Skip to content



1

اس باب میں... 

 پچھلے باب میں ہم نے دیکھا کہ 1971کے الیکشن کے بعد کانگریس تازہ دم ہوگئی لیکن اب یہ پہلے والی پارٹی نہیں رہی تھی۔1973اور 1975کے درمیان ہونے والے کچھ سلسلہ وار واقعات نے اس فرق کو اورواضح کردیا جب ہندوستان کی جمہوری سیاست اور دستور میں مذکور تنظیمی توازن پر زبردست زد پڑی۔ ان سارے واقعات کا خاتمہ جون 1975 میں ہنگامی حالات (ایمرجنسی) کے نفاذ پر ہوا۔عام طور پر ایمرجنسی کو جنگ،حملہ یا قدرتی آفات  سے متعلق سمجھا جاتا ہے ۔لیکن یہ ایمرجنسی ایک مفروضہ داخلی خطرے کی بنیاد پر عائد کی گئی تھی۔ جس ڈرامائی طور سے ایمرجنسی نافذ کی گئی تھی اتنے ہی ڈرامائی طریقہ سے اس کو ہٹایا بھی گیا۔ نتیجے میں 1977کے لوک سبھا انتخابات میں کانگریس کو شکست ہوئی۔
اس باب میں ہم ہندوستان میں جمہوریت کی تاریخ کے اس نازک مرحلے پر توجہ دیں گے اور کچھ ایسے سوالات کو اٹھائیں گے جو اتنے سالوں بعد بھی متنازعہ ہیں۔
ایمرجنسی کیوں نافذکی گئی؟کیا یہ ضروری تھی؟
  عملی طور سے ایمرجنسی کے نفاذ کا کیا مطلب تھا؟
پارٹی سیاست پر ایمرجنسی کے کیا اثرات مرتب ہوئے؟
ہندوستانی جمہوریت کے لیے ایمرجنسی کے کیا سبق پوشیدہ ہیں؟

27جون 1975کا نئی دنیا کا ادارتی صفحہ ہمیشہ ہی کی طرح تھا۔ فرق صرف یہ تھا کہ اداریہ کی جگہ خالی تھی۔ اس اداریہ کو ہنگامی صورت حال میں دئیے گئے اختیار ا ت کے تحت سینسریا ’چھانا بینا‘گیا تھا۔ کئی دوسرے اخباروں میں بھی ایسی خالی جگہیں چھوڑدی گئیں،ان میں ہنگامی صورت حال کے خلاف احتجاج بھی شامل تھا۔ کچھ دنوں بعد خالی جگہیں چھوڑ نے پر بھی پابندی لگ گئی۔


باب 6

جمہوری نظام کا بحران

ایمرجنسی (ہنگامی حالات ) کا پس منظر

1967سے ہونے والی ہندوستانی سیاست میں تبدیلیوں کے بارے میں ہم پہلے پڑھ چکے ہیں۔ اندراگاندھی بے پناہ مقبولیت کے ساتھ ایک بلند قامت لیڈر بن چکی تھیں۔
 یہی وہ زمانہ تھا جب پارٹیوں کی زور آزمائی تلخ اور منقسم یا غیر متحدہ بن گئی۔ اسی زمانے میں عدلیہ اور انتظامیہ کے درمیان تناؤ پیدا ہوا۔ سپر یم کورٹ نے حکومت کی کئی پیش قدمیوں کو دستور کے خلاف سمجھا ۔ کانگریس پارٹی نے خیال ظاہر کیا کہ عدلیہ کا یہ کردار جمہوری اصولوں اور پارلیمنٹ کے اقتدار کے منافی ہے۔ کانگریس نے یہ الزام بھی لگایا کہ کورٹ ایک قدامت پرست ادارہ ہے جوغریبوں کے فلاح و بہود کے پروگرام میں ایک رکاوٹ بن رہا ہے ۔ کانگریس مخالف پارٹیوں نے محسوس کیا کہ سیاست بہت کچھ ذاتی بنتی جارہی ہے اور یہ کہ حکومت کا اقتدار ذاتی اقتدار میں تبدیل ہو رہا ہے۔ کانگریس کے بٹوارہ نے اندراگاندھی اور ان کے مخالفین کے درمیان اختلافات کو زیادہ تیز کر دیا۔

اقتصادی پس منظر 

1971کے انتخابات میں کانگریس نے غریبی ہٹاؤ کا نعرہ دیا تھا۔ لیکن ملک کی اقتصادی اور سماجی حالت میں 1971-72 کے بعد کوئی خاص بہتری نہیں آئی۔ بنگلہ دیش 
کے بحران نے ہندوستان کی اقتصادی حالت پربھاری بوجھ ڈالا تھا۔ تقریباً اسّی لاکھ لوگ مشرقی پاکستان سے سرحد پار کرکے ہندوستان آگئے۔ اس کے بعد پاکستان سے جنگ ہوئی ۔ جنگ کے بعد یونائیٹیڈ اسٹیٹس نے ہندوستان کی تمام امداد بند کر دی۔ اسی درمیان بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کئی گنا بڑھ گئیں۔ ان سب نے مل کر اشیا کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا۔1973میں قیمتوں میں 23فی صد اور 1974 میں 30 فی صد کا اضافہ ہوا۔ مہنگائی کی اتنی اونچی سطح نے عوام کے لیے زندگی مشکل کر دی۔
صنعتی ترقی کافی سست تھی اور بے روزگاری ، خاص طور سے دیہی علاقوں میں، بہت زیادہ تھی۔ اخراجات کو گھٹانے کے لیے حکومت نے اپنے ملازمین کی تنخواہوں کو جامد کر دیا۔ اس نے سرکاری ملازمین میں مزید بے اطمینانی پیدا کی۔ 1972 اور 1973میں بارش کی کمی کے سبب زرعی پیداوار میں بہت تیزی سے کمی آئی۔ اناج کی پیداوار 8فی صد کم ہوگئی ۔ پورے ملک میں اقتصادی صورت حال کی وجہ سے ایک عام بے اطمینانی کا ماحول پیدا ہوگیا تھا۔اس پس منظر میں غیر کانگریسی اپوزیشن پارٹیوں نے کامیاب اور موثر عوامی مظاہرے اور احتجاج منظم کیے۔طلبا کی بے چینی کی مثالیں جو 1960سے لگاتار جاری تھیں اس زمانے میں زیادہ نمایاں ہوگئیں۔ مارکسسٹ گروپوں نے بھی، جو پارلیمنٹری جمہوریت پر یقین نہیں رکھتے تھے، اپنی سرگرمیاں تیز کر دیں۔ ان گروپوں نے موجود سیاسی سسٹم اور سرمایہ داری کو جڑسے اکھاڑ پھینکنے کے لیے ہتھیار اٹھالیے۔ یہ مارکسسٹ ۔ لیننسٹ (موجودہ ماؤسٹ) یا نکسلائٹ گروپ کے نام سے جانے جاتے تھے۔ مغربی بنگال میں یہ خاص طور سے مضبوط تھے۔ ان کو دبانے کے لیے مغربی بنگال نے بڑے سخت اقدامات کیے۔
2

وزیر اعظم کہتے ہیں  

مشکل دن آرہے ہیں

زیادہ سے زیادہ ہم یہ امید کر سکتے ہیں کہ 1973 کو ’جلد سے جلد ہٹاو‘ کردیا جائے گا۔

 بشریہ: ابو

3

غریبی ہٹاؤ

غریب لوگوں کو واقعی مشکلات درپیش ہورہی ہوں گی- آخرغریبی ہٹاؤ کے وعدہ کا کیا ہوا؟

گجرات اور بہار کی تحریکیں    

گجرات اور بہار دونوں ہی ریاستیں کانگریس کے زیر حکومت تھیں ۔ طلباکے احتجاج سے ان دونوں ریاستوں اور ملکی سیاست پر دورر س اثرات مرتب ہوئے۔جنوری1974میں گجرات کے طلبا نے اناج، کھانے کے تیل اور دوسری بنیادی اشیاکی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور بڑے دفتروں میں رشوت خوری کے خلاف احتجاج شروع کیا۔ طلبا کے احتجاج میں بڑی اپوزیشن پارٹیاں بھی شامل ہوگئیں اور احتجاج بہت پھیل گیا جس کی وجہ سے ریاست میں صدارتی راج نافذ کرنا پڑا۔اپوزیشن پارٹیوں نے اسمبلی کے لیے نئے الیکشن کا مطالبہ کیا۔ مرارجی ڈ یسائی نے جو کانگریس (او) کے ایک ممتاز لیڈر تھے اورمتحدہ کانگریس میں اندراگاندھی کے خاص حریف تھے، اعلان کیا کہ اگر نئے الیکشن نہ کرائے گئے تو وہ غیر معینہ مدت کے لیے ہڑتال پر چلے جائیں گے۔ طلبا کے شدید دباؤ کی وجہ سے، جس کو اپوزیشن پارٹیوں کی حمایت حاصل تھی، جون1975میں گجرات اسمبلی کے لیے الیکشن کرائے گئے۔ ان انتخابات میں کانگریس کو شکست ہوئی۔

مارچ 1974میں بہار میں طلبا نے یکجاہوکر مہنگائی، غذا کی قلت ، بے روزگاری اورر شوت خوری کے خلاف احتجاج کیا۔ ایک مرحلہ پر طلبا نے جے پرکاش نارائن (JP)کو اپنی تحریک کی قیادت کے لیے مدعو کیا حالاں کہ جے پرکاش عملی سیاست چھوڑ چکے تھے اور سماجی کاموں میں مصروف تھے۔ جے پرکاش نے ان شرائط کے ساتھ یہ دعوت قبول کرلی کہ تحریک میں تشدد کو کوئی دخل نہیں ہوگا دوسرے یہ کہ تحریک صرف بہار تک ہی محدود نہیں رہے گی۔ اس طرح طلبا کی تحریک کو ایک سیاسی رنگ حاصل ہوگیا اور ساتھ ہی میں پورے ملک کی دل چسپی بھی۔ ہر طبقے اور پیشے کے لوگ اس تحریک میں شامل ہوگئے۔ جے پرکاش نے مطالبہ کیاکہ بہار میں کانگریس حکومت کو برخاست کیا جائے ۔ اس کے علاوہ انھوں نے سماجی، اقتصادی اور سیاسی میدان میں ان کے اپنے خیال کی حقیقی جمہوریت کے قیام کے لیے ایک مکمل انقلاب کا اعلان کیا۔ بہار حکومت کے خلاف مظاہرے، احتجاج، گھیراؤ اور ہڑتالیں منظم کی گئیں ۔ حکومت نے استعفیٰ دینے سے انکار کر دیا۔

اس تحریک نے قومی سیاست کو متاثر کرنا شروع کردیا۔ جے پرکاش نارائن چاہتے تھے کہ بہار کی تحریک ملک کے دوسرے حصوں میں بھی پھیل جائے ۔جے پرکاش نارائن کی تحریک کے ساتھ ساتھ ریلوے ملازمین نے بھی ایک ملک گیرہڑتال کرنے کا اعلان کیا۔ اس سے ملکی کے کام کاج کے ٹھپ پڑجانے کا خطرہ تھا۔ 1575میں جے۔ پی نے پارلیمنٹ تک عوام کے ایک جلوس کی قیادت کی۔ یہ راجدھانی میں ہونے والی اب تک کے سب سے بڑے سیاسی جلوسوں میں سے تھا۔

سمپورن کرانتی اب نعرہ ہے بھاوی اتہاس ہمارا ہے (یعنی مکمل انقلاب کے نعرہ کے ساتھ ہم مستقبل کے مالک ہیں)

1974کی بہار تحریک کا ایک نعرہ

اندرا انڈیا ہے، انڈیا اندرا ہے

1974میں کانگریس پارٹی کے صدر ڈی۔ کے۔ برووا کا دیا ہوا ایک نعرہ


4
ہزار چوراسی کی ماں
منموہن شیٹی
پیشکش: گووند نہلانی
ڈائریکٹر فوٹو گرافر اور پروڈیوسر: گووند نہلانی

نکسلی تحریک

1967میں مغربی بنگال کی دار جلنگ پہاڑیوں کے ضلع نکسل باڑی پولیس اسٹیشن علاقہ میںکمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ)کے مقامی کارکنوں کی زیر قیادت کسانوں کی 
ایک بغاوت شروع ہوئی۔ کسانوں کی تحریک نکسل باڑی پولیس اسٹیشن سے شروع ہوکر ہندوستان کی دیگر ریاستوں میںبھی پھیل گئی اور عام طور سے اس کو نکسلائٹ کہاجانے لگا۔1969میں انھوں نے کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) سے علا حدگی اختیار کر لی اور چار و مجمدار کی لیڈرشپ میں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ ۔ لیننسٹ) کے نام سے ایک نئی پارٹی بنائی۔ ان کی دلیل تھی کہ ہندوستان میں جمہوریت محض ایک دکھاوا ہے لہٰذا انھوں نے انقلاب لانے کے لیے ایک طویل گوریلا طرز کی جنگ لڑنے کی حکمت عملی کا فیصلہ کیا۔
نکسلی تحریک نے دولت مند زمین داروں سے زمین چھیننے اوراس کے بعد اس سے بے زمین اور غریب کسانوں کو بانٹنے میں طاقت کا استعمال کیا۔ اس کے حمایتیوں نے اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لیے نکسلائٹ تحریک کو دبانے کے لیے اور بھی کئی سخت اقدامات کیے لیکن یہ تحریک ختم نہیں ہوئی اور آنے والے سالوں میں یہ ملک کے دوسرے علاقوں میں بھی پھیل گئی۔ لیکن اب نکسلائٹ تحریک کئی پارٹیوں اور تنظیموں میں بٹ چکی تھی۔ ان میں سے کچھ جیسے  CPI-ML (Liberation) جمہوری سیاست میں کھلے عام حصہ لیتی تھیں۔
موجودہ دور میں نوریاستوں کے تقریباً 75ضلعے نکسلی تشدد کا شکارہیں۔ ان علاقوں میںبٹائی کاشت کاروں پرکام کرنے والوں اورزمین پر چھوٹے کسانوں کو ان کے بنیادی حق سے محروم رکھا جاتا ہے جس میں ان کا پیداوار کا حصہ اور مزدوری وغیرہ شامل ہیں۔ ان علاقوں میں جبری مزدوری، باہری لوگوں کا وسائل پر ناجائز قبضہ او ر ساہوکاروں کی جانب سے ناجائز استحصال اب بھی عام ہے۔ اس قسم کے حالات نکسلی تحریک کو آگے بڑھنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔

5

چارو مجمدار

(1918-1972):کمیونسٹ انقلابی اور نکسل باڑی بغاوت کے لیڈر۔ آزادی سے پہلے تبھا گا تحریک میں حصہ لیا ۔ CPIچھوڑ کر کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ۔ لیننسٹ ) کی بنیاد رکھی۔ کسانوں کے انقلاب کے لیے ماؤئسٹ طریقہ کار پر یقین رکھتے تھے اور انقلاب کے راستے میں تشدد کو جائز سمجھتے تھے۔ پولیس کی حراست میں ختم ہوگئے۔

6

جمہوریت بچاؤ

 جے پی

تشدد

لاقانونیت

رشوت خوری 

’’اسے  دیکھو،یہ بے اطمینانی پیدا کرنے،طاقت پر قبضہ کرنے اورجمہوریت کو تباہ کرنے کی کوشش کر رہاہے‘‘

بشکریہ:آر۔کے۔ لکشمن ٹائمز آف انڈیا116اپریل1974

حکومت نے نکسلائٹ تحریک سے نمٹنے کے لیے سخت قدم اٹھائے ہیں۔ اس معاملہ میں حکومت کے اقدام کو انسانی حقوق کے کارکنوں کی نکتہ چینی کا شکار بھی ہونا پڑا کہ حکومت نے نکسلائٹ معاملے میں دستور کے اصولوں کی خلاف ورزی کی ہے۔ نکسلائٹ لوگوں کے تشدد، پھر اس کے جواب میں حکومت کے نکسلی مخالف تشدد میں ہزاروں لوگ اپنی جانیں گنواچکے ہیں۔
اب غیر کانگریسی اپوزیشن پارٹیوں جیسے بھارتیہ جن سنگھ، کانگریس (او) اور بھارتیہ لوک دل نے بھی جے پرکاش کی حمایت شروع کردی۔ ان پارٹیوں نے جے پرکاش کو اندرا گاندھی کے متبادل کی حیثیت سے پیش کرنا شروع کیا۔ بہرحال ان کے سیاسی نظریات اور عوامی مظاہروں کی سیاست جس کی رہنمائی وہ کر رہے تھے تنقیدوں کے گھیرے میں آئی۔ گجرات اور بہار کے احتجاج کو بجائے حکومت مخالف ہونے کے کانگریس مخالف سمجھا گیا، حقیقت میں اندراگاندھی کی لیڈر شپ کے خلاف ۔ اندراگاندھی کو یقین تھا کہ ان تحریکوں کے پیچھے ان کی ذاتی مخالفت کارفرما تھی۔
7

لوک نائیک جے پرکاش نارائن (1902-1979): 

جوانی میں ایک مارکسسٹ تھے ؛ کانگریس سوشلسٹ پارٹی اور سوشلسٹ پارٹی کے بانی جنرل سکریٹری ۔ 1942کی ہندوستان چھوڑو تحریک کے ہیرو ۔ نہرو کا بینہ میں شرکت سے انکار ۔1955  کے بعد عملی سیاست سے کنارہ کشی ؛ ایک گاندھیائی بن گئے اور بھودان تحریک میں حصہ لیا۔اورناگاباغیوں سے گفتگو میں بھی شامل ہوئے۔ کشمیر کے امن مذاکرات میں حصہ لیا اور چمبل وادی کے ڈاکوؤں کے ہتھیار ڈالنے کو یقینی بنایا۔ بہار تحریک کے لیڈر۔ ایمرجنسی کی مخالفت کی علامت۔جنتا پارٹی کے قیام میں اصل محرّک قوت۔ 

1974 کی ریلوے ہڑتال  

اگر ریلیں چلنا بند ہوجائیں تو کیا ہوگا؟ ایک یادو دن کے لیے نہیں بلکہ پورے ہفتہ سے زیادہ کے لیے ؟بلا شبہ اکثر لوگوں کو تکلیف ہوگی لیکن اس سے بھی بڑی بات یہ کہ ملک کی اقتصادی ترقی رک جائے گی کیوں کہ ٹرین ہی کے ذریعہ سے مال اِدھر سے اُدھر جاتا ہے۔
کیا آپ کومعلوم ہے کہ بالکل ایسا ہی 1974 میں ہوا ہے؟ جارج فرنانڈیز کی قیادت میں دی نیشنل کو آرڈی نیشن کمیٹی فارریلوے مینس اسٹر گل(The National Coordination Committee for Railwaymen's Struggle) نے بونس اور ملازمت کی شرائط کے بارے میں اپنے مطالبات کو منوانے کے لیے ریلوے ملازمین کی ایک ملک گیر ہڑتال کا اعلان کیا۔ ہندوستان کے پبلک سیکٹر کے سب سے بڑے ڈپارٹمنٹ کے ملازمین 1974میں اسٹرائک پر چلے گئے۔ ریلوے ملازمین کی ہڑتال نے مزدوروں کی بے چینی اور بڑھا دی۔ ریلوے ہڑتال نے مزدوروں کے حقوق کے سوال بھی اٹھائے اور یہ بھی کہ کیا لازمی خدمات کے ملازمین اسٹرائک جیسے طریقے کا استعمال کرسکتے ہیں؟
حکومت نے اسٹرائک کو غیر قانونی قرار دیا۔ ریلوے ملازمین کے مطالبات کو ماننے سے انکار کردیا اور ان کے اکثر لیڈروں کو گرفتار کر لیا اور ریلوے لائن کی حفاظت کے لیے فوج بلالی۔ الغرض بیس دن کے بعد بغیر کسی تصفیے کے اسٹرائک ختم ہوگئی۔

عدلیہ سے تصادم

اسی زمانے میں حکومت ، حکمراں پارٹی اور عدلیہ کے درمیان اختلافات پیدا ہوئے۔ کیا آپ کو عدلیہ اور پارلیمنٹ کے درمیان طویل تنازعہ پر بحث یا د ہے؟ آپ نے پچھلے سال اس بارے میں پڑھا ہے۔ تین آئینی مسائل سامنے آئے۔ کیا پارلیمنٹ بنیادی حقوق کو گھٹاسکتی ہے؟ سپریم کورٹ کورٹ نے کہا نہیں گھٹا سکتی۔ دوسرے یہ کہ کیا پارلیمنٹ جائداد کے حق کو ایک ترمیم کے ذریعے کم کر سکتی ہے؟ دوبارہ سپریم کورٹ نے پھرکہا کہ پارلیمنٹ دستور میں کوئی ایسی ترمیم نہیں کر سکتی جس سے بنیادی حقوق پر ضرب پڑتی ہو۔ تیسرے یہ کہ پارلیمنٹ نے دستور میں اس دلیل کے ساتھ ترمیم کی کہ بنیادی حقوق کو مختصر کرکے ہی دستور کے رہنما اصول موثر ہوسکتے ہیں۔ لیکن سپریم کورٹ نے اس دلیل کو بھی خارج کر دیا۔ اس نے حکومت اور عدلیہ کے تعلقات میں بحران پیدا کردیا۔ آپ کو شاید یاد ہو کہ یہ بحران کیسونند ا بھارتی مقدمہ میں اپنے عروج کو پہنچ گیا۔ اس مقدمے میں سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ ہندوستانی دستور کی کچھ بنیادی خصوصیات ہیں اور پارلیمنٹ ان میں ترمیم نہیں کرسکتی۔
دو اور واقعات نے انتظامیہ اور عدلیہ کے درمیان تناؤ کومزید بڑھا دیا۔ 1973میں کیسونند ا بھارتی مقدمے میں فیصلہ کے فوراً بعد چیف جسٹس آف انڈیا کی جگہ خا لی ہوئی۔روایات یہ رہی تھی کہ سپریم کورٹ کے سب سے زیادہ سینٔر جج کو چیف جسٹس بنایا جاتاتھا لیکن 1973میں حکومت نے تین ججوں کی سینیارٹی نظراندازکرتے ہوئے جسٹس اے۔ این ۔ رے کو ہندوستان کاچیف جسٹس مقرر کر دیا۔ یہ تقرر سیاسی نزاع کا باعث بھی بن گیا کیوں کہ جن تین ججوں کو نظر انداز کیا گیا تھا انھوں نے ہی حکومت کے خلاف فیصلے دئیے تھے۔ اس طرح سے دستور کی ترجمانی اور سیاسی نظریات تیزی کے ساتھ آپس میں الجھ رہے تھے۔ وزیراعظم کے قریبی حلقے ایک ایسی عدلیہ اور نوکر شاہی کی ضرورت کے بارے میں گفتگو کرنے لگے جو انتظامیہ اور مقننہ کی نظر میں وفادار ہو۔ اس اختلاف اور نزاع کا نقطۂ عروج ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ تھا کہ اندر اگاندھی کا الیکشن کالعدم قرار دے دیا گیا۔
8

کیا ’’وفادار عدلیہ‘‘ اور ’’ وفادار نوکرشاہی‘‘ کا مفہوم یہ ہے کہ جج اور سرکاری افسر کو حکمراں جماعت کے تئیں پابند ہونا چاہیے؟

ایمرجنسی کا اعلان 

12؍ جون 1975کو الہٰ آباد ہائی کورٹ کے جسٹس جگ موہن لال سنہانے اپنے ایک فیصلہ میں لوک سبھا کے لیے اندرا گاندھی کے الیکشن کو کالعدم یا ناجائز قرار دیا۔ 
یہ فیصلہ اس اپیل کے جواب میں تھا جو 1971میں اندراگاندھی کے سرکاری ملازمین کی خدمات کو اپنی الیکشن مہم میں استعمال کرنا تھا۔ الہٰ آبادہائی کورٹ کے اس فیصلہ کا مطلب تھا کہ اگر چھ مہینے کے اندراندر دوبارہ پارلیمنٹ کی ممبر منتخب نہیں ہو تیں تو وہ پارلیمنٹ کی ممبر نہیں رہ سکیں گی اور نتیجتاً وزیراعظم بھی نہ رہ سکیں گی۔24جون کو سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے فیصلہ پر حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے اندرا گاندھی کو یہ راحت دی کہ جب تک ان کی اپیل پر فیصلہ نہیں ہوجاتا وہ پارلیمنٹ کی ممبر بنی رہیں گی لیکن لوک سبھا کی سرگرمیوں میں حصہ نہ لے سکیں گی۔
9

یہ تو فوج سے حکومت کے خلاف بغاوت کرنے کو کہنے جیسا ہے کیا یہ جمہوریہ کے حق میں ہے؟

سیاسی بحران   

اب ایک بڑے سیاسی مقابلے کے لیے اسٹیج تیار ہوچکا تھا۔ اپوزیشن پارٹیوں نے جے پرکاش نارائن کی قیادت میں اندراگاندھی کے استعفیٰ کے لیے دباؤ ڈالا اور 25جون 1975کو دہلی کے رام لیلاگراؤنڈ میں ایک زبردست مظاہرہ کیا۔ 

10

 اتنی زبردست حمایت پر آپ توکُرسی چھوڑنے کا خیال بھی ذہن میں نہ لائیں

یہ کارٹون ایمرجنسی کے اعلان سے کچھ دن پہلے ہی سامنے آیا تھاجس میں آنے والے سیاسی بحران کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ کرسی کے پیچھے کھڑا ہوا آدمی کا نگریس کا صدر ڈی۔ کے برووا ہے


جے پرکاش نے اندراگاندھی کے استعفیٰ کے لیے ملک گیر ستیہ گرہ کا اعلان کیا اور فوج ، پولیس او ر سرکاری ملازمین سے، غیر قانونی اور غیر اخلاقی احکام نہ ماننے کے لیے کہا۔ اس سے بھی حکومت کے کام کو تعطل کا خطرہ تھا۔ ملک کی سیاسی فضا اس سے پہلے کانگریس کے اتنی خلاف نہیں ہوئی تھی۔
حکومت کا جواب ایمرجنسی کا اعلان تھا۔ 25  جون 1975 کو حکومت نے اعلان کیا کہ اندرونی خلفشار اور بدنظمی کے باعث وہ دستور کی دفعہ 352کے تحت ایمرجنسی کانفاذ کرتی ہے۔ اس دفعہ کی روسے حکومت کے لیے کسی بیرونی خطرہ یااندرونی حالات کے درہم برہم ہوجانے پر ایمرجنسی کالاگو کرنا لازمی ہے۔ تکنیکی اعتبار سے یہ حکومت کے دائرہ اختیار میں تھا اس لیے کہ ہمارے دستور کے مطابق ایمرجنسی کے اعلان کے بعد حکومت کو کچھ مخصوص اختیارات دئیے گئے ہیں۔
ایمرجنسی کے اعلان کے بعد اختیارات کی وفاقی نوعیت ختم ہوجاتی ہے۔ اور ساری طاقت مرکزی حکومت کے ہاتھوں میں آجاتی ہے۔ دوسرے حکومت کو یہ اختیار بھی حاصل ہوتا ہے کہ ایمرجنسی کے دوران وہ بنیادی حقوق کو معطل یا مختصر کر دے۔ دستور کے الفاظ سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ایمرجنسی ایک بہت ہی غیر معمولی طریقہ ہے جو صرف اسی صورت میں عمل میں لایا جاسکتا ہے جب روز مرہ کی جمہوری سیاست بالکل ہی نا قابل عمل ہوجائے ۔ لہٰذا حکومت کو مخصوص اختیارات دئیے گئے ہیں۔

11

کیا صدر کو کابینہ کی سفارش کے بغیر ایمرجنسی کا اعلان کر دینا چاہیے تھا؟


12


13


25 جون 1975کی رات وزیر اعظم نے ایمرجنسی کے نفاذ کے لیے صدر فخر الدین علی احمد سے سفارش کی۔ انھوں نے فوراً ہی حکم نامہ جاری کر دیا۔ آدھی رات کے بعد تمام بڑے اخباروں کے دفتروں کی بجلی کاٹ دی گئی۔ دوسری صبح سویرے اپوزیشن کے لیڈروں اور کارکنوں کی ایک کثیر تعداد کو گرفتار کر لیا گیا۔ یہ سب کچھ ہونے کے بعد 26جون کو صبح  6بجے ایک خصوصی میٹنگ میں کا بینہ کو مطلع کر دیاگیا۔
14

تو اب سپریم کورٹ نے بھی ہتھیار ڈال دئیے! آخر اس وقت لوگوں کو کیا ہورہا تھا؟

نتائج 

 اس سے مظاہرے اور احتجاج یک لخت ختم ہوگئے ، ہڑتالیں ممنوع قرار دی گئیں۔ بہت سے اپوزیشن لیڈر جیل بھیج دئیے گئے اور سیاسی صورت حال اگرچہ تناؤ سے بھری تھی لیکن خاموش تھی۔ ایمرجنسی کے خصوصی اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے حکومت نے اخبارات ورسائل کی آزادی کو معطل کر دیا۔ اخباروں کے لیے لازمی ہوگیا کہ شائع ہونے والے مواد کے لیے وہ پہلے سے اجازت حاصل کریں۔ یہ پریس سنسرشپ، کے نام سے جاناجاتا ہے۔ فرقہ وارانہ اور سماجی کشیدگی کے اندیشہ کی وجہ سے حکومت نے جماعت اسلامی اور راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ RSSکو غیر قانونی قرار دے دیا۔ احتجاج ،ہڑتالوں اور عوامی مظاہروں کو ممنوع کر دیا اور سب سے اہم بات یہ تھی کہ ایمرجنسی کے تحت شہریوں کے مختلف بنیادی حقوق بھی معطل ہوگئے تھے جس میں کہ شہریوں کا ہائی کورٹ کے ذریعے اپنے بنیادی حقوق کی بحالی کا حق بھی شامل تھا۔
حکومت نے احتیاطی گرفتاریوں کا وسیع پیمانے پر استعمال کیا۔ اس دفعہ کے تحت لوگوں کو اس لیے گرفتار نہیں کیا جاتا کہ انھوں نے کوئی جرم کیا ہے بلکہ اس اندیشے کے تحت گرفتار کیا جاتا ہے کہ وہ جرم کر سکتے ہیں۔ احتیاطی گرفتاری ایکٹ کو استعمال کرتے ہوئے حکومت نے ایمرجنسی کے دوران بڑے پیمانے پر گرفتاریاں کیں۔ گرفتار شدہ سیاسی کارکن اپنی حراست کو حبس بے جا (Habeas Corpus) کے ذریعے چیلنج نہیں کر سکتے تھے۔ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں کئی درخواستیں گرفتار شدگان کی طرف سے داخل کی گئیں لیکن حکومت نے دعویٰ کیا کہ یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ گرفتار شدہ شخص کو یہ بتایا جائے کہ وہ کیوں اور کن بنیادوں پر گرفتار کیا جا رہا ہے۔کئی ہائی کورٹوں نے یہ فیصلہ دیا کہ ایمرجنسی کے نفاذ کے باوجود عدالتیں حبس بے جا کی درخواستوں پر فیصلہ کر سکتی ہیں۔ اپریل 1976میں سپریم کورٹ نے ہائی کورٹوں کے اس فیصلے کو خارج کرتے ہوئے حکومت کے نقطۂ نظر کو تسلیم کرلیا۔ اس کا مطلب تھا کہ ایمرجنسی کے دوران حکومت ایک شہری کے حق زندگی اور آزادی کو ختم کر سکتی ہے۔ اس فیصلہ نے شہریوں کے لیے عدالت کے دروازے بند کر دئیے اور یہ فیصلہ سپریم کورٹ کا سب سے متنازعہ فیصلہ کہا جاتا ہے۔
ایمرجنسی کے خلاف کئی کام کیے گئے۔ کئی وہ سیاسی لیڈر جو پہلی لہر میں گرفتار نہیں کیے جاسکے تھے روپوش ہوگئے اور حکومت کے خلاف مظاہرے منظم کرتے رہے۔ انڈین ایکسپریس اور اسٹیٹسمین ، جیسے اخباروں نے احتجاج کے طور پر سنسر کی ہوئی خبروں کے بجائے خالی جگہیں چھوڑنی شروع کردیں۔ سیمینار، اور’ مین اسٹریم‘ جیسے رسالوں نے سنسرشپ کے سامنے ہتھیار ڈالنے سے بند ہوجانا بہترسمجھا۔ ایمر جنسی کی مخالفت میں لکھنے کی وجہ سے کئی صحافیوں کو گرفتار کر لیا گیا ۔ کئی زمیں دوز پمفلٹ اور اخبار بھی نکالے گئے تاکہ سنسرشپ سے بچا جاسکے۔ کنٹرادیب شواراماکارنتھ جنھیں پدم بھوشن کا خطاب اور ہندی ادیب فانیشورناتھ رینو جو پدم شری سے نوازے جاچکے تھے، دونوں نے جمہوریت کی معطلی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اپنے خطاب واپس کر دئیے۔ لیکن عام طور سے ایمر جنسی کی مخالفت میں اتنے جرأت مندانہ اقدام کی تعداد بہت کم تھی۔
پارلیمنٹ نے دستور میں بھی کئی تبدیلیاں کیں۔اندراگاندھی مقدمہ میں الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلہ کے پس منظر میں ایک ترمیم یہ کی گئی کہ وزیر اعظم،صدر اورنائب صدر کے الیکشن کو کورٹ میں چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔دستور میں بیالیسویں ترمیم بھی ایمرجنسی کے زمانے میں ہی منظور کی گئی۔ آپ اس کے بارے میں پہلے پڑھ چکے ہیں کہ یہ دستور میں مختلف مقامات پر کی گئی ترمیموں کا ایک سلسلہ تھا اور انھیں میں سے ایک ترمیم یہ بھی کہ ملک میں قانون ساز اداروں کی مدت پانچ سے بڑھا کر چھ سال کردی گئی۔ یہ تبدیلی محض ایمرجنسی کے زمانہ کے لیے نہیں تھی بلکہ اس کی نوعیت دائمی تھی۔ اس کے علاوہ ایمرجنسی کے دوران الیکشن ایک سال کے لیے ٹالے جاسکتے ہیں۔ اس کا مطلب تھا کہ 1971کے بعد الیکشن 1976کے بجائے  1978 میں ہوں گے۔ 
15

ان چند لوگوں کی بات نہیں کرنی چاہیے جنھوں نے احتجاج کیا۔ باقی لوگوں کے متعلق کیا خیال ہے؟ بڑے افسران ، دانشور، سماجی اور مذہبی رہنما، شہری،یہ سب کیا کررہے تھے؟

ایمرجنسی کے بارے میں اختلافات

ایمرجنسی ہندوستانی سیاست کا سب سے زیادہ متنازعہ واقعہ ہے۔ اس کا ایک سبب یہ ہے کہ ایمرجنسی کے نفاذ کی ضرورت پر لوگوں میں اختلاف رائے ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ دستور کی جانب سے دیے گئے اختیارات کے استعمال سے حکومت نے عملی طور پر جمہوریت کو معطل کر دیا۔ اور ایمرجنسی کے بعد شاہ کمیشن کی تحقیقات کے مطابق ایمرجنسی کے درمیان کافی، زیادتیاں، ہوئی تھیں۔ آخر میں یہ کہ ہندوستانی جمہوریت کے عمل کو ایمرجنسی سے کیا سبق حاصل ہوتے ہیں۔ آئیے ان سب پر باری باری نظر ڈالتے ہیں۔

شاہ تحقیقاتی کمیشن

مئی1977میں جنتا پارٹی کی حکومت نے ایک تحقیقاتی کمیشن ریٹا ئرڈ چیف جسٹس آف سپریم کورٹ آف انڈیا جسٹس جے۔سی ۔شاہ کی سرکردگی میں ’25 جون 1975کو نافذ کی ہوئی ایمرجنسی کے دوران طاقت کے غلط استعمال ، زیادتیوں اور بے ایمانیوں کے مختلف پہلوؤں، پر تحقیق کرنے کے لیے قائم کیا۔

 کمیشن نے کئی قسم کے ثبوتوں پر غور کیا اور بہت سے لوگوں کو گواہی کے لیے طلب کیا جس میں مسز گاندھی بھی شامل تھیں جو کمیشن کے سامنے حاضر ہوئیں لیکن کسی بھی سوال کا جواب دینے سے انکار کردیا۔

ہندوستان کی حکومت نے شاہ کمیشن کے انکشافات، مشاہدات اور سفارشات اپنی دو عبوری رپوٹوں میں اور تیسری اور آخری رپورٹ کو منظور کر لیا۔ اور ان رپورٹوں کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں بحث کے لیے رکھا گیا تھا۔

16

انصاف

شاہ کمیشن کی پورٹ جاری ہونے پر کمیشن کے روبر وسامنا ہونے کے موقع پر مسز گاندھی پر یہ کارٹون بنایا گیا تھا۔

بشکریہ: آر۔کے۔لکشمن ٹائمز آف انڈیا

 جمہوریت کے نام پر یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ جمہوری عمل کو معطل کر دیا جائے۔ منتخب حکومتوں کو کام کرنے کا موقعہ نہیں دیا جارہا ہے۔ احتجاجوں نے ماحول کو گرما دیا ہے جس سے تشدد پھیلا ہے۔ کچھ لوگ اس حد تک چلے گئے ہیں کہ ا نھوں نے فوج کو بغاوت اور پولیس کو نافرمانی کے لیے اکسایا ہے۔تخریب کاری کی قوتیں شدت سے سرگرم عمل ہیں اور فرقہ وارانہ جذبات کو ہوا دی جارہی ہے جس سے ہماری سالمیت کو خطرہ ہے۔ آخر ایک حکومت کس طرح اپنے نام کی لاج رکھ سکتی ہے اور ملک کے استحکام کومشکل میں دیکھ سکتی ہے؟ چند لوگوں کی حرکتوں کی وجہ سے وسیع اکثریت کے حقوق کو خطرہ درپیش ہے

اندراگاندھی

26جون  1975کو آل انڈیا ریڈیو سے قوم سے خطاب کرتے ہوئے


کیا ایمرجنسی ضروری تھی؟

دستور میں ایمرجنسی کے نفاذ کے لیے اندرونی گڑبڑ یاہل چل کے سادہ الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ لیکن 1975سے پہلے ایمرجنسی کا اعلان نہیں کیا گیا تھا ۔ ہم نے نوٹ کیا ہے کہ ملک کے کئی حصوں میں احتجاج چل رہے تھے ۔ لیکن کیا یہ سب اس بنیاد پر ایمرجنسی کے اعلان کے لیے کافی تھا۔ حکومت کی دلیل یہ تھی کہ جمہوریت کے اندر مخالف پارٹیاں منتخب حکمراں پارٹی کو اس کی پالیسیوں کے مطابق ملک کو چلانے کی اجازت دیں۔ اس کے خیال میں مظاہرے،احتجاج اور احتجاجی عمل کی اتنی تیز رفتاری جمہوریت کے لیے بہترنہیں ہیں۔ اندرا گاندھی کے لواحقین کا یہ خیال بھی تھا کہ جمہوریت میں ہمیشہ پارلیمنٹ سے باہر کی سیاست کو حکومت کو نشانہ بنانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ ایک تو اس سے عدم استحکا م کی حالت پیدا ہوتی ہے دوسرے یہ انتظامیہ کے روزمرّہ کے کاموں میں رکاوٹ ڈالتا ہے جو وہ ملک کی ترقی کو یقینی بنانے کے لیے کرتی ہے ۔ اس وجہ سے تمام صلاحیتیں قانون اور امن کے نفاذ میں صرف ہوجاتی ہیں۔اندرا گاندھی نے شاہ کمیشن کو اپنے ایک خط میں لکھا کہ تخریب پسند قوتیں حکومت کے ترقیاتی پروگرام میں روڑے اٹکا رہی تھیں اور غیر آئینی طریقوں سے ان کو ہٹانے کے ہتھکنڈے استعمال کر رہی تھیں۔
کچھ دوسری پارٹیاں جیسے کہ CPIجس نے ایمرجنسی کے وقت کانگریس کا ساتھ د یا تھا یہ گمان کرتی تھیں کہ ہندوستان کی وحدت کو ختم کرنے کے لیے ایک بین الا قوامی سازش کام کررہی ہے۔ اس کے خیال میں ان حالات میں احتجاج اور مظاہروں پر پابندیاں عائد کرنا صحیح کام ہے۔ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کا یہ بھی خیال تھا کہ جے پرکاش کی تحریک مڈل کلاس لوگوں کی تحریک تھی جو کانگریس کی انقلابی پالیسیوں کے خلاف تھے۔ لیکن ایمرجنسی کے بعد اسے احساس ہوا کہ اس کے اندازے غلط تھے۔ اور ایمرجنسی کی حمایت ان کی ایک بھول تھی۔

دہلی کے ترکمان گیٹ علاقے کاانہدام 

ایمرجنسی کے دوران دہلی کی غریب بستیوں میں رہنے والے لوگ کثیر تعداد میں بے گھر ہوئے۔ جھگی جھونپڑیوں والوں کو طاقت کے ذریعہ اس وقت کے بنجر جمنا پار کے علاقے میں بسایا گیا ۔ ان ہی متاثرہ علاقوں میں ترکمان گیٹ کی کالونیاں بھی تھیں۔ اس علاقے کی جھگیاں گرادی گئیں۔ اس علاقے کے سینکڑوں لوگوں کی جبری نس بندی کی گئی۔ اکثرلوگ نس بندی سے اس لیے بچ گئے کہ وہ اس کام کے لیے دوسروں کو پھُسلا کر لے آئے۔ نس بندی کی ترغیب کے لیے وہ حکومت کی جانب سے زمین کے ایک ٹکڑے کے مستحق ہوجاتے تھے۔ اس طرح جہاں بہت لوگ حکومت کی طرف سے شروع کیے گئے پروگراموں کا شکار ہوئے وہاں ایسے بھی تھے جنھوں نے دوسروں کو اس کاشکار بنایا تاکہ وہ زمین کا ایک ٹکڑا قانونی طور سے حاصل کر سکیں اور اس طرح یک طرفہ خانماں بربادی سے بچ سکیں۔

ماخذ:   شاہ کمیشن تحقیقاتی رپورٹ ۔ عبوری رپورٹ  ii

دوسری طرف ایمرجنسی کے نکتہ چینوں نے کہا کہ ہندوستان کی جدوجہد آزادی سے اب تک ہندوستانی سیاست کی تاریخ ایک عوامی جدوجہد کی تاریخ ہے۔ جے پرکاش اور ان کے ہمنواؤں کا خیال تھا کہ جمہوریت میں عوام کو حکومت کے خلاف کھلے مظاہروں اور احتجاج کا حق حاصل ہے۔ بہاراور گجرات کی تحریکیں عام طور سے پُرامن اور عدم تشدد کی تھیں۔ جن کو گرفتار کیا گیا ان پر کسی بھی ملک مخالف حرکت کی وجہ سے مقدمہ نہیں چلایا گیا۔ زیادہ تر گرفتار شدگان کے خلاف کوئی مقدمہ رجسٹرڈنہیں کیا گیا۔ وزارت داخلہ نے بھی ‘ جس پر ملک کی اندرونی حالت کا جائزہ  لینے کی ذمے داری عائد ہوتی ہے، لا قانو نیت کے بارے میں کسی اندیشے کا اظہار نہیں کیا تھا - اگر کچھ مظاہرے اپنی حدوں سے باہر نکل گئے تھے تو حکومت کے پاس ان سے نمٹنے کے لیے پہلے ہی سے کافی قوت موجود تھی۔ لہٰذا جمہوری عمل کو معطل کرنے کی کوئی ضرورت نہ تھی اورنہ ہی ایمرجنسی جیسے سخت گیراقدام کی کوئی معقول وجہ تھی۔ خطرہ دراصل ملک کی سالمیت اور یک جہتی کو نہیں بلکہ حکمراں پارٹی اور خود وزیر اعظم کو تھا۔ نکتہ چینوں کا کہنا ہے کہ اندراگاندھی نے دستور کی ایک دفعہ کو جو ملک کے تحفظ کے لیے تھی اپنے اقتدار کی حفاظت کے لیے استعمال کیا۔

ایمرجنسی کے دوران کیا ہوا؟

ایمرجنسی کااصل نفاذ یا صحیح صورت حال ایک اور متنازعہ مسئلہ ہے۔ کیا حکومت نے اپنے ایمرجنسی اختیارات کا غلط استعمال کیا؟ کیا زیادتیاں ہوئیں اور اقتدار کا نا جائز استعمال ہوا؟ حکومت کی دلیل تھی کہ ایمرجنسی کے استعمال سے وہ امن اور قانون قائم کرنا چاہتی تھی، کار کردگی بحال کرنا چاہتی تھی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ غریبوں کی فلاح و بہبود کے پروگرام نافذ کرنا چاہتی تھی۔ اس مقصد کے تحت حکومت نے ایک بیس نکاتی پروگرام جاری کیا اور اس کو پورا کرنے کے لیے اپنے مضبوط عزم کا اظہار کیا۔ اس بیس نکاتی پروگرام میں زمینی اصلاحات ، زمین کی ازسرنو تقسیم ، زرعی اُجرتوں پر نظر ثانی ، انتظامیہ میں کار یگروں یا مزدوروں کی حصہ داری اور جبری مزدوری کا خاتمہ وغیرہ شامل تھے۔ ایمرجنسی کے اعلان کے ابتدائی مہینوں میں عام طور سے مڈل کلاس خوش تھا کیوں کہ احتجاج وغیرہ ختم ہوچکے تھے اور سرکاری ملازمین پرڈسپلن تھوپ دیا گیا تھا ۔ غریب اور دیہی عوام بھی حکومت کے فلاحی پروگراموں کی موثر عمل آ وری کی امید کر رہے تھے۔ یوں سماج کے مختلف طبقے ایمرجنسی سے مختلف امیدیں لگائے ہوئے تھے اور اس کے متعلق الگ الگ نظریات بھی رکھتے تھے۔

اپنے والدین اور خاندان اور پڑوس کے دوسرے بزرگوں سے پوچھیے کہ 1975-77کے درمیان ان کا تجربہ کیا تھا؟مندرجہ ذیل نکتوں پر نوٹ لیجیے۔

•    ایمرجنسی کے درمیان ان کا ذاتی تجربہ

•    آپ کے محلہ میں ایمرجنسی کی حمایت یا مخالفت کی کوئی رپورٹ

•   1977کے الیکشن میں ان کی حصہ داری اور جس کو بھی انھوں نے ووٹ دیا تو کیوں دیا۔

 •   اپنے نوٹس کو یک جا کیجیے اور ’ میرے گاؤں یا شہر میں ایمرجنسی ‘ کے عنوان سے ایک رپورٹ تیار کیجیے۔

17
نہیں’ ابھی نہیں‘ ابھی تمہارا اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا خطر ناک ہے،
نیا سال مبارک
ایمرجنسی
ایمرجنسی کے ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت نے جن پروگراموں کا وعدہ کیا تھا ان میں سے اکثر پورے نہیں ہوئے
اور ان کا مقصد صرف ان زیادتیوں سے توجہ ہٹانا تھا جو کہ جارہی تھیں۔ وہ احتیاطی گرفتاریوں کے اتنے بڑے پیمانے کے
بشکریہ: آر۔کے۔۔لکشمن ٹائمز آف انڈیا

ایمرجنسی کے ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت نے جن پروگراموں کا وعدہ کیا تھا ان میں سے اکثر پورے نہیں ہوئے اور ان کا مقصد صرف ان زیادتیوں سے توجہ ہٹانا تھا جو کی جارہی تھیں۔ وہ احتیاطی گرفتاریوں کے اتنے بڑے پیمانے کے استعمال پر سوال اٹھاتے تھے۔ ہم یہ دیکھ چکے ہیں کہ کئی بڑے لیڈر گرفتار کر لیے گئے تھے۔ گرفتار شدہ اپوزیشن لیڈروں کی مجموعی تعداد 676تھی۔ شاہ کمیشن کااندازہ تھا کہ تقریباً ایک لاکھ گیارہ ہزار لوگوں کو احتیاطی گرفتاری کے تحت حراست میں لیا گیا تھا۔ پریس پر بہت سخت پابندیاں عائد کر دی گئی تھیں جن میں سے کچھ بالکل غیر قانونی تھیں ۔ شاہ کمیشن کی رپورٹ میں بیان کیا گیا ہے کہ دہلی پاور سپلائی کا رپوریشن کے جنرل منیجر کو دہلی کے لفٹیننٹ گورنر کے زبانی احکام ملے تھے کہ 26 جون 1975کو رات دو بجے تمام اخبارات کی بجلی کاٹ دی جائے۔ دو یا تین دن بعد بجلی بحال ہوئی جب کہ سنسر شپ کا ڈھانچہ تیار ہوچکا تھا۔

حراست میں راجن کی موت 

کیرالہ کے کالی کٹ انجینئر نگ کالج کے آخری سال کے ایک طالب علم پی۔ راجن کو اس کے ایک اور ساتھی جو زف چالی کے ساتھ یکم مارچ  1976کو صبح ہی صبح ہوسٹل سے اٹھالیا گیا۔ راجن کے باپ ٹی۔وی۔ایچارا وَیریر نے اپنے بیٹے کا پتہ لگانے کے لیے جان توڑ کوششیں کیں۔وہ اسمبلی کے ممبروں سے ملے، متعلقہ افسروں کے پاس درخواستیں بھیجیں اور اس وقت کے وزیر داخلہ کے۔ کروناکرن سے بھی مد دمانگی۔ کیوں کہ ا یمرجنسی نافذ ہوچکی تھی لہذا شہریوں کی آزادی کے مقدمات کو عدالت میں نہیں لے جایا جاسکتا تھا۔ ایمرجنسی کے بعدوَیریر نے کیرالہ کے ارنا کلم ہائی کورٹ میں حبس بے جا کی عرض داشت داخل کی گواہوں کے بیانات سے معلوم ہوا کہ راجن کو ہوسٹل سے ٹورسٹ بنگلہ لے جایا گیا جہاں دوسرے دن پولیس نے اس پر تشدد کیا۔ بعد کی سنوائی میں کیرالہ حکومت نے ہائی کورٹ کو بتایا کہ راجن پولیس کی’غیر قانونی حراست‘میں پولیس کے مسلسل تشدد کی وجہ سے مرگیا۔ کیرالہ ہائی کورٹ کی ڈویثرن بنچ نے فیصلہ دیاکہ کرونا کرن نے عدالت سے جھوٹ بولا تھا۔ کرونا کرن اس وقت کیرالہ کے وزیر اعلیٰ ہوچکے تھے لیکن عدالت عالیہ کے کھرے تبصرہ کی بدولت ان کو اپنی کرسی چھوڑنی پڑی۔

ماخذ : شاہ تحقیقاتی کمیشن ۔ عبو ری رپورٹII


اس کے علاوہ دوسرے زیادہ سنگین الزامات ان لوگوں کے ضمن میں بھی لگائے گئے جن کی کوئی سرکاری حیثیت نہیں تھی اور وہ حکومت کے کاموںمیںدخل اندازی کرنے لگے تھے ۔وزیر اعظم کے چھوٹے بیٹے سنجے گاندھی کے پاس اس وقت کوئی سرکار ی عہدہ نہیں تھا۔ اس کے باوجود انتظامیہ پر ان کا قبضہ تھا اور وہ حکومت کے معا ملات میں دخل دیتے تھے۔ دہلی میں انہدام اور جبری نس بندی میں ان کا کردار کافی متنازعہ بن گیا تھا۔
سیاسی کارکنوں کی گرفتاری اور پریس پر پابندی کے علاوہ اور بھی معاملات تھے جہاں ایمرجنسی نے عوام کی زندگی کو براہ ِ راست متاثر کیا ۔ ایمرجنسی کے دوران پولیس حراست میں لوگوں کو اذیتیں دی گئیں اور اموات بھی واقع ہوئیں۔ غریب لوگوں کو بلاوجہ ایک جگہ سے ہٹاکر دوسری جگہوں پر بسایا گیا۔ اور آبادی پر قابو پانے کے حد سے زیادہ جوش میں جبری نس بندی کرائی گئی ۔ ان مثالوں سے واضح ہوجاتا ہے کہ اگر نا رمل جمہوری عمل معطل کر دیا جائے تو کیا کیا ہوسکتا ہے۔

D.E.M.O'CRACYکی 

موت پر ان کی بیوہ T.Ruth  ، 

ان کا بیٹا L.I. Bertic  اور

 ان کی بیٹیاں  Faith،Hope

 اور  Justice اپنے شدید غم کا

 اظہار کرتے ہیں‘‘

1975یہ بے نام اشتہار میں ایمرجنسی کے اعلان کے فورا! بعد ٹائمز آف انڈیا میں شائع ہوا تھا

ایمرجنسی کے سبق

ایمرجنسی سے فوراً ہندوستانی جمہوریت کی کمزو ریاں اور قوتیں ظاہر ہوگئیں۔ اگرچہ کئی مبصرین کا یہ خیال ہے کہ ایمرجنسی کے دوران ہندوستان جمہوری نہیں رہا تھا لیکن پھر بھی یہ امر قابل قدر ہے کہ ایک بہت ہی قلیل مدت میں جمہوری عمل کے مطابق چلنے لگا۔ لہٰذا یمرجنسی کا پہلا سبق یہ ہے کہ ہندوستان میں جمہوریت کو ختم کرنا بہت ہی مشکل کام ہے۔
دوسرے یہ کہ ہندوستان کے دستور میں ایمرجنسی کے بارے میں ابہامات سامنے آئے جن کی بعد میں تصحیح کردی گئی۔ اب اندرونی ایمرجنسی صرف ایک مسلح بغاوت کی صورت میں ہی لاگو کی جاسکتی ہے اور یہ لازم ہے کہ ایمرجنسی لاگو کرنے کی سفارش صدر کے پاس یونین کیبنیٹ کی جانب سے تحریری شکل میں جانی چاہیے۔
تیسرے یہ کہ ایمرجنسی کی وجہ سے عوام میں شہری آزادی اور حقوق کا شعور پیدا ہوا۔ عدالتوں نے بھی ایمرجنسی کے بعد افراد کی شہری آزادی کے تحفظ میں سرگرمی دکھائی جو ایمرجنسی کے دوران، ان حقوق کا تحفظ نہ کر سکنے پر اپنی بے بسی کے ردّعمل میں تھی۔ اس تجربے کے بعد شہری حقوق اور آزادی کے تحفظ کے لیے کئی انجمنیں وجود میں آئیں۔
بہر حال ایمرجنسی کے نازک لمحات نے کچھ ایسے مسائل پیدا کیے ہیں جن سے اب تک ٹھیک سے نمٹا نہیںجاسکا ہے۔ ہم نے اس باب میں پڑھا کہ پارٹیوں کی جانب سے مسلسل سیاسی مظاہروں اور ایک جمہوری حکومت کے معمول کے مطابق کام کاج میں ٹکراؤ ہوتا ہے۔ دونوں کے درمیان صحیح توازن کیا ہے؟ کیا عوام کو احتجاجی کارروائیاں کرنے کی مکمل آزادی ہونی چاہیے ۔ یا ان کے پاس ایسا کوئی حق نہیں ہونا چاہیے یا یہ کہ کسی احتجاج کی حد و د کیا ہونی چاہئیں؟
دوسری اہم بات یہ ہے کہ ایمرجنسی کا اصل نفاذ پولیس اور انتظامیہ کے ذریعہ ہوا ہے۔ یہ ادارے آزادی سے کام نہیں کر سکتے تھے ۔ یہ حکمراں پارٹی کے سیاسی آلہ کار بن گئے تھے۔ شاہ کمیشن کے مطابق پولیس اور انتظامیہ سیاسی دباؤ کا شکار ہوگئے تھے۔ لیکن یہ صورت حال ایمرجنسی کے بعد بھی ختم نہیں ہوئی۔

ایمرجنسی کے بعد کی سیاست

ایمرجنسی کا سب سے زیادہ قیمتی اور پائیدار سبق ایمرجنسی کے فوراً بعد حاصل ہوا اور لوک سبھا الیکشن کا اعلان کیا گیا ۔ 1977کا الیکشن دراصل ایمرجنسی کے مسئلے پر ایک ریفرنڈم تھا۔ کم سے کم شمالی ہندوستان کے بارے میں یہ سچ ہے کیوں کہ ایمرجنسی کا زیادہ اثر اسی علاقے پر ہوا تھا۔ اپوزیشن نے الیکشن کے لیے جمہوریت بچاؤ، کا نعرہ دیا ۔ ایمرجنسی کے خلاف عوام کا ووٹ فیصلہ کن تھا۔ سبق بہت واضح تھا اور اس کے بعد یہ ریاستی سطح پر دہرایا جاچکا ہے۔ وہ حکومتیں جو جمہوریت مخالف سمجھی جاتی ہیں ووٹروں سے سزا پاتی ہیں۔ اس تنا ظر میں 1975-77کا تجربہ ہندوستانی جمہوریت کی جڑیں مضبوط کرنے کا ایک ذریعہ بن گیا۔

آج ہندوستان کا یومِ  آزادی ہے۔ ہندوستانی جمہوریت کی شمعیں بجھنے نہ دینا

15اگست  1975کے دی ٹائمز ، لندن میں’Free JP Campaign ‘کی جانب سے ایک اشتہار۔

لوک سبھا الیکشن،1977

اٹھارہ مہینوں کی ایمرجنسی کے بعد جنوری 1977میں حکومت نے الیکشن کرانے کا فیصلہ کیا۔ تمام کارکنوں اور لیڈروں کو جیل سے رہا کر دیا گیا۔ مارچ1977میں الیکشن منعقد ہوئے۔ اپوزیشن کے پاس وقت کم تھا سیاسی واقعات بڑی تیزی سے رونما ہوئے۔ ایمرجنسی سے پہلے ہی بڑی اپوزیشن پارٹیاں ایک دوسرے کے نزدیک آرہی تھیں۔ اب الیکشن کے موقعے پر ان سب نے مل کر ایک نئی پارٹی ، جنتا پارٹی کے نام سے بنائی۔ نئی پارٹی نے جے پرکاش نارائن کو اپنا لیڈر تسلیم کرلیا۔ کانگریس کے وہ لیڈر جو ایمرجنسی کے مخالف تھے جنتا پارٹی میں شامل ہوگئے۔ کچھ اور لیڈر بھی کانگریس سے الگ ہوگئے اور جگ جیون رام کی قیادت میں علاحدہ پارٹی بنالی۔ یہ پارٹی جس کا نام کانگریس فارڈیمو کر یسی ، تھا بعد میں جنتا پارٹی میں ضم ہوگئی۔
جنتا پارٹی نے اس الیکشن کو ایمرجنسی کے مسئلے پر ریفرنڈم کی شکل دے دی۔ اس کی الیکشن کی مہم میں زیادہ تر توجہ حکمرانی کے غیر جمہوری کردار اور ان زیادتیوں پر تھی جو اس عرصے میں پیش آئیں۔ پریس کی سنسرشپ اور ہزاروں لوگوں کی گرفتاری کے پس منظر میں رائے عامہ کانگریس کے خلاف تھی۔ جے پرکاش نارائن جمہوریت کی بحالی کی علامت بن گئے۔ جنتا پارٹی کی تشکیل سے یہ یقین بھی ہوگیا کہ غیر کانگریسی ووٹ آپس میں تقسیم نہیں ہوں گے۔ کانگریس کے لیے یہ وقت بلا شبہ بڑی مشکل کا وقت تھا۔ تا ہم الیکشن کے آخری نتائج سے سب حیران رہ گئے۔ آزادی کے بعد پہلی بار کانگریس پارٹی کو لوک سبھا کے الیکشن میں شکست ہوگئی۔ لوک سبھا میں کانگریس کو صرف 154سیٹیں حاصل ہوسکیں اور صرف 35فی صد ووٹ حاصل ہوسکے۔ جنتا پارٹی اور اس کے حلیفوں نے لوک سبھا کی 542سیٹوں میں سے 330سیٹوں پر قبضہ کیا۔ جب کہ جنتا پارٹی نے295سیٹیں جیت کر ایک واضح اکثر یت حاصل کر لی۔ شمالی ہندوستان میں کانگریس کے خلاف یہ زبردست انتخابی لہر تھی۔ کانگریس بہار، اترپردیش، دہلی ہریانہ اور پنجاب میں ایک سیٹ بھی حاصل نہیں کر سکی اور راجستھان اور مدھیہ پردیش میں اسے صرف ایک ایک سیٹ ملی۔ اندراگاندھی اور ان کا بیٹا سنجے گاندھی دونوں بالترتیب رائے بریلی اور امیٹھی سے ہار گئے۔
18

مرارجی دیسائی

 (1896-1995): مجاہد آزادی، گاندھیائی لیڈر۔ کھادی، قدرتی طرز علاج اور شراب پر پابندی کے مبلغ، ممبئی ریاست کے وزیر اعلیٰ۔ نائب وزیر اعظم  (1967-1969)، کانگریس کے بٹوارہ کے بعد کانگریس (او)میں شامل ہوئے۔ وزیر اعظم 1977سے 1979 تک۔ ہندوستان کے پہلے غیر کانگریسی وزیر اعظم۔

لیکن اگر آپ اس نقشے پر نظر ڈالیں جو نتائج کو بتاتا ہے تو آپ دیکھیں گے کہ کانگریس نے یہ الیکشن پورے ملک میں نہیں ہارا تھا۔ اس نے مہاراشٹر،گجرات اور اڑیسہ میں کئی سیٹیں حاصل کیں اور تقریباً تمام جنوبی ریاستوں میں فتح یاب ہوئی۔ اس کے کئی اسباب ہیں۔ اوّل تو یہ کہ ایمرجنسی کے اثرتمام ریاستوں میں یکساں طور پر محسوس نہیں کیے گئے تھے ۔جبری نس بندی اور جبری خانماں خرابی کامرکز زیادہ تر شمالی ریاستیں تھیں۔ اس سے زیادہ اہم بات یہ کہ شمالی ہندوستان سیاسی زور آزمائی کی نوعیت میں ایک طویل مدتی تبدیلی کا تجربہ کر چکا تھا۔ متوسط طبقہ اب کانگریس سے دور ہور ہاتھا اور اس کو جنتا پارٹی کی صورت میں ایک دوسرے سے قریب آنے کے لیے بہتر پلیٹ فارم ملا۔ یعنی یہ کہ 1977 کے الیکشن صرف ایمرجنسی سے متعلق ہی نہیں تھے۔
19

اس سے ہوشیار رہنا۔ اب دوبارہ وہ کوئی بکواس برداشت نہیں کرے گا!

ایمرجنسی    

کانگریس

 میسا   

بشکریہ: آر -کے-لکشمن ٹائمز آف انڈیا،29مارچ1977

ایک کارٹونسٹ کا خیال کہ1977 کے الیکشن میں کون جیتا اور کسے شکست ہوئی۔عوام کے سا تھ جو لوگ کھڑے نظر آرہے ہیں ان میں جگ جیون رام، مراجی ڈیسائی، چرن سنگھ اور اٹل بہاری باجپئی ہیں۔

جنتا حکومت

1977کے الیکشن کے بعد جو جنتا حکومت برسرا قتدار آئی وہ باہمی طور پر مضبوطی کے ساتھ مربوط اور جڑی ہوئی نہیں تھی۔ الیکشن کے بعد تین لیڈروںمیں وزارت عظمٰی
 کے لیے زبردست مقابلہ تھا۔ سب سے پہلے تو مرارجی ڈیسائی تھے جو 1966-1967سے اندرا گاندھی کے حریف رہے تھے۔ دوسرے اترپردیش سے کسانوں کے لیڈر اور بھارتیہ لوک دل کے رہنما چرن سنگھ تھے۔ اور تیسرے جگ جیون رام تھے جن کے پاس کانگریس کی حکومتوں میں ایک سینئر وزیر کا وسیع تجربہ تھا۔ آخر کار مرارجی ڈیسائی وزیراعظم چن لیے گئے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ پارٹی کے اندر اقتدار کی رسہ کشی کا خاتمہ ہوگیا۔
20

1977کے الیکشن کے بعد پہلی غیر کانگریسی حکومت کی حلف برداری ۔ تصویر میں جے پرکاش نارائن، جے پی کرپلانی، مرارجی دیسائی اور اٹل بہاری باجپئی نظر آرہے ہیں۔

ایمرجنسی کی مخالفت جنتا پارٹی کو مختصر مدت کے لیے ہی  متحدہ رکھ سکی۔ اس کے ناقدین کا خیال تھا کہ جنتا پارٹی میں جہت اور سمت ،قیادت ایک مشترکہ پروگرام موجود نہیں ہیں۔ جنتا پارٹی کانگریس کی بنائی ہوئی پالیسیوں میں کوئی بنیادی تبدیلی نہ لاسکی۔ جنتا پارٹی ٹوٹ گئی اور مرارجی ڈیسائی کی رہنما ئی میں چلنے والی حکومت 18مہینے سے کم میں ہی اکثریت کھوبیٹھی۔ کانگریس پارٹی کی حمایت کی یقین دہانی پر ایک اور حکومت چرن سنگھ کی سربراہی میں بنی۔ لیکن کانگریس پارٹی نے بعد میں حمایت واپس لے لی۔ نتیجہ کے طور پر چرن سنگھ حکومت صرف چار مہینے اقتدار میں رہ سکی۔ جنوری1980میں نئے لوک سبھا الیکشن ہوئے جن میں جنتا پارٹی کو مکمل شکست ہوئی خاص طور سے شمالی ہندوستان میں جہاں 1977میں انھوں نے بے پناہ کامیابی حاصل کی تھی۔ اندرا گاندھی کی قیادت میں کانگریس پارٹی اپنی 1971کی عظیم کامیابی کو دہرانے کے نزدیک آگئی۔ اس نے 353سیٹیں حاصل کیں اور اقتدار میں واپس آ گئی۔1977-79کے تجربہ نے ایک اور سبق سکھایا کہ وہ حکومتیں جو غیر مستحکم اور جھگڑالو ہوتی ہیں ووٹران کو سزا دیتے ہیں۔
21
لوک سبھا انتخابات کے نتیجے  1977
جنتا پارٹی  (بی ایل ڈی)
 انڈین نیشنل کانگریس(آئی این سی)
 بائیں بازوکی جماعتیں 
  دیگر 
ماخذ:  الیکشن کمیشن آف انڈیا        
نوٹ: یہ نقشہ پیمانے کے مطابق نہیں ہے لہذا اسے ہندوستان کی بیرونی سرحدوں کے لیے سند نہ تسلیم کیا جائے۔

 اس نقشہ کا مطالعہ کرکے ان ریاستوں کی نشا ن د ہی کیجیے جہاں:
کانگریس ہاری
–  کانگریس بہت بری طرح سے ہاری اور
وہ ریاستیں جہاں کانگریس اور اس کے حلیفوں نے اپوزیشن کا صفایا کر دیا 
    شمالی ہندوستان کے کون سے انتخابی حلقوں میں کانگریس کو فتح حاصل ہوئی؟

آخر ہم 1977کے الیکشن کے نتائج کو فیصلہ کن کیسے کہہ سکتے ہیں جب کہ شمال اور جنوب نے بالکل ہی الگ الگ طرح سے ووٹ ڈالے ہیں؟

22

(کارٹون)

مجھے آپ کی آواز سنائی نہیں دے رہی ہے!!

(کارٹون)

’’ میں نے جنتا حکومت کو گرادہا

 یہ جھوٹ ہے۔ سب جانتے ہیں کہ ہم نے دوسال تک کام کیا اور آخر اسے گراکر چھوڑا!!

بشکریہ: آر۔کے۔لکشمن، ٹائمز آف انڈیا

(کارٹون)

’’ بلاشبہ ہم سب کو ایک چھتری کے نیچے ہونا چاہیے ، لیکن پہل مجھے کرنے دیجیے !!،،

اس زمانے میں جنتا پارٹی کے اندرونی جھگڑے پر کئی کارٹون بنائے گئے۔ اوپر چند منتخب کارٹون ہیں 

بشکریہ: آر۔کے۔لکشمن، ٹائمز آف انڈیا

میں سمجھ گئی۔ ایمرجنسی آمریت کے خلاف ایک ٹیکے کی طرح تھی یہ تکلیف دہ بھی تھا اور بخار آور بھی۔ لیکن اس سے ہماری جمہوریت کی قوت برداشت اور مضبوط ہوگئی۔

23

چودھری چرن سنگھ (1902-1987):

جولائی  1979اور جنور ی 1980کے درمیان ہندوستان کے وزیر اعظم۔ مجاہد آزادی ۔ اترپردیش کی سیاست میں فعال۔ دیہی اور زرعی ترقی کے مبلغ۔1967میں کانگریس پارٹی چھوڑ کر بھارتیہ کرانتی دل بنائی۔   دوبار اترپردیش کے وزیراعلیٰ ۔  1977میں جنتا پارٹی کے بانیوں میں سے ایک۔ اس کے بعد نائب وزیراعظم اور وزیر د ا خلہ 1977-79۔ لوک دل کے بانی۔


24

جگ جیون رام (1908-1986) :

مجاہد آزادی اور بہار کے کانگریس لیڈر۔ ہندوستان کے نائب وزیراعظم  (1977-79)۔ دستورساز اسمبلی کے ممبر۔

1952 سے موت تک پالیمنٹ کے ممبر،آزاد ہندوستان کے پہلے وزیرمحنت۔

1952 سے 1977 تک کئی وزارتوں کو سنبھالا۔ایک دانشور اور بہترین منتظم۔

وراثت

 لیکن کیا یہ صرف اندراگاندھی کی واپسی کا معاملہ تھا؟ 1977اور 1980کے درمیان پارٹی سسٹم ڈرامائی طور سے بدل چکا تھا۔ 1969کے بعد سے کانگریس پارٹی نے مختلف نظریات رکھنے والے کارکنوں اور لیڈروں کو اپنی چھتری کے سائے تلے سے ہٹانا شروع کر دیا تھا۔ اب کانگریس پارٹی نے ایک خاص نظریہ کی بنیاد پر اپنی شناخت بنائی اور خود کو تنہا سماج وادی اور غریبوں کی حمایتی پارٹی بتایا۔ اس طرح انیس سوستر کی دہائی کے شروع میں کانگریس کی کامیابی اس سماجی اور نظریاتی امتیاز پر منحصر تھی جس نے لوگوں کے دل اپنی طرف کھینچے اور یقینا ساتھ میں اندرا گاندھی کی جاذبیت نے بھی۔ کانگریس پارٹی کی ساخت کی نوعیت میں تبدیلی کے بعد دوسری پارٹیوں نے زیادہ سے زیادہ اس عمل پر انحصار کیا جس کو ہندوستانی سیاست میں ’غیر کانگریسیت‘ کہا جاتا ہے۔ انہیں اس بات کی بھی سخت ضرورت محسوس ہوئی کہ الیکشن میں غیر کانگریسی ووٹ میں تقسیم نہ ہوں۔ اس عنصر نے 1977کے الیکشن میں اہم کردار ادا کیا ۔
پس ما ندہ طبقوں کی فلاح و بہبود کا مسئلہ1977کے بعد ہندوستانی سیاسست میں بالواسطہ طور پر کافی اہم ہوگیا۔ جیسا کہ ہم اوپر دیکھ چکے ہیں 1977کے الیکشن کے نتائج کا کچھ حصہ پس ماندہ ذاتوں کی وفاداری کی تبدیلی کا تھا۔1977میں لوک سبھا کے الیکشن کے بعد کئی ریاستوں کی اسمبلی کے الیکشن ہوئے۔ اس بار پھر شمالی ریاستوں نے غیر کانگریسی حکومتوں کو منتخب کیا جس میں پسماندہ طبقات کے لیڈروں نے اہم کردار ادا کیا۔ بہار میں ’دوسرے پس ما ند ہ طبقوں‘ کے بارے میں ریزرویشن کا مسئلہ کافی متنازعہ بن گیا اس لیے جنتا حکومت نے مرکزی منڈل کمیشن کاتقرر کیا۔ آپ اس کے متعلق اورپس ماندہ ذاتوں کی سیاست کے بارے میں آخری باب میں مزید پڑھیں گے۔ ایمرجنسی کے بعد کے الیکشن نے پارٹی سسٹم میں اس تبدیلی کے عمل کے لیے راہ ہموار کی۔
ایمرجنسی اور اس کے آس پاس کے زمانے کو آئینی بحران کا زمانہ کہہ سکتے ہیں کیوں کہ اس کی جڑیں اس آئینی کشمکش میں تھیں جو پارلیمنٹ اور عدلیہ کے دائر ہ اختیار پر ہوئی تھی۔ دوسری طرف یہ ایک سیاسی بحران کا زمانہ بھی تھا۔ حکمراںپارٹی کے پاس مطلق اکثریت موجود تھی لیکن اس کے باوجود اس کے لیڈروں نے جمہوری عمل کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا۔ ہندوستانی دستور کے بنانے والوں کو یقین تھا کہ تمام سیاسی جماعتیں بنیادی طور سے جمہوری روایتوں کااحترام کریں گی۔ یہاں تک کہ ایمرجنسی کے دوران اگر حکومت اپنی غیر معمولی اختیارات کا استعمال کرے تو وہ بھی قانون اور اس کے اصولوں کے دائرہ میں ہوگا۔ اس توقع نے ایمرجنسی کے دوران حکومت کو کھلی چھٹی دیدی۔ ان اختیارات کا ایمرجنسی کے دوران غلط استعمال ہوا۔ یہ سیاسی بحران آئینی بحران سے زیادہ سنگین تھا۔
ایک اور نازک سوال جو اس زمانے میں ابھرکر سامنے آیا وہ ایک پارلیمنٹری جمہوریت میں عوامی مظاہروں کے کردار اور ان کی حدود سے متعلق تھا۔ بلاشبہ ایک ادارتی طور سے مستحکم جمہوریت اور ایک لمحاتی طور سے مقبول حصہ داری میں پہلے ہی سے تناؤ موجود تھا۔ ہوسکتا ہے کہ اس تناؤ کی وجہ سے پارٹی سسٹم عوام کی آرزوؤں کو اپنے ساتھ لے کر چلنے میں ناکام رہا ہو۔ آنے والے باب میں ہم اس کشیدگی کے کچھ نمونے دیکھیں گے خاص طور سے عوامی تحریکوںاور علاقائی شناخت پر بحث و مباحثہ۔
25
الیکشن کی صفائی
(زبردست کامیابی)
بشکریہ: آر۔کے۔لکشمن، ٹائمز آف انڈیا، 13نومبر1979
 یہ کارٹون  1980کے الیکشن کے نتیجہ کے بعد آیا۔
26
آئیے ایک فلم دیکھیں
ہزاروں خواہشیں ایسی
سدھارتھ ، و کرم اور گیتا تین سماجی طور سے مصروف اور جوشیلے طالب علم ہیں۔ دہلی کے گریجوئٹ ہیں لیکن ان کی منزلیں مختلف ہیں۔ سدھارتھ سماجی تبدیلی کے انقلابی نظریہ کا زبردست حامی ہے۔ وکرم کو زندگی میں ہر قیمت پر کامیابی چاہیے تھی ۔ یہ فلم اس سفر کی کہانی ہے جو وہ اپنی منزل پانے کے لیے اختیار کرتے ہیں اور پس پردہ مایوسیوں کی بھی۔
فلم ستر کی دہائی کے پس منظر میں بنائی گئی ۔ یہ نوجوان کردار اس زمانے کی توقعات اور تصورات کی تخلیق ہیں۔ سدھارتھ انقلاب لانے کی اپنی خواہشات میں ناکام رہتا ہے لیکن وہ غریبوں کی مشکلات میں اتنا غرق ہوتا ہے کہ وہ ان کی ترقی اور سدھار کو انقلاب سے زیادہ اہم سمجھتا ہے۔ دوسری طرف و کرم ایک سیاسی شخصیت بن جاتا ہے لیکن ہمیشہ غیر مطمئن رہتا ہے۔
سال: 2005
ہدایت کار: سدھیرمشرا
 اسکرین پلے: سدھیر مشرا، رچی نارائن اور شوکمار سبرامینم
کاسٹ: کے۔کے ۔مینن، شائنی أہوجہ چترانگاڈاسنگھ

مشقیں

مندرجہ ذ یل بیانات ایمرجنسی کے حوالے سے غلط ہیں یا صحیح ؟
     (a)    اس کا اعلان اندراگاندھی نے  1975میں کیاتھا۔
     (b)   اس کے ذریعہ تمام بنیادی حقوق معطل ہوگئے
     (c)   اس کا اعلان گرتی ہوئی اقتصادی حالت کی وجہ سے کیا گیا
     (d)   ایمرجنسی کے درمیان کئی اپوزیشن لیڈروں کو گرفتار کر لیا گیا
     (CPI   (eنے ایمرجنسی کے اعلان کی حمایت کی
 2۔ ایمرجنسی کے اعلان کے حوالے سے غیر متعلق بیان کو الگ کیجئے
   (a)   ’’ مکمل انقلاب ‘‘ کی مانگ
           1974کی ریلوے اسٹرائیک
   (c)   نکسلی تحریک
  (d)    الہ آ بادہائی کورٹ کا فیصلہ
  (e)    شاہ کمیشن رپورٹ کے انکشافات
3۔   جوڑی بنائیے
   (a)  مکمل انقلاب                                (i) اندراگاندھی
   (b)  غریبی ہٹاؤ                                  (ii) جے پرکاش نارائن
   (c)  طالب علموں کااحتجاج                       (iii) بہار تحریک
   (d)ریلوے اسٹرائک                             (iv) جارج فرنانڈس

4۔   1980کے وسط مدتی الیکشن کی کیا وجوہات تھیں؟
5۔   1977میں جنتا حکومت نے شاہ کمیشن کا تقرر کیا تھا۔ اس کا تقرر کیوں ہوا تھا اور اس کے انکشافات کیا تھے؟
6۔   1975میں ایمرجنسی نافذ کرنے کے لیے حکومت نے کیا وجوہات بیان کیں؟
7۔   1977کے الیکشن میں پہلی بار اپوزیشن برسراقتدار آئی۔ آپ کے خیال میں اس تبدیلی کی کیا وجوہات تھیں؟
8۔   ہماری جمہوریت پرایمرجنسی کے اثرات مندرجہ ذیل پہلوؤں کے حوالہ سے کہاں تک مرتب ہوئے؟
  •  شہریوں کی شہری آزادی--
  •  ا نتظامیہ اور عدلیہ کے آپسی تعلقات 
  •  عوامی ذرائع ابلاغ کا عمل
  •  پولیس اور نوکر شاہی کا کام کرنے کا طریقہ--
9۔  ایمرجنسی نے کس طرح ہندوستان کے پارٹی سسٹم کو متاثر کیا؟ اپنا جواب مثالوں کے ساتھ واضح کیجیے۔
10۔ مندرجہ ذیل اقتباس کو پڑھ کر آنے والے سوالات کا جواب دیجئے۔
ہندوستانی جمہوریت دوپارٹی سسٹم کے اتنا قریب کبھی نہیں ہوئی تھی جتنی کہ 1977کے الیکشن کے وقت تھی۔ بہرحال اگلے چند سالوں میں ایک مکمل تبدیلی نظرآئی۔ اپنی شکست کے فوراً بعد انڈین نیشنل کانگریس دو حصوں میں بٹ گئی ......... جنتا پارٹی بھی کافی ہل چل اور کھلبلی کے دور سے گز ری،...... ڈیوڈ بٹلر ، اشوک لہری اور پرنائے رائے---،پارتھا چڑجی
(a)    1977میں کس بات سے ہندوستان دو پارٹی سسٹم کی طرح نظر آنے لگا؟
(B) 1977میں دو سے زیادہ پارٹیاں موجود تھیں۔ پھر مصنفین اس زمانے کو دو پارٹی سسٹم کے قریب کیوں کہہ رہے ہیں؟
  (c)  جنتا پارٹی اور کانگریس کے بٹوارہ کا سبب کیا تھا؟