Skip to content





1

اس باب میں...

پچھلے دو ابواب میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ آزاد ہندوستان کے رہنماؤں نے قومی تعمیر اورجمہوریت کے قیام کے چیلنج کا کس طرح سا منا کیا۔ اب ہم تیسرے چیلنج کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ اور یہ ہے اقتصادی ترقی کا چیلنج جو سب کی خوش حالی کی ضمانت دے۔ پچھلے دو معاملوں کی طرح ہمارے لیڈروں نے یہاں بھی مختلف اور مشکل راستہ اختیار کیا۔ کیوں کہ چیلنج زیادہ سخت اور تحمل کا طلب گار تھا لہذا یہاں پر کامیابی محددو تھی۔
اس باب میں ہم ان سیاسی پسندیدگیوں کی کہانی کا مطالعہ کریں گے جو اقتصادی ترقی کے کلیدی سوالات سے وابستہ تھیں۔
l      ترقی سے متعلق اہم سوالات اوربحثیں کیا تھیں؟
l      ہمارے رہنماؤں نے شروع کی دو دہائیوں میں کیا حکمت عملی اختیار کی تھی اور کیوں؟
l      اس حکمت عملی کی کا میابیاںاور کوتاہیاں کیا تھیں؟
l بعد کے سالوں میں اس حکمت عملی کو کیوں ترک کردیا گیا؟

اس قسم کے ڈاک ٹکٹ زیادہ تر 1955 اور 1968کے درمیان جاری کیے گئے اور یہ ایک منصوبہ بند ترقی کو ظاہر کرتے ہیں۔ (بائیں سے دائیں اور اوپر سے نیچے) دامودر وادی ، بھاکڑہ باندھ، چترنجن ریلوے انجن بنانے کا کارخانہ، گوہاٹی ریفائنری ، ٹریکٹر، سندری کیمیائی کھا د کی فیکٹر ی، بھاکڑہ ڈیم، بجلی کی ٹرین، گندم یعنی گیہوں کا انقلاب، ہیرا کڈ باندھ، ہندوستان ائیرکرافٹ فیکٹری

باب  3

منصوبہ بند ترقی کی سیاست

جب فولاد یا اسٹیل کی عالمی مانگ بڑھنے لگی تو اڑیسہ، جہاں ملک میں خام لوہے کے سب سے بڑے ذخیرے ہیں، سرمایہ کاری کی ایک اہم منزلِ مقصود بن گیا۔ خام فولاد کی اس بے نظیر مانگ سے ریاستی حکومت پورا پورا فائدہ اٹھانا چاہتی تھی اور اس سلسلے میں اس نے بین الاقوامی اور قومی فولاد بنانے والوں سے ایک مفاہمتی دستاویز (Memorandum of understanding)پر دستخط بھی کردئیے۔حکومت کا خیال تھا کہ اس سے صرف سرمایہ ہی نہیں آئے گا بلکہ روزگار کے مواقع بھی ملیں گے۔خام لوہے کے یہ ذخیرے ریاست کے سب سے پس ماندہ علاقے میں ہیں جہاں کی آبادی قبائلی لوگوں پر مشتمل ہے۔قبائلی لوگوں کا خیال ہے کہ صنعتوں کے قیام کا مطلب ہے کہ ان کو اپنے گھر بار اور ذریعۂ معاش سے ہاتھ دھونے پڑیں گے۔ماحولیاتی ماہرین کاکہنا ہے کہ صنعت اور کان کنی سے ماحول آلودہ ہوگا۔مرکزی حکومت سمجھتی ہے کہ اگر صنعتوں کو قائم نہیں ہونے دیا گیا تو یہ ایک غلط مثال قائم ہوگی اور اس طرح ملک میں سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی ہوگی۔
کیا آپ ان مختلف مفادات کی شناخت کرسکتے ہیں جو اس مسئلے میں شامل ہیں؟ ان میں اختلاف کی اہم وجوہات کیا ہیں؟ کیا آپ کے خیال میں کچھ ایسے مشترکہ نکات ہیں جن پر سب متفق ہوسکتے ہوں؟ کیا یہ مسئلہ ایسے حل ہوسکتا ہے کہ تمام مختلف مفادات مطمئن ہوجائیں؟ جب آپ یہ سوال کرتے ہیں تو ان سے بھی بڑے سوال آپ کو درپیش ہوں گے۔ آخر اڑیسہ کو کس قسم کی ترقی کی ضرورت ہے؟ بلکہ درحقیقت کس کی ضرورت کو اڑیسہ کی ضرورت کہا جاسکتی ہے؟

اڑیسہ کے گاؤں والوںکاPOSCO پلانٹ کے خلاف مظاہرہ

اسٹاف رپورٹر
بھبنیشور : جگت سنگھ پور ضلع کے ان لوگوں نے جنھیں مجوزہ POSCO-India کے اسٹیل پلانٹ سے بے گھر ہونے کا خطرہ ہے آج جمعرات کو کورین کمپنی کے آفس کے سامنے مظاہرہ کیا۔وہ مطالبہ کر رہے تھے کہ اڑیسہ حکومت اور کورین کمپنی کے درمیان ایک سال پہلے جو سمجھوتہ ہوا تھا اس کو منسوخ کیا جائے۔
سو سے زیادہ مرد اور عورتوں نے جو دھنکیا، نُوا گاؤں اور گڈاکجنگا گرام پنچایتوں سے آئے تھے کمپنی کے آفس میں داخل ہونے کی کوشش کی لیکن پولیس نے ان کو روک دیا۔ نعرہ بازی کرتے ہوئے مظاہرین نے کہا کہ کمپنی کو ان کی زندگیوں اور ذریعہ معاشی کی قیمت پر پلانٹ لگانے کی اجازت نہیں ملنی چاہیے۔ اس مظاہرہ کی قیادت راشٹریہ یوا سنگھٹن اور نونرمان سمیتی نے تیار کی تھی۔
دی ہندو، 23جون 2006

سیاسی مقابلہ آرائی

ان سوالات کا جواب دینا ماہرین کے بس کی بات نہیں ہے۔ اس قسم کے فیصلوںمیں ایک سماجی گروپ کا دوسرے سماجی گروپ کے مفاد کے ساتھ موازنہ کرنا پڑتا ہے۔ ایک جمہوریت میں اس قسم کے فیصلے عوام ہی کو کرنے چاہئیں۔یاکم سے کم ان کی رضا مندی ضرورشامل ہونی چاہیے۔اس سلسلے میں کان کنی ، ماحولیات اور اقتصادیات کے ماہرین کا مشورہ لینااہم ہے لیکن اس کے باوجود آخری فیصلہ سیاسی ہونا چاہیے اور عوام کے رہنماؤں کے ذریعے ہونا چاہیے جو ان کے احساسات سے واقف ہوں۔

بایاں کیا ہے اور دایاں کیا ہے؟

زیادہ تر ملکوں کی سیاست کے سلسلہ میں آپ کا اکثر دائیں یا بائیں بازو کے نظریات یا جھکاؤ سے سابقہ پڑے گا۔ ان اصطلاحات سے اندازہ ہوتا ہے کہ سماجی تبدیلیوں اور معاشی تقسیم میں حکومت کے دخل کی وسعت کے بارے میں مختلف گروہوں کا کیا نظریہ ہے۔بائیں بازو والے وہ ہیں جو غریبوں اور پسماندہ لوگوں کے حق کی حمایت کرتے ہیں اور ان طبقوں کے مفاد کے بارے میں حکومت کی پالیسیوں کی حمایت کرتے ہیں۔ دائیں بازو والے کھلے ہوئے مقابلہ پر یقین رکھتے ہیں۔ ان کے خیال میں صرف آزادانہ تجارت ہی ترقی کی ضامن ہے اور یہ کہ حکومت کو غیر ضروری طور پر معیشت میں دخل اندازی نہیں کرنی چاہیے۔
کیا آپ بتاسکتے ہیں کہ ساٹھ کی دہائی میں کون کو ن سی پارٹیاں بائیں اور دائیں بازو والی تھیں؟ اور اس وقت کی کانگریس پارٹی کو آپ کس خانے میں رکھیں گے؟

آزادی کے بعد ہمارے ملک کو ایسے کئی فیصلے لینے پڑے اور ان میں سے ہرفیصلہ، اپنے جیسے دوسرے فیصلوں سے الگ کرکے نہیں لیا جاسکتا تھا۔یہ سارے فیصلے ایک دوسرے سے ایک مشترکہ تصور یا معاشی فروغ کے ایک مخصوص نمونے سے جڑے ہوئے تھے۔ تقریباً سب ہی کا یہ ماننا تھا کہ ہندوستان کی ترقی کے معنی ہیں کہ اقتصا دی فروغ کے ساتھ سماجی اور معاشی انصاف بھی ہونا چاہیے اور یہ بھی مانا گیا کہ یہ معاملہ صرف صنعت کاروں ، تاجروں اور کاشت کاروں پر نہیں چھوڑا جاسکتا بلکہ حکومت کو بھی اس میں کلیدی کردار ادا کرنا چاہیے۔تاہم اس بات پر اتفاق رائے نہ تھا کہ ترقی اور انصاف کو یقینی بنانے کے لیے حکومت کا کیا کردار ہونا چاہیے ۔ کیا یہ ضروری ہے کہ پورے ملک کے منصوبے کے لیے کوئی ایک مرکزی ادارہ ہو؟ کیا حکومت کو خود کچھ اہم کاروبار اور صنعتیں چلانی چاہئیں؟ اور یہ کہ اگر مساوات و انصاف معاشی ترقی کی راہ میں آڑے آتے ہیں تو ان کوکتنی اہمیت دی جائے؟
ان سب سوالات میں مقابلہ آرائی شامل تھی جو اس وقت سے جاری ہے۔ ہر فیصلے کے سیاسی نتائج اور اثرات تھے۔ ان میں زیادہ فیصلے سیاسی تھے لہذا سیاسی پارٹیوں سے صلاح مشورہ اور عوام کی رضا مندی بھی لازم تھی۔ اسی لیے ہم کو معاشی ترقی کے سلسلے کا مطالعہ ہندوستان کی سیاسی تاریخ کے ایک حصے کی حیثیت سے کرنا چاہیے۔

ترقی کے تصورات

اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ مقابلہ آرائی میں ترقی کا تصور پنہاں ہوتا ہے۔ اڑیسہ کی مثال ہمیں یہ باور کرانے کے لیے کافی ہے کہ ہر کوئی ترقی کا خواہاں نہیں ہے۔ اس لیے کہ مختلف طبقوں کے لیے ’’ترقی‘‘ مختلف معنی رکھتی ہے۔ مثال کے طور پر ایک صنعت کار جو ایک اسٹیل پلانٹ لگانے کی سوچ رہا ہے ، یا اسٹیل کا ایک شہری صارف یا ایک آدی واسی جو اس علاقے میں رہتا ہے اس کے لیے ترقی کے معنی مختلف ہیں۔ لہذا ترقی کے اوپر کوئی بھی مباحثہ اختلافات، تضادات اور تنازعات پیدا کرے گا۔
آزادی کے بعد پہلی دہائی میں اس سوال پر کافی بحث و مباحثہ ہوا ۔اس وقت لوگوں کے لیے یہ عام بات تھی، بلکہ اب بھی ہے کہ ترقی کا پیمانہ مغرب کو مانا جاتا ہے۔ ترقی کا مطلب تھا جدید ہونا اور جدید ہونے کامطلب تھا مغرب کے صنعتی ترقی یا فتہ ملکوں کی طرح ہوجانا۔ عوام اور ماہرین دونوں کی یہی سوچ تھی۔ عام خیال یہ تھا کہ ہر ملک کو مغرب کی طرح جدیدیت کی راہ سے گزرنا ہے جس کے نتیجے میں روایتی معاشرتی ڈھانچے کا انہدام اور سرمایہ داری اور آزاد خیالی کا فروغ ہوگا۔ جدیدیت کو فروغ کے منصوبوں، مادّی ترقی اور سائنسی معقولیت پسندی سے بھی جوڑا جاتا تھا۔ اس طرز کی ترقی کے تصورنے لوگوں کو مختلف ملکوں کے لیے ترقی یا فتہ ترقی پذیر اور غیر ترقی یافتہ ، جیسی اصطلاحیں وضع کرنے کی کھلی چھٹی دے دی۔
آزادی کے وقت ہندوستان کے سامنے جدید یا ماڈرن ترقی کے دونمونے تھے۔پہلا تو آزاد سرمایہ دارانہ نظام تھا جو امریکہ(US)اور یوروپ کے بڑے حصّے میں رائج تھا۔ دوسراسوویت یونین (USSR)کا اشترا کی نظام ۔ آپ ان نظریات اور دونوں عظیم طاقتوں کے درمیان سرد جنگ کے بارے میں پہلے ہی پڑھ چکے ہیں۔ اس وقت ہندوستان میں ایسے لوگوں کی بڑی تعداد تھی جو ترقی کے سوویت نمونے سے زیادہ متاثر تھے۔ اس میں صرف کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے لیڈر ہی نہیں بلکہ سوشلسٹ پارٹی کے لیڈر اور کانگریس میں جواہرلعل نہرو جیسے لیڈر بھی شامل تھے۔ امریکی سرمایہ دارانہ نظام کے حامی بہت ہی کم تھے۔
یہ صورت حال اس اتفاق رائے کو ظاہر کرتی تھی جو قومی تحریک کے دنوں میں بن گیا تھا۔ قومی لیڈروں کو اس بارے میں کوئی شک نہیں تھا کہ آزاد ہندوستان کی حکومت کی لگام نو آبادیاتی حکومت کے بنائے ہوئے تنگ تجارتی مقاصد یا فرائض کی فہرست سے بالکل جد اہوگی۔ اس کے علاوہ یہ بھی واضح تھا کہ غربت ختم کرنے کا کام اور سماجی اور معاشی حصّہ داری میں مساوات لانا حکومت کا اولین فرض تھا۔ اس سلسلے میں کافی بحث و مباحثہ ہوا۔ کچھ کے خیال میں صنعت کاری ہی ترجیحی راستہ تھا لیکن کچھ لوگ زراعت کے فروغ اور خصوصاً دیہی علاقوں سے غربت ہٹانے کو سرِ فہرست رکھتے تھے۔

چ3
کیا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ’ماڈرن‘ ہونے کے لیے ہمیں مغربی ہونے کی ضرورت نہیں؟ کیا یہ ممکن ہے؟

3

نہرو پلاننگ کمیشن کے اسٹاف سے خطاب کرتے ہوئے

منصوبہ بندی

اتنے اختلافات کے باوجود ایک نکتے پر سب متفق تھے کہ ترقی کے معاملے کو نجی ہاتھوں میں نہیں چھوڑنا چاہیے ، اور ضرورت اس بات کی ہے کہ ترقی کے بارے میں حکومت کو ئی پلان مرتب کرے۔ حقیقت یہ ہے کہ چالیس اور پچاس کی دہائیوںدہائیوں میں دنیا بھر میں معاشی تعمیر ِنو کے لیے منصوبہ بندی کا تصور عوام کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ یوروپ میں عظیم کسادبازاری ، جرمنی اور جاپان میں جنگ کے بعد کی تعمیر ِنو ، تیس اور چالیس کی دہائیوں میں بڑی رکاوٹوں کے باوجود سوویت یونین کی حیرت انگیز اقتصادی ترقی نے یہ اتفاق رائے بننے میں مدددی۔

4

یہ لوگ کتنے خوش قسمت ہیں کہ ہم ان کے لیے منصوبہ بندی کر رہے ہیں

پلاننگ کمیشن

کیا آپ کو اپنی پچھلے سال کی کتاب ’کانسٹی ٹیوشن ایٹ ورک‘(Constitution at work)میں پلاننگ کمیشن کا کوئی تذکرہ یاد ہے؟ اصل میں کوئی تذکرہ تھا ہی نہیں۔ کیوں کہ پلاننگ کمیشن ان بہت سے کمیشنوں اور اداروں میں سے نہیں ہے جس کو آئین یا دستور نے قائم کیا ہو۔ پلاننگ کمیشن تو دراصل ہندوستانی حکومت کی ایک سادہ سی قرارداد کے ذریعہ مارچ 1950 میں وجود میں آیا۔ اس کی حیثیت ایک مشیر کی سی تھی اور اس کی سفارشات اسی وقت روبہ عمل ہوتی تھیں جب مرکزی کا بینہ ان کو منظوری دے۔ جس قرار داد نے اس کمیشن کو قائم کیا اُس نے کمیشن کے دائرہ کار کی وضاحت ان الفاظ میں کی تھی:
’’ہندوستان کے آئین نے ہندوستان کے شہریوں کو کچھ بنیادی حقوق دیے ہیں اور ساتھ ہی ریاستی پالیسی کے لیے کچھ رہنما اصول بھی واضح کردیے ہیں۔ خصوصاً یہ کہ ریاست ایک ایسے معاشرتی نظام کے حصول اور تحفظ کے لیے جدوجہد کے گی جس میں سماجی ، معاشی اور سیاسی انصاف ہو، اور دیگر چیزوں کے ساتھ وہ مندرجہ ذیل چیزوں کے حصول کے لیے اپنی پالیسی کا رُخ موڑ دے گی۔
(a) تمام شہریوں کو جس میں مرد اور عورت مساوی طور سے شریک ہیں، ایک مناسب ذریعۂ معاش کا حق حاصل ہے؛
(b) جو مادّی وسائل کمیونٹی کے زیر اثر یا اس کی ملکیت ہوں، ان کو اس طرح تقسیم یا خرچ کیا جائے کہ وہ عام مفاد کے حق
میں ہو؛ اور
(c) معاشی نظام کے عمل کا نتیجہ یہ ہو کہ دولت ایک جگہ سمٹ جائے اور نہ یہ کہ پیداوار کے ذرائع مفاد عامہ کے لیے
باعث نقصان ہوں۔

5

مجھے یہ جان کر واقعی حیرت ہوگی اگر منصوبہ بندی کمیشن نے ان مقاصد کو عملی جامہ پہنایا ہے !

تیز رفتار

نیتی آیوگ

حکومت ہند کے پلاننگ کمیشن کی جگہ ایک نئے ادارے نیتی آیوگ (National Institution for Transforming India) قائم کیا گیا ۔ اس کا قیام 1جنوری 2015عمل میں لایا گیا ۔ اس کے مقاصد اور ساخت کے بارے میں معلوم کرنے کے لیے دیکھیں۔ http://niti.gov.in

پلاننگ کمیشن ایک دم سے وجود میں نہیں آگیا ۔اس کے پیچھے ایک بہت دلچسپ داستان ہے۔ہم عام طور پر یہ فرض کر لیتے ہیں کہ نجی سرمایہ کارجیسے صنعت کار اور بڑے تاجر گھرانے منصوبہ بندی کے تصور کے خلاف ہیں۔ وہ ایک آزاد معیشت کے قائل ہوتے ہیں جہاں سرمائے کے بہاؤ میں حکومت کا دخل نہ ہو۔ لیکن یہاں ایسا نہیں ہوا۔ بلکہ 1944میں ملک کے کچھ بڑے صنعت کاروں نے اکٹھا ہو کر ملک کے اندر ایک منصوبہ بند معیشت کے قیام کی تجویز پیش کی۔ اس کو’’ ممبئی پلان ‘‘کا نام دیا گیا۔ ممبئی پلان کے مطابق حکومت کو صنعتی اور دوسری معاشی سرمایہ کاریوں میں اہم اقدمات کرنے چاہیے تھے۔ لہٰذا آزادی کے بعد بائیں بازو سے دائیں بازو تک ملک کی ترقی کے لیے منصوبہ بندی ہی سب کا اولین انتخاب تھا۔ کچھ ہی وقت کے بعد ہندوستان آزاد ہوگیا اور پلاننگ کمیشن وجود میں آیا۔ وزیر اعظم اس کے صدر تھے۔ اور یہ فیصلہ کرنے میں کہ ہندوستان اپنی ترقی کے لیے کون سی راہ یا حکمت عملی چنے گا ، پلاننگ کمیشن ایک مرکزی اور مؤثر مشینری کا کردار ادا کرنے لگا۔

ابتدائی پیش قدمیاں

6
سوویت یونین کی طرح پلاننگ کمیشن آف انڈیا نے بھی پنج سالہ منصوبہ (FYP)کو اختیار کیا۔ یہ طر یقۂ کارسیدھا سادا ہے۔حکومت ہند ایک دستاویز تیار کرتی ہے جس میں اگلے پانچ سال کی آمدنی اور اخراجات کا منصوبہ ہوتا ہے۔ اسی کے مطابق مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے بجٹ دو حصّوں میں تقسیم کر دیے جاتے ہیں ۔ ایک حصہ ’غیر منصوبہ بند‘ بجٹ ہوتا ہے جو سالانہ بنیاد پر معمولات کی چیزوں پر خرچ ہوتا ہے۔ دوسرا حصہ’ منصوبہ بند‘ بجٹ ہے جو ایک پانچ سالہ منصوبہ کے تحت انترجیحات پر خرچ ہوتا ہے جو منصوبہ نے مقرر کی ہیں۔ پنج سالہ منصوبہ کا فائدہ یہ ہے کہ یہ حکومت کو معیشت میں ایک طویل مدتی دخل اندازی، اور ایک بڑے تناظر پرمرتکز ہونے کی آزادی دیتا ہے۔
7

گاؤں کی حقیقت

کارٹون

مرکزی منصوبہ بندی

کبھی الوادع نہ کہنا

بشکریہ: سدھیر ڈار /یو این ڈی پی اور پلاننگ کمیشن


8

پہلے پانچ سالہ منصوبہ کی دستاویز

پہلے پنج سالہ منصوبہ کا مسودہ اور پھر اصل ’پلان دستاویز‘ دسمبر1951میں منظر عام پر آیا اور اس نے ملک میں کافی جوش و خروش پیدا کردیا۔ ہر طبقہ کے لوگوں نے خواہ وہ صحافی ہوں، اساتذہ ہوں، گورنمنٹ اور نجی شعبہ کے ملازمین ہوں، صنعت کارہوں، کا شت کار ہوں یا سیاست داں ہوں سب نے اس دستاویز پر دل کھول کر بحث کی۔منصوبہ بندی کے لیے یہ جوش و خروش 1956میں اس وقت اپنے عروج کو پہنچ گیا جب دوسرا پنج سالہ منصوبہ جاری کیا گیا ۔ یہ جوش تیسرے منصوبہ کے اجرا یعنی1961تک جارہی رہا۔1966میں چوتھے منصوبہ کو شروع ہونا تھا۔ لیکن اس وقت تک منصوبہ بندی کا انوکھا پن کافی حدتک ختم ہوچکا تھا اور ہندوستان سخت قسم کے معاشی بحران میں مبتلا تھا۔ حکومت نے’’ منصو بہ بندی سے چھٹی ‘‘ لینے کا فیصلہ کیا۔ اگرچہ ان منصوبہ بندیوں کے طریقۂ کار اور ترجیحات کے خلاف کافی تنقید ہوئی لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس وقت تک ہندوستان کی معاشی ترقی کی بنیادیں اپنی جگہ پر مضبوطی سے قائم ہوچکی تھیں۔

پہلا پانچ سالہ منصوبہ

پہلے پانچ سالہ منصوبہ (1951-1956)کا مقصد ملک کی معیشت کو غربت کی گردش سے باہر نکالنا تھا۔ ایک نوجوان ماہرِ اقتصادیات کے ۔این۔راج، جو پلان کی تیاری میںشامل تھے کہتے تھے کہ ہندوستان کو’’ جلد بازی آہستہ آہستہ‘‘ کرنی چاہیے۔ ان کا خیال تھا کہ پہلی دو دہائیوں میں ترقی کی تیز رفتاری سے جمہوریت کو خطرہ ہوسکتا ہے۔ پہلی پانچ سالہ منصوبہ بندی میں زراعت اور اس سے متعلق پہلوؤں جیسے باندھ اور آب پاشی پر زیادہ توجہ دی گئی۔ بٹوارہ سے سب سے زیادہ نقصان زراعت کو ہوا تھا اور یہ فوری توجہ چاہتی تھی۔ اس سلسلے میں بڑے بڑے منصوبوں جیسے بھاکڑہ ننگل باندھ کے لیے بھاری رقومات مختص کی گئیں۔ اس پلان نے انکشاف کیا کہ زرعی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ زمین کی تقسیم کی صورت حا ل ہے۔ اس منصوبہ نے ملک کی ترقی کے لیے زمین کی اصلاحات کی طرف توجہ مرتکز کی۔
منصوبہ بندی کرنے والوں کا ایک بنیادی مقصد یہ بھی تھا کہ قومی آمدنی کی سطح اوپر اٹھے اور یہ صرف اسی صورت میں ممکن تھا جب لوگ خرچ کم کریں اوربچائیں زیادہ ۔ لیکن پچاس کی دہائی میں خود خرچ کی سطح اتنی کم تھی کہ اس کو اور کم نہیں کیا جاسکتا تھا تو منصوبہ بندی کرنے والوں نے بچت کو آگے بڑھانے کا راستہ سوچا لیکن یہ بھی مشکل کام تھا اس لیے کہ ملک میں روز گار کی صلاحیت رکھنے والے لوگوں کی تعداد ملک کے مجموعی سرمائے سے کہیں زیادہ تھی۔ بہرحال اس منصوبہ بند طریقۂ کارکے پہلے مرحلے میں بچت میں تیسرے پانچ سالہ منصوبہ تک اضافہ ہوا۔ لیکن یہ اضافہ اتنا شان دار نہیں تھا جتنا کہ پہلے پانچ سالہ منصوبہ کے شروع میں امید کی گئی تھی۔ اس کے بعد ساٹھ کی دہائی کی ابتداسے ستر کی دہائی کی ابتداتک ملک میں بچت کا تناسب لگاتار گرتا رہا۔
9

دس پانچ سالہ کی دستاویز

تیز رفتار صنعت کاری

دوسرے پانچ سالہ پلان میں بھاری صنعتوں پر زور تھا ۔ اسے منصوبہ بندی اور ماہرین معاشیات کی ایک ٹیم نے تیار کیا تھا جس کی سر براہی پی۔ سی ۔مہالنوبِس نے کی تھی۔ اگر پہلے منصوبہ نے صبر کی تلقین کی تھی تو دوسرا منصوبہ ہرممکنہ سمت میں ایک ساتھ تبدیلیاں لاکر ڈھانچے کی ساخت کویکسر دوسری شکل دینا چاہتا تھا۔ لیکن اس سے پہلے کہ یہ منصوبہ اپنی آخری شکل لیتا کانگریس پارٹی نے اس وقت کے مدراس شہر کے نزدیک اَوَڑی کے اجلاس میں ایک اہم قرار داد پاس کی۔ اس نے اعلان کیا کہ سماج کا سماج واد ی نمونہ ہی اس کا مقصد ہے ۔ اس کا اظہار دوسرے منصوبہ میں ہوا ۔ حکومت نے اندرونی صنعتوں کے تحفظ کی خاطر درآمدات پر بھاری محصول عائد کر دیا۔ اس محفوظ ماحول میں نجی اور سرکاری دونوں صنعتوں کو پروان چڑھنے کا موقعہ ملا۔ کیوں کہ اس زمانے میں بچت اور سرمایہ کاری فروغ کی جانب مائل تھیں ۔ بجلی، ریلوے،اسٹیل مشینری اور ترسیل واطلاعات کی صنعتوں کو عوامی شعبہ میں ترقی کا موقعہ مل سکتا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ صنعت کاری کی طرف اس قسم کار یلا ہندوستان کی ترقی میں ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا۔
لیکن اس کے بھی اپنے مسائل تھے۔ ہندوستان ٹیکنالوجی کے اعتبار سے پچھڑا ہوا تھا۔ لہٰذا اپنے قیمتی زرمبادلہ کو عالمی منڈی سے ٹیکنالوجی خرید نے کے لیے صرف کرنا پڑتا تھا۔ اس کے علاوہ جب صنعت میں زراعت کے مقابلے زیادہ سرمایہ کاری ہونے لگی توخوراک کی قلت کا خطرہ بھی منڈلانے لگا، ہندوستانی منصوبہ بندی کرنے والوں کو زراعت اور صنعت میں توازنقائم رکھنا مشکل لگنے لگا۔ تیسرا منصوبہ دوسرے منصوبہ سے کچھ زیادہ مختلف نہیں تھا ۔ منصوبہ کے ناقدین کے خیال میں اس وقت کے بعد سے منصوبہ کی حکمت عملیاں بغیر کسی شک و شبہ کے ایک شہری میلان رکھنے لگیں۔ کچھ کا خیال تھاکہ صنعت کو زراعت پر ترجیح دینا غلطی تھی۔ کچھ ایسے بھی تھے جن کے خیال میں زراعت سے وابستہ صنعتوں پر زور دینا چاہیے تھا نہ کہ بھاری صنعتوں پر۔

10

پی۔سی۔مہالنوبس (1893-1972)

سائنٹسٹ اور بین الاقوامی شہرت کے حامل ماہر شمار یات؛ انڈین اسٹیٹکل انسٹی ٹیو ٹ (1931) کے بانی؛ پانچ سالہ منصوبے کے معمار؛ تیز رفتار صنعت کاری اور عوامی شعبہ کے فعال کردار کے حامی۔

پہلے اور دوسرے پانچ سالہ منصوبہ کے لیے رقومات کی تقسیم(فی صد میں )

پہلا پانچ سالہ منصوبہ

دوسرا پانچ سالہ منصوبہ

11
ترقی کی خاص خاص مدیں

اہم تنازعات

ابتدائی سالوں میں ترقی کی جو حکمت عملی اختیار کی گئی اس نے کئی سوال پیدا کر دئیے۔ ہم ان دو تنازعات پرگفتگوکریں گے جن کا زیادہ اہم اور مناسب حال ہونا جاری ہے۔

غیر مرکزی منصوبہ بندی

یہ ضروری نہیں کہ منصوبہ بندی ہمیشہ مرکزی ہو اور نہ ہی یہ ضروری ہے کہ منصوبہ ہمیشہ بڑی صنعتوں اور بڑے پروجیکٹوں کے بارے میں ہی ہو۔ ’کیرالہ ماڈل‘ منصوبہ بندی اور ترقی کے اس راستے کانام ہے جو کیرالہ کی ریاستی حکومت نے اپنایا ہے۔ اس ماڈل میں زیادہ توجہ تعلیم ،صحت،زمینی اصلاح،مؤثر غذائی تقسیم اور غربت میں کمی پر تھی ۔ ایک کم سطح کی انفرادی آمدنی اور مقابلتاً ایک کمزور صنعتی بنیاد کے باوجود کیرالہ نے تقریباً سو فی صد خواندگی ’ لمبی عمر، بچوں اور عورتوں کی شرح اموات میں کمی ،پیدائش کی شرح میں کمی اور طبّی سہولتوں تک رسائی کے حصول میں کامیابی حاصل کی۔1987 اور 1991 کے درمیان کیرالہ کی حکومت نے نئی جمہوری پیش قدمی کا آغاز کیا جس میں ترقی کی مہمّیں شامل تھیں۔ خاص طور سے ماحولیات اور سائنس میں سوفی صد خواندگی بھی شامل تھی۔ اسی پیش قدمی کو شہریوں کی رضا کا رانہ تنظیموں کے ذریعہ عوام کو ترقیاتی سرگرمیوں میں شریک کرنامقصود تھا۔ کیرالہ کی حکومت نے ضلع، بلاک اور پنچایت کی سطح پر بھی عوام کو منصوبہ بندی میں شریک کرنے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔

زراعت بنام صنعت

ہم اس سلسلے میں پہلے ہی ایک بڑے سوال کا ذکر کر چکے ہیں کہ ہندوستان جیسی پس ماندہ معیشت میں عوامی ذرائع اور وسائل میں زراعت و صنعت میں سے کس کا حصہ زیادہ ہونا چاہیے۔ اکثر کا خیال یہ تھا کہ دوسرے منصوبہ میں ترقی کے لیے زرعی حکمت عملی نہیں اپنائی گئی اور صنعت پر زور دینے کی وجہ سے زراعت اور دیہی ہندوستان کو تکلیف کا سامنا کرناپڑا۔ گاندھیائی ماہر۔معاشیات جے۔ سی۔ کمار پّانے ایک متبادل مسودہ یا بلیو پرنٹ پیش کیا جس نے دیہی صنعت کاری پر زیادہ زور دیا۔ ایک کانگریسی لیڈر چودھری چرن سنگھ، جنھوں نے بعد میں کانگریس سے الگ ہوکر بھارتیہ لوک دل بنائی، اس نظریہ کے پرزور حامی تھے کہ زراعت کو ہندوستان کی منصوبہ بندی میں مرکزی مقام حاصل ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ منصوبہ بندی دراصل شہری علاقوں اور صنعتی حصوں میں جو خوش حالی لارہی ہے اس کی قیمت زرعی شعبہ اور ہندوستان کے دیہی عوام چکارہے ہیں۔
کچھ دوسروں کا خیال تھا کہ صنعتی پیداوار میں بغیر ایک زبردست اضافے کے غریبی کے چنگل سے چھٹکارا پانا مشکل ہے۔ ان کی دلیل تھی کہ ہندوستان کی منصوبہ بندی میں اناج کی پیداوار بڑھانے کی ایک زرعی حکمت عملی تو پہلے ہی سے موجود ہے۔ حکومت نے گاؤں میں غریبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم اور زمینی اصلاحات کے لیے قانون بنائے،کمیونٹی ڈیولپمنٹ کے لیے پروگرام بنائے اور آب پاشی کے پروجیکٹ پر کثیر رقم صرف کی۔
دراصل ناکامی پالیسیوں کی وجہ سے نہیں بلکہ اس کے عدم نفاذ میں پوشیدہ تھی کیوں کہ زمین دار طبقہ (Landowing classes) بڑی سماجی اور سیاسی طاقت رکھتا تھا۔ اس کے علاوہ ان کی دلیل یہ بھی تھی کہ اگر حکومت زراعت پر کافی پیسہ خرچ بھی کرتی تب بھی دیہی غریبی کا بھاری مسئلہ حل نہیں کر سکتی تھی۔

12

جے۔ سی۔ کمارپّا

(1892-1960)

اصل نام جے۔سی۔ کارنیلیس؛ ماہر معاشیات اور چار ٹرڈ اکاؤنٹنٹ؛ انگلستان اور ریاست ہائے متحدہ کے تعلیم یافتہ؛ گاندھیائی اصولوں کو اقتصادی پالیسیوں میں ملانے کی کوشش کی؛ ''Economy of Permanence" کے مصنف؛ پلاننگ کمیشن کے ممبر کی حیثیت سے منصوبہ بندی میں شرکت کی۔

30

13
آئیے ایک فلم دیکھیں
پاتھر پانچلی
اس فلم میں بنگال کے گاؤں کے ایک خاندان کی کہانی بیان کی گئی ہے جو اپنی غریبی کے ساتھ زندہ رہنے کی جدوجہد میں مصروف ہے۔ ہری ہر اور سربا جیہ کی لڑکی درگا اور اس کا چھوٹا بھائی اپو، غریبی اور جدوجہد سے بے خبر زندگی کے مزے لے رہے ہیں۔ کہانی دراصل اسی سیدھی سادی زندگی کے گرد گھومتی ہے۔ درگا اور اپو کی ماں کی اس جدوجہد کو دکھاتی ہے جو وہ خاندان کو چلانے کے لیے کررہی ہے۔
پاتھر پانچلی (ڈگرکا گیت) نوجوانوں کی کہانی کے ذریعہ ان آرزوؤں اور مایوسیوں کا بیان ہے جو ایک غریب خاندان میں ہوتی ہیں۔ آخر میںبارش کے موسم میں درگا بیمار پڑتی ہے اور جب اس کا باپ باہر گیا ہوا تھا وہ مر جاتی ہے۔ بعد میں وہ تحفے تحائف سے لداپھندا گھرآتا ہے جس میں درگا کے لیے ایک ساری بھی ہوتی ہے۔ اس فلم نے قومی اوربین الاقوامی سطح پر کئی انعام حاصل کیے جن میں 1955کے لیے صدارتی طلائی اور نقرئی تمغے بھی شامل ہیں۔
سال: 1955
ڈائرکٹر:      ستیہ جیت رے
کہانی:       ببھوتی بھوشن بند و پادھیائے
اسکرین پلے: سیتہ جیت رے
اداکار:     کانوبنرجی، کرونا بنرجی،سبیر بنر جی، اوما داس گپتا ، چنی بالا دیوی

عوام بنام نجی شعبہ

ہندوستان نے ترقی کے دو معروف طریقہ کار میں سے کسی ایک کومکمل طریقہ سے نہیں اپنایا۔ اس نے ترقی کا سرمایہ دارانہ نمونہ قبول نہیں کیا جس میں ترقی کو مطلقاً نجی شعبہ میں دے دیاجاتا ہے اور نہ ہی اس نے مکمل طور سے سماج وادی نمونہ کو اپنایا جس میں نجی اور ذاتی ملکیت کو یکسر ختم کر دیا جاتا ہے اور ہر پیداوار کی باگ ڈور ر یاست کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ ہندوستان میں ان دونوں سے کچھ عناصر کو لے کر مِلا لیا گیا۔ اس لیے اس کو ایک مِلی جُلی معیشت ، کا نام دیا گیا۔ زراعت ، تجارت اور صنعت کا زیادہ ترحصہ نجی ہاتھوں میں دے دیا گیا۔ جہاں تک ریاست کا تعلق تعلق ہے اس نے کلیدی بھاری صنعتوں پر کنٹرول رکھا، صنعتی لوازمات فراہم کیے، تجارت کومنظم کیا اور زراعت میں بھی چند اہم مداخلتیں کیں۔
اس قسم کے ایک ملے جلے نمونے پر دائیں اور بائیں دونوں بازوؤں کی جانب سے تنقید ہونی لازمی تھی۔ ناقدوں کا کہنا تھا کہ منصوبہ بندی کرنے والوں نے نجی شعبہ کو نہ زیادہ وسعت دی اور نہ ہی اسے نشوونما کے لیے ترغیبات و محرّکات بہم پہنچائیں۔ وسیع تر عوامی شعبہ نے بہت سے پوشیدہ مفادات کو جنم دیا جنھوں نے نجی سرمائے کے لیے اجازت نہ دی اور لائسنس کا نظام جاری کرکے اچھی خاصی رکاوٹیں کھڑی کیں۔ اس کے علاوہ ان سامانوں کی جو کہ قومی اور گھریلو بازار میں پیدا کیے جاسکتے تھے،درآمد پر پابندی عائد کرکے دراصل حکومت نے نجی شعبہ کو مقابلے سے آزاد کر دیا اور اس لیے اب نہ وہ اپنی پیداوار کو میعاری بنانے اور نہ ہی اس کی قیمت کم کرنے کو ضروری سمجھتے تھے۔ ریاست ضرورت سے زیادہ چیزوں کو اپنے کنٹرول میںرکھے ہوئے تھی جس کی وجہ سے کام چوری اور بد عنوانیوں میں اضافہ ہوا۔

14

عوامی شعبہ پر دونوں پاؤں لٹکائے ہوئے بیٹھے ہیں مرکزی وزرا لال بہادرشاستری ، اجیت پر سادجین، کیلاش ناتھ کاٹجو، جگ جیون رام ، ٹی ۔ ٹی ۔کرشنما چاری، سورن سنگھ، گلزاری لال نندہ اور بی۔وی۔کیسکر بشکریہ: شنکر

کچھ ایسے ناقدین بھی تھے جن کا خیال تھا کہ ریاست نے خاطر خواہ کام نہیں کیا۔ انھوں نے یہ نکتہ اٹھایا کہ تعلیم اور صحت کے میدانوں میں ریاست نے قابِل ذکر اور بامعنی اخراجات نہیں کیے ، ریاست نے صرف ان ہی مقامات پر مداخلت کی جہاں نجی شعبہ جانے کو تیار نہیں تھا۔ اس طرح ریاست نے نجی شعبہ کو منافع کمانے کا موقعہ دیا اور مدد کی۔ اس کے علاوہ ریاست کی مداخلت سے بجائے اس کے کہ غریبوں کی مدد ہوتی ایک ایسے ’’متوسط طبقہ‘‘ کا وجود عمل میں آیا جوبڑی بڑی تنخواہیں حاصل کرنے کے مزے لوٹتا تھا لیکن کسی کو جواب دہ نہ تھا اور اس عرصے میں غریبی میں بھی کوئی قابل ذکر کمی واقع نہیں ہوئی۔ حتٰی کہ جب غریبوں کا تناسب گھٹ گیا تب بھی ان کی تعداد بڑھتی رہی۔

اہم نتائج

وہ تین مقاصد جو آزاد ہندوستان سے وابستہ تھے پہلے تین ابواب میں بیان کیے گئے ہیں، ان میں سے تیسرا مقصد حاصل کرنا سب سے زیادہ دشوار ثابت ہوا۔ ملک کے زیادہ تر حصّوں میں زمینی اصلاحات مؤ ثر طریقے پر نافذ نہیں ہوئیں۔ سیاسی طاقت زمین مالک طبقے کے ہاتھ میں رہی۔ بڑے بڑے صنعت کار خوب پھلتے پھولتے رہے اور غریبی میں کوئی خاص کمی نہیں آئی۔ منصوبہ بند ترقی کی ابتدائی پیش قدمیوں سے ملک میں معاشی فروغ اور شہریوں کی فلاح و بہبود کے مقاصد کو حاصل کرنا تھا۔ شروع میں اس سمت میں اہم قدم اٹھانے کی نا اہلیت کی وجہ سے ایک سیاسی مسئلہ پیدا ہوگیا۔ اس غیر مساوی ترقی سے جن لوگوں کو فائدہ پہنچا وہ سیاسی طور سے طاقت ور ہوگئے اور انھوں نے اس سمت میں قدم بڑھانے کو اور زیادہ مشکل بنا دیا۔

بنیادیں

منصوبہ بند ترقی کے اس اولین دور کے نتائج کا جائزہ اس حقیقت کو ماننے سے شروع ہوناچاہیے کہ اسی زمانے میں ہندستان کے مستقبل کی اقتصادی ترقی کی بنیاد ڈالی گئی۔ہندستان کی تاریخ کے کچھ سب سے بڑے ترقیاتی منصوبے اسی زمانے میں عمل میں آئے۔ ان میںبرقی توانائی اورذریعۂ آب پاشی کے لیے بھاکڑہ ننگل باندھ اور ہیراکڈ باندھ کی تعمیر شامل ہے ۔ عوامی شعبہ میں کچھ بھاری صنعتیں جیسے فولاد کے کارخانے، تیل صاف کرنے کے کار خانے، دفاعی سازو سامان تیار کرنے کے کارخانے وغیرہ اسی زمانے میں شروع کیے گئے۔ ذرائع ابلاغ ومواصلات نے قابِل قدر ترقی کی۔ ابھی حال ہی میں ان عظیم ترقیاتی منصوبوں پر کافی نکتہ چینی کی گئی ہے ۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ بعد میں ہونے والی اقتصادی ترقی بشمول نجی شعبہ ا ن بنیادوں کے بغیر ناممکن تھی۔

حکومت کی مہم گاہوں میں پہنچتی ہے

’’ایک طرح سے دیوار پر چسپاں اثتہار گاؤں والوں کے مسائل اور ان کے حل کو صحیح صیحح متعا رف کراتا تھا۔ مثال کے طور پر مسئلہ یہ تھا کہ اگرچہ ہندوستان ایک زراعتی ملک تھا لیکن کسانوں نے محض کج روی کی بنا پر زیادہ غلہ اگانے سے انکار کر دیا تھا ۔حل یہ تھا کہ اس بارے میں کسانوں کے سامنے تقریریں کی جائیں اور ان کو ہر قسم کی دل کش تصویریں دکھائی جائیں۔ان سے کہا جائے کہ اگر وہ اپنے لیے نہیں تو کم سے کم قوم کے لیے ہی زیادہ اناج اگائیں۔تقریروں اور تصویروں کے سلسلے سے کسان کافی متاثر ہوئے۔ حتی کہ سب سے بھولا بھالاکسان بھی یہ سوچنے لگاکہ اس پوری مہم کے پیچھے کسی نہ کسی خفیہ مقصد کی موجودگی ہوسکتی ہے۔
ایسا ہی ایک اثتہار شوپال گنج میں کافی مشہور ہوا۔ اس میں سرپرپگڑی باندھے ہوئے ، کان میں بالیاں پہنے اور روئی بھری ہوئی بنڈی پہنے ایک تنومند کسان کو دکھایا تھاجو درانتی لیے ہوئے گیہوں کی لمبی لمبی بالیاں کاٹ رہا تھا ۔ اس کے پیچھے ایک عورت کھڑی تھی جو کافی خوش دکھائی دے رہی تھی اور وہ محکمۂ زراعت کے کسی افسر کی طرح ہنس رہی تھی ۔تصویر کے اوپر اور نیچے انگریزی میں لکھا تھا ’ زیادہ اناج اگاؤ ۔روئی کی صدریاں اور بالیاں پہننے والے کسان جو انگریزی بھی جانتے تھے انگریزی نعروں سے ان کو جیتا جا سکتا تھا اور وہ جو ہندی جانتے تھے ہندی ترجمہ سے بات سمجھ سکتے تھے۔اور جو لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے کم سے کم کسان اور ہنستی ہوئی عورت کی تصویر سے شناخت کر سکتے ہیں۔ حکومت کو توقع تھی کے لوگ جیسے ہی کسان اور ہنستی ہوئی عورت کو دیکھیں گے سب کچھ چھوڑچھاڑ کر زیادہ اناج اگانے میں مصروف ہو جائیں گے جیسے کہ ان پر جادو کر دیا گیا ہو‘‘
شر ی لال شکلاکے ’’راگ درباری ‘‘ کے ترجمہ سے ایک اقتباس ۔یہ 1960کے اتر پردیش کے ایک گاؤ ں شو پال گنج کی صورت حال پر طنز ہے۔

زمینی اصلاحات

اس دور میں سب سے زیادہ سنجیدہ کام زراعتی شعبہ میںزمینی اصلاحات کے حوالے سے ہوا ۔او ر ان میں سب سے زیادہ اہم اور کا میاب کام نوآبادیاتی نظام کی زمین دا ری کا خاتمہ تھا۔ اس جرأت مندانہ قدم نے نہ صرف زمین کو ایک ایسے طبقہ کے شکنجے سے چھڑایا جس کو زراعت میں کوئی دل چسپی نہیں تھی بلکہ اس نے زمین دا روں کی سیاست میں اثر انداز ہونے کی صلاحیت کو بھی کم کر دیا ۔ زمین کو یکجا کرنے کے سلسلہ میں ، یعنی کھیتوں کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کو ملا کر ایک بڑا کھیتبنانا تاکہ کاشتکاری دیر پا ثابت ہوسکے، میں بھی حکومت کومیابی ہوئی۔ لیکن زمینی اصلاحات کے دوسرے دو عناصرکو اتنی کامیابی نصیب نہیں ہوسکی۔ حالاں کہ زمین کی اوپر ی حد ، یعنی کہ ایک شخص زیادہ سے زیادہ کتنی زرعی زمین کامالک ہوسکتا ہے، کے متعلق قانون بنائے گئے لیکن وہ جن کے پاس سیلنگ (Ceiling)سے زیادہ زمین تھی قانون کو مختلف حیلوں بہانوں کے ذریعہ بے اثر کر دیتے تھے۔ اسی طرح سے وہ کسان جو دوسروں کی ملکیت پر کاشت کرتے تھے ان کو ہٹائے جانے کے خلاف زیادہ قانونی تحفظ فراہم کیا گیا لیکن اس کے نفاذ کی نوبت کم ہی آئی۔

15

اوہ! میں سمجھتا تھا کہ زمینی اصلاحات کا تعلق مٹی کی پیداواری صلاحیت کو بہتر بنانا ہے!

زراعت کے لیے ان بامقصد پالیسیوں کو ایک کھرے اور مؤ ثر عمل میں تبدیل کرنا آسان کام نہیں تھا۔ یہ جب ہی ہوسکتا تھا کہ دیہی اور بے زمین لوگ حرکت میں آئیں ۔ لیکن زمینوں کے مالک کافی طاقتور تھے اور بڑاسیاسی اثر ورسوخ بھی رکھتے تھے۔ اس طرح سے زمینی اصلاحات کی بہت سی تجویزیں قانون نہ بن سکیں۔ اور اگر بن بھی گئیں تو صرف کاغذ تک ہی محدود رہیں۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ اقتصادی پالیسی دراصل سماجی صورت حال کا ایک حصہ ہے۔ اور اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ چند چوٹی کے رہنماؤں کی نیک نیتی کے باوجود پالیسی بنانے اور اس کو نفاذ کر نے کی اصل قوت سماج کے با اثر گروہوں کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔

16

غذائی بحران

ساٹھ کی دہائی میں زراعت کی صورت حال بدسے بدتر ہوگئی۔ چالیس اور پچاس کی دہائیوں میں پہلے ہی سے غلّے کی پیداوار کاتناسب آبادی میں اضافے سے زراساہی زیادہ تھا۔ 1965 اور1967کے درمیان ملک کے کئی علاقوں میں بھاری قحط پڑا۔ اور جیساکہ ہم اگلے باب میں دیکھیں گے یہی وہ زمانہ تھا جب ہندوستان کو دو جنگوں اور زرِ مبادلہ کے بحران کا سامنا کرنا پڑا۔ ان سب نے مل کر ملک میں خطرناک حد تک خوراک کی کمی اور قحط جیسے حالات پیدا کردئیے۔
خوراک کے بحران کا سب سے شدید احساس بہار میں ہوا، جہاں ریاست کو تقریباً قحط سالی کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ بہار کے تمام اضلاع میں خوراک کی کمی نمایاں تھی اور ان میں سے 9اضلاع تو اپنی عام پیداوار کے آدھے حصے سے بھی کم پیدا کررہے تھے اورپانچ تو ایسے تھے جو اپنی معمول کے مطابق پیداوار کی ایک تہائی سے بھی کم اگارہے تھے۔ غذا سے محرومی کا نتیجہ غذائیت کی کمی کی صورت میں ظاہر ہوا۔ یہ اندازہ لگایا جاتا ہے کہ ریاست کے کئی علاقوں میں فی شخص فی روز کیلوری کا حصول2200 سے گھٹ کر 1200رہ گیا (جب کہ ایک عام آدمی کو 2450کیلوری ایک دن میں چاہیے)۔ 1967میں بہارمیں شرح پچھلے اگلے سال کی شرح اموات سے34فی صدزیادہ تھی۔شمالی ہندوستان کی دوسری ریاستوں کے مقابلے میں اشیا خوردنی کی قیمتیں بھی بہار میں بہت بڑھ گئی تھیں۔ خوش حا ل پنجاب کے مقابلہ میں گیہوں اور چاول کی قیمت بہار میں دوگنی سے زیادہ تھی۔ حکومت کی خطہ وار تقسیم(Zoning)پالیسی کی وجہ سے ریاستوں کے درمیان اناج کی تجارت ممنوع تھی۔ اس نے بہار میں غلہّ کی موجودگی پر ڈرامائی طور سے کمی کی۔ ایسی صورت حا ل میں سماج کے سب سے غریب طبقے نے سب سے زیادہ دکھ جھیلا۔
غذائی بحران کے کئی نتائج سامنے آئے۔ اب حکومت کو گندم درآمد کرنا پڑا اوربیرونی امداد خصوصاً (US)سے قبول کرنی پڑی۔ اب منصوبہ بندی کرنے والوں کی پہلی ترجیح کسی نہ کسی طرح خوراک میں خود کفیل ہونا تھا۔ منصوبہ بندی کاپورا عمل اور اس سے وابستہ احساس فخرو امید کو بھی شدید دھکا لگا۔

17

سبز انقلاب

اُس وقت موجود خوراک کے بحران کی وجہ سے یہ خطرہ لاحق ہوگیاتھا کہ کہیں ملک بیرونی ملکوں کے دباؤ اور خوراک کے معاملے میں ان ملکوں پرخصوصاً امریکہ پر انحصار کاشکار نہ ہوجائے ۔ اس کے بدلے میں امریکہ نے ہندوستان کو اپنی اقتصادی پالیسی تبدیل کرنے کے لئے مجبور کیا۔ غذا میں خود کفیل ہونے کے لیے حکومت نے ایک نئی حکمت عملی اختیار کی۔ پچھلی پالیسی کے برعکس بجائے اس کے کہ زراعتی طور سے پچھڑے ہوئے علاقوں اور کسانوں کی مزید مد دکی جاتی یہ فیصلہ کیا گیا کہ وسائل کو ان علاقوں اور کسانوں کے درمیان صرف کیا جائے جہاں پہلے سے آب پاشی کا نظام بہتر ہے اور جن کی مالی حالت بہتر ہے۔اس کے حق میں دلیل یہ تھی کہ جن کے پاس پہلے سے بہتر نظام موجود ہے وہ ایک مختصر مدت میں پیداوار کی مقدار بڑھا سکتے ہیں۔ اس پالیسی کے تحت حکومت نے بہترین قسم کے بیج، کھاد ،کیڑے مارنے کی دوائیں اور آبپاشی کے بہترین ذرائع کم قیمتوں پر فراہم کیے۔ حکومت نے یہ گارنٹی بھی دی کہ وہ اس پیداوار کو ایک مقررہ قیمت پر خریدلے گی۔ یہ ’سبز انقلاب‘ کی ابتدا تھی۔
اس عمل کے نتیجے میں سب سے زیادہ فائدہ دولت مند کسانوں اور بڑی بڑی زمینوں کے مالکوں کو ہوا۔سبز انقلاب زراعت میں معتدل اضافہ لایا (وہ بھی صرف گندم کی پیداوار میں) اور ملک میں خوراک کی دستیابی میں بھی اضافہ کیا لیکن علاقوں اور طبقوں کے درمیان قطبیت یا دوری کو بڑھایا۔پنجاب، ہریانہ اور مغربی اترپردیش جیسے علاقے زراعتی طور سے خوش حال ہوگئے ، جب کہ دوسرے علاقے پچھڑے ہی رہے۔ سبزانقلاب کے دونتیجے اور بھی تھے۔ ایک تویہ کہ غریب کاشت کار اور زمین داروں کے درمیان نمایاں تضاد نے بائیں بازو کی تنظیموں کو غریب کسانوں کو منظم کرنے کےلیے موافق صورت حال پیدا کر دی۔ سبز انقلاب کا دوسرا نتیجہ یہ بھی تھا کہ اس کے ذریعے کاشت کاروں کا متوسطہ طبقہ وجود میں آیا۔ یہ وہ کسان تھے جو اوسط درجے کی ملکیت رکھتے تھے اور جن کو تبدیلیوں سے فائدہ پہنچاتھا اور جو بہت جلد ملک کے بہت سے حصوں میں ایک مؤثر سیاسی طاقت بن کر اُبھرے۔
18

ہم اس کوگندم کا انقلاب کیوں نہیں کہتے؟اور کیا ضروری ہے کہ ہر چیز’ انقلاب‘ ہی ہو؟

آئیے تحقیق کریں

سری کانت کواب بھی وہ جدوجہد یا دہے جو راشن کی دوکان سے ماہانہ راشن لانے کے لیے اس کے بڑے بھائی کو کرنی پڑتی تھی۔ چاول ، تیل اور مٹی کے تیل کے لیے ان کے خاندان کو مکمل طور سے راشن کی دوکان پر بھروسہ کرنا پڑتا تھا۔ اکثر ایسا ہوا کہ اس کا بھائی ایک گھنٹہ تک لائن میں کھڑا رہا صرف یہ سننے کے لئے کہ سامان ختم ہوچکا ہے اور اب وہ نئی سپلائی یا سامان آنے کے بعد ہی آئے۔ اپنے خاندان کے بزرگوں سے گفتگو کے دوران معلوم کیجیے کہ راشن کارڈ کیا ہوتا ہے اور وہ اس سے کیا کیا سامان خریدتے ہیں۔ اپنے گھر یا اسکول کی کسی قریبی راشن کی دوکان پر جائیے اور معلوم کیجیے کہ کم سے کم تین چیزوں ،گندم ، چاول، تیل اور شکر کی قیمتوں میں راشن کی دوکان اور کھلے بازار کی قیمتوں کے درمیان کیا فرق ہے؟

تیز رفتار سفید انقلاب


19
آپ یقیناً ’اٹرلی بٹرلی ڈیلی شس ‘کی جھنکار (Jingle)سے مانوس ہوں گے اور اس کے ساتھ ہی ایک بہت ہی لاڈلی سی بچی کی تصویر جس کے ہاتھ میں مکھن لگا ہوا تو س (Toast)ہے۔ جی ہاں ۔ یہ اَمول کا اشتہار ہے۔ کیا آپ کو خبر ہے کہ ’اَمول پر وڈکٹس‘ کے پیچھے ہندوستان کی ایک کامیاب امداد باہمی یا ڈیری فارمنگ کی کہانی ہے۔ وہ مسٹر ورگیس کورین جن کو’ ہندوستان کا گوالا‘ کہتے ہیں، گجرات کو آپریٹو ملک اینڈ مارکیٹنگ فیڈریشن لمیٹیڈ میں اہم کردار ادا کیا ہے ، جس نے بالاآخر اَمول کو متعارف کرایا۔
اَمول دراصل پچیس لاکھ دودھ والوں کی ایک کو آپریٹو تحریک ہے جو گجرات کے قصبہ آنند میں قائم ہے۔ امول طریقۂ کار غریبی کے ہٹانے اور دیہی ترقی کی راہ میں ایک منفرد اور مناسب نمونہ بن گیا جس کو اَب سفید انقلاب کہا جاتا ہے۔ 1970میں ’آپریشن سیلاب‘ کے نام سے دیہی ترقی کا پروگرام شروع کیا گیا۔ ’ آپریشن سیلاب ‘ نے دودھ والوں کی کوآپریٹوسوسائٹیوں کاملک گیرجال بچھا دیا۔ اس مقصد کے ساتھ کہ دودھ کی پیداوار میں اضافہ ہو، درمیان کے بچولیوں کو ہٹا کر دودھ پیدا کرنے والوں اور دودھ خرید نے والوں میں قربت ہو -مزید یہ کہ دودھ پیدا کرنے والوں کو ایک مستقل سالانہ آمدنی کی یقین دہائی کرائی جائے۔ لیکن ’آپریشن سیلاب‘ صرف ایک ڈیری پروگرام ہی نہیں تھا۔ اس نے ڈیری فارمنگ کو ترقی کا ایک راستہ سمجھا جو دیہی گھرانوں کے لیے آمدنی اور روزگار مہیاّ کرے اور غریبی کم کرنے کا ذریعہ بنے۔ اس کو آپریٹوکے ممبروں کی تعداد لگاتار بڑھ رہی ہے ساتھ میں’ ویمنس ڈیری کوآپریٹو سوسائٹیز کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے۔

بعد کی ترقیات

چھٹی دہائی کے خاتمے پر ہندوستان کی ترقی کی داستان نے ایک نیا موڑ لیا۔ پانچویں باب میں آپ دیکھیں گے کہ کس طرح نہرو کی موت کے بعد کانگریس سسٹم کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اندراگاندھی ایک عوامی رہنما کی صورت میں ابھریں۔ انھوں نے معیشت کو چلانے اور قابو میں رکھنے کے لیے ریاست کے کردار کومزید مضبوط بنانے کا فیصلہ کیا۔1967کے بعد والے زمانے میں نجی صنعتوں پر کئی نئی پابندیاں عائد ہوئیں ۔ چودہ نجی بینکوں کو قومی بینک بنا لیاگیا۔ حکومت نے غریبوں کے حق میں کئی پروگراموں کا اعلان کیا ۔ یہ تبدیلیاں دراصل سماجوادی پالیسیوں کی طرف ایک نظریاتی جھکاؤ کے ساتھ ساتھ آئیں اور اس نے ملک میں گرمی اور جوش سے بھر پور بحث و مباحثے کی ایک لہر سیاسی پارٹیوں اور ماہرین کے درمیان پیدا کردی۔

بہرحال ریاست کی سرابرا ہی میں اقتصادی ترقی پر اتفاق رائے ہمیشہ کے لیے قائم نہیں رہ سکا، منصوبہ بندی جاری رہی لیکن اس کی اوّلیت بہت حد تک کم ہوگئی۔1950سے 1980کے درمیان ہندوستانی معیشت بہت سست رفتاری یعنی سالانہ تین سے ساڑھے تین فی صد سے بڑھی۔ عوامی شعبہ کی کچھ کمپنیوں میں جاری بدعنوانیوں اور نااہلتیوں اور نوکر شاہی کی اکڑفوں کے پیش نظر ملک کا وہ اعتماد متزلزل ہوگیا جو ابتدا میں ان اداروں پر کیا گیا تھا۔ عوام کے عدم اعتماد کی وجہ سے پالیسی بنانے والوں نے 1980کے بعد سے معیشت پر سے ریاست کادخل کم سے کم کر دیا۔ کہانی کے اس حصّہ کی تفصیل ہم کتاب کے آخر میں دیکھیں گے۔

20

ہم اوپر جارہے ہیں۔ جلدہی ہم بھوک اور محرومی سے اوپر ہوجائیں گے۔

فی الحال یہ تھوڑا سا ناشتہ کر لیجیے بشکریہ: شنکر

تیسرا منصوبہ

مشقیں

1 بمبئی پلان کے حوالے سے ان میں سے کون سا بیان غلط ہے؟

(a) یہ ہندوستان کے اقتصادی مستقبل کا ایک خاکہ تھا۔
(b) اس نے صنعت کے ریاستی ملکیت ہونے کی حمایت کی تھی۔
(c) اس کو کچھ نمایاں صنعت کاروں نے تیار کیا تھا۔
(d) اس نے منصوبہ بندی کی زور دار حمایت کی تھی۔

2 درج ذیل میں سے کون سا تصور ہندوستان کی ترقیاتی پالیسی کے ابتدائی دور کا حصہ نہیں تھا؟

(a) منصوبہ بندی (b) پُر تعاون زراعت (Coopreative Farming)
(c) لبر لا ئیز یشن یا نرم کاری(Liberalisation) (d) خود کفالت

3 ہندوستان میں منصوبہ بندی کا تصورلیا گیا ہے

    (a) بمبئی پلان سے
(b) سوویت بلاک کے ملکوں کے تجربات سے
(c) سماج کے گاندھیائی تصور سے
(d) کسانوں کی تنظیموں کے مطالبہ سے
(i) صرفb اورd  
(ii)صرف dاورc
    (iii) صرف aاورb
(iv)سب

4 مندرجہ ذیل کی جوڑی بنائیے۔

(a) چرن سنگھ (i) صنعت کاری
(b) پی۔ سی۔ مہالنوبس (ii) علاقائی حد بندی(Zoning)
(c) بہار کا قحط (iii) کسان
(d)ورگیس کورین     (iv) دودھ کی کوآپریٹوز

5 آزادی کے وقت ترقی کی نوعیت کے بارے میں خاص خاص اختلافات کیا تھے؟کیا اب یہ بحث ختم ہوگئی ہے؟

6 پہلے پانچ سالہ پلان میں کس بات پر زور تھا؟ دوسرا پلان پہلے پلان سے کن صورتوں میں مختلف تھا؟

7 سبز انقلاب کیا تھا؟ اس کے دو مثبت اور منفی نتائج بیان کیجیے۔

8 دوسرے پانچ سالہ پلان کے وقت صنعت کاری اور زرعی ترقی کے درمیان جو بحث چھڑ گئی تھی اس کے خاص خاص دلائل کیا تھے؟

9 ’’ہندوستان کی پالیسی بنانے والوں نے معیشت میں ریاست کے کردار کو اہم بنا کر غلطی کی۔اگر نجی شعبہ کو پہلے سے ہی کھلی چھوٹ دے دی جاتی تو ہندوستان کی ترقی کہیں زیادہ ہوتی‘‘ اس کی موافقت یا مخالفت میں دلائل پیش کیجیے۔

10. مندرجہ ذیل اقتباس پڑھیے اورآنے والے سوالوں کے جواب دیجیے۔

’’ آزادی کے شروع کے سالوں میں کانگریس پارٹی کے اندر دو رجحان کا فی نمایاں تھے۔ ایک طرف پارٹی کی قومی مجلس منتظمہ تھی جس نے ریاست کی ملکیت ، اور پیداوار کو بہتر بنانے کے لیے معیشت کے کلیدی سیکڑ پر گرفت اور ساتھ ہی اقتصادی مرکز یت کو دباؤ میں رکھنے جیسے سماج وادی اقدامات کی حمایت کی۔ دوسری جانب کانگریس حکومت نے چھوٹ دینے والی پالیسی اختیار کی نجی سرمایہ کو محرّکات بھی دیے۔ اور یہ حق بجانب بھی تھا کیوں کہ زیادہ سے زیادہ پیداوار حاصل کرنا ہی سرمایہ کاری کا واحد مقصد تھا‘‘۔ فرانسائن فرینکل

(a)مصنف کس تضاد کی بات کر رہا ہے؟ ایسے تضاد کے کیا سیاسی اثرات مرتب ہوں گے؟

(b)اگرمصنف کابیان درست ہے تو آخر ایسی پالیسی کانگریس کیوں اختیار کررہی تھی؟کیا اس کا تعلق اپوزیشنپارٹیوں کی نوعیت سے تھا؟

(c)کیا کانگریس پارٹی کی مرکزی لیڈر شپ اور ریاستی سطح کے لیڈروں کے درمیان بھی ایسا کوئی تضاد موجود تھا؟