وہ ممالک جنہیں کناڈ اور ریاست ہائے امریکہ کے نام سے جانا جاتا ہے اٹھارہویں صدی کے اواخر میں وجود میں آئے۔ اس وقت ان کا قبضہ آج کے بہ نسبت بہت تھوڑی سی زمین پر تھا۔ موجودہ سائز تک پہونچنے کے لیے ایک صدی کے دوران انہوں نے مزید علاقوں پر اپنا تسلط بڑھایا۔ وسیع علاقے ریاست ہائے متحدہ امریکہ نے خرید کر حاصل کیے۔ جنوب میں فرانس سے زمین خریدی (لوئی سیانا خرید Loui Siana Purchase)اور روس سے الاسکا۔ یا پھر جنگ میں جیتے جنوبی ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے بیشتر حصّے میکسیکو سے جیتے گئے۔ مگر یہ کسی کے ذہن میں بھی نہیں آیا کہ ان علاقوں میں رہنے والے باشندوں کی مرضی معلوم کری جائے۔ یو ایس اے(U.S.A) کا مغربی سرحدی علاقہ بدلتا رہتا تھا اور جیسے جیسے یہ آگے کی طرف بڑھتا مقامی باشندوں کو اور پیچھے کی طرف ہٹنا پڑتا۔
کناڈا
1837 فرانسیسی کناڈائی بغاوت۔
1840 اوپری کناڈا اور نشیبی کناڈا کی کنڈین یونین۔
1859 کناڈا گولڈ رش (سونے کے لیے پولش)۔
1867 کناڈا کی متحد ریاستیں ود فاعی ریاستیں۔
1869-85 کناڈا میں میٹس (Metis) لوگوں کے ایڈریور بغاوت۔
1876 کناڈا انڈین ایکٹ۔
1885 بین برعظمی ریلوے کے ذریعے مشرقی اور مغربی سواحل کے درمیان رابطہ قائم ہونا۔
ریاست ہائے متحدہ امریکہ
1803 میں فرانس سے لوئی سہانا خریدا ۔
1825-58 ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے مقامی باشندوں کی ’محفوظ ‘ علاقے میں نقل مکانی۔
1832 جسٹس مارشل کا فیصلہ۔
1849 امریکی گولڈ رش ۔
1861-65 امریکی خانہ جنگلی۔
1865-90 امریکی انڈین جنگ۔
1870 بین براعظمی ریلوے۔
1870 امریکہ میں ارنا بھینسے کا تقریباً نیست و نابود ہونا۔
1892 امریکی سرحدوں (Frontier) کا خاتمہ 'End' ۔
امریکہ کے بری مناظر میں انیسویں صدی میں شدید تبدیلی واقع ہوئی۔ یوروپین کازمین سے برتاؤ مقامی باشندوں کے برتاؤ سے مختلف تھا۔ برطانیہ اور فرانس سے ترک وطن کر کے آنے والوں میں کچھ نوجوان لڑکے تھے ورثہ میں آبائی جائیداد نہیں ملی تھی۔ لہٰذا وہ امریکہ میں زمین کے مالک بننے کے انتہائی متمنی تھے۔ پھر کچھ دنوں بعد جرمنی، سویڈن اور اٹلی سے تارکین وطن کی لہر چل پڑی جو اپنی زمینیں بڑے بڑے کسانوں کے ہاتھوں کھو چکے تھے اور وہ یہاں اپنے کھیت کے مالک بننا چاہتے تھے۔ پولینڈ کے لوگ پر میری (Praire grass-lands) کے سبزہ زاروں میں کام کر کے بہت خوش تھے جو انہیں ان کے وطن کے اسٹیپ (Stepps) کے میدان کی یاد دلاتے اور بے حد قلیل قیمتوں میں بڑی بڑی جائیداد خرید کر خوشی سے پھولے نہ سماتے۔ انہوں نے زمین کو صاف کیا۔ زراعت کو ترقی دی اور ان غلوں سے ؑ(چاول اور کپاس) روشناس کروایا، جو پودوں میں نہیں اگائے جا سکتے تھے۔ لہٰذا نفع حاصل کرنے کے لیے وہاں بیچا جاسکتا تھا۔ جنگلی جانوروں۔ بھیڑوں اور پہاڑی شہروں سے اپنے وسیع فارم کی حفاظت کے لیے انہوں نے ان کا اتنا شکار کیا کہ وہ معدوم ہو گئے۔ انہیں ان کی پوری طرح حفاظت کا احساس اسی وقت ہوا جب 1873 میں خاردار تارکی ایجاد ہوئی۔

جنوبی علاقوں کی آب و ہوا اس قدر گرم تھی کہ یوروپین کے لیے گھر کے باہر کام کرنا تقریباً نا ممکن تھا۔ اور جنوبی امریکہ کی نو آبادیات کے تجربے سے یہ بات معلوم تھی کہ غلام بنائے جانے والے مقامی باشندے بڑی تعداد میں ہلاک ہو گئے تھے۔ لہٰذا وسیع باغات کے مالکوں نے افریقہ سے غلاموں کو خریدا۔ اگر چہ غلامی مخالف تنظیموں (گروہوں) کے احتجاج کے نتیجہ میں غلاموں کی تجارت پر پابندی لگا دی گئی۔ لیکن جو افریقی باشندے اور ان کے بچے ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں آباد تھے غلام ہی بنے رہے۔
ریاست ہائے متحدہ امریکہ جنوبی ریاستوں نے جہاں معیشت باغات پر (اور اسی لیے غلامی) پر منحصر نہیں تھی۔ غلامانہ نظام کے خاتمے کے لیے وکالت کی جسے انہوں نے غیر انسانی عمل قرار دیا۔1861-65 کے دوران ان ریاستوں کے درمیان جو غلامی کے نظام کو برقرار رکھنا چاہتی تھیں اور ان کے درمیان جو اس کے انسداد کی تائید کرتی تھیں جنگ ہوئی جس میں موخرالذکر کی جیت ہوئی اور نظام غلامی کو منسوخ (ختم) کر دیا گیا۔ اگر چہ افریقی امریکی بیسویں صدی میں جاکر ہی شہری آزادی کی لڑائی جیتنے میں کامیاب ہوئے اور اسکول اور (عوامی وسائل نقل و حمل) پبلک ٹرانسپورٹ میں سفید فام اور غیر سفید فام کے درمیان تفریق (علیحدہ رکھنے) کا خاتمہ ہوا۔ حکومت کناڈا ایک ایسے مسئلہ میں الجھی رہی جو طویل مدت تک حل نہیں ہو سکا اور جس کا حل ہونا مقامی باشندوں کے (حقوق) سوال سے زیادہ ضروری لگ رہا تھا۔1763 میں برطانیہ نے فرانس سے جنگ کے بعد کناڈا کو جیتا تھا۔ فرانسیسی آباد کار بار بار خود مختار سیاسی درجہ کا مطالعہ کر رہے تھے۔ اس مسئلہ کا حل1867 میں جاکر ہوا۔ جب کناڈا کی ’’خود مختارریاستوں کے دفاق‘‘ کی صورت میں تنظیم ہوئی۔
مقامی باشندوں کا اپنی زمین ہارنا
ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں جب آباد کاری میں توسیع ہوئی تو مقامی باشندوں کو یا تو بہلا پُھسلا کر یا زور زبردستی سے زمین بیچنے سے متعلق معاہدوں پر دستخط کرا کے نقل مکانی پر مجبور کیا گیا۔ جو قیمتیں ادا کی گئیں وہ بہت کم تھیں اور ایسی بھی مثالیں ہیں کہ امریکنوں (یہ اصطلاح ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے یوروپی باشندے کے ئے استعمال ہوئی تھی) نے زیادہ زمین ہڑپ لی اور وعدہ سے کم قیمتیں ادا کر کے انہیں دھوکہ دیا۔
یہاں تک کہ بڑے بڑے افسران بھی مقامی باشندوں کو ان زمین سے محروم کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتے تھے۔ اس کا اندازہ اس واقعہ سے لگایا جا سکتا ہے جو یو۔ ایس۔ اے کی ایک ریاست ’جورجیا‘میں واقع ہوا۔ افسران کی دلیل تھی کہ اگرچہ چیروکی کا قبیلہ (Cherokee Tribe) ریاست کے قانون کے تحت آتا ہے، مگر انہیں شہریوں کے حقوق نے انگریزی زبان سیکھنے میں اور امریکن طرزِ زندگی کو سمجھنے میں سب سے زیادہ محنت کی۔ تب بھی انہیں شہری حقوق حاصل نہیں تھے۔
1832 میں یو۔ ایس کے چیف جسٹس جون مارشل نے فیصلہ سنایا جس میں انہوں نے کہا کہ چیروکی کے باشندے ایک ممتازکمیونٹی ہے جن کا اپنا خود مختار علاقہ ہے اور جہاں جورجیا کے قوانین نافذ نہیں ہوتے اور کچھ خاص امور میں انہیں اقتدار اعلیٰ حاصل ہے۔امریکی صدر اینڈ ریو جیکسن(Andrew Jackson) اقتصادی اور سیاسی امتیازی مراعات کے خلاف لڑنے میں خاص شہرت رکھتے تھے لیکن جب انڈین کی بات آئی تو وہ بالکل بدل گئے۔ اس نے چیف جسٹس کے فیصلہ کی پرواہ کیے بغیر فوج کو حکم دے دیا کہ چیرو کی باشندوں سے ان کی زمینوں کو خالی کرا کے عظیم امریکی ریگستان (گریٹ امریکن ڈیسرٹ) کی جانب ڈھکیل دیں۔ پندرہ ہزار لوگوں میں سے جنہیں زبردستی بھگا یا گیا ایک چوتھائی تعداد ’’آنسوؤں کے پگڈنڈی‘‘Trail of Tears) (پر ہلاک ہو گئی۔
قبائلی باشندوں کی زمین پر جو لوگ قابض ہو ئے اُنہوں نے جواز پیش کیا کہ مقامی لوگ زمین پر قبضہ کے مستحق نہیں تھے، کیونکہ انہوں نے زمین کا پوری طرح استعمال نہیں کیا تھا۔ یہ لوگ ان کی تنقید کرتے کہ وہ سست اورکاہل تھے، کیونکہ انہوں نے اپنی دستکاری کی مہارت کا استعمال کر کے بازار کے لیے مصنوعات نہیں بنائیں اور انگریزی زبان سیکھنے، درست اور صحیح طریقے پر لباس پہننے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ وہ پرزور انداز میں کہتے کہ وہ مرنے کے ہی لائق تھے۔ پریریز (Prairies) کو کاشت کی زمین بنانے کے لیے صاف کیا گیا اور جنگلی بھینسوں کو مارا گیا۔ ایک فرانسیسی زائر (سیاح) نے لکھا ہے قدیم ادوار کا انسان قدیم اور ابتدائی جانور کے ساتھ مفقود ہو جائے گا۔
|
سر گرمی 2 آبادی ے اعداد و شمار کے ان نمونوں پر رائے زنی کیجیے
|
|
|
ریاست ہائے متحدہ امریکہ |
اسپینی امریکہ 1800 |
| مقامی |
0.6 ملین |
7.5 ملین |
گورے
|
9.0 ملین |
3.3 ملین |
| مخلوط یوروپی |
0.1 ملین |
5.3 ملین |
کالے
|
1.9 ملین |
0.8 ملین |
| کل |
11.6 ملین |
16.9 ملین |
اس درمیان اصلی باشندوں کو مغرب کی طرف دھکیل دیا گیا۔ اور ان کو کہیں اور زمین (ان کے ذاتی قبضہ کے طور پر) دے دی گئی۔ لیکن اکثر اوقات معدنیات تیل، سیسہ یا سونا ان کی زمینوں میں دریافت ہونے کی صورت میں ان کو ان کی زمینوں سے دوبارہ بے دخل کر دیا جاتا تھا۔ بہت سے قبائلی اس علاقے میں شریک بننے پر مجبور تھے، جو کسی ایک قبیلہ کی ملکیت ہوتا تھا۔ جس کی وجہ سے ان کے درمیان آپسی تنازعات ہوتے تھے۔ ان لوگوں کو چھوٹے علاقوں میں جسے محفوظ (Reservation) کہا جاتاتھا، میں محبوس کر دیا تھا۔ عام طور پر یہ ایسی زمین تھی جن سے ان کا پہلے کوئی تعلق نہیں ہوتا تھا۔ انہوں نے اپنی زمین بغیر لڑے نہیں دی تھی۔ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی فوج نے 1865 سے 1890 کے درمیان بغاوتوں کے سلسلے کو کچل ڈالا تھا۔ اور 1869 اور 1885 کے درمیان کناڈامیں میٹز (Metis) باشندوں (اصلی یوروپی نسل کے لوگوں کی اولاد) نے مسلح بغاوتیں کی تھیں۔ لیکن اس کے بعد وہ باز آگئے تھے۔
علم بشریات(Anthropology)، یہ اہم ہے کہ اسی وقت (1840 کے دہے سے) شمالی امریکہ میں علم بشریات کا مضمون جس کا ارتقاء فرانس میں ہوا تھا قدیم مقامی قوموں اور یوروپ کی مہذب قوموں کے درمیان اختلافات کی تحقیق کے مطالعہ کے لیے متعارف ہوا تھا۔ کچھ ماہرین بشریات نے دلیل دی ہے کہ جس طرح یوروپ میں قدیم لوگ (Primitive) نہیں پائے جاتے اسی طرح امریکہ کے مقامی باشندے بھی ختم ہو جائیں گے۔
مقامی باشندوں کا جھونپڑا 1862 میں ماہرین آثار قدیمہ نے اس کو پہاڑوں سے لاکرویومنگ Wyoming کے میوزیم میں نسب کیا۔
اس درمیان اصلی باشندوں کو مغرب کی طرف دھکیل دیا گیا۔ اور ان کو کہیں اور زمین (ان کے ذاتی قبضہ کے طور پر) دے دی گئی۔ لیکن اکثر اوقات معدنیات تیل، سیسہ یا سونا ان کی زمینوں میں دریافت ہونے کی صورت میں ان کو ان کی زمینوں سے دوبارہ بے دخل کر دیا جاتا تھا۔ بہت سے قبائلی اس علاقے میں شریک بننے پر مجبور تھے، جو کسی ایک قبیلہ کی ملکیت ہوتا تھا۔ جس کی وجہ سے ان کے درمیان آپسی تنازعات ہوتے تھے۔ ان لوگوں کو چھوٹے علاقوں میں جسے محفوظ (Reservation) کہا جاتاتھا، میں محبوس کر دیا تھا۔ عام طور پر یہ ایسی زمین تھی جن سے ان کا پہلے کوئی تعلق نہیں ہوتا تھا۔ انہوں نے اپنی زمین بغیر لڑے نہیں دی تھی۔ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی فوج نے 1865 سے 1890 کے درمیان بغاوتوں کے سلسلے کو کچل ڈالا تھا۔ اور 1869 اور 1885 کے درمیان کناڈامیں میٹز (Metis) باشندوں (اصلی یوروپی نسل کے لوگوں کی اولاد) نے مسلح بغاوتیں کی تھیں۔ لیکن اس کے بعد وہ باز آگئے تھے۔
1854 میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے صدر کو ایک مقامی لیڈر چیف سیٹل(Chief Seattle) کا خط ملا۔ صدر نے چیف سے ایک معاہدہ پر دستخط
کرنے ے لیے کہا تھا جس کے مطابق زمین کے ایک بڑے حصّے کو جس پر وہ آباد تھے امریکی حکومت کو دینا تھا چیف نے جواب دیا۔
’’کس طرح تم آسمان اور زمین سے محبت کو خرید یا بیچ سکتے ہو یہ خیال ہی ہمارے لیے حیرت انگیز ہے۔ اگر ہوا کی تازگی اور پانی کی تابانی پر تمہاری ملکیت نہیں ہے تو کوئی انہیں کس طرح بیچ سکتا ہے۔ زمین کا یہ حصہ میرے لوگوں کے لیے مقدس ہے ہر چمک دار صنو بر کا پتہ، ہر ریگ آلود ساحل، تاریک لکڑیوں کے درمیان کا کہرا، ہر قابل کاشت بنایا گیا زمین کا ٹکڑا اور ہر بھنبھنانے والا کیڑا ہمارے لوگوں کی یادداشت اور تجربے میں پاک ہے۔ وہ عرق جو پیڑوں میں گردش کرتا ہے وہ سرخ آدمی کی یادوں کو لیے ہوتا ہے۔
اس لیے جب واشنگٹن کا عظیم الشان چیف اس سلسلے میں خط لکھتا ہے کہ وہ ہماری زمینوں کو خرید نا چاہتا ہے تو ہم سے ایک عظیم شے کا مطالبہ کرتا ہے۔ عظیم الشان چیف لکھتا ہے کہ وہ ہمارے لیے ایک جگہ مخصوص کر دے گا تاکہ ہم آرام سے رہ سکیں۔ وہ ہمارا باپ ہوگا اور ہم اُس کی اولاد ہوں گے۔ اس لیے ہم اپنی زمین کے بیچنے سے متعلق آپ کی پیش کش پر غور کریں گے۔ لیکن یہ آسان نہ ہوگا۔ کیونکہ یہ زمین ہمارے لیے مقدس ہے۔ ندیوں اور چشموں میں بہنے والا صاف شفاف پانی صرف پانی نہیں ہے بلکہ ہمارے آباء واجداد کا خون ہے۔ اگر ہم آپ کو زمین بیچتے ہیں تو آپ کو یہ ضرور یاد رکھنا ہوگا کہ یہ زمین مقدس ہے اور اپنے بچوں کو بھی اس بات کو ضرور سکھا دیں کہ یہ زمین مقدس ہے اور تالابوں کے صاف شفاف پانی میں ہر اداس عکس ہمارے لوگوں کی زندگی کی یادداشت اور واقعات کو بتلا تا ہے۔ پانی کی سرسراہٹ میرے والد کے والد کی آواز ہے۔
سونے کے لیے رش(Gold Rush) اور صنعتوں کی ترقی
ہمیشہ سے اس بات کی امید کی جاتی تھی کہ شمالی امریکہ میں سونا ہے۔ 1840 کی دہائی میں امریکہ کے کیلی فورنیا میں سونا دریافت ہوا اور یہ گولڈ رش کا سبب بنا۔ جب یورپ کے ہزاروں لالچی باشندوں نے کم وقت میں قسمت سنوارنے کی امید میں، بے تابی کے ساتھ امریکہ پہنچے اس کی وجہ سے پورے بر اعظم میں ریلوے لائن کی تعمیر ہوئی جس کے لیے ہزاروں چینی مزدوروں کو بھرتی کیا گیا۔ امریکہ کی ریلوے 1870 میں اور کناڈا کا ریلوے کا کام 1885 میں مکمل ہو گیا اسکاٹ لینڈ کا ایک غریب تاریک وطن جو امریکہ کے پہلے کروڑپتی صنعت کاروں میں سے ایک اینڈریو کارنیجی(Andrew Carnegie) نے کہاتھا کہ ’’پرانے ممالک گھونگھے کی رفتار سے سفر کرتے ہیں اور ریپبلک (جمہوری ملک) ایکسپریس کی رفتار سے کرتے ہیں۔

انگلینڈ میں صنعتی انقلاب کے وقوع پذیر ہونے کا ایک سبب یہ تھا کہ چھوٹے کسان بڑے کسانوں کے ہاتھوں اپنی زمینوں سے محروم ہو رہے تھے اور فیکٹریوں میں کام کرنے کی طرف راغب ہو رہے تھے (باب 9 ملاحظہ کیجیے)۔ شمالی امریکہ میں صنعتوں کی نشو ونما کے اسباب بالکل مختلف تھے۔ صنعتی نشوونما ریلوے کے سازو سامان بنانے کی وجہ سے ہوئی تاکہ تیز رفتار نقل و حمل کے ذریعہ دور دراز کے مقامات کو جوڑا جا سکے۔ اور ایسی مشینوں کے بنانے کی غرض سے ہوا جو بڑے پیمانے پر زراعت کو آسان بنا دیں۔ دونوں جگہ امریکہ اور کناڈا میں صنعتی شہروں کا فروغ ہوا اور فیکٹریوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ امریکہ کی معیشت غیر ترقی مند تھی۔
1890 میں امریکہ دنیا کی صنعتی طاقت کا پیش روبن چکا تھا۔ زراعت میں بھی بڑے پیمانے پر توسیع ہوئی۔ وسیع علاقوں کو صاف کر کے کھیتی کے لائق بنایا گیا اور ان کو کھیتوں میں تقسیم کیا گیا۔ 1890 تک ارنا بھینسے لگ بھگ نیست و نابود ہو چکے تھے۔ اس طرح شکار والی زندگی کا بھی خاتمہ ہو گیا جسے اصلی باشندے صدیوں سے اپنائے ہوئے تھے۔ 1892 میں امریکہ کی بر اعظمی توسیع پوری ہو چکی تھی۔ بحر الکاہل اور اٹلانٹک کے درمیان کا علاقہ ریاستوں میں تقسیم کر دیا گیا تھا۔ اب وہ سرحد باقی نہ رہی جو کئی دہائیوں تک یوروپ کے آباد کاروں کو مغرب کی طرف کھینچتی رہی تھی۔ چند ہی سالوں کے اندر امریکہ ہوائی (Hawaii) اور فلپائن(Philippines) میں اپنی نوآبادی قائم کر رہا تھا اور ایک سامراجی طاقت بن چکا تھا۔
ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے ذریعہ تارکین وطن کا استقبال کارنگین پرنٹ 1909
نیچے: پر میری کے بعد ان میں مویشی باڑہ کا فوٹو جو غریب یوروپی تارکین وطن کا خواب تھا۔
دستوری حقوق
1770کی دہائی میں اپنی آزادی کی لڑائی کے لیے جس ’’جمہوری جذبہ‘‘ نے آبادکاروں کو جدوجہد کرنے کے لیے جوش و ولولہ عطا کیا تھا اس جمہوری جذبہ نے قدیم دنیا کی شہنشاہیئت اور آمریت کے خلاف امریکہ کو پہچان عطا کی۔ ان کے لیے یہ بھی بہت اہم تھا کہ ان کے دستور میں فرد کے ’’حق ملکیت‘‘ کو شامل کیا گیا تھا۔ اور اس حق کو حکومت مسترد نہیں کر سکتی تھی۔
لیکن دونوں جمہوری حقوق (کانگریس کے نمائندگان اور صدر کو ووٹ دینے کا حق) اور حق ملکیت صرف سفید لوگوں کے لیے تھے۔ کناڈا کے ایک اصلی باشندے ڈینیل پا ل(Daniel-Paul) امریکہ کی آزادی کی جنگ اور انقلاب فرانس کے وقت جمہوریت کے علمبردار تھومس پین (Thomas Paine) نے اس طرف توجہ مبذول کرائی کہ ’’سماج کو کس طرح منظم کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے انڈین لوگوں کو ماڈل (نمونہ) بنایا‘‘۔ وہ اکثر یہ دلیل دیتا تھا کہ ’’امریکہ کے اصلی باشندوں نے مثال بن کر یوروپ کے لوگوں کے ذریعہ دیر پا جمہوریت کی تحریک کے بیج بوئے ہیں۔‘‘ (ہم وحشی نہیں تھے)(We Were Not the Savages p.333)
کارل مارکس (1818-83)، جرمنی کا عظیم فلسفی، نے امریکی سرحد کو آخری مثالی مثبت سرمایہ دار کے طور پر بیان کیا ہے۔ غیرمحدود ماہیت اور عرصہ زمانی جو منافع کے لیے غیر محدود خواہش جو خود کو موزوں بناتی ہے۔
بسٹیئٹ اینڈ کیری گرانڈرائز
تبدیلی کی ہوائیں
امریکہ اور کناڈا کے باشندوں کے حالات میں 1920 کی دہائی تک کوئی بہتری نہیں آئی۔ ’’انڈین انتظامیہ کی مشکل‘‘، سماجی سائنسداں لیوس میریم
(Lewis Meriam)
کے ذریعے کیے گئے ایک سروے، جو 1928 میں امریکہ کے اس شدید اقتصادی بحران جس نے تمام لوگوں کو متاثر کیا تھا، سے دو چار ہونے سے صرف چند سالوں قبل شائع ہوا تھا۔ اس میں اس نے اس ریزرویشن (مخصوص علاقوں) میں اصلی باشندوں کی بہت ہی گھٹیا صحت اور تعلیمی سہولیات کے متعلق دل دہلا دینے والی تصویر کشی کی ہے۔
سفید امریکیوں کو اصلی باشندوں سے ہمدردی پیدا ہوئی جن کوان کی تہذیب کے پوری طرح سے اپنانے کی وجہ سے حوصلہ کشی کی جاتی تھی اور ساتھ ہی ساتھ شہریت کے فوائد سے محروم رکھا جاتا تھا۔ یہ امریکہ میں ایک تاریخ ساز قانون بنانے کا سبب بنا۔ 1934 کے انڈین ری آرگنائزیشن ایکٹ (Indian Reorganisation Act) جس نے اصل باشندوں کو محفوظ علاقوں میں زمین خریدنے اور قرض لینے کا حق عطا کیا۔
1950 اور 60 کی دہائیوں میں امریکہ اور کناڈا کی حکومتوں نے اصلی باشندوں سے متعلق تمام مخصوص قانونی قرار داروں کو ختم کرنے کے بارے میں سوچا۔ ان کو امید تھی کہ اصلی باشندے’’ قومی دھارے‘‘ جس کا مطلب یوروپی تہذیب کو اپنانا ہے میں شامل ہو جائیں گے۔ لیکن اصلی باشندے ایسا نہیں چاہتے تھے۔ 1954 میں مقامی باشندوں کے تیار کیے گئے ’’انڈین حقوق کے اعلان‘‘ (Declaration of Indian Rights) میں اصل باشندوں کی ایک بڑی تعداد نے امریکہ کی شہریت اس شرط کے ساتھ قبول کی کہ ان کے ریزرویشن واپس نہیں لیے جائیں گے۔ اور ان کی روایات میں مداخلت نہیں کی جائے گا۔ اسی کے مشابہ واقعہ کناڈا میں بھی پیش آیا۔ 1969 میں حکومت نے اعلان کیا کہ وہ اصلی باشندوں کے حقوق کو تسلیم نہیں کرے گی۔ اصلی باشندوں نے بہترین اور منظم تحریک کے ذریعے اس کی مخالفت میں بہت سے مظاہرے اور مباحثے کیے۔ یہ سوال 1982 سے پہلے تک حل نہیں کیا جا سکا جب تک کہ دستوری ایکٹ نے اصلی باشندوں کے موجود قدیمی حقوق اور معاہدہ پر مبنی حقوق کو تسلیم نہیں کر لیا۔ بہت سی تفصیلات پر ابھی کام کرنا باقی تھا۔ آج یہ واضح ہے کہ دونوں ممالک کے اصلی باشندے اگر چہ اپنی اس تعداد سے جو اٹھارہویں صدی میں تھی، بہت کم تھے۔ اپنی تہذیب خاص طور پر کناڈا میں اور اپنی مقدس سر زمین پر اپنے حقوق کی دعویداری کی، اس انداز سے کہ ان کے آباء واجداد 1880 کی دہائی میں اس انداز میں نہ کر سکے تھے۔
سرگرمی 3
امریکی مورخ ہاورڈ اسپوڈک (Howard-Spodek) کے مندرجہ ذیل بیان پر تبصرہ کیجیے۔ ’’امریکی انقلاب کے اثرات آباد کاروں کے بر خلاف مقامی لوگوں کے لیے واقعتا۔ توسیع تنگی بن گئی۔ جمہوریت استعداد بن گئی، خوشحالی غریبی بن گئی اور آزادی قید وبند بن گئی۔
ہندوستان برطانوی حکومت کے تحت بغیر نمائندگی کے ٹیکس دینا، برابری کے طور پر نہیں دیکھا گیا (استدلالی طور پر نمائندہ حکومت ذمہ داری کے لیے تیار نہیں)
امریکہ اور آسٹریلیا میں اصلی باشندے شہری کے طور پر نہیں دیکھا گیا برابر نہیں ’’استدلالی توجیہہ‘‘ قدیم دور میں باضابطہ کھیتی نہیں ہوتی تھی۔ مستقبل میں شہریوں کے لیے کوئی گنجائش نہیں تھی۔
امریکی غلام امریکہ میں شخصی آزادی کا انکار، برابر نہیں ہیں (استدلالی تو جیہہ ’’غلامی ان ہی کے سماجی نظام کا حصہ ہے‘‘ کالے لوگ کمتر ہیں)
آسٹریلیا (Australia)
شمالی و جنوبی امریکہ کی طرح آسٹریلیا میں بھی انسانی آبادی کی تاریخ بہت طویل ہے۔ ’’قدیم اصلی باشندے‘‘ ایک عمومی نام جو بہت سے مختلف سماجوں کو دیا گیا ہے، اس بر اعظم میں 40,000 سال قبل پہلے سے آنا شروع ہو گئے تھے (یہ ممکن ہے کہ اس سے بھی قبل آئے ہوں) وہ لوگ نیوگینیا(New Guinea) سے آئے تھے جو آسٹریلیا کے ساتھ ایک طویل زمینی پل کے ذریعہ جڑا ہوا تھا۔ اصلی باشندوں کی روایات کے مطابق وہ آسٹریلیا میں نہیں آئے تھے بلکہ وہ ہمیشہ سے یہیں آباد تھے۔ گزشتہ صدیوں کو تصوراتی دور (Dream Time) کہا جاتا ہے۔ یوروپ کے لوگوں کے لیے جسے سمجھنا مشکل تھا کیونکہ ماضی اور حال کے درمیان فرق غیر واضح ہے۔
اٹھارہویں صدی کے اخیر میں مقامی قوموں کی تعداد350 سے 750 کے درمیان اور ہر ایک کی اپنی زبان تھی (یہاں تک کہ آج بھی ان میں سے دوسو زبانیں بولی جاتی ہیں)۔ مقامی باشندوں کا ایک دوسرا بڑا گروپ شمال میں رہتا ہے۔ ان کو ٹورس اسٹریٹ آئی لینڈرس (Torres Strait Islanders) کیا جاتا ہے۔ ان لوگوں کے لیے باشندوں کی اصطلاح نہیں استعمال کی جاتی ہے کیونکہ یہ مانا جاتا ہے کہ یہ لوگ کسی دوسری جگہ سے ہجرت کر کے یہاں آئے ہیں اور مختلف نسلوں سے تعلق رکھتے ہیں وہ مجموعی طور پر آسٹریلیا کی موجودہ آبادی میں 2.4 فیصد ہیں۔
آسٹریلیا کی آبادی منشو ہے اور آج بھی اکثر شہر ساحلوں کے کنارے آباد ہیں (1970 میں جہاں برطانیہ کے لوگ پہلے پہنچتے تھے) کیونکہ وسطی علاقہ بے آب و گیاہ صحراہے۔
یوروپ کے لوگ آسٹریلیا پہنچے
1606 ڈچ سیاحوں نے آسٹریلیا کو دیکھا
1642 ڈچ سیاح تسمان، جزیرہ پر اترا۔ بعد میں جس کو تسمانیہ کے نام سے موسم کیا گیا
1770 جیمس کک بوٹانی خلیج (Botany Bay) پہنچا جس کو نیو سائوتھ ویلس(New South Wales) کے نام سے موسوم کیا گیا۔
1788 برطانیہ کے سزا یافتہ مجرموں کی نوآبادی (Penal Colony) کا قیام، سڈنی کا قیام

نقشہ 2 : آسٹریلیا
یوروپی آباد کاروں اور مقامی لوگوں کے درمیان باہمی تعلقات کی کہانی اور آسٹریلیائی زمین کے کئی نکات امریکی کہانی سے مشا بہت رکھتے ہیں۔ اگر چہ اس کی شروعات 300 سال بعد ہوئی، مقامی لوگوں سے ملاقات کے بعد کیپٹن کک اور اس کے عملہ کی طرف سے ابتدائی رپورٹیں ان کے دوستانہ سلوک کے بارے میں پرجوش تھیں برطانیہ کے لوگوں کے احساسات میں اس وقت شدید بدلاؤ آیا، جب ایک مقامی آدمی کے ذریعہ آسٹریلیا میں نہیں بلکہ ہوائی میں کک قتل کر دیا گیا۔ جیسا کہ اکثر ہوا ہے کہ اس طرح ایک حادثہ کو آباکاروں نے اس کے بعد میں ہوئے دوسرے لوگوں کے خلاف تشدد کے لیے جواز بنا کر استعمال کیا ہے۔
1790 میں سڈنی علاقہ کا ایک بیان
’’برطانیہ کی موجودگی نے مقامی لوگوں کی پیداوار کو ڈرامائی طور پر درہم برہم کر دیا۔ ہزاروں بھوکے لوگوں کی آمد اور اس کے بعد سینکڑوں لوگوں کی مزید آمد نے غذا کے مقامی وسائل پہ بے مثال دباؤ ڈالا۔
پس لوگوں نے ان سب چیزوں کے بارے میں کیا سوچا ہوگا۔ ان کے لیے اتنے بڑے پیمانے پر مقدس جگہوں کی تباہی، ان کی زمین پر عجیب و غریب اور پرتشدد سلوک ناقابل فہم تھا۔ نئے آنے والے درختوں کو بغیر کسی وجہ کے کاٹتے جاتے۔ کیونکہ نہ تو وہ چھوٹی کشتیاں (Canoes) بنا رہے تھے اور نہ جنگلوں سے شہد حاصل کر رہے تھے اور نہ جانوروں کو پکڑ رہے تھے۔ پتھروں کو ہٹایا گیا اور ایک جگہ انبار لگا دیا۔ مٹی کھودی گئی اور اسے شکل دے کر پکا یا گیا۔ زمین میں سوراخ کیے گئے بڑی اور ضخیم عمارتیں تعمیر کی گئی۔ ممکن ہے کہ ابتداء میں انہوں نے یہ سوچا ہو کہ زمین سے درخت کو کاٹ کر ایک مقدس مذہبی میدان بنایا جائے گا۔ شاید انہوں نے سوچا ہو کہ مذہبی رسومات کا ایک بڑا اجتماع ہونے والا ہے۔ اس خطرناک کام (تجارت) سے ان کو پوری طرح دور رہنا چاہئے۔اس میں کوئی شکل نہیں کہ ڈارکس (Daruks)، اس کے بعد نوآبادی سے بچنے لگے۔ ان کو دوبارہ واپس لانے کا واحد راستہ سرکاری طور پر اغوا کرنا تھا۔‘‘
(پی گرم شا، ایم۔ لیک، اے۔میک گراتھ۔ ایم کوارٹلی، گریٹنگ اے نیشن)
(P.Grimshaw, M.Lake, A.Mc Grath, M. Quartly, Creating a Nation)
یہ لوگ (مقامی لوگ) دور اندیش نہیں تھے۔ انیسویں اور بیسویں صدی میں تقریباً 90 فی صد لوگ جراثیم کے پھیلے اثرات سے اپنی زمینوں اور وسائل کے کھونے سے اور آباد کاروں کے خلاف جنگ میں مارے گئے۔ برازیل میں مقامی لوگوں کے ساتھ پرتگالی مجرموں کو آباد کرنے کا تجربہ اس وقت چھوڑنا پڑا جب ان کے پر تشدد سلوک کی وجہ سے مقامی باشندوں کو ہر غیظ وغضب اور انتقام کے لیے بر انگیختہ کر دیا۔ برطانیہ نے امریکی نوآبادیوں میں ان کے آزاد ہونے سے پہلے بالکل یہی طریقہ اپنایاتھا۔ پھر اسے انہوں نے آسٹریلیا میں بھی جاری رکھا۔ ابتدائی آباد کاروں میں اکثر مجرم تھے جن کو برطانیہ سے جلا وطن کر دیا گیا تھا۔ اور جیل کی مدت ختم ہونے کے بعد ان کو آسٹریلیا میں آزاد لوگوں کی طرح رہنے کی اجازت اس شرط پر دی گئی تھی کہ وہ برطانیہ واپس نہیں جائیں گے۔ ان کو لوٹنے کی کوئی امید نہ تھی اور اپنے وطن سے بالکل مختلف ملک میں اپنے آپ زندگی گزارنی تھی۔ اس لیے انہوں نے مقامی لوگوں کو ان کی کاشت کی زمینوں سے بے دخل کرنے میں کسی قسم کے تردد سے کام نہیں لیا۔
آسٹریلیاکی ترقی
1850 آسٹریلیا کی نوآبادیوں کو حکومت خود اختیاری عطا کی گئی۔
1851 چینی قلیوں کا وطن تبدیل کرنا جن پر 1855 میں قانون کے ذریعہ روک لگا دی گئی تھی۔
1851-1861 سونے کے لیے یورش(Gold Rushes) ۔
1901 چھ صوبوں کے ساتھ آسٹریلیائی وفاق (Federation of Australia) کا قیام۔
1911 کینبیرا(Canberra) کا دارالحکومت کی حیثیت سے قائم ہونا۔
یوروپی نوآبادی کے تحت آسٹریلیا کی معاشی ترقی میں اس قدر تبدیلیاں وقوع پذیر نہیں ہوئیں جیسا کہ امریکہ کی معیشت میں ہوئی تھیں۔ بھیڑوں کے وسیع فارم اور کانوں کے اسٹیشن (Mining Station) ایک لمبے عرصہ میں اور بڑی محنت سے قائم کیے گئے تھے۔ اس کے بعد انگور کے باغ لگائے گئے اور گیہوں کی کھیتی شروع ہوئی۔ یہی چیزیں ملک کی خوشحالی کی بنیاد بنیں۔ جب صوبے متحد ہوئے تو یہ فیصلہ کیا گیا کہ آسٹریلیا کی ایک نئی راجدھانی 1911میں بنائی جائے گی۔ اس وقت اس کا نام وڈ ویٹ گولڈ (Wood Wheat Gold) تجویز کیا گیا تھا۔ آخر میں اسے کینبیرا Canberra (=Kanberra= ایک قدیم لفظ جس کے معنی مجلس یا ملنے کی جگہ) کا نام دیا گیا۔
کچھ مقامی باشندوں کو فارموں میں ملازم کے طورپر رکھا گیا اور یہ ایسے سخت حالات میں کام کرتے تھے کہ ان کا غلامی سے فرق بہت کم ہوتا تھا۔ بعد میں چینی تارکین وطن نے سستی مزدوری فراہم کی جیسا کہ کیلی فورنیا میں ہوا تھا۔ لیکن غیر سفید فاموں پر منحصر ہونے کے بڑھتے خدشہ سے دونوں ملکوں کی حکومتوں نے چینی تارکین وطن پر پابندی لگا دی۔ 1974 تک عوامی ڈر اس سلسلے میں کہ جنوب ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا کے کالے لوگ بڑی تعداد میں آسٹریلیا آسکتے ہیں، اس قدر تھا کہ غیر سفید فام لوگوں کو باہر رکھنا حکومت کی پالیسی تھی۔
سرگرمی 4
1911 میں یہ اعلان کیا گیا کہ نئی دہلی اور کینبیرا کو برطانوی ہندوستان اور آسٹریلیائی کامن ویلتھ (دولت مشترکہ کی شہری راجدھانی بنایا جائے گا۔ دونوں ملکوں کے اصلی باشندوں کے اس وقت کے سیاسی حالات کا مقابلہ اور موازنہ کیجیے)۔
تبدیلی کی ہوائیں
1968 میں لوگوں کو ماہر بشریات ڈبلیو۔ ای۔ایچ۔ اسٹینر (W.E.H. Stanner) کے ایک لیکچر سے جلا ملی جس کا عنوان ’’عظیم آسٹریلیائی خاموشی‘‘ (The Great Australian Silence) تھا۔ یعنی اصلی باشندوں کے متعلق مورخین کی خاموشی 1970 کی دہائی سے جیسا کہ شمالی امریکہ میں ہو رہا تھا۔ مقامی باشندوں کی دلچسپی کافی بڑھی تھی۔ یہ بشریاتی تجسس کی وجہ سے نہیں تھا بلکہ ایسی قومیں ہونے کی وجہ سے تھا جن کے پاس بہترین تہذیبیں ہیں۔ فطرت اور موسم کو سمجھنے کے انوکھے طریقے تھے اور انھیں ایسی قوموں کی طرح سمجھا تھا جن کے پاس کہانیاں، پارچہ بافی، مصوری اور مجسمہ سازی میں مہارت تھی۔ جن کو سمجھنا محفوظ رکھنا اور ان کا احترام کرنا ضروری تھا۔ اس سب کی تہہ میں وہ ضروری سوال پوشیدہ تھا جس کو بعد میں ہینری رینالڈ(Henry Reynolds) نے ایک پر اثر کتاب? Why Weren't We Told
(ہمیں بتایا کیوں نہیں؟) میں واضح طور پر بیان کیا ہے۔ اس نے آسٹریلیا کی تاریخ کے لکھنے کی اس روایت کی بھر پور مذمت کی جس کے اعتبار سے آسٹریلیا کی ابتداء کیپٹن کک کی ’’دریافت‘‘ سے ہوئی تھی۔
اس کے بعد سے مقامی باشندوں کی تہذیبوں کا مطالعہ کرنے کے لیے یونیورسٹیوں میں شعبہ جات قائم کیے گئے، آرٹ گیلریوں میں مقامی آرٹ گیلریوں کا اضافہ کیا گیا۔ میوزیم میں توسیع کی گئی تاکہ ان میں (سہ ابعادی مجسمےDioramas) اور مقامی تہذیب کو مترشح کرنے کے لیے تصوراتی طریقے پر سجائے گئے کمروں کو ان میں جگہ دی جائے۔ اور مقامی باشندوں نے اپنی زندگیوں کی تاریخ لکھنا شروع کی۔ یہ ایک حیران کن کوشش تھی اور ایک نازک مرحلہ میں وجود میں آئی تھی۔ کیونکہ اگر مقامی تہذیبوں کو بدستور نظر انداز کیا جاتا رہتا تو اس وقت ان تہذیبوں کی بہت سی چیزیں بھلا دی گئی ہوتیں۔1974سے کثیر الجہاتی تہذیب (Multiculturalism) آسٹریلیا کی سرکاری پالیسی ہے جو مقامی تہذیب اور یوروپ و ایشیا کے تارکین وطن کی تہذیبوں کو برابر عزت دیتی ہے۔
’’کیتھی (Kathy) میری بہن ٹوٹے ہوئے دل کے ساتھ،
میں نہیں جانتی کہ میں تمہارا شکریہ کس طرح ادا کروں
تمہارے تصوراتی دور(Dream Time) کی خوشی اور غم کی کہانیوں کے لیے
جو کتابوں میں لکھی گئیں ہیں
تم ان کالے بچوں میں سے ایک تھیں
جن کے ساتھ کھیلنے کی مجھے اجازت نہ تھی—
دریا کے کنارے خیموں میں بسنے والے، غلط رنگ
(میں تم کو سفید نہیں بنا سکتی ہوں۔)
تو دیر ہو چکی تھی جب میں تم سے ملی
بعد میں یہ جاننے لگی
ان لوگوں نے مجھ کو یہ نہیں بتایا کہ جس زمین سے مجھے محبت ہے
وہ تم سے چھینی گئی تھی۔‘‘
’’دو تصوراتی دور‘‘ (Two Dream times) جس کو اوڈ گیر ونو نوال (Oodgeroo Noonuccal) کے لیے لکھا گیا۔
JODITH wRIGHT N1915-2000
جوڈتھ رائٹ
ایک آسٹریلائی مصنف جو آسٹریلیا کے قدیم مقامی باشندوں کے حقوق کی حمایتی تھی۔ اس نے بہت سی موثر نظمیں اس نقصان سے متعق لکھی ہیں جو گورے اور مقامی باشندوں کو جدا رکھنے کی وجہ سے ہوا تھا۔
1970 کی دہائی سے جب انسانی حقوق کی اصطلاح اقوام متحدہ اور دوسرے بین الاقوامی اداروں میں سنی جانے لگی تو آسٹریلیا کے عوام نے اس خطرناک چیز کو محسوس کیا کہ امریکہ، کناڈا اور نیوزی لینڈ کے بر عکس آسٹریلیا کے مقامی باشندوں کے ساتھ یوروپی لوگوں کے ذریعہ زمین لینے سے متعلق باضابطہ معاہدے نہیں کیے گئے ہیں۔ حکومت نے آسٹریلیا کی زمین کو ہمیشہ ٹیرا نولیوس(Terra Nullius) یعنی کسی کی ملکیت نہیں‘‘ اصطلاح کا استعمال کیا ہے۔ مخلوط نسل (مقامی یوروپی) والے بچوں کی اذیت ناک اور لمبی تاریخ تھی جن کو جبراً پکڑلیا جاتا تھا اور ان کو مقامی رشتہ داروں سے جدا کر دیا جاتا تھا۔
ان سوالات کو لے کر ہونے والے مظاہروں کی وجہ سے تحقیقات ہوئیں اور دو اہم فیصلے ہوئے۔ پہلا اس کا اعتراف کرنا کہ مقامی لوگوں کے پاس زمین کی موافقت میں تاریخی دستاویزات ہیں جو ان کے نزدیک مقدس زمین ہے۔ اور اس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ دوسرا یہ کہ جب ماضی کے اعمال کا کفارہ ادا نہیں کیا جا سکتا تو ان بچوں کے خلاف کی گئی ان ناانصافیوں کے بارے میں عوامی معافی مانگی جائے جس نے ’’سفید لوگوں‘‘ کو علیحدہ رکھنے کی کوشش کی تھی۔
1974 ’سفید آسٹریلیا‘ پالیسی کا خاتمہ ایشیائی تارکین وطن کو آسٹریلیا میں داخلے کی اجازت۔
1992 آسٹریلیائی ہائی کورٹ نے (مابو (Mabo) کیس میں) ٹیرا نولیوسکے قانونی طور پر ناجائز ہونے کا اعلان کیا اور 1770 سے پہلے مقامی لوگوں کے زمین پر دعوے کو تسلیم کیا۔
1995 مقامی لوگوں کے اور ٹورس اسٹریٹ (Torres Strait) آئی لینڈ کے بچوں کو ان کی فیملی سے الگ کیے جانے کے معاملے میں ایک فوجی جانچ۔
1999 1820کے دہے سے 1970 کے دہے تک گم ہوئے بچوں سے معافی کے طور پر ’’قومی یوم معافی‘‘ ''A National Sorry Day" (26 مئی) منایا جاتا ہے۔
مشق
مختصر جواب دیں
1۔ شمالی امریکہ اور جنوبی امریکہ کے مقامی لوگوں کے درمیان کے فرق سے متعلق کسی بھی نکتہ پر تبصرہ کیجیے۔
2۔ انگلش کے استعمال کے علاوہ، انیسویں صدی کے امریکہ میں انگریزی معاشی اور سماجی زندگی کی اور کون سی دوسری خصوصیات تم دیکھتے ہو؟
3۔ امریکیوں کے لیے ’سرحد‘ کا کیا مطلب تھا؟
4۔ آسٹریلیا کے اصلی باشندوں کی تاریخ کو، تاریخ کی کتابوں سے کیوں الگ رکھا گیا؟
مختصر مضمون لکھیں
5۔ لوگوں کی تہذیب کی وضاحت میں میوزیم گیلری کتنی اطمینان بخش ہے؟ کسی میوزیم کو دیکھنے کے بعد اپنے ذاتی تجربہ سے مثالیں دیجیے۔
6 ۔ تصور کیجیے کہ تقریباً 1880 کے درمیان کیلی فورنیا میں چار لوگوں کی ملاقات ہوتی ہے جن میں ایک سابق افریقی غلام ہے، دوسرا چینی مزدور ہے، تیسرا ایک جرمن باشندہ ہے جو سونے کی یورش کے زمانے میں آیا تھا اور ہوپی (Hopi) قبیلہ کا اصل باشندہ ہے۔ ان کے مابین بات چیت کو بیان کیجیے۔