Skip to content


1
 نہرو1955میں بانڈونگ میں ہونے والی ایفروایشین کانفرس میں گھاناکے نکرومہ، مصر کے ناصر ، انڈونیشیا کے سوکارنو اور یوگو سلاویہ کے ٹیٹو کے ساتھ۔ یہ پانچ رہنما نا وابستہ تحریک کی ریڑھ کی ہڈی تھے۔

اس باب میں... 

 اب تک اس کتاب میں ہم نے ملک کی اندرونی ترقی اور گھریلو چیلنجوں پر توجہ مرکوز رکھی ہے۔اب ہم بیرونی چیلنجوں کی طرف رخ کرتے ہیں۔ یہاں پر بھی ہمارے رہنماؤں نے ان کامقابلہ ایک بالکل ہی انوکھے طریقے یعنی ناوابستگی کی پایسی اختیار کرکے کیا۔ لیکن انھوں نے خود کو پڑوسیوں کے ساتھ تنازعوں میں بھی ملوث پایا۔ اور اس کے باعث1962، 1965اور1971کی جنگیں ہوئیں۔ ان جنگوں اور خارجی تعلقات نے ملک کی سیاست کو ایک شکل دی اور ملک کی سیاست پر ان کی چھاپ پڑی ۔
اس باب میں ہم خارجی اور داخلی سیاست کے درمیان تعلقات کی داستان کامطالعہ مندرجہ ذیل نکات پر غور کرتے ہوئے کریں گے۔

وہ بین الاقوامی تناظر جس نے ہندوستان کے خارجی تعلقات کی تشکیل کی

•  وہ کار فرما اصول جنھوں نے ملک کی خارجہ پالیسی کی تشکیل کی
•  پاکستان اور چین کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات کی تاریخ اور
ہندوستان کی نیوکلیائی پالیسی کا ارتقا۔


باب4

ہندوستان کے خارجی تعلقات

بین الاقوامی تناظر

ہندوستان ایک بہت ہی آزمائش اور مشکلات سے پُر بین الاقوامی تناظر میں وجود میں آیا۔ دنیا حال ہی میں ایک تباہ کن جنگ دیکھ چکی تھی اور ابھی تک تعمیر نو کے کام سے دست وگریباں تھی ۔ اس کے باوجود بھی ایک بین الاقوامی تنظیم کی تیاریاں جاری تھیں ۔ نوآبادیاتی نظام کے خاتمے کی وجہ سے نئے ممالک ظہور پذیر ہورہے تھے اور زیادہ تر نئے ممالک فلاح و بہبود اور جمہوریت کے دوہرے مسائل پر قابو پانے کی جدوجہد کر رہے تھے۔ آزادی کے بعد آزاد ہندوستان کی خارجہ پالیسی نے ان تمام تشویشوں کی عکاسی کی۔ ان عالمی سطح کے عناصر کے علاوہ ہندوستان کی خود اپنی بھی مشکلیں تھیں۔ برطانوی حکومت سے وراثت میں کئی بین الاقوامی تنازعات ملے تھے۔ بٹوارہ کا اپنا دباؤ تھا اور غریبی کم کرنے کا کام پہلے ہی تکمیل کا منتظر تھا۔ یہ وہ پس منظر تھا جس میں ہندوستان نے ایک آزاد قوم کی حیثیت سے بین الاقوامی امور میں حصہ لینا شروع کیا۔
عالمی جنگ کے پس منظر سے ابھر ے ہوئے ملک کی حیثیت سے، ہندوستان نے اپنے خارجی تعلقات کی بنیاد دوسری قوموں کے اقتداراعلیٰ کے احترام اور امن کے قیام کے ذریعہ تحفظ پر رکھی۔ اس کی گونج ہمیں ریاستی پالیسی کے رہنما اصولوں میں صاف دکھائی دیتی ہے۔
جس طرح داخلی اور خارجی عناصر ایک فرد یا خاندان کے رجحان یا برتاؤ پر اثر انداز ہوتے ہیں اسی طرح ملکی اور بین الاقوامی ماحول کسی قوم کی خارجہ پالیسی پر اپنا اثر چھوڑتا ہے۔ ترقی پذیر ممالک وسائل کی کمی کے باعث اپنا نقطہ نظر اور وسوسے بین الاقوامی منظر پر موثر انداز میں نہ پیش کرسکے۔ لہذا ترقی یا فتہ ممالک کے مقابلہ میں انھوں نے زیادہ معتدل مقاصد سامنے رکھے۔ انھوں نے اپنے پڑوس میں امن و ترقی پر زیادہ توجہ دی۔ اس کے علاوہ ترقی یا فتہ ممالک پر ان کے تحفظ اور معاشی ترقی کے لیے انحصار پر بھی ان کی خارجہ پالیسی کبھی کبھی متاثر ہوئی۔ دوسری عالمی جنگ کے فوراً بعدزیادہ ترترقی پذیر ممالک نے ان طاقتور ملکوں کی خارجہ پالیسی کی ترجیحات کی حمایت کی جوان کو امداد یا قرض دیتے تھے۔ اس طرز عمل نے دنیا کے ملکوں کو دو واضح دھڑوں میں تقسیم کر دیا۔ ایک گروہ تو ریاست ہائے متحدہ اور اس کے مغربی حلیفوں کے زیر اثر تھا دوسرا اس وقت کے سوویت یونین کا حامی تھا۔ اس کے متعلق آپ اپنی کتاب ’دورحاضر کی عالمی سیاست‘ میں پڑھ چکے ہیں۔ اس میں آپ نے نا وابستہ تحریک کے تجربے کے بارے میں بھی  پڑھا ہوگا۔ اوریہ بھی پڑھا ہوگا کہ سردجنگ کے خاتمہ سے کس طرح بین الاقوامی تعلقات کی صورتحال یکسربدل گئی۔ لیکن جس وقت ہندوستان کو آزادی حاصل ہوئی اور اس نے اپنی خارجہ پالیسی مرتب کرنی شروع کی تو وہ سرد جنگ کی ابتداء کا زمانہ تھا اور دنیا کے ممالک ان دونوں گروہوں میں سے کسی ایک میں شامل ہونے کے عمل سے گزر رتھے۔ کیا پچاس اور ساٹھ کی دہائی کی عالمی سیاست میں ہندوستان ان میں سے کسی گروہ میں شامل ہوا؟ کیا یہ اپنی خارجہ پالیسی کو پُرامن طریقہ سے چلانے اور بین الاقوامی تنازعات سے کنارہ کشی کرنے میں کامیاب رہا؟


آزادی کس چیز سے بنتی ہے؟ یہ بنیادی طور سے خارجی تعلقات سے بنتی ہے۔ یہی آزادی کی آزمائش ہے۔ اس کے علاوہ اور سب کچھ مقامی خود اختیاری ہے۔ اگر خارجی تعلقات آپ کے ہاتھوں سے نکل کر ایک بار کسی دوسرے کے ہاتھوں میں چلے گئے تو اس حد تک آپ آزاد نہیں ہیں۔

جواہر لعل نہرو

مارچ  1949میں دستور ساز اسمبلی میں ایک بحث کے دوران۔

آئینی اصول

ہندوستانی آئین کی دفعہ 51میں بین الاقوامی امن اور تحفظ کے فروغ کی غرض سے ریاست کے لیے کچھ رہنما اصول وضع کئے ہیں:
’’ریاست کی ہر ممکن کوشش ہوگی کہ وہ--- 
(a) بین الاقوامی امن اور تحفظ کو فروغ دے
   (b) قوموں سے باعزت اور منصفانہ تعلقات قائم رکھے
  (c)  منظم لوگوں کے باہمی معاملات میں بین الاقوامی قانون اور معاہدوں کی پابندی کے احترام کو مضبوط بنائے; اور
  (d) بین الاقوامی تنازعات کو گفت و شنید اور ثالثی کے ذریعے طے کرنے کی ہمت افزائی کرے‘‘
آزادی کے بعد کی دودہائیوں میں ہندوستان ان اصولوں پر کہاں تک کھرا اُترا؟ اس باب کو پڑھنے کے بعد آپ اسی سوال پر واپس آسکتے ہیں

نا وابستگی کی پالیسی

ہندوستان کی قومی تحریک ایک تنہا اور الگ تھلگ عمل نہیں تھی بلکہ یہ اس عالمی جدوجہد کا حصہ تھی جو اس زمانہ میں سامراجیت اور نو آبادیاتی نظام کے خلاف جاری تھی اور اس نے اکثر ایشیائی اور افریقی ممالک کی جدوجہد آزادی کو متاثر کیا۔ ہندوستان کی آزادی سے پہلے اس کے قومی رہنماؤں کا دوسرے ملکوں کے رہنماؤں سے رابطہ تھا کیوں کہ وہ سامراجیت اور نو آبادیاتی نظام کے خلاف جدوجہد میں ایک رشتے سے جُڑے ہوئے تھے۔ جب دوسری عالمی جنگ کے دوران نیتاجی سبھاش چندر بوس نے آزاد ہند  (Indian National Army, INA) بنائی تو یہ اس حقیقت کا سب سے واضح ثبوت تھا کہ آزادی کی جدوجہد کے دوران ہندوستان سے باہر بسنے والے ہندوستانیوں اور ہندوستان کے درمیان رشتوں کی کڑیاں موجود ہیں۔
کسی قوم کی خارجہ پالیسی اس کے اندرونی اور بیرونی عناصر کے باہمی تعا مل سے بنتی ہے۔ لہٰذا جن نیک اور اعلیٰ مقاصدکو لے کر ہندوستان کی جدوجہد آزادی آگے بڑھی تھی وہی نصب العین ہندوستان کی خارجہ پالیسی کا بھی رہنما رہا۔ لیکن ہندوستان کی آزادی کا حصول اور سرد جنگ کی ابتدا ساتھ ساتھ ہوئی اور جیسا کہ آپ نے اپنی کتاب ’دورِ حاضر کی عالمی سیاست‘ میں پڑھا ہوگا کہ یہی وہ وقت تھا جب عالمی سطح پر معاشی ، فوجی اور سیاسی اعتبار سے یہ دوردو عظیم طاقتوں یعنی ریاست ہائے متحدہ اور سوویت یونین کے درمیان کشاکش کا زمانہ تھا۔ اسی زمانے میں اقوام متحدہ کا قیام، نیو کلیائی ہتھیاروں کی تخلیق ، کمیونسٹ چین کا ظہور اور نوآبادیاتی نظام کے خاتمہ کی ابتدا بھی ہوئی۔ لہٰذاہندوستان کی قیادت کو قومی مفاد ات، موجود بین الاقوامی ماحول میں حاصل کرنے تھے۔

2

یہ چوتھا  باب ہے اور نہرو کا ذکر پھر موجود ہے۔ کیا وہ کوئی سُپر مین (Super man)تھے؟ یاکیا اس کے رول کو بڑھاوا دیا گیا؟

ہماری عام پالیسی یہ ہے کہ طاقت کی سیاست میں نہ الجھیں اور نہ ہی ایک گروہ کے مقابلے میں دوسرے گروہ کے ساتھ ہو ں ۔ آج کے دوگر و ہوں میں ایک تو روسی بلا ک ہے اور دوسرااینگلو امریکن بلا ک ہے۔ ہمیں دونوں سے دوستی قائم رکھنی ہے لیکن کسی میں شا مل نہیں ہونا ہے۔ امریکہ اور روس دونوں ہی ایک دوسرے کے بارے میں اور دوسرے ملکوں کے بارے میں بہت حد تک شکوک و شبہات میں مبتلا ہیں۔ یہ ہمارا راستہ دشوار کر دیتاہے۔ اور یہ دونوں ہم کو اس شک کی نظر سے دیکھیں گے کہ ہم دوسرے گروہ کی جانب جھک رہے ہیں۔ لیکن اس کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں ہے۔

جواہر لعل نہرو 

کا کے ۔پی۔ایس ۔ مینن کے نام ایک خط جنوری 1947۔

نہرو کا کردار

پہلے وزیراعظم جواہرلعل نہرو نے قومی ایجنڈے یا پروگرام کو تیار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ خود ہی وزیر خارجہ بھی تھے۔ وزیر اعظم اور وزیر خارجہ کی دوہری حیثیت سے 1946سے196تک کے عرصہ میں ہندوستان کی خارجہ پالیسی کے بنانے اور نافذ کرنے میں ان کا اثر ٹھوس اور نمایاں تھا۔ نہرو کی خارجہ پالیسی کی تین خصوصیات بہت واضح تھیں۔ ایک تو یہ کہ خون پسینہ سے حاصل کیے ہوئے اقتدار اعلیٰ کو برقرار رکھنا ، ملکی حد ود کی سا  لمیت کی حفاظت کرنا اور آخر میں ایک تیزرفتار اقتصادی ترقی کو فروغ دینا۔ نہروکے خیال میں یہ تین مقصد ناوابستگی کی حکمت عملی کے ذریعہ حاصل کیے جاسکتے تھے۔ ملک میں بہرحال ایسے گروہ اور پارٹیاں موجود تھیں جو چاہتی تھیں کہ ہندوستان کے ریاست ہائے متحدہ سے دوستانہ تعلقات ہونے چاہئیں کیوں کہ یہ گروہ جمہوریت پسند تھا۔ اس خیال کے لیڈروں میں ڈاکٹرامبیڈکر بھی شامل تھے۔ کچھ کمیونسٹ مخالف سیاسی پارٹیاں بھی چاہتی تھیں کہ ہندوستان ریاست ہائے متحدہ کی حمایت خارجہ پالیسی اختیار کرے۔ اس میں بھارتیہ جن سنگھ اور سوتنتر پارٹی شامل تھیں۔ لیکن خارجہ پالیسی مرتب کرنے میں ہوا کارخ نہرو کے ساتھ تھا۔

دونوں کیمپوں سے دوری

آزاد ہندوستان کی خارجہ پالیسی نے پرامن دنیا کے خواب کو بڑی ہمت سے زندہ رکھا۔ اور اس سلسلہ میں ناوابستگی کی پالیسی کی حمایت ، سرد جنگ کی کشید گیوں کو کم کرنے کی کوششیں اور اقوام متحدہ کے قیام امن کی کاروائیوں میں انسانی وسائل کی حصہ داری کے ذریعے اپنی شرکت جاری رکھی۔ ہندوستان ریاست ہائے متحدہ اور سوویت یونین کے ایک دوسرے کے خلاف فوجی معاہدوں سے الگ رہنا چاہتا تھا جیسا کہ آپ نے اپنی کتاب ’دور حاضر کی سیاست ‘ میں پڑھا ہوگا کہ ریاست ہائے متحدہ کی زیر قیادت NATOاور سوویت یونین کے زیر قیادت وار ساپیکٹ جیسے فوجی معاہدے سردجنگ کے دوران کیے گئے۔ ہندوستان نے ناوابستگی کی حمایت ایک مثالی خارجہ پالیسی کے رجحان کی حیثیت سے کی۔
توازن قائم رکھنے کا یہ ایک مشکل طریقہ تھا اور کبھی کبھی یہ توازن مساوی بھی نہیں لگتا تھا۔ جب 1956میں برطانیہ نے نہر سوئز کے مسئلہ پر مصر پر حملہ کیا، ہندوستان نے اس جدید نوآبادیاتی حملے پر عالمی اجتماج کی قیادت کی تھی لیکن جب اسی سال سوویت یونین نے ہنگری پر حملہ کیا تواس وقت ہندوستان نے اس کی عالمی مذمت میں حصہ نہیں لیا۔ ان سب کے باوجود ہندوستان نے اکثر بین الاقوامی مسائل پرآزادانہ موقف اختیار کیا اور دونوں بلاکوں کے ممبر ممالک سے امداد حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔
 جس وقت ہندوستان دوسرے ترقی پذیر ممالک کو نا وابستگی کی پالیسی کی تلقین کر رہا تھا پاکستان نے ریاست ہائے متحدہ کی زیر قیادت کیے گئے فوجی معاہدوں میں شرکت کی ۔ ریاست ہائے متحدہ ہندوستان کے آزادانہ رویے اور ناوابستگی کی پالیسی سے خو ش نہیں تھا۔ لہٰذا پچاس کی دہائی میں ہند-امریکہ تعلقات میں خاصا تناؤ تھا۔ریاست ہائے متحدہ  کو ہندوستان اور سوویت یونین کے بڑھتے ہوئے تعلقات بھی ناپسند تھے۔
آپ پچھلے باب میں ہندوستان کی اختیار کردہ منصوبہ بند اقتصادی ترقی کے بارے میں پڑھ چکے ہیں۔ اس پالیسی نے درآمدات کے متبادل پر زور دیا۔ وسائل کی بنیاد پر زور دینے کا یہ مطلب بھی تھا کہ برآمداتی پیداوار محدود  کردی جائے ۔ ترقی کی اس حکمت عملی نے باہر کی دنیا کے ساتھ ہندوستان کے اقتصادی تعلقات بہت حد تک محدود کردئیے۔

3

 جب ہم چھوٹے تھے بہت غریب تھے اور زیادہ غیر محفوظ تھے تو بہتر طر یقہ سے جانے جاتے تھے اور زیادہ طاقتور بھی تھے۔ کیا یہ عجیب بات نہیں ہے؟

ایک ایسا ملک جس کے پاس قوت کے تین ذرائع یعنی وسائل ، پیسہ اور ماہرین نہ ہوں اب بہت تیز رفتاری سے مہذب دنیا کی ایک اخلاقی قوت کی حیثیت سے معروف ہوتا جارہا ہے۔ بڑی طاقتوں کی کونسل میں اس کی باتوں کو احترام کے ساتھ سنا جاتا ہے۔

سی۔ راج گوپالاچاریہ

ایڈوینا ماؤنٹ بیٹن کے نام خط،  1950

افریقی --- ایشیائی اتحاد 

پھر بھی ہندوستان کے رقبہ ، محل و قوع اور قوت کی صلاحیت کے پیش نظر نہرو کا یہ خیال تھا کہ ہندوستان کو عالمی امور میں بڑا کردار ادا کرنا چاہیے خصوصاً ایشیائی معاملات میں۔ نہرو کے زمانے کی خصوصیت یہ بھی تھی کہ ہندوستان ،ایشیا اور افریقہ کے نئے آزاد شدہ ممالک کے درمیان تعلقات ہموار ہوئے۔ چالیس اور پچاس کی دہائیوں کے درمیان نہرو نے ایشیا ئی اتحاد کی زبردست وکالت کی۔ مارچ1947 یعنی حصول آزادی سے پانچ ماہ قبل نہرو کی رہنمائی میں ہندوستان نے ایشیائی تعلقات کا نفرنس منعقد کی۔ ہندوستان نے ڈچ نوآبادیاتی نظام سے انڈونیشیا کی آزادی کے لیے بھی پُر خلوص کوششیں کیں اور اس سلسلہ میں 1949میں ایک بین الاقوامی کانفرنس کا اہتمام بھی کیا تاکہ وہاں کی جدوجہد آزادی کو حمایت حاصل ہو۔ہندوستان نو آبادیاتی نظام کے خاتمہ کا پر جوش حامی تھا اور نسل پر ستی خصوصاً جنوبی افریقہ کی نسلی تفریق کا زبردست مخالف تھا۔ ہندوستان اور نئے آزاد شدہ افریقی اور ایشیائی ممالک کے تعلقات کا نقطہ عروج 1955میں انڈونیشیائی شہر بنڈ ونگ میں ہونے والی کانفرنس تھی۔ بعد میں بنڈونگ کانفرنس نے ناوابستہ تحریکNAM یعنی  (Non-Alligned Movement) کے لیے راہ ہموار کی۔
 اس تنظیم کی پہلی چوٹی کانفرنس ستمبر 1961میں بلگریڈ میں منعقد ہوئی۔ نہروNAMکے بانیوں میں سے ایک تھے (دیکھیے دَورحاضر کی عالمی سیاست کاپہلا باب)

چین کے ساتھ امن اور کشاکش 

پاکستان کے برخلاف آزاد ہندوستان اور چین کے تعلقات کی ابتدا بڑے دوستانہ ماحول میں ہوئی۔1949میں چین کے انقلاب کے بعد ہندوستان پہلا ملک تھا جس نے کمیونسٹ حکومت کو تسلیم کیا ۔ نہرو کے دل میں اپنے پڑوسی کے لیے  جومغربی سامراجیت کے سائے سے ابھر رہا تھا، کئی نرم گوشے تھے اور انھوں نے بین الاقوامی سطح پر نئی حکومت کی کافی مدد کی۔ نہرو کے کچھ ساتھیوں کو جن میں ولبھ بھائی پٹیل شامل تھے چین کی طرف سے مستقبل میں حملہ کا اندیشہ تھا۔ لیکن نہرو کاخیال تھا کہ یہ بعید ازقیاس ہے کہ چین ہندوستان پر حملہ کرے گا۔ ایک لمبے عرصہ تک چین کی سرحدیں فوج کے بجائے نیم فوجی اداروں کے تحفظ میں تھیں۔
29 اپریل 1954کو چینی وزیراعظم چواین لائی اور ہندوستانی وزیر اعظم نہرو نے پنچ شیل یعنی پُرامن بقائے باہمی کے پانچ اصولوں کا مشترک اعلان کیاجو دونوں ملکوں کے درمیان رشتوں کو مزید مضبوط بنانے کی جانب ایک قدم تھا۔ ہندوستانی اور چینی رہنماؤں نے ایک دوسرے کے ملکوں کا دورہ کیا اور دونوں ملکوں کے عوام کی کثیر تعداد نے ان کا دوستانہ استقبال کیا۔

چینی حملہ،1962  

دو واقعات نے ان تعلقات میںکشیدگی پیداکر دی۔1950میں چین نے تبت کا الحاق اپنے ساتھ کر لیا اور اس طرح دونوں ملکوں کے درمیان ایک فاصل ریاست کو ختم کردیا۔ شروع میں تو ہندوستانی حکومت نے اس کی کھل کر مخالفت نہیں کی لیکن جب اور خبریں آنے لگیں اور تبتی ثقافت کے کچلے جانے کی خبریں ملنے لگیں تو ہندوستانی حکومت کو کچھ بے چینی ہوئی۔1959میں تبت کے روحانی پیشوا دلائی لامہ نے ہندوستان سے سیاسی پناہ مانگی ۔ چین نے الزام لگایا کہ ہندوستانی حکومت ہندوستان کے اندرچین مخالف سرگرمیوں کی اجازت دے رہی ہے۔
اس سے کچھ پہلے ہندوستان اور چین کے درمیان ایک سرحدی تنازعہ بھی اٹھ کھڑا ہوا تھا۔ ہندوستان کا دعویٰ تھا کہ سرحد کامعاملہ نوآبادیاتی زمانہ میں طے ہوچکا تھا لیکن چین کی دلیل تھی کہ کوئی نوآبادیاتی فیصلہ اب لاگو نہیں ہوتا ۔ اصل تنازعہ اس لمبی سرحد کے مشرقی اور مغربی کناروں کا تھا۔ چین نے ہندوستان کی سرزمین کے دوحصوں پر اپنا دعویٰ کیا۔ پہلا تو جموں اورکشمیر کے لدّاخ کے علاقے میں آکسائی چین پر، دوسرے اروناچل پردیش کے ایک کثیر علاقے پر جو اس وقت NEFA یعنی North Eastern Frontier Agencyکہلاتا تھا ۔ 1957اور  1959کے درمیان چین نے اکسائی چن پرقبضہ کر لیا۔
 اور وہاں پر فوجی اہمیت کی ایک سڑک بنالی ۔ دونوں ملکوں کے رہنماؤں کے درمیان ایک طویل گفت و شنید اور خط و کتابت کا بھی کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ اور دونوں ملکوں کی فوجوں کے درمیان چھوٹی موٹی سرحدی جھڑپیں بھی ہوئیں۔ 

4

دلائی لامہ اپنے پیروکاروں کے ساتھ ہندوستان میں داخل ہوتے ہوئے

 بشکر یہ: ہومائی ویارولاّ

تبت

وسطی ایشیا کے علاقہ کا سطح مر تفغ جسے تبت کہا جاتا ہے ان بڑے مسائل میں سے ایک ہے جو تاریخی اعتبار سے چین اور ہندوستان کے درمیان کشیدگی کا سبب بنا۔تاریخ میں کئی بارچین نے تبّت پر اپنے انتظامی اختیار کا دعویٰ کیا تھا۔ اور کبھی نہ کبھی تبّت  آزاد بھی رہا۔1950میں چین نے تبّت کو اپنے اختیار اور قبضہ میں لے لیا ۔ آبادی کے بڑے حصے نے اس کی مخالفت کی۔ ہندوستان نے چین کو سمجھا نے بجھانے کی کوشش کی کہ وہ تبت کے آزادی کے دعویٰ کو تسلیم کرلے۔ جب 1954میں ہندوستان اور چین کے درمیان پنج شیل سمجھو تہ پر دستخط ہوئے تو سمجھوتہ کی ایک دفعہ کے مطابق، جس میں ایک دوسرے کی علاقائی سا لمیت اور اقتدار اعلیٰ کا احترام کرنے کی بات کہی گئی تھی، ہندوستان نے تبّت پر چین کے قبضہ کو مان لیا تھا۔1956 میں چینی وزیراعظم چواین لائی کے ہندوستان کے دورے میں تبّت کے روحانی پیشوا دلائی لاما بھی ان کے ساتھ آئے تھے۔ انھوں نے نہرو جی کو تبّت کی بگڑتی ہوئی صورت حال سے روشناس کردیا تھا۔لیکن چین پہلے ہی ہندوستان کو یقین دہائی کراچکا تھا کہ تبّت کو چین کے کسی بھی دوسرے علاقہ کی بہ نسبت زیادہ خود مختاری حاصل ہوگی، 1958میں تبّت کے اندر چین کے قبضہ کے خلاف مسلح بغاوت ہوگئی۔ اسے چین کی فوجوں نے کچل دیا۔ دلائی لامہ نے یہ محسوس کرتے ہوئے کہ صورت حال ابتر ہوگئی ہے وہ1959میں ہندوستانی سرحد میں داخل ہوگئے اور یہاں پناہ کی درخواست کی جو قبول کر لی گئی۔ چین کی حکومت نے اس پر زبردست احتجاج کیا۔ گزشتہ نصف صدی سے تبتیوں کی ایک بڑی تعداد نے ہندوستان اور دوسرے بہت سے ملکوں میں پناہ لی ہے۔ ہندوستان، خاص طور پر دہلی میں، تبتیوں کی بڑی بڑی بستیاں آباد ہیں۔ ہماچل کے شہر دھرم شالہ میں غالباً ہندوستان کی سب سے بڑی تبتی پناہ گزینوں کی بستی ہے۔ دلائی لامہ نے بھی دھرم شالہ کو ہندوستان میں اپنا مسکن بنا لیا ہے۔1950اور1960کی دہائیوں میں بہت سے سیاسی رہنماؤ ں اور کئی پارٹیوں نے، جن میں سوشلسٹ پارٹی اور جن سنگھ بھی شامل ہیں ، تبت کی آزادی کی حمایت کی۔
چین نے تبت کو ایک خود مختار علاقہ بنا دیا ہے جو چین کا اٹوٹ حصہ ہے۔ تبتی لوگ چین کے اس دعویٰ کی مخالفت کرتے ہیں کہ تبّت چین کا ایک حصہ ہے۔ وہ تبّت میں چینیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو لاکر بسانے کے بھی مخالف ہیں۔ تبتی چین کے اس دعویٰ کو بھی نہیں مانتے کہ تبّت کو خود مختاری دے دی گئی ہے۔ ان کے خیال میں چین تبت کے روایتی مذہب اور ثقا فت کی جڑوں کو کھوکھلا کرنا چاہتا ہے اور اسے ختم کرنا چاہتا ہے۔

5

نوٹ : یہ نقشہ پیمانہ کے مطابق نہیں ہے لہٰذا اس کو ہندوستان کی سرحدوں کا با ضا بطہ  نقشہ نہیں سمجھا جانا چاہیے۔


6

دیکھو! اب اگر کوئی ناخو شگوار واقعہ پیش آیا توتمام تر ذمہ داری تمہاری ہوگی!

1960میں چین کے ساتھ سرحدی جھگڑے اٹھ کھڑے ہوئے ۔ نہرو اور ماؤز تسے تنگ کے درمیان بات چیت ناکام رہی۔

7

زیر تعمیر تاریخی ثبوت

 چبن کاحملہ

چین کا رولر

ثبوت زیر تعمیر

8
وی۔ کے۔کرشنا مینن
(1897-1974)

سیاستداں اور وزیر1934 سے 1947 تک برطانیہ کی لیبر پارٹی کے سرگرم رکن؛ برطانیہ میں ہندوستان کے ہائی کمیشنر اور بعد میں اقوام متحدہ میں ہندوستانی ڈیلی گیشن کے سربراہ؛ راجیہ سبھا اور لوک سبھا کے ممبر ؛ 1956سے مرکزی کا بینہ کے ممبر 1957 سے وزیر دفاع؛ نہرو کے بہت قریب سمجھے جاتے تھے؛ 1962میں ہندچین جنگ کے بعد استعفیٰ دے دیا۔


کیا آپ کو ’دور حاضر کی سیاست‘ کے پہلے باب میں کیوبا کے میزائل بحران کا تذکرہ یاد ہے؟ جب کہ پوری دنیا کی نگاہیں دوعظیم طاقتوں کے درمیان پیدا ہونے والے بحران پر ٹکی ہوئی تھیں۔ چین نے اکتوبر1962میں دونوں متنازعہ علاقوں پر اچانک تیز اور بھاری حملہ کر دیا۔ پہلا حملہ ایک ہفتہ تک جاری رہا اور چینی فوج نے اروناچل پردیش کے کچھ علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ حملہ کی دوسری لہر اگلے مہینے میں اُٹھی۔ حالاں کہ مغربی محاذ لداخ میں ہندوستانی فوجوں نے چینی فوجوں کی پیش قدمی روک دی لیکن مشرق میں چینی آسام کے میدانوں کی دہلیز تک پہنچ گئے۔ آخر میں چینیوں نے خود  یک طرفہ جنگ بندی کا اعلان کردیا اور حملہ سے پہلے والے مقام پر واپس چلے گئے۔

 سچ بات تو یہ ہے کہ میرا تاثر(چواین لائی کے بارے میں ) اچھا اور موافق ... چینی وزیر اعظم، مجھے یقین ہے، ایک اچھے اور قابل اعتماد شخص ہیں

سی۔ راج گو پالاچاریہ

 ایک خط میں ،  دسمبر 1956

چینی حملہ کی وجہ سے اندرونی اور بیرونی طور پر ہندوستان کی امیج کچھ مسخ ہوگئی بحران پر قابو پانے کی غرض سے فوجی امداد کے لیے ہندوستان کو برطانیہ اور امریکہ کی طرف رجوع کرنا پڑا۔ اس پورے بحران کے عرصہ میں سوویت یونین غیر جانب د ار رہا۔ اگرچہ اس کی وجہ سے قومی تذلیل کا احساس ہوا۔ لیکن خود قوم پرستی کے جذبہ میں اس نے نئی روح پھونک دی۔ چوٹی کے کچھ فوجی افسروں نے یا تو استعفیٰ دے دیا یا ریٹا ئر کر دئیے گئے۔ نہرو کے قریب ترین ساتھی اور اس وقت کے وزیرد فاع کرشنا مینن کو کابینہ چھوڑنی پڑی۔ خود نہرو کی اپنی شخصیت اور مرتبہ کو اس سے کافی نقصان پہنچا۔ چین کے ارادوں کو سمجھنے میں ان کی سادہ لوحی اور نادانی پر سخت نکتہ چینی کی گئی ۔ ہندوستانی فوج کی بے سروسامانی کی کیفیت پر بھی کڑی تنقید کی گئی۔ اور پہلی بار لوک سبھا میں حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی قرار داد پیش کی گئی اور اس پر بحث ہوئی۔ اس کے فوراً بعد ہی کانگریس نے کچھ نشستیں ضمنی الیکشن میں گنوا دیں۔ ملک کا سیاسی رجحان بدل رہا تھا۔ 
ہند چینی اختلاف نے اپوزیشن پارٹیوں کو بھی متاثر کیا۔اس تنازعہ اورسوویت یونین اور چین کے مابین بڑھتے ہوئے اختلافات نے ہندوستان کی کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا(CPI)کے اندر کبھی نہ مٹنے والے اختلافات پیدا کردئیے۔سوویت یونین کا حامی گروہ ہندوستانی کمیونسٹ پارٹی (CPI)ہی میں رہااورکانگریس سے قریب ہوگیا۔دوسرا گروہ کچھ عرصہ تک چین کے قریب رہا اور وہ کانگریس سے کوئی بھی رابطہ رکھنے کا مخالف تھا۔آخر1964میں پارٹی تقسیم ہوگئی۔ اورموخرالذکرگروہ کے رہنماؤں نے کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا( مارکسسٹ) یعنی(CPI(Mکے نام سے الگ پارٹی بنالی۔چین سے جنگ کے زمانہ میں اکثر ایسے لیڈر جنھوں نے بعد میں (CPI(Mبنائی چین سے موافق نظریات کی بنا پر گرفتار کر لیے گئے تھے۔
چین کے حملہ نے ہندوستانی قیادت کو اس آتشیں ماحول سے آگاہ کیا جس سے شمالی مشرق کا علاقہ دو چار تھا۔ یہ علاقہ پس ما ند ہ اور الگ تھلگ تو تھا ہی ساتھ ساتھ یہ قومی یکجہتی اور سیاسی اتحاد کے لیے بھی بڑا خطرہ تھا۔ اس کی ازسر نو تقسیم اور تشکیل کا سلسلہ چینی جنگ کے فوراً بعد ہی شروع ہوگیا۔ ناگا لینڈ کو ریاست کا درجہ دیا گیا۔ منی پور اور تری پورہ کو مرکزی یونین علاقوں کے ذریعہ اپنی اپنی قانون ساز اسمبلیاں چننے کا اختیار دیا گیا۔

9

میں نے اپنے دادا سے سنا ہے کہ جب  1962کی جنگ کے بعد لتا منگیشکر نے ’اے میرے وطن کے لوگو ...... ، گاکر سنایا تو نہروجی عوام کے سامنے پھوٹ پھوٹ کر رو پڑے تھے۔

آئیے ، ایک فلم دیکھیں

10
آئیے ، ایک فلم دیکھیں
حقیقت
ہندوستانی فوج کی ایک چھوٹی پلاٹون کو لداخ کے علاقے کے خانہ بدوش بچاتے ہیں۔ دشمنوں نے ان کی چوکی کو گھیر رکھا ہے کیپٹن بہادر سنگھ اور اس کی خانہ بدوش گر ل فرینڈ کمّو، چوکی سے نکلنے میں جوانوں کی مدد کرتے ہیں بہادر سنگھ اور کمّو چینیوں کو روکتے روکتے اپنی جان دے د یتے ہیں لیکن جوان پھر بھی دشمن کے نرغہ میں آجاتے ہیں اور لڑتے لڑتے اپنی جان ملک پر قربان کردیتے ہیں۔
1962کی چینی جنگ کے پس منظر میں تیار کی گئی اس فلم کی کہانی کا مرکزی خیال سپاہی اور اس کی مشقتوں کے اردگرد گھومتا ہے۔ یہ کہانی سپاہیوں کی جدوجہد کی
منظر کشی کے علاوہ ان کو خیراج عقیدت بھی پیش کرتی ہے اور اس مایوسی کو نمایاں کرتی ہے جو چین کی فریب دہی کی وجہ سے پیدا ہوا تھا۔ فلم میں کہیں کہیں دستاویز ی ثبوت بھی دئیے گئے ہیں یہ جنگ پر مبنی ہندی کی پہلی فلموں میں شمار کی جاتی ہے۔
سال  :  1964
ہدایت کار  :  چیتن آنند
اداکار  :   دھرمیندر، پریہ راج و نش، بلراج ساہنی، جینت، سدھیر، سنجے خان، وجے آنند

تیز رفتار

1962 کے بعد ہند چینی تعلقات

ہندوستان اور چین کو اپنے تعلقات بحال کرنے میں دس سال سے زیادہ کا عرصہ لگا اور 1976میں دونوں ملکوں کے درمیان مکمل سفارتی تعلقات قائم ہوگئے۔ اٹل بہاری باجپئی(جو اس وقت وزیرخارجہ تھے)پہلے چوٹی کے لیڈر تھے جنھوں نے 1979میں چین کا دورہ کیا۔ بعد میں راجیو گاندھی، نہرو کے بعد دوسرے وزیراعظم تھے جنھوں نے چین کا دورہ کیا۔ اس کے بعد سے دونوں ملکوں کا زور زیادہ تر تجارتی پہلو پر ہے۔ اپنی کتاب’ دور حاضر کی عالمی سیاست‘ میں آپ اس کے متعلق پڑھ چکے ہیں۔

پاکستان کے ساتھ امن اور جنگیں

  جہاں تک پاکستان کا سوال ہے بٹوارہ کے فوراً بعد ہی کشمیر کے مسئلہ پر تنازعہ شروع ہوگیا۔ آپ اس تنازعہ کے بارے میں تفصیل سے آٹھویں باب میں پڑھیں گے۔1947میں کشمیر میں ہندوستانی اور پاکستانی فوجوں کے درمیان ایک بالواسطہ جنگ شروع ہوگئی۔ یہ ایک مکمل جنگ میںتبدیل نہیں ہوئی۔ اس وقت یہ مسئلہ اقوام متحدہ کے حوالہ کر دیا گیا۔ جلدہی پاکستان، ہندوستان اور امریکہ اور بعد میں چین کے ساتھ رشتوں میں ایک اہم اور نازک عنصر بن گیا۔
کشمیر کے مسئلہ نے باہمی تعاون کو ختم نہیں کیا ہندوستان اور پاکستان کی حکومتوں نے بٹوارہ کے دوران اغوا شدہ عورتوں کو ان کے اصل گھروں تک پہنچا نے میں ایک دوسرے سے تعاون کیا۔ دریائی پانی کے استعمال کے پرانے مسئلہ کو عالمی بینک کی نگرانی اور ثالثی میں سلجھایا گیا۔ 1960میں نہرو اور جنرل ایوب نے ہندو پاک سندھ پانی معاہدہ پر دستخط کیے۔ ہندو پاک رشتوں میں کئی نشیب و فراز کے باوجود یہ معاہدہ سب سے زیادہ کار گراورکامیاب رہا۔
1965میں دونوں ملکوں کے درمیان ایک بڑا فوجی تصادم ہوا۔ اور جیسا کہ آپ اگلے باب میں پڑھیں گے اس وقت لال بہادر شاستری وزیر اعظم تھے۔ اپریل  1965 میں پاکستان نے گجرات کے رن کچھ علاقہ پر فوجی حملہ کیا۔ اس کے بعد ایک بڑا حملہ اگست اور ستمبر کے درمیان جموں اور کشمیر پر کیا۔ پاکستانی حکمرانوں کا خیال تھا کہ وہ مقامی آبادی کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے لیکن ایسا ہوا نہیں۔ کشمیر کے محاذ پر شدت کم کرنے کی خاطر شاستری نے پنجاب کی سرحد پر جوابی محاذ کھولنے کا حکم دیا۔ ایک بہت ہی سخت جنگ کے بعد ہندوستانی فوج لاہور کے قریب پہنچ گئی۔
اقوام متحدہ کی مداخلت کے بعد لڑائی ختم ہوگئی۔ اس کے بعد جنوری  1966میں وزیر اعظم لال بہادر شاستری اور پاکستان کے جنرل ایوب کے درمیان تاشقند معاہدہ پر دستخط ہوئے جس کی نگرانی سوویت یونین نے کی تھی۔ اگرچہ ہندوستان نے فوجی اعتبار سے پاکستان کو کافی نقصان پہنچایا لیکن 1965کی جنگ نے ہندوستان کی پہلے ہی سے کمزور اقتصادی حالت میں اضافہ کردیا۔
11

ہم یہ کیوں کہتے ہیں کہ ہندستان اور پاکستان میں جنگ ہوئی؟ لیڈر جھگڑے کرتے ہیں اور فوجیں لڑتی ہیں ۔ عام لوگوں کا ان چیزوں سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔

بنگلہ دیش سے جنگ،1971 

1970کے شروع میں پاکستان میں سب سے بڑا اندرونی خلفشار پیدا ہوا۔ ملک کے پہلے عام انتخابات نے تقسیم کا فیصلہ دیا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی پارٹی مغربی پاکستان میں کامیاب
رہی جب کہ شیخ مجیب الرحمان کی سربراہی میں عوامی لیگ نے مشرقی پاکستان میں بے پناہ کامیابی حاصل کی۔ دراصل مشرقی پاکستان کی بنگال آبادی کا یہ ووٹ ان کے خلاف احتجاج تھا جو مغربی پاکستان میں رہتے تھے اور ان کو دوسرے درجہ کا شہری سمجھتے تھے۔ پاکستانی حکمراں نہ ہی یہ جمہوری فیصلہ ماننے کو تیار تھے اور نہ ہی مشرقی پاکستان کے وفاق کے مطالبہ کو قبول کرنے پر آمادہ تھے۔

12


اس کے بجائے پاکستانی فوج نے1971کے شروع میں شیخ مجیب الرحمان کوگرفتار کر لیا اور مشرقی پاکستان کے عوام پر دہشت اور خوف کی حکمرانی کا دور قائم کر دیا۔ اس کے جواب میں عوام نے’ بنگلہ دیش ‘ کو پاکستان سے آزاد کرانے کی جدوجہد شروع کر دی۔ 1971کے پورے سال ہندوستان ان پناہ گزینوں کا بوجھ اٹھا تا رہا جو مشرقی پاکستان سے بھاگ کر پڑوس کے ہندوستانی علاقوں میں آگئے تھے اور جن کی تعداد تقریباً  80  لاکھ تھی۔ ہندوستان نے بنگلہ دیش کی جدوجہد آزادی کی اخلاقی اور مالی طور سے حمایت کی۔ پاکستان نے ہندوستان پر اس کو ٹکڑے کرنے کا الزام لگایا۔
امریکہ اور چین پاکستان کی حمایت میں آگے آئے۔ امریکہ اور چین کے درمیان خوش گوار تعلقات کی تجدید ساٹھ کی دہائی میں ہوئی جس کے نتیجہ میں ایشیا میں فوجوں کی تعیناتی میں تبدیلی ہوئی ہنری کیسنجرنے جو امریکہ کے صدررچڑڈنکسن کے مشیر خاص تھے ، جولائی1971میں پاکستان چین کا خفیہ دو رہ کیا۔ امریکہ ، چین اور پاکستان کے محور کے جواب میں ہندوستان نے اگست 1971میں سوویت یونین کے ساتھ بیس سال کے لیے امن اور دوستی کامعاہدہ کیا ، جس کی رُو سے ہندوستان پر حملہ کی صورت میں سوویت یونین نے اس کی مدد کرنے کا وعدہ کیا۔
آخر کار مہینوں کے سفارتی تناؤ اور فوجی تیاریوں کے بعد دسمبر 1971 میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان مکمل سطح پر جنگ شروع ہوگئی۔ پاکستانی جہازوں نے پنجاب اور راجستھان پر حملہ کیا اور اس کی فوج جموں وکشمیر کے محاذ کی جانب روانہ ہوئی۔ ہندوستان نے اس کا جواب مغربی اور مشرقی دونوں محاذوں پر فضائی، بحری اور برّی فوجوں کو استعمال کرکے دیا۔ مقامی آبادی کے پر جوش استقبال اور مدد کی وجہ سے ہندوستانی فوجوں نے مشرقی پاکستان میں کافی تیزی سے پیش قدمی کی۔
 دس دن کے اندر ہی ہندوستانی فوجوں نے ڈھاکہ کو تین طرف سے گھیر لیا اور پاکستانی فوج کو جس کی تعداد 90,000تھی ،ہتھیار ڈالنے پڑے۔ جب بنگلہ دیش ایک آزاد ملک بن گیا تو ہندوستان نے یک طرفہ جنگ بندی کا اعلان کر دیا۔ بعد میں 3 جولائی  1972کواندر اگاندھی اور ذوالفقار علی بھٹو کے درمیان شملہ معاہدہ پر دستخط ہوئے جس سے امن و آشتی کادور باضابط طور سے واپس آگیا۔

13

یہ تو ایسا لگتا ہے جیسے سوویت یونین کے بلاک کو جوائن کرلیا ہو۔کیا سوویت یونین کے ساتھ اس معاہدہ پر دستخط کے باوجود ہم خود کو ایک ناوابستہ یا غیرجانبدار ملک کہہ سکتے ہیں؟

14

تیز رفتار کارگل تنازعہ

1999کے شروع میں ہندوستان کی طرف کے لائن آف کنٹرول کے کچھ مقامات جیسے مشکوہ ، دراس، کا کسر اور بٹالک ان طاقتوں کے قبضے میں تھے جو خود کو مجاہدین کہتے 
تھے۔پاکستانی فوج کی مشکو ک شمولیت کے باعث ہندوستانی فوج نے اس قبضہ پر ردّعمل ظاہر کرنا شروع کیا۔ اس سے دونوںملکوں میں تنازعہ پیدا ہوگیا۔ یہ کارگل تنازعہ کے نام سے مشہور ہے۔ یہ تنازعہ مئی جون 1999کے دوران رہا۔ 26 جولائی1999تک ہندوستان نے بیشتر مقامات دوبارہ حاصل کرلیے تھے۔ کارگل تنازعہ نے پوری دنیا کی توجہ اپنی جانب کھینچا کیوں کہ ابھی ایک سال پہلے ہی دونوں ملکوں نے نیو کلیائی صلاحیت حاصل کی تھی۔ بہرحال یہ فوجی تنازعہ صرف کارگل ہی تک محدود رہا۔ لیکن پاکستان میں ایک بڑے اختلافات کا سبب بنا اور یہ الزام لگایا گیا کہ فوج کے سربراہ نے اس معاملہ میں پاکستانی وزیر اعظم کو اندھیرے میں رکھا ۔ اس تنازعہ کے فوراً بعد پاکستانی فوج نے اپنے سربراہ جنرل پرویز مشرف کی قیادت میں حکومت پر قبضہ کر لیا۔

15


جنگ کی فیصلہ کن فتح نے قومی جشن کی صورت اختیار کرلی۔ اکثر لوگوں کا خیال تھا کہ یہ ہندوستان کے لیے ایک مایہ ناز اور شاندار لمحہ ہے اور اس کی بڑھتی ہوئی فوجی طاقت کی واضح علامت ہے۔ جیسے کہ آپ اگلے باب میں پڑھیں گے اس وقت اندر اگاندھی وزیر اعظم تھیں۔ انھوں نے 1971کا لوک سبھا کا الیکشن جیت لیا تھا۔ ان کی ذاتی مقبولیت 1971 کی جنگ کے بعد کافی بڑھ گئی۔ جنگ کے بعد زیادہ تر ریاستوں میں اسمبلی کے الیکشن ہوئے جن میں اکثر ریاستوں میں کانگریس کو اکثریت حاصل ہوئی۔
اپنے محدود وسائل کے ساتھ ہندوستان نے ترقی کی منصوبہ بندی شروع کی تھی لیکن پڑوسیوں کے ساتھ اختلافات نے پانچ سالہ منصوبہ کو پٹری سے اتار دیا۔ ہندوستان نے اپنے محدود وسائل کو بھی دفاع کی جانب موڑ دیا خصوصاً  1962کے بعد جب ہندوستانی فوج کو جدید آلات سے آراستہ کرنے کی ضرورت محسوس کی۔ نومبر 1962میں دفاعی پیداوار کا محکمہ قائم کیا گیا اور نومبر1965میں دفاعی سپلائی کا۔ تیسرا پانچ سالہ منصوبہ (1961-1966) سخت متاثر ہوا اور اس کے بعد تین سالانہ منصوبے آئے۔ چوتھا منصوبہ 1969میں ہی شروع ہوسکا ۔ جنگوں کے بعد ہندوستان کا دفاعی بجٹ تیزی سے بڑھ گیا۔

ہندوستان کی نیوکلیائی پالیسی

اس زمانے کا ایک نازک اقدام مئی 1974میں ہندوستان کا نیوکلیائی دھماکہ تھا۔ ایک جدید ہندوستان کی تعمیرکے راستے میں نہرو نے ہمیشہ سائنس اور ٹیکنالوجی پر بھروسہ رکھا۔ ان کی صنعت کاری کے منصوبہ کا ایک اہم جزنیوکلیائی پروگرام تھا جس کو چالیس کی دہائی میں ڈاکٹر ہومی۔جے بھابھاکی نگرانی میں شروع کیا گیا تھا۔ ہندوستان پُرامن مقاصد کے لیے نیوکلیائی توانائی حاصل کرنا چاہتا تھا۔ نہرو نیوکلیائی ہتھیاروں کے خلاف تھے۔ لہٰذاا نھوں نے عظیم طاقتوں سے نیوکلیائی اسلحہ کی مکمل تخفیف کی اپیل کی۔ لیکن نیوکلیائی ذخیرہ بڑھتا ہی رہا۔ جب اکتوبر 1964میں کمیونسٹ چین نے نیوکلیائی ٹسٹ کیے تو دنیا کی پانچ نیوکلیائی طاقتوں یعنی امریکہ، سوویت یونین، برطانیہ، فرانس اور چین (اس وقت تائیوان چین کی نمائندگی کرتا تھا) نے ،جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے دائمی رکن بھی تھے، باقی دنیا پر 1968کا ’غیرتوسیعی معا ہد ہ‘ (NPT)لاگو کرنا چاہا۔ ہندوستان نے ہمیشہ NPTکو جانب دار انہ سمجھا اور اس پردستخط کرنے سے انکار کردیا۔جب ہندوستان نے پہلا نیوکلیائی تجربہ کیا تو اس کو ’پُرامن دھماکے‘ کا نام دیا گیا۔ ہندوستان نے دلیل دی کہ وہ نیوکلیائی صلاحیت کو پُر امن مقاصد کے استعمال کے موقف پر مضبوطی سے قائم ہے۔
یہ نیو کلیائی تجربے جس زمانے میں کیے گئے وہ گھریلو سیاست کے لیے مشکل زمانہ تھا۔ 1973 کی اسرائیل عرب جنگ کے بعد ساری دنیا تیل کے صدمے سے دوچار تھی کیوں کہ عرب ملکوں نے قیمت بہت زیادہ بڑھادی تھی۔ اس سے ہندوستان میں بھی معاشی بحران پیدا ہوا اورافراط زر کافی بڑھ گئی۔ آپ چھٹے باب میں پڑھیں گے کہ اس زمانے میں ملک کے اندر کئی احتجاج جاری تھے جن میں ملک گیرریلوے ہڑتال شامل تھی۔
 اگرچہ خارجی تعلقات نبھانے کے سلسلہ میں ملک کی سیاسی پارٹیوں کے درمیان چھوٹے چھوٹے اختلافات موجود ہیں لیکن قومی یکجہتی اور اتحاد کے سلسلہ میں سب ہی پارٹیوں کے درمیان اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔ یہی بات بین الاقوامی سرحدوں کی حفاظت اور قومی مفاد کے بارے میں بھی کہی جاسکتی ہے۔ لہٰذا ہم دیکھتے ہیں کہ1962-72 کی دہائی کے دوران جس میں کہ ہندوستان نے تین جنگیں لڑیں یا بعد کے زمانے میں بھی جب مختلف اوقات میں مختلف پارٹیاں بر سراقتدار آتی رہیں ، پارٹیوں کی سیاست میں خارجی پالیسی کا کردار بہت محدود رہا ہے۔
16

میری سمجھ میں نہیں آرہاہے!کیایہ سب کچھ ایٹم بم سے متعلق نہیں ہے؟تو پھر ہم ایساکیوں نہیں کہتے؟

تیز رفتار      ہندوستان کا نیوکلیائی پروگرام

ہندوستان توسیع مخالف معاہدوں کے خلاف ہے کیوں کہ ان کا اطلاق صرف غیر نیوکلیائی طاقتوں پر ہوتا ہے اورپانچ نیوکلیائی طاقتوں کو جائز ٹھہراتے ہیں۔ لہٰذا ہندوستان نے1995میں Non-Proliferation TreatyیعنیNPT کی غیر معینہ مدت کی توسیع کی مخالفت کی اور تجربات پر مکمل پابندی کے معاہدہ یعنی   Comprehensive Test Ban Treatyیعنی  C.T.B.T  پردستخط کرنے سے انکار کردیا۔
ہندوستان نے مئی1998میں کئی نیوکلیائی تجربہ کئے اورنیوکلیائی طاقت کو فوجی اغراض و مقاصد کے استعمال کے لیے اپنی صلاحیت کا اظہارکیا۔ پاکستان نے بھی فوراً یہی کام کیا اور علاقہ کا تحفظ نیوکلیائی زور آزمائی پر چھوڑ دیا گیا۔ بر صغیر میں نیو کلیائی تجربوں سے بین الاقوامی برادری کافی فکر مندتھی اور اس نے ہندوستان اور پاکستان پر پابندیاں عائد کر دیں جو کہ بعد میں ہٹالی گئی تھیں۔ ہندوستان نیوکلیائی میدان میں’استعمال میں پہل نہیں‘کے اصول پرقائم ہے اور عالمی سطح پر جان دارادنہ اورقابلِ تصدیق نیوکلیائی تخفیف اسلحہ کے لیے کوشاں ہے جو بالآخر دنیا کو نیو کلیائی ہتھیاروں سے مکمل نجات د لادے۔

عالمی سیاست میں بدلتے اتحاد  

جیساکہ آپ چھٹے اور نویں باب میں پڑھیں گے 1977کے بعد کئی غیر کانگریس حکومتیں بر سرا قتدار آئیں۔ یہ وہی وقت تھا۔ جب عالمی سیاست میں بھی ڈرامائی تبدیلیاں آرہی تھیں۔ ہندوستان کے خارجی تعلقات کے لیے ان کی کیا اہمیت ہے؟جب 1977میں جنتا پارٹی کی حکومت بنی تو اس نے اعلان کیا کہ وہ ایک سچی غیر جانبدا ر پالیسی اپنائے گی۔ اس کا مطلب تھا کہ خارجہ پالیسی میں سوویت یونین کی طرف جو جھکاؤ تھا اس کو صحیح کیا جائے گا۔اس کے بعد تمام حکومتوں نے (کانگریسی یا غیر کانگریسی) چین کے ساتھ بہتر تعلقات قائم رکھنے اور امریکہ سے قریبی رشتے استوار کرنے پر زور دیا۔ہندوستانی سیاست اور عوام کی سوچ کے مطابق ہندوستان کی خارجہ پالیسی کا دو سوالات سے گہرا تعلق ہے۔ ایک تو پاکستان کے بارے میں ہندوستانی موقف اور دوسرا ہند امریکی تعلقات ۔1990کے بعد کے زمانے میں حکمراں پارٹیوں پرا کثر ان کی امریکہ نواز پالیسیوں پر نکتہ چینی کی گئی ہے۔
خارجہ پالیسی کی بنیاد ہمیشہ قومی مفاد پر منحصر ہوتی ہے۔اگرچہ 1990کے بعد بھی روس ہندوستان کا ایک اہم دوست رہا لیکن اس کی عالمی قدر و منزلت ختم ہوگئی۔لہذا ہندوستان کی خارجہ پالیسی کا جھکاؤ امریکہ کی جانب زیادہ ہوگیا اس کے علاوہ موجودہ بین الا قوامی صورتحال میں اقتصادی مفادات،فوجی مفادات سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔ اس حقیقت نے بھی ہندوستان کی خارجہ پالیسی کو مرتب کرنے پر اثر ڈالا۔ اس کے علاوہ اس دوران ہندوستان و پاکستان کے تعلقات میں کئی موڑآئے۔ حالاں کہ دونوں ملکوں کے درمیان اب بھی کشمیر کا مسئلہ سر فہرست ہے لیکن تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے کافی کوششیں کی گئی ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ دونوں جانب سے اقتصادی تعاون ، شہریوں کی آمدورفت اور ثقافتی تبا دلوں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی ۔ کیا آپ کو علم ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان ایک بس سروس چلتی ہے اور ساتھ ہی ریلوے سروس بھی۔ یہ ماضی قریب میں بہت بڑی کا میابی تھی۔ اس کے باوجود بھی 1999میں دونوں ملکوں کے درمیان تقریباً جنگ کی حالت کو ٹالا نہیں جاسکا۔امن کی کوششوں کو اس دھچکے کے باوجود بھی پائیدار امن کی طرف کوششیں جاری ہیں۔

مشقیں

ہر بیان کے آگے غلط یا صحیح لکھیے۔

(a) ناوابستگی کی وجہ سے ہندوستان سوویت یونین اور امریکہ دونوں سے مدد لینے میں کامیاب رہا۔
(b)   اپنے پڑوسیوں سے ہندوستان کے تعلقات شروع ہی سے ناخوش گو ار ہیں۔
(c)    سردجنگ نے ہندوستان و پاکستان کے تعلقات کو بہت متاثر کیا ہے۔
(d) 1971کا امن اور دوستی کا معاہدہ ہندوستان اور امریکہ کی قربت کا نتیجہ تھا۔

2۔  جوڑی بنائیے

(1) 1950-64تک ہندوستان کی خارجہ پالیسی کا مقصد       1   تبت کے روحانی پیشوا جو سرحد پار کرکے ہندوستان آئے
(b) پنچ شیل       2  سرحدوں کی سا  لمیت کا تحفظ ، اقتدار اعلیٰ اور اقتصادی ترقی کا تحفظ
(c)    بنڈونگ کانفرنس     3   پُر امن بقائے باہمی کے پانچ اصول 
(d)    دلائی لامہ            4    NAMکے قیام کے لیے راہ ہموار کی
3۔نہرو ایسا کیوں سوچتے تھے کہ خارجہ پالیسی کا عملی پہلو آزادی کا لازمی اشاریہ ہے۔ مثالوں کے ساتھ کوئی بھی دووجوہات بیان کیجیے جس سے آپ کے مطالعہ کا انداز ہ ہوسکے۔
خارجی امور کا انتظام گھریلو یا اندرونی دباؤ اور موجودہ بین الاقوامی ماحول کے درمیان باہمی عمل کا نتیجہ ہے۔‘‘ ہندوستان کے 1960کے خارجی تعلقات سے ایک مثال لے کر اپنے جواب کو زیادہ واضح کیجیے۔
اگر اختیار آپ کے ہاتھوں میں دے د یا جائے تو ہندوستانی خارجہ پالیسی کے وہ کون سے دو عناصر ہوں گے جو آپ باقی رکھنا چاہیں گے اور کون سے دو عناصر آپ ختم کرنا چاہیں گے؟ اپنے موقف کو مضبوط بنانے کے لیے دلائل دیجیے۔

6۔مندرجہ ذیل پر مختصر نوٹ لکھے؟

 (a) ہندوستان کی نیوکلیائی پالیسی
 (b)   خارجہ پالیسی کے امور پر اتفاق رائے

ہندوستان کی خارجہ پالیسی کی بنیاد امن اور تعاون کے اصولوں پر رکھی گئی تھی لیکن دس سال کے اندر (1962-1972) ہندوستان نے تین جنگیں لڑیں۔ کیا آپ کے خیال میں یہ خارجہ پالیسی کی ناکامی کا نتیجہ تھا؟ یایہ بین الاقوامی حالات کا نتیجہ تھا؟ اپنے جواب کے حق میں دلائل پیش کیجئے۔

کیا ہندوستان کی خارجہ پالیسی اس کی ایک اہم علاقائی طاقت بن جانے کی خواہش کو ظاہر کرتی ہے؟

1971 کی بنگلہ دیش جنگ کو ایک مثال بناکر اپنا جواب پیش کیجئے۔

ایک ملک کی سیاسی قیادت اس کی خارجہ پالیسی کو کیسے متاثر کرتی ہے؟ ہندوستان کی خارجہ پالیسی سے مثالیں لے کر اس بیان کو واضح کیجئے۔

10۔ مندرجہ ذیل اقتباس کوپڑھیے اور نیچے دئیے گئے سوالوں کے جواب د یجیے۔

’’موٹے طورپر ناوابستگی کا مطلب یہ ہے خود کو کسی فوجی بلاک سے منسلک نہ کیا جائے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ جہاں تک ممکن ہوسکے حالات کو ہمیشہ فوجی عینک لگا کر نہیں دیکھنا چاہیے، اگر چہ کبھی کبھی یہ بھی ضروری ہوجاتا ہے، بلکہ آزادانہ طریقہ سے دیکھنا چاہیے۔اور تمام ممالک سے دوستانہ تعلقات قائم رکھنے چاہئیں -- ‘‘ جواہر لعل نہرو
(a) نہرو فوجی بلاکوں یا دھڑوں سے کیوں دور رہنا چاہتے تھے؟
(b)       کیا آپ کے خیال میں ہند-روس امن اور دوستی کا معاہدہ ناوابستگی اورغیر جانبداری کی خلاف ورزی تھا؟ اپنے جواب کی وجوہات بیان کیجیے۔
(c) اگر فوجی بلاک نہ ہوتے تو کیا آپ کے خیال میں نا وابستگی غیر ضروری ہوتی؟