
اس باب میں...
27جون 1975کا نئی دنیا کا ادارتی صفحہ ہمیشہ ہی کی طرح تھا۔ فرق صرف یہ تھا کہ اداریہ کی جگہ خالی تھی۔ اس اداریہ کو ہنگامی صورت حال میں دئیے گئے اختیار ا ت کے تحت سینسریا ’چھانا بینا‘گیا تھا۔ کئی دوسرے اخباروں میں بھی ایسی خالی جگہیں چھوڑدی گئیں،ان میں ہنگامی صورت حال کے خلاف احتجاج بھی شامل تھا۔ کچھ دنوں بعد خالی جگہیں چھوڑ نے پر بھی پابندی لگ گئی۔
باب 6
جمہوری نظام کا بحران
ایمرجنسی (ہنگامی حالات ) کا پس منظر
اقتصادی پس منظر

وزیر اعظم کہتے ہیں
مشکل دن آرہے ہیں
زیادہ سے زیادہ ہم یہ امید کر سکتے ہیں کہ 1973 کو ’جلد سے جلد ہٹاو‘ کردیا جائے گا۔
بشریہ: ابو

غریبی ہٹاؤ
غریب لوگوں کو واقعی مشکلات درپیش ہورہی ہوں گی- آخرغریبی ہٹاؤ کے وعدہ کا کیا ہوا؟
گجرات اور بہار کی تحریکیں
سمپورن کرانتی اب نعرہ ہے بھاوی اتہاس ہمارا ہے (یعنی مکمل انقلاب کے نعرہ کے ساتھ ہم مستقبل کے مالک ہیں)
1974کی بہار تحریک کا ایک نعرہ
اندرا انڈیا ہے، انڈیا اندرا ہے
1974میں کانگریس پارٹی کے صدر ڈی۔ کے۔ برووا کا دیا ہوا ایک نعرہ

نکسلی تحریک

چارو مجمدار
(1918-1972):کمیونسٹ انقلابی اور نکسل باڑی بغاوت کے لیڈر۔ آزادی سے پہلے تبھا گا تحریک میں حصہ لیا ۔ CPIچھوڑ کر کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ۔ لیننسٹ ) کی بنیاد رکھی۔ کسانوں کے انقلاب کے لیے ماؤئسٹ طریقہ کار پر یقین رکھتے تھے اور انقلاب کے راستے میں تشدد کو جائز سمجھتے تھے۔ پولیس کی حراست میں ختم ہوگئے۔

جمہوریت بچاؤ
جے پی
تشدد
لاقانونیت
رشوت خوری
’’اسے دیکھو،یہ بے اطمینانی پیدا کرنے،طاقت پر قبضہ کرنے اورجمہوریت کو تباہ کرنے کی کوشش کر رہاہے‘‘
بشکریہ:آر۔کے۔ لکشمن ٹائمز آف انڈیا116اپریل1974

لوک نائیک جے پرکاش نارائن (1902-1979):
جوانی میں ایک مارکسسٹ تھے ؛ کانگریس سوشلسٹ پارٹی اور سوشلسٹ پارٹی کے بانی جنرل سکریٹری ۔ 1942کی ہندوستان چھوڑو تحریک کے ہیرو ۔ نہرو کا بینہ میں شرکت سے انکار ۔1955 کے بعد عملی سیاست سے کنارہ کشی ؛ ایک گاندھیائی بن گئے اور بھودان تحریک میں حصہ لیا۔اورناگاباغیوں سے گفتگو میں بھی شامل ہوئے۔ کشمیر کے امن مذاکرات میں حصہ لیا اور چمبل وادی کے ڈاکوؤں کے ہتھیار ڈالنے کو یقینی بنایا۔ بہار تحریک کے لیڈر۔ ایمرجنسی کی مخالفت کی علامت۔جنتا پارٹی کے قیام میں اصل محرّک قوت۔
1974 کی ریلوے ہڑتال
عدلیہ سے تصادم

کیا ’’وفادار عدلیہ‘‘ اور ’’ وفادار نوکرشاہی‘‘ کا مفہوم یہ ہے کہ جج اور سرکاری افسر کو حکمراں جماعت کے تئیں پابند ہونا چاہیے؟
ایمرجنسی کا اعلان

یہ تو فوج سے حکومت کے خلاف بغاوت کرنے کو کہنے جیسا ہے کیا یہ جمہوریہ کے حق میں ہے؟
سیاسی بحران

اتنی زبردست حمایت پر آپ توکُرسی چھوڑنے کا خیال بھی ذہن میں نہ لائیں
یہ کارٹون ایمرجنسی کے اعلان سے کچھ دن پہلے ہی سامنے آیا تھاجس میں آنے والے سیاسی بحران کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ کرسی کے پیچھے کھڑا ہوا آدمی کا نگریس کا صدر ڈی۔ کے برووا ہے

کیا صدر کو کابینہ کی سفارش کے بغیر ایمرجنسی کا اعلان کر دینا چاہیے تھا؟



تو اب سپریم کورٹ نے بھی ہتھیار ڈال دئیے! آخر اس وقت لوگوں کو کیا ہورہا تھا؟
نتائج

ان چند لوگوں کی بات نہیں کرنی چاہیے جنھوں نے احتجاج کیا۔ باقی لوگوں کے متعلق کیا خیال ہے؟ بڑے افسران ، دانشور، سماجی اور مذہبی رہنما، شہری،یہ سب کیا کررہے تھے؟
ایمرجنسی کے بارے میں اختلافات
ایمرجنسی ہندوستانی سیاست کا سب سے زیادہ متنازعہ واقعہ ہے۔ اس کا ایک سبب یہ ہے کہ ایمرجنسی کے نفاذ کی ضرورت پر لوگوں میں اختلاف رائے ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ دستور کی جانب سے دیے گئے اختیارات کے استعمال سے حکومت نے عملی طور پر جمہوریت کو معطل کر دیا۔ اور ایمرجنسی کے بعد شاہ کمیشن کی تحقیقات کے مطابق ایمرجنسی کے درمیان کافی، زیادتیاں، ہوئی تھیں۔ آخر میں یہ کہ ہندوستانی جمہوریت کے عمل کو ایمرجنسی سے کیا سبق حاصل ہوتے ہیں۔ آئیے ان سب پر باری باری نظر ڈالتے ہیں۔
شاہ تحقیقاتی کمیشن
مئی1977میں جنتا پارٹی کی حکومت نے ایک تحقیقاتی کمیشن ریٹا ئرڈ چیف جسٹس آف سپریم کورٹ آف انڈیا جسٹس جے۔سی ۔شاہ کی سرکردگی میں ’25 جون 1975کو نافذ کی ہوئی ایمرجنسی کے دوران طاقت کے غلط استعمال ، زیادتیوں اور بے ایمانیوں کے مختلف پہلوؤں، پر تحقیق کرنے کے لیے قائم کیا۔
کمیشن نے کئی قسم کے ثبوتوں پر غور کیا اور بہت سے لوگوں کو گواہی کے لیے طلب کیا جس میں مسز گاندھی بھی شامل تھیں جو کمیشن کے سامنے حاضر ہوئیں لیکن کسی بھی سوال کا جواب دینے سے انکار کردیا۔
ہندوستان کی حکومت نے شاہ کمیشن کے انکشافات، مشاہدات اور سفارشات اپنی دو عبوری رپوٹوں میں اور تیسری اور آخری رپورٹ کو منظور کر لیا۔ اور ان رپورٹوں کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں بحث کے لیے رکھا گیا تھا۔

انصاف
شاہ کمیشن کی پورٹ جاری ہونے پر کمیشن کے روبر وسامنا ہونے کے موقع پر مسز گاندھی پر یہ کارٹون بنایا گیا تھا۔
بشکریہ: آر۔کے۔لکشمن ٹائمز آف انڈیا
جمہوریت کے نام پر یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ جمہوری عمل کو معطل کر دیا جائے۔ منتخب حکومتوں کو کام کرنے کا موقعہ نہیں دیا جارہا ہے۔ احتجاجوں نے ماحول کو گرما دیا ہے جس سے تشدد پھیلا ہے۔ کچھ لوگ اس حد تک چلے گئے ہیں کہ ا نھوں نے فوج کو بغاوت اور پولیس کو نافرمانی کے لیے اکسایا ہے۔تخریب کاری کی قوتیں شدت سے سرگرم عمل ہیں اور فرقہ وارانہ جذبات کو ہوا دی جارہی ہے جس سے ہماری سالمیت کو خطرہ ہے۔ آخر ایک حکومت کس طرح اپنے نام کی لاج رکھ سکتی ہے اور ملک کے استحکام کومشکل میں دیکھ سکتی ہے؟ چند لوگوں کی حرکتوں کی وجہ سے وسیع اکثریت کے حقوق کو خطرہ درپیش ہے
اندراگاندھی
26جون 1975کو آل انڈیا ریڈیو سے قوم سے خطاب کرتے ہوئے
کیا ایمرجنسی ضروری تھی؟
دہلی کے ترکمان گیٹ علاقے کاانہدام
ایمرجنسی کے دوران دہلی کی غریب بستیوں میں رہنے والے لوگ کثیر تعداد میں بے گھر ہوئے۔ جھگی جھونپڑیوں والوں کو طاقت کے ذریعہ اس وقت کے بنجر جمنا پار کے علاقے میں بسایا گیا ۔ ان ہی متاثرہ علاقوں میں ترکمان گیٹ کی کالونیاں بھی تھیں۔ اس علاقے کی جھگیاں گرادی گئیں۔ اس علاقے کے سینکڑوں لوگوں کی جبری نس بندی کی گئی۔ اکثرلوگ نس بندی سے اس لیے بچ گئے کہ وہ اس کام کے لیے دوسروں کو پھُسلا کر لے آئے۔ نس بندی کی ترغیب کے لیے وہ حکومت کی جانب سے زمین کے ایک ٹکڑے کے مستحق ہوجاتے تھے۔ اس طرح جہاں بہت لوگ حکومت کی طرف سے شروع کیے گئے پروگراموں کا شکار ہوئے وہاں ایسے بھی تھے جنھوں نے دوسروں کو اس کاشکار بنایا تاکہ وہ زمین کا ایک ٹکڑا قانونی طور سے حاصل کر سکیں اور اس طرح یک طرفہ خانماں بربادی سے بچ سکیں۔
ماخذ: شاہ کمیشن تحقیقاتی رپورٹ ۔ عبوری رپورٹ ii
ایمرجنسی کے دوران کیا ہوا؟
اپنے والدین اور خاندان اور پڑوس کے دوسرے بزرگوں سے پوچھیے کہ 1975-77کے درمیان ان کا تجربہ کیا تھا؟مندرجہ ذیل نکتوں پر نوٹ لیجیے۔
• ایمرجنسی کے درمیان ان کا ذاتی تجربہ
• آپ کے محلہ میں ایمرجنسی کی حمایت یا مخالفت کی کوئی رپورٹ
• 1977کے الیکشن میں ان کی حصہ داری اور جس کو بھی انھوں نے ووٹ دیا تو کیوں دیا۔
• اپنے نوٹس کو یک جا کیجیے اور ’ میرے گاؤں یا شہر میں ایمرجنسی ‘ کے عنوان سے ایک رپورٹ تیار کیجیے۔

حراست میں راجن کی موت
کیرالہ کے کالی کٹ انجینئر نگ کالج کے آخری سال کے ایک طالب علم پی۔ راجن کو اس کے ایک اور ساتھی جو زف چالی کے ساتھ یکم مارچ 1976کو صبح ہی صبح ہوسٹل سے اٹھالیا گیا۔ راجن کے باپ ٹی۔وی۔ایچارا وَیریر نے اپنے بیٹے کا پتہ لگانے کے لیے جان توڑ کوششیں کیں۔وہ اسمبلی کے ممبروں سے ملے، متعلقہ افسروں کے پاس درخواستیں بھیجیں اور اس وقت کے وزیر داخلہ کے۔ کروناکرن سے بھی مد دمانگی۔ کیوں کہ ا یمرجنسی نافذ ہوچکی تھی لہذا شہریوں کی آزادی کے مقدمات کو عدالت میں نہیں لے جایا جاسکتا تھا۔ ایمرجنسی کے بعدوَیریر نے کیرالہ کے ارنا کلم ہائی کورٹ میں حبس بے جا کی عرض داشت داخل کی گواہوں کے بیانات سے معلوم ہوا کہ راجن کو ہوسٹل سے ٹورسٹ بنگلہ لے جایا گیا جہاں دوسرے دن پولیس نے اس پر تشدد کیا۔ بعد کی سنوائی میں کیرالہ حکومت نے ہائی کورٹ کو بتایا کہ راجن پولیس کی’غیر قانونی حراست‘میں پولیس کے مسلسل تشدد کی وجہ سے مرگیا۔ کیرالہ ہائی کورٹ کی ڈویثرن بنچ نے فیصلہ دیاکہ کرونا کرن نے عدالت سے جھوٹ بولا تھا۔ کرونا کرن اس وقت کیرالہ کے وزیر اعلیٰ ہوچکے تھے لیکن عدالت عالیہ کے کھرے تبصرہ کی بدولت ان کو اپنی کرسی چھوڑنی پڑی۔
ماخذ : شاہ تحقیقاتی کمیشن ۔ عبو ری رپورٹII
D.E.M.O'CRACYکی
موت پر ان کی بیوہ T.Ruth ،
ان کا بیٹا L.I. Bertic اور
ان کی بیٹیاں Faith،Hope
اور Justice اپنے شدید غم کا
اظہار کرتے ہیں‘‘
1975یہ بے نام اشتہار میں ایمرجنسی کے اعلان کے فورا! بعد ٹائمز آف انڈیا میں شائع ہوا تھا
ایمرجنسی کے سبق
ایمرجنسی کے بعد کی سیاست
آج ہندوستان کا یومِ آزادی ہے۔ ہندوستانی جمہوریت کی شمعیں بجھنے نہ دینا
15اگست 1975کے دی ٹائمز ، لندن میں’Free JP Campaign ‘کی جانب سے ایک اشتہار۔
لوک سبھا الیکشن،1977

مرارجی دیسائی
(1896-1995): مجاہد آزادی، گاندھیائی لیڈر۔ کھادی، قدرتی طرز علاج اور شراب پر پابندی کے مبلغ، ممبئی ریاست کے وزیر اعلیٰ۔ نائب وزیر اعظم (1967-1969)، کانگریس کے بٹوارہ کے بعد کانگریس (او)میں شامل ہوئے۔ وزیر اعظم 1977سے 1979 تک۔ ہندوستان کے پہلے غیر کانگریسی وزیر اعظم۔

اس سے ہوشیار رہنا۔ اب دوبارہ وہ کوئی بکواس برداشت نہیں کرے گا!
ایمرجنسی
کانگریس
میسا
بشکریہ: آر -کے-لکشمن ٹائمز آف انڈیا،29مارچ1977
ایک کارٹونسٹ کا خیال کہ1977 کے الیکشن میں کون جیتا اور کسے شکست ہوئی۔عوام کے سا تھ جو لوگ کھڑے نظر آرہے ہیں ان میں جگ جیون رام، مراجی ڈیسائی، چرن سنگھ اور اٹل بہاری باجپئی ہیں۔
جنتا حکومت

1977کے الیکشن کے بعد پہلی غیر کانگریسی حکومت کی حلف برداری ۔ تصویر میں جے پرکاش نارائن، جے پی کرپلانی، مرارجی دیسائی اور اٹل بہاری باجپئی نظر آرہے ہیں۔

آخر ہم 1977کے الیکشن کے نتائج کو فیصلہ کن کیسے کہہ سکتے ہیں جب کہ شمال اور جنوب نے بالکل ہی الگ الگ طرح سے ووٹ ڈالے ہیں؟

(کارٹون)
مجھے آپ کی آواز سنائی نہیں دے رہی ہے!!
(کارٹون)
’’ میں نے جنتا حکومت کو گرادہا
یہ جھوٹ ہے۔ سب جانتے ہیں کہ ہم نے دوسال تک کام کیا اور آخر اسے گراکر چھوڑا!!
بشکریہ: آر۔کے۔لکشمن، ٹائمز آف انڈیا
(کارٹون)
’’ بلاشبہ ہم سب کو ایک چھتری کے نیچے ہونا چاہیے ، لیکن پہل مجھے کرنے دیجیے !!،،
اس زمانے میں جنتا پارٹی کے اندرونی جھگڑے پر کئی کارٹون بنائے گئے۔ اوپر چند منتخب کارٹون ہیں
بشکریہ: آر۔کے۔لکشمن، ٹائمز آف انڈیا
میں سمجھ گئی۔ ایمرجنسی آمریت کے خلاف ایک ٹیکے کی طرح تھی یہ تکلیف دہ بھی تھا اور بخار آور بھی۔ لیکن اس سے ہماری جمہوریت کی قوت برداشت اور مضبوط ہوگئی۔

چودھری چرن سنگھ (1902-1987):
جولائی 1979اور جنور ی 1980کے درمیان ہندوستان کے وزیر اعظم۔ مجاہد آزادی ۔ اترپردیش کی سیاست میں فعال۔ دیہی اور زرعی ترقی کے مبلغ۔1967میں کانگریس پارٹی چھوڑ کر بھارتیہ کرانتی دل بنائی۔ دوبار اترپردیش کے وزیراعلیٰ ۔ 1977میں جنتا پارٹی کے بانیوں میں سے ایک۔ اس کے بعد نائب وزیراعظم اور وزیر د ا خلہ 1977-79۔ لوک دل کے بانی۔

جگ جیون رام (1908-1986) :
مجاہد آزادی اور بہار کے کانگریس لیڈر۔ ہندوستان کے نائب وزیراعظم (1977-79)۔ دستورساز اسمبلی کے ممبر۔
1952 سے موت تک پالیمنٹ کے ممبر،آزاد ہندوستان کے پہلے وزیرمحنت۔
1952 سے 1977 تک کئی وزارتوں کو سنبھالا۔ایک دانشور اور بہترین منتظم۔
وراثت


| آئیے ایک فلم دیکھیں |
| ہزاروں خواہشیں ایسی |
| سدھارتھ ، و کرم اور گیتا تین سماجی طور سے مصروف اور جوشیلے طالب علم ہیں۔ دہلی کے گریجوئٹ ہیں لیکن ان کی منزلیں مختلف ہیں۔ سدھارتھ سماجی تبدیلی کے انقلابی نظریہ کا زبردست حامی ہے۔ وکرم کو زندگی میں ہر قیمت پر کامیابی چاہیے تھی ۔ یہ فلم اس سفر کی کہانی ہے جو وہ اپنی منزل پانے کے لیے اختیار کرتے ہیں اور پس پردہ مایوسیوں کی بھی۔ |
| فلم ستر کی دہائی کے پس منظر میں بنائی گئی ۔ یہ نوجوان کردار اس زمانے کی توقعات اور تصورات کی تخلیق ہیں۔ سدھارتھ انقلاب لانے کی اپنی خواہشات میں ناکام رہتا ہے لیکن وہ غریبوں کی مشکلات میں اتنا غرق ہوتا ہے کہ وہ ان کی ترقی اور سدھار کو انقلاب سے زیادہ اہم سمجھتا ہے۔ دوسری طرف و کرم ایک سیاسی شخصیت بن جاتا ہے لیکن ہمیشہ غیر مطمئن رہتا ہے۔ |
| سال: 2005 ہدایت کار: سدھیرمشرا اسکرین پلے: سدھیر مشرا، رچی نارائن اور شوکمار سبرامینم کاسٹ: کے۔کے ۔مینن، شائنی أہوجہ چترانگاڈاسنگھ |