11
جدید کاری کے راستے
(Paths to Modernisation)
* جاپان میں خاندانی نام (لقب) پہلے لکھا جاتا ہے۔
تعارف (Introduction)

جاپان
سیاسی نظام
* چھپائی کا کام لکڑی کے بلاکوں سے ہوتا تھا۔ جاپانیوں نے یوروپی چھپائی کی باضابطگی کو پسند نہیں کیا۔
جین جی کی کہانی (Tale of th Genji)
میجی کی بحالی
سرگرمی 1


چھٹی صدی میں جاپانیوں نے اپنا تحریری رسلم الخط چینیوں سے عاریاً لیا۔ لیکن چونکہ اس وقت تک ان کی زبان چینی زبان سے کافی مختلف ہے۔ انھوں نے دو قسم کے صوتی حروف تہجی (Phonetic Alphabets) ہیرا گانا (Hiragana)اور کٹا کانا (Katakana) کوترقی دی۔ ہیرا گانا مونث سمجھا جاتا ہے۔ کیونکہ ہیان عہد میں اس کو زیادہ تر عورتیں (جیسے موراساکی) استعمال کرتی تھیں۔ ان کو چینی حروف اور صوتیات کو مرکب کرکے تحریر میں استعمال کیاجاتا ہے۔ یہی وہ وجہ ہے کہ لفظ کا حقیقی حصہ حروف لکھا جاتا ہے (مثال کے طور پر goingمیں goحروف میں لکھا جائے اور ing کو صوتیات کے ذریعہ ادا کیا جائے گا۔
صوتی اجزاء وعلامات کے وجود کا مطلب ہے کہ علم اعلیٰ طبقہ سے پورے سماج میں نسبتاً زیادہ تیزی سے پھیلا اسی کو دہائی (1880) میں یہ تجویز رکھی گئی کہ جاپان یا تو ایک مکمل صوتیانی رسلم الخط کو ترقی دے یا پھر کسی یوروپی زبان کو اختیارکرلے لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔

معیشت کی جدید کاری

صنعتی مزدور
جارحانہ قوم پرستی
کسان کے بیٹے تناکا شوزو (Tanaka Shozo,1841-1913) نے اپنی پڑھائی خود کی اور اہم سیاسی شخصیت کے طور پر ابھرے۔ 1880کی دہائی میں اس نے عوامی حقوق کی تحریک (Popular Rights Movement) میں حصہ لیاجو کہ دستوری حکومت کا مطالبہ کررہی تھی۔ وہ پہلی مجلس مقننہ Dietکا ممبر منتخب ہوا۔ اس کا ماننا تھا کہ صنعتی ترقی کے لیے عام لوگوں کی قربانی نہیں دی جانی چاہیے۔ اے شیوکان (Ashio Mine) واتر اسے ندی (Watarase river) کو آلودہ کررہی تھی جس کی وجہ سے 100 مربع میل کی زراعتی زمین برباد ہو رہی تھی اور ایک ہزار خاندان متاثر ہورہے تھے۔ تحریک نے کمپنی کو مجبور کیا کہ وہ آلودگی کنٹرول کے اقدامات کرے جس کی وجہ سے 1904تک فصلیں معمول پر آگئیں۔
مغربیت کاری اور روایت (Westernisation and Tradition)

فوکو زاوا یوکیچی (1835-1901)
ایک مفلس سمورائی گھرانے میں پیدا ہوا۔ ناگا ساکی اور اوسا کامیں اس نے تعلیم حاصل کی۔ اس نے ڈچ اور مغربی سائنسوں اور بعد میں انگریزی زبان کا علم حاصل کیا۔ 1860 میں وہ امریکہ میں جاپان کے پہلے سفارت خانہ میں مترجم بن کر گیا۔ اس موقع نے اس کو مغرب پر ایک کتاب لکھنے کا مواد فراہم کیا۔ جو کتاب کلاسیکی اسلوب کے بجائے نئے اورآسان انداز میں لکھی گئی جو بہت مشہور ہوئی۔اس نے ایک اسکول قائم کیا جو آج کیو (Keio)یونیورسٹی ہے۔ وہ مغربی تعلیم کو آگے بڑھانے والی ایک سوسائٹی میروکوشا (Meirokusha)کے اہم ممبران میں سے ایک تھا۔
روزمرہ کی زندگی

کار کلب

جدیدیت کا غلبہ
سرگرمی 2
شکست کے بعد عالمی اقتصادی طاقت کی حیثیت سے دوبارہ ظہور

چین

افیون جنگ : ایک یوروپین پینٹنگ
افیون کی تجارت
سرگرمی 3
امتحان کا نظام
اعلیٰ حکمراں طبقہ میں داخلہ (1850 تک تقریباً 101 ملین) بڑی حدتک ایک امتحان کے ذریعہ ہوتاتھا۔ اس کے لیے کلاسیکی چینی زبان میں مجوزہ ترتیب میں آٹھ پیرا گراف والا مضمون (Pa-Ku Wen) لکھنا ضروری تھا۔ یہ امتحان تین سال میں دو مرتبہ مختلف مرحلوں میں ہوتا تھا۔ اور جن لوگوں کو امتحان میں بیٹھنے کی اجازت دی جاتی ان میں سے صرف ایک سے دو فی صد ہی پہلے مرحلے کو پاس کرپاتے۔ عام طور سے ان کی عمر 24 سال ہوتی۔ اس کو پاس کرلینے پر دل پذیر ذہانت (Beautiful Talent) بن جاتے۔ 1850سے پہلے پورے ملک میں تقریباً 526, 869 سول اور 212, 330 فوجی صوبہ داری (Military Provincial) شینگ یوان(Shengyuan)کے سندیافتہ تھے۔ چونکہ اس وقت 27,000 افسران کے عہدہ تھے اس لیے نچلے درجہ کے سند یافتگان کے پاس نوکری نہیں تھی۔ اس امتحان نے ٹکنالوجی اور سائنس کی ترقی میں ایک طرح سے رکاوٹ کا کام کیا۔ کیونکہ اس نے صرف ادبی مہارتوں کا مطالبہ کیا۔ 1905 میں اس کو منسوخ کردیا گیا کیونکہ یہ کلاسیکی چینی علوم میں مہارت پر مبنی تھا اور جس کے حاصل کرنے سے، جیسا کہ محسوس کیا گیا۔ جدید دنیا سے کوئی مناسبت نہ تھی۔
جمہوریت کا قیام
1935 میں شنگھائی: ٹرم پیٹ(Trumpet) بجانے والا ایک کالا امریکی بک کلیٹن (Buck Clayton)اپنے جاز (jazz) آرکسٹرا کے ساتھ شنگھائی میں ایک مراعات یافتہ شہری کی حیثیت سے زندگی گزار رہا تھا، لیکن وہ کالا تھا۔ اور ایک مرتبہ کچھ سفید امریکیوں نے اس پر اور اس کے آرکسٹرا (سازندوں کا طائفہ) پر حملہ کردیا اور ان کو ہوٹل سے باہر نکال دیاجس میں انھوں نے ٹرم بجایا تھا۔ امریکی ہونے کے باوجود اور خود نسلی امتیاز کا شکار ہونے کے بعد بھی اس کو چینیوں کے ساتھ ان کی اس حالت کے لیے بڑی ہمدردی تھی۔
سفید امریکیوں کے ساتھ اپنے مقابلے کے بارے میں جس میں وہ فتحیاب ہوا لکھتاہے۔ ’’چینی تماشائی ہمارے ساتھ اس طرح پیش آئے جیسے ہم نے کوئی ایسی چیز کردی جسے وہ ہمیشہ کرنا چاہتے تھے۔ وہ لوگ پورے راستے ہمارے ساتھ رہے اور ایک فاتح فٹ بال ٹیم کی طرح ہم کو شاباشی دیتے رہے۔‘‘
غریبی اور چینیوں کی مشقت بھری زندگی کے بارے میں کلیٹن لکھتا ہے۔ ’’بعض اوقات، میں ایک بڑی بھاری بھرکم گاڑی کو دیکھتا ہوں جس کو بیس یا تیس قلی کھینچ رہے ہیں جسے امریکہ میں ایک ٹرک یا گھوڑے کے ذریعہ کھینچا جاتا ہے۔ یہ لوگ انسانی گھوڑوں کے سوا اور کچھ نہیں معلوم پڑتے اور دن کے اختتام پر انھیں اتنا ہی ملتا ہے کہ وہ چند پیالے چاول اور سونے کی جگہ حاصل کرلیں۔ میں نہیں جانتا وہ کس طرح یہ کام کرتے ہیں۔‘‘


| جاپان | ٹائم لائن | چین | |
| 1603 | ٹوکو گاوا لے یاسو (Tokugawa Leyasu) نے ایڈو شوگونیٹ (Edo Shogunate) قائم کی۔ | 1644-1911 | قنگ خاندان کی سلطنت (Qing Dynasty)۔ |
| 1630 |
ہالینڈ کے ساتھ محدود تجارت کے سوا مغربی طاقتوں کے لیے جاپان سے تجارت کے دروازے بند۔ | 1839-60 | دو افیون جنگیں (Opium Wars)۔ |
| 185 | جاپان اورامریکہ کے درمیان امن معاہدہ جس کی وجہ سے جاپان کا الگ تھلک پڑنا ختم۔ | ||
| 1868 |
میجی کی بحالی۔ | ||
| 1872 | لازمی تعلیمی نظام، ٹوکیو اور یوکوہاما کے درمیان پہلی ریلوے لائن۔ | ||
| 1889 |
میجی آئین عمل میں لایا گیا۔ | ||
| 1894-05 | جاپان اور چین کے درمیان جنگ ۔ | ||
| 1904-05 |
جاپان اور روس کے مابین جنگ۔ | ||
| 1910 | کوریاکا الحاق، 1945 تک نو آباد (Colony) بنارہا۔ | 1912 | سن یات سین کے ذریعہ گومنگ ڈانگ کا قیام۔ |
| 1914-18 |
پہلی عالمی جنگ۔ | 1919 | 4 مئی تحریک۔ |
| 1925 | سبھی مردوں کوعام رائے دہندگی کا حق۔ | 1921 | چین کی کمیونسٹ پارٹی کا قیام۔ |
| 1931 |
جاپان کا چین پرحملہ۔ | 1926-49 | چین میں خانہ جنگی۔ |
| 1941-45 | جنگ بحرالکاہل (Pacific war) ۔ | 1934 | طویل مارچ (Long March)۔ |
| 1945 |
ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرائے گئے۔ | 1945 | |
| 1946-52 | امریکہ کی زیر قیادت جاپان پر قبضہ، جاپان کو جمہوری بنانے اور غیر فوجی بنانے والی اصلاحات۔ | 1949 | عوامی جمہوریہ چین (People's Republic of China) چیانگ کائی سینگ نے تائی وان میں ریپبلک آف چائنا قائم کی۔ |
| 1956 |
جاپان اقوام متحدہ کاممبربنا۔ | 1962 | سرحد سے متعلق تنازعہ کولے کر چین کا ہندوستان پرحملہ ۔ |
| 1964 | ایشیا میں پہلی دفعہ ٹوکیو میں اولمپک کھیل منعقد ہوئے۔ | 1966 | 1976 تہذیبی انقلاب، مائو زے ڈانگ (Mao Zedong) |
| اور زہور اینلائی (Zhou Enlai) کی وفات۔ | |||
| 1976 | موز ئے دونگ اور زونلا ئے کی وفات | ||
| 1997 | برطانیہ نے ہانگ کانگ چین کو واپس کیا۔ |
چین کی کمیونسٹ پارٹی کاعروج
1930 میں زون وو(Xunwu)کے ایک مروے کے ذریعہ ماؤ زسے ڈانگ نے روزمرہ کی تمام اشیاء مثلاً نمک، سویابین اور مقامی تنظیموں کی مربوط طاقت، چھوٹے تاجروں، ہنر مندوں، لوہار، طوائف اور مذہبی تنظیموں کی طاقت وغیرہ کوجاننے کی غرض سے، استحصال کی مختلف سطحوں کا تجزیہ کیا۔ اپنے بچوں کو بیچنے والے کسانوں کے اعداد وشمار کو جمع کیا اور اس بات کا پتہ لگایا کہ ان کی کتنی قیمت ملتی ہے۔ لڑکے 100 سے 200 یوان (Yuan)میں فروخت ہوتے تھے۔ لیکن لڑکیوں کے بیچنے کی مثالیں نہیں ملتی ہیں۔ کیونکہ ضرورت سخت کام کرنے کے لیے مزدوروں کی تھی نہ کہ جنسی استحصال کی۔ ان تحقیقات کی بنیاد پر اس نے سماجی مسائل کو حل کرنے کی وکالت کی۔

* اس اصطلاح کا استعمال کا رل مارکس نے اس بات پر زور دینے کے لیے کیاتھا کہ مالدار طبقہ کی ظالمانہ حکومت کو محنت کش طبقہ موجودہ مفہوم آمریت نہیں بلکہ ایک انقلابی حکومت سے بدل دے گا۔
نئی جمہوریت کاقیام: 65-1949
متصادم بصیرت:78-1965
1978 سے اصلاحات

تائیوان کی کہانی
کوریا کی کہانی
جدیدیت کا آغاز

کوریائی لوگ 1955 میں جاپان سے آزادی حاصل کرنے کا جشن مناتے ہوئے
ملک - مابعد جنگ
مضبوط قیادت کے ماتحت تیز رفتارصنعت کاری
جمہوریت کا مطالبہ اور مسلسل معاشی ارتقا

کوریائی جمہوریت اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF)بحران

جدید کاری کے دو راستے
| کوریا - ٹائم لائن | |
| 1392-1910 | جوسیون خاندان |
| 1910 | جاپان کے ذریعہ کوریا کا انضمام |
| 1945 | جاپانی نو آبادیاتی حکومت سے آزادی |
| 1948 | شمال و جنوب میں علاحدہ حکومت کی تشکیل |
| 1950-53 | کوریائی جنگ |
| 1960 | اپریل انقلاب |
| 1961 | فوجی بغاوت |
| 1972 | یوسن آئین کا نفاذ |
| 1977 | کوریائی بر آمدگی10ابلین یو ایس ڈالر پہونچی |
| 1980 | گوانگجوجمہوری تحریک |
| 1987 | جون جمہوری تحریک |
| 1988 | سمر اولمپک (کھیل)سیول میں |
| 1997 | ایشیائی مالی بحران |