویز اصلی نہیں ہیں اور ان میں بعد میں جعل سازی کی گئی ہے۔
1517 میں ایک نوجوان جرمن راہب مارٹن لوتھر (Martin Luther 1483-1546) نے کیتھولک کلیسا کے خلاف مہم چلائی اور یہ استدلال کیا کہ ایک شخص کو خدا سے رابطہ قائم کرنے کے لیے پادریوں کی کوئی حاجت نہیں ہے۔ اس نے اپنے متبعین سے خدا پر مکمل ایمان رکھنے کا مطالبہ کیا۔ کیونکہ ان کی نگاہ میں صرف ایمان ہی سچی زندگی اور جنت کی رہنمائی کرسکتا تھا۔ اس تحریک کو ’’احتجاجی اصلاح‘‘ (The Protestant Reformation) کہا گیا۔ یہ تحریک جرمنی اور سوئزرلینڈ کے کلیسا کے پوپ اور کیتھولک کلیسا کے ساتھ رشتوں کے ٹوٹنے کا سبب بنی۔ سوئزرلینڈ میں لوتھر کے افکار کو پہلے الرچ زوئنگلی (Ulrich Zwingli 1484-1531) نے اور بعد میں جین کالون (Jean Calvin 1509-1564) نے رواج دیا۔ تاجروں کے تعاون سے مصلحین نے قصبوں میں کافی مقبول اپیل کی جبکہ دیہاتوں میں کیتھولک کلیسا نے اپنے اثرور سوخ کو برقرار رکھنے کا بندوبست کیا۔ دوسرے جرمن مصلحین مثلاً انابیٹپسٹس (Anabaptists) اور زیادہ بنیادی اصلاحات کے قائل تھے۔ وہ نجات کے تصور کو سماجی ظلم و جور کی تمام شکلوں کے خاتمے سے جوڑتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ چونکہ خدا نے تمام انسانوں کو برابر بنایا ہے اس لیے ان سے ٹیکس ادائیگی کی توقع نہیں کی جاسکتی نیز انھیں خود کا پادری منتخب کرنے کا اختیار ہونا چاہیے۔ جاگیرداریت کے مظالم کا شکار کاشتکاروں کو ان خیالات نے متاثر کیا۔
ولیم ٹینڈل (William Tyndale 1494-1536) ایک انگریز لوتھر کا پیرو (پروٹسٹنٹ) جس نے 1506 میں بائبل کا انگریزی میں ترجمہ کیا تھا۔ پروٹسٹنٹ ازم کا دفاع یوں کرتا ہے: بالآخر اس پر سبھی متفق ہوں گے کہ وہ تمہیں بائبل کی تعلیمات سے پھیر دیں گے اس طرح کے تمہارے پاس اس کا متن مادری زبان میں نہ ہوگا۔ اور دنیا کو بھی تاریکی میں رکھیں گے۔ جھوٹے عقائد اور فضول ہام پرستی کے ذریعہ وہ قصداً لوگوں کے ضمیر میں بیٹھ جائیں گے۔ اور ان کی یہ خواہش ہوگی کہ وہ اپنی عظمت کو راجہ اور بادشاہ بلکہ خدا سے بھی برتر رکھیں۔ اس چیز نے مجھے نئے عہد نامے کے ترجمہ پر ابھارا۔ کیونکہ تجربے نے مجھے بتادیا تھا کہ عام لوگوں کے ذہن میں سچائی کو بٹھانا اس وقت ممکن ہے جب اس کتاب کا سلیس ترجمہ ان کی مادری زبان میں ان کے سامنے ہو تا کہ وہ متن کے نظم وضبط اور مفہوم کو سمجھ سکیں۔
عہد نامہ جدید بائبل کا جزو ہے جس میں عیسیٰ مسیح کی زندگی و تعلیمات اور ان کے پیروکاروں کا ذکر ہے۔
لوتھر نے انقلابی سیاست (Radicalism) کی تائید نہیں کی۔ اور 1525 میں کسانوں کی بغاوت کو کچلنے کے لیے جرمنی کے حکمراں کو ابھارا۔ لیکن انقلابی سیاست باقی رہی اور فرانس میں احتجاجی مسیحیوں (Protestants) سے جنھیں کیتھولک حکمرانوں نے کافی ایذائیں پہنچائی تھیں، سے جا ملی۔ انھوں نے مطالبہ شروع کیا کہ آدمی کو یہ حق ملنا چاہیے کہ وہ کسی ظالم حکمراں کو ہٹا کر من پسند حکمراں کو منتخب کرسکے۔ آخر کار یوروپ کے دوسرے حصوں کی طرح فرانس میں بھی کیتھولک کلیسا نے احتجاجی مسیحیوں کو اپنے حساب سے عبادت کرنے کی اجازت دے دی۔ انگلینڈ میں حکمرانوں نے پوپ سے قطع تعلق کر لیا۔ اس کے بعد سے کلیسا کا صدر راجہ یا رانی میں سے کوئی ہوتا تھا۔
کیتھولک کلیسا بذات خود ان افکار کے اثرات سے محفوظ نہیں رہا اور اپنے اندر اصلاح شروع کردی۔ اسپین اور اٹلی میں پادری سادہ زندگی کی ضرورت اور غریبوں کی خدمت پر زور دینے لگے۔ اسپین میں اگناٹیس لویولا (Ignatius Loyola) نے احتجاجی مسیحیوں سے لڑائی کی ایک کوشش کے لیے 1540 میں جیسس سوسائٹی (Society of Jesus) بنائی۔ اس کے متبعین جیسوئٹ (Jesuits) کہلائے۔ ان کا مقصد غربیوں کی خدمت اور اپنی معلومات کو دوسری ثقافتوں میں وسعت دینا تھا۔
سرگرمی 4
وہ کون سے مدعے تھے جن کو لے کر پروٹسٹنٹ کیتھولک کلیسا پر تنقید کرتے تھے؟
سولہویں اور سترہویں صدی
1516 تھامس مور (Thomas More) کی اٹوپیا (Utopia) کی اشاعت کی۔
1517 مارٹن لوتھر نے ’’پچانوے (95) مقالے‘‘ تحریر کیے۔
1522 مارٹن لوتھر نے بائبل کا ترجمہ جرمن زبان میں کیا۔
1525 جرمنی میں کسانوں کی بغاوت ۔
1543 اینڈریس ویسالیوس (Andreas Vesalius) نے آن اناٹومی (On Anatomy) کتاب تحریر کی۔
1559 انگلینڈ میں اینگلیکن چرچ (Anglican Church) کا قیام جس کے صدر راجہ یا رانی بنائے گئے۔
1569 گرہارڈس مرکیٹر (Gerhardus Mercator) نے دنیا کا پہلا اسطوانی نقشہ بنایا۔
1582 گریگورین (Gregorian) کیلنڈر کو پوپ گریگوری (Gregory-XIII) نے متعارف کرایا۔
1628 ولیم ہاروے (William Harvey) نے دل کا رشتہ دوران خون سے جوڑا۔
1673 پیرس میں سائنس اکیڈمی کا قیام عمل میں آیا۔
1687 اسحاق نیوٹن (Isaac Newton) نے پرنسپیا میتھ میٹیکا (Principia Mathematica) شائع کی۔
کوپر نیکن (Copernican) انقلاب
آدمی کے گنہگار ہونے کے عیسائی نظریہ پر بھی سائنسدانوں نے مختلف انداز سے سوالات اٹھائے۔ یوروپی سائنس کا نقطہ انقلاب مارٹن لوتھر کے ہم عصر کوپر نیکس (Copernicus 1473-1543) کی تحقیق تھی۔ مسیحیوں کا یہ عقیدہ تھا کہ زمین گناہوں کی آما جگاہ ہے اور گناہ کے بھاری بوجھ نے اسے ناقابل حرکت بنا دیا ہے۔ زمین کائنات کے درمیان واقع ہے جس کے گرد فلکی سیارے گردش کرتے رہتے ہیں۔
سیلیسٹیل (Celestial) کے معنی ہیں آسمانی یا جنّتی جبکہ ٹیریسٹریل (Terrestrial) کا مطلب ہے دنیاوی خصوصیت۔
کوپر نیکس نے اس بات پر زور دیا کہ سیارے بشمول زمین سورج کے گرد چکر لگاتے ہیں۔ مخلص کوپر نیکس کو مقلد پادریوں کی طرف سے اپنے نظریہ پر ممکن رد عمل کا خوف لاحق تھا۔ اس لیے اس نے اپنے مسودہ De-revolutionibus (گردش The Rotation) کو چھپوانا نہیں چاہا اور مرتے وقت اسے اپنے پیرو کار جوشم رہٹیکس (Joachim Rheticus) کو دے دیا۔ اس نظریہ کو تسلیم کرنے میں لوگوں نے کافی وقت لیا۔ جو ہنس کیپلر (Johannes Kepler 1571-1630) اور گیلیلیو گالیلی (Galileo Galilei 1564-1642) جیسے ہیئت دانوں نے جنت اور زمین کے مابین اختلافات کو کافی تاخیر (زائد از نصف صدی) حل کیا۔ یہ نظریہ کہ زمین نظام شمسی کا حصہ ہے، کو کیپلر کی کوسموگرافیکل مسٹری (Cosmographical Mystery) سے شہرت ملی۔ اس میں ثابت کیا گیا کہ سیارے سورج کے گرد گول چکر نہیں بلکہ بیضوی شکل میں چکر لگاتے ہیں۔ گیلیلیو نے متحرک دنیا کے متعلق اپنے نظریہ کو اپنی کتاب میں گردش سے تعبیر کیا۔ اسحاق نیوٹن کے نظریہ کشش سے سائنس کا یہ انقلاب اپنے عروج کو پہنچ گیا۔
کوپرنیکس کی بذات خود بنائی اپنی تصویر
مطالعہ کائنات
گیلیلیو (Galileo) نے یہ محسوس کیا کہ بائبل جو جنت کی طرف رہنمائی کرتی ہے جنت کے کام کے بارے میں زیادہ معلومات فراہم نہیں کرتی۔ مفکرین کے ان اعمال سے ظاہر ہوتا ہے کہ علم جوکہ اعتقاد سے جدا ہے اس کی بنیاد مشاہدہ اور تجربات تھے۔ جب ایک بار ان سائنسدانوں نے راستہ دکھادیا تو علم حیاتیات، کیمیا اور طبیعیات میں وسیع پیمانے پر تحقیقات اور تجربے ہوئے مورخین نے طبیعی اور انسانی علوم تک نئی رسائی کو سائنٹیفک انقلاب کا نام دیا۔
اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مُتشکلّین اور ملحدین نے خدا کے بجائے فطرت کو تخلیق کا مصدر تصور کیا۔ حتٰی کہ وہ لوگ جو خدا پر ایمان رکھتے تھے ایک ایسے بعید خدا کے بارے میں بولنے لگے جو بالواسطہ مادی دنیا کی زندگی کو منظم کرتا ہے۔ اس طرح کے تصورات سائنٹیفک انجمنوں کے ذریعہ رواج دیے گئے تھے۔ اس سے زمینداروں کے درمیان ایک سائنٹیفک تہذیب وجود میں آئی۔ پیرس اکیڈمی کا قیام 1670 اور لندن رائل سوسائٹی (Royal Society) برائے ترقی علم طبیعی کا قیام 1662 میں ہوا۔ ان انجمنوں نے لیکچرز دلوائے اور رائے عامہ پر تجربات کروائے۔
کیا چودہویں صدی میں یوروپ میں نشاۃ ثانیہ ہوئی؟
اب ہم نشاۃ ثانیہ کے نظریہ پر نظر ثانی کریں گے۔ ہم کیسے کہہ سکتے ہیں کہ یہ دور ماضی سے قطع تعلق کی ایک نمایاں علامت ہے۔ اور یونانی و رومن روایات سے خیالات کا دوبارہ جنم ہوا؟ کیا پہلا دور (بارہویں اور تیرہویں صدی) تاریک دور تھا؟
حالیہ قلمکاروں جیسے انگلینڈ کے پیٹر برک (Peter Burke) نے خیال ظاہر کیا ہے کہ برک ہارٹ (Burckhardt) نے اس دور اور اس سے پہلے کے دور میں واضح فرق کے بیچ مبالغہ سے کام لیا ہے۔ نشاۃ ثانیہ اصطلاح کے استعمال کے ذریعہ یہ دلالت کی جاتی ہے کہ یونانی اور رومن تہذیبیں اس زمانے میں دوبارہ جنم لے رہی تھیں۔ اور اس دور کے مفکرین اور ماہرین فن نے مسیحیت کے قبل کے عہد کو دنیائے مسیحیت کے نظریہ کے متبادل بنا دیا تھا۔ یہ دونوں ہی دلائل مبالغہ آمیز تھے۔ پہلے کی صدیوں کے مفکرین یونانی اور رومن کلچر سے واقف تھے اور مذہب لوگوں کی زندگی کا ایک مستقل اور اہم جزو تھا۔
نشاۃ ثانیہ بطور عملی قوت اور فنکارانہ تخلیق اور اس کے برخلاف عہد وسطیٰ بطور اُداسیت وتاریکی کے دور اور ترقی کے فقدان کا زمانہ تھا۔ یہ رائے بڑی سطحی لگتی ہے۔ اٹلی میں بارہویں اور تیرہویں صدی میں نشاۃ ثانیہ کے ساتھ بہت سے عوامل کو تلاش کیا جاسکتا ہے کچھ مورخین نے یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ نویں صدی میں فرانس میں اسی طرح کی ادبی اور فنکارانہ سرگرمیاں پروان چڑھ رہی تھیں۔
اس زمانے میں یوروپ میں ثقافتی تبدیلیاں صرف یونان اور روم کی کلاسیکی تہذیب کی طرح نہ تھیں۔ رومن تہذیب کی اثریاتی اور ادبی باز یابی نے اس تہذیب کے لیے بڑی چاہت پیدا کی۔ لیکن ایشیائی ٹیکنالوجی اور کاریگری یونان اور روم سے بہت آگے بڑھ چکی تھی۔ دنیا کے کافی حصے ایک دوسرے سے مربوط ہوگئے تھے۔ جہاز رانی کی نئی تکنیک نے سفر سے لوگوں کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ ممکن بنا دیا تھا (ملاحظہ ہو باب 8)۔ اسلام کی اشاعت اور مغلوں کی فتوحات نے ایشیا اور شمالی افریقہ کو یوروپ سے نہ صرف سیاست بلکہ تجارت سے بھی جوڑ دیا تھا۔ یوروپ کے لوگوں نے صرف یونان اور روم ہی نہیں بلکہ ہندوستان، عرب، ایران، وسط ایشیا اور چین سے سیکھا۔ لیکن یہ احسان زیادہ دنوں تک تسلیم نہیں کیا گیا، کیونکہ جب اس عہد کی تاریخ لکھی جانے لگی تو مورخین نے اسے یوروپی نظریہ سے دیکھا۔
اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ یہ تھا کہ ’’ذاتی‘‘ اور ’’عوامی‘‘ زندگی کے دائرے ایک دوسرے سے جدا ہونے لگے۔ عوامی دائرہ کا مطلب سرکاری علاقے اور سرکاری مذہب اور ذاتی دائرہ کا مطلب تھا خاندان اور ذاتی مذہب فرد کو ذاتی کردار کے ساتھ عوامی کردار بھی نبھانا تھا۔ وہ تین طبقات میں سے صرف ایک کا ممبر ہی نہیں بلکہ ایک ایسا فرد ہوتا تھا جس کے اپنے حقوق تھے۔ ایک فنکار، انجمن پیشہ وران کا ممبر ہی نہیں بلکہ اپنی ذات سے بھی جانا جاتا تھا۔ اس تصور کے پیش نظر کہ تمام افراد کو سیاسی مساوی حقوق حاصل ہیں۔ اٹھارہویں صدی میں انفرادیت کا یہ تصور سیاسی شکل اختیار کرنے لگا۔
اس دور میں دوسری ترقی یہ ہوئی کہ یوروپ کے مختلف علاقوں میں اپنی الگ شناخت کا تصور پیدا ہونے لگا جن کی بنیاد زبان پر تھی۔ چنانچہ فرانسیسی بولنے والوں نے سمجھا کہ فرانس اس انگلینڈ سے الگ ہے جہاں انگریزی اسپینی زبان بولی جاتی ہے۔ نیز وہ یوروپ جو ابتداء میں رومی سلطنت اور بعد میں لاطینی اور مسیحیت کے واسطے جزوی طور پر متحد تھا ایسے صوبوں میں تقسیم ہونے لگا جنھیں مشترکہ زبان ایک دوسرے سے متحد کر رہی تھی۔
مشق
مختصر جواب دیں
1۔ یونان اور رومن ثقافت کے کن عناصر کی تجدید چودہویں اور پندرہویں صدی میں ہوئی تھی؟
2۔ اس دور کے اٹلی کے فن تعمیر کا تفصیلی موازنہ اسلامی فن تعمیر سے کیجیے۔
3۔ انسان دوستی کے تصورات کا پہلا تجربہ اٹلی کے شہروں میں کیوں ہوا؟
4۔ اچھی حکومت کے وینس کے تصورات کا موازنہ ہم عصر فرانس میں موجود تصورات سے کیجیے۔
مختصر مضمون لکھیے
5۔ انسان شناس خیالات کی کیا خصوصیات ہیں؟
6۔ بااحتیاط لکھئے کہ کس طرح سترہویں صدی کے یوروپیوں سے مختلف دنیا کا ظہور ہوا؟