باب1
قومی تعمیر کے چیلنج
نئی قوم کے لیے چیلنج
14اور15اگست 1947کی درمیانی شب میں ہندوستان کو آزادی حاصل ہوئی۔ اس رات آزاد ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم جواہرلعل نہرونے دستور ساز اسمبلی کے ایک خاص اجلاس سے خطاب کیا۔ یہ مشہور ’’ مقدر سے ملاقات‘‘ والی تقریر تھی جس سے آپ اچھی طرح واقف ہیں۔
ہندوستانی اسی لمحہ کا انتظار کررہے تھے۔ آپ نے اپنی تاریخ کی درسی کتابوں میں پڑھا ہوگا کہ ہماری قومی تحریک میں کئی نقطۂ نظر کا ر فرما تھے ۔ لیکن دومقاصد پر سب متفق تھے، پہلا تو یہ کہ آزادی کے بعد اپنی حکومت کو جمہوری طرز پر چلائیں گے، دوسرے یہ کہ حکومت سب کے بھلے کے لیے کام کرے گی، خاص طو ر پر غریبوں اور سماجی اعتبار سے پچھڑے ہوئے لوگوں کے لیے ۔ اب جب کہ ہندوستان آزاد ہوگیا تھا، وعدوں کے نبھانے کا وقت آگیاتھا۔
لیکن یہ اتنا آسان نہیں تھا۔ ہندوستان نے بہت مشکل حالات میں جنم لیا تھا۔ شاید ہی کسی اور ملک کا اتنے مشکل حالات میں ظہور ہوا ہوگا جتناکہ 1947 میں ہندوستان کا ہوا۔ آزادی کے ساتھ ملک بھی تقسیم ہوا۔خانماں بربادی کی اذیت اور تشدد کے لحاظ سے1947سے پہلے کوئی سال ایسا نہیں گزراتھا ۔ یہ حالات تھے جب آزاد ہندوستان نے کئی مقاصد کے حصول کے لیے اپنے سفر کا آغاز کیا۔ آزادی کے ساتھ آنے والے بحران کے باوجودہمارے رہنماؤں کی نظروں نے ان چیلنجو ں کو فراموش نہیں کیا جو ایک نئی قوم کو پیش آرہے تھے۔

بشکریہ: پی آئی بی
15اگست1947کو وزیر اعظم جواہرلعل نہرو لال قلعہ سے تقریر کرتے ہوئے۔
"کل ہم برطانوی تسلط کی غلامی سے آزاد ہوں گے۔لیکن نصف شب کو ہندوستان تقسیم بھی ہوجائے گا۔کل ایک خوشی کادن بھی ہوگا اور ماتم کابھی''
مہاتماگاندھی
14اگست 1947 کولکاتا
تین چیلنج
موٹے طور پر آزاد ہندوستان کو تین طرح کے چیلنجو ں کا سامنا تھا۔ سب سے پہلا چیلنج تو ایک ایسی قوم کی تشکیل تھی جو متحد بھی ہواور سماج کے تنوع اور رنگارنگی کو اپنے اندرسمیٹے ہوئے ہو۔ ہندوستان اپنے رقبہ اور تنوع کے اعتبار سے ایک برّاعظم جیسا تھا۔ اس کے عوام کئی زبانیں بولتے تھے اور الگ الگ مذہب اور ثقافت کو اختیار کیے ہوئے تھے۔ اس وقت عام طور سے یہی خیال کیا جاتا تھا کہ اتنے اختلافات رکھنے والا ملک زیادہ عرصے تک متحد نہیں رہ سکتا۔ ملک کی تقسیم نے بظاہر بدترین اندیشوں کو صحیح ثابت کر دیا تھا اور ہندوستان کے مستقبل کے بارے میں کئی سنجیدہ سوال اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ کیا ہندوستان ایک متحد ملک کی صورت میں قائم رہ سکے گا؟اور کیا قومی اتحاد کی خاطر وہ دیگر مقاصد کو پس پشت ڈال دے گا؟ کیا اس کا مطلب یہ ہوگا کہ بقیہ تمام علاقائی اورذیلی قومی شناختوں کو نظر انداز کر دیا جائے گا؟ لیکن ایک بہت ہی فوری سوال بھی سامنے تھا اور وہ یہ کہ ہندوستان کی زمین یا ملک کی آراضی کو کس طرح یک جہت کر کے ایک اکائی بنایا جائے۔
دوسرا چیلنج جمہوریت کا قیام تھا۔ آپ پہلے ہی ہندوستانی دستور کا مطالعہ کر چکے ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ دستور نے بنیادی حقوق دیے اور ہر شہری کو ووٹ دینے کا حق دیا۔ ہندوستان نے پارلیمانی طرزِحکومت پر مبنی نمائندہ جمہوریت کو اختیار کیا ہے۔ ان خصوصیات کی بنیاد پر یہ بات طے ہوگئی کہ سیاسی مسابقت اور داؤپیچ ایک جمہوری ڈھانچے میں ہی محدود رہیں گے۔ جمہوریت کو قائم کرنے کے لیے ایک جمہوری دستور لازمی ہے لیکن کافی نہیں ہے۔ چیلنج یہ تھا کہ جمہوری روایات کو دستور کے مطابق فروغ دیا جائے۔
تیسرا چیلنج پورے سماج کی ترقی اور فلاح کی یقین دہانی تھا جو چندحصوں یا طبقوں کے لیے مخصوص نہ ہو۔ اس مقام پر بھی دستور نے سماجی لحاظ سے پچھڑے ہوئے لوگوں اور مختلف مذاہب اور تمدنی برادریوں کے لیے مساوات اور خصوصی تحفظ کے اصول پیش کیے۔ اس کے علاوہ دستور نے ریاست کی پالیسی کے رہنما اصول بھی مرتب کیے جو ایک سیاسی جمہوریت میں حاصل ہونے کے لیے ضروری ہیں۔ اب اصل چیلنج یہ تھا کہ اقتصادی ترقی اور غربت کے خاتمے کے لیے مؤ ثر پالیسیاں بنائی جائیں۔
اس باب میں زیادہ تر توجہ پہلے چیلنج کو دی جائے گی یعنی قومی تعمیر جس نے آزادی کے بعد کے عرصے میں مرکزی مقام لے رکھا تھا۔ ہم آزادی کے حوالے سے رونما ہونے والے کچھ واقعات پر نظرڈالنے سے ابتدا کرتے ہیں۔ اس سے ہمیں یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ آزادی کے وقت قومی اتحاد اور سلامتی کا مسئلہ سرفہرست کیسے آگیا۔ اس کے بعد ہم دیکھیں گے کہ ہندوستان نے خود کو ایک قوم کی صورت میں کیسے ڈھالا جو ایک مشترک تاریخ اورمقدر کے حوالہ سے متحد تھی۔اس اتحاد اوریک جہتی کا اظہار مختلف علاقوں میں بسنے والے لوگوں کی امنگوں میں ہونا چاہیے تھا اور اس اتحاد کو ان اختلافات اورتنوع سے بھی نمٹنا تھا جو الگ الگ علاقوں اور طبقات میں موجود تھے۔ اگلے دو باب میں ہم جمہوریت کے قیام ،اقتصادی ترقی، مساوات اور انصاف کے حصول پر بحث کریں گے۔
میرے دل میں ہمیشہ یہ خواہش رہی ہے کہ ایک ٹائم مشین مل جائے تو میں تھوڑا پیچھے لوٹوں اور 15 اگست 1947 کے جشن میں شرکت کروں لیکن یہاں تو معاملہ کچھ اور ہی نظر آرہاہے۔
اوپر دیئے گئے تینوں ڈاک ٹکٹ26 جنوری 1950کو پہلے یومِ جمہوریہ کے جشن پر جاری کیے گئے تھے۔ ان پربنی ہوئی تصویریں نئے ملک کے چیلنج کے بارے میں آپ سے کیا کہہ رہی ہیں؟ اگر 1950میں آپ سے ان ڈاک ٹکٹوں کو ڈیزائن کرنے کے لیے کہا گیا ہوتا تو آپ کس تصویر کا انتخاب کرتے؟
ڈان، کراچی، 14اگست 1947
صبح آزادی
فیض احمد فیض ؔ
یہ داغ داغ اجالا، یہ شب گزیدہ سحر
وہ انتظار تھا جس کا ،یہ وہ سحر تو نہیں
یہ وہ سحر تو نہیں جس کی آرزو لے کر
چلے تھے یار کہ مل جائے گی کہیں نہ کہیں
فلک کے دشت میں تاروں کی آخری منزل
کہیں تو ہوگا شب سُست موج کا ساحل
کہیں تو جاکے رکے گا سفینۂ غمِ دل
فیضـ احمد فیضؔ (1911-1984) سیال کوٹ میں پیدا ہوئے اور تقسیم کے بعد پاکستان میں رہے ۔ان کا سیاسی رجحان بائیں بازو کی طرف تھا۔ انھوں نے پاکستانی حکومت کی مخالفت کی اور جیل میں ڈال دئیے گئے۔ ان کے شعری مجموعوں میں نقش فریادی، دستِ صبا اور زنداں نامہ شامل ہیں۔ فیض کا شمار بیسویں صدی کے جنوبی ایشیا کے عظیم شاعروں میں ہوتا ہے۔
ہم کو اسی جذبہ کے ساتھ کام کرنا چاہیے۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ اکثریت اور اقلیت یعنی ہندو فرقہ اور مسلم فرقہ کے آپس کے اندیشے ختم ہوجائیں گے کیوں کہ مسلمان ہوتے ہوئے بھی آپ پٹھان، پنجابی، شیعہ اور سنی میں بنٹے ہوئے ہیں ۔ اسی طرح ہندوؤں میں برہمن ، ویش، کھتری بلکہ بنگالی اور مدراسی کی تقسیم ہے۔ آپ مملکت پاکستان میں اپنے مندروں ، مسجدوں اور عبادت گاہوں میں جانے کے لیے آزاد ہیں۔ ریاست کے معاملات کو اس سے کوئی دلچسپی نہیں کہ آپ کس مذہب، ذات اور فرقے سے تعلق رکھتے ہیں۔

محمد علی جناح کراچی میں پاکستان کی دستور ساز مجلس سے صدارتی خطا ب کرتے ہوئے،11اگست1947
دی ٹائمز آف انڈیا، ممبئی، 15اگست1947
آج میں وارث شاہ کو آواز دیتی ہوں
امریتا پریتم
آج میں وارث شاہ کو آواز دیتی ہوں، ’’ اپنی قبر سے آوازدو‘‘
اور آج محبت کی کتاب کا اگلا صفحہ پلٹو
ایک بار پنجاب کی ایک بیٹی کی پکار پرتم نے آنسو بھرا رزمیہ لکھا تھا
آج پنجاب کی لاکھوں بیٹیاںتمھیں پکار رہی ہیں، وارث شاہ
اے دکھوں کے بیان کرنے والے اٹھو! اٹھو اور اپنے پنجاب کو دیکھو
آج کھیتوں میں لاشیں بکھری ہیں اور چناب میں خون بہہ رہا ہے
کسی نے ان پانچ دریاؤں کے پانی میں زہر گھول دیا ہے
اوراب یہی پانی ہماری زمین کے بیشتر حصہ کو سینچ رہاہے۔
اس زرخیز زمین کا ہر پودا زہر کے کونپل نکال رہا ہے
بہتے ہوئے خون کی پکار سن سن کر آسمان بھی سرخ ہوگیا ہے
جنگل کی سرمست ہواؤں کے اندر سے اک چیخ سنائی دیتی ہے
ہر بانسری کی تان سے سانپ کی پھنکار سنائی دیتی ہے.....
پنجابی نظم ’ آج اکھاں وارث شاہ نون‘ کے ایک حصہ کا ترجمہ
امریتا پریتم (1919-2005)
ایک ممتاز پنجابی شاعرہ اور ناول نگار تھیں ۔
ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ،پدم شری اور گیان پیٹھ ایوارڈ سے نوازی گئیں۔ تقسیم کے بعد انھوں نے دہلی کو اپنا دوسرا گھر بنا لیا۔
وہ اپنی عمر کے آخری دنوں تک پنجابی رسالہ
’ ناگ منی‘ میں لکھتی اور اس کی ادارت کرتی رہیں۔
ہمارے یہاں ایک مسلم اقلیت ہے جو اپنی تعداد کے لحاظ سے اتنی بڑی ہے کہ اپنے چاہنے کے باوجود بھی یہ لوگ کہیں اور نہیں جاسکتے۔ یہ ایک بنیادی حقیقت ہے جس پر بحث کی ضرورت نہیں ہے۔جو سلوک پاکستان میں غیر مسلمانوں کے ساتھ ہوااور جس خوف اور بدسلوکی کا سامنا کیا اس سے قطع نظر ہمیں اپنی اس اقلیت سے مہذب سلوک روا رکھنا ہے ۔ ہمیں ان کو تحفظ فراہم کرنا ہے اور ایک جمہوری ریاست کے شہری کی حیثیت سے ان کے حقوق دینے ہیں۔ اگر ہم ایسا کرنے میں ناکام رہے تو یہ خون ایسا رستا ہوا ناسور بن جائے گا جو رفتہ رفتہ سیاست کے جسم کو زہر آلود کردے گا بلکہ شایداسے ختم ہی کردے۔
جواہر لعل نہرو، وزرائے اعلیٰ کے نام ایک خط، 15اکتوبر1947
تقسیم:خانمابربادی اور باز آبادکاری
14اور15اگست1947کو ایک نہیں بلکہ دو قومی ریاستیں ،ہندوستان ا ور پاکستان وجود میں آئیں۔یہ’ تقسیم‘ کا نتیجہ تھا، برطانوی ہندوستان کی ہندوستان اور پاکستان میں تقسیم۔ وہ سیاسی حالات اور تغیر و تبدل جن کے بارے میں آپ نے اپنی تاریخ کی درسی کتابوں میں پڑھا ہے اس وقت نقطۂ عروج پر پہنچ گئے جب دونوں ملکوں کی سرحدوں کی لکیریں کھینچ دی گئیں۔مسلم لیگ نے جس ’’دو قومی نظریہ‘‘ کو بڑھاوا دیا اس کے مطابق ہندوستان میں ایک قوم نہیں بلکہ دو قومیں بستی ہیں، ہندو اور مسلم۔ اس لیے اس نے مسلمانوں کے لیے ایک الگ ملک ،پاکستان کا مطالبہ کیا۔ کانگریس نے اس نظریہ اور پاکستان کے مطالبے کی مخالفت کی۔ لیکن 1940میں واقع ہونے والے کچھ سیاسی واقعات ، کانگریس اور مسلم لیگ کی سیاسی زور آزمائی اور اس کے ساتھ ساتھ برطانوی کردار نے ایسے حالات پیدا کردئیے جس نے پاکستان کی تخلیق کا فیصلہ کر دیا۔
تقسیم کاعمل
یہ طے کر لیا گیا کہ جسے اب تک ہندوستان ، کے نام سے جانا جاتا تھا دو ملکوں ۔ ہندوستان اور پاکستان میں بانٹ دیاجائے گا۔ نہ صرف یہ کہ اس قسم کا بٹوارہ تکلیف دہ تھا بلکہ اس کا فیصلہ اورنفاذ بھی مشکل تھا۔ اس تقسیم میں مذہبی اکثریت کو بنیاد بنایا گیا تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ مسلم اکثریت سے پاکستان کی تشکیل ہوگی۔ باقی ملک ہندوستان رہے گا۔
بظاہر یہ خیال بڑا آسان لگتا تھا لیکن اس میں کئی طرح کی مشکلیں تھیں۔سب سے پہلے تو یہ کہ برطانوی ہندوستان میں کوئی ایسی اکیلی پٹی نہیں تھی جہاں مسلمان اکثریت میں ہوں۔ مشرق اور مغرب کے علاقے میں مسلمانوں کا ارتکاز تھا ۔ ایسا کوئی طریقہ نہیں تھا کہ ان دونوں علاقوں کو ملادیا جائے۔ لہذا یہ فیصلہ کیا گیا کہ نیا ملک- پاکستان - دوعلاقوں یعنی مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان پر مشتمل ہوگا جب کہ ہندوستان کی سرزمین کا ایک لمبا ٹکڑا اسے ایک دوسرے سے علاحدہ رکھے گا۔ دوسرے یہ کہ تمام مسلم اکثریت کے علاقے پاکستان میں شامل نہیں ہونا چاہتے تھے۔ خان عبدالغفار خاں جو شمال مغربی سرحدی صوبہ کے سب سے بڑے غیرمتنازع رہنما تھے اور’ سرحدی گاندھی ‘کے لقب سے مشہور تھے، دوقومی نظریے کے سخت مخالف تھے۔ رفتہ رفتہ ان کی آواز کو دبا دیا گیا اور صوبہ سرحد پاکستان میں شامل کر دیا گیا۔
تیسری مشکل یہ تھی کہ برطانوی ہندکے دومسلم اکثریت کے صوبے یعنی پنجاب اور بنگال کے کچھ بڑے علاقے ایسے بھی تھے جہاں غیر مسلم اکثریت میں تھے۔ تو پھر یہ طے پایا کہ مذہبی اکثریت کے اصول کے تحت دونوں صوبوں میں ضلعی سطح پر بھی کاٹ چھانٹ ہوگی اوربوقت ضرورت اس سے بھی نچلی سطح پر۔ لیکن یہ فیصلہ14اور 15اگست کی درمیانی شب تک نہیں لیا جاسکا تھا۔یعنی اس کا مطلب تھا کہ آزادی کے دن بہت سے لوگوں کو یہ نہیں معلوم تھا کہ وہ ہندوستانی ہیں یا پاکستانی۔ ان دوصو بوں کا بٹوارہ تقسیم کا سب سے اذیت ناک پہلوہے۔
اس مسئلے کی چوتھی اور بٹوارے کی سب سے بڑی مشکل یہ تھی کہ یہ سرحد کے دونوں طرف کی اقلیتوں کا مسئلہ تھا۔ لاکھوں ہندو اور سکھ ان علاقوں میں ،جواب پاکستان ہے ،میں تھے، اور اتنی ہی تعداد میں ہندوستانی پنجاب اور بنگال میں مسلمان (اور کچھ حد تک دہلی اور اس کے اطراف میں)خود کو پھنسا ہوا محسوس کرتے تھے۔ انھیں پتہ چلا کہ وہ اپنے ہی گھر میں اور اپنی ہی سرزمین پر جہاں وہ اور ان کے اجداد صدیوں سے رہتے آرہے تھے ناپسندیدہ اجنبی بن گئے ہیں۔ جیسے ہی یہ پتہ چلا کہ ملک کا بٹوارہ ہونے والا ہے دونوں جانب کی اقلیتیں حملہ کے لیے آسان نشانہ بن گئیں۔ کسی نے بھی اس مسئلہ کی سنگینی کا اندازہ نہیں لگایا تھا اور نہ ہی کسی نے اس مسئلہ کا کوئی حل سوچا تھا۔ شروع میں عوام اور سیاسی رہنماؤں نے یہ سوچا کہ یہ تشدد عارضی ہے اور اس پر جلد ہی قابو پالیا جائے گا۔ لیکن بہت جلدتشدد قابو سے باہر ہوگیا ۔ دونوں طرف کی اقلیتوں کو سوائے گھر چھوڑنے کے اور کوئی چارہ نہیں تھا، وہ بھی اکثر چند گھنٹوں کی مہلت میں۔
اوہ! اب میں سمجھا!جو پہلے ’مشرقی‘ بنگال تھا اب بنگلہ دیش بن چکا ہے۔ اسی لیے ہم اپنے بنگال کو’ مغربی‘ بنگال کہتے ہیں۔
تقسیم کے نتائج
1947وہ سال تھا جس میں ا نسانی تاریخ کا سب سے بڑا،سب سے زیادہ اچانک،غیر منظم اور الم ناک انتقال آبادی کا واقعہ ہوا۔ سرحد کے دونوں جانب قتل و غارت گری
اورظلم ہوا۔ مذہب کے نام پر ایک فرقے نے دوسرے فرقہ کے لوگوں کو قتل کیا یا جسم کے اعضا کاٹ ڈالے۔ لاہور، امرتسر اور کولکاتا جیسے شہر فرقہ وارانہ علاقوں (Communal Zones) میں بٹ گئے تھے۔ ایک مسلمان ان علاقوں میں جانے سے پرہیز کرتا تھا جہاں ہندو اور سکھ رہتے تھے ۔اسی طرح مسلم اکثریت کے علاقوں میں ہندواور سکھ جانے سے پرہیزکرتے تھے۔
1947میں پناہ گزینوں سے بھری ایک ریل گاڑی
بشکریہ: ڈی پی اے
اپنا گھر بار چھوڑنے اور سرحد کے پار جانے پر مجبور لوگ بے پناہ تکالیف سے گزرے۔ دونوں جانب اقلیتوں کے لوگ اپنا گھر بار چھوڑ کر بھاگ گئے اور اکثر عارضی پناہ گزیں کیمپوں میں رہے۔ لیکن اپنی ہی سر زمین میں ان کیمپوں میں اکثر ان کا سابقہ نا مہربان انتظامیہ اور پولیس سے پڑا ۔ سرحد پار کرنے کے لیے انھوں نے ہر سواری کا استعمال کیا اور اکثر پیدل بھی چلے۔ اکثر ایسا بھی ہوا کہ ہجرت کے اس سفر کے دوران ان پر حملہ کیا گیا اور وہ قتل اور جنسی ظلم وستم کے شکار ہوئے۔ سرحد کے دونوں جانب ہزاروں عورتوں کو اغواکیا گیا۔ وہ اغوا کنندگان کا مذہب اختیار کرنے اور ان سے شادی کرنے پر مجبور کی گئیں۔ کئی جگہ ایسا بھی ہوا کہ خاندان والوں نے ’عزت‘ کی خاطر خود اپنی عورتوں کو قتل کردیا۔ کتنے ہی بچے اپنے والدین سے بچھڑ گئے اور جو سرحد پار کرنے میں کامیاب ہوگئے، انھیں پتہ چلا کہ ان کا کوئی گھر نہیں ہے۔ ان لاکھوں مہاجرین کےلیے ملک کی آزادی کا مطلب پناہ گزیں کیمپوں میں مہینوں اور کبھی کبھی سالوں تک کا قیام تھا۔
میزبانی میں تاخیر
سعادت حسن منٹو
فسادیوں نے چلتی گاڑی کو روک لیا اور غیر مذہب کے لوگوں کو کھینچ کھینچ کر نکالا اور تلواروں اور گولیوں سے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ باقی مسافروں کو حلوہ،پھل اور دودھ دیا گیا۔
منتظمین کے سر براہ نے کہا ’’بہنو اور بھائیو! ٹرین کے آنے کی خبر دیر میں ملی‘ اسی وجہ سے ہم آپ کا استقبال پرجوش طور پر نہ کرسکے، جیسا کہ آپ ہم چاہتے تھے‘‘۔
ماخذ:سعادت حسن منٹو کی اردوکہانی’’ کسرنفسی ‘‘ سے ماخوذ

ہندوستان اور پاکستان کے ادیب ، شاعر اور فلم پروڈیوسروں نے اس بے رحم قتل و غارت گری اور خانماں بربادی کے مصائب کو اپنے ناولوں،افسانوں،نظموں اورفلموں میں بیان کیا۔ تقسیم کو بیان کرتے وقت انھوں نے بھی وہی اصطلاح استعمال کی جوبٹوارے کے بعد زندہ رہنے والوں نے استعمال کی تھی یعنی— د لوں کی تقسیم۔
1947 میں گاندھی جی نواکھالی( اب بنگلہ دیش) میں
بشکریہ: نہرو میموریل میوزیم اینڈ لائبریری
یہ بٹوارہ مال و جائداد اور ذمے داریوں کا ہی نہیں تھا اور نہ ہی یہ محض ملک کی زمین اور انتظامی ڈھانچے کی ایک سیاسی تقسیم تھی بلکہ تقسیم ہونے والی چیزوں میں مالی اثاثے، میزیں ، کرسیاں، ٹائپ رائٹر ، پیپر کلِپ، کتابیں اور پولیس بینڈ کے موسیقی کے آلات تک شامل تھے۔ ریلوے اور سرکاری حکام بھی تقسیم کیے گئے لیکن سب سے بڑی بات ان دو فرقوں کی پُر تشدد علاحدگی تھی جو اب تک پڑوسیوں کی طرح رہ رہے تھے۔ اندازہ لگایا جاتا ہے کہ بٹوارے کی وجہ سے تقریباً 80 لاکھ لوگوں کو سرحد پار کرنی پڑی۔ بٹوارے سے متعلق تشدد میں پانچ سے دس لاکھ تک لوگ مارے گئے۔
انتظامی اور مالی دباؤ اور اندیشوں کے علاوہ بٹوارے نے ایک اور بڑا مسئلہ پیدا کیا۔ ہندوستان کی قومی جدوجہد کے رہنما دو قومی نظریے پر یقین نہیں رکھتے تھے لیکن اس کے باوجود مذہبی بنیاد پر بٹوارہ ہوا۔ کیا اس کا مطلب یہ تھا کہ ہندوستان خود بخود ایک ہندو ریاست بن گیا؟ پاکستان کی جانب ایک کثیر مسلم آبادی کی ہجرت کےباوجود 1951میں ہندوستانی مسلمان ملک کی آبادی کا 12 فی صد حصہ تھے۔ تو پھرہندوستان کی حکومت کا اپنے مسلمان شہریوں اور دوسری مذہبی اقلیتوں کے ساتھ کیا روّیہ ہونا چاہیے (یعنی سکھ، عیسائی، جین، بودھ ، پارسی اور یہودی)؟ بٹوارے نے دونوں فرقوں کے درمیان سنگین اختلافات پیدا کردئیے تھے۔
ان اختلافات کے پس پردہ سیاسی مفادات کی مقابلہ آرائی تھی۔برطانوی ہندوستان میںمسلمانوں کے مفادات کے تحفظ کے لئے مسلم لیگ کی تشکیل ہوئی۔ ایک علاحد ہ مسلم ریاست کے مطالبہ میں یہ پیش پیش تھی۔ اسی طرح سے کچھ جماعتیں ہندوؤں کو منظم کر رہی تھیں تا کہ ہندوستان کوایک ہندو قومی ریاست میں تبدیل کیا جاسکے۔ لیکن قومی تحریک کے رہنماؤں کو یقین یہ تھا کہ ہندوستان میں تمام مذاہب کے ماننے والوں کے ساتھ یکساںسلوک کیا جائے اور ایک خاص مذہب کے ماننے والوں کو دوسرے مذاہب کے ماننے والوں پرفوقیت نہیں دی جانی چاہیے۔ بلاامتیاز مذہب وملت تمام شہریوں کا درجہ برابر کاہے۔مذہبی ہونا شہریت کا امتحان نہیں ہوگا۔ اس طرح ان رہنماؤں نے ایک سیکولر قوم کا خواب دیکھا تھا اور ان کا آئیڈیل ہندوستان کے دستور میں موجود ہے۔
گرم ہوا
آگرہ کے جوتوں کے ایک تاجر ، سلیم مرزا اپنے آپ کو ان لوگوں کے ساتھ جن میں انھوں نے زندگی گزاری، بڑھتی ہوئی مشکلوں میں گھرا ہوا پاتے ہیں۔ وہ بٹوارے کے بعد کی ابھرتی ہوئی حقیقتوں میں گم ہوجاتے ہیں۔ اس کی تجارت میں نقصان ہوتا ہے اور سرحد پار سے آیا ہوا ایک پناہ گزین ان کے آبائی گھر پر قابض ہوجاتا ہے۔ ا س کی لڑکی کا انجام بھی المناک ہوتا ہے۔لیکن یقین ہے کہ حالات جلدسدھر جائیں گے۔
لیکن اس کے خاندان کے دوسرے اراکین پاکستان ہجرت کرجاتے ہیں۔ سلیم خود پاکستان جانے کی کشش اور ہندوستان میں ٹھہرنے کی تمنا کے درمیان تذبذب میں ہے۔ ایک فیصلہ کن لمحہ اس وقت آتا ہے جب سلیم طلبا کے ایک جلوس کو دیکھتا ہے جو حکومت سے بہتر رویہ اور سلوک کا مطالبہ کر رہا تھا۔ اس کا بیٹا سکندر بھی اس جلوس میں شامل ہے۔ کیا آپ تصور کرسکتے ہیں کہ سلیم مرزا نے آخر کار کیا کیا ہوگا؟ اور یہ کہ ان حالات میں آپ کیا کرتے ؟
سال :1973
ہدایت کار: ایم ۔ایس۔ستھیو
اسکرین پلے: کیفی اعظمی
اداکار: بلراج ساہنی، جلال آغا،فاروق شیخ ، گیتاسدھارتھ

مہاتما گاندھی کی قربانی
15اگست 1947کو مہاتماگاندھی نے یوم آزادی کی کسی تقریب میں شرکت نہیں کی۔ وہ کولکاتا میں ان علاقوں کا دورہ کر رہے تھے جہاں بھیانک ہندو مسلم فساد ہوئے تھے۔ انھیں فرقہ وارانہ تشدد کو دیکھ کر بہت دکھ ہوا تھا۔ وہ اس لیے بھی بہت مایوس تھے کہ اہنسا( عدم تشدد) اور ستیہ گرہ (سر گرم غیر متشدد مزاحمت) کے وہ اصول جن کے لیے انھوں نے زندگی بھر کام کیا تھا، آزمائش کے دنوں میں لوگوں کو ایک ساتھ باندھنے میں ناکام رہے۔ گاندھی جی ہندو اور مسلم کو تشدد ترک کرنے کے لیے مستقل سمجھاتے رہے۔ کولکاتا میں ان کی موجودگی نے حالات کو بہت سدھارا اور آزادی کی آمد کو فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے ساتھ منایا گیا اورگلیوں میں ناچ ہوتا رہا۔ گاندھی جی کی پوجا کی مجلسوں نے کافی تعداد میں لوگوں کو متاثر کیا لیکن یہ بہت تھوڑے وقت کے لیے تھا ۔ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان فرقہ وارانہ فسادات پھر پھوٹ پڑے ۔ گاندھی جی کو دوبارہ حالات معمول پر لانے کے لیے بھوک ہڑتال کا سہارا لینا پڑا۔
اگلے مہینے گاندھی جی دہلی چلے گئے جہاں بڑے پیمانے پر ہندو مسلم فساد ہورہے تھے۔ ان کو زیادہ فکراس بات کی تھی کہ مسلمانوں کو اس ملک میں وقار اور برابر کے شہری کی حیثیت سے رہنے کی اجازت دی جائے۔ ان کو ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات کی بھی فکر تھی۔ وہ مالی معاملات میں ہندوستانی حکومت کی وعدہ خلافی سے بھی نا خوش تھے۔ ان سب کو ذہن میں رکھتے ہوئے وہ جنوری 1948میں بھوک ہڑتال پر چلے گئے جو ان کی آخری بھوک ہڑتال ثابت ہوئی۔ کولکاتا کی طرح دہلی میں بھی ان کی بھوک ہڑتال کا جادوئی اثر ہوا۔دہلی اور اس کے اطراف میں مسلمان حفاظت سے اپنے گھروں کو لوٹ آئے۔ ہندوستانی حکومت پاکستان کو اس کے مالی واجبات دینے کے لیے راضی ہوگئی۔
گاندھی جی کے اقدامات کو ہر کوئی پسند نہیں کرتا تھا۔ دونوں فرقوں کے انتہا پسند ان ہی کو اپنی حالت کا ذمے دار سمجھتے تھے۔ وہ ہندو خاص طور سے ان کو نا پسند کرتے تھے جو چاہتے تھے کہ ہندو انتقام لیں یا وہ جو ہندوستان کو ہندوؤں کا ملک بنانا چاہتے بالکل اسی طری جیسے پاکستان مسلمانوں کا ملک تھا۔ انھو ں نے گاندھی جی پر الزام لگایا کہ وہ مسلمان اورپاکستان کے مفاد کے لیے کام کررہے ہیں۔ گاندھی جی کا خیال تھا کہ یہ لوگ بھٹک گئے ہیں۔ انھیں پورایقین تھا کہ ہندوستان کو ہندو ملک بنانے کی کوئی بھی کوشش اس کو تباہ کردے گی۔ ان کی ہندو مسلم اتحاد کی مستقل کوششوں سے ہندو انتہا پسند اتنے ناراض ہوئے کہ انھو ں نے کئی بار گاندھی جی کی جان لینے کی کوشش کی۔ اس کے باوجود انھوں نے مسلح حفاظت لینے سے انکار کردیا اور اپنی پوجا کی مجلسوں میں ہر ایک سے ملتے رہے۔ آخر کار 30جنوری1948کو ایسا ہی ایک ہندو انتہا پسندناتھورام ونائک گوڈسے، شام کی عبادت کے دوران گاندھی جی کے قریب آیا اور ان پر تین گولیاں چلا دیں۔ گاندھی جی نے وہیں دم توڑدیا۔ اس طرح حق ، عدم تشدد، انصاف اور برداشت کی زندگی بھر کی جدوجہد کا خاتمہ ہوگیا۔
گاندھی جی کی موت نے ملک کی فرقہ وارانہ حالت کے لیے جادو کاکام کیا۔ بٹوارے سے متعلق غم و غصہ اور تشدد فوراًدب گیا۔ منافرت پھیلانے والی تنظیموں پر حکومت نے شکنجہ کسا۔ راشٹر یہ سویم سیوک سنگھ جیسی تنظیمیں کچھ عرصے کے لیے غیر قانونی قرار دے دی گئیں اور لوگوں کے لیے فرقہ وارانہ سیاست میں کوئی کشش نہیں رہی۔
آیئے تحقیق کریں
شویتا نے یہ محسوس کیا کہ جب کبھی پاکستان کا نام آتا ہے تو اس کے نانا بالکل خاموش ہوجاتے ہیں۔ ایک دن اس نے فیصلہ کیا کہ وہ اس کے بارے میں ان سے ضرور سوال کرے گی۔ اس کے نانا نے اسے بتایا کہ بٹوراے کے دوران وہ کس طرح لاہور سے لد ھیانہ پہنچے۔ان کے والدین مارڈالے گئے تھے۔ بلکہ ان کی جان بھی نہ بچتی، لیکن ان کے ایک پڑوسی خاندان نے جو مسلمان تھا ان کو پناہ دی اور کئی دن تک ان کو اپنے گھر میں چھپائے رکھا۔ اس خاندان نے ان کے کچھ رشتے داروں کو ڈھونڈ نے میں مدد کی اور اس طرح انھوں نے سرحد پار کی اور ایک نئی زندگی کی شروعات کی۔
کیا آپ نے بھی ایسی کوئی کہانی سنی ہے؟ اپنے نانا یا دادا یا اس نسل کے اور لوگوں سے ان کی یومِ آزادی کی یادوں کے متعلق پوچھیے۔ ان سے ان توقعات کے بارے میں سوال کیجیے جو وہ آزادی سے رکھتے تھے اس کے علاوہ ان تقریبات اور مصائب کے بارے میں پوچھیے جن سے وہ بٹوارہ کی وجہ سے گزرے۔
ایسی کم سے کم دوکہانیوں کے بارے میں لکھیے۔
راجاؤں کی ریاستوں کاادغام
برطانوی ہندوستان دو حصوں میں بٹا ہوا تھا ۔ ایک حصہ تو برطانوی ہنداور دوسرا راجاؤں کی ریاستیں تھیں ۔صوبہ جات براہِ راست برطانوی انتظامیہ کے تحت تھے۔ دوسری جانب راجاؤں کی ریاستیں تھیں جو رقبے کے لحاظ سے چھوٹی اور بڑی تھیں جن پر راجہ حکومت کرتے تھے مگر اقتدار اعلیٰ برطانیہ کے ہاتھوں میں تھا۔ اسی کو تاج برطانیہ کی عظمت اور اقتدار کہا جاتا تھا یہ ریاستیں برطانوی ہندوستان کے ایک تہائی رقبے پر چھائی ہوئی تھیں اور ہندوستان کی ایک چوتھائی آبادی ان میں رہتی تھی۔
مسئلہ
آزادی سے کچھ ہی قبل برطانیہ نے یہ اعلان کیا کہ ہندوستان کی آزادی کے ساتھ ہی ریاستوں پر سے بھی ان کا اقتدار ختم ہوجائے گا۔ اس کا مطلب تھا کہ تمام ریاستیں جن کی تعداد 565تھی قانونی طور سے خود بخود آزاد ہوجائیں گی۔ برطانوی حکومت کی رائے تھی کہ یہ تمام ریاستیں اس معاملے میں آزادہیں کہ چاہیں تو وہ ہندوستان کے ساتھ رہیں یاپاکستان کے اور اگر چاہیں تو خود مختار رہیں۔ اس فیصلے کا اختیار عوام کو نہیں بلکہ ریاست کے حکمراں کے ہاتھ میں تھا۔ یہ ایک اہم مسئلہ تھا جس سے خود متحدہ ہندوستان کا وجود خطرے میں پڑگیا تھا۔

ہندوستان تقسیم سے پہلے اور بعد
| کیا یہ بہتر نہیں ہے کہ اب ہم آزاد قوموں کی حیثیت سے ایک دوسرے کے ساتھ عزت و احترام کے ساتھ جی رہے ہیں؟ |
کیا ہم ہندوستان اور پاکستان کے بٹوارے کو ختم نہیں کرسکتے جیسا کہ جرمنی میں کیا گیا ہے۔ میری آرزو ہے کہ میں ناشتہ امرتسر میں کروں اور کھانا لاہور میں کھاؤں! |
یہ شکلیں جلد ہی سامنے آگئیں ۔ سب سے پہلے ٹراونکور کے حکمران نے اپنی خود مختاری کا اعلان کیا۔ دوسرے دن حیدر آباد کے نظام نے بھی ایساہی ایک اعلان جاری کیا۔ نواب بھوپال جیسے حکمراں بھی دستوری اسمبلی میں جانے سے احتراز کر رہے تھے۔ ریاستوں کے حکمرانوں کے ردعمل سے یہ ظاہر ہوتا تھا کہ ممکن ہے کہ آزادی کے بعد ہندوستان مزید چھوٹے چھوٹے ملکوں میں بٹ جائے۔ ان ملکوں کے عوام کے لیے جمہوریت کے امکانات بھی روشن نظر نہیں آتے تھے۔ یہ صورت حال بڑی عجیب لگتی تھی کیوں کہ ہندوستان کی آزادی کا مطلب اتحاد، آزادی رائے اور جمہوریت تھا۔ ان میں سے اکثر ریاستوں میں حکومت غیر جمہوری طرز پر چلائی جاتی تھی اور حکمراں عوام کو ان کے جمہوری حقوق دینا ناپسند کرتے تھے۔
حکومت کے اقدام
ہندوستان کی عارضی حکومت نے ملک کو چھوٹی بڑی ریاستوں میں تقسیم ہونے کے خلاف سخت اقدامات کیے۔ مسلم لیگ نے کانگریس کے نقطۂ نظر کی مخالفت کی اور کہا کہ ریاستوں کو اپنی مرضی کا راستہ چننے کا اختیار ہونا چاہیے۔ آزادی کے بعدکے نازک دور میں سردار پٹیل ہندوستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر داخلہ تھے۔ انھوں نے ریاست کے حکمرانوں سے گفت وشنید میں ایک اہم تاریخی کردار ادا کیا اور مستقل مزاجی اورحکمتِ عملی سے کام لے کر زیادہ تر ریاستوں کو انڈین یونین میں شامل کروایا۔ اب یہ سب کچھ آسان سا لگتا ہے لیکن درحقیقت یہ ایک بہت پیچیدہ کام تھا جس میں سفارتی مہارت کی اشد ضرورت تھی۔ مثال کے طور پر اڑیسہ میں26چھوٹی چھوٹی ریاستیں تھیں۔گجرات کے سوراشٹرعلاقے میں 14بڑی ریاستیں اور 119چھوٹی ریاستیں تھیں اور کئی مختلف انتظامی ڈھانچے تھے۔
حکومت کے نظریے کی رہنمائی تین نکتوں نے کی۔ سب سے پہلے تو یہ کہ زیادہ تر ریاستوں کے عوام انڈین یونین میں شامل ہونا چاہتے تھے۔ دوسرے یہ کہ حکومت کچھ علاقوں کی خود مختاری میں تھوڑی لچک دینے کے لیے تیار تھی۔ تیسرے یہ کہ آزادی اور تقسیم کے پس منظر میں قومی سرحدوں کی نشان د ہی ایک مرکزی اور اہم مسئلہ بن گیا تھا۔
15اگست1947سے پہلے کم وبیش وہ تمام ریاستیں جن کی سرحد یں ہندوستان سے ملتی تھیں پُرامن گفت وشنید کے ذریعے انڈین یونین کا حصہ بن چکی تھیں۔ ان میں زیادہ تر حکمرانوں نے ایک معاہدے پر دستخط کیے جس کو ’الحاق کی دستاویز‘(Instrument of accession)کہا جاتا ہے جس کا مطلب ہے کہ ان کی ریاست انڈین یونین کا حصہ بننے کے لیے رضا مند ہے۔ جونا گڑھ ، حیدر آباد، کشمیر اور منی پور کا الحاق خاصا مشکل ثابت ہوا۔ جونا گڑھ کا مسئلہ اس طرح حل ہوا کہ عوام کی رائے شماری نے یہ طے کر دیا کہ وہ انڈین یونین میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ کشمیر کے متعلق آپ آٹھویں باب میں پڑھیں گے ۔یہاں ہم منی پور اور حیدر آباد کے معاملے پر نظر ڈالتے ہیں۔
ہم ہندوستانی تاریخ کے ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑے ہیں۔ مشترکہ کوششوں سے ہم ملک کو نئی بلندیوں تک لے جاسکتے ہیں۔ لیکن اتحاد کا فقدان ہمیں غیرمتوقع مصائب کے سامنے لاکر کھڑا کردے گا۔ مجھے امید ہے کہ ہندوستانی ریاستیں اس حقیقت کو محسوس کریں گی کہ اگر ہم مفاد عامہ کے لیے تعاون نہیں کریں گے اور مل جل کر کام نہیں کریں گے تو لاقانونیت اور انتشار چھوٹے اور بڑے سب کو اپنے گھیرے میں لے لے گااوریہ عمل ہمیں مکمل تباہی کی طرف لے جائے گا۔۔۔۔
سردار پٹیل
ریاست کے حکمرانوں کو خط، -1947
سردار پٹیل حیدر آباد کے نظام کے ساتھ
بشکریہ: پی آئی بی
سردار ولبھ بھائی پٹیل (1875-1950)
تحریکِ آزادی کے رہنما،کانگریسی رہنما، مہاتماگاندھی کے پیرو،نائب وزیر اعظم اور آزاد ہندستان کے پہلے نائب وزیرِ داخلہ، ریاستوں کے الحاق میں کلیدی کردار ادا کیا ، دستور ساز اسمبلی کمیٹی برائے بنیادی حقوق، اقلیت اور صوبائی دستور وغیرہ کی اہم کمیٹیوں کے ممبر۔
|
حیدرآباد
حیدر آباد سب سے بڑی ریاست تھی اور مکمل طور سے ہندوستانی علاقے سے گھری ہوئی تھی۔ پرانی ریاست حیدرآباد کے کچھ علاقے آج مہاراشٹر، کرناٹک اور آندھرا پردیش کا حصہ ہیں۔ اس کے حکمراں کا خطاب نظام تھا اور وہ دنیا کے امیر ترین آدمیوں میں سے ایک تھا۔ نظا م حیدر آبادکی آزاد اور خود مختارحیثیت چاہتا تھا۔ اس نے ہندوستان سے ایک عارضی یا متعلق معاہدہ (Standstill Agreement) نومبر1947میں کیا۔ اس کی مدت ایک سال تھی۔ اس درمیان ہندوستانی حکومت کے ساتھ گفت و شنید جاری رکھنا طے ہوا۔
اسی درمیان ریاست حیدر آباد کے لوگوں میں نظام کے خلاف تحریک نے زور پکڑلیا۔ خصوصاً تلنگانہ علاقے کے کسان جو نظام کے جبرواستبداد کے شکار تھے اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔ اس تحریک میں عورتوں نے جو ظلم و ستم کابری طرح شکار ہوئی تھیں، بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ حیدر آباد شہر اس تحریک کا اعصابی مرکز تھا۔ کمیونسٹ اور حیدرآباد کانگریس اس تحریک میں پیش پیش تھے۔ نظام نے ردعمل کے طور پر ایک نیم فوجی تنظیم ’رضاکار‘ کو بڑھاوا دیا۔ رضا کاروں کی فرقہ واریت اور ظلم کی کوئی حد نہیں تھی۔ انھوں نے قتل، غارت گری، زنابالجبر کا بازار گرم کر دیا جس کا نشانہ اکثر غیر مسلم تھے۔ مرکزی حکومت نے حالات کو قابو میں لانے کے لیے فوجی کارروائی کی۔ستمبر 1948میں ہندوستانی فوج نظام کاسامنا کرنے کے لیے حرکت میں آئی۔ کچھ دنوں کی جنگ کے بعد نظام نے ہتھیار ڈال دیے۔اس طرح حیدر آباد کا الحاق ہندوستان کے ساتھ ہوگیا۔
منی پور
آزادی سے کچھ دن قبل بودھا چندر سنگھ مہاراجہ آف منی پور نے حکومت ہند کے ساتھ ،الحاق کی دستاویزپر اس یقین دہانی کے ساتھ دستخط کیے کہ ان کی داخلی خود مختاری برقرار رہے گی۔ رائے عامہّ کے دباؤ کے تحت مہاراجہ نے جون1948 میں الیکشن کرائے اور ریاست ایک دستوری بادشاہت بن گئی۔ اس طرح یہ ہندوستان کا پہلا حصہ تھا جہاں بالغ رائے دہندگی کے اصول پرالیکشن ہوئے۔
منی پور کی قانون ساز اسمبلی میں ریاست کے ہندوستان سے الحاق پر کافی ہنگامہ آرائی رہی۔ ریاستی کانگریس الحاق کی حامی تھی لیکن دوسری سیاسی پارٹیاں اس کی مخالف تھیں۔ بہرحال ہندوستانی حکومت مہاراجہ پر دباؤ ڈالنے میں کامیاب ہوگئی اور مہاراجہ نے ستمبر ،1949 میں ادغام کے معاہدے پر دستخط کردیے۔منی پورمیں اس معاہدے کے خلاف بہت غصّہ اور ناراضگی کا اظہار ہوا اور اس کے نتائج آج بھی محسوس کیے جاسکتے ہیں۔
| مجھے یہ سوچ کر حیرت ہوتی ہے کہ آخر ان سینکڑوں راجاؤں، رانیوں، شہزادوں اور شہزادیوں کا کیا ہوا؟ ایک عام شہری بن کر انھوں نے اپنی زندگی کیسے گزاری ہوگی؟ |
نہیں، نہیں اعلیٰ حضرت، اٹھنے کی زحمت نہ فرمائیں۔ بس مجھے یہ دے د یجئے۔ یہی کافی ہوگا۔
خارجی امور‘حفاظتی امور‘ترسیل عامہ
ریاستوں کی عوام
بشکریہ : ٹائمز آف انڈیامیں آر ۔ کے۔ لکشمن
یہ کارٹون ریاست کے راجاؤں اور عوام کے درمیان تعلقات پر تبصرہ ہے۔ اورساتھ ہی اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے پٹیل کے طریقہ کار پر بھی۔
ریاستوں کی تشکیل نو
قومی تعمیر کاسلسلہ بٹوارہ اور نوابی ریاستوں کے ہندوستان میں مل جانے کے ساتھ ختم نہیں ہوگیا۔ اب ہندوستان کی اندرونی ریاستوں کی حد بندی کا چیلنج سامنے تھا۔ یہ صرف نظم و نسق کی تقسیم کا معاملہ نہیں تھا۔ریاستوں کی حدود اس اعتبار سے متعین کرنی تھیں کہ ملک کے لسانی اورثقافتی تنوع کا اظہار بھی ہواور ساتھ ہی قوم کی وحدت کو بھی کوئی خطرہ نہ ہو۔
برطانیہ کے زمانے میں ریاستوں کی سرحدیں یا تو انتظامی سہولتوں کی بنیاد پر بنائی گئی تھیں یا پھر برطانوی حکومت جوں جوں آگے بڑھتی گئی، سرحدیں ترتیب دیتی رہی یا پھررجواڑے ریاستوں کی حدیں تھیں۔
ہماری قومی تحریک نے ان حد بندیوں کو مصنوعی قراردے کر خارج کر دیا تھااور لسانی اصول پر ریاستوں کی نئی تشکیل کا وعدہ کیا۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ کانگریس کے1920کے ناگپور سیشن کے بعد ہی یہ اصول اپنا لیا گیا تھا۔ اسی لیے کانگریس پارٹی کی اپنی تنظیم ِنواسی بنیاد پر ہونے لگی۔لسانی علاقوں میں کئی صوبائی کانگریس کمیٹیاں قائم کی گئیں جوبرطانوی ہند کے انتظامی ڈھانچے کے مطابق نہیں تھیں۔
آزادی اور بٹوارے کے بعد حالات بدل گئے۔ ہمارے رہنماؤں نے محسوس کیا کہ لسانی بنیاد پر ریاستوں کی تشکیل انتشار اور اختلاف کا سبب ہوگی۔ یہ بھی محسوس کیا گیا کہ اس طرح دوسرے اہم معاشی اور سماجی مسائل سے، جن کا ملک کو سامنا ہے، توجہ ہٹ جائے گی ۔ مرکزی حکومت نے اس معاملے کو ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا۔ ملتوی کرنے کی ضرورت اس لیے بھی تھی کہ ابھی راجاؤں کی ریاستوں کے بارے میں آخری فیصلہ نہیں ہوا تھا ۔ اس کے علاوہ بٹوارہ کی یادیں ابھی تازہ تھیں۔
مرکزی قیادت کے اس فیصلے کو مقامی رہنماؤں اور عوام نے چیلنج کیا۔ پرانے صوبہ مدراس اس کے تیلگو بولنے والے حصّہ میں جس میں جو آج کے تامل ناڈو، آندھرا پردیش، کیرالہ اور کرناٹک کا بھی کچھ علاقہ شامل تھا، احتجاج شروع ہوگیا۔و شال آندھرا تحریک ( جو کہ آندھرا کی علاحد گی پسند تحریک کا نام تھا) کا مطالبہ تھا کہ تیلگو بولنے والے علاقے کو مدراس صوبہ سے علاحدہ کیا جائے اور ایک الگ آندھرا صوبہ بنایا جائے۔ تقریباً تمام سیاسی قوتیں اس وقت مدراس کی لسانی بنیادوں پر تقسیم کے حق میں تھیں۔
مرکزی حکومت کے پس و پیش نے اس تحریک کو اور ہوا دی۔ مشہور گاندھی نواز اور کانگریس لیڈر پوٹی سری رامولو غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال پر چلے گئے اور 56دنوں کے بعد ان کی موت ہوگئی۔ اس نے بے چینی کی فضا پیدا کر دی اور انجام کار آندھرا کے علاقے میں تشدد پھوٹ پڑا اور کثیر تعداد میں عوام سڑکوں پر اترآئے۔ پولیس کی گولی باری سے بہت سے لوگ زخمی ہوئے اور بہتوں نے اپنی جانیں گنوائیں۔ مدراس میں اسمبلی کے کئی ممبروں نے احتجاجاً استعفیٰ دے دیا ۔ آخر کار دسمبر1952میں وزیر اعظم نے ایک علاحدہ آندھرا ریاست کے قیام کا اعلان کیا۔
اگر لسانی صوبے بنائے جاتے ہیں تو اس کی علاقائی زبانیں بھی اُبھریں گی۔تمام علاقوں میں ہندوستانی، کو ذریعۂ ابلاغ بنانا ایک فضول بات ہوگی لیکن اس سے بھی فضول بات یہ ہوگی کہ انگریزی کو اس مقصد کے لیے اپنایا جائے۔
(مہاتماگاندھی جنوری 1948)
تنظیم ِنوکے بعد ہندوستان انتظامی نقشہ1961
نوٹ: یہ نقشہ پیمانے کے مطابق تیار نہیں کیا گیا اور اس لیے اس کو ہندوستان کی خارجی سرحدوں کی نشان دہی کے لیے مستند نہیں سمجھنا چاہیے۔
نقشے کا مطالعہ کرنے کے بعد درج ذیل سوالات کا جواب دیجیے:
1۔ اس اصل ریاست کانام بتایئے جس سے مندرجہ ذیل ریاستیں تراشی گئی ہیں:
گجرات ہریانہ
میگھالیہ چھتیس گڑھ
2۔ ان دو ریاستوں کے نام بتایئے جو ملک کے بٹوارے سے متاثر ہوئی تھیں۔
3۔ آج کی ان دوریاستوں کے نام بتائیے جو کبھی مرکزی اختیار میں تھیں۔
’بقاکی جدوجہد‘ ( مطبوعہ26جولائی1953) لسانی ریاستوں کے مطالبہ کے عصری تاثر کو دکھاتے ہوئے
آندھرا پردیش کے قیام نے ملک کے دوسرے حصوں میں لسانی بنیاد پر ریاستوں کے قیام کی جدوجہد کو اور تیز کردیا۔ ان تحریکوں کی وجہ سے مرکزی حکومت نے 1953 میں ریاستوں کی تنظیم نو کے لیے کمیشن قائم کر دیا جس کا مقصد اس مسئلے پر غور کرنا تھا۔ کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ ریاستوں کی سرحدیں زبان کی سرحدوں سے ہم آہنگ ہونی چاہئیں۔ اس رپورٹ کی بنیاد پر 1956میں ریاستوں کی ازسرنو تنظیم کا ایکٹ پاس ہوا اور 14ریاستوں اور6 یو نین عمل دار یوں کا قیام ہوا۔
اچھا، کیا یہ دل چسپ بات نہیں ہے؟ نہرو اور دوسرے رہنما بہت مقبول تھے، اس کے باوجود بھی لوگ ان رہنماؤں کی خواہشات کے خلاف لسانی ریاستوں کی حمایت میں احتجاج کرنے سے نہیں کترائے!
پوٹی سری رامو لو
(1901-1952) : گاندھی نظریہ کے حامل ایک کار کن؛ نمک ستیہ گرہ میں شرکت کی خاطر سرکاری نوکری ترک کردی، انفرادی طور پر ستیہ گرہ بھی کی۔ 1946 میں اس مطالبے پر بھوک ہڑتال کی کہ صوبہ مدراس کے مندروں کے دروازے دلتوں کے لیے بھی کھلنے چاہئیں ۔ 19 اکتوبر 1952 میں ایک اور بھوک ہڑتال کی آندھرا پردیش کے قیام کے لیے ۔ 15دسمبر 1952کو اسی بھو ک ہڑتال کے دوران دم توڑ دیا۔
’’ جن کو بوتل میں دوبارہ بندکرنا‘‘ (5فروری1956 (سوال کیا کہ کیا ریاستی تنظیم ِ نو کمیشن لسانی جن کو قابو میں رکھ سکتا ہے
بشکریہ: شنکر
شروع کے سالوں میں ایک اہم ا ندیشہ یہ تھا کہ علاحدہ ریاستوں کے مطالبوں کی وجہ سے ملک کے اتحاد کو خطرہ درپیش ہوسکتا ہے اور یہ کہ لسانی ریاستیں علاحدگی پسندی کے رجحاانات کو ہوادیں گی اور نوزائیدہ قوم پر دباؤ پڑے گا۔ یہ امید کی گئی کہ اگر تمام علاقوں کے لسانی اور علاقائی مطالبات منظور کرلیے جائیں تو انتشار اور علاحدگی کے خطرے کم ہوجائیں گے۔ اس کے علاوہ علاقائی مطالبا ت کی منظوری اور لسانی ریاستوں کا قیام زیادہ جمہوری نظر آتا تھا۔
لسانی بنیاد پر ریاستوں کے قیام کو اب پچاس برس گذر چکے ہیں۔ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ لسانی ریاستوں اور ان کی تخلیق کے لیے چلائی گئی تحریکوں نے جمہوری سیاست اور قیادت کی نوعیت کو بنیادی طور سے بدل دیا۔ انگریزی بولنے والے چندمنتخب لوگوں کے علاوہ سیاست اور طاقت کے راستے عوام کے لیے بھی صاف ہوگئے۔ لسانی تنظیم نو کی وجہ سے ریاستوں کی حد بندی کا ایک واحد معیار قائم ہوگیا۔ جیسا کہ کئی لوگوں کو اندیشہ تھا لسانی ریاستوں کے قیام سے ملک منتشر نہیں ہوا بلکہ اس کے بر عکس اس نے قومی اتحاد کو مضبوط بنایا۔
سب سے بڑی بات یہ ہے کہ لسانی ریاستوں نے اختلاف اور تنوع کے اصول کو نمایاں کیا۔ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ ہندوستان نے جمہوریت کو اپنایا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ ہندوستان نے محض ایک جمہوری دستور کو قبول کیا ہے ،نہ ہی اس کا مطلب صرف یہ ہوتا ہے کہ ہندوستان نے الیکشن کا طریقۂ کار اختیار کرلیا ہے۔ ہندوستان کے انتخاب کی وسعت اس سے کہیں زیادہ ہے۔ جمہوریت کو اپنانے کا مطلب ہے اختلاف رائے کے وجود کو ماننا جو کبھی کبھی بہت مخالف بھی ہوسکتاہے۔ دوسرے الفاظ میں جمہوریت کا مطلب نظریات اور طرزِ زندگی میں تنوع اور رنگارنگی ہے ۔ بعد میں آنے والے زمانے میں زیادہ تر سیاست اسی ڈھانچے کے اندر وقوع پذیر ہوئی۔
تیزرفتارنئی ریاستوں کی تخلیق
تاہم لسانی ریاستوں کے اصول کی منظوری کا یہ مطلب نہیں تھا کہ تمام ریاستیں فوراً ہی لسانی ریاستیں ہوگئیں۔ ایک تجربہ بمبئی کی دو لسانی ریاست کا بھی تھا جو گجراتی اور مراٹھی بولنے والوں پر مشتمل تھی۔ایک عوامی احتجاج کے بعد1960میں مہاراشٹرااور گجرات کی ریاستیں قائم کی گئیں۔
پنجاب میں بھی دولسانی گروہ تھے۔ پنجابی بولنے والے اور ہندی بولنے والے۔ پنجابی بولنے والوں نے اپنے لیے ایک علاحدہ ریاست کا مطالبہ کیا۔ لیکن یہ مطالبہ 1956میں دوسری ریاستوں کے ساتھ منظور نہیں ہوا۔ پنجاب کی ریاست دس سال بعد 1966میں وجود میں آئی جب کہ آج کی ہریانہ اور ہماچل پردیش کو وسیع تر پنجاب سے جداکیا گیا۔
1972میں شمال مشرقی حصے میں ریاستوں کی ایک اور بڑی تخلیق ہوئی۔1972 میں میگھالیہ کوآسام سے الگ کیا گیا۔منی پور اور تری پورہ بھی اسی زمانے میں الگ الگ
ریاستیں بنیں۔1987میںمیزورم اور اروناچل پردیش ریاستیں وجود میں آئیں ۔ ناگالینڈ پہلے ہی 1963 میں ریاست بن چکاتھا۔ بہرحال ، ریاستوں کی تخلیق میں زبان ہی واحد بنیادی عنصر نہیں تھا۔ آنے والے سالوں میں کئی ذیلی علاقوں نے علاحدہ ثقافت اور غیرمتوازن ترقی کی شکایت کی بنیاد پر علاحدہ ریاست کا مطالبہ کیا ۔ ایسی ہی تین ریاستوں چھتیس گڑھ، اترا کھنڈ اور جھارکھنڈ 2000میں بنائی گئیں۔ ریاستوں کی تنظیم نو کی کہانی ابھی ختم نہیں ہوتی۔ ملک میں ایسے کئی علاقے ہیں جہاں علاحدہ اور چھوٹی ریاست کے مطالبے ہورہے ہیں۔ ان میں آندھراپردیش میں تلنگانہ، مہاراشٹرمیں ودربھ، اُترپریش میں ہرت پردیش اور مغربی بنگال میں اس کا شمالی حصہ شامل ہیں۔

امریکہ کی آبادی ہماری آبادی کی ایک چوتھائی ہے لیکن ان کے یہاں 50ریاستیں ہیں۔ تو پھر ہندوستان میں 100سے زیادہ ریاستیں کیوں نہیں ہوسکتیں؟
مشقیں
1۔ بٹوارے سے متعلق مندرجہ ذیل میں سے کون بیان غلط ہے؟
(a) ہندوستان کا بٹوارہ’ دو قومی نظریہ‘ کا نتیجہ تھا۔
(b) مذہبی بنیاد پر دو صوبے پنجاب اور بنگال کی تقسیم ہوئی تھی۔
(c) مغربی اور مشرقی پاکستان ایک دوسرے سے ملے ہوئے نہیں تھے۔
(d) بٹوارہ کی اسکیم میں انتقال آبادی کا پلان بھی شامل تھا۔
2۔ اصولوں اور مثالوں کی جوڑی بنائیے بنایئے:
(a) مذہبی بنیاد پر سرحدوں کی نقشہ بندی (i) پاکستان اور بنگلہ دیش
(b) لسانی بنیاد پر حد بندی (ii) ہندوستان اور پاکستان
(c)کسی ملک میں جغرافیائی علاقوں کے تحت سرحدوں کی نشان دہی (iii)جھارکھنڈ اور چھتیس گڑھ
(d) کسی ملک میں انتظامی اور سیاسی بنیاد پر سرحدوں کی نشان دہی (iv)ہماچل پردیش اور اتراکھنڈ
3۔ ہندوستان کا ایک موجودہ نقشہ (ریاستوں کے خاکوں کے ساتھ) لیجیے اور مندرجہ ذیل نوابی ریاستوں کو دکھایئے:
(a) جونا گڑھ (b) منی پور (c) میسور (d) گوالیار
4۔ یہاں دو خیالات ظاہر کیے گئے ہیں-
بسمے: ’’نوابی ریاستوں کا ہندوستان کے ساتھ الحاق دراصل ان کے عوام کی جانب جمہوریت کا بڑھتا ہوا قدم تھا۔‘‘
اندر پریت ’’مجھے اس سے اتفاق نہیں۔ وہاں طاقت کا استعمال کیا گیا تھا جمہوریت تو اتفاق رائے سے آتی ہے‘‘
نوابی ریاستوں کے الحاق اور ان علاقوں کے عوام کے ردّ عمل کی روشنی میں آپ کا اپنا کیا خیال ہے؟
5۔ اگست1947میں دیئے گئے دو بالکل مختلف انداز کے مندرجہ ذیل بیان پڑھیے۔
’’ آج آپ نے اپنے سروں پر کانٹوں کا تاج پہنا ہے۔ اقتدار کی کرسی بڑی غلیظ اور پریشان کن چیز ہے۔اس کرسی پر ہمیشہ آنکھیں کھلی رکھنی ہوں گی۔ آپ کو زیادہ فکر مند اور صابر ہونا پڑے گا۔۔۔۔۔۔۔اب آپ کی آزمائشیں کبھی ختم نہ ہوں گی‘‘— ایم۔کے۔گاندھی
’’ ........ہندوستان ایک آزادی کی زندگی میں آنکھیں کھولے گا........ ہم اب قدیم سے جدید کی جانب قدم بڑھا رہے ہیں۔ آج ہم بدقسمتی کے ایک عہد کا خاتمہ کرتے ہیں۔ہندوستان اپنے آپ کو ایک بار پھر تلاش کرتا ہے۔جس حصولیابی کا جشن ہم آج منارہے ہیں وہ صرف ایک قدم ہے۔ ایک موقعہ کی آمد ہے‘‘- جواہرلعل نہرو
اوپر کے دو بیانوں سے قومی تعمیر کا جو ایجنڈا سامنے آتا ہے ا س کو تحریر کیجیے اور بتائیے کہ آپ کے لیے کس میں زیادہ کشش ہے اور کیوں؟
6۔ نہرو نے ہندوستان کو سیکولر رکھنے کے لیے کیا اسباب یا وجوہات بیان کیے تھے۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ یہ دلائل صرف اخلاقی اور جذباتی تھے؟ یا اس کے پیچھے کچھ دانش مندانہ وجوہات بھی تھیں؟
7۔ آزادی کے وقت ملک کے مغربی اور مشرقی علاقوں کے درمیان قومی تعمیر کے حوالے سے دو خاص فرق واضح کیجیے۔
8۔ ریاستوں کی تنظیمِ نو کمیشن کا کیا کام تھا اور اس کی خاص سفارشیں کیا تھیں؟
9۔ یہ کہا جاتا ہے کہ دراصل قوم بڑی حد تک ایک ’خیالی برادری‘ ہوتی ہے جو مشترکہ عقائد، تاریخ ،سیاسی حوصلوں اور امنگوں کی ڈورسے بندھی ہوتی ہے۔ ان خصوصیات کی نشان دہی کیجیے۔
10۔ مندرجہ ذیل پیراگراف کو پڑھیے اور نیچے دئیے گئے سوالوں کا جواب دیجیے۔
’’ قومی تعمیر کے سلسلے میں صرف سوویت یونین کے تجربہ کا ہندوستان سے موازنہ کیا جاسکتا ہے، وہاں بھی مختلف اقلیتوں ، مذہبی اور لسانی فرقوں اور سماجی طبقات کے درمیان ایک اتحاد کے جذبے کی نشوونما کی گئی۔ جغرافیائی اور آبادیاتی طور پر ان کے پیمانے نسبتاًزیادہ وسیع تھے۔ ل یکن وہاں ریاست کو جس خام مال سے سابقہ پڑا وہ بھی برابر کا غیر مبارک تھا یعنی ایک قوم جو عقائد کے اختیارسے منتشر اور قرض اور بیماری کے بوجھ سے دبی ہوئی تھی‘‘- رام چندرگوہا
(a) اس مصنف کی بیان کی گئی ان باتوں کاشمار کیجیے جو ہندوستان اورسوویت یونین میں مشترک تھیں اور ان میں سے ہر ایک کی ایک ایک مثال ہندوستان سے دیجیے۔
(b) مصنف نے دونوں ملکوں میں پائی جانے والی غیر مشابہ چیزوں کا ذکر نہیں کیا۔کیا آپ ایسی دوچیزیں بتاسکتے ہیں؟
(c) ماضی پر نظر ڈالتے ہوئے بتائیے کہ ان دونوں تجربوں میں سے کون بہتر رہا اور کیوں؟
آئیے اسے مل کر کریں
کسی بھی ہندوستانی ، پاکستانی یا بنگلہ دیشی مصنف کا کوئی ناول یا افسانہ پڑھیے جس کا موضوع بٹوارہ ہو۔ سرحد کے دونوں طرف کے تجربات میں کیا مشترکہ چیزیں پائی جاتی ہیں؟
اس باب کے’’ آئیے تحقیق کریں ‘‘میں دی گئی تجویز پر مبنی تمام کہانیوں کو جمع کیجیے اور ایک وال پیپر تیار کیجیے جس میں مشترکہ تجربات اجاگر کیے گئے ہوں اور منفرد و بے مثال کہانیاں بیان کی گئی ہوں۔