
اس باب میں...
باب 5
کانگریس سسٹم کو درپیش چیلنج اور اس کی بحالی

سیاسی جانشینی کا چیلنج

جب فرانس اور کناڈامیں ایسے حالات ہوتے ہیں تو کوئی ناکامی اور ملک ٹوٹنے کی بات نہیں کرتا۔آخر شبہات ہمیشہ ہم پر ہی کیوں کیے جاتے ہیں؟

لال بہادر شاستری
(1904-1966): ہندوستان کے وزیراعظم ؛ 1930 سے آزادی کی جدوجہد میں شامل؛ اترپردیش کابینہ میں وزیر؛ کانگریس کے جنرل سیکریٹری؛ 1951 سے 1956تک مرکزی کابینہ کے وزیر؛ بعد میں ریلوے حادثہ کی وجہ سے استعفیٰ ؛ پھر 1957سے 1964تک وزیر رہے۔ ’جے جوان جے کسان‘ کا نعرہ دیا۔
نہرو سے شاستری تک
۔۔۔۔ ہندستان کے نئے وزیر اعظم کے نام کا اعلان’برطانوی وزیر اعظم کے مقابلہ میں‘ زیادہ سرعت اور احترام کے ساتھ ہوا ہے
3 ؍جون 1964 کو لندن کے اخبار The Guardian کا اداریہ۔ نہروکے بعد سیاسی جانشینی اور برطانیہ میں ہیرلڈ میک ملن کے بعد جانشینی کے ڈارمہ کا موازنہ کرتے ہوئے۔
شاستری سے اندر اگاندھی تک

تصویر
مردوں کی بالادستی والی دنیا میں
بشکریہ: آر۔کے ۔لکشمی ٹائمز آف انڈیا18جنوری1966

اندرا گاندھی (1917-1984) 1966سے 1977 اور 1980 سے 1984 تک ہندوستان کی وزیر اعظم ؛ جواہر لعل نہرو کی بیٹی؛ جد و جہد آزادی میں ایک نوجوان کارکن کی حیثیت سے حصہ لیا؛ 1958 میں کانگریس کی صدر؛ 1954 سے 1966 تک شاستری کی کابینہ میں وزیر؛ کانگریس پارٹی کو 1967،1971 اور1980 کے الیکشنوں میں فتح یاب کیا، ’غریبی ہٹاؤ‘ کا نعرہ دیا؛ 1971 کی جنگ میں کامیابی؛ نوابوں اور راجاؤں کی تنخواہوں یعنی (پریوی پر س) کا خاتمہ؛ بنیکوں کو قومی تحویل میں لینا ؛ نیوکلیائی تجربہ اور ماحولیاتی تحفظ جیسی پالیسیوں کو متعارف کرایا؛ 31 اکتوبر 1984کو قتل کر دی گئیں۔


ایک تنہا عورت ایسی دنیا میں، جس پر مردوں کا غلبہ ہے ،ان کے لیے بڑا مشکل ہوا ہوگا۔ ہمارے پاس ان عہدوں کے لیے اور زیادہ عورتیں کیوں نہیں ہیں؟
چوتھے عام انتخابات،1967

راجستھان کے ایک گاؤں میں الیکشن
انتخابات کا پس منظر
ہندوستان میں اگر موجودہ رجحان جاری رہا تو ایک منظم سوسائٹی کے ڈھانچے کا قیام ایک منظم شہری حکومت کے ڈھانچہ کی رسائی سے باہر ہو جائے گا۔ اقتدار اور انتظام فوج کے ہاتھوں میں چلا جائے گا کہ یہی اکیلا راستہ باقی بچے گا...... ہندستان کو ایک جمہوری ڈھانچے کے اندر ترقی کرنے کا عظیم تجربہ ناکامیاب ہو چکا ہے ۔
نیول میکسویل
’ہندستان کی بکھرتی جمہور یت ‘ لندن ٹائمز میں شائع ایک مضمون 1967۔

سی ۔نٹ راجن انادورائی (1909-1969)
1967 سے مدراس (تامل ناڈو) کے وزیر اعلیٰ؛ ایک صحافی؛ مقبول ادیب اور خطیب ؛پہلے مدراس صوبہ کی جسٹس پارٹی سے منسلک تھے بعد میں دراوڑ کڑ گھم
(1934) میں شامل ہوئے؛ 1949میں DMK کو ایک سیاسی پارٹی بنایا؛دراوڑ کلچر کے بہت بڑے حامی ؛ہندی کے نفاذکے بہت بڑے مخالف اور ہندی مخالف مظاہروں کی قیادت کی؛ ریاستوں کے لیے زیادہ خود مختاری کی حمایت کی۔
غیرکانگریسیت

رام منوہر لوہیا (1910-1967)
سوشلسٹ لیڈر ،مفکر اور مجاہد آزادی؛ کانگریس سوشلسٹ پارٹی کے بانیوں میں سے ایک ؛ پارٹی تقسیم ہونے کے بعد سوشلسٹ پارٹی کے لیڈر اور پھر سمیکت سوشلسٹ پارٹی کے لیڈر؛1963 سے 1967 تک لوک سبھاکے ممبر؛مین کائنڈ (Mankind) اور جن (Jan)کے بانی ایڈیٹر۔ غیر یوروپین سوشلسٹ نظریے میں حصے داری کے لیے مشہور ؛ نہرو کی غیر کانگریسیت کی حکمتِ عملی پر فوری حملہ کرنے کے لیے مشہور؛پس ماندہ طبقوں کے لیے ’محفوظیت ‘کے حامی اور انگریزی کے زبردست مخالف۔
الیکشن کا نتیجہ

اسمبلی الیکشن کے نتائج 1967

معلق اسمبلیوں اور گٹھ بندھن کی حکومتوں میں ایسی کیا غیرمعمولی بات ہے؟ ہم تو ان کو ہروقت دیکھتے رہتے ہیں۔
گٹھ بندھن مخلوط حکومتیں

دَل بدل یعنی ایک پارٹی سے علاحدگی اور دوسری میں شمولیت

’آیا رام ، گیا رام‘ کی کہانی

کے ۔کا مراج (1903-1975)
مجاہد آزادی اور کانگریس کے صدر؛ مدراس (تامل ناڈو)کے وزیر اعلیٰ؛ خود تعلیم سے محروم رہنے کے باوجود صوبہ مدراس میں تعلیم عام کرنے کی کوشش کی؛اسکول کے طلبا کے لیے دن کے مفت کھانے کی اسکیم شروع کرائی؛1963 میں یہ تجویز پیش کی کہ تمام سینئرکانگریس کے ممبران نوجوان کانگریس ممبروں کے لیے جگہ بنانے کی غرض سے اپنی اپنی کرسی سے استعفیٰ دیں،یہ تجویز ’کامراج منصوبہ‘ کے نام سے مشہور ہے۔
کانگریس میں تفرقہ

کرپوری ٹھاکر (1924-1988)
دسمبر 1970سے جون 1971 تک اور دوبارہ جون 1977 سے اپریل 1979 تک بہار کے وزیر اعلیٰ ؛ مجاہد آزادی اور سماج وادی لیڈر؛ کسانوں اور مزدوروں کی تحریک میں پیش پیش؛ لوہیا کے زبردست مرید؛ (JP) جے پرکاش کی شروع کی ہوئی تحریک میں حصّے دار؛اپنی وزارت کے دوسرے دور میں بہارکے پس ماندہ طبقات کے لیے ریزرویشن لانے کا فیصلہ؛ انگریزی زبان کے استعمال کے زبردست مخالف۔
اندرا بنام’سنڈیکیٹ‘

تو اس میں کوئی نئی بات نہیں ہے کہ ریاستی سطح کے لیڈر مرکز میں بادشاہ گربن جائیں۔میرا خیال تھا کہ یہ صرف 1990 کی دہائی میں ہو تاتھا۔

ایس ۔ نِجالِن گپاّ :(1902-2000)
کانگریس کے بزرگ لیڈر؛دستور ساز اسمبلی کے ممبر؛لوک سبھا کے ممبر؛ اس وقت کی میسور ریاست (کرناٹک) کے وزیرا علیٰ؛ جدید کرناٹک کے بانی 1968 سے 1971 تک کانگریس کے صدر۔

وی۔وی۔گری:(1894-1980)
1969 سے 1974 تک ہندستان کے صدر؛
آندھرا پردیش سے کانگریس کے کارکن اور مزدور لیڈر؛
سیلونـ (سری لنکا) میں ہندوستان کے ہائی کمشنر؛
مرکزی کابینہ میں وزیر محنت؛اترپردیش، کیرالہ اور میسور (کرناٹک)کے گورنر؛
نائب صدر (1967-1969)، صدر ذاکر حسین کے انتقال کے بعد قائم مقام صدر؛
استعفیٰ دیا اورآزاد امیدوار کی حیثیت سے صدارتی الیکشن لڑا؛
اوراس الیکشن میں انھیں اندرا گاندھی کی حمایت حاصل رہی۔
صدارتی الیکشن،1969

’The left hook‘ (بایاں مکا)،یہ کارٹون وی۔وی۔گری (ہار پہنے ہوئے باکسر) سنڈیکیٹ کے نام زد امیدوار کے مقابلے فتح کے موقع پر شائع کیا گیا تھا۔یہاں پر نجا لن گپاّ(گھٹنوں پر جھکے ہوئے) سنڈ یکیٹ کی نمائندگی کر رہے ہیں۔
بشکریہ: آر۔کے۔لکشمن،ٹائمز آف انڈیا
پریوی پرس کا خاتمہ
تاریخ ایسے المیوں کی مثالوں سے بھری ہوئی ہے جو جمہوریت کے سر پر آئے۔جب ایک لیڈر جو جمہوری اداروں کی حمایت اور مقبول عوامی لہر پر سوارہوکر اقتدار میں آیا اور پھر اپنی ہی سیاسی نرگسیت کا شکار ہو گیا ہو اور بددیانت چاپلوسوں کی ٹولی اس کو اکساتی رہی ہو۔۔۔۔۔۔
ایس نجالن گپّا۔ 11نومبر1969کو اندراگاندھی کے نام ایک خط میں جس میں ان کو پارٹی سے نکال دیاگیا تھا۔
1971 کے انتخابات اور کانگریس کی بحالی

مقابلہ

’غریبی ہٹاؤ ‘ کا نعرہ دینے کے چالیس سال بعد بھی ہمارے چاروں طرف غریبی ہی غریبی ہے۔کیا یہ نعرہ محض ایک الیکشن کی چال تھی؟
نتیجہ اور اس کے بعد



اندراگاندھی کے وزیر اعلیٰ چننے کے نئے طریقہ سے متاثر ہو کر یہ کارٹون بنایا گیا۔
بشکریہ: کٹیّ
بحالی؟

| آئیے ایک فلم دیکھیں |
| زنجیر |
| ایک نوجوان پولیس افسر، وجے کو جب وہ غنڈوں سے مقابلہ کر رہا تھا جعلی الزامات لگا کر جیل بھیج دیا جاتا ہے۔جیل سے باہر آکر وجے انتقام لینے کا تہیّہ کرتا ہے۔ وہ تمام رکاوٹوں کا سامنا کرتے ہوئے برے عناصر کا خاتمہ کردیتا ہے۔ اپنی انتقامی کارروائی کے دوران بھی وجے سماج دشمن عناصر سے لڑتا رہتا ہے، اور خود ہی ان ہی کے سسٹم سے اس کو مدداور حمایت ملتی ہے۔ |
| یہ فلم مٹتی ہوئی اخلاقی قدروں سے پیدا ہو نے والے زبردست اور طاقت ور احساسِ محرومی کی تصویر کشی کرتی ہے۔یہ فلم سسٹم کی لاپرواہی کو پیش کرتی ہے، اور وجے کے غصّے کے ذریعے سخت اور آتشیں احتجاج کے پھوٹ پڑنے کو ظاہر کرتی ہے۔ اس فلم نے ایک رجحان قائم کیا جس کو 1970کی دہائی کا غضب ناک نوجوان (The Angry Youngman) کہا گیا۔ |
| سال : 1973 ہدایت کار : پرکاش مہرا اسکرین پلے : جاوید اختر اداکار : امیتابھ بچن، اجیت، جیا بھادری، پران |

یہ تو ایساہی ہے کہ ایک میز کے پاؤں اور اوپری حصہ کو بدل دیا جائے اور پھر بھی اس کو میز کہا جائے! پرانی اور نئی کانگریس میں مشترکہ خصوصیت کیا تھی؟