Skip to content





31

اس با ب میں

 اس آخری باب میں ہم پچھلے بیس سال کی ہندوستانی سیاست کا الگ الگ حصوں میں جائزہ لیں گے۔ یہ واقعات خاصے پیچیدہ ہیں۔ اس لیے کہ بہت مختلف قسم کے عناصر ایک ساتھ جمع ہوگئے جس کی وجہ سے اس زمانے میں غیر متوقع نتائج سامنے آئے ۔ نئے زمانے کی سیاست کے لیے کوئی پیش گوئی کرنا یا ممکن نہیں تھا۔ اس کو سمجھنا اب بھی مشکل ہے۔ یہ واقعات متنازعہ بھی ہیں۔ ان میں بہت ہی گہرے آپسی جھگڑے بھی شامل ہیں اور ابھی ہم ان واقعات کے بہت نزدیک ہیں۔ پھر بھی ہم اس زمانے کی سیاست کے بارے میں کچھ بنیادی سوالات اٹھا سکتے ہیں۔
  • ہماری جمہوریت میں گٹھ بندھن کی سیاست کے ابھرنے سے کیا اثرات ظاہر ہوسکتے ہیں؟
  • منڈ لائزیشن آخر کس بارے میں ہے؟ یہ سیاسی نمائندگی میں کیا تبدیلیاں لاسکتا ہے؟
  • سیاسی سرگرمیوں کی نوعیت میں رام جنم بھومی تحریک اور ایودھیا میں انہدامی کار روائی اپنے پیچھے کیا چھوڑکر جائیں گی؟
  • پالیسی کے معاملہ میں نئے اتفاق رائے کا ظہور سیاسی پسندیدگیوں کی نوعیت پر کیا اثر چھوڑے گا؟
  • اس باب میں ان سوالوں کے جواب نہیں د ئیے گئے ہیں۔ یہ باب آپ کو صرف ضروری معلومات اورذرائع فراہم کرتا ہے تاکہ جب آپ کتاب ختم کر لیں تو آپ خود ان سوالوں کے جواب دے سکیں۔ ہم ان سوالوں کو پوچھنے سے محض اس لیے گریز نہیں کر سکتے کہ یہ سیاسی طور سے حسّا س ہیں کیوں کہ آزادی کے بعد سے ہندوستانی سیاست کی تاریخ کے مطالعے کا سارا مقصد یہی ہے کہ ہم اپنے حال کو بامعنی طور پر سمجھ سکیں۔

1990کے عشرے میں مختلف سیاسی جماعتوں کےاتارچڑھاؤ ایک پھسل منڈہ کی سواری کی طرح لگتے تھے، جیسا کہ 1990 میں بنائے گئے اس کارٹون میں دکھایا گیا ہے۔

 پھسل منڈہ سواری کرتے ہوئے راجیو گاندھی،وی۔پی۔سنگھ ،ایل۔کے۔اڈوانی،چندرشیکھر،جیو تی باسو،این ۔ٹی۔راما راؤ،دیویلال،پی۔کےمہنتااورکے۔کروناندھی دیکھے جاسکتےہیں۔

باب 9

ہندوستانی سیاست میں رونما حالیہ واقعات

1990کی دہائی کا پس منظر

پچھلے باب میں آپ پڑھ چکے ہیں کہ اندراگاندھی کے قتل کے بعد راجیوگاندھی وزیراعظم بنے۔ اس کے فوراً بعد 1984کے عام انتخابات میں ان کی زیرقیادت کانگریس کو ایک زبردست فتح حاصل ہوئی۔ 1980 کی دہائی کے آخری دنوں میں پانچ ایسے واقعات رونما ہوئے جنھوںنے ہمارے ملک کی سیاست پر بڑے دیرپا اثرات چھوڑے۔
اس دہائی کا سب سے اہم واقعہ 1989میں منعقدہ عام  انتخابات میں  کانگریس پارٹی کی شکست تھی۔ جس پارٹی نے 1984کے انتخابات میں 415سیٹیں حاصل کی تھیں، اس بار صرف 197سیٹوں پر ہی کامیابی حاصل کر سکی۔ اگر چہ کانگریس جلد ہی سنبھل گئی اور 1991میں منعقد وسط مدتی  انتخابات میں پھر اقتدار میں واپس آگئی لیکن 1989کے  انتخابات سے وہ جادو ختم ہوگیا جس کو سیاسی پنڈتوں نے ’کانگریس سسٹم ‘کا نام دیا تھا۔ حقیقتاً کانگریس ایک اہم پارٹی کی حیثیت سے باقی رہی اور1989کے
 بعد کسی اور پارٹی کے مقابلہ میں زیادہ عرصہ تک اقتدار پر قابض رہی لیکن پارٹی سسٹم میں جو مرکزی مقام اسے پہلے حاصل تھا اس کو کھو بیٹھی۔
Pic2 Capture9

کانگریسی لیڈر سیتا رام کیسری نے دیو گوڑا کی یونائیٹیڈ فرنٹ حکومت سے اپنی حمایت ختم کر دی۔

میں یہ جاننا چاہتی ہوں کہ کیا کانگریس اپنی کھوئی ہوئی شان دوبارہ واپس لا سکتی ہے؟
Pic3 Capture9
دوسرا اہم واقعہ قومی سیاست میں منڈل مسئلہ کا ظہور تھا۔ 1990میں نیشنل فرنٹ کی حکومت نے فیصلہ کیا کہ مرکزی حکومت کی ملازمتوں میں ، دیگر پس ماندہ طبقے (OBC) کے لیے منڈل کمیشن کی سفارشات کو نافذ کیا جائے۔ اس سے ملک کے مختلف مقامات پر منڈل مخالف احتجاج و مظاہرے ہوئے جو پُرتشدد بھی تھے۔ دیگر پس ماندہ طبقے (OBC) کے ریزرویشن کے حامیوں اورمخالفین کے درمیان یہ تنازعہ’ منڈل مسئلہ ‘کے نام سے مشہور ہوااور 1989کے بعد کی سیاست کی صورت گری میں اس نے اہم کردار ادا کیا ۔
Pic4 Capture9
منڈلائزیشن کا ردِّعمل
Pic5 Capture9
میں صرف یہ جاننا چاہتاہوں کہ کیا اس مظہر کے اثرات دیر پاہوں گے؟

تیسرا اہم واقعہ یہ تھا کہ اب تک کی تمام حکومتوں کی اختیار کردہ معاشی پالیسی نے ایک بالکل نیارخ لے لیا۔ اس کو اسٹرکچرل ایڈجسٹ منٹ پروگرام(SAP)کی ابتدا یا نئی معاشی اصلاحات کہا جاسکتا ہے۔ راجیوگاندھی کے ذریعہ لائی گئی یہ تبدیلیاں1991میں کافی نمایاں ہوگئیں اور انھوں نے آزادی کے بعد سے ہندوستان کی اختیار کی ہوئی معاشی پالیسی کا رخ بنیادی طور سے موڑ دیا۔ متعدد تحریکوں اور تنظیموں نے ان پالیسیوں پر کڑی نکتہ چینی کی لیکن اس درمیان جو بھی حکو متیں اقتدار میں رہیں انھوں نے بھی اِن پالیسیوں کو جاری رکھا۔
Pic6 Capture9
مشکل اور خطرناک تو ہے۔ لیکن ذرا سوچو اگر ایک بار ہم وہاں پہنچ گئے تو ہماری ساری پریشانیاں دور ہوجائیں گی!
وزیراعظم نرسمہا راؤ کے ساتھ اس وقت کے وزیر خزانہ من موہن سنگھ ، جدید معاشی پالیسی کے ابتدائی دور میں-

اگرہرکوئی ایک ہی پالیسی پرعمل کرے،تو مجھے نہیں لگتا کہ اس سےسیاست میں کوئی تبدیلی آئے گی۔

Pic7 Capture9
چوتھا یہ ہے کہ دسمبر 1992میں ایودھیا میں متنازعے ڈھانچے (جو بابری مسجد کے نام سے مشہور ہے) کومنہدم کیے جانے کے بعد متعدد واقعات نقطۂ عروج پر پہنچے۔یہ واقعہ ملک میں بہت سی سیاسی تبدیلیوں کی علامت بھی بنا اورسبب بھی، اور اس نے ملک میں ہندوستانی قومیت اور سیکولرزم پر بحث کو اور تیز کر دیا۔ان واقعات کا تعلق   بی۔ جے۔ پی اور ہند وتو کی سیاست کے عروج سے ہے۔
Pic8 Capture9
ابھرتی ہوئی فرقہ داریت کے خلاف ردّعمل

میں حیران ہوں کہ سیاسی جماعتوں پر یہ کیسے اثر انداز ہوگا۔

Pic9 Capture9
آخرمیں مئی 1991میں راجیوگاندھی کےقتل کےبعدکانگریس پارٹی کی قیادت میں تبد یلی آگئی۔ان کوایل ٹی ٹی ایLTTEسے وابستہ ایک سری نکائی تمل نے اس وقت ہلاک کر دیا جب  وہ تمل ناڈوکی انتخابی مہم کے سلسلہ میں دورہ کررہے تھے۔1991کے الیکشن میں کانگریس سب سے بڑی اکیلی جماعت کی صورت میں ابھری۔ راجیو گاندھی کی موت کے بعد پارٹی نے نرسمہاراؤ کو وزیر اعظم منتخب کیا۔
Pic10 Capture9
کانگریس کی قیادت کئی بار سرخیوں میں آئی۔

گٹھ بندھن کا دور

1989کے الیکشن میں کانگریس کو شکست تو ہوئی لیکن کوئی دوسری پارٹی بھی اکثریتی پارٹی کی حیثیت سے سامنے نہیں آسکیں۔ اگرچہ کانگریس لوک سبھا میں سب سے بڑی
 پارٹی تھی لیکن چوں کہ اس کے پاس اکثریت نہیں تھی اس لیے اپوزیشن میں بیٹھنے کا فیصلے کیا۔ نیشنل فرنٹ کو (جو جنتا دل اور دوسری علاقائی پارٹیوں کا مجموعہ تھا) کو دو بالکل ہی مخالف اور متضاد سیاسی گروپ یعنی بی۔جے۔ پی اور بائیں بازو کی حمایت حاصل ہوگئی۔ اس بنیاد پر نیشنل فرنٹ نے ایک گٹھ بندھن کی حکومت قائم کر لی لیکن بی۔ جے۔پی اور بائیں بازو کی جماعتیں حکومت میں شامل نہیں ہوئیں۔
Pic11 Capture9
وہ کہتے ہیں کہ وہ حکومت کی باہر سے حمایت کریں گے!

وی ۔پی سنگھ کی قیادت میں نیشنل فرنٹ کی حکومت کو بائیں بازو اور بی جے پی کی حمایت حاصل ہوگئی (کارٹون میں جیوتی باسو کو بائیں بازوں کی جما عت اور اڈوانی کو بی جے پی کی علامت کے طور پر پیش کیاہے )

بشکریہ: سھیر تیلنگ/ایچ ٹی بک آف کارٹون

کانگریس کا زوال

کانگریس پارٹی کی شکست نے ہندوستانی پارٹی نظام میں اس کی بالادستی کا خاتمہ کر دیا۔ کیا آپ کو پانچویں باب میں کانگریس سسٹم کی واپسی پر گفتگو یاد ہے؟ ساٹھ کی دہائی کے آخرمیں کانگریس پارٹی کی بالادستی کو چیلنج کیا گیا تھا لیکن اندرا گاندھی کی قیادت میں کانگریس کسی نہ کسی طرح سیاست میں اپنا غلبہ قائم رکھنے میں کامیاب رہی۔نوّے کی دہائی میں کانگریس کو پھر ایک بار اسی چیلنج کاسامنا کرنا پڑا۔ لیکن کوئی بھی اکیلی پارٹی کا نگریس کی خالی کی ہوئی جگہ پُر نہ کر سکی۔
اس طرح سے ایک کثیر جماعتی سسٹم کا دَور شروع ہوا۔ حقیقتاً ہمارے ملک میں ہمیشہ پارٹیوں کی ایک بھاری تعداد نے انتخابات میں حصہ لیا ہے۔ اور ہماری پارلیمنٹ میں ہمیشہ مختلف پارٹیوں کے نمائندے موجود رہے ہیں۔ 1989کے بعد کئی پارٹیوں کا ظہور اس صورت میں ہوا کہ صرف ایک یاد و پارٹیاں ہی زیادہ تر ووٹ یا سیٹیں حاصل نہ کرسکیں۔ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ 1989 کے بعد سے 2014 تک کسی بھی لوک سبھا انتخابات میں کوئی اکیلی پارٹی اکثریت حاصل نہیں کر سکی ہے۔ ان واقعات نے مرکز میں مخلوط گٹھ بندھن کی حکومتوں کا سلسلہ شروع کیا جس میں حکمراں اتحاد کو بنانے میں علاقائی پارٹیوں نے اہم کردار ادا کیا۔اگرچہ 2014اور2019کے لوک سبھا انتخابات میں دوبارہ  بی جے پی جماعت کو اکیلے ہی اکثریت حاصل ہوئی ہے۔

آئیے تحقیق کریں

اپنے والدین سے 1990کی دہائی کی یادوں کے بارے میں بات جیت کیجیے۔ ان سے پوچھیے کہ ان کے خیال میں اس زمانے کے اہم واقعات کیا تھے۔ ساتھ میں بیٹھ کر اپنے والدین کے بتائے ہوئے واقعات کی ایک مکمل فہرست بنائیے ۔ دیکھیے کہ ان میں سے کون سا واقعہ کئی بارگنایا گیا ہے اورپھر ان کا موازنہ ان واقعات سے کیجیے جن کو اس باب میں اہم بتایا گیا ہے۔ آپ یہ بحث بھی کر سکتے ہیں کہ کچھ لوگوں کے لیے کئی واقعات اہم ہیں جب کہ دوسروں کے لیے نہیں۔

گٹھ بندھن کی سیاست 

1990کی دہائی میں دلت اور دیگر پس ماندہ طبقے (OBC)کینمائندگی کرنے والی بڑی اور طاقت ور تحریکیں اور پارٹیاں ابھرکرسامنے آئیں۔ ان میں سے اکثر پارٹیاں علاقائی
 دعوے داری کی بھی نمائندہ تھیں۔ ان پارٹیوں نے 1996میں یونائیٹڈ فرنٹ کی حکومت کو برسر اقتدار لانے میں اہم کردار ادا کیا ۔یونائیٹڈ فرنٹ بھی 1989کے نیشنل فرنٹ ہی کی طرح تھی کیوں کہ اس میں بھی جنتا دل اور دوسری علاقائی پارٹیاں شامل تھیں۔ اس باربی جے پی (BJP)نے حکومت کا ساتھ نہیں دیا۔ یونائیٹڈ فرنٹ کی حکومت کو کانگریس کی حمایت حاصل تھی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ سیاسی رفاقتیں کتنی ناپائیدار تھیں۔1989میں بی ۔جے ۔پی اور بائیں بازو دونوں نے نیشنل فرنٹ کی حکومت کا ساتھ اس لیے دیا تھا کہ وہ کانگریس کو اقتدار سے باہر رکھنا چاہتی تھیں۔1996میں بائیں بازونے غیر کانگریس حکومت کا ساتھ برقرار رکھا لیکن اس مرتبہ کا نگریس نے بھی اس کا ساتھ دیا کیوں کہ کانگریس اور بائیں بازو والے دونوں ہی بھاجپا کو یعنی بی۔جے۔ پی کو اقتدار میں نہیں دیکھنا چاہتے تھے۔
لیکن یہ زیادہ دیر تک کامیاب نہیں رہ سکے کیوں کہ1991اور1996کے انتخابات میں بی ۔جے۔پی نے اپنی پوزیشن کو مزید مستحکم کر لیا۔1996کے  انتخابات میں یہ سب سے بڑی اکیلی پارٹی کی صورت میں ابھری اوراس کوحکومت بنانے کے لیے دعوت دی گئی۔لیکن چوں کہ زیادہ تر پارٹیاں اس کی پالیسیوں سے متفق نہیں تھیں لہٰذا بی ۔جے ۔ پی کو پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل نہیں ہوسکی۔ آخر کار مئی 1998سے جون 1999تک گٹھ بندھن کے لیڈر کی حیثیت سے حکومت بنانے میں کامیاب ہوگئی اور 1999کے  انتخابات میں دوبارہ منتخب ہوئی۔ دونوں بار اٹل بہاری باجپئی این ڈی اے (NDA)حکومت کے وزیراعظم تھے اور 1999میں قائم شدہ حکومت نے اپنی مدت پوری کی۔
Pic12 Capture9
1999شاندار ماضی کی یاد: ’’ زیادہ دور کی بات نہیں ہے ایک زمانہ تھا جب سیاسی زندگی کانگریس سے شروع ہو کر کانگریس پر ختم ہوجاتی۔‘‘
ایک پارٹی کی بالادستی سے کثیر جماعتی اتحادکےسسٹم کی تبدیلی پر ایک کارٹونسٹ  کی تصویرکشی۔
بشکریہ  :  اجیت نینان/انڈیا ٹوڈے
اس طرح سے 1989کے انتخابات کے بعد ہندوستانی سیاست میں گٹھ بندھن کا ایک طویل دور شروع ہوا۔ جب سے اب تک مرکز میں گیارہ حکومتیں رہ چکی ہیں۔ ان میں سے سب یا تو گٹھ بندھن کی حکومتیں تھیں یا اقلیتی پارٹی کی حکومتیں تھیں جن کو دوسری پارٹیوں کی حمایت تو حاصل تھی لیکن انھوں نے حکومت میں حصہ نہیں لیا۔ اس نئے دور میں کئی علاقائی پارٹیوں کی مدد یا شرکت سے کوئی بھی حکومت بنائی جاسکتی تھی۔ اور یہ بات 1989 میں نیشنل فرنٹ،1996 اور 1997میں یونائیٹڈ فرنٹ،1997 میں این ڈی اے، 1998میں بی جے پی کی قیادت والا گٹھ بندھن ، 1999میں این ڈی اے2004 اور 2009میں یو پی اے پر لاگو ہوتی ہے۔اگر چہ 2014میں اس رجحان میں تبدیلی واقع ہوئی۔
اب تک ہم نے جو مطالعہ کیا ہے آئیے ان واقعات کو جوڑ کر دیکھیں ۔ گٹھ بندھن کی حکومتوں کا زمانہ ایک طویل مدتی رجحان کی طرح جا نچا جا سکتا ہے یہ ان خاموش تبدیلیوں کا نتیجہ تھا جو پچھلی کئی دہائیوں سے ظاہر ہورہی تھیں۔
ہم نے دوسرے باب میں دیکھا کہ ابتدا میں کانگریس خود مختلف نظریات اور طرزفکر رکھنے والے گروپوں کا مجموعہ تھی۔ اسی خصوصیت نے’ کانگریس سسٹم ‘ کی اصطلاح ایجاد کی۔
Pic13 Capture9
Pic14 Capture9

1989کے بعد سے مرکزی حکومتیں

زمانہ گٹھ بندھن یا مخلوط
حکومت میں شریک پارٹیاں
وی۔پی۔سنگھ

دسمبر1989
نومبر1990
نیشنل فرنٹ
بائیں بازو اور بی جے پی کی حمایت
چندر شیکھر نومبر1990
جون1991
نیشنل فرنٹ کا ایک سیکشن
سماج وادی جنتا پارٹی کی قیادت میں: کانگریس کی حمایت
نرسمہاراؤ جون1991
مئی1996
کانگریس اے آئی اے ڈی ایم کے(AIADMK)
اٹل بہاری باجپئی مئی1996
جون1996
BJPکی اقلیتی حکومت
ایچ۔ڈی۔دیوے گوڑا جون1996
اپریل 1997

یونائیٹڈ فرنٹ
کانگریس کی حمایت
آئی۔کے۔گجرال اپریل1997
مارچ1998
یونائیٹڈ فرنٹ
کانگریس کی حمایت
اٹل بہاری باجپئی مارچ1998۔اکتوبر1999
اکتوبر1999۔مئی2004
نیشنل ڈیموکریٹک الائنس(NDA)
بی جے پی کی قیادت میں
منموہن سنگھ مئی2004 سے مئی2014 یونائٹیڈ پروگریسیو الائنس(UPA)
(متحدہ ترقی پسند محاذ)
نریندرمودی مئی2014سے آگے نیشنل ڈیموکریٹک الائنس(NDA)
بی جے پی کی قیادت میں

موجودہ اور سابق وزرائے اعظم کے بارے میں تفصیل سے معلومات حاصل کرنے کے لیے ویب سائٹhttp://pmindia.gov.in/enدیکھیے۔
نوٹ:  خالی جگہوں کواس لیے چھوڑا گیا ہے کہ آپ کسی حکومت کی پالیسیوں ، کا رگردگیوں اور تنازعوں کے بارے میں مزید اطلاعات ریکارڈ کر سکیں۔


پانچویں باب میں ہم نے یہ بھی دیکھا کہ مختلف طرزفکر کے گروپ کانگریس چھوڑ کر اپنی علاحدہ پارٹی بنانے لگے۔1977کے بعد کئی علاقائی پارٹیوں کا عروج ہوا۔ اگرچہ اس طرح سے کانگریس پارٹی کمزور تو ضرور ہوئی لیکن کوئی بھی اکیلی پارٹی مکمل طور سے اس کی جانشین نہ ہوسکی۔
Pic15 Capture9

ٹھیک ہے۔ ہمارے سماج کی جمہوری سیاست میں گٹھ بندھن ایک منطقی عمل ہے۔تو کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ گٹھ بندھن ہمیشہ رہیں گے؟ یا قومی پارٹیاں دوبارہ اپنی پوزیشن کومستحکم کر سکتی ہیں؟

Pic16 Capture9

میں اس کی فکر نہیں کرتی کہ حکومت اکیلی پارٹی کی ہے یا گٹھ بندھن کی ۔ مجھے زیادہ فکر اس کی ہے کہ وہ کیا کرتی ہیں؟کیا ایک گٹھ بندھن کی حکومت میں زیادہ سمجھوتے نہیں ہوتے؟ کیا ایک گٹھ بندھن میں ہم جرأت مندانہ اور دور اندیشانہ پالیسیاں نہیں اختیار کرسکتے؟

دیگر پس ماندہ طبقوں (OBC)کا سیاسی عروج

اس زمانے کی ایک طویل مدتی سرگرمی دیگر پس ماندہ طبقوں (OBC) کا سیاسی طاقت کی حیثیت سے ابھرنا تھا۔ آپ دیگر پس ماندہ طبقوں کی اصطلاح سے پہلے ہی واقف ہوچکے ہیں۔ یہ درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبیلوں سے الگ وہ ذاتیں ہیں جو سماجی اور تعلیمی طور سے پس ماندہ ہیں۔ ان کو بھی ’پس ماندہ‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ہم نے چھٹے باب میں پڑھا ہے کہ پس ماندہ ذاتوں کے بہت سے طبقوں نے کانگریس کی حمایت سے ہاتھ اٹھالیا تھا۔ اس صورت حال نے غیر کانگریسی پارٹیوں کے لیے جگہ پیدا کردی اور ان کو یہاں سے کافی مدد ملی۔ آپ یاد کیجیے کہ ان پارٹیوں کا سیاسی ظہور 1977میں جنتا پارٹی حکومت کی صورت میں ہوا۔ جنتا پارٹی کے اکثر اجزاکو جیسے بھارتیہ کرانتی دل اور سَمیُکت سوشلسٹ پارٹی کو دیہی علاقوں کے دیگر پس ماندہ طبقوں کی خاصی حمایت حاصل تھی۔

’منڈل‘ کا نفاذ

1980کی دہائی میں جنتا دل نے ایسے سیاسی گروپوں کو باہم جمع کیا جن کودیگر پس ماندہ طبقوںکی مضبوط حمایت حاصل تھی۔ نیشنل فرنٹ حکومت کا یہ فیصلہ کہ وہ منڈل
 کمیشن کی سفارشات کو لاگو کرے گی د یگر پس ماندہ طبقوں کی سیاست کی صورت گری میں اور مدد گار ثابت ہوا۔ روزگارمیں ریزرویشن کی مخالفت اور موافقت میں جو ملک گیرز بردست بحث ہوئی اس نے دیگر پس ماندہ طبقوں کے لوگوں کو اپنی اس شناخت سے اور زیادہ باشعور کر دیا۔ اس سے ان لوگوں کو بڑی مدد ملی جو سیاسی طور سے ان کو سرگرم دیکھنا چاہتے تھے۔ اس زمانے میں ایسی کئی پارٹیاں ابھریں جنھوں نے د یگر پس ماندہ طبقوں کے لیے نہ صرف تعلیم اور روز گار میں بہتر مواقع تلاش کیے بلکہ اقتدار میں ان کی شرکت اور حصے کے بارے میں بھی سوال اٹھائے ۔ ان کی دلیل تھی کہ دیگر پس ماندہ طبقے اس ملک کے سماج کا ایک بڑا حصہ ہیں لہٰذاجمہوری طور سے ان کو انتظامیہ میں مناسب نمائندگی ملنی چاہیے اور اقتدار میں ان کا جائز حق بھی۔
Pic17 Capture9
منڈل کمیشن کی رپورٹ کے نفاذ نے احتجاج اور سیاسی مظاہروں کو ہوا دی۔

منڈل کمیشن   

جنوبی ریاستوں میں دیگر پس ماندہ طبقات(OBC) کے لیے روزگار کا ریزرویشن اگر پہلے نہیں تو 1960کی دہائی میں دکنی ریاستوں میں موجود تھا۔ لیکن اس پالیسی کا نفاذ شمالی ریاستوں میں نہیں تھا۔1977-79میں جنتا پارٹی کے دور حکومت میں شمالی ہندوستان اور قومی سطح پر پسماندہ طبقوں کے لیے روزگار کے ریزرویشن کا مسئلہ بہت زورشور سے اٹھا ۔ اس وقت کے بہار کے وزیر اعلیٰ کرپوری ٹھاکر اس راہ کے اولین مسافروں میں سے تھے۔ ان کی حکومت نے بہار میںOBCکے لیے ایک نئی پالیسی کا اجرا کیا۔
اس کو دیکھتے ہوئے مرکزی حکومت نے بھی 1978میں ایک کمیشن مقرر کیاجو پسماندہ طبقوں کی حالت کا صحیح اندازہ لگائے اور ان کی ترقی اور فروغ کے لیے سفارشات دے سرکاری طورپر اس کا نام دوسرا پسماندہ طبقاتی کمیشن   (Second Backward Classes Commission) تھا۔ لیکن عام طور سے اس کمیشن کو اس کے صدر بندیشوری پر شاد منڈل کے نام سے یعنی منڈل کمیشن کے نام سے جانا جاتا ہے۔
Pic18 Capture9

بی پی منڈل :(1918-1982)

1967سے 1970اور1977 سے 1979 تک بہار سے پارلیمانی رکن؛ دوسرے پس ماندہ طبقاتی کمیشن کے چیئرپرسن ، جس نے دیگر پس ماندہ طبقوں کے لیے ریزرویشن کی سفارش کی؛ بہار کے ایک سماجی لیڈر؛ 1968میں صرف ڈیڑھ ماہ کے لیے بہار کے وزیراعلیٰ ؛ 1977 میں جنتا پارٹی میں شامل ہوئے۔

منڈل کمیشن کے قیام کا مقصد ہندوستانی سماج کے مختلف حصوں میں تعلیمی اور سماجی پسماندگی کا اندازہ لگانا اور ان طریقوں کی تلاش کرناتھا تاکہ ان پسماندہ طبقوں کی شناخت ہوسکے۔ اس سے یہ بھی توقع تھی کہ یہ ان سفارشات کو بھی سامنے لائے گا جن کے ذریعہ اس پسماندگی کا خاتمہ ہوسکے گا۔ کمیشن نے 1980میں اپنی سفارشات پیش کیں ۔ لیکن جب تک جنتا حکومت ختم ہوچکی تھی۔کمیشن کا کہنا تھا کہ پسماندہ طبقوں سے مراد پسماندہ ذاتیں ہی لیناچاہیے کیوں کہ شیڈول کاسٹ کے علاوہ اور بھی بہت سی ذاتیں ہیں جن سے ذات پات کے نظام میں تحقیر آمیز سلوک کیا جاتا ہے۔ کمیشن کی تحقیق کے مطابق یہ پسماندہ ذاتیں تعلیمی اداروں اور حکومت کے اندرروزگار میں بہت کم حصہ رکھتے تھے۔ لہذا کمیشن نے سفارش کی کہ حکومت کے روزگار اور تعلیمی اداروں میں ان گروپ کے لیے 27 فی صد ریزرویشن ہونا چاہیے ۔ منڈل کمیشن نے OBC کی حالت سدھار نے کے لیے اور بھی کئی سفارشات کیں جیسے زمینی اصلاح وغیرہ ۔
اگست 1990میں نیشنل فرنٹ کی حکومت نے منڈل کمیشن کی ایک سفارش کو جو مرکزی حکومت اور اس سے متعلقہ اداروں میں OBC کے روزگار کے ریزرویشن سے متعلق تھی، لاگو کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلہ سے شمالی ہندوستان کے اکثر شہروں میں احتجاج اورپر تشدد مظاہروں کی ایک لہر دوڑگئی ۔ اس فیصلہ کو سپریم کورٹ میں بھی چیلنج کیا گیا اور اس مقدصہ کو اندرا ساہنی  مقدمہ‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ جو اس مقدمہ کی ایک مدعی تھی۔1992میں سپریم کورٹ کے فیصلہ کے مطابق حکومت کے فیصلہ کو حق بجانب ٹھرایا۔ اس فیصلہ کے نفاذ کے طریقہ پر سیاسی پارٹیوں کے درمیان کچھ اختلاف تھا۔ لیکن ابOBCکے لیے ریزرویشن کی پالیسی کو ملک کی تمام بڑی پارٹیوں کی حمایت حاصل ہے۔

سیاسی نتائج

1980کی دہائی نے دلت سیاسی تنظیموں کا عروج بھی دیکھا۔ 1978میں پس ماندہ اور اقلیتی طبقوں کے ملازمین   کی فیڈریشن(Backward and Minority Commission Employees Federation) (BAMCEF) بنائی گئی، یہ تنظیم سرکاری ملازمین کی کوئی معمولی تنظیم نہیں تھی۔ اس نے بہوجن، یعنی درج فہرست ذات، درج فہرست قبائل، دوسرے پس ماندہ طبقات اور اقلیتوں کی سیاسی طاقت کی حمایت میں زوردار موقف اختیار کیا۔
 اسی تنظیم سے ’دلت شوشت سماج سنگھرش سمیتی‘ نے جنم لیا اور بعد میں کانشی رام کی قیادت میں بہوجن سماج پارٹی (BSP)کا ظہور ہوا۔بہوجن سماج پارٹی کی ابتدا ایک چھوٹی پارٹی کی طرح ہوئی جس کو پنجاب ، ہریانہ اور اترپردیش کے دلت ووٹروں کی حمایت حاصل تھی۔ لیکن 1989اور1991کے الیکشن میں اتر پردیش میں اس کی کامیابی کا دروازہ کھلا۔ آزاد ہندوستان میں یہ پہلی بار ہوا تھا کہ کوئی سیاسی پارٹی صرف دلت رائے دہندگان کی وجہ سے اتنی بڑی سیاسی کامیابی حاصل کر سکی ہو۔
حقیقت یہ ہے کہ کانشی رام کی قیادت میں بی ایس پی کو ایک عملی سیاست کی تنظیم کے روپ میں دیکھا جارہا تھا۔ اس کواس حقیقت سے اعتماد حاصل ہوا کہ بہوجن (درج فہرست ذات،درج فہرست قبائل ،دیگر پس ماندہ طبقات اور مذہبی اقلیتیں) کی آبادی اکثریت میں ہے اور یہ اپنی تعداد کی بنا پر ایک ناقابلِ تسخیر سیاسی قوت کے مالک ہوں۔ اس کے بعد سے بہوجن سماج پارٹی ملک میں ایک اہم سیاسی کردارنبھارہی ہے اور ایک سے زیادہ مرتبہ حکومت میں رہی ہے۔ اس کی زور دار حمایت اب بھی دلت راے د ہندگان ہی کرتے ہیں لیکن اب اس نے اپنا دائرہ کا ر سماج کے دوسرے گروپوں میں بڑھانا شروع کر دیا ہے۔ ہندوستان کے دوسرے کئی حصوں میں دلت سیاست اور دیگر پس ماندہ طبقاتی سیاست ایک دوسرے سے الگ الگ ہوکرآگے بڑھ رہے ہیں اور اکثر ایک دوسرے کے مقابل ہوکر بھی۔
Pic19 Capture9
کانشی رام (1934-2006):
 بہوجن غلبہ کے مبلغ اور بہوجن سماج پارٹی (BSP)کے بانی ۔ سماجی اور سیاسی کام کے لیے مرکزی حکومت کی ملازمت کو چھوڑ دیا۔ BAMCEF، DS-4اور آخرمیں 1984 میں BSP کے بانی سیاسی حکمتِ عملی کے ماہر ۔ان کے خیال میں سماجی مساوات کی کنجی سیاسی اقتدار کے حصول میں ہے۔ شمالی ہندوستان کی ریاستوں میں دلت بیداری کے ہیرو۔ 
Pic20 Capture9
کیا اس بات سے دلت اور تمام پس ماندہ ذاتوں کے لیڈروں کو فائدہ پہنچنے گا؟ یا تمام فائدوں پر اس گروپ کے طاقت ور خاندان اور ذاتوں کی اجارہ داری ہوگی؟
Pic21 Capture9
اصل نکتہ لیڈر نہیں عوام ہیں۔کیا  اس سے واقعی محروم عوام کے لیے بہتر پالیسیاں اور موثر نفاذ حاصل ہوگا؟  یا یہ صرف ایک سیاسی تماشہ ہی رہے گا؟

فرقہ واریت، سیکولرزم ، جمہوریت

اس زمانہ کی دوسری طویل مدتی سرگرمی مذہبی شناخت پر مبنی سیاست کا عروج تھا جس سے سیکولرزم اور جمہوریت پر بحث و مباحثہ کے دروازے کھلے ۔ ہم نے چھٹے باب میں مطالعہ کیا ہے کہ ایمرجنسی کے بعد بھارتیہ جن سنگھ، جنتا پارٹی میں ضم ہوگئی تھی۔ 1980میں جنتا پارٹی کے زوال اور شکست و ریخت کے بعد بھارتیہ جن سنگھ کے حامیوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی کی بنیاد ڈالی۔ ابتدامیں بھارتیہ جنتا پارٹی(بی جے پی )نے اپناسیاسی دائرہ کارجن سنگھ سے زیادہ وسیع رکھا۔ اس نے گاندھیائی سوشلزم کے نظریے کو اپنے گلے لگایا لیکن اس کو 1980اور 1984 کے انتخابات میں کوئی قابلِ ذکر کامیابی نہیں ملی۔1986کے بعد پارٹی نے اپنے نظریات میں ہندوقومیت کے عنصرکو نمایاں جگہ دی۔بی جے پی نے ’ ہندو تو‘ کی پالیسی اختیار کی اور ہندوؤں کو سرگرم عمل کرنے کی حکمت عملی اپنائی۔
ہندو تو کے لفظی معنی ہندوئیت کے ہیں اور اس طرز فکر کے بانی وی۔ ڈی۔ ساور کرنے اس کو ہندو قومیت کی بنیاد بتایا ۔ اس کے معنی ہیں کہ ہندوستانی قوم کا فرد ہونے کے لیے ہر ایک کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہندوستان کونہ صرف مادر وطن سمجھے بلکہ اس کو مقدس بھی خیال کرے۔’ہندوتو‘ پر یقین رکھنے والوں کی دلیل ہے کہ ایک طاقت ور قوم کی بنیاد ایک مضبوط اور متحدہ قومی تہذیب یا ثقافت ہی ہوسکتی ہے۔ ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ صرف ہند وکلچر ہی یہ بنیاد فراہم کر سکتا ہے۔
1986کے قریب رونما ہونے والے دوواقعات نے بی جے پی کو’ہندوتو‘ پارٹی کارنگ اختیار کرنے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ پہلا1985میں شاہ بانو کا معاملہ تھا۔ اس معاملہ میں ایک62سالہ طلاق شدہ مسلمان عورت نے اپنے نان و نفقہ کے لیے سابق شوہر پر مقدمہ درج کیا تھا۔ سپریم کورٹ نے اس خاتون کے حق میں فیصلہ دیا۔ قدامت پرست مسلمانوں نے اس فیصلے کو مسلم پرسنل لا(Muslim Personal Law)میں دخل اندازی سمجھا۔ 
کچھ مسلمان لیڈروں کے مطالبے پر حکومت نے مسلم عورتوں کے (طلاق کے حقوق کے تحفظ کے) ایکٹ  1986 (Muslim Women (Protection of Rights on Divorce) Act 1986) پاس کر دیا جس کے نفاذ سے سپریم کورٹ کا فیصلہ کالعدم ہوگیا۔
 حکومت کے اس اقدام کی عورتوں کی بیشترتنظیموں نے مخالفت کی، ان کے ساتھ کئی مسلمان گروپ اور دانشور بھی شامل تھے۔ بی جے پی نے حکومت کے اس اقدام پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے اس کو غیر ضروری اور اقلیتوں کو خوش کرنے کی ایک سازش قرار دیا۔

ایودھیا تنازعہ

دوسرا واقعہ فروری  1986میں فیض آبادضلع عدالت کا دیا ہوا فیصلہ تھا۔ عدالت نے حکم دیا کہ بابری مسجد کے احاطے کے تالے کو کھول دیا جائے تاکہ ہندو وہاں پر عبادت کر سکیں کیوں کہ وہ اس کو ایک مندر سمجھتے ہیں۔ ایودھیا میں واقع بابری مسجد پر تنازعہ کئی دہائیوں سے چلاآرہا تھا۔ بابری مسجد ایودھیامیں سولھویں صدی کی ایک مسجد تھی جس کو مغل بادشاہ بابر کے ایک سپہ سالار میر باقی نے تعمیر کرایا تھا۔ کچھ ہندو یہ یقین رکھتے ہیں کہ اس کی تعمیر ایک مندر کو گراکر ہوئی تھی جہاں ان کے بھگوان رام کی جائے پیدائش تھی۔ اس تنازعہ نے ایک عدالتی مقدمہ کی شکل اختیار کر لی جو کئی دہائیوں سے جاری ہے ۔ 1940 کی دہائی میں مسجد پر اس لیے تالا لگا دیا گیا تھا کیوں کہ معاملہ عدالت میں زیر غورتھا۔
جیوں ہی بابری مسجد کے دروازے کھلے دونوں ہی جانب سرگرمیاں تیز ہوگئیں اور کئی ہندواور مسلمان تنظیمیں اپنی اپنی قوموں کو اس مسئلے پراکسانے میں لگ گئیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے اس مقامی تنازعہ نے ایک بڑے قومی مسئلے کی صورت اختیار کر لی اور اس طرح یہ فرقہ وارانہ تنازعہ کا سبب بن گیا۔بی جے پی نے اس کو سیاسی رنگ دیا اور اپنے الیکشن کا خاص مدّعابنایا۔آر ایس ایس(RSS)اور وشو ہندوپرشید(VHP)کے ساتھ کئی علامتی اور سرگرم عمل کرنے والے پروگرام بنائے۔ ان پروگراموں کے بڑے پیمانے پر جاری ہونے سے ماحول میں کافی گرمی پیدا ہوگئی اور فرقہ وارانہ تشدد کے کئی واقعات پیش آئے۔ عوام کی حمایت حاصل کرنے کی غرض سے BJP نے سومناتھ (گجرات) سے لے کر ایودھیا (اترپردیش ) تک ایک زبردست ریلی نکالی جس کو’رتھ یاترا‘ کا نام دیا۔

انہدام اور اس کے بعد 

مندر کی تعمیر کی حمایت کرنے والی تنظیموں نے دسمبر 1992میں ’کارسیوا‘ کا آغاز کیا۔ اس کا مطلب عقیدت مندوں کے لیے رضا کارانہ طور پر رام مندر کی تعمیر میں حصہ لینا تھا۔ پورا ملک اور خاص طور سے ایودھیا تناؤ سے بھرا ہوا تھا۔ سپریم کورٹ 
Pic22 Capture9
نے ریاستی حکومت کو حکم دیا کہ کسی بھی صورت میں متنازعہ عمارت کو کوئی نقصان نہ پہنچنے دے۔ لیکن تمام ملک سے ہزاروں لوگ ایودھیا میں جمع ہوگئے
اور 6؍دسمبر 1992کو بابری مسجد کو شہیدکردیا گیا۔ اس کی وجہ سے ملک کے کئی حصوں میں فرقہ وارانہ فسادات پھوٹ پڑے۔ ممبئی میں جنوری 1993میں تشدد دوبارہ پھوٹ پڑاجو تقریباً دو ہفتہ سے زیادہ جاری رہا۔
ایودھیا میں جوسانحہ ہوا اس سے کچھ اور واقعات کا سلسلہ شروع ہوا۔ مرکزی حکومت نے بی جے پی کی زیرقیادت ریاستی حکومت کو برخاست کر دیا ۔ اس کے علاوہ ان ریاستوں میں بھی جہاں بی جے پی حکومت تھی صدر راج نافذ کر دیا گیا۔ اترپردیش کے وزیراعلیٰ کے خلاف توہین عدالت کامقدمہ سپریم کورٹ میں درج کرایا گیا کیوں کہ انھوں نے عدالت میں حلف نامہ داخل کیا تھا کہ متنازعہ ڈھانچے کی حفاظت کی جائے گی۔ بی جے پی نے سرکاری طورپر ایودھیا میں رونما ہونے والے واقعات پر افسوس کا اظہار کیا۔ مرکزی حکومت نے ایک کمیشن ان اسباب اور حالات کی تحقیق کے لیے بٹھایا جو مسجد کے انہدام کا باعث ہوئے۔ زیادہ تر پارٹیوں نے انہدام کی مذمت کی اور کہا کہ یہ سیکولرزم کے اصولوں کے خلاف ہے۔ یہیں سے سیکولرزم پر ایک سنجیدہ بحث کا آغاز ہوا اور وہ سوال پھر سامنے آگئے جن سے بٹوارے کے فوراً بعد ہمارے ملک کا سامنا ہوا تھا۔یعنی کیا ہندوستان ایسا ملک ہونے جا رہا ہے جہاں پر مذہبی کمیونٹی کی اکثریت اقلیتوں پرحاوی رہے گی؟ یا یہ کہ ہندوستان تمام ہندوستانیوں کو مساوی شہری حقوق اور مساوی تحفظ ، بغیر امتیاز کے فراہم کرتا رہے گا؟
Pic23 Capture9
بشکریہ: پایونیر، پایونیر اینڈ دی اسٹیٹسمین

اسی درمیان انتخابات کے مقاصد کے لیے مذہبی جذبات کو ابھارنے کے موضوع پر بھی بحث ہوئی۔ ہندوستان کی جمہوری سیاست اپنی بنیادوں پر قائم ہے کہ مذہبی جماعتوں کو یہ آزادی حاصل ہے کہ وہ کسی بھی پارٹی کو جوائن کرلیں ۔مذہبی بنیادوںپرسیاسی پارٹیاں نہیں قائم ہوسکتیں۔فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے جمہوری ماحول کو 1984سے کئی چیلنجوںکا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اور جیسا کہ ہم آٹھویں باب میں دیکھ چکے ہیں یہ 1984 میں سکھ فسادات کی صورت میں ظاہر ہوا۔ فروری تا مارچ  2002میں اسی طرح کے فسادات مسلمانوں کے خلاف گجرات میں ہوئے۔ اقلیتوں کے خلاف اس قسم کا تشد دیا کسی بھی دو فرقوں کا آپس میں تشدد ، جمہوریت کے لیے خطرہ ہے۔

     ”یہ مقدمات ان تباہ کن واقعات کے سلسلے کی باز گشت ہیں جن کا خاتمہ 6دسمبر 1992کو ایودھیا میں ’رام جنم بھومی۔بابری مسجد‘ کے متنازعہ ڈھانچہ کے انہدام پر ہوا۔ ہزاروں معصوم شہریوں کی جانیں گئیں اور املاک کا عظیم نقصان ہوا۔ لیکن ان سب سے بڑانقصان یہ تھا کہ اس عظیم سرزمین کے بارے میں قوت برداشت،اعتماد اور دیس میں بسنے والی مختلف اقوام کے درمیان بھائی چارے کا جو تصور بین الاقوامی سطح پر قائم تھا پاش پاش ہوگیا۔

یہ بہت افسو س نا ک بات ہے کہ ایک سیاسی جماعت کا لیڈراوروزیر اعلیٰ توہین عدالت کے جرم کا مرتکب پایا جائے۔ لیکن قانون کی بالاتری کے لیے ایسا کرنا ضروری ہے۔ ہم اس کو توہین عدالت کا مجرم قرار دیتے ہیں۔ اورچوں کہ یہ توہین کچھ اور بڑے مسئلے بھی اٹھاتی ہے جس سے کہ ہماری قو م کی سیکولر عمارت کی بنیاد متاثر ہوتی ہے ہم اس کو ایک دن کی قید کی سزا علامتی طور سے دیتے ہیں

’رام جنم بھومی۔بابری مسجد‘ ڈھانچہ کی حفاظت کے بارے میں قومی یکجہتی کو نسل کے روبر و کیے ہوئے اترپردیش کے وزیر اعلیٰ “کے وعدہ کی وعدہ خلافی پر چیف جسٹس و ینکٹا چلیا اور جسٹس جی۔این۔رے کے تاثرات

محمد اسلم بنام یونین آف انڈیا،24  اکتوبر  1994

گجرات کے فسادات

Pic24 Capture9
فروری تامارچ2002 میں گجرات میں بڑے پیمانے پر فسادات ہوئے۔ اس تشددکا فوری سبب وہ اشتعال انگیزی تھی جو ایک حادثے کے طور پر گودھرا اسٹیشن سے شروع ہوئی۔ٹرین کا ایک ڈبّا جو کارسیوکوں سے بھرا ہوا تھا اور ایودھیا سے واپس آرہا تھا،جلادیا گیا۔ اس آگ میں ستاون لوگ ہلاک ہوگئے۔ شبہ یہ تھا کہ اس آتش زنی میں مسلمانوں کا ہاتھ ہے۔ لہٰذا دوسرے دن ہی سے گجرات کے کئی علاقوں میں بڑے پیمانے پر مسلمانوں کے خلاف فسادات شروع ہوگئے۔ اور یہ سلسلہ تقریباً ایک مہینہ تک جاری رہا۔ اس تشدد میں تقریباً گیارہ سو لوگ مارے گئے جن میں زیادہ تر مسلمان تھے۔ حقوق انسانی کمیشن نے گجرات حکومت کی تشدد پر قابو پانے، متاثر ین تک راحت کا سامان پہنچانے اور ذمہ داروں پر مقدمہ چلانے کی ناکامیابی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا نے اسمبلی الیکشن کو ملتوی کر دیا۔ جیسا کہ 1984میں سکھ مخالف فسادات میں ہوا، گجرات کے فسادات میں بھی یہ دیکھا گیا کہ حکومت کی مشینر ی بھی مذہبی جذبات کی رو میں بہہ جاتی ہے۔ گجرات جیسی مثالیں ہمیں ان خطرات سے آگاہ کرتی ہیں جو مذہبی جذبات کو سیاسی اغراض کے لیے استعمال کرنے سے پیدا ہوتے ہیں۔جمہوری سیاست کے لیے یہ ایک بڑا خطرہ ہے۔
Pic25 Capture9

27فروی 1947کو بنیادی حقوق، اقلیتو ں، قبائلیوں اورعلاحدہ علاقوں پر مشتمل دستورساز اسمبلی کی مشاورتی کمیٹی  کے پہلے اجلاس میں ہی سردار پٹیل نے زور دار لہجہ میں کہا تھا’’یہ ہماری ذمے داری ہے کہ ہم یہ ثابت کریں کہ یہ ایک جھوٹا اور بکواس دعویٰ ہے۔ اور یہ کہ ہندوستان میں ہم سے زیادہ کوئی اور اقلیتوں کے تحفظ میں دل چسپی نہیں لے سکتا۔ ہمارا مشن ہے کہ ہم ان میں سے ہر ایک کو مطمئن کرسکیں ۔ ہمیں یہ ثابت کر دینا چاہیے کہ ہم خود پر حکمراں ہوسکتے ہیں اور ہمیں دوسروں پر حکمرانی کی کوئی خواہش نہیں ہے‘‘

’’گجرات کے المناک واقعات نے جو گودھرا کے واقعہ سے شروع ہوئے اور تشدد اور دہشت نے دو مہینے تک پوری ریاست کو ہلا کر رکھ دیا،پورے ملک کو شدید رنج والم میں مبتلا کردیا۔کمیشن کی رائے میں اس میں کوئی شک نہیں کہ ریاستی حکومت زندگی ، آزادی ، مساوات اور ریاست کے عوام کا وقار کے نقصان کو قابو میں کرنے میں ناکام رہی۔ یہ لازم ہے کہ زخموں کو بھراجائے اور امن اور مساوات کے مستقبل پر نظر رکھی جائے۔ لیکن ان اعلا مقاصد کے حصول کی بنیاد انصاف ہونی چاہیے اور ساتھ ہی دستوری اقدار اور ز مین کے قانون کی بالا دستی بھی برقرارہو “

 قومی کمیشن برائے حقوق انسانی 2001-2002 کی سالانہ رپورٹ۔

Pic26 Capture9

کیا ہمارا مستقبل بھی اسی طرح کا ہوگا؟کیا کوئی ایسی صورت ممکن نہیں ہے کہ ہم ان واقعات کو ماضی کا حصہ بنادیں؟

Pic27 Capture9

کیا ہم کو اس کی یقین دہانی کرائی جاسکتی ہے کہ کون لوگ قتل عام کا پلان بناتے ہیں اس کو عمل میں لاتے ہیں اور اس کی حمایت کرتے ہیں، کیا ایسے لوگوں پر مقد مہ چلایا جاسکتا ہے؟ یا کم سے کم ان کو سیاسی طور سے سزا دی جا سکتی ہے؟


”میرا وزیر اعلا (گجرات کے) کے لیے ایک ہی پیغام ہے کہ وہ ’راج دھرم‘ کے راستے پر چلیں۔ ایک حکمراں کو اپنی رعایا کے درمیان ذات پات، نسل اور مذہب کی بنیاد پر فرق نہیں کرنا چاہیے“

وزیر اعظم اٹل بہاری باجپئی 
احمد آباد،4  اپریل 2002

اتفاق رائے کا ظہور

کبھی کبھی 1989کے بعد کے زمانے کو کانگریس کے زوال اور بی جے پی کے عروج کا زمانہ کہا جاتا ہے۔اگراس زمانے کی سیاسی بھاگ دوڑ اور مقابلے کی پیچیدہ نوعیت کوسمجھنا ہو تو کانگریس اور  بی جے پی کی انتخابات میں کارگزاریوں کا موازنہ کرنا ہوگا۔

کانگریس اور بی جے پی کی بدلتی ہوئی الیکشن کی کار کردگیاں  1984-2004   

Pic28 Capture9
Pic29 Capture9
آئیے اس تصویر میں دی گئی معلومات کا مطلب سمجھنے کی کوشش کریں۔
  • آپ دیکھیں گے کہ اس زمانے میں بی جے پی اور کانگریس ایک سخت مقابلہ میں الجھے ہوئے تھے۔ ان کی انتخابی کامیابی کے درمیان 1984کے انتخابات کے مقابلے کیا فرق ہے؟
  • آپ دیکھیں گے کہ 1989کے انتخابات کے بعد سے دونوں پارٹیوں یعنی کانگریس اور بی جے پی کو کل ملاکر جو ووٹ ملے وہ پچاس فی صد سے زیادہ نہیں ہیں۔ اور ان کو لوک سبھا میں جو سیٹیں ملیں وہ بھی مجموعی طور پر پچاس فی صدی سے زیادہ نہیں ہیں ۔ تو پھر باقی ووٹ اور سیٹیں کہاں گئیں؟
  • دونوں چارٹ پر نظر ڈالیے جو کانگریس اور جنتا ’خاندان‘کی پارٹیوں کو دکھاتے ہیں۔ آج جو پارٹیاں موجود ہیں ان میں کون سی پارٹیاں نہ تو کانگریس خاندان اور نہ ہی جنتا خاندان سے تعلق رکھتی ہیں؟
  • نو ّے کی دہائی کے دوران سیاسی مسابقت بی جے پی کی زیر قیادت گٹھ جوڑاور کانگریس کی زیر قیادت گٹھ جوڑ کے درمیان منقسم ہے۔ کیا آپ ان پارٹیوں کی فہرست تیار کر سکتے ہیں جو ان دونوں میں سے کسی بھی گٹھ جوڑ کا حصہ نہیں ہیں؟

2004کے لوک سبھاانتخابات 

2004 کے انتخابات میں کانگریس بھی بڑے پیمانے پر گٹھ جوڑ میں داخل ہوئی۔ قومی جمہوری اتحاد یعنی این ڈی اے کو شکست ہوئی اور کانگریس کی زیر قیادت ایک گٹھ جوڑ 
یعنی یو ۔پی ۔اے یا متحدہ ترقی پسند اتحاد کی حکومت بر سراقتدار آئی ۔ اس حکومت کو بائیں محاذ کی پارٹیوں کی حمایت حاصل تھی۔2004کے انتخابات میں کانگریس پارٹی کا جزوی احیا بھی دیکھنے کو ملا، یعنی کانگریس میں دوبارہ کچھ جان پڑتی نظر آئی۔1991کے بعد پہلی بار اس پارٹی کی نشستوں میں اضافہ ہوا۔ تاہم 2004 کے انتخابات میں کانگریس اوراس کے اتحادیوں اور بی۔جے۔پی اور اس کے اتحادیوں نے جو ووٹ حاصل کیے ان میں برائے نام ہی فرق تھا۔ اس طرح اب پارٹی نظام 1970کی دہائی کے مقابلے قریب قریب ڈرامائی انداز میں تبدیل ہوچکا ہے۔
1990کے بعد ہمارے آس پاس جو سیاسی عمل سامنے آرہے ہیں ان میں موٹے طور پر پارٹیوں کے چار گروپ ابھرتے نظرآتے ہیں: یعنی وہ پارٹیاں جو کانگریس کے ساتھ
 گٹھ جوڑ میں شامل ہیں؛ وہ پارٹیاں جن کا بی جے پی کے ساتھ گٹھ جوڑ ہے؛ بائیں محاذ کی پارٹیاں ؛ اور دیگر پارٹیاں جو ان تینوں میں سے کسی میں شامل نہیں ہیں۔ یہ صورت اشارہ کرتی ہے کہ اب سیاسی مسابقت یا مقابلہ آرائی کثیر الاطراف ہوگی۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ صورت حال میں سیاسی نظریات کا اختلاف شامل ہوگیا ہے۔

بڑھتا ہوا اتفاق رائے

تاہم بہت سے اہم اور نازک مسائل پر اکثر پارٹیوں کے درمیان ایک وسیع سمجھوتہ ابھرکر سامنے آیا ہے۔ شدید مسابقت اور بہت سے تنازعات اور کشاکش کے باوجود زیادہ ترپارٹیوں کے درمیان ایک اتفاق رائے قائم ہوتا نظر آیا ہے۔یہ اتفاق رائے چار اجزاپر مشتمل ہیں ۔

پہلا، 

نئی معاشی اور اقتصادی پالیسیوں کے بارے میں ہم آہنگی اور اتفاق۔ جب کہ بہت سے گروپ نئی معاشی پالیسیوں کے مخالف ہیں، اکثر پارٹیاں ان کی حامی ہیں۔ زیادہ تر پارٹیوں کا خیال ہے کہ یہ نئی پالیسیاں ملک میں خوش حالی لائیں گی اور دنیا میں اسے ایک معاشی قوت کا درجہ دلانے میں مدد کریں گی۔

لوک سبھا انتخابات کے نتائج2004

Pic30 Capture9
نوٹ :  یہ نقشہ پیمانے کے مطابق تیار نہیں کیا گیا ہے اور اسے ہندوستان کی بیرونی سرحدوں کے لیے مستندنہیں سمجھنا چاہیے۔

دوسرا،

 پس ماندہ ذاتوں کے سیاسی اور سماجی دعوے کو تسلیم کرنا۔ سیاسی جماعتوں نے سمجھ لیا ہے کہ پس ماندہ ذاتوں کے سماجی اور سیاسی مطالبات کو ماننے کی ضرورت ہے۔ نتیجے کے طور پر اب تمام سیاسی جماعتیں پس ماندہ طبقوں کے لیے تعلیم اور ملازمتوں میں نشستیں محفوظ کرنے کی حمایت کرتی ہیں۔ سیاسی پارٹیاں اب اس بات کو بھی یقینی بنانے پر رضا مند ہیں کہ دیگر پس ماندہ طبقات (OBCs)کو اقتدار میں مناسب حصہ ملے۔

تیسری 

بات جس پر عام اتفاق رائے ہے وہ یہ ہے کہ ملک کی حکومت چلانے کے کام میں ریاستی سطح کی پارٹیوں کے کردار کو تسلیم کیا جاناچاہیے۔ ریاستی سطح اور قومی سطح کی پارٹیوں کے درمیان امتیاز کی اہمیت تیزی کے ساتھ کم ہورہی ہے۔ جیسا کہ ہم نے اس باب میں دیکھا کہ ریاستی سطح کی پارٹیاں قومی سطح پر اقتدار میں شرکت کررہی ہیں اور تقریباًگزشتہ بیس20برسوں سے ملکی سیاست میں وہ ایک مرکزی کردار ادا کر رہی ہیں۔

چوتھا 

عنصر نظر یاتی موقفوں کے بجائے عملی باتوں اور کاموں پر زور اور نظریاتی ہم آہنگی کے بغیر سیاسی اتحاد ہے۔ گٹھ جوڑ کی سیاست نے سیاسی جماعتوں کی توجہ نظریاتی اختلافات سے ہٹاکر اقتدار میں شرکت کی جانب مرکوزکردی ہے۔ اگرچہ این ڈی اے کی زیادہ تر پارٹیاں بی جے پی کی’ ہندوتو‘کے نظر یے سے متفق نہیں تھیں لیکن پھربھی حکومت بنانے کے لیے وہ یک جا ہوگئیں اور پوری مدت تک اقتدار میں رہیں۔
یہ سب تاریخی حیثیت کی تبدیلیاں ہیں اور مستقبل قریب میں سیاست کے رنگ و روپ کو سنوارنے کا کام کریں گی۔ ہم نے ہندوستان کی سیاست کا یہ مطالعہ اس گفتگو سے شروع کیا تھا کہ کانگریس کس طرح ایک غالب اور حاوی پارٹی کے طور پر ابھری۔ اب ہم اس صورت حال سے نکل کر زیادہ مسابقتی سیاست تک آپہنچے ہیں ، لیکن اس سیاست تک جو بڑے سیاسی اداکارں کے ایک مضمر سمجھوتہ پر مبنی ہے۔ تاہم سیاسی پارٹیوں کے اس عام اتفاق رائے کے دائرے میں رہ کر کام کرنے کے باوجود عوامی تحریکیں اورتنظیمیں بہ یک وقت ترقی کی نئی شکلیں ، نئے تصور اور نئی راہیں تلاش کرنے میں لگی ہیں۔ عوامی تحریکوں کے ایجنڈے میں غربت ، بے وطنی ، کم ازکم اجرتیں ، گذربسر، اور سماجی تحفظ
Pic31 Capture9
1990: کیا وی۔پی۔سنگھ باقی رہیں گے؟ نومبر1990: کیا شیکھر باقی رہیں گے؟ جون1990: کیا راؤ بچ پائیں گے؟ جون1996: کیا گوڑا بچ پائیں گے؟
اپریل1997: کیا گجرال بچ پائیں گے؟ مارچ1998: کیا واجپئی بچ پائیں گے؟ 2000 کیا ہندوستان بچ پائے گا؟

بشکریہ: روی شنکر/انڈیا ٹوڈے

Pic32 Capture9

میرا سوال یہ ہے۔ کیا جمہوریت زندہ رہے گی؟

Pic33 Capture9

یا پھر،حقیقی سوال یہ ہوسکتا ہے کہ جمہوریت کے اندر سے بامعنی نظریہ ابھرکر سامنے آئے؟


17ویں لوک سبھا میں مختلف سیاسی جماعتوں کی پوزیشن

32

                                 بھارتیہ جنتا پارٹی  303   
                                 انڈین نیشنل کانگریس52
                                درواڈہ  منیڑہ کژگام(ڈی ایم کے) 24
                               شیوسینا(ایس ایس)18
                              جنتا دل یونائٹیڈ(جے ڈی یو)16
                             بیجو جنتا دل (بی جے ڈی)12
                            بہو جن سماج پارٹی(بی ایس پی)10
                          دیگر پارٹی108

                        ماخذ: http://loksabha.nic.in 

 
 جیسے مسائل شامل کیے جارہے ہیں تاکہ حکومت کو اس کی ذمہ داری یاد دلائی جاسکے۔ اسی طرح طبقہ، ذات ، جنس اور علاقوں کے تعلق سے انصاف اور جمہوریت کی آواز یں بلند کی جارہی ہیں۔ ہم جمہوریت کے مستقبل کے بارے میں کوئی پیشین گوئی نہیں کر سکتے ۔ لیکن ہم اتنا ضرور جانتے ہیں کہ ہندوستان میں جمہوریت قائم رہے گی اور یہ کہ یہ ایک لگاتار ہم خیزی کے ذریعے کھلتی رہے گی اور آشکارا ہوتی رہے گی اور یہ عمل ان عوامل کی بنیاد پر جاری رہے گا جن کا ذکر اس باب میں آچکا ہے۔

مشقیں

اخبار کے بے ترتیب تراشوں کو اُنی مُنی کی فائل میں سے نکال کر انھیں تاریخوں کے اعتبار سے ترتیب دیجیے۔

   (a)    منڈل سفارشات اور ریزرویشن مخالف تحریک
(b) جنتا دل کی تشکیل 
(c) بابری مسجد کا انہدام
(d) اندراگاندھی کا قتل
  (e)      این ڈی اے حکومت کی تشکیل
  (f)      گودھرا کا واقعہ اور اس کے اثرات
(g) یو پی اے حکومت کی تشکیل

درج ذیل کے صحیح جوڑے بنائیے۔

    a.  عام اتفاق رائے کی سیاست                                              i. شاہ بانو معاملہ
   b.  ذات پر مبنی پارٹیاں                                                     ii.  دیگر پس ماندہ طبقوں کا عروج
   c.  نجی قانون اور جنسی انصاف                                            iii.  مخلوط یاگٹھ جوڑ کی حکومت
  d . علاقائی پارٹیوں کی بڑھتی قوت                                         iv. معاشی پالیسیوں پر اتفاق رائے
3۔1989کے بعد کے عرصہ میں ہندوستانی سیاست کے خا ص مسائل بیا ن کیجیے۔ان اختلافات کی وجہ سے سیاسی جماعتوں کی کون کون سی نئی شکلیں وجود میں آئیں؟
4۔ ’’گٹھ جوڑ کے اس نئے دور میں سیاسی پارٹیاں کسی نظر یاتی بنیاد یا اصول پر ایک دوسرے کے ساتھ اتحاد میں شامل نہیں ہوتیں یا ایک اتحاد کو توڑ کر دوسرے میں شامل ہوتی ہیں۔ ‘‘آپ اس بیان کی حمایت یا مخالفت میں کیا دلائل پیش کریں گے؟

5۔  ایمرجنسی کے بعد کی سیاست میں بی جے پی کا ایک اہم قوت بن کر ابھرنے کا ایک خاکہ پیش کیجیے۔
کانگریس اپنے غلبہ کے زوال کے باوجود ملک کی سیاست کو متواتر متاثر کر رہی ہے۔ کیا آپ اس خیال سے متفق ہیں؟ وجوہات بیان کیجیے۔
7۔  بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ کامیاب جمہوریت کے لیے دو پارٹی نظام ضروری ہے۔ گزشتہ بیس سالوں میں ہندستان کی سیاست کے تجزیے کی روشنی میں ایک مضمون تحریر کیجیے جس میں ہندوستان کے موجودہ پارٹی نظام کے فوائدبیان کیے جائیں۔
8۔   عبارت کو پڑھ کر آخرمیں دئیے ہوئے سوالوں کے جواب دیجیے:

ہندوستان میں پارٹی سیاست کو کئی چیلنج درپیش رہے ہیں۔ نہ صرف کانگریس نظام نے خود کو تباہ کیا بلکہ کانگریس گٹھ جوڑکے ٹکڑے ہوکر بکھر جانے کی وجہ سے خود نمائندگی کی نئی اہمیت اور اس پر زور دینے کی ابتدا ہوئی ہے جس نے  پارٹی سسٹم اور متنوع و مختلف مفادات کو اپنے اندر سمونے کی صلاحیت کے بارے میں سوالات اٹھائے ہیں۔ سیاست کے سامنے ایک اہم آزمائش ایک پارٹی نظام یا ایسی سیاسی جماعتیں تیار کرنے کا کام ہے جو موثر طور پر مختلف قسموں کے مفادات کو صاف طور پر بیان اور یک جا کرسکیں’—‘ زویا حسن

(a)      اس باب میں آپ نے جو کچھ پڑھا ہے اس کی روشنی میں مصنفہ کے پارٹی سسٹم کے چیلنجوں سےمتعلق تصورات پر ایک مختصر نوٹ لکھیے۔
(b)    فراخ دلی اور یکجا ئیت کے فقدان کی ایک مثال اس باب سے تلاش کیجیے، جس کا حوالہ اس اقتباس میں دیا گیا ہے۔
(c) متفرق مفادات کی جانب فراخ دلی اور یکجائیت پارٹیوں کے لیے کیوں ضروری ہے؟

آئیے اسے مل جل کر کریں 

  • اس باب میں 2004 کے انتخابات (14ویں لوک سبھا) تک ہندوستان کی سیاست کے اہم واقعات کو پیش کیا گیا ہے۔اس کے بعد 2009میں لوک سبھا کے انتخابات کرائے گئے جس کے دوران کانگریس کی قیادت میں یوپی اے کو کامیابی حاصل ہوئی۔ 2014 کے انتخابات میں بھاجپا کی قیادت میں این ڈی اے کو کامیابی ملی۔16ویں لوک سبھا میں مختلیف پارٹیوں کی پوزیشن صحفہ 201پر ظاہر کی گئی ہے ۔ 
  • الیکشن کمیشن آف انڈیا کی ویب سائٹ (http://eci.nic.in)سے نتائج سے متعلق اعداد وشمار جمع کیجیے اور 2009 کے انتخابات (15 ویں لوک سبھا) اور 2014 کے انتخابات (16ویں لوک سبھا) میں مختلف سیاسی پارٹیوں کی انتخابی کارکردگی کا موازنہ کیجیے۔
  • 16ویں لوک سبھا کے اراکین کا ایک تفصیلی مطالعہ لوک سبھا کی ویب سائٹ (http://loksabha.nic.in)پر موجود ہے۔
  • 2004کے بعد سے ہندوستان میں اہم سیاسی واقعات کا ایک خاکہ تیار کیجیے اور اپنی جماعت میں اس پر گفتگو کیجیے۔
Pic35 Capture9
مرکزی کمیشن
CENTRAL VIGILANCE COMMISSION
(ایمانداری کا حلف)
INTERGRITY PLEDE

میرا یقین ہے کہ ہمارے ملک کی معاشی، سیاسی اور سماجی ترقی میں بدعنوانی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ میرا یقین ہے کہ بد عنوانی ختم کرنے کے لیے سبھی فریقوں جیسے سرکار، شہریوں اور نجی شعبے کو ایک ساتھ ملکر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اسے ہمیشہ ایمانداری اور راست کے اعلی معاہدوں کے تئیں پابند رہنا چائیے، نیز میرا خیال ہے کہ ہر شہری کو مستعد رہنا چاہیے اور بدعنوانی کے خلاف جدو جہد میں ایک دوسرے کا ساتھ دینا چاہیے۔ 

اس لیے میں عہد کرتا ہوں کہ: 

  • زندگی کے سبھی شعبوں میں ایمانداری اور قانون کے اصولوں کی پابندی کروں گا۔ 
  • نہ رشوت لوں گا اور نہ ہی رشوت دوں گا۔
  • سبھی کام ایمانداری ثقافیت کے ساتھ کروں گا۔
  •      عوامی مفاد کے لیے کام کروں گا۔ 
  • اپنے ذاتی کردار میں ایمانداری کی مثال پیش کروں گا۔ 
  •  بدعنوانی کے کسی بھی معاملے کی رپورٹ متعلقہ ایجنسی کو دوں گا۔ 
مرکزی ویجلنس کمیشن (سی وی وی) کے بارے میں معلومات کے لیے لوگ ان کیجیے ۔ 
www.cvc.nic.in