Skip to content


1

اس باب میں... 

پچھلے باب میں قومی تعمیر کے چیلنج کو ،جمہوری سیاست کو قائم کرنے کے چیلنج کے ساتھ بیان کیا گیا تھا۔ اسی طرح سیاسی پارٹیوں کے درمیان انتخابی مقابلے آزادی کے فوراً بعد ہی شروع ہوگئے۔ اس باب میں ہم انتخابی سیاست کی پہلی دہائی پر بحث کریں گے تاکہ ہم درج ذیل باتوں کو سمجھ سکیں:
 !آزاد اور منصفانہ الیکشن کے نظام کا قیام؛
! آزادی کے فوراً  بعد کے سالوں میں کانگریس پارٹی کا غلبہ؛ اور 
! مخالف پارٹیوں کا ظہورا ور ان کی پالیسیاں۔

مندرجہ بالا مشہور اسکیچ شنکر کے کارٹونوں کے مجموعہ Don't  Spare  Me, Shanker  کے سرورق پر آیا تھا۔ اصل کارٹون چین کے بارے میں ہندوستان کی پالیسی کے پس منظر میں بنایا گیا تھا۔ لیکن کارٹون حقیقت میں کانگریس کے غلبہ والے زمانے میں اسی کے دوہرے کردار کو ظاہر کرتا ہے۔

باب2

ایک پارٹی کی بالادستی کا زمانہ

جمہوریت کی تعمیر کا چیلنج

اب آپ کو ان مشکل حالات کا اندازہ ہوگیا ہوگاجن میں آزاد ہندوستان کا ظہور ہوا۔ ابتدا میں قومی تعمیر کے سلسلے میں جن سنگین مسائل سے دوچار ہونا پڑا ان کے بارے میں بھی آپ پڑھ چکے ہیں ۔ دنیا کے دوسرے ممالک میں ایسے ہی مسائل سے الجھے ہوئے رہنماؤں نے تو یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ جمہوریت کو اختیار نہیں کرسکتے۔ان کاکہنا تھا کہ قومی اتحاد ان کی پہلی ترجیح ہے اور جمہوریت کا مطلب اختلافات اور تنازعات کو جگہ دینا ہے۔ اس لیے ایسے بہت سے ممالک جو نو آبادیاتی تسلط سے آزاد ہوئے انھوں نے غیر جمہوری طرز حکومت اختیار کرلیا۔ اس طرز حکومت کی کئی شکلیں تھیں۔ جیسے کہ صرف نام نہاد جمہوریت لیکن حقیقت میں ایک لیڈر کی مضبوط گرفت، ایک پارٹی کی حکومت یا براہ راست فوجی حکومت۔تمام غیر جمہوری حکومتوں کی ابتدا اس وعدے سے ہوئی کہ وہ جلدہی جمہوری نظام کو نافذ کریں گی لیکن ایک بار اقتدار میں آنے کے بعد ان کو ہٹانا بہت مشکل تھا۔
اگرچہ ہندوستان میں بھی حالات کچھ مختلف نہیں تھے لیکن نئے آزاد شدہ ہندوستان کے رہنماؤں نے  مشکل راستے کو چُنا۔ کیوں کہ ہماری جدوجہد آزادی جمہوریت کے نظریے سے جڑی ہوئی تھی۔ اس لیے کسی اور راستے کا انتخاب حیران کن ہوتا۔ ہمارے لیڈر وں کو کسی بھی جمہوریت میں سیاست کے اہم اور نازک کردار کا احساس تھا۔ انھوں نے سیاست کو مسئلہ نہیں بلکہ مسائل کو سلجھانے کا ایک طریقہ سمجھا۔ ہر سماج کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی طرزِ حکومت کے بارے میں فیصلہ کرے۔ انتخاب کرنے کے لیے متبادل ہمیشہ موجود رہتے ہیں۔ مختلف گروہ مختلف اورمتضاد امنگیں اور حوصلے رکھتے ہیں۔ ہم ان اختلافات کو کیسے دور کر سکتے ہیں؟۔ اس سوال کا جواب جمہوری سیاست ہے۔ اگرچہ زورآزمائی اور طاقت بہ ظاہر سیاست کی دو نمایاں خصوصیات ہیں لیکن دراصل مفاد عامہّ کا حصول سیاسی سرگرمیوں کا اصل مقصد ہے اور یہی ہونا بھی چاہیے ۔ ہمارے رہنماؤں نے اسی راستے پر چلنے کا فیصلہ کیا۔

baba
ہندوستان میں ہیرو یعنی بڑی اور نمایاں شخصیات کی پرستش اور ان سے عقیدت سیاست میں جو کردار ادا کرتی ہے اس کی نظیر دنیا کے کسی دوسرے ملک میں نہیں ملتی۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن سیاست میں ہیرو کی پوجا اور عقیدت مندی انحصار کی جانب ایک یقینی راستہ ہے جو بالآخر مطلق العنانی یعنی ڈکٹیٹرشپ پر ختم ہوجاتا ہے۔
بابا صاحب ڈاکٹر بی آر امبیڈکر
قانون ساز اسمبلی میں تقریر،25 نومبر1949

پچھلے سال آپ نے پڑھا تھا کہ ہمارا دستور کس طرح تحریر کیا گیا تھا۔ آپ کو یہ بھی یاد ہوگا کہ دستور کی تیاری کے بعد 26نومبر 1949کو اسے اختیار کیا گیا 24جنور 1950کو اس پر دستخط کیا گیا اور 26جنوری 1950کو اس کا نفاذ عمل میں آیا۔ اس وقت ہندوستان ایک عارضی حکومت کی نگرانی میں تھا۔ اس لیے اب یہ لازم تھا کہ
 ملک میں جمہوری طرز پر منتخب حکومت قائم کی جائے۔ دستور نے اصول وضع کر دئیے تھے بس اب مشینری کو حرکت میں لانا تھا۔ شروع میں یہ سمجھا گیا تھا کہ یہ چند مہینوں کا کام ہے۔ جنوری1950میں الیکشن کمیشن کا قیام عمل میں آیا اور سوکمار سین ہندوستان کے پہلے چیف الیکشن کمشنر بنے۔ ہندوستان کے پہلے عام انتخابات 1950کے اندر ہی اندر متوقع تھے۔

2
ہمارے جمہوری ہونے میں کیا خاص بات ہے؟ آخر کار جلدی یا دیر سے دنیا کا ہر ملک جمہوری بن گیا ہے۔ کیا ایسا نہیں ہے؟

لیکن الیکشن کمیشن نے بخوبی سمجھ لیاکہ ہندوستان جیسے بڑے ملک میں آزاد اور صاف ستھرا الیکشن کرانا آسان کام نہیں ہے ۔ الیکشن کا مطلب تھا کہ پہلے انتخابی حلقوں کی حد بندی کی جائے پھر ووٹروں کی فہرست بنے یا ان تمام شہریوں کے ناموں کی فہرسست تیار کی جائے جو ووٹ ڈالنے کا حق رکھتے ہوں۔ ان کاموں میں بہت وقت لگا۔ جب پہلا مسودہ تیار ہوکر آیا تو معلوم ہوا کہ فہرست میں تقریباً چالیس لاکھ عورتوں کے نام نہیں لکھے گئے ہیں اور ’فلاں کی بیوی‘ یا فلاں کی بیٹی ‘ لکھا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے اس فہرست کو نامنظور کر دیا اور نظرثانی کاحکم دیا بلکہ ضرورت پڑنے پر مسترد کرنے کا بھی۔ پہلے الیکشن کی تیاری ایک عظیم کام تھا۔ دنیامیں اس سے پہلے اس پیمانے پر الیکشن نہیں ہوئے تھے۔ اس وقت تقریباً سترہ کروڑ ووٹر تھے جن کو تین ہزار دوسو قانون ساز اسمبلیوں کے اراکین(MLA) اور چار سو نواسی لوک سبھا کے ممبروں کو منتخب کرنا تھا۔ان اہل سترہ کروڑ ووٹر وںمیں صرف پندرہ فی صد پڑھے لکھے تھے۔ لہٰذا الیکشن کو کسی خاص انداز کی ووٹنگ کے طریقہ ٔ کار کے متعلق سوچنا تھا۔ الیکشن کمیشن نے تقریباً تین لاکھ اسٹاف کو الیکشن کرانے کی تربیت دی ۔

3
وہ ایک اچھا فیصلہ تھا۔ لیکن آپ ان لوگوں کے متعلق کیا کہیں گے جو ا ب بھی عورتوں کو مسز فلاں کہہ کر بلاتے ہیں گویا کہ ان کا خود اپنا کوئی نام ہی نہیں ہے؟


4
اس کارٹون میں کانگریس کی اُس الیکشن کمیٹی کے بارے میں ایک تاثر ہے جو 1951میں پارٹی امیدواروں کو چننے کے لیے بنائی گئی تھی۔ اس کارٹون میں نہرو کے ساتھ ساتھ مرارجی ڈیسائی، رفیع احمد قدوائی، ڈاکٹر بی- سی- رائے، کامراج ناڈر، راج گوپال آچاریہ، جگ جیون رام ، مولانا آزاد ، ڈی -پی مشرا، پی- ڈی- ٹنڈن اور گووند بلبھ پنت کود یکھا جاسکتا ہے۔

رائے دہندگی کے بدلتے طریقے 

آج کل ہم رائے دہندوں کی ترجیحات کو ریکارڈ کرنے کے لیے الیکٹرونک ووٹنگ مشین (EVM)کا استعمال کرتے ہیں۔ لیکن ہم نے شروعات اس طرح نہیں کی تھی۔ پہلے عام الیکشن میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ ہر پولنگ بوتھ میں ہر امیدوار کے لیے ایک ایک صندوق رکھا جائے جس پر امیدوار کا چناؤ نشان موجود ہو۔ ہر ووٹر کو ایک خالی بیلیٹ پیپر دیا جائے گا جس کو وہ اس امیدوار کے صندوق میں ڈالے گا جس کو وہ ووٹ دینا چاہتا ہے۔ تقریباً بیس لاکھ اسٹیل کے صندوقوں کا استعمال اس مقصد کے لیے ہوا تھا۔ پنجاب کے ایک پریزائیڈنگ آفیسر نے ان صندوقوں کی تیاری سے متعلق اپنا تجربہ بیان کیاہے۔’’ہر صندوق میں امیدوار کا نشان اندر اور باہر چاروں طرف‘‘اس کے نام کے ساتھ، جو ا ردو،ہندی اور پنجابی میں لکھا ہو، ظاہر ہونا چاہیے ۔اس کے علاوہ چناؤ کے حلقہ ، پولنگ اسٹیشن اور پولنگ بوتھ کا نمبر بھی ہونا چاہیے ۔ کاغذ کی مہر کو امیدوار کے نمبر شمارکے ساتھ جس پر پریزائیڈنگ افسر کے دستخط ہوں، نشان کے فریم میں داخل کرنا ضروری تھا اور اس کی کھڑکی کو اس کے دروازے سے بند کرنا تھا اور جسے اس کے دوسرے سرے پر تارسے باندھنا تھا۔ یہ سب کچھ چناؤ کی پولنگ سے ایک دن پہلے ہونا تھا۔ چناؤ کے نشانوں اور لیبل کو چپکانے کے لیے پہلے صندوق کو ریگ مال یا پتھر کے ٹکڑے سے رگڑنا پڑتا تھا۔ مجھے معلوم ہوا کہ اس کام میں چھ لوگوں کو، جن میں میری دوبیٹیاں بھی شامل ہیں ، پانچ گھنٹے کا وقت لگا۔ یہ سب کام میرے گھر ہی میں ہوا۔‘‘

5

تیسری سے لے کر تیرھویں لوک سبھا تک عام الیکشن کے لیے استعمال ہونے والے بیلٹ پیپر کا ایک نمونہ


6

الیکٹرانک ووٹنگ مشین

پہلے دو انتخابات کے بعد یہ طریقہ بدل دیا گیا ۔ اب چناؤ کاغذ پر تمام امیدواروں کے نام اور ان کے چناؤ نشان ہوتے تھے۔ر ا ئے  دہندگان کو اپنی پسند کے امیدوار کے نام پر مہر لگانی ہوتی تھی۔اس طریقۂ کا ر پر تقریباً چالیس سال تک عمل ہوتا رہا۔ 1990 کے آخر سے الیکشن کمیشن نےEVMکا استعمال شروع کیا اور2004سے کئی ممالکEVM کی طرف منتقل ہو گئے۔

آئیے تحقیق کریں

اپنے گھر اور پڑوس کے بزرگوں سے ان کے الیکشن میں حصہ لینے کے تجربہ کے بارے میں سوال کریں۔
کیا ان میں سے کسی نے پہلے اور دوسرے عام الیکشن میں حصہ لیا تھا؟ اس نے کس کو اور کیوں ووٹ دیاتھا؟
• کیا کوئی ایسا شخص موجود ہے جس نے ووٹنگ کے تینوں طریقہ کا ر کا استعمال کیا ہو؟۔ ان میں سے اس کو کون
سا طریقہ زیادہ پسند آیا تھا؟
کن اسباب کی بنا پر وہ پہلے کے الیکشن کو آج کے الیکشن سے مختلف پاتے ہیں؟

اس الیکشن کو غیر معمولی بنانے میں صرف رقبہ اور ووٹروں کی تعداد کا ہی ہاتھ نہیں تھا۔ پہلا عام الیکشن ایک غریب اور ان پڑھ ملک میں جمہوریت کی پہلی آزمائش بھی تھا۔ اب تک جمہوریت صرف دولت مند ملکوں ہی میں پنپ سکی تھی خاص طور سے یوروپ اور امریکہ میں جہاں تقریباً ہر آدمی پڑھا لکھا تھا۔ اس وقت تک یوروپ کے کئی ملکوں میں عورتوں کو حق رائے دہندگی نہیں ملا تھا ۔اس حوالے سے ہندوستان کا عام حق رائے دہندگی کا فیصلہ ایک جرأت مندانہ اور جوکھم بھرا قدام تھا۔ ایک ہندوستانی ایڈ یٹر نے اس کو ’ تاریخ کا سب سے بڑا جوا‘ قرار دیا۔ ایک اور میگزین ’آرگنائزر‘ نے لکھا کہ جو اہرلعل نہرو کو ’’ اپنی زندگی ہی میں عام رائے دہندگی کے حق کی ناکامی کا اعتراف کرنا پڑے گا‘‘۔ انڈین سول سروس کے ایک برطانوی ممبر کا خیال تھا کہ’ ایک آنے والا اور زیادہ روشن خیال زمانہ‘ لاکھوں ناخواندہ عوام کے ووٹ کی ریکارڈنگ کے مضحکہ خیز ڈھونگ کو حیرت اور استعجاب کی نظر سے دیکھے گا۔


7

مولانا ابوالکلام آزاد

(1888-1958)

اصل نام--ا بوالکلام محی الدین احمد اسلامیات کے عالم،مجاہد آزادی اور کانگریس کے رہنما،ہندومسلم اتحاد کے حامی،بٹوارے کے مخالف،دستور ساز اسمبلی کے رکن اور آزاد ہندوستان کی پہلی کا بینہ میں وزیرِتعلیم۔


انتخابات کو دوبارہ ملتوی کرنا پڑا۔ آخر کار اکتوبر 1951سے فروری 1952تک الیکشن ہوئے۔ لیکن اس الیکشن کو 1952الیکشن کے نام سے جانا جاتا ہے کیوں کہ ملک کے اکثر حصّے میں ووٹنگ جنوری 1952 میں ہوئی۔ انتخابی مہم ’ووٹنگ اور ووٹ شمار کرنے میں چھ مہینے صرف ہوئے۔ الیکشن میں مقابلے کا پہلو بھاری تھا اور ایک سیٹ کے لیے اوسطاً چار سے زیادہ امیدواروں میں مقابلہ ہوا۔ حصّے داری کا عنصر بھی حوصلہ افزا تھا۔ جب نتیجے سامنے آئے تو شکست خور دہ امیدواروں تک نے اس کو منصفانہ تسلیم کیا۔ ہندوستانی تجربہ نے نکتہ چینوں کو غلط ثابت کر دیا تھا۔ ٹائمز آف انڈیا کے خیال میں انتخابات نے ان تما م شکّی لو گوں کو حیرانی میں ڈال دیا ہے جن کے خیال میں ہندوستانیوں نے دنیا کی تاریخ میں سب سے بڑے جمہوری انتخاب کے تجربے کی کامیابی میں قابلِ تعریف بندوبست کا مظاہرہ کیا۔ہندوستان سے باہر کے مبصرین بھی اسی طرح سے متاثر تھے۔ ہندوستان کا 1952کا الیکشن ساری دنیا میں جمہوریت کا سنگِ میل بن گیا۔ اب اس بحث کی ضرورت نہیں رہی کہ پس ماندگی اور کم تعلیم کے ماحول میں جمہوری الیکشن نہیں ہوسکتے۔ اس الیکشن نے ثابت کر دیا کہ دنیا میں جمہو ریت کہیں بھی عمل میں لائی جاسکتی ہے۔

پہلے تین عام انتخابات میں کانگریس کی بالا دستی

پہلے عام الیکشن کے نتائج نے کسی کو حیران نہیں کیا۔ انڈین نیشنل کانگریس کی کامیابی متوقع تھی۔ کانگریس پارٹی جو عام طورپر انڈین نیشنل کانگریس کے نام سے جانی جاتی تھی، جدوجہد آزادی کی وارث تھی۔ اس وقت یہ واحد پارٹی تھی جو پورے ملک میں پھیلی ہوئی تھی۔ اس کے علاوہ پارٹی میں جواہرلعل نہرو تھے جو اس وقت ہندوستانی سیاست کے مقبول ترین اورپُر کشش رہنما تھے۔ انھوں نے کانگریس کی مہم کی سربراہی کی اور پورے ملک کا دورہ کیا۔نتائج کے آنے پر کانگریس کی کامیابی کے وسیع پیمانے نے اکثر لوگوں کو حیران کر دیا۔ پہلی لوک سبھا کی 489سیٹوں میں سے پارٹی نے364سیٹوں پر کامیابی حاصل کی اور اپنی مخالف پارٹیوں سے کہیں آگے نکل گئی۔ جیتی ہوئی سیٹوں کے لحاظ سے دوسری بڑی پارٹی کمیونسٹ پارٹی تھی۔ جس کے حصّے میں 16سیٹیں آئی تھیں۔ ریاستوں کے الیکشن بھی لوک سبھا کے ساتھ ساتھ ہی ہوئے تھے۔ ان میں بھی کانگریس کو زبردست کامیابی حاصل ہوئی۔ اس نے ٹراونکو ر۔کوچین (اب کیرالا کی ریاست میں) مدراس اور اڑیسہ کے سوا ہر جگہ اکثریت حاصل کی۔بعد میں ان ریاستوں میں بھی کانگریس کی حکومت بن گئی۔ کانگریس پارٹی ملکی اور ریاستی سطح پر حکمراں ہوگئی اور جیسا کہ امید تھی پہلے عام الیکشن کے بعد جواہرلعل نہروو زیراعظم بنے۔

کانگریس کی بالادستی

8
نوٹ: یہ نقشہ پیمائش کے مطابق نہیں بنایا گیا ہے، اسے ہندوستان کی بیرونی سرحدوں کی مستند خاکہ کشی نہ سمجھا جائے۔

پچھلے صفحہ پر دیئے گئے انتخابی نقشے پر ایک نظر ڈالنے سے 1952سے 1962تک کے عرصے میں کانگریس کی بالا دستی واضح ہوجائے گی۔ دوسرے اورتیسرے عام الیکشن میں، جو بالترتیب 1957اور 1962 میں ہوئے، کانگریس نے لوک سبھا کی تین چوتھائی نشستیں حاصل کرکے اپنی بالادستی قائم رکھی۔ کوئی بھی مخالف پارٹی کانگریس کی جیتی ہوئی سیٹوں کا دسواں حصہ بھی نہ حاصل کرپائی ۔ ریاستی اسمبلیوں میں کچھ جگہو ں پر کانگریس اکثریت حاصل نہیں کرپائی جن میں سب سے اہم 1957میں کیرالا کا معاملہ تھا جہاں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (CPI)کی سربراہی میں ایک مخلوط حکومت قائم ہوئی۔ اس کے علاوہ ہر جگہ ملکی اور ریاستی سطح پر کانگریس ہی غالب رہی۔


9
بشکریہ: دی ہندو
 ہمارے انتخابی نظام نے کانگریس کی کامیابیوں کو مصنوعی طریقے سے بڑھا چڑھا کر پیش کیا۔ حالاں کہ کانگریس نے ہر چار سیٹوں میں سے تین سیٹوں پر کامیابی حاصل کی لیکن وہ ڈالے گئے ووٹوں کا آدھا حصہ بھی نہ لے سکی۔ مثال کے طور پر1952میں کانگریس نے45فی صدووٹ حاصل کیے تھے لیکن اس کی سیٹوں کی تعداد 74فی صدتھی۔ حاصل کردہ ووٹوں کے اعتبار سے پورے ملک میں سوشلسٹ پارٹی دوسرے نمبر پر تھی جس کو  10فی صدسے زیادہ ووٹ ملے تھے لیکن وہ3فی صدسیٹ بھی حاصل نہیں کرسکی۔ یہ سب کیسے ہوا؟ اس کو سمجھنے کے لیے آپ کو پچھلے سال کی درسی کتاب میں ’دستور پر عمل ‘ کے زیرِ عنوان بحث کو دہرانا پڑے گا۔


10

راج کماری امرت کور

(1889-1964)   

گاندھیائی نظریہ کی حا مل

 اور مجاہد آزادی،کپورتھلہ کے

 شاہی خاندان سے تعلق، ماں کی

 جانب سے عیسائی، دستور ساز اسمبلی 

کی رکن ، آزاد ہندوستان کی 

پہلی وزارت میں وزیرِ صحت؛ 1957تک اس عہد ے

 پر فائزرہیں۔

 ہمارے ملک میں رائج انتخابی نظام کے تحت وہ پارٹی جواور تمام پارٹیوں سے زیادہ ووٹ حاصل کرتی ہے، اپنے ووٹوں کے تناسب سے زیادہ نشستیں حاصل کرتی ہے۔ اسی طریقۂ کار نے کانگریس کے حق میں کام کیا۔ اگر ہم تمام غیر کانگریسی امیدواروں کے ووٹوں کو شمار کریں تو ان کا مجموعہ کانگریس کے امیدوار سے زیادہ ہوگا۔ لیکن غیر کانگریسی ووٹ حریف امیدواروں اور پارٹیوں میں بٹ گئے ۔ اس طرح کانگریس مخالف پارٹیوں سے آگے نکل گئی اور کامیاب ہوئی۔

11

کیرالا میں کمیونسٹوں کی کامیابی

1957کے شروع میں کانگریس کو کیرالا میں شکست کا تلخ ذائقہ چکھنا پڑا۔ مارچ1957میں کیرالا اسمبلی کے الیکشن میں کمیونسٹ پارٹی نے سب سے زیادہ نشستیں حاصل کیں۔126سیٹوں میں سے کمیونسٹ پارٹی نے60سیٹیں جیتیں اور اس کو پانچ آزاد امیدواروں کی حمایت بھی حاصل تھی۔ گورنر نے اسمبلی میں کمیونسٹ پارٹی کے لیڈر، ای۔ایم ۔ ایس ۔نمبودری پد کو حکومت بنانے کی دعوت دی۔ یہ دنیا میں پہلی بار ہوا کہ کمیونسٹ پارٹی جمہوری الیکشن کے ذریعے اقتدار میں آئی۔
ریاست میں اقتدار ہاتھ سے نکلنے کے بعد کانگریس پارٹی نے منتخب حکومت کے خلاف’آزادی کی جدوجہد‘ شروع کردی۔ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا ترقیاتی اور انقلابی پروگرام اور پالیسیوں کے بل پر اقتدار میں آئی تھی۔ کمیونسٹوں نے الزام لگایا کہ ان کے خلاف احتجاج مفاد پرستوں اور مذہبی تنظیموں نے منظم کیا ہے۔1959میں کانگریس کی مرکزی سرکار نے کیرالا کی کمیونسٹ حکومت کو آئین کی دفعہ 365کے تحت برخاست کردیا۔ یہ ایک متنازع فیصلہ تھا اور اس کو عام طور پر آئینی ہنگامی اختیارات کا پہلا غلط استعمال مانا گیا۔
12

اگست1959میں اپنی وزارت برخاست ہونے کے بعد ای۔ایم۔ایس نمبودری پد، ٹری وینڈرم میں کمیونسٹ پارٹی کے ممبروں کے ایک جلوس کی قیادت کرتے ہوئے۔


سوشلسٹ پارٹی
13

14

سوشلسٹ پارٹی کی جڑیں آزادی سے پہلے کے ہندوستان میں انڈین نیشنل کانگریس کی عوامی تحریکوں میں تلاش کی جاسکتی ہیں۔1934میں کانگریس کے کچھ نوجوان لیڈروں نے جو کانگریس کو ایک زیادہ انقلابی اور سرگرم پارٹی دیکھنا چاہتے تھے کانگریس ہی کے اندر کانگریس سوشلسٹ پارٹی(CSP)کی بنیاد رکھی۔ 1948میں کانگریس نے اپنے دستور میں ترمیم کی تاکہ اس کے ممبر دوسری پارٹیوں کی دوہری ممبر شپ میں نہ ملوث ہوں۔ الیکشن میں پارٹی کی کارکردگی سے اس کے حمایتیوں کو سخت دھچکا لگا۔ حالاں کہ اس کی شاخیں ہندوستان کی ہر ریاست میں موجود تھیں لیکن اس کو چند چھوٹے چھوٹے مقامات ہی میں انتخابی کامیابی ملی۔
سوشلسٹ لوگ جمہوری سوشلزم کے نظریے پر یقین رکھتے تھے جوان کوکانگریس اور کمیونسٹوں، دونوں سے ممتاز کرتا تھا۔ وہ کانگریس پر نکتہ چینی کرتے تھے کہ وہ سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کا ساتھ دیتی ہے - مزدوروں اور کسانوں کو نظر انداز کرتی ہے۔ لیکن سوشلسٹ اس وقت تذبذب میں پڑگئے جب1955میں کانگریس نے یہ اعلان کیا کہ اس کا مقصد ایک سماج وادی معاشرے کی تشکیل ہے۔ سب سوشلسٹوں کے لیے یہ کافی مشکل ہوگیا کہ وہ خود کو کانگریس کے متبادل کی حیثیت سے پیش کر سکیں۔ ان میں سے کچھ، جن کی رہنمائی رام منوہرلوہیا کرتے تھے، کانگریس سے اور زیادہ دور ہوگئے اور اس پر تنقید بھی بڑھادی۔ کچھ اور سوشلسٹ جیسے کہ اشوک مہتہ کا نگریس سے محدود تعاون کے حامی تھے۔
15
آچاریہ نریندردیو (1889-1956)
مجاہد آزادی اور کانگریس سوشلسٹ پارٹی کے بانی صدر؛ آزادی کی تحریک کے دوران کئی بارجیل گئے؛ کسانوں کی تحریک میں پیش پیش رہے ؛بودھ مذہب کے عالم ؛ آزادی کے بعد سوشلسٹ پارٹی کے اور بعد میں پرجا سوشلسٹ پارٹی کے۔ 

سوشلسٹ پارٹی کئی بار ٹوٹی اور ایک ہوئی۔ نتیجے کے طور پر کئی سوشلسٹ پارٹیاںبن گئیں۔ ان میں کسان مزدور پر جا پارٹی، پرجا سوشلسٹ پارٹی اور متحدہ سوشلسٹ پارٹی اہم ہیں۔ اس پارٹی کے نمایاں لیڈروں میں جے پرکاش نارائن، اچیوٹ پٹوردھن ، اشوک مہتہ ، آچاریہ نریندر دیو، رام منوہر لوہیا اور ایس۔ ایم۔ جوشی کے نام لیے جاتے ہیں ۔ آج کل کی کئی پارٹیاں جیسے سماج وادی پارٹی، راشٹر یہ جنتا دل ، جنتادل (یونائینڈ) اور جنتا دل (سیکرلر) اپنی جڑیں سوشلسٹ پارٹی ہی میں بتاتی ہیں۔
16

 کانگریس بالادستی کی نوعیت

ہندوستان اکیلا ملک نہیں ہے جس نے ایک پارٹی کے غلبہ یا بالادستی کا تجربہ کیا ہو۔ اگر ہم دنیا پر نظر ڈالیں تو ہمیں ایک پارٹی کی بالادستی کی کئی مثالیں ملیں گی۔ لیکن ان مثالوں اور ہندوستان کے تجربے میں بہت اہم فرق ہے۔ بقیہ تمام مثالوں میں ایک پارٹی کی بالادستی میں جمہوریت کی قربانی شامل ہے۔ چین ، کیوبا اور شام جیسے ممالک میں دستور نے صرف ایک ہی پارٹی کو حکومت کی اجازت دی ہے۔کچھ دوسرے ممالک جیسے میانمار ، بیلاروس ، مصر اور ایرٹیریا فوجی اور قانونی اسباب کی بنیاد پر عملاً ایک پارٹی ممالک ہیں۔ کچھ سال پہلے تک میکسکو، جنوبی کوریا اور تائیوان بھی عملی طور سے ایک پارٹی والی ریاستیں تھیں لیکن ان تمام ملکوں اور ہندوستان کے معاملہ میں واضح فرق یہ تھا کہ یہاں کانگریس کی بالادستی جمہوری حالات میں قائم ہوئی۔ یہاں کئی پارٹیوں نے عادلانہ اور منصفانہ الیکشن میں حصہ لیا اور کانگریس الیکشن کے بعد الیکشن میں کامیابی حاصل کرتی چلی گئی۔یہ صورت حال جنوبی افریقہ میں افریقہ نیشنل کانگریس کی اس بالادستی سے مشابہت رکھتی ہے جو اس نے نسلی علاحدگی پسندگی کے خاتمے کے بعد حاصل کی۔
17

بابا صاحب بھیم راؤ رام جی امبیڈکر (1891-1956) 

 ذات پات مخالف تحریک اور دلتوں کے لیے انصاف کی جدوجہد کے لیڈر؛ انڈیپنڈنٹ لیبرپارٹی کے بانی بعد میں شیڈیول کاسٹ فیڈریشن بنائی ؛ ری پبلکن پارٹی آف انڈیا کے منصوبہ کار ، دوسری جنگ عظیم میں وائسرائے کی انتظامیہ کا بینہ کے ممبر، دستور تحریر کرنے والی کمیٹی کے صدر آزادی کے بعد نہرو کی وزارت میں وزیر، ہندو کو ڈبل پر اختلاف کے سبب 1951 میں استعفیٰ دے د یا ۔ 1956میں ہزاروں پیرکاروں کے ساتھ بدھ مذہب اختیار کیا۔


18
پی۔ آر۔ آئی 1929میں قائم ہوئی۔ پورا نام نیشنل ریوولوشنری پارٹی تھااور بعد میں انسٹی ٹیوشنل ریوولوشزی پارٹی نام اختیار کیا۔ پی۔ آر۔ آئی (اسپینی زبان میں) میکسکو میں تقریباً چھ دہائیوں تک بر سراقتدار رہی۔یہ میکسکوانقلاب کی وراثت کی نمائندہ تھی۔ شروع میں پی آر آئی کئی سیاسی پارٹیوں ، مزدور تنظیموں ، فوجی اور سیاسی لیڈروں کے مفا دا ت کا مجموعہ تھی۔ کچھ عرصہ کے بعد پی آر آئی کے بانی پلوٹار کو الیس کا لاس Elias Calles)  (Plutarco نے پارٹی اور اقتدار  دونوں پر قبضہ کر لیا۔ الیکشن معمول کے مطابق ہوتے رہے اور ہر بار پی آر آئی ہی کامیاب ہوئی۔ دوسری پارٹیاں صرف نام ہی کی تھیں تاکہ حکمراں پارٹی کو زیادہ قانونی استحقاق حاصل ہوسکے۔ انتخابی قوانین کچھ اس طرح عمل میں لائے جاتے تھے جس سے پی آر آئی کی جیت یقینی ہوسکے۔ اکثر الیکشن میں حکمراں پارٹی دھاندلی کرتی تھی اور جوڑ توڑ سے کام لیتی تھی۔ اس کی حکمرانی کو ’مکمل آمریت ‘سے تعبیر کیا جاتا تھا۔ آخرکار 2000میں ہونے والے صدارتی الیکشن میں پارٹی کو شکست ہوئی۔ اب میکسکو میں ایک پارٹی کا غلبہ نہیں ہے۔ لیکن ان چالوں سے جو پی آر آئی کے دوران حکومت استعمال ہوئیں جمہوریت کی نشوونما کا فی عرصہ تک بُری طرح متاثر ہوئی۔ عوام کو الیکشن کی عادلانہ اور منصفانہ نوعیت پر اب بھی اعتماد نہیں ہے۔

کانگریس پارٹی کی اس غیر معمولی کامیابی کی جڑیں دراصل آزادی کی جود جہد میں پنہاں تھیں۔ کانگریس کو قومی تحریک کا وارث سمجھا جاتا ہے۔ وہ رہنما جوآزادی کی جنگ میں پیش پیش تھے اب کانگریس کے امیدوار وں کی حیثیت سے الیکشن لڑرہے تھے۔ کانگریس پہلے ہی سے ایک منظم پارٹی تھی اور جس وقت دوسری سیاسی پارٹیاں اپنی حکمت عملی پر غور کرتیں،کانگریس اپنی مہم یا پرچار شروع کر دیتی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ اکثر پارٹیاں آزادی کے وقت یا پھر اس کے بعد وجود میں آئیں۔ تو کانگریس کو ’ خِشت اوّل‘ ہونے کا فائدہ حاصل تھا۔ جیسا کہ ہم دیکھ چکے ہیں کہ آزادی کے وقت ہی کانگریس پارٹی ملک کے طول و عرض میں پھیل چکی تھی اورساتھ ہی مقامی اور دیہی سطح پر بھی اپنے قدم جما چکی تھی۔ سب سے اہم بات یہ تھی کہ ابھی تک کانگریس قومی تحریک تھی اس کی نوعیت ہمہ گیر تھی۔ ان تمام عناصر نے کانگریس کی بالادستی میں اہم کردار ادا کیا۔
19

رفیع احمدقدوائی

 (1894-1954) 

  اتر پردیش کے کانگریس لیڈر؛

 1937 اور 1946میں اترپردیش کے وزیر؛

 آزاد ہندوستان کی پہلی کابینہ میں وزیرمواصلات؛

 اس کے علاوہ وزیرزراعت وخوراک 54-1952


کانگریس بطور ایک سماجی اور نظریاتی اتحاد

آپ پڑھ چکے ہیں کہ کس طرح کا نگریس 1885میں تعلیم یافتہ، پیشہ ور اور تجارت پیشہ لوگوں کے ایک پریشرگروپ کی حیثیت سے رفتہ رفتہ بیسویں صدی کی ایک عوامی تحریک میں بدل گئی۔ اسی نے اس کو ایک عوامی سیاسی پارٹی بننے میں مدد دی اور نتیجے کے طور پر سیاسی نظام میں اس کے غلبہ اور بالادستی کے حصول میں بھی۔ اس طرح سے کانگریس کی ابتدا ایک انگریزی بولنے والے، اونچی ذات کے اوسط درجہ کے بالائی سطح والے اور ممتاز شہری افراد کے زیر اثر ہوئی لیکن ہر سوِل نا فرمانی کی تحریک کے ساتھ ساتھ اس کی معاشرتی اور سماجی بنیاد وسیع ہوتی گئی۔ اس نے مختلف گروہوں کو اکٹھا کیا جن میں سے اکثر کے مفادات متضاد بھی ہوتے تھے۔ کسان اور سرمایہ کار، شہری اور دیہاتی، مزدور اور مالک ، نچلے، اوسط اور اونچے درجہ اور ذات والے، سب نے کانگریس میں اپنے لیے جگہ پائی۔ رفتہ رفتہ اس کی باگ ڈور بھی اعلیٰ ذات اور اعلیٰ درجے کے پیشہ وروں سے زرعی اور دیہی پس منظر میں ابھرے ہوئے رہنماؤں کی طرف جانے لگی۔ آزادی کے وقت کانگریس ایک ایسی معاشرتی اور سماجی قوس و قزح کی مانند تھی جو ہندوستان کے مختلف اور متنوع مفادات، زبانوں، مذہبوں، ذاتوں اور طبقوں کی نمائندگی کرتی تھی۔
ان میں سے اکثر نے اپنی شناخت کو کانگریس میں سمودیا اور یوں بھی ہوا کہ بہت سے افراد اور گروہ کانگریس میں شمولیت کے باوجود ایک دوسرے سے مختلف خیالات رکھتے رہے۔ اس طرح سے کانگریس نظریاتی اشتراک یا اختلاط کا مرکز بھی تھی۔ اس میں انقلابی ، امن پسند ، قدامت پرست، ترقی پسند، انتہا پسند، اعتدال پسند، دائیں اور بائیں بازو والے سبھی لوگ شامل تھے۔

20
پارٹیوں کا گٹھ بندھن             پارٹی کے اندر گٹھ بندھن
پہلے ہم ایک پارٹی کے اندرگٹھ بندھن دیکھتے تھے لیکن اب پارٹیوں کا گٹھ بندھن ہوتا ہے۔ کیا اس کا مطلب ہے کہ 1952 سے گٹھ بندھن سرکار ہمارے یہاں موجود ہے؟

21

کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا آف انڈیا

1920کی دہائی کے شروع میں ہندوستان کے مختلف علاقوں میں کمیونسٹ گروہوں کا ظہور ہونے لگاتھا جن کو روس کے بالشویک انقلاب سے ترغیب ملی تھی۔ ان کے خیال 
میں ملک کے مختلف مسائل کا حل سوشلزم یا سماج واد میں پنہاں تھا۔ 1935سے کمیونسٹ کانگریس پارٹی کے اندر ہی سے کام کرتے تھے لیکن دسمبر1941میں الگ ہونے کا وقت آگیا جب کہ کمیونسٹوں نے نازی جرمنی کے خلاف جنگ میں برطانیہ کی حمایت کا فیصلہ کیا۔ آزادی کے وقت دوسری غیر کانگریس پارٹیوں کے برعکس کمیونسٹ پارٹی(CPI) کا ڈھانچہ زیادہ متحرک اور اس کا عملہ زیادہ مخلص اور سرگرم عمل تھا۔ لیکن آزادی نے پارٹی کے اندر ہی سوالات کھڑے کردیئے۔ کیا یہ آزادی مصنوعی ہے یا ہندوستان واقعی آزاد ہے؟
آزادی کے فوراً بعد پارٹی نے یہ خیال ظاہر کیا کہ 1947میں اقتدار کی منتقلی سچی آزادی نہیں تھی اور تلنگانہ میں پرتشدد ہنگاموں کی حوصلہ افزائی کی۔ اپنے اس نظریے کے لیے کمیونسٹوں کو عوامی حمایت حاصل نہ ہوسکی اور فوج نے ا س تحریک کو کچل دیا۔ اس نے اُن کو اپنے موقف پر نظر ثانی کرنے کے لیے مجبور کیا۔1951میں کمیونسٹ پارٹی نے پُر تشدد انقلاب کا راستہ چھوڑ کر آنے والے الیکشن میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا۔ پہلے عام الیکشن میں ـسی پی آئی کو 16سیٹیں ملیں اور وہ سب سے بڑی حزب مخالف کی صورت میں سامنے آئی۔ پارٹی کو زیادہ تر حمایت آندھراپردیش،مغربی بنگال،بہار اور کیرالا سے ملی۔
22
اے۔ کے ۔گوپالن ، ایس ۔ اے۔ ڈانگے، ای۔ ایم۔ ایس نمبودری پد، پی۔ سی۔ جوشی، اجے گھوش اور پی۔سندر یا کمیونسٹ پارٹی کے صفِ اوّل کے رہنما تھے۔ سوویت یونین اور چین کے نظریاتی اختلافات کی وجہ سے پارٹی بھی دو حصّوں میں بٹ گئی۔ سوویت یونین کی حامی فریق CPI ہی رہی ، جب کہ مخالف ممبروں نے  CPI(M)کی بنیاد ڈالی۔ یہ دونوں پارٹیاں آج بھی موجود ہیں۔

23

اے۔ کے۔ گوپالن

(1904-1977) 

کیرالا کے کمیونسٹ لیڈر، شروع میں کانگریس کارکن کی حیثیت سے کام کیا؛1939میں کمیونسٹ پارٹی میں شامل ہوئے؛ 1964 میں کمیونسٹ پارٹی کی تفریق کے بعد سی ۔ پی ۔ آئی (ایم)میں شامل ہوئے اور پارٹی کو مضبوط بنانے کے لیے کام کیا؛ ایک باوقار پارلیمانی رکن؛ 1952سے پارلیمنٹ کے ممبر رہے۔


24
آئیے ایک فلم دیکھیں
’’ سمہاسن‘‘
یہ مراٹھی فلم جو ارون سادھو کے دوناولوں ’ سمہاسن‘ اور ’ ممبئی دنانک ‘پر مبنی مہاراشٹرا کی وزارت اعلیٰ کے لیے رسہ کشی کی منظر کشی کرتی ہے۔ یہ کہانی ایک صحافی ڈیگوٹپنس کے ذریعہ بیان کی گئی ہے جو خاموش ’سوتردھار ‘ ہے۔ کہانی کی کوشش حکمراں پارٹی کے اندر طاقت کے حصول کی شدید کشمکش اور حزب مخالف کے ثانوی کردار کو گرفت میں لینا ہے۔
وزیر خزانہ وشواس راؤ دابھدے کی پوری کوشش ہے کہ موجودہ وزیر اعلیٰ کو کرسی سے ہٹا دیا جائے۔ دونوں ہی امیدوار یونین لیڈر ڈی کا سٹا کی حمایت حاصل کرنے کے لیے اس کی خوشامد کرتے ہیں۔ دو فریقوں کی اس روایتی جنگ سے دوسرے سیاست داں بھر پور فائدہ اٹھاتے ہیں اور دونوں امیدواروں سے سودے بازی کرتے ہیں۔ ممبئی میں اسمگلنگ اور دیگر سنگین سماجی حقائق اس فلم کے ذیلی موضوعات ہیں۔
سال :1981
ہدایت کار  :  جبّار پٹیل
اسکرین پلے :  وجے تندولکر 
کردار  :  نیلو پھُلے، ارو ن سرنائک،ڈاکٹر شری رام لاگو، ستیش دوباشی، دتابھٹ، مدھوکر توراومل، مادھوواٹوے، موہن اگاشے۔


کانگریس مختلف مفادات فرقوں حتیٰ کہ سیاسی پارٹیوں کے لیے بھی ایک ’پلیٹ فارم ‘ کی طرح تھی جہاں سے وہ قومی تحریک میں حصہ لے سکتے تھے۔ آزادی سے قبل کے ہندوستان میں بہت سی تنظیموں کو اپنے دستور اور انتظامی ڈھانچے کے ساتھ کانگریس میں رہنے کی اجازت تھی۔ ان میں سے کچھ بعد میں کانگریس سے الگ ہوگئیں اور حزبِ مخالف بن گئیں جیسے کہ کانگریس سو شلسٹ پارٹی۔ طریقۂ کار، پروگرام اور پالیسیوں کے اختلاف کے باوجود پارٹی ایک رائے عامہ ہموار کرنے میں کامیاب رہی اور اگرچہ وہ اختلافات ختم نہ کرپائی لیکن ان کو بڑھنے بھی نہ دیا۔

دھڑوں کی برداشت اور ان کا بندو بست

کانگریس کے ملے جلے طرز نے اس کو غیر معمولی تقویت بخشی۔ اوّل تو یہ کہ مخلوط تنظیم ہر شامل ہونے والے کو قبول کرتی ہے لہٰذا وہ کوئی انتہا پسند روش اختیار نہیں کرسکتی اور ہر معاملے میں اس کو اعتدال سے کام لینا پڑتا ہے۔ سمجھو تہ اور تحمل ایک مخلوط تنظیم کی علامت اور ثبوت ہیں۔ اس حکمت عملی نے حزبِ مخالف کو مشکل میں ڈال دیا۔
حزب مخالف جو کچھ بھی کہنا چاہتی وہ کانگریس کے پروگرام اور نظریات میں جگہ پاسکتا تھا۔ دوسرے یہ کہ اس میں ایک ملی جُلی طرز کی پارٹی میں اندرونی اختلافات کو برداشت کرنے اور الگ الگ گروہوں یا جتھوں کی امنگوں اور رہنماؤں سے ہم آہنگ ہونے کی زیادہ صلاحیت ہوتی ہے۔ آزادی کی جدوجہد کے درمیان کانگریس نے یہ دونوں چیزیں کیں بلکہ آزادی کے بعد بھی اسی نہج پر چلتی رہی۔ اسی وجہ سے اگر کوئی گروہ یا جتھا پارٹی کے موقف سے خوش نہ ہوتا ، یا طاقت میں اپنے حصے کو کافی نہ سمجھتا تو بھی وہ بجائے پارٹی چھوڑکر اپوزیشن میں جانے کے پارٹی میں رہ کر ہی لڑائی لڑنے کوبہتر سمجھتا تھا۔
پارٹی کے اندر یہ گروہ دھڑے یا جتھے کہلاتے ہیں۔ کانگریس کے مخلوط کردار نے ان جتھوں کونہ صرف برداشت کیا بلکہ ان کی حوصلہ افزائی کی۔ ان میں سے کچھ جتھے تو نظریاتی ٹکراؤ کی وجہ سے بنے تھے لیکن اکثر اوقات ان جتھوں کی بنیاد ذاتی اغرا ض و مقاصد بھارتیہ جن سنگھ 1951میں قائم ہوئی۔ شیاما پرساد مکھر جی اس کے بانی صدر تھے۔ اس کا سلسلہ بہرحال آزادی سے قبل  کی راشٹر یہ سویم سیوک سنگھ (RSS) اور ہندو مہاسبھا سے ملتا ہے۔

25

بھارتیہ جن سنگھ

جہاں تک پروگرام اور نظریات کاتعلق ہے جن سنگھ دوسری پارٹیوں سے علاحدہ تھی۔ اس نے ایک ملک ، ایک تہذیب اور ایک قوم کے تصور کو فروغ دیا اور یہ یقین رکھا کہ ملک ہندوستانی روایات اور تہذیب کے بل بوتے پر جدید، مضبوط اور ترقی یافتہ ہوسکتا ہے۔ پارٹی نے اکھنڈ بھارت کے اندر ہندوستان اور پاکستان کو ایک کرنے کی تجویز بھی کی۔ انگریزی کی جگہ ہندی کو سرکاری زبان بنانے کی حمایت میں ہونے والے مظاہروں میں پارٹی پیش پیش تھی۔یہ تہذیبی اور مذہبی اقلیتوں کو مراعات دینے کی بھی مخالف تھی۔ 1964کے چین کے ایٹمی تجربے کے بعد جن سنگھ مستقل ہندوستان کے نیو کلیائی ہتھیاروں کو فروغ دینے پر زور دیتی رہی۔

26
پچاس کی دہائی میں جن سنگھ انتخابی سیاست میں حاشیے پر رہی اور لوک سبھا کے 1952 اور1957 کے الیکشن میں بالترتیب تین اور چار سیٹیں حاصل کرسکی۔ ابتدائی سالوں میں اس کی زیادہ تر حمایت ہندی بولنے والی ریاستوں جیسے راجستھان ، مدھیہ پردیش ، دہلی اور اترپردیش کے شہری علاقوں سے آئی۔ پارٹی کے اہم رہنماؤں میں شیاما پر ساد مکھرجی ، دین دیال اپا دھیائے اور بلراج مدھوک کے نام قابِل ذکر ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کا جنم بھارتیہ جن سنگھ سے ہی ہوا ہے۔

27

دین دیال اپادھیائے (1916-1968)

 1942سے آر ایس ایس کے کل وقتی ممبر بھارتیہ جن سنگھ کے بانیوں میں سے ایک، بھارتیہ جن سنگھ کے سکریٹری اور بعد میں صدر’’متحدہ انسانیت ‘‘کے تصور کی شروعات کی۔


دشمنی یا مسابقت پرمبنی ہوتی تھی۔ اس طرح اندرونی گروہ بندی بجائے کمزوری کے کانگریس کے لیے طاقت کا ذریعہ ثابت ہوئی۔کیوں کہ کانگریس کے اندر مختلف گروہوں کو آپس میں لڑنے کی آزادی تھی اس لیے وہ لیڈر، جو الگ الگ مفاد اور نظریات کی نمائندگی کرتے تھے، کانگریس ہی میں رہے اور باہر جاکر نئی پارٹی نہیں بنائی۔
28

میرا خیال تھا کہ گروہ بندی ایک بیماری ہے جس کا علاج ہونا چاہیے ۔ لیکن آپ تو ایسا کہہ رہے ہیں کہ گروہ بندی ایک عام اور اچھی چیز ہے۔

کانگریس کے اکثر ریاستی یونٹ بھی ان ہی جتھوں یا گروہوں کا مجموعہ تھے۔ ان جتھوں کے علاحدہ نظریات کی وجہ سے کانگریس ایک عظیم مرکزی پارٹی نظر آنے لگی۔ دوسری پارٹیوں نے ان جتھوں پر اپنا اثر استعمال کرنا شروع کیا اور اس طرح ’ کنارے‘ پہ رہ کر بالواسطہ طورسے فیصلوں اور پالیسیوں پراثر انداز ہونے کی کوشش کی۔ یہ پارٹیاں حقیقی طاقت کے استعمال سے بہت دور کردی گئی تھیں۔یہ حکمراں پارٹی کا متبادل تو نہیں تھیں لیکن یہ مستقل طور سے کانگریس پر نکتہ چینی اور اس کی ملامت کرتی تھیں اور اس پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کرتی تھیں۔جتھوں کے اس نظام نے حکمراں پارٹی کے اندر ایک توازن برقرار رکھا اور سیاسی زور آزمائی کانگریس کے اندر ہی محددودر ہی۔ یعنی ایک طرح سے انتخابی مقابلوں کے پہلے دس سال میں کانگریس نے حکمراں پارٹی اور اپوزیشن دونوں کا کردار نبھایا۔ اسی لیے ہندوستانی سیاست کے اس زمانے کو ’کانگریس سسٹم ‘کے نام سے بیان کیا جاتا ہے۔
29
’’رسہ کشی کی جنگ‘‘( 29 اگست 1954) ایک کارٹونسٹ کا حکمراں اور ایوزیشن پارٹیوں کی طاقت توازن کے بارے میں تاثر ہے۔ درخت پر نہرو اور ان کی کابینہ کے ساتھی بیٹھے ہوئے ہیں۔ وہ اپوزیشن لیڈر جو درخت گرانے کی کوشش کر رہے ہیں ان میں اے۔ کے ۔ گوپالن، آچاریہ کرپلانی ، این ۔سی۔ چٹر جی، سری کانتن نائر اور سردار حکم سنگھ شامل ہیں۔

اپوزیشن پارٹیوں کا ظہور

جوکچھ بھی ہم نے اوپر پڑھا اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس زمانے میں ہندوستان میں اپوزیشن پارٹیاں یا حزب مخالف موجود نہیں تھے۔ الیکشن کے نتائج پر بحث کرتے ہوئے ہم نے کانگریس کے علاوہ اور بھی کئی پارٹیوں کے نام لیے تھے۔ اس وقت بھی ہندوستان میں کئی کثیر الجماعت جمہوری ملکوں سے زیادہ سرگرم اور متنوع پارٹیاں موجود تھیں۔ ان  میں سے اکثر  1952 کے پہلے عام الیکشن سے قبل وجود میں آئی تھیں اور ان میں سے کئی نے چھٹی اور ساتویں دہائی کی سیاست میں اہم کردار ادا کیا۔ آج کی کم و بیش تمام غیرکانگریس پارٹیوں کی جڑمیں1950کی کسی اپوزیشن پارٹی میں تلاش کی جاسکتی ہیں۔
اس زمانے میں تمام اپوزیشن پارٹیاں لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوںمیں صرف ایک علامتی نمائندگی حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکیں۔ اس کے باوجود ان کی موجودگی نے نظام کے جمہوری کردار کو برقرار رکھنے میں مدد کی۔ ان پارٹیوں نے کانگریں کی پالیسیوں اور عمل پر حق بجانب اور بااصول تنقید کی جس کی وجہ سے کانگریس پارٹی قابو سے باہر نہ گئ اور اس طرح کانگریس کے اندر طاقت میں توازن اور اعتدال قائم رہا۔
30

سو تنتر پارٹی

31
اگست 1959میں سوتنتر پارٹی اس وقت قائم ہوئی جب کانگریس نے ناگپور قرار داد میں زمین کی سیلنگ ، حکومت کا اناج کی تجارت کو قبضہ میں لینا اور مشترک زراعت کو اختیار کیا۔ اس پارٹی کے بزرگ کانگریس رہنماؤں میں راج گوپال آچاری، کے۔ ایم ۔ منشی، این ۔ جی۔ رانگا اور مینو مسانی شامل تھے۔ یہ پارٹی اپنے معاشی موقف کی وجہ سے دوسری پارٹیوں سے ممتاز تھی۔
سوتنتر پارٹی کا خیال تھا کہ حکومت کواقتصادی معاملات میں کم سے کم دخل دینا چاہیے۔ اس کے نظریے کے مطابق خوش حالی صرف شخصی آزادی کے ذریعے ہی آسکتی ہے۔یہ اقتصادیات میں حکومت کی دخل اندازی، مرکزی منصوبہ بندی، عوامی شعبہ اور قومیا نے کی پالیسی پر تنقید کرتی تھی اور پرائیویٹ سیکڑ کو وسعت دینے کے حق میںتھی۔ سوتنترپارٹی زرعی زمین کی سیلنگ،مشترک کاشت کاری اور سرکاری تجارت کی بھی مخالف تھی۔ یہ تدریجی ٹیکس ڈھانچے کی بھی مخالف تھی اور اس نے لائسنس ڈھانچہ (regime) کو توڑنے کا مطالبہ کیا۔ یہ ناوابستگی کی پالیسی اور روس سے خوش گوار تعلقات سے بھی پریشان تھی۔ اس نے یونائٹیڈ اسٹیٹس سے قریبی تعلقات رکھنے کا مطالبہ کیا۔ سوتنتر پارٹی نے ملک کی مختلف علاقائی پارٹیوں اور مفادات کو خود میں ضم کرکے قوت حاصل کی۔ اس پارٹی میں جاگیرداروں اور راجاؤں کے لیے کشش تھی جن کا مقصد اپنی اس زمین اور وقار کا تحفظ تھا جو زمینی اصلاحات کے قانون کے باعث خطرے میں پڑگئے تھے۔ سرمایہ دار اور تاجر طبقہ،جو قومی ملکیت کاری اور لائسنس کی پالیسی کے خلاف تھا، سوتنتر پارٹی کا حامی بن گیا۔ پارٹی کی سماجی بنیاد کمزور تھی اورمخلص کارکنوں کا فقدان تھا۔ لہٰذا یہ ایک مضبوط تنظیمی ڈھانچہ بنانے میں ناکام رہی۔

32

سی۔ راج گوپال آچاری

(1878-1972)

کانگریس کے بزرگ رہنما اور ادیب؛

مہاتما گاندھی کے قریبی ساتھی؛

دستور سازاسمبلی کے ممبر؛

ملک کے ہندستانی پہلے گورنرجنرل (1948-1950)مرکزی کابینہ میں وزیر ، بعد میں ریاست مدراس کے وزیر اعلیٰ؛

ہندوستان کے پہلے بھارت رتن حاصل کرنے والے؛

سوتنتر پارٹی کے بانی  (1959)

ایک سیاسی اور جمہوری متبادل کی امید کو زندہ رکھنے سے ان پارٹیوں نے درحقیقت نظام کے خلاف ناراضگی جمہوریت مخالف ہونے سے بچالیا۔ ان پارٹیوں نے ان لیڈروں کی تربیت بھی کی جنھیں بعد میں ملک کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرنا تھا۔

بعض کانگریسیوں کے نزدیک حکومت یا کانگریس میں میری موجودگی اتنی اہم نہیں جتنی کہ ٹنڈن کا الیکشن ..... کانگریس اور حکومت دونوں میں میری افادیت ختم ہوچکی ہے۔

کانگریس کے عہدے پر اپنی مرضی کے خلاف ٹنڈن کی جیت کے بعد راجاجی کو لکھے گئے ایک خط کے الفاظ  جواہرلعل نہرو  

ابتدائی سالوں میں کانگریس اور حزب مخالف کے رہنماؤں کے درمیان کافی باہمی احترام تھا۔آزادی کے اعلان کے بعد اور پہلے عام انتخابات سے قبل جس عارضی حکومت نے اقتدار کی باگ ڈورسنبھالی اس میں ڈاکٹر امبیڈکر اور شیاما پرساد مکھر جی جیسے اپوـزیشن کے لیڈر کابینہ میں شامل تھے۔ جواہرلعل نہرو نے اکثر سوشلسٹ پارٹی کی پسندید گی کا اظہار کیا اور جے پرکاش نارائن جیسے سوشلسٹ لیڈروں کو حکومت میں شامل ہونے کی دعوت بھی دی۔ ذاتی تعلقات کی یہ نوعیت اور سیاسی حریفوں کا عزت و احترام پارٹیوں کی مقابلہ آرائی کی شدت کے ساتھ ساتھ ختم ہوگیا۔

اس طرح ہماری جمہوری سیاست کا پہلا دور منفرد تھا۔ کانگریس نے جس قومی تحریک کی قیادت کی تھی اس کی ہمہ گیری کے باعث کانگریس میں وہ کشش پیدا ہوگئی جس سے مختلف گروہ، طبقات اور مفادات اس کی جانب کھنچے چلے آئے اور یہ وسیع بنیادوں پر مبنی ایک سماجی اور نظریاتی طورپر مخلوط پارٹی بن گئی۔آزادی کی جدوجہد میں کلیدی کردار ادا کرنے کی وجہ سے کانگریس پارٹی کو دوسروں کے مقابلے میں ایک بہتر شروعات نصیب ہوئی۔
33
1948میں گورنر جنرل چکرورتی راج گوپال آچاری کی حلف برداری کے بعد نہرو کی کابینہ (بیٹھے ہوئے بائیں سے دائیں)
رفیع احمد قدوائی، بلدیوسنگھ، مولاناآزاد،وزیر اعظم نہرو، چکرورتی راج گوپال آچاری، سردار ولبھ بھائی پٹیل، راج کماری امرت کور،مسٹر جان متھائی، اور جگ جیون رام (کھڑے ہوئے بائیں سے دائیں) جناب گاڈ گل، جناب نیوگی، ڈاکٹر امبیڈکر، شیاما پرساد مکھر جی،گوپالا سوامی آینگر اور جے رام داس دولت رام۔

 جوں جوں تمام مفادات اور سیاسی طاقت کے امیدواروں سے موافقت اور ہم آہنگی کی صلاحیت کانگریس میں کم ہوتی گئی، دوسری پارٹیاں زیادہ اہمیت حاصل کرتی گئیں۔ ملک کی سیاست میں کانگریس کی بالادستی صرف ایک پہلو کو ظاہر کرتی ہے۔ ہم اس کتاب کے بقیہ حصّوں میں دوسرے پہلوؤں پر بھی نظر ڈالیں گے۔

34

بہار کے ایک گاؤں میں پارٹی کے اندر مقابلہ

جب دو بھینسے آپس میں لڑتے ہیں تو ان کے نیچے کی گھاس مسل جاتی ہے۔ کانگریس اور سوشلسٹ پارٹی ایک دوسرے سے مقابلہ کررہی ہیں۔ دونوں نئے ممبر وں کو شامل کرنا چاہتی ہیں۔ غریب آدمی چکّی کے دوپاٹوں کے بیچ پِس جائے گا! 
’’نہیں، غریب آدمی نہیں پِسے گا ۔ بلکہ حقیقت میں اس کو فائدہ ہوگا۔‘‘ کسی نے جواب دیا۔’’ کام صرف ایک ہی پارٹی نہیں مکمل کرتی۔ دو گروہوں کے درمیان مقابلہ اور حریفانہ کشمکش سے ہی عوام کا فائدہ ہوتاہے.....‘‘
سوشلسٹ پارٹی کی میٹنگ کی خبر سے سنتھالیوں کو کافی تشویش تھی۔ اسپتال کھلنے کی خبر نے ان پر کوئی خاص اثر نہیں ڈالا- انھیں گاؤں کے جھگڑوں اور نہ ہی دوستوں اور دشمنوں کی زیادہ پرواہ تھی۔ لیکن یہ میٹنگ زمین پر ہل چلانے والوں کی میٹنگ تھی........’’ زمین کس کی ملکیت ہے؟ کسان کی! جو ہل چلائے گا وہ بیج بوئے گا، جو بیج بوئے گا وہی فصل کاٹے گا۔ جو کام کرے گا وہی کھائے گا، چاہے کچھ ہوجائے !‘‘کالی چرن نے اپنی تقریر میں کہا
کانگریس کے ضلع آفس میں بھی بڑی ہلچل تھی۔ ان کو پارٹی کا صدر منتخب کرنا تھا۔ چار امیدوار میدان میں تھے۔ دواصلی اور دو نقلی۔یہ راجپوتوں اور بھومی ہاروں کے درمیان مقابلہ تھا۔ دونوں ذاتوں کے دولت مند تاجر اور زمیندار موٹر کاروں پر پورے ضلع کا دورہ کررہے تھے اور ایک دوسرے پر خوب کیچڑ اچھال رہے تھے۔ کٹیہار سوت مل کا مالک سیٹھ بھومی ہار پارٹی کا نمائندہ تھا اور فاربی گینگ جوٹ مل کا مالک راجپوتوں کا نمائندہ تھا..... جو پیسہ وہ پھینک رہے ہیں آپ کو اُسے دیکھنا چاہیے۔
فانیشور ناتھ کے ناول ’ میلا آنچل‘ کے ایک اقتباس کا ترجمہ، یہ ناول آزادی کے بعد کے ابتدائی سالوں میں مشرقی بہار کے ضلع پورنیا کے پس منظر میں لکھا گیا ہے۔
35

شیاما پرسا د مکھرجی

(1901-1953)  

ہندومہاسبھا کے لیڈ ر؛ بھارتیہ جن سنگھ کے بانی ؛ آزادی کے بعد نہرو کی پہلی کا بینہ میں وزیر؛ پاکستان سے تعلقات کے سوال پر اختلاف کی وجہ سے 1950میں استعفیٰ دیا ؛دستور ساز اسمبلی کے ممبراور بعد میں پہلی لوک سبھا کے ممبر؛ جموں اور کشمیر کو خود اختیاری دینے کی حکومت کی پالیسی کے مخالف؛ جن سنگھ کے کشمیر پالیسی کے خلاف مظاہروں میں گرفتار کیے گئے ؛ جیل ہی میں انتقال ہوا۔


 1.    خالی جگہوں کو پُر کرنے کے لیے صحیح جواب کا انتخاب

(a)  1952  کے پہلے عام الیکشن میں لوک سبھا اور........ کا الیکشن ساتھ ساتھ ہوا تھا۔
(ہندوستان کے صدرجمہوریہ / ریاستی اسمبلیوں/ راجیہ سبھا / وزیراعظم)
(b) پہلے عام الیکشن میں جس پارٹی نے دوسرے نمبر زیادہ سیٹیں حاصل کیں۔ اس کا نام .........تھا
     (پرجاسوشلسٹ پارٹی /بھارتیہ جن سنگھ /کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا / بھارتیہ جنتا پارٹی)
(c) سوتنتر پارٹی کے رہنما اصولوں میں سے ایک ........ تھا۔
  (مزدور طبقہ کا مفاد/ راجاؤں کی ریاست کا تحفظ/ حکومت سے آزاد معیشت/ یونین کے ڈھانچہ میں ریاستوں کی خودمختاری)

2.    فہرست 'A'کے لیڈروں کو فہرست 'B'کی پارٹیوں سے ملاکر جوڑی بنائیے

                فہرست  'A'                             فہرست   'B'
          (a)ایس۔اے ڈانگے                        . iبھارتیہ جن سنگھ
          (b)شیاما پرسا د مکھرجی                      . iiسوتنتر پارٹی
          (c)مینو مسانی                                iii .پرجاسوشلسٹ پارٹی
          (d)اشوک مہتہ                             . ivکمیونسٹ پارٹی آف انڈیا

3.   ایک پارٹی کی بالادستی کے حوالے سے نیچے چار بیان دئیے گئے ہیں۔ ان پر صحیح یا غلط کا نشان لگائیے۔

(a) ایک پارٹی کی بالادستی کی وجہ سیاسی پارٹیوں میں ایک مضبوط متبادل کی عدم موجودگی ہے۔
(b) کمزور رائے عامہ کی وجہ سے ایک پارٹی کی بالادستی قائم ہوتی ہے۔
(c) ایک پارٹی کی بالادستی کا سلسلہ قوم کے نوآبادیاتی ماضی سے جڑتا ہے۔
(d) ایک پارٹی کی بالادستی ملک میں جمہوری تصورات کی عدم موجودگی کو ظاہر کرتی ہے۔

4.  اگر پہلے الیکشن کے بعد بھارتیہ جن سنگھ یا کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا نے حکومت بنائی ہوتی تو کن پہلوؤں میں حکومت کی پالیسیاں مختلف ہوتیں؟ دونوں پارٹیوں کے لیے تین تین مثالیں دیجیے۔
5.   کانگریس کس طرح سے ایک نظریاتی اتحاد کہی جاسکتی تھی؟ ان نظریاتی لہروں کا بیان کیجیے جو کانگریس میں موجود تھیں۔
6.    کیا ایک پارٹی کی بالادستی کی موجودگی نے ہندوستانی سیاست کی جمہوری نوعیت کو ناموافق طور پر متاثر کیا ہے؟
7.   سوشلسٹ پارٹیوں اور کمیونسٹ پارٹی نیز بھارتیہ جن سنگھ اور سوتنتر پارٹی کے درمیان تین تین فرق واضح کیجیے۔
8.    آپ کے خیال میں ایک پارٹی کی بالادستی کے تحت میکسکو اور ہندوستان میں خاص فرق کیا ہے؟
9.   ہندوستان کا ایک سیاسی نقشہ (ریاستوں کی حدبندی کے ساتھ) لیجیے اور ان جگہوں کی نشان دہی کیجیے:
(a) دوایسی ریاستیں جہاں1952-67کے دوران کانگریس اقتدار میں نہیں تھی۔
(b)  دوایسی ریاستیں جہاں اس عرصہ میں کانگریس اقتدار میں رہی۔

10.   درج ذیل اقتباس کو پڑھیے اور نیچے دئیے گئے سوالوں کے جواب دیجیے:

’’پٹیل، کانگریس کی تنظیمی شخصیت ، کانگریس کو دوسرے سیاسی جتھوں سے پاک صاف کرنا چاہتے تھے اور کانگریس کو ایک مربوط اور قواعدو ضوابط کی پابند سیاسی پارٹی بنانا چاہتے تھے۔ وہ کانگریس کو سب کو گلے لگانے کے کردارسے دور کرکے ایک مضبوطی سے بُنے ہوئے اصول نظم وضبط کے پابند کارکنوں کی پارٹی بنانا چاہتے تھے۔ ایک حقیقت پسند ہونے کے ناطے وہ شمولیت سے زیادہ نظم وضبط پر توجہ دیتے تھے۔ گاندھی جی کا تحریک کے بارے میں جہاںضرورت سے زیادہ رومانی نظریہ تھا وہاں پٹیل کا یہ تصور تھا کہ کانگریس ایک خالص سیاسی پارٹی ہو جس کا ایک نظریہ ہواور ضابطوں کی پابند ہو، اس کم فہمی کی دلالت کرتی ہے کہ انھیں اس کا اندازہ نہیں تھا کہ آنے والے دنوں میں کانگریس کو ایک حکومت کی حیثیت سے کتنا متنوع کردار ادا کرنا ہے۔‘‘- رجنی کو ٹھاری
(a) مصنف کا یہ خیال کیوں ہے کہ کانگریس کو ایک مربوط اور اصولوں پر عمل کرنے والی پارٹی نہیں ہونا چاہیے۔
(b) شروع کے سالوں میں کانگریس کے متنوع کردار کی کچھ مثالیں دیجیے۔
(c) مصنف یہ کیوں کہتا ہے کہ کانگریس کے مستقبل کے بارے میں گاندھی جی کاتصور رومانی تھا؟

آئیے اسے مل کر کریں

اپنی ریاست میں  1952سے اور اس کے بعد الیکشن اور حکومتوں کا ایک معلوماتی نقشہ تیار کیجیے ۔
اس نقشہ میں مندرجہ ذیل کالم ہونے چاہئیں: انتخابات کا سال، جیت حاصل کرنے والی پارٹی کا نام ، حکمراں پارٹی یا پارٹیوں کے نام ، وزیر اعلیٰ کے نام-