Skip to content
Tareekh-e-alampermabnimauzat

باب 9

IV

جدید کاری کی طرف (Towards Modernisation)

صنعتی انقلاب
دیسی لوگوں کی بے دخلی
جدید کاری کی طرف

TC9-1

جدید کاری کی طرف

(Towards Modernisation) 

گزشتہ فصل میں آپ عہد وسطیٰ اور جدید دنیا کی ابتداء میں ہوئی کچھ بہت اہم یقینی ترقیوں۔ جاگیرداری، یوروپ کی نشاۃ ثانیہ یوروپ اور امریکہ کے لوگوں کے درمیان مڈبھیڑ کے بارے میں پڑھ چکے ہیں۔ چنانچہ آپ نے محسوس کیا ہوگا کہ بعض مظاہر جو ہماری جدید دنیا کی تعمیر میں معاون ثابت ہوئے انھوں نے رفتہ رفتہ اسی عہد میں ترقی کی ہے۔ اور خاص طور سے پندرہویں صدی کے نصف کے بعد۔ دنیا کی تاریخ میں دو مزید ترقیاں اور رونما ہوئیں، جسے جدید کاری، کہا جاتا ہے، کے لئے پوری طرح ماحول بنایا۔ یہ جدید کاری، صنعتی انقلاب اور سیاسی انقلاب کا ایک سلسلہ تھا جس نے رعیت کو شہری باشندوں کا مقام عطا کیا۔ اس کی شروعات امریکی انقلاب (1776-81) اور فرانسیسی انقلاب (1789-94) سے ہوئی۔
برطانیہ دنیا کا پہلا صنعتی ملک بنا۔ یہ کیسے ہوا؟ آپ اس کے بارے میں نویں باب میں پڑھیں گے۔ یقین کیجیے ایک لمبے عرصہ تک انگلینڈ کی صنعت کاری دوسرے ممالک کی صنعت کاری کے لیے نمونہ بنی رہی۔ نویں باب میں بحث کی جائے گی کہ کس طرح مورخین نے صنعتی انقلاب کے تعلق سے کچھ ابتدائی تصورات پر سوالات اٹھائے ہیں۔ ہر ملک دوسرے ملک سے بناکسی ضروری متبادل نمونے کے برابر تجربات حاصل کرتا ہے۔ برطانیہ میں مثال کے طور پر، صنعت کاری کے پہلے مرحلہ میں کوٹلہ اور سوتی کپڑے کی صنعتوں نے ترقی کی جبکہ ریلوے کی ایجاد سے اس عمل کے دوسرے مرحلہ کا آغاز ہوا۔ دیگر ممالک مثلاً روس جہاں صنعت کاری تاخیر (انیسویں صدی کے اوخر کے بعد سے) سے ہوئی ریلوے اور دوسری بھارتی صنعتیں، صنعت کاری کے ابتدائی مرحلہ میں ظاہر ہوئیں۔ صنعت کاری کے دور میں ایک ملک کی حکومت اور اس کے بینکوں کا رول دوسرے ملک سے مختلف ہوگیا۔ نویں باب میں برطانوی صورت حال کا جائزہ لیا گیا ہے جو دوسرے ملک مثلاً امریکہ اور جرمنی جو دو اہم صنعتی طاقتیں تھیں، کے صنعتی خط حرکت کے بارے میں آپ کے تجسس کو یقینا بڑھادے گا۔ نویں باب میں برطانیہ کے ذریعہ صنعت کاری کی خاطر اٹھائے گئے مادی و انسانی صرفہ کا بھی جائزہ لیا گیا ہے، جیسے غریب مزدوروں کی قابل رحم حالت، خاص طور سے بچہ مزدور، ماحولیاتی گراوٹ اور اس کے نتیجہ میں جنم لینے والے وبائی امراض جیسے ہیضہ اور ٹی۔بی۔ اسی طرح گیارہویں باب میں آپ جاپان میں صنعتی آلودگی، کیڈمیم (Cadmium) ( ایک طرح نرم کیمیکل جوٹین کی مانند ہوتا ہے) اور سیمابی زہرآفرینی (Mercury Poisoning) جس نے لوگوں کو بھید بھاؤ پر مبنی صنعت کاری کے خلاف عوامی تحریکات کے ابھرنے کے متعلق پڑھیں گے۔

دنیا سے رشتہ اتحاد—پچیس سالہ چارلس لنڈبرگ نے 1927 نیویارک سے پیرس تک سنگل انجن والے ہوائی جہاز سے بحر اوقیانوس کے اوپر سے ہوائی سفر کیا

TC9-2

صنعتی انقلاب سے قبل یوروپی طاقتوں نے جنوبی افریقہ، ایشیا اور امریکہ کے حصوں میں نوآبادکاری شروع کردی۔ دسویں باب میں آپ کو یہ کہانی بھی سنائی جائے گی کہ یوروپی نوآباد لوگوں نے آسٹریلیائی اور امریکی اصلی باشندوں کے ساتھ کس قسم کا برتاؤ کیا۔ نوآباد لوگوں کی بورژوا ذہنیت نے انھیں بشمول زمین اور پانی ہر چیز بیچنے پر آمادہ کیا۔ لیکن اصل باشندے جو یوروپی اور امریکی لوگوں کے مقابلے میں غیر مہذب لگ رہے تھے، نے یہ سوال اٹھایا کہ ’’اگر آپ کے پاس اپنی تازہ ہوا اور پانی نہیں ہوگا تو کوئی انھیں کیسے خرید سکے گا؟‘‘ اصلی باشندوں نے اپنی زمین، مچھلی یا جانور کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ انھیں تجارت کی کوئی چاہت نہ تھی۔ اگر چیزوں کے تبادلہ کی ضرورت محسوس ہوتی تو وہ عام طور سے چیزیں ہدیہ کردیتے۔ اصلی باشندوں نے سابقاتی رجحانات (Competing Notions) کو بالکل واضح انداز میں پیش کیاہے۔ انھوں نے یوروپ کو امریکہ میں اپنی تہذیب کو ختم کرنے کی اجازت نہیں دی۔ جبکہ بیسویں صدی کے نصف کی امریکی اور کناڈا کی حکومتوں کی چاہت تھی کہ اصلی باشندے عام رجحانات (Mainstream) کو اپنائیں، ان سے منسلک ہوں۔ نیز اس عہد میں آسٹریلیائی حکمرانوں نے عام طور سے اپنی روایات اور تہذیب کو نظر انداز کرنے کی کوشش کی۔ اس پر ہوسکتا ہے کہ کسی کو حیرت ہو کہ تمام رجحان کا مطلب کیا ہے؟ اقتصادی اور سیاسی قوت عام رجحانات کی تہذیب کو جنم دینے میں کیسے اثر انداز ہوتی ہے؟
مغربی سرمایہ داریاں۔ تجارتی اور مالی۔ اور بیسویں صدی کی ابتداء میں جاپانی سرمایہ داری (Capitalism)نے تیسری دنیا کے بیشتر حصے پر اپنی نوآبادیوں کو قائم کرنا شروع کردیا تھا۔ ان میں بعض نو آباد بستیاں (Settler Colonies)تھیں اور دوسری مثلاًہندوستان میں برطانوی حکومت بالواسطہ سامراجی تسلط کی مثالیں تھیں۔ انیسویں اور بیسویں صدی کی ابتداء میں چین کی صورت حال نے سامراجیت کی ایک تیسری مختلف شکل پیش کی۔ فرانس، جرمنی، روس، امریکہ اور جاپان نے سلطنت کی قوت پر بالواسطہ تسلط کے بجائے چینی امور میں دخل اندازی کی اور ملک کو نیم نوآبادی میں تبدیل کرکے نیز چین سے سنجیدہ معاہدے کرکے اپنے ذاتی مفاد کی خاطر ملک کے وسائل کا استحصال کیا۔

TC9-3

دنیا سے رشتہ اتحاد — 1920کی دہائی میں جے۔ لپ چٹز (J. Lipchitz) نے سنگ تراشی کے نمونوں میں مرکزی افریقہ کی فن بت تراشی کے اثر کو دکھایا۔  

دنیا سے رشتہ اتحاد — جاپانی زین پینٹنگ، جس کو مغربی فنکاروں نے سراہا تھا، 1920 کی دہائی میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے ایبسٹریکٹ ایکسپریشنسٹ (Abstract Expressionist) طرز سے متاثر تھی۔  

TC9-4

تقریباً ہر جگہ سامراجی استحصال کو طاقتور قومی تحریکوں کے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اگرچہ قومیت سامراجی سیاق کے علاوہ بھی ابھری جیسے مغرب یا جاپان میں۔ یہ تمام قوم پرستیاں (Nationalism) مشہور و معروف اقتدار کے اصول ہیں۔ قومی تحریکوں کا اعتقاد ہے کہ سیاسی قوت عوام کے ہاتھ میں ہونی چاہئے۔ اس سے قوم پرستی کو ایک نئے تصور اور جدید نظریہ کی حیثیت ملی۔ جبکہ بلدیاتی قوم پرستی میں اقتدار، زبان، نسل، مذہب یا جنس سے قطع نظر تمام لوگوں کو سونپا جاتا ہے۔ اس میں اس بات کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ حقوق کے لیے کام کرنے والے شہریوں کی ایک جماعت تیار کی جائے اور قومیت کی تعریف مذہب اور نسل سے دور رہ کر شہریت کے دائرے میں کی جائے۔ جبکہ نسلی اور مذہبی قوم پرستی کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ قومی استحکام کو مخصوص زبان، مذہب یا روایات کے مجموعہ کے دائرے میں رہ کر قائم کیا جائے اور اس میں لوگوں کی شناخت مشترکہ شہریت کے دائرے سے ہٹ کر نسلی بنیاد پر کی جاتی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ایک مختلف النسل ملک میں نسلی قوم پرست اقتدار کو مخصوص لوگوں تک محدود کردیتے ہیں جو اکثر اقلیتوں سے بالاتر تصور کئے جاتے ہیں۔ آج اکثر مغربی ممالک اپنی قومیت کو مشترکہ نسلیات (Common Ethnicity) کے بجائے مشترکہ شہریت سے تعبیر کرتے ہیں۔ لیکن اس سلسلے میں جرمنی مستثنیٰ ہے۔ وہاں نسلی قوم پرستی (Ethnic Nationalism) کے نظریات کی طویل اور پریشان کن تاریخ رہی ہے جس کی جڑیں 1806 میں جرمنی کے صوبوں پر فرانسیسی سامراج کے قبضہ کے خلاف ہونے والے رد عمل تک پہنچتی ہیں۔ بلدیاتی قوم پرستی (Civic Nationalism)کے نظریات نے پوری دنیامیں نسلی اور مذہبی قوم پرستی کے نظریات سے مقابلہ کیا ہے اور یہی صورت حال موجودہ ہندوستان میں بھی اور بعینیہٖ چین اور جاپان میں بھی۔
جو کچھ صنعت کاری کے ساتھ ہوا بعینیہٖ وہی جدید کاری کے ساتھ بھی ہوا۔ مختلف معاشروں نے اپنے خصوصی جدید طرز (Distinctive Modernities) کو ترقی دی۔ جاپانی اور چینی حالات اس سلسلے میں کافی معلومات افزاء ہیں۔ جاپان استعماری تسلط سے آزادی حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ اور بیسویں صدی میں کافی وسیع اقتصادی اور صنعتی ترقی حاصل کی۔ دوسری جنگ عظیم میں رسواکن شکست کے بعد جاپانی معیشت کی بازیابی کو بطور معجزہ مابعد جنگ کے نہیں دیکھنا چاہئے۔ باب گیارہ کے مطابق یہ نتیجہ ہے ان مخصوص ترقیوں کا جو انیسویں اور بیسویں صدی کے آغاز میں انجام پاچکی تھیں۔ کیا آپ جانتے ہیں! مثال کے طور پر 1910میں پرائمری اسکول کی فیس تقریباً معاف ہوگئی تھی اور نام درج کرانا عام ہوچکا تھا؟ تاہم جاپان کی جدید کاری کی راہ میں کسی بھی دوسرے ممالک کی طرح، جمہوریت اور عسکریت، نسلی قوم پرستی اور بلدیاتی قوم پرستی نیز اس کے درمیان جسے اکثر جاپانی روایات کا نام دیتے ہیں اور مغرب کاری (Westernisation) کے درمیان کافی تناؤ پایا جاتا تھا۔
چینی باشندوں نے اصلاح، انقلاب اور کسان باغیوں کی مدد سے سامراجی استحصال اور زمیندار نوکر شاہی طبقہ سے مقابلہ کیا۔ 1930کے دہے کے آغاز میں چین کی کمیونسٹ پارٹی جس نے کسانوں کو جمع کرکے اپنی طاقت بنائی تھی۔ اس نے سامراجی قوتوں کے ساتھ ساتھ ان قوم پرستوں کا بھی مقابلہ کیا جو ملک کے چیدہ طبقہ (Elite) کی نمائندگی کر رہے تھے۔ انھوں نے ملک کے مخصوص علاقوں میں اپنے نظریات کو بھی نافذ کرنا شروع کردیا جو 1949 میں نظریہ مساوات (Egalitarian Ideology) کی زمین کی اصلاح پر زور اور عورتوں کے مسائل سے واقفیت، بیرونی استعمار اور قوم پرستوں کو شکست دینے میں ان کے مدد گار ثابت ہوئے۔ اور جب ایک بار اقتدار میں آگئے تو عدم مساوات کو کم کرنے ، تعلیم کو فروغ دینے اور سیاسی بیداری پیدا کرنے میں بھی کامیاب ہوگئے۔ تاہم 1960 کے نصف دہے کے بعد ملک کی ایک پارٹی بنیاد اور ریاستی مظالم (State Repression) نے سیاسی نظام میں کافی بے اطمینانی پیدا کردی تھی۔ پھر بھی کمیونسٹ پارٹی بڑی حد تک ملک پر کنٹرول رکھنے کے قابل رہی۔ کیونکہ بازار سے متعلق مخصوص و ضوابط کو اپنانے میں اس نے اپنے آپ میں جدت کی حد تک تبدیلی کی اور چین کو اقتصادی پاور ہاؤس بنانے کے لئے سخت محنت کی ہے۔
مختلف ملکوں نے ’’جدیدیت‘‘ (Modernity) کو اپنے تناظر میں، حالات و تصورات کے مطابق جن مختلف طریقوں سے سمجھا ہے اور اسے حاصل کرنے کی کوشش کی ہے وہ ایک دلکش کہانی ہے۔ اس فصل (Section) میں آپ کو اس کہانی کے بعض پہلوؤں سے روشناس کرایا جائے گا۔


ٹائم لائن IV

(1700 صدی عیسوی سے 2000 عیسوی تک)


TC9-5


یہ ٹائم لائن آپ کے سامنے یہ خاکہ پیش کرے گی کہ دنیا کے مختلف حصوں میں آخری تین صدیوں کے اندر کیا واقعات پیش آئے۔ اور دنیا کے مختلف ممالک کے باشندوں نے جدید دنیا کے بنانے میں کیا معاونت کی۔ اس میں آپ کو افریقہ سے غلاموں کی تجارت اور جنوبی افریقہ میں نسلی امتیازی حکومت کا قیام، یوروپ میں سماجی تحریکات اور قومی ریاستوں کی تشکیل، سامراجی طاقتوں کا پھیلاؤ، جمہوری و نوآبادیاتی مخالف تحریکات نے پچھلی صدی میں دنیا میں کیسے اس کا صفایا کردیاساتھ ہی اس میں کچھ ایجادات اور تکنیکی ارتقاء جو جدیدیت کے ساتھ وابستہ ہیں۔ ان کے بارے میں حوالے ملیں گے۔

تمام ٹائم لائن کی طرح اس میں بھی کچھ تاریخوں کو ملحوظ رکھا گیا ہے، یہ بھی دیگر تاریخوں کی طرح اہم ہیں۔ جب آپ ٹائم لائن تاریخوں کی ایک سیریز دیکھیں گے تو یہ مت سوچئے کہ صرف یہی تاریخیں آپ کے لئے جاننا ضروری ہیں بلکہ پتہ لگائیے کہ مختلف ٹائم لائن مختلف طرح کی تاریخوں پر مرکوز کیوں ہیں اور یہ سیکشن ہمیں کیا بتاتا ہے۔


تاریخیں افریقہ یوروپ
1720-1730 داہومی (Dahomey) مغربی افریقہ کا بادشاہ اگاجا (Agaja, 1724-34) نے غلاموں کی تجارت پر روک لگائی *جو 1740کے دہے میں پھر دوبارہ شروع کی۔
1730-1740 کارولوس لائینس (Carolus Linaeus) نے درجہ بندی نظام * جس کے ذریعہ نباتات و حیوانات کی درجہ بندی کی جاتی ہے ایجاد کیا (1735)۔
1740-1750 his 1
1750-1760 کیپ ٹائون جنوبی افریقہ میں چیچک کی پہلی وبا پھیلی جس کے جراثیم جہاز رانوں کے ذریعہ یہاں آئے (1755)۔ His 2
1760-1770
1770-1780 بین الاقوامی سطح پر غلاموں کی تجارت عروج پرتھی۔ اس تجارت میں تمام نوآبادیاتی طاقتیں ملوث تھیں۔ ہر سال سینکڑوں، ہزاروں کالے افریقی بحر اوقیانوس (ایٹلانٹک) کے اطراف کے ممالک میں بھیجے جاتے تھے۔ ان میں سے دوتہائی عام طور پر جہازوں میں ہی مرجاتے تھے۔ ایملین پگاجوف (Emelian Pegachev) نے کسانوں کی بغاوت کی قیادت کی جو پورے روس میں پھیل گئی (1735-1775)
1780-1790 فرانسیسی انقلاب* کی شروعات (1789)
1790-1800 His 3
1800-1810 مصر میں محمد علی کی حکومت (1805-48) مصر عثمانی سلطنت سے الگ ہوا۔
1810-1820
1820-1830 آزاد غلاموں کے وطن کی حیثیت سے مغربی افریقہ میں لائبریا (Liberia) ملک کا قیام (1822)ہوا۔ لوئس بریل (Louis Braille) نے انگلیوں کے نشانات کو پڑھنے کے ایک طریقے کو ترقی دی* (1823) انگلید میں مسافر ٹرین کی شروعات کی (1825)۔
1830-1840 الجیریا میں فرانس کی موجودگی کے خلاف عبدالقادر کی قیادت میں عربوں کی مزاحمت (1832-1847)ہوئی۔ his 4
1840-1850 یوروپ کے مختلف ممالک میں لبدلی اور سوشلسٹ تحریکات تھیں۔(1848)
1850-1860

تاریخیں افریقہ یوروپ
1860-1870 دنیا کے سب سے اہم تجارتی راستوں میں سے ایک آبی راہ سوئز نہر*تجارت کے لئے کھولی گئی (1869)۔ روسی زرعی غلام آزاد ہوئے (1861)۔
1870-1880 his 5 جرمنی اور اٹلی متحدہ قومی ریاست والے ملکوں کی حیثیت سے ابھرے۔
1880-1890 یوروپین کی ’افریقہ کے لئے زور آزمائی‘ کا آغازہوا۔
1890-1900 his 6 پہلی فلم بنی (1895)؛ پہلے جدید اولمپک کھیل ایتھنزمیں منعقد ہوئے (1896)۔
1900-1910 گاندھی جی* نے نسلی قوانین کے خلاف مزاحمت کرنے کی وکالت کی (1906)۔
1910-1920 جنوبی افریقہ میں گورے لوگوں کے لئے 87فی صد زمین محفوظ کرنے والے قوانین جاری کئے گئے۔ پہلی جنگ عظیم (1914-1918)  1917کا روسی کا انقلاب۔
1920-1930 مصطفیٰ کمال کی قیادت میں ترکی ایک جمہوریہ بنا (1923)
1930-1940 انگولا سے موزمبیق کے درمیان پہلی ٹرانس۔ افریقی ریلوے لائن کا کام مکمل ہوا (1931)۔ ہٹلر نے جرمنی کے اقتدار پر قبضہ کیا (1933)؛ دوسری جنگ عظیم (1939-1945) ہوئی۔
1940-1950 افریکنر نیشنل پارٹی نے جنوبی افریقہ میں اقتدار کے لئے جیت حاصل کی (1948)۔ نسلی امتیاز کی پالیسی کا اطلاق ہوا۔ برطانیہ نے آئرش (Irish) کی آزادی کو تسلیم کیا (1949)۔
1950-1960 افریقہ کے سہارا ریگستان کے زیریں علاقہ کے ممالک میں گھانا پہلا آزاد ملک بنا (1957)۔ DNA کی ایجاد؛ روس نے اسپوتنک (Sputnik) خلائی طیارہ (Spacecraft) خلا میں بھیجا (1957)۔
1960-1970 تنظیم برائے افریقی اتحاد (Organisation of African Unity) کا قیام (1963)ہوا۔ یوروپ میں احتجاجی تحریکیں (1968)۔
1970-1980 his 7
1980-1990 سوویت یونین کے لیڈر میخائل گور با چوف (1985)؛ دنیا ایک وسیع جال (World Wide Web)بننے کا آغاز (1989)۔
1990-2000 جنوبی افریقہ میں نیلسن منڈیلا* جیل سے رہا ہوئے (1990)؛ نسلی امتیاز کی پالیسی کے خاتمہ کا عمل شروع ہوا۔ سائنس دانوں نے بھیڑ ڈولی کا کلون (Clone)تیار کیا (1997) جس نے Genetic Engineering کی حدود طے کرنے کے متعلق نئے مباحث تیز کئے۔


تاریخیں ایشیا جنوبی ایشیا
1720-1730 گوجن ٹو شوجی چینگ (Gajin tushu jicheng*) دنیا کی اب تک کی سب سے بڑی انسائیکلوپیڈیا کانگزی (Kangxi) کی اجازت سے چھاپی گئی۔ مانچوچین کا حکمران بنا۔
1730-1740 his 8
1740-1750 مرہٹوں نے اپنا اقتدار شمالی ہند تک بڑھایا۔
1750-1760 اوکی کونیو(Aoki Konyo)، ایک جاپانی عالم نے ڈچ پر جاپانی لغت مرتب کی (1758)۔ پلاسی کی جنگ میں رابرٹ کلائیٹو نے بنگال کے نواب سراج الدولہ کو شکست دی (1757)۔
1760-1770 his 9
1770-1780
1780-1790 برطانیہ کی ہندوستان سے چین کو افیم*کی تجارت ڈرامائی انداز میں بڑھی۔
1790-1800 his 10 رنجیت سنگھ*نے پنجاب میں سکھ ریاست قائم کی (1799)۔
his 11
1800-1810
1800-1810
1810-1820
1820-1830 ڈچ کے خلاف جوانیز (Javanese) کی بغاوت (1825-30۔ ستی کی رسم غیر قانونی قرار دی گئی (1829)۔
1830-1840 عثمانی سلطان عبدالمجید نے ترکی کے جدید کاری کے پروگرام کا آغاز کیا (1839)۔
1840-1850
1850-1860
تھائی لینڈ کے حکمراں رام IV نے ملک میں تجارت کے دروازے غیر ملکیوں کے لیے کھولے۔
1860-1870
فرانسیسیوں نے انڈوچین پر قبضہ کرنا شروع کیا (جنوب مشرقی ایشیا) (1862)
1870-1880
ٹوکیو سے یوکوہاما کے درمیان پہلی جاپانی ریل کی شروعات (1872)۔ جنوبی ہندوستان کے دکن علاقے میں قحط (1876-78) جس میں 50 لاکھ سے زائد لوگ مارے گئے۔
1880-1890
برطانیہ نے برما (میانمار) کا الحاق کیا (1885-86)۔ انڈین نیشنل کانگریس کا قیام (1885)*
his 12
1890-1900





تاریخیں ایشیا جنوبی ایشیا
1900-1910 جاپانی بحری فوج نے روس کو شکست دی (1905)۔
1910-1920 بال فور اعلانیہ (Balfour Declaration) میں وعدہ کیا گیا کہ یہودیوں کو آبائی وطن فلسطین میں دیا جائے گا (1917)۔
1920-1930 گاندھی جی نے عدم تعاون کی تحریک شروع کی (1921)۔ ای۔ وی۔ راما سوامی نائیکر نے تامل ناڈو میں Self Respect Movement شروع کیا (1925)۔
1930-1940 برطانوی تیل پائپ لائن کا عراق سے شام کے لیے کھلنا (1934)۔ اردشیر ایرانی نے پہلی ہندوستانی فلم عالم آراء بنائی (1931)۔
1940-1950 ریاستہائے متحدہ امریکہ نے جاپان کے شہر ہیروشیما اور ناگا ساکی پر ایٹم بم گرائے (1945)*تقریباً 120,000شہری مارے گئے۔ بہت سے افراد ایٹمی شعاعوں کی حدت سے مارے گئے؛چین کا عوامی جمہوریہ بننا (1949)۔ بغداد کو استنبول سے جوڑنے والی برلن بغداد ریل شروع ہوئی (1940)۔
ہندوستان چھوڑو تحریک کا آغاز (1942)؛اور  
ہندوستان اور پاکستان آزاد بنے (1947)۔

1950-1960 بنڈنگ (Bundung)کانفرنس (1955)نے ناوابستہ تحریک کو مضبوطی عطا کی۔ ہندوستان جمہوریہ بنا(1950)*۔
1960-1970 عرب لیڈروں نے فلسطینی مہاجروں کو متحد کرنے کے لئے تنظیم برائے آزادیٔ فلسطین بنائی (1964)؛ ویتنام کی جنگ (1965-73)۔ سری موبندارنائیکے (Sirimavo Bandarnaike)
 دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم بنیں (1960)۔
his13
1970-1980 ایران کے شاہ کو معزول کیا گیا (1979)۔ ایک آزاد ملک کی حیثیت سے بنگلہ دیش کا ظہور(1971)۔
1980-1990 بیجنگ، چین، کے ٹائنن مین اسکوائر (Tiananmen Square) میں جمہوریت قائم کرنے کے لئے زبردست عوامی مظاہرہ (1989)۔ بھوپال یونین کاربائیڈ گیس پلانٹ سے یونین کاربائیڈ گیس کا اخراج (1984) جو تاریخ میں پہلی صنعتی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہوا، ہزاروں افراد مارے گئے۔
1990-2000 عراق ، کویت اور ریاستہائے متحدہ امریکہ کے مابین خلیجی جنگ۔ ہندوستان اور پاکستان نے نیوکلئیر ٹسٹ کئے (1998)۔
his 13
his 14

تاریخیں براعظم امریکہ (شمالی و جنوبی)
1720-1730 پرتگالیوں نے برازیل میں کافی کو متعارف کرایا(1727)۔ ڈچ جہازراں روگوین (Roggeveen) بحرالکاہل کے جزائر ساموا (Samoa) اور جزیرہ اور جزیرہ ایسٹر (Easter) پہنچا (1722)۔
1730-1740 ایک خواندہ غلام نے اسٹونو (Stono)غلاموں کی بغاوت کی قیادت کی (1739)۔ his 15
1740-1750 جوان سانٹوس (Juan Santos) اٹاہولپا دوم (Atahualpa II) کے نام سے بھی جانا جاتاہے، نے پیرو کے امریکیوں کی ناکام بغاوت کی قیادت کی (1742)۔
1750-1760
1760-1770 اوٹاوا (Ottawa) قبیلے کے سردار پونٹیاک (Pontiac) کی سربراہی میں انگلینڈ کے خلاف احتجاج کیا (1763)۔ پہلے انگلینڈ کے کیپٹن جیمس کک (James Cook)کے بحرالکاہل* کے تین بحری سفر (1768-71)۔
1770-1780 امریکہ کی جنگ آزادی کا اعلانیہ (1776)۔
1780-1790 امریکی آئین مرتب ہوا اور ڈالر کا پہلی دفعہ امریکی کرنسی کے طور پر استعمال کیا گیا (1787)۔ پہلی دفعہ برطانوی مجرموں کو آسٹریلیا بوٹانی (Botany) خلیج کے لئے سوار کیا گیا (1788)۔
1790-1800
1800-1810 میتھیو فلنڈرس (Mathew Flinders) نے آسٹریلیا کے گرد جہاز سے سفر کیا اور پھر اسے آسٹریلیا نام دیا جس کے معنی ’’جنوبی‘‘ کے نہیں (1801-03)۔
1810-1820
1820-1830 سائمن بولیور (Simon Bolivar)* نے ونیزولا (Venezuela) کی جنگ آزادی کی قیادت کی (1821)۔
1830-1840 امریکہ میں ’’تکلیف دہ دور‘‘ (Trail of Tears) ہزاروں مشرقی امریکیوں کو بالجبر مغرب کی طرف دھکیلا گیا جس میں بہت سے لوگ راستے میں مارے گئے (1838)۔ چارلس ڈارون نے بحرالکاہل کے جزائر گالاپیگوس (Galapagos) کا سفر کیا جو اس کا نظریہ ارتقاء (Theory of Evolution) پیش کرنے میں سرخیل بنے۔
1840-1850 نیویارک کے سینیکا فالس (Seneca Falls) کے جلسہ میں امریکی عورتوں کے لئے مساوی حقوق کی مانگ (1848) ہوئی۔ برطانوی اور مائوریس (Maoris) لوگوں نے نیوزی لینڈ میں ویٹانگی (Waitangi) کے معاہدہ پر دستخط کئے (1840) جو مائوری (Maori) میں بغاوتوں کے ایک سلسلے کا باعث بنا (1844-88)۔
1850-1860 his 16 آسٹریلیا اور انگلینڈ کے درمیان پہلی دفعہ باقاعدہ دخانی جہاز (Steamship) کی سروس کا آغاز (1856)ہوا۔

تاریخیں  بر اعظم (شمالی، جنوبی) آسٹریلیا/ جزائر بحر الکاہل 
1870-1860 ریاستہائے متحدہ امریکہ خانہ جنگی(65-1861)۔آئین کی تیرہویں ترمیم میں غلامی کو غیر قانونی قرار دیا گیا انگلینڈ سے قیدیوں کو آسٹریلیا لے جانا بند کر دیا گیا(1868)۔
1880-1870 ٹیلیفون ، ریکارڈ پلیئر اور بجلی کے بلب کی ایجاد 
1890-1880 کوکاکولا کی ایجاد٭ 1886his 17
1900-1890 نیوزی لینڈ میں عورتوں کو رائے دہی کا حق ملا (1893)۔
1910-1900 رائٹ (Wright) بھائیوں نے ہوائی جہاز ایجاد کیا(1903)
1920-1910 ہنری فورڈ نے کاروں کا بنانا شروع کیا(1913)،بحر اوقیانوس اور بحر الکاہل کو آپس میں جوڑنے والی پناما نہر کھول دی گئی (1914)- سامو آکے مئو(Mau) عوام نے نیوزی لینڈ کی حکومت کے خلاف بغاوت کی (1929)۔
1940-1930
1950-1940 دوسری جنگ عظیم میں امریکہ کی شمولیت 
1960-1950 کیوبا ے انتقال کے بعد فیڈل کاسترو اقتدار میں آئے (1958)۔
1970-1960 ریاستہائے متحدہ امریکہ میں شہری حقوق ک لیے تحریک٭ 1963 زہری حقوق ایکٹ 1964 نسلی امتیاز پر پابندی۔ شہری حقوق تحریک کے لیڈر مارٹن لوتھر کنگ کا قتل 1968؛ امریکی خلائی مسافر چاند پر اترے(1969)۔
1980-1970 خواتین کی تحریک کے نتیجے میں امریکی کانگریس نے مساوی مواقع ایکٹ (Equal Opportunity)پاس کیا(1972)- ٹونگا(Tonga) اور فجی نے انگلینڈ کی حکومت سے آزادی حاصل کی 1970۔ پایو آنیوگینیا(Papua New Guinea) نے آسٹریلیا سے آزادی حاصل کی۔ 
1990-1980 his 18 نیوزی لینڈ کو ایک نیو کلیئر فری خطہ کی حیثیت سے اعلان کیا گیا، 1989، راؤ ٹونگا(Raotonga) معاہدہ کی رو سے جنوبی بحر الکاہل کا نیو کلیئر فری خطہ کی حیثیت سے قیام (1986)
2000-1990


صنعتی انقلاب

(The Industrial Revolution)


1780 سے 1850 کی دہائیوں میں برطانیہ میں صنعت اور معیشت میں جو تغیر کلّی ہوا تھا اسے ’پہلا صنعتی انقلاب‘* کہا جاتا ہے۔ اس انقلاب کے برطانیہ پر دور رس اثرات مرتب ہوئے۔ بعد میں یوروپی ممالک اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں اسی طرح کی تبدیلیاں واقع ہوئیں۔ ان تبدیلیوں نے ان ممالک پر اور بقیہ دنیا کے سماج اور معیشت پر بھی اہم اثرات مرتب کیے۔

* دوسرا صنعتی انقلاب تقریباً 1850 کے بعد رونما ہوا۔ اس میں نئے میدانوں جیسے کیمیکل اور الیکٹریکل کی صنعتوں میں وسعت آئی۔ اس زمانے میں برطانیہ جو پہلے صنعتی طاقت میں دنیا کا قائد تھا، پچھڑ گیا اور جرمنی و ریاست ہائے متحدہ امریکہ اس سے آگے نکل گئے۔

برطانیہ میں صنعتی انقلاب کا یہ دور مشینوں اور ٹکنالوجی کے ساتھ مضبوطی سے وابستہ تھا۔ اس کی وجہ سے دستکاری اور ہاتھ کرگھا صنعتوں کے مقابلے میں بڑے پیمانے پر اشیاء کی پیداوار ممکن ہوگئی۔ اس باب میں کپاس اور لوہے کی صنعتوں میں آئی تبدیلیوں کا خاکہ پیش کیا گیا ہے۔ برطانیہ کی صنعتوں میں وسیع پیمانے پر طاقت کے ایک نئے ذریعہ ’بھاپ‘ کا استعمال ہونے لگا۔ اس کا استعمال پانی کے جہازوں اور ریلوے کی رفتار میں تیزی کا سبب بنا۔ بہت سے موجد اور تاجر جو ان تبدیلیوں کے لانے کا ذریعہ بنے تھے، ان میں اکثر نہ تو دولت مند تھے اور نہ ہی بنیادی سائنس جیسے فزکس یا کیمسٹری کے تعلیم یافتہ تھے، جیسا کہ ان میں سے کچھ سماجی پس منظر پر سرسری نگاہ ڈالنے سے پتہ چلتا ہے۔
صنعت کاری کچھ لوگوں کے لیے زیادہ خوشحالی کا سبب بنی۔ لیکن صنعت کاری کے ابتدائی دور میں لاکھوں لوگوں بشمول عورتوں اور بچوں کے رہن سہن اور کام کے حالات پسماندگی کے ساتھ وابستہ تھے۔ یہ حالات احتجاج کے لیے چنگاری ثابت ہوئے، جنھوں نے حکومت کو مجبور کیا کہ وہ کام کے حالات کو منضبط کرنے کے لیے قانون بنائے۔
’’صنعتی انقلاب‘ اصطلاح کا استعمال، فرانس میں مائیچیلیٹ (Michelet) اور جرمنی میں فرائڈرک اینجلز (Friedrich Engels) جیسے یوروپی دانشوروں نے کیا تھا۔ انگریزی میں سب سے پہلے اس اصطلاح کا استعمال فلسفی اور ماہر معاشیات آرنلڈ ٹائن بی (Arnold Toynbee 1852-83) کے ذریعہ ان تبدیلیوں کی وضاحت کرنے کے لیے کیا گیا تھا جو برطانیہ کے صنعتی انقلاب کی وجہ سے 1760 سے 1820 کے درمیان واقع ہوئی تھیں۔ یہ اتفاق سے وہی زمانہ تھا جب جارج سوم (George III) کا عہد حکومت تھا، جس پر ٹائن بی نے آکسفورڈ یونیورسٹی میں متعدد لیکچر دیے تھے۔ اس کے لیکچر کا مجموعہ بعنوان ’’انگلینڈ کے صنعتی انقلاب کے متعلق تقاریر: عمومی خطباط،  یادداشتیں اور دیگر متفرقات
‘‘ (Lectures on the Industrial Revolution: Popular Addresses, Notes and other Fragments) 1884 میں اس کی بے وقت موت کے بعد شائع ہوا۔
بعد کے مورخین ٹی- ایس- آشٹن (T.S.Ashton) پال مینٹوکس (Paul Montoux) اور ایرک ہوبس بام (Eric Hobsbawm) اجمالی طور پر ٹائن بی سے متفق تھے۔ 1780 کے دہے سے 1820 تک کے دوران کپاس اور لوہا صنعتوں، کوئلہ کان کنی، سڑکوں اور نہروں کی تعمیر اور غیر ملکی تجارت میں غیر معمولی معاشی ترقی ہوئی۔ آشٹن (1889 - 1968) نے صنعتی انقلاب کا جشن منایا جب انگلینڈ نے ’’چھوٹی مشینوں اور کل پرزوں (Gadgets) کی لہر کے ذریعہ (ہاتھ کی بنی اشیاء کا) صفایا کر دیا۔‘‘

سرگرمی 1

اٹھارہویں صدی میں برطانیہ اور دنیا کے دیگر حصوں میں ہوئی ترقی پر بحث کیجیے جس نے برطانوی صنعت کاری کی حوصلہ افزائی کی تھی۔

برطانیہ کیوں؟

برطانیہ پہلا ملک تھا جس کو جدید صنعت کاری کا تجربہ ہوا تھا۔ برطانیہ سترہویں صدی سے سیاسی اعتبار سے مستحکم تھا اور اس کے تینوں علاقے انگلینڈ، ویلس (Wales) اور اسکاٹ لینڈ ایک شہنشاہیت کی قیادت میں متحد تھے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ سلطنت میں مشترکہ قوانین، ایک واحد کرنسی اور ایک مارکیٹ، جس میں متفرق مقامی حکومت (عہدہ دار) اپنے علاقے سے گذرنے والی اشیاء پر کوئی ٹیکس نہیں لگا سکتی تھیں، جس کی وجہ سے قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ سترہویں صدی کے آخر تک اشیاء کے لین دین کے لیے پیسے کا استعمال وسیع پیمانے پر ہونے لگا۔ اس وقت تک عوام کے ایک بڑے حصے کی آمدنی اشیاء کے بجائے مزدوروں اور تنخواہ کی شکل میں ہونے لگی۔ اس نے لوگوں کو اپنی آمدنی خرچ کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر انتخاب کے طور طریقے دیے اور اشیاء کی فروخت کے لیے بازار بھی وسیع ہوگئے۔
اٹھارہویں صدی میں انگلینڈ ایک بڑی معاشی تبدیلی کے دور سے گذر رہا تھا۔ جسے بعد میں زرعی انقلاب کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا عمل تھا جس کے ذریعہ بڑے زمینداروں نے اپنی جاگیروں کے قریب چھوٹے چھوٹے کھیتوں کو خریدلیا اور گاؤں کی مشترکہ زمینوں کو گھیر لیا۔ اس طرح انھوں نے بڑی بڑی جاگیریں بنالیں اور غذائی پیداوار میں اضافہ کرلیا۔ اس وجہ سے بے زمین کسانوں اور گاؤں کی مشترکہ زمینوں پر اپنے جانور چرانے والے لوگوں کو کام کی تلاش میں ادھر ادھر گھومنے پر مجبور ہونا پڑا۔ ان میں سے بہت لوگ قرب و جوار کے شہروں میں چلے گئے۔

’’دولت مند اور مغرور شخص خالی جگہ (کھیت) کو جو بہت سے نادار لوگوں نے بہم پہنچائی تھی فوراً اپنے قبضے میں لے لیتا ہے:  
یہ جگہ اپنی جھیل کے لیے، اپنے سبزہ زاروں کی وسیع حد بندی کے لیے،یہ جگہ اپنے گھوڑوں کے لیےسازوسامان کے لیے اور شکاری کتوں کے لیے؛اپنے ڈھیلے ریشمی لباس میں
جو اس کے جسم پر لپٹا ہےقرب و جوار کے کھیتوں کی آدھی پیداوار کو اس لباس میں چھپا لیتا ہے۔‘‘
اولیور گولڈ اسمتھ (Oliver Gold Smith 1728-74)  
’’ویران گاؤں‘‘ (The Deserted Village)

شہر، تجارت اور مالیات

اٹھارہویں صدی سے یوروپ میں بہت سے شہر آبادی اور رقبہ کے اعتبار سے بتدریج بڑھنے لگے تھے۔ یوروپ کے جن 19 شہروں کی آبادی 1750 اور 1800 کے درمیان دوگنی ہو گئی تھی ان میں سے 11 شہر صرف انگلینڈ میں تھے۔ ان سب میں لندن سب سے بڑا شہر تھا جو ملک کے بازاروں کا ایک طرح سے مرکز کے طور پر کام کرتا تھا۔ بقیہ بڑے شہر بھی لندن کے قرب و جوار میں واقع تھے۔
لندن نے پوری دنیا میں بھی ایک خاص اہمیت حاصل کرلی تھی۔ اٹھارہویں صدی کے آخر تک عالمی تجارت کا مرکز اٹلی اور فرانس کے بحیرۂ روم کی بندرگاہوں سے ہالینڈ اور انگلینڈ کے بحر اوقیانوس کی بندرگاہوں پر منتقل ہو گیا تھا۔ اس کے بعد تو لندن نے بحیثیت بین الاقوامی تجارت کے لیے بنیادی قرض دینے کے منبع کی شکل میں ایمسٹرڈیم (Amsterdam) کی جگہ لے لی تھی۔ ساتھ ہی لندن، انگلینڈ، افریقہ اور وسیٹ انڈیز کے درمیان سہ رخی تجارتی نیٹ ورک کا مرکز بھی بن گیا۔ جو کمپنیاں امریکہ اور ایشیا سے تجارت کرتی تھیں ان کے دفاتر لندن میں بھی تھے۔ انگلینڈ کے بازاروں کے بیچ اشیاء کی نقل و حرکت میں دریاؤں کے نیٹ ورک اور دندانے دار ساحلی خط اور محفوظ خلیجوں نے بڑی مدد کی تھی۔ ریلوے کے پھیلاؤ ہونے تک بحری راستوں سے نقل و حمل زمینی راستوں کے مقابلے میں سستا اور تیز رفتار تھا۔ کافی پہلے 1724 تک، انگلینڈ کے دریا لگ بھگ 1160 میل بحری راستہ مہیا کراتے تھے۔ اور پہاڑی علاقوں کو چھوڑ کر ملک کے زیادہ تر مقامات دریا سے 15 میل کی دوری کے اندر واقع تھے۔ چونکہ انگلینڈ کے سبھی دریاؤں کے جہاز رانی کے قابل حصے سمندر کی طرف بہتے تھے۔ اس لیے دریائی جہازوں یعنی بڑی کشتیوں سے مال آسانی کے ساتھ ساحلی جہازوں میں منتقل کر دیا جاتا تھا، جنہیں کوئسٹرس (Coasters) کہا جاتا تھا۔ 1800 تک ان کوئسٹرس پر تقریباً 100,000 ملاح کام کرتے تھے۔
ملک کے مالیاتی نظام کا مرکز بینک آف انگلینڈ (1694 میں قائم شد) تھا۔ 1784 تک انگلینڈ میں سو سے زیادہ صوبائی بینک موجود تھے اور اگلے دس سالوں کے دوران ان کی تعداد تین گنا ہو گئی تھی۔ 1820 کی دہائی تک صوبوں میں 600 سے زیادہ بینک تھے اور صرف لندن میں اکیلے 100 سے زیادہ بینک موجود تھے۔ بڑی صنعتی مہوں کو قائم کرنے اور جاری رکھنے کے لیے مالی ضروریات ان ہی بینکوں کے ذریعہ حاصل ہوتی تھی۔
1780 کی دہائی سے1850 کی دہائی تک برطانیہ میں جو صنعت کاری ہوئی، اس کے کچھ اسباب کی وضاحت جزوی طور پر اوپر بیان کی جاچکی ہے، گاؤں سے بہت سے غریب افراد شہروں میں کام کرنے کے لیے دستیاب تھے اور بڑی صنعتیں قائم کرنے کے لیے بینک بڑی رقم قرض کے طور پر دے سکتے تھے اور یہاں ایک بہتر نقل و حمل کا نیٹ ورک موجود تھا۔
آگے کے صفحات میں دو نئے اسباب بیان کیے جائیں گے۔ تکنیکی تبدیلیوں کا ایک سلسلہ جس نے پیداوار کی سطح کو ڈرامائی انداز میں آگے بڑھایا اور ایک نیا نقل و حمل کا نیٹ ورک جو ریلوے کی تعمیر سے وجود میں آیا تھا۔ ان دونوں ترقیوں کے درمیان اگر تاریخ کو غور سے پڑھیں تو آپ پائیں گے کہ دونوں ترقیوں اور ان کے بڑے پیمانے پر استعمال کے درمیان کچھ دہائیوں کا فاصلہ ہے۔ اس لیے کوئی یہ نہ مان لے کہ ٹکنالوجی میں نئی ایجاد کا استعمال صنعت میں فوراً شروع ہو گیا تھا۔
اٹھارہویں صدی میں کل 26,000 ایجادات کا اندراج کیا گیا۔ ان میں سے نصف سے زائد ایجادات 1782 سے 1800 کے درمیان ہوئیں تھیں۔ ان کی وجہ سے بہت سی تبدیلیاں واقع ہوئیں۔ ہم ان میں سے صرف چار اہم تبدیلیوں یعنی لوہا صنعت کی تغیر کلّی، کپاس کی کتائی اور بنائی، بھاپ کی طاقت کی ترقی اور ریلوے کی شروعات پر بحث کریں گے۔

کوئلہ اور لوہا

انگلینڈ اس معاملے میں خوش قسمت تھا کہ وہاں مشین کاری (Mechanisation) کے لیے ضروری خام مال، کوئلہ اور لوہا وافر مقدار میں موجود تھا۔ اس کے علاوہ دیگر معدنیات جیسے سیسہ، تانبہ اور ٹن، جن کا استعمال صنعتوں میں کیا جاتا تھا، دستیاب تھے۔ حالانکہ اٹھارہویں صدی تک یہاں قابل استعمال لوہے کی کمی تھی۔ لوہا پگھلا کر صاف کرنے کے عمل کے ذریعہ کچی دھات میں سے خالص رقیق دھات کی شکل میں نکالا جاتا تھا۔ صدیوں تک اس پگھلانے کے عمل کے لیے کچے کوئلے (جلی ہوئی لکڑی سے بنا کوئلہ) کا استعمال کیا جاتا تھا۔

TC9-18
کول بروک ڈیل: انجن بھٹیاں (Blastfurnaces) (بائیں اور وسط میں) اور لکڑی کے کوئلے کے تندور (Charcoal Ovens) (دائیں طرف)۔ ایف- وی واریس (F.Vivares)       کے ذریعہ1758    کی گئی مصوری ۔

اس میں کئی قسم کی مشکلات تھیں، جیسے لکڑی کا کوئلہ لمبی دوری تک لے جانے میں ٹوٹ جاتا تھا۔ اس کوئلہ میں موجود میلے پن کے سبب گھٹیا قسم کا لوہا پیدا ہوتا تھا۔ یہ کم مقدار میں مہیا تھا۔ کیونکہ عمارتی لکڑی کے لیے جنگلات ختم ہو گئے تھے اور یہ اونچا درجۂ تپش (High Temperature)، پیدا نہیں کر سکتا تھا۔ اس مشکل کا شروپ شائر (Shropshire) کے ڈربی (Darby)، لوہے کے استادان فن خاندان، کے حل کرنے سے پہلے تک برسوں سے اس کا حل تلاش کیا جارہا تھا۔ نصف صدی کے دوران اس خاندان کی تین نسلوں نے دادا، باپ اور بیٹا، سبھی ابراہم ڈربی کے نام سے پکارے جاتے تھے، خام دھات کو صاف کرنے کی صنعت میں انقلاب لائے۔ اس انقلاب کی ابتداء 1709 میں ابراہم ڈربی (1677-1717) کے ذریعہ کی گئی ایک ایجاد کے ساتھ ہوئی یہ انجن بھٹی (Blastfurnace) تھی جس میں پتھر کے کوئلہ (Coke) کا استعمال کیا گیا۔ جو درجۂ تپش کو اونچا کر سکتا تھا۔ پتھر کا کوئلہ، کوئلے سے گندھک اور گندگی صاف کرکے حاصل کیا جاتا تھا۔ اس ایجاد کا مطلب یہ تھا کہ اب آگے لکڑی کے کوئلے پر انحصار نہیں کرنا پڑے گا۔ ان بھٹیوں سے جو پگھلا ہوا لوہا نکلتا تھا اس سے پہلے کے مقابلے زیادہ عمدہ اور لمبی ڈھلائی ہوتی تھی۔

TC9-19
کول بروک ڈیل کے قریب ڈھالاگیا لوہے کا پل۔ ولیم ولیمس کے ذریعہ کی گئی مصوری 1780۔

اس عمل میں کچھ اور ایجادات کے ذریعہ اور نفاست آئی۔ ڈربی دوم (1711-1768) نے پگ آئرن (Pig-iron) (لوہے کا ڈلا جو بھٹی سے نکل کر مستطیل کی شکل میں جم جاتا ہے) سے روٹ آئرن (Wrought-iron) (کوٹ کر ٹھیک کیا ہوا لوہا)، جس میں کم لوچ تھا، کی نشوونما کی۔ ہینری کورٹ (Henry Cort 1740-1823) نے لوح دار بھٹی (Puddling Furnace) (پگھلے ہوئے لوہے کو ہلاکر لوح دار بنانا) (جس میں پگھلے لوہے میں سے گندگی دور کی جاسکتی ہے) اور بیلن مل (Rolling Mill) کا نقشہ تیار کیا، جس میں صاف لوہے کو سلاخیں بنانے کے لیے بھاپ کی طاقت سے بیلا جاتا تھا۔ اس کی وجہ سے اب مختلف اقسام کی لوہے کی مصنوعات بنانا ممکن ہو گیا تھا۔ لوہے کی بنی مصنوعات کی پائیداری لکڑی کی مصنوعات کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ اس لیے اس سے روز مرہ کے استعمال کی اشیاء اور مشینیں بنانے کے لیے عمدہ سامان مانا جانے لگا برخلاف لکڑی کے، جو جل یا کٹ سکتی تھی۔ لوہے کی مادی اور کیمیائی صفات کو کنٹرول کیا جاسکتا تھا۔ 1770 کی دہائی میں جون ولکنسن (John Wilkinson 1728-1808) نے پہلی دفعہ لوہے کی کرسیاں، شراب و مشروب (Breweries and Distilleries) کی بھٹی کے لیے بڑی بڑی ناندیں (Vats) اور سبھی سائز کے لوہے کے پائپ بنائے۔ 1779 میں ڈربی سوم (Third Darby 1750-91) نے دنیا میں پہلا لوہے کا پل کول بروک ڈیل میں سیورن (Severn) ندی* کے پھیلاؤ پر بنایا۔ ولکنسن نے ڈھلے لوہے کا استعمال پہلی دفعہ پانی کے پائپ بنانے کے لیے کیا (پیرس کو پانی کی فراہمی کے لیے 40 میل لمبی پائپ لائن کے لیے)۔

* بعد میں یہ علاقہ ’آئرن برج‘ (Ironbridge) کے نام سے پروان چڑھا۔

TC9-20
نقشہ : برطانیہ آئرن صنعت

لوہا صنعت اور بعد میں مخصوص علاقوں میں کوئلہ کان کنی اور لوہا ڈھلائی کی ملی جلی اکائیوں کے طور پر مرکوز ہو گئی۔ برطانیہ خوش قسمت تھا کہ وہاں ایک ہی معدنیات کی وادی یا یہاں تک کہ ایک ہی تہہ یا زمینی طبقات میں بہترین پتھر کا کوئلہ اور اعلیٰ درجہ کا خام لوہا ایک ساتھ دستیاب تھا۔ یہ معدنیات کے علاقے بندرگاہوں کے قریب واقعے تھے۔ یہاں پانچ ایسی ساحلی کوئلہ کانیں تھیں جو اپنے سامان کو لگ بھگ سیدھے پانی کے جہازوں کی سیر کر سکتی تھیں۔ چونکہ کوئلہ کانیں ساحل کے قریب تھیں اس لیے یہاں جہاز سازی اور جہازی مال برداری کے کاروبار میں اضافہ ہوا۔
1800 سے 1830 کے درمیان برطانیہ کی لوہا صنعت کی مجموعی پیداوار چارگنا بڑھ گئی تھی۔ اور اس کی لوہا مصنوعات یوروپ میں سب سے سستی تھیں۔ 1820 میں ایک ٹن پگ آئرن (Pig-iron) بنانے کے لیے 8 ٹن کوئلے کی ضرورت ہوتی تھی۔ لیکن 1850 تک ایک ٹن پگ آئرن دوٹن کوئلے کا استعمال کرکے تیار کیا جاسکتا تھا۔ 1848 تک برطانیہ میں پگھلائے جانے والے لوہے کی مقدار پوری دنیا میں پگھلائے جانے والے لوہے کے مقابلے میں زیادہ تھی۔

سرگرمی 2

’’آئرن برج‘‘ (لوہے کا پل) جورج (Gorge) آج ایک اہم ’’وراثتی مقام‘‘ ہے۔ کیا آپ بتا سکتے ہیں کیوں؟

کپاس کی کتائی اور بنائی

برطانوی لوگ ہمیشہ اون اور سن (کتان (Linen) بنانے کے لیے) سے کپڑے بناکرتے تھے۔ سترہویں صدی سے انگلینڈ سوتی کپڑوں کی گانٹھیں زائد قیمت پر ہندوستان سے درآمد کرتا تھا۔ لیکن جب ہندوستان کے علاقوں پر ایسٹ انڈیا کمپنی کا کنٹرول قائم ہو گیا تب انگلینڈ نے کپڑوں کے ساتھ ساتھ کچی کپاس (روئی) کی درآمد بھی شروع کردی، جس کو انگلینڈ میں کاتا جاسکتا تھا اور کپڑے بنے جاسکتے تھے۔
اٹھارہویں صدی کی ابتداء تک کتائی کا کام بہت دھیما اور کافی محنت سے کیا جاتا تھا۔ ایک بنکر کو مصروف رکھنے کے لیے اور ضروری مقدار میں دھاگہ کاتنے کے لیے 10 کتائی کرنے والوں (زیادہ تر عورتیں، اس سے لفظ اسپنسٹر (Spinster) نا کتخدا عورت خاص کر بڑی عمر کی) بنا ہے) کی ضرورت ہوتی تھی۔ لہٰذا اس زمانے میں کاتنے والے سارا دن اس کام میں مشغول رہتے تھے۔ اور بنکر کاہلی کے ساتھ دھاگے کا انتظار کرتے تھے۔ لیکن تکنیکی ایجادات کے سلسلے سے روئی سے سوت کاتنے اور دھاگے سے کپڑا بننے کے کام کی رفتار کے درمیان جو فرق تھا اسے ختم کرنے میں کامیابی ملی۔ اس کام کو اور بہتر بنانے کے لیے پیداوار کا کام آہستہ آہستہ کتائی اور بنائی کرنے والوں کے گھروں سے فیکٹریوں میں منتقل ہو گیا۔

TC9-21
انسانی طاقت (اس تصویر میں عورت کی طاقت) ایک عورت پاؤں چکی (Treadmill) پر کام کرتے ہوئے، جو روئی دھننے والی مشین کے   ڈھکن کو نیچے کر رہی ہے۔

1780 کی دہائی سے کپاس میں صنعت کئی معنی میں برطانوی صنعت کاری کی علامت بن گئی۔ اس صنعت کی دو خصوصیات تھیں جو دیگر صنعتوں میں بھی نظر آتی تھیں۔
کچی کپاس (روئی) کو پوری طرح سے درآمد کیا جاتا تھا اور اس سے بنے تیار کپڑوں کا بڑا حصہ برآمد کیا جاتا تھا۔ اس عمل کے لیے نوآباد کاری کا ہونا ضروری تھا تاکہ ان نو آبادیات کی کچی پاس (روئی) کے وسائل پر انگلینڈ اپنا کنٹرول کرسکے۔ ساتھ ہی ساتھ بازاروں پر بھی کنٹرول کیا جاسکے۔

بھاپ کی طاقت

یہ عمل پذیر ہونے کے بعد کہ بھاپ زبردست طاقت پیدا کر سکتی ہے یہ چیز بڑے پیمانے پر صنعت کاری کے لیے فیصلہ کن ثابت ہوئی۔ کئی صدیوں سے پانی ماقوائی(Hydraulic) طاقت کا بنیادی ذریعہ تھا۔ لیکن اس کا استعمال کچھ مخصوص علاقوں، موسموں اور پانی کے بہاؤ کی رفتار کے مطابق محدود پیمانے پر کیا جاتا تھا۔ اب اس کا استعمال مختلف ہے۔ بھاپ کی طاقت اونچے درجۂ حرارت پر دباؤ پیدا کرتی ہے جس سے مختلف طرح کی مشینیں چلانا ممکن ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ بھاپ کی طاقت واحد ذریعہ تھی جو اپنے آپ میں مشینیں بنانے کے لیے بھروسہ مند اور کفایتی تھی۔


  1. فلائنگ شٹل لوم (The Flying Shuttle Loom) جون کے John Kay)   (1704-64نے 1733 میں بنائی تھی۔ اس کی مدد سے کم وقت میں زیادہ چوڑا کپڑا بننا ممکن ہو گیا تھا۔ اور نتیجتاً کتائی کی موجودہ رفتار سے زیادہ تیز سوت بنایا اور  سپلائی کیا جاسکتا تھا۔
  2. اسپننگ جینی (The Spinning jenny) جیمس ہرگریوز (James Hargreaves 1720-78) نے 1765 میں بنائی تھی جس سے ایک شخص ایک ساتھ سوت سے کئی دھاگے کات سکتا تھا۔ یہ بنکروں کو سوت کے ساتھ بڑی تیزی سے  دھاگے مہیا کراسکتی تھی جس سے وہ کپڑا بن سکتے تھے۔
  3. واٹر فریم (The Water Frame) جس کو رچرڈ آرک رائٹ (Richard Arkwright 1732-92) نے 1769 میں ایجاد کیا تھا، اس کے ذریعہ پہلے سے زیادہ مضبوط دھاگے تیار ہونے لگے۔ اس کے ذریعہ کتان (Linen) اور سوتی دھاگوں  کو ملاکر کپڑا بننے کی بجائے خالص سوتی دھاگے سے ہی سوتی کپڑا بنانا ممکن ہو گیا۔
  4. میول (The Mule) ایک ایسی مشین کا لقب تھا جس کو 1779 میں سیمیول کراپٹن (Samuel Crompton 1753-1827) نے ایجاد کیا تھا۔ جس سے مضبوط اور عمدہ سوت کاتا جاسکتا تھا۔
  5. سوتی کپڑا صنعت میں ایجادات کا دور جو کتائی اور بنائی کے درمیان توازن رکھنے کے لیے ہو رہا تھا وہ ایڈمنڈ کارٹ رائٹ (Edmund Cortwright 1743-1823) کے ذریعہ 1787 میں پاورلوم (Powerloom) کی ایجاد کے ساتھ ختم ہو گیا۔ اس کا استعمال بہت آسان تھا جب بھی دھاگہ ٹوٹتا یہ اپنے آپ کام کرنا بند کردیتی اور اس سے ہر قسم کے دھاگے کی بنائی کی جاسکتی تھی۔ 1830 کی دہائی سے اس صنعت کی ترقی میں نئی مشینوں کے استعمال کی بجائے مزدوروں کی پیداواریت بڑھانے پر زیادہ دھیان دیا جانے لگا۔
TC9-22
نقشہ : برطانیہ کپاس صنعت


بھاپ کی طاقت کا استعمال سب سے پہلے کان کنی صنعت میں کیا گیا۔ جب کوئلہ اور دھات کی مانگ بڑھی تو انھیں اور بھی گہری کانوں میں سے حاصل کرنے کی کوشش میں تیزی آئی۔ کانوں میں پانی بھر جانا بھی ایک سنجیدہ مسئلہ تھا۔ تھومس ساوری (Thomas Savery 1650-1715) نے کانوں سے پانی باہر نکالنے کے لیے 1698 میں مائنرس فرینڈ (Miner's Friend) نامی ایک بھاپ انجن کا ماڈل تیار کیا۔ یہ انجن کم گہرائی میں آہستہ آہستہ کام کرتا تھا اور زیادہ دباؤ ہو جانے پر اس کا بوائلر (Boiler) پھٹ جاتا تھا۔
تھومس نیوکامین (Thomas Newcomen 1663-1729) نے 1712 میں ایک دوسرا بھاپ انجن بنایا۔ اس کی سب سے بڑی خرابی یہ تھی کہ اس کا آلۂ تکثیف (Condensing Cylinder) کے لگاتار ٹھنڈا ہونے کی وجہ سے اس کی طاقت کم ہوتی رہتی تھی۔
بھاپ کے انجن کا استعمال صرف کوئلہ کانوں میں ہی ہوتا رہا۔ جب تک کہ جیمس واٹ (James Watt 1736-1819) نے 1769 میں ایک مشین کی ایجاد نہ کی۔ واٹ کی ایجاد بھاپ کا انجن، فقط عام پمپ کو پرائم موور (Prime Mover) کی شکل میں بدل کر فیکٹریوں کی پاورمشینوں کو طاقت مہیا کرانے لگا۔ ایک دولت مند کا رخانہ دار میتھیوبولٹن (Methew Boulton 1728-1809) کی مدد سے 1775 میں جیمس واٹ نے برمنگھم میں ایک Soho Foundry (فجائیہ دھات سازی کا کارخانہ) بنائی۔ اس دھات سازی کے کارخانہ سے واٹ کے بھاپ کے انجن مستقل بڑھتی تعداد میں تیار ہونے لگے۔ اٹھارہویں صدی کے آخر تک واٹ کے بھاپ کے انجن نے ماقوائی طاقت (Hydraulic Power) کی جگہ لینی شروع کردی۔
1800 کے بعد ہلکی اور مضبوط دھاتوں کے استعمال کے ساتھ زیادہ صحیح مشینی اوزاروں کے بننے سے اور سائنسی جانکاری کے بہتر پھیلاؤ سے بھاپ کے انجن کی تکنیک نے مزید ترقی کی۔ 1840 میں برطانوی بھاپ کے انجن پورے یوروپ 70 فی صدی سے زیادہ ہورس پاور (Horsepower) پیدا کر رہے تھے۔

جیمس واٹ کی ایجادات صرف بھاپ کے انجن تک ہی محدود نہ تھی۔ اس نے دستاویزات کی نقل تیار کرنے کے لیے ایک کیمیائی عمل بھی ایجاد کیا تھا۔ اس نے پیمائش کی بھی ایک اکائی تیار کی تھی جو سابق کلی طاقت کی بنیاد، اسپ (گھوڑا) کے مقابلے میکینیکل طاقت پر مبنی تھی۔ واٹ کی پیمائش کی اکائی یعنی ہورس پاور ایک گھوڑے کی ایک منٹ میں ایک فٹ (0.3 میٹر) تک 33,000 پونڈ (14,969 کلوگرام) وزن اٹھانے کی صلاحیت کے برابر تھی۔ میکینیکل طاقت کے انڈیکس کے طور پر ہورس پاور کا استعمال پوری دنیا میں ایک جیسے انداز میں کیا جاتا ہے۔

TC9-23
دھات کو پیسنے کے لیے گھوڑے پہیوں کو گھماتے ہوئے۔ بھاپ کے استعمال نے انسانی طاقت اور ہورس پاور پر انحصار کو کم کردیا۔


نہریں اور ریلوے

ابتداء میں نہریں بنیادی طور پر کوئلے کو شہروں تک پہنچانے کے لیے تعمیر کی گئیں تھیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ کوئلے کی بڑی مقدار اور وزن کو کشتی پر نہروں کے ذریعہ لے جانے کے مقابلے سڑک کے ذریعہ بہت سست روی کے ساتھ جانا پڑتا تھا اور اس پر خرچ بھی زیادہ آتا تھا۔ شہروں میں صنعتی طاقت اور گھروں کو گرم کرنے اور روشنی کرنے کے لیے کوئلے کی مانگ میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا۔ انگلینڈ میں سب سے پہلی نہر، ورسلے کینال (Worsley Canal) جیمس برنڈلے (James Brindley 1716-72) نے 1761 میں بنائی تھی۔ جس کی تعمیر کا مقصد اس کے علاوہ کچھ نہ تھا کہ ورسلے (مانچسٹر کے قریب) کے کوئلہ ذخائر سے شہر تک کوئلہ لایا جائے۔ اس نہر کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد کوئلہ کی قیمت گھٹ کر آدھی رہ گئی۔
عام طور پر نہریں بڑے زمینداروں کے ذریعہ بنائی گئیں تاکہ اپنے زمینوں میں واقع کانوں، شکار گاہوں یا جنگلات کی قیمتوں میں اضافہ ہوسکے۔ نہروں کے سنگم نے شہروں میں اشیائے فروخت کے مراکز وجود میں لادیئے۔ مثال کے طور پر برمنگھم شہر کی نشوونما، لندن کو برسٹل چینل (Bristol Channel)، مرسی (Mersey) اور ہمبر (Humber) ندیوں کے ساتھ جوڑنے والے نہروں کے نظام کے قلب میں واقع ہونے کی مرہون منت ہے۔ 1760 سے 1790 تک 25 نئی نہروں کی تعمیر کے منصوبے شروع کیے۔ 1788 سے 1796 تک کا زمانہ نہروں کا جنون (Canal-mania) کے نام سے جانا جاتا ہے، جس میں 46 دیگر نئے منصوبے شروع کیے گئے اور آنے والے 60 سال کے عرصہ میں 4,000 میل سے بھی زیادہ لمبائی میں نہروں کی تعمیر کی گئی۔
پہلا بھاپ سے چلنے والا ریل کا انجن اسٹیفنسن کاراکٹ (Stephenson's Rocket) 1814 میں ظہور پذیر ہوا اور ریلوے آمدورفت کے نئے ذرائع کے طور پر سامنے آیا، جو پورے سال دستیاب، سستا اور تیز ذریعہ تھا۔ نیز سواریوں اور مال کو لے جاسکتا تھا۔ یہ دو ایجادات کا مجموعہ تھا۔ لوہے کی پٹری جس نے 1760 کی دہائی میں لکڑی کی پٹری کی جگہ لے لی تھی۔ بھاپ کے انجن کے ذریعہ ریل کے ڈبوں کو کھینچنا آسان ہوگیا تھا۔
ریلوے کی ایجاد کے ساتھ صنعت کاری کے پورے عمل کا دوسرا مرحلہ شروع ہوا۔ 1801 میں رچرڈ ٹرے وتھک (Richard Trevithick 1771-1833) نے پفنگ ڈیول (Puffing Devil) نامی انجن ایجاد کیا جو ڈبوں کو کان کے چاروںطرف کھینچتا تھا۔ جہاں کورن وال (Cornwall) میں رچرڈ ٹرے وتھک کا کام کرتا تھا۔ 1814 میں ریلوے انجینئر جارج اسٹیفنسن (George Stephenson 1781-1848) نے ایک ریل کا انجن تیار کیا جسے بلوچر (Blutcher) کہا جاتا تھا۔ یہ 30 ٹن وزن 4 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے پہاڑی پر لے جاسکتا تھا۔ 1825 میں اسٹاکٹن (Stockton) اور ڈارلنگٹن (Darlington) شہروں کو پہلی ریلوے لائن کے ذریعہ جوڑا گیا۔ یہ فاصلہ 9 میل تھا جو 24 کلومیٹر فی گھنٹہ (15 میل فی گھنٹہ) کی رفتار سے دو گھنٹے میں ریل کے ذریعہ طے کیا جاسکتا تھا۔ 1830 میں دوسری ریلوے لائن کے ذریعہ لیورپول (Liverpool) اور مانچسٹر کو آپس میں جوڑ دیا گیا۔ 20 سالوں کے دوران ریل کا 30 سے 50 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑنا ایک عام بات ہو گئی تھی۔
1830 کی دہائی میں نہروں کے استعمال میں بہت سی مشکلات ظاہر ہونے لگیں۔ بڑی کشتیوں کی کثرت کی وجہ سے نہروں کے کچھ حصوں میں رفتار سست ہوگئی۔ اور حالات انجماد (Frost)، سیلاب یا خشک سالی کے سبب ان کے استعمال کا وقت محدود ہو گیا۔ اب ریلوے ہی نقل و حمل کا آسان متبادل نظر آنے لگا۔ 1830 سے 1850 کے درمیان انگلینڈ میں تقریباً 6,000 میل لمبا راستہ ریلوے کے لیے کھل گیا۔ یہ زیادہ تر دو مختصر دور میں مکمل ہوا۔ 1833-37 کے ’’چھوٹے ریلوے جنون‘‘ (Little Railway Mania) کے دوران 1400 میل لمبی ریلوے لائن کی تعمیر ہوئی اور 1844-47 کے ’’بڑے جنون‘‘ (Bigger Mania) کے دوران 9,500 میل لمبی ریلوے لائن بنانے کی منظوری دی گئی۔ اس کام کے لیے بڑی مقدار میں کوئلے اور لوہے کا استعمال ہوا۔ کثیر تعداد میں لوگوں کو کام پر لگایا گیا۔ تعمیرات اور عوامی کاموں کی صنعتوں کی سرگرمیوں میں تیزی لائی گئی۔ 1850 تک انگلینڈ کا زیادہ تر حصہ ریلوے لائن کے ذریعہ جڑ گیا تھا۔

موجد کون تھے؟

یہ معلوم کرنا دلچسپ ہوگا کہ وہ افراد کون تھے جن کی وجہ سے یہ تبدیلیاں واقع ہوئیں۔ ان میں کچھ تربیت یافتہ سائنسداں تھے۔ انیسویں صدی کے آخر تک فزکس اور کیمسٹری جیسی بنیادی سائنس کی تعلیم انتہائی محدود تھی۔ اوپر بیان کی گئی تکنیکی ایجادات تب تک ہو چکی تھیں۔ چونکہ ان کامیابیوں (ایجادات) کے لیے فزکس یا کیمسٹری کے قوانین کی مکمل جانکاری کا ہونا ضروری نہیں جن پر ان کی بنیاد تھی، اس لیے ترقی ہو سکتی تھی۔ یہ ایجادات تیز طبع لیکن وجدانی مفکرین اور مستقل مزاج تجربہ کرنے والے افراد کے ذریعہ ہوئیں۔
انھیں اس حقیقی واقعہ سے بھی مدد ملی کہ انگلینڈ کچھ ایسی خصوصیات کا حامل ہے جو دوسرے یوروپی ممالک کے پاس نہیں ہیں۔ 1760 اور 1800 کے درمیان انگلینڈ میں درجنوں سائنسی رسائل اور سائنسی انجمنوں کے ذریعہ تحقیقی مقالات شائع ہوئے۔ یہاں تک کہ چھوٹے قصبوں میں بھی عام طور سے لوگوں میں علم کی پیاس پائی جاتی تھی۔ اس پیاس کو ’’سوسائیٹی آف آرٹس‘‘ (1754 میں قائم شدہ) کی سرگرمیوں کے ذریعہ، سیاحتی خطبات کے ذریعہ یا ’کافی ہائوس‘ میں جن کی تعداد اٹھارہویں صدی میں کئی گنا بڑھ گئی تھی، کے ذریعہ بجھائی گئی۔
زیادہ تر ایجادات سائنسی علم کے استعمال کی بجائے مصمم ارادہ، شوق، تجسس، یہاں تک کہ قسمت کا نتیجہ تھیں۔ کپاس صنعت میں کچھ موجد جیسے جون کے اور جیمس ہرگر یوز، بنائی اور نجاری کی مہارت سے واقف تھے۔ رچرڈ آرک رائٹ اگرچہ ایک حجام اور مصنوعی بالوں کی ٹوپی (Wig) بنانے والا تھا۔ سیموکرمپٹن تکنیکی مہارت نہیں رکھتا تھا اور ایڈمنڈ کارٹ رائٹ نے ادب، ادویات اور زراعت کا مطالعہ کیا تھا۔ ابتداء میں اس کی خواہش پادری بننے کی تھی اور مشینوں کے علم سے بہت کم واقفیت تھی۔
اس کے برخلاف، بھاپ کے انجنوں کے میدان میں، تھومس ساورے ایک فوجی افسر، تھومس نیوکومین ایک لوہار اور قفل ساز اور جیمس واٹ کا میکینیکل کاموں میں قوی رجحان تھا۔ ان سب میں اپنی ایجادات کے تئیں کچھ مفید مطلب معلومات موجود تھیں۔ سڑک معمار (Road builder) جون مٹکاف، جس نے بذات خود سڑکوں کی سطح کا جائزہ (سروے) لیا تھا اور منصوبہ سازی کی تھی، اندھا شخص تھا۔ نہروں کا معمار (Canal builder) جیمس برنڈلے قریب قریب ناخواندہ (ان پڑھ) تھا۔ اس کا علم اتنا کمزور تھا کہ وہ لفظ 'Navigation' کی ہجے کبھی نہیں کر سکا لیکن اس میں غضب کی قوت حافظہ، قوت تخیل اور توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت تھی۔


تبدل زندگی (Changed Lives)

چنانچہ ان سالوں کے دوران صاحب استعداد افراد کے لیے انقلابی تبدیلیاں لانا ممکن ہو گیا۔ اسی طرح یہاں ایسے دولت مند افراد بھی تھے جنھوں نے خطرہ اٹھاکر صنعتوں میں اس امید میں سرمایہ لگایا تھا کہ انھیں فائدہ ہو سکتا ہے اور ان کے سرمایہ میں اضافہ ہو جائے گا۔ زیادہ تر معاملوں میں پیسہ- سرمایہ میں اضافہ بھی ہوا۔ اشیاء، آمدنی، خدمات،جانکاری و علم اور پیداواری قابلیت کی شکل میں دولت کا ڈرامائی انداز میں اضافہ ہوا۔ ساتھ ہی ساتھ انسان کو اس کی بھاری قیمت بھی چکانی پڑی۔ بدیہی طور پر، فیملی کے ٹوٹنے، نئے پتہ(Address)، شہروں کا زوال اور فیکٹریوں میں خوفناک کام کرنے کے حالات کی شکل میں ہوا۔ انگلینڈ میں 50,000 سے زیادہ آبادی والے شہروں کی تعداد 1750 میں دو تھی جو 1850 میں بڑھ کر 29 ہو گئی۔ ترقی کی یہ رفتار، تیزی کے ساتھ بڑھتی شہری آبادی کے لیے مناسب مکانات، حفظان صحت و صفائی یا صاف پانی کی بہم رسانی سے میل نہیں کھاتی تھی۔ نئے آنے والوں کو فیکٹریوں کے قریب، شہروں کے بھیڑ بھاڑ والے مرکزی علاقوں میں کثیر آبادی والی گندی بستیوں میں رہنے کے لیے مجبور ہونا پڑا۔ جبکہ دولت مند شہری لوگوں کو ان علاقوں کو چھوڑ کر شہر کے گردوپیش کے علاقوں میں جہاں صاف ستھری آب و ہوا اور پینے کے لیے پانی بھی صاف اور محفوظ تھا، منتقل ہونا پڑا۔

TC9-24
دوربائیں : کول بروک ڈیل میں کارپینٹرس کے مکانات کی قطار۔ 1783 میں کمپنی کے ذریعہ بنائے گئے مزدوروں کے لیے جھونپڑے۔
بائیں: ڈربی خاندان کے مکانات ولیم ویسٹ ووڈ کے ذریعہ بنائی گئی تصویر۔ 1835


1881 کے آس پاس ایڈورڈ کارپینٹر (Edward Carpenter) نے اپنی نظم 'In a Manufacturing Town' میں کچھ شہروں کے متعلق خطیبانہ انداز میں بیان کیا ہے:
’’جب میں مضطرب اور دل شکستہ بے نور غمگین شہر میں گھوم رہا تھا،
اور میں نے دیکھے یہاں سے وہاں تک بے قرار اور اور انتھک لوگ— بھوتوں کی مانند کچھ افراد جو عالم ارواح *   (دوزخ) کے دروازوں سے آجارہے ہیں،
میں نے آسمان میں اونچی اٹھتی ہوئی لمبی چمنیاں اور دھویں کی چادر میں لپٹا سورج، لپٹی زمین دیکھی جو اپنے بھاری بوجھ سے تلملا رہی تھی،
اور جسم کی اینٹھن کی طرح کوڑے کرکٹ کے بڑے انبار دیکھے، جن پر سے بچے روٹی اٹھا رہے تھے،
اور ڈراؤنے آدھی چھتوں والے کالے دھوئیں سے بھرے مکانات اور نیچے بہتی کالی ندی دیکھی–
میں نے یہ سب دیکھا، میں نے پھر دور سرمایہ داروں کی قیام گاہیں دیکھیں،
اپنے محل نما مکانات کے ساتھ اور اونچی دیواروں والے باغات اور عمدہ معین کی گئی سواریاں، اور ان کے سامنے سے غربت جیسے بل کھاکر پلٹ گئی تھی جس نے انھیں دولت مند بنایا تھا...
میں یہ دیکھ کر کانپ گیا۔‘‘

* دوزخ کے دروازے


مزدور

1842 میں کیے گئے ایک سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ مزدوروں کی مدت حیات شہروں میں رہنے والے دیگر کسی بھی سماجی گروہ کی مدت حیات سے کم ہوتی ہے۔ یہ برمنگھم میں 15 سال، مانچسٹر میں 17 سال، ڈربی میں 21 سال تھی۔ نئے صنعتی شہروں میں گاؤں سے آنے والے زیادہ تر افراد گائوں کے مقابلے چھوٹی عمر میں ہی مر جاتے تھے۔ بچوں کی نصف تعداد 5 سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے ہی فوت ہو جاتی تھی۔ شہروں میں آبادی کا اضافہ پہلے سے ہی آباد ہوئے خاندانوں میں پیدا ہوئے بچوں کی بجائے باہر سے آکر آباد ہوئے لوگوں سے ہی ہوتا تھا۔
اموات بنیادی طور سے ان وبائی بیماریوں کی وجہ سے ہوتی تھیں جو پانی کی کثافت سے پھیلتی تھیں جیسے ہیضہ، ٹائیفائڈ (Typhoid) یا فضائی کثافت (Tuberculosis) سے پھیلتی تھیںجیسے تپ دق ۔ 1832 میں ہیضہ پھیلنے کی وجہ سے 31,000 سے زائد افراد موت کا شکار ہو گئے۔ انیسویں صدی کے آخر تک یہ حالت تھی کہ میونسپل اتھارٹی (Municipal Authorities) زندگی کے ان خطرناک حالات کی طرف سے بالکل بے پرواہ تھیں اور ان بیماریوں کے علاج سے متعلق طبی معلومات سے واقفیت نہ تھی۔

عورتیں، بچے اور صنعت کاری

صنعتی انقلاب کا زمانہ عورتوں اور بچوں کے کام کرنے کے طریقوں سے اہم تبدیلیوں کا زمانہ تھا۔ گائوں کے غرباء کے بچے ہمیشہ اپنے گھروں یا کھیتوں میں اپنے والدین یا رشتہ داروں کی سخت نگرانی میں کام کرتے تھے۔ یہ کام دن یا موسموں کے دوران مختلف ہوتے تھے۔ اسی طرح سے دیہات میں عورتیں بھی سرگرمی سے کھیتی کے کاموں میں مشغول رہتی تھیں۔ وہ مویشیوں کی پرورش کرتیں۔ جلانے کے لیے لکڑیاں جمع کرتیں اور اپنے گھر میں چرخوں سے سوت کاتا کرتی تھیں۔
فیکٹریوں میں کام کرنا بالکل مختلف تھا۔ وہاں مسلسل طویل وقت تک ایک ہی قسم کا کام سخت نظم و ضبط اور مختلف طرح کی سخت سرزنش کے ماحول میں کرنا ہوتا تھا۔ عورتوں اور بچوں کا کمانا ضروری تھا تاکہ مردوں کی ناکافی تنخواہ میں اضافہ ہو سکے۔ جیسے جیسے مشینوں کا استعمال بڑھتا گیا مزدوروں کی ضرورت کم ہوتی گئی۔ صنعت کار، عورتوں اور بچوں کو ملازم رکھنے کے لیے ترجیح دینے لگے جو اپنے کام کرنے کے خراب حالات کے تئیں کم ہی مشتعل ہوتی تھیں اور مردوں کے مقابلے میں کم تنخواہوں پر کام کرتی تھیں۔
لنکاشائر اور یارک شائر کی سوتی کپڑا صنعتوں میں عورتیں اور بچے بڑی تعداد میں ملازم رکھے گئے تھے۔ ریشم، فیتے بنانے اور بنائی کی صنعتوں میں، مزید برآں (بچوں کے ساتھ ساتھ) برمنگھم کی دھات کی صنعتوں میں عورتیں ہی سب سے اہم مزدور تھیں۔ بہت سی مشینیں جیسے کپاس کاتنے کی جینی (Cotton Spinning Jenny) تو اس انداز میں بنائی گئی تھی کہ اس پر بچے اپنے چھوٹے قد اور پھرتیلی انگلیوں سے کام کرسکتے ہیں۔ بچوں کو اکثر کپڑے بنانے والی فیکٹریوں میں ملازم رکھا جاتا تھا کیونکہ وہ چھوٹے ہونے کی وجہ سے تنگ جگہ میں رکھی ہوئی مشینوں کے درمیان آسانی سے آجاسکتے تھے۔ کام کرنے کے لمبے اوقات بشمول اتوار کے دن مشینوں کی صفائی کرنے کی وجہ سے بچوں کو تازہ ہوا کھانے یا ورزش کرنے کا موقع نہ ملتا تھا۔ عموماً بچوں کے بال مشینوں میں پھنس جاتے یا ان کے ہاتھ کچل جاتے،   حالانکہ تھکن کی وجہ سے انھیں نیند کی جھپکی آجاتی اور مشینوں میں گرنے کی وجہ سے کچھ کی موت واقع ہو جاتی تھی۔

TC9-25
گلٹ بٹن (Gilt-button) (ملمع چڑھے بٹن) فیکٹری میں کام کرتی ایک عورت کی تصویر۔ 1850 کی دہائی میں بٹنوں کی تجارت میں دوتہائی مزدورکی طاقت عورتوں اور بچوں پر مشتمل تھی۔ مرد 25 شیلنگ فی ہفتہ، عورتیں 7 شیلنگ فی ہفتہ اور بچوں کو ایک شیلنگ فی ہفتہ مزدوری، ایک جیسے کام کے اوقات کے لیے ملتی تھی۔


کوئلہ کی کانیں بھی کام کرنے کے لحاظ سے بہت خطرناک جگہیں تھیں۔ کانوں کی چھتیں دھنسنے یا دھماکہ ہونے کی وجہ سے وہاں چوٹیں لگنا عام بات تھی۔ کان مالکان، کوئلے کے آخری گہرے سرے تک پہنچنے کے لیے یا جہاں جانے کا راستہ بالغوں کے لیے تنگ ہوتا تھا بچوں کا استعمال کرتے تھے۔ چھوٹے بچوں سے کوئلہ کانوں میں بطور ٹریپر (Trappers) (روشن دانوں کا محافظ) کام لیا جاتا تھا جو کوئلہ بھرے ڈبوں کے دروازے کھول سکیں جب انھیں کانوں میں ادھر ادھر لے جایا جارہا ہو یا اپنی پیٹھ پر کوئلہ کا بھاری وزن اٹھا کر بطور کوئلہ بردار (Coal Bearers) چلنا پڑتا تھا۔
فیکٹری کے منتظمین بچہ مزدور کو مستقبل کے فیکٹری مزدور کے بطور اہم تربیت کہتے تھے۔ برطانوی فیکٹریوں کے دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ نصف کے قریب فیکٹری مزدوروں نے اس وقت کام کرنا شروع کیا تھا جب وہ دس سال سے کم عمر کے تھے اور 28 فی صدی مزدوروں نے 14 سال سے کم عمر میں فیکٹریوں میں کام کرنا شروع کردیا تھا۔ عورتوں کو کام کرنے کی وجہ سے ان کی مالی آزادی میں اچھا خاصہ اضافہ ہو گیا تھا اور اپنے کام کی وجہ سے خود پسندی حاصل کرلی تھی۔ لیکن اس سے کہیں زیادہ خمیازہ انھیں کام کی ذلت آمیز شرائط کی وجہ سے اٹھانا پڑتا تھا۔ ان کے بچے پیدا ہوتے ہی یا بچپن میں ہی مر جاتے تھے اور صنعتی کام کی وجہ سے مجبور ہو کر انھیں شہر کی غلیظ و گندی تاریک بستیوں میں رہنا پڑتا تھا۔


  صنعت کاری کے نتیجے میں غرباء کے لیے جو بھیانک حالات پیدا ہوئے تھے چارلس ڈکنس (Charles Dickens 1812-70) اس کا شاید سب سے سخت ہم عصر ناقد تھا۔ اس نے اپنے ناول "Hard Times" میں ایک صنعتی شہر کوک ٹاؤن (پتھر کے کوئلے کا شہر) کی کہانی بڑے موزوں طریقے پر بیان کی ہے۔ ’’یہ لال اینٹوں سے بنا ایک شہر تھا۔ اس کی اینٹوں کا رنگ لال تبھی رہ سکتا تھا بشرطیکہ دھواں اور راکھ اسے رہنے دیتے۔ لیکن چونکہ صورت حال یہ تھی کہ غیر فطری اور کالے رنگ سے رنگا تھا جیسے کسی خونخوار آدمی کا چہرہ ہو۔ یہ مشینوں اور اونچی چمنیوں کا شہر تھا جن میں سے لامتناہی مارآستین دھوئیں کی پگڈنڈی لگاتار نکلتی رہتی تھی۔ اس شہر میں ایک کالی نہر تھی اور جس کا بہتاپانی گندگی کی وجہ سے بیگنی رنگ کا ہو گیا تھا اور وہاں بہت ساری شاندار عمارتیں تھیں جن کی ساری کھڑکیاں (اندر چلنے والی مشینوںکی وجہ سے) ہمیشہ سارادن کھڑکھڑاتی اور لرزتی رہتی تھیں اور وہاں بھاپ کے انجن کا پسٹن (Piston) یکساں طور پر اوپر نیچے ہوتا رہتا تھا، جیسے کسی ہاتھی کا سر ہو جو اپنے وحشت انگیز پاگل پن میں آنکھیں پھاڑے دیکھ رہا ہو۔‘‘

TC9-26
لندن کے غرباء کے مکانات کی ایک گلی۔ 1876 میں فرانسیسی آرٹسٹ ڈورے (Dore) کے ذریعہ نقش کی گئی تصویر۔

احتجاجی تحریکیں

صنعت کاری کی ابتدائی دہائیوں کا وقت وہی تھا جب فرانسیسی انقلاب (1789-94) کے ذریعہ نئے رہنما سیاسی تصورات پھیل رہے تھے۔ آزادی، مساوات اور اخوت کے لیے چلائی جانے والی تحریکوں نے اجتماعی عوامی تحریک کے امکانات کو ظاہر کر دیا تھا۔ یہ امکانات دونوں طرح کے تھے۔ مثلاً 1790 کی دہائی کی فرانسیسی پارلیمانی اسمبلیاں جیسے جمہوری ادارے قائم کیے جاسکتے ہیں اور روٹی جیسی ضروریات زندگی کی اشیاء کی قیمتوں کو کنٹرول کرکے جنگ کی بدترین مشکلات کا بھی مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔ انگلینڈ میں فیکٹریوں میں کام کرنے کے سخت و بے رحم حالات کے خلاف سیاسی احتجاج بڑھتا جارہا تھا اور مزدور طبقہ اپنا حق رائے دہی حاصل کرنے کے لیے احتجاج کر رہا تھا۔ ردعمل میں حکومت نے اس تحریک کو کچلنے کے لیے نئے قوانین بنائے اور لوگوں کے مظاہرہ کرنے کا حق تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔
انگلینڈ کی فرانس کے ساتھ ایک طویل عرصہ 1792 سے 1815 تک جنگ چلتی رہی تھی۔ انگلینڈ اور یوروپ کے مابین تجارت منتشر ہو گئی تھی۔ فیکٹریوں کو مجبوراًبند کرنا پڑا تھا۔ بے روزگاری بڑھ گئی تھی اور ضروری غذائی اشیاء جیسے روٹی اور گوشت کی قیمتیں اوسط مزدوری کی سطح کے مقابلے آسمان کو چھونے لگی تھیں۔
1795 میں برطانوی پارلیمنٹ نے دو متحدہ قانون پاس کیے جس کی رو سے لوگوں کو تقریر کے ذریعہ مشتعل کرنے یا تحریر کے ذریعہ بادشاہ، آئین یا گورنمنٹ کی توہین کرنے یا نفرت پیدا کرنے کو غیر قانونی قرار دیا گیا اور 50 سے زائد لوگوں کو غیر منظور شدہ میٹنگ پر پابندی لگادی گئی۔ ’’پرانی بدعنوانی‘‘ (Old Corruption) کے خلاف احتجاج کسی بھی طرح کم نہیں ہوا۔ ’’پرانی بدعنوانی‘‘ اصطلاح مراعات یافتہ طبقہ کو شہنشاہیت اور پارلیمنٹ کو جوڑنے کے لیے استعمال کی جاتی تھی۔ پارلیمنٹ کے ممبران، جو زمیندار، کارخانہ دار اور پیشہ ور افراد (Professionals) تھے، انھوں نے مزدور طبقہ کو حق رائے دہی دینے کی مخالفت کی۔ انھوں نے کورن لاز (Corn Laws) کی حمایت کی، جس نے غذائی اشیاء کی درآمد کو اس وقت تک روکے رکھا جب تک برطانیہ میں قیمتوں میں ایک خاص سطح تک اضافہ نہ ہو گیا۔


برطانیہ کے مضمون نگار اور ناول نگار ڈی-ایچ- لارنس (D.H. Lawrence 1885-1930) نے ڈکنس کے 70 سال بعد کوئلہ علاقے میں واقع ایک گاؤں میں آئی ایسی تبدیلی کو بیان کیاہے جس کا اس نے خود تجربہ نہیں کیا تھا۔ اس کے متعلق اس نے بزرگوں سے سنا تھا۔

’’ایسٹ ووڈ (Eastwood) … انیسویں صدی کی ابتداء میں یقینا ایک چھوٹا سا گاؤں رہا ہوگا۔ یہ چھوٹی چھوٹی جھونپڑیوں کا مقام تھا اور کان مزدوروں کے چار کمروں والے چھوٹے چھوٹے گھروں کی بکھری قطاریں تھیں اور پرانے کان مالکان کے مکانات … لیکن 1820 کے آس پاس کمپنی نے پہلی بڑی شافٹ (Shaft) چینی کی اونچی سی ناند تیار کی اور حقیقی کوئلہ کان کنی کی صنعت کی پہلی مشینری لگائی… مزدوروں کے چھوٹے چھوٹے گھروں کی قطاریں زیادہ تر گرادی گئیں اور ناٹنگھم (Nottingham) روڈ کے ساتھ ساتھ بے لطف چھوٹی چھوٹی دکانیں بننا شروع ہوگئیں … اگرچہ نیچے ڈھلان پر … کمپنی نے عمارتیں تعمیر کیں، جنہیں آج بھی نئی عمارات (New Building) کے نام سے جانا جاتا ہے … خالی گلی میں باہر سے نظر آنے والے وحشت ناک چھوٹے چھوٹے چار کمروں والے گھر اور عقب کی طرف نظر آنے والا ویران چوک تھا جو بیرکوں کے احاطہ کی طرح بند کر دیا گیا تھا، بہت عجیب ہے یہ۔‘‘

سرگرمی 3

برطانیہ کے شہروں اور گاؤں پر ابتدائی صنعت کاری پر پڑنے والے اثرات بیان کیجیے اور اس کا ہندوستان کے یکساں حالات کے ساتھ موازنہ کیجیے۔


جیسے ہی مزدوروں کا سیلاب شہروں اور فیکٹریوں میں اُمڈ آیا انھوں نے اپنے غصّے اور محرومی کا اظہار متعدد انداز کے احتجاج کی شکل میں ظاہر کیا۔ 1790 کی دہائی سے یہاں روٹی یا کھانے کے لیے پورے ملک میں فسادات کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔ غرباء کے خورد و نوش کی اہم چیز روٹی تھی۔ اور اس کی قیمت پر ہی ان کے رہن سہن کا معیار منحصر کرتا تھا۔ روٹیوں کے ذخیرہ پر قبضہ کرلیا گیا اور انھیں عام آدمی کی گنجائش کے مطابق قیمتوں پر فروخت کیا گیا نیز جو اخلاقی نقطۂ نظر سے بھی صحیح تھا بمقابلہ منافع کے بھوکے تاجروں کے جو ان کے اونچے دام وصول کرتے تھے۔ ایسے کچھ فسادات خاص طور پر جنگ کے بدترین سال 1795 میں مسلسل ہوئے۔ علاوہ بریں یہ فسادات 1840 کی دہائی تک لگاتار ہوتے رہے۔
پریشانی کا ایک دیگر سبب ’’چک بندی‘‘ نامی عمل بھی تھا جس کے ذریعہ 1770 کی دہائی سے سینکڑوں چھوٹے چھوٹے کھیتوں کو طاقتور زمینداروں کے بڑے کھیتوں (Farms) میں ملادیا گیا۔ اس عمل سے متاثر ہوئے غریب دیہی خاندانوں نے صنعتی کاموں کو تلاش کرنا شروع کیا۔ لیکن کپاس صنعت میں مشینوں کے متعارف ہونے کے بعد ہزاروں ہاتھ کرگھا بنکروں کو کارخانوں سے نکال دیا گیا اور وہ غریبی کا شکار ہو گئے۔ چونکہ ان کے ہاتھ سے کام کرنے کی رفتار سست تھی جو مشینوں کا مقابلہ نہیں کرسکتی تھی۔ 1790 کی دہائی سے بنکروں نے کم از کم جائز مزدوری کی مانگ کرنا شروع کردی جس کو پارلیمنٹ نے نامنظور کر دیا۔ جب وہ ہڑتال پر چلے گئے تو انھیں طاقت کے ذریعہ منتشر کردیا گیا۔ مایوسی کی حالت میں لنکاشائر میں سوتی کپڑا بنکروں نے پاورلوموں کو تباہ کر دیا۔ انھیں یہ یقین تھا کہ ان کی وجہ معاش کو ان پاور لوموں نے ہی ختم کیا ہے۔ ناٹنگھم کی اونی کپڑا صنعت میں بھی مشینوں کے استعمال کی مزاحمت کی گئی۔ لیسیسٹر شائر (Leicestershire) اور ڈربی شائر میں اس کی مخالفت میں مظاہرے ہوئے۔
یارک شائر میں اون کاٹنے والوں نے اون کاٹنے کے چوکھٹوں (Shearing-frames) کو تباہ کر دیا جو روایتی طور پر اپنے ہاتھوں سے بھیڑوں کے بالوں کی کٹائی کرتے تھے۔ 1830 کے فسادات میں کھیت مزدوروں کو اپنے کام کے سلسلے میں نئی غلّہ کاٹنے والی مشینوں سے خطرہ محسوس ہوا جو بھوسے سے اناج کو الگ کرتی ہیں۔ فسادیوں نے ان مشینوں کو نقصان پہنچایا۔ اس کے نتیجے میں 9 فسادیوں کو پھانسی دے دی گئی اور 450 فسادیوں کو بطور مجرم آسٹریلیا بھیج دیا گیا (ملاحظہ ہو باب نمبر10)۔
کرشمائی شخصیت جنرل نیڈلڈ (General Ned ludd) کے ذریعہ چلائی گئی تحریک جو لڈازم (Luddism 1811-17) کے نام سے جانی جاتی ہے، نے ایک دوسرے قسم کے مظاہرے کی مثال قائم کی۔ لڈازم کے ماننے والے نہ صرف مشینوں کی توڑ پھوڑ میں یقین رکھتے تھے بلکہ کم از کم مزدوری کی مانگ میں شریک تھے۔ یہ عورتوں اور بچوں کی محنت پر کنٹرول، مشینوں کی آمد کی وجہ سے بے روزگار ہوئے افراد کے لیے کام اور قانونی طور پر اپنی مانگیں پیش کرنے کے لیے مزدور یونین تشکیل کرنے کے حق کی بھی مانگ کرتے تھے۔
صنعت کاری کے ابتدائی سالوں میں، مزدور طبقہ کے پاس نہ تو حق رائے دہی تھا اور نہ ہی قانونی طریقے جس کے ذریعہ اپنی سخت طرز زندگی جس نے ان کی زندگیوں کو تہہ وبالا کر دیا تھا، اس کے خلاف اپنے غصہ کو ظاہر کر سکیں۔ اگست 1819 میں 80,000 افراد اپنے جمہوری حقوق جیسے سیاسی تنظیمیں بنانے، عوامی جلسے کرنے اور پریس کی آزادی کے مطالبات کولے کر مانچسٹر میں سینٹ پیٹرس فیلڈس (St Peter's Fields) میں پرامن طریقے سے جمع ہوئے۔ ان کے اس پر امن احتجاج کو بربریت کے ساتھ کچل دیا گیا۔ یہ قتل عام پیٹرلو* (Peterloo) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اور وہ جن حقوق کا مطالبہ کر رہے تھے ان کا اسی سال پارلیمنٹ کے ذریعہ پاس کیے گئے چھ قوانین (Six Acts) کے ذریعہ دینے سے انکار کردیا گیا۔ ان قوانین کے ذریعہ ان سیاسی سرگرمیوں پر بھی روک لگادی گئی جن کی اجازت 1795 کے دو متحدہ قوانین (Two Combination Acts) کے ذریعہ دی گئی تھی۔ لیکن اس کے کچھ فائدے بھی ہوئے۔ پیٹرلو کے بعد برطانوی ہاؤس آف کومنز (House of Commons) کے اور زیادہ نمائندوں کو تسلیم کرنے کی ضرورت لبرل سیاسی گروپوں کے ذریعہ محسوس کی گئی اور 1824-25 میں متحدہ قانون کو منسوخ کردیا گیا۔

* یہ نام واٹرلوکے ہم قافیہ بنایا گیا ہے۔ 1815 میں فرانسیسی فوج واٹرلوکے میدان میں ہارگئی تھی۔

قوانین کے ذریعہ اصلاحات

حکومت عورتوں اور بچوں کے کام کرنے کے حالات کے تئیں کتنی خیال رکھنے والی تھی؟ 1819 میں کچھ قوانین پاس کیے گئے جن کے تحت 9 سال سے کم عمر کے بچوں کو فیکٹریوں میں ملازم رکھنے پر پابندی لگادی گئی تھی   اور 9 سے 12 سال کی عمر کے بچوں سے کام کرانے کے اوقات کو ایک دن میں 12 گھنٹوں تک محدود کر دیا گیا۔ لیکن اس قانون کو نافذ کرانے کے لیے ضروری اختیارات کی کمی تھی۔ پورے شمالی انگلینڈ میں مزدوروں کے ذریعہ زبردست احتجاج کے بعد 1833 میں ایک قانون پاس کیا گیا، جس کی رو سے 9 سال سے کم عمر کے بچوں کو صرف ریشم کی صنعت میں کام پر رکھنے کی اجازت دی گئی اور بڑے بچوں کے کام کے اوقات محدود کردیے گئے۔ اس قانون پر عمل آوری کو یقینی بنانے کے لیے فیکٹری انسپکٹروں کا بندوبست کیا گیا۔ آخر کار 1847 میں، 30 سالوں سے زائد طویل عرصہ کے احتجاج کے بعد ’’دس گھنٹے‘‘ (Ten Hours) بل پاس کیا گیا۔ اس قانون کے ذریعہ عورتوں اور نوجوانوں کے کام کے گھنٹے محدود کر دیے گئے اور مرد مزدوروں کے ایک دن میں کام کے 10 گھنٹے متعین کر دیے گئے۔
یہ قوانین کپڑا صنعتوں پر ہی نافذ ہوتے تھے نہ کہ کان کنی صنعت پر۔ حکومت کے ذریعہ قائم 1842 کے مائنس کمیشن (The Mines Commission) نے یہ ظاہر کر دیا کہ کانوں میں کام کرنے کے حالات حقیقتاً 1833 کے ایکٹ کے نافذ ہونے سے پہلے بہت خراب ہو چکے تھے۔ کیونکہ پہلے سے ہی بہت زیادہ بچوں کو کوئلہ کان میں کام پر لگایا گیا تھا۔ 1842 کے کانوں اور کوئلہ کان ایکٹ نے دس سال سے کم عمر کے بچوں اور عورتوں سے کانوں کے اندر کام کروانے پر پابندی لگادی تھی۔ 1847 میں فیلڈرز فیکٹری ایکٹ (Fielder's Factory Act) کے تحت یہ قانون بن گیا کہ 18 سال سے کم عمر کے بچوں او رعورتوں سے ایک دن میں 10 گھنٹوں سے زیادہ کام نہ کروایا جائے۔ ان قوانین کا نفاذ فیکٹری انسپکٹروں کے ذریعہ کرایا جانا تھا، لیکن یہ ایک مشکل امر تھا۔ انسپکٹروں کی تنخواہ کم تھی اور فیکٹری مینیجر انھیں رشوت دے کر آسانی سے ان کا منہ بند کردیتے تھے۔ حالانکہ والدین بھی اپنے بچوں کو صحیح عمر کے متعلق جھوٹ بول دیتے تھے تاکہ وہ کام کر سکیں اور گھر کی آمدنی میں ممدو معاون بن سکیں۔

سرگرمی 4

صنعتوں میں کام کے حالات کے بارے میں بنائے گئے ضوابط کے موافقت اور مخالفت میں اپنے دلائل پیش کیجئے۔


صنعتی انقلاب کے متعلق بحث و مباحثہ

1970 کی دہائی تک مورخین ’’صنعتی انقلاب‘‘ اصطلاح کا استعمال ان تبدیلیوں کے لیے کرتے تھے جو 1780 کی دہائی سے 1820 کی دہائی تک انگلینڈ میں وقوع پذیر ہوئیں تھیں۔ لیکن اس کے بعد اس اصطلاح کو مختلف بنیادوں پر چنوتی دی گئی۔
دراصل صنعت کاری ایک تدریجی عمل تھا۔ اس لیے اسے انقلاب کہنے میں تامل ہے۔ اس کے ذریعہ پہلے سے موجود طریقۂ اعمال کو نئی سطحوں تک آگے لے جایا گیا۔ اس طرح فیکٹریوں میں مزدوروں کا اجتماع نسبتاً زیادہ ہو گیا اور پیسے کا استعمال وسیع پیمانے پر ہونے لگا۔
انیسویں صدی شروع ہونے کے کافی بعد تک انگلینڈ کے بڑے بڑے علاقوں کا فیکٹریوں یا کانوں سے کوئی واسطہ نہ تھا۔ اس لیے ’صنعتی انقلاب‘ اصطلاح کو صحیح نہیں مانا گیا۔ انگلینڈ میں تبدیلیاں علاقائی طرز پر واقع ہوئیں۔ یہ تبدیلیاں نمایاں طور پر بہ مقابلے پورے ملک کے لندن، مانچسٹر، برمنگھم یا نیوکیسل جیسے شہروں کے اطراف میں وقوع پذیر ہوئیں۔
کپاس بارہا صنعتوں یا غیر ملکی تجارت میں 1780 کی دہائی سے 1820 کی دہائی تک ہوئی نشوونما کو ’’انقلابی‘‘ دور کہا جاسکتا تھا؟ نئی مشینوں کی بنیاد پر سوتی کپڑا صنعتوں میں جو متاثر کن نشوونما ہوئی وہ غیر برطانوی خام مال پر منحصر تھی جس کو غیر ممالک (خاص طور پر ہندوستان) میں فروخت کیا جاتا تھا اور غیر دھات سے بنی مشینوں سے تیار کیا جاتا تھا اور جس کا تعلق صنعت کے دیگر شعبوں سے ہوتا۔ دھات کی مشین اور بھاپ کی طاقت انیسویں صدی کے نصف آخر کے کافی بعد تک کمیاب تھی۔ 1780 کی دہائی سے برطانوی درآمد اور برآمد میں جو تیز رفتار ترقی ہوئی اس کی وجہ شمالی امریکہ کے ساتھ دوبارہ تجارت کا آغاز تھا جس کا سلسلہ امریکہ کی جنگ آزادی کی وجہ سے منقطع ہو گیا تھا۔ یہ ترقی بہت تیز مندرج ہوئی کیونکہ اس کا آغاز زیریں نقطہ سے ہوا تھا۔
1815-20 سے پہلے اور بعد میں ہوئی معاشی تبدیلیوں کے مظہر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ صنعت کاری کو پہلے کے مقابلے میں بعد کے زمانے میں زیادہ سہارا ملا۔ 1793 کے بعد کی دہائیوں نے فرانسیسی انقلاب اور نیپولین کی جنگ کے تفرقہ انگیز اثرات محسوس کیے۔ صنعت کاری کا عمل ’’اصل سرمایہ کی تشکیل‘‘ یا بنیادی ڈھانچہ میں ملک کی دولت، نموپذیر سرمایہ کاری کے ساتھ وابستہ ہے۔ اور نئی مشینوں کا لگانا اور ساتھ ہی ان سہولیات کا اثر آفرین سطح تک اونچا کرنا نیز ساتھ ہی پیداوار میں اضافہ کرنا ہے۔ بارآوری کی سطح جیسا ان معنی میں ثمر آور سرمایہ کاری کا عمل باقاعدہ طور پر صرف 1820 کے بعد ہی بڑھا۔ 1840 کی دہائی تک کپاس، لوہا اور انجینیرنگ کی صنعتوں میں آدھے سے بھی کم صنعتی پیداوار ہوتی تھی۔ تکنیکی ترقی صرف ان صنعتی شاخوں تک ہی محدود نہ تھی بلکہ دوسری صنعتی شاخوں جیسے زرعی طریق عمل اور مٹی کے برتن میں بھی نظر آتی تھی۔
پہلے کے مقابلے 1815 کے بعد انگلینڈ میں صنعتی نشوونما تیزی سے کیوں ہوئی؟ اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کے لیے مورخین نے اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے کہ 1760 کی دہائی سے 1815 تک برطانیہ نے دو چیزیں، پہلی صنعت کاری اور دوسری یوروپ، شمالی امریکہ اور ہندوستان کی جنگیں، ایک ساتھ کرنے کی کوشش کی اور وہ شاید ایک میں ناکام رہا۔ 1760 سے 60 سالوں میں سے 36 سال تک برطانیہ لڑائی میں مصروف رہا تھا۔ جو سرمایہ کاری کے لیے ادھار لیا گیا تھا وہ جنگیں لڑنے میں خرچ کیا گیا۔ یہاں تک کہ جنگ کا 35 فیصدی خرچ لوگوں کی آمدنی پر ٹیکس لگاکر پورا کیا گیا۔ مزدوروں کو فیکٹریوں اور کھیتوں سے نکال کر فوج میں بھرتی کر دیا گیا۔ غذائی اشیاء کی قیمتیں اتنی تیزی کے ساتھ بڑھیں کہ غرباء کے پاس اشیاء خریدنے کے لیے بہت کم پیسہ پچتا تھا۔ نیپولین کی ناکہ بندی کی پالیسی اور اس پر برطانوی جوابی رد عمل نے یوروپی براعظم کو تجارتی نقطہ نظر سے بند کردیا تھا جس کی وجہ سے برطانوی تاجروں کا برطانوی برآمدات کا ہدف آدھے سے بھی کم رہ گیا تھا۔
’’صنعتی‘‘ لفظ کا استعمال لفظ ’’انقلاب‘‘ کے ساتھ بہت محدود ہے۔ اس دوران جو تغیر کلی ہوا وہ معاشی یا صنعتی میدان تک ہی محدود نہ تھا، بلکہ اس سے بڑھ کر وسیع تھا جس نے دو نمایاں طبقات پیدا کیے، پہلا شہری متوسط طبقہ بورژوائی (Bourgeoisie) اور دوسرا شہروں اور دیہاتوں میں رہنے والا (عوام الناس) مزدور طبقہ (Proletarian)۔
1851 میں لندن میں خاص طور پر تعمیر کرسٹل پیلیس (Crystal Palace) میں برطانوی صنعت کے کارناموں کو دکھانے کے لیے ایک عظیم نمائش کا اہتمام کیا گیا جس کو دیکھنے کے لیے تمام تماشائیوں کا ہجوم امڈ آیا۔ اس وقت ملک کی آدھی آبادی شہروں میں رہتی تھی، لیکن شہروں میں رہنے والے بہت سے لوگ دستکار اکائیوں میں کام کرتے تھے۔ اسی طرح فیکٹریوں میں کام کرتے تھے۔ 1850 کی دہائی سے شہری علاقوں میں رہنے والے لوگوں کا تناسب ڈرامائی انداز میں بڑھ گیا۔ اور ان میں سے زیادہ تر افراد صنعتی مزدور تھے یعنی مزدور طبقہ تھا۔ اب برطانیہ کی 20 فی صدی مزدور طاقت ہی دیہی علاقوں میں رہتی تھی۔ صنعت کاری کی یہ رفتار دیگر یوروپی ممالک میںہو رہی صنعت کاری کے مقابلے میں بہت تیز تھی۔ برطانوی صنعت کے اپنے تفصیلی مطالعہ میں مورخ اے۔ ای۔ موسون (A.E. Musson) نے خیال ظاہر کیا ہے کہ ’’1850 سے 1914 کا زمانہ ایک ایسا عہد ماننے کے لیے اچھی بنیاد ہے جس میں صنعتی انقلاب حقیقتاً بڑے پیمانے پر وقوع پذیر ہوا جس سے پوری معیشت اور سماج میں پہلے آئی تبدیلیوں کے مقابلے میں زیادہ وسیع اور شدت کے ساتھ تبدیلیاں واقع ہوئیں۔‘‘

TC9-27
’’تمام ممالک کے صنعتی کام‘‘نامی 1851 کی عظیم نمائش کا منظر، جس میں خاص طور پر قابل نظارہ برطانوی صنعتی ترقی کو دکھایا گیا ہے۔ یہ لندن میں ہائڈپارک میں واقع کرسٹل پیلیس میں لگائی گئی تھی۔ یہ پیلیس برمنگھم میں تیار کیے گئے لوہے کے ستونوں میں جڑے شیشے کے خانوں سے بنایا گیا تھا۔


مشق  

مختصر جواب دیں  

1۔  برطانیہ 1793 سے 1815 تک بہت سی جنگوں میں شامل رہا۔ اس کے برطانوی صنعتوں پر کیا اثرات مرتب ہوئے؟
نہر اور ریلوے نقل و حمل کے مربوط فوائد کیا تھے؟
3۔  اس عہد میں ہوئی ’’ایجادات‘‘ کی دلچسپ خصوصیات کیا تھیں؟
4۔  بتائیے کہ برطانوی صنعت کاری کی ساخت/ ماہیئت کو خام مال کی سپلائی نے کیسے متاثر کیا؟

مختصر مضمون لکھیے

5۔  برطانوی خواتین کے مختلف طبقات کی زندگیوں پر صنعتی انقلاب کے کس طرح کے اثرات مرتب ہوئے؟
6۔  دنیا کے مختلف ممالک میں ریلوے کے آغاز کے بعد وہاں کیا اثرات پڑے۔ موازنہ کیجیے۔