Skip to content






Pic1 Capture8

اس باب میں... 

اس کتاب کے پہلے باب میں ہم نے آزادی کے بعد پہلی دہائی میں ’’ قومی تعمیر‘‘ کے عمل اور طریقۂ کار کے بارے میں پڑھا۔ لیکن قومی تعمیر کوئی ایسی چیز نہیں ہے جسے ایک ہی مرتبہ اور ہمیشہ کے لیے مکمل کر لیا جاسکتا ہو۔ وقت کے ساتھ نئے چیلنج سامنے آئے ۔ بعض پر انے مسائل بھی پورے طور پر حل نہیں کیے گئے تھے۔ جوں جوں جمہوریت کا تجربہ سامنے آیا،مختلف علاقوں کے لوگوں نے اپنی خود مختاری کی آرزؤں اور تمناؤں کا اظہارکرنا شروع کردیا۔ بعض اوقات یہ اظہارہندوستانی وفاق کے ڈھانچے کے باہر کیا گیا ۔ ان میں طویل جدوجہد شامل تھی جو اکثر جارحانہ تھی اور لوگ مسلح ہوکر اپنی بات پر اڑنے لگے تھے۔
یہ نیا چیلنج  1980کے عشرہ میں سامنے آیا جب جنتا تجربہ اختتام پذیر ہوا اور مرکز میں کچھ سیاسی استحکام آیا۔ یہ عشرہ ملک کے مختلف حصوں میں کچھ بڑے تنازعات اور سمجھوتوں کے لیے یاد کیا جائے گا خاص طور پر آسام ، پنجاب ، میزورم اور جموں و کشمیرکے واقعات ۔اس باب میں ہم ان واقعات اور معاملات کا مطالعہ چند عام سوالات کے ذریعے کریں گے:
  •   علاقائی آرزؤں سے پیدا ہونے والی کشیدگیو ںمیں کون سے عوامل کار فرماہوتے ہیں؟
  •   ہندوستانی ریاست نے ان کشیدگیوں اور چیلنجوں کا جواب کس انداز سے دیا ہے؟
  • جمہوری حقوق اور قومی یک جہتی کے درمیان توازن قائم رکھنے کے لیے کس قسم کی مشکلات درپیش آئیں ؟
  • جمہوریت میں تنوع کے ساتھ اتحاد قائم رکھنے کے لیے ہمیں کیا نصیحت ملتی ہے؟
Pic2 Capture8
عام طور پر علاقائی امنگوں اور آرزوؤں کا اظہار علاقہ کی زبان ہی میں کیا جاتا ہے اور ان میں مقامی آبادی یا حکمرانوں کو مخاطب کیا جاتا ہے۔ اترانچل تحریک کے اس غیرمعمولی پوسٹر میں ہندوستان کے تمام شہریوں سے سات مختلف زبانوں میں اپیل کی گئی ہے اور اس طرح علاقائی آرزؤں اور قومی جذبات کے درمیان باہمی مطابقت اور مواقفت پر زور دیا گیا ہے۔

باب 8

علاقائی آرزوئیں

علاقہ اورقوم

(1980)کی دہائی خود مختاری کے لیے بڑھتی ہوئی علاقائی آرزوں کازمانہ تھا۔ بسا اوقات خود مختاری کی یہ آرزوئیں ہندستانی وفاق کے ڈھانچہ سے علاحدہ ہونے کے لیے ہوتی تھیں۔ یہ تحریکیں اکثر وبیشتراپنے وجود کا اظہار مسلح طریقہ سے کرتی تھیں جس کو حکومت دبادیتی تھی اور نتیجہ میں سیاسی اور انتخابی طریقۂ عمل میں رکاوٹ پڑتی تھی۔ یہ بھی تعجب خیزبات نہیں ہے کہ یہ تحریکیں طویل مدت تک چلنے کے باوجود مرکزی حکومت اور خود مختاری کے مطالبہ کی تحریک کے ان لیڈروں کے درمیان گفت وشنید کے بعد ایک سمجھوتہ پر اختتام پذیر ہوئیں۔ان سمجھوتوں پر آپسی گفتگو میں خاص مسئلوں پر بحث و مباحثہ ہوا اور آئینی دائرہ کے اندر ہی ان کا حل نکالا گیا۔ اس کے باوجود سمجھوتہ تک کا سفرہمیشہ ہنگامہ خیز اوربعض اوقات پر تشدد رہا۔

ہندوستانی اندازفکر

ہندوستانی دستور اور قومی تعمیر کے عمل کے مطالعہ کے دوران یہ بنیادی اصول کہ ہندوستانی قوم مختلف علاقوں کے لسانی گروہوں کی اپنی ثقافت اور تہذیب کو برقرار رکھنے کے حق میں مداخلت نہیں کرے گی، کئی بار سامنے آیا۔ ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ ایک متحدہ معاشرتی زندگی گزاریں گے لیکن ساتھ ساتھ ان بے شمار ثقافتوں کی امتیازی خصوصیات کو بھی ہاتھ سے نہیں جانے دیں گے، جنھوں نے اسے بنانے میں حصہ لیا ہے۔ ہندوستانی قومیت نے اختلاف اور اتحاد کے توازن کو قائم رکھا۔ قومیت کا مطلب علاقائیت سے انحراف نہیں ہے ۔ اس اعتبار سے ہندوستانی طرز عمل اُس طرزعمل سے مختلف تھا جو اکثر یوروپی ملکوں نے اختیار کیااور جنھوں نے ثقافتی تفریق کو قوم کی سالمیت کے لیے خطرہ سمجھا۔
Pic3 Capture8
علاقہ پرستی مردہ آباد ذات پات مردہ باد فرقہ پرستی مردہ باد

کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ علاقائیت اتنی خطرناک نہیں ہے جتنی کہ فرقہ واریت؟ یا شاید بالکل ہی خطرناک نہیں ہے۔

ہندوستان نے ثقافتی تنوع یارنگارنگی کے لیے ایک جمہوری طرز عمل اختیار کیا۔ جمہوریت علاقائی امنگوں کے سیاسی اظہار کی اجازت دیتی ہے اور ان کو وطن مخالف نہیں   سمجھتی ۔ اس کے علاوہ جمہوری سیاست اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ مختلف پارٹیاں اورگروپ عوام کو ان کی علاقائی شنا خت، آرزؤں اور ان کے مخصوص مسائل کی بنیاد پر مخاطب کریں۔ اس طرح جمہوری سیاسست کے عمل کے دوران علاقائی آرزؤں کو تقویت ملتی ہے۔ اس کے علاوہ جمہوری سیاست کا یہ بھی مطلب ہے کہ پالیسی طے کرتے وقت علاقائی مسائل اور مشکلات ان کے حل کو اور جگہ دی جائے۔
لیکن یہ طریقہ کبھی کبھی کشید گی اور مسائل کی طرف لے جاسکتا ہے۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ کبھی کبھی قومی مفاد کی خاطر علاقائی ضروریات کو نظر انداز کرنا پڑ تا ہے اور ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک علاقے کے مفاد کی خاطر ہم قوم کی بڑی ضروریات سے چشم پوشی کرلیتے ہیں۔ لہٰذا کسی علاقے کے اختیارات ، حقوق یا علاحدہ وجود کے سیاسی تنازعات ان قوموں میں عام ہیں جو اس رنگارنگی یا اختلافات کا احترام کرتے ہوئے اتحاد اور یکجہتی کے لیے کوششیں کرتی رہتی ہیں۔
Pic4 Capture8
 چیلنج ہمیشہ سرحدی ریاستوں سے ہی کیوں ابھرتا ہے؟

کشیدگی کے مقامات

پہلے باب میں آپ پڑھ چکے ہیں کہ آزادی کے فوراً بعد ہمارے ملک کوکتنے سنگین مسائل سے دوچار ہونا پڑا ، جیسے کہ ملک کی تقسیم ، آبادیوں کا اجڑنا ، نوابی ریاستوں کا انضمام اور تنظیم نو وغیرہ وغیرہ ۔ کئی ملکی اورغیر ملکی مبصرین کا خیال تھا کہ ہندوستان ایک متحدہ ملک کی صورت میں زیادہ دیر تک نہیں چل سکے گا۔ آزادی کے فوراً بعد جموں اور کشمیر کا مسئلہ سامنے آیا، اور یہ تنازعہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ہی نہیں تھا، یہ دراصل وادی کشمیر کے عوام کی سیاسی امنگوں اور خواہشوں کا سوال تھا۔ اسی طرح سے شمال مشرق کے کچھ علاقوں میں ہندوستان کا حصہ بننے کے سوال پر اتفاق رائے نہیں تھا۔ ناگالینڈ اور پھر میزورم میں ہندوستان سے الگ ہونے کے لیے کئی زبردست تحریکیں چلیں۔ جنوب میں بھی دراوڑ تحریک کے کچھ گروہ ہندوستان سے الگ ہونے کے سوال پر مچلتے رہے، اگرچہ وہ ایک مختصر مدت کے لیے ہی تھا۔
ان واقعات کے بعد کئی جگہ لسانی ریاستوں کی تشکیل کے حق میں مظاہرے ہوئے۔ موجودہ آندھراپردیش ، کرناٹک ، مہاراشٹراور گجرات ان احتجاجات اور مظاہروں سے متاثر ہونے والے علاقوں میں تھے۔ جنوبی ہندوستان کے کچھ علاقوں خصوصاً تامل ناڈو میں ہندی کو ملک کی قومی سرکاری زبان بنانے کے خلاف سخت مظاہرے ہوئے۔ شمالی ہندوستان میں ہندی کی حمایت اور اس کو جلد سے جلد سرکاری زبان بنانے کے حق میں زبردست مظاہرے ہوئے۔ 1950کے آخر میں پنجابی بولنے والوں نے بھی اپنے لیے ایک علاحدہ ریاست کا مطالبہ شر وع کر دیا۔ یہ مطا لبہ آخر کار منظور کر لیا گیا اور 1966میں پنجاب اور ہریانہ کی ریاستیں وجود میں آئیں ۔ بعد میں چھتیس گڑھ ، اترکھنڈ اور جھارکھنڈ کی ریاستیں بنائی گئیں۔ اس طرح سے ان اختلافات کے چیلنج کا سامنا نئے سرے سے ملک کی اندرونی حد بندیاں کرکے کیا گیا۔
ان سب کے باوجود تمام مسائل نہ تو وقتی طور پر حل ہوئے اور نہ ہی ہمیشہ کے لیے حل ہوئے۔ مثال کے طور پر کشمیر اور ناگالینڈ کا چیلنج اتنا پیچیدہ تھا کہ وہ قومی تعمیر کے پہلے مرحلہ میں حل نہیں ہوسکتا تھا۔ اس کے علاوہ پنجاب ، آسام اور میزورم کے علاقوں سے نئے چیلنج سامنے آئے ۔ آئیے ان کا تفصیلی مطالعہ کریں۔اس عمل میں ہم کو ماضی کی طرف لوٹ کر قومی تعمیر کے مشکل مراحل کو پھر سے دیکھنا پڑے گا۔ ان مرحلوں میں کامیابی اور ناکامی کا تذکرہ محض ماضی کا مطالعہ ہی نہیں ہے بلکہ ہندوستان کے مستقبل کے لیے مشعل راہ بھی ہے۔

جموں اور کشمیر

جیسا کہ آپ گزشتہ برس پڑھ چکے ہیں کہ جموں و کشمیر کو دفعہ 370 کے تحت مخصوص درجہ دیا گیا تھا۔ لیکن اس کے باوجود جموں و کشمیر کو تشدد، سرحد پار سے دہشت گردی اور سیاسی عدم استحکام کا سامنا کرنا پڑا ساتھ ہی اس کے داخلی اور خارجی اثرات بھی رونما ہوئے۔ اس کے نتیجے میں بہت سی جانیں بھی گئیں جن میں بے قصور شہری، حفاظتی عملہ اور جنگجو شامل تھے۔ ان کے علاوہ بڑے پیمانے پر کشمیری پنڈتوں نے کشمیر وادی سے ہجرت بھی کی۔ جموں اور کشمیر ریاست تین سماجی اور سیاسی خطوں— جموں، کشمیر اور لداخ سے مل کر بنی ہے۔ جموں کا علاقہ چھوٹی پہاڑیوں اور میدانی علاقوں پر مشتمل ہے۔ اس میں ہندوئوں کی اکثریت ہے۔ مسلمان، سکھ اور دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی اس علاقے میں رہتے ہیں۔ کشمیر کا علاقہ خاص طور پر وادیٔ کشمیر کا احاطہ کرتا ہے۔ اس میں زیادہ تر آبادی کشمیری مسلمانوں کی ہے اور بقیہ حصہ ہندو، سکھ، بودھ اور دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کا ہے۔ لداخ پوری طرح پہاڑی علاقہ ہے۔ یہاں کی آبادی بہت کم ہے۔ یہاں مسلمانوں اور بودھوں کی آبادی تقریباً برابر ہے۔

جموں اور کشمیر

Pic5 Capture8

نوٹ:  یہ نقشہ پیمانے کے مطابق تیار نہیں کیا گیا ہے۔اور اسے ہندوستان کی بیرونی سرحدوں کے لیے مستند نہ مانا جائے۔

Pic6 Capture8

تو پھرہم اس ریاست کانام’’جمو ں،کشمیر اور لداخ‘‘ کیوں نہیں رکھ لیتے؟اورJKLتو زیادہ آسان مخفف ہے!

کشمیر، ہندوستان اورپاکستان کا مسئلہ ہی نہیں ہے بلکہ اس کے کچھ اور داخلی اور خارجی پہلو بھی ہیں۔ اس میں کشمیری شناخت کا مسئلہ ہے جسے کشمیریت کہتے ہیں اس کے علاوہ جموں و کشمیر کے عوام کی سیاسی خود مختاری کے لیے امنگیں اورآرزوئیں بھی شامل ہیں۔

مسئلہ کی جڑیں 

1947سے قبل جموں اور کشمیر راجہ کی ریاست تھی۔ ریاست کا ہندو  راجہ  ہری سنگھ ہندوستان سے الحاق نہیں چاہتا تھا اور آزاد رہنے کے لیے ہندوستان اور پاکستان سے
 گفتگوکر رہا تھا۔ پاکستانی لیڈروں کا خیال تھا کہ کشمیر ان کا ہے کیوں کہ ریاست کی اکثریت مسلمان تھی۔لیکن عوام اس طرح نہیں سوچتے تھے۔ وہ خود کو پہلے کشمیری سمجھتے تھے۔ نیشنل کانفرنس کے لیڈر شیخ عبداﷲ کی چلائی ہوئی عوامی تحریک  راجہ  سے چھٹکارہ چاہتی تھی لیکن ساتھ ہی ساتھ پاکستان میں شامل ہونے کے بھی خلاف تھی۔ نیشنل کانفرنس ایک سیکولر تنظیم تھی جس کے کانگریس سے پرانے تعلقات تھے اور ملک کی کئی نامور قومی قائدین کے ساتھ ،جن میں نہرو بھی شامل تھے، شیخ عبداﷲ کے ذاتی دوستانہ تعلقات تھے۔
اکتوبر 1947 میں پاکستان نے اپنی جانب سے قبائلی مداخلت کاروں کو کشمیر پر قبضہ کرنے کے لیے بھیجا۔ اس نے مہا راجہ  کو ہندوستان سے فوجی مدد کی درخواست کرنے پر مجبور کر دیا ۔ ہندوستان نے فوجی مدد کی اور مداخلت کاروں کو مار بھگایا،لیکن یہ مہا راجہ  سے ایک ’الحاق کی دستاویز‘  پر دستخط کرانے کے بعد ہی کیا۔ اس پر بھی اتفاق ہوا کہ حالات معمول پر آنے کے بعد جموں اور کشمیر کے عوام کے مستقبل کے بارے میں ان کی رائے کا لحاظ کیا جائے گا۔  مارچ 1948میں شیخ عبداﷲ ریاست جموں اور کشمیر کے وزیر اعظم بن گئے (اس وقت ریاست کی حکومت کا سربراہ وزیر اعظم کہلاتا تھا)۔ ہندوستان ریاست جموں و کشمیر کی خود مختاری بر قراررکھنے کے لیے راضی ہوگیا۔
Pic7 Capture8
ای۔ وی۔ راما سامی نائیکر :(1879-1973)
پیری یار (احترام کے ساتھ ) کے نام سے مشہور؛ دہریت کے بڑے حمائتی ؛دراویڈین شناخت کے دوبارہ تعارف اور ذات پات مخالف جدوجہد کے لیے مشہور؛ بنیادی طور سے کانگریس کے کارکن ؛ عزت نفس تحریک (1925)کے بانی ؛ برہمن مخالف تحریک کے رہنما؛ جسٹس پارٹی کے لیے کام کیا بعد میں دراوڈ کازگھم، کی بنیاد ڈالی، ہندی اور شمالی ہندوستان کے غلبہ کے مخالف ؛ اس تحقیق کو فروغ دیا کہ شمالی ہندوستانی اور برہمن آریائی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔

دراویڈین تحریک

’وڈکوّواز کراتھو؛ تھرکوّ تھائی کراتھو (شمال ترقی کرتا جارہا ہے جب کہ جنوب نیچے گرتا جارہا ہے)
یہ مقبول نعرہ دراصل ایک زمانے کی سب سے زیادہ موثر تحریک’ دراویڈین تحریک ‘کے جذبات کا احاطہ کرتا ہے۔ ہندوستانی سیاست کی یہ اولین تحریکوں میں سے تھی۔ حالاں کہ اس تحریک کے کچھ گروہ ایک الگ دراویڈ قوم کی تخلیق کے خواہش مند تھے لیکن یہ تحریک کبھی مسلح نہیں ہوئی۔ اس نے اپنے مقاصد کے حصول کے لیے جمہوری طریقہ جیسے کہ عوامی سطح پر بحث و مباحثہ اور الیکشن وغیرہ اپنا ئے ۔ یہ حکمت عملی اس کے کام آئی اور اس تحریک نے ریاست میں سیاسی طاقت حاصل کر لی اور قومی سطح پربھی خاصی اہم ہوگئی۔
دراویڈین تحریک نے ’دراوڈ کازگھم (DK)کے لیے راہ ہموار کی جومشہور تامل سماجی مصلح ای۔ دی۔ راماسامی ’ پیری یار‘ کی قیادت میں بنی ۔ اس تنظیم نے برہمنوں کی بالا دستی کی مخالفت کی اور شمال کے سیاسی ، اقتصادی اور سماجی غلبے کے مقابلے میں علاقائی برتری پر زور دیا۔ابتدا میں دراویڈین تحریک پورے جنوبی ہندوستان کی نمائندگی کرناچاہتی تھی لیکن دوسری ریاستوں سے حمایت نہ ملنے پر صرف تامل ناڈو تک ہی محدودرہ گئی۔

جب DK بٹ گئی تو اس کی سیاسی وراثت دراوڈ منیتر کازگھم (DMK) کی طرف   منتقل ہوگئی  ڈی ایم کے (DMK)نے سیاست میں54 1953- میں تین طرفہ احتجاج کے ذریعہ قدم رکھا۔ اس کا پہلا مطالبہ یہ تھا کلاکڑی ریلوے اسٹیشن جس کا نام بدل کر ڈالمیاپورم رکھدیا گیا تھا، کا پرا نا نام واپس لایا جائے۔ ڈالمیا شمالی ہندوستان کے ایک صنعتی گھرانے کا نام ہے۔ اس مطالبہ نے شمالی ہندوستان کی اقتصادی اور ثقافتی علامتوں کے خلاف جذبہ کا اظہار کر دیا اس کے دوسرے احتجاج کا مقصدیہ تھا کہ اسکولوں کے نصاب میں تمل ثقافتی یا تہذیبی تاریخ کو زیادہ اہمیت دی جائے۔ تیسرا احتجاج ریاستی حکومت کی کرافٹ ایجوکیشن اسکیم کے خلاف تھا، اس کے خیال میں اس اسکیم کا رشتہ برہمنی سماجی نظریہ سے جڑا تھا۔ اس کے علاوہ اس تحریک نے  ہندی کو ملک کی سرکاری زبان بنانے کے خلاف بھی احتجاج کیا۔ 1965کے ہندی مخالف احتجاج کی کامیابی نے DMK کی مقبولیت میں کافی اضافہ کیا۔ مستقل سیاسی احتجاج اور مظاہرے ڈی ایم کے  (DMK)کو 1967کے اسمبلی الیکشن میں اقتدار میں لے آئے۔اس وقت سے اب تک دراویڈین پارٹیاں تامل ناڈو کے سیاسی منظر پرچھائی ہوئی ہیں۔ حالاںکہ اپنے قائد سی۔انادورائی کی موت کے بعدڈی ایم کے(DMK) کا بٹوارہ ہوگیا لیکن خود تامل سیاست میں دراوڈ پارٹیوں کا اثر و رسوخ اور زیادہ بڑھ گیا۔ اس تقسیم کے بعد دو بڑ ی پارٹیاں بن گئیں ایک توڈی ایم کے(DMK)اور دوسری آل انڈیا انا ڈی ایم کے (AIADMK)جو خود کودراویڈ کا وارث سمجھتی تھی۔ پچھلے چالیس سال سے تامل ناڈو کی سیاست ان ہی دو پارٹیوں کے ہاتھ میں ہے۔ 1996کے بعد دونوں میں سے کوئی نہ کوئی پارٹی مرکز میں حکمراں گٹھ بند ھن میں شامل رہی ہے۔
Pic8 Capture8
 تامل ناڈو میں ہندی مخالف مظاہرین،1965
بشکریہ: دی ہندو
Pic9 Capture8
1990کی دہائی میں کئی اور دراویڈین پارٹیاں ابھر کر سامنے آئیں۔
ان میں مروملا رچی دراویڈ منیتراکڑگھم  (MDMK)،  پٹلی مکال کاچی(PMK)  اور دیسیا مُرپکودراوڈکڑگھم (DMDK)قابل ذکر ہیں۔ ان تمام پارٹیوں نے تامل ناڈو کی سیاست میں علاقائی برتری کے سوال کو قائم رکھا ۔ شروع میں تامل ناڈو کی علاقائی سیاست کو ہندوستانی قومیت کے لیے ایک خطرہ سمجھا گیا تھا لیکن درحقیت یہ قومیت اور علاقائیت کے ایک دوسرے کے مطابق اور موافق ہونے کی ایک بہترین مثال ثابت ہوئی۔
Pic10 Capture8

 بیرونی اور اندرونی تنازعات

اس وقت سے جموں و کشمیر کی ریاست بیرونی اور اندرونی اسباب کی وجہ سے تنازعات اور جھگڑوں میں گھری رہی ہے۔ پاکستان ہمیشہ وادیٔ کشمیر پر اپنا دعویٰ کر تا رہتا ہے۔ جیسا کہ ہم نے دیکھا ہے 1947میں پاکستان نے ایک قبائلی حملہ کی پشت پناہی کی تھی جس کے نتیجہ میں ریاست کا کچھ حصہ پاکستان کے قبضہ میں چلاگیا ۔ ہندوستان کا دعویٰ ہے کہ اس حصہ پر پاکستان کا قبضہ غیر قانونی ہے۔ پاکستان اس حصہ کو ’آزاد کشمیر‘ کا نام دیتا ہے۔1947سے اب تک کشمیر ہندوستان اور پاکستان کے درمیا ن تنازعات اور اختلافات کا خاص سبب بنا ہوا ہے۔
اندرونی سطح پر خود ہندستانی وفاق میں کشمیر کی حیثیت کے متعلق سوال اٹھتے ہیں۔ آپ نے پچھلے سال دفعہ 370 اور371کے تحت مخصوص رعایتوں کے بارے میں ’’ہندوستانی آئین اور کام‘‘ میں اندر پڑھا ہوگا۔
اس مخصوص حیثیت نے دو طرح کے ردّعمل کو جنم دیا۔جموں و کشمیر سے باہر عوام کا ایک طبقہ یہ سوچتا ہے کہ دفعہ 370کے تحت دی گئی خصوصی حیثیت، ریاست کے ہندوستان سے مکمل الحاق میں رکاوٹ ہے۔ لہٰذا دفعہ 370کو منسوخ کر دینا چاہیے اور جموں و کشمیر کو بھی ہندوستان کی دوسری ریاستوں کی طرح ہونا چاہیے۔
ایک دوسرا طبقہ جس میں زیادہ تر کشمیری شامل ہیں یہ سوچتا ہے کہ دفعہ370 کے تحت جو خود مختاری دی گئی ہے وہ کافی نہیں ہے۔ کشمیریوں کے ایک طبقہ نے کم سے کم تین خاص خاص شکایتوں کا اظہار کیا ہے۔ اوّل تو یہ کہ وہ وعدہ کہ قبائلی حملہ کے بعد حالات کے معمول آنے کے بعد الحاق کے مسئلہ کو ریاست کے عوام کے سامنے لایا جائے گا پورا نہیں کیاگیا۔ اسی سے ’رائے شماری ‘ کے مطالبہ میں شدت پیدا ہوئی ہے۔ دوسرے یہ کہ ایک گمان یہ بھی ہے کہ دفعہ370کے تحت دیا گیا مخصوص درجہ عملی طور سے کالعدم ہے۔ اس نے ریاست کے حق میں مزید خود مختاری کے مطالبہ کو قوت دی ہے۔تیسرے یہ کہ جس طرح سے جمہوریت ہندوستان کی دوسری ریاستوں میں سرگرم عمل ہے اس طرح سے ریاست جموں اور کشمیر میں نہیں ہے۔

Pic11 Capture8
شیخ محمد عبداﷲ :(1905-1982)

جموں وکشمیر کے لیڈر؛جموں و کشمیر کی خود مختاری اور سیکولرزم کے مبلغ ؛راجہ کے خلاف عوامی تحریک کے رہنما؛ پاکستان کے غیر سیکولر کردارکی وجہ سے اس کے مخالف؛ نیشنل کانفرنس کے لیڈر؛ 1947 میں ہندوستان سے الحاق کے فوراًبعدجموں و کشمیر کے وزیر اعظم؛ ہندوستانی حکومت نے برخاست کیااور1953 سے 1964 اور اس کے بعد 1965سے 1968تک جیل میں قید رکھا۔ اندرا گاندھی سے معاہدے کے بعد 1974 میں ریاست کے وزیراعلیٰ بنے۔

Pic12 Capture8
آئیے ایک فلم دیکھیں 
روجا
 یہ ایک تامل فلم تھی جس میں ایک بھولی بھالی نوبیا ہتا بیوی روجا کی ان مشکلات کو پیش کیا گیا جن سے وہ اس وقت دو چار ہوتی ہے جب اس کے شوہر رشی کو مسلح افراد اغوا کرکے لے جاتے ہیں۔ رشی ایک رمز نویس ہے جس کو کشمیر میں دشمن کے خفیہ پیغامات کو پڑ ھنے کے لیے تعینات کیا گیا ہے۔ جیسے ہی دونوں کے درمیان پیار بڑھتا ہے شوہر کو اغوا کر لیا جاتا ہے۔ اغوا کنندگان رشی کے بدلے میں اپنے ایک لیڈر کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔
روجا کی دنیا ٹوٹ جاتی ہے اور وہ افسروں اور سیاستدانوں کے دروازوں پر دستک دیتی ہے، کیونکہ فلم ہندوستان اور پاکستان کے تنازعہ کے پس منظر میں ہے اس لیے فوری کشش رکھتی تھی۔ اس فلم کی ہندی اور دوسری ہندوستانی زبانوں میں بھی ڈبنگ ڈب کیا کی گئی۔
سال :    1992
ڈائرکٹر :   منی رتنم
اسکرین پلے :  منی رتنم
اداکار :   (ہندی ) مدھو،اروند سوامی،پنکج کپور،جاناگ راج

1948کے بعد کی سیاست

وزیر اعظم بننے کے بعد شیخ عبداﷲ نے زمینی اصلاحات کے علاوہ ایسی پالیسیاں بنائیں جن سے عام آدمی کو فائدہ پہنچا۔ لیکن کشمیر کے درجہ یا حیثیت کے سوال پر ان کے اور مرکزی حکومت کے درمیان اختلافات بڑھ رہے تھے۔ ان کو 1953میں برخاست کر دیا گیا اور کچھ سالوں تک جیل میں رکھا گیا۔ شیح عبداﷲ کے بعد آنے والی قیادت کو اتنی عوامی حمایت حاصل نہیں تھی اور وہ محض مرکزی حکومت کے سہارے قائم تھی۔ کئی انتخابات میں بدعنوانیوں اور بے ایمانی کے سنگین الزام بھی عائد کیے گئے۔
1953سے1974 کے عرصہ میں کانگریس پارٹی نے ریاست کی سیاست میں کافی اثر اورسرگرمی دکھائی۔ کانگریس کی حمایت سے نیشنل کانفرنس (شیخ عبداﷲ کے بغیر) کچھ عرصہ اقتدار میں رہی لیکن بعد میں یہ کانگریس میں ضم ہوگئی۔ اس طرح سے کانگریس نے ریاست کی حکومت پر براہ راست قبضہ کر لیا۔ اسی درمیان شیخ عبداﷲ اور ہندوستان کی حکومت کے درمیان مفاہمت کے لیے بھی کوششیں ہوئیں۔ آخر کار1974میں اندراگاندھی اور شیخ عبداﷲ کے درمیان ایک معاہدہ ہوا اور وہ ریاست کے وزیراعلیٰ بنے۔ انہوں نے نیشنل کانفرنس کو پھر سے زندہ کیا اور 1977کے اسمبلی انتخابات میں انھوں نے اکثر یت سے کامیابی کی۔ شیخ عبداﷲ کا انتقال  1982میں ہوگیا اور نیشنل کانفرنس کی قیادت ان کے بیٹے فاروق عبداﷲ کے حصہ میں آئی جو ان کی جگہ وزیر اعلیٰ بنے۔ لیکن گورنر نے ان کو جلد ہی برخاست کر دیا اور نیشنل کانفرنس کا ایک الگ ہوا حصہ کچھ عرصے تک اقتدار میں رہا۔
مرکزی حکومت کی مداخلت کی وجہ سے فاروق عبداﷲ کی حکومت کی برخاستگی نے کشمیریوں میں خاصی ناراضگی پیدا کی ۔اندرا گاندھی اور شیخ عبداﷲ کے درمیان سمجھوتہ کے بعد کشمیریوں میں جمہوری عمل پر جو بھروسہ اور یقین پیدا ہوا تھا  ا س کو کافی دھکا لگااور یہ احساس کہ مرکز صوبے کی سیاست میں دخل اندازی کر رہا ہے اور مضبوط ہوگیا، جب  1986میں کانگریس پارٹی جس کی مرکز میں حکومت تھی، نیشنل کانفرنس کے ساتھ ایک انتخابی سمجھوتہ کرنے پر راضی ہوگئی۔
Pic13 Capture8
تو نہرو نے اپنے ذاتی دوست کو اتنے طویل عرصہ کے لیے جیل میں ڈال دیا! ان دونوں کو اس بارے میں کیسا لگا ہوگا؟

بغاوت اور اس کے بعد

ایسے حالات میں 1987میں اسمبلی انتخابات کرائے۔ سرکاری نتیجوں کے مطابق کانگریس اورنیشنل کانفرنس کے گٹھ بندھن نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی اور فاروق عبداﷲ وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے پھر واپس آگئے۔ لیکن عام طور پر یہ خیال کیا جاتا تھا کہ نتیجے عوام کی رائے کا آئینہ دارنہیں ہیں اور الیکشن کا پورا عمل ہی فریب کاری تھا۔ ابتدائی 1980سے ہی
Pic14 Capture8
  بشکریہ: دی ٹائمز آف انڈیا

 عوام میں ناقص انتظام کے خلاف غم وغصہ ابھر رہا تھا۔ اب اس میں یہ احساس بھی شامل ہوگیا کہ مرکزی حکومت کی ایما پر ریاست میں جمہوری عمل کو پس پشت ڈالا جارہا ہے۔ اس نے کشمیر میں ایک سیاسی بحران پیدا کر دیا جو مسلح بغاوت کے شروع ہونے کے بعد اور زیادہ سنگین ہوگیا۔
Pic15 Capture8
کشمیر میں امن

دوسری بار منتخب حکومت کے برخاست ہوجانے پر کشمیریوں کو یقین ہوگیا کہ ہندوستان ان کو کبھی اپنی مرضی سے حکومت قائم کرنے کی اجازت نہیں دے گا

بی۔ کے۔ نہروفاروق عبداﷲ کی برخاستگی سے پہلے جموں اور کشمیر کے گورنر


1989تک ریاست ایک جنگجوتحریک کی گرفت میں آچکی تھی جو کہ ایک علاحدہ کشمیری قوم یا ملک کے نام پر اٹھائی گئی تھی۔ ان باغیوں کو پاکستان نے اخلاقی ، مالی اور 
فوجی مدد فراہم کی۔ کئی سالوں تک ریاست پر صدر راج نافذ رہا۔ انتظامیہ مکمل طور سے فوج کے ہاتھ میں تھی۔ 1990کے بعد کے سالوں میں باغیوں اور فوج کی کارروائیوں کی وجہ سے ریاست میں شدید تشدد ہوا۔ آخر کار 1996میں اسمبلی انتخابات کرائے گئے۔ ایک بار پھر فاروق عبداﷲ کی قیادت میں نیشنل کانفرنس کامیاب ہوئی لیکن جموں و کشمیر کے علاقہ کے لیے علاقائی خود مختاری کے وعدہ کے ساتھ۔ 2002میں جموں و کشمیر میں بہت صاف و شفاف الیکشن ہوئے۔ اس بار نیشنل کانفرنس اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی اور عوامی جمہوری پارٹی  (PDP)اور کانگریس کے گٹھ بندھن نے اس کی جگہ لی۔

2002 اور اس کے بعد

گٹھ بندھن کے معاہدے کے مطابق مفتی محمد سعید پہلے تین برس حکومت کے مکھیا رہے۔ اس کے بعد انڈین نیشنل کانگریس کے غلام نبی آزاد نے اقتدار سنبھالا جو جولائی 2008 میں صدر راج نافذ ہونے کے سبب اپنی مدت پوری نہ کر سکے۔ اگلے انتخابات نومبر دسمبر 2008 میں کرائے گئے 2009 میں ایک اور گٹھ بندھن حکومت (نیشنل کانفرنس اور انڈین نیشنل کانگریس سے بنی) عمر عبداللہ کی قیادت میں قائم ہوئی۔ لیکن ریاست کو لگاتار حریت کانفرنس کی جانب سے کی جانے والے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ 2014 میں پھر انتخابات ہوئے جس میں پچھلے 25 برسوں میں سب سے زیادہ ووٹ ڈالنے کا ریکارڈ قائم ہوا۔ نتیجتاً پی ڈی پی (PDP) کے مفتی محمد سعید کی قیادت میں بی جے پی سے ساتھ گٹھ بندھن حکومت تشکیل پائی۔ مفتی محمد سعید کے انتقال کے بعد ان کی بیٹی محبوبہ مفتی اپریل 2016 میں ریاست کی پہلی خاتون وزیر اعلیٰ بنی۔ محبوبہ مفتی کے دورانِ اقتدار باہری اور اندرونی تناؤ بڑھانے والی کئی دہشت گردانہ وارداتیں ہوئیں۔ جون 2018 میں بی جے پی کے ذریعہ مفتی حکومت کو دی گئی حمایت واپس لینے پر ریاست میں صدر راج نافذ کر دیا گیا۔ 5 اگست 2019 کو جموں و کشمیر ری آرگنائزیشن ایکٹ 2019 کے ذریعے دفعہ 370 کو ختم کر دیا گیا اور ریاست کی تشکیل نو کرکے دو مرکزی اختیار والے علاقے یعنی جموں و کشمیر اور لداخ بنا دیے گئے۔ 

جموں و کشمیر اور لداخ ہندوستان کے کثیر جہتی معاشرے کی زندہ مثال ہیں۔ یہاں نہ صرف مذہبی، ثقافتی لسانی، نسلی اور قبائلی تمام قسم کے اختلافات ہیں بلکہ متعدد قسم کے سیاسی امنگیں اور حوصلے ہیں جنھیں جدید ایکٹ کے ذریعہ حاصل کرنے کی خواہش کی گئی ہے۔

Pic16 Capture8

یہ سب تو حکومتوں ، افسروں ، لیڈروں اور دہشت گردوں کے بارے میں تھا...... لیکن کشمیر کے عوام کے متعلق کیا خیال ہے؟ جمہوریت میں تو ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ عوام کیا چاہتے ہیں ....... کیا ایسا نہیں ہے؟

پنجاب

 1980کی دہائی نے پنجاب کی ریاست میں بھی کئی اہم اتار چڑھاؤ دیکھے۔ پہلے تو ہندوستان کی تقسیم نے نے ریاست کی سماجی ساخت کو بگاڑا اس کے بعد ہماچل پردیش اور ہریانہ کے وجود میں آنے کے بعد یہ شکل بدل گئی۔ جب 1950کی دہائی میں پورے ملک کی لسانی بنیاد پرنئے سرے سے حد بندی کی گئی تب اسی عمل کے لیے پنجابی بولنے والی ریاست کو 1966تک انتظار کرنا پڑا۔ اکالی دل جو 1920میں سکھوں کی سیاسی پارٹی کی حیثیت سے قائم ہوئی تھی اس نے ’پنجابی صوبہ ‘بنانے کی تحریک شروع کی۔ نئی ریاست پنجاب میں اب سکھ اکثریت میں تھے۔

Pic17 Capture8
ماسٹر تاراسنگھ (1885-1967
سکھوں کے مشہور مذہبی اورسیاسی رہنما؛ شرومنی گوردوارہ پر بند ھک کمیٹی(SGPC)کے ابتدائی لیڈروں میں سے ایک ؛ اکالی تحریک کے لیڈر؛جدوجہد آزادی کے حمایتی لیکن کانگریس کی صرف مسلمانوں سے گفتگو کے مخالف؛ آزادی کے بعد علاحدہ پنجاب ریاست کی وکالت کرنے والوں میں سب سے بزرگ لیڈر۔

سیاسی پس منظر

تشکیل نو کے بعد، 1967اور پھر 1977میں اکالی اقتدار میں رہے۔ دونوں موقعوں پر مخلوط حکومت قائم ہوئی۔ اکالیوں کو احساس ہوا کہ نئی حد بندیوں کے باوجود ان کی سیاسی حیثیت اب بھی دوسروں کی محتاج ہے۔پہلے تو مرکز نے ان کی حکومت کو وسط مدت ہی میں برخاست کردیا۔ دوسرے یہ کہ ان کو ہندوؤں سے خاطر خواہ حمایت نہیں مل رہی تھی تیسرے یہ کہ دوسرے فرقوں کی طرح سکھ بھی طبقاتی اور ذات پات کے اختلافات میں گھرے ہوئے تھے۔ اکالی دل کے مقابلہ میں کانگریس کو پس ماندہ طبقہ کی، خواہ وہ ہندوہو یا سکھ، زیادہ حمایت حاصل تھی۔
اس پس منظر میں 1970کی دہائی میں اکالیوں کے ایک گروہ نے علاقہ کی سیاسی خود مختاری کا مطالبہ شروع کیا۔ ا س کا اظہار 1973میں آنندپور صاحب میں منعقدہ کانفرنس میں منظور شدہ قرار داد میں ہوا۔ آنندپور صاحب قرارداد مرکز اور ریاست کے تعلقات کو نئے ڈھنگ سے متعارف کرانے اور علاقائی خود مختاری کے حق میں تھی۔ قرار دادنے ’سکھ قوم‘ کی امنگوں کا ذکر کیا اور اس کے ساتھ ہی سکھ قوم کے ’بول بالا‘ کے حصول کو اپنا مقصد بتایا۔ اگرچہ یہ قرار داد وفاقیت کومضبوط کرنے کی درخواست تھی لیکن اس کو ایک علاحدہ سکھ ریاست کے قیام کی عرضداشت بھی سمجھا جاسکتا تھا۔
سکھ عوام پر اس قرار داد کااثر بہت محدود تھا۔ اکالی حکومت کی برخاستگی کے ایک سال بعد 1980میں اکالی دل نے پنجاب اورپڑوسی ریاستوں کے درمیان پانی کی تقسیم کے سوال پر ایک تحریک شروع کی۔ مذہبی رہنماؤں کے ایک طبقہ نے سکھوں کی جدا گانہ شناخت کا مسئلہ اٹھایا۔ انتہا پسند عناصر ہندوستان سے علاحدگی اور’خالصتان‘بنانے کی وکالت کرنے لگے۔

Pic18 Capture8
سنت ہرچندسنگھ لونگووال
(1932-1985)
سکھ مذہبی اور سیاسی لیڈر؛ چھٹی دہائی کے وسط میں اکالی لیڈر کی حیثیت سے اپنا سیاسی سفر شروع کیا؛ 1980میں اکالی دل کے صدر بنائے گئے؛ وزیراعظم راجیو گاندھی کے ساتھ اکالیوں کے خاص مطالبات پر سمجھوتہ ؛ نامعلوم سکھ نوجوان کے ہا تھوں قتل ہوئے۔

تشدد کی گردش

جلدہی تحریک کی قیادت اعتدال پسندوں کے ہاتھوں سے نکل کر انتہا پسندوں کے قبضہ میں چلی گئی اوراس نے ایک مسلح بغاوت کی شکل اختیار کرلی۔ ان جنگجوؤں نے سکھوں کی مقدس عبادت گاہ امرتسرکے ’گولڈن ٹیمپل‘ کو اپنا مرکز بنایا اور اس کو ایک فوجی قلعہ میں تبدیل کر دیا۔ جون 1984 میں ہندوستانی حکومت نے ’ آپریشن بلیواسٹار‘ جو گولڈن ٹیمپل پر فوجی کا رروائی کا نام تھا، سرا نجام دیا۔ اس کارروائی میں حکومت نے جنگجوؤں کا تو صفایا کردیا لیکن اس نے تاریخی عبادت گاہ کو کافی نقصان پہنچایا اور سکھوں کے جذبات کو بری طرح مجروح کیا۔ ہندوستان کے اندر اور بیرونی ملک میں سکھوں کے ایک بڑے طبقہ نے اس فوجی کارروائی کو اپنے عقیدہ اور مذہب پر حملہ تصور کیا ،اور اس نے جنگجو اور انتہا پسند گروہ کو تقویت دی۔
    اس کے علاوہ کچھ اورالمناک واقعات نے پنجاب کے مسئلہ کومزید الجھا دیا۔31 اکتوبر1984کو وزیر اعظم اندراگاندھی کو ان کے سکھ محافظوں نے ان کی رہائش گاہ میں قتل کر دیا۔ دونوں ہی قاتل سکھ تھے اور’ آپریشن بلیو اسٹار‘ کا انتقام لینا چاہتے تھے۔اس واقعہ نے پورے ملک کو ہلاکر رکھ دیا۔دہلی اور شمالی ہندوستان کی دوسری جگہوں پر سکھ فرقے کے خلاف فسادات پھوٹ پڑے ۔ 
Pic19 Capture8
سکھوں کے خلاف تشدد کا سلسلہ تقریباً ایک ہفتہ تک جاری رہا۔ قومی راجدھانی میں ہی دوہزار سے زیادہ سکھ ہلاک ہوگئے اور یہی علاقہ تشدد سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ۔ ملک کے دوسرے مقامات جیسے کانپور، بوکارو اور چاس میں بھی سینکڑوں سکھ مارے گئے۔ بہت سے سکھ خاندانوں کے مرد مارے گئے جس سے انھیں سخت جذباتی اذیت پہنچی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ جس بات نے سکھوں کو سب سے زیادہ تکلیف پہنچائی وہ یہ حقیقت تھی کہ حکومت نے حالات کو معمول پر لانے کے لیے کافی وقت لیا اور اس تشدد کے ذمہ داروں کو مؤثر سزانہیں دی گئی۔ 
Pic20 Capture8
Pic21 Capture8

 عورتیں پینٹنگ کو دیکھتی ہوئی جس میں اندرا گاندھی کے قتل کو ظاہر کیا گیا ہے۔

”اس بات کابھی ثبوت ہے کہ 31-10-84یا تو میٹنگ ہوئیں یا ان لوگوں سے جو حملہ کرنے کے قابل تھے رابطہ کیا گیا اور انھیں سکھوں کو قتل کرنے اور ان کی دوکان اور مکانوں کو لوٹنے کی ہدایت کی گئی۔ یہ حملے ایک مخصوص طرز پر کیے گئے تھے جن میں پولیس کا کوئی خوف شامل نہ تھا ایسا لگتا تھا جیسے ان کو یقین ہو کہ یہ کام کرتے وقت یا اس کے بعد ان کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔“
جسٹس نانا وتی کمیشن آف انکوائری رپورٹ، جلد،1.....2005

2005 میں یعنی بیس سال بعد وزیراعظم منموہن سنگھ نے پارلیمنٹ میں بولتے ہوئے ان ہلاکتوں پر افسوس جتایا اور سکھ مخالف فسادات پر قوم سے معذرت کی۔

امن کا راستہ

1984کے انتخابات میں اقتدار میں آنے کے بعد نئے وزیراعظم راجیوگاندھی نے اعتدال پسند اکالی لیڈروں سے گفتگو کا آغاز کیا ۔  جولائی 1985میں انہوں نے اس وقت 
کے اکالی دل کے صدر ہرچندسنگھ لونگووال کے ساتھ معاہدہ کیا۔ یہ معاہدہ ، جو ’راجیوگاندھی ۔ لونگووال سمجھوتہ‘ یا ’پنجاب سمجھوتہ ‘کے نام سے جانا جاتا ہے پنجاب میں حالات معمول پر لانے کے لیے ایک بڑا قدم تھا۔ اس ،پر اتفاق کیا گیا کہ چندی گڑھ پنجاب کو دے د یا جائے گا۔ہریانہ اور پنجاب کے درمیان سرحدوں کا مسئلہ ایک کمیشن کے سپرد کر دیا جائے گا اور راوی اور بیاس دریاؤں کے پانی کی تقسیم کا مسئلہ جو پنجاب، ہریانہ اور راجستھان کے درمیان تنازعہ کا سبب ہے ایک ٹریبونل کے سپرد کر دیا جائے گا۔ اس بات پر بھی معاہدہ ہوا کہ پنجاب میں مسلح بغاوت کی وجہ سے جو لوگ متاثر ہوئے ہیں ان کو معاوضہ ادا کیا جائے گا اور ان سے بہتر سلوک کیاجائے گا۔
 ساتھ ہی پنجاب سے مسلح افواج کے خصوصی اختیارات کا قانون  (Armed Forces Special Powers Act)  واپس لے لیا جائے گا۔
Pic22 Capture8
اندرا گاندھی کے قتل کے دن ٹائمز آف انڈیا نے مخصوص  مڈڈے Midday شمارہ نکالا۔
  بشکریہ: دی ٹائمز آف انڈیا
”1984میں جو کچھ ہوا وہ قومیت کے تصور اور ہمارے آئین کی روح کے منافی ہے لہٰذا مجھے سکھ قوم بلکہ پوری ہندوستانی قوم سے معذرت کرنے میں کوئی ہچکیچاہٹ نہیں ہے۔ لہٰذامیں کسی جھوٹے وقار میں نہیں پڑ رہا ہوں۔جو کچھ ہوا اس کے لیے اپنی حکومت کی طرف سے اور اس ملک کے تمام لوگوں کی طرف سے اپنے سرکو شرم سے جھکاتا ہوں۔ لیکن محترم! قوموں کے سفر میں اتار چڑھاؤ آتے ہیں۔ ماضی ہمارے ساتھ ہے۔ ہم ماضی دوبارہ نہیں لکھ سکتے ۔ لیکن انسان ہونے کے ناطے ہم تمام لوگوں کے لیے ایک بہتر مستقبل لکھنے کاعزم اور صلاحیت رکھتے ہیں۔“

وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ
 11اگست 2005کو راجیہ سبھامیں بحث کے دوران
بہر حال، امن نہ فوراً آیا اور نہ ہی آسانی سے ۔تشدد کا سلسلہ تقریباً ایک دہائی تک جاری رہا۔ جنگجوئی اور اس کو کچلنے سے جو تشددبرپا ہوا اس میں پولیس سے کچھ زیادتیاں بھی سرزد ہوئیں اور انسانی حقوق کی پامالی بھی ہوئی۔ سیاسی طور پر اکالی دل کے ٹکڑے ہوگئے ۔ مرکزی حکومت کو ریاست میں صدر راج نافذ کرنا پڑا اور انتخابی اور سیاسی عمل تعطل کا شکار ہوگیا۔ شکوک وشبہات اور تشدد کے ماحول میں سیاسی عمل کو پھر سے جاری کرنا آسان کام نہیں تھا۔ جب  1992میں پنجاب میں الیکشن ہوئے تو صرف24فی صد رائے دہندگان نے اس میں حصہ لیا۔
رفتہ رفتہ فوجوں نے جنگجو ئیت کا خاتمہ کر دیا۔ لیکن پنجاب کے عوام نے جن میں ہندو اور سکھ دونوں شامل تھے ، زبردست نقصان اٹھایا۔ 1990کی دہائی کے دوران پنجاب میں امن قائم ہوگیا۔1997 کے اسمبلی انتخابات میں اکالی دل (بادل) اوربی جے پی (BJP)کے گٹھ جوڑ نے زبردست کامیابی حاصل کی۔ فوجی آپریشن کے بعد یہ پہلا الیکشن تھا جو معمول اور ضابطوں کے مطابق ہوا۔ریاست ایک بار پھر اقتصادی ترقی اور سماجی تبدیلی جیسے مسائل کو سلجھانے کے کام میں لگ گئی اگرچہ عوام کے لیے مذہبی شناختیں اب بھی اہمیت رکھتی ہیں، سیاست آہستہ آہستہ سیکو لر خطوط پرواپس آگئی ہے۔

شمال مشرق

1980کی دہائی میں شمال مشرق میں علاقائی تمنائیں اور آرزوئیں ایک فیصلہ کن موڑ پر پہنچ گئیں۔ اس علاقہ میں سات ریاستیں ہیں جن کو’ سات بہنیں ‘بھی کہا جاتا ہے۔
 ا س علاقہ میں ملک کی آبادی کا کل4فی صد حصہ رہتا ہے اور رقبہ میں اس کا حصہ اس سے دگنا یعنی 8فی صدی ہے۔22کلومیٹر کا ایک چھوٹا سا گلیارا اس علاقے کو باقی ملک سے جوڑتا ہے۔ ورنہ اس کی سرحدیں چین،میانمار اور بنگلہ دیش سے ملی ہوئی ہیں اور یہ جنوب مشرقی ایشیا کے لیے ہندوستان کے دروازہ (Gateway) کا کام کرتا ہے۔
1947کے بعدسے اس علاقہ میں کافی تبدیلیاں رونماہوئی۔ تری پورہ، منی پور اور میگھالیہ کی کھاسی پہاڑیاں راجاؤں کی ریاستیں تھیں جو آزادی کے بعد ہندوستان میں ضم 
ہوگئیں۔ شمال مشرق کا پورا علاقہ اہم سیاسی تنظیم نو سے گزرچکا ہے۔1963میں ناگالینڈ،1972 میں منی پور، تری پورہ اورمیگھالیہ، اور1987میں میزورم اور اروناچل پردیش الگ الگ ریاستیں بن گئیں ۔1947کے بٹوارہ نے شمال مشرق کے علاقہ کو ایک زمیں بند علاقہ (Land Locked Region) بنادیا تھا جس سے اس کی معیشت خاصی متاثر ہوئی۔ ہندوستان کے بقیہ علاقوں سے کٹ جانے کی وجہ سے بھی یہ علاقہ ترقی کے میدان میں نظر انداز کیا گیا اور اس کی سیاست بھی محدود رہی۔ اسی کے ساتھ ساتھ اس علاقہ کی زیادہ تر ریاستوں میں آبادی کا بھی الٹ پھیرہوا جس کی وجہ پڑوسی ملکوں اور ریاستوں سے مہاجرین کی آمد تھی۔
اس علاقہ کی علاحدگی، اس کی الجھی ہوئی سماجی خصوصیات اور ملک کے دوسرے علاقوں کے مقابلے میں اس کی پسماندگی نے مل کر شمال مشرق کی مختلف ریاستوں کے مطالبات کا ایک پیچیدہ مجموعہ پیش کیا ہے۔ ایک طویل بین الا قوامی سرحد اور ملک کے بقیہ حصہ سے کمزور رابطہ نے یہاں کی سیاست کی نازک حالت میں مزید اضافہ کیا۔ شمال مشرق کی سیاست میں تین مسائل زیادہ نمایاں ہیں۔ خود مختاری کا مطالبہ، علاحدگی پسند تحریکیں اور باہر کے لوگوں کی مخالفت ۔ 1970کی دہائی میں پہلے مسئلہ پر اُٹھائے گئے اقدامات نے، 1980کی دہائی میں دوسرے اور تیسرے مسئلہ پر کچھ ڈرامائی واقعات کے لیے اسٹیج تیار کیا۔
Pic23 Capture8
شمال۔مشرقی ہندستان
نوٹ: یہ نقشہ پیمانے کے مطابق تیار نہیں  کیا گیا ہے اور اسے ہندوستان کی بیرونی سرحدوں کے لیے مستندنہ مانا جائے۔
Pic24 Capture8
میری دوست چون نے کہا کہ دہلی کے لوگ اپنے ملک کے شمال مشرق کے مقابلے میں یوروپ کے نقشے کو زیادہ اچھی طرح سے جانتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ وہ صحیح کہہ رہی ہے، کم سے کم میرے اسکول کے ساتھیوں کے بارے میں۔
Pic25 Capture8
لال ڈینگا (1937-1990)
میزونیشنل فرنٹ کے بانی اور رہنما؛ 1959کے قحط کے بعد باغی ہو گئے؛ دودہائیوں تک ہندوستان کے خلاف ایک مسلح جدوجہد کی قیادت کی؛ 1986 میں وزیراعظم راجیوگاندھی کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط  کیے؛ ۔ نئی ریاست میزورم کے وزیر اعلیٰ بنے۔

خود مختاری کے مطالبات

آزادی کے وقت منی پورا اور تری پورہ کے علاوہ یہ پورا علاقہ آسام کی ریاست  تھا ۔ خودمختاری کے مطالبات اس وقت سامنے آئے جب غیر آسامیوں نے یہ محسوس کیا کہ آسام حکومت ان پرآسامی زبان لاد رہی ہے۔ اس کے خلاف پوری ریاست میں احتجاج اور ہنگامے ہوئے۔ بڑے قبائلی فرقوں کے لیڈر آسام سے الگ ہونا چاہتے تھے۔
انھوں نے مشرقی ہندوستان قبائلی یونین (Eastern India Tribal Union) کے نام سے ایک تنظیم بنائی جو 1960میں کل جماعتی پہاڑی رہنما کانفرنس (All Party Hill Leaders' Conference)   میں تبدیل ہوگئی، اور یہ پہلی تنظیم سے زیادہ وسیع اورجامع تنظیم تھی۔
 اس نے آسام سے الگ ہوکر ایک قبائلی ریاست کی تشکیل کا مطالبہ کیا۔ لیکن آخر میں آسام سے الگ کر کے ایک نہیں کئی قبائلی ریاستیں بنائی گئیں۔ مرکزی حکومت نے مختلف وقفوں میں آسام سے الگ کر کے میگھالیہ ، میزورم اور اروناچل پردیش ریاستوں کی تشکیل کی ۔ تری پورہ اور منی پور کو بھی ریاست کا درجہ دے دیا گیا۔
شمال مشرق کی نئی تشکیل  1972میں مکمل ہوگئی لیکن علاقے میں مختاری کے مطالبوں کا خاتمہ نہیں ہوا۔ مثال کے طور پر آسام میں بوڈو ، کربی اور دماسا فرقے علاحدہ ریاست کی خواہش رکھتے تھے۔ انھوں نے اس مقصد کے حصول کے لیے رائے عامہ کو ہموار کیا ، عوامی تحریکیں چلائیں اور مسلح بغاوت کی شکل بھی اختیار کی ۔ اکثر ایک علاقہ پرایک سے زیادہ کئی کمیونٹی دعویٰ کرتی تھیں ۔ یہ بھی ممکن نہیں تھا کہ چھوٹی اور پھر اس سے بھی چھوٹی ریاستیں بنتی چلی جائیں ۔ لہٰذا ہمارے وفاقی ڈھانچہ کے کچھ اور طریقہ اپنائے گئے جن سے ان کے خود مختاری کے مطالبہ کی تسکین بھی ہو جائے اور وہ آسام کا حصہ بھی رہیں۔ کرلی اور دما ساکو ڈسڑکٹ کونسلوں میں خود مختاری دی گئی اور بوڈو کو بھی حال ہی میں خود مختار کونسل دے دی گئی ہے۔

علا حدگی پسند تحریکیں 

خود مختاری کے مطالبات پر غور کرنا زیادہ آسان تھا کیونکہ ان کو سلجھانے اور اختلافات کو قبول کرنے میں دستور میں دئیے گئے بعض اصولوں کوعمل میں لایا جاسکتا تھا۔ لیکن بعض گروپ نے ایک الگ ملک کا مطالبہ کیا اور اس مطالبہ کی بنیاد وقتی غصہ یا احساس محرومی نہیں بلکہ مستقل طور پر ایک اصولی حقیقت تھی۔ ہندوستان کی لیڈر شپ نے شمال مشرق کی کم سے کم دو ریاستوں میں ایک طویل عرصہ تک اس مسئلہ کا سامنا کیا ۔ ان دونوں معاملات کا موازنہ ہمارے لیے جمہوری سیاست کا ایک سبق ہے۔
آزادی کے بعد میزو پہاڑی علاقے کوآسام کے اندر ہی ایک خود مختار ضلع کا درجہ دے دیا گیا تھا۔ کچھ میزو لوگوں کا خیال تھا کہ کیونکہ وہ کبھی برطانوی حکومت کے دائرہ اختیار میں نہیں رہے لہذا وہ ہندستانی وفاق سے کوئی تعلق نہیں رکھتے ۔ لیکن علاحدگی کی تحریک کو عوامی حمایت اس وقت حاصل ہوئی جب 1959میں میزو پہاڑیوں کے سنگین قحط کے دوران آسام حکومت مناسب اقدامات کرنے میں ناکام رہی۔ میزولوگوں نے غصہ میں لال ڈینگا کی قیادت میں میزو نیشنل فرنٹ (MNF)تشکیل دیا۔
1966میں میزو نیشنل فرنٹ (MNF) نے آزادی کے لیے مسلح تحریک شروع کر دی۔ اس طرح ہندوستانی فوج اور میزوباغیوں کے درمیان دو دہائی تک لمبی جنگ
 شروع ہوگئی۔ میزو نیشنل فرنٹ (MNF) نے ایک گو ریلا جنگ لڑی۔ اس کو پاکستان کی حمایت حاصل ہوئی ۔ اس وقت کا مشرقی پاکستان ان کی پناہ گاہ تھا۔ اس بغاوت کو کچلنے کے لیے ہندوستانی فوج نے سخت اقدامات کا ایک سلسلہ شروع کیا جس کا شکار عام آدمی بھی ہوئے۔ایک موقع پر تو ہندوستان کی فضائی فوج کا استعمال بھی کیا گیا۔ ان اقدامات نے عوام میں اور زیادہ غصہ اور اجنبیت کا احساس پیدا کردیا۔
اس دو دہائی کی بغاوت کے خاتمہ پر ہر فریق شکست خوردہ تھا -یہیں پر دونوں طرف کی قیادت کی سیاسی سوجھ بوجھ اور پختگی سے ایک اختلاف پیدا ہوا۔ لال ڈینگا پاکستان میں جلا وطنی سے واپس آگئے اور ہندوستانی حکومت سے گفتگو شروع کی۔ راجیوگاندھی نے اس گفتگو کو ایک مثبت انجام تک پہنچایا۔ 1986میں راجیو گاندھی اور لال ڈینگا کے درمیان ایک امن معاہدہ پر دستخط ہوئے۔ اس معاہدہ کی رو سے میز ورم کو خصوصی اختیارا ت کے ساتھ ایک مکمل ریاست تسلیم کر لیا گیا اورمیزو نیشنل فرنٹ (MNF)نے علا حدگی کی جدوجہد ختم کرنے کا وعدہ کیا۔ لال ڈینگا وزیر اعلیٰ بنائے گئے۔ یہ سمجھوتہ دراصل میزورم کی تاریخ میں ایک فیصلہ کن موڑ تھا۔ آج اس علاقہ میں میزورم سب سے زیادہ پر امن جگہ ہے اور تعلیم و ترقی کی راہ پرتیز رفتاری سے گامزن ہے۔
ناگالینڈ کی کہانی بھی میزورم کی طرح ہی ہے لیکن فرق یہ ہے کہ یہ بہت پہلے شروع ہوئی اور ابھی تک خوش گوار انجام تک نہیں پہنچ پائی ہے۔ 1951میں انگامی زافو فیزو کی قیادت میں ناگاؤں کے ایک طبقے نے ہندوستان سے آزادی 
Pic26 Capture8
Pic27 Capture8
میری سمجھ میں یہ ’اندر والا اور باہر والا‘ کی بات سمجھ میں نہیں آتی۔ کیا یہ ریل کے ڈبّے کی طرح ہے۔ جو پہلے آکر بیٹھ گیا وہ بعد میں آنے والے کو ’ باہر والا ‘ سمجھتا ہے۔

Pic28 Capture8
 انگامی زاپو فز (1904-1990)
 آزاد ناگالینڈ کی تحریک کے لیڈر؛ناگا نیشنل کونسل کے صدر ؛ ہندوستانی ریاست کے خلاف مسلح جدوجہد شروع کی؛ زمین دوز ہوئے ؛ پاکستان میں قیام کیا اوراپنی زندگی کے آخری تیس سال برطانیہ میں جلاوطنی کی حالت میں گزارے۔
Pic29 Capture8
 میزو نیشنل فرنٹکے جنگ کے خاتمہ کا اعلان
کا اعلان کر دیا۔ فیزو نے گفت وشنید کے کئی دعوت ناموں کو رد کر دیا۔ ناگا نیشنل کو نسل نے آزادی اور اقتدار کے لیے ایک مسلح جدوجہدشروع کر دی۔ پر تشدد بغاوت کے کچھ عرصہ بعد ناگا باغیوں کے ایک طبقہ نے ہندوستانی حکومت کے ساتھ ایک معاہدہ پر دستخط کیے ۔ لیکن یہ بات دوسرے باغیوں کے لیے قابل قبول نہیں ہوئی۔ ناگا لینڈ کا مسئلہ اب بھی اپنے آخری حل کی تلاش میں ہے۔

’باہروالوں ‘کے خلاف تحریکیں

شمال مشرق میں آنے والے تارکین وطن کی بھاری تعداد نے ایک خاص قسم کا مسئلہ پیدا کر دیا جس نے ’ مقامی ‘ آبادی کو ان ’ باہر‘ والوں یا غیروں کے خلاف آمنے سامنے کھڑا کر دیا۔ بعد میں آنے والوں( خواہ وہ ہندوستان کے اندرسے ہوں یا ہندوستان کے باہر سے آئے ہوں) کو زمین جیسے علاقے کے کمیاب وسائل پر نا جائز قابض سمجھا جاتا تھا ساتھ ہی ساتھ سیاسی طاقت اور روزگار کے مواقع میں بھی وہ ایک باصلاحیت مد مقابل تھے ۔ شمال مشرق کی کئی ریاستوں میں اس مسئلہ نے سیاسی رنگ اختیار کیا اور بعض اوقات تشدد کا بھی۔
1979سے 1985تک آسام تحریک ’باہر والوں‘ کے خلاف تحریکوں کی ایک بہترین مثال ہے۔ آسامیوں کو شبہ تھا کہ بنگلہ دیشی مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد غیر قانونی طور پروہاںپر آکر بس گئی ہے۔ ان کو خطرہ تھا کہ اگر ان باہر کے شہریوں کی شناخت نہ کی گئی اور ان کو نکالانہ گیا تو یہ اصل آسامی آبادی کو اقلیت میں کر دیں گے۔ اس کے علاوہ کچھ اقتصادی مسائل بھی تھے۔ کوئلہ ، چائے اور تیل جیسے قدرتی و سائل کی موجودگی کے باوجود آسام میں بے روزگاری اور غریبی تھی۔ یہ احساس بھی عام تھا کہ ان وسائل کو ریاست سے باہر لے جایا جار ہا ہے اور عوام کو ان سے کوئی مناسب فائدہ نہیں مل رہا ہے۔
1979میں آل آسام اسٹوڈنٹس یونین (AASU)نے جو کسی بھی سیاسی پارٹی سے وابستہ نہیں تھی، غیر ملکیوں کے خلاف ایک تحریک شروع کی۔ یہ تحریک غیر قانونی انتقال آبادی، بنگالی یا دوسرے باہر والوں کے غلبہ اور ووٹر رجسٹر میں غلط طریقے سے لاکھوں مہاجروں کے نام درج ہونے کے خلاف تھی۔ تحریک کا مطالبہ یہ تھا کہ وہ تمام لوگ جو 1951کے بعد ریاست میں دخل ہوئے ہیں
Pic30 Capture8
اور ایک نظر آخر میں چار صوبوں میں دہشت گردوں کی آج کل نقل و حرکت
خبروں کے آخر میں ، چار علاقوں۔۔۔۔۔۔پنجاب، دارجلنگ، دہلی اور میزورم میں دہشت گردوں کی کاروائی پر ایک نظر
بشکریہ: رام بابو ماتھر، ہندوستان ٹائمز کی کارٹون بک کے لیے
واپس بھیج دئیے جائیں۔ اس احتجاج نے کئی منفرد طریقے اپنائے اور آسام کے تمام طبقوں کو سرگرم عمل کرکے پوری ریاست میں ان کی حمایت حاصل کرلی۔ کچھ افسوس ناک اور پر تشدد واقعات بھی رونما ہوئے جن میں جان ومال کا نقصان ہوا۔ اس تحریک نے ریلوں کی آمدوفت کو روکا اور آسام سے بہار میں واقع تیل صاف کرنے کے کارخانوں میں جانے والے تیل پر بھی پابندی لگادی۔
آخر کار چھ سال کی کش مکش اور اضطراب کے بعد راجیوگاندھی کی حکومت نے آل آسام اسٹوڈینٹس یونین(AASU) سے گفتگو شروع کی جس کا نیتجہ 1985میں ایک سمجھوتہ کی صورت میں سامنے آیا۔ اس سمجھوتہ کے مطابق وہ تمام باہر والے جو بنگلہ دیش کی جنگ کے دوران یا بعد میں آکر بسے، شناخت ہونے کے بعد نکال دئیے جائیں گے۔
Pic31 Capture8
 کازی لیندپ ڈورجی
کھانگسرپا  : (1904)
سکم کی جمہوری تحریک کے لیڈر؛سکم پرجا منڈل کے بانی اوربعدمیں سکم ریاستی کانگریس کے لیڈر؛1962 میں سکم نیشنل کانگریس کی بنیادڈالی؛انتخابات میں کامیابی کے بعدسکم کی ہندوستان سے  انضمام کی مہم چلائی؛ انضمام بعد سکم کانگریس،انڈین نیشنل کانگریس میں ضم ہوگئی۔

سکم کا انضمام

آزادی کے وقت سکم ہندوستان کے ’زیر انتظام و نگر انی‘ تھا۔ ا س کا مطلب تھا کہ اگرچہ یہ مکمل طور پر ہندوستان کا حصہ نہیں تھا لیکن ایک مکمل خود مختار ملک بھی نہیں تھا۔ سکم کے دفاعی اور خارجی معاملات ہندوستان کی زیرنگرانی تھے لیکن داخلی انتظام وہاں کے بادشاہ چوگیال کے ہاتھ میں تھا ۔ یہ صورت حال مشکل میں پڑ گئی کیونکہ چوگیال عوام کی جمہوری امنگوں اور آرزوؤں کا ساتھ نہ دے سکا۔ سکم کی آبادی کا کثیر حصہ نیپالی ہے۔ لیکن چو گیال کے طرز عمل سے لوگوں کو ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ ایک نئی اقلیت لیپچا بھوٹیا کے کچھ منتخب لوگوں کی حکومت کو دوام بخشنا چاہتا ہے ۔ دونوں ہی فرقوں کے چوگیال مخالف لیڈروں نے ہندوستان کی حکومت سے مدد مانگی جو ان کو حاصل ہوئی۔

1974میں سکم اسمبلی کے پہلے جمہوری انتخابات کرائے گئے جس میں سکم کانگریس کو بھاری اکثریت حاصل ہوئی۔ سکم کانگریس ہندوستان سے زیادہ سے زیادہ تال میل چاہتی تھی۔ اسمبلی نے پہلے تو ایک الحاقی ریاست کا درجہ حاصل کرنے کی کوشش کی اور بعد میں اپریل 1975میں ہندوستان سے مکمل انضمام کی قرارداد پاس کی۔ اس بارے میں ایک بہت جلد بازی میں ریفرنڈم کرایا گیا تاکہ اسمبلی کی درخواست کو عوام کی تائید حاصل ہوجائے۔ہندوستانی پارلیمنٹ نے یہ درخواست فوراً ہی منظور کر لی اور سکم ہندستانی وفاق کا بائیسواں صوبہ بن گیا۔ چو گیال نے یہ انضمام قبول نہیں کیا اور اس کے حمایتیوں اور ساتھیوں نے ہندوستانی حکومت پرطاقت کے استعمال اور فریب کا الزام لگایا ۔ لیکن اس انضمام کو عوامی حمایت حاصل تھی اور یہ مسئلہ کبھی بھی سکم کی سیاست میں پھوٹ کا سبب نہ بن سکا۔

 اس تحریک کی کامیابی کے بعد آل آسام اسٹوڈینٹس یونین(AASU)اور آسام گن سنگرام پر یشد ایک علاقائی سیاسی پارٹی کی صورت میں تبدیل ہوگئے اور ان کا نیا نام آسام گن پر یشد (AGP) ہوا۔ 1985میں یہ اس وعدہ کے ساتھ برسر اقتدار آئی کہ آسام کو باہر والوں کے مسئلہ سے نجات دلائیں گے اور ایک سنہرا آسام(Assam Golden)  تعمیر کریں گے۔
آسام سمجھوتہ علاقہ میں امن لایا اور اس نے سیاست کا رخ بدل دیا لیکن یہ بھی مہاجرین کا مسئلہ حل کرنے میں ناکام رہا۔ آسام کی سیاست میں ’ باہر والوں ‘ کا مسئلہ اب بھی ایک زندہ مسئلہ ہے اور یہی حال شمال مشرق کے کچھ اور علاقوں کا بھی ہے۔ تری پورہ میں یہ مسئلہ کافی نازک ہوگیا ہے کیوں کہ اصل مقامی باشندے اقلیت میں آگئے ہیں۔اروناچل پردیش اور میزورم میں مقامی آبادی کی چکماپناہ گزینوں کے خلاف دشمنی میں یہی احساس کارفرما ہے۔

قومی یکجہتی اور مصالحتیں

ان واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ آزادی کے ساٹھ سال بعد بھی قومی یک جہتی کے کئی مسائل ابھی مکمل طور پر حل نہیں ہوئے ہیں۔ ہم نے یہ بھی دیکھا کہ ریاست کے درجہ کے حصول اور معاشی فروغ سے لے کرخود مختاری اور علاحدگی کے مطالبہ تک علاقائیت یا علاقہ پرستی کئی رنگ میں ابھری۔1980کے بعد کے زمانے میں ان تمام کشیدگیوں کو مزید تقویت ملی اور اس نے سوسائٹی کے مختلف طبقوں کے مطالبات کو اپنے اندر سمونے اور مصالحت کرنے کی جمہوری سیاست کی طاقت کا امتحان لیا۔ ان مثالوں سے ہمیں کیا سبق حاصل ہوتے ہیں؟
سب سے پہلا اور بنیادی سبق تو یہ ہے کہ علاقائی امنگیں جمہوری سیاست کا مضبوط حصہ ہیں۔ علاقائی مسائل کا اظہار کوئی اجنبی عنصر نہیں ہے۔ حتیٰ کہ چھوٹے چھوٹے ملکوں مثلاًبر طانیہ، اسکاٹ لینڈ، ویلز اور شمالی آئر لینڈ میں علاقائی امنگیں موجود ہیں۔ اسپین میں باسک لوگ علاحدگی کی تحریک چلا رہے ہیں اور سری لنکا میں تمل لوگ۔ ہندوستان جیسی بڑی اور متنوع جمہوریت کو علاقائیت کے مسئلہ پرلگاتار توجہ دیتے رہنا چاہیے۔ قومی تعمیر ایک مسلسل عمل کا نام ہے۔
دوسرا سبق یہ ہے کہ علاقائی امنگوں کا مقابلہ جمہوری طریقہ سے کرنا چاہیے نہ کہ زور اور زبردستی سے۔ 1980کی دہائی کی صورت حال پر غور کیجیے۔ پنجاب میں مسلح بغاوت کے آثار پیدا ہوچکے تھے، شمال مشرق کے مسائل جاری تھے، آسام میں طالب علم احتجاج کر رہے تھے، کشمیر میں زبر دست ہنگامہ آرائی ہورہی تھی۔ بجائے اس کے کہ ان کو انتظامی مسئلہ قرار دیاجاتا ہندوستان کی حکومت نے ان مسائل کا سامنا علاقائی تحریکوں کے ساتھ گفتگو کرکے حل کیا۔ اس نے ایک سمجھوتہ کا ماحول پیدا کیا اور اسی طرح بہت سے علاقوں میں تناؤ کم ہوگیا۔ میزورم کی مثال نے یہ دکھا دیا کہ سیاسی سمجھوتے علاحدگی پسندکے مسائل کوکس طرح کامیابی سے حل کر سکتے ہیں۔
تیسرا سبق اقتدار میں شرکت کی اہمیت سے متعلق ہے محض ظاہری طور سے ایک رسمی جمہوری ڈھانچہ ہونا کافی نہیں ہوتا ہے بلکہ اس کے علاوہ علاقہ کے گروہ اور پارٹیوں کو بھی ریاستی سطح پر طاقت میں حصہ ملنا چاہیے۔ اسی طرح سے یہ کہنا بھی کافی نہیں ہے کہ ریاستیں یا علاقے اپنے اپنے معاملات میں خود مختار ہیں۔ علاقے مل کر ایک قوم بناتے ہیں۔ لہٰذا علاقوں کو بھی قوم کی قسمت کا فیصلہ کرنے کا اختیار ہونا چاہیے ۔ اگر قومی سطح پر کیے گئے فیصلوں میں علاقوں کو اپنا حصہ نہیں ملتا تو  نا انصافی اورغیریت کا احساس فروغ پانے لگتا ہے۔

Pic32 Capture8
 راجیو گاندھی 
(1944-1991)

  1984 سے1989تک ہندوستان کے وزیراعظم؛اندراگاندھی کے بیٹے؛  1980کے بعد عملی سیاست میں قدم رکھا؛ پنجاب اور میزورم کے جنگجوؤں اورآسام کی طلبا کی یونین کے ساتھ سمجھوتہ کیا؛ آزاد معیشت اور کمپیوٹر ٹکنا لوجی پر زور دیا؛ سری لنکا حکومت کی درخواست پر وہاں فوجی دستہ بھیجا تاکہ تمل سنہالی تنازعہ کو سلجھانے میں مدد ملے؛  LTTEکی ایک مبینہ خود کش حملہ آور نے قتل کر دیا۔

چوتھا سبق یہ ہے کہ اقتصادی فروغ میں علاقوں کے درمیان توازن نہ ہونے کی وجہ سے سب علاقوں کو جانبداری کا شک ہونے لگتا ہے۔ ہندوستان کی ترقی کے تجربے میں علاقوں کے درمیان عدم توازن ایک حقیقت ہے۔ یہ ایک فطری بات ہے کہ پسماندہ ریاستیں یا کچھ ریاستوں کے پسماندہ علاقے یہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کی پسماندگی کے مسئلہ کو اوّلیت ملنی چاہیے نیز یہ بھی کہ ہندوستانی حکومت کی پالیسیاں ہی اس پسماندگی کے لیے ذمہ دار ہیں۔ اگر کچھ ریاستیں غریب رہتی ہیں اور کچھ میں تیزی سے ترقی ہوتی ہے تو یہ علاقائی عدم توازن اور بین العلاقائی ہجرت کے لیے راہ ہموار کرتے ہیں۔
آخر میں یہ کہ تمام معاملات ہمارے دستور بنانے والوں کی دور اندیشی کو ظاہر کرتے ہیں کہ انھوں نے اختلافات کا سامنا کرنے کے لیے کیا ہدایات دیں۔ ہندوستان نے جو وفاقی سسٹم اپنایا ہے اس میں بہت لچیلا پن ہے۔ زیادہ تر ریاستوں کے اختیارات ایک جیسے ہی ہیں لیکن کچھ کو جیسے جموں وکشمیر اور شمال مشرق کی ریاستوں کو خصوصی درجہ حاصل ہے۔ ہندوستان کے چھٹے شیڈول میں مختلف قبائل کو اپنی ثقافت اور روایتی قوانین کو بر قرا ر رکھنے کی مکمل آزادی ہے۔ ان رعایتوں کا شمال مشرق کے بہت ہی پیچیدہ سیاسی مسئلے کو حل کرنے میں اہم کردار رہا ہے۔
ہندوستان جیسے مسائل رکھنے والے اور دوسرے ممالک اور ہندوستان میں ایک فرق یہ ہے کہ ہندوستان کا دستوری ڈھانچہ لچکدار، نرم اور صلح جوہے۔ لہٰذا علاقائی امنگوں کو علاحدگی پسندی کی طرف جانے کے حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی یہی وجہ ہے کہ ہندوستانی سیاسی عمل علاقائیت کو جمہوری سیاست کا ایک جزولا زم ماننے میں کامیاب ہوگیا ہے۔

گواکی آزادی 

حالاں کہ 1947 میں ہندوستان میں برطانوی سلطنت کا خاتمہ ہوچکا تھا لیکن گوا، دیو اور دمن علاقے سے پر تگالیوں نے نکلنے سے انکار کر دیا۔اس علاقے میں ان کا قبضہ سولہویں صدی سے تھا۔ اپنے طویل دور حکمرانی میں پرتگالیوں نے گوا کے عوام کو دبا کر رکھا، ان کے شہری حقوق ضبط کیے اور جبری تبدیلی مذہب کا سلسلہ جاری کیا۔ آزادی کے بعد ہندوستانی حکومت نے بہت صبر کے ساتھ پر تگالی حکومت کو سمجھایا کہ وہ اپنا قبضہ چھوڑ دیں۔ اس کے علاوہ خود گوا میں آزادی کے لیے ایک عوامی تحریک جاری تھی۔ ان کو مہاراشٹر میں ہونے والی سماج وادی ستیہ گرہوں سے بھی قوت ملی۔ آخر دسمبر1961میں ہندوستانی حکومت نے گوا کی آزادی کے لیے فوج بھیجی جس نے محض دو دن میں یہ کام مکمل کر لیا اور گوا، دیو اور دمن مرکزی علاقے کا حصہ بن گئے۔
لیکن بہت جلدی ایک پیچیدگی پیدا ہوگئی۔ مہاراشٹر وادی گومناتک پارٹی(MGP)کی قیادت میں ایک طبقہ نے یہ مطالبہ کیا کہ چوں کہ گوا ایک مراٹھی زبان بولنے والا علاقہ ہے لہٰذا اس کو مہاراشٹر میں شامل کر نا چاہیے۔ لیکن گواکے زیادہ تر لوگ اپنی الگ شناخت ، کلچر اور خصوصاً کو نکنی زبان کو برقرار اور محفوظ رکھنا چاہتے تھے۔ ایسے لوگ یونائیٹڈ گوون پارٹی (UGP)کے ساتھ تھے۔ اس مسئلہ کے حل کے لیے جنوری1967میں مرکزی حکومت نے گوا میں ایک رائے شماری کرائی تاکہ عوام خود فیصلہ کریں کہ وہ مہاراشٹر میں ضم ہونا چاہتے ہیں یا ایک علاحدہ ریاست میں رہنا چاہتے ہیں۔ آزاد ہندوستان میں یہ پہلا موقع تھا جب کسی مسئلہ پر لوگوں کی رائے جاننے کے لیے ایک ریفر نڈم سے ملتا جلتا طریقۂ کار استعمال کیا گیا تھا۔ اکثریت نے مہاراشٹر سے الگ رہنے کا فیصلہ کیا۔ لہٰذا گوا کی حیثیت مرکزی علاقے ہی کی رہی۔ آخر کار1987میں گوا ہندستانی وفاق کا حصہ بن گیا۔

Pic33 Capture8

مشقیں

1۔  مندرجہ ذیل کے جوڑ ملائیے:

                                                      B                                                                              A

    علاقائی آرزوؤں کی نوعیت                                          ریاستیں

(a)سماجی اورمذہبی شناخت جس نے ریاست کے لیے راہ ہموار کی                                                                                               i .ناگالینڈ/ میزورم
(b)لسانی شناخت اور مرکز کے ساتھ کشیدگی                                            ii.جھارکھنڈ/ چھتیس  گڑھ
(c)علاقائی عدم توازن جو ریاست کے درجہ کے مطالبہ کے لیے راہ دکھائے
iii.  پنجاب
(d)قبائلی شناخت کی بنا پر علاحدگی کے مطالبے                                          iv .  تامل ناڈو

2.شمال مشرق کے عوام کی امنگوں کا اظہار کئی طریقوں سے ہوا۔ اس میں باہر والوں کے خلاف تحریک ، زیادہ خود مختاری کے لیے تحریک اور بالکل الگ قوم کے وجود کی تحریک ۔ شمال مشرق کے نقشے میں الگ الگ تین رنگوں کے ذریعے ان علاقوں کو دکھائیے جہاں یہ تحریکیں زیادہ نمایاں طور پر عمل پذیر ہوئیں۔
3. پنجاب سمجھوتہ کی خاص خاص باتیں کیا تھیں؟ اور وہ کس طرح سے پنجاب اور اس کی پڑوسی ریاستوں کے درمیان کشیدگی کی بنیاد بن سکتی ہیں؟
4.  ’آنندپور صاحب قرار داد ‘  متنازع کیوں  ہوئی؟
5. ریاست جموں اور کشمیر کی داخلی تقسیم کو بیان کیجیے اور بتائیے کہ یہ کس طرح اس علاقہ میں ایک کثیر علاقائی آرزؤں کی طرف لے جاتی ہے؟
6.  کشمیر کی علاقائی خود مختاری کے سلسلہ میں مختلف موقف کیا ہیں؟ آپ کے خیال میں ان میں سے کون سے صحیح ٹھہرائے جاسکتے ہیں؟ اپنے جو اب کی وجوہات بیان کیجیے۔
7. آسام تحریک ثقافت کے فخر اور اقتصادی پسماندگی کا مجموعہ تھی- واضح کیجیے۔
8.  تمام علاقائی تحریکیں لازمی طور پر علاحدگی کے مطالبوں کی طرف لے جاتی ہیں؟ اس باب میں سے مثالیں دے کر واضح کیجیے۔
9.  مختلف جگہوں سے علاقائی مطالبات دراصل ہندوستان کے ’ اختلافات میں یکجہتی ‘ کی بہترین مثال ہیں۔ کیا آپ متفق ہیں؟ اسباب بیان کیجیے۔
10. نیچے دئیے گئے اقتباس کو پڑھیے اور سوالوں کے جواب دیجیے:
ہزار یکا کا ایک گیت... اتحاد اوریک جہتی کے موضوع کو اجاگر کرتا ہے۔’’ اتحاد پر مبنی ہندوستان کے شمال مشرق کی سات ریاستیں دراصل سات بہنیں ہیں۔ جوایک ہی ماں کی اولاد ہیں... میگھالیہ اپنے راستے پر چلی... اروناچل بھی الگ ہوگئی اور آسام کے دروازے پر میزورم کا ظہور ہوا ایک دولھا کی طرح جو ایک اور بیٹی سےبیاہ کرنا چاہتا ہے‘‘....... یہ گیت اس عزم کے ساتھ ختم ہوتا ہے کہ آج کے آسام میں جو چھوٹی چھوٹی قومیتیں باقی رہ گئی ہیں ان سے اتحاد قائم رہے گا  ---- ’ کربی اور مسنگ ہمارے بہت عزیز بھائی بہن ہیں‘... سنجیب برواہ 

(a)   شاعر کس اتحاد کی بات کر رہا ہے؟

(b)    اس وقت کی ریاست آسام سے نکال کر شمال مشرق کی کچھ ریاستیں کیوں بنائی گئیں؟

(c)   کیا آپ کے خیال میں اتحاد و یگانگت کا یہی تصور ہندوستان کے دوسرے علاقوں پر بھی نافذ ہوسکتا ہے؟کیوں؟