
اس باب میں...
باب2
ایک پارٹی کی بالادستی کا زمانہ
جمہوریت کی تعمیر کا چیلنج

| ہندوستان میں ہیرو یعنی بڑی اور نمایاں شخصیات کی پرستش اور ان سے عقیدت سیاست میں جو کردار ادا کرتی ہے اس کی نظیر دنیا کے کسی دوسرے ملک میں نہیں ملتی۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن سیاست میں ہیرو کی پوجا اور عقیدت مندی انحصار کی جانب ایک یقینی راستہ ہے جو بالآخر مطلق العنانی یعنی ڈکٹیٹرشپ پر ختم ہوجاتا ہے۔ بابا صاحب ڈاکٹر بی آر امبیڈکر
قانون ساز اسمبلی میں تقریر،25 نومبر1949
|

| ہمارے جمہوری ہونے میں کیا خاص بات ہے؟ آخر کار جلدی یا دیر سے دنیا کا ہر ملک جمہوری بن گیا ہے۔ کیا ایسا نہیں ہے؟ |

| وہ ایک اچھا فیصلہ تھا۔ لیکن آپ ان لوگوں کے متعلق کیا کہیں گے جو ا ب بھی عورتوں کو مسز فلاں کہہ کر بلاتے ہیں گویا کہ ان کا خود اپنا کوئی نام ہی نہیں ہے؟ |

| اس کارٹون میں کانگریس کی اُس الیکشن کمیٹی کے بارے میں ایک تاثر ہے جو 1951میں پارٹی امیدواروں کو چننے کے لیے بنائی گئی تھی۔ اس کارٹون میں نہرو کے ساتھ ساتھ مرارجی ڈیسائی، رفیع احمد قدوائی، ڈاکٹر بی- سی- رائے، کامراج ناڈر، راج گوپال آچاریہ، جگ جیون رام ، مولانا آزاد ، ڈی -پی مشرا، پی- ڈی- ٹنڈن اور گووند بلبھ پنت کود یکھا جاسکتا ہے۔ |
رائے دہندگی کے بدلتے طریقے

تیسری سے لے کر تیرھویں لوک سبھا تک عام الیکشن کے لیے استعمال ہونے والے بیلٹ پیپر کا ایک نمونہ

الیکٹرانک ووٹنگ مشین
آئیے تحقیق کریں

مولانا ابوالکلام آزاد
(1888-1958)
اصل نام--ا بوالکلام محی الدین احمد اسلامیات کے عالم،مجاہد آزادی اور کانگریس کے رہنما،ہندومسلم اتحاد کے حامی،بٹوارے کے مخالف،دستور ساز اسمبلی کے رکن اور آزاد ہندوستان کی پہلی کا بینہ میں وزیرِتعلیم۔
پہلے تین عام انتخابات میں کانگریس کی بالا دستی
کانگریس کی بالادستی

| نوٹ: یہ نقشہ پیمائش کے مطابق نہیں بنایا گیا ہے، اسے ہندوستان کی بیرونی سرحدوں کی مستند خاکہ کشی نہ سمجھا جائے۔ |


راج کماری امرت کور
(1889-1964)
گاندھیائی نظریہ کی حا مل
اور مجاہد آزادی،کپورتھلہ کے
شاہی خاندان سے تعلق، ماں کی
جانب سے عیسائی، دستور ساز اسمبلی
کی رکن ، آزاد ہندوستان کی
پہلی وزارت میں وزیرِ صحت؛ 1957تک اس عہد ے
پر فائزرہیں۔

کیرالا میں کمیونسٹوں کی کامیابی

اگست1959میں اپنی وزارت برخاست ہونے کے بعد ای۔ایم۔ایس نمبودری پد، ٹری وینڈرم میں کمیونسٹ پارٹی کے ممبروں کے ایک جلوس کی قیادت کرتے ہوئے۔



آچاریہ نریندردیو (1889-1956)
مجاہد آزادی اور کانگریس سوشلسٹ پارٹی کے بانی صدر؛ آزادی کی تحریک کے دوران کئی بارجیل گئے؛ کسانوں کی تحریک میں پیش پیش رہے ؛بودھ مذہب کے عالم ؛ آزادی کے بعد سوشلسٹ پارٹی کے اور بعد میں پرجا سوشلسٹ پارٹی کے۔
|

کانگریس بالادستی کی نوعیت

بابا صاحب بھیم راؤ رام جی امبیڈکر (1891-1956)
ذات پات مخالف تحریک اور دلتوں کے لیے انصاف کی جدوجہد کے لیڈر؛ انڈیپنڈنٹ لیبرپارٹی کے بانی بعد میں شیڈیول کاسٹ فیڈریشن بنائی ؛ ری پبلکن پارٹی آف انڈیا کے منصوبہ کار ، دوسری جنگ عظیم میں وائسرائے کی انتظامیہ کا بینہ کے ممبر، دستور تحریر کرنے والی کمیٹی کے صدر آزادی کے بعد نہرو کی وزارت میں وزیر، ہندو کو ڈبل پر اختلاف کے سبب 1951 میں استعفیٰ دے د یا ۔ 1956میں ہزاروں پیرکاروں کے ساتھ بدھ مذہب اختیار کیا۔


رفیع احمدقدوائی
(1894-1954)
اتر پردیش کے کانگریس لیڈر؛
1937 اور 1946میں اترپردیش کے وزیر؛
آزاد ہندوستان کی پہلی کابینہ میں وزیرمواصلات؛
اس کے علاوہ وزیرزراعت وخوراک 54-1952
کانگریس بطور ایک سماجی اور نظریاتی اتحاد

| پہلے ہم ایک پارٹی کے اندرگٹھ بندھن دیکھتے تھے لیکن اب پارٹیوں کا گٹھ بندھن ہوتا ہے۔ کیا اس کا مطلب ہے کہ 1952 سے گٹھ بندھن سرکار ہمارے یہاں موجود ہے؟ |

کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا آف انڈیا


اے۔ کے۔ گوپالن
(1904-1977)
کیرالا کے کمیونسٹ لیڈر، شروع میں کانگریس کارکن کی حیثیت سے کام کیا؛1939میں کمیونسٹ پارٹی میں شامل ہوئے؛ 1964 میں کمیونسٹ پارٹی کی تفریق کے بعد سی ۔ پی ۔ آئی (ایم)میں شامل ہوئے اور پارٹی کو مضبوط بنانے کے لیے کام کیا؛ ایک باوقار پارلیمانی رکن؛ 1952سے پارلیمنٹ کے ممبر رہے۔

| آئیے ایک فلم دیکھیں |
| ’’ سمہاسن‘‘ |
| یہ مراٹھی فلم جو ارون سادھو کے دوناولوں ’ سمہاسن‘ اور ’ ممبئی دنانک ‘پر مبنی مہاراشٹرا کی وزارت اعلیٰ کے لیے رسہ کشی کی منظر کشی کرتی ہے۔ یہ کہانی ایک صحافی ڈیگوٹپنس کے ذریعہ بیان کی گئی ہے جو خاموش ’سوتردھار ‘ ہے۔ کہانی کی کوشش حکمراں پارٹی کے اندر طاقت کے حصول کی شدید کشمکش اور حزب مخالف کے ثانوی کردار کو گرفت میں لینا ہے۔ |
| وزیر خزانہ وشواس راؤ دابھدے کی پوری کوشش ہے کہ موجودہ وزیر اعلیٰ کو کرسی سے ہٹا دیا جائے۔ دونوں ہی امیدوار یونین لیڈر ڈی کا سٹا کی حمایت حاصل کرنے کے لیے اس کی خوشامد کرتے ہیں۔ دو فریقوں کی اس روایتی جنگ سے دوسرے سیاست داں بھر پور فائدہ اٹھاتے ہیں اور دونوں امیدواروں سے سودے بازی کرتے ہیں۔ ممبئی میں اسمگلنگ اور دیگر سنگین سماجی حقائق اس فلم کے ذیلی موضوعات ہیں۔ |
سال :1981
ہدایت کار : جبّار پٹیل
اسکرین پلے : وجے تندولکر
کردار : نیلو پھُلے، ارو ن سرنائک،ڈاکٹر شری رام لاگو، ستیش دوباشی، دتابھٹ، مدھوکر توراومل، مادھوواٹوے، موہن اگاشے۔
|
دھڑوں کی برداشت اور ان کا بندو بست

بھارتیہ جن سنگھ


دین دیال اپادھیائے (1916-1968)
1942سے آر ایس ایس کے کل وقتی ممبر بھارتیہ جن سنگھ کے بانیوں میں سے ایک، بھارتیہ جن سنگھ کے سکریٹری اور بعد میں صدر’’متحدہ انسانیت ‘‘کے تصور کی شروعات کی۔

میرا خیال تھا کہ گروہ بندی ایک بیماری ہے جس کا علاج ہونا چاہیے ۔ لیکن آپ تو ایسا کہہ رہے ہیں کہ گروہ بندی ایک عام اور اچھی چیز ہے۔

| ’’رسہ کشی کی جنگ‘‘( 29 اگست 1954) ایک کارٹونسٹ کا حکمراں اور ایوزیشن پارٹیوں کی طاقت توازن کے بارے میں تاثر ہے۔ درخت پر نہرو اور ان کی کابینہ کے ساتھی بیٹھے ہوئے ہیں۔ وہ اپوزیشن لیڈر جو درخت گرانے کی کوشش کر رہے ہیں ان میں اے۔ کے ۔ گوپالن، آچاریہ کرپلانی ، این ۔سی۔ چٹر جی، سری کانتن نائر اور سردار حکم سنگھ شامل ہیں۔ |
اپوزیشن پارٹیوں کا ظہور

سو تنتر پارٹی


سی۔ راج گوپال آچاری
(1878-1972)
کانگریس کے بزرگ رہنما اور ادیب؛
مہاتما گاندھی کے قریبی ساتھی؛
دستور سازاسمبلی کے ممبر؛
ملک کے ہندستانی پہلے گورنرجنرل (1948-1950)مرکزی کابینہ میں وزیر ، بعد میں ریاست مدراس کے وزیر اعلیٰ؛
ہندوستان کے پہلے بھارت رتن حاصل کرنے والے؛
سوتنتر پارٹی کے بانی (1959)
بعض کانگریسیوں کے نزدیک حکومت یا کانگریس میں میری موجودگی اتنی اہم نہیں جتنی کہ ٹنڈن کا الیکشن ..... کانگریس اور حکومت دونوں میں میری افادیت ختم ہوچکی ہے۔
کانگریس کے عہدے پر اپنی مرضی کے خلاف ٹنڈن کی جیت کے بعد راجاجی کو لکھے گئے ایک خط کے الفاظ جواہرلعل نہرو
ابتدائی سالوں میں کانگریس اور حزب مخالف کے رہنماؤں کے درمیان کافی باہمی احترام تھا۔آزادی کے اعلان کے بعد اور پہلے عام انتخابات سے قبل جس عارضی حکومت نے اقتدار کی باگ ڈورسنبھالی اس میں ڈاکٹر امبیڈکر اور شیاما پرساد مکھر جی جیسے اپوـزیشن کے لیڈر کابینہ میں شامل تھے۔ جواہرلعل نہرو نے اکثر سوشلسٹ پارٹی کی پسندید گی کا اظہار کیا اور جے پرکاش نارائن جیسے سوشلسٹ لیڈروں کو حکومت میں شامل ہونے کی دعوت بھی دی۔ ذاتی تعلقات کی یہ نوعیت اور سیاسی حریفوں کا عزت و احترام پارٹیوں کی مقابلہ آرائی کی شدت کے ساتھ ساتھ ختم ہوگیا۔

| 1948میں گورنر جنرل چکرورتی راج گوپال آچاری کی حلف برداری کے بعد نہرو کی کابینہ (بیٹھے ہوئے بائیں سے دائیں) رفیع احمد قدوائی، بلدیوسنگھ، مولاناآزاد،وزیر اعظم نہرو، چکرورتی راج گوپال آچاری، سردار ولبھ بھائی پٹیل، راج کماری امرت کور،مسٹر جان متھائی، اور جگ جیون رام (کھڑے ہوئے بائیں سے دائیں) جناب گاڈ گل، جناب نیوگی، ڈاکٹر امبیڈکر، شیاما پرساد مکھر جی،گوپالا سوامی آینگر اور جے رام داس دولت رام۔ |

بہار کے ایک گاؤں میں پارٹی کے اندر مقابلہ
| فانیشور ناتھ کے ناول ’ میلا آنچل‘ کے ایک اقتباس کا ترجمہ، یہ ناول آزادی کے بعد کے ابتدائی سالوں میں مشرقی بہار کے ضلع پورنیا کے پس منظر میں لکھا گیا ہے۔ |

شیاما پرسا د مکھرجی
(1901-1953)
ہندومہاسبھا کے لیڈ ر؛ بھارتیہ جن سنگھ کے بانی ؛ آزادی کے بعد نہرو کی پہلی کا بینہ میں وزیر؛ پاکستان سے تعلقات کے سوال پر اختلاف کی وجہ سے 1950میں استعفیٰ دیا ؛دستور ساز اسمبلی کے ممبراور بعد میں پہلی لوک سبھا کے ممبر؛ جموں اور کشمیر کو خود اختیاری دینے کی حکومت کی پالیسی کے مخالف؛ جن سنگھ کے کشمیر پالیسی کے خلاف مظاہروں میں گرفتار کیے گئے ؛ جیل ہی میں انتقال ہوا۔