Skip to content
Tareekh-e-alampermabnimauzat


11

جدید کاری کے راستے

(Paths to Modernisation)

انیسویں صدی کے آغاز میں ایشیا پر چین کا تسلط تھا۔ قنگ (Qing) خاندان (سلطنت) جو ایک طویل روایات کا وارث تھا، اپنے دور اقتدار میں امن محسوس کررہا تھا۔ جبکہ جاپان چھوٹا سا جزیرہ تھا وہ اپنے آپ کو  الگ تھلگ سا محسوس کررہا تھا۔ تاہم کچھ دہائیوںتک چین ایک ایسی افراتفری کاشکار رہا کہ اس کے اندر استعماری چیلنجوں کا سامنا کرنے کی سکت نہ تھی۔ شاہی حکومت سیاسی کنٹرول کھو چکی تھی اور عملاً اصلاح کے قابل نہ تھی۔ خانہ جنگی نے ملک میں ہل چل مچا رکھی تھی۔ دوسری طرف جاپان، تائیوان (Taiwan 1895) اور کوریا سے (1910) میں مل کر سامراجی سلطنت قائم کرنے اور صنعتی معیشت کی بنیاد ڈال کرجدید ملکی ریاست کے قیام میں کامیاب ہوگیا تھا۔ اس نے 1894 میں چین کو جو کہ تہذیب وتصورات کا مصدر تھا اور 1905 میں روس کو جو ایک یوروپی طاقت تھا،  شکست دی تھی۔
چینیوں کا رد عمل سست رہا اور سخت پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ چنانچہ جدید دنیا سے نمٹنے کے لیے انھوں نے اپنی روایات کی از سر نو تعریف کی اور اپنی قومیت کی قوت کو دوبارہ زندہ کیا نیز مغربی و جاپانی تسلط سے اپنے آپ کو چھٹکارا دلایا۔ انھوںنے یہ محسوس کیا کہ انقلاب کے ذریعہ وہ دونوں مقاصد، عدم مساوات کا خاتمہ اور ملک کی از سر نو تعمیر، حاصل کرسکتے ہیں۔ 1949 میں چین کی کمیونسٹ پارٹی نے خانہ جنگی سے نجات حاصل کی۔ لیکن ستر کی دہائی (1970) کے اواخر میں چینی رہنماؤں کو یہ خیال آیا کہ نظریاتی نظام معاشی نمو اور ترقی کو کم کررہا ہے جس کے نتیجے میں اقتصادی میدان میں وسیع اصلاحات ہوئیں، جس نے سرمایہ داری اور آزاد بازار (Free Market) کو دوبارہ زندہ کردیا۔ اگرچہ سیاسی کنٹرول کمیونسٹ پارٹی کے قبضے میں ہی تھا۔
جاپان ایک ترقی یافتہ صنعتی ملک ہوگیا لیکن سامراجیت کی طرف اس کے بڑھتے قدموں نے جنگ اور اینگلو امریکی قوتوں کے ہاتھوں شکست کی راہ دکھائی۔ اور امریکی قبضہ کثیر جمہوری سیاسی نظام کے آغاز کی علامت ثابت ہوا۔ نیز جاپان نے ستر کی دہائی (1970) میں ایک عظیم اقتصادی قوت بننے کے لیے از سرے نو اپنی معیشت کی بنیاد ڈالی۔
جاپان کی جدید کاری کا راستہ سرمایہ داری کے اصولوں پر مبنی تھا اور ایک ایسی دنیا میں اس کا ظہور ہواجومغربی سامراجیت کے زیر تسلط تھی۔ جاپان کی توسیع کو یہ دلیل دے کرجائز گردانا گیا کہ یہ مغربی تسلط کے خلاف ایک مزاحمت ہے اور اس کا مقصد ایشیا کی آزادی ہے۔ نیز ترقی نے جاپانی اداروں اور سماجی روایات کی مضبوطی، سیکھنے کی صلاحیت اور قوم پرستی کی طاقت کی طرف اشارہ کیا۔


چین اور جاپان کے پاس تاریخ نویسی کی ایک طویل روایت رہی ہے۔ کیونکہ تاریخ حکمرانوں کے لیے ایک اہم رہنما تھی اور ماضی انھیں معیار مہیّا کراتا تھا جس پر وہ اپنے آپ کو جانچتے تھے۔ حکمرانوں نے سرکاری شعبہ قائم کررکھا تھا تاکہ دستاویزات کو محفوظ رکھ سکیں اور شاہی خاندان کی تاریخ کو رقم کرسکیں۔ سائما قیان(Sima Qian 145-90 BCE) کو ابتدا ئی چین کا ایک عظیم مورخ تصور کیا جاتا ہے۔ جاپان میں چین کے تہذیبی اثرات نے تاریخ کو یکساں اہمیت دئیے جانے کی طرف رہنمائی کی۔ میجی (Meeji) حکومت کا ایک نمایاں عمل دستاویزات کوجمع کرنے اور بعینہہ لکھنے کے لیے 1869 میں ایک ادارہ قائم کیا اور یہ میجی حکومت کی بحالی کی ایک کامیاب روایت ہے۔ ان کے یہاں لکھے الفاظ کا کافی احترام کیا جاتاتھا۔ اور ادبی صلاحیت کی کافی قدر کی جاتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں کافی تحریری مواد، سرکاری تواریخ،فاضلانہ تحریریں، معروف ادب اور مذہبی رسائل موجود ہیں۔ ماقبل جدید عہد میں طباعت اور نشرواشاعت کو ایک اہمیت حاصل تھی۔ مثال کے طور پر اٹھارہویں صدی کے چین یا جاپان میں کتاب کے رواج کا سراغ لگانا ممکن ہے۔ جدیدی دانشوروں نے اس مواد کو نئے اور الگ انداز سے استعمال کیا ہے۔
جدید دانشوری کی بنیاد چینی مفکرین کے کاموں مثلاً لیانگ قچاؤ (Liang Qichao)یا کیوم کیونی ٹیک (Kume Kunitake, 1839-1931) جو کہ جاپان کی جدید تاریخ کے اولین عالموں میں سے ایک تھا نیز مغربی سیاحوں کی اولین تحریروں پر ہے۔ جیسے اٹلی کا مارکو پولو (Marco Polo, 1254-1324) چین میں 1274-1290) عیسائی پادری ماٹیو ریکی (Jesuit Priests Mateo Ricci, 1552-1610) چین مین اور جاپان میں لوئس فروئس (Luis Frois 1532-1597)۔ ان لوگوں نے ان ممالک کے واقعات کی بیش بہا تفصیلات چھوڑی ہیں۔ انیسویں صدی میں عیسائی مشنریوں کی تحریروں سے بھی اس نے استفادہ کیا۔ ان ملکوں کو سمجھنے میں یہ ہمیں قیمتی مواد فراہم کراتے ہیں۔
چینی تہذیب میں سائنس کی تاریخ سے متعلق انگریزی میں جوزف نیدھم (Joseph Needham) کے یاد گاری کام یاجارج سین سم (George Sansom) کے جاپانی تہذیب اور تاریخ سے متعلق کام کے آغاز کے سبب آج وہاں ہمیں علمی تحریروں کا ایک عظیم ذخیرہ ملتاہے۔ حالیہ سالوں میں چینی اور جاپانی علماء کی تحریروں کو انگریزی میں منتقل کیا جاچکا ہے۔ ان علماء میں سے بعض تو باہر پڑھاتے ہیں اور انگریزی زبان میں لکھتے ہیں۔ لیکن جہاں تک چینی علماء کا تعلق ہے تو اسّی کی دہائی (1980) سے بہت سے علماء جاپان میں کام کررہے ہیں اور جاپانی زبان میں لکھتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کرہ ارض کے مختلف حصوں کی ہمارے پاس عالمانہ تحریریں موجود ہیں جو ہمارے سامنے ان ملکوں کی عمدہ اور مفصل تصویر پیش کرتی ہیں۔
نیٹوکونن (Naito Konan (1866- 1934)* 
چین کے ایک عظیم جاپانی غلام نیٹو کونن کی تحریروں نے پوری دنیا  کے علماء کومتاثر کیا۔ مغربی تاریخ نگاری کے نئے لوازمات کو استعمال کرتے ہوئے اور ایک صحافی کی طرح اپنے تجربات کو پیش کرتے ہوئے نیٹو نے چین کے مطالبہ کی طویل روایات پر اعتماد کیا۔1907 میں کیوٹو (Kyoto) یونیورسٹی میں مشرقی علوم (Oriental Studies) کے شعبہ کے قیام میں مدد کی۔ اس نے شنارون (Shinaron) میں (چین سے متعلق 1914) یہ حجت قائم کی کہ جمہوریت پر مبنی حکومت نے چینیوں کو آمرانہ تسلط اور ’سنگ‘ (Sung) خاندان کی حکومت (960-1279) سے چلے آرہے مرکزی اقتدار (Centralised Power) کو ختم کرنے کا راستہ دکھایا۔ یہ راستہ تھا ایک مقامی سماج کے احیاء کا جس میں اصلاحات کا آغاز ضروری تھا۔ نیٹو کو چین کی تاریخ میں ایسی طاقتیں نظر آئیں جو چین کو جدید اور جمہوری ملک بنا سکیں۔ اس کے خیال میں جاپان نے چین میں ایک اہم کردار ادا کیاہے۔ لیکن اس نے چینی قوم پرستی کی قوت کو حقیر سمجھا۔

*   جاپان میں خاندانی نام (لقب) پہلے لکھا جاتا ہے۔


تعارف  (Introduction)  


چین اور جاپان کے مابین ایک نمایاں مادی (جغرافیائی) تضاد پایاجاتاہے،۔ چین ایک وسیع براعظمی ملک ہے جو بہت سے موسمی خطوںپر محیط ہے۔ اس کا قلب تین عظیم دریائی نظام سے گھرا ہوا ہے اور وہ ہیں: دریائے زرد (ہوانگ ہی Huang He)،دریائے یانگسے Yangtse (چانگ جیانگ Chang Jiang ) (دنیا کی تیسری طویل ترین ندی) اور دریائے پرل (Pearl)۔ ملک کا بڑا حصہ پہاڑی علاقہ پر مشتمل ہے۔

4
نقشہ نمبر 1 : مشرقی ایشیا

یہاں کی غالب نسلی جماعت ’’ہین‘‘ (Han)ہے اور اہم زبان چینی (Putonghua) ہے۔ لیکن اس کے علاوہ یہاں اور بھی بہت سی قومیں جیسے اوئی گھور (Uighur)، ہوئی (Hui)، مانچو (Manchu) اور تبتی(Tibetan) موجود ہیں۔ اور مختلف لہجے جیسے کین ٹونیس (Cantonese) اور شنگھائی نیز Shanghainese (WU) کے علاوہ وہاں دوسری اقلیتوں کی زبانیں بھی بولی جاتی ہیں۔
چینی پکوان میں کم از کم چار جداگانہ علاقائی اختلافات کی جھلک نظر آتی ہے۔ جنوبی یا کینٹونیس پکوان (Cantonese cuisine) وہاں کا معروف ترین پکوان ہے۔ کیونکہ زیادہ تر سمندر پار سے آئے ہوئے چینی باشندوں کا تعلق کینٹون (Canton) علاقہ سے ہے، یہ پکوان ڈم سم (Dim Sum) لفظی معنی تیرے دل کو چھونا،مختلف قسم کی پیسٹری اور ڈمپلنگس (Dumplings) پر مشتمل ہے۔ مشرق میں گیہوں بنیادی غذا ہے۔ جبکہ زی چوان (Szechuan) علاقے میں قدیم عہد میں شاہراہ ریشم (Silk Route)سے ہوتے ہوئے بدھ راہبوں کے ذریعہ لائے گئے مصالحہ اور پندرہویں صدی میں پرتگالی تاجروں کے ذریعہ لائی گئی مرچوں نے تپکھے پکوانوں کو جنم دیا۔ اور جہاں تک مشرقی چین کا تعلق ہے تو وہاں چاول اور گیہوں دونوں کھائے جاتے ہیں۔  
برخلاف چین کے، جاپان جزیروں کا ایک سلسلہ ہے۔ ان میں ہونشو (Honshu)، کیوشو (Kyushu)شیکو کو (Shikoku)اور ہوکائیڈو (Hokkaido)چاربڑے جزیرے ہیں۔ اوکی ناوان سلسلہ (Okinawan Chain) جنوب بعید کا علاقہ ہے۔ باہماس (Bahamas)کی طرح لگ بھگ اس کا عرض البلد بھی وہی ہے۔ اصلی جزیرے کا پچاس فیصد سے زائد علاقہ پہاڑی ہے اور جاپان بکثرت زلزلہ آمیز علاقہ میں واقع ہے۔ ان جغرافیائی حالات کا اثر فن تعمیر پر بھی پڑا ہے۔ وہاں کے اکثر باشندے جاپانی ہیں لیکن کچھ آئنو (Ainu)اور کوریائی (Koreans) بھی پائے جاتے ہیں۔ جب کو ریا جاپانی نو آبادی تھا تب انھیں یہاں مزدور بنا کر لایا گیا تھا۔  
جاپان میں مویشی پالن کی روایت کا فقدان ہے۔چاول یہاں کی بنیادی فصل ہے اور مچھلی پروٹین کا اہم ذریعہ ہے۔ اس وقت پوری دنیا میں را مچھلی (Raw Fish) ساشیمی یا سوشی (Sashimi or Sushi) ایک مشہور پکوان بن گئی۔ کیونکہ یہ کافی صحت بخش تصور کی جاتی ہے۔

جاپان

سیاسی نظام

ایک وقت تھا کہ بادشاہ کیوٹو (Kyoto) میں مقیم رہ کر جاپان پر حکومت کرتا تھا۔ لیکن بار ہویں صدی میں شاہی دربار کا اقتدار شوگنس (Shoguns) کے ہاتھ میں چلا گیا اور بادشاہ نام کا حاکم رہ گیا۔ 1603 سے 1867 تک ٹوکو گاوا (Tokugawa) خاندان کو شوگن کا مقام حاصل رہا ۔ امراء کی حکمرانی کے تحت ملک تقریباً 250 جاگیروں میں منقسم ہوگیا جنھیں ڈائمو (Daimyo) کہا جاتا تھا۔ شوگن حکمراں امراء پر اپنی طاقت کا استعمال کرتے تھے۔ وہ انھیں دارالحکومت ایڈو (Edo) (جدید ٹوکیو Modern Tokyo) میں طویل عرصہ تک مقیم رہنے کا حکم دیتے تھے تاکہ ان کی طرف سے کوئی خوف لاحق نہ ہو۔ بڑے شہروں اور معدون (Mines)کو بھی وہ اپنے کنٹرول میں رکھتا تھا۔ سمورائی )Samurai)(جنگجو طبقہ) کا تعلق اعلیٰ حکمراں طبقہ سے تھا۔ یہ شوگن اور ڈائمو کی خدمت کرتے تھے۔
سولہویں صدی کے آخرمیں تین تبدیلیوں نے مستقبل میں ترقی کا نمونہ پیش کیا۔ پہلی تبدیلی یہ تھی کہ کاشت کار طبقہ کو نہتا کردیا گیا تھا۔ اور ہتھیار صرف سمورائی ہی اٹھا سکتے تھے۔ اس کی وجہ سے گزشتہ صدیوں کی اکثر لڑائیاں ختم ہوگئیں اور امن وقانون کی ضمانت مل گئی۔ دوسری تبدیلی یہ تھی کہ ڈائمو میں سے ہر ایک کو کافی خود مختاری عطا کرکے انھیں ان کی جاگیرکے مراکز (Capital) میں مقیم رہنے کا حکم دے دیا گیا۔ تیسری تبدیلی یہ تھی کہ زمین کا سروے کرکے مالکوں اور ٹیکس ادا کرنے والوں کی شناخت کرالی گئی محاصل آمدنی کی مستحکم بنیاد کو یقینی بنانے کے لیے زمین کی پیداواری صلاحیت کی درجہ بندی کردی گئی۔
ڈائمو کے مراکز بڑے ہوتے گئے۔ یہاں تک کہ ستر ہویں صدی کے وسط میں جاپان میں صرف دنیا کا سب سے زیادہ گھنی آبادی والا شہر صرف ایڈو (Edo) ہی نہیں تھا بلکہ وہاں دوسرے دو بڑے شہر اوسا کا (Osaka) اور کیوٹو (Kyoto) بھی تھے۔ اور کم از کم نصف درجن قلعہ بند قصبے بھی تھے جن کی آبادی 50,000سے زائد تھی (اس کے برعکس اس وقت کے اکثر یوروپی ممالک میں صرف ایک ہی بڑا شہر تھا)۔ اس کے نتیجے میں تجارتی معیشت میں ترقی ہوئی۔ مالیاتی اور ادھار خریدو فروخت (Credit System) کے نظام وجود میں آئے۔ آدمی کے حق کو اس کے مرتبہ سے زیادہ اہمیت دی جانے لگی۔ قصبوں میں خوشیوں سے بھری پرجوش تہذیب کھل اٹھی۔جہاں تیزی سے ابھر رہی تاجروں کی جماعت نے تھیٹر اور فنون کی سرپرستی کی تھی، جہاں ایک طرف لوگ علوم سے لطف اندوز ہورہے تھے وہیں خداداد صلاحیت کے مالک مصنفین کے لیے اپنی تحریروں سے رزق حاصل کرنا ممکن تھا۔ ایڈو میں لوگ سوئیوں کے پیالے کے عوض کتابیں کرائے پر لیتے تھے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ کتابوں کو مطالعہ کس قدر معروف وپسندیدہ تھا۔ نیز اس سے یہ جھلک بھی دیکھنے کو ملتی ہے کہ *چھپائی کس سطح پر ہوتی تھی۔  
اس وقت جاپان کو مالدار تصور کیا جاتا تھا۔کیونکہ وہ آسائشی سامان جیسے ریشم چین سے اورکپڑے (Textiles) ہندوستان سے درآمد کرتا تھا۔ سونے اورچاندی کی شکل میں ان درآمدات کی قیمت کی ادائیگی نے معیشت کو نقصان پہونچایا جس کے نتیجے میں ٹوکو گاوا (Tokugawa) نے قیمتی دھاتوں کی برآمدگی پر پابندی عائد کردی۔ انھوں نے درآمدات کوکم کرنے کے لیے کیوٹو میں نشی جن (Nishijin) میں ریشم کے کارخانہ کو ترقی دینے کی طرف بھی قدم اٹھایا نشی جن کا ریشم دنیا کا بہترین ریشم تسلیم کیا جانے لگا۔ دوسری ترقی مثلاً پیسے کا بکثرت استعمال اور چاول کی اسٹاک مارکیٹ یہ واضح کرتی ہیں کہ معیشت نئے طرز پر ترقی کررہی تھی۔
سماجی اور فکری تبدیلیوں جیسے قدیم جاپانی ادب کے مطالعہ نے عوام کو اثر و رسوخ کے مرتبہ کے بارے میں سوال پر آمادہ کیا اور انھیں یہ ثابت کرنے پر ابھارا کہ جاپانی ہونے کی اصل اور روح کو چین سے رشتہ قائم ہونے سے پہلے ان ابتدائی کلاسیکی ادب جیسے جین جی (Genji) کی کہانی اور اصل سے متعلق دیومالائی کہانیوں میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ ان کہانیوں کے مطابق ان جزیروں کی تخلیق خداؤں نے کی تھی اور بادشاہ سورج دیوتا (Sun Goddess) کی اولاد ہے۔

* چھپائی کا کام لکڑی کے بلاکوں سے ہوتا تھا۔ جاپانیوں نے یوروپی چھپائی کی باضابطگی کو پسند نہیں کیا۔


جین جی کی کہانی (Tale of th Genji)  

موراساکی شیکبو (Murasaki Shikibu) کی لکھی ہوئی ھیان دربار (Heian Court)کے قصوں کی ڈائری ’جین جی‘ کی کہانی جاپانی ادب کے فکشن کے باب میں ایک نمایاں کام ہے۔ اس عہد میں بہت سی مصنف خواتین کا ظہور ہوا جیسے مورا ساکی جوجاپانی رسم الخط میں لکھتی تھیں جبکہ مرد مصنف چینی رسم الخط میں لکھتے تھے۔ جس کا استعمال تعلیم اور حکومت کے کاموں میں ہوتا تھا۔ اس ناول کے اندر شہزادہ جین جی کی رومانی زندگی کی تصویر کشی کی گئی ہے، ہیان دربار (Heian Court) کے آمرانہ انداز والے ماحول کی بھی نمایاں تصویر کشی ہے۔ اس میں شوہرکے انتخاب اور اپنی زندگی جینے کی عورتوں کو جو آزادی تھی اس کو بھی دکھایا گیا ہے۔  

نشی جن کیوٹو میں ایک بستی ہے۔ سولہویں صدی میں وہاں 31 گھرانوں پر مشتمل ایک جولاہا انجمن تھی اور سترہویں صدی کے اختتام تک اس طبقہ کی تعداد ستر ہزار سے زائد ہوگی 1713 میں صرف دیسی سوت استعمال کرنے کا فرمان جاری ہوا۔ اس سے اس کی کافی ہمت افزائی ہوئی۔ نشی جن کو صرف زیادہ قیمتی مصنوعات میں اختصاص حاصل تھی۔ ریشم کی مصنوعات نے علاقائی ٹھیکیداروں کے ایک طبقہ کے اضافے نے پیداوار میں تعاون دیا۔ ان ٹھیکیداروں نے ٹوکوگاوا کے فرمان کو چیلنج کیا اور جب 1859 میں غیر ملکی تجارت کا آغاز ہوا تو جاپان میں ریشم کی برآمدگی اس کی معیشت کے منافع کا اہم ذریعہ بن گئی جو مغربی سامانِ تجارت سے مقابلہ کرنے کی جدوجہد کررہی تھی۔

میجی کی بحالی

داخلی بے اطمینانی، سفارتی تعلقات اور تجارت کی بڑھتی مانگیں ایک ہی وقت میں واقع ہوگئیں۔ 1853 میں ریاست ہائے متحد ہ امریکہ نے کموڈور میتھیوپیری(Commodore Mathew Perry 1794-1858) کو جاپان یہ مانگ کرنے کے لیے روانہ کیا کہ حکومت ایک ایسے معاہدے پر دستخط کرے جو تجارت اور کھلے سفارتی تعلقات کی اجازت دے۔ اور یہ معاہدہ دوسرے سال انجام پاگیا۔ جاپان نے چین کا رخ کیا جسے ریاست ہائے متحدہ امریکہ ایک اہم بازار سمجھتا تھا۔ اس کے علاوہ بحرالکاہل میں اپنے جہازوں میں نئے سرے سے ایندھن بھرنے کے لیے جگہ کی ضرورت تھی۔ اس وقت صرف تنہا ہالینڈ ہی ایک مغربی ملک تھا جوجاپان کے ساتھ تجارت کرتا تھا۔
پیری کے آمد نے جاپانی سیاست پرکافی اہم اثر ڈالا۔ بادشاہ جو اس وقت معمولی سیاسی اقتدار کا حامل تھا اب ایک اہم فرد بن کر ابھرا۔ 1868 میں ایک تحریک نے جبراً شوگن کو اقتدار سے الگ کردیا اور بادشاہ کو ایڈو کے تخت پر بٹھادیا۔ اس نے اس کو دارالحکومت بنایا اور اس نے اس کا نام ٹوکیو رکھا جس کا مطلب ہے مشرقی راجدھانی ہے۔
اہل کاروں اور عام لوگوں کو یہ پتہ تھا کہ کچھ یوروپی ممالک نے ہندوستان اوردوسری جگہوں پر نوآبادیاتی سامراجیت قائم کررکھی تھی۔ نیوز آف چائنا (News of China) برطانیہ سے شکست خوردگی کے باوجود (ملاحظہ ہو صفحہ 252) آگے بڑھ رہا تھا۔ اور اسے مشہور ڈراموں میں پیش کیا جانے لگا۔ کیونکہ جاپان کو نوآبادی (Colony) میں تبدیل کیے جانے کا واقعی خوف لاحق تھا۔ بہت سے دانشور اور لیڈروں نے یوروپ کے نئے نظریات کو چینیوں کی طرح نظر انداز کرنے کے بجائے ان سے کچھ سیکھنا چاہا۔ اور کچھ دوسرے لوگ ان کی لائی ہوئی ٹیکنالوجی کو اپنانے کے لیے مستعدہونے کے باوجود انھیں بھگانے پر تلے ہوئے تھے۔ جبکہ بعض لوگ باہری دنیاکے محدود اور بتدریج داخلے کے قائل تھے۔
حکومت نے ایک پالیسی اپنائی اور فوکو کو کیوہی (Fukoku Kyohei) (مالدار ملک، فوج) کا نعرہ دیا۔ انھوں نے محسوس کیاکہ معیشت کو ترقی دینے اور ایک فوج کو تیار کرنے کی ضرورت ہے ورنہ ہندوستان کی طرح غلام بنائے جانے کے خدشات کا سامناکرنا پڑے گا۔ اس کو انجام دینے کے لیے انھیں، لوگوں کے مابین قومیت کے تصور کو ابھارنے اور رعیت کو شہری باشندوں میں تبدیل کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔  

سرگرمی 1

جاپانیوں اور ایزٹیک (Aztecs) کے ساتھ یوروپین لوگوں کے ٹکراؤ کا موازنہ کیجئے۔  

5
بیڑی کی کشتی لکڑی کی کشتی کا ایک جاپانی پرنٹ

جاپانی جسے کالا جہاز (Black Ships) کہتے ہیں(مکڑی کے جوڑوں کو سیل کرنے کے لیے کولتار استعمال کیا جاتا تھا) پینٹنگ اور کارٹونوں میں ان کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ غریب غیر ملکیوں اور ان کی عادات کو دکھایا گیاہے۔ یہ جاپان کے ’آغاز‘ کی ایک قوی علامت بن گیا۔ (آج کے دانشور یہ بحث کرسکیں گے کہ جاپان بند نہیں تھا بلکہ اس نے مشرقی ایشیا کی تجارت میں حصہ لیا۔ اورڈچ اورچینیوں کے ذریعہ اس نے وسیع دنیا کے بارے میں بھی معلومات فراہم کیں۔)

اس وقت نئی حکومت نے شاہی نظام کے قیام کے لیے کام کیا (جاپانی دانشور اس اصطلاح کو اس لیے استعمال کرتے ہیں کہ بادشاہ، نوکر شاہی اور فوج کے ساتھ اس نظام کا حصہ تھا جو طاقت کا استعمال کرسکتاتھا)۔ یوروپی سلطنتوں کے مطالعہ کے لیے افسران کو یوروپ روانہ کیا گیا تاکہ ان کے نمونے کو سامنے رکھ کر اپنی بادشاہت کا منصوبہ تیار کیا جائے۔ بادشاہ کا احترام کیاجائے۔ جیسا کہ اسے سورج دیوتا کی بالواسطہ اولاد تصور کیا جاتاتھا۔ لیکن ساتھ ہی اسے مغربیت کاری (Westernisation) کے لیڈر کے طور پر بھی دیکھا گیا۔ اس کے یوم پیدائش پر قومی چھٹی منائی جانے لگی۔ بادشاہ مغربی طرز کا فوجی یونیفارم زیب تن کرنے لگا۔ اور نئے اداروں کے قیام کے لیے فرمان اس کے نام سے جاری ہونے لگے۔ 1890 میں تعلیم سے متعلق شاہی اعلان نے لوگوں کو تعلیم کے حصول پر ابھارا اور عوام میں اچھائیوں کو فروغ دینے اور مشترک مقاصد کو پروان چڑھانے کی طرف دعوت دی۔
ستر کی دہائی (1870) میں نئے طرز کے اسکولوں کا قیام شروع ہوا۔ لڑکے اور لڑکیوں کے لیے اسکولی تعلیم کو لازمی قرار دیا گیا۔اور تقریباً 1910 میں اسے عام کردیا گیا۔ تعلیمی فیس بہت ہی کم تھی۔ نصاب تعلیم کا دارومدار مغربی نمونوں پر تھا۔ لیکن ستر کی دہائی (1870) میں جدید نظریات پرزور دیتے ہوئے وفاداری اور جاپانی تاریخ کے مطالعہ کی تاکید کی گئی۔ نصاب تعلیم اور نصاب کی کتابوں کا انتخاب اور اسی طرح استادوں کی ٹریننگ کو کنٹرول کرنے کی ذمہ داری وزارت تعلیم کی تھی۔ اخلاقی تہذیب کے مضمون کی تعلیم لازمی تھی۔ درسی کتابیں بچوں کو اپنے والدین کی عزت کرنے پر ابھارتیں اور انھیں اپنے ملک کے تئیں مخلص اور ایک اچھا شہری بننے کی تعلیم دیتی تھیں۔

6
جاپانیوں کے مشاہدے کے مطابق کموڈور پیری کی تصویر

ملک کو متحد کرنے کے لیے میجی حکومت نے قدیم گاؤں اور زمینداری کی حدود کو تبدیل کرکے ایک نیا انتظامی ڈھانچہ تیار کیا۔ انتظامی اکائی کے پاس اتنے ہی محاصل ہوتے جو مقامی اسکولوں، صحت کی سہولیات ساتھ ہی فوجی بھرتی کے مراکز کابندوبست کرنے کے لیے مناسب ہوں۔بیس سال سے زائد کے تمام نوجوانوں کوکچھ عرصہ تک فوجی خدمات انجام دینا ضروری تھا۔ ایک جدید فوجی طاقت تیار کی گئی۔ سیاسی جماعتوں کے قیام، اجتماعات پر کنٹرول اور سخت احتساب کو نافذ کرنے کے لیے ایک قانونی نظام تیار کیا گیا۔ان اقدامات میں حکومت کو مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ فوج اور نوکر شاہی بالواسطہ بادشاہ کے احکام کے تابع کردیے گئے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ دستور کے نفاذ کے بعد بھی یہ دونوں جماعتیں حکومت کے اختیار سے باہر تھیں۔ ان تمام کارروائیوں میں حکومت کو مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔

چھٹی صدی میں جاپانیوں نے اپنا تحریری رسلم الخط چینیوں سے عاریاً لیا۔ لیکن چونکہ اس وقت تک ان کی زبان چینی زبان سے کافی مختلف ہے۔ انھوں نے دو قسم کے صوتی حروف تہجی (Phonetic Alphabets) ہیرا گانا (Hiragana)اور کٹا کانا (Katakana) کوترقی دی۔ ہیرا گانا مونث سمجھا جاتا ہے۔ کیونکہ ہیان عہد میں اس کو زیادہ تر عورتیں (جیسے موراساکی) استعمال کرتی تھیں۔ ان کو چینی حروف اور صوتیات کو مرکب کرکے تحریر میں استعمال کیاجاتا ہے۔ یہی وہ وجہ ہے کہ لفظ کا حقیقی حصہ حروف لکھا جاتا ہے (مثال کے طور پر goingمیں goحروف میں لکھا جائے اور ing کو صوتیات کے ذریعہ ادا کیا جائے گا۔

صوتی اجزاء وعلامات کے وجود کا مطلب ہے کہ علم اعلیٰ طبقہ سے پورے سماج میں نسبتاً زیادہ تیزی سے پھیلا اسی کو دہائی (1880) میں یہ تجویز رکھی گئی کہ جاپان یا تو ایک مکمل صوتیانی رسلم الخط کو ترقی دے یا پھر کسی یوروپی زبان کو اختیارکرلے لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔

7
جاپانی تحریر کانجی (kanji) (چینی حروف)لال کٹا کانا نیلا ہرا گانا ہرا

جدید فوجی نظام اور جمہوری دستور کے ذریعہ پیش کردہ ان مختلف اصولوں پر مابین کشیدگی نے دوررس نتائج کوجنم دیا۔ فوج نے مزید علاقوں کے حصول کی خاطر ایک چاق وچوبند پالیسی کواپنانے کے لیے دباؤ ڈالا، جس کے نتیجے میں چین اور روس کے ساتھ جنگیں بھڑک اٹھیں، دونوں میں ہی جاپان کو فتح نصیب ہوئی۔ عظیم تر جمہوریت کا نمایاں مطالبہ ہمیشہ حکومت کی استبدادی پالیسیوں کے خلاف رہا۔ جاپان اقتصادی میدان میں ترقی اور ایک سامراجی ریاست کے قائم کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ اس سے ملک کے اندر جمہوریت ختم ہوگئی اور عوام کے ساتھ تصادم میں مبتلا ہوگیا۔

معیشت کی جدید کاری


میجی حکومت کی نمایاں اصلاحات میں ایک معیشت کی جدید کاری بھی ہے۔ زراعتی ٹیکس بڑھا کر فنڈ میں اضافہ کیا گیا۔ 1870-72 میں ٹوکیو اوریوکوہا ما کی بندرگاہ کے مابین پہلی جاپانی ریلوے لائن بچھائی گئی۔ یوروپ سے ٹیکسٹائل کے آلات منگائے گئے۔ مزدوروں کو ٹریننگ دینے اورساتھ ہی اسکولوں اور یونیورسٹیوں میں پڑھانے کے لیے دوسرے ممالک کے تکنیکی ملازم رکھے گئے۔ نیز جاپانی طلبہ کو باہر بھیجا گیا۔1872میں جدید بینک کاری کے اداروں کاقیام عمل میں آیا۔ مٹسوبشی (Mitsubishi) اور سومی ٹومو (Sumitomo) جیسی کمپنیوں کو بڑی جہاز ساز کمپنی بننے کے لیے مراعات اور ٹیکس کے فوائد کے ذریعہ ان کی مدد کی گئی۔ تاکہ جاپانی تجارت جاپانی جہازوں کے ذریعہ ہو۔دوسری جنگ عظیم کے بعد تک معیشت پر زیباٹسو (Zaibatsu) (منفرد خاندانوں کے زیر تسلط بڑی تجارتی تنظیمیں) کا قبضہ تھا۔
آبادی 1872 میں 35 ملین تھی جو 1920 میں 55 ملین ہوگئی۔آبادی کے دباؤ کوکم کرنے کے لیے حکومت نے سرگرمی سے ہجرت کی ہمت افزائی کی۔ سب سے پہلے ہوکائیڈ (Hokkaido) کے شمالی جزیرے کی طرف جو کہ عام طور سے ایک خود مختار علاقہ تھا اور وہاں پر دیسی لوگ جنھیں اینو (Ainu) کہاجاتا تھا، آباد تھے۔ اور اس کے بعد ہوائی (Hawaii) اور برازیل کی طرف اور جاپان کی بڑھتی سامراجی سلطنت کی طرف ہجرت کو سراہا۔ جاپان میں جیسے ہی صنعت نے ترقی کی، قصبوں میں تبدیلی آئی۔ 1925 میں 21 فی صد لوگ شہروں میں رہنے لگے اور 1935 میں یہ تعداد بڑھ کر 32فی صد ہوگئی۔ (22.5 ملین)۔


8
ٹیکسٹائل فیکٹری میں مزدور

صنعتی مزدور  


صنعت کے میدان میں کام کررہے لوگوں کی تعداد 1870 میں 700,000 تھی جو 1913 میں بڑھ کر 4   ملین ہوگئی۔ ان میں سے اکثر ایسی صنعتی اکائیوں میں کام کرتے تھے جن میں سے پانچ سے کم لوگ تھے جن میں مشینری (آلات)اور بجلی کا استعمال نہیں ہوتا تھا۔ جدید کارخانوں میں ملازمت کرنے والوں میں نصف سے زائد تعداد عورتوں کی تھی اور یہ عورتیں ہی تھیں جنھوں نے 1886 میں پہلی جدید ہڑتال کی تھی۔ بعد میں مردوں کی تعداد بڑھنے لگی مگرصرف تیس کی دہائی (1930) میں آکر ہی مردوں کی تعداد عورتوں سے زیادہ ہوئی۔  
کارخانوں کا حجم بھی بڑھنے لگا۔ سو سے زائد لوگوں کو ملازمت دینے والی فیکٹریاں 1909 میں ایک ہزار سے زائد تھیں جو 1920 میں دوہزار اورتیس کی دہائی (1930) میں چار ہزار نیز1940 میں بڑھ کر 550,000 ہوگئیں۔ کارخانوں میں 5   سے کم مزدور کام کرتے تھے۔ اس سے خاندان پر مرکوز نظر بنی رہی۔ اسی طرح جس طرح قوم پرستی کو مضبوط موروثی خاندانی نظام کا سہارا تھا جہاں بادشاہ خاندان کا سربراہ مانا جاتا تھا۔
تیز رفتار اور غیر منضبط صنعتی ترقی نیز قدرتی وسائل کے مطالبہ مثلاً لکڑی نے ماحولیاتی گراوٹ کو جنم دیا۔ ٹناکا شوزو (Tanaka Shozo) نے ایوان نمائندگان کے پہلے منتخب ممبر کی حیثیت سے 1897 میں 800دیہاتیوں کے ساتھ صنعتی آلودگی کے خلاف پہلا مظاہرہ کیا اور حکومت کو کارروائی کرنے کے لیے مجبور کیا۔  

جارحانہ قوم پرستی

میجی دستور ایک محدود رائے دہندگی پرمبنی تھا۔ اس نے محدود اختیارات والی ایک قانونی مجلس Diet   بنائی (جاپانی جرمنی کے قانونی نظریات سے متاثر ہونے کی وجہ سے انھوں نے جرمنی لفظ کو پارلیمنٹ کے لیے استعمال کیا) وہ قائد جو سامراج کی بحالی کا سبب بنے وہی طاقت کا استعمال کرتے رہے۔ یہاں تک کہ ان لوگوں نے سیاسی پارٹیاں قائم کرلیں۔ 1918 سے 1931 کے درمیان عوام کے ذریعہ منتخب وزیر اعظموں نے کابینائیں بنائیں اس کے بعد انھوں نے پارٹی نظریات سے قریب فوجی یکجہتی کے لیے کا بینائوں کے ہاتھوں اپنا اقتدار کھودیا۔ شہنشاہ فوجوں کا کمانڈر تھا۔ اور 1890 سے یہ مطلب سمجھا جانے لگا تھا کہ برمی فوج کے پاس آزادانہ اختیار ہے۔ 1899 میں وزیر اعظم نے یہ حکم دیاکہ صرف فوجی اور امیر البحر ہی وزیر ہوسکتے ہیں۔ جاپان کافوجی طاقت کو بڑھانا اور ساتھ میں اس کی استعماری سلطنت کی توسیع اس ڈر سے وابستہ تھی کہ جاپان مغربی طاقتوں کے رحم وکرم پر منحصر ہے۔ اس خوف کو فوجی توسیع کی خاموش مخالفت اور مسلح افواج کو کثیر ٹیکس کی شکل میں فنڈ دینے کے سلسلے میں استعمال کیا گیا۔

کسان کے بیٹے تناکا شوزو (Tanaka Shozo,1841-1913) نے اپنی پڑھائی خود کی اور اہم سیاسی شخصیت کے طور پر ابھرے۔ 1880کی دہائی میں اس نے عوامی حقوق کی تحریک (Popular Rights Movement) میں حصہ لیاجو کہ دستوری حکومت کا مطالبہ کررہی تھی۔ وہ پہلی مجلس مقننہ Dietکا ممبر منتخب ہوا۔ اس کا ماننا تھا کہ صنعتی ترقی کے لیے عام لوگوں کی قربانی نہیں دی جانی چاہیے۔ اے شیوکان (Ashio Mine) واتر اسے ندی (Watarase river) کو آلودہ کررہی تھی جس کی وجہ سے 100 مربع میل کی زراعتی زمین برباد ہو رہی تھی اور ایک ہزار خاندان متاثر ہورہے تھے۔ تحریک نے کمپنی کو مجبور کیا کہ وہ آلودگی کنٹرول کے اقدامات کرے جس کی وجہ سے 1904تک فصلیں معمول پر آگئیں۔


مغربیت کاری اور روایت (Westernisation and Tradition)  


جاپان کے دوسرے ملکوں کے ساتھ تعلقات رکھنے کے تعلق سے جاپانی دانشوروں کی متواتر نسلیں مختلف آراء رکھتی تھیں۔ بعض لوگوں کے نزدیک ریاستہائے متحدہ امریکہ اورمغربی یوروپی ممالک تمدن کے اعلیٰ درجہ پر فائز ہیں جس کا جاپان متمنی تھا۔ فوکو زاوا یوکیچی (Fukuzawa Yukichi) (میجی کا سب سے بڑا دانشور) نے اس بات کو اس طرح بیان کیا ہے کہ جاپان کو ایشیا سے نکال باہر کر دینا چاہیے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ جاپان کو اپنی ایشیائی خصوصیات کو ختم کر دینا چاہیے اور مغرب کا ایک حصہ بن جانا چاہیے۔

9

فوکو زاوا یوکیچی (1835-1901)  

ایک مفلس سمورائی گھرانے میں پیدا ہوا۔ ناگا ساکی اور اوسا کامیں اس نے تعلیم حاصل کی۔ اس نے ڈچ اور مغربی سائنسوں اور بعد میں انگریزی زبان کا علم حاصل کیا۔ 1860 میں وہ امریکہ میں جاپان کے پہلے سفارت خانہ میں مترجم بن کر گیا۔ اس موقع نے اس کو مغرب پر ایک کتاب لکھنے کا مواد فراہم کیا۔ جو کتاب کلاسیکی اسلوب کے بجائے نئے اورآسان انداز میں لکھی گئی جو بہت مشہور ہوئی۔اس نے ایک اسکول قائم کیا جو آج کیو (Keio)یونیورسٹی ہے۔ وہ مغربی تعلیم کو آگے بڑھانے والی ایک سوسائٹی میروکوشا (Meirokusha)کے اہم ممبران میں سے ایک تھا۔

تعلیم کی ہمت افزائی کرنے والی تنظیم (گاکومون نو سوسومے 1872-76 Gakumon no susume) میں وہ جاپانی علوم کا بہت بڑا نقاد تھا ’’جاپان کے پاس طبیعی مناظر کے علاوہ فخر کرنے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے‘‘۔ اس نے جدید فیکٹریوں اور اداروں کے ساتھ ساتھ مغرب کے ثقافتی جوہر اور تمدن کے جذبہ کی بھی وکالت کی۔ اس جذبہ کے ساتھ ایک نیا شہری بنانا ممکن ہوگا۔ اس کا اصول تھا ’’قدرت نے انسانوں کو انسانوں کے اوپر نہیں بنایا ہے، نہ ہی انسانوں کو انسانوں کے نیچے‘‘۔

دوسری نسل نے مغربی نظریات کو پورے طور پر اپنانے پر اعتراض کیااور اس پر زور دیا کہ قومی فخر ملکی قدروں پر تعمیر ہونا چاہیے فلسفی میاکے سیتسو رئیے (Miyake Setsurei 1860-1945) کی دلیل یہ تھی کہ ہرقوم کو عالمی تمدن کے فائدے کے لیے اپنی خاص مہارتوں کو ترقی دینی چاہیے۔ ’’اپنے آپ کو اپنے ملک کے لیے وقف کرنا اپنے کو دنیا کے لیے وقف کرنا ہے۔‘‘اس کے برخلاف بہت سارے دانشور مغربی حریت پسندی کے گرویدہ تھے اور چاہتے تھے کہ جاپان میں فوجی حکومت کے بجائے جمہوری حکومت ہو۔ اوئے کی ایموری (Ueki Emori 1857-1892)،عوامی حقوق کی تحریک،جو کہ دستوری حکومت کا مطالبہ کررہی تھی، اس کے لیڈر تھے۔ انھوں نے فرانسیسی انقلاب کے نظریات کو سراہا جس میں آدمی کے فطری حقوق اورعوامی حاکمیت کی بات کی گئی تھی۔ انھوں نے روادارانہ تعلیم کے حق میں دلیل دی جس میں ہرفرد ترقی کرسکے گا۔ آزادی حکم سے زیادہ قیمتی ہے‘۔دوسرے لوگوں نے عورتوں کے حقوق رائے دہندگی کی بھی حمایت کی اور اس دباؤ نے حکومت کو ملکی آئین کے اعلان کرنے پر مجبور کیا۔


روزمرہ کی زندگی  


جاپان کاجدید سماج میں تغیر کلی کو روز مرہ کی زندگی میں ہونے والے تغیرات میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ سرقبیلی گھریلو نظام (جس میں بہت سی نسلیں ایک ساتھ خاندان کے بزرگ کے کنٹرول میں زندگی گزارتی تھی) پر مشتمل تھا۔لیکن جیسے ہی بہت سارے لوگ متمول ہوگئے تو خاندان کے تعلق سے نئے خیالات پھیلنے لگے۔ نیا گھر (جاپانی انگریزی لفظ ہوم (Home)کو ہومو (Homu)کہتے ہیں) نیوکلئیر فیملی پرمشتمل تھاجہاںشوہر اوربیوی دونوں ساتھ رہ کرکماتے اور گھر بساتے ہیں۔گھر یلو زندگی کے اس نئے تصور نے نئے قسم کے گھریلو سامان، نئی قسم کی فیملی تفریحات اورنئے قسم کے گھروں کی مانگ کوبڑھا دیا۔ 1920 کی دہائی میں تعمیراتی کمپنیوں نے سستے مکانات کو 200 یَن کی فوری ادائیگی اور دس سال تک 12 یَن کی ماہانہ قسط فراہم کرایا۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب ایک بینک ملازم (اعلیٰ تعلیم یافتہ) کی ماہانہ تنخواہ 40ین تھی۔

10
برقی چیزوں کا نیاپن:
ایک چاول پکانے کا کوکر، ایک امریکن سیخ 
توس سینکنے کا برقی آتش دان


کار کلب  

موگا (Moga) : جدید لڑکی کا مخفف ہے۔یہ بیسویں صدی میں جنسی مساوات کے نظریہ، بین الاقوامی ثقافت اور ترقی یافتہ معیشت کے ایک ساتھ آنے کا مظہرہے۔نئے متوسط طبقہ والی فیملی، نئے قسم کے سفر اور تفریح سے لطف اندوزہوئی۔ برقی ٹرام کی وجہ سے شہروںمیں نقل وحمل کا کام بہتر ہوگیا۔ 1878 میں پبلک پارک کھولے گئے اور مختلف اشیائی دکان (Departmental Store) بنانے کی شروعات ہوئی۔ٹوکیو میں گنزا (Ginza) گنبرا (Ginbura) کے لیے ایک فیشن پرست علاقہ بن گیا۔ گنبرا، گنزا اور بربرا سے مل کربنا ایک لفظ ہے (جس کے معنی بے وجہ گھومنا)۔1925میں پہلاریڈیو اسٹیشن کھلا۔ ایک اداکارہ متسوئی سوماکو (Matsui Sumako) ناروے کے مصنف ایبسن (Ibsen)کے ڈرامہ ’’ایک گڑ یا کا گھر‘‘ میں نورا کی تصویر کشی کرکے ایک قومی اسٹار بن گئی۔ 1899 میں فلمیں بننا شروع ہوگئیں اور جلد ہی درجنوں کمپنیوں نے سینکڑوں فلمیں بنائیں۔ یہ دورعظیم قوت حیات سے بھرا تھا۔ اور اجتماعی وسیاسی سلوک کے روایتی اصولوں پر سوالیہ نشان کا وقت تھا۔

11
عورتوں کی مشترک کار

جدیدیت کا غلبہ


1930 اور 1940 کی دہائیوں میں ریاست پر مبنی قومیت (State-centred Nationalism) کو فروغ حاصل ہوا جب جاپان نے چین اور ایشیا کے دوسرے حصوں میں اپنی سلطنت کو بڑھانے کے لیے جنگیں شروع کیں۔ یہ جنگیں جاپان کے ریاستہائے متحدہ امریکہ کے شہر پرل ہاربر (Pearl Harbor) پرحملے کے بعد دوسری عالمی جنگ سے مل گئیں۔ اس مدت کے دوران سماج پر کنٹرول میں اضافہ ہوا، اور حکومت سے اختلاف رائے رکھنے والوں پر جبر وتشدد کیا گیا اورجیلوں میں ڈالا گیا۔ ساتھ ہی ساتھ لڑائی کی حمایت میں کئی حب الوطن تنظیمیں جن میں زیادہ تر عورتوں کی تنظیمیں تھیں، تشکیل دی گئیں۔

1943 میں جدیدیت کے غلبہ کے موضوع پر ایک موثر کانفرنس ہوئی جس میں اس دوہری شکل جس سے جاپان دوچار تھا زیر غور آیا کہ ’جدید‘ ہونے کے ساتھ ساتھ مغرب کا مقابلہ کیسے کیا جائے۔ ایک موسیقار موروئی سبورو (Moroi Saburo) نے یہ سوال اٹھایا کہ موسیقی کو جسمانی ہیجان کے فن سے کیسے بچایا جائے۔ اور اس کو روح کے فن کی حیثیت سے کیسے بحال کیاجائے۔ وہ مغربی موسیقی کا انکار نہیں کررہاتھا بلکہ وہ ایک راستہ تلاش کررہا تھا کہ کیسے جاپانی موسیقی کو مغربی موسیقی کے آلات کے ذریعہ بجانے یا دوہرائے جانے سے آگے لے جایا جاسکے۔ فلسفی نشی ٹانی کیجی۔ (Nishitani Keiji) نے ’جدید‘ کی تعریف مغربی فکر کے تین سلسلۂ خیال کی وحدت سے کی۔ اور وہ ’’نشاۃ ثانیہ، پروٹیسٹ اصلاحات او رعلم طبیعیات کا عروج‘‘ ہیں۔ انھوں نے یہ دلیل دی کہ جاپان کی اخلاقی قوت (Moral Energy)(یہ جرمنی کے فلسفی رینکے سے لی گئی ایک اصطلاح ہے) نے استعماریت سے بچنے میں اس کی مدد کی۔ اور یہ اس کی ذمہ داری تھی کہ وہ ایک نیا عالمی نظام یعنی عظیم مشرقی ایشیا قائم کرے۔ اس کے لیے ایک نیا تصور ضروری تھا جو سائنس اور مذہب کو ملاسکے۔

سرگرمی 2

نشی تانینے جدید کی جو تعریف کی ہے کیا آپ اس سے متفق ہیں؟

شکست کے بعد عالمی اقتصادی طاقت کی حیثیت سے دوبارہ ظہور

جاپان کی اتحادی فوجوں کے ذریعہ شکست کے ساتھ اس کی نوآبادیاتی سلطنت کی کوشش ختم ہوگئی۔ کچھ نے یہ دلیل دی کہ ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم جنگ کو ختم کرنے کے لیے گرایا گیا۔ لیکن دوسرے لوگوں کا خیال ہے کہ یہ بم جو کہ بڑی بربادی اور مصیبت کا سبب بنے غیر ضروی تھا۔ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے زیر قیادت قبضہ (1945-47) کے دوران جاپان کی فوج کو کم کیا گیا اور ایک نیادستور جاری کیا گیا جس میں نام نہاد ’غیر جنگی‘ دفعہ 9 تھی، جو جنگ کو ریاستی پالیسی کے آلہ کا ر کی حیثیت سے استعمال کرنے کو تسلیم نہیں کرتی تھی۔ زرعی اصلاحات، تجارتی یونینوں کی از سر نو تشکیل اور جاپانی معاشی نظام میں زیباٹسو(Zaibatsu) یعنی بڑی کمپنیوں کی اجارہ داری کی پکڑ کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی۔ سیاسی پارٹیاں پھر سے بنائی گئیں اور 1946 میںجنگ کے بعد پہلے الیکشن ہوئے جس میں پہلی مرتبہ عورتوں نے بھی ووٹ ڈالا۔

12
ٹوکیو (جاپان) دوسری عالمی جنگ سے پہلے اور بعد

جاپان کی تباہ کن شکست کے بعد اس کی معیشت کی تیز رفتار تعمیر نو کو جنگ کے بعد ایک معجزہ کہا گیا۔ لیکن یہ تعمیر نو اس معجزہ سے زیادہ کچھ تھی۔ اس کی جڑیں اس کی طویل تاریخ میں پیوست تھیں۔ اب دستور جمہور ہوگیاتھا۔لیکن جاپان کی عوامی جدوجہد اور دانشورانہ مصروفیت کو کس طرح وسیع سیاسی شرکت میں شامل کیا جائے، جس کی ایک تاریخی روایت رہی ہے۔ جنگ سے پہلے کے سالوں کے سماجی اتصال کو مضبوطی دی گئی اور حکومت، نو کر شاہی اور صنعت کو پوری طور سے کام کرنے کا موقعہ ملا۔ امریکی حمایت مزید برآں کوریا کے ذریعہ پیداشدہ مطالبہ اور ویتنامی جنگوں نے بھی جاپانی معیشت کی مدد کی۔
1964 میں ٹوکیو میں کھیل منعقد ہوئے جو کہ جاپان کے مستقبل کے عہد کی علامت کا اظہار کر رہے تھے۔ مزید اسی طرح 1964 میں تیز رفتار شنکانسین (Shinkansen) یابلٹ (Bullet) ٹرینوں کا نیٹ ورک شروع ہوا جس کی رفتار 200 میل فی گھنٹہ تھی (اب اس کی رفتار 300 میل فی گھنٹہ ہے)۔ ان چیزوں نے جاپانیوں کی اس ترقی یافتہ ٹکنالوجی کے استعمال کی صلاحیت کو پیش کیا جس نے بہتر اور سستی چیزوں کو بنایا۔
1960کی دہائی میں شہری سماجی تحریکوں (Civil Society Movements) کو فروغ حاصل ہوا جو صحت اور ماحول پر ہونے والے اثرات سے انتہائی بے پرواہ ہو کر ہو رہی صنعت کاری کی مخالفت کررہی تھیں۔ زہر آلود کیڈمیم (Cadmium) جس سے ایک تکلیف دہ بیماری پیدا ہوتی ہے۔ ایک ابتدائی علامت تھی۔ اس کے ساتھ 1960 مینا ماٹا (Minamata) مرکری زہر (Mercury Poisoning)کا پھیلنا اور 1970   کی دہائی کے شروع میں فضائی آلودگی کی وجہ سے بھی مشکلات درپیش آئیں۔ عوامی مقبولیت یافتہ جماعتوں نے ا ن مشکلوں کو تسلیم کرانے کے ساتھ اس سے متاثرہ افراد کو معاوضہ دینے کا مطالبہ شروع کیا۔ حکومتی کارروائی اور نئے قوانین نے حالت کو بہتر بنانے میں مدد کی۔ 1980 کی دہائی کے نصف سے ماحولیات میں بڑھتی گراوٹ کے سوال پر دلچسپی میں کمی آئی کیونکہ جاپان نے دنیا میں سب سے سخت ماحولیاتی ضابطے وضع کیے۔ آج جاپان ایک ترقی یافتہ ملک ہے۔ دنیا کی ایک بڑی طاقت کی طرح اپنی حیثیت کو بنائے رکھنے کے لیے اور اپنے سیاسی اور ٹکنالوجی کی صلاحیتوں کے استعمال کے تعلق سے چیلنجوں کا سامنا کر رہا ہے۔

چین  

چین کی جدید تاریخ اس سوال کے ارد گرد گھومتی ہے کہ خود مختاری کو کیسے دوبارہ حاصل کیا جائے۔ بیرونی قبضہ کی ذلت کا خاتمہ اور مساوات وترقی کی بحالی کیسے ہو۔ چین کے بحث ومباحثہ تین جماعتوں کے نظریات پر مبنی ہیں۔ ابتدائی مصلح جیسے کانگ یووی (Kang Youwei 1858-1927) یا لیانک قچاؤ(Liang Qichao 1873-1929) نے مغربی چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے نئے اور مختلف طریقوں سے روایتی نظریات کو استعمال کرنے کی کوشش کی۔ دوسرا جمہوریت پسند انقلابی گروپ جیسے سن یات سین (Sun Yat-sen) جمہوریت کے پہلے صدر، جوکہ جاپان اور مغرب کے نظریات سے متاثر تھے۔ اور تیسرا، چین کی کمیونسٹ پارٹی (CCP) قدیم عدم مساوات کو ختم کرنا اور غیر ملکیوں کو نکال باہر کرنا چاہتی تھی۔  
جدید چین کا آغاز سولہویں اور سترہویں صدی میں اس کی مغرب کے ساتھ مڈبھیڑ میں تلاش کیا جاسکتا ہے، جب عیسائی مشنریوں نے مغربی سائنس مثلاً علم ہئیت اور ریاضیات کا تعارف کرایا تھا۔ اس کے فوری اثر کے محدود ہونے کے باوجود اس نے ان چیزوں کی ابتداء کردی تھی جنھوں نے انیسویں صدی میں جاکر تیز رفتار پکڑلی جب برطانیہ نے اپنی افیون کی نفع بخش تجارت کو توسیع دینے کے لیے طاقت کا استعمال کیا جو پہلی افیون جنگ (1839-42) کاسبب بنی۔ اس نے قنگ خاندان (Qing Dynasty) کی حکمرانی کو کھوکھلا کردیا اور اصلاح وتغیر کی مانگ کو مستحکم کیا۔  

13
افیون جنگ : ایک یوروپین پینٹنگ  

افیون کی تجارت  

چینی چیزوں کی مانگ مثلاً چائے، ریشم، چینی مٹی کے برتن کی تجارت نے،تجارت کے توازن کی مشکلات پیدا کردیں۔ چین میں مغربی اشیاء کے لیے بازار نہ تھے، اس لیے ادائیگی چاندی میں کرنی پڑتی تھی۔ ان لوگوں نے ایسٹ انڈیا کمپنی کو ایک نیا متبادل افیون کی شکل میں مل گیا جو ہندوستان میں پیدا ہوتی تھی۔ ان لوگوں نے افیون کو چین میں فروخت کیا اور پھر کمائی ہوئی چاندی کی ضمانت نامہ (Letters of Credit) کے بدلے کینٹون (Canton) کے کمپنی کے دلالوں کو دیا۔ اس طرح کمپنی چاندی کو ریشم اور چینی مٹی کے برتن کو خرید نے کے لیے استعمال کرتی تھی تاکہ ان کو برطانیہ میں فروخت کرسکے۔ یہ برطانیہ، ہندوستان اور چین کے درمیان سہ طرفہ تجارت تھی۔

سرگرمی 3

کیا یہ پینٹنگ آپ کو افیون جنگ کی اہمیت کا ایک واضح احساس کراپاتی ہے

قنگ مصلح جیسے کانگ یووی اور لیانگ قچاؤ نے نظام کو مضبوط کرنے کی ضرورت کو محسوس کیا اور انھوں نے ایک جدید انتظامی نظام، ایک نئی فوج اور ایک تعلیمی نظام کو بنانے کے لیے پالیسیوں کی بنیاد ڈالی۔ اور آئینی حکومت کو تشکیل دینے کے لیے مقامی اسمبلی قائم کی، انھوں نے چین کوآباد کاری سے بچانے کی ضرورت محسوس کی۔
نوآباد ملکوں کی منفی مثال نے چینی مفکرین پر شدت سے اثر ڈالا۔ اٹھارہویں صدی میں پولینڈ کی تقسیم ایک مثال تھی جس پر کافی بحث ومباحثہ ہوا۔ اتنا زیادہ کہ 1890 کی دہائی کی آخر میں لفظ پولینڈ ایک مثل کی حیثیت سے (Bolan Wo) "To Poland us" کامطلب تھا ہمیں پولینڈ کرنے کے لیے) استعمال ہونے لگا۔ ہندوستان ایک دوسری مثال تھی۔ مفکر لیانگ قچاؤ جن کا عقیدہ تھا کہ لوگ اس وقت مغرب کامقابلہ کرنے کے قابل ہوں گے جب ان کو اس سے باخبر کیا جائے گا کہ چین ایک قوم ہے، انھوں نے 1903 میں لکھا کہ ہندوستان ایک ملک تھا جس کو غیر ملکوں نے برباد کیا اور وہ ایسٹ انڈیا کمپنی ہے۔ انھوں نے ہندوستان پر تنقید کی کہ وہ اپنے لوگوں کے ساتھ ظالمانہ رویہ کرتے ہیں جبکہ وہ انگریزوں کے تابع تھے۔ اس طرح کی دلیلیں ایک پر زور مطالبہ لائیں۔ اس طرح عام چینی دیکھ سکتا تھا کہ برطانیہ نے چین کے خلاف لڑائی میں ہندوستانی فوجوں کا استعمال کیا۔
متذکرہ بالا کے علاوہ بہت لوگوں نے محسو س کیا کہ غوروفکر کے روایتی طریقوں کو بدلا جانا چاہیے۔ کنفیوشس ازم جو کہ کنفیوشس اور اس کے شاگردوں 551-479) ق) کے ذریعہ تکمیل کو پہنچا۔ اس کے اصول اچھے اخلاق، عملی دانشمندی اور مکمل اجتماعی تعلقات سے متعلق تھے۔ اس نے زندگی کے بارے میں چینی موقف کو متاثر کیا۔ اجتماعی مساوات تیار کیے اور سیاسی نظریات اور اداروں کی بنیاد رکھی، نئے نظریات اور اداروں کے لیے ان کو ایک بڑی رکاوٹ سمجھا گیا۔
لوگوں کوجدید مضامین کی تربیت دینے کے لیے طالب علموں کو پڑھنے اور نئے تصورات لانے کے لیے جاپان، برطانیہ اور فرانس بھیجا گیا۔ 1890 کی دہائی میں بہت سارے چینی طالب جاپان گئے، وہ وہاں صرف نئے تصورات ہی نہیں لائے بلکہ بہت سارے جمہوریت کے نمایاں حامی ہوگئے۔ یہاں تک چینیوں نے جاپانیوں سے یوروپی الفاظ کے تراجم مستعار لیے مثلاً انصاف، حقوق اور انقلاب۔ کیونکہ وہ ایک ایسی علامتی تحریر استعمال کرتے اور روایتی تعلقات کی تنسیخ چاہتے تھے۔ 1905 میں روس اور جاپان سے جنگ کے فوراً بعد (ایک ایسی جنگ جوکہ چینی سرزمین اور چینی تسلط کے لیے لڑی گئی)۔ چین کا صدیوں پرانا امتحان کا نظام جس نے امیدواروں کو اعلیٰ حکمراں طبقہ میں داخلہ دلوایا تھا، منسوخ کردیا گیا۔

امتحان کا نظام

اعلیٰ حکمراں طبقہ میں داخلہ (1850 تک تقریباً 101 ملین) بڑی حدتک ایک امتحان کے ذریعہ ہوتاتھا۔ اس کے لیے کلاسیکی چینی زبان میں مجوزہ ترتیب میں آٹھ پیرا گراف والا مضمون (Pa-Ku Wen) لکھنا ضروری تھا۔ یہ امتحان تین سال میں دو مرتبہ مختلف مرحلوں میں ہوتا تھا۔ اور جن لوگوں کو امتحان میں بیٹھنے کی اجازت دی جاتی ان میں سے صرف ایک سے دو فی صد ہی پہلے مرحلے کو پاس کرپاتے۔ عام طور سے ان کی عمر 24 سال ہوتی۔ اس کو پاس کرلینے پر دل پذیر ذہانت (Beautiful Talent) بن جاتے۔ 1850سے پہلے پورے ملک میں تقریباً 526, 869 سول اور 212, 330 فوجی صوبہ داری (Military Provincial) شینگ یوان(Shengyuan)کے سندیافتہ تھے۔ چونکہ اس وقت 27,000 افسران کے عہدہ تھے اس لیے نچلے درجہ کے سند یافتگان کے پاس نوکری نہیں تھی۔ اس امتحان نے ٹکنالوجی اور سائنس کی ترقی میں ایک طرح سے رکاوٹ کا کام کیا۔ کیونکہ اس نے صرف ادبی مہارتوں کا مطالبہ کیا۔ 1905 میں اس کو منسوخ کردیا گیا کیونکہ یہ کلاسیکی چینی علوم میں مہارت پر مبنی تھا اور جس کے حاصل کرنے سے، جیسا کہ محسوس کیا گیا۔ جدید دنیا سے کوئی مناسبت نہ تھی۔

جمہوریت کا قیام

مانچو سلطنت کا خاتمہ ہوگیا اور 1911 میں سن یات سین (1866-1925) کی قیادت میں جمہوریت کا قیام عمل میں آیا۔ ان کو متفقہ طور پر جدید چین کا بانی خیال کیا جاتا ہے۔ ان کا تعلق ایک غریب خاندان سے تھا۔ انھوں نے اپنی تعلیم مشنری اسکول میں حاصل کی تھی لیکن وہ چین کے مستقبل کے بارے میں فکر مند تھے۔ ان کا پروگرام تین اصولوں (San Min Chui) کی بنا پر جانا جاتا ہے۔ یہ اصول : قومیت، اس کا مطلب اس مانچو حکومت کا خاتمہ جو بیرونی شاہی حکومت کے طور پر دیکھی جاتی تھی۔ اسی طرح دوسرے بیرونی استعمار کو ہٹانا۔ سامراجی: جمہوریت یا جمہوری حکومت کا قیام اور تیسرا اشتراکیت کے ضابطوں پر مبنی سرمایہ اور ایک دوسرے کے برابر زمین کی ملکیت پر مبنی تھے۔

سماجی اور سیاسی حالات ہمیشہ غیرمستحکم رہے۔ جنگ کے بعد امن کانفرنس کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے 5مئی 1919 کوبیجنگ میں ایک پر غیض مظاہرہ ہوا۔ برطانیہ کی قیادت میں فاتح ملکوں کے ایک حلیف ہونے کے باوجود چین اپنا قبضہ کیے ہوئے علاقوں کو واپس نہ لے سکا۔ یہ احتجاج ایک تحریک بن گیا۔ اس نے ایک پوری نسل کو روایات پر حملہ کرنے کے لیے اکسایا۔ اور چین کو جدید سائنس، جمہوریت اور قومیت کے ذریعہ بچانے کی مانگ کی، انقلابیوں نے غیر ملکوں کو ملک سے نکال کر باہر کرنے کو کہا جو ملک کے وسائل پر قبضہ کیے ہوئے تھے تاکہ عدم مساوات کوختم اور غربت کوکم کیا جاسکے۔انھوں نے اصلاحات مثلاً لکھنے میں آسان زبان کا استعمال کرنا، پیر باندھنے کے رواج کوختم کرنا۔ عورتوں کی ماتحتی،شادی میں برابری اور غربت کو ختم کرنے کے لیے معاشی ترقی کی وکالت کی۔ جمہوری انقلاب کے بعد ملک افراتفری کے دور میں داخل ہوگیا۔گومن ڈانگ (Gomindang) (قومی عوامی پارٹی) اورچین کی کمیونسٹ پارٹی بڑی طاقت بن کر ابھریں جوملک کو متحد کرنے اور استحکام لانے کی کوشش کررہی تھیں۔
سن یات سین کے نظریات گومن ڈانگ کے سیاسی فلسفہ کی بنیاد بن گئے۔ ان نظریات نے چار بڑی ضروریات مثلاً کپڑا، کھانا، گھر اور نقل وحمل کی نشاندہی کی۔ سن یات سین کی موت کے بعد چیانگ کائی شیک (Chiang Kaishek 1887- 1975) گومن ڈانگ کے لیڈر کی حیثیت سے ابھرے۔ اور انھوں نے Warlords یعنی مقامی لیڈروں، جنھوں نے اقتدار کو غصب کر لیا تھا کو کنٹرول کرنے کے لیے اور کمیونسٹوں کو نکال باہر کرنے کے لیے ایک فوجی مہم چلائی۔ انھوں نے سیکولر اور اقلیت پر مبنی اس عالمی کنفیوشن ازم (Confucianism) کی وکالت کی۔ لیکن انھوں نے ملک کو فوجی نظام کے تحت لانے کی کوشش بھی کی۔ انھوں نے کہا کہ لوگوں کو ’’عادت اور یکساں رویوں کے لیے فطری مہارت کو بڑھانا چاہیے۔‘‘ انھوں نے عورتوں کو چار اوصاف: پاکدامنی، وضع قطع، کام اور گفتار کو بڑھاوا دینے پر ہمت افزائی کی، اور ان کے اہل خانہ بن کر رہنے والے رول کو تسلیم کیا۔ یہاں تک کہ مروج کوٹ کی لمبائی بھی بتائی۔  
گومن ڈانگ کی سماجی بنیاد شہری علاقوں میں تھی۔ صنعتی ترقی آہستہ اور محدود تھی۔ شہروں میں مثلاً شنگھائی جو کہ جدید افزائش کا مرکز بن گیا تھا۔ 1919 تک ایک صنعتی مزدور طبقہ ظہور میں آیا جس کی تعداد 500,000 تھی۔ پھر بھی ان میں سے کچھ فیصد لوگوں کو ہی جدید صنعتوں جیسے جہاز سازی میں نوکری ملی تھی۔ ان میں اکثر معمولی شہری (Xiao Shimin)، تاجر اور دکاندار تھے۔ شہری مزدور خاص طور سے عورتیں بہت کم اجرت پاتی تھیں۔ کام کے اوقات بہت لمبے اور کام کرنے کے حالات برے تھے۔ جیسے ہی انفرادیت بڑھی، خود مختاری، نسوانی حقوق کے متعلق تشویش، فیملی بنانے کے طریق کار اور پیار ورومانس کے بارے میں بحث ومباحثے بھی بڑھ گئے۔
اسکولوں اور یونیورسٹیوں (پیکنگ یونیورسٹی 1902 میں قائم ہوئی) کے پھیلاؤ سماجی اور ثقافتی تغیر میں مددگار ثابت ہوئے۔ صحافت اس نئی سوچ کی بڑھتی کشش پر روشنی ڈالتی ہوئی اپنے شباب پر پہنچ گئی۔ مشہور میگزین ’’لائف ویکلی (life Weekly) جس کے مدیر زاؤ ٹاؤفن (Zao Taofen 1895-1944)،   اس نئے قارئین کو نئے افکار مزید برآں مہاتما گاندھی اور ترکی کی جدیدیت کے علمبردار کمال اتاترک جسیے لیڈروں سے متعارف کرایا۔ اس کی اشاعت میں بڑی تیزی سے اضافہ ہوا۔ اس کی اشاعت 1926 میں صرف 2000 تھی جو 1933 میں بڑھ کر 200,000ہوگئی۔

1935 میں شنگھائی: ٹرم پیٹ(Trumpet) بجانے والا ایک کالا امریکی بک کلیٹن (Buck Clayton)اپنے جاز (jazz) آرکسٹرا کے ساتھ شنگھائی میں ایک مراعات یافتہ شہری کی حیثیت سے زندگی گزار رہا تھا، لیکن وہ کالا تھا۔ اور ایک مرتبہ کچھ سفید امریکیوں نے اس پر اور اس کے آرکسٹرا (سازندوں کا طائفہ) پر حملہ کردیا اور ان کو ہوٹل سے باہر نکال دیاجس میں انھوں نے ٹرم بجایا تھا۔ امریکی ہونے کے باوجود اور خود نسلی امتیاز کا شکار ہونے کے بعد بھی اس کو چینیوں کے ساتھ ان کی اس حالت کے لیے بڑی ہمدردی تھی۔

سفید امریکیوں کے ساتھ اپنے مقابلے کے بارے میں جس میں وہ فتحیاب ہوا لکھتاہے۔ ’’چینی تماشائی ہمارے ساتھ اس طرح پیش آئے جیسے ہم نے کوئی ایسی چیز کردی جسے وہ ہمیشہ کرنا چاہتے تھے۔ وہ لوگ پورے راستے ہمارے ساتھ رہے اور ایک فاتح فٹ بال ٹیم کی طرح ہم کو شاباشی دیتے رہے۔‘‘

غریبی اور چینیوں کی مشقت بھری زندگی کے بارے میں کلیٹن لکھتا ہے۔ ’’بعض اوقات، میں ایک بڑی بھاری بھرکم گاڑی کو دیکھتا ہوں جس کو بیس یا تیس قلی کھینچ رہے ہیں جسے امریکہ میں ایک ٹرک یا گھوڑے کے ذریعہ کھینچا جاتا ہے۔ یہ لوگ انسانی گھوڑوں کے سوا اور کچھ نہیں معلوم پڑتے اور دن کے اختتام پر انھیں اتنا ہی ملتا ہے کہ وہ چند پیالے چاول اور سونے کی جگہ حاصل کرلیں۔ میں نہیں جانتا وہ کس طرح یہ کام کرتے ہیں۔‘‘

14
"رکشہ پولر" لین جیا (lan jia) کے ذریعہ بنائی گئی لکڑی کی تصویر لاؤ شی (lao she 1936) کا ناول رکشہ ایک کلاسیکی ناول ہو گیا۔

گومنڈانگ اپنی محدود سیاسی بصیرت اور تنگ نظر سماجی بنیاد کی وجہ سے ملک کو متحدکرنے کی کوششوں کے باوجود ناکام ہوگئی۔ سن یات سین کے پروگرام کی ایک اہم مشق: سرمایہ کے ضوابط اور زمین کو برابر تقسیم کرنے پرکبھی بھی عمل نہیں کیا گیا۔ کیونکہ پارٹی نے کاشتکار طبقہ اور بڑھتی سماجی نابرابری کو نظر انداز کردیا تھا۔ اور لوگوں کے مسائل کو حل کرنے کے بجائے اس نے فوجی نظام نافذ کرنے کی کوشش کی۔  
15


جاپان ٹائم لائن چین
  1603 ٹوکو گاوا لے یاسو (Tokugawa Leyasu) نے ایڈو شوگونیٹ (Edo Shogunate) قائم کی۔ 1644-1911 قنگ خاندان کی سلطنت (Qing Dynasty)۔
1630
 ہالینڈ کے ساتھ محدود تجارت کے سوا مغربی طاقتوں کے لیے جاپان سے تجارت کے دروازے بند۔  1839-60 دو افیون جنگیں (Opium Wars)۔
  185 جاپان اورامریکہ کے درمیان امن معاہدہ جس کی وجہ سے جاپان کا الگ تھلک پڑنا ختم۔
1868
 میجی کی بحالی۔  
  1872 لازمی تعلیمی نظام، ٹوکیو اور یوکوہاما کے درمیان پہلی ریلوے لائن۔
1889 
 میجی آئین عمل میں لایا گیا۔  
  1894-05 جاپان اور چین کے درمیان جنگ ۔
1904-05
 جاپان اور روس کے مابین جنگ۔  
  1910 کوریاکا الحاق، 1945 تک نو آباد (Colony) بنارہا۔ 1912 سن یات سین کے ذریعہ گومنگ ڈانگ کا قیام۔
1914-18
 پہلی عالمی جنگ۔ 1919   4 مئی تحریک۔
  1925 سبھی مردوں کوعام رائے دہندگی کا حق۔ 1921 چین کی کمیونسٹ پارٹی کا قیام۔
1931
 جاپان کا چین پرحملہ۔  1926-49 چین میں خانہ جنگی۔
  1941-45 جنگ بحرالکاہل (Pacific war) ۔ 1934  طویل مارچ (Long March)۔
1945
 ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرائے گئے۔  1945
  1946-52 امریکہ کی زیر قیادت جاپان پر قبضہ، جاپان کو جمہوری بنانے اور غیر فوجی بنانے والی اصلاحات۔ 1949 عوامی جمہوریہ چین (People's Republic of China) چیانگ کائی سینگ نے تائی وان میں ریپبلک آف چائنا قائم کی۔
1956
 جاپان اقوام متحدہ کاممبربنا۔ 1962  سرحد سے متعلق تنازعہ کولے کر چین کا ہندوستان پرحملہ ۔
  1964 ایشیا میں پہلی دفعہ ٹوکیو میں اولمپک کھیل منعقد ہوئے۔ 1966  1976 تہذیبی انقلاب، مائو زے ڈانگ  (Mao Zedong)

   اور زہور اینلائی (Zhou Enlai) کی وفات۔ 
   1976 موز ئے دونگ اور زونلا ئے کی وفات 

   1997 برطانیہ نے ہانگ کانگ چین کو واپس کیا۔

چین کی کمیونسٹ پارٹی کاعروج

1937 میں جب جاپان نے چین پر چڑھائی کی تو گومن ڈانگ پسپا ہوگئی۔ لمبی اور تھکا دینے والی جنگ نے چین کو کمزور کردیا۔ 1945 سے 1949 کے درمیان قیمتوں میں 30 فی صدی ماہانہ کا اضافہ ہوا اورعام لوگوں کی زندگی پوری طرح تباہ ہوگئی۔ دیہی چین کو دو طرح کے بحران کا سامنا کرنا پڑا۔ پہلا ماحولیات، زمین کی قوت نمو (Soil Exhaustion) کاخاتمہ، جنگلات کاخاتمہ اور دوسرا سماجی معاشی بحران تھا جس کی وجہ استحصال پرمبنی حق لگان داری کا نظام (Land- tenure System) قرض، قدیم ٹکنالوجی اور ناقص ترسیل تھی۔
روس کے انقلاب کے کچھ ہی برسوں بعد 1921 میں چین کی کمیونسٹ پارٹی کا قیام عمل میں آیا۔ روس کی کامیابی کا پوری دنیا پر زبردست اثر ہوا۔ لینن اور ٹراٹسکی جسے لیڈروں نے کمنٹرن (بین الاقوامی اشتراکیت Comintern) یا تیسری بین الاقوام (Third International) قائم کی، تاکہ ایک ایسی عالمی حکومت وجود میں آئے جو استحصال کا خاتمہ کرنے والی ہو۔ کمنٹرن اور سوویت   یونین نے پوری دنیا میں کمیونسٹ پارٹیوں کی حمایت کی۔ لیکن انھوں نے روایتی مارکسی فہم کے حدود میں کام کیا جس کے مطابق انقلاب شہروں کے محنت کش طبقہ کے ذریعہ وجود پذیر ہوگا۔ کمنٹرن نے بنیادی طور پرتمام ملکوں میں اپیل کی تھی۔لیکن جلد ہی یہ سوویت یونین کے مفادات کا ایک آلہ بن گئی اور 1943 میں اسے تحلیل کردیا گیا۔ چین کی کمیونسٹ پارٹی کے ایک اہم لیڈر کی حیثیت سے ابھرنے والے ماؤ زے ڈانگ (Mao Zedong 1893-1976) نے ایک مختلف طریقہ اپنایا۔اس نے اپنے انقلابی پروگرام کی بنیاد کاشتکار طبقہ پر رکھی۔ اس کی کامیابی سے چینی کمیونسٹ پارٹی ایک مضبوط سیاسی قوت بن گئی جو بالآخر گومن ڈانگ کے مقابل میں فتحیاب ہوئی۔
ماؤ زے ڈانگ کی فطری رسائی (Radical Approach) کے طریقوں کا جیانگسی (Jiangxi) میں کیا جاسکتا ہے۔ یہاں پہاڑوں میں 1928 سے 1934 کے درمیان وہ گومن ڈانگ کے حملوں سے محفوظ رہا۔ کسانوں کی ایک طاقتور کونسل (سوویت) تشکیل دی گئی جسے زمینوں کی قرقی اوران کی ازسر نو تقسیم کے ذریعہ مضبوط بنایا گیا۔ وہ عورتوں کے مسائل سے واقف تھا اور اس نے دیہی عورتوں کی تنظیموں کے ظہور کی حمایت کی۔ اس نے شادی کا ایک نیا قانون نافذ کیا جس کے مطابق پہلے سے طے شدہ شادی (Arranged Marriage)کرنا ممنوع تھا۔ اس نے شادی کے معاہدوں کی خرید وفروخت کو روک دیا اور طلاق کوآسان بنایا۔

1930 میں زون وو(Xunwu)کے ایک مروے کے ذریعہ ماؤ زسے ڈانگ نے روزمرہ کی تمام اشیاء مثلاً نمک، سویابین اور مقامی تنظیموں کی مربوط طاقت، چھوٹے تاجروں، ہنر مندوں، لوہار، طوائف اور مذہبی تنظیموں کی طاقت وغیرہ کوجاننے کی غرض سے، استحصال کی مختلف سطحوں کا تجزیہ کیا۔ اپنے بچوں کو بیچنے والے کسانوں کے اعداد وشمار کو جمع کیا اور اس بات کا پتہ لگایا کہ ان کی کتنی قیمت ملتی ہے۔ لڑکے 100 سے 200 یوان (Yuan)میں فروخت ہوتے تھے۔ لیکن لڑکیوں کے بیچنے کی مثالیں نہیں ملتی ہیں۔ کیونکہ ضرورت سخت کام کرنے کے لیے مزدوروں کی تھی نہ کہ جنسی استحصال کی۔ ان تحقیقات کی بنیاد پر اس نے سماجی مسائل کو حل کرنے کی وکالت کی۔

گومن ڈانگ کے ذریعہ کمیونسٹوں کی ناکہ بندی اور سوویت کے دباؤ نے پارٹی کو دوسرے مرکز کی تلاش پر مجبور کردیا جس کی وجہ سے ان کو تھکا دینے اور پریشان کن 6000 میل کا سفر طے کرکے شینکس (Shanxi) آنا پڑا، جسے بعدمیں طویل مارچ کہا گیا۔ یہاں اپنے نئے مرکز یانن (Yanan) میں امراد کی جنگ (Warlordism) کوختم کرنے کے لیے انھوں نے زمین سے متعلق اصلاحات کو نافذ کرنے اور غیر ملکی سامراج سے جنگ کرنے کے پروگرام کومزید آگے بڑھایا جس کی وجہ سے انھیں مضبوط سماجی تائید حاصل ہوئی۔ جنگ کے مشکل برسوں میں گومنڈانگ اور کمیونسٹوں نے ایک ساتھ مل کر کام کیا تھا لیکن جنگ ختم ہونے کے بعد کمیونسٹوں نے خود اقتدار حاصل کرلیا اور گومنڈانگ کو شکست ہوئی۔

18

* اس اصطلاح کا استعمال کا رل مارکس نے اس بات پر زور دینے کے لیے کیاتھا کہ مالدار طبقہ کی ظالمانہ حکومت کو محنت کش طبقہ موجودہ مفہوم آمریت نہیں بلکہ ایک انقلابی حکومت سے بدل دے گا۔


نئی جمہوریت کاقیام: 65-1949


چین کی عوامی جمہوری (People's Republic of China)حکومت کا قیام 1949میں عمل میں آیا۔ اس کی بنیاد، سوویت یونین کے مطابق قدم جما چکی ’’محنت کش طبقہ کی آمریت‘‘*   پر نہیں بلکہ تمام سماجی طبقوں پر مشتمل ’’نئی جمہوریت‘‘ (New Democracy) پر تھی۔ معیشت کے انتہائی اہم علاقے حکومت کے کنٹرول میں رکھے گئے اور نجی کارخانوں اور زمین کی ذاتی ملکیت کو بتدریج ختم کر دیا گیا۔ یہ پروگرام 1933 تک باقی رہا۔ جب حکومت نے اعلان کیا کہ وہ ایک اشتراکی تبدیلی پر مبنی پروگرام شروع کرے گی۔ 1958 میں شروع کی گئی لمبی چھلانگ والی تحریک (Great Leap Forward Movement)ملک کو تیزی سے صنعتی بنانے کی کوشش کی ایک پالیسی تھی۔ لوگوں کو ان کے گھروں کے پچھلے حصے میں فولاد کی بھٹیاں لگانے پر حوصلہ افزائی کی گئی۔ دیہی علاقوںمیں پنچایتوں (People's Communes) (جہاں زمین مشترکہ ہوتی تھی اور کھیتی مشترکہ طور پر کی جاتی تھی) کا آغاز ہوا۔ 1958 تک 26000 پنچایتیں تھیں جو کاشت کرنے والی آبادی کے 98 فی صد لوگوں پر مشتمل تھیں۔
ماؤ کے ذریعہ متعین کیے گئے اہداف کے حصول کی خاطر پارٹی عوام کو آمادہ کرنے پر قادر ہوئی۔ اس کی دلچسپی ایک ایسے ’’اشتراکی آدمی‘‘ (Socialist Man) بنانے میں تھی جو پانچ چیزوں: پدری وطن، عوام، محنت، سائنس اور عوامی جائیداد سے محبت کرے۔ کسانوں، عورتوں، طلبہ اور دوسرے گروپوں کے لیے عوامی تنظیمیں بنائی گئیں۔ مثال کے طور پر آل چائنا ڈیموکریٹک وومنس فیڈریشن (All-China Democratic Women's Federation) کے 76 ملین ممبرتھے اور آل چائنا اسٹوڈینٹس فیڈریشن (All-China Students Federation) کے 3.29 ملین ممبرتھے۔ یہ مقاصد اورطریقہ کار، پارٹی کے ہرممبر کو متاثر نہیں کرپارہے تھے۔ 1953-54 میں کچھ لوگ صنعتی تنظیم اور اقتصادی نمو کی طرف مزید توجہ دینے کا مطالبہ کررہے تھے۔ لیوشاؤجی (Liu Shaochi 1896-1969) اور ڈینگ زیاؤپنگ (Deng Xiaoping 1904-1997) نے پنچایتی نظام (Commune system) میں ترمیم کرنے کی کوشش کی۔ کیونکہ یہ نظام بہتر طور پر کام نہیں کرپارہا تھا۔ گھروں کے پچھلے حصے میں بھی بھٹیوں میں تیار کیے گئے فولاد صنعتی کام کے استعمال کے لائق نہیں ہوتے تھے۔

متصادم بصیرت:78-1965

ایک اشتراکی آدمی بنانے کی خواہش رکھنے والے ماؤ کے حامیوں اور ماؤ کے مہارت کے بجائے نظریہ پر زور دینے پر اعتراض کرنے والے لوگوں کے درمیان تنازعہ کاخاتمہ، مائو کے ذریعہ اپنے ناقدین کو خاموش کرنے کی غرض سے 1965 میں شروع کیا گیا، عظیم عوامی تہذیبی انقلاب (The Great Proletarian Cultural Revolution) سے ہوا۔ پرانی تہذیب، پرانے رسم ورواج اور پرانے عادات واطوار کے خلاف لال محافظین (Red Guards) جس میں زیادہ تر طلبہ اورفوجی تھے، کو استعمال کیا گیا۔ طلبہ اورپیشہ ور لوگوں کوعوام سے علم حاصل کرنے کے لیے دیہاتوں میں بھیجا گیا۔ نظریہ (کمیونسٹ ہونا) پیشہ ورانہ علم سے زیادہ اہمیت رکھتا تھا۔ عقل پر مبنی بحث ومباحثہ کی جگہ تردید وتکذیب اور نعروں نے لے لی۔
تہذیبی انقلاب نے افراتفری کے دور کا آغاز کیا، پارٹی کو کمزور کردیا اور معیشت نیز تعلیمی نظام کو بری طرح منتشر کردیا۔ 1960کی دہائی کے آخر سے اس رخ میں تبدیلی کا آغاز ہوا۔ 1975 میں پارٹی نے ایک بار پھر زیادہ سماجی نظم وضبط اور صنعتی معیشت پر زور دیا تاکہ چین صدی کے اختتام سے پہلے ایک طاقت بن سکے۔

1978 سے اصلاحات  

تہذیبی انقلاب کے بعد سیاسی چالبازیوں کا عمل شروع ہوا۔ اشتراکیت پر مبنی معاشی بازار کاآغاز کرتے وقت ڈینگ زیاؤ پنگ نے پارٹی پر کنٹرول مضبوط بنائے رکھا۔ 1978 میں پارٹی نے اپنا مقصد چارجدید کاری (سائنس، صنعت، زراعت، دفاع کا فروغ) قرار دیا۔ بحث ومباحثہ کی اجازت اس حد تک تھی جب تک کہ پارٹی پر سوالات نہ رکھے جائیں۔

19

اس نئے اور آزادانہ ماحول میں 60سال قبل 4 مئی (May Fourth)تحریک کے وقت کی طرح، یہ نئے خیالات ایک پُرجوش دھماکہ تھا۔ 5 دسمبر 1978 میں ایک دیواری اشتہار نے ’’پانچویں جدید کاری‘‘ کامطالبہ کیا، اور کہا کہ جمہوریت کے بغیر دوسری تمام جدید کا ریاں بے معنی ہوں گی۔ اس نے غریبی کے مسئلے کو حل نہ کرنے اورجنسی استحصال کو ختم نہ کرنے کی وجہ سے چینی کمیونسٹ پارٹی کی تنقید کی۔ یہی نہیں بلکہ اس نے پارٹی میں ہونے والے اس طرح کے ناجائز استحصال کا حوالہ بھی دیا۔  
ان مطالبات کو کچل دی گیا۔ لیکن 1989 میں 4 مئی تحریک کی سترہویں سالگرہ کے موقع پر بہت سے مفکرین نے جمود کے شکار عقائد (Sushaozhi) کے خاتمہ کے لیے اور زیادہ کھلے پن کامطالبہ کیا۔ بیجنگ کے نیانن مین چوک (Tiananmen Square) میں مظاہرین طلبہ کے ساتھ نہایت ہی ظالمانہ برتاؤ کیا گیا جس کی پوری دنیا میں مذمت کی گئی۔
اصلاحات کے مابعد عہد میں چین کو ترقی یافتہ بنانے کے طریقوں پر بحث ومباحثہ ابھر کر سامنے آئے۔ غالب رائے جس کو پارٹی کی تائید حاصل تھی وہ مضبوط سیاسی کنٹرول، معاشی حریت پسندی(Economic Liberalisation) اورعالمی بازار کے ساتھ تکمیل پرمبنی ہے۔ناقدین کہتے ہیں کہ سماجی طبقات، علاقوں اور مردوعورت کے درمیان بڑھتی ہوئی نابرابریاں، سماجی کشیدگی پیدا کررہی ہیں۔ اور بازار پربہت زیادہ زور سے سوال کھڑے کررہا ہے۔ بالآخر نام نہاد روایتی کنفیوشن ازم کے افکار کا احیاء ہو رہا ہے اور یہ استدلال بڑھ رہا ہے کہ چین کی نقل کے بجائے اپنی روایات پرعمل کے ایک جدید سماج بنا سکتاہے۔

تائیوان کی کہانی

چیانگ کائی شیک (Chiang Kai-shek) جس کو چینی کمیونسٹ پارٹی نے شکست دی تھی وہ 1949میں 300ملین امریکی ڈالرس کی ملکیت کے محفوظ سونے اور بیش قیمتی آرٹ کے خزانے کے صندوقوں کے ساتھ تائیوان بھاگ گیا اور وہاں چینی جمہوریہ (Republic of China) کاقیام عمل میں لایا۔ تائیوان اسی وقت سے جاپان کی نو آبادی تھا جب 1894 میں جاپان کے ساتھ جنگ میں چین نے اسے جاپان کو دے دیا تھا۔ قاہرہ اعلانیہ (Cairo Declaration 1943) اور پوٹسڈیم پروکلیمیشن (Potsdam Proclamation 1949) نے چین کی حاکمیت کو دوبارہ بحال کردیا۔
فروری 1947میں زبردست مظاہروں کہ وجہ سے گومنڈانگ نے اہم شخصیات کی ایک پوری نسل کو بہیمانہ طور پر قتل کردیا۔ چیانگ کائی شینگ کی قیادت میں گومنڈانگ نے ایک جابرانہ حکومت قائم کرلی جس میں آزادیٔ رائے اور سیاسی مخالفت ممنوع تھی اور مقامی آبادی کواقتدار سے باہر رکھا گیا۔ لیکن انھوں نے زمین سے متعلق اصلاحات نافذکیں۔ ان اصلاحات نے زرعی پیداوار میں اضافہ کیا اور معیشت کو اس قدر جدید بنادیا کہ 1973 تک تائیوان کی کل قومی پیداوار (GND) ایشیا میں جاپان کے بعد دوسرے نمبر پر تھی۔ بڑی حد تک تجارت پر معیشت برابر ترقی کرتی رہی لیکن یہاں اہم بات یہ ہے کہ امیر اورغریب کے درمیان فرق مسلسل گھٹتا رہا۔  
تائیوان کا ایک جمہوریت میں تبدیل ہونا بہت عجیب وغریب بات تھی۔ 1975 میں چیانگ کی موت کے بعد اس کی ابتداء آہستہ آہستہ ہوئی اور 1987 میں جب مارشل لا (Martial law) ہٹا لیا گیا اور مخالف پارٹیوں کو قانونی طور پر اجازت مل گئی تب اس عمل نے زور پکڑا۔ پہلے آزاد انتخابات نے مقامی باشندوں کو حکومت میں لانے کا عمل شروع کیا۔ سفارتی سطح پر زیادہ ترممالک کے تجارتی مشن (Trade Missions)ہی تائیوان میں ہیں۔ مکمل سفارتی تعلقات پر زور دنیا ممکن نہیں ہے کیونکہ تائیوان چین کا حصہ مانا جاتاہے۔  
چین کے ساتھ دوبارہ اتحاد ایک نزاعی مسئلہ بنا ہوا ہے۔ لیکن آبنائے پار، (Cross Strait) کے تعلقات (جوتائیوان اور چین کے بیچ) میں بہتری آرہی ہے۔ چین میں تائیوان کی تجارت اور سرمایہ داری بڑے پیمانے پر ہے۔ اور سفر کرنا بھی آسان ہوگیا ہے۔ تائیوان اگر اپنی آزادی کی کوششوں سے باز آجائے تو چین اسے نیم خود مختار تائیوان تسلیم کرنے پر راضی ہوسکتا ہے۔


کوریا کی کہانی

جدیدیت کا آغاز

اینسویں صدی کے آخر میں کوریا کے جوسیون خاندان (1392-1910)نے اندرونی سیاست اور سماجی ہنگامہ آرائی کا سامنا کیا اور چین ، جاپان اور مغربی مماملک و بیرونی دباؤ بھی انھیں برداشت کرنا پڑا۔ اس درمیان کوریا نے اپنے سرکاری ڈھانچے ،سفارتی تعلقات ، بنیادی ساخت اور سماج کی جدت طرازی کے لیے اصلاحی قوانین کا نفاذ کیا ۔  
اس سال سیاسی مداخلت کے بعد شاہی جاپان نے اپنی کالونی کی شکل میں 1910میں کوریا پر قبضہ کر لیا جس کی وجہ سے پانچ سو سال زائدچلے آ رہے جو سیون خاندان کا خاتمہ ہو گیا ۔ لیکن کوریائی لوگ جاپانیوں کے ذریعہ کوریائی ثقافت اوراخلاقی قدروں کے نیست و نابودکرنے سے بہت ناراض تھے ۔  



20

کوریائی لوگ 1955 میں جاپان سے آزادی حاصل کرنے کا جشن مناتے ہوئے 

آزادری کے متوالے کوریائی قوم پرستوں نے  جاپانی نو آبادیات کے خلاف مظاہرہ کیا۔ انھوں نے ایک وقتی حکومت تشکیل دی اور کیرو، یالٹا اور پوٹسڈام جیسی کانفرنسوں میں بین الاقوامی نشستوں میں غیر ملکی لیڈروں سے گزارش کرنے کے لیے وفود روانہ کیے۔
جاپانی نوآبادیاتی حکومت 35برسوں بعد اگست 1945 میں دوسری عالمی جنگ میں جاپان کی شکست کے ساتھ ہی ختم ہوئی۔ حالانکہ یہ کوریا کے اندرون و بیرون میں آزادی کے لیے مسلسل جدوجہد کرنے والو ں کی کوشش تھی جو جاپان کی ہار کے بعد کوریا کی آزادی کو یقینی بنا سکی۔  
نجات پانے کے بعد کوریائی جزیرہ نما کو جزوقتی طور پر   38ویںخط استویٰ سے دو حصوں میں منقسم کر دیا گیا جس میں شمالی حصے میں سویت یونین اور جنوبی حصے میں اقوام متحدہ کے ذریعہ زمام کار سنبھالاگیا ۔
 لیکن دونوں ہی علاقے جاپانی قوت کو ختم کرنے کے لیے کوشش کرتے رہے۔ حالانکہ 1948 میں شمال اور جنوب میں علاحدہ علاحدہ حکومتوں کی تشکیل کے بعد ساتھ ہی یہ تقسیم ہمیشہ کے لیے قائم ہو گئی ۔  

ملک   - مابعد جنگ  

جون 1950 میں شمالی کوریا کی جانب سے ایک طرفہ حملے شروع ہو گئے ۔ مغربی کوریا میں امریکی قیادت والی اقوام متحدہ کی فوج اور شمالی کوریا میں کمیونسٹ فوج کی حمایت سے عہد سرد جنگ شروع ہوگیا ۔  
جولائی 1953میں تین سال کے بعد یہ جنگ معاہدہ کے ذریعہ رُکی۔ کوریا ہمیشہ کے لیے تقسیم ہو گیا تھا۔ کوریائی جنگ میں نہ صرف اعلی پیمانہ پر جانی و مالی نقصان ہوا بلکہ فری -مارکیٹ ، معاشی ترقی اور جمہوریت بھی سُست رفتار ہو گئی تھی ۔  
جنگ کے دوران جاری کی گئی کرنسی اور ملکی اخراجات کی وجہ سے افراط زرمیں اچانک تیزی آ گئی اور قیمتیں بڑھ گئیں۔ اس کے علاوہ نو آبادیات کے دوران وجود میں آئی صنعتی سہولیات کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ۔ نتیجتاًمغربی کو ریا کو امریکہ سے معاشی مدد لینے کے لیے مجبور ہونا پڑا۔
اگرچہ مغربی کوریا کے پہلے صدر سنگ مین ری 1948 میں کوریا ئی جنگ کے بعد جمہوری طریقہ انتخاب کے ذریعہ منتخب کیے گئے تاہم انھوں نے غیر آئینی ترمیم کے ذریعہ دو بار اپنی مدت کار میں اضافہ کر لیا ۔ اپریل 1960میں عوام نے اس طرح کی بد عنوانی سے ہونے والے انتخاب کی مخالفت کی، اسے انقلاب اپریل بھی کہتے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں ری کو استعفی دینے کے لیے مجبور ہونا پڑا ۔  
ایک محرک کی شکل میں شروع ہوئے اس انقلاب سے ری کے عہدحکومت کے دوران لوگوں کے دبے ہوئے جذبات، مظاہروں اور مطالبوں کی شکلوں میں ابھرکر سامنے آنے لگے۔ حالانکہ ری حکومت کے استعفی کے بعد قائم ہوئی ڈیموکریٹک پارٹی کی حکومت اندرونی خلفشار اور باہمی تصادم کے باعث عوام کے مطالبات کا صحیح جواب نہ دے سکی۔ بلکہ ایک بات اور ہو گئی وہ یہ کہ اصلاحی سیاسی طاقتیں سر اٹھانے لگیں اور طلبا تحریک نے ایک متحدہ تحریک کی شکل اختیار کرلی ۔ فوج کے عہدیداران کے ذریعہ کوئی تائید اور مدد نہیں ملی ۔ مئی 1961 میں جنرل یارک چنگ ہی اور دوسرے فوجی عہدیداروں کے ذریعہ فوجی تختہ پلٹ طریقہ کو استعمال کرکے ڈیموکریٹک پارٹی کی حکومت کو اکھاڑ پھینکا گیا ۔  

مضبوط قیادت کے ماتحت تیز رفتارصنعت کاری   


اکتوبر 1963کے انتخاب میں باغی عسکری رہنما یارک چنگ ہی صدر منتخب ہوئے۔ یارک حکومت نے ملک میں معاشی ترقی کے لیے ایک ریاستی قیادت اور بر آمد پر مبنی اصول اختیار کیے۔ حکومت کے پانچ سالہ معاشی منصوبوں نے بڑے کارپوریٹ کمپنیوں کا تعاون کیا۔ روزگار کی توسیع پر بہت زیادہ زور دیا اور کوریا کیمسابقتی جوش کو بڑھاوا دیا ۔  
کوریا کا بے مثال معاشی ارتقا    1960 کی دہائی سے شروع ہوا ۔ جب ریاستی پالیسی نے متبادل در آمد، صنعت   کا ری (آئی ایس آئی ) کو بر آمد کی جانب منتقل کیا۔ بر آمد پر مبنی اصول کے تحت حکومت نے مزدوروں کے عملی اور معمولی صنعتی پیداواروں جیسے کپڑوں اور کپڑے کی صنعت (ٹیکسٹائل ) پر اپنی توجہ مرکوز کی جن میں کوریا کوموازناتی فائدہ تھا۔
1960اور 1970کی دہائی کے دوران ہلکی صنعت سے زیادہ قیمتی اور کیمیائی صنعت کی جانب توجہ دی گئی۔ اسٹیل، غیر آہنی، دھات، مشینری ، پانی کے جہاز بنانا، الکٹرانکس اور کیمیائی پیداوار، معاشی ارتقا کی دوڑ میں سب سے اہم صنعتوں کی شکل میں منتخب کیے گئے ۔  
1970میں دیہی آبادی کو متحرک بنانے اور زرعی میدان میں تجدید کاری کے لیے نیاگاؤں(سیمول) تحریک کی شروعات ہوئی۔ اس تحریک کا مقصد لوگوں کو غیرفعال اور مایوس کن زندگی سے نکال کر متحرک، فعال اور پُر امید بنانا تھا۔  
اس مہم کے تحت گائوں کے لوگوں کو اپنے گاؤں کی ترقی اور برادری کی طرز زندگی کو اصلاح کے لیے با اختیار بنایا گیا ۔ آگے چل کر اس مہم کو صنعتی علاقے کے پڑوسی او ر شہروں کے آس پاس کے علاقوں کی ترقی کے لیے اسے وسعت دی گئی ۔ آج کوریا دوسرے ترقی پذیر ممالک کے ساتھ مہم سے علم اور تجربات بانٹ رہا ہے ۔مختلف ممالک اپنے ارتقا کی جدوجہد میں سیمول تحریک کے اصولوں کو اپنانا چاہتے ہیں۔  
کوریا مضبوط قائدین، تعلیم یافتہ افسروں، جارح صنعت کاروں اور قابل مزدوروں کے تعاون سے آج پوری دنیا کو اپنی معاشی ترقی سے حیرت زدہ کررہا ہے ۔ اوالعزم ٹھیکیدار سرکاری ہمت افزائی کی وجہ سے در آمد کو بڑھانے اور نئی نئی صنعتوں کی ترقی میں با اختیارہو رہے ہیں۔   
اعلی تعلیم نے بھی کوریا کے معاشی ترقی میں اہم رول ادا کیا۔ کوریامیں صنعت کاری کی ابتدا سے تقریباًسبھی مزدور طبقے پہلے ہی سے پڑھے لکھے تھے اور ترقی کی نئی مہارت کے حصول کے لیے تیار تھے ۔اس کے ساتھ ساتھ کوریا نے اپنی کھلی معاشی پالیسیوں کی مدد سے دوسرے ممالک سے زیادہ ترقی یافتہ ادارے اور تکنیک کو اپنے ملک میں قائم کرنا شروع کر دیا تھا ۔ غیر ملکی سرمایہ کاری اور کوریا کی اعلی گھریلو بچت کی شرح نے صنعتی میدان کو پھلنے پھولنے میں مدد کی۔ جب کہ جنوبی کوریا ئی مزدوروں کے ترسیلاتِ زر نے بھی تمام طرح کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ۔  
یارک انتظامیہ کی طویل مدت طاقت کی بنیاد کوریا کی معاشی ترقی تھی۔ یارک کے ذریعہ کی گئی آئینی ترمیم کی وجہ سے وہ تیسرے انتخابی میعاد کے لیے الیکشن میں کھڑے ہوئے اور 1971میں انھیں منتخب بھی کیا گیا ۔  
اکتوبر 1972میں یارک نے یوسن آئین کا اعلان کیا اور اس کا نفاذ کیا۔ اس چیز نے مستقل ایوان صدارت کو ممکن بنایا۔  
یوسن آئین کے تحت صدر کو قانون سازی کا حق اور حکومت پرمکمل اختیار تھا اور کسی بھی قانون کو ایمرجنسی اقدامات کے اصول کے تحت منسوخ کرنے کا بھی آئینی حق تھا ۔
معاشی طرقی کے حصول میں جمہوریت کی بیش رفت وقتی طور پر ٹھہر گئی تھی کیونکہ صدر کو مطلق اختیار حاصل تھے ۔ تاہم 1979میں دوسرے تیل بحران سے ملک کی معاشی پالیسیاں جو کہ بھاری کیمیا ئی صنعت میں خاص اہمیت رکھتی تھیں،میں کافی روکاوٹیں درپیش ہوئیں۔  
اس کے ساتھ ساتھ طلبا ، دانشوروں اور حزب اختلاف نے لگاتار یوسن آئین کے خلاف مظاہرے کیے کیونکہ یارک حکومت نے ایمرجنسی اقدامات کا نفاذ کیا ، آواز کو دبانے کی کوشش کی،جس سے سیاسی عدم استحکام پیدا ہو گیا تھا۔ اس معاشی بحران اور سیاسی عدم استحکام کے درمیان یارک حکومت کا اکتوبر 1979 میں یارک چنگ   ہی کے قتل کے بعد خاتمہ ہو گیا ۔  


جمہوریت کا مطالبہ اور مسلسل معاشی ارتقا  


جمہوریت کی خواہش یارک چنگہی کی موت کے ساتھ بڑھی، لیکن دسمبر 1979میں پھر ایک باغی عسکری لیڈر چن-ڈوہون کی قیادت میں ایک اسٹیج تیار ہوا۔ مئی 1980میں یارک چنگ ہی کے فوجی گٹ کے خلاف جمہوریت کی مانگ کرنے والے طلبا اور عوام کے ذریعہ ملک کے خاص شہروں میں مختلف طرح کے مخالفمظاہرے ہوئے ۔ فوجی گروپ نے پورے ملک میں مارشل لا نافذ کر کے جمہوری تحریک کو دبا دیا ، لیکن گوانگجو شہر میں، خاص طور سے طلبا اور عوام لگاتار مارشل لا کو ختم کرنے کا مطالبہ کرتے رہے۔ حالانکہ چن کے فوجیوں نے جمہوریت کے لیے مخالف مظاہرہ کر رہے لوگوں کی آواز کو دبا دیا۔ اسی سال کے آخری میں چن یوسن آئین کے سہارے ایک بالواسطہ انتخاب کے ذریعہ بلا تردد صدر منتخب کرلیے گئے۔  
چن حکومت نے اپنی سرکار کو باقی رکھنے کے لیے جمہوری اثرات کا تیزی سے خاتمہ کیا ۔ حالانکہ چن حکومت نے بین الاقوامی معاشی اچھال کی رو سے کوریا کے معاشی ارتقا کو 1980 کے 1.7   فیصد سے بڑھ کر 1983 تک 13.2 فیصد کر دیا اور افراط زر کو بھی کم کر دیا ۔ معاشی ترقی نے شہرکاری ، تعلیم کے معیار میں اصلاح اور میڈیا کی ترقی کو جنم دیا جس کے نتیجہ میں باشندگان میں اپنے سیاسی حقوق کے تئیں بیداری بڑھی جس کی وجہ سے صدر کے براہِ راست انتخاب کے آئینی ترمیم کا مطالبہ کیا گیا ۔  
مئی 1987 میں ایک یونیورسٹی کے طالب علم کی زدوکوب سے موت ہو جانے کے حادثہ کے بعد شہریوں نے جمہوریت کے لیے بڑے پیمانہ پر احتجاج کیا جس کو چن حکومت نے دبانے کی کوشش کی۔ اس کے بعدجون جمہوری تحریک کے تحت چن حکومت کے خلاف نہ صرف طلبا نے بلکہ متوسط طبقہ کے عام شہریوں نے بھی حصّہ لیا۔ ان کوششوں کی وجہ سے چن انتظامیہ کو آئین میں ترمیم کرنے کے لیے مجبور ہو نا پڑا اور شہریوں کو براہ راست انتخاب کا حق ملا۔ اس طرح سے کوریا کی جمہوریت کا ایک نیا باب شروع ہوا۔  


21
1857 کی جون جمہوری تحریک کے دوران مظاہرین

کوریائی جمہوریت اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF)بحران  


نئے آئین کے مطابق 1971کے بعد دسمبر 1987میں پہلا براہ راست انتخاب عمل میں آیا لیکن حزب اختلاف میں اتحاد کی ناکامی کی وجہ سے چن کے گروپ کے ایک فوجی لیڈر روح تائے او کو منتخب کر لیا گیا۔ حالانکہ کوریا میں جمہوریت جاری رہی۔ 1990میں لمبے عرصے سے حزف اختلاف کے لیڈر رہے کم ننگ سیم نے ایک بڑی حکمراں جماعت بنانے کے لیے روح کی پارٹی سے معاہدہ کر لیا۔ دسمبر 1992میں دہائی سے چلی آ رہی عسکری حکومت کے بعد ایک عام باشندے کِم کو صدر کے عہدے کے لیے منتخب کر لیا گیا۔ نئے انتخاب اور حکمراں عسکری قوت کے تحلیل ہونے کے نتیجہ میں ایک بار پھر جمہوریت کی شروعات ہوئی ۔  
نئی حکومت کی بر آمد کی پالسیوں کے تحت مختلف کمپنیاں 1990کے آغاز تک عالمی ترجیحات کی سطح پر پہنچ چکی تھیں۔ سرکاری تائیدکے ساتھ کوریائی کمپنیوں نے زبردست پونجی والی تجارت اور کیمیائی صنعتوں کے ساتھ ساتھ الکٹرانک صنعت میں بھی سرمایہ کاری کی۔ دوسری جانب حکومت نے صنعتی اور سماجی بنیادی ڈھانچے کی تشکیل پر اپنی توجہ مرکوز رکھنا جاری رکھا۔  
اس درمیان کوریا کے بازار کو دوسرے ملکوں کے لیے کھولنے سے متعلق نئے آزاد خیال کا دباؤ بڑھنے لگا۔ کِم حکومت نے 1996میں معاشی تعاون اور ترقی(او ای سی ڈی) میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا اور کوریا ئی بین الاقوامی مسابقہ کومضبوط کرنے کی کوشش کی، لیکن تجارتی گھاٹے میں اضافے، مالیاتی مراکز میں خراب نظم و نسق، تنظیموں کے ذریعہ بے ایمان تجارت کے فروغ کی وجہ سے کوریا کو 1997 میں غیر ملکی کرنسی بحران کا سامنا کرنا پڑا۔ اس بحران کوبین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف )کے ذریعہ ایمرجنسی مالی بحران کے تحت سنبھالنے کی کوشش کی گئی۔یہی نہیں اس معاشی بحران میں پورے ملک نے ایک ساتھ کوشش کی۔ عوام نے گولڈ کلکشن مومنٹ (زر اکھٹاکرو تحریک ) کے ذریعہ غیر ملکی قرض چکانے کے لیے اہم قربانیاں دیں ۔  
دسمبر 1997 میں ایک لمبے عرصے کے بعد کوریا میں پہلی بار حزب مخالف لیڈر کم دے جنگ پرامن طریقے سے صدارت کے لیے چنے گئے ۔ حکومت میں دوسری بار اقتدارمیں تبدیلی 2008 میں عمل میں آئی۔ جب قدامت پسند لیڈر لی مائنگ باک، ترقی پسند لیڈر روح مو ہیون کی حکومت کے بعد صدر منتخب کیے گئے۔ اس کے بعد 2012 میں قدامت پرست پارٹی کی لیڈر یارک کھن نے خاتون صدر کی شکل میں عہدہ سنبھالا۔ ان کے والد یارک چنگ کی سیاسی وراثت کی وجہ سے انھیں اپنے عہد صدارت میں بہت زیادہ لوگوں کی تائید حاصل رہی۔ لیکن اکتوبر 2016 میں اس بات کے روشنی میں آنے کے بعد کہ ان کی جگہ پر ان کے ایک قریبی دوست خفیہ طور پر سرکاری معاملوں کا انتظام و انصرام دیکھ رہے تھے ، ملکی پیمانے پر مخالفت اور مظاہروں کے نتیجہ میں مارچ 2017 میں پر زور احتجاج کی وجہ سے انھیں دفتر سے ہٹا دیا گیا۔ مئی 2017 میں تیسری بارپر امن تریقے سے مون-جے-اِن نے صدر کا عہدہ سنبھالا۔  
2016 میں عوام کی قیادت میں کیے گئے کینڈل لائٹ مخالفت میں ملک کے جمہوری قانون اور نظام کے   دائرے میں رہتے ہوئے صدر کے استعفیٰ کی مانگ کر رہی عوام کا پر امن احتجاج کوریائی جمہوری پختگی کا اظہار کرتا ہے۔ کوریا جمہوریت معاشی ترقی کے لیے آج بھی مقروض ہے لیکن یہ ملک کی جمہوریت پسندی کی حوصلہ افزائی کرنے والے کوریائی باشندوں کا ثمرہ ہے جس نے آج اس ملک کو آگے بڑھانے میں اہم کردار نبھایا ہے ۔  


22
موجودہ سیول شہر کا رات کا منظر

جدید کاری کے دو راستے

صنعتی سماج جو ایک دوسرے سے مختلف ہیں انھوں نے جدید بننے کے لیے اپنے راستے خود بنائے ہیں۔ جاپان اور چین کی تاریخ بتاتی ہے کہ آزاد اور جدید قوم بنانے کے لیے کس طرح مختلف تاریخی حالات ان کو مختلف راستوں کی طرف لے گئے۔ جاپان اپنی آزادی برقرار رکھنے اوراپنی روایتی ہنر مندی اور مہارتوں کو نئے انداز میں استعمال کرنے میں کامیاب رہا۔ لیکن اس کے اعلیٰ طبقہ (Elite) پر مشتمل جدید کاری نے انتہا پسند قومیت کو فروغ دیاجس نے ایک ایسی ظالم حکومت کی بقا میں مدد کی جس نے اختلاف رائے اورجمہوریت کے مطالبات کا گلا گھونٹ دیا۔ اور ایسی استعماری سلطنت قائم کی جس نے خطہ میں نفرت کی روایت چھوڑی اور داخلی ترقیوں کا خاتمہ کردیا۔

جاپان کی جدید کاری کا پروگرام ایک ایسے ماحول میں عمل میں آیا جس میں مغربی استعماری طاقتوں کا غلبہ تھا۔ حالانکہ جاپان نے ان کی نقل کرتے ہوئے خود حل تلاش کرنے کی بھی کوشش کی۔ جاپانی قوم پرستی ان مختلف مجبوریوں سے عبارت تھی، جہاں ایک طرف بہت سے جاپانی ایشیا کو مغربی تسلط سے آزاد کرانا چاہتے تھے جبکہ دوسری طرف لوگوں کے لیے یہ افکار سامراج کے قیام کا جواز پیش کررہے تھے۔
یہ ذکر کرنا ضروری ہے کہ سیاسی اور سماجی اداروں اور یومیہ زندگی میں تبدیلی صرف روایات کے احیاء یا ان پر سختی سے قائم رہنے کا سوال نہیں تھا بلکہ ان کونئے اورمختلف انداز میں تخلیقی طور پر استعمال کا سوال تھا۔ مثال کے طور پر یوروپی اور امریکی طرز پر چلنے والے میجی اسکولی نظام نے نئے مضامین شروع کیے لیکن نصاب کا اصل مقصد وفادار شہری بناناتھا۔ ایک اخلاقی مضمون پڑھنا لازمی تھا اور یہ شہنشاہ سے وفاداری پر زور دیتاتھا۔ اسی طرح سے فیملی زندگی میں تبدیلیاں بتاتی ہیں کہ کچھ نیا کرنے کے لیے کس طرح باہری اور مقامی افکارکو یکجا کیا گیا۔
چین کی جدید کاری کا راستہ کافی مختلف تھا۔ حکومت کے کنٹرول کوکم کرنے کے لیے مغربی اورجاپانی، دونوں غیر ملکی سامراج ایک متذبذب، غیر یقینی قنگ خاندان کے ساتھ مل گئے۔ اور سماجی اور سیاسی نظام کے خاتمہ کا ماحول تیار کیا، جس کی وجہ سے بہت سے لوگ شدت کے ساتھ بری حالت کا شکار ہوئے۔ امراء کی جنگ (War Lordism)، رہزنی اور خانہ جنگی کی وجہ سے بہت سی انسانی جانیں ضائع ہوئیں۔ جیسا کہ جاپانی حملے میں ضائع ہوتی تھیں۔ قدرتی آفات نے اس میں اور اضافہ کیا۔  
انیسویں صدی اور بیسویں صدی میں روایات سے انحراف کیاگیا اور قومی اتحاد اور طاقتور بننے کے راستوں کو تلاش کیاگیا۔ چینی کمیونسٹ پارٹی اور اس کے حامیوں نے روایات کوختم کرنے کی جدوجہد کی۔ ان کے مطابق روایت (پرانے طور طریقے) کی وجہ سے لوگ غریبی کا شکار، عورتیں محکوم اور ملک غیرترقی یافتہ رہ گیا تھا۔ لوگوں کو اقتدار کا نعرہ دے کر اس نے بہت زیادہ مرکزیت والی حکومت کا قیام کیا۔کمیونسٹ پارٹی کے پروگرام کی کامیابی سے امیدیں وابستہ ہوئیں۔ لیکن اس کے ظالمانہ سیاسی نظام نے مثالی مساوات اورآزادی کے لیے لوگوں کو ہموار کرنے کی غرض سے نعروں میں تبدیل کردیا۔ پھر بھی اس نے صدیوں پرانی نابرابریوں کو مٹایا، تعلیم کو فروغ کردیا۔ اور لوگوں کے درمیان بیداری پیداکی۔
پارٹی نے اب بازار سے متعلق اصلاحات کی ہیں اور چین کو اقتصادی طور پر مضبوط بنانے میں کامیاب ہوئی ہے۔ لیکن اس کا سیاسی نظام ابھی بھی سخت کنٹرول میں ہے۔ سماج اس وقت بڑھتی نابرابریوں اوربہت پہلے ختم کی گئی روایات کے احیاء کا سامنا کر رہا ہے۔ یہ نئی صورت حال پھر یہ سوال اٹھاتی ہے کہ چین کس طرح اپنی وراثت کو برقرار رکھتے ہوئے ترقی کرسکتا ہے۔

  کوریا - ٹائم لائن 
 1392-1910  جوسیون خاندان 
  1910 جاپان کے ذریعہ کوریا کا انضمام
 1945  جاپانی نو آبادیاتی حکومت سے آزادی 
  1948 شمال و جنوب میں علاحدہ حکومت کی تشکیل 
 1950-53  کوریائی جنگ 
  1960 اپریل انقلاب 
 1961  فوجی بغاوت 
  1972 یوسن آئین کا نفاذ
 1977  کوریائی بر آمدگی10ابلین یو ایس ڈالر پہونچی 
  1980 گوانگجوجمہوری تحریک 
 1987  جون جمہوری تحریک 
  1988 سمر اولمپک (کھیل)سیول میں 
 1997  ایشیائی مالی بحران 



مشق

مختصر جواب دیں  

  
1۔  میجی حکومت کی بحالی سے پہلے کی اہم ترقیات کیا تھیں جن کی وجہ سے جاپان کی تیزی سے جدید کاری ممکن ہوسکی؟
2۔  جاپان کے ترقی یافتہ ہونے کے ساتھ زندگی میں ہونے والی تبدیلیوں پربحث کیجیے۔
3۔  قنگ خاندان (Qing Dynasty) نے مغربی طاقتوں کے چیلنج کا سامنا کس طرح کیا؟
4۔  سن یات سین کے تین اصول کیا تھے؟

مختصر مضمون لکھیے


5۔  کیا جاپان کی تیز رفتار صنعت کاری کی پالیسی اپنے پڑوسیوں کے ساتھ جنگ اور ماحولیات کی بربادی کا سبب بنی تھی؟