Skip to content

1
بشکریہ: ٹائمز آف انڈیا کے لیے آر۔کے۔لکشمن

اس باب میں... 

دوسرے باب میں ہم نے کانگریس سسٹم کے ظہور کا مطالعہ کیا تھا۔اس سسٹم کو ساٹھ کی دہائی میں پہلی مرتبہ چیلنج کا سامنا کرنا پڑا۔ جوں جوں سیاسی مقابلہ آرائی زور پکڑتی گئی کانگریس کو اپنی بالادستی قائم رکھنے میں دشواری پیش آتی گئی۔اسے ایسی اپوزیشن سے سامناکرنا پڑا جو پہلے سے زیادہ طا قت ور اور متحد تھی۔ کانگریس کو خود اپنے اندر چیلنج کا سامنا کرنا پڑاکیوں کہ پارٹی اب مختلف قسم کے تمام خیالات کو جگہ نہیں دے سکتی تھی۔اس باب میں ہم کہانی کو وہیں سے شروع کر تے ہیں جہاں دوسرے باب میں چھوڑی تھی تاکہ:
•     یہ سمجھ سکیں کہ نہرو کے بعد سیاسی تبدیلیاں کس طرح ظہورمیں آئیں؛
•     یہ بیان کر سکیں کہ اپوزیشن اتحاد اور کانگریس کی تفریق نے کانگریس کی بالادستی کو کن خطرات سے دو چار کیا؛ 
•     یہ وضاحت کر سکیں کہ اندراگاندھی کی قیادت میں ایک نئی کانگریس نے کس طرح ان چیلنجوں پر قابوحاصل کیا؛ اور
•      اس بات کا تجزیہ کرسکیں کہ نئی پالیسیوں اور نئے نظریات نے کانگریس کی بالادستی کو پھر سے قائم کرنے میں کس طرح مدد کی۔
کانگریس کا اولین انتخابی نشان دو بیلوں کی جوڑی تھا۔یہ مشہور کارٹون کانگریس کی اُن اندرونی تبدیلیوں کو بیان کرتا ہے جو آزادی کے بائیسویں سا ل میں ایک کھلے ٹکراؤ کی شکل میں ظاہر ہوئی۔

باب 5

کانگریس سسٹم کو درپیش چیلنج اور اس کی بحالی


2

 سیاسی جانشینی کا چیلنج

مئی1964میں وزیر اعظم جو اہر لعل نہرو کا انتقال ہوگیا۔وہ ایک سال سے زیادہ عرصہ سے بیمار چل رہے تھے جس کی وجہ سے ان کی جا نشینی کے بارے میں قیاس آرائیاں ہونے لگیں تھیں۔لیکن ہندوستان جیسے نو آزاد ملک کے لیے اس صور ت حال میں اس سے بھی زیادہ سنجیدہ سوال اٹھنے لگے اور وہ یہ کہ نہرو کے بعد کیا ہوگا؟
دوسرا سوال در اصل اس لیے سامنے آیا کہ اکثر باہری لوگوں کو یہ شبہہ تھا کہ نہرو کے بعد ہندوستان میں جمہوریت کا تجربہ اورعمل ختم ہو جائے گا۔ اندیشہ یہ تھا کہ بہت سے نئے آزادشدہ ملکوں کی طرح ہندوستان بھی سیاسی وراثت کے عمل کو جاری نہیں رکھ سکے گا۔ اور اس نا کامی کا مطلب تھا کہ سیاسی کردار فوج کے ہاتھ میں آجائے گا۔ اس کے علاوہ یہ شبہات بھی گردش کررہے تھے کہ کیا نئی قیادت ان کثیرجہتی بحرانوں کا سامنا کر سکے گی جو اسے درپیش تھے۔ ساٹھ کی دہائی کو ایک’خطرناک دہائی‘ کا نام دیا گیا تھا کیوں کہ اس وقفے میں غیر حل شدہ مسائل جیسے غریبی، عدم مساوات،علاقائی اور مذہبی تفریق وغیرہ وغیرہ جمہوری عمل کوناکام بناسکتے تھے یا ملک کو ٹکڑو ں میں بانٹ سکتے تھے۔
3

 جب فرانس اور کناڈامیں ایسے حالات ہوتے ہیں تو کوئی ناکامی اور ملک ٹوٹنے کی بات نہیں کرتا۔آخر شبہات ہمیشہ ہم پر ہی کیوں کیے جاتے ہیں؟

4

لال بہادر شاستری

(1904-1966): ہندوستان کے وزیراعظم ؛ 1930 سے آزادی کی جدوجہد میں شامل؛ اترپردیش کابینہ میں وزیر؛ کانگریس کے جنرل سیکریٹری؛ 1951 سے 1956تک مرکزی کابینہ کے وزیر؛ بعد میں ریلوے حادثہ کی وجہ سے استعفیٰ ؛ پھر 1957سے 1964تک وزیر رہے۔ ’جے جوان جے کسان‘ کا نعرہ دیا۔

نہرو سے شاستری تک

جس آسانی کے ساتھ نہرو کی جانشینی کا فیصلہ ہوا اس نے تمام ناقدین کو غلط ثابت کر دیا ۔جب نہروکا انتقال ہوا تو کانگریس کے صدر،کے۔ کامراج نے پارٹی کے قائدین اور پارلیمنٹ کے ممبران سے مشورہ کیا۔لال بہادرشاستری کے نام پر سب نے اتفاق کیا۔وہ بغیر کسی مقابلے کے کانگریس پارلیمانی پارٹی کے رہنما منتخب کیے گئے اور اس طرح ملک کے اگلے وزیر اعظم بنے۔شاستری اتر پردیش کے ایک غیر متنا زع لیڈر تھے اورکئی سال تک نہرو کی کابینہ میں وزیر رہے تھے۔ اپنی زندگی کے آخری سالوں میں نہرو ان پر بہت زیادہ بھروسہ کرنے لگے تھے۔وہ اپنے اصولوں پر سختی سے کار بندرہے تھے اور اپنی سادگی کی وجہ سے جانے جاتے تھے۔اس سے پہلے انھوں نے ایک بڑے ریلوے حادثہ کی اخلاقی ذمے داری قبول کرتے ہوئے کابینہ سے استعفیٰ دے دیا تھا۔
شاستری 1964سے 1966تک ہند وستان کے وزیر اعظم رہے۔ان کی وزارتِ عظمیٰ کے اس مختصر عرصے میں ملک نے دو بڑی مشکلات کا سامنا کیا۔ابھی ہندستان چین سے جنگ کے بعد کے معاشی اثرات ہی سے الجھا ہوا تھا کہ بارش کی کمی ،خشک سالی اور خوراک کی کمی نے ایک اور بڑا چیلنج کھڑا کر دیا۔ جیسا کہ پہلے باب میں ذکرکیاجاچکا ہے 1965 میں ملک نے پاکستان کے ساتھ جنگ کا سامنا بھی کیا۔شاستری کا دیا ہوا مشہور نعرہ ’جے جوان جے کسان‘ در اصل انھیں چیلنجوں کا سامنا کرنے کے لیے ملک کے حوصلہ کی ایک علامت ہے۔
شاستری کا وزارتِ عظمیٰ کا دور 10جنوری 1966کو ختم ہو گیا جب وہ تا شقند میں، جواُس وقت سوویت یونین کا حصہ تھا اور اب ازبکستان کی راجدھانی ہے، اچانک انتقال کر گئے۔ اس وقت وہ پاکستان کے صدر محمد ایوب خان سے جنگ ختم کرنے کے ایک معاہدہ پر گفت و شنیدکر رہے تھے۔

۔۔۔۔ ہندستان کے نئے وزیر اعظم کے نام کا اعلان’برطانوی وزیر اعظم کے مقابلہ میں‘ زیادہ سرعت اور احترام کے ساتھ ہوا ہے

3 ؍جون 1964 کو لندن کے اخبار The Guardian کا اداریہ۔ نہروکے بعد سیاسی جانشینی اور برطانیہ میں ہیرلڈ میک ملن کے بعد جانشینی کے ڈارمہ کا موازنہ کرتے ہوئے۔

شاستری سے اندر اگاندھی تک 

اس طرح سے کانگریس نے دو سال کے اندر اندردومر تبہ سیاسی جانشینی کے مسئلہ کا سامنا کیا۔اس بارمرار جی ڈیسائی اور اندرا گاندھی کے درمیان قیادت کے لیے سخت مقابلہ ہوا۔اس سے پہلے مرار جی ڈیسائی بمبئی ریاست(موجودہ مہاراشڑ اور گجرات ) کے وزیر اعلیٰ اور مرکزی وزیررہ چکے تھے۔ جواہر لعل نہروکی بیٹی اندراگاندھی کا نگریس کی صدر  رہ چکی تھیں اور شاستری کی کا بینہ میں اطلاعات ونشریات کی وزیر بھی تھیں۔اس وقت پارٹی کے بزرگ لیڈروں نے  اندرا گاندھی کی حمایت کا فیصلہ کیا لیکن یہ فیصلہ متفقہ نہیں تھا۔اس مقابلے کا فیصلہ کانگریس کے پارلیمنٹ کے ممبران نے خفیہ ووٹنگ کے ذریعے کیا۔ اندرا گاندھی نے مرار جی ڈیسائی کو اس مقابلے میں دو تہائی ووٹوں سے شکست دی۔ اس مرتبہ اگر چہ قیادت کے لیے سخت مقابلہ ہوا لیکن اقتدار کی منتقلی پُرامن تھی اوراس کو ہندوستانی جمہوریت کی پختگی کی  علامت مانا گیا۔

5

تصویر

مردوں کی بالادستی والی دنیا میں 

بشکریہ: آر۔کے ۔لکشمی  ٹائمز آف انڈیا18جنوری1966


6

اندرا گاندھی  (1917-1984) 1966سے 1977 اور 1980 سے 1984 تک ہندوستان کی وزیر اعظم ؛ جواہر لعل نہرو کی بیٹی؛ جد و جہد آزادی میں ایک نوجوان کارکن کی حیثیت سے حصہ لیا؛ 1958 میں کانگریس کی صدر؛ 1954 سے 1966 تک شاستری کی کابینہ میں وزیر؛ کانگریس پارٹی کو 1967،1971 اور1980 کے الیکشنوں میں فتح یاب کیا، ’غریبی ہٹاؤ‘ کا نعرہ دیا؛ 1971 کی جنگ میں کامیابی؛ نوابوں اور راجاؤں کی تنخواہوں یعنی (پریوی پر س) کا خاتمہ؛ بنیکوں کو قومی تحویل میں لینا ؛ نیوکلیائی تجربہ اور ماحولیاتی تحفظ جیسی پالیسیوں کو متعارف کرایا؛ 31 اکتوبر 1984کو قتل کر دی گئیں۔

7
بشکریہ: رگھو رائے
نئے وزیر اعظم کومستحکم ہونے میں کچھ وقت لگا۔اگر چہ اندراگاندھی ایک طویل عرصے سے سیاسی طور سے سرگرم عمل تھیں انھوں نے لال بہادر شاستری کی کا بینہ میں ایک مختصرمدت وزیر اطلاعات ونشریات کی حیثیت سے ہی گزار ی۔بزرگ کانگریسی رہنماؤں نے اندراگاندھی کی حمایت اس امید پر کی تھی کہ ان کی سیاسی اور انتظامی ناتجربہ کاری بالآخرانھیں ان ہی کو ہدایت اور رہنمائی پر انحصار کرنے کے لیے مجبور کردے گی۔وزیر اعظم بننے کے ایک سال کے اندر ہی اندراگاندھی کو لوک سبھا کے عام انتخابات میں پارٹی کی کمان سنبھالنی پڑی۔اس وقت تک ملک کی اقتصادی حالت اور خراب ہو چکی تھی جس نے ان کی مشکلوں میں اور اضافہ کردیا۔ان تمام مشکلات میں گھری ہوئی اندرا گاندھی نے پارٹی کو اپنے ہاتھ میں لینے اور اپنی قائدانہ صلا حیتوں کے استعمال اور اظہار کا فیصلہ کیا۔
8

 ایک تنہا عورت ایسی دنیا میں، جس پر مردوں کا غلبہ ہے ،ان کے لیے بڑا مشکل ہوا ہوگا۔ ہمارے پاس ان عہدوں کے لیے اور زیادہ عورتیں کیوں نہیں ہیں؟

چوتھے عام انتخابات،1967

ہندوستان کی سیاسی اور انتخابات کی تاریخ میں 1967 ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔دوسرے باب میں آپ پڑھ چکے ہیں کہ کس طرح  1952 کے بعد سے کانگریس پورے ملک میں ایک زبردست سیاسی قوت بنی رہی۔1967کے الیکشن کے بعد اس رجحان میں قابل ذ کر تبدیلی آئی۔

9

راجستھان کے ایک گاؤں میں الیکشن

یہ1967کے اسمبلی الیکشن کے بارے میں ایک کہا نی ہے ۔ چومو کے حلقۂ انتخاب میں اصل ٹکرکانگریس اور سوتنتر پارٹی کے درمیان تھی۔لیکن دیوی سار گاؤں کے اپنے سیاسی محرکات تھے اور یہ دونوں پارٹیوں کے مقابلہ میں کچھ الجھ کے رہ گیا۔ روایتی طور سے یوں تو گاؤں کی سیاست پر شیر سنگھ کا قبضہ تھا لیکن رفتہ رفتہ اس کا بھتیجہ بھیم سنگھ ایک زیادہ مقبول لیڈر اور اس کے حریف کی حیثیت سے ابھر رہا تھا ۔ دونوں ہی راجپوت تھے لیکن بھیم سنگھ کو غیر راجپوتوں کی حمایت بھی حاصل تھی کیوں کہ پنچایت پردھان بننے کے بعد اس نے ان کی ضروریات کی طرف توجہ دی تھی۔اس طرح اس نے ایک نئی مساوات بنائی راجپوت اور غیر راجپوت کے اتحاد کی ۔
اس نے گاؤں بھر میں سمجھوتے اور اتحاد کرنے میں اپنی مہارت کا مظاہرہ دوسرے گاؤں میں پر دھان کے امیدواروں کی حمایت کرکے کیا۔ اس نے کانگریس کے لیڈر اور ریاست کے وزیراعلیٰ موہن لال سکھاڈ یا کے پاس ایک وفد لے جانے میں بھی پیش قدمی کی تاکہ وہ پڑوس کے گاؤں میں بسے اپنے ایک دوست کے نام کو اسمبلی الیکشن کے لیے پیش کرے اور زور ڈالے۔لیکن جب موہن لال سکھاڈیا نے اس کو کسی اور نام کے لیے راضی کر لیا تو اس نے دوسرے لوگوں کو سمجھانا شروع کیا کہ ان کو پارٹی کے امیدوارکے لیے کام کرنا چاہیے۔بھیم سنگھ کو معلوم تھاکہ اس حلقۂ انتخاب سے جیتنے والاامیدوار ضروروزیر بنے گااور اس طرح وہ پہلی بار ایک وزیر سے براہ راست رابطہ رکھ سکے گا !
شیر سنگھ کے پاس سوتنترپارٹی کے امیدوار کی،جو ایک جاگیردار تھا ، حمایت کرنے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں تھا ۔وہ لوگوں سے کہتا تھا کہ جاگیردار گاؤں کا اسکول بنانے میں مدد کرے گااور گاؤں کی ترقی کے لیے اپنے وسائل کا استعمال کرے گاتو کم سے کم دیوی سار گاؤں میں اسمبلی کا الیکشن چاچا بھتیجے کی ٹولیوں کا جھگڑا بن گیا تھا۔
(آنند چکروتی کے’راجستھان کے چومو حلقۂ انتخاب کا ایک گاؤں‘ پر مبنی)

انتخابات کا پس منظر 

چوتھے عام انتخابات یا جنرل الیکشن آنے تک ملک میں بڑی تبدیلیاں واقع ہوئیں۔ایک مختصر عرصے میں دو وزیراعظم انتقال کر گئے تھے اور نئے وزیر اعظم کو’جسے سیاست کے میدان میں نووارد تصور کیا جاتا تھا‘ کرسی سنبھا لے ہوئے ایک سال سے بھی کم کاعرصہ ہوا تھا۔ تیسرے باب اور اس باب کی ابتدا کے مطالعے سے آپ کو یاد آجائے گا کہ بارِش کی کمی ’عام خشک سالی‘ زرعی پیداوار میں کمی، غذائی قلت، زرمبادلہ میں گراوٹ، صنعتی پیداوار اور درآمدات میں کمی، فوجی اخراجات میں عمودی اضافہ اور منصوبہ بندی اور ترقی کے وسائل کی ایک جانب سے دوسری جانب منتقلی کی وجہ سے یہ زمانہ زبردست اقتصادی بحران کا زمانہ تھا۔ اندراگاندھی کی حکومت کے پہلے فیصلوں میں سے ایک زرمبادلہ میں روپیے کی قیمت کو گھٹانا تھا۔عام طور سے خیال یہ تھا کہ یہ فیصلہ امریکہ کے دباؤ میں آکر کیا گیا ہے۔اس سے پہلے ایک امریکی ڈالر کی قیمت پانچ روپیے سے بھی کم تھی لیکن قیمت میں کمی کے بعد ایک ڈالر کی قیمت سات روپیے سے زیادہ ہو گئی۔
اقتصادی صورت حال نے قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ شروع کردیا۔لوگوں نے بڑھتی ہوئی قیمتوں ، غذا کی کم یابی، بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور عام اقتصادی بدحالی کے خلاف ملک بھر میں مظاہر ے کیے۔ اور ملک کے طول و عرض میں بند اور ہڑتالیں عام ہو گئیں۔ حکومت نے ان مظاہروں کو لوگوں کے مسائل کے اظہار کاذریعہ سمجھنے کے بجائے امن اور قانون کا مسئلہ سمجھا۔ جس نے عوام کی تلخی کو اور بڑھا دیا اور عوامی ناراضگی اور بے اطمینانی کو بھی تقویت پہنچائی۔
کمیونسٹ اور سو شلسٹ پارٹیوں نے بہتر مساوات کے لیے جدوجہد شروع کرنے کا اعلان کیا ۔ اگلے باب میں آپ پڑھیں گے کہ کس طرح ایک کمیونسٹ گروہ نے جو کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا(مارکسٹ)سے الگ ہوکر ایک نئی پارٹی کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسٹ۔لینن وادی) قائم کی اور مسلّح زرعی جدو جہد اور کسانوں کے منظم احتجاج کی قیادت کی۔ اسی دوران آزاد ی کے بعد سے ہندوستان میں سب سے زبردست ہندومسلم فسادات ہوئے۔

ہندوستان میں اگر موجودہ رجحان جاری رہا تو ایک منظم سوسائٹی کے ڈھانچے کا قیام ایک منظم شہری حکومت کے ڈھانچہ کی رسائی سے باہر ہو جائے گا۔ اقتدار اور انتظام فوج کے ہاتھوں میں چلا جائے گا کہ یہی اکیلا راستہ باقی بچے گا...... ہندستان کو ایک جمہوری ڈھانچے کے اندر ترقی کرنے کا عظیم تجربہ ناکامیاب ہو چکا ہے ۔

نیول میکسویل

’ہندستان کی بکھرتی جمہور یت ‘ لندن ٹائمز میں شائع ایک مضمون 1967۔


10

سی ۔نٹ راجن انادورائی (1909-1969) 

1967 سے مدراس (تامل ناڈو) کے وزیر اعلیٰ؛ ایک صحافی؛ مقبول ادیب اور خطیب ؛پہلے مدراس صوبہ کی جسٹس پارٹی سے منسلک تھے بعد میں دراوڑ کڑ گھم

(1934) میں شامل ہوئے؛ 1949میں DMK کو ایک سیاسی پارٹی بنایا؛دراوڑ کلچر کے بہت بڑے حامی ؛ہندی کے نفاذکے بہت بڑے مخالف اور ہندی مخالف مظاہروں کی قیادت کی؛ ریاستوں کے لیے زیادہ خود مختاری کی حمایت کی۔


غیرکانگریسیت 

ایسی صورت حال ملک کی جماعتی سیاست سے الگ نہیں رہ سکتی تھی ۔ حکومت پر دباؤ ڈالنے اور عوامی مظاہرے منظم کرنے میں اپوزیشن پارٹیاں پیش پیش تھیں۔کانگریس مخالف پارٹیوں نے محسوس کیا کہ ان کے ووٹوں کی تقسیم کی وجہ سے کانگریس اقتدار میں رہتی ہے ۔ اس طرح بالکل ہی متضاداورمختلف نظریات اور لائحہ عمل رکھنے والی پارٹیوں نے کچھ ریاستوںمیں کانگریس مخالف محاذبنایا اورکچھ میں انتخابی نشستوں کے اوپرسمجھوتہ کیا۔ان کا خیال تھا کہ ا ندرا گاندھی کی ناتجربہ کاری اورکانگریس پارٹی کے اندرونی جھگڑ ے ، ان کے لیے کانگریس حکومت کو اکھاڑ پھینکنے کاایک سنہری موقع فراہم کر رہے ہیں۔ سوشلسٹ لیڈر رام منوہر لوہیا نے اس کو ’غیر کانگریسیت ‘ کا نام دیا اور انھوں نے اس حکمت عملی کے دفاع میں نظریاتی ثبوت بھی مہیّا کیا۔  یعنی یہ کہ کا نگر یس کی حکمرانی غیرجمہوری اور غریب عوام کے مفاد کے خلاف تھی ۔ لہٰذاغیرکانگریسی جماعتوں کا ایک ساتھ ہوجانا لوگوں کو پھر سے جمہوریت واپس دلانے کے لیے ضروری تھا۔

11

رام منوہر لوہیا (1910-1967)  

سوشلسٹ لیڈر ،مفکر اور مجاہد آزادی؛ کانگریس سوشلسٹ پارٹی کے بانیوں میں سے ایک ؛ پارٹی تقسیم ہونے کے بعد سوشلسٹ پارٹی کے لیڈر اور پھر سمیکت سوشلسٹ پارٹی کے لیڈر؛1963 سے 1967 تک لوک سبھاکے ممبر؛مین کائنڈ (Mankind) اور جن (Jan)کے بانی ایڈیٹر۔ غیر یوروپین سوشلسٹ نظریے میں حصے داری کے لیے مشہور ؛ نہرو کی غیر کانگریسیت کی حکمتِ عملی پر فوری حملہ کرنے کے لیے مشہور؛پس ماندہ طبقوں کے لیے ’محفوظیت ‘کے حامی اور انگریزی کے زبردست مخالف۔ 

الیکشن کا نتیجہ 

ایک عام بے زاری اور سیاسی طاقتوں کی دھڑے بندی کے پس منظر میں فروری 1967 میں لوک سبھا کا چوتھا جنرل الیکشن اور اسمبلیوں کے الیکشن ہوئے۔پہلی بار کانگریس عوام کا سامنا بغیر نہروکے کر رہی تھی۔ 
قومی اور ریاستی سطح پر الیکشن کے نتائج نے کانگریس کو ہلاکررکھ دیا۔اکثر سیاسی مبصر ین نے الیکشن کے نتائج کو ’سیاسی زلزلہ ‘ قرار دیا۔اگر چہ 1952 کے بعد کانگریس کی حمایت میں پڑنے والے ووٹوں اور جیتی ہوئی نشستوں کی تعداد سب سے کم تھی پھر بھی اس نے لوک سبھا میں اکثریت حاصل کر ہی لی۔اندرا گاندھی کابینہ کے آدھے سے زیادہ  وزیر ہار گئے۔ہارے ہوئے دیوقامت لیڈروںمیں تامل ناڈو میں کا مراج ، مہاراشٹر میں ایس۔کے۔پاٹل، مغربی بنگال میں اتولیہ گھوش اور بہار میں کے۔بی۔سہائے شامل تھے۔  
آپ کو سیاسی تبدیلیوں کی ڈرامائی نوعیت ریاستی سطح پر زیادہ صاف نظر آئے گی۔کم سے کم سات ریاستوں میں اکثریت کانگریس کے ہاتھ سے چلی گئی ۔ دوسری دو ریاستوں میں کچھ ممبروں کے علاحدہ ہو جانے کی وجہ سے یہ حکومت نہ بنا سکی ۔وہ نوریاستیں جہاں کانگریس کے ہاتھ سے حکومت نکل گئی ملک کے چاروں طرف پھیلی ہوئی تھیں جیسے پنجاب،ہریانہ،اترپردیش ،مدھیہ پردیش، بہار،مغربی بنگال،اڑیسہ ،مدارس اور کیرالہ۔مدراس ریاست (اب تامل ناڈو) میں ایک علاقائی پارٹی دراوڑ منیترا کڑ گھم یعنی ڈی ایم کے(DMK)واضح اکثریت کے ساتھ طاقت میں آئی ۔  ڈی ایم کے، کے اقتدار میں آنے کی وجہ دراصل ہندی کو سرکاری زبان کی حیثیت سے نافذ کرنے کی مرکزی سرکار کی پالیسی کے خلاف طلباکے زبردست مظاہرے تھے۔یہ پہلاموقع تھا کہ کسی ریاست میں ایک غیر کانگریسی پارٹی نے اپنے بل بوتے پر اکثریت حاصل کی ہو ۔ بقیہ آٹھ ریاستوں میں مختلف غیر کانگریس پارٹیوں کی گٹھ جوڑ کی حکومت بنی۔اس وقت ایک عام کہاوت تھی کہ اگر آپ ہاوڑہ سے دہلی تک کا سفر کریں تو کسی بھی کانگریسی حکومت کی ریاست سے نہ گزریں گے۔ جو لوگ کانگریس کو حکومت میں دیکھنے کے عادی تھے ان کے لیے یہ احساس عجیب تھا۔ تو کیا کانگریس کی بالادستی ختم ہو گئی تھی؟

12

اسمبلی الیکشن کے نتائج  1967

 1967 کے اسمبلی الیکشن میں کا نگریس کی اکثریت
1967 کے اسمبلی الیکشن میں کانگریس کو اکثریت حاصل نہیں ہوئی۔     
راجستھان   (کانگریس کو اکثریت تو حاصل نہیں ہوئی لیکن دوسروں کے ساتھ مل کر حکومت بنائی)
نارتھ-ایسٹ
 فرنٹیر ایجنسی
کیا غیر کانگریسیت آج بھی بامعنی اور اہم  ہے؟ اور کیا یہی اصول آج کے مغربی بنگال میں بائیں بازو کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے ؟
نوٹ : یہ   نقشہ پیمانے کے مطابق نہیں ہے- لہٰذا اس کو ہندستان کی بین الا قوامی سرحدوں کے لیے سند نہیں ماننا چاہیے۔

13

معلق اسمبلیوں اور گٹھ بندھن کی حکومتوں میں ایسی کیا غیرمعمولی بات ہے؟ ہم تو ان کو ہروقت دیکھتے رہتے ہیں۔

گٹھ بندھن مخلوط حکومتیں 

1967کا الیکشن گٹھ بندھن کا مظہر سامنے لے کر آیا کیوں کہ کوئی بھی اکیلی پارٹی اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی۔ لہٰذا کئی غیر کانگریس پارٹیوں نے آپس میں
 مل کر ایک مشتر کہ محاذ بنایا جس کو سمیکت ودھائک دل یعنی اسمبلی کے اراکین کی متحدہ جماعت کہا جاتا تھا اور جو غیر کانگریسی حکومت کا حامی تھا۔اس لیے ان حکومتوں کو ایس وی ڈی(SVD) حکومتیں کہا جاتا تھا۔
ان میں زیادہ تر جگہوں پر گٹھ بندھن کے شریک ِکار نظریاتی طور پر الگ الگ تھے ۔مثال کے طور پر بہار کی ایس وی ڈی (SVD)حکومت میں دونوں سوشلسٹ پارٹیاں۔ایس ایس پی(SSP) اور پی ایس پی(PSP) شامل تھیں اور بائیں بازو کی سی پی آئی(CPI) اور دائیں بازوکی جن سنگھ بھی ان کے ساتھ تھیں۔ 
پنجاب میں اس کا نام مقبول متحدہ محاذ PUF) - (Popular United Front تھا اور یہ دو ا کالی حریفوں سنت گروہ اور ماسٹر گروہ ، دونوں کمیونسٹ پارٹی یعنی سی پی آئی  اور سی پی آئی -ایم ‘ایس ایس پی ریپبلکن پارٹی اور بھاتیہ جن سنگھ پر مشتمل تھا۔ 

14
کمیونسٹ پارٹی یعنی سی پی آئی اور سی پی آئی۔ایم، ای ایس پی ریپبلکن پارٹی اور بھارتیہ جن سنگھ پر مشتمل تھا
دائیں طرف چلیں
بائیں موڑ نہیں
1974میں غیر کمیونسٹ پارٹیوں کا متحدہ محاذ بنانے کے لیے چودھری چرن سنگھ کی کوشش پر ایک کارٹونسٹ کی رائے
بشکریہ: کٹی

دَل بدل یعنی ایک پارٹی سے علاحدگی اور دوسری میں شمولیت 

1967 کے الیکشن کے بعد کی سیاست کی ایک دوسری خاصیت ریاستوں میں حکومتوں کے بنانے اور توڑنے میں دَل بدل (Defection) کا اہم کردار تھا ۔علاحدگی کا 
مطلب تھا کہ ایک منتخب نمائندہ اس پارٹی کو چھوڑکر جس کے چناؤ نشان پر وہ الیکشن لڑا ہے کسی دوسری پارٹی میں چلاجائے۔1967کے عام انتخابات کے بعد کانگریس کے باغی ممبروں نے ہریانہ،مدھیہ پردیش اور اتر پردیش کی تین ریاستوں میں غیر کانگریسی حکومت کو لانے میں اہم کردار ادا کیا ۔وفاداریاں مستقل طور سے بدلتے رہنے کی وجہ سے اس زمانہ میں ’آیا رام ،گیا رام‘ کی اصطلاح رائج ہوئی۔

15

’آیا رام ، گیا رام‘ کی کہانی

اسمبلی کے ممبروں کے لگاتار دل بدل کی وجہ سے ہندوستانی سیاست کی لغت میں ’آیا رام ،گیا رام‘ کی اصطلاح کافی مقبول ہوئی۔لفظی ترجمہ میں اس کا مطلب ہوگا کہ رام آیا اور رام گیا لیکن اس اصطلاح کی ابتدا ہریانہ اسمبلی کے ایک ممبر گیا لال کی حیرت انگیز دل بدلی سے ہوئی جس نے 1967 میں پندرہ دن کے اندرہی اندر تین بار پارٹی بدلی ۔ کانگریس سے یونائیٹیڈ فرنٹ، پھر کانگریس میں واپس اور پھر صرف نو گھنٹے کے اندر یونائیٹیڈ فرنٹ میں واپس۔کہا جاتا ہے کہ جب گیا لال نے اپنے یونائیٹیڈ فرنٹ چھوڑنے اور کانگریس میں شمولیت کا ارادہ ظاہر کیاتو کانگریسی لیڈر راؤ بیر یندر سنگھ اس کو چنڈی گڑھ پریس کے سامنے لائے اور کہا’’گیا رام اب آیا رام ہے‘‘۔
گیا لال کے اس عمل کو ’آیا رام، گیا رام‘ کی اصطلاح نے غیر فانی کر دیا اور اس نے کئی کارٹونوں اور لطیفوں کو بھی جنم د یا ۔ بعد میں ایسی حرکت کو روکنے کے لیے دستور میں ترمیم کی گئی۔

16

کے ۔کا مراج   (1903-1975)

 مجاہد آزادی اور کانگریس کے صدر؛ مدراس (تامل ناڈو)کے وزیر اعلیٰ؛ خود تعلیم سے محروم رہنے کے باوجود صوبہ مدراس میں تعلیم عام کرنے کی کوشش کی؛اسکول کے طلبا کے لیے دن کے مفت کھانے کی اسکیم شروع کرائی؛1963 میں یہ تجویز پیش کی کہ تمام سینئرکانگریس کے ممبران نوجوان کانگریس ممبروں کے لیے جگہ بنانے کی غرض سے اپنی اپنی کرسی سے استعفیٰ دیں،یہ تجویز ’کامراج منصوبہ‘ کے نام سے مشہور ہے۔

کانگریس میں تفرقہ   

ہم نے دیکھا کہ 1967 کے الیکشن کے بعد کانگریس نے مرکزمیں کم اکثریت کے ساتھ ہی سہی لیکن اپنا اقتدار برقرار رکھا۔ ساتھ ہی ساتھ کئی ریاستوں میں اس نے اپنی اکثریت بھی کھوئی۔زیادہ اہم بات یہ تھی کہ نتائج نے یہ ثابت کردیاکہ کانگریس کو شکست دی جا سکتی ہے۔لیکن اب بھی کانگریس کاکوئی متبادل موجودنہ تھا۔ ریاستوں میں اکثر غیر کانگریسی حکومتیں زیادہ نہیں چلیں۔انھوں نے اکثریت کھو دی۔ نتیجہ کے طورپریا تونئے اتحادی سمجھوتے ہو ئے یا پھر مجبوراً صدر راج نافذ کرنا پڑا۔


17

کرپوری ٹھاکر  (1924-1988)

دسمبر 1970سے جون 1971 تک اور دوبارہ جون 1977 سے اپریل  1979 تک بہار کے وزیر اعلیٰ ؛ مجاہد آزادی اور سماج وادی لیڈر؛ کسانوں اور مزدوروں کی تحریک میں پیش پیش؛ لوہیا کے زبردست مرید؛ (JP) جے پرکاش کی شروع کی ہوئی تحریک میں حصّے دار؛اپنی وزارت کے دوسرے دور میں بہارکے پس ماندہ طبقات کے لیے ریزرویشن لانے کا فیصلہ؛ انگریزی زبان کے استعمال کے زبردست مخالف۔

اندرا بنام’سنڈیکیٹ‘     

اندرا گاندھی کو اصل چیلنج اپوزیشن پارٹیوں سے نہیں بلکہ خود اپنی پارٹی کے اندر سے آیا۔ان کا مقابلہ ’سنڈیکیٹ‘ سے تھا جو کانگریس کے بااثر اور طاقت ور لیڈر وں کا گروہ تھا۔ سنڈیکیٹ نے اندرا گاندھی کو برسرِ اقتدار لانے میں اہم کردار ادا کیا تھا اور ہر ممکن کوشش کی تھی کہ وہ پارلیمانی گروہ کی لیڈر چن لی جائیں۔ان لیڈروں کا خیال تھا کہ اندرا گاندھی کو ان کی نصیحت پر عمل کرنا چاہیے ۔لیکن رفتہ رفتہ اندرا گاندھی نے حکومت اور پارٹی میں اپنی الگ حیثیت اور شنا خت کو منوانا چاہا۔انھوں نے اپنے مشیروں کا انتخاب پارٹی کے باہر سے کیا۔آہستہ آہستہ لیکن احتیاط کے ساتھ انھوں نے سنڈیکیٹ کو حاشیے پر رکھ دیا۔
 اندرا گاندھی نے دوچیلنجوں کا مقابلہ کیا۔ایک تووہ سنڈیکیٹ کی زنجیروں سے آزاد ہونا چاہتی تھیں دوسرے انھیں 1967 کے الیکشن میں کانگریس کا کھویا ہوا وقار واپس لانا تھا ۔اندرا گاندھی نے ایک بہت ہی جرأت مندانہ حکمت عملی اختیار کی۔انھوں نے ایک سیدھی سادی طاقت کی رسہ کشی کو ایک نظر یاتی کشمکش میں تبدیل کر دیا۔انھوں نے کچھ ایسے اقدامات کیے جو حکومت کی پالیسی کو بائیں بازوکا رنگ دیتے تھے۔انھوں نے مئی 1967 میں کانگریس ورکنگ کمیٹی کو ایک دس نکاتی پروگرام بنانے کی ہدایت کی۔ اس پروگرام میں بینکوں کا سماجی کنٹرول، جنرل انشورنس کا قومیانا ، شہری جائداد اور آمدنی پر حدبندی ،اناج کی عوامی تقسیم ، زمینی اصلاحات اور غریب دیہی علاقوں میں مکانوں کے لیے جگہ فراہم کرناشامل تھے۔اگر چہ ’سنڈیکیٹ‘نے رسمی طور سے اس بائیں بازوں والے پروگرام کی منظوری دے دی لیکن اس معاملے میں وہ پوی طرح مطمئن نہیں تھے۔
18

تو اس میں کوئی نئی بات نہیں ہے کہ ریاستی سطح کے لیڈر مرکز میں بادشاہ گربن جائیں۔میرا خیال تھا کہ یہ صرف  1990 کی دہائی میں ہو تاتھا۔


19

ایس ۔ نِجالِن گپاّ :(1902-2000) 

کانگریس کے بزرگ لیڈر؛دستور ساز اسمبلی کے ممبر؛لوک سبھا کے ممبر؛ اس وقت کی میسور ریاست (کرناٹک) کے وزیرا علیٰ؛ جدید کرناٹک کے بانی  1968 سے 1971 تک کانگریس کے صدر۔


20

وی۔وی۔گری:(1894-1980) 

1969 سے 1974 تک ہندستان کے صدر؛

آندھرا پردیش سے کانگریس کے کارکن اور مزدور لیڈر؛

سیلونـ (سری لنکا) میں ہندوستان کے ہائی کمشنر؛

مرکزی کابینہ میں وزیر محنت؛اترپردیش، کیرالہ اور میسور (کرناٹک)کے گورنر؛

نائب صدر (1967-1969)، صدر ذاکر حسین کے انتقال کے بعد قائم مقام صدر؛

 استعفیٰ دیا اورآزاد امیدوار کی حیثیت سے صدارتی الیکشن لڑا؛

اوراس الیکشن میں انھیں اندرا گاندھی کی حمایت حاصل رہی۔

صدارتی الیکشن،1969

اندرا گاندھی اور سنڈیکیٹ کے درمیان حریفانہ کشمکش 1969 میں منظرِعام پرآگئی۔اس سال صدرجمہوریہ ذاکر حسین کی موت کی وجہ سے صدارتی عہدے کی کرسی خالی ہو گئی۔ مسزگاندھی کے اختلافات کے باوجود’سنڈیکیٹ ‘ نے ان کے پرانے حریف اوراس وقت لوک سبھا کے اسپیکر این سنجیواریڈی کو آنے والے صدارتی الیکشن میں کانگریس کا باضابطہ امیدوارنامزد کردیا۔اس کے جواب میں اندرا گاندھی نے اس وقت کے نائب صدر وی۔وی۔گری کو ایک آزاد امیدوار کی حیثیت سے میدان میں اترنے کی حمایت کی۔انھوں نے کئی بڑے اور مقبول پالیسی اقدام کا اعلان بھی کردیا جیسے کہ چودہ بڑے پرائیویٹ بینکوں کو قومی ملکیت میں لینا،’پریوی پرس‘ یعنی نوابوں اور راجاؤں کے جیب خرچ اور ان کو دی ہوئی مراعات کا خاتمہ۔مرارجی ڈیسائی نائب وزیر اعظم اور وزیر خزانہ تھے۔دونوں ہی مسئلوں پر ان کے اور وزیر اعظم کے درمیان زبردست اختلافات ہوئے اور نتیجے کے طور پر مرارجی ڈیسائی نے حکومت چھوڑدی۔
کانگریس نے ماضی میں بھی اس قسم کے اختلافات دیکھے تھے۔لیکن اس بار دونوں ہی گروہ ایک فیصلہ کن مقابلے کے منتظر تھے اور یہ موقع صدارتی الیکشن کے وقت آیا ۔ اس وقت کے کانگریس کے صدر ایس نجا لن گپّا نے کانگریس کے ممبران پارلیمنٹ اور اسمبلی کو ایک حکم نامہ جاری کیا کہ وہ کانگریس کے سرکاری امیدوار سنجیواریڈی کے حق میں ووٹ دیں۔اندرا گاندھی کے حمایتیوں نے سرکاری طور سے آل انڈیا کانگریس کمیٹی (AICC) کی خصوصی میٹنگ بلانے کا مطالبہ کیا جس کو مسترد کر دیا گیا۔ وی۔وی۔گری کی خاموش حمایت کے بعد وزیر اعظم نے کھلے طور پر ’ضمیرکی آواز ‘ پر ووٹ ڈالنے کے لیے کہا۔اس کا مطلب تھا کہ پارلیمنٹ اور اسمبلی کے کانگریسی ممبرجس کو مناسب سمجھیں ووٹ دیں۔بالآخر الیکشن آزاد امیدوار وی۔وی۔گری کی فتح اور کانگریسی امیدوار سنجیواریڈی کی شکست پر ختم ہوا۔ 


21

’The left hook‘ (بایاں مکا)،یہ کارٹون وی۔وی۔گری (ہار پہنے ہوئے باکسر) سنڈیکیٹ کے نام زد امیدوار کے مقابلے فتح کے موقع پر شائع کیا گیا تھا۔یہاں پر نجا لن گپاّ(گھٹنوں پر جھکے ہوئے) سنڈ یکیٹ کی نمائندگی کر رہے ہیں۔

 بشکریہ: آر۔کے۔لکشمن،ٹائمز آف انڈیا



کانگریس امیدوار کی شکست نے آخر کار پارٹی کے بٹوارے کو ایک رسمی شکل دے دی۔ کانگریس کے صدر نے وزیر اعظم کو پارٹی سے نکال دیا لیکن وزیر اعظم کا دعویٰ تھا کہ ان کا گروپ ہی اصل کانگریس پارٹی ہے۔نومبر1969 تک سنڈیکیٹ کی سربراہی والا کانگریس گروپ کانگریس آر گنائزیشن (Congress (Organisation)کے نام سے جاناجا نے لگا اور اندرا گاندھی والا گروپ کانگریس (آر)(Congress(Requisitionists)   کے نام سے مشہور ہوا۔ان کو پرانی کانگریس اور نئی کانگریس بھی کہا جاتا تھا۔اندرا گاندھی نے پارٹی کے اس بٹوارے کو سماج وادی اور قدامت پرستوں،غریبوں کے ہمدردوں اور امیروں کے ساتھیوں کے درمیان تفریق قرار دیا۔

پریوی پرس کا خاتمہ

آپ پہلے باب میں نوابی ریاستوں کے انضمام کے بارے میں پڑھ چکے ہیں۔اس انضمام سے پہلے ایک یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ نوابوں اور راجاؤں کی حکمرانی کے خاتمہ کے بعد ان کا خاندان ایک مخصوص پرائیویٹ جائداد رکھنے کا مجاز ہوگا اور ساتھ ہی ان کو ایک رقم بھی ان کی ریاست کی آمدنی اور دوسرے وسائل کے تناسب میں دی جائے گی ۔ اس رقم کو ’پریوی پرس‘کہتے ہیں۔انضمام کے وقت ان مراعات پر زیادہ تنقید نہیں کی گئی کیوں کہ اس وقت اولین مقصدان ریاستوں کا انڈین یونین میں انضمام اور الحاق تھا۔
لیکن یہ مورو ثی مراعات معاشی اور سماجی انصاف اور مساوات کے ان اصولوں سے ہم آہنگ نہیں ہوتی تھیں جو ہندستان کے آئین میں لکھے گئے ہیں۔نہرو نے ان مراعات کے بارے میں کئی بار اپنی بے اطمینانی کا اظہار کیا۔1967 کے بعد اندراگاندھی نے اس مطالبہ کی حمایت کی کہ حکومت کو’ پریوی پرس‘ ختم کر دینا چاہیے۔مرا رجی ڈیسائی نے بہر حال اس اقدام کو اخلاقی طور سے غلط بتایا اور کہا کہ یہ’راجاؤں کے ساتھ معاہدہ اور یقین دہانیوں کی خلاف ورزی‘ ہے۔ حکومت نے اس سلسلے میں 1970 میں دستور میں ترمیم کرنی چاہی لیکن یہ ترمیم راجیہ سبھا میں پاس نہیں ہو سکی۔پھر حکومت نے ایک فرمان (Ordinance )جاری کیا جس کو سپریم کورٹ نے خارج کردیا ۔ 1971 میں اندراگاندھی نے اس کو الیکشن کا خاص موضوع بنایا اور عوامی حمایت حاصل کی ۔1971 کے الیکشن میں ان کی بے پناہ کامیابی کے بعد دستورمیں ترمیم کی گئی تاکہ پریوی پرس کے خاتمہ کی راہ میں جو قانونی رکاوٹیں حائل ہیں ان کو ہٹادیا جائے۔

تاریخ ایسے المیوں کی مثالوں سے بھری ہوئی ہے جو جمہوریت کے سر پر آئے۔جب ایک لیڈر جو جمہوری اداروں کی حمایت اور مقبول عوامی لہر پر سوارہوکر اقتدار میں آیا اور پھر اپنی ہی سیاسی نرگسیت کا شکار ہو گیا ہو اور بددیانت چاپلوسوں کی ٹولی اس کو اکساتی رہی ہو۔۔۔۔۔۔

ایس نجالن گپّا۔ 11نومبر1969کو اندراگاندھی کے نام ایک خط میں جس میں ان کو پارٹی سے نکال دیاگیا تھا۔

1971 کے انتخابات اور کانگریس کی بحالی

کانگریس کے بٹوارہ سے اندراگاندھی کی حکومت اقلیت میں آگئی ۔لیکن پھر بھی اقتدار میں رہی کیوں کہ کچھ مسائل پر دوسری پارٹیاں اس کی حمایت کر رہی تھیں جن میں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیااورڈی ایم کے بھی شامل تھی۔اس درمیان حکومت نے شعوری طورسے اپنے آپ کو ایک سماج وادی حکومت کے رنگ میں پیش کیا۔یہ وہی وقت تھا جب اندراگاندھی نے فی زمانہ موجود زمینی ا صلاح کے قانون کے نفاذ پر زور دیا اور اس کے علاوہ زمین کی سیلنگ کے لیے مزید قانون بنائے۔خود کو دوسری پارٹیوں کے انحصار سے آزاد کرانے ،پارلیمنٹ میں اپنی پارٹی کی پوزیشن مضبوط کرنے اور اپنے پروگرام کے لیے ایک عوامی حمایت حاصل کرنے کے پیشِ نظر دسمبر1970 میں اندراگاندھی کی حکومت نے لوک سبھا برخاست کردینے کی سفارش کی ۔یہ ایک اور حیرت انگیز اور جرأت مندانہ قدم تھا۔لوک سبھا کے لیے پانچواں عام انتخاب فروری 1971 میں کرایاگیا۔

22
ہم آپ کو یاد دلانا چاہتے ہیں کہ باپو کی خواہش تھی کہ کانگریس کو تحلیل کر دیا جائے
1969 میں کانگریس پارٹی کے اندر قیادت کے مسئلے پر پیدا ہوئی رقابت کو کارٹون نویس کی نظر کس طرح دیکھتی ہے۔

مقابلہ 

بظاہر مقابلے میں کانگریس (آر) کا پلّہ کمزور دکھائی دے رہا تھا۔آخر کار نئی کانگریس پرانی کمزور کانگریس ہی کا ایک حصہ تھی۔ ہر ایک کا خیال تھا کہ کانگریس کی اصل تنظیمی طاقت کانگریس (او)کے ہاتھ ہی میں ہے۔اندراگاندھی کے لیے حالات کو اور خراب بنانے کے لیے تمام غیر کمیونسٹ او رغیر کانگریسی اپوزیشن پارٹیوں نے مل کر ایک’عظیم اتحاد‘قائم کیا۔ایس ایس پی،اور پی ایس پی ،بھارتیہ جن سنگھ، سوتنترپارٹی اور بھارتیہ کرانتی دل بھی اسی کے نیچے جمع ہو گئے۔حکمراں پارٹی کا اتحاد کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا سے تھا۔
ان سب کے باوجود نئی کانگریس کے پاس وہ تھا جو اس کے مخالفین کے پاس نہیں تھا اور وہ تھا ایک مثبت نعرہ، مثبت پروگرام اور ایجنڈا۔’عظیم اتحاد‘ کے پاس کوئی مربوط سیاسی پروگرام نہیں تھا۔اندرا گاندھی نے کہا کہ حزب مخالف اتحاد کے پاس صرف ایک مشترکہ پروگرام ہے اور وہ ہے’اندرا ہٹاؤ‘ ۔اس کے جواب میں انھوں نے عوام کے سامنے ایک واضح اور تعمیری پروگرام پیش کیا جس کا اظہار ’غریبی ہٹاؤ‘کے نعرہ میں کیا گیا۔انھوں نے اپنی توجہ زیادہ تر پبلک سیکٹرکے فروغ، شہری جائداد اور دیہی آراضیوںکی حد پر پابندیوں، مواقع اور آمدنی کے فرق میں کمی اور راجاؤں کی مراعات کے خاتمہ پر رکھی ۔ ’غریبی ہٹاؤ‘ کے ذریعہ اندراگاندھی نے محروم طبقہ کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی جس میں بے زمین مزدوردَلت،آدی واسی،اقلیتیں، خواتین اور بے روزگار نوجوان شامل تھے ۔غریبی ہٹاؤ کانعرہ اور اس کے بعد کا پروگرام اندراگاندھی کی اس سیاسی حکمتِ عملی کا حصہ تھے جس کے ذریعے وہ ایک الگ،آزاد اور ملک گیر سیاسی حمایت حاصل کرنا چاہتی تھیں۔

23

’غریبی ہٹاؤ ‘ کا نعرہ دینے کے چالیس سال بعد بھی ہمارے چاروں طرف غریبی ہی غریبی ہے۔کیا یہ نعرہ محض ایک الیکشن کی چال تھی؟

نتیجہ اور اس کے بعد 

1971 کے لوک سبھا کے الیکشن اتنے ہی حیرت انگیز تھے جتنا کہ الیکشن کرانے کا فیصلہ۔کانگریس (آر)اور سی پی آئی کے اتحاد کو اتنی سیٹیں اور ووٹ حاصل ہوئے جو پچھلے چار عام انتخابات میں کانگریس کو نہیں ملے تھے۔مشترکہ طور سے انھوں نے لوک سبھا کی 375 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی اور 48.4 فی صد ووٹ حاصل کیے۔اس میں محض کانگریس (آر) کے حصہ میں 352 سیٹیں اور 44 فی صد ووٹ تھے۔اس کے برعکس کانگریس (او)،جس میں سیاست کے بڑے بڑے پہلوان شامل تھے، اندراگاندھی کی پارٹی کے حاصل کیے ہوئے ووٹوں کا ایک چوتھائی حصہ ہی پا سکے اوراسے صرف 16 سیٹوں پر ہی کامیابی ہوئی۔اس کے ساتھ ہی اندراگاندھی کی پارٹی کا یہ دعویٰ سچ ثابت ہو گیاکہ وہی ’اصل‘ کانگریس ہے، ساتھ ہی ہندوستانی سیاست میں اس کی بالادستی بھی قائم ہے۔ 
24
مجھے یقین نہیں آتا۔ میں سوچ رہا تھا کہ میں پہلے نمبرپر آرہاہوں، تم دوسرے نمبر پر اور وہ تیسرے نمبر پر۔۔۔۔۔
’عظیم خاتمہ‘ (The Grand Finish)۔1971کے الیکشن کے نتیجے پر ایک کارٹونسٹ کی ترجمانی۔ میدان پر دکھائے ہوئے کھلاڑی اس وقت کی حزب مخالف کی مشہور و معروف شخصیات ہیں۔

اپوزیشن کا’ عظیم اتحاد ‘ ایک عظیم ناکامی ثابت ہوا۔ اس کی تمام پارٹیوںکی جیتی ہوئی سیٹوں کی کل تعداد 40 سے کم تھی۔1971کے لوک سبھا الیکشن کے فوراً بعد ہی مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش) میں ایک بڑا سیاسی اور فوجی بحران شروع ہوگیا۔آپ چوتھے باب میں پڑھ چکے ہیں کہ مشرقی پاکستان کا بحران 1971 کے الیکشن کے بعد پیداہوا جس کے نتیجے میں ہندوستان اور پاکستان میں جنگ ہوئی اور بنگلہ دیش وجود میں آیا۔ان واقعات نے اندراگاندھی کی مقبولیت میں مزید اضافہ کر دیا۔حتیٰ کہ اپوزیشن لیڈر بھی اندراگاندھی کی سیاسی مہارت کے قائل ہوگئے ۔1972 میں ہونے والے ریاستی اسمبلیوں کے الیکشن میں ان کی پارٹی نے ہر ریاست میں کامیابی حاصل کی۔ ان کو پس ماندہ اور محروم طبقے کا مسیحاحاہی نہیں بلکہ ایک قومی لیڈر تسلیم کیا جانے لگا۔ پارٹی کے باہر یا پارٹی کے اندر اندراگاندھی کی مخالفت بے معنی ہو کر رہ گئی تھی۔
25
مسکراتی ہوئی ٹرافی
بے پناہ حمایت
بشکریہ: آر۔کے۔ لکشمن، ٹائمز آف انڈیا

مرکزاور ریاستوں کے انتخابات میں دو مسلسل کامیابیوں کے بعد کانگریس کا غلبہ پھر سے واپس آگیا۔ اب کانگریس تقریباً ساری ہی ریاستوں میں برسرِاقتدار تھی۔اس کے علاوہ کانگریس مختلف سماجی حلقوںمیں بھی مقبول تھی۔چار سال کے وقفہ کے اندر ہی اندراگاندھی نے اپنی لیڈرشپ اور کانگریس کی بالادستی پرا منڈتے ہوئے خطرات کا صفایا کر دیا۔

26

اندراگاندھی کے وزیر اعلیٰ چننے کے نئے طریقہ سے متاثر ہو کر یہ کارٹون بنایا گیا۔

بشکریہ: کٹیّ

بحالی؟

لیکن کیا اس کا مطلب یہ تھا کہ’کانگریس سسٹم‘ بحال ہو گیا تھا؟جو اندراگاندھی نے کیا وہ پرانی کانگریس کا احیا بلکہ پارٹی کا ازسرنو اختراع تھا۔اپنی مقبولیت کے اعتبارسے پارٹی ماضی ہی کی طرح تھی لیکن یہ ایک نئی قسم کی پارٹی تھی۔اس کا انحصار پارٹی کے اعلیٰ ترین لیڈر کی مقبولیت پرتھا۔اس کا تنظیمی ڈھانچہ بھی کچھ کمزور تھا۔کیوں کہ اس کانگریس میں گروپ اور دھڑے نہیں تھے لہٰذا اس میں دوسرے نظریات اور مفادات کے لیے جگہ نہیں تھی۔اس نے الیکشن تو جیتا لیکن اس کے اصل حمایت کے مرکز کچھ مخصوص سماجی طبقے جیسے غر با،خواتین، دلِت، قبائلی لوگ اوراقلیتیں تھیں۔یہ ایک نئی کانگریس تھی جوظہور میں آئی۔اس طرح اندراگاندھی نے کانگریس سسٹم کی نوعیت کو بدل کر کانگریس سسٹم کو بحال کردیا۔
اپنی بڑھی ہوئی ہر دل عزیزی کے باوجودنئی کانگریس ان دوسرے دباؤں اور اختلافات کو اپنے اندر سمونے کی صلاحیت سے محروم تھی جو’کانگریس سسٹم‘کا طرّہ امتیاز تھا ۔جب کہ کانگریس نے اپنی طاقت کومستحکم کیااور اندرا گاندھی ایک بے مثال سیاسی قوت بن گئی۔ لیکن لوگوں کی امیدوں کے جمہوری طرز اظہار کی گنجائش سمٹ کر رہ گئی۔معاشی استحصال اور ترقی کے مسائل سے متعلق عوامی بے چینی بڑھتی رہی۔ اگلے باب میں آپ پڑھیں گے کہ اس صورت حال نے کس طرح ایک ایسے سیاسی بحران کو جنم دیا جس نے ملک میں دستوری جمہوریت کے وجود ہی کو خطرے میں ڈال دیا۔


27
آئیے ایک فلم دیکھیں 
زنجیر
ایک نوجوان پولیس افسر، وجے کو جب وہ غنڈوں سے مقابلہ کر رہا تھا جعلی الزامات لگا کر جیل بھیج دیا جاتا ہے۔جیل سے باہر آکر وجے انتقام لینے کا تہیّہ کرتا ہے۔ وہ تمام رکاوٹوں کا سامنا کرتے ہوئے برے عناصر کا خاتمہ کردیتا ہے۔ اپنی انتقامی کارروائی کے دوران بھی وجے سماج دشمن عناصر سے لڑتا رہتا ہے، اور خود ہی ان ہی کے سسٹم سے اس کو مدداور حمایت ملتی ہے۔
یہ فلم مٹتی ہوئی اخلاقی قدروں سے پیدا ہو نے والے زبردست اور طاقت ور احساسِ محرومی کی تصویر کشی کرتی ہے۔یہ فلم سسٹم کی لاپرواہی کو پیش کرتی ہے، اور وجے کے غصّے کے ذریعے سخت اور آتشیں احتجاج کے پھوٹ پڑنے کو ظاہر کرتی ہے۔ اس فلم نے ایک رجحان قائم کیا جس کو 1970کی دہائی کا غضب ناک نوجوان  (The Angry Youngman) کہا گیا۔
سال :   1973
ہدایت کار :   پرکاش مہرا
اسکرین پلے :   جاوید اختر
اداکار :   امیتابھ بچن، اجیت، جیا بھادری، پران
28

یہ تو ایساہی ہے کہ ایک میز کے پاؤں اور اوپری حصہ کو بدل دیا جائے اور پھر بھی اس کو میز کہا جائے! پرانی اور نئی کانگریس میں مشترکہ خصوصیت کیا تھی؟

مشقیں

1967 کے الیکشن کے متعلق کون سابیان درست ہے؟
(a) کانگریس لوک سبھا کا الیکشن جیت گئی لیکن کئی ریاستوں کے اسمبلی الیکشن میں ہار گئی۔
(b) کانگریس کو لوک سبھااور اسمبلی دونوں کے الیکشن میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
(c) کانگریس نے لوک سبھا میں اکثریت کھو دی مگر دوسری پارٹیوں کی مدد سے ایک مخلوط حکومت بنالی۔
(d)  کانگریس مرکز میں ایک اِضافی اکژیت کے ساتھ برسرِ اقتدار رہی۔
جوڑی بنا ئیے:
(a) سنڈیکیٹ (i)                          (Syndicate) ایک منتخب نمائندہ جو اس پارٹی کو چھوڑدے  
                                                                   جس کے نشان پر وہ الیکشن جیتاہے۔
(b)  دَل بَدل ((ii)                         Defection) عوام کی توجہ مبذول کرانے کے لیے 
                                                                    دل فریب الفاظ 
 (c)  نعرہ (iii)     (Slogan)مختلف نظریات رکھنے والی پارٹیوں کا کانگریس اور اس کی پالیسیوں کے خلاف اتحاد
(d)  غیر کانگریسیت(iv)    (Anti-Congressism)کانگریس کے اندر طاقت ور اور بارسوخ لیڈروں کاایک گروپ

مندرجہ ذیل نعروں کو آپ کن سے منسلک کریں گے؟
       (a) جے جوان جے کسان
       (b) اندرا ہٹاؤ!
       (c) غریبی ہٹاؤ!
1971کے’ عظیم اتحاد‘کے بارے میں کون سابیان درست ہے؟
عظیم اتحاد  ........
     (a) غیر کمیونسٹ اور غیر کانگریسی پارٹیوں نے بنایا تھا۔ 
     (b)    کا ایک واضح سیاسی اور نظریاتی پروگرام تھا ۔
     (c) تمام غیر کانگریسی پارٹیوں نے قائم کیاتھا ۔
5۔ ایک سیاسی پارٹی کے اندر جھگڑے ختم کرنے کے کیا طریقے ہو سکتے ہیں ؟ نیچے کچھ تجاویز دی جا رہی ہیں ۔ ان میں سے ہر ایک پر غور کرنے کے بعد اس کی خوبیاں اور خامیاں بیان کیجیے۔
     (a)    پارٹی کے صدر کے نقشِ قدم پر چلیے
     (b)    اکثریتی گروپ کی بات مانیے
    (c)     ہر مسئلہ پر خفیہ ووٹنگ کرایئے
    (d)    پارٹی کے بزرگ اور تجربہ کار لیڈروں سے مشورے کیجیے۔
1967 کے الیکشن میں کانگریس کی شکست کے اسباب میں سے مندرجہ ذیل کون ساسبب تھا ؟
   (a)  کانگریس میں ایک ہر دل عزیزاور دل فریب لیڈر کی عدم موجودگی
   (b)  کانگریس پارٹی کے اندر کی تفریق 
   (c)   نسلی علاقائی اور مذہبی گروپوں کا ابھرنا
   (d)  غیر کانگریسی پارٹیوں کا بڑھتا ہوا آپسی تال میل
   (e) کانگریس پارٹی کے اندر ونی اختلافات
7۔ 1970 کے شروع کی دہائی میں اندرا گاندھی کی حکومت کی مقبولیت کے کیا اسباب تھے؟
ساٹھ کی دہائی میں کانگریس کے حوالے سے ’سنڈیکیٹ‘ کا کیا مطلب تھا؟سنڈیکیٹ نے کانگریس پارٹی میں کیا کردار ادا کیا تھا ـ؟
ان خاص خاص سوالوں پر بحث کیجیے جنھوں نے 1969 میں کانگریس کو باضابطہ طورسے بانٹ دیا ۔ 
10۔  پیراگراف کو پڑھیے اور درج سوالوں کا جواب دیجیے:
’’کانگریس کی اس وفاقی جمہوری اور نظریاتی تنظیم کو جس کی رہنمائی نہرو نے کی تھی اندرا گاندھی نے ایک طاقت ور محوری اور غیر جمہوری ادارے میں بدل دیا ...لیکن یہ۔۔۔ اس وقت تک نہیں نہیں ہوسکتا تھا جب تک کہ اندر ا گاندھی پوری سیاست ہی کو نہ بدل دیتیں۔ نئی مقبول سیا ست نے سیاسی نظریوں کو محض الیکشن کی بیان بازی اور ان نعروں تک محدود کردیا جسے عملی شکل دینا کسی کا مقصد نہ تھا ۔۔۔1970کی الیکشن کی کامیابیوں اور جشن کی سرشاریوں کے درمیان کانگریس ایک سیاسی تنظیم کی حیثیت سے مرگئی‘‘۔۔۔۔۔  سُدپتا کوی راج
(a)   مصنفہ کے نزدیک نہرو اور اندراگاندھی کی حکمت عملیوں میں کیا فرق ہے؟
(b)   مصنفہ یہ کیو ں کہتی ہیں کہ 1970کی دہائی میں کانگریس پارٹی ’مر گئی‘؟
(c)   کانگریس پارٹی کے اندر جو تبدیلیاں آئیں انھوں نے کس طرح دوسری سیاسی پارٹیوں کو بھی متاثر کیا؟

آیئے اسے مل کر کریں 

 •  سیا سی پاٹیوں کے دیے گئے نعروں کی فہرست بنایئے۔
 •  سیاسی پارٹیوں میں کیا آپ کومنشوروں اور اشتہاروں ، نعروں اور اشتہارات میں کوئی مشابہت نظرآتی ہے؟
•   اس موضوع پر بحث کیجیے کہ قیمتوں میں اِضافہ سیاسی پارٹیوں کی قیمت کو کس طرح متاثر کرتا ہے۔