Skip to content
Tareekh-e-alampermabnimauzat

باب 8


تہذیبوں کا تصادم

(Confrontation of Culture)


اس باب میں پندرہویں صدی سے سترہویں صدی کے دوران یوروپیوں اور امریکیوں کے مابین پیش آنے والے تصادم کے کچھ پہلوؤں کا تجزیہ کیا جائے گا۔ کچھ یوروپیوں نے تجارت کے راستوں کی تلاش میں نا معلوم سمندروں کا خطرناک مہم جو سفر ان علاقوں کا پتہ لگانے کے لیے کیا جہاں سے مصالحہ اور چاندی حاصل کی جاتی تھی۔ اس طرح کے کام سب سے پہلے اسپینیوں اور پرتگالیوں نے سر انجام دیے۔ انھوں نے پوپ کو اس بات پر رضا مند کرلیا تھا کہ وہ جن علاقوں کا سراغ لگائیں گے ان پر حکومت کرنے کا مکمل حق ان ہی کا ہوگا۔ کرسٹوفر کولمبس نے، جو اٹلی کا باشندہ تھا اور جس کی اسپین کے حکمرانوں نے کفالت کی تھی، 1492 میں سمندر کے راستے سے مغرب کی طرف سفر کیا۔ اور جس سرزمین تک وہ پہنچا اسے اس نے ’انڈیز‘‘ (Indies) (ہندوستان اور اس کے مشرق میں واقع ممالک، جن کے بارے میں اس نے مارکوپولو کے سفرنامہ میں پڑھا تھا) سمجھا۔
بعد کی تحقیق و تلاش سے پتہ چلا کہ ’’نئی دنیا‘‘ کے ’’انڈینز‘‘ (Indians) درحقیقت مختلف تہذیبی جماعتوں سے تعلق رکھتے تھے اور وہ ایشیا کا حصہ نہیں تھے۔ امریکہ میں دو طرح کی تہذیبوں کا پتہ چلا برازیل اور کیریبین (Caribbean) علاقے میں چھوٹی چھوٹی معیشت موجود تھیں اور اس کے علاوہ وہاں کافی ترقی یافتہ کاشتکاری اور کان کنی کی بنیاد پر قائم طاقتور بادشاہی نظام موجود تھا۔ مرکزی امریکہ کے ایزٹیک (Aztecs) اور مایا (Mayas) اور پیرو (Peru) کے انکا (Incas) نسل کے لوگوں کی طرح یہ لوگ بھی یاد گاری فن تعمیر کے مالک تھے۔
تحقیق و تلاش بعد ازاں جنوبی امریکہ کی نو آباد کاری وہاں کے باشندوں اور ان کی تہذیبوں کے لیے مہلک نتائج کی شکل میں ظاہر ہوئی۔ بہت سے غلاموں کی تجارت کا سلسلہ شروع ہوا۔ چنانچہ یوروپی ممالک کے لوگوں نے افریقہ سے ایسے غلاموں کو فروخت کرنے کا سلسلہ شروع کیا جو امریکہ کی کانوں اور کھیتوں میں کام کر سکیں۔
امریکیوں پر یوروپیوں کی فتوحات کے ساتھ ہی ان کے محفوظات اور یادگاروں کی بے رحم تباہی کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ بالآخر انیسویں صدی کے آخر میں ماہرین انسانیات (Anthropologists) نے ان تہذیبوں اور ثقافتوں کے مطالعہ کا کام شروع کیا۔ اس کے بعد ماہرین آثار قدیمہ کو ان تہذیبوں کے کھنڈرات ملے۔ 1911 میں ماچوپچو (Machu Picchu)  کے اِنکا شہر کو ازسرنو دریافت کر لیا گیا۔ حال ہی میں فضا سے لی گئی تصاویر میں بہت سے ایسے شہروں کے نشانات و آثار ملے ہیں جو اب جنگلات سے ڈھکے ہوئے ہیں۔ اس کے برعکس اس تصادم کے یوروپی پہلو کو ہم زیادہ تفصیل سے جانتے ہیں۔ وہ یوروپی لوگ جو امریکہ جاتے تھے اپنے اسفار سے متعلق لاگ بک (Log-Book) (سیاح/جہاز کا روزنامچہ) اور ڈائریاں (Diaries) رکھتے تھے۔ افسران اور یسوعی مشنریوں کے چھوڑے ہوئے دستاویزات بھی ہیں (ملاحظہ ہو باب7)۔ یوروپیوں نے امریکہ کے بارے میں اپنی ’’دریافت‘‘ سے متعلق لکھا ہے۔ اور جب امریکہ کے ممالک کی تاریخیں قلمبند کی گئیں تو یہ یوروپی نوآباد کاری ہی سے متعلق تھیں۔ جن میں ملکی باشندوں کا تذکرہ بہت معمولی ہے۔  
شمالی و جنوبی امریکہ اور قرب و جوار کے جزیروں میں لوگ ہزاروں سال سے آباد ہیں۔ اور مدت تک ایشیا نیز جنوبی سمندری جزیروں سے ہجرت کا سلسلہ چلتا رہا ہے۔ جنوبی امریکہ گھنے جنگلات اور پہلاڑوں کا ایک سلسلہ تھا (آج بھی مختلف حصوں میں یہ چیزیں دیکھی جاسکتی ہیں)۔ اور آمیزن (Amazon) جو دنیا کی سب سے لمبی ندی ہے، میلوں تک گھنے جنگلات سے ہو کر بہتی ہے۔ مرکزی امریکہ کے اندر میکسیکو میں ساحل سمندر کے قریب اور میدانوں میں گھنی آبادیاں تھیں۔ جبکہ دوسری جگہوں پر جنگلی علاقوں میں جہاں تہاں گاؤں بکھرے پڑے تھے۔

کیریبین اور برازیل کی اقوام

اراوا کی لوکایو (Arawakian Lucayos) قوم کیربین سمندر کے سینکڑوں چھوٹے چھوٹے جزیروں کے مجموعہ پر آباد تھی جنہیں آج بہاماس (Bahamas) اور گریٹر اینٹلس (Greater Antiles) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ لیسرانیٹلس (Lesser Antilles) میں انہیں کیریبیوں نے نکال بھگایا تھا جو ایک طاقتور قبیلہ تھا۔ ان کے برعکس اراواک ایسے لوگ تھے جو تصادم کے مقابلے گفت و شنید کو ترجیح دیتے تھے۔ وہ کشتیاں بنانے میں ماہر تھے۔ چنانچہ انھوں نے کندہ کشتی (Dugocit Canoes)، (کندہ کشتی درخت کے کھوکھلے تنوں سے بنائی جاتی ہے) کی مدد سے کھلے سمندر کا سفر طے کیا۔ ان کے گذربسر کا ذریعہ شکار، مچھلیاں اور کاشتکاری تھی اور وہ اناج، میٹھے آلو، گنٹھے (Tubers) اور کاساوا (Cassava) اگایاکرتے تھے۔

TC8-1
نقشہ 1: مرکزی امریکہ اور کیریبین جزائر

مظاہر پرستوں کا یقین ہے کہ جن مادی اشیاء کو آج کی جدید سائنس بے روح مانتی ہے ان میں بھی زندگی یا روح ہو سکتی ہے۔

غذا کو مشترکہ طور پر پیدا کرنے اور قوم کے ہر فرد کو کھانا فراہم کرنے کے لیے مرکزی تہذیبی قدر ہی لوگوں کی ایک واحد تنظیم تھی۔ وہ قبیلوں کے اکابرین کی قیادت میں منظم تھے۔ تعدد ازدواج ایک عام بات تھی۔ اراواک مظاہر پرست (Animists) تھے اور دوسرے کئی سماجوں کی طرح یہاں بھی کاہن معالجین (Shamans) اور اس دنیا اور مافوق الفطرت جہان کے مابین ثالث کی حیثیت سے ایک اہم کردار ادا کرتے تھے۔

سرگرمی 1

اراواکوں اور اسپینوں کے مابین اختلافات پر بحث کیجیے ان میں سے کون سے اختلافات کو آپ سب سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں اور کیوں؟

اراواک زیورات کے لیے سونے کا استعمال کرتے تھے۔ لیکن اس دھات کو وہ اتنی اہمیت نہیں دیتے تھے جتنی اہمیت اسے یوروپی لوگ دیتے تھے۔ یوروپی لوگوں کے ذریعہ لائے گئے شیشے کی موتیوں کو وہ سونے کے عوض بخوشی قبول کر لیتے تھے۔ کیونکہ یہ کہیں زیادہ خوبصورت نظر آتے تھے۔ بُنائی کا فن کافی ترقی پا چکا تھا۔ اور جالی دار جھولا (Hammock) بنانے میں وہ خاص طور پر ماہر سمجھے جاتے تھے جو یوروپی لوگوں کے ذہن و دماغ کو مسحور کر دیتا تھا۔
اراواک بہت شریف النفس تھے۔ اور سونے کی تلاش میں اسپینیوں کا تعاون کرنے میں خوشی محسوس کرتے تھے۔ جب اسپینیوں کی پالیسی سفاکی پر اتر آئی تو وہ اپنا دفاع کرنے پر مجبور ہو گئے لیکن اس کے بھی ان کے لیے مہلک نتائج برآمد ہوئے۔ اسپینیوں سے رابطہ قائم ہونے کے بعد پچیس سالوں کے اندر اندر اراواکوں اور ان کے طرز زندگی میں سے بہت کچھ ضائع ہو چکا تھا۔
توپی نامبا (Tupinamba) کے نام سے جانے جانے والے لوگ جنوبی امریکہ کے مشرقی ساحل پر اور جنگلات (برازیل نام ’برازیل درخت‘ سے مشتق ہے) میں واقع گاؤں میں رہتے تھے۔ وہ کاشتکاری کے لیے گھنے جنگلات کو صاف نہ کر سکے کیونکہ لوہے تک ان کی رسائی نہ تھی۔ لیکن وہ صحت مند تھے اور ان کے پاس پھلوں، سبزیوں اور مچھلیوں کی وافر مقدار ہوتی تھی۔ اس لیے ان کا انحصار صرف کاشتکاری پر نہیں تھا جو یوروپی ان سے ملتے تھے۔ وہ ان کی اس آزادی پر رشک کرتے تھے، جہاں ان کی زندگیوں کو منضبط رکھنے کے لیے کوئی بادشاہ، فوج یا چرچ نہیں تھے۔

مرکزی اور جنوبی امریکہ کا ریاستی نظام

کیر یبین اور برازیل کے برخلاف مرکزی امریکہ میں کچھ بہت ہی منظم ریاستیں تھیں۔ وہاں اناج کی وافر مقدار پیدا ہوتی تھی۔ جو ایزٹیک، مایا اور اِنکانسل کی شہری تہذیبوں کے لیے بنیاد فراہم کرتی تھی۔ ان شہروں کے عظیم تعمیراتی آثار آج بھی زائرین کو مسحور کر دیتے ہیں۔

TC8-2
ایک بال کورٹ مارکر جس پر تاریخ کندہ ہے۔ مایا تہذیب، چیاپاس، چھٹی صدی

ایزٹیک نسل (The Aztecs)

بارہویں صدی میں ایزٹیک شمال سے میکسیکو (یہ نام ان کے دیوتا میکسیٹلی (Maxitli) کی مناسبت سے رکھا گیا ہے) کی مرکزی وادی میں کوچ کر گئے۔ مختلف قبائل پر غلبہ حاصل کر کے انھوں نے اپنی سلطنت کو وسیع کر لیا تھا اور انہیں خراج ادا کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔

ری کلے میشن (Reclamation) (سمندرپاٹ کر قابل آبادی و مزروعہ زمین تیار کرنا) اس کو کہتے ہیں جس میں بنجر زمین کو تبدیل کر کے سکونت اور زراعت کے قابل بنایا جاتا ہے۔

ایزٹیک سماج نظام مراتب (Hierarchical) پر قائم تھا۔ صرف ان ہی لوگوں کو امراء میں شمار کیا جاتا تھا جو پیدائشی طور پر شریف، مذہبی پیشوا یا وہ لوگ ہوں جنہیں وہ رتبہ عطا کیا گیا ہو۔ یہ موروثی شرف (Hereditary Nobility) کی حامل ایک چھوٹی سی اقلیت تھی جو حکومت، فوج اور مذہبی پیشوائی میں اعلیٰ منصب پر فائز تھی۔ امراء اپنے درمیان میں سے ایک قائداعظم کا انتخاب کرتے تھے جو تاحیات ان کی پیشوائی کرتا تھا۔ بادشاہ زمین پر سورج کا نمائندہ تصور کیا جاتا تھا۔ جنگجو، مذہبی پیشوا اور امراء سب سے زیادہ قابل احترام سمجھے جاتے تھے۔ لیکن تاجروں کو بھی بہت سی مراعات حاصل تھیں اور اکثر اوقات یہ سفیر اور سراغ رساں کی حیثیت سے حکومت کی خدمت انجام دیتے تھے۔ باصلاحیت دستکار، اطباء اور ذہین اساتذہ کی بھی عزت کی جاتی تھی۔
چونکہ زمین محدود تھی اس لیے کاشتکاری اور آبادکاری کی ذمہ داری ایزٹیک نے سنبھال رکھی تھی۔ نرکل کی چٹائیاں بن کر اور انہیں مٹی کیچڑ اور پودوں سے ڈھک کر وہ میکسیکو جھیل میں مصنوعی جزیرے اور چی نامپاس (Chinampas) بنایا کرتے تھے۔ ان غیر معمولی زرخیز جزیروں کے درمیان نہریں بنائی گئیں جن پر 1325 میں راجدھانی ٹینوچ ٹٹلان (Tenochtitlan) شہر تعمیر کیا گیا تھا۔ اس کے محلات اور اہرام ڈرامائی انداز سے جھیل سے اوپر اٹھے ہوئے تھے۔ چونکہ ایزٹیک عام طور پر جنگ میں مشغول رہتے تھے اس لیے ان کے سب سے زیادہ متاثر کن مندر جنگ کے دیوتاؤں اور سورج کے نام وقف تھے۔
سلطنت ایک دیہی بنیاد پر قائم تھی۔ لوگ اناج، پھلیاں، کدو، لوکی مینیوک جڑیں (ایک پودا جس کی جڑ کے آٹے سے روٹی پکائی جاتی ہے)، ٹماٹر اور دوسری فصلیں اگایا کرتے تھے۔ زمین کا مالک فرد واحد نہیں بلکہ قبیلہ ہوا کرتا تھاجن کے ذمہ عام تعمیراتی کام بھی ہوا کرتے تھے۔ کسان، یوروپی زرعی غلاموں ہی کی طرح، ان زمینوں سے وابستہ ہوا کرتے تھے جن کے مالک امراء ہوتے تھے۔ وہ فصل کے کچھ حصوں کے عوض کاشتکاری کرتے تھے۔ غریب کبھی کبھی اپنے بچوں کو غلام کی حیثیت سے فروخت کر دیتے تھے۔ لیکن عام طور پر ایسا ایک متعین وقت کے لیے ہوتا تھا اور غلام اپنی آزادی کو دوبارہ خرید سکتا تھا۔

TC8-3
مایہ معبد ، ٹیکال، گوئٹے مالا، آٹھویں صدی

ایزٹیک اس بات کی کوشش کرتے تھے کہ تمام بچے اسکول جائیں۔امراء کے بچے کال میکاک (Calmecac) جایا کرتے تھے اور یہاں انہیں فوجی یا مذہبی قائد بننے کی تربیت دی جاتی تھی۔ دوسرے سارے بچے اپنے پڑوس ٹیپوک کالی (Tepochcalli) جاتے تھے، جہاں وہ تاریخ، دیومالائی کہانیاں، مذہب اور رسمی نغمے سیکھتے تھے۔ لڑکوں کو فوجی تربیت مزید برآں کاشتکاری اور تجارت کی تربیت دی جاتی تھی اور لڑکیوں کو امور خانہ داری کی تربیت دی جاتی تھی۔
سولہویں صدی کے اوائل میں ایزٹیک سلطنت میں کشیدگی کے آثار نظر آرہے تھے اور اس کا گہرا تعلق حالیہ مفتوح لوگوں کی بے اطمینانی سے تھا جو مرکزی کنٹرول سے آزادی حاصل کرنے کے لیے موقع کی تلاش میں تھے۔

مایانسل (The Mayas)

میکسیکو کی مایا تہذیب گیارہویں صدی اور چودھویں صدی کے دوران غیر معمولی طور پر ترقی یافتہ تھی۔ لیکن سولہویں صدی میں ان کی سیاسی طاقت ایزٹیک سے کم تھی۔ اناج کی فصلیں اگانا ان کی تہذیب کا مرکزی نقطہ تھا اور بہت سی مذہبی رسومات، پودے لگانے اور فصلیں اگانے اور کاٹنے ہی کے گرد مرکوز تھیں۔ قابل تحسین زرعی پیداوار نے زائد غلہ فراہم کیا جس سے حکمراں طبقہ، مذہبی پیشوا اور امراء کو تعمیرات، علم ہیئت کی ترقی اور علم الحساب میں پیسہ لگانے میں مدد ملی۔ مایا لوگوں نے ایک تصویر رسم الخط (Pictographic)، طرز تحریر ایجاد کی تھی جسے جزوی طور پر پڑھ لیا گیا ہے۔

پیروکی انکانسل(The Incas of Peru)

جنوبی امریکہ کی سب سے بڑی تہذیبی قیچواس (Quechuas) اور پیرو کی انکانسل کی تھی۔ بارہویں صدی میں سب سے پہلے انکا حکمراںمینکوکاپاک (Manco Capac) نے کوزکو (Cuzco) میں راجدھانی قائم کی۔ توسیع کا عمل انکا نہم کے تحت شروع ہوا اور انکا سلطنت اپنے دور شباب میں ایکواڈور (Ecuador) سے چلی (Chile) تک 3,000 میل پر پھیل گئی۔
بادشاہ کی قیادت میں یہ سلطنت مرکزی نظام حکومت کے تحت تھی جو اقتدار اعلیٰ کے سب سے بڑے ذریعہ کی نمائندگی کرتا تھا۔ نئے مفتوح قبائل عملاً باہم مدغم ہو گئے تھے۔ رعیت کے لیے قیچوا (Quechua) بولنا ضروری تھی جو سرکاری زبان تھی۔ ہر قبیلہ پر بزرگوں (Elders) کی ایک مجلس آزادانہ طور پر حکومت کرتی تھی لیکن مجموعی حیثیت سے پورا قبیلہ حکمراں کی اطاعت قبول کرتا تھا۔ اس طرح مقامی حکمراں کو فوجی تعاون کے لیے انعام واکرام سے نوازا جاتا تھا۔ بایں طور ایزٹیک سلطنت ہی کی طرح یہ سلطنت بھی نیم وفاقی نظام کے مشابہ تھی جس پر انکا نسل کا کنٹرول تھا۔ آبادی کا کوئی معین تخمینہ نہیں ہے۔ لیکن پتہ چلتا ہے کہ سلطنت کی آبادی دس لاکھ سے زیادہ لوگوں پر مشتمل تھی۔

TC8-4
نقشہ 2 :جنوبی امریکہ

ایزٹیک ہی کی طرح انکانسل کے لوگ بھی ماہر معمار تھے انھوں نے ایکواڈور سے چلی تک پہاڑوں کے بیچ سڑکیں بنائی تھیں۔ ان کے قلعے پتھروں کی ایسی سلوں سے تعمیر کیے گئے تھے، جو اس قدر سلیقہ سے تراشی گئیں تھیں کہ انہیں جوڑنے کے لیے چونے کا مسالہ استعمال کرنے کی ضرورت نہ تھی۔ قریبی چٹانوں سے گرے ہوئے پتھروں کو لانے اور تراشنے کے لیے وہ ’’مجتمع محنت تکنیک‘‘ (Labour-intensive Technology) کا استعمال کرتے تھے۔ فلیکنگ (پرت دار Flaking) نامی ایک موثر مگر سادہ طریقے کا استعمال کرتے ہوئے راج مِستری (معمار) پتھر کی سلوں کو موزوں شکل دیتے تھے۔ بہت سے پتھروں کا وزن سومیٹرک ٹن سے بھی زیادہ ہوا کرتا تھا۔ لیکن انہیں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کے لیے ان کے پاس پہیہ والی گاڑیاں نہیں تھیں۔ یہ کام مزدوروں کو منظم کر کے اور سخت بندوبست کے ساتھ کیا جاتا تھا۔
انکے تہذیب کی بنیاد کاشتکاری پر تھی۔ غیر زرخیز زمینوں کو کارآمد بنانے کے لیے انھوں نے پہاڑی حصوں کو چبوترہ نما بنایا اور نالیوں و آبپاشی کے نظام کو ترقی دی۔ حال ہی میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ 1500 میں اینڈین (Andean) کے بالائی حصوں میں کاشتکاری آج سے کہیں زیادہ بہتر تھی۔ انکا نسل کے لوگ اناج اور آلو اگاتے تھے اور کھانے اور مال برداری کے لیے الاماؤں (Ilamas) کو پالتے تھے۔
ان کی بُنائی اور ظروف سازی بہت اعلیٰ معیارکی تھی۔ انھوں نے کسی طرح کے طریقہ تحریر کو ترقی نہیں دی۔ تاہم اس کی جگہ حساب کے ایک نظام کو ترقی دی جس میں کیپو (Quipu) یا ایسی ڈوریوں کا استعمال ہوتا تھا جن پر حساب کی مخصوص اکائیوں کی طرف اشارہ کرنے کے لیے گرہیں لگائی جاتی تھیں۔ کچھ دانشوروں کا خیال ہے کہ ان دھاگوں میں انکانسل کے لوگ ایک قسم کے خفیہ اشارے بنتے تھے۔

انکا نسل کے لوگوں کے فن (فنون لطیفہ) اور مہارت کو دیکھ کر آج بیشتر زائرین ششدر رہ جاتے ہیں۔ چلی کے شاعر نرودا (Neruda) کی طرح کچھ لوگوں نے محنت ومشقت کے ان گھنٹوں کے بارے میں سوچا جن میں کام کرنے کے لیے ہزارو لوگ مجبور کیے گئے ہوں گے۔ تاکہ اس قدر اعلیٰ زرعی پیداوار، اس قدر غیر معمولی تعمیر اور اس قدر شاندار دستکاری اس مشکل ماحول میں پیش کر سکیں۔
زمین کی گہرائیوں سے میری طرف دیکھو،کھیتوں میں جتنے والے، بننے والے، خاموش چرواہوں،
TC8-5

ماچوپچو کی پہاڑی چوٹی پر شہر، یہ اسپینیوں کی توجہ سے بچا رہا اور اسی سبب یہ مسمار ہونے سے بچ گیا۔

اونچے خطرناک برف میں دھنس جانے والے، مچانوں پر کام کرنے والے راج مستریو
اینڈین کو کھرچنے والے برفبانی انسانو،
کچلی ہوئی انگلیوں والے جوہر یو
اپنے لگائے پودوں کے درمیان پریشان حال کسانو،
اپنی مٹی کے درمیان تباہ حال کمہارو۔
اس زندگی نو کے لیے پیالہ بھر لاؤ،
اپنے پرانے مدفون غموں کو،
مجھے اپنا خون اور اپنی پیشانی کی لکیریں دکھاؤ،
مجھے بتاؤ: یہیں مجھے کوڑے لگائے گئے تھے۔
کیونکہ ایک ہیرا کند تھا یا زمین کندتھی
اپنے اناج یا پتھر کا دسواں حصہ وقت پر دینے میں ناکام ہو گئی تھی۔
پیلونرودا (1904-1973) ’’ماچوپچوں کی اونچائیاں‘‘ 1943 (The Heights of Machu Picchu)


انکا سلطنت کا تنظیمی ڈھانچہ اہرام نما تھا جس کا مطلب یہ تھا کہ اگر انکا سردار کو گرفتار کر لیا جائے تو اس کی حکمرانی کی ساری کڑیاں تیزی سے بکھر جائیں گی۔ بعینہ یہی چیز اس وقت پیش آئی جب اسپینیوں نے ان کے ملک پر حملہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
ایزٹیک اور انکا تہذیبوں کے درمیان کچھ خاص باتیں مشترک تھیں اور یوروپی ثقافت سے بالکل مختلف تھیں۔ سماج امتیاز مراتب کی بنیاد پر قائم تھا۔ لیکن یوروپ کی طرح ذرائع کی ملکیت شخصی طور پر کچھ خاص لوگوں کی ملکیت نہ تھی۔ اگرچہ مذہبی پیشوا اور کاہنوں (Shamans) کو اعلیٰ مراتب حاصل تھے۔ نیز بڑے بڑے معابد بنائے جاتے تھے جن میں مذہبی رسوم کے طور پر سونے کا استعمال ہوتا تھا مگر سونے اور چاندی کو بہت زیادہ اہمیت نہ دی جاتی تھی۔ یہ چیزیں بھی معاصر، یوروپی سماج سے واضح طور پر مختلف تھیں۔

سرگرمی 2

جنوبی امریکہ کے ایک تفصیلی طبیعی نقشہ کا تجزیہ کیجیے آپ کے خیال میں کن معنی میں جغرافیائی حالات ان کی سلطنت کی ترقی پر اثر انداز ہوئے؟


یوروپی لوگوں کے تحقیقاتی بحری اسفار

جنوبی امریکہ اور کیریبین کے لوگ یوروپی لوگوں کے وجود سے اس وقت واقف ہوئے جب یوروپ کے لوگوں نے بحر اوقیانوس کے سمندری سفروں کا آغاز کیا۔ مقناطیسی قطب نما، جس سے سمتوں کا صحیح تعین کرنے میں لوگوں کو مدد ملتی تھی، 1380 ہی میں ایجاد کیا جا چکا تھا۔ لیکن اس کا استعمال پندرہویں صدی میں لوگوں نے اس وقت کیا جب نامعلوم علاقوں میں سمندری اسفار کے لیے مہمیں شروع کیں۔ اس وقت تک یوروپی جہازوں میں بہت ساری اصلاحات کی جاچکی تھیں۔ مال برداری اور دشمن کے جہازوں کی طرف سے حملہ کی صورت میں دفاع کے لیے زیادہ سے زیادہ سازوسامان لادنے کے لیے بڑے بڑے جہاز بنائے گئے تھے۔ سیاحتی ادب (Travel Literature)، علم کائنات (Cosmography) اور جغرافیہ کی کتابوں کی اشاعت نے پندرہویں صدی میں لوگوں کے اندر زبردست شوق پیدا کر دیا تھا۔  
1477 میں پٹولمی (Ptolemy) کی کتاب ’’جغرافیہ‘‘ (Geography) (جو 1300 سال پہلے لکھی گئی تھی)۔ مطبوعہ شکل میں موجود تھی (ملاحظہ ہو باب 7) اور اس طرح اس سے بڑے پیمانے پر پڑھا گیا۔ پٹولمی (جو ایک مصری تھا) نے دنیا کے مختلف حصوں کو عرض البلد اور طول البلد کے اعتبار سے ترتیب دیا تھا۔ اسے پڑھ کر یوروپی لوگوں کو دنیا کے بارے میں کچھ معلومات حاصل ہوئیں اور انھوں نے سمجھا کہ دنیا میں تین براعظم؛ یوروپ، ایشیا اور افریقہ ہیں۔ پٹولمی نے اپنا جائزہ پیش کرتے ہوئے لکھا تھا کہ دنیا کروی (Spherical) شکل کی ہے۔ لیکن اس نے سمندروں کی چوڑائی کو کم سمجھا تھا۔ خشکی تک پہنچنے سے پیشتر یوروپیوں کو اس ساخت کا اندازہ نہیں تھا جو انہیں بحر اوقیانوس کے سفر کے دوران طے کرنی تھی۔ چونکہ وہ سمجھتے تھے کہ یہ ایک مختصر سمندری سفر ہوگا۔ اس لیے ان میں بہت سے ایسے لوگ تھے جو بے پروائی کے ساتھ معلوم سمندروں کے پار سفر کے لیے تیار رہتے تھے۔

علم کائنات (Cosmography) کو کائنات کا نقشہ بنانے کے علم کے طور پر سمجھا جاتا تھا۔ اس میں زمین اور آسمان دونوں کا بیان ہوتا ہے مگر اسے جغرافیہ اور فلکیات سے الگ سمجھا جاتا تھا۔  

جزیرہ نما آئبیریا (Iberian Peninsula) کے لوگ، پرتگال اور اسپینی، پندرہویں صدی کے تحقیقاتی اسفار کے اولین قائد (Pioneers) تھے۔ ایک لمبی مدت تک انہیں ’’انکشاف کے بحری سفر‘‘ (Voyages of Discovery) کے نام سے جانا جاتا تھا۔ تاہم بعد کے مورخین نے وضاحت کی کہ ایسا کوئی پہلی مرتبہ نہیں ہوا ہے کہ ’’قدیم دنیا‘‘ کے لوگ نامعلوم سرزمین کی تلاش میں سمندری سفر پر نکلے ہوں۔ عربوں، چینیوں اور ہندوستانیوں نے سمندر کی وسعتوں میں جہاز رانی کی تھی اور بحرالکاہل کے جزیروں سے جہازرانوں نے (پولی نیشین اور مائیکرو نیشین (The Polynesians and Micronesions)) بڑے بڑے سمندروں کو عبور کیا تھا۔ ناروے (Norway) کے ویکنگس (Vikings) گیارہویں صدی میں شمالی امریکہ پہنچ چکے تھے۔
اسپینی اور پرتگالی حکمراں خاص طور پر اس طرح کے سمندری تحقیقاتی اسفار کے لیے خرچ برداشت کرنے میں اتنی دلچسپی کیوں لیتے تھے؟ سونا، خزانہ، ناموری اور خطابات کے لیے اس قدر جوش و جذبہ کہاں سے پیدا ہوا؟ ان سوالوں کا جواب کسی بھی شخص کو تین محرکات کے مجموعے: معاشی، مذہبی اور سیاسی، میں مل سکتا ہے۔
چودہویں صدی کے نصف سے پندرہویں صدی کے نصف تک یوروپی معیشت زوال پذیر تھی (ملاحظہ ہو باب6)۔ یوروپ کے بہت سارے حصوں میں طاعون اور جنگوں نے لوگوں کی تعداد کو کم کر دیا تھا۔ تجارت ماند پڑ چکی تھی اور سونے و چاندی کی قلت ہو گئی تھی جو یوروپی سکے بنانے کے لیے استعمال کی جاتی تھی۔ یہ صورت حال اس سے قبل (گیارہویں صدی سے چودھویں صدی کے نصف تک) کے حالات سے یکسر مختلف تھی۔ جب بڑھتی ہوئی تجارت نے اٹلی کی شہری ریاستوں کو اس قدر وسائل فراہم کر دیے تھے کہ سرمایہ کا انبار لگ گیا تھا۔ چودہویں صدی کے آخری دور کی تجارت زوال کا شکار ہو گئی تھی اور پھر جب ترکوں نے 1453 میں قسطنطنیہ کو فتح کر لیا تو یہ اور بھی مشکل ہو گئی۔ اٹلی کے باشندوں نے ترکوں سے تجارت کرنے میں کامیابی حاصل کر لی۔ لیکن اب انہیں تجارت پر ٹیکس ادا کرنا پڑتا تھا۔
اس بات کا بھی امکان ہے کہ عیسائی مذہب میں بہت سارے لوگوں کو شامل کیا جاسکتا تھا۔ بہت سے یوروپی مذہبی عیسائیوں نے خطرات کا سامنا کرنے کا فیصلہ کیا۔
جیسے ہی اس کا سلسلہ شروع ہوا ترکوں کے خلاف ’’صلیبی جنگوں‘‘ (Crusades) کا آغاز (ملاحظہ ہو باب 4) مذہبی جنگ کے طور پر ہوا۔ لیکن اس نے ایشیا کے ساتھ یوروپ کی تجارت کو بڑھاوا دیا تھا۔ اور ایشیا کی پیداوار خاص طور پر مصالحہ جات کے ذائقوں سے وہ مانوس ہوئے تھے۔ انہیں یہ احساس ہوا کہ اگر تجارت کے ساتھ سیاسی قبضہ ہو جائے اور گرم موسم والے علاقوں میں اپنی نوآبادیات قائم کر لیں تو انہیں اور بھی زیادہ فائدہ ہو سکتا ہے۔

ازسرے نو فتح (Reconquista) عیسائی بادشاہوں کے ذریعہ جزیرہ نما ابیدین پر فوجی فتح تھی جو 1492 میں عربوں سے انھوں نے ازسرنو فتح کیا تھا۔

ایسے نئے علاقوں کے بارے میں سوچا گیا جہاں سے سونا اور مصالحہ جات حاصل کیے جاسکیں۔ ایسا ایک ممکنہ مقام مغربی افریقہ بھی تھا جہاں سے یوروپ کے لوگوں نے ابھی تک بالواسطہ طور پر تجارت نہیں کی تھی۔ پرتگال نے جو ایک چھوٹا سا ملک تھا جس نے 1139 ہی میں اسپین سے آزادی حاصل کر لی تھی اور جس نے مچھلیاں پکڑنے اور جہاز رانی میں مہارت پیدا کر لی تھی، قیادت سنبھالی۔ پرتگال کے پرنس ہنری (Prince Henry) (جسے جہازراں کے نام سے یاد کیا جاتا ہے) نے مغربی افریقہ کے ساحلی کناروں کا سفر کرنے کا نظم کیا اور 1415 میں ’سیوٹا‘ (Ceuta) پر حملہ کر دیا۔ اس کے بعد مزید مہمیں ترتیب دی گئیں اور پرتگالیوں نے افریقہ کے کیپ بوجاڈور (Cape Bojador) میں تجارتی مستقر قائم کیے۔ افریقہ کے لوگ گرفتار کر کے غلام بنائے گئے اور سونے کے ذرات سے قیمتی دھات کو پیدا کیا گیا۔
اسپین میں معاشی اسباب نے افراد کو سمندر کا فوجدار (Knights) بننے پر ابھارا۔ صلیبی جنگوں کی یاد نے اور ازسرے نوفتوحات (Reconquista) کی کامیابی نے ذاتی جذبوں کو ہوا دی۔ اور اس سے مشروط معاہدہ (Capitulaciones) کے نام سے جانے جانے والے معاہدوں میں اضافہ ہوا۔ یہ معاہدے ایسے عہد نامے تھے جن کے مطابق اسپینی حکام نئے مفتوحہ علاقو ں پر اقتدار اعلیٰ کا حق رکھتے تھے اور وہ اس کے بدلے میں ان مہم کے قائدین کو خطابات کی شکل میں انعام واکرام سے نوازتے تھے اور انہیں ان مفتوحہ سرزمینوں پر حکمرانی کا حق بھی دیتے تھے۔

اسپینی زبان میں ناؤ (Nao) ایک بحری جہاز کو کہا جاتا ہے یہ عربی سے مشتق ہے اس سے اس حقیقت کی بھی وضاحت ہوتی ہے کہ یہ علاقہ 1492 تک عربوں کے قبضہ میں رہا ہے۔  

بحراوقیانوس کا عبور کرنا

کرسٹوفرکولمبس (1451-1506)، خود آموز، مہم جوئی اور ناموری کا خواہاں تھا۔ پیش گوئیوں پر اعتقاد رکھنے کی وجہ سے اسے یہ یقین ہو چلا تھا کہ اس کی قسمت کا راز اس میں پوشیدہ ہے کہ وہ مغربی جانب سفر کرتے ہوئے مشرق انڈیز (The Indies) کا راستہ دریافت کرے۔ کارڈینل پائرے ڈایلی (Cardinal Pierre d'Ailly) کی کتاب ’امیگو منڈی‘ (Imago Mundi) (علم فلکیات اور جغرافیہ کے موضوع پر جو 1410 میں لکھی گئی تھی) سے اسے تحریک ملی تھی۔ اس نے اپنا منصوبۂ سفر پرتگالی فرمانروا کے سامنے پیش کیا جس نے اسے ٹھکرادیا۔ خوش قسمتی سے وہ اسپینی حکمرانوں کو راضی کرنے میں کامیاب رہا، جنہوں نے ایک متوسط درجہ کی سمندری مہم کو منظوری دے دی اور وہ پالوس (Palos) کی بندرگاہ سے 3 اگست 1492 کو اپنی مہم پر روانہ ہوا۔
بحر حال، کولمبس اور اس کے عملہ نے بحراوقیانوس کے اس طویل سفر اور اس منزل کے لیے، جو ان کی منتظر تھی، کچھ خاص تیاری نہیں کی گئی تھی۔ جہازوں کا بیڑا صرف ایک چھوٹے نائو (Nao) جس کا نام ’سانتا ماریا‘ (Santa Maria) تھا اور ہلکی اور چھوٹی کشتیوں پر مشتمل تھا ،جن کا نام پنٹا (Pinta) اور نینا (Nina) تھا۔ کولمبس نے چالیس مضبوط جہازرانوں کے ساتھ مل کر، خود ہی ’سانتاماریا‘ کی کمان سنبھالی۔ آگے کی طرف سفر کرتے وقت تجارتی ہوا موافق تھی مگر راستہ طویل تھا۔ 33 دنوں تک سفر کرتا رہا اور تاحد نظر آسمان اور سمندر کے علاوہ کچھ بھی نہیں دکھائی دیتا تھا۔ آخر کار اراکین عملہ بے چین ہو گئے اور کچھ لوگوں نے واپس چلنے کا مطالبہ کیا۔
12اکتوبر 1492 کو انہیں زمین دیکھنے کو ملی۔ کولمبس کے خیال میں وہ انڈیا پہنچ گئے تھے۔ لیکن یہ جزیرۂ گوانا ہانی (Guanahani) تھا جو بہاماس (Bahamas) میں واقع ہے(کہا جاتا ہے کہ یہ نام کولمبس نے دیا۔ جس نے اتھلے سمندر سے گھرے ہوئے جزیرہ کو اسپینی زبان میں باجامار (Baja mar) سے تعبیر کیا) اراواکوں (Arawaks) نے ان کا استقبال کیا اور بخوشی کھانے اور اشیاء خوردنی میں شریک کیا۔ درحقیقت ان کی فیاضی نے کولمبس کو انتہائی متاثر کیا۔ جیسا کہ کولمبس نے اپنی روداد سفر ’’لوگ بک‘‘ (سیاح/جہاز کا روزنامچہ) میں لکھا ہے ’’وہ اتنے سادہ اور کھلے دل کے لوگ ہیں کہ وہ لوگ جنہوں نے یہ نہیں دیکھا ہے شاید یقین نہ کریں کہ جو کچھ ان کے پاس ہے، اگر کوئی ان سے مانگے تو وہ کبھی ’نہ‘ نہیں کہیں گے، بلکہ اس میں شریک کریں گے اور اس طرح محبت کا اظہار کریں گے گویا وہ دل نکال کر رکھ دیں۔‘‘

TC8-6
یوروپین، امریکی مقامی باشندوں سے ملتے ہوئے۔ لکڑی کے فریم پر بنائی ہوئی ایک تصویر، سولہویں صدی

وائسرائے (Viceroy)کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص بادشاہ کی جگہ پر، اس کے فرائض انجام دے (اس صورت میں اسپین کا بادشاہ مراد ہے)۔

کولمبس نے گواناہانی میں (جسے اس نے سان سلواڈور (San Salvador) کا نام دیا تھا) ایک اسپینی جھنڈا نصب کیا اور مذہبی رسوم و عبادت منعقد کی اور مقامی باشندوں سے پوچھے بغیر، اپنے وائسرے ہونے کا اعلان کر دیا۔ اس نے ان کی مدد حاصل کی تاکہ جلدازجلد کوبانا اسکان (Cubanascan) (کیوبا جسے اس نے جاپان سمجھا تھا) اور کشکیا (Kiskeya) (بدلا ہوا نام ہسپانیولا (Hispaniola) جو آج دو ملکوں ہیتی (Haiti) اور ڈومینکن ریپبلک (Dominican Republic) کے درمیان بٹا ہوا ہے) کے عظیم جزیروں تک پہنچ سکے۔ سونا اگرچہ فوراً نہیں مل سکا تھا مگر کھوجیوں نے سنا تھا کہ یہ ہسپانیولا میں اندر جاکر پہاڑی ندیوں سے مل سکتا ہے۔
لیکن یہ لوگ زیادہ دور بھی نہیں جاسکے تھے کہ سمندری مہم حادثوں کی لپیٹ میں آگئی اور پر جوش کیرب (Carib) قبائل کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ اب اراکین عملہ نے واپس لوٹنے کا پرزور مطالبہ کیا۔ واپسی کا سفر زیادہ مشکل ثابت ہوا۔ کیونکہ جہاز دیمک زدہ اور بوسیدہ ہو چکے تھے۔ عملہ تکان سے چور اور وطن کے فراق میں بے حال ہو گیا تھا۔ یہ سفر کل 32 ہفتوں میں پورا ہوا۔ تین مزید بحری سفر بعد میں واقع ہوئے۔ جن کے دوران کولمبس نے بہاماس، گریٹر اینٹلس (Greater Antilles)، جنوبی امریکہ کا برعظیم اور اس کے ساحلی علاقے کی کھوج مکمل کی۔ بعد کے اسفارنے یہ واضح کر دیا کہ جو اسپینیوں نے دریافت کیا تھا وہ ’انڈیز‘ نہیں بلکہ ایک نیا براعظم ہے۔
کولمبس کا اصل کارنامہ یہ ہے کہ اس نے لامتناہی لگنے والے سمندروں کے سروں کو دریافت کیا اور ثابت کر دیا کہ پانچ ہفتوں پر محیط سمندری سفر موافق تجارتی ہوا کی مدد سے ایک شخص کرہ ارض کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک پہنچ سکتا ہے۔ اگرچہ اکثر جگہوں کے نام افراد کے نام پر رکھے گئے ہیں۔ تعجب خیز امر یہ ہے کہ کولمبس کی یادگار کے طور پر صرف ریاستہائے متحدہ امریکہ (USA) کے ایک چھوٹے سے ضلع اور شمال مغربی، جنوبی امریکہ میں واقع ایک ملک کو لمبیا (Columbia) کو منسوب کیا گیا ہے جن میں سے کسی ایک جگہ بھی وہ نہیں پہنچا تھا۔ دونوں امریکی براعظموں کے نام امریگوویس پسی (Amerigo Vespucci)، فلورسن کے ایک جغرافیہ داں، کے نام پر رکھا گیا جس نے صحیح اندازہ لگایا تھا کہ یہ کتنے بڑے ہو سکتے ہیں اور انہیں ’’نئی دنیا‘‘ سے تعبیر کیا۔ ’امریکہ‘ نام پہلی بار 1507 میں ایک جرمن پبلشر نے استعمال کیا تھا۔

امریکہ میں اسپینی شہنشاہیت کا قیام

اسپینی توسیع، عسکری قوت کے مظاہرہ مع بارود اور گھوڑوں کے استعمال پر مبنی تھی۔ مقامی باشندے یا تو باج گذاری ادا کرنے یا سونے اور چاندی کی کانوں میں کام کرنے کے لیے مجبور کیے گئے۔ عام طور سے۔ ابتدائی دریافت کے بعد چھوٹی نو آبادی قائم ہوئی جس میں اسپینی لوگوں کی کچھ تعداد آباد   ہوئی جو مقامی باشندوں کے کام کی نگرانی کرتی تھی۔ مقامی جاگیر داروں کو مہم میں شامل کیا گیا تاکہ نئے علاقوں کی کھوج اور متوقع طور پر مزید سونے کے منبع تک پہنچنے میں مدد دے سکیں۔ سونے کا لالچ، تشدد کے واقعات کا سبب بنا اور مقامی مزاحمت کو بھڑکایا۔ اسپینی عیسائی راہب بارٹولوم ڈی ایاس کاساس (Bartolome de Ias Casas)، (اسپینی فاتحین کا سخت ترین ناقد) نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ، اسپینیوں نے بارہا اپنی تلوار کی دھار کو اراواک باشندوں کے ننگے جسموں پر آزمایا تھا۔

یوروپی لوگوں کے ذریعہ بحری اسفار
   1492 کولمبس نے بہاما (Bahama) اور کیوبا کے جزائر پر اسپینی حکومت کے حق کا مطالبہ کیا۔
   1494 پرتگال اور اسپین کے درمیان ’’غیر دریافت دنیا‘‘ کی تقسیم۔
   1497 انگریز جون کا بوٹ (John Cabot) نے شمال امریکہ کے ساحل کو دریافت کیا۔
   1498     واسکوڈی گاما کالی کٹ / کوزی کوڈے پہنچا۔
   1499 امریگو ویس پسی کو جنوبی امریکہ کا ساحل نظر آیا۔
   1500 کابرال (Cabral) نے برازیل پر پرتگال کے حق کا مطالبہ کیا۔
   1513 بال بوآ (Balboa) نے پناما استھمس (Panama Isthmus) کو عبور کیا اور اسے بحرالکاہل نظر آیا۔
   1521 کورٹس (Cortes) نے ایزٹیکس (Aztecs) کو شکست دی۔
   1522 میگیلان (Magellan) نے جہاز رانی کرتے ہوئے کرۂ ارض کے گرد چکر لگایا۔
   1532 پزارو (Pizarro) نے انکا مملکت پر فتح حاصل کی۔
   1571 اسپینیوں نے فلپائن پر فتح حاصل کی۔
   1600 برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی کا قیام
   1602 ڈچ ایسٹ انڈیا کمپنی کا قیام





سرگرمی 3

آپ کے خیال میں وہ کیا اسباب تھے جن کی بناپر یوروپی ممالک کے لوگ ’’تحقیقاتی اسفار‘‘ پر جانے کا خطرہ مول لینے کے لیے تیار ہوئے تھے؟

عسکری ظلم وجور اور جبری لازمی خدمت کے ساتھ امراض کی تباہ کاریاں بھی مل گئیں۔ قدیم دنیا کے امراض خاص طور پر چیچک نے اراواک باشندوں کو تباہ کرکے رکھ دیا جن کی بڑی تعداد جراثیم کے خلاف قوت مدافعت سے محروم ہونے کی وجہ سے ہلاک ہو گئی۔ مقامی باشندوں کو لگا کہ یہ بیماریاں ان ’’غیر مرئی گولیوں‘‘ کی وجہ سے ہیں، جن سے اسپینیوں نے ان پر حملہ کیا ہے۔ اراواک لوگوں اور ان کی طرز زندگی کا خاتمہ، اسپینیوں کے ساتھ ان کی دردناک مڈبھیڑ کی خاموش یادگار ہے۔
کولمبس کی مہم کے بعد، مرکزی اور جنوبی امریکہ کے کئی کامیاب اور مسلسل تحقیقی سفر ہوئے۔ صرف نصف صدی کے دوران اسپین، مغرب نصف کرہ کے وسیع علاقوں کو جو تقریباً 40 ڈگری عرض البلد شمال سے 40 ڈگری جنوب تک پھیلے ہوئے ہیں، دریافت کر چکا تھا اور بغیر کسی حریف طاقت کے ان پر اپنی ملکیت قائم کر لی تھی۔
قبل ازیں، اسپین علاقے کی دو شہنشاہیت کو فتح کر چکا تھا۔ یہ بڑی حد تک دو شخصیتوں کی محنت کا نتیجہ تھا ہرنن کورٹس (Hernan Cortes 1488-1547) اور فرانسسکوپزارو (Francisco Pizarro 1478-1541)۔ ان کی تحقیقی مہم کے لیے سرمایہ اسپین کے زمیندار، میونسپلٹی کے افسران اور شرفاء نے فراہم کیا، جن لوگوں نے ان مہمات میں حصہ لیا تھا، ان کے لیے انھوں نے ضروری اشیا خود ہی مہیا کرائیں۔ اس کے بدلے وہ فتوحات سے حاصل کردہ مال سے حصہ ملنے کی امید رکھتے تھے۔

کورٹیس اور ایزٹیک نسل (Cortes and Azatecs)

کورٹیس اور اس فوجی (جنہیں فاتحین (Conquistadores) کہا جاتا ہے) نے میکسیکو کو سرعت اور بے رحمی کے ساتھ فتح کرلیا۔ 1519 میں کورٹیس نے کیوبا سے میکسیکو کی جانب اپنا بحری سفر شروع کیا۔ ٹوٹوناکس (Totonacs) گروپ کے ساتھ دوستی قائم کی۔ جوایزٹیک نسل کی حکومت سے علیحدہ ہونا چاہتے تھے۔ ایزٹیک بادشاہ مونٹے زوما (Montezuma) نے اس سے ملنے کے لیے ایک افسر روانہ کیا۔ اسپینیوں کی جارحیت، ان کے بارود اور گھوڑوں نے اسے دہشت زدہ کر دیا تھا۔ مونٹے زوماخود ہی اس بات کا قائل ہو چکا تھا کہ کورٹیس ایک جلا وطن خدا کا اوتار ہے جو انتقام لینے کے لیے لوٹا ہے۔

ڈونا میرینا (Dona Marina)

برنارڈ ڈیاز ڈیل کاسٹیلو (Bernard Diaz del Castillo 1495-1584) نے اپنی کتاب ’’میکسیکو کی فتح کی سچی تاریخ‘‘ (True History of the Conquest of Mexico) میں لکھا ہے کہ تاباسکو (Tobasco) کے باشندوں نے کورٹیس کو خدمت گذار کے طور پر ایک عورت ڈونا میرینا دی۔ وہ مقامی زبانیں روانی سے بول سکتی تھی، جس کی وجہ سے وہ کورٹیس کے لیے ترجمانی میں اہم کردار ادا کر سکی۔ یہ ہماری فتوحات کی عظیم الشان ابتدا تھی اور بغیر ڈونامیرینا کے ہم جدید اسپین اور میکسیکو کی زبان نہیں سمجھ سکتے تھے۔
ڈیاز کا خیال تھا کہ وہ ایک شہزادی تھی۔ لیکن میکسیکو کے لوگ اسے مالنچے (Malinche) کہتے تھے جس کے معنی ’غدّاری‘ ہے۔ مالنچستا (Malinchista) کے معنی ہیں وہ شخص جو غلامانہ ذہنیت کے ساتھ دوسری قوموں کے لباس اور زبان کی نقل کرتا ہو۔

برنارڈ ڈیاز لکھتا ہے: ’’اور جب ہم نے ان کے شہروں اور گاؤں کو پانی پر اور سوکھے پر تعمیر ہوا دیکھا۔ اور سیدھی مسطح، پانی پر تعمیر شاہراہ کو دیکھا جو میکسیکو شہر تک پہنچتی ہے تو ہم حیرت زدہ رہ گئے۔ پتھروں سے بنے ہوئے یہ عظیم شہر اور عمارتیں پانی سے اس طرح بلند ہو رہی تھیں جیسے اماڈیس (Amadis) کی داستان کا مسحور کن منظر ہو۔ یقینا ہمارے کچھ سپاہی پوچھنے لگے کہ کہیں وہ خواب تو نہیں دیکھ رہے ہیں۔‘‘


اسپینیوں نے ٹلاکس کا لانس (Tlaxcalans) جیسی سخت جنگجو قوم کو دبانا چاہا جنہوں نے شدید مزاحمت کے بعد ہی ہتھیار ڈالے تھے۔ اسپینیوں نے بربریت کے ساتھ ان کا قتل عام کیا پھر وہ ٹینوچ ٹٹلان (Tenochtitlan) کی طرف بڑھے جہاں وہ 8 نومبر 1519 کو پہنچے۔
حملہ آور اسپینی، ٹینوچ ٹٹلان کے مناظر دیکھ کر ششدر رہ گئے۔ یہ میڈرڈ (Madrid) سے پانچ گنا زیادہ بڑا تھا اور جس کی آبادی ایک لاکھ تھی۔ جو اسپین کے سب سے بڑے شہر سیویلے (Seville) کی آبادی کا دو گنا تھا۔
مونٹے زوما نے کورٹیس کا گرمجوشی سے استقبال کیا۔ ایزٹیک اسپینیوں کو شہر کے قلب تک لے گئے، جہاں شہنشاہ نے ان پر تحائف کی بارش کردی۔ ٹلاکس کالانس کے قتل عام کی خبر سن کر عوام ہراساں اور خائف تھے۔ ایک ریزٹیک روئداد نے صورت حال کی منظر کشی اس طرح کی ہے ’’ایسا لگ رہا تھا کہ ٹینوچ ٹٹلان نے کسی راکشس کو پناہ دے دی ہو۔ شہر کے باشندے ایسا محسوس کر رہے تھے جیسے ہر فرد نے مدہوش کرنے والا مشروم کھالیا ہو … اور کوئی مبہوت کرنے والی چیز دیکھ لی ہو۔ ہر ایک پر دہشت چھائی ہوئی تھی اور پوری دنیا کی آنتیں نکال لی گئی ہوں… لوگ ایک خوف زدہ نیند میں ڈوب گئے تھے۔‘‘
ایزٹیک لوگوں کے اندیشے بالکل صحیح ثابت ہوئے۔ کورٹیس نے بغیر کسی وضاحت کے بادشاہ کو اس کے گھر میں نظر بند کر دیا اور اس کے نام سے حکومت کرنے کی کوشش کی۔ اسپینی حکومت کے لیے بادشاہ کی اطاعت کو رسمی شکل دینے کے لیے کورٹیس نے ایزٹیک لوگوں کی عبادت گاہ میں عیسائی تصاویر آویزاں کردیں۔ مونٹے زومانے اپنے طور پر ایک سمجھوتہ کی پیش کش کی اور ایزٹیک اور عیسائی تصاویر دونوں ہی کو عبادت گاہوں میں نصب کروادیا۔
اس فیصلہ کن وقت میں کورٹیس کو ایک نائب کی ذمہ داری سونپ کر فوری طور پر کیوبا واپس جانا پڑا۔ اسپینی تسلط کی زور زبردستی اور سونے کے مسلسل مطالبے نے ایک عام مزاحمت کو بھڑکادیا۔ الواراڈو (Alvarado) نے ہیوزیل پوچٹلی (Huizilpochtli) نامی موسم بہار کے ایک ایزٹیک لوگوں کے تہوار کے دوران قتل عام کا حکم دے دیا۔ جب کورٹیس 25 جون 1520 کو واپس لوٹا تو اس کے لیے ایک مکمل بحران پیدا ہو چکا تھا۔ شاہرا ہیں منقطع ہو چکی تھیں، پلوں پر قبضہ ہو چکا تھا اور ذرائع آمدورفت بند ہو چکے تھے۔ اسپینیوں کو غذا اور پانی کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ کورٹیس پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گیا۔
اس دوران مونٹے زوما کی پراسرار حالت میں موت ہو گئی۔ ایزٹیک لوگ اسپینیوں سے لڑتے رہے۔ 600 فاتحین جنگجو (Conquistadores) اور ان کے علاوہ ٹلاکس کالانس (Tlaxcalan) کے حلیفوں کی ایک بڑی تعداد، اس لڑائی میں ہلاک ہوئی جسے ’’آنسوؤں کی رات‘‘ (Night of Tears) کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ کورٹیس کو ٹلاکس کالا (Tlaxcala) کی طرف پسپاہونا پڑا تاکہ نئے منتخب بادشاہ کو آٹے موک (Cuatemoc) کے خلاف حکمت عملی تیار کر سکے۔ دریں اثنا ایزٹیک خوفناک چیچک سے مرنے لگے جو یوروپی لوگ اپنے ساتھ لائے تھے۔ صرف 180 فوجیوں اور 30 گھوڑوں کے ساتھ کورٹیس ٹینوچ ٹٹلان میں داخل ہوا جہاں ایزٹیک آخری مقابلے کے لیے تیار تھے۔ ایزٹیک لوگوں کے خیال میں انہیں بدشگنی نظر آرہی تھی جو ان کے خاتمہ کے نزدیک آنے کی پیشن گوئی کر رہی تھی۔ شاید اسی لیے بادشاہ نے اپنے لیے موت پسند کی تھی۔

TC8-8
اوپر: ٹینوچ ٹٹلان کا ایک یوروپی کے ذریعہ بنایا ہوا خاکہ۔ سولہویں صدی    
نیچے : عظیم الشان زیندجوٹینوچ ٹٹلان کے مرکز میں واقع عبادت گاہوں کو جاتا ہے۔یہ اب میکسیکو سٹی میں کھنڈر بنا ہوا ہے۔


میکسیکو کی فتح میں دو سال لگے۔ کورٹیس میکسیکو میں جدید اسپین کی جانب سے کیپٹن جنرل بن گیا اور چارلس پنجم (Charles V) نے اسے اعزازات سے نہال کر دیا۔ میکسیکو سے اسپینیوں نے گواٹے مالا (Guatemala)، نکاراگوا (Nicaragua) اور ہونڈورس (Honduras) پر اپنا تسلط بڑھالیا۔

پیزارو اور انکانسل (Pizarro and Incas)

کورٹیس کے برعکس، پیزارو غیر تعلیم یافتہ اور غریب تھا۔ جب 1502 میں وہ فوج میں شامل ہوا اور اپنا راستہ بناتے ہوئے وہ کیریبین   جزائر تک پہنچ گیا۔ اس نے کہانیوں میں سناتھا کہ انکا مملکت، سونے اور چاندی کا دیس (El-dor-ado) ہے۔ اس نے بار بار کوشش کی کہ بحرالکاہل کی جانب سے وہاں پہنچے۔ ایک سفر میں جب وہ وطن کے لیے واپس ہو رہا تھا تب وہ اسپینی بادشاہ سے ملنے میں کامیاب ہو گیا اور انکا کاریگروں کے عمدہ نمونے، سونے کے خوبصورت منقش مرتبان، اسے دکھائے۔ یہ دیکھ کر بادشاہ کا لالچ جاگا اور اس نے پیزارو سے وعدہ کیا اگر وہ انکا مملکت پر فتح حاصل کرلے تو وہ اسے وہاں کا گورنر بنادے گا۔ پیزارو نے منصوبہ بنایا کہ وہ کورٹیس کے طریقے پر چلے گا مگر یہ جان کر پریشان ہو گیا کہ انکا مملکت کی صورت حال مختلف ہے۔
1532 میں اٹاہولپا (Atahualpa) نے ایک خانہ جنگی کے بعد انکا مملکت کے تخت پر قبضہ کر لیا۔ پیزارو اسی موقع پر وہاں پہنچا اور ایک ترکیب سے بادشاہ کو پکڑنے میں کامیاب ہو گیا۔ بادشاہ نے آزادی کے بدلے سونے سے بھرا ہوا ایک کمرہ پیش کیا۔ تاریخ میں مذکور سب سے بیش قیمت اور مہنگا فدیہ، لیکن پیزارو نے اپنا وعدہ وفا نہیں کیا اور بادشاہ کو مروا دیا اور اس کے پیروکاروں نے بھی دل کھول کر لوٹ مار مچائی اور اس کے بعد ملک پر قبضہ ہو گیا۔ فاتحین کی ظلم و بربریت نے 1534میں ایک بغاوت بھڑکا دی جو دو سال تک جاری رہی اور جس کے دوران ہزاروں افراد جنگ اور وبائی امراض کے سبب ہلاک ہو گئے۔
آنے والے پانچ سالوں میں اسپینیوں نے پوٹوسی (Potosi) میں (اپرپیرو (Upper Peru)، عصر حاضر کابولیویا (Bolivia)) وسیع و عریض کانوں کو دریافت کیا اور ان میں کام کرنے کے لیے انکا نسل کے لوگوں کو غلام بنالیا۔

TC8-9
پیرو میں ایک عورت کا سونے کا مجسمہ جو ایک مقبرے میں ملا۔ یہ اسپینیوں کے ہاتھ نہ لگ سکا اس وجہ سے وہ پگھلا کر استعمال ہونے سے محفوظ رہا۔

کابرال اور برازیل (Cabral and Brazil)

پرتگالیوں کا برازیل پر تسلط اتفاقی تھا۔ 1500 میں جہازوں کا ایک جتھا پیڈرو الواریس کا برال (Pedro Alvares Cabral) کی قیادت میں، پرتگال سے ہندوستان کے لیے روانہ ہوا۔ سمندری طوفانی ہواؤں سے بچنے کے لیے اس نے مغربی افریقہ کے گرد ایک لمبا چوڑا چکر لگایا اور خود کو موجودہ برازیل کے ساحل پر پا کر حیرت زدہ رہ گیا۔ حسن اتفاق سے جنوبی امریکہ کا یہ مشرقی حصہ، اس علاقے میں آتا تھا جس کو نقشہ پر پوپ نے پرتگال کو سونپا تھا۔ لہٰذا انھوں نے اسے بغیر کسی اختلاف کے اپنی ملکیت سمجھ لیا۔
پرتگالی برازیل کے بجائے، مغربی ہندوستان سے تجارتی تعلقات بڑھانے میں زیادہ دلچسپی رکھتے تھے۔ کیونکہ برازیل میں سونا ملنے کا امکان نہیں تھا۔ لیکن ایک قدرتی دولت تھی، لکڑی جس سے انھوں نے بے حد فائدہ اٹھایا۔ برازیل کے درخت ’’برازیل وڈ‘‘ (Brazilwood) جس سے یوروپی لوگوں نے اس علاقے کو موسوم کیا، ایک خوبصورت سرخ رنگ پیدا کرتے تھے۔ مقامی افراد، لوہے کے چاقو اور آری کے عوض جو ان کے لیے عجوبہ تھے، بہت آسانی سے درخت کاٹنے اور کشتیوں تک لکڑی کے لٹھے پہنچانے کے لیے تیار ہو گئے (ایک درانتی، چاقو یا کنگھی کے عوض یہ لوگ مرغیوں، بندروں، طوطے، شہد، موم اور سوتی دھاگے، ڈھیر کے ڈھیر یا کوئی اور چیز جو ان غریبوں کے پاس ہوتی، لاکردے دیتے تھے)۔

سرگرمی 4

جنوبی امریکہ کے مقامی باشندوں پر یوروپ کے لوگوں سے ربط کی وجہ سے پڑنے والے اثرات کا تجزیہ کیجیے۔ آبادکاروں اور یسوعیوں کے متعلق ان کے رد عمل کو بیان کیجیے۔

’’تم فرانسیسی اور پرتگالی لوگ، کیوں اتنی دور سے لکڑیاں لینے کے لیے آتے ہو؟ کیا تمہارے ملک میں لکڑی نہیں ہے؟ ایک مقامی شخص نے ایک فرانسیسی راہب سے پوچھا۔ گفتگو کے آخر میں اس نے کہا: میرے خیال سے، تم لوگ حد درجہ کے بے عقل ہو۔ تم سمندر پار کرنے میں اتنی پریشانیاں جھیلتے ہو اور اتنی زیادہ محنت کرتے ہو تاکہ اپنے بچوں کے لیے دولت اکھٹی کر سکو۔ کیاو ہ زمین جو تمہاری پرورش کرتی ہے، تمہارے بچوں کا بھی رزق مہیا کرانے کی صلاحیت نہیں رکھتی؟ ہمارے ماں باپ اور بچے ہیں جن سے ہم محبت کرتے ہیں۔ لیکن ہمیں یقین ہے کہ ہماری موت کے بعد وہ زمین جس نے ہماری پرورش کی ہے، ان کو بھی رزق مہیا کرائے گی۔ اس لیے ہم سکون سے ہیں اور زیادہ فکر مند نہیں ہیں۔‘‘
عمارتی لکڑی کی تجارت پرتگال اور فرانسیسی تاجروں کے درمیان شدید لڑائی کا سبب بنی۔ پرتگالی فتحیاب ہوئے کیونکہ انھوں نے ساحلی علاقوں میں بسنا اور ان کو نو آبادی بنانے کا فیصلہ کیا۔ 1534 میں پرتگال کے بادشاہ نے برازیل کے ساحلی علاقوں کو چودہ موروثی قیادتوں (Captaincies) میں تقسیم کر دیا، جو پرتگالی یہاں بسنا چاہتے تھے، بادشاہ نے ان کو زمین کی ملکیت اور مقامی لوگوں کو غلام بنانے کے حقوق عطا کیے۔ بہت سے پرتگالی آبادکاروں کو ہندوستان میں گوا میں جن کو جنگ کا تجربہ تھا اور وہ مقامی لوگوں کے ساتھ ظالمانہ سلوک کرتے تھے۔
1540 کی دہائی میں پرتگالیوں نے بڑے بڑے کھیتوں میں گنا پیدا کرنا شروع کر دیا اور شکر بنانے کے لیے ملوں کو تعمیر کیا۔ یہ شکر یوروپ میں فروخت ہوتی تھی۔ اس شدید گرم اور مرطوب آب و ہوا میں شکر کی ملوں میں کام کرنے کے لیے، ان کا انحصار مقامی لوگوں پر تھا۔ جب مقامی لوگوں نے اس تھکا دینے والے اور بے کیف کام کرنے سے انکار کیا تو مل مالکوں نے آخری حربہ کے طور پر ان کو اغوا کرنا شروع کر دیا تاکہ ان سے غلاموں کی طرح کام لے سکیں۔
مقامی باشندے ظالم آقاؤں سے بچنے کے لیے جنگلوں میں پناہ لیتے رہے۔ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ ساحلی علاقہ میں بڑی مشکل سے کوئی مقامی گاؤں بچا تھا بلکہ ان کی جگہ بڑے اور منظم یوروپی شہر آباد ہو گئے۔ کھیتوں کے مالکان اب غلاموں کے لیے دوسرے مصدر: مغربی افریقہ کی طرف رخ کرنے پر مجبور تھے۔ یہ اسپینی نو آبادیوں سے مختلف تھا۔ ایزٹیک اور انکا سلطنتوں کی آبادی کا ایک بڑا حصہ کھیتوں اور کانوں میں کام کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ اس لیے اسپینیوں کو انہیں رسمی طور پر غلام بنانے یا غلاموں کے لیے دوسری طرف توجہ کرنے کی ضرورت نہ تھی۔

’’کسی بھی گھر یا فیملی کے لیے اس سے بڑھ کر اور کوئی لعنت نہیں ہو سکتی کہ وہ دوسروں کی کمائی سے غیر منصفانہ طور پر فائدہ حاصل کرے۔‘‘

’’کوئی بھی شخص جو دوسروں کو ان کی آزادی سے محروم رکھتا ہے اور ان کی آزادی لوٹانے پر قدرت رکھنے کے باوجود ایسا نہیں کرتا ہے وہ قابل مذمت ہے۔‘‘

اینٹونیوویرا (Antonio Vieira)

1640 کی دہائی میں برازیل کا یسوعی راہب

1549 میں پرتگالی بادشاہ کے زیر قیادت ایک باضابطہ حکومت کا قیام عمل میں آیا جس کی راجدھانی باہیا/سلواڈور (Bahia/Salvador) تھی۔ اس وقت سے یسوعی (Jesuits) برازیل آنے لگے۔ مقامی لوگوں کے ساتھ انسانی ربط کی بات کرنے، بے خوف جنگلوں میں جاکر گائوں میں رہنے اور گائوں کے باشندوں کو عیسائیت کو ایک عمدہ مذہب کی حیثیت سے پیش کرنے کی وجہ سے یوروپ کے آبادکاروں نے یسوعیوں کو ناپسند کیا۔ یہی نہیں بلکہ یسوعیوں نے غلاموں کی بھرپور تنقید کی۔

فتح نو آبادیات اور غلاموں کی تجارت

جس چیز کی ابتداء ایک غیر یقینی بحری سفر سے ہوئی تھی اس نے یوروپ، شمالی و جنوبی امریکہ اور افریقہ پر دیرپا اثرات مرتب کیے۔
پندرہویں صدی عیسوی سے، یوروپی بحری منصوبوں نے سمندر سے سمندر کے درمیان مسلسل سمندری راستوں کے متعلق معلومات فراہم کیں۔ اس سے قبل ان میں سے زیادہ تر راستوں سے یوروپ کے لوگ ناواقف تھے۔ کچھ راستوں کے بارے میں کسی کو بھی علم نہیں تھا۔ کوئی بھی جہاز کیریبین یا شمالی و جنوبی امریکہ تک نہیں پہنچا تھا۔ جنوبی ایٹلانٹک (بحراوقیانوس) کی سیاحت بالکل ہی نہیں ہوئی تھی۔ اس کو پار کرنا تو بڑی بات ہے سمندر میں سفر کرنے والا کوئی بھی جہاز اس کے پانی میں داخل نہیں ہوا تھا۔ اور نہ ہی اس سے ہو کر بحرالکاہل یا بحر ہند گیا تھا۔ پندرہویں صدی کے آخر اور سولہویں صدی کی ابتدا میں یہ سارے کارنامے انجام دیے گئے تھے۔

TC8-10
جنوبی امریکہ کا ایک مثالی اسپینی قصبہ کا خاکہ

یوروپ کے لیے شمالی و جنوبی امریکہ کی دریافت کی اہمیت ابتدائی بحری سفر کرنے والوں کے علاوہ، دوسرے لوگوں کے لیے بھی تھی۔ سونے اور چاندی کی ریل پیل نے بین الاقوامی تجارت اور صنعت کاری کو مزید توسیع دی۔ 1560 اور 1600 کے درمیان ہر سال ایک سو جہاز جنوبی امریکہ کی کانوں سے اسپین کے لیے چاندی لے جاتے تھے۔ لیکن اسپین اور پرتگال نے اس سے فائدہ نہیں اٹھایا۔ انھوں نے اپنے کثیر منافع کو مزید تجارت کے فروغ یا تجارتی بحریہ بنانے میں نہیں لگایا، بلکہ بحراوقیانوس کی سرحدوں پر واقع ممالک خاص طور پر انگلینڈ، فرانس، بلجیم اور ہالینڈ نے ان دریافتوں سے فائدہ اٹھایا۔ ان ممالک کے تاجروں نے مشترکہ حصص والی کمپنیاں (Joint-Stock Companies) تشکیل دیں اور تجارتی مہم روانہ کیں، نوآبادیاں قائم کیں اور یوروپ کے لوگوں کو نئی دنیا کی مصنوعات سے روشناس کرایا۔ ان مصنوعات میں تمباکو، آلو، گنا اور کاکاؤ (Cacao) اور ربر شامل تھیں۔
یوروپ، امریکہ کی نئی فصلوں خاص طور پر آلو اور سرخ مرچ سے متعارف ہوا۔ پھر یوروپ کے لوگ یہ تمام چیزیں دوسرے ممالک مثلاً ہندوستان لے گئے۔

پیداوار کے سرمایہ دارانہ نظام میں پیداوار اور تقسیم کے وسائل پر افراد یا منظم جماعتی کمپنیاں قابض ہوتی ہیں اور اس میں مقابلے کرنے والے کھلے بازار میں حصہ لیتے ہیں۔  

اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ فتح سے پہلے میکسیکو کی آبادی 30 سے 37.5 ملین کے درمیان تھی۔ اینڈین (Andean) علاقہ کی آبادی بھی اتنی ہی تھی۔ جبکہ وسطی امریکہ کی آبادی 10 سے 13 ملین تھی۔ یوروپ کے لوگوں کی آمد سے قبل اصل مقامی باشندوں کی کل تعداد 70 ملین تھی۔ ڈیڑھ صدی کے بعد ان کی تعداد گھٹ کر 3.5 ملین رہ گئی۔ اس کے لیے بنیادی طور پر جنگ و جدل اور بیماریاں ذمہ دار تھیں۔
امریکہ میں دو عظیم تہذیبوں—ایزٹیک اور انکا کا غیر متوقع زوال، ایک دوسرے سے لڑنے والی دونوں تہذیبوں کے اختلافات کو نمایاں طور پر واضح کرتا ہے۔ ایزٹیک اور انکا دونوں کے معاملے میں، جنگ کی ماہیت نے مقامی آبادی کو نفسیاتی اور جسمانی طور پر دہشت زدہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس مقابلے نے اقدار میں بنیادی اختلاف کا بھی انکشاف کیا۔ اسپینیوں کا سونا اور چاندی کا لالچ، مقامی باشندوں کے لیے ناقابل فہم تھا۔  
پیداوار کے سرمایہ دارانہ نظام میں پیداوار اور تقسیم کے وسائل پر افراد یا منظم جماعتی کمپنیاں قابض ہوتی ہیں اور اس میں مقابلے کرنے والے کھلے بازار میں حصہ لیتے ہیں۔
آبادی کو غلام بنانے کا عمل جنگ کے واضح ظالمانہ سلوک کی یاد تازہ کر دیتا تھا ۔ غلامی نیا خیال نہ تھا۔ لیکن جنوبی امریکہ کا یہ تجربہ نیا تھا جو اپنے ساتھ پیداوار میں سرمایہ دارانہ نظام لیے ہوئے تھا۔ کام کرنے کے حالات لرزہ خیز تھے۔ لیکن اسپینیوں نے اس استحصال کو اپنے اقتصادی مفاد کے لیے ضروری سمجھا۔

1550 کی دہائی میں پیرو (Peru) کی چاندی کی کان میں کام شروع ہو گیا تھا اور راہب ڈومینکوڈی سانٹو ٹومس (Dominigo de Santo Tomas) نے انڈیز کی کونسل کو بتایا کہ پوٹوسی (Potosi) جہنم کا دہانہ ہے جو ہر سال ہزاروں ہندوستانیوں (Indians) کو نگل لیتا ہے اور لالچی کان مالک ان کے ساتھ آوارہ جانوروں کی طرح سلوک کرتے ہیں۔

  1601 میں اسپین کے فلپ دوم نے اعلانیہ طور پر بیگار پر پابندی لگادی، لیکن اس نے ایک خفیہ سرکاری حکم کے ذریعہ اسے جاری رکھنے کا بندوبست بھی کر دیا۔ 1609 کے قانون کے ساتھ حالات ایک فیصلہ کن موڑ پر پہنچ گئے۔ اس قانون نے مقامی لوگوں، عیسائیوں اور غیر عیسائیوں کو یکساں طور پر مکمل آزادی عطا کردی۔ یوروپ سے آکر وہاں بسنے والے اس سے ناراض ہو گئے اور دو سال کے اندر انھوں نے بادشاہ کو اس قانون کے ختم کرنے اور غلام بنانے کی اجازت دوبارہ دینے پر مجبور کر دیا۔
نئی معاشی سرگرمیوں کی ابتداء کی وجہ سے، جنگلوں کو صاف کرکے، ان زمینوں پر مویشی پالن اور 1700 میں سونے کی دریافت کے بعد کان کی کھدائی کے لیے سستی مزدوری کی مانگ برقرار رہی۔ یہ واضح تھا کہ مقامی لوگ غلام بنائے جانے پر مزاحت کے لیے آمادہ ہو جائیں گے۔ اس لیے اس کے متبادل کے واسطے افریقہ کی طرف رخ کرنا پڑا۔ 1550 کی دہائی اور 1880 کی دہائی کے درمیان (جب برازیل میں غلامی ختم کر دی گئی تھی) 3,600,000 سے زائد افریقی غلام برازیل درآمد کیے گئے۔ یہ تعداد تقریباً شمالی وجنوبی امریکہ کے ذریعہ درآمد کیے گئے افریقی غلاموں کی مجموعی تعداد کی آدھی تھی۔ 1750 میں یہاں ایسے افراد پائے جاتے تھے جو ایک ہزار غلاموں کے مالک تھے۔
1780 کی دہائی میں غلامی کے خاتمہ سے متعلق ابتدائی بحثوں سے وابستہ کچھ ایسے لوگ بھی موجود تھے جن کی دلیل تھی کہ یوروپ کے لوگوں کے آنے سے قبل افریقہ میں غلامی موجود تھی۔ افریقہ میں پندرہویں صدی میں قائم ہونے والی ریاستوں میں بلاشبہ بیشتر کام انجام دینے والے غلام ہی تھے۔ ان لوگوں نے یہ بھی واضح کیا کہ یوروپ کے تاجروں کا ساتھ ان افریقیوں نے دیا جو کم عمر مردوں اور عورتوں کو پکڑنے میں مدد کرتے تھے تاکہ ان پکڑے ہوئے لوگوں کو غلام بناکر بیچا جاسکے۔ اس کے بدلے میں افریقی لوگ جنوبی امریکہ سے درآمد کی ہوئی فصلیں (مکئی، مینیوک (Manioc) اور کساوا (Cassava) (یہ دونوں جزائر عرب الہند کے پودے ہیں جن کے نشاشتے سے روٹی پکائی جاتی ہے) جو ان کے اہم غذائی اجناس تھے) لیتے تھے۔ اپنی خود نوشت سوانح حیات (1789)میں، آزاد کردہ غلام اور لاؤدہ اقیانو (Olaudah Equiano) نے ان دلائل کا جواب یہ کہتے ہوئے دیا کہ افریقہ میں غلام فیملی کا حصہ سمجھے جاتے تھے۔ اولین جدید مورخین میں سے ایک ایرک ولیمس (Eric Williams) نے 1940 کی دہائی میں اپنی کتاب ’سرمایہ داری اور غلامی‘ (Capitalism and Slavery) میں افریقہ کے غلاموں کے ذریعے سہے گئے مظالم کا نئے سرے سے تعین کیا ہے۔

خاتمہ(Epilogue)

انیسویں صدی کی ابتداء میں، جنوبی امریکہ کی نو آبادیوں میں یوروپ کے بسنے والوں نے اسپین اور پرتگال کے خلاف بغاوت کردی تھی اور آزاد ممالک بن گئے۔ جیسا کہ 1776 میں شمالی امریکہ کی تیرہ نو آبادیوں نے برطانیہ کے خلاف بغاوت کر کے ریاست ہائے متحدہ امریکہ کا قیام عمل میں لائیں تھیں۔
جنوبی امریکہ کو آج کل لاطینی امریکہ بھی کہا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس براعظم کی دو اہم زبانیں اسپینی اور پرتگال زبانوں کی لاطینی فیملی کا حصہ ہیں۔ یہاں کے زیادہ تر باشندے اصل یوروپی ہیں (جنہیں کرے یول (Creole) کہا جاتا ہے)۔ ان کی اصل یوروپ اور افریقہ میں ہے۔ ان میں زیادہ تر کیتھولک ہیں۔ ان کی تہذیب میں مقامی روایات کے عناصر یوروپی روایات کے اختلاط کے ساتھ موجود ہیں۔

TC8-11
نقشہ 3: افریقہ کا یہ نقشہ ان علاقوں کی نشاندہی کرتا ہے جہاں سے غلاموں کو پکڑا جاتا تھا۔


مشق  

مختصر جواب دیں  

1۔   ایزٹیک تہذیب کا میسوپوٹامیہ کی تہذیب سے موازنہ کیجیے۔
وہ کون سی نئی ترقیاں تھیں جو پندرہویں صدی میں یوروپی جہاز رانی کی مدد کر رہی تھیں؟
3۔   وہ اسباب بتائیے جن کے تحت پندرہویں صدی میں اسپین اور پرتگال نے بحراوقیاس کو عبور کرنے میں پہل کی تھی؟
4۔   جنوبی امریکہ سے کون سی نئی غذائی اجناس باقی دنیا کو منتقل کی گئی تھیں؟

مختصر مضمون لکھیے:

ایک سترہ سالہ افریقی لڑکے کی، سفر کی روداد لکھیے، جسے پکڑ کر ایک غلام کی حیثیت سے برازیل لے جایا گیا تھا۔
6۔   جنوبی امریکہ کی دریافت نے یوروپی نوآبادیت (Colonialism) کو کس طرح ترقی دی؟