Skip to content
BArcode


2

ساجھا کھاتہ داری: بنیادی تصورات

سیکھنے کے مقاصد

اس باب کے مطالعہ کے بعد آپ اس قابل ہوجائیں گے کہ :
ساجھے داری (Partnership)کی تعریف کرسکیں اوراس کی اہم خصوصیات کی فہرست بنا سکیں۔
• ساجھے داری معاہدہ (Partnership  deed) کے موضوعات اور مفہوم کو بیان کرسکیں۔
انڈین پارٹنرشپ ایکٹ1932کی ان دفعات کی شناخت کرسکیں جو کہ کھاتہ داری سے متعلق ہیں۔
• متغیر اور قائم سرمایوں کے طریقوں کے تحت ساجھے داروں کے سرمایہ کھاتے تیار کر سکیں۔
ساجھے داروں میں نفع نقصان کی تقسیم کرسکیں اور نفع نقصان تصرفی کھاتہ تیار کر سکیں۔
مختلف حالات میں نکالی ہوئی رقم (Drawing)اور سرمایہ پر سود کا حساب کرسکیں۔
اس کی وضاحت کر سکیں کہ کسی ساجھے دار کو منافع کی کم ازکم ضمانت شدہ رقم ساجھے داروں کے مابین منافع کی تقسیم کو کس طرح متاثر کرے گی۔
ساجھے داروں کے سرمایہ کھاتوں میں ماضی کی غلطیوں کو درست کرنے کے لیے ضروری تسویہ(ایڈجسٹمنٹ) کر سکیں۔اور
ایک ساجھے داری فرم کے اختتامی (Final)کھاتوں کو تیار کرسکیں۔

آپ انفرادی ملکیت والے کاروبار کے فائنل کھاتوں کی تیاری کے بارے میں پڑھ چکے ہیں۔جیسے جیسے کاروبار وسیع ہوتا ہے ویسے ویسے زیادہ سرمایہ اور کاروبار کے انتظام اور جوکھم(risks)میں حصہ داری کے لیے زیادہ لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ایسی صورت میں،عام طورپر لوگ کسی تنظیم کی ساجھے داری والی شکل کو اپناتے ہیں۔ساجھے داری برائے ساجھے داری کی اپنی مخصوص خصوصیات ہیں۔ساجھے داری فرم اس وقت وجود میں آتی ہے جب دویا دو سے زیادہ اشخاص مل کر کاروبار کو قائم کرتے ہیں اور اس کے منافعوں میں حصہ دار ہوتے ہیں۔منافع کی تقسیم سے متعلق ہوسکتا ہے بہت سے معاملات میں ساجھے داروں (Partners) کے درمیان کوئی مخصوص معاہدہ نہ ہو۔ایسی صورت میں انڈین پارٹنرشپ ایکٹ1932کی دفعات لاگو ہوتی ہیں۔اسی طرح،ساجھے داروں کے سرمایہ کھاتوں اورنکالی گئی رقم پر سودنیز سرمایے پر سود کا حساب لگانے کی الگ خصوصیات ہیں۔یہی نہیں بلکہ ایک شریک کی موت یا نئے شریک کی شمولیت وغیرہ پر بہت سے تطابق (ایڈجسٹ منٹ) بھی کرنے پڑتے ہیں۔
کھاتے داری میں ان حالات سے نپٹنے کے لیے مخصوص تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان خصوصی تدابیر کی وضاحت ضروری بھی ہے۔
موجودہ باب میں ساجھے داری کے چند بنیادی پہلوؤں مثلاً منافع کی تقسیم،سرمایہ کھاتوں کی تیاری وغیرہ کا ذکر کیا گیا ہے۔ساجھے دار (Partners) کی فرم میں شمولیت ،اس کی سبک دوشییاموت اور فرم کا خاتمہ جیسے حالات میں کیے جانے والے کھاتہ داری برتاؤ کو آنے والے ابواب میں ذکر کیاجائے گا۔

2.1ساجھے داری کی نوعیت(Nature of Partnership)

جب دویا دو سے زیادہ اشخاص ایک کاروبار کو قائم کرتے ہیں اور نفع اور نقصان میں ساجھے دار ہوتے ہیں تب ان کو ساجھے داری میں کہا جاتا ہے۔ انڈین پارٹنرشپ ایکٹ1932کے سیکشن 4کی رو سے’’ساجھے داری ان اشخاص کے مابین تعلق کا نام ہے جو کسی کاروبار کے نفع نقصان میں شریک ہوں،خواہ اسے سب مل کر چلائیں یا ان کی طرف سے ان ہی میں سے کوئی فرد۔‘‘
وہ افراد جو اس معاہدے میں شامل ہوتے ہیں انھیں انفرادی طور پر ساجھے دار‘ اور اجتماعی طور پر’فرم‘کہا جاتا ہے۔ ایک ساجھے داری فرم کا اپنے ساجھے داروں سے علاحدہ قانونی تشخص نہیں ہوتا۔اس طرح ساجھے داری کی اہم خصوصیات مندرجہ ذیل ہیں:

1۔ دویا دو سے زاید اشخاص: ساجھے داری کے قیام کے لیے کم ازکم دو افراد کی ضرورت ہوتی ہے تاہم اس قسم کے کاروبار کے لیے ان کی انتہائی حد بھی مقرر ہے۔اگر فرم کا کاروبار بینک کاری ہے تو اشخاص کی تعداد10سے تجاوز نہ کرے گی اور اگر اس کے علاوہ کوئی اور کاروبارہے تو اشخاص کی تعداد20سے زیادہ نہ ہوگی۔

2۔   معاہدہ:ساجھے داری،دویا دو سے زاید افراد کے مابین کاروبار کو چلانے اور نفع نقصان میں ساجھے داری کرنے کے ایک معاہدے کا نتیجہ ہے۔یہ معاہدہ ساجھے داروں کے درمیان تعلق کی بنیاد بنتا ہے۔ضروری نہیں ہے کہ یہ معاہدہ تحریری شکل میں ہو۔ایک زبانی معاہدہ بھی اتنا ہی درست  مانا جاتا ہے لیکن تنازعات سے بچنے کے لیے ساجھے دار تحریری معاہدے کو ترجیح دیتے ہیں۔
3۔   کاروبار:یہ معاہدہ کسی کاروبار کو چلانے کے لیے ہونا چاہیے۔کسی جائداد کی مشترک ملکیت سے ساجھے داری کی تشکیل نہیں ہوتی۔مثلا اگر روہت اور سچن مل کر زمین کا ایک پلاٹ خریدتے ہیں تو وہ جائداد کے مشترک مالک بن جائیں گے نہ کہ ساجھے  دار (Partners)لیکن اگر وہ منافع کمانے کے مقصد سے زمین کی خرید و فروخت کا کاروبار کرتے ہیں تب ایسی صورت میں انھیں ساجھے دار کہا جائے گا۔
4۔   باہمی  ایجنسی: تمام ساجھے دار بھی فرم کے کاروبار کو چلا سکتے ہیں اور ان کا مقررہ کوئی نمائندہ بھی۔اس کا مطلب ہے کہ کاروبار کے انتظام میں ہر ساجھے دار شریک ہو سکتا ہے اور فرم کے لیے کام کرسکتا ہے اور دوسرے ساجھے داروں نے فرم کے لیے جو کام انجام دیے ہیں ان کے لیے ہر ساجھے دار پابند ٹھہرایا جائے گا۔درحقیقت ساجھے داری  کاروبار کی بنیاد باہمی ایجنسی کے تعلق کے نظریہ پر قائم ہے۔ایک ساجھے دارایجنٹ بھی ہوتا ہے اور مختار (پرنسپل) بھی یعنی اس کے عمل کے دوسرے ساجھے دار بھی اسی طرح پابند ہوتے ہیں جس طرح یہ ان کے عمل کا۔
5۔    منافع کی حصہ داری: ساجھے داری کا ایک اہم عنصر یہ ہے کہ ساجھے داروں کے درمیان کا روبار کے نفع نقصان میں حصہ داری کا معاہدہ ہو۔ اس طرح نفع اور نقصان کی ساجھے داری ضروری ہے۔ اگر چند لوگ کسی خیراتی سرگرمی کے مقصد سے آپ میں مل جاتے ہیں تو اس کو ساجھے داری نہیں کہا جائے گا۔
6۔    ساجھے داری کی ذمہ داری: فرم کے کاموں کے لیے ہر ایک ساجھے دار تمام دوسرے ساجھے داروں کے ساتھ مل کر تیسرے فریق کے تئیں ذمہ دار ہوتا ہے۔اس کی ذمہ داری فرم کے کاموں کے لیے لامحدود ہوتی ہے اس سے مراد یہ ہے کہ فرم کے قرضوں کی ادائیگی کرنے کے لیے اس کے ذاتی اثاثوں کو بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

2.2  ساجھے داری ، معاہدہ نامہ(Partnership Deed)

ساجھے داری،ساجھے داروں کے درمیان ہونے والے معاہدے کے نتیجے میں وجود میں آتی ہے یہ معاہدہ زبانی بھی ہوسکتا ہے اور تحریری بھی پارٹنر شپ ایکٹ کی رو سے معاہدہ کا تحریری ہونا لازمی نہیں ہے۔لیکن جب بھی یہ تحریری ہوتا ہے تو یہ دستاویز جس میں معاہدہ کی شرائط ہوں’ساجھے داری معاہدہ نامہ‘کہلاتا ہے۔اس میں عام طور پرساجھے داروں کے درمیان تعلق کو متاثر کرنے والے تمام پہلوؤں کے بارے میں تفصیلات ہوتی ہیں جیسا کہ کاروبار کا مقصد ،ہر ایک ساجھے دار کے ذریعہ لگایا گیا سرمایہ،ساجھے داروں کے درمیان نفع نقصان کی تقسیم کا تناسب،ساجھے داروں کے ذریعہ دیے گئے قرض اور لگائے گئے سرمایہ پر سود کی شرح وغیرہ۔
معاہدہ نامہ کی دفعات میں تمام ساجھے داروں کی رضامندی سے ترمیم کی جاسکتی ہے۔معاہدہ نامہ’اسٹامپ ایکٹ‘ کی دفعات کے مطابق تیار کیا جانا چاہیے اور مناسب طور پر تحریر ہونا چاہیے اس کو فرموں کے رجسٹرار کے پاس رجسٹرڈ کرانا بھی چاہیے۔

ساجھے داری معاہدہ نامہ کے مندرجات

ساجھے داری میں عموما درج ذیل تفصیلات ہوتی ہیں۔
فرم کے نام اور پتے اور اس کا اہم کاروبار
• تمام ساجھے داروں کے نام اور پتے
• ہر ساجھے دار کے ذریعہ لگائے گئے سرمائے کی رقم
• فرم کی کھاتہ داری مدت
•ساجھے داری کے آغاز کی تاریخ
بینک کھاتوں کو چلانے سے متعلق ضوابط
• نفع ونقصان کی تقسیم کا تناسب
•ساجھے داری سے نکالی گئی رقم اور سرمایہ شرح پر سود وغیرہ
آڈیٹر کے تقرر کاطریقہ
ساجھے دار کو ادا کی جانے والی تنخواہ،کمیشن وغیرہ
ہر ساجھے دار کے حقوق،فرائض اور ذمہ داریاں
ایک یا ایک سے زیادہ ساجھے داروں کے دیوالیہ ہونے کی صورت میں ہونے والے نقصان کا تسویہ(Adjustment)
فرم کے خاتمہ پر کھاتوں کانپٹارا
ساجھے دارکے درمیان تنازعہ کے حل کا طریقہ
•ساجھے دارکی شمولیت،سبک دوشی اور حالت موت سے متعلق ضوابط
•کاروبار کو چلانے سے متعلق دیگر معاملات
عام طور پر اس معاہدہ نامہ میں ساجھے  داروں کے درمیان تعلق کو متاثر کرنے والے تمام معاملات کی تفصیل ہوتی ہے۔ بہرحال،اگر معاہدے میں کچھ امور واضح ہوں تو ایسی صورت میں انڈین پارٹنرشپ ایکٹ1932کی دفعات لاگو ہوں گی۔
2.2.1کھاتہ داری سے متعلق دفعات:
ساجھے  داری کھاتوں پر اثر انداز ہونے والی اہم شرائط یا دفعات مندجہ ذیل ہیں۔
(a )     منافع میں حصہ داری کا تناسب:اگر معاہدہ نامہ منافع کی حصہ داری کے تناسب کے بارے میں خاموش ہے تو ایسی صورت میں تمام شرکا اپنے فراہم کردہ سرمایہ سے قطع نظر فرم کے نفع و نقصان میں مساوی طور پر شریک ہوں گے۔
(b) سرمایے پرسود:کسی بھی ساجھے  دار کو لگائے گئے سرمائے پر سود کے مطالبہ کرنے کا حق نہیں ہوگا۔سود اس صورت میں دیا جا سکتا ہے جب کہ تمام ساجھے  دار اس پر رضامند ہوں ۔اس طرح اگر معاہدہ نامہ اس مسئلے پر خاموش ہے تو سرمایہ پر سود قابلِ ادا نہیں ہوتا۔لیکن اگر معاہدہ نامہ میں سرمایے پر سود کی ادائیگی کی شرط تو موجود ہو لیکن شرح کی وضاحت نہ ہو ایسی صورت میں6فیصد سالانہ کی شرح سے سود دیا جائے گا۔مزید یہ کہ سود صرف کاروبار کے منافعوں میں سے ادا کیا جائے گااور اگر فرم کو اس مدت کے دوران نقصانات ہوئے ہیں تو پھر ایسی صورت میں سود نہیں دیا جائے گا۔
(c) نکالی گئی رقم پر سود: اگر معاہدہ نامہ میں کوئی وضاحت نہیں ہے تو وہ رقم جو ساجھے داروں نے فرم سے نکالی  ہے اس پر کوئی سود طلب نہ کیاجائے گا۔
(d)  قرض پر سود: اگر فراہم کردہ سرمایے کے علاوہ کوئی ساجھے  دار فرم کو کچھ رقم قرض دیتا ہے تو اس رقم پر 6فیصد سالا نہ شرح سے وہ سود کا مستحق ہوگا۔
(e) ساجھے داروں کو معاوضہ: فرم کے کاروبار میں ساجھے داری پر کوئی بھی ساجھے دار تنخواہ یا کمیشن وغیرہ کا مستحق نہ ہوگا جب تک کہ معاہدہ  نامہ میں اس کے لیے کوئی دفعہ نہ ہو۔
درج بالا کے علاوہ،انڈین پارٹنرشپ ایکٹ ساجھے داروں کے درمیان ہونے والے معاہدہ میں درج ذیل امور کی بھی وضاحت کرتا ہے:
(1)    اگر کوئی ساجھے دار فرم کے نام یااس سے متعلقہ کاروبار یا اثاثوں کے استعمال سے یا فرم کے کسی سودے کے ذریعے منافع حاصل کرتا ہے تو وہ اسے فرم کو ادا کرے گا۔
(2 )    اگر ایک ساجھے دار فرم کے کاروبار جیسا ہی یکساں نوعیت کا کوئی کاروبار کرتا ہے تو وہ اس کے ذریعے کمایا گیا منافع فرم کو ادا کرے گا۔

 I اپنی فہم کی جانچ کیجیے

1۔موہن اور شیام ایک فرم میں ساجھے دار ہیں۔بتائیے کہ ان کا مطالبہ درست ہوگا یا نہیں اگر معاہدہ نامہ مندرجہ ذیل معاملات میں خاموش ہے:
(i) موہن ایک سرگرم ساجھے دار ہے،وہ 10,000روپیے سالانہ تنخواہ چاہتا ہے۔
(ii) شیام نے فرم کو قرض دیا ہے۔10%کی سالانہ شرح سے وہ سود کا مطالبہ کرتا ہے۔
(iii) موہن نے 20,000روپیے اور شیام نے 50,000روپیے بطور سرمایہ فرم میں لگایا ہے۔موہن منافع میں مساوی حصہ داری چاہتا ہے۔
(iv) شیام%6کی سالانہ شرح سے سرمایے پر سود کی مانگ کرتا ہے۔
2۔بتائیے مندرجہ ذیل بیانات صحیح ہیں یا غلط:
(i) ساجھے داروں کے درمیان تحریری معاہدے کے بغیر ساجھے داری (Partnership)کی تشکیل کی جاسکتی ہے۔
(ii) کاروبار کو چلانے ولا ہر ساجھے دار مختار (پرنسپل) بھی ہوتا ہے اور دوسرے تمام ساجھے داروں کا کارندہ (ایجنٹ) بھی ۔
(iii) بینک کاری فرم میں ساجھے داروں کی زیادہ سے زیادہ تعداد 20ہوسکتی ہے۔
(iv) ساجھے داروں کے درمیان تنازعات کے نپٹارے کے طور طریقے معاہدہ نامہ کا حصہ نہیں ہوسکتے ۔
(v) اگر معاہدہ نامہ خاموش ہے،تو ساجھے داروں کے ذریعہ نکالی گئی رقم پر %6سالانہ کی شرح سے سود لیا جائے گا۔
(vi)   اگر معاہدہ نامہ خاموش ہے، تو ساجھے دار کے ذریعہ دیے گئے قرض پر %12سالانہ سے سود دیاجائے گا۔

2.3ساجھے داری کھاتوں کے خصوصی پہلو: special aspects of partnership accounts

ساجھے داری والی فرم کی کھاتہ داری اور کسی فرد واحد کی ملکیت والی فرم کی کھاتے داری دونوں یکساں ہوتی ہے۔ البتہ مندرجہ ذیل امور مستثنیٰ ہیں۔
ساجھے داروں کے سرمایہ کھاتوں کا رکھ رکھاؤ
 ساجھے داروں کے درمیان نفع اور نقصان کی تقسیم
ماضی میں منافعوں کے غلط تصرف کے لیے ایڈجسٹمنٹ
ساجھے داری فرم کی ازسر نوتشکیل اور
ساجھے داری فرم کا خاتمہ
مندرجہ بالا اوّلین تین پہلوؤں کی وضاحت اس باب کے درج ذیل سیکشنوں میں کی گئی ہے باقی پہلوؤں کی وضاحت آنے والے ابواب میں کی جائے گی۔

2.4ساجھے داروں کے سرمایہ کھاتوں کا رکھ رکھاؤ Maintenance of Capital Accounts of Partners

ساجھے داروں کے تمام لین دین کوفرم کی کتابوںمیں ان کے سرمایہ کھاتوں کے ذریعے درج کیا جاتاہے۔اس میں ان کے ذریے بطور سرمایہ لائی گئی رقم،نکالا گیا سرمایہ،منافع کا حصہ،سرمایہ پر سود،نکالی گئی رقم پر سود،ساجھے دار کی تنخواہ ،اس کو دیے گئے کمیشن وغیرہ جیسے لین دین شامل ہیں۔
ساجھے داروں کے سرمایہ کھاتوں کو دو طرح سے بنایا جا سکتا ہے :
(i) قائم سرمایہ کا طریقہ (Fixed capital method (iiمتغیر سرمایہ کا طریقہ Fluctuating capital method۔ فرق صرف یہ ہوتا ہے کہ اضافہ کردہ اور نکالے گئے سرمایے کے علاوہ دیگر لین دین کو ساجھے داروں کے سرمایہ کھاتوں میں درج کیا جاتا ہے یا نہیں۔
(a) قائم سرمائے کا طریقہ: قائم سرمایے کے طریقے کے تحت،ساجھے داروں کے سرمایے اس وقت تک قائم رہیں گے جب تک کہ ساجھے داروں کے درمیان ہونے والے معاہدے کے مطابق یا تو اضافی سرمایہ لگایا جائے یا پھر سرمایے کا ایک حصہ نکالاجائے۔دوسری تمام مدوں جیسے نفع یا نقصان کا حصہ،سرمائے پر سود،نکالی گئی رقم پر سود وغیرہ کو ایک علاحدہ کھاتے میں درج کیا جاتا ہے جسے ساجھے دار کا چالو کھاتہ کہتے ہیں۔ساجھے دار کا سرمایہ کھاتہ ہمیشہ جمع باقی (Credit balance)ظاہر کرتا ہے جو سال بہ سال یکساں(قائم) بنارہتا ہے جب تک کہ سرمایہ نکالا یا لگایا نہ جائے۔اس کے برعکس ساجھے دار کا چالو کھاتہ نام باقی(Debit Balance)بھی ظاہر کرسکتا ہے اور جمع باقی (Credit Balance)بھی۔ اس طرح اس طریقے میں ہرساجھے دار کے لیے دو کھاتے تیار کیے جاتے ہیں یعنی سرمایہ کھاتہ اور چالو کھاتہ۔ساجھے داروں کا سرمایہ کھاتہ بیلنس شیٹ میں’ذمہ داریوں‘ کی جانب ظاہر کیا جاتا ہے جب کہ ساجھے داروں کے چالو کھاتوں کو ذمہ داریوں‘ کی جانب اس وقت ظاہر کیا جائے گا جب ان کی جمع باقی ہو لیکن اگر ان کے نام باقی ہے تو پھرانھیں اثاثہ جات کی جانب ظاہر کیا جائے گا۔
قائم سرمایے کے طریقے کے تحت ساجھے دار کا سرمایہ کھاتہ اور چالو کھاتہ مندرجہ ذیل ہوگا۔

ساجھے دار کا سرمایہ کھاتہ

نام (Dr)                                                                         جمع(Cr)
تاریخ تفصیلات J.F رقم(روپیے) تاریخ تفصیلات J.F رقم(روپیے)
بینک سرمایہ کا مستقل نکالا
  جائے)
بیلنس c/dاختتامی بیلنس)

xxx


xxx



xxx=
بیلنس b/d
(افتتاحی بیلنس)
بینک (تازہ لگایا گیا سرمایہ)
xxx


xxx


=xxx

ساجھے دارکا چالو کھاتہ

نام (Dr)                                                                            جمع(Cr)
تاریخ تفصیلات J.F رقم(روپیے) تاریخ تفصیلات J.F رقم(روپیے)



بیلنس b/d( ڈیبٹ افتتاحی بیلنس کے کیس میں) نکالی گئی  رقوم۔
نکالی گئی  رقوم پر سود نفع اورنقصان  کھاتہ بیلنس c/d(اختتامی  کریڈٹ بیلنس کے کیس میں) 

xxx

xxx

xxx
xxx
xxx

=xxx

بیلنس b/d( افتتاحی کریڈٹ بیلنس کے کیس میں) تنخواہ کمیشن سرمایہ پر سود نفع اور نقصان کھاتہ (نفع کے حصہ کے لئے)
بیلنس c/d( ڈیبٹ اختتامی بیلنس کے کیس میں)

xxx

xxx
xxx

xxx

xxx

=xxx
شکل2.1: قائم سرمایہ کے طریقے کے تحت ساجھے دار کے کپیٹل اور کرنٹ کھاتوں کے خاکے (پروفارمے)۔
(b) متغیر سرمایہ کا طریقہ(Fluctuating Capital Method.): متغیر سرمایہ کھاتہ کے تحت،ہر ساجھے دار کے لیے صرف ایک کھاتہ تیا ر کیا جاتا ہے یعنی سرمایہ کھاتہ۔تمام ایڈجسٹ منٹ جیسے نفع اور نقصان کاحصہ،سرمایہ پر سود،نکالی گئی رقم پر سود،تنخواہ یا ساجھے داروں کے کمیشن وغیرہ کو ساجھے داروں کے سرمایہ کھاتوں میں براہِ راست درج کیا جاتا ہے۔اسی وجہ سے سرمایہ کھاتہ کا بیلنس وقتاً فوقتاً تبدیل ہوتا رہتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس طریقے کو متغیر سرمایے کا طریقہ کہا جاتا ہے۔ہدایات کی غیر موجودگی میں،سرمایہ کھاتہ کو اسی طریقہ سے تیار کرنا چاہیے۔
متغیر سرمایہ کے طریقہ سے تیار شدہ سرمایہ کھاتہ کا خاکہ ذیل میں دیاگیا ہے۔
ساجھے دار کا سرمایہ کھاتہ
نام (Dr)                                                                          جمع(Cr)
تاریخ تفصیلات J.F رقم (روپے) تاریخ تفصیلات J.F رقم (روپے)
بیلنس b/d( ڈیبٹ اختتامی بیلنس کی صورت میں)
 نکالی گئی رقوم
نکالی گی رقم پر سود
نفع اورنقصان  کھاتہ (نقصان کے حصے کے لیے)
بیلنس c/d(اختتامی  کریڈٹ بیلنس کے کیس میں) 

xxx


xxx

xxx

xxx


=xxx
بیلنس b/d(  کریڈٹ افتتاحی بیلنس کی صورت میں)
بینک (تازہ لگایا گیا سرمایہ)
تنخواہیں
 سرمایہ پر سود
 نفع اور نقصان تصرف (نفع کے حصے کے لیے)
بیلنس b/d( ڈیبٹ اختتامی بیلنس کے کیس میں)
xxx

xxx

xxx
xxx

xxx


=xxx
شکل2.2:متغیر سرمایہ کے طریقے کے تحت ساجھے دار کے کیپٹل کھاتے کا خاکہ۔

2.4.1قائم اور متغیر سرمایہ کھاتوں کے درمیان فرق:

قائم اور متغیر سرمایہ کے طریقوں کے درمیان فرق کے اہم نکات مندرجہ ذیل ہیں:
فرق کی بنیاد قائم سرمایہ کھاتہ متغیر سرمایہ کھاتہ
(i) کھاتوں کی تعداد اس طریقہ کے تحت ہر ساجھے دار کے دو علاحدہ کھاتے تیار کیےجاتے ہیں۔سرمایہ کھاتہ اور چالو کھاتہ۔
نکالی گئی رقم،تنخواہ،سرمایہ پر سود،وغیرہ کے لیے تمام
ہر ساجھے دار کا ایک کھاتہ ہوتا ہے۔یعنی سرمایہ کھاتہ
(ii) دستاویز سے متعلق مدیں نکالی گئی رقوم، تنخواہ سرمایہ پر سود وغیرہ کو چالو کھاتہ میں پوسٹ(ٹرانسفر) کیا جاتا ہے نہ کہ سرمایہ کھاتہ میں نکالی گئی رقم،تنخواہ،سرمایہ پر سودکے لئے تمام ایڈجسٹ منٹ سرمایہ کھاتہ میں کیے جاتے ہیں
(iii) قائم بیلنس
(fixed balance)
سرمایہ کھاتہ کا بیلنس غیر تبدیل شدہ رہتا ہے جب تک کہ سرمایہ لگایا یا نکالا نہ جائے۔ سرمایہ کھاتہ کا بیلنس سال در سال تبدیل ہوتا رہتا ہے۔
(iv) جمع بیلنس
(credit balance)
سرمایہ کھاتہ ہمیشہ جمع بیلنس ظاہر کرتا ہے۔ سرمایہ کھاتہ بعض اوقات باقی  (debit balance) بھی ظاہر کرسکتا ہے۔


 2.5ساجھے داروں کے درمیان منافع کی تقسیم

(Distribution of Profit among Partners)

فرم کے نفع اور نقصان کو ساجھے داروں کے درمیان ایک طے شدہ تناسب میں تقسیم کردیا جاتا ہے لیکن اگرمعاہدہ نامہ اس ضمن میں خاموش ہو تو فرم کے نفع اور نقصان کو تمام ساجھے داروں کے درمیان مساوی طور پر تقسیم کردیا جائے گا۔

آپ جانتے ہیں کہ فردواحدکی ملکیت والے کاروبار کی صورت میں نفع اور نقصان کھاتے کے ذریعے ظاہر ہونے والا تمام نفع ونقصان تنہا مالک کے سرمایہ کھاتہ میں منتقل کر دیاجاتا ہے۔ساجھا کاروبار کی صورت میں سرمایے پر سود،نکالی گئی رقم پرسود،ساجھے داروں کی تنخواہ اوران کے کی کمیشن وغیرہ کے ضمن میں چندایڈجسٹ منٹ کرنے پڑتےہیں۔
اس مقصد کے لیے فرم کا نفع و نقصان تصرف کھاتہ(Profit & Loss Appropriation A/c)تیار کیا جاتا ہے
اور اس طرح نفع ونقصان کی وہ اختتامی رقم معلوم کی جاتی ہے جو ساجھے داروں کے درمیان ان کے نفع کی حصہ داری کے تناسب میں بانٹی جانی ہے۔
2.5.1نفع اور نقصان تصرف کا کھاتہ:
نفع اور نقصان تصرف کھاتہ فرم کے نفع اور نقصان کھاتہ کی محض توسیع ہے۔یہ اس لیے بنایا جاتا ہے کہ ساجھے داروں میں خالص منافع کی تقسیم کی نشاندہی کی جاسکے۔شراکت کی تنخواہ ،ساجھے دار کا کمیشن،سرمایے پر سود ،نکالی گئی رقم پر سودوغیرہ سے متعلق تمام ایڈجسٹ منٹ اس کھاتہ میں کیے جاتے ہیں۔اس کا آغاز نفع اور نقصان کھاتے کے مطابق اس پر منتقل کیے جانے والے خارجی منافع/خارجی نقصان سے ہوتا ہے۔
نفع و نقصان کھاتہ بنانے اور اس میں مختلف ایڈجسٹ منٹ کرنے کے لیے حسب ذیل روزنامچہ اندراجات کرنے پڑتے ہیں۔
روزنامچہ اندراجات(Journal Entries)
نفع ونقصان کھاتہ کے بیلنس کو نفع ونقصان تصر ف کھاتہ میں منتقل کرنے کے لیے:
(a) اگر نفع ونقصان کھاتہکریڈٹ بیلنس(خالص منافع) ظاہر کرے (خاص خارجی منافع):
نفع اور نقصان کھاتہ   .Dr
نفع اور نقصان تصرف کھاتہ کے لیے
(b) اگر نفع ونقصان کھاتہ ڈیبٹ بیلنس (خالص نقصان) ظاہر کرے:
نفع و نقصان تصرف کھاتہ .Dr
نفع اور نقصان کھاتہ کے لیے
سرمایے پر سود:
(a) سرمایے پر سود کی اجازت دینے کے لیے
سرمایہ پر سود کھاتہ .Dr
فرداً فرداً ساجھیدار کا چالو / سرمایہ کھاتہ کے لیے
(b) سرمایے پر سود کو نفع اور نقصان تصرف کھاتہ (Profit and Loss Appropriation Account)میں منتقل کرنے کے لیے:
نفع اور نقصان تصرف کھاتہ .Dr
سرمایہ پر سود کھاتہ کے لیے
نکالی گئی رقم پر سود:
(a) نکالی گئی رقم پر سود کو ساجھے داروں کے سرمایہ کھاتوں پر بار کرنے کے لیے:
(b) نکالی گئی رقم پر سود کو نفع اور نقصان تصرف کھاتہ میں منتقل کرنے کے لیے:
نکالی گئی رقم پر سود کھاتہ .Dr
نفع اور نقصان تصرف کھاتہ
ساجھے دار کی تنخواہ:
(a) ساجھے دار کی تنخواہ کو ساجھے دار کے سرمایہ کھاتہ میں جمع کرنے کے لیے:
ساجھے دار کی تنخواہ کا کھاتہ .Dr
فرداً فرداً ساجھے دار کا چالو / سرمایہ کھاتہ کے لیے
(b) ساجھے دار کی تنخواہ کو نفع اور نقصان تصرف کھاتہ میں منتقل کرنے کے لیے:
نفع اور نقصان تصرف کھاتہ .Dr
ساجھے دار کی تنخواہ کے کھاتہ کے لیے
ساجھے دار کا کمیشن:
(a) ساجھے دار کے کمیشن کو ساجھے دار کے سرمایہ کھاتہ میں جمع کرنے کے لیے:
ساجھے دار کو کمیشن کھاتہ .Dr
فرداً فرداً ساجھے دار کا چالو / سرمایہ کھاتہ کے لیے 
(b) ساجھے داروں کے کمیشن کو نفع و نقصان تصرف کھاتہ میں منتقل کرنے کے لیے:
نفع اور نقصان تصرف کھاتہ .Dr
ساجھے دار کو کمیشن پر چالو/ سرمایہ کھاتہ کے لیے
تصرف پر نفع یا نقصان کے حصہ کے لیے:
(a) نفع کی صورت میں:
نفع اور نقصان تصرف کھاتہ .Dr
فرداً فرداً ساجھے دار کا چالو / سرمایہ کھاتہ کے لیے
      نقصا ن کی صورت میں:
فرداً فرداً ساجھے دار کا چالو / سرمایہ کھاتہ .Dr
نفع اور نقصان تصرف کھاتہ کے لیے
(b) نقصان کی صورت میں ساجھے دار کا سرمایہ/چالو کھاتہ نفع /نقصان تصرف کھاتہ سے 
 نفع و نقصان تصرف کھاتہ ذیل میں دی ہوئی شکل میں دکھایا گیا ہے۔

نفع اور نقصان تصرف کھاتہ(Profit and Loss Appropriation A/c)

                       نام (Dr)                                                                                                                                                                      جمع(Cr)

تفصیلات رقم(روپیے) تفصیلات رقم(روپیے)
نفع اور نقصان
(اگر نقصان ہوا ہے)
سرمایہ پر سود
ساجھے دار کی تنخواہ
ساجھے دار کے سرمایہ کھاتے
(منافع تقسیم کرنے لیے )
xxx


xxx
xxx
xxx
xxx
نفع اور نقصان
(اگرمنافع ہوا ہے)
نکالی گئی رقم پر سود
xxx

xxx

xxx
xxx xxx
شکل2.3: نفع اور نقصان تصرف کھاتہ کا پرو فورما

مثال1

سمیراور یاسمین نے بالترتیب 15,00,000روپیے اور10,00,000روپیے کے سرمایے سے بطور ساجھے دار کا روبار شروع کیا۔ انھوں نے 3:2کے تناسب سے منافع کی تقسیم پر اتفاق کیا۔دکھائیے کہ آپ مندرجہ ذیل لین دین کو ساجھے داروں کے سرمایہ کھاتوں میں کیسے درج کریں گے اگر(i)سرمایہ قائم ہواور(ii) سرمایہ متغیر ہو۔کتابیں ہر سال 31مارچ کو بند کی جاتی ہیں۔


تفصیلات سمیر(روپیے) یاسمین (روپیے)
یکم اکتوبر 2019 کو لگایا گیا اضافی سرمایہ
سرمایہ پر سود
نکالی گئی رقم(2019-20کے دوران)
نکالی گئی رقم پر سود
تنخواہ
کمیشن
سال 2019-20کے نقصان میں حصہ
3,00,000
5%(سالانہ)
30,000
1800
20,000
10000
60,000
2,00,000
5%(سالانہ)
20000
1200

7,000
40,000
حل:

قائم طریقۂ سرمایہ(Fixed Capital Method) 

ساجھے دار کاسرمایہ کھاتہ

نام(Dr)   جمع(Cr)
تاریخ تفصیلات L.F سمیر
رقم (روپیے)
یاسمین
رقم (روپیے)
تاریخ تفصیلات L.F سمیر
رقم (روپیے)
یاسمین
رقم (روپیے)
بیلنسc/d 18,00,000



18,00,000
12,00,000



12,00,000
بیلنس b/d
بینک (اضافی سرمایہ)
15,00,000


3,00,000
18,00,000
10,00,000


2,00,000
12,00,000

ساجھے دار کا چالو کھاتہ

نام(Dr)                                                                                                                  جمع(Cr)

تاریخ تفصیلات J.F سمیر
رقم (روپیے)
یاسمین
رقم (روپیے)
تاریخ
(روپیے)
تفصیلات J.F سمیر
رقم (روپیے)
یاسمین
رقم (روپیے)
نکالی گئی رقوم
نکالی گئی رقم پر سود
بیلنسc/d
30,000
1,800
1,40,700





1,72,500
20,000
1,200
80,800





1,02,000
سرمایہ پر سود
ساجھے دار کی تنخواہ
کمیشن
نفع و نقصان تصرف
82,500
20,000
10,000
60,000




1,72,500
55,000
7,000
40,000





1,02,000
علمی اشارے(Working Notes):
سرمایے پر سود کا حساب:
X ایک سال کے لیے 15,00,000 پر%5
= 15,00,000 =75,000
6
---
12
متغیر سرمایہ کا طریقہ

ساجھے دار کا سرمایہ کھاتہ

نام(.Dr) جمع (.Cr)
تاریخ تفصیلات J.F سمیر
رقم (روپیے)
یاسمین
رقم (روپیے)
تاریخ تفصیلات J.F سمیر
رقم (روپیے)
یاسمین
رقم (روپیے)



نکالی گئی رقوم
نکالی گئی رقم پر سود
بیلنس c/d
30,000
1,800

19,40,700

19,72,500
20,000
1,200

12,80,800

13,02,000
بیلنس b/d
بینک
سرمایہ پر سود
تنخواہ
کمیشن
نفع و نقصان تصرف
کھاتہ
15,00,000
3,00,000
82,500
20,000
10,000
60,000



19,72,500
10,00,000
2,00,000
55,000
7,000

40,000



13,02,000
اسے خود کیجیے
1۔    سومیہ اور بمل ایک فرم میںساجھے دار ہیں اور نفع اور نقصان کو 3:2کے تناسب میں تقسیم کرتے ہیں۔ یکم اپریل 2019کو ان کے سرمایہ اور چالو کھاتوں میں باقی درج ذیل بیلنس تھا۔

سومیہ (روپیے) بمل(روپیے)
سرمایہ کھاتے
چالو کھاتے(جمع)
3,00,000
1,00,000
2,00,000
80,000
معاہدہ نامہ کی رو سے سومیہ کو 500روپیے فی ماہ تنخواہ اور بمل کو 40,000روپیے سالانہ کمیشن دیا جانا ہے۔سرمایہ %6سالانہ کی شرح سے سود دیتا ہے۔پورے سال میں سومیہ ا ور بمل نے بالترتیب30,000روپیے اور10,000روپیے کی رقم نکالی۔ ایڈجسٹ منٹ سے قبل فرم کا اصل منافع 2,49,000روپیے تھا۔سومیہ وربمل کے ذریعے نکالی گئی رقم پر سود بالترتیب 750روپیے اور 250روپیے تھا۔نفع اور نقصان تصرف کھاتہ(Profit and Loss Approprision Account) اور ساجھے داروں کا سرمایہ کھاتہ اور چالو کھاتہ تیار کیجیے۔
سونیا،چارواور سمیتانے یکم اپریل2019کوساجھے دارری فرم کا آغاز کیا۔انھوں نے بالترتیب5,00000 روپیے، 4,00000روپیے اور 3,00000روپیے بطور سرمایہ لگایا اور نفع اور نقصان کو3:2:1کے تناسب سے بانٹنے کا فیصلہ کیا۔ساجھے داری دستاویز کی رو سے سونیا کو 10,000روپیے تنخواہ فی ماہ اور چارو کو50,000روپیے کمیشن کے دیے جانے ہیں۔سرمائے پر %6سالانہ کی شرح سے سود دیاجانا ہے ۔سال کے دوران سونیا نے60,000روپیے، چارو نے 40,000 روپیے اور سمیتا نے20,000روپیے کی رقم فرم سے نکالی ہے۔ نکالی گئی رقم پر سود بالترتیب 2,700 روپیے، 1,800روپیے اور 900 روپیے ہے۔ نفع اور نقصان کھاتہ کے مطابق سال20-2019کے اصل منافع کی رقم3,56,600 روپے تھی۔
(i) ضروری روزنامچہ اندراجات کیجیے۔
(ii) نفع اور نقصان تصرف کھاتہ تیار کیجیے۔
(iii)  ساجھے داروں کے سرمایہ کھاتوں کودکھائیے۔

مثال 2
یکم اپریل 2006کو امت،بابو اور چارونے ایک ساجھا فرم قائم کی۔انھوں نے بالترتیب50,000روپیے،40,000روپیے اور30,000روپیے بطور سرمایہ لگایا۔نیز 3:2:1کے تناسب سے نفع اور نقصان کی تقسیم پر اتفاق کیا۔امت کو 1,000روپیے ماہانہ تنخواہ دی جانی ہے اور بابو کو 5,000روپیے ماہانہ کمیشن۔سرمایہ پر6%سالانہ کی شرح سے سود دیا جانا ہے۔سال کے دوران امت نے6,000روپیے،بابو نے4,000روپیے اور چارو نے2,000روپیے کی رقم فرم سے نکالی۔نکالی گئی رقم پر سود بالترتیب 270روپیے،180روپیے اور 90روپیے لیا گیا۔نفع اور نقصان کھاتہ کے مطابق 31مارچ2020کوختم ہونے والے سال کے لیے خالص منافع 35,660روپیے تھا۔نفع و نقصان تصرف کھاتہ تیار کیجیے اور ساجھے داروں کے درمیان منافع کی تقسیم کو دکھایئے۔

حل:

نفع اور نقصان تصرف کھاتہ

 نام (Dr)                                                                                                       جمع(Cr)
تفصیلات رقم(روپیے) تفصیلات رقم(روپیے)
امت کی تنخواہ
بابو کا کمیشن
سرمایے پر سود
امت                   3,000
بابو                   2,400
چارو                    1,800
سرمایہ کھاتہ میں منتقل کیا گیا نفع کا حصہ:
امت                   6,000
بابو                   4,000
چارو                    2,000
12,000
5,000




7,200

12,000
نفع اور نقصان کھاتہ
نکالی گئی رقم پر سود:
امت              270
بابو                180
چارو               90
35,660



540



36,200 36,200

مثال3

یادو، مدھو اور وِدو کاروبار کے شریک ہیں اور 2:2:1کے تناسب سے نفع نقصان کے حقدار ہیں۔ یکم اپریل 2019کو ان کے قائم سرمایے اس طرح تھے؛ یادو 5,00,000روپیے، مدھو 4,00,000روپیے اور ودو 3,50,000روپیے۔شراکت (Partnership) کی دستاویز کے مطابق تینوں شریک پانچ فیصدی سالانہ کی شرح سے سرمایہ پر سود کے حقدار ہیں ۔یادو کو 2,000روپیے ماہانہ کے حساب سے تنخواہ دی جائے گی، جب کہ ودو کو 18,000روپیے کا کمیشن ملے گا ۔31مارچ 2019کو ختم ہونے والے سال کے حساب میں فرم کا خالص نقصان نفع نقصان کھاتہ تیاری کی مندرجہ بالا معلومات کی بنا پر 75,000روپیے ہے ۔ 31مارچ 2019کو ختم ہونے والے سال کے لیے نفع نقصان کھاتہ تیار کیجیے۔ 

حل:

یادو ،مدھو اور ودو کی کتابیں

 31مارچ 2019کو ختم ہونے والے سال

 کے لیے نفع اور نقصان تصرف کھاتہ 

نام (Dr) جمع(Cr) 
تفصیلات رقم(روپیے) تفصیلات رقم(روپیے)
نفع اور نقصان 
خالص نقصان

75,000
شراکت دار وں کا رواں(کرنٹ ) کھاتہ

نقصان کی تقسیم

یادو  30,000
مدھو  30,000  
ودھو 15,000 










75,000
75,000 

مثال4

امیتابھ اور بابل ایک فرم میں3:2کے تناسب سے نفع و نقصان میں حصہ دار ہیں- ان کا سرمایہ بالترتیب50,000روپیے اور 30,000 روپیے ہے۔سرمایہ پر 6%سالانہ کی شرح سے سود دیا جانا ہے۔بابل کو 2500روپیے سالانہ تنخواہ دی جائے گی۔ منیجر کے لیے بھی 5000روپیہ منظور کیے جائیں گے ۔امیتابھ نے بھی 4اپریل 2019کو 50,000روپیہ کی رقم قرض کی شکل میں کسی معاہدہ کے بغیر دی ہے۔ سال کے دوران ،کمپنی نے مندرجہ بالا پر عمل درآمد سے قبل 22,250روپیہ کھائے ۔ 
نفع اور نقصان کھاتہ تیار کیجیے اور31مارچ2020کو ختم ہونے والے سال کے لیے ساجھے داروں کا سرمایہ کھاتہ اور منافع کی تقسیم کو دکھایئے۔ 

حل:

نفع اور نقصان تصرف کھاتہ

نام (.Dr)  جمع (.Cr)
تفصیلات  رقم
(روپیے)
تفصیلات رقم
(روپیے)
بابل کی تنخواہ
سرمایہ پر سود:
امیتابھ
بابل
منافع ساجھے دار کے سرمایہ کھاتے میں منتقل کیا گیا
سرمایہ کھاتہ:
امیتابھ 4,170
بابل 2,780
2,500

3,000
1,800



6,950
14,250
نفع اور نقصان 

خالص منافع
(بابل کی تنخواہ سے قبل)





14,250







14,250

امیتابھ کا سرمایہ کھاتہ

نام (.Dr) جمع(.Cr)
تاریخ
2020
تفصیلات J.F رقم(روپیے) تاریخ
2019
تفصیلات J.F رقم(روپیے)

31مارچ 
بیلنس c/d



57,170



یکم اپریل
2019
31 مارچ
31مارچ
بیلنس b/d
سرمایہ پر سود
نفع اور نقصان
تصرف کھاتہ
(منافع کا حصہ)
50,000

3,000

4170
57,170 57,170

بابل کا سرمایہ کھاتہ

 نام (Dr)                                                                                                               جمع(Cr)
تاریخ
2020
تفصیلات J.F رقم(روپیے) تاریخ
2019
تفصیلات J.F رقم(روپیے)
31مارچ بیلنس c/d




37,080


یکم اپریل 
31مارچ
31مارچ

بیلنس b/d

تنخواہ
سرمایہ پر سود
نفع اور نقصان تصرف
(منافع کا حصہ)
30,000

2,500
1,800
2,780

37,080 37,080

نفع اور نقصان کھاتہ

عملی اشارے:

رقم (روپیے)
رقم (روپیے)
مینیجر کا کمیشن 
امیتابھ کے قرض پر سود 
5,000
3,000
نفع  22,250

اپنی فہم کی جانچ کیجیے- II

راجو اور جئے نے یکم اپریل 2019کو شراکتی کاروبار شروع کیا۔تحریری یا زبانی کسی طرح کا معاہدہ نامہ نہیں بنایا گیا۔انھوں نے بالترتیب4,00,000روپیے اور1,00,000روپیے بطور سرمایہ لگایا۔
اس کے علاوہ ،راجو نے1اکتوبر 2019کو 2,00,000 روپیے کا قرض فرم کو دیا۔راجو1جولائی2017کو ایک حادثہ کا شکار ہوگیا اور30ستمبر2017تک کاروبار میں حصہ نہیں لے سکا۔ختم ہونے والے سال31مارچ 2020کومنافع کی رقم50600روپیے تھی۔دونوں ساجھے داروں کے مابین فرم کے منافع کی حصہ داری کو لے کر تنازعات اٹھ کھڑے ہوئے۔
راجو نے مطالبہ کیا کہ:
(i) اسے سرمایہ اور قرض پر%10سالانہ کے حساب سے سودد یا جانا چاہیے۔
(ii) منافع سرمائے کے تناسب میں تقسیم ہونا چاہیے۔
جئے نے مطالبہ کیا کہ:
(i) خارجی منافع مساوی طورپر تقسیم ہونا چاہیے۔
(ii) اسے راجوکی بیماری کی مدت کا1000روپیے سالانہ کے حساب سے معاوضہ ملنا چاہیے۔
(iii) سرمائے اور قرض پر %6سالانہ کے حساب سے سود دیا جانا چاہیے۔
پارٹنرشپ ایکٹ 1932کی دفعات کے مطابق ہرمسئلے پر صحیح رخ کو بیان کیجیے۔
رینا اور رمن بالترتیب 3,00,000روپیے اور1,00,000روپیے کے ساتھ ساجھے دار ہیں۔سال آخر 31مارچ2020کو منافع (نفع و نقصان کھاتہ کے مطابق)120000روپیے تھا۔سرمایہ%6سالانہ کی شرح سے سود دیا جانا ہے۔رمن30,000روپیے سالانہ تنخواہ پانے کا مستحق ہے۔ساجھے داروں نے بالترتیب30000روپیے اور 20,000روپیے کی رقم فرم سے نکالی ہے۔رینا کے ذریعہ نکالی گئی رقم پر1000روپیے اور رمن کے ذریعہ نکالی گئی رقم پر 500روپیے بطور سود کے بار کرنے ہیں۔
یہ مان کرکہ رینا اور رمن مساوی ساجھے دار ہیں ضروری تصرفات کے بعد منافع کے حصے کوبیان کیجیے۔
نوٹ:  کاروبار کے لیے رینا کے کرایے کی ادائیگی ایک خرچ ہے اور یہ منافع کے خلاف چارج ہے۔

2.5.2  سرمایہ پر سود کاحساب(Calculation)

ساجھے داروں کو سرمائے پر اس صورت میں سود ادا کیا جائے جب کہ ساجھا معاہدہ میں یہ بات مخصوص طور پر لکھی گئی ہو۔جب ساجھا معاہدہ میں یہ بات لکھی ہوتی ہے تو سرمایہ پر مقررہ شرح پرسود اس مدت کے لحاظ سے دیا جاتا ہے جس کے دوران ایک مالی سال میں سرمایہ کاروبار میں باقی رہتا ہے۔سرمایہ پر سود عموما دوصورتوں میں دیا جاتا ہے:(i)جب ساجھے دار غیر مساوی سرمایہ کاروبار میں لگاتے ہیں لیکن منافع میں مساوی حصہ دار ہوتے ہیں اور(ii) جہاں لگایا گیا سرمایہ تو یکساں ہوتا ہے لیکن منافع کی حصہ داری غیر مساوی ہوتی ہے۔
سرمایہ پر سود کا حساب کھاتہ داری مدت کے دوران نکالے اور لگائے گئے اضافی سرمائے کو مد نظر رکھ کرکیا جاتا ہے۔مثلا موہنی،رشمی اور نوین نے ساجھا کاروبار شروع کیا اور بالترتیب  3,0,0000روپیے،2,00,000روپیے اور 1,00,000روپیے کاروبار میں بطور سرمایہ لگائے۔
انھوں نے نفع اور نقصان کو مساوی طور تقسیم کرنے کافیصلہ کیا اور اس پر اتفاق کیا کہ ساجھے داروں کے سرمایہ پر انھیں10%سالانہ کے حساب سے سود دیا جائے گا۔سال کے دوران کسی ساجھے دار نے نہ تو کاروبارمیں کوئی زاید سرمایہ لگایا نہ ہی کاروبار سے سرمایہ نکالا۔
اس صورت میں سرمایہ پر دیا جانے والا سود اس طرح ہوگا۔موہنی کو30,000روپیے(3,00,000پر 10%)رشمی کو20000روپیے(2,00,000پر10%)اورنوین کو10000روپیے(100000پر10%)۔
منصور اور ریشما کی ایک اور مثال لیجیے جو کہ ایک فرم میں ساجھے دار ہیں۔یکم اپریل 2019کو ان کے سرمایہ کھاتے بالترتیب 200000روپیے اور150000روپیے کا بیلنس ظاہر کرتے ہیں۔
منصور نے1اگست2019کو1,00,000روپیے کا زاید سرمایہ لگایا۔اور ریشما1اکتوبر2019کو15000روپیے کا مزید سرمایہ لگایا۔سرمائے پر %6سالانہ کی شرح سے سود دیا جانا ہے۔اس کاحساب حسب ذیل طرح سے کیا جائے گا:

منصور کے لیے  44
= Rs. 12,000 + Rs. 4,000 = Rs. 16,000
ریشما کے لیے 45
= Rs. 9,000+Rs. 4,500= Rs. 13,500

ایسی صورت میں جب کہ ایک مالی سال کے دوران ساجھے دار سرمایہ کو نکالتے بھی ہوں اور زاید سرمائے کو کاروبار میں لگاتے بھی ہوں تو،سرمائے پر سود کاحساب حسب ذیل طرح سے کیا جاتا ہے:
(i) ساجھے داروں کے سرمایہ کھاتوں کے افتتاحی بیلنس(Opening Balance) پر،پورے سال کا سود معلوم کیا جاتا ہے۔
(ii) سال کے دوران کسی ساجھے دار کے ذریعے زائد سرمایہ لگانے پر،زائد سرمایہ لگانے کی تاریخ سے لے کر مالی سال کے آخری دن تک سود معلوم کیا جاتا ہے۔
(iii)  سرمایہ کے نکال لینے (Withdrawal) کی صورت میں سرمایہ پرسودکی تحسیب اس طرح ہوگی:
سال کی شروع سے سرمایہ نکال لینے کی تاریخ تک شروعاتی سرمایہ پر اور اس کے بعد بقیہ مدت کے لیے گھٹے ہوئے سرمایہ پر متبادل کے طور پر متعلقہ مدت کے لیے کاروبار میں باقی بچی رقم کے حساب سے بھی اس کی تحسیب ہوسکتی ہے۔

مثال5

سلونی اور شرشٹی ایک فرم میں ساجھے دار ہیں۔ان کے سرمایہ کھاتے 1اپریل2019کو بالترتیب2,00,000روپیے اور 3,00,000روپیے کا بیلنس ظاہر کرتے ہیں۔
1جولائی 2019کو سلونی نے50,000روپیے کا زایدسرمایہ کاروبار میں لگایا اور شریشئی نے60,000روپیے کا زاید سرمایہ لگایا۔1اکتوبر2019کو سلونی نے30,000روپیے اور 1جنوری2020کو شرشٹی نے 15,000روپیے کا روبار سے نکالے۔سود%8سالانہ کی شرح سے دیا جانا ہے۔ مالی سال20-2019کے دوراون دونوں ساجھے دار وں کو قابل ادا سود معلوم کیجیے۔

حل:

سرمایہ پر سود کے حساب کو دکھاتا ہوا گوشوارہ
سلونی کے لیے
2,00,000روپیے پر3 ماہ کے لیے سود
4,000=( Rs.2,00,000x8x3/100x12)
جمع: 2,50,000روپیے پر 3ماہ کے لیے سود
5,000=( Rs.2,500,000x8x3/100x12)
جمع: 2,20,000 روپیےپر 6 ماہ کے لیے سود
8,800=( Rs.2,20,000x8x6/12x100)
17,800

شرشٹی کے لیے
3,00,000روپیے پر3ماہ کے لیے سود
6,000=( Rs.3,00,000x8x3/100x12)
جمع:3,60,000روپیے پر6ماہ کے لیے سود
14,400=( Rs.3,60,000x8x6/100x12)
جمع: 15,000روپیے پر 3ماہ کے لیے سود
3,00=( Rs.15,,000x8x3/100x12)
20,700
بعض اوقات ساجھے داروں کے ابتدائی سرمایے نہیں دیے ہوتے ایسی صورت ایڈجسٹ منٹ میں سرمایے پر سود کاحساب کرنے سے قبل ابتدائی سرمایہ ساجھے داروں کے اختتامی سرمایوں میں ضروری ایڈجسٹ منٹ کرکے معلوم کرنے پڑتے ہیں۔ یہ ایڈجسٹ منٹ ساجھے داروں کے سرمایہ کھاتوں میں دکھائے گئے زائد سرمایے،نکالے گئے سرمایے نفع ونقصان کے حصہ کے لیے کرنا ہوتا ہے۔

مثال6

جوش اور کریش ساجھے دار ہیں اور 3:1کے تناسب سے نفع اور نقصان میں حصہ دار ہیں۔ مالی سال16-2015کے آخر میں ان کے سرمائے1,50,000روپیے اور 75,000روپیے تھے۔سال16-2015کے دوران جوش نے20,000روپیے اور کریش نے 5,000روپیے کی رقم کاروبار سے نکالی تھی جسے ساجھے داروں کے سرمایہ کھاتوں سے ڈیبٹ کر دیاگیا تھا۔سرمایہ پر سود کو چارج کرنے سے قبل سال کا منافع16000روپیے تھا۔اسے بھی ساجھے داروں کے نفع نقصان تناسب میں ڈیبٹ کر دیا گیاتھا۔کریش نے1اکتوبر 2015کو 16,000روپیے کازاید سرمایہ کاروبار میں لگایا۔سال 16-2015کے لیے 12%سالانہ کی شرح سے سرمایہ پر سود معلوم کیجیے۔

حل:

ابتدائی سرمایہ کے حساب کو دکھاتا ہوا گوشواہ


تفصیلات جوش
(روپیے)
کریش
(روپیے)
سال کے آخر میں سرمایہ
جمع:سال کے دوران  نکالی گئی رقم
نفی:منافع کا حصہ
1,50,000
20,000
75,000
5000
1,70,000
12,000
80,000
4,000
نفی:زائد سرمایہ
ابتدائی سرمایہ
1,58,000
.............
76.000
16.000
1,58,000 60,000

جوش کے لیے سرمایہ پر سود19200روپیے(1,60,00روپیے کا%12)ہوگا اور کریش کے لیے سرمایہ پر سود960روپیے +7200روپیے=
960 روپیے+ 7,200روپیے=
(Rs.16,000x12x100/6x12)
(Rs. 60,000x12x100)
.8,160 روپیے
جیسا کہ پہلے واضح کیا گیا،سرمایہ پر سود اسی وقت دیا جاتا ہے جب کہ کھاتہ داری سال کے دوران فرم کو منافع ہواہو۔اس طرح اگر کسی سال فرم کو نقصان ہوا تو اس سال سود نہیں دیا جائے گا یا اگر فرم کا منافع ساجھے داروں کو واجب الادا سرمایہ پر سود کی رقم سے کم ہو تب سود کی ادائیگی منافع کی رقم تک ہی محدود ہوگی۔ایسی صورت میں،منافع ہر ایک ساجھے دار کے درمیان سرمایہ پر سود کے تناسب میں تقسیم کیا جائے گا۔

مثال7

انوپم اور ابھشیک ساجھے دار ہیں جو کہ3:2کے تناسب میں نفع اور نقصان کو تقسیم کرتے ہیں۔15جنوری2013کو ان کے سرمایہ کھاتے نے بالترتیب1,50,000روپیے2,00000روپیے کے بیلنس دکھاتے ہیں۔مندرجہ ذیل متبادل صورتوں میں31دسمبر 2020 کو سرمایہ پر سود کا عمل(treatment)ظاہر کیجیے۔
(a) اگر معاہدہ نامہ سرمایہ پر سود کی ادائیگی کے ضمن میں خاموش ہے اور پورے سال کا منافع 50,000روپیے ہے۔
(b) اگر معاہدہ نامہ کی رو سے % 8سالانہ کے لحاظ سے سرمایے پر سود دیا جاتا ہے اور فرم کو سال کے دوران 10,000 روپیے کا نقصان ہوا ہے۔
(c) اگر معاہدہ نامہ کی رو سے%8سالانہ کے لحاظ سے سرمایہ پر سود دیا جانا ہے اور فرم کو سال کے دوران50,000روپیے کا منافع ہوا ہے۔
(d) اگرمعاہدہ نامہ کی رو سے%8سالانہ کے لحاظ سے سرمایہ پر سود دیا جانا ہے اور فرم کو سال کے دوران 14,000روپیے کا منافع ہوا ہے۔

حل:

(a) اگر معاہدہ نامہ میں مخصوص دفعہ موجود نہیں ہے تو ایسی صورت میں ساجھے داروں کو سرمائے پر سود نہیں دیا جائے گا۔منافع کی تمام رقم کو ساجھے داروں کے مابین ان کے نفع و نقصان کی حصہ داری کے تناسب میں تقسیم کر دیا جائے گا۔
(b) اگر فرم کو کھاتہ داری سال کے دوران نقصان اٹھانا پڑا ہے تو ایسی صورت میں کسی ساجھے دار کو سرمایہ پر سود کی ادائیگی نہیں کی جائے گی۔فرم کے نقصان کو ساجھے دار اپنے نفع نقصان کی حصہ داری کے تناسب میں بانٹیں گے۔
(c)
1,50,000روپیے پر انوپم کو 8%کی شرح سے سود= 12,000
2,00,000روپیے پر ابھشیک کو%8کی شرح سے سود= 16000
28000
چونکہ متفقہ شرح پر سود کی ادائیگی کے لیے منافع کافی ہے اس لیے سود کی تمام رقم ادا کی جائے گی اور بقیہ منافع جو کہ22000روپیے(28000روپیے-50000روپیے)ہے اس کو ساجھے دار اپنے نفع و نقصان کی حصہ داری کے تناسب میں بانٹیں گے۔
(d) سال بھر کے منافع کی رقم14000روپیے ہے جو کہ ساجھے داروں کو واجب الادا سرمایے پر سود کی رقم یعنی28,000روپیے (12,000روپیے انوپم کے اور16,000روپیے ابھیشک کے) سے کم ہے اس لیے سود دستیاب منافع کی حد تک ادا کیا جائے گاجو کہ14,000روپیے ہے۔انوپم اور ابھیشیک کو بالترتیب 6,000روپیے اور 8,000 روپیے سے کریڈٹ کریں گے۔یعنی فرم کے منافع کو سرمایہ پر سود کے تناسب میں تقسیم کیا جائے گا۔

اپنی فہم کی جانچ کیجیے۔III

رانی اور سومن بالترتیب80,000روپیے اور60,000روپیے کے سرمائے کے ساتھ ساجھے دار ہیں۔ سال 16-2015کے دوران،رانی نے اپنے سرمائے میں سے 10,000روپیے اور سومن نے15,000روپیے نکالے۔ سرمایہ پر سود چارج کرنے سے قبل منافع50,000روپیے تھا۔رانی اور سومن3:2کے تناسب میں منافع کے حصہ دار ہیں۔سال کے اختتام پر 31مارچ 2020کو%12سالانہ کے لحاظ سے ان کے سرمائے پر سود کی رقم معلوم کیجیے۔
پریہ اور کاجل ایک فرم میں ساجھے دار ہیں اور نفع نقصان 5:3کے تناسب بھی تقسیم کرتی ہیں1اپریل2019کو ان کے قائم سرمایہ کھاتے میں ان کے بیلنس حسب ذیل تھے: پریہ کے6,00,000روپیے اور کاجل کے 80,0000روپیے۔ سال کے اختتام 31مارچ2020پر فرم کا منافع 1,26,000روپیے ہے۔ان کے منافع کے حصوں کو معلوم کیجیے: (a)جب کہ سرمایہ پر سود کے ضمن میں کوئی معاہدہ نہ ہو اور (b)جب کہ %12سالانہ کے لحاظ سرمایہ پر سود کی ادائیگی کا معاہدہ ہو۔

2.5.3نکالی ہوئی رقم پرسود:

ساجھے داری معاہدہ میں ساجھے داروں کے ذریعہ فرم سے اپنے ذاتی استعمال کے لیے نکالی گئی رقم پر سود چارج کرنے کی دفعہ بھی ہوسکتی ہے۔جیسا کہ پہلے ذکر کیا جا چکا ہے،اگر ساجھے داروں کے درمیان نکالی گئی رقم پر سود چارج کرنے کا معاہدہ نہ ہوا ہو تب ایسی صورت میں کوئی سود چار ج نہیں کیا جائے گالیکن اگر ساجھے داری معاہدے میں ایسی دفعہ موجود ہے تو ایک طے شدہ شرح سے سود چارج کیاجائے گااور یہ سود اتنے عرصہ کا ہوگا جتنے عرصہ ایک کھاتہ داری سال کے دوران ساجھے دار پر نکالی گئی رقم واجب الا د رہی۔نکالی گئی رقم پر سود چارج کرنے کا عمل ساجھے داروں کو زیادہ رقم نکالنے سے باز رکھتا ہے۔
مختلف صورتوں میں نکالی گئی رقم پر سود کاحساب کس طرح لگایا جا تا ہے اس کوذیل میں دکھایا گیاہے۔

جب ایک مقررہ رقم ہر مہینے نکالی جاتی ہے

بعض اوقات ساجھے داروں ایک مقررہ رقم برابر کے وقفہ سے نکالتے ہیں رہتے جیسے ہر ماہ یا ہر تین مہینے میں۔وقفہ کا حساب کرتے وقت اس بات پر دھیان دینا چاہیے کہ آیا مقررہ رقم کو مہینے کے شروع(پہلے دن)میں نکالا گیا ہے،درمیان میں نکالا گیا ہے یا مہینے کے اختتام پر (آخری دن) نکالا گیا ہے۔اگرہرماہ کے پہلے دن نکالا گیا ہے تب کل رقم پر سود½ 6مہینوں کے حساب سے لگایا جائے گااگر ہر مہینے کے آخر میں نکالا گیا ہے تو یہ سود½5مہینوں کے حساب سے لگایاجائے گا:اور اگرمہینے کے درمیان میں نکالا گیا ہے تب رقم پر سود 6مہینوں کے حساب سے لگایاکیا جائے گا۔
مان لیجیے اشیش نے 31مارچ2017کو ختم ہونے والے سال کے دوران ہر ماہ10,000روپیے اپنے ذاتی استعمال کے لیے فرم سے نکالے ہیں. اوسط مدت اور نکالی گئی رقم پر سود کا حساب مختلف صورتوں میں ذیل طرح سے کیا جائے گا۔
(a)جب رقم کو ہر ماہ کے شروع میں نکالا گیا ہو:
اوسط مدت=  آخری ڈرائنگس کے مہینوں کی تعداد+پہلی ڈرائنگس کے مہینوں کی تعداد
2
ماہ  (2)+6=2(1)12=
ڈرائنگس پر سود= 52,200روپیے=
(Rs.1,20,000x8x13x1/100x2x12)
(b) جب رقم کو ہر ماہ کے آخر میں نکالا گیا ہو:
اوسط مدت= پہلی ڈرائنگس کے مہینوں کی تعداد+آخری ڈرائنگس کے مہینوں کی تعداد
ماہ(12)5=(2)0 +11=
نکالی گئی رقم پر سود4,400= (Rs.1,20,000x8x11x1/100x2x12)
(c) جب رقم کو ہر ماہ کے درمیان میں نکالا گیا ہو:
جب رقم کو مہینے کے درمیان میں نکالا جاتا ہے تب کل مدت میں نہ تو کوئی مدجوڑی جاتی ہے نہ گھٹائی جاتی ہے۔
اوسط مدت= کل مدت مہینوں میں آخری ڈرائنگس کے مہینوں کی تعداد+پہلی ڈرائنگس کے مہینوں کی تعداد
6ماہ (2)+6=0.5+11.5=
نکالی گئی رقم پر سود4,800= (Rs.1,20,000x8x6x1/100x12)

جب مقررہ رقم سہ ماہی نکالی جاتی ہے

جب ساجھے دار ایک مقررہ ر قم ہرتین مہینے میں ایک بار نکالتے ہیںتو ایسی صورت میں سود کا حساب کرنے کے لیے کل مدت کا تعین کیا جاتا ہے جس کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ آیا رقم کو ہر سہ ماہی کے شروع میں نکالا گیا ہے یا آخر میں۔اگر رقم ہر سہ ماہی کے شروع میں نکالی جاتی ہے تب سود کا حساب سال کے دوران نکالی گئی کل رقم کو ½7مہینوں کے لیے نکلی ہوئی مان کر کیا جاتا ہے۔یعنی اور اگر رقم ہر ماہ کے آخر میں نکالی جاتی ہے تب اسے ½4مہینوں کے لیے نکلی ہوئی مان کر کیا جاتا ہے۔
مان لیجیے ستیش اور تلک ایک فرم میں ساجھے دار ہیں اور نفع نقصان کو مساوی تقسیم کرتے ہیں۔ 17-2016کے مالی سال کے دوران،ستیش نے 30,000روپیے سہ ماہی نکالے۔ اگر نکالی گئی رقم پر%8سالانہ کے حساب سے سود چارج کرنا ہو تو اوسط مدت اور نکالی گئی رقم پر سود کا حساب حسب ذیل ہوگا۔
(a) اگر رقم کو ہر سہ ماہی کے شروع میں نکا لا گیا ہے:

نکالی گئی رقم پر سود کے حساب کو دکھاتا ہوا گوشوارہ

تاریخ رقم (روپیے) وقفہ سود(روپیے)
1،اپریل2019
1جولائی2019
1اکتوبر2019
1جنوری2020
کل
30,000
30000
30000
30000
1,20,000
12مہینے
9مہینے
6مہینے
3مہینے
30,000x8-100x1=2,400
30,000x9-12x8-100=1,800
30,000x6-12x8-100=1,200
30,000x3-12x8-100=600

6000روپیے

دوسری طرح سے ہم یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ مالی سال کے دوران نکالی گئی کل رقم(1,20,000روپیے)کو7½مہینوں کے لیے نکالی گئی مان کر کیا جا سکتا ہے۔جیسے12(3/4+6+39)/4
6,000روپیے= (1,20,000x(8/100)x(15/2)x(1/2روپیے
(bاگر رقم کو ہر سہ ماہی کے آخر میں نکالا گیاہے:
نکالی ہوئی رقم پر سود کے حساب کو دکھاتا ہوا گوشوارہ
تاریخ رقم (روپیے) وقفہ سود(روپیے)
30جون2019
30ستمبر2019
31دسمبر2019
31مارچ2020

کل
30000
30000
30000
30000

120000=
9مہینے
6مہینے
3مہینے
0مہینے


18,00=(30,000x(9/12)x(8/100
1,200=(30,000x(6/12)x(8/100
6,000=(30,000x(3/12)x(8/100


3600=
دوسری طرح سے،یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ مالی سال کے دوران نکالی گئی کل رقم(1,20,000روپیے)کو½4مہینوں کے لیے نکالی گئی مان کر کیا جا سکتا ہے۔جیسے4/(0+3+6+9)
جیسے 
3,600 روپیے= (1/2)+(1,20,000x(8/100)x(9/2

جب غیرمساوی رقوم مختلف وقفوں میں نکالی جا تی ہیں:

جب ساجھے داروں مختلف رقموں کو مختلف وقفوں میں نکالتے ہیں تب سود کا حساب حاصل ضرب کے طریقے(Product Method) سے لگایا جاتا ہے۔حاصل ضرب کے طریقے کے تحت،رقم کے ہر بار نکالے جانے پر،نکالی گئی رقم کو اس مدت کے ساتھ ضرب کردیا جاتا ہے جس مدت کے دوران یہ مالی سال کے اندر کاوبار سے نکلی ہوئی رہی عموما اس مدت کو مہینوں میں بیان کیا جاتا ہے۔مدت کا حساب رقم نکالے جانے کی تاریخ سے لے کر کھاتہ داری سال کے آخری دن تک کیا جا تاہے۔اس طرح معلوم کیے گئے تمام حاصل ضرب کو جوڑا جاتا ہے اور حاصل ضرب کے کل جوڑ پر1ماہ کے لیے ایک مخصوص شرح سے سود معلوم کیا جاتا ہے۔سود کے حساب کو ایک مثال کی مدد سے واضح کیا جا سکتا ہے۔جیسے: 
حامل ضرب xشرح+(1/12)
شہنازنے اپنی فرم سے 31مارچ 2017کوختم ہونے والے سال کے دوران اپنے ذاتی استعمال کے لیے حسب ذیل رقوم نکالیں۔نکالی گئی رقوم پر سود کا حساب لگائیے اگر7فیصد سالانہ کی شرح سے سود چارج کیا جانا ہو۔

تاریخ رقم(روپیے)
1اپریل2019
30جون2019
31اکتوبر2019
31دسمبر2019
1مارچ2020
16,000
15,000
10,000
14,000
11,000
نکالی گئی رقوم پر سود کا حساب حسب ذیل ہوگا۔

نکالی گئی رقوم پر سود کے حساب کو دکھاتا ہوا گوشوارہ

تاریخ رقم(روپیے) مدت یا وقفہ حاصل ضرب
1اپریل2019
30جون2019
31اکتوبر2019
31دسمبر2019
1مارچ2020
کل
16,000
15,000
10,000
14,000
11,000
12مہینے
9مہینے
5مہینے
3مہینے
1مہینہ
1,92,000
1,35,000
50,000
42,000
11,000
4,30,000
سود=حاصل ضرب کا جوڑ×شرح سود×(1/12)
430000روپیے×(/1/12+)(7/100)=(12=/30,100)=2,508)روپیے(تقریباً)
مثال:8
جون ابراہم،ماڈرن ٹور اینڈ ٹریولس میں ایک ساجھے دار ہے اس نے 31مارچ 2020کو ختم ہونے والے سال کے دوران اپنے ذاتی استعمال کے لیے اپنے سرمایہ کھاتہ سے رقم نکالی۔مندرجہ ذیل متبادل صورتوں میں نکالی گئی رقموں پر سود کا حساب لگائیے اگر سود کی شرح9فیصد سالانہ ہے۔
(a) اگر وہ3,000روپیے ماہانہ کی رقم مہینے کے شروع میں نکالتا ہے۔
(b)  اگر وہ3000روپیے ماہانہ کی رقم ہر مہینے کے آخر میں نکالتا ہے۔
(c) اگر نکالی گئی رقوم تھیں:01جون2019کو12,000روپیے؛31اگست2019کو8,000روپیے،30 ستمبر2019 کو3,000روپیے؛30نومبر2019کو7,000روپیے اور31جنوری2020کو6,000روپیے۔

حل:

(a) چوں کہ3,000روپیے ماہانہ کی مقررہ رقم ہر ماہ کے شروع میں نکالی گئی ہے اس لیے نکالی گئی رقم پر سود کا حساب (1/2)6مہینوں کی اوسط مدت کے لیے لگایا جائے گا۔
نکالی گئی رقم پر سود
36,000+(9/2)+13/13)+1=
17,55روپیے
(b) کیونکہ 3,000روپیے ماہانہ کی مقررہ رقم ہر ماہ کے آخر میں نکالی گئی ہے اس لیے نکالی گئی رقم پر سود کا حساب(1/2)5مہینوں کی اوسط مدت کے لیے لگایا جائے گا۔
36,000(100)+(9/2)+(11/12)+1
=1485روپیے
نکالی گئی رقوم کے حساب کو دکھاتا ہوا گوشوارہ
1
تاریخ
2
نکالی گئی رقم(روپیے)
3
مدت(مہینوں میں)
4
سود(روپیے)
1جون2019
31اگست2019
30ستمبر2019
30نومبر 2019
31جنوری2020
کل سود
12000
8000
3000
7000
6000
10
7
6
4
2
9,000=(12,000x(9/100)x(10/12
420=(8,000x(9/100)x(7/12
135=(3,000x(9/100)x(6/12
210=(7,000x(9/100)x(4/12
90=(6,000x(9/100)x(2/12
1,755

مثال:9

منو،ہیری اور علی ایک فرم میں ساجھے دار ہیں اور نفع ونقصان کومساوی تقسیم کرتے ہیں۔20-2019کے دوران ہیری اور علی نے اپنے ذاتی استعمال کے لیے فرم سے مندرجہ ذیل رقم میں نکالیں۔

تاریخ ہیری(روپیے) علی(روپیے)
2019
01،اپریل
01،جولائی
01،دسمبر
01،مارچ
5,000
8,000
5,000
4,000
7,000
4,000
5,000
9,000
نکالی گئی رقوم پر سود معلوم کرو اگر چارج کیے جانے والے سود کی شرح10فیصد ہے .کتابیں ہر سال31دسمبر کو بند کی جاتی ہیں۔

نکالی گئی رقوم پر سود کے حساب کو دکھاتا ہوا گوشوارہ

ہیری     علی
رقم
(روپیے)
مدت 
(مہینوں میں)
حاصل
(روپیے)
ضرب رقم
(روپیے)
مدت حاصل ضرب
(روپیے)
5000
8000
5000
4000
12
9
4
1
60,000
72,000
20,000
4,000

1,56,000
7,000
4,000
5,000
10,000
12
9
4
1
84,000
36,000
20,000
10,000

1,50,000

سود کی رقم
منو
1,56,000+(10/12)+1
1300روپیے=
علی
1,50(000/100)+10/12)+1
= 1,250 روپیے

اسے خود کیجیے

1۔گووند ایک فرم میں کام ساجھے دار ہے اس نے سال16-2015کے دوران حسب ذیل رقم میں کاروبار سے نکالیں۔
تاریخ   (روپیے)
30اپریل،2019 6,000
30جون،2019 4,000
30ستمبر،2019 8,000
31دسمبر،2019 3,000
31جنوری،2019 5,000
نکالی گئی رقوم پر%6سالانہ کی شرح سے سود چارج کیا جانا ہے۔کتابیں ہر سال 31مارچ کو بند ہوتی ہیں۔
2۔رام اور سیام ساجھے دار ہیں اور نفع /نقصان کو مساوی تقسیم کرتے ہیں۔رام نے سال 16-2015کے دوران ہر ماہ کے پہلے دن اپنے ذاتی استعمال کے لیے مسلسل 1,000روپیے ماہانہ نکالے۔اگر نکالی گئی رقوم پر%5سالانہ کی شرح سے سود چارج کیا جاتا ہے تو رام کے ذریعہ نکالی گئی رقوم پر سود کا حساب لگائیے۔
3۔ورما اور کول ایک فرم میں ساجھے دار ہیں۔ساجھا معاہدے کی رو سے نکالی گئی رقوم پر %6سالانہ کے حساب سے سود چارج کیا جا نا ہے۔ورمانے 01اپریل2019سے لے کر 31مارچ 2020تک ہر ماہ 2000روپیے کاروبار سے نکالے۔کول نے01 اپریل2019سے ہر سہ ماہی 3,000روپیے نکالے۔ساجھے داروں کے ذریعہ نکالی گئی رقوم پر سود کا حساب لگائیے۔

جب نکالی گئی رقوم کی مخصوص تاریخیں نہیں دی جاتیں:

جب نکالی گئی کل رقم تو دی ہوتی ہے لیکن نکالی گئی رقوم کی تاریخیں نہیں دی ہوتیں ایسی صورت میں یہ فرض کیا جاتا ہے کہ رقم کو پورے سال برابری سے نکالا گیا ہے مثلا شکیلا نے 31مارچ2020کوختم ہونے والے سال کے دوران شراکتی فرم سے60,000روپیے نکالے اور نکالی گئی رقوم پر 8فیصد سالانہ کے حساب سے سود چارج کیا جانا ہے۔سود کے حساب کے لیے مدت کو بطور چھ مہینے مانا جائے گا جو کہ اوسط مدت ہے۔ یہ اوسط مدت یہ فرض کرتے ہوئے مانی گئی ہے کہ پورے سال رقم برابری کے ساتھ مہینے کے درمیان میں نکالی گئی ہے۔نکالی گئی رقم پر سود2400روپیے درج ذیل طریقے سے ہوگا:
2400روپیے=
 60,000+(8/100)+(6/12)=روپیے

2.6ساجھے دار کو نفع کی ضمانت

کبھی کبھی ساجھے دار کو فرم کے منافع میں اس کے حصہ کے طور پر کم سے کم رقم کی ضمانت دی جاتی ہے۔اس طرح کی ضمانت کسی نئے ساجھے دار کو کسی ایک یا سب پرانے ساجھے داروں کے ذریعے دی جاسکتی ہے۔ایسے ساجھے دار کو ضمانت کردہ رقم اس وقت دی جائے گی جب کہ اس کے نفع کا حصہ اس کے منافع حصہ ّ داری کے تناسب سے شمار کرنے پر ضمانت کردہ رقم سے کم ہو۔مثال کے طور پر مادھولیکا اور رکشیتا فرم میں ساجھے دار ہیں اور کنیشکا کو شامل کرنے کا فیصلہ کرتی ہیں اور ساتھ ہی اسے فرم کے منافع میں سے کم از کم 25000روپیے منافع ضمانت بھی دیتی ہیں۔فرم کو سال کے دوران1,20,000روپیے کا منافع ہوا۔ساجھے دار منافع کو 2:3:1کے تناسب میں تقسیم کرنے پر متفق ہیں۔تناسب کے مطابق،مادھولیکا کے منافع کا حصہ40,000روپیے(1,20,000 روپیے کا 2/6ہوتا ہے،رکشیتا کے منافع کا حصہ60,000روپیے(120000روپیے کا3/6اور کنیشکاکے منافع کا حصہ 20,000روپیے1/6 (1,20,000روپیے کا)آتا ہے کنیشکا کا حصہ ضمانت کردہ رقم سے5,000روپیے کم ہے۔یہ کمی ضمانت دینے والے ساجھے داروں مادھولیکا اور رکشیتاکا3,000روپیے آتا ہے۔ساجھے داروں کے درمیان فرم کے کل منافع کو حسب ذیل طریقے سے تقسیم کیا جائے گا۔مادھولیکا کو38,000روپیے ملیں گے(اس کا حصہ40,000روپیے نفی اس کا خسارے میں حصہ2000روپیے)،رکشیتا 57,000روپیے (60000-3000)اور کنیشکاکو25000روپیے (3000روپیے+2000 روپیے + 20000 روپیے) ملیں گے۔
اگر صرف ایک ہی ساجھے دار ضمانت دیتا ہے،مثلاًمندرجہ بالا صورت حال میں صرف دکشیتا ہی ضمانت دیتی ہے تب خسارے کی تمام رقم (5,000روپیے) اسی کو برداشت کرنے ہوں گے۔اس صورت میں منافع کی تقسیم ہوگی مادھولیکا 4000روپیے۔
رکشیتا 55,000(60,000-5,000)اور کنیشکا25,000روپیے(5000روپیے+20,000روپیے)

مثال:10

موہت اور روہن نفع اور نقصان کو 2:1کے تناسب میں بانٹتے ہیں۔ انھوں نے راہل کو منافع میں1/4حصہ کے لیے اس ضمانت کے ساتھ شریک کیا کہ اس کا منافع کا حصہ کم از کم50,000روپیے ہوگا۔سال آخرمیں31مارچ2015کو فرم کا خالص منافع 160000 روپیے تھا۔نفع اور نقصان تصرف کھاتہ(Profit & Loss Approfriation Account)تیار کیجیے۔

حل:

موہت، روہن اور راہل

نفع اور نقصان ایڈجسٹمنٹ کھاتہ

اختتامی سال کے لیے

نام(.Dr)      جمع(.Cr)
تفصیلات رقم (روپیے)
تفصیلات
موہت کا سرمایہ (منافع کا حصہ) 80,000
نفی:نقصان میں حصہ 6667
روہن کا سرمایہ 40000
(نفع کا حصّہ)
نفی: نقصان میں حصہ
راہل کا سرمایہ 40000
(نفع کا حصّہ)
جمع: خسارہ وصول ہوا
موہت سے 6667
 روہن سے 3333

73,333

36667




50000


1,60,000

نفع اور نقصان
خالص نفع
160000









1,60,000
عملی اشارے(Working Notes):
راہل کی شمولیت کے بعد نیا نفع اور نقصان تناسب2:1:1ہوجاتا ہے۔ اس تناسب کے مطابق منافع میں ساجھے داروں کے حسب ذیل حصہ داری بنتی ہے۔
 موہت  80,000 روپیے=(2/4)×1,60,000روپیے
روہن 40,000روپیے=(1/4)+1,60,000روپیے
 راہل 40,000روپیے=(1/4)+1,60,000روپیے
لیکن،چونکہ راہل کو اس کے منافع کے حصے کے طور پر کم از کم50,000روپیے دیے جانے کی ضمانت دی گئی ہے- اس لیے 10,000 روپیے(50000روپیے-40000روپیے)کے خسارہ کو موہت اور روہن اس تناسب میں بانٹیں گے جس میں وہ اپنے درمیان نفع اور نقصان تقسیم کرتے ہیں یعنی2:1کے تناسب میں حسب ذیل طریقے سے:
موہت کی خسارہ میں حصہ داری 2/3ہوتی ہے=10,000×2/3 روپیے = 6,667 روپیے
روہن کی خسارہ میں حصہ داری ہوتی ہے= 10,000×1/3 روپیے =3,333 روپیے
اس طرح،موہت کو ملیں گے:80000روپیے-6667روپیے =3337روپیے
روہن کو ملیں گے:3,333 روپیے40,000–روپیے=36,667روپیے
اورراہل کو فرم کے منافع میں ملیں گے:40,000روپیے+6,667روپیے+3333روپیے=50000روپیے
نئے نفع اور نقصان تناسب کاحساب:
نئے ساجھے دارراہل کا حصہ(1/4)ہے باقی بچا(1-1/4=3/4) منافع ہے
جوکہ موہت اور روہن کے درمیان2:1کے تناسب میں تقسیم ہونا ہے۔
موہت کا نیا حصہ
(3/4)+(2/3)=(2/4)=
روہن کا نیاحصہ
(3/4)+(1/3)=(1/4)=
اس طرح،نیا نفع اور نقصان تناسب ہوگا(=1/4)+(1/4)=(2/4)یا2:1:1

مثال 11

ارون،ورون اور ترون ایک لا فرم میں 5:3:2 کے تناسب میں نفع کے شریک ہیں ، ان کی شراکت داری دستاویز میں حسب ذیل امور شامل ہیں ۔
(i) شراکت داروں کے سرمایہ پر پانچ فیصد(5%) سالانہ کی شرح سے سود 
(ii) ارون نے یہ ضمانت دی ہے کہ وہ فرم کے لیے 6,00,000 روپیے کی سالانہ فیس کما کر لائے گا۔
(iii) (سرمایہ پر سود کے علاوہ ) 2,50,000 روپیے کے نفع کی ترون کو ضمانت دی گئی ہے اور اس حساب میں کسی قسم کی کمی کو 2:3 کے تناسب سے ارون اور ورون کو برداشت کرنا ہوگا ۔
31مارچ 2019کو ختم ہونے والے سال کے دوران ارون نے 3,20,000 روپیے بطور فیس کمائے اور فرم کو جو خالص نفع ہوا وہ 8,60,000تھا ۔یکم اپریل 2018 کو شراکت داروں کا سرمایہ تھا : ارون کا 30,00,000 روپیے ، ورون کا 3,00,000روپیے اور ترون کا 2,00,000 نفع اور نقصان تصرف کھاتہ تیار کیجیے اور اپنی ورکنگ کو واضح طور پر دکھائیے ۔

حل

ارون، ورون اور ترون کی کتابیں 

31مارچ 2019کوختم ہونے والے سال کے لیے نفع اور نقصان تصرف کھاتہ

تفصیلات رقم روپیے تفصیلات رقم  روپیے
سرمایہ پر سود 
ارون                  15,000-
ورون                   15,000-
ترون                 10,000-
شراکت داروں کے سرمایہ کھاتے:
ارون                 5,50,000 
(-)  کمی میں حصہ         12,000  
ورون                  3,30,000
(-) کمی (deficiency)میں حصہ 
18,000
ترون 2,20,000
(+)  ڈیفی شینسی حاصل ہوئی
ارون سے              12,000  
ورون سے              18,000




40,000


5,38,000


3,12,000



2,50,000

11,40,000
نفع اور نقصان
(خالص نفع) 

ارون کا سرمایہ
8,60,000


2,80,000












11,40,000
علمی اشارے : 
ارون کی سالانہ فیس میں کمی = 3,20,000 روپیے-    6,00,000روپے  
       2,80,00 =روپیے
ترون کے نفع میں کمی       =     2,20,000روپیے  -  2,50,000 روپیے
      30,000  =روپیے
2:3 یعنی 12,000  روپیے  اور  18,000 روپیے ترتیب وار ارون اور ورون کو برداشت کرنے ہوں گے۔

مثال:12

جون اور میتھیو نفع اور نقصان کو3:2کے تناسب میں بانٹتے ہیں۔ انھوں نے موہنتی کو منافع میں 1/6کے حصہ کے لیے فرم میں ساجھے دار بنایا۔جون نے ذاتی طور پرموہنتی کو یہ ضمانت دی کہ کسی بھی سال سرمایہ پر%10سالانہ کی شرح سے سود چارج کرنے بعد منافع میں اس کا حصہ30,000روپیے سے کم نہیں ہوگا۔فراہم کردہ سرمایہ حسب ذیل تھا:
جون2,50,000روپیے،میتھیو2,00,000روپیے اور موہنتی1,50,000روپیے۔ 31مارچ 2015ختم ہونے والے سال کو سرمایہ پر سود چارج کرنے سے قبل منافع کی رقم 1,50,000روپیے تھی۔نفع اور نقصان تصرف کھاتہ تیار کیجیے۔ ایسی صورت میں جب کہ نیا نفع اور نقصان تناسب3:2:1ہے۔

حل:

جون اور میتھیو

نفع اور نقصان تصرف کھاتہ

اختتامی سال کے لیے

نام(.Dr)   جمع(.Cr)
تفصیلات رقم(روپیے) تفصیلات رقم (روپیے)
سرمایہ پر سود
جون  25.000 
میتھیو 20,000
سرمایہ کھاتہ:
جون 45,000
نفی :خسارے کا حصہ 15,000
میتھیو
موہنتی 15,000
جمع: جون سے حاصل شدہ خسارہ 15,000




60,000

30,000
30,000
30,000
1,50,000
(خالص فائدہ)  نفع و نقصان










1,50,000








1,50,000
عملی اشارے
سرمایے پر سود کے بعد منافع90,000 روپیے ہے جو کہ 3:2:1کے تناسب میںحسب ذیل طریقے سے تقسیم ہوناہے: جون کو ملیں گے45,000روپیے3/6×90000روپیے)میتھیوکو 30000روپیے اورموہنتی15000روپیے،موہنتی کو 15000روپیے کے ضمانت کردہ منافع سے آنے والا خسارہ جون کے ذریعہ برداشت کیا جائے گا۔اس لیے جون کو ملیں گے15000 روپیے- 45000روپیے=30000روپیے،میتھیوکو30,000روپیے اور موہنتی کو30,000روپیے۔

مثال 13

مہیش اور دنیش 2:1کے تناسب میں نفع اور نقصان کو بانٹتے ہیں۔ یکم جنوری2014سے انھوں نے راکیش کو اپنی فرم میں شامل کیا جس کو منافع میں 1/10حصہ اس ضمانت کے ساتھ دیا گیا کہ اسے کم ازکم 25,000روپیے ملیں گے۔مہییش اور دنیش پہلے ہی کی طرح نفع اور نقصان بانٹیں گے لیکن اگر راکیش کو دی گئی ضمانت کی وجہ سے کوئی خسارہ ہوتا ہے تو اسے بالترتیب3:2کے تناسب میں برداشت کرنے پر اتفاق ہوا۔سال کے آخرمیں 31دسمبر2015کو فرم کو 1,20,000روپیے کامنافع ہوا۔نفع اور نقصان تصرف کھاتہ تیار کیجیے۔

مکیش اور دنیش

نفع اور نقصان ایڈجسٹمنٹ کھاتہ

اختتامی سال کے لیے

نام(.Dr)               جمع(.Cr)
تفصیلات رقم(روپیے) تفصیلات رقم(روپیے)
سرمایہ کھاتے(منافع کے حصے کے لیے)
مہیش 72000
6/10×1,20,000
نفی: خسارہ کاحصہ 7800
دنیش 36000
نفی:خسارے کاحصہ 5,200
راکیش  12000
جمع:خسارے حصہ
مہیش سے 7,800
دنیش سے 5,200




64,200

30,800



25,000


1,20,000




خالص فائدہ




1,20,000








1,20,000
عملی اشارے:
نئے نفع اور نقصان کو حسب ذیل طریقے سے معلوم کیا جائے گا۔
راکیش کا منافع (1/10)میں�حصہ ہے۔باقی بچا منافع(9/10�) ہے جسے مہیش اور دنیش 2:1کے تناسب میں بانٹیں گے۔
مہییش کا منافع میں حصہ ہوگا �(9/10+2/3=3/10)
دنیش کا منافع میں حصہ ہوگا� �(9/10+1/3=3/10)
نیاتناسب ہوجاتا ہے � ی�(3/5:3/10:1/10)ا6 : 3 : 1.
مہیش کا منافع میں حصہ  (6/10) ×�1,20,000 = 72,000,روپیے
دنیش کو منافع میں حصہ=36000روپیے
راکیش کا منافع میں حصہ=12000روپیے
راکیش کے خسارے (13,000روپیے)کو مہیش اور دنیش 3:2کے تناسب میں تقسیم کریں گے۔مہیش13,000روپیے کے3/5 یعنی7800روپیے برداشت کرے گا اور راکیش 13,000روپیے کے 2/5یعنی 5,200روپیے کو۔
اس طرح،فرم کے منافع کو حسب ذیل طریقہ سے تقسیم کیا جائے گا۔
مہیش کو ملیں گے72,000روپیے-7,800روپیے=64,200روپیے
دنیش کو ملیں گے36,000روپیے-5,200روپیے=30,800روپیے 
راکیش کو ملیں گے12000روپیے+7800روپیے+5200روپیے=25000روپیے۔

اسے خود کیجیے

کویتا اور للت ساجھے دار ہیں اور نفع اور نقصان کو 2:1کے تناسب میں تقسیم کرتے ہیں۔ انھوں نے موہن کو 25,000روپیے کی ضمانت شدہ رقم کے ساتھ منافع میں حصہ دار بنانے کا فیصلہ کیا۔کویتا اور للت نے موہن کو دی گئی ضمانت شدہ رقم کی وجہ سے آنے والی دین داری کو اپنے بالترتیب تناسب میں پورا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔کویتا اور للت کے نفع اور نقصان کے تناسب میں تبدیلی نہیں ہوتی۔فرم نے07-2006کے دوران76,000روپیے کا منافع کمایا۔ساجھے داروں کے درمیان منافع کی تقسیم کو دکھائیے۔

2.7پچھلے ایڈجسٹمنٹ(Past adjustments)

بعض اوقات اختتامی کھاتہ (فائنل اکاؤنٹ)تیارہو جانے اور ساجھے داروں کے درمیان منافع تقسیم ہونے کے بعد پتہ چلتا ہے کہ لین دین کے اندراجات یا گوشواروں کے خلاصہ میں چند غلطیاں ہوگئیں ہیں یا چند مدیں غلطی سے چھوٹ گئی ہیں۔ایسی بھول چوک اور غلطیاں عام طور پر سرمایے پر سود،نکالی ہوئی رقوم پر سود،ساجھے دار کے قرض پر سود،ساجھے دار کی تنخواہ ،ساجھے دار کا کمیشن یا واجب الادا اخراجات سے متعلق ہوتی ہیں۔کھاتہ داری کے طریقہ یا ساجھا معاہدہ نامہ کی دفعات میں تبدیلیوں کے بھی اپنے اثرات ہو سکتے ہیں۔ایسی بھول چوک اور غلطیوں کے اثرات کو صحیح کرنے کے لیے ایڈجسٹمنٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔پرانے کھاتوں میں ترمیم کرنے کے بجائے،یا تو(a)نفع اور نقصان ایڈجسٹمنٹ کھاتہ(Profit & Loss adjustment Account)کے ذریعہ(b)یا پھر براہِ راست متعلقہ ساجھے داروں کے سرمایہ کھاتوں میں ضروری ایڈجسٹمنٹ کے ذریعے اسے مندرجہ ذیل مثال کی مدد سے واضح کیا گیا ہے۔
رمیز اور ظہیر برابر کے ساجھے دار ہیں۔01اپریل2015کو ان کے سرمایے بالترتیب50,000روپیے اور10,000روپیے تھے۔31مارچ 2016کوختم ہونے والے  مالی سال کے لیے کھاتے بن جانے کے بعد یہ پتہ چلا کہ منافع کی تقسیم سے پہلے ساجھے داروں کے سرمایہ کھاتوں میں 6فیصد سالانہ کی شرح سے سود کریڈٹ نہیں کیا گیا ہے جیسا کہ ساجھا معاہدہ نامہ کے مطابق کیا جانا تھا۔ اس صورت حال میں،ساجھے داروں کے سرمایہ کھاتوں میں کریڈٹ نہ کیے گئے سرمایہ پر رمیزکاسود 3,000 (6/100×50,000) روپیے اور ظہیر کاسود6,000روپیے ہوگا(100000روپیے×6/100)۔اگر سرمایہ پر سود دے دیا گیا ہوتا تو فرم کا منافع9000روپیے کم ہوگیا ہوتا۔اس بھول کی وجہ سے،نفع اور نقصان کھاتہ(بغیر9000روپیے کے ایڈجسٹمنٹ )کے مطابق بیان کی گئی منافع کی تمام رقم ساجھے داروں کے درمیان ان کے نفع و نقصان کے تناسب میں تقسیم کردی گئی ہے،اور سرمایہ کھاتوں میں سرمایہ پر سود کی رقوم کو کریڈٹ نہیں کیاگیا ہے۔اس غلطی کو مندرجہ ذیل طریقوں میں سے کسی ایک کے ذریعہ درست کیا جا سکتا ہے:

(a)نفع اورنقصان ایڈجسٹمنٹ کھاتہ کے ذریعہ:

(i)    نفع اور نقصان ایڈجسٹمنٹ کھاتہ .Dr 
9,000
رمیز کے سرمایہ کھاتہ کے لیے 3,000
ظہیر کے سرمایہ کھاتہ کے لیے 6,000
(سرمایہ پر سود)
(ii)    رمیز کا سرمایہ کھاتہ .Dr
4,500
ظہیر کا سرمایہ کھاتہ .Dr
4,500
نفع اور نقصان ایڈجسٹمنٹ کھاتہ کے لیے
(ایڈجسٹمنٹ پر نقصان)

(b)براہِ راست ساجھے دار وں کے سرمایہ کھاتوں میں

ساجھے داروں کے سرمایہ کھاتوں میں براہِ راست ایڈجسٹمنٹ کرنے کے لیے،پہلے ساجھے داروں کے سرمایہ کھاتوں میں بھول کے اصل اثر کو معلوم والا ایک گوشوارے ہ حسب ذیل طریقہ سے تیار کیا جائے گا اور پھرایڈجسٹمنٹ اندراجات کو ریکارڈ کیا جائے گا۔

سرمایہ پر سود کی بھول کے اصل اثر کو دکھاتاہوا گوشوارہ


تفصیلات رمیز(روپیے) ظہیر(روپیے)
(i)رقم جو سرمایہ پر بطورسود کریڈٹ کی جانی چاہیے تھی
(iiرقم جو درحقیقت منافع کے حصہ کے طور پر کریڈٹ کردی گئی(9,000روپیے کو مساوی تقسیم کیا گیا)
(i)اور(ii)کے درمیان فرق(اصل اثر)
3000(Cr.)
4500(Dr.)

1500
ڈیبٹ(زیادہ)
6000(Cr.)
4500(Dr.)

1500
(کریڈٹ (کم
گوشوارہ سے ظاہر ہوتا ے کہ رمیز کو1,500روپیے کا زیادہ کریڈٹ ملا جب کہ ظہیر کے کھاتے کو1,500روپیے سے کم کریڈٹ کیاگیا۔غلطی کو درست کرنے کے لیے رمیز کے سرمایہ کھاتے کو ڈیبٹ کیا جانا چاہیے اور ظہیر کے کھاتے کو مندرجہ ذیل روزنامچہ اندراج کے ذریعہ 1,500روپیے سے کریڈٹ کیا جانا چاہیے۔
روزنامچہ اندراجات:
رمیز کا سرمایہ .Dr
  1,500
ظہیر کے سرمایہ کے لیے 1,500
(سرمایہ پر سود کی بھول کے لیے ایڈجسٹمنٹ)

مثال14

نصرت،سونو اور ہمیش ساجھے دار ہیں اور نفع اور نقصان کو 5:3:2کے تناسب میں تقسیم کرتے ہیں۔ساجھا معاہدہ نامہ کی رو سے نکالی گئی رقم پر%10سالانہ کی شرح سے سود چارج کیا جانا ہے۔دسمبر2015کوختم ہونے سال کے دوران نصرت،سونو اور ہمیش نے بالترتیب 20,000روپیے،15,000روپیے اور10,000روپیے کی رقوم کا روبار سے نکالیں۔اختتامی کھاتوں کے تیار ہو جانے کے بعد معلوم ہوا کہ نکالی گئی رقم پر سود کو دھیان میں نہیں رکھا گیا۔ضروری ایڈجسٹمنٹ روزنامچہ اندراج کیجیے۔

نکالی گئی رقم پر سود کی بھول کے اثر کو دکھاتا ہوا گوشوارہ

تفصیلات نصرت(روپیے) سونو(روپیے) ہمیش (روپیے) کل
وہ رقم جو کہ نکالی گئی رقم پر سود کے طور پر ڈیبٹ کی جانی چاہیے
وہ رقم جو کہ منافع کے حصہ کے طور پر کریڈیٹ کرنی چاہیے
ضروری ایڈجسٹمنٹ
2,000(Dr.)
2,250(Cr.)
250کریڈٹ
(کم)
15,00(Dr.)
1,350(Cr.)
150کریڈٹ
(زیادہ)
1,000(Dr.)
900(Cr.)
100کریڈٹ
(زیادہ)
4,500
4,500
نکالی گئی رقوم پر سود کے ایڈجسٹمنٹ کے لیے روزنامچہ کے اندراج:
سونو کے سرمایہ کھاتہ Dr.150
ہمیش کے سرمایہ کھاتہ Dr.100
نصرت کے سرمایہ کھاتہ کے لیے 250
(نکالی گئی رقم پر سود کی بھول کے لیے ایڈجسٹمنٹ)

اسے خود کیجیے

گیتا اور سرین ساجھے دار ہیں اور نفع اور نقصان کو 3:2کے تناسب میں تقسیم کرتے ہیں۔ ان کے قائم سرمائے ہیں: گیتا200000روپیے اور سرین 300000روپیے۔سال کے کھاتے بن جانے کے بعد پتا چلا کہ ساجھا معاہدہ نامہ کی رو سے %10سالانہ کی شرح سے سرمایہ پر سود دیا جانا تھا۔لیکن منافع کی تقسیم سے پہلے ساجھے داروں کے سرمایہ کھاتوں میں یہ سود کریڈٹ نہیں کیا گیا ۔اس غلطی کو درست کرنے کے لیے ایڈجسٹمنٹ اندراج درج کیجیے۔
کرشنا ،سندیپ اور کریم ساجھے دار ہیں اور منافع اور نقصان کو 3:2:1کے تناسب میں بانٹتے ہیں۔ ا ن کے قائم سرمائے ہیں:کرشنا120000روپیے،سندیپ90000روپیے اور کریم60000روپیے۔سال15-2014 میں%5سالانہ کے بجائے%6سالانہ کی شرح سے سود کریڈٹ کردیا گیا ۔ایڈجسٹمنٹ اندراج درج کیجیے۔
لیلا ،میرا،اورنیہا ساجھے دار ہیں۔سال آخر 31مارچ2013کو %9سالانہ کی شرح سے تین سال کا سرمایے پر سود لگانا بھول گئی ہیں۔ان کے قائم سرمایے جن پر سود دیا جانا تھا ہیں:لیلا80000روپیے،میرا60000اور نیہا100000روپیے۔تین سالوں کے دوران ان کا نفع اور نقصان تناسب حسب ذیل رہا:
83
ایڈجسٹمنٹ اندراج (جرنل اینٹری)درج کیجیے۔

اس باب میں متعارف کرائی گئیں اصطلاحات

ساجھے داری 
ساجھا فرم 
باہمی کارندگی(ایجنسی) 
اجھے داری معاہدہ نامہ 
(partnership)
(partnership firm)
(Mutual Agency)
(partnership Deed)
سرمایہ پر سود 
�نکالی گئی رقوم پر سود 
�اوسط مدت 
ساجھے دار کو منافع کی ضمانت
نفع اورنقصان تصرف کھاتہ
(Interest on Capital)
(Interest on Drawings)
(Average period)
(Guarantee of profit to a partner)
(Profit and Loss Approtriation Account)
قائم سرمایہ کھاتہ
متغیر سرمایہ کھاتہ 
نفع اور نقصان ایڈجسٹمنٹ کھاتہ
(Fixed Capital A/c)
(Fluctuating Capital A/c)
(Profit & Loss   adjustment A/c)

�ساجھے دار کا چالو کھاتہ  (Partner's current A/c)  

خلاصہ

ساجھے دار ی کی تعریف اور اس کی اہم خصوصیات: انڈین پارٹنرشپ ایکٹ کے مطابق ’’ساجھے داری،اشخاص کے اس تعلق کا نام ہے جو کسی کاروبار کے نفع نقصان میں شریک ہوں،خواہ اسے سب مل کر چلائیں یا ان کی طرف سے ان ہی میں سے کوئی فرد۔‘‘ ساجھے داری کی اہم خصوصیات ہیں(i)ایک ساجھے داری کی تشکیل کے لیے کم از کم دو اشخاص کا ہونا ضروری ہے(ii)یہ ایک معاہدے کے ذریعے تشکیل کی جاتی ہے(iii)معاہدہ کسی قانونی کاروبار کو چلانے کے لیے ہونا چاہیے۔(iv)نفع اور نقصان کی حصہ داری(v)ساجھے داروںساجھے داروں کے درمیان باہمی کارندگی کا تعلق۔
ساجھا معاہدہ نامہ کے معنی اور اس کے مندرجات: ایک دستاویز جس میں شراکت داری کی شرائط ہوتی ہیں جن پر ساجھے داروں کے درمیان اتفاق ہوا ہے،ساجھا معاہدہ نامہ،کہلاتا ہے۔ اس میں عموما ساجھے داروں کے درمیان تعلق کو متاثر کرنے والے تمام پہلوئوں کے بارے میں معلومات ہوتی ہے جیسے کاروبار کا مقصد،ہر ساجھے دار کے ذریعہ لگایا گیا سرمایہ ، تناسب جس میں ساجھے دار نفع اور نقصان تقسیم کریں گے،سرماے پر سود پانے کے مستحقساجھے دار،قرض پر سود اور شمولیت کی صورت میں اپنائے جانے والے اصول،سبک دوشی،خاتمہ وغیرہ
کھاتہ داری پر لاگو ہونے والی پارٹنرشپ ایکٹ1932کی دفعات:اگر کچھ معاملات میں ساجھا معاہدہ نامہ خاموش ہو تو ایسی صورت میں انڈین پارٹنرشپ ایکٹ 1932کی متعلقہ دفعات لاگوہوں گی۔پارٹنرشپ ایکٹ کے مطابق: ساجھے دار مساوی طور پر منافع تقسیم کریں گے،کوئی بھی ساجھے دار معاوضے کا مستحق نہیں ہوگا،سرمایہ پر سود نہیں دیا جائے گا اور نکالی گئی رقم پر سود چار ج نہیں کیا جائے گالیکن اگر کسی ساجھے دار نے فرم کو قرض دیا ہے تو ایسی رقم پر وہ 6%سالانہ کی شرح سے سود کا مستحق ہوگا۔
قائم اور متغیر سرمائے کے طریقوں کے تحت سرمایہ کھاتوں کی تیاری:فرم کی کتابوں میں ساجھے داروں سے متعلق تمام لین دین کو ان کے سرمایہ کھاتوں میں درج کیا جاتا ہے۔سرمایہ کھاتے تیار کرنے کے درج ذیل دو طریقے ہیں : (i)متغیر سرمایہ کا طریقہ اور(ii)قائم سرمایہ کا طریقہ ۔متغیر سرمایہ کے طریقہ کے تحت،ساجھے دار سے متعلق تمام لین دین کو براہِ راست سرمایہ کھاتہ میں درج کیا جاتا ہے۔قائم سرمایہ طریقہ کے تحت،سرمایہ کی رقم مقرر یا قائم رہتی ہے۔ سرمایہ پر سود،نکالی گئی رقوم پر سود،نکالی گئی رقم،تنخواہ،کمیشن،نفع یا نقصان کے حصہ جیسے لین دین کو ایک علاحدہ کھاتہ میں درج کیا جاتا ہے جسے ساجھے دار کا چالو کھاتہ کہتے ہیں۔
نفع اور نقصان کی تقسیم:ساجھے داروں کے درمیان منافع کی تقسیم کو نفع اور نقصان ایڈجسٹمنٹ کھاتہ کے ذریعہ دکھایا جاتا ہے جو کہ محض نفع اور نقصان کھاتہ کی توسیع ہے۔ اس کو عموماً سرمایہ پر سود اور ساجھے داروں کو دی گئی تنخواہ/کمیشن کے ساتھ ڈیبٹ کیا جاتا ہے اور نکالی گئی رقم پر سود اور نفع اور نقصان کھاتہ کے مطابق بیان شدہ خالص منافع کے ساتھ کریڈٹ کیا جاتا  ہے۔ باقی چاہے منافع ہو یا نقصان اسے ساجھے داروں کے درمیان نفع نقصان تناسب میں تقسیم کیا جاتا ہے اور ان کے متعلقہ سرمایہ کھاتوں میں منتقل کردیا جاتا ہے۔
ساجھے دار کو کم از کم منافع کی ضمانت کی بجا آوری:بعض اوقات،ایک ساجھے دار کو اس کے منافع کے حصہ کے طور پر کم از کم رقم کی ضمانت بھی دی جاسکتی ہے۔ اگر کسی سال،اس کے منافع کی حصہ داری کے مطابق جوڑا گیا اس کے منافع کا حصہ اس کو دی گئی ضمانت شدہ رقم سے کم ہوتا ہے تو ایسی صورت میں خسارے کی تلافی کی ضمانت دینے والے ساجھے دار ایک اتفاق شدہ تناسب میں کرتے ہیں۔ یہ تناسب عموما ًنفع اور نقصان میں حصہ داری کا تناسب ہوتا ہے۔ اگر ایسی ضمانت ان میں سے کسی ایک ساجھے دار نے دی ہو تب وہ اکیلے ہی خسارے کی رقم کو برداشت کرے گا۔
پچھلے ایڈجسٹمنٹ کی بجا آوری:اگر اختتامی کھاتے تیار ہوجانے کے بعد کچھ بھول چوک یا اصو لی غلطیوں جیسے سرمایہ پر سود،نکالی گئی رقوم پر سود،ساجھے دار کی تنخواہ،کمیشن وغیرہ کاپتہ چلے توایسی صورت میں نفع اور نقصان ایڈجسٹمنٹ کھاتہ کے ذریعیساجھے دار کے سرمایہ کھاتے میں ضروری ایڈجسٹمنٹ کر کے ان کو درست کیا جا سکتا ہے۔
ساجھے داری فرم کے اختتامی کھاتوں کی تیاری:ساجھے داری فرم ا ور تنہا ملکیتی ادارے کے اختتامی کھاتوں کے درمیان زیادہ فرق نہیں ہوتا سوائے اس کے اس کہ ساجھے داری فرم کی صورت میں ساجھے داروں کے درمیان نفع اور نقصان کی تقسیم کو دکھانے کے لیے ایک اضافی کھاتہ بنایا جاتا ہے جسے نفع اور نقصان ایڈجسٹمنٹ کھاتہ کہتے ہیں۔

مشق کے لیے سوالات

مختصر جوابی سوالات

ساجھا معاہدہ نامہ کی تعریف بیان کیجیے۔
وضاحت کیجیے کہ ساجھے داری معاہدے کا تحریری ہونا کیوں بہترخیال کیا جاتا ہے۔
اُن اشیا کی فہرست بنائیے جن کو ساجھے داروں کے سرمایہ کھاتوں میں ڈیبٹ یا کریڈٹ کیا جا سکتا ہے جب کہ :
(i)سرمایے قائم ہوں
(ii)سرمایے متغیر ہوں
نفع اور نقصان  تصرف کھاتہ کیوں تیار کیا جاتا ہے؟ 
ایسے دوحالات بتائیے جن کے تحت ساجھے داروں کے قائم سرمایے میں تبدیلی ہوسکتی ہے۔
اگر ایک مقررہ رقم ہر سہ ماہی کے پہلے دن نکالی جائے تو ایسی صورت میں نکالی گئی کل رقم پر کتنی مدت کے لیے سود معلوم کیا جائے گا۔
ساجھا معاہدہ نامہ کی غیر موجودگی میں،مندرجہ ذیل سے متعلق اصولوں کی وضاحت کیجیے:
(i) نفع اور نقصان کی تقسیم
(ii) ساجھے دار کے سرمایہ پر سود
(iii) ساجھے دار کے ذریعے نکالی گئی رقم پر سود
(iv) ساجھے دار کے قرض پر سود
(v) ساجھے دار کو تنخواہ

طویل جوابی سوالات

ساجھے داری سے کیا مراد ہے؟ اس کی اہم خصوصیات کی وضاحت کیجیے۔
2۔ساجھا معاہدہ نامہ کی غیر موجودگی میں ساجھا کھاتوں کے لیے موزوں انڈین پارٹنرشپ ایکٹ1932کی دفعات کی تشریح کیجیے۔
3۔ساجھے داری معاہدہ کا تحریری ہونا کیوں بہتر خیال کیا جاتا ہے؟ وضاحت کیجیے۔ 
4۔بیان کیجیے کہ مختلف صورتوں میں نکالی گئی رقوم پرسود کا حساب کیسے لگایا جائے گا؟
ساجھے دار کو دی گئی منافع کی ضمانت پر نوٹ لکھیے۔
6۔موجودہ ساجھے داروں کے درمیان نفع نقصان تناسب میں تبدیلی کیبارے میںآپ کا طرزعمل کیا ہوگا؟ فرضی اعدادوشمار کی مدد سے اپنے جواب کی تشریح کیجیے۔

عددی سوالات(Numerical Questions)


ترپاٹھی اور چوہان ایک فرم میں ساجھے دار ہیں اور نفع اور نقصان کو 3:2کے تناسب میں بانٹتے ہیں 1 اپریل 2019کو ان کے سرمایے60,000 روپیے اور40,000 روپیے تھے۔ سال کے دوران انھوں نے30,000روپیے کا منافع کمایا۔ساجھا معاہدہ نامہ کے مطابق دونوں ساجھے دار 1000 روپیے ماہانہ تنخواہ اور5% سالانہ سرمایہ پر سود کے مستحق ہیں۔ان کے ذریعے نکالی گئی رقوم پر5% سالانہسود چارج ہونا ہے ۔مدت سے قطع نظر،ترپاٹھی کا نکالی گئی رقم پر سود12,000 روپیے اور چوہان کا8,000 روپیے ہے۔ساجھے دار کے سرمایہ /چالو کھاتے تیار کیجیے جب کہ ان کے سرمائے قائم ہیں۔
(جواب: ترپاٹھی کے چالو کھاتہ کابیلنس36,00 روپیے اور چوہان کے چالو کھاتہ کابیلنس64,00روپے،ترپاٹھی کا سرمایہ 60,000،چوہان کا سرمایہ 40,000روپیہ ہے)
انوبھا اور کاجل ایک فرم میںساجھے دار ہیں اور ان کا نفع نقصان تقسیم کرنے کا تناسب2:1ہے۔ ان کے سرمایے 90,000 روپیے اور60,000 روپیے تھے۔سال کے دوران منافع45,000کا ہوا۔ساجھا معاہدہ نامہ کے مطابق انوبھا کو 700ماہانہ اور کاجل کو500 روپیے ماہانہ تنخواہ دی جائے گی۔سرمایہ پر %5سالانہ کی شرح سے سود دیا جائے گا۔سال کے دوران انوبھاکے ذریعہ کاروبار سے نکالی گئی رقم8,500 روپیے تھی اور کاجل کے ذریعہ نکالی گئی رقم6,500 روپیے تھی۔ نکالی گئی رقوم پر%5سالا نہ کی شرح سے سود چارج کیا جانا ہے۔یہ فرض کرکے کہ سرمایہ کھاتہ متغیر ہے،ساجھے داروں کے سرمائے کھاتے تیار کیجیے۔
(جواب: انوبھا کے سرمایہ کھاتے کابیلنس1,09,860 روپیے،کاجل کے سرمایہ کھاتے کابیلنس70140 روپیے)
ہر شد اور دھیمن 1اپریل2019سے ساجھاکاروبار میں ہیں۔کوئی ساجھا معاہدہ نامہ نہیں بنایا گیا تھا۔انھوں نے بالترتیب 4,00,000 روپیے اور1,00,000 روپیے بطور سرمایہ لگایا تھا۔اس کے علاوہ،1اکتوبر2019کو ہرشد نے فرم کو1,00,000 روپیے کا قرض دیا تھا۔طویل بیماری کے باعث ہرشد 1اگست سے لے کر30ستمبر2016تک کاروباری سرگرمیوں میں حصہ نہیں لے سکا۔سال آخر31مارچ2020کو منافع کی رقم1,80,000 روپیے تھی۔ہرشد اور دھیمن کے درمیان تنازعات اٹھ کھڑے ہوئے۔
ہرشد کامطالبہ ہے کہ:
(i) اسے %10سالانہ کی شرح سے سرمایہ اور قرض پر سود دیاجانا چاہیے۔
(ii) سرمایے کے تناسب میں منافع کی تقسیم ہونی چاہیے۔
دھیمن مطالبہ کرتاہے کہ:
(i) منافع کی تقسیم مساوی طور پر ہونی چاہیے۔
(ii) ہرشد کی غیر موجودگی میں جتنے عرصے اس نے کاروبار کا انتظام کیا تھا اسے اس کے لیے 2000 روپیے ماہانہ کے حساب سے معاوضہ ملنا چاہیے۔
(iii قرض اور سرمایہ پر%6سالانہ کی شرح سے سود دیاجانا چاہیے۔
آپ کو ہرشد اور دھیمن کے درمیان تنازعات کا نپٹارا کرنا ہے اور نفع و نقصان تصرف کھاتہ بھی تیار کرنا ہے۔
(جواب:  ہر شد کا منا فع میں  حصہ88,500 روپیے،دھیمن کامنافع میں حصہ88,500 روپیے )
آکریتی اور بندو نے بغیر کسی ساجھا نامہ کے 1اپریل2016کو کپڑا بنانے کا ساجھا داری کا روبار شروع کیا۔انھوں نے 1اکتوبر2019کو بالترتیب 5,00,000روپیے اور3,00,000روپیے کا سرمایہ لگایا۔اکریتی نے سود سے متعلق بغیر کسی معاہدہ کے فرم کو20,000روپیے کا قرض دیا۔ مارچ2020 کو ختم ہونے والے سال کے لیے نفع اور نقصان کھاتہ43000روپیے کا منافع ظاہر کرتا ہے۔منافع کی تقسیم اور سود کو لے کر ساجھے داروں میں اتفاق نہ ہوسکا۔آپ کو ان کے درمیان منافع تقسیم کرنا ہے اور اپنے حل کے لیے دلیل بھی پیش کرنی ہے۔
(جواب : آکرتی اور بندو کے مساوی منافع کا حصہ21,200روپیے )
راکھی اور شکھا ایک فرم میں ساجھا دار ہیں اور ان کے سرمایے بالترتیب2,00000روپیے اور3,00000روپیے ہیں۔سال  17-2016کے لیے فرم کا منافع 23,200روپیے ہے۔ساجھا نامہ کے مطابق،شکھا کو 5,000روپیے ماہانہ تنخواہ کی ادائیگی اور ساجھے داروں کے سرمایہ پر10%سالانہ سود کی ادائیگی کے بعد منافع کو ساجھے داروں کے سرمایہ کے تناسب میں تقسیم کیا جانا ہے۔سال کے دوران راکھی نے7,000روپیے اور شکھانے10,000روپیے اپنے ذاتی استعمال کے لیے فرم سے نکالے۔ ساجھے داری معاہدہ کی رو سے تنخواہ اور سرمایہ پر سود منافع سے چارج کئے جاتے ہیں۔نفع اور نقصان تصرف کھاتہ اور ساجھے دار وں کے سرمایہ کھاتے تیار کیجیے۔
(جواب: راکھی کے سرمایہ کھاتہ پر منتقل شدہ نقصان34,720روپیے اور شکھا کے سرمایہ کھاتہ پر52,080روپیے)
لوکیش اور آزاد ساجھے دار ہیں اور نفع اورنقصان کو 3:2کے تناسب میں تقسیم کرتے ہیں ۔انھوں نے بالترتیب50,000روپیے اور30,000روپیے بطور سرمایہ لگائے ہیں۔ سرمایے پر سود%6سالانہ کی شرح سے دیا جانا ہے۔آزاد کو 2,500سالانہ تنخواہ دی جانی ہے۔2006کے دوران،سرمایے پر سود کے حساب سے قبل لیکن آزاد کی تنخواہ کوچارج کرنے کے بعد منافع کی رقم12,500روپیے تھی۔منیجر کے کمیشن کے ضمن میں منافع کے%5کا محفوظ(Provision)بنایا جانا ہے۔منافع کی تقسیم کو ظاہر کرنے والے کھاتوں اور ساجھے داروں کے سرمایہ کھاتوں کو تیار کیجیے۔
(جواب: لوکیش کے سرمایہ کھاتہ پر منتقل شدہ منافع4,170روپیے اور آزاد کے سرمایہ کھاتہ پر2,780روپیے)
منیش اور گریش کے درمیان ساجھے داری معاہدے کی رو سے:
(i) منافعوں کی تقسیم مساوی طور پر ہوگی۔
(ii) منیش کو 400روپیے ماہانہ تنخواہ دی جائے گی۔
(iii) گریش جو کہ شعبہء فروخت کا انتظام سنبھالتا ہے مہیش کو تنخواہ دیے جانے کے بعد بچے خالص منافع(Net Profit) کے%10کے برابر کمیشن کا مستحق ہوگا۔
(iv) ساجھے داروں کے قائم سرمایے پر%7سود دیا جائے گا۔
(v) ساجھے داروں کے ذریعے نکالی گئی رقوم پر%5سالانہ سود چارج کیا جائے گا۔
(vi) منیش اور گریش کے قائم سرمایے 1,00000روپیے اور80,000روپیے ہیں۔انھوں نے بالترتیب 16,000روپیے اور14,000روپیے کی رقوم کا روبار سے نکالی ہیں۔31مارچ 2019کو ختم ہونے والے سال کے لیے خالص منافع کی رقم40,000روپیے تھی۔
فرم کا نفع و نقصان تصرف کھاتہ تیار کیجیے۔
(جواب: منیش اور گریش کے سرمایہ کھاتہ میں 10,290روپیے کا منافع منتقل ہوگا)
رام، راج اور جارج ساجھے دار ہیں اور5:3:2کے تناسب میں نفع اور نقصان تقسیم کرتے ہیں۔ساجھا معاہدہ نامہ کے مطابق، جارج کو کم ازکم 10,000روپیے کی رقم منافع میں اس کے حصے کے طور پر ہر سال ملے گی۔سال 2013کے لیے خالص منافع40,000روپیے تھا۔نفع اور نقصان تصرف کھاتہ تیار کیجیے۔
(جواب : رام کے سرمایہ کھاتہ میں منتقل شدہ منافع18750روپیے،راج کے سرمایہ کھاتہ میں11250روپیے اور جارج کے سرمایہ کھاتہ میں10,000روپیے)
امان،ببیتا اور سریش ایک فرم میں ساجھے دار ہیں ان کا نفع اور نقصان تناسب2:2:1ہے۔سریش کو ہر سال کم ازکم10,000روپیے بطور منافع ملنے کی ضمانت دی گئی ہے۔اس مد میں کوئی بھی خسارہ ببیتا کے ذریعے پورا کیا جائے گا  31مارچ2019اور 31مارچ2017کو ختم ہونے والے دو سالوں کا منافع بالترتیب40,000روپیے اور 60,000روپیے ہوا تھا۔دوسالوں کے لیے نفع اور نقصان کھاتہ تیار کیجیے۔
(جواب: سال 2019کے لیے،امان کے سرمایہ کھاتہ میں منتقل شدہ 16,000روپیے، ببیتا کے سرمایہ کھاتہ میں14,000روپیے،سریش کے سرمایہ کھاتہ میں10,000روپیے اور سال2006کے لیے،امان کے سرمایہ کھاتہ میں منتقل شدہ منافع24,000روپیے،ببیتا کے سر مایہ کھاتہ میں24,000روپیے اور سریش کے سرمایہ کھاتہ میں12,000روپیے)
10۔ سمی اور سونو ایک فرم میں ساجھے دار ہیں اور 3:1کے تناسب میں نفع اور نقصان کو تقسیم کرتے ہیں۔31مارچ2020 کو ختم ہونے والے سال کے لئے فرم کا نفع اور نقصان کھاتہ1,50,000روپیے کا خالص منافع ظاہر کرتا ہے۔مندرجہ ذیل معلومات کو مد نظر رکھتے ہوئے نفع اور نقصان تصرف کاکھاتہ تیار کیجیے:
1اپریل 2019کو ساجھے داروں کا سرمایہ:سمی30,000روپیے،سونو60,000روپیے۔
1اپریل2016کو چالو کھاتوں کے بیلنس: سمی3,000روپیے(کریڈٹ)،سونو15,000روپیے (کریڈٹ)
سال کے دوران ساجھے داروں کے ذریعے نکالی گئی رقوم:سمی20,000روپیے،سونو15,000روپیے
(iv) سرمایہ پر سود%5سالانہ کی شرح سے دیا جانا ہے۔
(v) نکالی گئی رقوم پر%6سالانہ کی شرح سے 6ماہ کے اوسط پر سود چارج کیا جانا ہے۔
(vi) ساجھے داروں کی تنخواہیں:سمی12,000روپیے اورسونو9,000روپیے۔ساجھے داروں کے چالوکھاتے بھی ظاہر کیجیے۔
(جواب : سمی کے سرمایہ کھاتے میں منتقل شدہ منافع 94,162روپیے اور سونو کے سرمایہ کھاتے میں31,388روپیے)
11۔ اروند اور آنند8:3:1کے تناسب میں نفع اور نقصان میں شریک ہیں۔یکم اپریل 2019کو ان کے سرمایہ کھاتوں کے بیلنس تھے:
اروند4,40,000روپیے اور آنند2,60,000روپیے قرارداد کے مطابق ، شراکت دارڈرائنکس پر سود6فیصد اور سرمایہ پر سود5فیصد سالانہ کی در سے سود کے مستحق ہوں گے اور 35,000روپیے سالانہ تنخواہ بھی منظور کی گئی ہے۔ شراکت داروں نے جو جو روپیے بینک سے سال کے دوران نکالے وہ اس طرح تھے۔ اروند نے 40,000روہیے اور آنند نے 28,000روپیے۔ فرم کا نفع نقصان کھاتہ 31مارچ 2020کو ختم ہونے والے سال پر 32,000روپیے کا خالص نقصان دکھا رہا ہے۔ نفع اور نقصان تصرف کھاتہ تیار کیجیے۔
(جواب:(i) ڈرائنکس پر سود: اروند-12,00پر؛ آنند-840روپیے(ii)نقصان کا شیئر: اروند-22,770روپیے، آنند-7,590روپیے)
12۔ رمیش اور سریش ایک فرم میں ساجھے دار تھے اورنفع ونقصان کو کاروبار میں اپنے ذریعہ لگائے گئے تناسب میں بانٹتے تھے جو کہ بالترتیب80,000روپیے اور60,000روپیے تھا۔فرم نے 1اپریل 2016کو کاروبار شروع کیا۔ساجھے داری معاہدے کے مطابق،سرمائے اور نکالی گئی رقوم پر بالترتیب%12اور%10سالانہ کی شرح سے سود لگانا ہے ۔رمیش اور سریش بالترتیب2,000روپیے اور3,000روپیے ماہانہ کی تنخواہ ملے گی۔
31مارچ 20176کو ختم ہونے والے سال کے لیے مندرجہ بالا ایڈجسٹ منٹ کرنے سے قبل منافع10,0300روپیے تھا۔رمیش اور سریش نے بالترتیب40,000روپیے اور50,000روپیے کی رقوم کا روبار سے نکالی تھیں۔رمیش کے ذریعہ نکالی گئی رقم پر سود2,000روپیے اور سریش کے ذریعے نکالی گئی رقم پر سود2,500روپیے تھا۔یہ فرض کرکے کہ ان کے سرمایہ متغیر ہیں نفع اور نقصان تصرف کھاتہ تیار کیجیے۔
(جواب: رمیش کے سرمایے کھاتہ میں منتقل شدہ منافع6,000روپیے اور سریش کے سرمایہ کھاتہ میں12,000روپیے)
13۔ سوکیش اور ونیتا ایک فرم میں ساجھے دار تھیں۔ان کے ساجھا داری معاہدے کے مطابق:
(i) سوکیش اور ونیتا منافع کو3:2کے تناسب میں تقسیم کریں گے۔
(ii) سرمایہ پر%5سود دیا جائے گا۔
(iii) ونیتا کو 600روپیے ماہانہ تنخواہ ملے گی۔
31دسمبر2006کو فرم کی کتابوں سے مندرجہ ذیل بیلنس لیے گئے۔
سوکیش (روپیے) ونیتا (روپیے)
سرمایہ کھاتے
چالو کھاتے
نکالی گئی رقوم
40,000
7,200(کریڈٹ)
10,850

40,000
2,800(کریڈٹ)
8,150

سرمایہ پر سود کوچارج کرنے سے قبل اور ساجھے دار کی تنخواہ کو چارج کرنے کے بعد سال کاخالص منافع9,500روپیے تھا۔ساجھے داروں کے چالو کھاتے اور نفع اور نقصان تصرف کھاتہ تیار کیجیے۔
(جواب: سوکیش کے سرمایہ کھاتہ میں منتقل شدہ منافع3300روپیے اور ونیتاکے سرمایہ کھاتہ میں2,200روپیے)
14۔ راہل،روہت اور کرن نے 1اپریل2019کو بالترتیب20,00,000روپیے،18,00000روپیے اور 6,00000 روپیے کے سرمائے سے ساجھا کاروبار شروع کیا۔ 2007کو ختم ہونے والے سال کے منافع کی رقم1,35,000روپیے تھی اور اس سال راہل نے50,000روپیے،روہت نے50,000روپیے اورکرن نے40,000روپیے کی رقوم کاروبار سے نکالیں۔ ساجھے داروں کے درمیان 3:2:1کے تناسب میں منافع تقسیم کیا جانا ہے۔%5سالانہ کی شرح سے سرمایہ پر سود معلوم کیجیے۔
(جواب: راہل1,00000روپیے،روہت90,000روپیے،کرن80,000روپیے)
15۔ سن فلا ور اورپنک روز نے 1اپریل 2019کو بالترتیب 2,50,000روپیے اور 1,50,000روپیے کے سرمایے سے ساجھا کاروبار شروع کیا۔1اکتوبر2016کو انھوں نے فیصلہ کیا کہ ان میں سے ہر ایک کا سرمایہ 2,00000روپیے ہونا چاہیے۔ نقد رقم کو کاروبار میں لگاکر یا نکال کر سرمایوں میں ضروری ایڈجسٹ منٹ کیے گئے۔سرمایے پر%10سالانہ کی شرح سے سود دیا جاتا ہے 31مارچ 2020کو سرمایہ پر سود کی رقم معلوم کیجیے۔
(جواب: سن فلاور کے سرمایہ پرمجموعی سود22,500روپیے اور پنک روز کے سرمایہ پر17,500روپیے)
16۔31مارچ2020کو کھاتوں کو بند کرنے کے بعد فرم کی کتابوں میں مائونٹین،ہل اور روک کے سرمایے بالترتیب4,00000 روپیے،3,00000روپیے اور 2,00000روپیے تھے۔اسی اثنا میں یہ معلوم ہوا کہ سرمایہ پر %10سالانہ کی شرح سے سود نہیں دیا گیاہے۔سال کے دوران ہونے والے منافع کی رقم1,50,000روپیے تھی۔مائونٹین نے20,000روپیے کاروبار سے نکالے تھے جب کہ ہل نے15,000روپیے اور روک نے10,000روپیے نکالے تھے۔سرمایے پر سود معلوم کیجیے۔
(جواب:  سرمایے پر سود: ماؤنٹین 37,000روپیے،ہل26,500روپیے،روک16,000روپیے)
17۔ 31مارچ 2020کو نیل کانت اور مہادیو کی بیلنس شیٹ حسب ذیل تھی۔

31مارچ 2020کو بیلنس شیٹ

رقم
(روپیے)
اثاثہ
روپیے
رقم
(روپیے)
دین داریاں
(Liabilities)
30,00,000





30,00,000
متفرق اثاثے 10,00,000
10,00,000
1,00,000
1,00,000
8,00,000

30,00,000
نیل کانت کا سرمایہ
مہا دیو کا سرمایہ
نیل کانت کا چالو کھاتہ
مہادیو کا چالو کھاتہ
نفع ونقصان تصرف کھاتہ
مارچ 2007

سال کے دوران مہادیو نے30,000روپیے کی رقم کاروبار سے نکالی17-2016کے دوران 10,00,000روپیے منافع ہوا۔ 31مارچ2020کو ختم ہونے والے سال کے لیے%5سالانہ کی شرح سے سرمایے پر سود معلوم کیجیے۔
(جواب:  نیل کانت کے سرمایہ پر سود50,000روپیے اور مہادیو کے سرمایہ پر سود50,000روپیے)
18۔ رشی ایک فرم میں ساجھے دار ہے۔ 31مارچ2020کو ختم ہونے والے سال کے دوران اس نے حسب ذیل رقوم کا روبار میں سے نکالیں:
1مئی 2019 12,000روپیے
31جولائی2019
30ستمبر2019
30نومبر2019
1جنوری2020
31مارچ2020
6,000روپیے
9,000روپیے
12,000روپیے
8,000روپیے
7,000روپیے
نکالی گئی رقوم پر%9سالانہ کی شرح سے سود چارج کیا جانا ہے۔نکالی گئی رقوم پر سود معلوم کیجیے۔
(جواب:  نکالی گئی رقوم پر سود2,295روپیے )
19۔ مولی اور گولو کے سرمایہ کھاتے 1اپریل2019کو40000روپیے اور 20000روپیے کے بیلنس دکھاتے ہیں۔ وہ3:2کے تناسب میں منافع تقسیم کرتے ہیں۔سرمایہ پر %10سالانہ کی شرح سے سود دیا جائے گااور نکالی گئی رقوم پر%12سالانہ کی شرح سے سود چارج کیا جائے گا۔1اگست2016کو گولو نے فرم کو10,000روپیے کا قرض دیا تھا۔سال کے دوران،مولی نے ہر ماہ کے شروع میں1,000روپیے ماہانہ کے حساب سے کاروبار سے رقم نکالی جب کہ گولو نے ہر ماہ کے آخر میں1,000روپیے ماہانہ کے حساب سے کاروبار سے رقم نکالی۔مندرجہ بالا ایڈجسٹ منٹ  سے قبل سال کا منافع 20,950روپیے تھا۔نکالی گئی رقم پر سود معلوم کیجیے اور ساجھے داروں کے سرمایہ کھاتے نیز منافع کی تقسیم کو دکھائیے۔
(جواب:  نکالی گئی رقم پر سود: مولی780روپیے،گولو660روپیے۔منافع مولی9,594روپیے گولو6,396روپیے)
20۔ راکیش اور روہن ساجھے دار ہیں اور بالترتیب40,000روپیے اور30,000روپیے کے سرمائے کے ساتھ3:2کے تناسب میں نفع اور نقصان کو تقسیم کرتے ہیں۔انھوں نے اپنے ذاتی استعمال کے لیے مندرجہ ذیل رقوم کاروبار سے نکالیں۔
راکیش ماہ روپیے









روہن
31مئی2019
30جون2019
31اگست2019
1نومبر2019
31دسمبر2019
31جنوری2020
1مارچ2020

ہر ماہ کے شروع میں
600
500
1000
400
1500
300
700
400
نکالی گئی رقوم پر % 6سالانہ کی شرح سے سود چارج کیا جانا ہے۔یہ مان کر کہ کتابیں ہرسال31مارچ2014کو بند کی جاتی ہیں نکالی گئی رقوم پر سود معلوم کیجیے۔
 (جواب: راکیش کے ذریعہ نکالی گئی رقوم پر سود126.5روپیے،روہن کے ذریعے نکالی گئی رقوم پر سود 156روپیے (تقریباً) 
21۔ ہمانشو ہر ماہ کے آخر میں 2500روپیے فرم سے نکالتا ہے۔ساجھا معاہدہ نامہ کے مطابق نکالی گئی رقوم پر %12سالانہ کی شرح سے سود چارج کیا جانا ہے۔ 31مارچ2017کو ختم ہونے والے سال کے لیے ہمانشو کے ذریعے نکالی گئی رقوم پر سود معلوم کیجیے۔
(جواب:  نکالی گئی رقوم پر سود1,650روپیے)
22۔ بہرام ایک فرم میں ساجھے دار ہے۔ اس نے ہر ماہ کے شروع میں 12مہینے تک 3000روپیے فرم سے نکالے۔فرم کی کتابیں ہر سال 31مارچ کو بند ہوتی ہیں۔نکالی گئی رقوم پر سود معلوم کیجیے اگر سود کی شرح %10سالانہ ہو۔
(جواب: نکالی گئی رقوم پر سود1,950روپیے)
23۔ راج اور نیرج ایک فرم میں ساجھے دار ہیں۔1اپریل 2017کوا ن کے سرمایے بالترتیب 2,50,000روپیے اور 1,50,000روپیے تھے۔وہ منافع کو مساوی طورپرتقسیم کرتے ہیں۔1جولائی 2017کو انھوں نے فیصلہ کیا کہ ان میں سے ہر ایک کا سرمایے 1,00,000روپیے ہونا چاہیے۔ساجھے داروں کے ذریعے نقد رقم لگا کر یا نکال کر سرمایے میں ضروری ایڈجسٹمنٹ کیے گئے۔سرمایے پر%8سالانہ کی شرح سے سود دیا جانا ہے۔سال کے آخر 31مارچ 2018کو دونوں ساجھے داروں کے سرمایے پر سود معلوم کیجیے۔
(جواب:  راج11,000روپیے اورنیرج9,000روپیے)
24۔ امیت اور بھولا ایک کمپنی میں ساجھے دار ہیں ۔ان کے نفع کا تناسب 3:2ہے۔ ان کی ساجھے داری معاہدہ کے مطابق ان کی نکالی گئی رقوم پر سود کی شرح %10سالانہ ہو گی ۔ انہوں نے 2017کے دوران بالترتیب 24,000اور 16000کی رقم نکالی۔ نکالی گئی رقم پر سود کا حساب اس مفروضہ پر لگایا گیا ہے کہ یہ رقوم پورے سال کے دوران برابری سے نکالی گئی ہے۔
 (جواب: امیت کی نکالی گئی رقم پر سود 1200 اور بھولا پر 800روپے ہے) 
25۔ ہریش ایک فرم میں ساجھے دار ہے۔اس نے سال2017کے دوران مندرجہ ذیل رقوم کاروبار سے نکالیں:

روپیے
1مئی 2019
1اگست 2019
30ستمبر 2019
31دسمبر 2019
31مارچ 2020
4,000
10,000
4,000
12,000
4,000
نکالی گئی رقوم پر�(1/2)سالانہ کی شرح سے سود چارج کیا جانا ہے۔31مارچ 2020کوختم ہونے والے سال کے لیے ہریش کے ذریعے نکالی گئی رقوم پر چارج کئے جانے والے سود کی رقم کو معلوم کیجیے۔
(جواب:  نکالی گئی رقوم پر سود1,800روپیے)
26۔ مینن اور تھامس ایک فرم میں ساجھے دار ہیں۔وہ مساوی طورپر منافع کو تقسیم کرتے ہیں۔ان میں سے ہر ایک نے 2,000روپیے کی ماہانہ رقم کاروبار سے نکالی ہے۔نکالی گئی رقوم پر%10سالانہ کی شرح سے سود چارج کیا جانا ہے۔ مندرجہ ذیل صورتوں میں سال2017کے لیے مینن کے ذریعے نکالی گئی رقوم پر سود معلوم کیجیے:
(i) رقوم ہر ماہ کے شروع میں نکالی گئی ہیں۔
(ii) رقوم ہر ماہ کے درمیان میں نکالی گئی ہیں۔
(iii) رقوم ہر ماہ کے آخر میں نکالی گئی ہیں۔
(جواب: نکالی گئی رقوم پر سود (i) 1,300روپیے (ii) 1,200روپیے (iii) 1,100روپیے)
27۔ 31مارچ2017کو کھاتے کی کتابیں بند ہونے کے بعد،رام،شیام اور موہن کے سرمایہ کھاتوں نے بالترتیب24,000 روپیے،18,000روپیے،اور12,000روپیے کے بیلنس دکھائے۔بعد میں پتا چلا کہ سرمایہ پر%5سالانہ کی شرح سے سود دینا یاد نہیں رہا۔ 31مارچ 2017کوختم ہونے والے سال میں منافع کی رقم 36,000روپیے تھی اور رام نے کاروبار سے3,600روپیے کی رقم نکالی تھی جب کہ شیام نے 4,500روپیے اور موہن نے 2,700روپیے کی رقم کاروبار سے نکالی تھی۔رام،شیام اور موہن کا نفع نقصان تقسیم کرنے کا تناسب3:2:1ہے۔سرمایہ پر سود معلوم کیجیے۔
(جواب: رام کے سرمائے پرسود480روپیے،شیام کے سرمایہ پر سود525روپیے اور موہن کے سرمائے پر سود435روپیے)
28۔ امت، سمت اور سمیکشا ساجھے دار ہیں اور منافع کو3:2:1کے تناسب میں تقسیم کرتے ہیں۔ سمیکشا کو کم ازکم 8,000روپیے بطور منافع میں حصہ کی ضمانت کے طورپر امت ارو سمت کے ذریعے دیے گئے۔31مارچ2017کے اختتام پر منافع 36,000روپیے تھا۔ساجھے داروں کے مابین منافع کی تقسیم کیجیے۔
(جواب:  امت کو منافع16,800روپیے،سمت کو11,200روپیے،سمیکشا کو8,000روپیے)
29۔ پنکی،دیپتی اور کاکو ساجھے دار ہیں اور منافع کو 5:4:1کے تناسب میں تقسیم کرتے ہیں۔کاکو،کو یہ ضمانت دی گئی کہ کسی بھی سال منافع میں اس کاحصہ 5,000روپیے سے کم نہ ہوگا۔اگر کوئی خسارہ اس ضمن میں ہوتا ہے تو اسے پنکی اور دیپتی مساوی طور پر برداشت کریں گی۔اس سال منافع کی رقم40,000روپیے تھی۔منافع کی تقسیم کو دکھانے کے لیے فرم کی کتابوں میں ضروری روزنامچہ اندراجات کیجیے۔
(جواب: پنکی اور دیپتی  ہر ایک کے ذریعہ برداشت کیا جانے والا خسارہ500روپیے)
30۔ ابھے،سدھارتھ اور کسم ایک فرم میں ساجھے دار ہیں اور منافع کو5:3:2کے تناسب میں تقسیم کرتے ہیں۔کسم کو منافع میں حصے کے طور پرکم ازکم1,000روپیے ملنے کی ضمانت دی گئی ہے۔اس ضمن میں آنے والا کوئی بھی خسارہ سدھارتھ کے ذریعے برداشت کیا جائے گا۔31مارچ 2016اور 2017کوختم ہونے والے سال میں منافع بالترتیب40,000روپیے اور60,000روپیے تھا۔ نفع اور نقصان تصرف کھاتہ تیار کیجیے۔
(جواب:  سال 2016۔ابھے20,000روپیے،سدھارتھ10,000روپیے،کسم10,000روپیے 
سال2017۔ابھے30,000روپیے،سدھارتھ18,000روپیے،کسم12,000روپیے)
31۔ رادھا،میری اور فاطمہ ساجھے دار ہیں اور 5:4:1کے تناسب میں منافع کو تقسیم کرتے ہیں۔فاطمہ کو یہ ضمانت دی گئی کہ اسے اس کے منافع میں حصہ کے طور پر کسی بھی سال 5000روپیے سے کم نہیں ملیں گے۔31مارچ 2020کوختم ہونے والے سال منافع کی رقم35,000روپیے تھی۔فاطمہ کو دی گئی منافع کی ضمانت شدہ رقم میں اگر کوئی کمی ہوتی ہے تو اسے رادھا اور میری 3:2کے تناسب میں برداشت کریں گی۔ساجھے داروں کے درمیان منافع کی تقسیم کو دکھانے کے لیے ضروری روزنامچہ اندراجات درج کیجیے۔
(جواب:  برداشت کیا جانے والاخسارہ:رادھا900روپیے اور میری600روپیے)
32۔ ایکس ،وائی اور زیڈ ساجھے دار ہیں اور نفع اور نقصان کو 3:2:1کے تناسب میں تقسیم کرتے ہیں۔زیڈ کا منافع میں ایکس اور وائی کے ذریعے ضمانت شدہ حصہ کم ازکم 8,000روپیے ہے۔31مارچ 2020کوختم ہونے والے سال میں خالص منافع 30,000 روپیے تھا۔ہر ایک ساجھے دار کو واجب الادا رقم کی نشاندہی کرنے کے لیے نفع اور نقصان تصرف کھاتہ تیار کیجیے۔
(جواب: منافع:ایکس کو 13,200روپیے،وائی کو8,800روپیے،زیڈ کو8,000روپیے)
33۔ ارون،بابی اور چنٹو ایک فرم میں ساجھے دار ہیں اور 2:2:1کے تناسب میں منافع کو تقسیم کرتے ہیں۔ساجھے داری معاہدے کے مطابق،فرم کے منافع سے قطع نظر ،چنٹو کو کم ازکم 60,000روپیے دیے جانے ہیں۔اس ضمن میں اگر کوئی خسارہ ہوتا ہے تو اسے ارون کے ذریعے برداشت کیا جائے گا۔ساجھے داروں کے درمیان منافع کی تقسیم کو دکھانے کے لیے نفع اور نقصان تصرف کھاتہ تیار کیجیے۔اگرسال 2015کو منافع(1) 2,50,000)ہو(2) 3,60,000)ہو۔
(جواب:  (i)ارون کو منافع90,000روپیے،بابی کو1,00,000روپیے اورچنٹو کو60,000روپیے
(ii) ارون کو منافع1,44,000روپیے،بابی کو1,44,000روپیے اورچنٹو کو72,000روپیے)
34۔ اشوک،برجیش اور چینا ساجھے دار ہیں اور2:2:1کے تناسب میں منافع کو تقسیم کرتے ہیں۔اشوک اور برجیش نے چینا کو ضمانت دی کہ اس کا منافع کسی بھی سال 20000روپیے سے کم نہیں ہوگا۔31مارچ 2017کو ختم ہونے والے سال میں منافع کی رقم70,000روپیے تھی۔نفع اور نقصان تصرف کھاتہ تیار کیجیے۔
(جواب:  منافع اشوک کو25,000روپیے،برجیش کو25,000روپیے اور چینا کو20,000روپیے)
35۔ رام،موہن اور سوہن بالترتیب5,00,000روپیے،2,50,000روپیے اور 2,00,000روپیے کے سرمایے کے ساتھ ساجھے دار ہیں۔%10سالانہ کی شرح سے سرمایہ پر سود دیئے جانے کے بعد منافع حسب ذیل طرح سے تقسیم ہوگا رام(1/2)، موہن (1/3)اور سوہن(1/6)لیکن رام اور موہن نے سوہن کو ضمانت دی ہے کہ اس کا منافع کسی بھی سال25,000 روپیے سے کم نہیں ہوگا۔سرمایہ پر سود چارج کرنے سے قبل سال 31مارچ2017کے اختتام پر خالص منافع2,00,000 روپیے ہوا۔نفع و نقصان تصرف کھاتہ تیار کرکے منافع کی تقسیم دکھائیے۔
(جواب:  رام کو منافع 48,000روپیے،موہن کو32,000روپیے اورسوہن کو25,000روپیے)
36۔ امت،ببیتا اور سونا نے ایک ساجھے داری کی فرم تشکیل کی۔حسب ذیل شرائط کو مدنظر رکھتے ہوئے منافع کی تقسیم کا تناسب 3:2:1رکھاگیا۔
(i) سونا کا منافع میں ضمانت شدہ حصہ کسی بھی سال15000روپیے سے کم نہیں ہوگا۔
(ii) ببیتا یہ ضمانت دیتی ہے کہ فرم کے لیے اس کے ذریعے کمائی گئی کل رقم گزشتہ پانچ سالوں کی اس میں اوسط کل کمائی کے برابر ہوگی جب کہ وہ کاروبار کو اکیلے چلا رہی تھی(یہ کمائی 25,000روپیے ہے)31مارچ2017کوختم ہونے والے سال میں خالص منافع 75,000روپیے ہے۔فرم کے لیے ببیتا کے ذریعے کمائی گئی کل رقم16,000روپیے تھی۔نفع اور نقصان تصرف کھاتہ تیار کیجیے۔
(جواب: سرمایہ کھاتوں پر منتقل شدہ منافع: امت کے41,400روپیے،ببیتا کے27,600روپیے،اور سونا 15,000روپیے)
37۔ 31مارچ2020کو ختم ہونے والے سال میںx،yاورzکاخالص منافع60,000روپیے تھا۔اسے ان کے منافع کے تناسب3:1:1 میں بانٹا گیا۔اسی اثنا میں یہ پتا چلا کہ درج ذیل لین دین کو کتابوں میں درج نہیں کیا گیاہے:
(i)
5%سالانہ کی شرح سے سرمایہ پر سود
(ii)
X،YاورZکے ذریعے بالترتیب نکالی گئی رقومX 700روپیے،500Yروپیےاور300Zروپیے پر سود۔
(iii) ساجھے دار کی تنخواہ:Xکی 1,000روپیے،Yکے 1,500روپیے سالانہ
ساجھے دار وں کے سرمایے قائم تھے جو کہ اس طرح تھےXکا 1,00,000روپیے،Yکا 80,000روپیے اورZکاسرمایہ 60,000روپیے۔ایڈجسٹمنٹ اندراج کو درج کیجیے۔
(جواب:  xڈیبٹ2,700روپیے،yکریڈٹ2,600روپیے اورzکریڈٹ 100روپیے)
38۔ ہیری،پورٹر اور علی کی فرم،جو کہ 2:2:1کے تناسب میں منافع تقسیم کرتے ہیں کچھ عرصہ سے قائم ہے۔علی منافع میں ہیری اور پورٹر کے ساتھ مساوی حصہ چاہتا ہے اور ساتھ ہی وہ ایسی ہی تبدیلی منافع کی تقسیم کے تناسب میں بھی چاہتا ہے۔ہیری اور پورٹر اس پر متفق ہیں۔گزشتہ تین برسوں کا منافع حسب ذیل ہے:
(روپیے)
2014-15
2015-16
2016-17
22,000روپیے
24,000روپیے
29,000روپیے
ایک واحد روزنامچہ اندراج کے ذریعے منافع کا ایڈجسٹمنٹ دکھائیے۔
(جواب: ہیری (ڈیبٹ) 5,000روپیے،پورٹر(ڈیبٹ)5,000روپیے اورعلی(کریڈٹ)10,000روپیے)
39۔ منو اورسرشٹی ساجھے دار ہیں اور 3:2کے تناسب میں منافع کو تقسیم کرتے ہیں۔31مارچ 2017کو فرم کی بیلنس شیٹ مندرجہ ذیل ہے۔

31 مارچ 2017کو بیلنس شیٹ

دین داریاں(Liabilities) رقم (روپیے) اثاثے(Assets) رقم(روپیے)
منو کاسرمایہ  30000
سرشٹی کا سرمایہ 10,000



40000



40,000
نکالی گئی رقوم
منو  4,000
سرشٹی 2,000
دوسرے اثاثے 



6000
34,000
40,000
31مارچ2017کو ختم ہونے والے سال میں منافع 5,000روپیے تھا جو کہ ساجھے داروں کے درمیان اتفاق شدہ تناسب میں تقسیم کیاگیا۔لیکن سرمایہ پر %5سالانہ کی شرح سے اور نکالی گئی رقوم پر%6سالانہ کی شرح سے سود نہیں دیا گیاتھا۔6ماہ کی اوسط بنیاد پر نکالی گئی رقوم پر سود کا ایڈجسٹمنٹ اوراس کا اندراج کیجیے۔
(جواب:  منو(ڈیبٹ) 288روپیے اور سرشٹی(کریڈٹ)288روپیے)
40۔ 31مارچ 2017کو نکالی گئی رقوم ،منافع وغیرہ کے ایڈجسٹمنٹ کے بعد ایلوین،مونو اور احمد کے سرمایہ کھاتوں کا بیلنس بالترتیب 80,000روپیے،60,000روپیے اور40,000روپیے تھا۔بعد میں پتا چلا کہ سرمایہ پر سودا ور نکالی گئی رقوم پر سود نہیں دیاگیا۔
ساجھے دار %5سالانہ کی شرح سے سرمایہ پر سود دیے جانے کے مستحق تھے ۔سال کے دوران ایلیون،مونو اور احمد نے بالترتیب 20,000روپیے،15,000روپیے اور 9,000روپیے کی رقم میں کاروبار سے نکالی تھیں۔نکالی گئی رقوم پر چارج کیا جانے والاسود اس طرح تھا: ایلیوین500روپیے،مونو360روپیے اوراحمد200روپیے۔سال کے دوران خالص منافع کی رقم1,20,000 روپیے تھی۔منافع تقسیم کرنے کا تناسب 3:2:1تھا۔ضروری ایڈجسٹمنٹ اندراجات کیجیے۔
(جواب:  ایلیوین(ڈیبٹ) 570روپیے،مونو(کریڈٹ)10روپیے اوراحمد(کریڈٹ) 560روپیے)
41۔ آزاد اور بینی مساوی ساجھے دار ہیں۔ان کے سرمایے بالترتیب 40,000روپیے اور80,000روپیے ہیں۔سال کے لیے کھاتے تیار ہوجانے کے بعد پتہ چلا کہ منافع کی تقسیم سے پہلے ساجھے داروں کے سرمایہ کھاتوں پر %5سالانہ کی شرح سے سود کریڈٹ نہیں کیا گیا جیسا کہ ساجھا معاہدہ نامہ کی رو سے کیا جانا تھا۔یہ فیصلہ کیاگیا کہ اگلے سال کے شروع میں ایک ایڈجسٹمنٹ روزنامچہ اندراج کیا جائے گا۔
(جواب: آزاد(ڈیبٹ)1,000اوربینی(کریڈٹ)1,000)
42۔ موہن،وجے اورانل ساجھے دار ہیں۔ان کے سرمایہ کھاتوں کا بیلنس بالترتیب30,000روپیے،25,000روپیے اور20,000روپیے ہے۔سرمایہ کھاتوں کا بیلنس 31مارچ2017کوختم ہونے والے سال پر ہوئے 24,000روپیے کے منافع کو ساجھے داروں کے درمیان ان کے منافع کے تناسب میں بانٹ دینے کے بعد آیا ہے۔ سال کے دوران موہن،وجے اور انل نے بالترتیب 5,000روپیے،4,000روپیے اور3,000روپیے کی رقوم کاروبار سے نکالی تھیں۔بعد ازاں،حسب ذیل بھول چوک کا پتہ چلا:
(a)
 10%سالانہ کی شرح سے سرمایہ پر سود چارج نہیں کیا گیا۔
(b)  نکالی گئی رقوم پر سود: موہن 250روپیے،وجے200روپیے،انل150روپیے کو کتابوں میں درج نہیں کیا گیا۔
روزنامچہ اندراجات کے ذریعے ضروری اصلاح کیجیے۔
(جواب:  انل کا سرمایہ کھاتہ(ڈیبٹ) 550روپیے اورموہن کاسرمایہ کھاتہ(کریڈٹ)550روپیے)
43۔ انجو، منجو اور ممتا ساجھے دار ہیں جن کا قائم (Fixed) سرمایہ بالترتیب 10,000 روپیے، 8,000 روپیے اور 6,000 روپیے تھی۔ ساجھے داری معاہدہ کے مطابق سرمایہ پر سود کی شرح 5 فی صد سالانہ کا بھی بندوبست تھا۔ مگر پچھلے تین سال سے ان کی کوئی بھی روزنامچہ اندراج نہیں کیا گیا۔ تین سال کے دوران نفع کے تقسیم کا تناسب مندرجہ ذیل ہے۔
سال انجو منجو ممتا
2016 4 3 5
2017 3 2 1
2018 1 1 1
مندرجہ بالا صورت کے لیے ضروری روزنامچہ اور ایڈجسمنٹ تیار کریں۔
(جواب:    ممتا  (Dr.)  200) روپیے، انجو  (Cr.)  100)روپیے اور منجو  (Cr.)  100) روپیے)

آپ کی تفہیم کی جانچ کے لیے جوابی فہرست

اپنی فہم کی جانچ کیجیے۔I
(i)غلط(ii)غلط(iii)درست(iv)غلط
(i)صحیح(ii)صحیح(iii)صحیح(iv)غلط(v)غلط(vi)غلط
اپنی فہم کی جانچ کیجیےII
(i) قرض پر سود %6سالانہ دیا جائے گا۔
(ii) سرمایہ پر سود نہیں دیا جائے گااور نہ ہی نکالی گئی رقم پر سود چارج کیا جائے گا۔
(iii) ساجھے دار کو تنخواہ اور کمیشن نہیں دیا جائے گا۔
(iv) منافع کی تقسیم مساوی طور پر ہوگی۔
منافع : رینا  33,750روپیے،رمن33,750روپیے
اپنی فہم کی جانچ کیجیے۔III
سرمایہ پر سود ،رانی9,000روپیے ،سُمن6,300روپیے
(a) منافع: پر یہ 78,750روپیے،کاجل47,250 روپیے
(b) منافع کوئی نہیں،سرمایہ پر سود: پریہ 54,000روپیے،کاجل72,000روپیے