Skip to content






Pic1 Capture7

یہ فوٹوگراف اور اگلے صفحے کے فوٹو گراف چیکوتحریک کے رہ نماؤں اور شرکت کرنے والوں کے ہیں، جس کو ملک میں سب سے پہلی ماحولیات تحریکوں میں سے ایک تسلیم کیا گیا۔ 

بشکریہ: بھون سنگھ

 اس باب میں ...

آزادی کے تیس سال گزر جانے کے بعد لوگوں کے صبر کا پیمانہ لبر یز ہونے لگا تھا۔ ان کی بے چینی اور بے صبری مختلف شکلوں میں ظاہر ہو رہی تھی۔ پچھلے باب میں ہم انتخابی اتھل پتھل اور سیاسی بحران کے بارے میں پڑھ چکے ہیں۔ لیکن لوگ اپنی بے اطمینانی کا اظہار صرف اسی شکل میں نہیں کر رہے تھے۔ ستر کی دہائی میں سماج کے مختلف النوع طبقوں ، جیسے خواتین، طلبا، پچھڑے فرقے (دلِت) اور کسانوں نے محسوس کیا کہ جمہوری سیاست نے ان کی ضرورتوں اور مطالبات کی طرف توجہ نہیں کی ہے۔ لہذا یہ لوگ مختلف سماجی تنظیموں زیر سایہ یک جا ہوئے تاکہ اپنے مطالبات منوانے کے لیے آواز اٹھاسکیں۔ ان کا اپنی باتوں اور دعووں پر اڑے رہنے کی وجہ سے مقبول عام یا نئی سماجی تحریکوں کا ہندوستانی سیاست میں عروج ہوا۔ 
اس باب میں ہم  1970کی دہائی کے بعد نشوونما پانے والی چند عوامی تحریکوں کے سفر کی تلاش کریں گے تاکہ یہ سمجھ سکیں کہ :
عوامی تحریکیں کیا ہیں؟
       ہندوستانی سماج کے کن حصوں کو انھوں نے منظم کیا ہے؟
      ان تحریکوں کا اہم ایجنڈا کیا ہے؟
      ہمارے جمہوری عوامی نظام سے ملتے جلتے نظام میں وہ کیا کردار ادا کرتی ہیں؟

باب7

عوامی تحریکوں کا عروج

عوامی تحریکوں کی نوعیت 

اس باب کے شروع میں دی گئی تصویر پر نظر ڈالیے۔ آپ اس میں کیا دیکھتے ہیں؟گاؤں کے لوگوں نے صحیح معنیٰ میں درخت کو گلے لگالیا ہے۔ کیا وہ کوئی کھیل کھیل رہے ہیں؟ یا کسی مذہبی رسم اور عبادت یا کسی تہوار میں حصہ لے رہے ہیں؟ درحقیقت ایسا نہیں ہے۔ اس تصویر میں آج کے اتراکھنڈ کے ایک گاؤں کے مردوں اور عورتوں
 کو 1973کے شروع میں ایک غیر معمولی اجتماعی کام کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔دیہات کے یہ لوگ تجارتی مقاصد کے لیے درختوں کو کاٹ کر ان کی لکڑی کے استعمال کے خلاف احتجاج کر رہے تھے جس کی اجازت حکومت نے دے رکھی تھی۔ ان لوگوں نے احتجاج کا ایک انوکھا طریقہ اختیار کیا اور وہ تھا درختوں کے ساتھ لپٹ کر انھیں کاٹے جانے سے روکنا۔ ان احتجاجوں سے ہمارے ملک میں اُس ماحولیاتی تحریک کی شروعات ہوئی جو ’’  چپکو تحریک‘‘ کے نام سے پوری دنیا میں مشہور ہوئی۔
Pic2 Capture7
ہے تو د ل کش ! لیکن نہ جا نے اس کا سیاست کی تاریخ سے کیا تعلق ہے؟

چپکوتحریک (Chipko movement)

یہ تحریک اترا کھنڈ کے دویا تین گاؤں میں اس وقت شروع ہوئی جب محکمۂ جنگلات نے گاؤں کے لوگوں کو کچھ ایسی قِسم کے درختوں کو کاٹنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا
Pic3 Capture7
چمولی، اتراکھنڈ میں شروعاتی وقت کی چپکو تحریک کی دو تاریخی تصویریں
 بشکریہ: انوپم مشرا

جن سے وہ زراعتی اوزار بنانا چاہتے تھے۔ تا ہم اسی محکمے نے زمین کا وہی ٹکڑا تجارتی استعمال کے لیے ،کھیل کا سامان تیار کرنے والے ایک شخص کو دے دیا۔اس سے گاؤں والے ناراض ہوگئے اور انھوں نے حکومت کے اس اقدام کے خلاف احتجاج کیا۔ یہ لڑائی جلد ہی اتراکھنڈ علاقہ کے دوسرے بہت سے حصوں میں پھیل گئی۔ علاقے کے ماحولیاتی اور معاشی استحصال جیسے وسیع ترمعاملات اٹھا ے گئے۔ گاؤں والوں کا مطالبہ تھا کہ باہر کے لوگوں کو جنگلات کے استعمال کے ٹھیکے نہ دئیے جائیں اور زمین، پانی اور جنگلات جیسے قدرتی وسائل پر مقامی لوگوں کو عملی طور پر اختیار حاصل ہو۔ وہ یہ بھی چاہتے تھے کہ حکومت چھوٹی صنعتوں کو کم قیمت پر مال مہیا کرے اور علاقے کی ترقی کو ماحولیاتی توازن بگاڑے بغیر یقینی بنائے۔ اس تحریک نے جنگلات میں کام کرنے والے مزدوروں کے معاشی مسائل کے سلسلے میں بھی آواز اٹھائی اور ان کے لیے کم از کم اجرت دینے کی گارنٹی کی مانگ کی۔
احتجاج میں عورتوں کی شرکت چپکوتحریک کا ایک بہت ہی انوکھا پہلو تھا۔ اس علاقے میں جنگلوں کے ٹھیکے دار عام طور پر مردوں کو شراب فراہم کیا کرتے تھے۔ خواتین نے شراب نوشی کی عادت کے خلاف مسلسل احتجاج جاری رکھے اور دیگر سماجی مسائل کو شامل کرکے چپکو تحریک کے ایجنڈے کو وسعت دی۔ تحریک کو اُس وقت فتح حاصل ہوئی جب حکومت نے ہمالیہ کے پورے خطے میں شجر کشی یعنی درختوں کے کاٹنے پر پندرہ سال کے لیے ممانعت عائد کر دی تا وقت یہ کہ سبزغلاف بحال نہ ہوجائے۔ لیکن اس سے بھی بڑی بات یہ تھی کہ چپکو تحریک جو ایک واحد مسئلے پر شروع ہوئی تھی، ایسی بہت سی مقبول عام تحریکوں کی علامت بن گئی جو 1970کی دہائی کے دوران اور اس کے بعد ملک کے مختلف حصوں میں ابھریں۔ اس باب میں ہم ان میںسے چند تحریکات کے بارے میں پڑھیں گے۔

Pic4 Capture7

میری سمجھ میں نہیں آتا۔ پارٹی کے بناآپ سیاست کیسے کر سکتے ہیں؟

پارٹیوں پر مبنی تحریکیں

عوامی تحریکیں سماجی یا سیاسی تحریکوں کی شکل اختیار کر سکتی ہیں اور اکثر دونوں ایک دوسرے میں مل سکتی ہیں یا ایک دوسرے کی جگہ لے سکتی ہیں ۔ مثال کے طور پر قوم پرست تحریک بنیادی طور پر ایک سیاسی تحریک تھی۔ لیکن ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ نو آبادیاتی دور میں سماجی اور معاشی مسائل پر اظہارِ خیالات نے آزاد سماجی تحریکوں کو جنم دیا۔ مثلاً بیسویں صدی کے ا وائل میں، کسان سبھائیں، ذات پات مخالف تحریک اور مزدور یونین تحریک ۔ ان تحریکوں نے کچھ سماجی جھگڑوں اور ٹکراؤ سے متعلق مسائل کو بڑھاوا دیا۔
ان میں سے کچھ تحریکیں آزادی کے بعد کے زمانے میں بھی چلتی رہیں۔ مزدور یونین کی تحریک ممبئی ، کو لکاتا اور کانپور جیسے بڑے شہروں میں صنعتی مزدوروں کے درمیان مضبوطی کے ساتھ موجود تھی۔ ان مزدوروں کو منظم کرنے کے لیے تمام بڑی سیاسی جماعتوں نے اپنی اپنی ٹریڈ یونینیں قائم کیں۔ آزادی کے ابتدائی سالوں میں آندھرا پردیش کے تلنگانہ علاقے کے کسانوں نے کمیونسٹ پارٹیوں کی قیادت میں بڑے بڑے احتجاج منظم کیے اور زمین کو کاشت کاروں میں ازسرنو تقسیم کیے جانے کا مطالبہ کیا۔ آندھرا پردیش ، مغربی بنگال ،بہار اور نواحی علاقوں کے کچھ حصوں میں کسانوں اور کھیت مزدوروں نے مارکسسٹ ۔ لینن وادی پارٹی کے کارکنوں کی قیادت میں اپنا احتجاج جاری رکھا ۔ ان کارکنوں کو نکسلی کہا جاتا ہے (پچھلے باب میں آپ نکسلی تحریک کے بارے میں پڑھ چکے ہیں) کسانوں اور مزدوروں کی تحریکوں نے خاص توجہ معاشی نا انصافی اور عدم مساوات کے مسائل پرمرکوزکی۔
 ان تحریکوں نے عام طور پر انتخابات میں شرکت نہیں کی اور سیاسی پارٹیوں کے ساتھ روابط قائم رکھے ، کیوں کہ ان تحریکوں میں شامل بہت سے لوگ انفرادی طور پر یا تنظیموں کی حیثیت سے سرگرمی کے ساتھ پارٹیوں سے وابستہ تھے۔ ان تعلقات نے پارٹی سیاست میں سماج کے مختلف اجزا کی مانگوں کی بہتر نمائندگی کو یقینی بنانے کا کام کیا۔

غیر جماعتی تحریکیں 

1970اور1980کی دہائیوں میں سماج کے بہت سے لوگ سیاسی پارٹیوں کے کام کاج سے دل برداشتہ ہوگئے تھے۔ اس کی فوری وجہ جنتا پارٹی کا تجربہ اور اس سے پیدا 
ہونے والا سیاسی عدم استحکام تھا۔ لیکن بالآخر یہ دل برداشتگی حکومت کی معاشی پالیسیوں کی بنا پر بھی تھی۔ منصوبہ بند ترقی کا نمونہ جو ہم نے آزادی کے بعد اپنا یا تھا، فروغ اور تقسیم کے دوجڑواں مقاصد پر مبنی تھا۔ آپ اس کے بارے میں باب 3 میں پڑھ چکے ہیں۔ آزادی کے ابتدائی بیس برسوں میں معیشت کے بہت سے شعبوں کے اثر آفریں اور شان دار فروغ کے باوجود غربت اور عدم مساوات بڑے پیمانے پر باقی رہی۔ معاشی فروغ کے فوائد سماج کے تمام حصوں تک یکساں نہیں پہنچے ۔ پہلے سے موجود سماجی عدم مساوات ، جیسے ذات پات اور جنس کے درمیان تفریق اور زیادہ بڑھ گئی اور غربت وافلاس کے مسائل کو کئی طرح سے پیچیدہ بنا دیا۔ اس کے علاوہ شہری صنعتی شعبہ اور دیہی زراعتی شعبہ کے درمیان ایک خلیج بھی موجود تھی۔ سماج کے مختلف گروپوں کے اندر ناانصافی اور محرومی کا احساس بڑھتا گیا۔
سیاسی طور پر سرگرم بہت سے حلقوں کا اُس وقت کے جمہوری اداروں اور انتخابی سیاست پر سے بھروسہ اٹھ گیا۔ لہٰذا انھوں نے پارٹی سیاست سے علا حدگی اختیار کر لی اور عوام کو اپنا احتجاج ظاہر کرنے کے لیے منظم اور بیدار کرنے میں لگ گئے۔ سماج کے مختلف حصوں سے طلبا اور سرگرم نوجوان سماج کے حاشیائی طبقوں جیسے قبائلیوں، آدی واسیوں، اور دلتوں کو منظم کرنے میں پیش پیش تھے۔ متوسط طبقہ کے سرگرم عمل لوگوں نے دیہات کے غریبوں میں خدمت گار تنظیمیں بنائیں اور تعمیری پروگرام شروع کیے۔ ان کاموں کی رضا کا رانہ نوعیت کی وجہ سے ایسی تنظیموں کو رضا کار تنظیموں یا رضا کارشعبے کی تنظیموں کا نام دیا گیا۔
Pic5 Capture7
اس سے پہلے کہ یہ آپ کو تباہ کردیں آپ انھیں تباہ کردیجیے
بشکریہ: ڈیزائن اینڈ پیوپل
Pic6 Capture7
آگے نہ بڑھیں
مقبول عوامی تحریکوں نے ایسے پوسٹروں کی تخلیق کا جذبہ پیدا کیا ہے۔ یہ تین پو سٹر (اوپر سے نیچے) کوکا کولا کے خلاف ایک مہم ، ایک شاہراہ کی مخالفت اور دریائے پیری یا بچاؤ تحریک سے متعلق ہیں۔
Pic7 Capture7

 کیا اُس وقت سے دلتوں کی حالت میں کوئی تبدیلی آئی ہے؟ میں دلتوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کے بارے میں پڑ ھتی رہتی ہوں۔ کیا یہ تحریکیں ناکام ہوگئیں ہیں یا پھریہ پورے سماج کی ناکامی ہے؟

ان رضا کارانہ تنظیموں نے پارٹی سیاست سے الگ رہنا پسند کیا۔ انھوں نے مقامی یا علاقائی انتخابات نہیں لڑے اور نہ ہی کسی ایک سیاسی پارٹی کی حمایت کی۔ ان میں سے اکثر گروپ سیاست میں یقین رکھتے تھے اور اس میں حصہ لینا بھی چاہتے تھے لیکن سیاسی پارٹیوں کے توسط سے نہیں۔ اس لیے ان تنظیموں کو ’ غیر جماعتی سیاسی تنظیمیں ‘ کہا جاتا تھا۔ ان کو توقع تھی کہ شہریوں کے مقامی گروپوں کی براہ راست اور سرگرم شرکت سے مقامی مسائل سیاسی جماعتوں کی بہ نسبت زیادہ موثر طریقے سے حل کیے جاسکتے ہیں۔ یہ امید بھی کی گئی کہ عوام کی براہ ِراست شرکت سے جمہوری حکومت کی نوعیت کی اصلاح ہوجائے گی۔
رضا کا ر شعبے کی ایسی تنظیمیں اب بھی شہری اور دیہی علاقوں میں اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں لیکن ان کی نوعیت بدل گئی ہے۔ حال کے دنوں میں ان میں سے بہت سی تنظیموں کو بیرونی ممالک کی ایجنسیاں، جن میں بین الا قوامی خدماتی ایجنسیاں بھی شامل ہیں، مالی امداد دیتی ہیں۔
Pic8 Capture7
نام دیو دھسال

 سورج کو پیٹھ دکھاتے ہوئے، انھوں نے صدیوں کا سفر طے کیا اب ہمیں تاریکی کے زائرین بننے سے انکار کرنا ہے ۔کہ ایک شخص، ہمارے باپ کی کمر، اندھیرے کولادتے لادتے، اب جھک گئی ہے؛ اب ، ہمیں اس کی کمرسے بوجھ ہٹادینا ہے اس شان دار شہر کی خاطر ہمارا خون بہایا گیا تھا اور ہمیں جو کچھ کھانے کو پتھر ملا تھا،اب، ہمیں اس عمارت کو اڑا دینا چاہیے جو آسمان کو چوم رہی ہے، ایک ہزار سال بعد ہمیں سورج مکھی عطا کرنے والے فقیر سے نوازا گیا اب، ہمیں سورج مکھی کے پھول کی طرح اپنے چہرے سورج کی طرف موڑ لینے چاہئیں۔  نام دیو دھسال کی گول پٹھا کی مراہٹی نظم گوپال کا اردو ترجمہ۔

دَلتِ پینتھرس

مشہور و معروف مراٹھی شاعر کی اس نظم کو پڑھیے۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ نظم میں’ تاریکی کے زائرین‘ کن کو کہا گیا ہے اور ’سورج مکھی کا پھول دینے والا فقیر‘ کون تھا جس نے انھیں دعادی؟ زائرین دلِت طبقوں کے لوگوں کو کہا گیا ہے جنھوں نے ہمارے سماج میں طویل عرصے تک ذات پات کی بہیما نہ نا انصافیاں برداشت کیں اور شاعر کا اشارہ ان کو اس سے چھٹکارا دلانے والے ڈاکٹر امبیڈکر کی طرف ہے۔ مہاراشٹر کے دلِت (پس ماندہ ذات) شاعروں نے 1970کے عشرے میں ایسی بہت سی نظمیں لکھیں۔ یہ گیت اس ذہنی اذیت اور کوفت کا اظہار ہے جن کا سامنا آزادی کے بیس سال بعد بھی دلت عوام کرتے رہے۔ لیکن وہ مستقبل کے بارے میں پرامید بھی تھے، ایسا مستقبل جو دلت لوگ اپنے لیے بنانا چاہتے تھے۔ آپ ڈاکٹر امبیڈ کرکے اس نقطہ نظر سے واقف ہیں جو انھوں نے سماجی ، معاشی تبدیلی کے لیے قائم کیا تھا اور ان کی انتھک جدوجہد کے بارے میں بھی جانتے ہیں جو انھوں نے ہندو ذات پات پر مبنی سماجی ڈھانچہ سے باہردلتوں کے باوقار مستقبل کے لیے کی۔ یہ کوئی حیرت کی بات نہیں ہے کہ بہت سی دلتِ تحریروں میں ڈاکٹر امبیڈکر کوایک قدآور اور روح پھونکنے والی شخصیت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

نسلی امتیاز کی شکار (دلِت عورت)

Pic9 Capture7
بشکریہ: انہاد اور این سی ڈی ایچ آر

’’نسلی امتیاز یعنی علاحدگی ذات کی بنیاد پر تفریق کی سرکاری پالیسی کی جانب اشارہ کرتا ہے جو بیسویں صدی میں مغربی افریقہ میں رائج تھی۔ اسے یہاں بالواسطہ طور پر نسلی امتیاز کیوں کہا گیا ہے؟ کیا اس طرح کی مزید مثالیں موجود ہیں؟‘‘

ابتدا

1970کی دہائی شروع ہوتے ہوتے پہلی پیڑھی کے دلت گریجویٹ، خاص طور پر شہروں کی تنگ بستیوں میں رہنے والوں نے مختلف پلیٹ فارموں سے اپنی بات کو بڑے
 زورو شور سے اورزوردے کر کہنا شروع کردیا۔ دلت نوجوانوں نے اپنی بات منوانے کے لیے 1972 میں مہاراشٹر میں بنائی د لتِ چیتے (دلتِ پینتھرس) کے نام سے ایک جنگ جو ‘تنظیم ۔ یہ ان کی تحریک کا ایک جز تھا۔ آزادی کے بعد کے دور میں دلت گروپ خاص طور پرمسلسل جاری رہنے والی ذات پات پر مبنی غیربرابری اور دلتوں کو در پیش مادی نا انصافیوں کے خلاف لڑرہے تھے باوجود اس کے کہ ہندوستان کے آئین میں مساوات اور انصاف کی گارنٹی دی گئی ہے۔ ان کے نمایاں مطالبات میں سے ایک یہ تھا کہ تحفظات یعنی ریزرویشن اور سماجی انصاف سے متعلق اسی طرح کی دیگر پالیسیوں پر موثر طور پر عمل درآمد ہو اور ان کا نفاذ کیا جائے۔
آپ یہ تو جانتے ہی ہیں کہ ہندوستان کے آئین نے چھوت چھات کے رواج کو یکسر ختم اور منسوح کر دیا تھا۔ اس کے ضمن میں حکومت نے 1960اور1970کی دہائیوں میں قوانین بھی منظور کر لیے تھے ۔ لیکن پھربھی مختلف طریقوں سے سابق اچھوت گروپوں کے خلاف سماجی امتیاز اور تشدد جاری رہا۔ دیہات میں دلت بستیوں کو اصل گاؤں سے دور رکھا جاتا رہا۔ پینے کے پانی کے مشترکہ ماخذ تک دلتوں کی رسائی نہیں ہونے دی جاتی تھی۔ دلت عورتوں کی آبروریزی ہوتی تھی اور ان کے ساتھ بے عزتی کا سلوک جاری تھا اور بدترین بات یہ کہ دلتوں کو اونچی ذات والوں کے گھمنڈ کی وجہ سے معمولی باتوں پر احتجاجی  ظلم وستم  سہنے پڑتے تھے۔ 
دلتوں کو معاشی اور سماجی طور پر دبائے رکھنے اور ان پر زیادتیاں روکنے کے لیے قانونی طریقے ناکافی ثابت ہوئے ۔دوسری طرف وہ سیاسی پارٹیاں جن کو دلتوں کی حمایت حاصل تھی، جیسے ری پبلکن پارٹی آف انڈیا، انتخابی سیاست میں کامیاب نہیں تھیں۔ یہ پارٹیاں ہمیشہ حاشیے پررہیں۔ ان کو الیکشن جیتنے کے لیے کسی دوسری پارٹی کے ساتھ اتحاد کرنا پڑتا تھا اور اس کے علاوہ ان کو پارٹی میں تقسیم کے مسئلے کا سامنا بھی تھا۔ اس لیے دلت پینتھرس کو دلتوں کے حقوق پر زور شور سے مقابلہ کر نے کے لیے عوامی کاروائی کاسہا را لینا پڑتا تھا۔

سرگرمیاں

دلت پنیتھرس کی سرگرمیاں زیادہ تر ان مظالم کے خلا ف لڑائی پر مرکوز تھیں جو ریاست کے مختلف حصوں میں دلتوں پر ڈھائے جارہے تھے۔ مظالم کے مسئلے پر دلت پنیتھرس اور ان کی ہم خیال تنظیموں کے لگاتار احتجاجی مظاہروں کے نتیجے میں حکومت نے 1989میں ایک جامع قانون پاس کیا جس میں ایسی حرکت کرنے پر قید با مشقت کی سزا رکھی گئی۔ پنیتھروں کاوسیع تر نظریاتی ایجنڈا ذات پات کے نظام کو جڑسے مٹا دینا اور تمام مظلوم اور دبے ہوئے طبقوں جیسے کہ بے زمین غریب کسانوں اور شہروں کے صنعتی مزدوروں کی ایک تنظیم دلتوں کے ساتھ مل کر بنانا تھا۔
اس تحریک نے پڑھے لکھے دلت نوجوان کے لیے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو احتجاجی سرگرمیوں میں استعما ل کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم مہیا کر ایا۔دلتِ مصنفین نے اپنی تصنیفات، متعدد سوانح حیات اور دیگر ادبی تخلیقوں میں ذات پات کے نظام میں ہونے والے مظالم کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی۔ ان تحریروں اور کتابوں نے ،جن میں ہندوستانی سماج کے سب سے زیادہ پس ماندہ اور ستائے ہوئے طبقوں کی زندگی کے تجربات بیان کیے گئے تھے، مراٹھی کے ادبی حلقوں میں سنسنی پھیلا دی اور لوگ سکتے میں آگئے، ادبی دنیا کی بنیاد کو زیادہ وسیع اور مختلف سماجی طبقوں کی نمائندہ بنا دیا۔ اور ثقافتی دنیا میں بحث و مباحثہ اور دلائل کا آغاز کیا۔ ایمرجنسی کے بعد کے زمانے میں دلتِ پنیتھرس انتخابی سمجھوتوں میں ملوت ہوگئے۔ ان کا گروپ کئی بار پھوٹ کا شکار بھی ہوا جس کی وجہ سے اس کا زوال ہوگیا۔ اس کے بعد بی۔ اے ۔ایم ۔سی ۔ای۔ ایف(BAMCEF) یعنی پس ماندہ طبقوں اور اقلیتی فرقہ کے ملازمین کی فیڈریشن جیسی تنظیموں نے اس جگہ کو پُر کیا۔

بھارتیہ کسان یونین

1970کی دہائی سے ہندوستانی معاشرے کی بے اطمینانی کئی سطحوں پر ہوگئی تھی ۔ ایسے طبقوں کو بھی جنھیں ترقی کے عمل سے جزوی طور پر فائدہ پہنچا تھا، حکومت اور سیاسی
 پارٹیوں سے بہت سی شکایتیں تھیں۔1980کے عشرے کی زرعی تحریکیں اس کی نمایاں مثال ہیں جن کے ذریعہ خوش حال کسانوں نے حکومت کی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کیا۔

فروغ

جنوری1988میں تقریباً بیس ہزار کسان اترپردیش کے میرٹھ شہر میں اکٹھا ہوئے۔ وہ بجلی کی قیمت کی شرحوں میں اضافہ کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ تقریباً تین ہفتوں تک ضلع کلکٹر کے دفتر کے باہر اس وقت تک دھرنا دیتے رہے جب تک کہ ان کی مانگیں مان نہ لی گئیں۔ یہ احتجاجی تحریک کسانوں کی بہت ہی منظم تحریک تھی اور ان تمام دنوں میں آس پاس کے دیہات سے ان کو برابر کھانا مہیا کیا جاتا رہا۔ میرٹھ کے اس مظاہرے کو دیہی قوت ،زرعی کا شت کاروں کی قوت اور طاقت کے ایک عظیم اظہار کے طور پر دیکھا گیا۔ اس میں شامل کسان بھارتیہ کسان یونین کے ممبر تھے۔ جو مغربی اتر دیش اور ہریانہ کے کسانوں کی ایک تنظیم تھی اور1980کی دہائی میں کسانوں کی تحریکوں کی اہم تنظیم مانی جاتی تھی۔
تیسرے باب میں ہم نے دیکھا کہ ہریانہ ، پنجاب اور مغربی اترپردیش کے کسانوں کو 1960کی دہائی کے آخری حصے میں حکومت کے سبزانقلاب کی پالیسوں سے فائدہ حاصل ہوا تھا۔ اس کے بعد سے گنااور گیہوں اس علاقے کی خاص نقدی فصلیں ہوگئیں۔ 1980کی دہائی کے وسط میں نقدی فصلوں کے بازار کو بحران کا سامنا کرنا پڑا جس کی وجہ ہندوستانی معیشت کو نرم بنانے اور پابندیوں سے آزاد کرنے کی ابتدا تھی۔ بھارتیہ کسان یونین نے گنا اور گیہوں کی کم ازکم بنیادی قیمتوں ،کھیتوں کی پیداوار کو ایک ریاست سے دوسری ریاست میں لے جانے پر پابندیوں کے خاتمے، معقول داموں پر بجلی کی یقینی سپلائی ، کسانوں کو دئیے قرضوں کی واپسی کی معافی اور کسانوں کو سرکاری پنشن کے مطالبات کیے۔

Pic10 Capture7
پنجاب میں بھارتیہ کسان یونین کی ایک ریلی
بشکریہ: ہندستان تائمز
ملک کی دوسری کسان تنظیموں نے بھی اسی طرح کے مطالبات رکھے۔ مہاراشٹر کے شیت کاری سنگھٹن (Shetkari Sanghatana of Maharashtra)نے کسا نوں کی تحریک کو ہندستان کی ایک جنگ کا نام دے دیا ( جو دیہی زرعی شعبہ کی علامت تھی) جو ہندوستانی قوتوں کے خلاف (شہری صنعتی شعبہ کی علامت) لڑی جائے گی۔ تیسرے باب میں آپ پڑھ چکے ہیں کہ ہندستان کے ترقی کے انداز سے متعلق مسائل کی بحث میں صنعت اور زراعت کے درمیان بحث ایک اہم مدا رہی ہے۔اسی طرح کی بحث میں اَسّی کی دہائی کے دوران ایک بار پھر جان آگئی جب نرم کاری کی معاشی پالیسوں کی وجہ سے زرعی شعبہ کے لیے خطرہ پیدا ہوگیا۔
Pic11 Capture7
میں ابھی تک کسی ایک شخص سے نہیں ملا ہوں جس نے کسان بننے کی خواہش ظاہر کی ہو۔ کیا ہمیں اپنے ملک میں کسانوں کی ضرورت نہیں ہے؟

خصوصیات

اپنے مطالبات منوانے کے لیے اورحکومت پر دباؤ ڈالنے کی غرض سے بھارتیہ کسان یونین نے بڑی بڑی ریلیاں یا جلوس ، مظاہرے، دھرنے اور جیل بھر و تحریکیں جیسی سرگرمیاں انجام دیں۔ ان احتجاجوں میں مغربی اترپردیش اور گردونواح کے علاقوں کے مختلف دیہات کے ہزار ہا کسان ، جن کی تعداد کبھی کبھی ایک لاکھ تک پہنچ جاتی تھی، شامل ہوتے تھے۔ اسّی کی پوری دہائی کے دوران بھارتیہ کسان یونین نے ریاست کے ضلع کے صدر مقامات پر اور ملک کے صدرمقام پر بھی کسانوں کی بڑی ریلیاں (احتجاجات اور جلوس) منظم کیے ۔ ان اجتماعات کا ایک انوکھا پہلو کسانوں کی ذات کے تعلق کا استعمال تھا۔ یعنی یہ بتایا جاتا تھا کہ کسی کسان کی ذات کیا ہے۔ بی کے ۔ یو کے زیادہ تر اراکین ایک مخصوص ذات سے تعلق رکھتے تھے۔یہ تنظیم ان کی ذات کی روایتی پنچایتوں کا استعمال، انھیں یک جا کرنے کے لیے کرتی تھی، جہاں معاشی مسائل پر بات چیت ہوتی تھی ۔ کوئی باضابطہ تنظیم نہ ہونے کے باوجود بھارتیہ کسان یونین خود کو اس لیے ایک لمبے عرصہ تک زندہ رکھ سکی کہ اس کی بنیاد اپنے ممبروں کی برادری کے وسیع تانے بانے پر تھی۔
Pic12 Capture7
کسانوں یونین زراعت کو عالمی تنظیم(ڈبلیو۔ٹی۔او) کے دائرہ کار سے باہر دیکھنا چاہتی ہے
ہمارے نمائندے
میسور،15فروری، بھارتیہ کسان یونین نے خبردار کیا ہے کہ اگر ہندوستان ڈبلیو۔ٹی۔او کو زراعت کے دائرہ کار سے باہر رکھنے کے لیے سودہ بازی نہیں کرتا ہے تو ملک میں سماجی ع معاشی اتھل پتھل ہوجائے گی۔ یہاں ایک پریس کو خطاب کرتے ہوئے یونین کے سربراہ اعلیٰ مہیندر سنگھ ٹکیت اور اس کی قومی رابطہ کمیٹی کے کنونر نے ان ممکنہ خطرات کے بارے میں متنبہ کیا جو ہندوستان کو نومبر میں ہانگ کانگ میں منعقد ہونے والی اگلی میٹنگ میں عالمی تجارتی تنظیم کی شرائط کو ماننے کی صورت میں پیش آئیں گے۔ ان قائدین نے کہا کہ زراعت کو ڈبلیو۔ٹی۔او کے دائرہ کار سے باہر رکھنے کے لیے حکومت پر دباؤ ڈالنے کے مقصد سے 17مارچ کو نئی دہلی میں ایک ریلی منعقد کی جائے گی۔ اس ریلی میں پورے ہندوستان سے 5لاکھ سے زیادہ کسانوں کی شرکت متوقع ہے۔ اس کے بعد پورے ملک میں تحریک کو اور تیز کیا جائے گا۔
دی ہندو،16فروری2005

1990کی دہائی کے شروع تک بی ۔کے۔یو نے خود کو تمام سیاسی جماعتوں سے دور رکھا تھا ۔ صرف اپنی تعداد کی بنیاد پر یہ سیاست میں دباؤ ڈالنے والے گروپ کے
 طور پر کام کرتی رہی اور تمام ریاستوں کی دوسری کسان تنظیموں کے ساتھ مل کر اپنی معاشی مانگوں کو منوانے میں کامیاب رہی۔ اس معاملے میں کسانوں کی تحریک 1980کے عشرہ کے دوران کامیاب ترین سماجی تحریکوں میں سے ایک تھی۔ تحریک کی کامیابی اس سیاسی سودے بازی کی قوت کا نتیجہ تھی جس کی اہلیت اس کے اراکین میں موجود تھی۔ یہ تحریک زیادہ تر ملک کی خوش حال ریاستوں میں سرگرم عمل تھی۔ ہندوستان کے اکثر کسانوں کے برعکس، جو محض زندگی گزارنے لائق کھیتی باڑی میں لگے ہوتے ہیں،بی۔کے۔یوجیسی تنظیموں کے اراکین بازار کے لیے نقدی فصلیں اگاتے تھے۔بی۔ کے ۔یوکی طرح تمام ریاستوں کی کسان تنظیمیں اپنے ممبران برادریوں میں سے بھرتی کرتے تھے جن کا علاقہ کی انتخابی سیاست پر غلبہ تھا ۔ مہاراشٹرکی شیت کاری سنگٹھن اور کرناٹک کی ریاتا سنگھٹن کسانوں کی اسی نوعیت کی تنظیموں کی چند مثالیں ہیں۔
Pic13 Capture7

مچھواروں کی قومی فیڈ ریشن (NFWF) 

کیا آپ جانتے ہیں کہ ہندوستانی مچھواروں کی تعداد دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے؟ مشرقی اور مغربی دونوں طرف کے ساحلی علاقوں کے لاکھوں خاندان ، جن کا تعلق مقامی مچھواروں کی برادریوں سے ہے، ماہی گیری کے پیشہ میں لگے ہوئے ہیں۔ ان مچھواروں کو اس وقت بڑا خطرہ لاحق ہوگیا تھا جب حکومت نے مشین سے چلنے والی مچھلی پکڑنے کی کشتیوں کے داخلہ کی اجازت دے دی تھی اور جدید ٹکنالوجی جیسے سمندر کی تہہ سے بڑے پیمانے پر مچھلیا ں پکڑنا، استعمال کی جانے لگیں۔1970اور 1980کی دہائیوں کے دوران مچھواروں کی تنظیمیں اپنی گزر بسر کے مسائل پر ریاستی حکومت سے لڑتی رہیں۔ ماہی گیری چوں کہ ریاستوں کے دائرۂ اختیار میں آتی ہے، اس لیے ماہی گیروں کو علاقائی سطح پر منظم کیا گیا۔
1980کی دہائی کے وسط میں معاشی نرم کاری کی پالیسیاں آنے کے ساتھ ان تنظیموں کو قومی سطح کے پلیٹ فارم پر یک جاہونے کے لیے مجبور ہونا پڑا۔ یہ پلیٹ فارم تھا
 این۔ایف ۔ایف یا نیشنل فِش ورکر فورم یعنی مچھواروں کا قومی فیڈریشن۔ کیرالا کے مچھواروں نے اپنے ساتھی مچھواروں کو منظم کرنے کی ذمے داری لی۔ اس میں دوسری ریاستوں کی خاتون مزدوروں کو بھی شامل کیا گیا ۔این ایف ایف کی سرگرمیاں اُس وقت مستحکم ہوگئیں جب اس نے 1991میںمرکزی حکومت سے اپنی پہلی قانونی لڑائی جیتی۔ اس لڑائی کا تعلق حکومت کی گہرے سمندروں میں ماہی گیری کی اس پالیسی سے تھا جس کے مطابق ہندوستانی سمندر بڑے بڑے تجارتی جہازوں کے لیے کھول دئیے گئے ، جن میں بین الاقوامی ماہی گیر کمپنیوں کے جہاز بھی شامل تھے۔ 1990کے پورے عشرے کے دوران این۔ ایف۔ ایف حکومت کے ساتھ مختلف قانونی اور عوامی لڑائیوں میں لگی رہی۔ اس نے ایسے لوگوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کیا جن کی روزی روٹی کادارومدار ماہی گیری یعنی مچھلیاں پکڑنے پر تھا نہ کہ ان لوگوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے جو منافع کے لیے پیسہ لگاتے ہیں۔ جولائی 2002میں این۔ ایف۔ ایف نے ایک ملک گیر ہڑتال کروائی جس کامقصد حکومت کی جانب سے غیر ملکی ماہی گیری جہازوں کو لائسنس جاری کرنے کی مخالفت کرنا تھا۔این۔ ایف۔ ایف نے پوری دنیا کی تنظیموں کے ساتھ ماحولیات کے تحفظ اور ماہی گیروں کی زندگیاں بچانے کے لیے مل کر کام کیا۔

اَرّک (عرق) مخالف تحریک

جب بی ۔کے۔یو شمال کے کسانوں کو صف آرا کر رہی تھی، اسی وقت جنوبی ریاست آندھرا پردیش میں ایک بالکل ہی مختلف قسم کی صف آرائی تشکیل پا رہی تھی۔یہ عورتوں کی ایک بے ساختہ صف آرائی تھی جو اپنے آس پاس کے علاقوں میں شراب کی فروخت پر پابندی کا مطالبہ کر رہی تھیں۔
Pic14 Capture7
شرب مافیا عورتوں کی مار سے بھاگا
ضلع چتّورکے گنڈراور گاؤں کی عورتوں کا کالی کاری منڈل میں اجتماع ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ ارّک(دیسی شراب)کی فروخت کو ختم کیا جائے۔ یہ قرارداد انھوں نے گاؤں کے شراب کے دوکان دار تک پہنچادی۔ انھوں نے اس جیپ گاڑی کو واپس لوٹا دیا جو ارّک کی تھیلیاں گاؤں تک لاتی تھی۔ لیکن جب شراب کے دکان دار نے ٹھیکے دار کو خبردی، تو ٹھیکے دار نے آس پاس کے لوگوں کی ایک ٹولی بھیج دی تاکہ فروخت پھر سے شروع کرنے میں وہ دکاندار کی مدد کریں۔ گاؤں کی عورتیں اپنی بات پر اڑی رہیں اور اس حرکت کی مخالفت کی۔ اس کے بعد ٹھیکے دار نے پولیس بلالی لیکن اسے بھی واپس جانا پڑا۔ ایک ہفتہ کے بعد ان عورتوں پر، جنھوں نے شراب کی فروخت کو روک دیا تھا، ارّک کے ٹھیکے دار کے غنڈوں نے لوہے کی سلاخوں اور دوسرے جان لیوا ہتھیاروں سے حملہ کر دیا۔ لیکن جب عورتوں نے مل کر حملہ کی مزاحمت کی تو کرایہ کے غنڈے بھاگ گئے۔ بعد میں عورتوں نے شراب سے بھری تین جیپوں کو تباہ کردیا۔
ایناڈو، مورخہ29اکتوبر1992کی رپورٹ پر مبنی

Pic15 Capture7
Pic16 Capture7
ہم یہ اچھی اچھی کہانیاں سنتے رہتے ہیں لیکن یہ پتہ نہیں چلتا کہ ان کا اختتام کیسا تھا؟ کیا اس تحریک نے شراب نوشی کوختم کر دیا؟ یا مرد کچھ عرصے بعد پھر اسی کے عادی ہوگئے؟
ستمبراور اکتوبر1992کے مہینوں کے دوران تقریباً تیلگواخباروں میں اس قسم کی کہانیاں شائع ہوئیں۔ ہرمرتبہ گاؤں کا نام بدل جاتا تھا لیکن کہانی وہی ہوتی تھی۔ آندھرا پردیش کے دور دراز کے گاؤں کی دیہاتی عورتیں اس عرصے میں شراب نوشی، منظم جرائم پیشہ لوگوں اور حکومت سے نبردآزمارہیں اور ان احتجاجوں نے ریاست میں اَرّک مخالف تحریک کی شکل اختیار کی۔

 ابتدا  

1990کے عشرہ کے اوائل میں آندھرا پردیش میں نیلور ضلع کے ڈباگنٹاکے دورافتادہ گاؤں میں عورتوں نے بڑی تعداد میں تعلیم بالغان کی مہم میں اپنے نام درج کرائے تھے۔
 کلاس میں گفتگو کے دوران عورتوں نے شکوہ کیا کہ ان کے کنبوں کے مردوں میںمقامی طور پر بنائی گئی ایک دیسی شراب ’’ اَرّک کا ‘‘ استعمال بڑھ گیا ہے۔ دیہات کے لوگوں میں شراب نوشی کی عادت کی جڑیں اتنی گہری تھیں کہ ان کی جسمانی اور ذہنی صحت کو برباد کر رہی تھیں۔ اس کی وجہ سے علاقے کی دیہی معیشت بھی بہت متاثر ہورہی تھی۔ بڑھتی شراب نوشی کی وجہ سے مقرو ضیت میں اضافہ ہوا۔ لوگ قرض لے کر پیسے کو شراب نوشی میں خرچ کررہے تھے۔ مرد اپنی ملازمتوں سے غیر حاضر ہوجاتے تھے اور شراب کے ٹھیکے دار ارّک کے کار وبار کی اجارہ داری حاصل کرنے کی غرض سے جرائم میں مصروف ہوگئے۔ شراب کے مضراثرات سب سے زیادہ عورتوں پر پڑتے تھے، اس کا نتیجہ کنبوں کی معیشت کے ٹکڑے ٹکڑے ہوکر گرجانے کی صورت میں ظاہر ہوا۔ عورتوں کو خاندان کے مردوں ، خاص طور پر شوہروں کے تشدد کا شکار ہونا پڑتا تھا۔
نیلور کی عورتیں مقامی سطح کی بے ساختہ پہل پر ارّک کی مخالفت میں ایک جٹ ہوگئیں اور شراب کی دکانوں کو زبردستی بند کرا دیا۔ یہ خبر تیزی سے پھیل گئی اور 5ہزار گاؤں اس جذبہ سے سر شار ہوگئے اور ساتھ مل کر جلسے منعقد کیے۔ انھوں نے شراب بندی کرانے کے لیے قرار دادیں منظور کیں اور انھیں ضلع کلکٹر کو بھیج دیا۔ ضلع نیلور میں ارّک کی نیلامیاں 17بار ملتوی کی گئیں۔ ضلع نیلور کی یہ تحریک آہستہ آہستہ پوری ریاست میں پھیل گئی۔
Pic17 Capture7
1992 میں حیدرآباد میں خواتین ارّک کی فروخت کے خلاف ایک جلوس نکالتے ہوئے۔
بشکریہ؛ انڈیا ٹوڈے

ایک دوسرے سے ملی کٹریاں 

ارّک مخالف تحریک کا سیدھا سادہ نعرہ تھا۔ ارّک کی فروخت کی ممانعت ،یعنی اس پرپابندی۔ لیکن اس سادہ مطالبے نے اُن وسیع تر سماجی، معاشی اور سیاسی مسائل کو بھی چھیڑا جو عورتوں کی زندگی کو متاثر کرتے تھے۔ ارّک کے کاوبار کے اردگرد جرم اور سیاست کا ایک ناپاک گٹھ جوڑ بن گیا تھا۔ حکومت کو ارّک کی فروخت پر عائد کر دہ ٹیکس سے بہت بڑی آمدنی حاصل ہوتی تھی اور اس وجہ سے وہ اس پر پابندی نہیں لگانا چاہتی تھی۔ اپنی ارّک مخالف تحریک کے دوران عورتوں نے اس طرح کے پیچیدہ مسائل کو اٹھانے کی کوششیں کیں۔ وہ گھریلو تشدد کے بارے میں بھی کھل کر گفتگو کرتی تھیں۔ ان کی تحریک نے پہلی بار ایسا پلیٹ فارم مہیا کیا جہاں سے وہ گھریلو تشدد جیسے نجی معاملات پربھی بحث کر سکتی تھیں۔ اس طرح ارّک مخالف تحریک خواتین کی تحریک کا بھی ایک حصہ بن گئی۔
Pic18 Capture7
آئیے ایک فلم دیکھیں
آکروش
وکیل بھاسکر کُلکر نی کو قانونی امداد کا ایک معاملہ بھیکو لہانیا کی پیروی کرنے کے لیے سونپا گیا ہے۔ بھیکو ایک آدی واسی  ہے، جس پر اپنی بیوی کو قتل کرنے کا الزام ہے۔ وکیل قتل کی وجہ معلوم کرنے کی بہت کوششں کرتا ہے لیکن ملزم نے چپ رہنے کا تہیہ کر رکھا ہے اور اس کا خاندان بھی خاموش ہے۔ وکیل کی مستقل مزاجی کی وجہ سے اس پر حملہ کیا جاتا ہے اور ایک سماجی کا رکن کی طرف سے خفیہ اطلاع دی جاتی ہے کہ دراصل ہوا کیا تھا۔
 لیکن سماجی کارکن غائب ہوجاتا ہے اور بھیکو کا باپ مرجاتا ہے ۔ بھیکو کو اپنے باپ کے جنازہ میں شرکت کی اجازت مل جاتی ہے۔ یہاں بھیکو رو پڑتا ہے اور آکروش (زوردارچیخ) پھوٹ پڑتی ہے۔یہ زبردست فلم مظلوموں کی انسانیت سے گری ہوئی زندگی کو پیش کرتی ہے اور اس مشکل کام کے بارے میں بتاتی ہے جو غالب سماجی قوتوں کے خلاف کسی بھی قسم کی دخل اندازی کو درپیش ہوتا ہے۔
سال :1980
ڈائریکٹر :  گووند نہلانی
کہانی:  وجے تندولکر
اسکرین پلے :  ستیہ دیو دوبے
اداکار  :  نصیر الدین شاہ،
اوم پوری ، سمیتا پاٹل، نانا پاٹیکر، مہیش ایلکنچوَر

اس سے پہلے خواتین کے وہ گروپ جو گھریلو تشدد، جہیزکے رواج ،کام کی جگہوں اور عوامی مقامات پر جنسی بدسلوکی جیسے مسائل پر کام کر رہے تھے، ملک کے مختلف حصوں میں زیادہ تر شہری متوسط طبقہ کی خواتین کے درمیان ہی سرگرم تھے ۔ ان کے کام سے یہ حقیقت آشکارا ہوئی کہ عورتوں کے ساتھ ناانصافی اورجنسی بنیاد پر موجود عدم مساوات کے مسائل نوعیت کے اعتبار سے الجھے ہوئے مسائل ہیں۔ 80کے عشرہ کے دوران عورتوں کی اس تحریک نے خاندان کے اندراور باہر خواتین پر ہونے والے جنسی تشدد پر توجہ مرکوز کی۔ان گروپوں نے جہیز کے رواج کے خلاف مہم چلائی اور شخصی اور جائداد سے متعلق ایسے قوانین بنائے جانے کا مطالبہ کیا جو مردوں اور عورتوں کے مساوات کے اصول پر مبنی ہوں۔
ان مہموں کا مجموعی طور پر عورتوں کے مسائل کے لیے سماجی بیداری کو بڑھانے میں بہت بڑا ہاتھ تھا۔ خواتین کی توجہ کا مرکزرفتہ رفتہ قانونی اصلاحات سے ہٹ کرکھلم کھلا سامنا کرنے اور ٹکراؤکی جانب منتقل ہوگیا،جیسا کہ ہم اوپر پڑھ چکے ہیں۔نتیجتاً 1990 کے عشرے کے دوران خواتین کی تحریک نے سیاست میں عورتوں کی مساوی نمائندگی کے مطالبات کیے۔ ہم جانتے ہیں کہ آئین کی 73ویں اور 74ویں ترمیموں کے مطابق مقامی سطح پر سیاسی عہدوں میں عورتوں کے لیے ریزرویشن (تحفظ) دیا گیا ہے۔ اسی طرح کے تحفظات کا مطالبہ ریاستی اور مرکزی قانون ساز اسمبلیوں کے ضمن میں بھی کیا گیا ۔ آئین میں ترمیم کے لیے اسی نوعیت کے ایک بل کی تجویز پیش کی گئی ہے لیکن ابھی تک اسے پارلیمنٹ کی خاطر خواہ حمایت حاصل نہیں ہوسکی ہے۔ زیادہ مخالفت کچھ گروپوں کی طرف سے کی گئی ہے۔ ان میں خواتین کے کچھ گروپ بھی شامل ہیں جن کا اصرار ہے کہ دلت یعنی پچھڑی ذاتوں اور دیگر پس ماندہ طبقوں کی عورتوں کے لیے ایک الگ کوٹاخواتین کے مجوزہ کوٹے میں سے اعلا سیاسی عہدوں کے لیے رکھا جائے۔
Pic19 Capture7
نرمدا بچاؤ آندولن کی حمایت میں ایک پوسٹر
بشکریہ: ڈیزائن اینڈپیوپل
Pic20 Capture7
بشکریہ: انڈیا ٹو ڈے
جہیز مخالف خانون کی حمایت میں عورتوں کا مظاہرہ

نرمدا بچاؤ آندولن  

اب تک جن سماجی تحریکوں پر ہم نے گفتگو کی ہے ان سب کا مقصد ایسے مختلف مسائل کو اٹھانا تھا جو معاشی ترقی کے اس ماڈل سے متعلق تھے جس کو ہندوستان نے آزادی کے وقت اپنا یا تھا۔ چیکو تحریک ماحولیاتی انحطاط کے معاملے کو سامنے لائی جب کہ کسانوں کی شکایت تھی کہ زراعتی شعبے کی ان دیکھی کی جارہی ہے۔ دلتوں یعنی پس ماندہ ذات کے لوگوں کے معاشی اورمادی حالات عوامی جدوجہد کا سبب بنے جب کہ ارّک مخالف تحریک نے نام نہاد ترقی کے منفی اثرات پر اپنی توجہ مرکوز رکھی۔ ان سب تحریکوں میں جو مسئلہ پوشیدہ تھا اسے ان تحریکوں نے آشکارا کر دیا جو ایسے بڑے بڑے ترقیاتی منصوبوں کے خلاف کام کر رہی تھیں جن کی وجہ سے لوگوں کی خانہ بربادی ہورہی تھی۔

سردار سرووَر پروجیکٹ

آرزؤوں سے بھرا ایک ترقیاتی پروجیکٹ وسطی ہندوستان کی نرمدا گھاٹی میں1980کی دہائی کے ا بتدائی سالوں میں شروع کیا گیا۔ یہ منصوبہ 30 بڑے ، 135درمیانہ سائز کے باندھوں اور تقریباً تین ہزار چھوٹے باندھوں پر مشتمل تھا، جنھیں دریائے نرمدا اور اس کی ان معاون ندیوں پر تعمیر کیا جانا تھا جو تین ریاستوں یعنی مدھیہ پردیش، گجرات اور مہاراشٹر سے گزرتی تھیں۔ گجرات میں سردار سروور پر وجیکٹ اور مدھیہ پردیش میں نرمدا ساگر پروجیکٹ ان میں سے دو اہم ترین اور سب سے بڑے کثیر المقاصد ڈیم یا باندھ تھے جن کی منصوبہ بندی اس پروجیکٹ کے لیے کی گئی تھی۔نرمدا بچاؤ آندولن نے ، جو دریائے نرمدا کو بچانے کی ایک تحریک تھی، ان باندھوں کی تعمیر کی مخالفت کی اور ملک میں جاری دیگر منصوبوں کی نوعیت پر بھی سوال اٹھائے۔
سردار سرو وَرپروجیکٹ ایک کثیر المقاصد اور بہت بڑے پیمانے کا باندھ ہے۔ اس پروجیکٹ کی وکالت اور موافقت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ یہ گجرات اور اس سے ملحقہ تین ریاستوں کے بہت بڑے علاقے میں پینے کے پانی اور آب پاشی کے لیے پانی کی دست یابی، بجلی تیار کرنے اور زرعی پیداوار میں اضافہ کے تعلق سے بہت فائدہ مند ثابت ہوگا۔ ان کے علاوہ بہت سے ذیلی یا چھوٹے فوائد کو بھی اس باندھ کی کامیابی کے ساتھ جوڑا گیا، جیسے علاقے میں سیلابوں اور خشک سالی پر قابو -باندھ کی تعمیر کے دوران ان ریاستوں کے 245 گاؤں کے زیر آب آجانے یعنی ڈوب جانے کا خیال ظاہر کیاگیا۔ ان گاؤں کے تقریباً ڈھائی لاکھ لوگوں کو دوسرے مقامات پر آبادکرنے کی ضرورت تھی ۔ اس پروجیکٹ سے متاثر ہ لوگوں کو گاؤں سے اجاڑکر ان کی دوبارہ باز آبادکاری کے مسائل کو سب سے پہلے مقامی سرگرم گروپوں نے اٹھایا۔1988-89کے آس پاس یہ مسائل این ۔بی۔ اے (نرمدا بچاؤ آندولن) کے تحت صاف اور واضح ہوگئے ۔ یہ مقامی رضا کار تنظیموں کا ایک غیر رسمی اتحاد سا تھا۔

بحث و مباحثہ اور جدوجہد

اپنے قیام کے وقت ہی سے این ۔بی۔اے(NBA) نے سردارسرووَر پروجیکٹ کی مخالفت ان وسیع تر معاملات اور مسائل کے ساتھ منسلک کر دی تھی جن کا تعلق ملک میں جاری ترقیاتی منصوبوں، ترقیاتی کاموں کے اختیار کردہ انداز کی اثر پذیر ی اور جمہوریت میں مفاد عامہ کی تشکیل سے تھا۔ این۔ بے۔ اے کا مطالبہ تھا کہ ملک میں اب تک کے تکمیل شدہ بڑے ترقیاتی پرو جیکٹوں کی لاگت اور ان کے فوائد کا تجزیہ کیا جائے ۔ سماجی لاگتوں میں پروجیکٹوں سے متاثرہ لوگوں کی جبراً دوبارہ آبادکاری ، ان کے ذرائع معاش اور ثقافت کا سنگین نقصان اور علاقہ کے ماحولیاتی وسائل کا انحطاط شامل کیے جائیں۔
شروع میں تو تحریک کا مطالبہ یہ تھا کہ ان تمام لوگوں کو، جوبالواسطہ یا بلاواسط طور پر پروجیکٹ سے متاثر ہوئے ہیں، پھر سے بسایا جائے۔ تحریک نے بہت بڑے پیمانہ کے پروجیکٹوں کے سلسلے میں فیصلہ سازی کے طریقوں پر بھی سوال اٹھائے جو ان کی تعمیر و تکمیل کے ضمن میں استعمال کیے جاتے ہیں۔ این۔ بی۔ اے کا اصرار تھا کہ ایسے فیصلوں میں مقامی لوگوں کی رائے بھی لی جانی چاہیے اور پانی ، زمین اور جنگلات جیسے قدرتی وسائل پر ان کا موثر اور حقیقی اختیار ہونا چاہیے ۔ تحریک چلانے والوں نے یہ بھی پوچھا کہ جمہوریت کے ہوتے ہوئے کچھ لوگوں کو دوسروں کے فائدے کے لیے قربان کیوں کیا جائے۔ان تمام باتوں کی وجہ سے این۔ بی۔ اے نے بازآبادکاری کے ابتدائی مطالبہ کو چھوڑ کر اب باندھ کی مکمل، مخالفت شروع کردی۔
Pic21 Capture7
 این بی اے رہنما میدھا پاٹکراور دوسرے سرگرم  2002میں جل سمادھی کے
 مقام پرامنڈتے پانی میں احتجاج کرتے ہوئے
Pic22 Capture7
میں نے کبھی نہیں سنا کہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے کوئی شان دار رہائشی علاقہ یا شہر منہدم کیا گیا ہو۔ ہمیشہ غریبوں اور آدی واسیوں کو ہی اپنے گھر چھوڑنے کے لیے کیوں کہا جاتا ہے؟

تحریک کی جانب سے دی گئی دلیلوں اور مظاہروں کی ان ریاستوں بالخصوص گجرات میں پُرزور اور پرُ شور مخالفت کی جانے لگی جن کے لیے یہ پروجیکٹ فائدہ مند تھا۔ دوسری طرف حکومت اور عدلیہ نے بازآباد کاری کی بات کو تسلیم کر لیا ۔ 2003 میں حکومت کی تشکیل کر دہ ایک جامع قومی بازآبادی کاری پالیسی کو این۔ بی۔اے اور اس جیسی دیگر تحریکوں کی ایک کامیابی مانا جاسکتا ہے۔ تاہم باندھ کی تعمیرکو روک دینے کی مانگ پر بہت سے لوگوں نے شدید نکتہ چینی کی کیوں کہ ان کے خیال میں یہ تحریک ترقی کے عمل کی راہ میں رکاوٹیں پیداکر رہی تھی، اور بہت لوگوں کو پانی تک رسائی سے محروم کرنا چاہتی تھی۔ حکومت کے اس باندھ کی تعمیر کے فیصلے پر سپریم کورٹ نے عمل کرنے کو جائز قرار دیا لیکن ساتھ ہی یہ ہدایت بھی دی کہ مناسب باز آباد کاری کو یقینی بنایا جائے۔
Pic23 Capture7
این ۔بی۔اے کے ذریعے منظم کی گئی کشتیوں کی ایک ریلی
بشکریہ: این بی اے
 نرمدابچاؤ آندولن بیس سال سے زائدعرصے تک باقی رہا۔ اس نے اپنے مطالبات رکھنے کے لیے دستیاب ہر جمہوری حکمتِ عملی کا استعمال کیا۔ ان میں عدلیہ سے اپیلیں، بین الاقوامی سطح پر حمایت حاصل کرنا ، تحریک کی تائید میں عوامی ریلیاں، ستیہ گرہ تحریک کے طریقوں کو ازسرنو زندہ کرنا تاکہ لوگوں کواس تحریک کے بارے میں اچھی طرح سمجھا یا جاسکے۔ لیکن قومی سطح کی بڑی سیاسی پارٹیوں کی حمایت، جن میں حزب مخالف کی پارٹیاں بھی شامل تھیں ، اس تحریک کو حاصل نہ ہوسکی۔ درحقیقت نرمدا بچاؤ آندولن کا سفر ہندوستانی سیاست میں سیاسی پارٹیوں اور سماجی تحریکوں کے درمیان عدم اتصال یا ملاپ کی غیر موجودگی کی تصویر کشی کرتا تھا۔ 1990کی دہائی کے ختم ہونے تک این۔بی۔اے بہرحال تنہا نہیں رہ گیا۔ بہت سے مقامی گروپ اور تحریکیں ابھر کر سامنے آئیں جنھوں نے اپنے علاقوں میں بڑے پیمانے کے ترقیاتی منصوبوں کی منطق کو چیلنج کیا اور اس کی مخالفت کی۔ اسی زمانے میں این۔بی۔اے عوامی تحریکوں کے ایک وسیع تر اتحاد کا حصہ بن گیا جو ملک کے مختلف علاقوں میں ایسے ہی معاملات اور مسائل کے لیے جدوجہد کر رہی تھیں۔

عوامی تحریکوں سے ملنے والے سبق

ان عوامی تحریکوں کی تاریخ سے ہمیں جمہوری سیاست کی فطرت اور نوعیت کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ ہم دیکھ چکے ہیں کہ یہ غیر جماعتی تحریکیں نہ تو چُھٹ پُٹ نوعیت کی ہیں اور نہ ہی کوئی مسئلہ ہیں۔ یہ تحریکیں پارٹی سیاست کے کام کاج کے طریقوں کی خامیوں اور کچھ مسئلوں کو ٹھیک کرنے کے لیے چلائی گئیں اور ہمیں انھیں جمہوری سیاسست کے ایک اٹوٹ حصے کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ ان تحریکوں نے ایسے نئے سماجی گروپوں کی نمائندگی کی جن کی سماجی اور معاشی شکایات انتخاباتی سیاست کے میدان میں رفع نہیں کی گئی تھیں۔ عوامی تحریکوں نے مختلف النوع گروپوں کی موثر اور عملی نمائندگی اور ان کے مطالبات کو یقینی بنایا۔ اس کی وجہ سے گہرے سماجی ٹکراؤ اور ان گروپوں کی جمہوریت سے بددلی اور ناراضگی کے امکان کو کم کرنے میں بڑی مدد ملی۔ عوامی تحریکوں نے سرگرم اور عملی شرکت کے نئے نئے طریقے تجویز کیے اور اس طرح ہندوستانی جمہوریت میں شرکت اور حصہ داری کے تصور کو وسیع بنا دیا۔
Pic24-Capture7

کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ تحریکیں سیاسی تجربہ گاہوں کی طرح ہوتی ہیں؟ یہاں نئے تجربے کیے جاتے ہیں اور کامیاب تجربوں کو پارٹیاں اپنالیتی ہیں۔

ان تحریکوں کے ناقدین اکثر یہ دلیل دیتے ہیں کہ ہڑتالیں، دھرنے، ریلیاں اور اس قسم کے دیگر احتجاجی طریقے حکومت کے کام کاج میں رکاوٹ ڈالتے ہیں اور گڑبڑی پیدا کرتے ہیں،فیصلہ سازی میں تاخیر پیدا کرتے ہیں اور جمہوریت کے معمولات میں عدم استحکام کا سبب بنتے ہیں۔ اس قسم کی دلیلیں ایک گہرا سوال پیدا کرتی ہیں اور وہ یہ کہ اس طرح کی تحریکیں اپنی بات منوانے کے لیے ایسا سخت اور اڑیل رویہ کیوں اختیار کرتی ہیں؟ ہم اس باب میں دیکھ چکے ہیں کہ عوامی تحریکوں نے لوگوں کے جائز مطالبات کے لیے آواز بلند کی ہے، اور یہ شہریوں کی بڑے پیمانے پر شرکت حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہوئی ہیں۔ یہ بات توجہ کے لائق ہے کہ ان تحریکوں میں شامل ہونے والے لوگ غربت ، سماجی اور معاشی طور پر پستہ حال اور معاشرہ کے ان کمزور طبقات سے آتے ہیں جو سماج میں حاشیے پر ہیں ۔ 
Pic25 Capture7
مقبول عام تحریکوں نے ادب کا بڑا ذخیرہ فراہم کیا ہے ان میں اکثر چھوٹے رسائل کی شکل میں موجود ہیں۔یہاں ان کا ایک انتخاب پیش کیا گیا ہے۔

معلومات کے حق کی تحریک

معلومات کے حق (آرٹی آئی)کی تحریک چند ایسی حالیہ تحریکوں کی ایک مثال ہے جس کو حکومت سے اپنے اہم مطالبات منوانے میں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ یہ تحریک 1990میں اس وقت شروع ہوئی جب راجستھان کی ایک بڑی عوامی تنظیم مزدور کسان شکتی سنگٹھن (ایم۔کے۔ایس۔ایس) نے مزدوروں کے حسابات اور قحط کے راحتی
 کاموں کے ریکارڈ اور تفصیلات کا مطالعہ کرنے کے لیے پہل قدمی کی۔یہ مطالبہ سب سے پہلے راجستھان کے ایک بہت ہی پس ماندہ علاقع میں واقع بھیم تحصیل میں کیا گیا ۔ گاؤں کے لوگ معلومات کے اپنے حق کے لیے بضد ہوگئے اور انھوں نے ان بلوں اور رسیدوں کی نقلیں دکھانے اور ایسے تمام لوگوں کے نام بتائے جانے کے لیے کہا جن کو اسکولوں، شفاخانوں ، چھوٹے باندھوں (ڈیم) اور کمیونٹی سینٹروں کی تعمیر کے سلسلے میں اجرتیں ادا کی گئی تھیں۔ کاغذ پر تمام ترقیاتی منصوبے مکمل دکھائے گئے تھے لیکن گاؤں والے اچھی طرح جانتے تھے کہ پیسے کے معاملے میں زبردست دھاندلی کی گئی ہے اور فنڈ کا ناجائز استعمال ہوا ہے۔ 1994اور1996میں ایم کے ایس ایس (MKSS) نے لوگوں کی باتیں سننے کے لیے اجتماعات یا ’ جَنسنوائیوں‘ کا اہتمام کیا، جہاں انتظامیہ سے عوام کے سامنے اپنے موقف کی وضاحت کرنے کے لیے کہا گیا۔
Pic26 Capture7
بشکریہ  :  پنکج پشکر
’گھوٹالا رتھ یاترا‘ایک مقبول عام تھیٹرکی طرز جس کو ایم کے ایس ایس نے تیارکیا
Pic27 Capture7
مجھے افسوس ہے کہ میرے پاس آپ کے ساتھ بانٹبے کے لیے صرف حق معلومات ایکٹ ایک نقل ہے اور کچھ نہیں!
بشکریہ  :  سدھیر تیلنگ /یو این ڈی پی اور پلاننگ کمیشن
   تحریک کو معمولی کامیابی اس وقت ملی جب اس نے راجستھان پنچائتی راج ایکٹ میں ایک ترمیم کر واڈالی جس کے مطابق عوام کو ان دستاویزوں کی مصدقہ نقلیں حاصل کرنے کی اجازت مل گئی جو پنچائتوں کے پاس تھیں۔ پنچائتوں کے لیے یہ بھی ضروری قرار دیا گیا کہ وہ بجٹ، حسابات، اخراجات، پالیسیوں اور جن لوگوں پر رقم خرچ کی گئی ان سب کی تفصیلات بورڈ پر چسپاں کریں اور اخبارات میں شائع کریں۔ 1996میں ایم کے ایس ایس  (MKSS) نے دہلی میں لوگوں کے معلومات کے حق کی قومی کونسل بنائی جس کا مقصد آر ٹی آئی (معلومات حاصل کرنے کا حق) کو ایک قومی سطح کی مہم کا درجہ دینا تھا۔ اس سے قبل صارفین کی تعلیم اور تحقیقی مرکز،پریس کونسل اور شوریٰ کمیٹی (Shourie Committee)نے آرٹی آئی یعنی معلومات کے حق کا ایک مسودہ تجویز کیا تھا ۔ 2002 میںمعلومات کی آزادی کا ایکٹ بنایا گیا تھا لیکن وہ کبھی نافذ نہیں ہوا۔2004میں آر ٹی آئی کا  بل پیش کیا گیا جسے جون 2005 میں صدر جمہوریہ کی رضا مندی حاصل ہوئی۔

آئیے تحقیقی کریں

گزشتہ 25برسوں کے دوران اپنے شہر یا ضلع کی کم ازکم ایک عوامی تحریک کی شناخت کیجیے۔ اس تحریک کے بارے میں درج ذیل معلومات اکٹھا کیجیے: 
  • یہ کب شروع ہوئی اور کتنے عرصے تک زندہ رہی؟
  • اس کے اہم رہنما کون تھے؟ سماج کے کن طبقوں نے اس کی حمایت کی؟
  • تحریک کے اہم مطالبات کیا تھے اور اس نے کن مسائل کو اٹھایا؟
  • کیا یہ کامیاب رہی؟ آپ کے علاقے میں اس تحریک کا طویل مدتی اثر کیا رہا؟
غالباً یہی وجہ تھی کہ ان گروپوں نے انتخاباتی میدان سے باہر بڑے پیمانے کی عوامی کار روائیوں اور صف آرائیوں کی جانب رخ کر لیا۔
یہ بات حال کی معاشی پالیسیوں کے معاملہ میں دیکھی جاسکتی ہے۔ جیسا کہ آپ آگے باب 9 میں پڑھیں گے کہ سیاسی پارٹیوں کے مابین ان پالیسیوں کے اطلاق پر بڑھتا ہوا اتفاق رائے نظر آتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حاشیوں پر رہنے والے سماجی طبقوں کی جانب جوان معاشی پالیسیوں سے ناموافق طور پر متاثر ہوسکتے ہیں، سیاسی جماعتوں اور ذرائع ابلاغ کی توجہ کم سے کم ہوتی جاتی ہے۔ لہذا ان پالیسیوں کی کسی بھی مؤثر مخالفت میں اپنی بات پر ڈٹے رہنے کے عمل کی کوئی صورت ضرور شامل ہوگی جو سیاسی جماعتوں کے باہر کوئی بھی عوامی تحریک اختیار کرے گی۔
تحریکیں محض اجتماعی طور پر زور دینے یاریلیاں اور احتجاجی مظاہرے کرنے سے متعلق ہی نہیں ہیں ۔ دراصل تحریک ایسے لوگوں کا بتدریج اکٹھے ہونے کا نام ہے جن کے مسائل یکساں ہوں، مطالبات ایک جیسے ہوں اور توقعات بھی یکساں ہوں۔ لیکن اسی کے ساتھ تحریکوں کامطلب یہ بھی ہے کہ لوگوں کو ان کے حقوق اور ان توقعات کے بارے میں بیدار کیا جائے جو وہ جمہوری اداروں سے رکھ سکتے ہیں۔ ہندوستان کی سماجی تحریکیں طویل عرصہ سے ایسے ہی تعلیمی کاموں میں ملوث رہی ہیں اور اس طرح جمہوریت کو پھیلانے میں انکا بڑا ہاتھ رہا ہے نہ کہ یہ انھوں نے گڑبڑ ی اور رکاوٹ پیدا کرنے میں ۔ معلومات کے حق کی جدوجہد اس کی ایک مثال ہے۔
تا ہم سرکاری پالیسیوں کی نوعیت پر ان تحریکوں کی حقیقی چھاپ بہت محدود نظر آتی ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ دورِ حاضر کی زیادہ تر تحریکیں محض ایک واحد مسئلہ پر توجہ مرکوز کرتی ہیں اور سماج کے صرف ایک ہی حصہ کی نمائندگی کرتی ہیں ۔ اس طرح ان کے معقول مطالبات کی ان دیکھی کرنا ممکن ہوجاتا ہے۔ جمہوری سیاست میں سماج کے مختلف کمزور اورپس ماندہ طبقات کے ایک وسیع اتحادیا گٹھ جوڑ کی ضرورت ہوتی ہے۔ مگر ایسی عوامی تحریکوں کی سرکردگی میں ایسا اتحادبنتا نظر نہیں آتا ۔ سیاسی پارٹیوں کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ وہ مختلف طبقاتی مفادات کو یک جا کریں لیکن لگتا ہے کہ یہ تحریکیں ایسا کرنے کی اہلیت بھی نہیں رکھتیں۔ پارٹیاں سماج کی حاشیائی طبقوں کے مسائل کو اٹھاتی ہوئی نظرنہیں آتیں۔ وہ تحریکیں جو ایسے مسائل کا احاطہ کرتی ہیں،بہت ہی محدود طریقے پر کام کرتی ہیں۔ گزشتہ برسوں میں عوامی تحریکوں اور سیاسی پارٹیوں کے باہمی رشتے کمزور سے کمزور تر ہوئے ہیں جس سے سیاست میں ایک خلاپیدا ہوگیا ہے۔ حالیہ برسوں میں یہ ہندوستان کی سیاست کا ایک بہت بڑا مسئلہ بن گیا ہے۔

مشقیں

ان میں سے کون سے بیان غلط ہیں؟
چیکو تحریک

(a) ایک ماحولیاتی تحریک تھی جو شجرکشی یادرختوں کے کاٹے جانے کو روکنے کے لیے چلائی گئی تھی۔

(b) اس تحریک نے ماحولیاتی اور معاشی استحصال پر سوال اٹھائے۔

(c) یہ شراب نوشی کے خلاف ایک تحریک تھی جسے عورتوں نے شروع کیا تھا۔

(d) اس تحریک میں مطالبہ کیا گیا کہ قدرتی وسائل پر مقامی لوگوں کا اختیار ہو۔

درج ذیل بیانات میں سے بعض غلط ہیں،اُن کی شناحت کیجیے اور انھیں درست کرکے لکھیے:

(a) سماجی تحریکیں ہندوستان کی جمہوریت میں رکاوٹ ڈال رہی ہیں۔

(b) سماجی تحریکوں کی اصل قوت سماج کے تمام طبقوں میں ان کی عوامی بنیاد میں پوشیدہ ہے۔

(c) ہندوستان میں سماجی تحریکیں اس لیے چلائی گئیں کہ بہت سے مسائل کی جانب سیاسی پارٹیوں نے توجہ نہیں دی۔

3۔   ان اسباب کی شناخت کیجیے جن کی بنا پر 1970کی دہائی کے شروع میں اترپردیش میں چیکو تحریک شروع ہوئی۔ اس تحریک کے کیا اثرات مرتب ہوئے ؟
  بھارتیہ کسان یونین ایک اہم پارٹی ہے جو کسانوں کی خستہ حالی اور ان کو درپیش مسائل کو اجاگر کرتی ہے۔1990 کی دہائی میں اس پارٹی نے کن مسائل پرتوجہ دی اور وہ اس میں کس حد تک کامیاب رہی؟
5۔  آندھراپردیش میں اَرک مخالف تحریک نے ملک کی توجہ کچھ سنگین مسائل کی جانب مبذول کرائی۔ یہ مسائل کیا تھے؟
کیا آپ اَرک۔ مخالف تحریک کو عورتوں کی ایک تحریک خیال کریں گے؟اگر ہاں، تو کیوں؟
نرمدا بچاؤ آندولن نے نرمدا وادی میں باندھوں کی تعمیر کے پروجیکٹوں کی مخالفت کیوں کی؟
8۔ کیا کسی ملک میں تحریکیں اور احتجاجی مظاہرے جمہوریت کو مضبوط بنانے کا کام کرتے ہیں؟ مثالوں کے ذریعے وضاحت کیجیے۔
دلت پینتھرس کن مسائل کی جانب مخاطب  ہوئے؟
10۔  عبارت کو پڑھیے اور درج ذیل سوالوں کے جواب دیجیے:
.....، تقریباً سبھی سماجی تحریکیں نئی بیماریوں اور برائیوں کے علاج کے طور پر رونما ہوئیں  -- ماحولیاتی پستہ حالی، عورتوں کے حقوق کی خلاف ورزی ،قبائلی ثقافت کی تباہی و بربادی اور انسانی حقوق کی زک رسانی-- بذات خود ان میں سے کوئی بھی سماجی نظام کی شکل نہیں بدل سکتی ۔ ان معنوں میں یہ ماضی کے انقلابی نظریات سے بالکل مختلف ہیں۔ لیکن ان کی کمزوری یہ ہے کہ یہ منتشرہیں اور ٹکڑوں میں منقسم ہیں...... نئی سماجی تحریکوں کے زیر اثر جگہ کا بڑا حصہ...... مختلف قسم کی خصوصیات...... میں مبتلا ہے جس نے انھیں اصلی پس ماندہ اور غریبوں کی ایک بامعنی اور حسب حال ٹھوس اور متحدہ تحریک بننے سے روکا ہے....... یہ تحریکیں حددرجہ بکھری ہوئی اور حساس اور وقتی نوعیت کی ہیں جو ایک جامع بنیادی سماجی تبدیلی کا خاکہ پیش کرنے سے قاصر ہیں۔ ان کا یہ وہ مخالف (مغرب مخالف، سرمایہ داری مخالف ، ترقی مخالف وغیرہ) ہونا انھیں مظلوم اور حاشیائی لوگوں کے لیے اور زیادہ بامعنی خیز نہیں بننے دیتا----رجنی کوٹھاری

(a)   نئی سماجی تحریکوں اور انقلابی نظریات کے درمیان کیا فرق ہے؟

(b)   مصنفہ کے خیال میں سماجی تحریکوں کی کیا حدود یا کمیاں ہیں؟

(c)   اگر سماجی تحریکیں مخصوص مسائل کی طرف توجہ دیتی ہیں تو کیا  آپ انھیں منتشر کہیں گے یا زیادہ مرکوز؟  
     مثالیں دے کراپنے جواب کی وضاحت کیجیے۔

آئیے اسے مل جل کر کریں

   ایک ہفتہ کی اخباری رپورٹوں پر نظر ڈالیے اور تین ایسی رپورٹوں کی شناخت کیجیے جنھیں آپ مقبول  عام تحریکوں کے زمرے میں رکھ سکتے ہیں ، ان تحریکوں کے بنیادی مطالبات ، ان کو منوانے کے لیے استعمال کیے جانے والے طریقوں اور ان مطالبات کے بارے میں سیاسی پارٹیوں کا ردّعمل معلوم کیجیے۔