یہ فوٹوگراف اور اگلے صفحے کے فوٹو گراف چیکوتحریک کے رہ نماؤں اور شرکت کرنے والوں کے ہیں، جس کو ملک میں سب سے پہلی ماحولیات تحریکوں میں سے ایک تسلیم کیا گیا۔
اس باب میں ...
باب7
عوامی تحریکوں کا عروج
عوامی تحریکوں کی نوعیت
چپکوتحریک (Chipko movement)
پارٹیوں پر مبنی تحریکیں
غیر جماعتی تحریکیں
کیا اُس وقت سے دلتوں کی حالت میں کوئی تبدیلی آئی ہے؟ میں دلتوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کے بارے میں پڑ ھتی رہتی ہوں۔ کیا یہ تحریکیں ناکام ہوگئیں ہیں یا پھریہ پورے سماج کی ناکامی ہے؟
سورج کو پیٹھ دکھاتے ہوئے، انھوں نے صدیوں کا سفر طے کیا اب ہمیں تاریکی کے زائرین بننے سے انکار کرنا ہے ۔کہ ایک شخص، ہمارے باپ کی کمر، اندھیرے کولادتے لادتے، اب جھک گئی ہے؛ اب ، ہمیں اس کی کمرسے بوجھ ہٹادینا ہے اس شان دار شہر کی خاطر ہمارا خون بہایا گیا تھا اور ہمیں جو کچھ کھانے کو پتھر ملا تھا،اب، ہمیں اس عمارت کو اڑا دینا چاہیے جو آسمان کو چوم رہی ہے، ایک ہزار سال بعد ہمیں سورج مکھی عطا کرنے والے فقیر سے نوازا گیا اب، ہمیں سورج مکھی کے پھول کی طرح اپنے چہرے سورج کی طرف موڑ لینے چاہئیں۔ نام دیو دھسال کی گول پٹھا کی مراہٹی نظم گوپال کا اردو ترجمہ۔
دَلتِ پینتھرس
نسلی امتیاز کی شکار (دلِت عورت)
’’نسلی امتیاز یعنی علاحدگی ذات کی بنیاد پر تفریق کی سرکاری پالیسی کی جانب اشارہ کرتا ہے جو بیسویں صدی میں مغربی افریقہ میں رائج تھی۔ اسے یہاں بالواسطہ طور پر نسلی امتیاز کیوں کہا گیا ہے؟ کیا اس طرح کی مزید مثالیں موجود ہیں؟‘‘
ابتدا
سرگرمیاں
بھارتیہ کسان یونین
فروغ
خصوصیات
| کسانوں یونین زراعت کو عالمی تنظیم(ڈبلیو۔ٹی۔او) کے دائرہ کار سے باہر دیکھنا چاہتی ہے |
| ہمارے نمائندے |
| میسور،15فروری، بھارتیہ کسان یونین نے خبردار کیا ہے کہ اگر ہندوستان ڈبلیو۔ٹی۔او کو زراعت کے دائرہ کار سے باہر رکھنے کے لیے سودہ بازی نہیں کرتا ہے تو ملک میں سماجی ع معاشی اتھل پتھل ہوجائے گی۔ یہاں ایک پریس کو خطاب کرتے ہوئے یونین کے سربراہ اعلیٰ مہیندر سنگھ ٹکیت اور اس کی قومی رابطہ کمیٹی کے کنونر نے ان ممکنہ خطرات کے بارے میں متنبہ کیا جو ہندوستان کو نومبر میں ہانگ کانگ میں منعقد ہونے والی اگلی میٹنگ میں عالمی تجارتی تنظیم کی شرائط کو ماننے کی صورت میں پیش آئیں گے۔ ان قائدین نے کہا کہ زراعت کو ڈبلیو۔ٹی۔او کے دائرہ کار سے باہر رکھنے کے لیے حکومت پر دباؤ ڈالنے کے مقصد سے 17مارچ کو نئی دہلی میں ایک ریلی منعقد کی جائے گی۔ اس ریلی میں پورے ہندوستان سے 5لاکھ سے زیادہ کسانوں کی شرکت متوقع ہے۔ اس کے بعد پورے ملک میں تحریک کو اور تیز کیا جائے گا۔ دی ہندو،16فروری2005 |
مچھواروں کی قومی فیڈ ریشن (NFWF)
اَرّک (عرق) مخالف تحریک
| شرب مافیا عورتوں کی مار سے بھاگا |
ضلع چتّورکے گنڈراور گاؤں کی عورتوں کا کالی کاری منڈل میں اجتماع ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ ارّک(دیسی شراب)کی فروخت کو ختم کیا جائے۔ یہ قرارداد انھوں نے گاؤں کے شراب کے دوکان دار تک پہنچادی۔ انھوں نے اس جیپ گاڑی کو واپس لوٹا دیا جو ارّک کی تھیلیاں گاؤں تک لاتی تھی۔ لیکن جب شراب کے دکان دار نے ٹھیکے دار کو خبردی، تو ٹھیکے دار نے آس پاس کے لوگوں کی ایک ٹولی بھیج دی تاکہ فروخت پھر سے شروع کرنے میں وہ دکاندار کی مدد کریں۔ گاؤں کی عورتیں اپنی بات پر اڑی رہیں اور اس حرکت کی مخالفت کی۔ اس کے بعد ٹھیکے دار نے پولیس بلالی لیکن اسے بھی واپس جانا پڑا۔ ایک ہفتہ کے بعد ان عورتوں پر، جنھوں نے شراب کی فروخت کو روک دیا تھا، ارّک کے ٹھیکے دار کے غنڈوں نے لوہے کی سلاخوں اور دوسرے جان لیوا ہتھیاروں سے حملہ کر دیا۔ لیکن جب عورتوں نے مل کر حملہ کی مزاحمت کی تو کرایہ کے غنڈے بھاگ گئے۔ بعد میں عورتوں نے شراب سے بھری تین جیپوں کو تباہ کردیا۔
ایناڈو، مورخہ29اکتوبر1992کی رپورٹ پر مبنی
|
ابتدا
ایک دوسرے سے ملی کٹریاں
| آئیے ایک فلم دیکھیں |
| آکروش |
| وکیل بھاسکر کُلکر نی کو قانونی امداد کا ایک معاملہ بھیکو لہانیا کی پیروی کرنے کے لیے سونپا گیا ہے۔ بھیکو ایک آدی واسی ہے، جس پر اپنی بیوی کو قتل کرنے کا الزام ہے۔ وکیل قتل کی وجہ معلوم کرنے کی بہت کوششں کرتا ہے لیکن ملزم نے چپ رہنے کا تہیہ کر رکھا ہے اور اس کا خاندان بھی خاموش ہے۔ وکیل کی مستقل مزاجی کی وجہ سے اس پر حملہ کیا جاتا ہے اور ایک سماجی کا رکن کی طرف سے خفیہ اطلاع دی جاتی ہے کہ دراصل ہوا کیا تھا۔ |
| لیکن سماجی کارکن غائب ہوجاتا ہے اور بھیکو کا باپ مرجاتا ہے ۔ بھیکو کو اپنے باپ کے جنازہ میں شرکت کی اجازت مل جاتی ہے۔ یہاں بھیکو رو پڑتا ہے اور آکروش (زوردارچیخ) پھوٹ پڑتی ہے۔یہ زبردست فلم مظلوموں کی انسانیت سے گری ہوئی زندگی کو پیش کرتی ہے اور اس مشکل کام کے بارے میں بتاتی ہے جو غالب سماجی قوتوں کے خلاف کسی بھی قسم کی دخل اندازی کو درپیش ہوتا ہے۔ |
| سال :1980 ڈائریکٹر : گووند نہلانی کہانی: وجے تندولکر اسکرین پلے : ستیہ دیو دوبے اداکار : نصیر الدین شاہ، اوم پوری ، سمیتا پاٹل، نانا پاٹیکر، مہیش ایلکنچوَر |
نرمدا بچاؤ آندولن
سردار سرووَر پروجیکٹ
بحث و مباحثہ اور جدوجہد
عوامی تحریکوں سے ملنے والے سبق
کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ تحریکیں سیاسی تجربہ گاہوں کی طرح ہوتی ہیں؟ یہاں نئے تجربے کیے جاتے ہیں اور کامیاب تجربوں کو پارٹیاں اپنالیتی ہیں۔
معلومات کے حق کی تحریک
آئیے تحقیقی کریں
- یہ کب شروع ہوئی اور کتنے عرصے تک زندہ رہی؟
- اس کے اہم رہنما کون تھے؟ سماج کے کن طبقوں نے اس کی حمایت کی؟
- تحریک کے اہم مطالبات کیا تھے اور اس نے کن مسائل کو اٹھایا؟
- کیا یہ کامیاب رہی؟ آپ کے علاقے میں اس تحریک کا طویل مدتی اثر کیا رہا؟
مشقیں
(a) ایک ماحولیاتی تحریک تھی جو شجرکشی یادرختوں کے کاٹے جانے کو روکنے کے لیے چلائی گئی تھی۔
(b) اس تحریک نے ماحولیاتی اور معاشی استحصال پر سوال اٹھائے۔
(c) یہ شراب نوشی کے خلاف ایک تحریک تھی جسے عورتوں نے شروع کیا تھا۔
2۔ درج ذیل بیانات میں سے بعض غلط ہیں،اُن کی شناحت کیجیے اور انھیں درست کرکے لکھیے:
(a) سماجی تحریکیں ہندوستان کی جمہوریت میں رکاوٹ ڈال رہی ہیں۔
(b) سماجی تحریکوں کی اصل قوت سماج کے تمام طبقوں میں ان کی عوامی بنیاد میں پوشیدہ ہے۔
(c) ہندوستان میں سماجی تحریکیں اس لیے چلائی گئیں کہ بہت سے مسائل کی جانب سیاسی پارٹیوں نے توجہ نہیں دی۔
(a) نئی سماجی تحریکوں اور انقلابی نظریات کے درمیان کیا فرق ہے؟
(b) مصنفہ کے خیال میں سماجی تحریکوں کی کیا حدود یا کمیاں ہیں؟