3
ساجھے داری فرم کی تشکیل نو–––ساجھے دار کی شمولیت
سیکھنے کے مقاصد
اس باب کے مطالعہ کے بعد آپ اس قابل ہوجائیں گے کہ:
•ساجھے داری فرم کی تشکیل نو کے تصو اور اس کے طریقوں کی وضاحت کرسکیں
• ان امور کی نشان دہی کرسکیں جن کا ایڈجسٹمنٹ ساجھے دار کی شمولیت کے وقت فرم کی کتابوں میں ضروری ہوجاتا ہے۔
• تقسیم منافع کے نئے تناسب کا تعین اور ایثاری تناسب کا حساب کرسکیں۔
• ساکھ(good will)کی تعریف بیان کرسکیں اور اس کو متاثر کرنے والے عوامل بیان کرسکیں۔
• بیان کرسکیں کہ ساجھے دار کی شمولیت پر مختلف حالات میں ،ساکھ کے ساتھ کھاتہ داری عمل آوری(treatment)کیسے ہوگی۔
• اثاثوں اور ذمہ داریوں کے ازسرنو اندازۂ قدر کا ضروری ایڈجسٹمنٹ کرسکیں۔
• جمع شدہ نفع اور نقصان کا ضروری ایڈجسٹمنٹ کرسکیں۔
•تقسیم منافع کے نئے تناسب کے مطابق اگر مطلوب ہوتو ہر ساجھے دار کے سرمائے کا تعین اورضروری ایڈجسٹمنٹ کرسکیں۔
•موجودہ شرکا کے درمیان نفع اور نقصان تناسب میں ہونے والی تبدیلی کا ضروری ایڈجسٹمنٹ کرسکیں۔
ساجھے داری دو یا دوسے زیادہ افراد کے درمیان ایک معاہدہ ہوتا ہے جو کسی کاروبار کے نفع اور نقصان کو اپنے مابین تقسیم کرنے کے لیے ان افراد کے ذریعہ کیا جاتا ہے۔ یہ کاروبار ان تمام افراد کے ذریعہ بھی چلا یا جاسکتا ہے یا ان سب کی طرف سے کسی ایک فرد کے ذریعہ بھی۔ یہ افراد ساجھے دار کہلاتے ہیں۔موجودہ معاہدے میں کوئی بھی تبدیلی ساجھے داری فرم کی تشکیل نو کا باعث بنتی ہے۔اس کے نتیجہ میں موجودہ معاہدہ کا خاتمہ ہوجاتا ہے اور ساجھے داری فرم کے ممبران کے درمیان ایک تبدیل کردہ تعلق کے ساتھ ایک نیا معاہدہ وجود میں آتا ہے۔بہر حال فرم چلتی رہتی ہے۔شرکا اکثر مختلف حالات جیسے نئے ساجھے دار کی شمولیت،نفع نقصان کے تناسب میں تبدیلی، ساجھے دار کی سبک دوشی ،موت یا دیوالیہ ہوجانے پر فرم کی تشکیل نو کرتے ہیں۔اس باب میں ہم ان تمام حالات کے بارے میں مختصرا اور نئے ساجھے دار کی شمولیت یا تقسیم منافع کے تناسب میں تبدیلی کے لیے کھاتہ داری عمل آوری کے بارے میں تفصیل سے مطالعہ کریں گے۔
3.1ساجھے داری فرم کی تشکیل نو کے طریقے:
(Modes of Reconstitution of a Partnership Firm)
ساجھے داری فرم کی تشکیل نو عموماً حسب ذیل حالات میں سے کسی ایک کے تحت ہوتی ہے:
نئے ساجھے دار کی شمولیت:نئے ساجھے دار کو فرم میں اس وقت شامل کیا جاتا ہے جب فرم کو مزید سرمایے یا انتظامی تعاون کی ضرورت ہوتی ہے۔پارٹنر شپ ایکٹ 1932کی دفعات کے مطابق ایک نئے ساجھے دار کو اسی وقت فرم میںشامل کیا جا سکتا ہے جبتمام موجودہ شرکا اس کے لیے متفق ہوںالاّ یہ کہ معاہدہ نامہ میںکوئی دوسری صورت بیان کردی گئی ہو۔مثلا ہری اور حق ساجھے دار ہیں اور ان کا تناسب تقسیم منافع 3:2ہے۔1اپریل2017کو وہ جان کو منافع کے(حساب)1/6حصہ کے لیے فرم میں ساجھے دار بناتے ہیں۔اس تبدیلی کے ساتھ ہی اب فرم میں تین ساجھے دار ہیں اور فرم کی تشکیل نو ہوچکی ہے۔
موجودہ شرکا کے درمیان نفع اور نقصان کے تناسب میں تبدیلی:بعض اوقات فرم کے ساجھے دار تقسیم منافع کے لیے اپنے موجودہ تناسب میں تبدیلی کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ایسا فرم میں موجودہ شرکا کے رول میں تبدیلی کے باعث بھی ہو سکتا ہے۔مثلا رام،موہن اور سوہن ایک فرم میں شرکا ہیں اور 3:2:1کے تناسب میں نفع ونقصان کو تقسیم کرتے ہیں۔1اپریل 2017سے انھوں نے منافع کو مساوی طور پر تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا کیونکہ سوہن مزید سرمایہ لے آیا تھا۔اس کے نتیجہ میں موجودہ معاہدے میں تبدیلی ہوجاتی ہے اور فرم کی تشکیل نوہوتی ہے۔
موجودہ ساجھے دار کی سبک دوشی:اس سے مراد ایک ساجھے دار کا فرم کے کاروبار سے اخراج ہے جو کہ اس کی خراب صحت،بڑھاپا یا کاروباری دلچسپی میں تبدیلی کے باعث ہوسکتا ہے۔درحقیقت ،اگرساجھے دار ی کی بنیاداپنی مرضی پر ہو تو ساجھے دار کسی وقت بھی خود کو فرم کی ساجھے داری سے الگ کرسکتا ہے مثلا رائے ،روی اور راؤ ایک فرم میں ساجھے دار ہیں اور منافع کو 2:2:1کے تناسب میں تقسیم کرتے ہیں۔بیمار ہوجانے کے باعث روی نے 31مارچ2007کو فرم سے سبک دوشی حاصل کی اس کے نتیجہ میں فرم کی تشکیل نو ہوئی اور اب فرم کے صرف دو شرکا ہیں۔
ساجھے دار کی موت:ایک ساجھے دار کی موت پر بھی ساجھے داری کی تشکیل نو ہوسکتی ہے بشرطیکہ بقیہ شرکا فرم کے کاروبار کو پہلے ہی کے طرح جاری رکھنے کا فیصلہ کریں۔مثلاx،yاور zایک فرم میں ساجھے دار ہیں اور منافع کو 3:2:1کے تناسب میں تقسیم کرتے ہیں۔31مارچ2017کو xکا انتقال ہوگیا۔yاور zنے کاروبار کو مستقبل میں جاری رکھنے اور منافع کو مساوی طورپراپنے درمیان تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا۔yاورzکے ذریعہ کاروبار کو مستقبل میں جاری رکھنے اور منافع کو مساوی طور پر تقسیم کرنے سے فرم کی تشکیل نو ہوتی ہے۔
3.2نئے ساجھے دار کی شمولیت(Admission of a New Partner)
جب فرم کو اپنے کاروبار کی توسیع کے لیے مزید سرمایے یا انتظامی تعاون کی ضرورت ہوتی ہے تو موجودہ وسائل میں اضافہ کرنے کے لیے ساجھے دار وں کوشامل کیاجا سکتا ہے۔پارٹنرشپ ایکٹ1932کے مطابق،نئے ساجھے دار کو تمام موجودہ شرکا کی رضامندی سے ہی شامل کیا جا سکتا ہے۔نئے ساجھے دار کی شمولیت کے ساتھ ہی،ساجھے دار ی فرم کی تشکیل نو ہوتی ہے اور فرم کے کاروبار کو چلانے کے لیے ایک نیا معاہدہ کیاجاتا ہے۔
ایک نئے ساجھے دار کو فرم میں دو اہم حقوق حاصل ہوتے ہیں––
1۔ ساجھے داری فرم کے اثاثوں میں حصہ داری کا حق،اور
2۔ ساجھے داری فرم کے منافعوں میں حصہ داری کاحق۔
ساجھے داری فرم کے منافعوں اور اثاثوں میں حصہ داری کے حقوق کو حاصل کرنے کے لیے ساجھے دار ایک طے شدہ سرمایے کی رقم نقد یا جنس (kind)میں لاتا ہے۔مزید برآں،ایک ایسی قائم شدہ فرم کی صورت میں جو کہ اپنے سرمایے پر عام شرح منافع سے زیادہ منافع کمارہی ہو نئے ساجھے دار کو کچھ اضافی رقم بھی لگانی پڑتی ہے جسے ساکھ یا پریمیم کہاجاتا ہے۔ ایسا نئے ساجھے دار سے فرم کے اضافی منافع (Super Profit)میں موجودہ شرکا کو ہونے والے نقصان کی تلافی کے لیے کیاجاتا ہے۔
نئے ساجھے دار کی شمولیت کے وقت مد نظر رکھے جانے والے دیگر اہم نکات مندرجہ ذیل ہیں:
1۔ تقسیم منافع کا نیا تناسب(New Profit Sharing ratio)
2۔ ایثاری تناسب(Sacrificing ratio)
3۔ ساکھ کا اندازۂ قدر اور ایڈجسٹمنٹ(Valuation and adjustment of good will)
4۔ اثاثوں کا مکرر یا ازسرنو اندازۂ قدر اور دین داریوں کا تعین(Revaluation of assets and Reassessment of Liablities)
5۔ جمع شدہ منافعوں/محفوظات کی تقسیم(Distribution of accumulated profits)(Resevers)
6۔ شرکا کے سرمایوں کا ایڈجسٹمنٹ(Adjustment of partner's Capitals)
3.3 تقسیم منافع کا نیا تناسب(New Profit Sharing Ration)
جب نیا ساجھے دار فرم میں شمولیت اختیار کرتا ہے تب وہ منافع میں اپنا حصہ پرانے یا موجودہ شرکا سے حاصل کرتا ہے۔دوسرے الفاظ میں،نئے ساجھے دار کی شمولیت پر پرانے شرکا اپنے منافع کے حصہ کی قربانی/ایثار نئے ساجھے کے لیے کرتے ہیں۔لیکن نئے ساجھے کا حصہ کیا ہوگااور موجودہ شرکا سے وہ اسے کیسے حاصل کرے گا اس بات کا فیصلہ نئے اور موجودہ شرکا کے درمیان باہمی طورپر کیاجاتا ہے۔لیکن اگر اس بات کا فیصلہ نہ کیاگیا ہو کہ پرانے شرکا سے نیا ساجھے دار کیسے اپنا حصہ حاصل کرے گا ایسی صورت میں یہ فرض کیا جاتا ہے کہ وہ اسے ان کے درمیان منافع کی تقسیم کے تناسب میں حاصل کرتا ہے۔کوئی بھی صورت ہو،نئے ساجھے دار کی شمولیت پر،پرانے شرکا کے درمیان منافع کی تقسیم کے تناسب میں تبدیلی ہوتی ہے اور یہ تبدیلی آنے والے شریک کے منافع کے تناسب میں ان کی بالترتیب حصہ داری کو مد نظر رکھتے ہوئے ہوتی ہے۔اسی لیے تمام شرکا کے درمیان تقسیم منافع کا نیاتناسب معلوم کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔اس کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ نیا ساجھے دار پرانے شرکا سے اپنا حصہ کیسے حاصل کرتا ہے جس کے کئی امکانات ہو تے ہیں۔آئیے ہم اس بات کو مندرجہ ذیل مثالوں کی مدد سے سمجھتے ہیں:
مثال:1
انل اور وشال ساجھے دار ہیں اور 3:2کے تناسب میں منافع تقسیم کرتے ہیں۔ا نھوں نے سُمت کو فرم کے مستقبل کے منافع میں1/5 حصہ کے لیے نئے ساجھے دارکے طورپر شامل کیا۔انل ،وشال اور سمت کے درمیان منافع کی تقسیم کا نیا تناسب معلوم کیجیے۔
حل:
سمت کا حصہ =(1/5)
بقیہ حصہ =(1-1/5)=(4/5)
انل کا نیا حصہ =(3/5) کا (4/5)=(12/25)
وشال کا نیاحصہ =(2/5) کا (4/5)=(8/25)
انل،وشال اور سمت کے درمیان تقسیم منافع کانیا تناسب12:8:5 ہوگا-
نوٹ: یہ فرض کیا گیا ہے کہ نیا ساجھے دار پرانے شرکا سے اپنا حصہ پرانے تناسب میں حاصل کرتا ہے۔
مثال2:
اکشے اور بھارتی ساجھے دارہیں اور 3:2کے تناسب میں منافع کو تقسیم کرتے ہیں۔انھوں نے فرم کے مستقبل کے منافع میں1/5حصہ کے لیے دنیش کو نیا ساجھے دار بنایا جو کہ اپنا حصہ اکشے اور بھارتی سے مساوی طور پر حاصل کرتا ہے۔اکشے،بھارتی اور دنیش کے تقسیم منافع کا نیاتناسب معلوم کیجیے۔
حل:
دنیش کا حصہ =(1/5) یا (2/10)
اکشے کا حصہ =(1/10)-(3/5)=(5/10)
بھارتی کا حصہ =(1/10)-(2/5)=(3/10)
اکشے،بھارتی اور دنیش کے درمیان تقسیم منافع کانیاتناسب 5:3:2 ہوگا۔
مثال3:
انشو اور نیتو ساجھے دار ہیں اور3:2کے تناسب میں منافع کو تقسیم کرتی ہیں اور انھوں نے 3/10حصہ کے لیے جیوتی کو ساجھے دار بنایا جس نے اپنا حصہ 2/10انشو سے اور1/10 نیتو سے حاصل کیا۔انشو،نیتو اور جیوتی کے درمیان تقسیم منافع کا نیا تناسب معلوم کیجیے۔
حل:
جیوتی کا حصہ =(3/10)
انشو کا نیا حصہ = (2/10)-(3/5)=(4/10)
نیتو کا نیا حصہ = پرانا حصہ۔ حصہ سے دستبرداری۔
=(1/10)-(2/5)=(3/10)
انشو،نیتو اور جیوتی کے درمیان تقسیم منافع کا نیاتناسب4:3:3ہوگا۔
مثال4:
رام اور شیام ایک فرم میں ساجھے دار ہیں اور 3:2کے تناسب میں منافع تقسیم کرتے ہیں۔انھوں نے گھنشیام کونئے ساجھے دار کے طور پرشامل کیا ۔گھنشیام کے حق میں رام اپنے حصہ کے 1/4اور شیام اپنے حصہ کے 1/3سے دستبردار ہوتا ہے۔رام،شیام اورگھنشیام کے تقسیم منافع کا نیا تناسب معلوم کیجیے۔
حل:
رام کام پرانا حصہ = (3/5)
حصہ جس سے رام دستبردار ہوا = (1/4) کا(3/5)=(3/20)
رام کا نیاحصہ = (3/20)-(3/5)=(9/20)
شیام کا پرانا حصہ = (2/5)
حصہ جس سے شیام دستبردار ہوا = (1/2)کا (2/5)=(2/15)
شیام کا نیا حصہ = (2/12)-(2/5)=(4/15)
گھنشیام کا نیا حصہ = رام کے ذریعے کیا گیا ایثار+شیام کے ذریعے کیاگیا ایثار
= (2/15)+(3/20)=(17/60)
رام،شیام اورگھنشیام کے درمیان تقسیم منافع کا نیا تناسب :27:16:17 ہوگا۔
مثال 5:
داس اور سنہا ایک فرم میں ساجھے دار ہیں اور 4:1کے تناسب میں منافع کو تقسیم کرتے ہیں۔ انھوں نے پال کو منافع میں1/4حصہ کے لیے نئے ساجھے دار کے طورپر شامل کیا جو کہ اپنا تمام کا تمام حصہ داس سے حاصل کرتا ہے۔شرکا کے درمیان تقسیم منافع کانیا تناسب معلوم کیجیے۔
حل:
پال کاحصہ = (1/4)
داس کا نیا حصہ = پرانا حصہ–حصہ سے دستبرداری
= (11/20)=(1/4)-(4/5)
سنہا کا نیا حصہ = (1/5)
داس،سنہا اور پال کے درمیان تقسیم منافع کانیا تناسب 11:4:5ہوگا۔
3.4ایثار ی تناسب(Sacrificing ratio)
وہ تناسب جس میں پرانے شرکا نئے آنے والے ساجھے دار کے حق میں اپنے منافع کے حصہ کی قربانی دینے پر رضامندہوتے ہیں ایثاری تناسب کہلاتا ہے۔ایک ساجھے دار کے ذریعہ کیا گیا ایثار برابر ہوتا ہے:
منافع کا پرانا حصہ- منافع کا نیا حصہ
(Old Share of Profit–New Share of Profit)
جیسا کہ پہلے بیان کیا گیا،فرم کے اضافی منافع میں پرانے شرکا کے حصہ کے نقصان کی تلافی نئے ساجھے دار کو کرنی ہوتی ہے اور اس کے لیے وہ ایک اضافی رقم لاتا ہے جسے پریمیم یا ساکھ کہتے ہیں۔یہ رقم موجودہ شرکا اس تناسب میں تقسیم کرتے ہیں جس تناسب میں وہ نئے ساجھے دار کے لیے اپنے حصہ سے دستبردار ہوئے ہیں۔اس تناسب کو ایثاری تناسب کہاجاتا ہے۔
عام طورپر یہ تناسب شرکا کے درمیان واضح طورپرمتفقہ ہوتا ہے جو کہ پرانا تناسب،مساوی ایثار یا ایثاری تناسب بھی ہوسکتا ہے۔مشکل وہاں پیدا ہوتی ہے جہاں یہ مذکورنہیں ہوتا کہ نئے ساجھے دار نے پرانے شرکا سے کس تناسب میں اپنا حصہ حاصل کیا ہے۔اس کے بجائے منافع کی تقسیم کا نیا تناسب دیا گیا ہوتا ہے۔ایسی صورت حال میں،ہر ساجھے دار کے نئے حصہ میں سے اس کے پرانے حصہ کو نفی کرکے ایثاری تناسب معلوم کیاجاتا ہے۔مثال 6تا8پر نظر ڈالیے اور دیکھیے کہ ایسی صورت میں ایثاری تناسب کیسے معلوم کیا گیا ہے۔
مثال 6:
روہت اور موہت ایک فرم میں ساجھے دار ہیں اور 5:3کے تناسب میں منافع تقسیم کرتے ہیں اور انھوں نے بی جوائے کو منافع میں1/7حصہ کے لیے شریک کیاہے ۔تقسیم منافع کا نیا تناسب4:2:1کا ہوگا۔روہت اور موہت کا ایثاری تناسب معلوم کیجیے۔
حل :
روہت کا پرانا حصہ = (5/8)
روہت کا نیا حصہ = (4/7)
روہت کا ایثار = (4/7)-(5/8)=(3/56)
موہت کا پراناحصہ = (3/8)
موہت کا نیا حصہ = (2/7)
موہت کا ایثار = (2/7)-(3/8)=(5/56)
روہت اور موہت کے درمیان ایثاری تناسب3:5 ہوگا۔
مثال7:
امر اور بہادر ایک فرم میں ساجھے دار ہیں اور 3:2کے تناسب میں منافع کو تقسیم کرتے ہیں۔ انھوں نے 1/4 حصہ کے لیے میری کو ساجھے دار بنایا۔امر اور بہادر کے درمیان تقسیم منافع کا نیا تناسب2:1ہوگا۔ان کا ایثاری تناسب معلوم کیجیے۔
حل :
میری کا حصہ = (1/4)
بقیہ حصہ = (1/4)-(1)=(3/4)
یہ 3/4حصہ امر اور بہادر کے درمیان 2:1کے تناسب میں تقسیم ہونا ہے۔اس لیے؛
امر کا نیا حصہ = (2/3) کا (3/4)=(6/12) یا (2/6)
بہادر کا نیاحصہ = (1/3) کا (3/4)=(3/12) یا (1/4)
امر،بہادر اور میری کے درمیان تقسیم منافع کا نیا تناسب2:1:1 ہوگا۔
امر کا ایثار = (2/4)-(3/5)=(2/20)
بہادر کا نیاحصہ = (1/4)-(2/5)=(3/20)
امر،بہادر اور میری کے درمیان تقسیم منافع کا نیا تناسب 2:3 ہوگا۔
مثال8
رمیش اور سریش ایک فرم میں ساجھے دار ہیں اور4:3کے تناسب میں منافع تقسیم کرتے ہیں انھوں نے موہن کو نئے ساجھے دار کے طور پر شامل کیا۔رمیش،سریش اور موہن کے درمیان منافع کی تقسیم کا نیاتناسب 2:3:1کا ہوگا۔پرانے شرکا کا فائدہ یا ایثار معلوم کیجیے۔
حل:
رمیش کا پرانا حصہ = (4/7)
رمیش کا نیاحصہ = (2/6)
رمیش کا ایثار = (2/6)-(4/7)=(10/42)
سریش کا نیا حصہ = (3/6)
سریش کا پرانا حصہ = (3/7)
سریش کا فائدہ = (3/7)-(3/6)=(3/42)
موہن کا حصہ = (1/6) یا (7/42)
رمیش کا ایثار = سریش کا فایدہ+موہن کا فائدہ
= (7/42)-(3/42)=(10/42)
اس صورت حال میں،تمام کا تمام ایثار رمیش کے ذریعہ کیا گیا ہے۔
اپنی فہم کی جانچ کیجیے– I
1۔ Aاور Bساجھے دار ہیں اور3:1کے تناسب میں منافع کو تقسیم کرتے ہیں اور انھوں نے مستقبل کے منافع میں1/4 (حساب)حصہ کے لیےCکو شریک کیا۔تقسیم منافع کا نیا تناسب ہوگا۔
| (a) (b) (c) (d) |
A (9/16)، B (3/16)، C (4/16)
A (8/16)، B (4/16)، C (4/16)
A (10/16)، B (2/16)، C (4/16)
A (8/16)، B (9/16)، C (10/16)
|
2۔ XاورY 3:2کے تناسب میں منافع کو تقسیم کرتے ہیں۔Zبطور ساجھے دار شامل کیا گیا جس کا حصہ1/5طے کیاگیا۔ Z،×سے3/20 اورYسے1/20 حاصل کرتا ہے تو منافع کی تقسیم کا تناسب ہوگا:
(a) 9:7:4 (b) 8:8:4 (c) 6:10;4 (d) 10:6:4
3۔ Aاور Bکا نفع اور نقصان تناسب3:1ہے۔Cکو1/4حصہ کے لیے ساجھے داری میں شامل کیا گیا۔AاورBکا ایثاری تناسب ہے:
(a) مساوی (b) 3:1 (c) 2:1 (d) 3:2
3.5 ساکھ(Goodwill)
ساکھ ساجھے داری کھاتوں کا ایک مخصوص پہلو ہے جسے فرم کی تشکیل ِنو یعنی تقسیم منافع کے تناسب میں تبدیلی ،ساجھے دار کی شمولیت یا موت یا سبک دوشی کے وقت ایڈجسٹمنٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔
3.5.1ساکھ کا مفہوم:
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بہتر طور پر قائم شدہ ایک کا روبار کو اچھے نام،شہرت اور وسیع کاروباری تعلقات کا فائدہ حاصل ہونے لگتا ہے جس کی مدد سے کاروبار نئے طور پر قائم شدہ کاروبار کے مقابلہ میں زیادہ منافع کماتا ہے۔کھاتہ داری میں ایسے فائدے کی مالی قدر وقیمت(Monetory Value) کو’’ساکھ‘‘ کہا جاتا ہے۔
یہ ایک غیر مرائی یا غیر قابل لمس اثاثہ ہے،دوسرے الفاظ میں،ساکھ،مستقبل میں متوقع عام منافعوں سے برتر اور اضافی منافع کے ضمن میں فرم کی شہرت کی قدروقیمت ہے۔عام طور پر یہ مشاہدہ کیاگیا ہے کہ جب ایک شخص ساکھ کے لیے ادائیگی کرتا ہے تب وہ دراصل کسی ایسی چیز کے لیے ادائیگی کرتا جو اسے ایسی حالت میں لے آئے کہ وہ ایک جیسی صنعت میں دوسری فرموں کے ذریعے کمائے گئے منافع کے مقابلہ میں اضافی منافع کمانے کے قابل ہوجائے۔
سادہ الفاظ میں،ساکھ کی تعریف یہ کی جاسکتی ہے کہ’’یہ فرم کی متوقع اضافی کمائیوں کی موجودہ قدروقیمت ہوتی ہے۔‘‘یا’’یہ کسی کاروبار کی امتیازی منفعتی صلاحیت سے وابستہ شخص سرمائی(Capitalized Value)‘‘ہے۔انگریزی میں ساکھ کی تعریف اس طرح ہوگی:"Goodwill is the capitalized value attached to the differential profit capacity of a business"اس طرح،ساکھ اسی وقت وجود میں آتی ہے جب فرم اضافی منافع کماتی ہے۔ایسی فرم جو کہ نارمل منافع کماتی ہے یا نقصان اٹھاتی ہے اس کی کوئی ساکھ نہیں ہوتی۔
3.5.2 ساکھ کی قدروقیمت کو متاثر کرنے والے عوامل
ساکھ کی قدروقیمت(Value) کو متاثر کرنے والے اہم عوامل حسب ذیل ہیں:
1۔ کاروبار کی نوعیت:ایک فر م جواضافی قدروقیمت والی اشیا یا مصنوعات بناتی ہے یا پھر ایسی اشیا جن کی مانگ مستقل طور پر ہوتی ہے وہ فرم زیادہ منافع کمانے کے قابل ہوتی ہے اس لیے اس کی ساکھ بھی بلند ہوتی ہے۔
2۔ محل وقوع:اگر کاروبار مرکزی مقام پر واقع ہوتا ہے یا ایک ایسی جگہ واقع ہوتا ہے جہاں گاہکوں کی آمد ورفت زیادہ ہے تواس کی ساکھ زیادہ اچھی ہوتی ہے۔
3۔ انتظامیہ کی بہتر کارگزاری:ایک بہترانتظام اور اہتمام والے ادارے کو عام طور پر کم لاگت پر زیادہ پیدا وار کرنے کا فایدہ حاصل ہوتا ہے جس کی وجہ سے منافع زیادہ ہوتا ہے اور اس لیے ساکھ کی قدروقیمت بھی زیادہ ہوتی ہے۔
4۔ بازار کی حالت:محدود مسابقت یا اجارہ داری (Monopoly)کی صورت میں ادارہ زیادہ منافع کمانے کے قابل ہوتا ہے جس کی وجہ سے ساکھ کی قدروقیمت بھی زیادہ ہوتی ہے۔
5۔ مخصوص فائدے:وہ فرم جس کے پاس اپنے ایکسپورٹ لائیسنس،بجلی کی کم قیمت پر یقینی سپلائی،خام مال کی سپلائی کے طویل مدتی معاہدے،معتبر شرکت کار(Collaborators) ،پیٹنٹ،ٹریڈ مارکس وغیرہ جیسی سہولتیں حاصل ہوتی ہیں اس کی ساکھ کی قدروقیمت بھی زیادہ ہوتی ہے۔
3.5.3 ساکھ کی کی قدروقیمت کا اندازہ لگانے کی ضرورت
عام طور پرکسی کاروبار کوفروخت کرتے وقت اس کی ساکھ کی قدروقیمت کا اندازہ لگانے کی ضرورت پیدا ہوتی ہے لیکن ،ساجھے داری فرم کی صورت میں یہ ضرورت حسب ذیل حالات میں بھی پیش آسکتی ہے۔
1۔ موجودہ ساجھے داروں کے درمیان تقسیم منافع کا تناسب
2۔ کسی ساجھے دار کی شمولیت
3۔ کسی ساجھے دار کی سبک دوشی
4۔ کسی ساجھے دار کی وفات
5۔ فرم کی تحلیل(Dissolution)جس میں ختم ہونے والے کاروبار کا فروخت ہونا بھی شامل ہے
6۔ فرموں کا انضمام
3.5.4 ساکھ کے کی قدروقیمت کا اندازہ لگانے کے طریقے
چونکہ ساکھ ایک غیر محسوس یاغیر مرئی اثاثہ ہے اس لیے اس کی ٹھیک ٹھیک مالی قدروقیمت کاحساب لگانا نہایت مشکل ہے۔ایک ساجھے دار ی فرم کی ساکھ کی قدروقیمت کی تشخیص کے لیے مختلف طریقوں کا مشورہ دیا جاتا ہے۔
کسی ایک طریقے سے معلوم کی گئی ساکھ دوسرے طریقے سے معلوم کی گئی ساکھ سے مختلف ہوسکتی ہے اس لیے جس طریقے سے ساکھ کا حساب لگایا جانا ہے اس کا فیصلہ موجودہ شرکا اور نئے آنے والے ساجھے دار کے مابین خصوصی طور پر کیا جاسکتا ہے۔
ساکھ کی صحیح قدروقیمت کا تعین کرنے کے اہم طریقے درج ذیل ہیں
1۔ اوسط منافع کا طریقہ(Average Profit method)
2۔ زائد یا اضافی منافع کا طریقہ(Super normal profit method)
3۔ سرمایے میں تبدیلی کرنے کا طریقہ(Capitalisation method)
3.5.4.1 اوسط منافع کا طریقہ
اس طریقے کے تحت پچھلے چند برسوں کے اوسط منافع کی بنیاد پر طے شدہ برسوں کے حساب سے ساکھ کو آنکا جاتا ہے۔یہ طریقہ اس مفروضے پر مبنی ہے کہ ایک نیا کاروبار اپنی کارکردگی کے ابتدائی چند برسوں میں کسی قسم کا منافع کمانے کے لائق نہیں ہوگا۔اس لیے وہ شخص جو چلتے ہوئے کاروبار کو خریدے اسے ساکھ کی صورت میں ایک مخصوص رقم اداکرنی پڑے گی جو ابتدائی چند برسوں کے ممکنہ منافع کے برابر ہوگی۔اس لیے ساکھ کا حساب گزشتہ اوسط منافعوں کو ان سالوں سے ضرب دے کر لگانا چاہیے جن برسوں میں متوقع منافع حاصل ہونے کا امکان ہو۔مثلا ًاگر کسی فرم کے گزشتہ اوسط منافع کا حساب20,000روپیے ہوتا ہے اور آیندہ تین سال بھی اتنے ہی منافع کی توقع کی جاتی ہے تو ساکھ کی قدروقیمت(3×20,000)=60,000روپیے ہوگی۔
مثال:9
ایک فرم کے پانچ سالوں کا منا فع اس طرح ہے— سال2013-4,00,000روپیے،سال 2014-3,98,000روپیے، سال2015-4,50,000روپیے،اورسال2013 – 5,00,000روپیے۔پچھلے 5سال کے اوسط منافع پر مبنی چار سال کی خریداری کی بنیاد پر ساکھ کی قدر کا حساب لگایئے۔
حل:
| منافع(روپیے) | سال |
| 4,00,000 3,98,000 4,50,000 4,45,000 5,00,000 21,93,000 |
2013 2014 2015 2016 2017 میزان |
اوسط منافع= گزشتہ 5برسوں کا کل منافع21,93,000
برسوں کی تعداد = 5 = 4,38,600
ساکھ = اوسط منافع×خریداری کیے گئے سالوں کی تعداد
ساکھ کا مذکورہ شمار اس مفروضے پر مبنی ہے کہ مستقبل میں منافع کی مجموعی صورت حال میں کسی تبدیلی کی توقع نہیں ہے۔
مذکورہ بالا مثال سادہ اوسط پر مبنی ہے۔بعض اوقات ،اگر گھٹتے ہوئے رجحان پر بڑھتا ہوارجحان موجود ہوجو گزشتہ سالوں کے مقابلے میں موجودہ سالوں کے منافع کو زیادہ اہمیت دینا بہتر خیال کیا جاتا ہے۔متعلقہ سال کے منافع کے لیے مخصوص اہمیتوں مثلاً 1،2،3،4کی بنیاد پر اہمیت دیاگیااوسط معلوم کیا جاتا ہے ۔بہرحال،اہمیت دیے گئے اوسط(weighted average)کو صرف اسی وقت استعمال کرنا چاہیے جب ایسا کرنے کی تصریح کردی گئی ہو۔(دیکھئے مثال10اور11)
مثال:10
پانچ سالوں میں فرم کا منافع حسب ذیل ہے:
| منافع(روپیے) | سال |
20,000
24,000
30,000
25,000
18,000
|
2012-13
2013-14
2014-15
2015-16
2016-17
|
اہمیت دیے گئے اوسط منافعوں کی 3سال کی خریدکی بنیاد پر ساکھ کی قدر معلوم کیجیے۔اہمیت دیے گئے منافعوں کی بالترتیب 1،2،3،4 اور 5 اہمیت پر مبنی ہیں۔
حل:
| حاصل ضرب(Product) | اہمیت(weight) | منافع(روپیے) | سال آخر31مارچ |
| 20,000 48,000 90,000 1,00,000 90,000 3,48,000 |
1 2 3 4 5 15 |
20,000 24,000 30,000 25,000 18,000 |
2012-13
2013-14
2014-15
2015-16
2016-17
|
اہمیت شدہ اوسط منافع =((15)3,48,000) روپیے=23,200 روپیے
ساکھ =23200 روپیے× 3 =69,600روپیے
مثال:11
گزشتہ چار برسوں کے اہمیت شدہ اوسط منافع کی 3سال کی خرید پر فرم کی ساکھ کا حساب لگائیے۔گزشتہ چار برسوں کا منافع تھا:2012-20,200روپیے،24,800.2013روپیے،20,000.2014روپیے،اور30,000.2015روپیے؛ہرسال کے منافع کو اہمیت دی گئی ہے: 1-2012;2-2013; 3-2014;4-2015
آپ کو حسب ذیل معلومات بھی دی جاتی ہیں:
1۔ 1ستمبر2014کو پلانٹ کی مرمت کاکام6,000روپیے میں کیا گیا جسے ریونیوسے چارج کیا گیا تھا۔مذکورہ رقم کو ساکھ کی تشخیص قدر(Valuation) کے لیے کیپٹلائز(اصلیائی)کیا جانا ہے اور اس پرگھٹتے ہوئے بیلنس کے طریقہ (reducing balance method)سے%10سالانہ کی فرسودگی (depreciation)کا ایڈجسٹمنٹ کرنا ہے۔
2۔ سال2013کے اختتامی اسٹاک کی2400روپیے زیادہ قدر لگادی گئی تھی۔
3۔ ساکھ کی تشخیص قدر(Valuation) کے مقصد سے 4,800 روپیے کا ایک سالانہ خرچ انتظامی لاگت کو پورا کرنے کے لیے بنانا ہے۔
حل:
| 2015 (روپیے) |
2014 (روپیے) |
2013 (روپیے) |
2012
(روپیے)
|
ایڈجسٹمنٹ شدہ منافع کا حساب |
| 30,000 4,800 25,200 25,200 580 24,620 24,620 24,620 |
20,000 4,800 15,200 15,200 21,200 21,200 200 21,000 2,400 23,400 |
24,800 4,800 20,000 20,000 20,000 2,400 2,400 17,600 |
20,200 4,800 15,400 15,400 15,400 15,400 15,400 |
دیاگیا منافع نفی انتظامی لاگت جمع: سرمایہ اخراجات ریونیو سے چارج کیے گئے نفی:نہ لگائی گئی فرسودگی نفی:اختتامی اسٹاک کی قدروقیمت کا زیادہ اندازہ جمع:اختتاحی اسٹاک کی قدروقیمت کا زیادہ اندازہ ایڈجسٹمنٹ شدہ منافع اہمیت شدہ اوسط منافعوں کا حساب: |
اہمیت شدہ اوسط منافعوں کا حساب:
| حاصل ضرب (روپیے) | اہمیت | منافع | سال |
| 15,400 35,200 70,200 98,480 2,19,280 |
1 2 3 4 10 |
15,400 17,600 23,400 24,620 |
2012 2013 2014 2015 میزان |
اہمیت شدہ اوسط منافع=(10)2,19,280روپیے=21,928روپیے
ساکھ=21,928x3 روپیے=65,784روپیے
حل کے نوٹس:(Notes to Solution)
(i)
2014کی فرسودگی = 4ماہ کے لیے6,000روپیے کا %10
= 6,000روپیے×(10/100)+(4/12)=200روپیے
(ii)
2015کی فرسودگی = 6,000روپیے کا %10 –ایک سال کے 200روپیے
= 5,800روپیے×(10/100)+580روپیےروپیے
(iii)
2014کا اختتامی اسٹاک سال2015کے لیے ابتدائی اسٹاک ہوجائے گا۔
3.5.4.2 زائد منافع کا طریقہ(Super Profit Method)
اوسط منافع کے طریقوں میں ساکھ کے حساب کا بنیادی مفروضہ یہ ہوتا ہے کہ نئے کاروبار کے آغاز پر چند برسوں تک منافع نہیں کمایا جا سکے گا۔چنانچہ موجودہ کاروبار کے خریدار کو ساکھ کی صورت میں ایک رقم ادا کرنی پڑتی ہے جو آئندہ چند برسوںمیں حاصل ہونے والے منافع کے برابر ہو۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ خریدار کا اصل منافع،مجموعی منافع میں نہیں ہوتا۔یہ منافع کی ان رقوم تک محدود ہوتا ہے جو اسی طرح کے کاروبار میں لگے ہوئے سرمایہ کے نارمل ریٹرن(Normal return on Capital)سے زیادہ ہو۔اس لیے بہتر یہ ہوتا ہے کہ ساکھ کا اندازۂ قدر زائد منافع(Excess Profits) کی بنیاد پر کیا جائے نہ کہ حقیقی منافع (actual Profit)کی بنیاد پر۔نارمل منافع پر حقیقی منافع کے زائدحصہ کا نام سپر منافع یا اضافی منافع ہے۔
نارمل منافع= فرم کا سرمایہ+ نارمل حاصل اصل
100
فرم کے سرمایہ میں ساجھے داروں کا سرمایہ ، ریزرو اور پلس شامل ہیں لیکن فرضی اثاثے اور ساکھ شامل نہیں ہیں۔
فرض کیجیے کوئی فرم1,50,000روپیے کے سرمایے پر 18,000روپیے کماتی ہے اورریٹرن کی نارمل شرح%10ہے تو نارمل منافع(10/100×1.50,000)=15000روپیے نکلے گا۔اس صورت میں زاید منافع(Super Profit) (18,000روپیے– 15,000)3,000روپیے ہوگا۔زاید منافع(Super Profit) کے طریقہ کے تحت ساکھ کی تحقیق زاید منافع کو مخصوص سالوں کی تعداد کی خریداری سے ضرب دے کر کی جاتی ہے۔اگر مذکورہ بالا مثال میں یہ توقع کی جاتی ہے کہ مستقبل میں زائد منافع کا فائدہ 5برس تک رہے گا تو ساکھ کی قدر(5×3,000) =15,000 روپیے ہوگی۔یہ طریقہ حسب ذیل اقدامات پر مشتمل ہے:
(i) اوسط منافع کا حساب لگائیے۔
(ii) ریٹرن کی نارمل شرح کی بنیاد پر کاروبار میں لگے سرمایے پر نارمل منافع کا حساب لگائیے۔
(iii) اوسط منافع سے نارمل منافع کو گھٹا کر زائد منافع (Super Profit)کا حساب لگائیے۔اور
(iv) زائد منافع کو مقررہ سالوں کی خریداری سے ضرب دے کر ساکھ کا حساب لگائیے۔
مثال:12
ایک کاروبار کے بہی کھاتے دیکھنے سے پتاچلتا ہے کہ 31دسمبر2015کوفرم کا سرمایہ5,00,000روپیے تھا اور گزشتہ5برسوں کے منافع 2011 – 40,000 روپیے،50,000.2012روپیے،5,500.2013روپیے، 70,000.2014 روپیے اور 85,000.2015روپیے تھے۔
کاروبار کے زاید منافع کی 3سال کی خریداری کی بنیاد پر ساکھ کی قدر معلوم کیجیے جب کہ ریٹرن کی نارمل شرح%10ہے۔
حل:
نارمل منافع= فرم کا سرمایہ+ریٹرن کی نارمل شرح = 5,00,000x10=
100 100 50,000روپیے
اوسط منافع:
| منافع (روپیے) | سال |
| 40,000 50,000 55,000 70,000 85,000 3,00,000 |
2011
2012
2013
2014
2015
میزان
|
اوسط منافع =3,00,000/5 روپیے=60,000 روپیے
سپر منافع =50,000 روپیے- 60,000 روپیے=10,000 روپیے
ساکھ =10,000 روپیے× 3=30,000 روپیے
مثال: 13
انو اور بینو کی فرم کا سرمایہ 1,00,000 روپیے ہے اوربازارمیں سود کی شرح%15ہے۔ہر ایک ساجھے دار کی سالانہ تنخواہ6,000 روپیے ہے۔گزشتہ3سالوں کا منافع تھا30,000 روپیے،36,000 روپیے اور42,000روپئے،ساکھ گزشتہ 3سالوں کے اوسط سپر منافع کی 2سال کی خریداری پر معلوم کرنا ہے۔فرم کی ساکھ کا حساب لگائیے۔
حل:
سرمایہ پر سود =(15/100)+10,00,000 = 15,000 = روپیے…(i)
جمع:ساجھے دار کی تنخواہ = روپیے2+6000 = 12000 =روپیے…(ii)
نارمل منافع(ii+i) =
27,000 روپیے
اوسط منافع =30,000 روپیے+36,000روروپیے+42,000روپیے= (36000)روپیے
=36,000 روپیے
زائد منافع = اوسط منافع–نارمل منافع
=36,000 روپیے– 27,000روپیے
=9000 روپیے
ساکھ = زائد منافع×خریداری کے سالوں کی تعداد
=9000+2 روپیے
=18,000 روپیے
3.5.4.3 سرمائے میں بدلنے کا طریقہ (Capitalisation Method)
اس طریقہ کے تحت ساکھ کا حساب دو طریقہ سے لگایا جاتا ہے:(a)اوسط منافع کو سرمائے میں تبدیل کرکے(b)زائد منافع کو سرمایے میں تبدیل کرکے۔
(a) اوسط منافع کو سرمایے میں تبدیل کرکے: اس طریقہ میںریٹرن کی نارمل شرح کی بنیاد پر اوسط منافع کی اصلیائی قدر (Capitallized Value) میں سے کاروبار میں لگے ہوئے حقیقی سرمایے (خالص اثاثہ جات) کو گھٹا کر ساکھ کی قدر کا پتہ لگایا جاتا ہے۔اس میں درج ذیل اقدامات ہوتے ہیں:
(i) گزشتہ چند برسوں کی کارکردگی کی بنیاد پر اوسط منافع کاتعین
(ii) ریٹرن کی نارمل شرح کی بنیادپر اوسط منافع کو بطریق ذیل اصلیانایعنی سرمایے میں تبدیل کرنا:
اوسط منافع(×100/ریٹرن کی نارمل شرح
(iii) کل اثاثہ جات(ساکھ کو چھوڑ کر)میں سے بیرونی ذمہ داریوں کو گھٹا کر کاروبارمیں لگے حقیقی سرمائے (خالص اثاثہ جات) کاپتہ لگانا۔
فرم کا سرمایہ=کل اثاثے(ساکھ کومستثنیٰ کرکے) –بیرونی ذمہ داریاں
(iv) کاروبار کی کل قدر (value)میں سے خالص اثاثہ جات کو گھٹا کر ساکھ کی قدر کی معلوم کرنا۔
مثال:14
گزشتہ چند برسوں میں ایک کاروبار کو 1,00,000روپے کا اوسط منافع ہوا۔ اس طرح کے کاروبار میں حاصل کی نارمل شرح %10ہے۔ اصلیائی طریقہ (کیپٹلائزڈ میتھڈ) کی بنیاد پر ساکھ کی قدر معلوم کیجیے جب کہ کاروبار کے خالص اثاثوں کی قدر 8,20,000روپیے ہے۔
حل:
اوسط منافع کی اصلیائی قدر(کیپٹلائزڈ ویلو)
= (10)100+1,00,000 روپیے= 10,00,000 روپیے
ساکھ= اصلیائی قدر۔خالص اثاثہ جات
=8,20,000–10,00,000
=1,80,000روپیے
(b)زائد منافع کو اصلیانہ:
زائد منافع کو براہِ راست اصلیاکر بھی ساکھ کو معلوم کیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے کے تحت اوسط منافع کی اصلیائی قدر کو معلوم کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔یہ طریقہ حسب ذیل اقدامات پر مشتمل ہے۔
(i) فرم کا سرمایہ معلوم کیجیے،جو کہ کل اثاثہ جات (ساکھ اور فرض اثاثوں کو چھوڑ کر)کے مساوی ہوتا ہے۔
(ii) فرم کے سرمایہ پر نارمل منافع معلوم کیجیے۔
(iii) گزشتہ سالوں کا اوسط منافع معلوم کیجیے۔
(iv) اوسط منافع میں سے نارمل منافع کو گھٹا کر زائد منافع معلوم کیجیے۔
(v) درکار حاصل کی شرح سے زائد منافع کو ضرب دیجیے۔یعنی
ساکھ=زائد منافع× 100حاصل کی نارمل شرح
دوسرے الفاظ میں ،ساکھ زائد منافعوں کی اصلیائی قدر(کیٹلائزڈ ویلو) ہے۔اس طریقے کے ذریعے معلوم کی گئی ساکھ کی رقم اوسط منافع کو سرمایے میں تبدیل کرنے کے طریقہ سے معلوم کی گئی ساکھ کی رقم جتنی ہی ہوگی۔
مثلا ،مثال14میں دیئے گئے اعداد وشمار کو استعمال کرکے جہاں اوسط منافع1,00,000روپیے،اور نارمل منافع 82,000 روپیے(8,20,000روپیے کا10%)ہے۔
زائد منافع18,000روپیے (82,000,روپیے -1,00,000روپیے)نکالا جائے گا اور ساکھ،(100/10)=1,80,000روپیے ہوگی۔
مثال:15
1۔گزشتہ پانچ برسوں کے اوسط منافع کی تین سال کی خرئد پر فرم کی ساکھ کا حساب لگائیے۔گزشتہ پانچ برسوں کے منافع مندرجہ ذیل ہیں۔
| منافع(نقصان)روپیے | سال |
| 10,000 15,000 4,000 (5,000) 6000 |
2012
2013
2014
2015
2016
|
2۔ فرم کا میں لگاہوا سرمایہ 1,00,000روپیے ہے اور ریٹرن کی نارمل کی شرح%8ہے۔گزشتہ 5برسوں کا اوسط منافع 12,000روپیے ہے اور ساکھ زائد منافع کی 3سال کی خرئداری پر معلوم کرنی ہے۔
3۔ راما برادرس2,00,000روپیے کا سرمایہ لگا کر 30,000روپیے کا اوسط منافع کماتے ہیں۔کاروبار میں ریٹرن کی نارمل شرح%10ہے۔زائد سرمائے کو اصلیانے کے طریقہ کو استعمال کرکے فرم کی ساکھ کی قدر معلوم کیجیے۔
حل:
1۔کل منافع =10000روپیے+15000روپیے+4000روپیے+6000روپیے-5,000روپیے=30000روپیے
اوسط منافع =30000/5روپیے =6000روپیے
ساکھ =اوسط منافع6000×3=3×روپیے=18000روپیے
2۔اوسط منافع =12000روپیے
نارمل منافع = 100000روپیے+(8/100) =8000روپیے
زائد منافع =اوسط منافع-نارمل منافع=12000روپیے-8000روپیے =4000روپیے
ساکھ =زائد منافع4000=3×روپیے× 3=12000روپیے
3۔نارمل منافع =2,00,000x 10/100 روپیے=20,000روپیے
زائد منافع =اوسط منافع-نارمل منافع=30000روپیے-20000روپیے=10000روپیے
ساکھ =زائد منافع×100(نارمل حاصل کی شرح)=10,000100/10=100000روپیے۔
3.5.5ساکھ کا تصفیہ(Treatment of Goodwill)
جیسا کہ پہلے بیان کیا جا چکا کہ نیا ساجھے دار جو موجودہ ساجھے داروں سے منافع میں اپنا حصہ وصول کرتا ہے۔ وہ سپر پرافٹ میں ان کے حصوں کے نقصان کی تلافی کے لیے اضافی رقوم بھی لاتا ہے، اس کو اس کی ساکھ کا حصہ (پریمیم) کہا جاتا ہے۔
3.5.5.1 جب نیا ساجھے دار نقد کی شکل میں ساکھ کو لاتا ہے۔
پریمیم کی رقم کوپرانے ساجھے داروں میں ان کے ایثار کے تناسب کے حساب سے تقسیم کر دیا جاتا ہے۔اگر یہ رقم نیا ساجھے دار ،پرانے ساجھے داروں کو براہِ راست ادا کردے تو فرم کی کتابوں میں کوئی اندراج نہیں ہوتا لیکن اگر رقم کی ادائیگی فرم کے ذریعہ ہو تو درج ذیل روزنامچہ اندراجات ہوں گے:
| (i) بینک کھاتہ |
.Dr | |
| ساکھ پریمیم کھاتہ سے (نئے ساجھے دار کے ذریعہ لائی گئی پریمیم کی رقم) (ii) ساکھ کھاتہ موجودہ ساجھے دار کے سرمایہ کھاتہ کے لیے (موجودہ ساجھے داروں کے درمیان ان کے ایثاری تناسب میں ساکھ کو(انفرادی طور پر )تقسیم کیا گیا) |
.Dr |
| .Dr | (i) بینک کھاتہ |
Dr. |
نئے ساجھے دار کے سرمایہ کھاتے کے لیے(انفرادی طور پر) (اپنی ساکھ کے حصہ کے لیے نئے ساجھے دار کے ذریعے لائی گئی رقم) (ii) نیا ساجھے دار کا سرمایہ کھاتہ موجودہ ساجھے دار کے سرمایہ کھاتہ کے لیے (اپنی ساکھ کے حصہ کے لیے نئے ساجھے دار کے ذریعے لائی گئی رقم موجودہ ساجھے داروں میں ان کے اشاری تناسب سے تقسیم کی گئی۔) |
اگر ساجھے دار اپنے سرمایہ کھاتوں میں جمع شدہ(Credited)رقم کو کاروبار میں روکے رکھنے کا فیصلہ کرتے ہیں تب کسی مزید اندراج کی ضرورت نہیں ہوتی۔لیکن اگر وہ رقوم کو کاروبارسے نکال لے جانا چاہتے ہیں تو پھر مندرجہ ذیل اندراجات ریکارڈ کیے جائیں گے۔
موجودہ ساجھے دار کا سرمایہ کھاتہ(انفرادی طورپر)
| بینک کھاتہ کے لیے | .Dr |
| (ساکھ کی رقم موجودہ ساجھے داروں کے ذریعے نکال لی گئی) |
مثال:16
سنیل اور دلیپ ایک فرم میں 5:3کے تناسب میں نفع نقصان میں حصہ دار ہیں۔ سچن فرم کے منافع کے 1/5حصہ پر کاروبار میں شامل ہوتا ہے۔ اس کو 20,000روپیے بطور سرمایہ اور 4,000روپیے ساکھ کے حصہ کے طورپر لانے ہیں۔ضروری روزنامچہ اندراجات بتائیے۔
(a) جب کہ ساکھ کی رقم کو کاروبار میں ہی رہنے دیا جائے۔
(b) جب کہ ساکھ کی تمام رقم نکال لی جائے۔
(c) جب کہ ساکھ کی%50رقم نکال لی جائے۔
حل:
(a) جب کہ پرانے ساجھے داروں کے کھاتوں میں جمع کی جانے والی ساکھ کی رقم کاروبار میں ہی رہنے دی جائے۔
سنیل اور دلیپ کی کتابیں روزنامچہ
| جمع/کریڈٹ (روپیے) |
نام/ڈیبٹ (روپیے) |
L.F. | تفصیلات | تاریخ |
2,00,000 4,000 2,500 1,500 |
24,000 4,000 |
بینک کھاتہ .Dr سچن کے سرمایہ کھاتہ کے لیے ساکھ کے لیے پریمیم کھاتے سے (سچن کے ذریعہ سرمایہ اور ساکھ کی مد میں لائی گئی رقم) ساکھ کھاتہ کے لیے پریمیم .Dr نیل کے سرمایہ کھاتہ کے لیے دلیپ کے سرمایہ کھاتہ کے لیے (5:3کے تناسب میں سنیل اور دلیپ کو منتقل شدہ ساکھ) |
(i) |
بصورت دیگر:
| 24,000 | .Dr | بینک کھاتہ | (i) | |
24,000 2,500 1,500 |
4,000 |
.Dr | سچن کے کھاتہ کے لیے سچن کا سرمایہ کھاتہ سچن کے سرمایہ کھاتہ کے لیے دلیپ کے سرمایہ کھاتہ کے لیے |
(ii) |
نوٹ: یہاں ایثاری تناسب وہی ہے جو کہ منافع کی تقسیم کا پرانا تناسب تھا۔
(b) جب پرانے ساجھے داروں کے کھاتوں میں جمع کی جانے والی ساکھ کی تمام رقم نکال لی جائے ۔
روزنامچہ(Journal)
| تاریخ | تفصیلات | لیجرفولیو | نام(ڈیبٹ) (روپیے) |
جمع(کریڈٹ) (روپیے) |
| مندرجہ بالا(a)کی طرح مندرجہ بالا(a)کی طرح سنیل کا سرمایہ کھاتہ .Dr دلیپ کا سرمایہ کھاتہ .Dr (سنیل اور دلیپ کے ذریعہ اپنے حصہ کے بقدر نکالی ہوئی نقدرقم) |
2,500 1,500 |
4,000 |
(c) جب پرانے ساجھے داروں کے کھاتوں میں جمع شدہ ساکھ50%رقم نکالی لی جائے
روزنامچہ
| کریڈٹ(روپیے) | ڈیبٹ(روپیے) | لیجرفولیو | تفصیلات | تاریخ |
2,000 |
1,250 750 |
مندرجہ بالا(a)کی طرح مندرجہ بالا(a)کی طرح سنیل کا سرمایہ کھاتہ .Dr دلیپ کا سرمایہ کھاتہ .Dr نقد کھاتہ (ساکھ کے حصہ کی 50%نکالی ہوئی نقد رقم) |
مثال:17
وجے اور سنجے 3:2کے تناسب سے ایک فرم کے نفع اور نقصان میں حصہ دار ہیں وہ نفع کے 1/4حصہ پر اجے کو ساجھے دار بناتے ہیں۔اجے30,000روپیے بطور سرمایہ اور پریمیم کی مطلوبہ رقم لائے گا۔فرم کی ساکھ کی قدر20,000روپیے ہے۔اور منافع کا نیا تناسب 2:1:1ہے۔وجے اور سنجے اپنے حصہ کی ساکھ کی قم نکال لیتے ہیں۔روزنامچے کے ضروری اندراجات دکھائیے۔
حل:
(a) اجے اپنی ساکھ کے حصے(پریمیم)کے طورپر 5,000روپیے(20000کا1/4)لائے گا۔
(b) ایثاری تناسب جیسا کہ ذیل میں حساب لگایا گیا3:2ہے۔
وجے کا پرانا تناسب3/5ہے اور نیا تناسب 2/4ہےلہٰذا اس کا ایثاری تناسب
=(2/4)-(2/5)=(20)12-10=(3/20)
سنجے کا پرانا تناسب 2/5 اور نیا تناسب 1/4ہے۔لہٰذااس کا ایثاری تناسب
=(1/4)-(2/5)=(8-5/20)=(2/20)
وجے اور سنجے کی کتابیں روزنامچہ
| نام(ڈیبٹ) (روپیے) |
جمع(کریڈٹ) (روپیے) |
لیجرفولیو | تفصیلات | تاریخ |
30,000 5,000 2,000 5,000 |
35,000 5,000 3,000 2,000 3,000 |
بینک کھاتہ .Dr اجے کے سرمایہ کھاتہ کے لیے ساکھ پریمیم کھاتہ سے (اجے کی لائی ہوئی سرمائے اور ساکھ کی رقم) ساکھ کے لیے پریمیم کھاتہ .Dr وجے کے سرمایہ کھاتہ کے لیے سنجے کے سرمایہ کھاتہ کے لیے (اجے کے ذریعے لائی گئی ساکھ کی رقم جو وجے اور سنجے کے درمیان ان کے ایثاری تناسب کے مطابق تقسیم ہوئی) وجے کا سرمایہ کھاتہ .Dr سنجے کا سرمایہ کھاتہ .Dr نقد بینک کھاتہ کے لیے (وجے اور سنجے کی اپنے حصہ کی ساکھ کی رقم) |
1. 2. 3. |
نوٹ: روزنامچہ اندراجات (1)اور(2)متبادل طورپرحسب ذیل بھی ہوسکتے ہیں۔
وجئے اور سنجے کی کتابیں
| کریڈٹ(روپیے) | ڈیبٹ(روپیے) |
لیجر | تفصیلات | تاریخ |
35,000 2,000 3,000 |
35,000 5,000 |
بینک کھاتہ اجے کے سرمایہ کھاتہ کے لیے (اجے 3000روپیے بطور سرمایہ اور 5000روپیے بطور ساکھ لایا) اجے کا سرمایہ کھاتہ وجے کے سرمایہ کھاتہ کے لیے سنجے کے سرمایہ کھاتہ کے لیے (اجے کی لائی ہوئی ساکھ کی رقم وجے اور سنجے کے درمیان ان کے ایثاری تناسب3:2میں تقسیم) |
.1 .2 |
جب کتابوں میں ساکھ پہلے ہی موجود ہو: اگر ساکھ فرم کی کتابوں میں پہلے سے ہی موجود ہو تو کسی نئے ساجھے دار کے داخلہ پر اس کو قلمزد کرایا جائے گا۔مثال17میں فرم کی ساکھ کی رقم20,000روپیے آنکی گئی ہے۔اجے جو کہ منافع کے 1/4حصہ میں فرم کا ساجھے دار بناہے ساکھ کے حصے کے طورپر 5,000روپیے لاتا ہے۔فرض کیجیے کہ کتابوں میں پہلے سے10,000روپیے کی ساکھ موجود ہے۔تو درج ذیل روزنامچہ اندراجات کو آگے بڑھادیا جائے گا تاکہ موجودہ ساکھ کی رقم کو خارج (Write off)کیا جائے۔
| جمع(کریڈٹ) (روپیے) |
نام(ڈیبٹ) (روپیے) |
لیجرفولیو | تفصیلات | تاریخ |
10,000 |
6,000 4,000 |
وجے کا سرمایہ کھاتہ .Dr سنجے کا سرمایہ کھاتہ .Dr ساکھ کھاتہ کے لیے (پرانے تناسب کے مطابق ساکھ کی قلم زدگی(Write off)) |
مثال:18
شری کانت اوررمن ایک فرم میں ساجھے دار ہیں اور 2:3کے تناسب میں نفع اور نقصان کو تقسیم کرتے ہیں۔انھوں نے وینکٹ کو منافع میں1/3حصہ کے لیے ساجھے دار بنانے کا فیصلہ کیا۔وینکٹ30,000روپیے کی رقم بطور سرمایہ لایا۔اس نے اپنے حصہ کی ساکھ کے لیے ضروری رقم لانے کا وعدہ بھی کیا۔شمولیت کی تاریخ پر،ساکھ کی قدر24,000روپیے آنکی گئی اور12,000روپیے کا ساکھ کھاتہ پہلے سے ہی کتابوں میں موجود تھا۔وینکٹ اپنے حصہ کی ساکھ کے لیے ضروری رقم لے آیا اور اس نے اس بات پر اتفاق کیا کہ موجودہ ساکھ کھاتہ کو قلم زد(written off)کردیاجائے۔فرم کی کتابوں میں ضروری روزنامچہ اندراجات دکھا ئیے۔
حل:
شری کانت اوررمن کی کتابیں
| جمع(کریڈٹ) (روپیے) |
نام(ڈیبٹ) (روپیے) |
لیجر | تفصیلات | تاریخ |
30,000 8,000 4,800 12,000 |
38,000 8,000 7,200 4,800 |
بینک کھاتہ .Dr ونکٹ کے سرمایہ کھاتہ کے لیے ساکھ کے لیے پریمیم کھاتے سے (وینکٹ کے ذریعہ اپنے حصہ کی ساکھ اور سرمائے کی رقم لائی گئی) ساکھ کے لیے پریمیم کھاتہ .Dr سری کانت کے سرمایہ کھاتہ کے لیے رمن کے سرمایہ کھاتہ کے لیے (وینکٹ کے ذریعہ لائی گئی ساکھ کی رقم کو پرانے ساجھے داروں کے درمیان ان کے ایثاری تناسب میں تقسیم کیا گیا) سری کانٹ کا سرمایہ کھاتہ .Dr رمن کا سرمایہ کھاتہ .Dr ساکھ کھاتہ کے لیے (کتابوں میں پہلے سے دکھائی گئی ساکھ کو پرانے تناسب میں قلم زد کیا گیا) |
1 2 3 |
نوٹ : کیونکہ جس تناسب سے نئے شراکت دار کو اپنے نفع کا حصہ سری کانت اور رمن سے لینا ہے اس کو بیان نہیں کیا گیا ہے ۔ اس لیے یہ بات مضر ہے کہ وہ پرانے تناسب یعنی 3:2 میں ہی وینکٹ کے حق میں اپنے نفع کا حصہ قربان کریں گے ۔
ایسی صورت میں جب کہ نیا شراکت دار جزوی یا کلی طور پر نقد کی شکل میں اپنی ساکھ نہ بنا سکے
نیا شراکت دار اپنی ساکھ (goodwill) نہ لا سکے تو وہ ساکھ نئے شراکت دار کے رواں کھاتے سے ڈیبٹ کر دی جائے گی اور قربانی دینے والے شراکت داروں کے رواں کھاتوں میں ان کے حصص (Shares) کے تناسب سے جمع کر دی جائے گی ۔
اگر نیا شراکت دار اپنی ساکھ کا حصہ نہ لا پائے تو اس کے دو امکان ہیں :
(a) کتابوں میں ساکھ موجود ہی نہیں ہے۔اور
(b) کتابوں میں ساکھ موجود ہے۔
کتابوں میں ساکھ موجود نہیں ہے
اگر کتابوں میں ساکھ نہیں ہے تو ان کی ساکھ کا حصہ قربانی دینے والے شراکت داروں کے کھاتے میں کریڈٹ ہوگا اور جو شراکت دار ساکھ نہ لا سکا اس کے کھاتے سے یہ رقم ڈیبٹ کر دی جائے گی ۔ اس صورت میں جرنل کے اندراج اس طرح ہوں گے:
آنے والے (نئے ) شراکت داروں کا کھاتہ .Dr
قربانی دینے والے شراکت داروں کا سرمایہ کھاتہ (انفرادی)
(نئے شراکت دار کے ذریعہ ساکھ کھاتہ نہیں لایا گیا)
کبھی کبھی نیا شراکت دار ساکھ کے طور پر پریمیم کا ایک حصہ نقد کی شکل میں لے آتا ہے۔ ایسی صورت میں نئے شراکت داروں کے رواں کھاتوں سے وہ رقم ڈیبٹ کی جائے گی جو نیا شراکت دار نہیں لاتا ہے۔
مثال کے طور پر نیا شراکت دار ساکھ کے 50,000روپیے کے حصہ میں سے صرف 20,000روپیے لے کر آتا ہے۔اس صورت میں جرنل کا اندراج اس طرح ہوگا۔
| (i) | بینک کھاتہ .Dr ساکھ کھاتہ کی پریمیم سے (نئے شراکت دار کے ذریعہ لائی گئی ساکھ کی پریمیم) |
20,000 | 20,000 |
| (ii) | ساکھ کھاتہ کی پریمیم .Dr نئے شراکت داروں کا رواں کھاتہ .Dr قربانی دینے والے شراکت داروں کے سرمایہ کھاتہ سے (انفرادی طور پر) ( قربانی دینے کے تناسب میں ساکھ کریڈٹ کیا گیا) |
20,000 30,000 |
50,000 |
مثال19
آہوجہ اور بروا ایک فرم میں3:2کے تناسب سے نفع نقصان میں حصہ دار ہیں اور منافع کے 1/5حصہ کاچودھری کو کاروبار میں شریک کرلیتے ہیں۔یہ حصہ اس کو آہوجہ اور برواسے مساوی طور وصول ہوتا ہے۔ساکھ کی رقم30,000روپیے آنکی جاتی ہے۔چو دھری 16,000روپیے بطور سرمایہ لاتا ہے مگر ساکھ کی رقم ادا کرنے کی حیثیت نہیں رکھتا۔فرم کی کتابو ں میں ساکھ کھاتہ موجود نہیں ہے۔ضروری روزنامچہ اندراجات ریکارڈ کیجیے۔
حل:
آہو جہ اور بروا کی کتابیں روزنامچہ (جرنل)
| جمع(کریڈٹ) (روپیے) |
ڈیبٹ(نام) (روپیے) |
لیجرفولیو | تفصیلات | تاریخ |
16,000 18000 12000 |
16,000 30,000 |
بینک کھاتہ .Dr چودھری کے چالو کھاتے کے لیے (بطور سرمایہ لائی ہوئی رقم) چودھری کاچالوکھاتہ .Dr اہوجہ کے سرمایہ کھاتہ کے لیے بروا کے سرمایہ کھاتہ کے لیے ساکھ ایثاری ساجھے دار کے کھاتہ میں کریڈٹ ہوئی |
1 2 |
جب ساکھ کتابوں میں موجود ہو:
کتابوں میں لکھی ساکھ کو پرانے شراکت داروں کے سرمایہ کھاتوں سے ان کے حصص کے پرانے تناسب میں ڈیبٹ کرکے رائٹ ان کر دیا جائے گا ۔ اس کے بعد ساکھ کی نئی قدر کو نئے کھاتہ داروں کے رواں کھاتے سے ڈیبٹ اور قربانی دینے والے شراکت داروں کے رواں کھاتوں میں کریڈٹ کرکے لاگو کیا جائے گا۔
جرنل کے اندراجات اس طرح کیے جائیں گے:
(i) جب ساکھ کی قدر کتابوں میں لکھی ہو اور اس کو قلم زد کر دیا جائے
شراکت داروں کا سرمایہ کھاتہ (قدیم) .Dr (نفع کی تقسیم کے تناسب میں )
ساکھ کھاتہ سے
(کتابوں میں مذکور ساکھ قلمزد کی گئی )
(ii) ساکھ کی نئی قدر کے لیے
نئے شراکت داروں کا رواں کھاتہ .Dr
قربانی دینے والوں کے رواں کھاتہ سے (انفرادی طور پر ) (قربانی دینے کے تناسب میں )
مثال20
رام اور رحیم ایک فرم کے نفع ونقصان میں2:3کے تناسب سے حصہ دار ہیں۔راہل کاروبار میںشامل ہوتا ہے اور منافع کے1/3حصہ پر10,000روپیے سرمایہ لاتاہے۔فرم کی ساکھ30,000روپیے آنکی گئی ہے۔ درج ذیل صورتوں میں روزنامچہ اندراجات کیا ہوں گے۔
(a) جب کہ فرم کی کتابوں میں ساکھ کی نشاندہی نہ ہو۔
(b) جب کہ فرم کی کتابو ں میں15,000روپیے کی ساکھ دکھائی گئی ہو۔
حل:
(a) جب کہ کتابوں میں ساکھ کی نشان دہی نہ ہو:
رام اور رحیم کی کتابیں
روزنامچہ
| جمع/کریڈٹ رقم(روپیے) |
نام/ڈیبٹ رقم(روپیے) |
لیجرفولیو | تفصیلات | تاریخ |
10,000 18,000 12,000 |
10,000 30,000 |
بینک کھاتہ .Dr راہل کے سرمایہ کھاتے کے لیے (بطور سرمایہ لائی ہوئی راہل کی رقم) راہل کا چالو کھاتہ .Dr رام کے سرمایہ کھاتہ کے لیے رحیم کے سرمایہ کھاتہ کے لیے (جو ساکھ راہل کے ذریعہ نہیں لائی گئی اس کو ا س کے چالو کھاتہ سے ڈیبٹ اور پرانے ساجھے داروں کے کھاتے سے کریڈٹ کیا گیا (ان کے ایثار کے تناسب میں) |
1 2 |
(b) جب کتابوں میں15,000روپیے کی ساکھ درج ہو
| جمع/کریڈٹ رقم(روپیے) |
نام/ڈیبٹ رقم(روپیے) |
لیجرفولیو | تفصیلات | تاریخ |
10,000 9,000 6,000 15,000 |
10,000 15,000 9,000 6,000 |
بینک کھاتہ .Dr راہل کے سرمایہ کھاتہ کے لیے (بطور سرمایہ لائی ہوئی راہل کی رقم) راہل کا چالو کھاتہ .Dr رام کے سرمایہ کھاتہ رحیم کے ساکھ کھاتہ کے لیے سرمایہ کھاتہ .Dr (کتابوں میں دکھائی گئی ساکھ کوپرانے نفع حصہ کے تناسب میں قلم زد کیا گیا) |
1 2 |
کھاتہ داری معیار ،26کا نفاذ: غیرمرئی اثاثہ
یہ کھاتہ داری معیار اس وقت نافذ ہوتا ہے جب کوئی صرفہ غیر مرئی مد میں کھاتہ داری کی مدت کے دوران یکم اپریل 2003کو یااس کے بعد کیا جاتا ہے۔ اس معیار کے مطابق غیر مرئی اثاثہ کی AS 26کے تحت تعریف یوں کی جاتی ہے: قابل تشخص ، غیر مرئی اور طبعی وجود کے بغیر جیسے پروڈکٹس یا سامان کی سپلائی یا دیگر خدمات کے لیے کسی کو کرایہ پر دینے یا انتظامی مقصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
AS26ڈبلو آر ٹی غیر مرئی اثاثوں کی نمایاں ضروریات
1۔ غیر مرئی اثاثہ کو اسی وقت تسلیم کیا جائے گا جب وہ AS260کے تسلیم شدہ معیار پر پورا اترے گا ۔
2۔ اگر کوئی غیر مرئی اثاثہ اس معیار پر پورا نہیں اترتا تو اسکی کوئی وقت نہیں ہوگی ۔
3۔ اندورونی ساکھ کو اثاثہ نہیں سمجھا جائے گا ۔
4۔ اندرونی برانڈ ،رسائل میں مندرجہ مواد طباعت کے عنوان اور اسی طرح کے دیگر معراد کا شمار غیر مرئی اثاثے میں نہیں ہوگا ۔
5۔ اندرونی طور سے پیدا کیے گئے اثاثے ، ساکھ ،برانڈ ،رسائل میں مندرجہ مواد اور طباعت کے عنوان کو تسلیم کیا جا سکتا ہے بشرطیکہ وہ AS26 میں مذکور معیار پر پورے اترتے ہوں۔
6۔ غیر مرئی اثاثوں کو جتنا جلدی ہو سکے قلمزد کر دینا چاہیے لیکن یہ اپنی تخمینی عمر سے زیادہ نہیں ہونے چاہئیں۔ جو عام طور پر 10سال سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔
کھاتہ داری اسٹینڈر 26میں یہ بات مضمر ہے کہ :
(a) خریدی ہوئی ساکھ کا کتابوں میں حساب ہونا چاہیے اور ان کو ایک اثاثے کے طور پرد کھانا چاہیے اور جب اس کا حساب ہو اور کتابوں میں ا س کو دکھایا جائے تو جتنا جلدی ہو سکے اس کو قلمزد کر دیا جائے ۔ جب اس کو ایک کھاتہ داری سال سے زیادہ میں قلمزد کر نا ہو تو اس کو 10سال کی مدت سے کم میں قلمزد کر دینا چاہیے ۔ کھاتہ داری معیار کے مطابق بیلنس شیٹ میں لکھی گئی ساکھ کو فرم کی تشکیل جدید کے (Reconstitution) کے وقت قلمزد کر دینا چاہیے ۔
(b) کتابوں میں خود پیدا کر دہ ساکھ کا نہ ذکر کیا جاتا ہے اور نہ اس کو ایک اثاثے کے طور پر دکھایا جاتا ہے ۔ اس طرح اگر خود پیدا کردہ ساکھ کو ساکھ کھاتے سے ڈیبٹ کیاجاتا ہے تو اس کو اسی مالی سال میں قلمزد کر دینا چاہیے اور بیلنس شیٹ میں اس کو اثاثے کے طور پر نہیں دکھانا چاہئے ۔ ساکھ کی قدر کو ایک متبادل کے طور پر نئے شراکت داروں کے رواں کھاتے سے ان کے قربانی تناسب میں بینائی کے ذریعے تطبیق دی جا سکتی ہے: دونوں طریقوں کا اثر ایک ہی ہوگا۔
اپنی فہم کی جانچ کیجیے–– II
درست متبادل کا انتخاب کیجیے:
1۔ نئے ساجھے دار کی شمولیت کے وقت،پرانی بیلنس شیٹ میں دکھایا گیا جرنل ریزرو منتقل کردیا جاتا ہے:
(a) تمام ساجھے داروں کے سرمایہ کھاتوں میں
(b) نئے ساجھے دار کے سرمایہ کھاتہ میں
(c) پرانے ساجھے دار کے سرمایہ کھاتہ میں
(d) مندرجہ بالا میں سے کوئی نہیں
2۔ آشا اورنشا ساجھے دار ہیں اور2:1کے تناسب میں منافع کو تقسیم کرتی ہیں۔آشا کے بیٹے آسش کو 1/4حصہ کے لیے ساجھے دار بنایاگیا 1/8حصہ آشا نے اپنے بیٹے کو دیا اور بقیہ حصہ نشا نے دیا۔فرم کی ساکھ کی قدر40,000روپیے ہے پرانے ساجھے داروں کے سرمایہ کھاتوں میں ساکھ کی کتنی رقم جمع(کریڈٹ)کی جائے گی۔
(a)
2,500روپیے ہر ایک
(b)
5,000روپیے ہر ایک کو
(c)
20,000روپیے ہر ایک کو
(d) مندرجہ بالا میں سے کوئی نہیں
3۔ نئے ساجھے دار کی شمولیت پر اثاثہ جات کی قدر میں اضافہ کو نام(ڈیبٹ)کیاجاتا ہے۔
(a) نفع اور نقصان تصرف کھاتے سے
(b) اثاثہ جات کھاتے سے
(c) پرانے ساجھے داروں کے سرمایہ کھاتے سے
(d) مندرجہ بالا میں سے کوئی نہیں
4۔ نئے ساجھے دار کی شمولیت کے وقت،پرانی فرم کی بیلنس شیٹ میں دکھائے گئے غیر منقسم منافع(Undistributed profit)کو کس کے سرمایہ کھاتے میں منتقل کردیاجاتاہے:
(a ) پرانے ساجھے داروں کے کھاتے میں،منافع کی تقسیم کے پرانے تناسب میں۔
(b ) پرانے ساجھے داروں کے کھاتے میں،تقسیم منافع کے نئے تناسب میں۔
(c) تمام ساجھے داروں کے کھاتے میں،منافع کی تقسیم کے نئے تناسب میں۔
3.5.5.3 پوشیدہ ساکھ(Hidden Goodwill)
بعض اوقات،نئے ساجھے دار کی شمولیت کے وقت ساکھ کی قدر نہیں دی گئی ہوتی۔ایسی صورتحال میں اسے منافع کی تقسیم کے تناسب اور سرمائے کو ترتیب دے کر نکالا جاتا ہے۔فرض کیجیےAاورBساجھے دار ہیں اور ان میں سے ہرایک کا سرمایہ 45,000روپیے ہے۔یہ مساوی طور پر نفع اور نقصان کو تقسیم کرتے ہیں۔انھوں نے Cکو1/3حصہ کے لیے نیا ساجھے دار بنایا۔Cسرمائے کے طور پر60,000روپیے لایا۔Cکے منافع میں حصہ اور اس کے ذریعہ لائی گئی رقم کی بنیاد پر نئی تشکیل شدہ فرم کاکل سرمایہ 1,80,000(60,000x3روپیے)ہوگا۔لیکن A،BاورCکا حقیقی کل سرمایہ 1,50,000 روپیے (60,000 روپیے +45000روپیے+45000روپیے)بیٹھتا ہے۔
اس لیے یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ فرق جو کہ 30,000روپیے (1,50,000 روپیے– 1,80,000روپیے)کا ہے ساکھ کی وجہ سے ہے۔جو AاورBکے درمیان مساوی طورپر(پرانے تناسب)میں تقسیم کی جائے گی۔اس کی وجہ سے ان دونوں کا سرمایہ کھاتہ بڑھ کر60,000روپیے ہوجائے گا اور فرم کا کل سرمایہ 1,80,000روپیے ہوگا۔اس صورت میں Cکے چالو کھاتے سے 10,000روپیہ ڈیبٹ کیے جائیں گے (اس کے ساکھ کا حصہ ) اور Aاور Bکے سرمایہ کھاتوں میں سے ہر ایک میں 5,000کریڈٹ کیے جائیں گے۔
مثال:22
ہیم اور نیم ایک فرم میں ساجھے دار ہیں اور 3:2کے تناسب میں نفع ونقصان کو تقسیم کرتے ہیں۔ان کے سرمایے بالترتیب80,000 روپیے اور50,000روپیے ہیں۔انھوں نے1جنوری2017کو سام کو مستقبل کے منافع میں1/5حصہ کے لیے نیا ساجھے دار بنایا۔سام سرمائے کے طور پر60,000روپیے لایا۔فرم کی ساکھ کی قدر کا حساب لگائیے اورسام کی شمولیت پر ضروری روزنامچہ اندراجات کیجیے۔
(a) سام اپنی ساکھ کا شیئر لاتا ہے۔
(b) سام اپنی ساکھ کا شیئر نہیں لاتا۔
حل
ہیم،نیم اورسام کے کھاتے
جرنل
| کریڈٹ رقم (روپیے) | ڈیبٹ رقم (روپیے) | L.F. | تفصیلات | تاریخ |
| ---- 60,000 22,000 13,200 8,800 |
82,000 22,000 |
بینک کھاتہ .Dr سام کے سرمایہ کھاتہ سے ساکھ کھاتہ کے لیے پریمیم سے (سام کے ذریعہ سرمایہ اور ساکھ کی پریمیم کے طور پرلائی گئی رقم ) ساکھ کے لیے پریمیم کھاتہ .Dr ہیم کے سرمایہ کھاتہ سے نیم کے سرمایہ کھاتہ سے (قربانی دینے والے شراکت داروں کے سرمایہ کھاتہ میں ان کے قربانی تناسب میں کریڈٹ کی جانے والی ساکھ کی پریمیم) |
1۔ 2۔ |
(b) سام اپنی ساکھ کا شیئر نہیں لاتا ہے
ہیم ،نیم اور سام کی کتابیں
جرنل
| کریڈٹ رقم (روپیے) | ڈیبٹ رقم (روپیے) | L.F. | تفصیلات | تاریخ |
| 60,000 13,200 8,800 |
60,000 22,000 |
بینک کھاتہ .Dr سام کے سرمایہ کھاتہ سے (سام کے ذریعہ اپنے سرمایہ کے لیے لایا گیا نقد ) سام کارواں کھاتہ .Dr ہیم کے سرمایہ کھاتہ سے ہیم کے سرمایہ کھاتہ سے نیم کے سرمایہ کھاتہ سے |
1۔ 2۔ |
ورکنگ نوٹس:
فرم کی ساکھ کی قدر
سام کا سرمایہ = 60,000روپیے
سام کا شیئر = 1/5
فرم کا کل سرمایہ = 3,00,000 =5+60,00,000 روپیے
ہیم+نیم+سام = 80,000x 50,000x60,000 روپیے
1,90,000 روپیے
فرم کی ساکھ = 1,10,000=1,90,000-3,00,000روپیے
سام کا حصہ = 22,000= 1/5+ 1,10,000روپیے
اسے خود کیجیے۔
1۔ ایک فرم کا گزشتہ تین برسوں کامنافع5,00,000روپیے،4,00,000روپیے اور6,00,000روپیے ہے۔گزشتہ تین برسوں کے اوسط منافع کی چارسالوں کی خریداری پر فرم کی ساکھ کی قدر کا حساب لگایے۔(جواب:20,00,000)
2۔ ایک فرم کا گذشہ پانچ سالوں کا منافع20,000روپیے،30,000روپیے،40,000روپیے،50,000روپیے اور60,000روپیے ہے۔بالترتیب1،2،3،4اور5کی اہمیت(weight)کا استعمال کرکے اہمیت شدہ منافعوں کی تین سال کی خرئداری کی بنیاد پر فرم کی ساکھ کی قدر کا حساب لگایے۔
2۔ 2015،2014،2013اور2016کے دوران فرم کا منافع بالترتیب16,000 روپیے، 20,000روپیے،
24,000روپیے اور32,000 روپیے ہے فرم نے کاروبار میں1,00,000روپیے سرمایہ کاری کی ہے۔
سرمایہ کاری پرریٹرن کی نارمل شرح(Normal rate of returen) ( 18%سالانہ ہے۔گزشتہ چار سالوں کے اوسط زائد منافع (super profit) کی تین برسوں کی خریداری کی بنیاد پر ساکھ کا حساب لگائیے۔(جواب:15,000روپیے)
3۔ مندرجہ بالا سوال میں دیے گئے اعداد وشمار کی بنیاد پر،زائد منافع کوکے کیپٹلائزیشن(Capitalization)کے ذریعے ساکھ کا حساب لگائیے۔کیا کیپٹلائزیشن کے ذریعہ معلوم کی گئی ساکھ کی رقم مختلف ہوگی؟عددی تائید کے ذریعہ اپنے جواب کی تصدیق کیجیے۔
4۔ گری اور شانتا ایک فرم میں ساجھے دار ہیں اور منافع کو مساوی طور پر تقسیم کرتے ہیں انھوں نے فرم کے منافع میں1/5حصہ کے لیے کچرو کو ساجھے دار بنایا۔کچرو سرمایے کے علاوہ20000روپیے ساکھ کے طور پر لایا۔روزنامچہ اندراج کیا ہوگا اگر:
(a) فرم کی کتابوںمیں ساکھ موجود نہ ہو۔
(b) فرم کی کتابوں میں40,000روپیے کی ساکھ دکھائی گئی ہو۔
3.6تسویات برائے جمع شدہ نفع اور نقصان
(Adjustment for Accumulated profit and losses)
بعض اوقات فرم کے کچھ جمع شدہ منافع ہوتے ہیں یہ منافع ساجھے داروں کے سرمایہ کھاتوں پر غیر منتقل شدہ ہوتے ہیں۔عام طور پر یہ جرنل ریزرو،ریزوفنڈ اورنفع اور نقصان کھاتہ کی باقی کی شکل میں ہوتے ہیں۔نئے ساجھے دار کا فرم کے ان جمع شدہ منافعوں پر کوئی حق نہیں ہوتا۔ان کو پرانے ساجھے داروں کے سرمایہ کھاتوں میں پرانے تناسب میں منتقل کرکے تقسیم کردیا جاتا ہے۔اس طرح کچھ جمع شدہ نقصانات بھی ہوتے ہیں جو کہ فرم کی بیلنس شیٹ میں نفع اور نقصان کھاتہ کے ڈیبٹ بیلنس کی شکل میں دکھائے گئے ہوتے ہیں۔ان کو بھی پرانے ساجھے داروں کے سرمایہ کھاتوں میں منتقل کر دیا جاتا ہے(دیکھئے مثال23)
مثال:23
راجندر اور سریندر ایک فرم میں ساجھے دار ہیں اور نفع ونقصان کو 4:1کے تناسب میں تقسیم کرتے ہیں۔15اپریل2017کو انھوں نے سریندر کو نیا ساجھے دار بنایا۔اس تاریخ پر فرم کے نفع اورنقصان کھاتہ میں 10,000روپیے کاڈیبٹ بیلنس تھااور جرنل ریزرو میں 20,000 روپیے کابیلنس تھا۔نفع اورنقصان کے ایڈجسٹمنٹ کے لیے ضروری روزنامچہ اندراج بتایئے۔
حل:
راجندر،سریندر اورنریندر کی کتابیں
روزنامچہ
| جمع/کریڈٹ (روپیے) |
نام/ڈیبٹ (روپیے) |
لیجرفولیو | تفصیلات | تاریخ |
16000 4000 10,000 |
20,000 8,000 2,000 |
عمومی رزرو کھاتہ .Dr راجیندر کے سرمایہ کھاتہ کے لیے سریندر کے سرمایہ کھاتہ کے لیے (نریندر کی شمولیت پر راجندر اور سریندر کے سرمایہ کھاتے پر منتقل شدہ جرنل ریزروبیلنس) راجیندر کے سرمایہ کھاتہ .Dr سریندر کے سرمایہ کھاتہ .Dr نفع اور نقصان کھاتہ کے لیے (پرانے ساجھے داروں کے سرمایہ کھاتوں پر منتقل شدہ نفع اور نقصان کھاتہ کا ڈیبٹ بیلنس) |
15اپریل |
3.7اثاثہ جات اور ذمہ داریوں کاازسرنواندازۂ قدر
(Revaluation of Assest and Reassessment of Liabilites)
نئے ساجھے دار کی شمولیت کے وقت اس بات کی تصدیق بہتر سمجھی جاتی ہے کہ آیا فرم کی کتابوں میں دکھائے گئے اثاثہ جات اپنی رواں قدر(Current Value)پر ہیں یا نہیں اگر ان کی قدر کم یا زیادہ ہوتی ہے تو اس صورت میں ان کاازسرنواندازۂ قدرکیاجاتاہے۔اسی طرح،ذمہ داریوں کی بھی ازسر نوتشخیص(Re-assessment) کی جاتی ہے تاکہ کتابوں پر ان کی صحیح قدر پر دکھایا جاسکے۔بعض اوقات چند غیر مندرج اثاثہ جات اور ذمہ داریاں بھی ہوتی ہیں۔ان کو بھی فرم کی کتابوں میں لایا جاتا ہے ۔اس مقصد کے لیے فرم کو ازسراندازۂ قدر کھاتہ (Revaluation Account)بنانا پڑتا ہے۔ہر ایک اثاثہ اور ذمہ داری کے ازسرنو اندازۂ قدر پر ہونے والے فائدے یا نقصان کو اس کھاتہ پر منتقل کیا جاتا ہے اور آخر میں اس کی بیلنس کو پرانے ساجھے داروں کے سرمایہ کھاتوںمیں منافع کی تقسیم کے پرانے تناسب سے منتقل کردیا جاتا ہے۔دوسرے لفظوں میں،از سرنواندازۂ قدر کھاتہ کو اثاثہ کی قدر میں ہونے والے اضافہ اور ذمہ داری میں ہونے والی کمی کے ساتھ جمع(کریڈٹ)کیا جاتا ہے کیونکہ یہ فائدہ ہے۔اسی طرح ازسرنواندازۂ قدر کھاتے کواثاثہ جات کی قدر میں ہونے والی کمی اور اس کی ذمہ داری میں ہونے والے اضافہ کے ساتھ ڈیبٹ کیا جاتا ہے کیونکہ یہ نقصان کی صورت ہے۔مزید برآں ،غیر مندرج اثاثہ جات کی ازسرنو قدر اندازی پر جمع(کریڈٹ)کرتے ہیں اور غیر مندر ذمہ داریوں کو نام(ڈیبٹ)کرتے ہیں۔اگر ازسرنو اندازۂ قدرکھاتہ آخر میں کریڈٹ بیلنس ظاہر کرتا ہے تو اس سے مراد خالص فائدہ ہوتا ہے اوراگرڈیبٹ بیلنس ظاہر کرتا ہے تو اس سے مراد خالص نقصان ہوتا ہے جو کہ پرانے ساجھے داروں کے سرمایہ کھاتوں میں پرانے تناسب کے اندر منتقل کردیا جاتاہے۔
اثاثہ جات اور ذمہ داریوں کے ازسرنواندازۂ قدر کے لیے کئے جانے والے روزنامچہ اندراجات مندرجہ ذیل ہیں۔
(i) اثاثہ کی قدر میں اضافہ کے لیے۔
اثاثے کھاتہ .Dr
از سرنو اندازہ قدر کھاتہ کے لیے (فائدہ)
(ii) اثاثہ کی قدر میں کمی کے لیے
از سر نو اندازۂ قدر کھاتہ .Dr
اثاثہ کھاتہ کے لیے (نقصان)
(iii) ذمہ داری کی رقم میں اضافہ کے لیے
از سر نو اندازۂ قدر کھاتہ .Dr
ذمہ داری (نقصان) کھاتہ کے لیے (نقصان)
(iv) ذمہ داری کی رقم میں کمی کے لیے
ذمہ داری کھاتہ .Dr
از سر نو اندازہ قدر کھاتہ (نفع) کے لیے (فائدہ)
(v) غیر مندرج اثاثہ کے لیے
اثاثے کھاتہ .Dr
از سر نو اندازۂ قدر پر نفع کے لیے (فائدہ)
(vi) غیر مندرج ذمہ داری کے لیے
از سر نو اندازۂ قدر کھاتہ .Dr
غیر مندرج ذمہ داری کے لیے (نقصان)
(vii) از سرنو قدر اندازی کھاتہ پر فائدے کو منتقل کرنے کے لیے اگر جمع باقی ہو
از سر نو اندازہ قدر کھاتہ .Dr
پرانے ساجھے دار کے کھاتہ کے لیے (پرانا تناسب)
(فرداً فرداً)
(viii) ازسرنو قدر اندازی کھاتہ پرنقصان کومنتقل کرنے کے لیے
پرانے ساجھے دار کے کھاتہ .Dr
(فرداً فرداً)
از سر نو اندازہ قدر کے لیے (پرانا تناسب)
نوٹ:(i)،(ii)،(iiiاور(iv)اندراجات صرف اثاثہ جات اور ذمہ داریوں کی قدر میں اضافہ اور کمی کی رقم کے ساتھ کیے جائیں گے۔
مثال:24
AاورB
3:2کے تناسب میں نفع اور نقصان تقسیم کرتے ہیں ان کی بیلنس شیٹ حسب ذیل ہے۔
1 پریل2015کوAاورBکی بیلنس شیٹ
| رقم(روپیے) | اثاثہ جات | رقم(روپیے) | ذمہ داریاں |
| 3,000 12,000 15,000 10,000 30,000 70,000 |
نقددردست
قرضدار
اسٹاک
فرنیچر
پلانٹ اور مشینری
|
20,000 50,000 70,000 |
متفرق قرض خواہ سرمایے A 30,000
B 20,000 |
اس تاریخ پرCکو مندرجہ ذیل شرائط کی بنیاد پر ساجھے داری میں شامل کیاگیا:
1۔ Cکو سرمایے کے طورپر 15000روپیے اورساکھ کے1/6حصے کے لیے5,000روپیے بطورپریمیم کے لانے ہیں۔
2۔ اسٹاک کی مالیت%10سے کم کی جانی ہے جب کہ پلانٹ اور مشینری کو%10زیادہ کیا جانا ہے۔
3۔ فرنیچر کی قدر9,000روپیے پر آنکی گئی۔
4۔ قرض داروں(debtors)پر %5محفوظ برائے مشکوک قرضہ جات بنانا ہے اور بجلی کے بل(Electricity bill)کی مد میں200روپیے دیے جانے ہیں۔
5۔ 1000روپیے مالیت کی سرمایہ کاری کو(جس کا تذکرہ بیلنس شیٹ میں نہیں ہے)کتابوں میں لایا جانا ہے۔
6 ۔ 100روپیے کاایک قرض خواہ(Creditor)اپنی رقم کا مطالبہ نہیں کرے گا اس لیے اسے خارج کرنا ہے۔
روزنامچہ اندراجات درج کیجیے اور ساجھے داروں کے سرمایہ کھاتے اورازسرنواندازۂ قدر کھاتہ تیار کیجیے۔
حل:
B،Aاور Cکی کتابیں
جرنل
| جمع/کریڈٹ(روپیے) | نام/ڈیبٹ(روپیے) | لیجرفولیو | تفصیلات | تاریخ |
15,000 3,000 2,000 1500 1,000 600 200 100 |
20,000 5,000 3,100 3,000 1,000 200 100 800 |
بینک کھاتہ .Dr سی کے سرمایہ کھاتہ کے لیے ساکھ کھاتہ کے لیے (Cکے ذریعہ بطور سرمایہ اور پریمیم لایا کیا نقد)
ساکھ کھاتہ .Dr
اے کے سرمایہ کھاتہ کے لیے
بی کے سرمایہ کھاتے کے لیے
(AاورBکے درمیان ایثاری تناسب 3:2میں ساکھ کا بٹوارہ)
از سرنو اندازہ قدر کھاتہ .Dr
اسٹوک کھاتہ کے لیے
فرنیچر کھاتہ کے لیے
مشکوک قرضہ کے لیے محفوظ کے لیے
(اثاثہ جات کی قدر کاازسرنواندازۂ قدر)
پلانٹ اور مشنری کھاتہ .Dr
سرمایہ کاری کھاتہ .Dr
از سرنو اندازہ قدر کھاتہ کے لیے (از سرنواندازۂ قدر پر اثاثہ جات کی مالیت میں اضافہ)
از سرنو اندازہ قدر کھاتہ .Dr
بقیہ بجلی کے بل کے کھاتہ کے لیے
متفرق دینداران .Dr
از سرنو اندازہ قدر کھاتہ کے لیے
(قرض خواہوں کے ذریعہ مطالبہ نہ کی جانے والی رقم کااخراج)
ازسرنو اندازہ قدر کھاتہ .Dr
اے کے سرمایہ کھاتہ کے لیے
بی کے سرمایہ کھاتہ کے لیے
(اثاثہ جات اور ذمہ داریوں کے ازسرنو اندازۂ قدر پر ہونے والے منافع کو Aاور Bکے سرمایہ کھاتوں میں پرانے تناسب کے اندر منتقل کیا گیا )
|
1اپریل 2. 3. 4. 5. 6. 7. |
ازسرِ نو اندازۂ قدر کھاتہ
نام(.Dr) جمع(.Cr)
| رقم(روپیے) | تفصیلات | رقم(روپیے) | تفصیلات |
| 3,000 1,000 100 4,100 |
پلانٹ اورمشینری Plant and Machinery سرمایہ کاریInvestments مختلف قرض خواہSundry Creditors |
1,500 1,000 600 200 480 320 4,100 |
اسٹاک دردست فرنیچرFurntiture نفی: مشکوک قرضہ جات کے لیے محفوظ Prov.for Doubtful Debts بجلی کا بقایا بلOutstanding Electricity bill ازسرنو اندازۂ قدر پر نفعProfit on Revaluation منتقل کیاگیا:transfered to Aکے سرمایہ میں A's Capital |
ساجھے داروں کے سرمایہ کھاتے
نام(.Dr) جمع(.Cr)
| (روپیے)C | (روپیے)B | (روپیے)A | تفصیلات | 2017تاریخ | (روپیے)C | (روپیے)B | (روپیے)A | تفصیلات | 2017تاریخ |
15,000 15000 |
20,000 2,000 320 22,320 |
30,000 3,000 480 33,480 |
بیلنسb/d بینک ساکھ اندازۂ قدر(منافع) |
1اپریل | 15,000 | 22,320 22320 |
33,480 33480 |
بیلنسc/d | 1اپریل |
مثال:25
AاورB،31مارچ2017کو ساجھا کاروبار چلاتے ہیں۔نیچے ان کی بیلنس شیٹ دی جارہی ہے AاورB،2:1کے تناسب سے نفع اور نقصان میں حصہ دار ہیں۔
AاورBکی 31مارچ2007کو بیلنس شیٹ
| ذمہ داریاں | رقم(روپیے) | اثاثہ جات | رقم(روپیے) |
| قابل ادا بل (Bills Payable) متفرق قرض خواہ(Sundry creditors) بقایا اخراجات(Outstanding expenses) سرمایے(Capitals) A 1,80,000 B 1,50,000 |
10,000 58,000 2,000 3,30,000 4,00,000 |
نقددردست (Cash in hand) نقدبینک میں
(Cash at bank)
متفرق قرضدار
(Sundry debtors)
اسٹاک(Stock)
پلانٹ اور مشینری
(Plant and Machinery)
بلڈنگ(Building)
|
10,000
40,00060,000 40,000 1,00,000 1,50,000 4,00,000 |
بیلنس شیٹ کی تاریخ پر Cکو حسب ذیل شرائط پر کاروبار میں شمولیت کی اجازت دی جاتی ہے:
(1)
Cاپنے سرمائے کے بطور 1,00,000روپیے اور منافع کے 1/4حصہ کے لیے60,000روپیے ساکھ کی رقم کے طور پر لائے گا۔
(2) پلانٹ کا تخمینہ1,20,000روپیے ہے اور بلڈنگ کی قدر%10زائد آنکی جائے گی۔
(3) اسٹاک کی قدر4,000روپیے سے زائد پائی گئی۔
(4) ڈوبے ہوئے اور مشتبہ قرضوں کے لیے%5قرضداروں کی گنجائش رکھی جائے گی۔
(5) 1000روپیے تک کے قرض خواہوں کا اندراج نہ تھا۔
ضروری روزنامچہ اندراجات کیجیے اور ازسرنواندازۂ قدر کھاتہ ،ساجھے داروں کے سرمایہ کھاتے نیز Cکی شمولیت کے بعد بیلنس شیٹ بناکر دکھائیے۔
حل:
AاورBکی کتابیں ازسرنواندازۂ قدر کھاتہ
نام(.Dr) جمع(.Cr)
| رقم(روپیے) | تفصیلات | رقم(روپیے) | تفصیلات |
| 20,000 15,000 27,000 35,000 |
پلانٹ اور مشینری عمارتیں |
4,000 3,000 1,000 27,000 35,000 |
اسٹاک دردست مشکوک قرضہ جات کے لیے محفوظ قرض خواہ ازسرنواندازۂ قدر پر نفع منتقل کیا گیا: A کے سرمایہ میں 18,000 Bکے سرمایہ میں 9,000 |
ساجھے داروں کے سرمایہ کھاتے
نام(.Dr) جمع(.Cr)
| C(روپیے) | B(روپیے) | A(روپیے) | تفصیلات | تاریخ | C(روپیے) | B(روپیے) | (روپیے)A | تفصیلات | تاریخ2017 |
1,00,000 |
1,50,000 20,000 9,000 1,79,000 |
1,80,000 40,000 18,000 2,38,000 |
بیلنسb/d
بینک
ساکھ
ازسرنواندازۂ قدر
|
31مارچ 2017 |
1,00,0000 1,00,000 |
1,79,000 1,79,000 |
2,38,000 2,38,000 |
بیلنس c/d | 31مارچ |
01اپریل2016کوB،AاورCکی بیلنس شیٹ
| رقم(روپیے) | اثاثہ جات | رقم(روپیے) | ذمہ داریاں |
| 10,000 2,00,000 57,000 36,000 1,20,000 1,65,000 5,88,000 |
نقد در دست نقد در بینک متفرق قرض دار 60,000 نفی: مشکوک قرضہ جات 3,000 کے لیے محفوظ اسٹاک پلانٹ اور مشینری عمارتیں |
10,000
59,000
2,000
5,17,000
5,88,000
|
واجب الادابل متفرق قرض خواہ 60,000 بقایا اخراجات سرمایے 2,38,000 A
,79,000 B
1,00,000 C
|
اسےخود کیجیے
1۔ اسلم،جیکب اورہیری بالترتیب1,500روپیے،1,750روپیے اور2,000روپیے کے ساتھ برابر کے ساجھے دار ہیں۔انھوں نے ستنام کو مساوی ساجھے دار کے طور پر ساجھے داری میں شامل کیا۔ ستنام کو 1800روپیے بطور سرمایہ اور ساکھ کے1/4حصہ کے لیے 1500روپیے نقد رقم کی ادائیگی کرنی ہوگی یہ دونوں رقوم کاروبار میں ہی رہیں گی ۔پرانی فرم کی ذمہ داریاں3000روپیے کی ہیںاور نقد کے علاوہ اثاثہ جات میں موٹر1,200روپیے، فرنیچر400روپیے،اسٹاک2,650روپیے،قرض دار3,780 روپیے کے شامل ہیں۔موٹر اور فرنیچر کی قدر بالترتیب 950روپیے اور380روپیے کی آنکی گئی اور فرسودگی کوخارج کیا گیا ہے۔نقد دردست(Cash in hand)معلوم کیجیے اور ستنام کی شمولیت کے بعد فرم کی بیلنس شیٹ تیار کیجیے۔
2۔ بینو اور سنیل ساجھے دار ہیں اور3:2کے تناسب میں نفع اور نقصان تقسیم کرتے ہیں۔1اپریل2017کو ریناکو1/4حصہ کے لیے ساجھے داری میں شامل کیاگیا جس نے2,00,000روپیے بطور سرمایہ اور1,00,000 روپیے ساکھ کی پریمیم کے لیے نقدادا کیے۔شمولیت کے وقت بیلنس شیٹ کے واجبات کی جانب1,20,000روپیے کی رقم کا جنرل ریزرو اور 60,000روپیے کا نفع اور نقصان کھاتہ دکھایا گیا ہے۔
مندرجہ بالا لین دین کو درج کرنے کے لیے ضروری روزنامچہ اندراجات درج کیجیے۔
3۔ آشواور راہل ساجھے دار ہیں اور5:3کے تناسب میں نفع اور نقصان کو تقسیم کرتے ہیں اور گورو کو 1/5حصہ کے لیے ساجھے دار ی میں شامل کیا گیا اور اس سے ساکھ کے لیے 4000روپیے اور بطور سرمایہ تناسبی(Proportionate)رقم کا روبار میں لگانے کے لیے کہا گیا۔ساکھ،ازسر نو قدراندازی وغیرہ سے متعلق تمام ایڈجسٹمنٹ کے بعد آشو اور راہل کے بالترتیب سرمایے 45,000روپیے اور 35,000روپیے تھے۔
منافع کی تقسیم کانیا تناسب اورگورو کے ذریعے لائی جانے والی سرمایے کی رقم معلوم کیجیے اور اس کے لیے ضروری روزنامچہ اندراجات درج کیجیے۔
3.8 سرمایوں کاایڈجسٹمنٹ(Adjustment of Capitals)
بعض اوقات نئے ساجھے دار کی شمولیت کے وقت شرکااس پر متفق ہوجاتے ہیں کہ ان کے سرمایوں کا بھی اس طرح ایڈجسٹمنٹ کردیا جائے کہ سرمایے بھی منافع کی تقسیم کے متناسب(Profortionate)ہوجائیں ۔ایسی صورت میں اگر نئے ساجھے دار کا سرمایہ دیا ہوا ہو تو اس کو بنیاد مان کر پرانے ساجھے دار وں کے نئے سرمایے کاحساب لگایا جا سکتا ہے۔تمام ایڈجسٹمنٹ کی تکمیل کے بعد نئے ساجھے دار کے سرمایے کا موازنہ پرانے ساجھے داروں کے سرمایے سے کیا جا سکتا ہے۔وہ ساجھے دار جس کا سرمایہ کم پڑتا ہو،ضروری سرمایہ لائے گا اور جس کا زائدہوجائے وہ یہ زائد رقم نکال لے گا۔(مثال 26دیکھیں)
مثال:26
AاورB 2:1کے تناسب میں نفع اور نقصان میں حصہ دارہیں۔Cمنافع کے 1/4حصہ میں فرم کے لیے شامل ہوتا ہے اور 20,000روپیے کا سرمایہ لاتا ہے۔ساکھ،اثاثوں اور ذمہ داریوں کی ازسرنو اندازۂ قدر وغیرہ کے ایڈجسٹمنٹ کے بعد پرانے ساجھے داروں کا سرمایہ اس طرح بنتا ہے۔A 45,000روپیے15,000Bروپیے۔یہ طے پاتا ہے کہ ساجھے داروں کے سرمایے تقسیم منافع کے نئے تناسب کے مطابق ہوں گے۔Aاور Bکے نئے سرمایوں کا تعین کیجیے اور یہ فرض کرتے ہوئے روزنامچہ کے ضروری اندراجات درج کیجیے کہ وہ ساجھے دار جس کا سرمایہ کم پڑتا ہے،کمی کی رقم لائے گا اور جس کا زائدہے وہ زاید رقم نکال لے گا۔
حل:
1۔ تقسیم منافع کے نئے تناسب کا حساب:یہ مانتے ہوئے کہ نیا ساجھے دارCمنافع کے1/4حصہ کا حق دار ہے جو وہ AاورBسے ان کے تقسیم منافع کے پرانے تناسب یعنی1:2کے مطابق وصول کرتا ہے لہٰذا
کل حصہ = 1
Cکا حصہ = (1/4)
باقی حصے = (1/4)-1(3/4)
Aکانیاحصہ = (2/3)(3/4)+(6/12)
Bکا نیا حصہ = (1/3)+(3/4)(3/12)
Cکانیا حصہ = (3/3)+(1/4)(3/12)
پسA،BاورCکے درمیان حصہ داری کا نیا تناسب3:3:6یا 1:1:2ہوگا۔
A -2اورBکے مطلوبہ سرمایے :Cکا سرمایہ جوکہ منافع کے1/4کا حق دار ہے،20,000روپیے ہے،منافع میںBکا نیا حصہ1/4ہے۔لہٰذا اس کا سرمایہ بھی 20,000روپیے ہوگا۔Aکا نیا حصہ2/4ہے جو کہ Cکے حصہ کے کا دوگناہے ۔چنانچہ اس کا سرمایہ 40,000روپیے ہوگا۔
بصورت دیگرCکے سرمایے کی بنیاد پر فرم کا کل سرمایہ 80,000روپیے(20,000x1/4)بنتا ہے۔لہٰذا منافع میں ان کے حصوں کی بنیاد پر AاورBکا سرمایہ اس طرح ہوگا۔
Aکا سرمایہ = 80,000کا (2/4) =40,000روپیے
Bکا سرمایہ = 80,000کا (1/4)=20,000روپیے
تمام ایڈجسٹمنٹ کی تکمیل کے بعد AاورBکے سرمایے بالترتیب45,000روپیے اور15,000روپیے ہیں لہٰذا 5,000Aروپیے۔(45,000-Rs.40,000)فرم سے نکال لے گا جب کہ 5,000(B)روپیے(20,000-Rs.15,000) مزید فراہم کرے گا۔
روزنامچہ اندراجات ہوں گے:
جمع (کریڈٹ)
رقم(روپیے)
|
نام (ڈیبٹ ) رقم(روپیے) |
لیجر صفحہ |
تفصیلات | تاریخ |
| 5,000 5,000 |
5000 5,000 |
Aکا سرمایہ کھاتہ .Dr نقد کھاتہ سے (Aکا نکالا ہوا زائد سرمایہ) نقد کھاتہ .Dr Bکے سرمایہ کھاتہ سے.Dr
(کمی پوری کرنے کے لیےBکی لائی ہوئی مزید رقم)
|
بعض اوقات فرم کے کل سرمایے کی صراحت کردی جاتی ہے اور یہ طے پاتا ہے کہ ساجھے دار کا سرمایہ،منافع میں اس کے حصہ کے متناسب ہو۔ایسی صورت میں ہر ساجھے دار کے سرمایے (نئے ساجھے دار سمیت)کا شمار منافع میں اس کے حصہ کی بنیاد پر مزید رقم لاکر یا زائد رقم نکال کر کیا جاتا ہے۔ہر ساجھے دار کے آخری سرمایے کو مطلوبہ سطح پر لایا جاتا ہے اور بصورت دیگر اگر ساجھے دار متفق ہوں تو ہر ساجھے دار کے سرمایہ کھاتہ میںہونے والے اضافے یا تخفیف کو ان کے اپنے اپنے چالو کھاتوں میںمنتقل کیا جا سکتا ہے۔
مثال:27
A،Bاور Cایک فرم کے نفع نقصان میں3:2:1کے تناسب سے حصہ دار ہیں۔Dمنافع کے1/4حصہ میں فرم میں شامل ہوتا ہے جس کا 1/8حصہ وہ Aسے اور1/8حصہ Bسے وصول کرتا ہے۔فرم کا کل سرمایہ 1,20,000روپیے طے پاتا ہے۔Dاس رقم کا 1/4 بطور سرمایہ لاتا ہے۔دوسرے ساجھے داروں کے سرمایوں کا بھی نفع اور نقصان میں ان کے تناسب کے مطابق ایڈجسٹمنٹ ہوناہے۔ تمام ایڈجسٹمنٹ کی تکمیل کے بعدA،BاورCکے سرمایے بالترتیب40,000روپیے،35,000روپیے اور30,000روپیے بنتے ہیں– A،BاورCکے اختتامی سرمایے(فائینل کیپٹل)کا حساب لگایے۔
حل:
1۔ ہمیں سب سے پہلے ساجھے داروں کی تقسیم منافع کا نیا تناسب متعین کرلینا چاہیے:
(A)
= (1/8)-(1/2)=(3/8)
B
= (1/8)-(13)=(5/24)
C منافع میں اپنے حصہ کا1/6وصول کرتارہے گا۔لہٰذا C،B،AاورDکے درمیان تقسیم منافع کا نیا تناسب ہوگا:
(6/24):(4/24):(9/24) یا (1/4):(1/6):(5/24):(3/8) یا9:5:4:6 ہوگا
2۔ تمام شرکا کے مطلوبہ سرمایے:
Aکا سرمایہ = 1,20,000×(9/24)=45,000روپیے
Bکاسرمایہ = 1,20,000×(5/24)= 25,000روپیے
Cکا سرمایہ = 1,20,000×(4/24)=20,000روپیے
Dکاسرمایہ = 1,20,000×(6/24)=20,000روپیے
لہٰذا5,000Aروپیے(Rs.45,000–40,000)لائے گا۔10,000Bروپیے(Rs.35,000–Rs.25,000) نکالے گا۔ Cبھی10,000روپیے(Rs.30,000–20,000)نکالے گا۔اور30,000Dروپیے لائے گا۔بصورت دیگر چالو کھاتے کھولے جا سکتے ہیں اورB،AاورCکی لائی ہوئی یانکالی ہوئی رقم ان کے متعلقہ چالو کھاتوں میں منتقل کی جاسکتی ہے بشرطیکہ ان میں اس امر پر باہم معاہدہ ہوجائے۔متعلقہ روزنامچہ اندراجات حسب ذیل ہیں۔
C،B،AاورDکی کتابیں
روزنامچہ
| جمع (کریڈٹ) (روپیے) |
نام (ڈیبٹ) (روپیے) |
لیجر صفحہ | تفصیلات | تاریخ |
5,000 20,000 30,000 |
5,000 10,000 30,000 |
نقد کھاتہ Aکے سرمایہ کھاتہ سے (خسارہ پورا کرنے کے لیےAکے ذریعہ لائی گئی رقم) Bکے سرمایہ کھاتہ سے .Dr C کے سرمایہ کھاتہ .Dr نقد کھاتہ کے لیے (BاورCکے ذریعہ نکالی گئی اضافی رقم)
نقد کھاتہ .Dr
Dکے سرمایہ کھاتہ کے لیے
(Dکے ذریعہ بطور سرمایہ لایا گیا نقد)
|
بصورت دیگر،مندرجہ بالا (2)اور(3)کے لیے روزنامچہ اندراجات ہوں گے
،B،CاورDکی کتابیں
جرنل
| جمع(کریڈٹ) (روپیے) |
نام (ڈیبٹ) (روپیے) |
لیجرصفحہ |
تفصیلات | تاریخ |
| 5,000 10,000 |
5,000 10,000 10,000 10,000 |
A کا چالو کھاتہ .Dr
A کے سرمایہ کھاتے کے لیے
(Aکے سرمایہ کھاتہ کے خسارہ کو Aکے چالو کھاتہ پر منتقل کیا گیا)
B کا سرمایہ کھاتہ .Dr
C کا سرمایہ کھاتہ .Dr
B کا سرمایہ کھاتہ کے لیے
C کا سرمایہ کھاتہ کے لیے
(CاورBکے زاید سرمایہ کو ان کے چالو کھاتوں میں منتقل کیا گیا)
|
مثال:28
AاورBایک فرم کے نفع اورنقصان میں2:1کے تناسب سے حصے دار ہیں۔Cمنافع کے1/4حصہ پر فرم میں شامل ہوتاہے۔ اور30,000روپیے کا سرمایہ لاتا ہے۔AاورBکے سرمایوں کا ان کے منافع کی حصہ داری کے تناسب کے مطابق ایڈجسٹمنٹ کیا جائے گا۔ (Cکی شمولیت سے قبل)31مارچ 2017کوAاورBکی بیلنس شیٹ حسب ذیل تھی۔
AاورBکی31مارچ 2017کو بیلنس شیٹ
| رقم (روپیے) | اثاثہ جات | رقم (روپیے) | ذمہ داریاں |
| 2,000 10,000 8,000 10,000 5,000 25,000 40,000 1,00,000 |
نقد در دست نقدر در بینک متفرق قرض دار اسٹاک فرنیچر مشینری عمارت |
8,000 4,000 6,000 82,000 1,00,000 |
قرض خواہ واجب الادا بل جنرل ریزرو سرما A: 50,000 B: 32,000 |
معاہدے کی دیگر شرائط حسب ذیل ہیں۔
(1) Cاپنے حصہ کی ساکھ کے لیے 12,000روپیے لائے گا۔
(2) عمارت کی قدر45,000روپیے اورمشینری کی قدر23,000روپیے آنکی گئی ہے۔
(3) ڈوبے ہوئے قرضوں کے لیے6%قرض داروں پر محفوظ (Provision)رکھا جائے گا۔
(4) چالو کھاتے کھول کر AاورBکے سرمایہ کھاتوں کا ایڈجسٹمنٹ کیا جائے گا۔
ضروری روزنامچہ اندراجات درج کیجیے اور لیجر کھاتے دکھائیے اورC کی شمولیت کے بعدفنڈبیلنس شیٹ تیار کیجیے۔
B،AاورCکی کتابیں
جرنل
| جمع/کریڈٹ رقم(روپیے) |
نام /ڈیبٹ رقم (روپیے) |
لیجر صفحہ | تفصیلات | تاریخ 2017 |
30,000 8,000 2,000 480 5,000 1,680 840 4,000 3,680 8,840 |
42,000 12,000 2,480 5,000 2,520 6,000 3,680 8,840 |
نقد کھاتہ .Dr C کے سرمایہ کھاتہ کے لیے ساکھ کھاتہ کے لیے (Cکی لائی ہوئی سرمایے اور ساکھ کی رقم)
ساکھ کھاتہ .Dr
A کے سرمایہ کھاتے کے لیے
B کے سرمایہ کھاتے کے لیے
(Cکی لائی ہوئی ساکھ کی رقمAاور Bمیں ان کے ایثاری تناسب سے منتقل)
از سرنو اندازہ قدر کھاتہ .Drمشنری کھاتے کے لیے خراب قرض کے پرووژن کے کھاتے کے لیے (مشینری کی قدر میں کمی اور ڈوبے ہوئے قرضوں کے لیے محفوظ) عمارت کھاتہ .Dr ازسرنو اندازہ قدر کھاتہ .Dr A کے سرمایہ کھاتے کے لیے B کے سرمایہ کھاتے کے لیے (ازسرنو اندازۂ قدر پر منافع کی رقمAاورBمیں تقسیم) عمومی رزور کھاتہ .Dr A کے سرمایہ کھاتے کے لیے B کے سرمایہ کھاتے کے لیے (غیر منقسم منافعAاورBکو منتقل) A کا سرمایہ کھاتہ .Dr Bکا سرمایہ کھاتہ .Dr (زائد سرمایہ ساجھے داروں کے چالو کھاتوں میں منتقل) Bکا سرمایہ کھاتہ .Dr Bکے چالوکھاتہ کے لیے (زائد سرمایہ ساجھے داروں کے چالو کھاتوں میں منتقل) |
1مارچ |
از سر نواندازۂ قدر کھاتہ
نام(.Dr) جمع(.Cr)
| رقم (روپے) | تفصیلات | رقم (روپے) | تفصیلات |
| 5,000 5,000 |
عمارت | 2,000 480 2,520 5,000 |
مشینری ڈوبے قرضوں کے لیے محفوظ منافع کا ٹرانسفر: Aکا سرمایہ 1,680 Bکا سرمایہ 840 |
ساجھے داروں کے سرمایہ کھاتے
نام(.Dr) جمع(.Cr)
| C(روپیے) | B(روپیے) | A(روپیے) | تفصیلات | تاریخ | C(روپیے) | B(روپیے) | A(روپیے) | تفصیلات | تاریخ |
30,000
|
32,000 30,000 4,000 2000 840 38,840 |
50,000
8,000
4,000
1,680
63,680
|
بیلنس c/d نقد ساکھ جنرل ریزرو ازسرنو اندازۂ قدر (منافع کا ٹرانسفر) |
30,000
30,000
|
8,840 30,000 38,840 |
3,680 60,000 63,680 |
چالو کھاتے بیلنس c/d |
ساجھے داروں کے چالو کھاتے
نام(.Dr) جمع(.Cr)
| C(روپیے) | B(روپیے) | A(روپیے) | تفصیلات | تاریخ | C(روپیے) | B(روپیے) | A(روپیے) | تفصیلات | تاریخ |
30,000 |
32,000 4,000 2000 1,680 38,840 |
50,000 8,000 4,000 63,680 |
بیلنس b/d نقد ساکھ جنرل ریزرو ازسرنو اندازۂ قدر (منافع کا ٹرانسفر) |
30,000 30,000 |
8,840 30,000 38,840 |
3,680 60,000 |
چالو کھاتے |
ساجھے داروں کے چالو کھاتے
نام(.Dr) جمع(.Cr)
| C(روپیے) | B(روپیے) | A(روپیے) | تفصیلات | تاریخ | C(روپیے) | B(روپیے) | A(روپیے) | تفصیلات | تاریخ |
| 8,840 | 3,680 | سرمایہ کھاتے | 8,840 | 3,680 | بیلنسc/d |
B,Aاور Cکی 31مارچ2017کو بیلنس شیٹ
| رقم (روپیے) | اثاثہ جات | رقم (روپیے) | ذمہ داریاں |
| 44,000 10,000 7,520 10,000 5,000 23,000 45,000 1,44,520 |
نقد در دست نقددر بینک متفرق قرضدار 8,000 نفی: مشکوک قرضوں کے لیے محفوظ رقم 480 اسٹاک فرنیچر مشینری عمارتیں |
8,000
4,000
12,520
1,20,000
1,44,520
|
قرض خواہ واجب الادا بل ساجھے داروں کے چالو کھاتے A 3,680 B 8,840 سرمایے A
60,000
B
30,000
C
30,000
|
نوٹس
1۔ تقسیم منافع کا نیاتناسب
چوں کہ اس امر کا کوئی ذکر نہیں ہے کہ Cاپنا حصہAاورBسے کیسے وصول کرے گااس لیے یہ فرض کرلیا جاتا ہے کہ AاورBآپس میں پرانے تناسب یعنی2:1سے منافع میں حصہ دار ہوں گے۔
Cکا حصہ ٔ منافع = (1/4)
باقی ماندہ حصہ = (1/4)-1=(3/4)
Aکانیا حصہ = (3/4) کا (2/3)=(6/12)=(1/2)
Bکا نیاحصہ = (3/4)کا(1/3)=(3/12)=(1/4)
اس طرح B،AاورCکے درمیان کی تقسیم کا تناسب2:1:1ہے۔
2۔ AاورBکے نئے سرمایے۔
Cکا سرمایہ 30,000روپیے اور اس کا منافع کا حصہ1/4ہے۔Cکے سرمایے کی بنیاد پر فرم کا کل سرمایے1,20,000روپیے (30,000x4/1) بنے گا۔لہٰذا AاورBکے سرمایے حسب ذیل ہوں گے:
Aکا سرمایہ = 1,20,000کا(1/4)60,000=روپیے
Bکاسرمایہ = 1,20,000کا(1/4)30,000=روپیے
مثال:29
WاورRساجھے دار ہیں اور نفع ونقصان میں3:2کے تناسب سے حصہ دار ہیں۔1جنوری2017کو ان کی بیلنس شیٹ حسب ذیل تھی۔
1جنوری2007کو WاورRکی بیلنس شیٹ
| رقم (روپیے) | اثاثہ جات | رقم (روپیے) | ذمہ داریاں |
| 5,000 19,300 25,000 35,000 5,700 90,000 |
نقد در دست
متفرق قرضدار 20,000
نفی: مشکوک قرضوں کے لیے
محفوظ رقم 700
اسٹاک
پلانٹ اور مشینری
پیٹنٹ
|
20,000 70,000 90,000 |
متفرق قرض خواہ ساجھے داروںکاسرمایہ W: 40,000
R:
30,000
|
اسی تاریخ کو حسب ذیل شرائط پر Bکو ساجھے دار بنایا گیا:
1. اسے منافع کا4/15حصہ دیا جانا تھا۔
2. اسے سرمایے کے طور پر 30,000روپیے لانے تھے۔
3. اسے ساکھ کے لیے نقد رقم ادا کرنی تھی جو کہ گذشتہ چاربرسوں کے منافع کی 2½سال کی خریداری پر مبنی ہوتی۔
4. Bکے ذریعے لائی گئی پریمیم کی آدھی رقمWاورRنے نکال لی۔
5. اثاثہ جات کا ازسرنو اندازۂ قدر اس طرح آنکا گیا: قرض داروں پر کتابی قدر سے%5کم کا محفوظ(provision) کیا گیا، اسٹاک کی قدر20,000روپیے پر آنکی گئی،پلانٹ اور مشینری 40,000روپیے اور پیٹنٹ12,000روپیے پر آنکے گئے۔
6. ذمہ داریوں کی قدر 23,000روپیے آنکی گئی،مال کی خریداری کا ایک بل کتابوں میں درج ہونے سے ر ہ گیا تھا۔
7. گزشتہ چاربرسوں کا منافع اس طرح تھے:
2011 15,000 2013 14,000
2012 20,000 2014 17,000
مندرجہ بالا کو درج کرنے کے لیے روزنامچہ اندراجات درج کیجیے اور لیجر کھاتے تیار کیجیے اور Bکی شمولیت کے بعد بیلنس شیٹ تیار کیجیے۔
حل:
فرم کی ساکھ41,250روپیے کی ہے جس کا تخمینہ ذیل طرح سے لگایا گیا ہے۔
| منافع | |
| 15,000 15,000 14,000 17,000 66,000 |
سال2011 سال2012 سال2013 سال2014 |
اوسط منافع= (64.000/4)روپیے = 16500روپیے۔
2½سال کی خرید پر ساکھ=16,500روپیے×(5/2) = 41,250روپیے
Bکی ساکھ کا حصہ = 41,250روپیے×(4/15)=11,000روپیے۔
R،WاورBکی کتابیں
جرنل
| کریڈٹ رقم (روپیے) |
ڈیبٹ رقم (روپیے) |
لیجر فولیو | تفصیلات | تاریخ 2015 |
30,000 11,000 6,600 4,400 5,500 300 11,300 3,000 1,800 1,200 |
41,000 11,000 3,300 5,300 5,000 6,300 3,000 |
نقد کھاتہ .Dr B کے سرمایہ کے لیے ساکھ کھاتہ کے لیے (Bکے ذریعہ بطور سرمایہ اور بطور حصہ(4/5) ساکھ لائی گئی رقم)
ساکھ کھاتہ .Dr
W کا سرمایہ کھاتہ کے لیے
R کا سرمایہ کھاتے کے لیے
(Bکے ذریعہ لائی گئی ساکھ کوWاورRکے سرمایہ کھاتوں میں 3:2کے پرانے تناسب میں جمع کیا گیا)
Wکے سرمایہ کھاتہ .Dr
Rکے سرمایہ کھاتہ .Dr
نقد کھاتے کے لیے
(پرانے ساجھے داروں کے ذریعہ ساکھ کی ٓٓآدھی رقم نکالی گئی)
از سر نو اندازہ قدر کھاتہ .Dr
قرض کے پرووژن کھاتہ
اسٹوک کھاتہ کے لیے
(محفوظ برائے مشکوک قرضات کو1000روپیے تک (200000روپیے کا%5)بڑھایا گیا اور اسٹاک کی قدر میں کمی کی گئی)
پلانٹ اور مشینری کھاتہ .Dr
پیٹنٹ کھاتہ .Dr
از سر نو اندازہ ٔقدر کھاتے کے لیے
(پلانٹ اور مشینری نیز پیٹنٹ کی قدر میں اضافہ)
از سرنو اندازۂ قدر کھاتہ .Dr
متفرق دینداروں کے لیے
(ذمہ داریوں میں اضافہ)
ازسرنو اندازۂ قدر کھاتہ .Dr
Rکے سرمایہ کے لیے
Wکے سرمایہ کے لیے
(ایڈجسٹمنٹ شدہ منافع ساجھے داروں کے سرمایہ کھاتوں میں منتقل کیا گیا)
|
1جنوری |
نقد کھاتہ
نام(.Dr) جمع(.Cr)
| رقم(روپیے) | لیجر | تفصیلات | تاریخ
2015
|
رقم (روپیے) |
لیجر | تفصیلات | تاریخ 2015 |
3,300
2,200
40,500
46,000
|
Wکاکھاتہ Rکاکھاتہ بیلنس c/d |
5,000 30,000 11,000 46,000 |
بیلنس b/d Bکاسرمایہ ساکھ |
یکم جنوری |
Bکا سرمایہ کھاتہ
نام(.Dr) جمع(.Cr)
| رقم (روپیے) | لیجر | تفصیلات | تاریخ2015 | رقم (روپیے) | لیجر | تفصیلات | تاریخ2015 |
| 30,000 30,000 |
نقد | 1جنوری | 30,000
30,000
|
بیلنسc/d | یکم جنوری |
Wکا سرمایہ کھاتہ
نام(.Dr) جمع(.Cr)
| رقم (روپیے) | لیجر | تفصیلات | تاریخ 2015 | رقم (روپیے) | لیجر | تفصیلات | تاریخ 2015 |
| 40,000 6,600 1,800 48,400 |
بیلنسb/d ساکھ ازسرنو اندازۂ قدر |
3,300 45,100 48,400 |
نقد
بیلنسc/d
|
1جنوری |
Rکا سرمایہ کھاتہ
نام(.Dr) جمع(.Cr)
| رقم (روپیے) | لیجر | تفصیلات | تاریخ 2015 | رقم (روپیے) | لیجر | تفصیلات | تاریخ 2015 |
30,000
4,400
1,200
35,600
|
بیلنس b/d ساکھ ازسرنو اندازۂ قدر |
2,200 33,400 35,600 |
نقد
مقدد/دست
|
1جنوری |
ازسرنو اندازۂ قدر کھاتہ
نام(.Dr) جمع(.Cr)
| رقم (روپیے) |
تفصیلات | رقم (روپیے) | تفصیلات |
| 5,000 6,300 11,300 |
پلانٹ اور مشینری پیٹنٹس |
300 5,000 3,000 3,000 11,300 |
مشکوک قرضوں کے لیے محفوظ اسٹاک متفرق قرض خواہ منافع منتقل کیاگیا: 3/5W
1,800
2/5R
1,200
|
R،WاورBکی01جنوری2015کو بیلنس شیٹ
| رقم (روپیے) | تفصیلات | رقم (روپیے) | ذمہ داریاں |
| 40,500 19,000 20,000 40,000 12,000 1,31,500 |
نقد دردست متفرق قرض دار 20,000 نفی: مشکوک قرضوں کے لیے محفوظ 1,000 اسٹاک پلانٹ اور مشینری پیٹنٹ |
23,000 1,08,500 1,31,500 |
متفرق قرض خوا سرمایے Wکو 45,100 Rکو 33,400 Bکو 30,000 |
منافع کی تقسیم کا نیا تناسب ہوگا:
W=
(33/75)=(3/5)+(11/15)=(3/5)+(1-4/15)
R=
(22/75)=(2/5)+(11/15)=(2/5)+(1-4/15)
B=
(20/75)=(4/15)
نیاتناسب ہے:33:22:20
3.9موجودہ ساجھے داروں کے درمیان منافع کی تقسیم کے تناسب میں تبدیلی
(Change in Profit Sharing Ratio among the Existing Partners)
بعض اوقات،فرم کے شرکا کسی نئے ساجھے دار کی شمولیت یا کسی ساجھے دار کی سبک دوشی کے بغیر ہی اپنے موجودہ منافع کی تقسیم کے تناسب منافع میں تبدیلی کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔اس کے نتیجہ میں فرم کے مستقبل کے منافعوں میں چند ساجھے دار وں کو فائدہ ہوتا ہے جب کہ دوسرے ساجھے داروں کو منافع میں اپنے حصہ کانقصان ہوتا ہے۔مثلاB،AاورCایک فرم میں ساجھے دار تھے اور ان کی منافع میں حصہ داری کا تناسب8:5:3تھا۔ایسا محسوس کیا گیا کہ Aفرم کے کام کاج میں سرگرم طور پر حصہ نہیں لے سکے گا۔
لہٰذا 1اپریل2007سے انھوں نے فیصلہ کیاکہ مستقبل میں5:6:5کے تناسب میں منافع کو تقسیم کریں گے۔نتیجتاً Aکومنافع میں3/16
(8/16-5/16)
کا فائدہ ہوا۔جب کہ Bاور Cکو1/16
(6/16-5/16)
اور2/16
(5/16-3/16)
کا فائدہ ہوا۔ایسی صورت حال میں،سب سے پہلے( اگرہوتو)ساکھ کی قدرمیں فائدے اور نقصان کا ایڈجسٹمنٹ کیا جائے گا۔ ایسا ایثاری ساجھے داروں کے کھاتوں کریڈٹ کرکے اور فائدہ اٹھانے والوں کے کھاتے سے ڈیبٹ کرکے کیا جاتا ہے۔اس کا تذکرہ پہلے بھی نئے ساجھے دار کی شمولیت کے حوالے سے کیا جا چکا ہے۔
ساجھے دار کی شمولیت کی طرح منافع کی تقسیم کے تناسب میں کی جانے والی تبدیلی میں بھی ایڈجسٹمنٹ شامل ہو سکتی ہے۔ ان ایڈجسٹمنٹ کا تعلق اثاثہ جات اور ذمہ داریوں کے ازسرنو اندازۂ قدر ،جمع شدہ نفع اور نقصان کو ساجھے داروں کے منافع کی تقسیم کے پرانے تناسب میں ان سرمایہ کھاتوں پر منتقل کرنااور ساجھے داروں کے سرمایہ کھاتوں کو نئے تناسب تقسیم منافع سے تناسبی (Proprotionate)بنانے کے لیے ایڈجسٹمنٹ سے ہوتا ہے۔یہ تمام کام اسی طرح کیے جاتے ہیں جیسا کہ ساجھے دار کی شمولیت کی صورت میں ہوتے ہیں۔
مثال:30
دنیش،رمیش اور سریش ایک فرم میں ساجھے دار ہیں اور نفع اور نقصان میں ان کی حصے داری کا تناسب 3:3:2ہے۔انھوں نے 1اپریل دنیش،رمیش اور سریش ایک فرم میں ساجھے دار ہیں اور نفع اور نقصان میں ان کی حصے داری کا تناسب 3:3:2ہے۔انھوں نے 1اپریل 2015سے منافعوں کو مساوی تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا۔31مارچ2016کو ان کی بیلنس شیٹ حسب ذیل تھی:
| رقم (روپیے) | اثاثہ جات | رقم (روپیے) | ذمہ داریاں |
| 40,000 50,000 60,000 1,20,000 2,80,000 5,50,500 |
نقد در بینک قابل وصول بل متفرق قرض دار اسٹاک قائم اثاثے |
1,50,000 80,000 70,000 2,50,000 5,50,500 |
متفرق قرض خواہ جنرل ریزرو ساجھے دار کا قرض دنیش: 40,000 رمیش: 30,000 ساجھے دارکا سرمایہ دنیش: 1,00,000 رمیش: 80,000 سریش: 70,000 |
یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ:
1۔ قائم اثاثہ جات کی مالیت3,31,000 روپیے پر ہونی چاہیے۔
2۔ قرض داروں پر%5کا محفوظ برائے مشکوک قرضہ جات بنایا جائے گا۔
3۔ اس تاریخ پر فرم کی ساکھ کی قدر، گزشتہ پانچ برسوں کے اوسط خالص منافعوں کی 4½سال کی خریدپر آنکی جائے گی۔ گذشتہ پانچ برسوں کے بالترتیب منافع تھے14,000روپیے،17,000روپیے،20,000روپیے،22,000روپیے اور27,000روپیے۔
4۔ اسٹاک کی قدر کو 1,12,000روپیے تک کم کیا جانا ہے۔
5۔ ساکھ کتابوں میں نہیں دکھائی جانی تھی۔ضروری روزنامچہ اندراجات درج کیجیے اورفرم کی ترمیم شدہ بیلنس شیٹ تیار کیجیے۔
حل:
دنیش ،رمیش اورسریش کی کتابیں روزنامچہ
| کریڈٹ (روپیے) | ڈیبٹ (روپیے) | لیجر فولیو | تفصیلات | تاریخ |
51,000 8,000 3,000 15,000 15,000 10,000 30,000 30,000 20,000 3,750 3,750 |
51,000 11,000 40,000 80,000 7,500 |
قائم اثاثہ کھاتہ .Dr ازسر نو اندازہ قدر کھاتہ (قائم اثاثوں کی قدر میں اضافہ) ازسر نو اندازہ قدر کھاتہ .Dr اسٹوک کے لیے قرض کے لیے پرووژن کے لیے (اسٹاک کی قدر میں کمی اور محفوظ برائے مشکوک قرضہ جات کا قیام) ازسرنو اندازہ قدر کھاتہ .Dr دنیش کے سرمایہ کے لیے رمیش کے سرمایہ کے لیے سریش کے سرمایہ کے لیے (از سرنواندازۂ قدر پر ہونے والے منافع کو ساجھے داروں کے سرمایہ کھاتوں میںمنافع کی تقسیم کے پرانے تناسب میں منتقل کیا گیا) عمومی رزرو کھاتہ .Dr دنیش کے سرمایہ کے لیے رمیش کے سرمایہ کے لیے سریش کے سرمایہ کے لیے (عمومی ریزرو کو شرکا کے سرمایہ کھاتوں میں پرانے تناسب میں منتقل کیا گیا ) سریش کا سرمایہ .Dr دنیش کے سرمایہ کے لیے رمیش کے سرمایہ کے لیے ساجھے دار کے سرمایہ کھاتوں میں ان کے ا یثار یا فائدے کے تناسب میں ایڈجسٹ کیا گیا |
1اپریل 2016 |
عملی اشارے (ورکنگ نوٹس)
1۔ ساجھے داروں کا ایثار یا فائد
| سریش | رمیش | دنیش | پرانا حصہ |
| 2/8 1/3 2/24 فائدہ |
3/8 1/3 1/24 ایثار |
3/8 1/3 1/24 ایثار |
نیاحصہ فرق |
2۔ ساکھ
کل منافع :14,000 روپیے +17,000 روپیے +20,000 روپیے +22,000 روپیے +27,000 روپیے= 1,00,000 روپیے
اوسط منافع = (1,00,000/5) =20,000روپیے
ساکھ = (1/2)20,000x4=90,000 روپیے
سریش سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ 7,500روپیے لائے گا
کیونکہ اسے منافع میں(2/24)حصہ کا فائدہ ہوتا ہے۔
دنیش کو 3,750روپیے وصول ہونے کی توقع ہے۔
کیونکہ وہ منافع میں(1/24)حصہ کا ایثار کرتا ہے۔
رمیش کو 3,750 روپیے وصول ہونے کی توقع ہے۔
کیونکہ وہ منافع میں(1/24)حصہ کا ایثار کرتا ہے۔
3۔ سرمایہ کھاتے
| تاریخ | تفصیلات | دنیش (روپیے) |
رمیش (روپیے) |
سریش (روپیے) |
تاریخ |
تفصیلات | لیجر | دنیش (روپیے) |
رمیش (روپیے) |
سریش (روپیے) |
|
| دنیش کا کھاتہ رمیش کا کھاتہ بیلنسb/d |
1,48,750 1,48,750 |
1,28,750 1,28,750 |
3,750 3,750 92,500 1,00,000 |
بیلنسb/d اندازۂ قدر پر منافع جنرل ریزرو سریش کا کھاتہ |
1,00,000 15,000 30,000 3,750 1,48,750 |
80,000 15,000 30,000 3,750 1,28,750 |
70,000 10,000 20,000 1,00,000 |
1اپریل2015کو بیلنس شیٹ
| رقم(روپیے) | اثاثہ جات | رقم(روپیے) | ذمہ داریاں |
40,000
50,000
57,000
1,12,000
3,31,000
5,90,000
|
کیش بینک میں قابل وصول بل متفرق قرض دار60,000 نفی:مشکوک قرضوں کے لیے محفوظ 3,000 اسٹاک قائم اثاثے |
1,50,000 70,000 3,70,000 5,90,000 |
متفرق قرض خواہ ساجھے دار کا قرض دنیش : 40,000 رمیش: 30,000 سرمایے دنیش 1,48,750 رمیش:1,28,750 سریش: 92,500 |
اس باب میں متعارف کرائی گئی اصطلاحات
1۔ ساجھے داری فرم کی تشکیل نو Reconstitution of Partnership Firm
2۔ اثاثہ کی ازسرنو اندازۂ قدر Revaluation of Assets
3۔ ذمہ داریوں کا ازسرنو تجزیہ Reassessment of liabilities
4۔ غیر تقسیم شدہ اور اکٹھا کیا ہوا نفع اور نقصان Undistributed and accumulated profits and losses
5۔ اکٹھا کیا ہوا نقصان Accumulated Losses
6۔ ساکھ Goodwill
7۔ نفع تقسیم تناسب Profit Sharing Ratio
8۔ ریزرو (محفوظ)Reserves
9۔ ازسرنو اندازہ قدر کھاتہ Revaluation Account
10۔ ایثاری تناسب Sacrificing Ratio
11۔ نفع تقسیم تناسب میں تبدیلی Change in Profit Sharing Ratio
خلاصہ(Summry)
1۔ ساجھے دار کی شمولیت کے وقت ایڈجسٹمنٹ طلب امور:مختلف امور جن کا ایڈجسٹمنٹ نئے ساجھے دار کی شمولیت کے وقت فرم کی کتابوں میں لازمی ہوجاتا ہے،ان میں ساکھ،اثاثے اور ذمہ داریوں کا ازسرنو قدر،محفوظات اوردیگر جمع شدہ منافع اور نقصانات پرانے ساجھے داروں کے سرمایے وغیرہ سب شامل ہیں۔
2۔ تقسیم منافع کے نئے تناسب کا تعین اور ایثاری تناسب کا حساب(Determining the new Profit sharing ratio and Calculating sacrifycing ratio) :۔نیا ساجھے دار پرانے ساجھے دار وں سے منافع میں حصہ وصول کرتا ہے جس سے پرانے ساجھے داروں کے حصے نفع میں کمی واقع ہوتی ہے لہٰذ اتقسیم منافع کے نئے تناسب کے تعین میں نئی فرم کے منافع میں پرانے ساجھے داروں کا نیا حصہ طے کرنا بھی شامل ہوتا ہے ۔منافع میں نئے ساجھے دار کا حصہ اور وہ تناسب جو وہ پرانے ساجھے داروں سے وصول کرے گا سامنے رکھتے ہوئے ،ہر پرانے ساجھے دار کا نیا حصہ اس کے پرانے حصۂ منافع میں سے ایثاری حصہ کو گھٹا کر نکالا جائے گا ۔وہ تناسب جس پر پرانے ساجھے دار نئے ساجھے دار کے لیے اپنے حصے کا ایثار کرنے پر راضی ہوجائیں اسے ایثاری تناسب کہا جاتا ہے ۔عموماً یہ وہی تناسب ہوتا ہے جو کہ تقسیم منافع کا پرانا تناسب تھا ۔تاہم معاہدے کی بنیاد پر یہ مختلف بھی ہو سکتا ہے ۔
3۔ ساکھ کا تصفیہ(Treatment of Goodwill) : ساکھ ایک غیر مرئی اثاثہ ہے اور اس کا تعلق ایک نقطہ ٔوقت پر اس کے مالک سے ہوتا ہے ۔نئے ساجھے دار کی شمولیت پر فرم کی ساکھ کا تعلق پرانے ساجھے دار وں سے ہوتا ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ نئے ساجھے دار کی شمولیت پر ساکھ کے لیے پرانے ساجھے داروں کے سرمایہ کھاتوں میں کچھ ایڈجسٹمنٹ کرنے چاہئیں تاکہ نیا ساجھے دار اس منافع میں حصہ حاصل نہ کر سکے جو کہ فرم اس ساکھ کے باعث کماتی ہے جو نئے ساجھے دار کی شمولیت سے پہلے اس کی تھی یا پھر یہ ہو کہ نیا ساجھے دار اس ساکھ کے لیے کچھ ادائیگی کردے ۔وہ رقم جو کہ نیا ساجھے دار ساکھ کے لیے ادا کرتا ہے اسے ساکھ کہا جاتا ہے ۔کھاتہ داری کے نقطۂ نظر سے نئے ساجھے دار کی شمولیت کے وقت ساکھ کے تصفیہ کے لیے فرم کو مختلف صورتوں کا سامناہوتا ہے ،نئے ساجھے دار کے ذریعہ لائی گئی پریمیم کی رقم کو پرانے ساجھے داروں کے ذریعہ ایثاری تناسب میں تقسیم کیا جاتا ہے ۔اگر نیا ساجھے دار ساکھ کے لیے اپنے حصہ کی پریمیم کی رقم نقد لانے سے معذور رہتا ہے تب نئے ساجھے دار کے سرمایہ کھاتے کو اس کے حصہ کی پریمیم(ساکھ) سے ڈیبٹ کیا جاتا ہے اور پرانے ساجھے داروں کے سرمایہ کھاتوں کو ان کے ایثاری تناسب میں جمع (کریڈٹ) کیا جاتا ہے ۔
4۔ اثاثوں اور ذمہ داریوں کا از سر نواندازۂ قدر :۔اگر نئے ساجھے دار کی شمولیت کے وقت اثاثوں اور ذمہ داریوں کاازسرنو اندازۂ قدر ہو یا کچھ اثاثے یا ذمہ داریاں غیر مندرج پائے جائیں تو از سر نواندازۂ قدر کھاتے کے ذریعہ ضروری ایڈجسٹمنٹ کیے جاتے ہیں اور اس عمل سے سامنے آنے والے نفع یا نقصان کو پرانے ساجھے داروں میں ان کے تقسیم شدہ منافع کے پرانے تناسب کے مطابق تقسیم کر دیا جاتا ہے ۔
5۔ محفوظات اور جمع شدہ نفع/نقصان کا ایڈجسٹمنٹ :۔اگر کسی ساجھے دار کی شمولیت کے وقت فرم کی کتابوں میں ریزرو(Reserve) رقم اور ’جمع شدہ نفع یا نقصان‘ موجو د ہو تو اس کو پرانے ساجھے داروں کے سرمایہ کھاتوں ،چالو کھاتوں میں ان کے تقسیم منافع کے پرانے تناسب کے مطابق منتقل کر دینا چاہیے۔
6۔ ساجھے داروں کے سرمایوں کا تعین ،ایڈجسٹمنٹ(Determining/Adjusting Partners' Capitals) :بشرط رضا مندی ساجھے داروں کے سرمایہ کا ایڈجسٹمنٹ کیا جا سکتا ہے تاکہ وہ ان کے تقسیم منافع کے نئے تناسب کے برابر ہوجائے ۔اس صورت میں نئے ساجھے دار کے سرمایے کو عام طور پر پرانے ساجھے دار وں کے نئے سرمایے کے تعین کی بنیاد بنایا جاتا ہے اور نقدی یا ساجھے داروں کے چالو کھاتوں کے ذریعہ ضروری تسویے کر دیے جاتے ہیں ۔نئے ساجھے دار کی شمولیت کے بعد ساجھے داروں کے سرمایے کے تعین کے لیے دوسری بنیادیں بھی موجود ہو سکتی ہیں ۔جیسے نئے ساجھے دار کی شمولیت کے فوراً بعد فرم میں موجود کل سرمائے کی تقسیم۔
7۔ منافع کی تقسیم کے تناسب میں تبدیلی : بعض اوقات ،فرم کے ساجھے دارمنافع کی تقسیم کے تناسب میں تبدیلی کرنے پر رضامند ہوتے ہیں۔نتیجتاً مستقبل کے منافع میں چند ساجھے داروں کو فائدہ ہوتا ہے جب کہ دوسروں کو نقصان ہوتا ہے ۔ایسی صور ت حال میں وہ ساجھے دارجسے منافع میں تبدیلی سے فائدہ ہوتا ہے اسے نقصان میں جانے والے ساجھے داروں کی اتنی ہی رقم سے بھرپائی کرنی پڑتی ہے جتنا کہ انھوں نے دوسرے ساجھے دار کا منافع کا حصہ لیا ہے ۔معاوضے کی ادائیگی سے قطع نظر ، تقسیم منافع کے تناسب کی صورت میں ساجھے دار کے سرمایہ کھاتوں میں ضروری ایڈجسٹمنٹ کرنا پڑتا ہے جن کا تعلق غیر منقسم منافع اور ریزرواثاثوں اور ذمہ داریوں کے از سر نواندازۂ قدر سے ہوتا ہے ۔
مشق کے لیے سوالات
مختصر جوابی سوالات
1۔ مختلف امور کی نشاندہی کیجیے جن کا ایڈجسٹمنٹ نئے ساجھے دار کی شمولیت کے وقت کیا جاتا ہے ۔
2۔ جب نئے ساجھے دار کو شامل کیا جاتا ہے تب پرانے ساجھے داروں کو تقسیم منافع کے نئے تناسب کو معلوم کرنے کی کیوں ضرورت ہوتی ہے ؟
3 ۔ ایثاری تناسب کیا ہے ؟ اس کا حساب کیوں لگایا جاتا ہے ؟
4۔ ایثاری تناسب کا استعمال کن موقعوں پر کیا جاتا ہے ؟
5۔ اگر کتابوں میں پہلے سے کچھ ساکھ موجود ہو اور نیا ساجھے دار اپنے حصے کی ساکھ کی رقم نقد لے آئے توایسی صورت میں آپ ساکھ کی موجودہ رقم کا تصفیہ (Treatment)کیسے کریں گے ؟
6۔ ساجھے دار کی شمولیت کے وقت اثاثہ جات اور ذمہ داریوں کا از سر نواندازۂ قدر کی ضرورت کیوں ہوتی ہے ؟
طویل جوابی سوالات
1۔ کیا آپ کی رائے میں ساجھے دار کی شمولیت کے وقت اثاثہ جات اور ذمہ داریوں کا از سر نواندازۂ قدرکیاجانا چاہیے ؟ اگر ہاں ؟ تو کیوں ؟یہ بھی واضح کیجیے کہ کھاتہ کی کتاب میں اس کا تصفیہ کس طرح ہوگا ؟
2۔ ساکھ کیا ہے ؟ ساکھ کو متاثر کرنے والے عوامل تحریر کیجیے ۔
3۔ ساکھ کے اندازۂ قدر کے مختلف طریقوں کی وضاحت کیجیے ۔
4۔ اگر اس بات پر رضامندی ہو کہ تمام ساجھے داروں کے سرمایہ کھاتے تقسیم منافع کے نئے تناسب کے برابر ہوں گے توآپ ہر ساجھے دار کا نیا سرمایہ کیسے معلوم کریں گے ؟ مثالیں دیجیے اور بتائیے کہ ضروری ایڈجسٹمنٹ کیسے کیے جائیں گے ۔
5۔ وضاحت کیجیے کہ آپ ساکھ کا تصفیہ کیسے کریں گے اگر نیا ساجھے دار اپنے حصہ کی ساکھ کی رقم نقد لانے سے قاصر (معذور) ہو؟
6۔ نئے ساجھے دار کی شمولیت پر ساکھ کے تصفیے کے مختلف طریقوں کی وضاحت کیجیے ۔
7۔ نئے ساجھے دار کی شمولیت پر جمع شدہ منافعوں اور نقصانات کا تصفیہ آپ کیسے کریں گے ؟
8۔ از سرنو اندازۂ قدر کے واجب ہونے کے بعد فرم کی کتابوں میں اثاثہ جات اور ذمہ داریوںکی قدر کن اعداد پر ظاہر ہوتی ہے ۔ ایک فرضی بیلنس شیٹ کی مدد سے دکھائیے ۔
عددی سوالات (Numerical Questions)
.1 AاورBایک فرم میں ساجھے دار ہیں اور3:2کے تناسب میں نفع اور نقصان کو تقسیم کرتے ہیں ،انھوں نے Cکو منافع میں 1/6 حصہ کے لیے کاروبار میں شامل کیا ۔تقسیم منافع کا نیا تناسب معلوم کیجیے ؟
(جواب3:2:1)
2۔ A، B اورC 3:2:1کے تناسب سے نفع اور نقصان میں شریک ہیں۔ انھوں نے Dکو منافع کے%10کے لیے ساجھے دار بنایا۔ساجھے داری کی تقسیم منافع کا نیا تناسب شمار کیجیے ۔
(جواب: 9:6:3:2)
XاورY
5:3
کے تناسب سے نفع نقصان میں حصہ دار ہیں۔ انھوں نے Zکو 1/10حصہ کے لیے ساجھا کاروبار میں شامل کیا جو کہ اپنا حصہ مکمل طور پر XاورYسے وصول کرتا ہے ۔منافع کی تقسیم کا نیا تناسب شمار کیجیے ۔
(جواب : 23:13:4)
4۔ A،BاورC 2:2:1کے تناسب سے نفع نقصان میں حصہ دار ہیں۔ Dکو 1/8حصہ کے لیے کاروبار میں شامل کیا گیا جو کہ اپنا حصہ مکمل طور پر Aسے وصول کرتا ہے ۔ساجھے داری کی تقسیم منافع کے نئے تناسب شمار کیجیے ۔
(جواب: 11:16:8:5)
5۔ PاورQ
2:1کے تناسب سے نفع نقصان میں حصہ دار ہیں۔ انھوں نے Rکو 1/5حصہ دے کر ساجھے داری میں شامل کیا جو کہ P اورQسے یہ حصہ 1:2کے تناسب میں وصول کرتا ہے ۔ساجھے داری کی تقسیم منافع کا نیا تناسب شمار کیجیے ۔
(جواب: 3:1:1)
6۔ A،BاورC
3:3:2کے تناسب سے نفع نقصان میں حصہ دار ہیں۔ انھوں نے 1/5حصہ کے لیے Dکو نیا ساجھے دار بنایا جسے وہ A،BاورCسے یہ حصہ باالترتیب 2:2:1کے تناسب سے وصول کرتا ہے۔ ساجھے داری کی تقسیم منافع کا نیا تناسب شمار کیجیے ۔
(جواب : 61:36:43:35)
7۔ B,AاورC
3:2 کے تناسب سے نفع نقصان میں حصہ دار ہیں۔ انھوں نے Cکو 3/7حصہ کے لیے ساجھے دار بنایا جو کہ وہ 2/7 Aسے اور1/7 Bسے حاصل کرتا ہے ۔ساجھے داری کی تقسیم منافع کا نیا تناسب شمار کیجیے ۔
(جواب : 11:9:15)
8۔ A،BاورCایک فرم میں 3:3:2کے تناسب سے منافع میں ساجھے دار ہیں۔ انھوں نے Dکو منافع کے 4/7حصہ کے لیے نیا ساجھے دار بنایا ۔Dاپنے حصہ کا 2/7 Aسے اور1/7 Bسے اورC 1/7سے وصول کرتا ہے تقسیم منافع کا نیا تناسب شمار کیجیے ۔
(جواب : 5:13:6:32)
9۔ رادھا اور رکمنی 3:2کے تناسب سے ایک فرم کے منافع میں حصہ دار ہیں۔ انھوں نے گوپی کو نیا ساجھے دار بنایا ۔رادھا گوپی کے حق میں اپنے حصہ کے 1/3سے دستبردار ہوئی اور رکمنی گوپی کے حق میں اپنے حصہ کے 1/4سے دستبردار ہوئی ۔تقسیم منافع کا نیا تناسب شمار کیجیے ۔
(جواب : 4:3:3)
10۔ سنگھ ،گپتا اور خان 3:2:3کے تناسب میں ایک فرم کے منافع میں حصہ دار ہیں ۔انھوں نے جین کو نیا ساجھے دار بنایا ۔سنگھ جین کے حق میں اپنے حصہ کے 1/3سے دستبردار ہوا ۔گپتا جین کے حق میں اپنے حصے کے 1/4سے دستبردار ہوا اور خان جین کے حق میں اپنے حصہ کے 1/5سے دستبردار ہوا ۔تقسیم منافع کا نیا تناسب شمار کیجیے ۔
(جواب : 20:15:24:21)
11۔ سندیپ اور نودیپ 5:3کے تناسب سے ایک فرم کے منافع میں ساجھے دار ہیں۔ انھوں نے Cکو فرم میں شامل کیا اور تقسیم منافع کے نئے تناسب کا 4:2:1ہونے پر اتفاق ہوا ۔ایثاری تناسب شمار کیجیے ۔
ـ(جواب : 3:5)
12۔ راؤ اور سوامی ایک فرم میں ساجھے دار ہیں اور نفع نقصان کو 3:2کے تناسب میں بانٹتے ہیں۔ انھوں نے روی کو منافع میں 1/8 حصہ کے لیے نیا ساجھے دار بنایا ۔راؤ اور سوامی کے درمیان تقسیم منافع کا نیا تناسب 4:3ہے ۔تقسیم منافع کا نیا تناسب اور ایثاری تناسب شمار کیجیے ۔(جواب : منافع کا نیا تناسب 4:3:1اور ایثاری تناسب 4:1)
13۔ گزشتہ پانچ برسوں کے اوسط منافع کی چار سال کی خریداری کی بنیاد پر ساکھ کی قدر کا حساب لگائیے ؟گزشتہ پانچ برسوں کے منافع حسب ذیل ہیں :
روپے
2013 40,000
2014 50,000
2015 60,000
2016 50,000
2017 60,000
(جواب: 2,08,000روپے)
14۔ ایک کاروبار میں لگاہوا سرمایہ 2,00,000روپے ہے ۔اس سرمائے پر ریٹرن کی نارمل شرح%15ہے ۔سال 2015 کے دوران فرم نے4,8000روپے کا منافع کمایا ۔زائد منافع کی 3برسوں کی خریداری کی بنیاد پر فرم کی ساکھ معلوم کیجیے ۔
(جواب : 0 5,400روپے)
15۔ 31.12.2019کو رام اور بھارت کی کتابیں 5,00,000روپے کافرم کا سرمایہ دکھاتی ہیں اور گزشتہ 5برسوں کا منافع ہے :
40,000-2018روپے،2017-50,000روپے، 2016-55,000روپے، 2015-70,000روپےاور2014-85,000۔یہ فرض کرتے ہوئے کہ ریٹرن کی نارمل شرح% 10ہے گزشتہ پانچ برسوں کے اوسط زائد منافع کی 3سالوں کی خریداری پر ساکھ کی قدر کا شمار کیجیے ۔
(جواب : 30,000روپے)
16۔ راجن اوررجنی ایک فرم میں ساجھے دار ہیں۔ ان کے سرمائے بالترتیب 3,00,000 روپے اور 2,00,000 روپے تھے۔ سال 2015کے دوران فرم نے Capitalizationمیتھڈ سے 1,50,000روپے کا منافع کمایا ۔یہ فرض کرتے ہوئے کہ ریٹرن کی نارمل شرح%20ہے فرم کی ساکھ کی قدر کا حساب لگائیے ۔
(جواب : 2,50,000روپے)
17۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران ایک فرم نے 1,00,000روپے کا اوسط منافع کمایا ۔کیپٹلائزیشن طریقے (Capitalization Method)سے ساکھ کی قدر معلوم کیجیے۔ کاروبار کے اثاثہ جات 10,00,000روپے کے ہیں اور اس کی بیرونی ذمہ داریاں 1,80,000روپے کی دی گئی ہیں۔ ریٹرن کی نارمل شرح %10ہے ؟
(جواب : 1,80,000روپے )
18۔ ورما اور شرما ایک فرم میں ساجھے دار ہیں اور نفع نقصان کو 5:3کے تناسب میں تقسیم کرتے ہیں۔ انھوں نے گھوش کو منافع کے 1/5حصہ کے لیے نئے ساجھے دار کے طور پر شامل کیا ۔گھوش کو بطور سرمایہ 20,000روپے اور اپنی ساکھ کے حصہ کے طور پر 4,000روپے پر یمیم کے لانے ہیں ۔ضروری روزنامچہ اندراجات درج کیجیے ۔
(a ) جب کہ ساکھ کی رقم کو کاروبار میں روکے رکھا جائے ۔
(b) جب کہ ساکھ کی رقم کو مکمل طور پر کاروبار سے نکال لیا جائے ۔
(c) جب کہ ساکھ کی رقم کا%50کاروبار سے نکال لیا جائے ۔
(d) جب کہ ساکھ ذاتی طور پر ادا کی جائے ۔
19۔ AاورBایک فرم میں ساجھے دار ہیں اور نفع نقصان کو 3:2کے تناسب میں تقسیم کرتے ہیں۔ انھوں نے منافع کے 1/4 حصہ کے ساتھ cکو ساجھے داری میں شامل کیا ۔cسرمائے کے لیے 30,000روپے اورساکھ کی ضروری رقم بطور پریمیم لائے گا ۔فرم کی ساکھ کی قدر 20,000روپے پر آنکی گئی ہے ۔تقسیم منافع کا نیا تناسب 2:1:1ہے۔ AاورBاپنے حصہ کی ساکھ کاروبار سے نکال لیتے ہیں ۔ضروری روزنامچہ اندراجات درج کیجیے ۔
20۔ آرتی اور بھارتی ایک فرم میں ساجھے دارہیں اور منافع کو 3:2کے تناسب میں تقسیم کرتی ہیں ۔انھوں نے سارتھی کو فرم کے منافعوں میں 1/4حصہ کے ساتھ ساجھے داری میں شامل کیا ۔سارتھی50,000روپے سرمایہ کے طور پر اور10,000 روپے اپنی ساکھ کے1/4حصے کے طورپر لائی۔آرتی اور بھارتی کی کتابوں میں5,000روپے کی ساکھ پہلے سے موجود ہے۔ آرتی،بھارتی اور سارتھی کے درمیان منافع کی تقسیم کا نیا تناسب 2:1:1ہوگا۔نئی فرم کی کتابوں میں ضروری روزنامچہ اندراجات درج کیجیے۔
[اشارہ ! موجودہ ساکھ پرانے منافع ساجھے داری تناسب میں قلمزد کر دی گئی ہے۔]
21۔ XاورYایک فرم میں ساجھے دار ہیں اور4:3کے تناسب میں نفع نقصان کو تقسیم کرتے ہیں۔ انھوں نے Zکو1/8حصہ کے لیے کاروبار میں شریک کیا ۔Zاپنے سرمایے کے لیے 20,000روپے اور اپنی ساکھ کے 1/8حصہ کے لیے 7,000روپے لایا۔ساکھ پہلے ہی 40,000روپے کی کتابوں میں دکھائی گئی ہے۔
Y, XاورZکی کتابوں میں ضروری روزنامچہ اندراجات درج کیجیے ۔
22۔ آدتیہ اور بالن 3:2کے تناسب سے نفع نقصان میں حصہ دار ہیں ۔انھوں نے کرسٹوفر کو منافع میں 1/4حصہ کے لیے ساجھے دار بنایا ۔تقسیم منافع کا نیا تناسب 2:1:1ہے۔ کرسٹوفر اپنے سرمایے کے لیے 50,000روپے لایا ۔اس کے حصہ کی ساکھ 15,000روپے کی تھی۔ کرسٹوفر اپنے حصے کی ساکھ میں صرف 10,000روپےہی لا سکا ،فرم کی کتابوں میں ضروری روزنامچہ اندراجات درج کیجیے ۔
23۔ امر اور ثمر 3:1کے تناسب سے فرم کے نفع نقصان میں حصے دار ہیں ۔انھوں نے کنور کو منافع کے 1/4حصہ کے لیے ساجھے دار بنایا ۔کنور اپنے حصہ کی ساکھ پریمیم کا حصہ نقد نہیں لا سکا ۔کنور کی شمولیت کے وقت فرم کی ساکھ کی قدر 80,000روپے تھی۔ کنور کی شمولیت پر ساکھ کے لیے ضروری روزنامچہ اندراجات کیجیے ۔
24۔ موہن لال اور سوہن لال 3:2کے تناسب سے فرم کے نفع نقصان میں حصے دار ہیں۔ انھوں نے 1.1.2013 کو 1/4حصے کے لیے رام لال کوساجھے دار بنایا ۔اس بات پر رضامندی ہوئی کہ فرم کی ساکھ کی قدر گزشتہ چار برسوں کے اوسط منافع کی 3سال کی خریداری پر آنکی جائے گی. گزشتہ چار برسوں کا منافع تھا : 2013-50,000روپے، 2014-60,000روپے ، 2015-90,000روپے ،2016-70,000روپے ۔رام لال اپنے حصہ کی ساکھ (پریمیم) کی رقم نقد نہیں لایا ۔رام لال کی شمولیت پر فرم کی کتابوں میں ضروری روزنامچہ اندراجات درج کیجیے ۔جب کہ :
(a ساکھ کتابوں میں پہلے سے ہی 2.02.500روپے پر دکھائی گئی ہو۔
(b ساکھ کتابوں میں 2,500روپے پر دکھائی گئی ہو ۔
(c ساکھ کتابوں میں 2.05.000روپے پر دکھائی گئی ہو ۔
25۔ راجیش اور مکیش فرم میں مساوی ساجھے دار ہیں ۔انھوں نے ہری کو ساجھے داری کاروبار میں شامل کیا ۔راجیش ،مکیش اور ہری کے درمیان تقسیم منافع کانیا تناسب 4:3:2ہے۔ ہری کی شمولیت پر فرم کی ساکھ کی قدر 36,000روپے تھی ۔ہری اپنے حصہ کی ساکھ نقد لانے سے قاصر رہا ۔راجیش ،مکیش اور ہری نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی بیلنس شیٹ میں ساکھ کو نہیں دکھائیں گے ۔ہری کی شمولیت پر ساکھ کا تصفیہ کرنے کے لیے ضروری روزنامچہ اندراجات درج کیجیے ۔
26۔ امر اور اکبر ایک فرم میں برابر کے ساجھے دار ہیں ۔انھوں نے انتھونی کو نیا ساجھے دار بنایا اور نئے منافع کی تقسیم کا تناسب 4:3:2 ہے۔ انتھونی اپنے حصہ ساکھ کی رقم جو کہ 45,000روپے تھی نقد نہیں لا سکا ۔ساکھ کھاتہ کھولے بغیر ساکھ کا تصفیہ (Treatment)کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ساکھ کے تصفیہ کے لیے ضروری روزنامچہ اندراجات درج کیجیے ۔
27۔ AاورBکی بیلنس شیٹ ذیل میں دی گئی ہے جو کہ 31.12.2016کو ساجھے داری میں کا روبار چلارہے ہیں۔ AاورB 2:1کے تناسب سے نفع نقصان میں حصے دار ہیں ۔
31دسمبر2016کوAاورBکی بیلنس شیٹ
| رقم (روپے) | اثاثہ جات | رقم (روپے) |
|
ذمہ داریاں |
| 10,000 | نقد در دست | 10,000 | قابل ادابل | |
| 40,000 | نقد در بینک | 58,000 | قرض خواہ | |
| 60,000 | متفرق قرض دار | 2,000 | باقی اخراجات | |
| 40,000 | اسٹاک | |||
| 1,00,000 | پلانٹ | :سرمایے |
||
| 1,50,000 | عمارت | 1,80,000 | A | |
| 3,30,000 | 1,50,000 | B | ||
| 4,00,000 | 4,00,000 |
بیلنس شیٹ کی تاریخ کوحسب ذیل شرائط پرCکو نیا ساجھے دار بنایاگیا ۔
(i)
Cاپنے سرمایے کے طور پر 1,00,000روپے اور منافع میں 1/4حصہ کے لیے، ساکھ میں اپنے حصہ کے طور پر 60,000روپے لائے گا
(ii) پلانٹ کی مالیت میں 1,20,000روپے تک کا اضافہ کرنا ہے اورعمارتوں کی قدر میں%10کااضافہ کرنا ہے ۔
(iii) اسٹاک کی قدر 4,000روپے زیادہ آنکی گئی ۔
(vi) قرض داروں پر ڈوبے ہوئے اورمشکوک قرضوں کے لیے%5کی محفوظ پیدا کی جائے گی ۔
(v)
1,000روپے کے قرض خواہ (Creditors)غیر مندرج (unrecorded)تھے ۔
ضروری روزنامچہ اندراج کیجیے ،از سر نو اندازۂ قدر کھاتہ اور ساجھے داروں کے سرمایہ کھاتے اور Cکی شمولیت کے بعد بیلنس شیٹ تیار کیجیے ۔
(جواب: از سر نو اندازۂ قدر پر فائدہ 27,000روپے ،بیلنس شیٹ 5,88,000روپے)
28۔ لیلا اور میتا ایک فرم میں 5:3کے تناسب سے نفع نقصان میں حصہ دار ہیں ۔1اپریل 2019کو انھوں نے اوم کو نیا ساجھے دار بنایا ۔اوم کی شمولیت کی تاریخ پر لیلا اور میتا کی بیلنس شیٹ جنرل ریزرو کی مد میں 16,000روپے کابیلنس اور نفع اور نقصان کھاتہ (کریڈٹ) میں 24,000روپے کابیلنس دکھاتاہے ۔اوم کی شمولیت پر ان مدوں کے تصفیہ کے لیے ضروری روزنامچہ اندراجات درج کیجیے ۔لیلا ،میتا اور اوم کے درمیان تقسیم منافع کا نیا تناسب 5:3:2تھا ۔
29۔ امت اور وِنے ایک فرم میں 3:1کے تناسب سے نفع نقصان میں حصہ دار ہیں ۔1اپریل 2019کو انھوں نے راجن کو نیا ساجھے دار بنایا ۔راجن کی شمولیت پر امت اور وِنے کا نفع اور نقصان کھاتہ 40,000روپے ڈیبٹ بیلنس کا اظہار کرتا ہے ۔اس کے تصفیہ کے لیے ضروری روزنامچہ اندراج کیجیے ۔
30۔ AاورB
3/4اور1/4کے تناسب سے نفع نقصان تقسیم کرتے ہیں ۔31مارچ 2019کو ان کی بیلنس شیٹ حسب ذیل تھی ۔
31مارچ2019کو AاورBکی بیلنس شیٹ
| ذمہ داریاں |
رقم (روپے) |
اثاثہ جات |
رقم (روپے) |
| متفرق قرض خواہ |
41,500 |
نقد در بینک |
26,500 |
| ریزرو فنڈ |
4,000 |
قابل وصول بل |
3,000 |
| سرمایہ کھاتے: |
قرض دار |
16,000 |
|
| A | 30,000 | اسٹاک | 20,000 |
| B | 16,000 |
فکسچرس |
1,000 |
| 46,000 |
زمین اور عمارت |
25,000 |
|
| 91,500 |
91,500 |
||
1اپریل 2020کو حسب ذیل شرائط پرC کوساجھے داری میں شامل کیا گیا ۔
(a (aاپنے سرمائے کے طور پر 10,000روپے ادا کرے گا ۔
(b)
Cساکھ کے لیے 5,000روپے ادا کرے گا ۔اس میں سے آدھی رقم AاورB کے ذریعہ نکالی جائے گی ۔
(c) اسٹاک اور فکسچر کو%10ور%5سے کم کرنا ہے۔ قابل وصول بلوں (Bills receivable) اورمتفرق قرض داروں پر%5 محفوظ برائے مشکوک قرضات کی تخلیق کرنی ہے ۔
(d) اراضی وعمارات (land and buildings)کی قدرمیں% 20کااضافہ کیاجائے گا ۔
(e) چونکہ فرم کے خلاف نقصانات کا ایک مطالبہ ہے جس کے پیش نظر 1,000روپے کی ایک دین داری تخلیق کی جانی ہے ۔
(f) متفرق لین داروں (Sundry Debtors)میں شامل650روپے کی ایک مد کے دعوے کا امکان نہیں ہے ۔لہٰذا اسے خارج کیا جانا چاہیے ۔
کتابوں میں ضروری روزنامچہ اندراجات درج کیجیے یہ قیاس کرتے ہوئے کہ AاورBکے درمیان تقسیم منافع کے تناسب میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی ۔نئی بیلنس شیٹ بھی تیار کیجیے ۔
(جواب : از سر نو اندازۂ قدر پر فائدہ 1,600روپے ،بیلنس شیٹ کا میزان 1,05,950روپے )
31۔ AاورB 3:1کے تناسب سے نفع نقصان میں حصہ دار ہیں ۔1جنوری 2019کو انھوں نے فرم کے منافع میں 1/4حصہ کے لیے Cکو نیا ساجھے دار بنایا ۔Cفرم کے منافع میں 1/4حصہ کے لیے 20,000روپیے لایا ۔ساکھ ،اثاثوں اور ذمہ داریوں کے از سرنو اندازۂ قدر وغیرہ سے متعلق تمام ایڈجسٹمنٹ کرنے کے بعد AاورBکے سرمایے باالترتیب 50,000روپیے اور12,000روپیے ہیں ۔اس بات پر اتفاق ہوا کہ ساجھے داروں کے سرمایے تقسیم منافع کے نئے تناسب کے مطابق ہوں گے ۔Aاور Bکے نئے سرمایے معلوم کیجیے اور ضروری روزنامچہ اندراجات کیجیے یہ قیاس کرتے ہوئے کہ AاورBتقسیم منافع کے تناسب کے مطابق اپنے سرمایے بنانے کے لیے ضروری نقد کاروبار میں لائیں گے یا نکال کر لے جائیں گے (جو بھی صورت ہو) ۔
32۔ پنکی ،قمر اور روپا 3:2:1کے تناسب سے ایک فرم میں حصہ دار ہیں۔ فرم کے منافع میں Sکو 1/4حصہ کے لیے ساجھے دار بنایا گیا جو کہ وہ 1/8پنکی سے ،اور1/6قمر اور روپا دونوں سے حاصل کرتی ہے۔ سیما کی شمولیت کے بعد نئی فرم کا کل سرمایہ 2,40,000 روپیے ہوگا ۔سیما کو نئی فرم کے کل سرمایے کے1/4حصہ کے برابر نقد رقم لانی ہے ۔پرانے ساجھے داروں کے سرمایوں کا بھی ان کے تقسیم منافع کے تناسب کے مطابق ایڈجسٹمنٹ کیا جانا ہے ۔ساکھ، اثاثوں اورذمہ داریوں کے از سرنواندازۂ قدر سے متعلق تمام ایڈجسٹمنٹ کے بعد پنکی ،قمر اور روپا کے باالترتیب سرمایے 80,000روپیے ،30,000 روپیہ اور 20,000روپیے ہیں ۔تمام ساجھے داروں کے سرمایے معلوم کیجیے اور ساجھے داروں کے درمیان معاہدہ کے مطابق سرمایوں میں ایڈجسٹمنٹ کرنے کے لیے ضروری روزنامچہ اندراجات درج کیجیے ۔
33۔ ارن،ببلو اور چیتن بالترتیب
(6/14:5/14:3/14)
کے تناسب سے نفع نقصان میں حصہ دارہیں ۔ان کی بیلنس شیٹ حسب ذیل ہیں۔
| رقم (روپیے) | اثاثہ جات | رقم (روپیے ) | ذمہ داریاں |
| 24,000 3,500 14,000 12,600 900 55,000 |
زمین اور عمارت فرنیچر اسٹاک قرض دار نقد |
9,000 3,000 43,000 55,000 |
سرمایہ کھاتے ارون ببلو چیتن 19,000 قرض خواہ 16,000 قابل ادابل 8,000 |
انھوں نے مندرجہ ذیل شرائط پر دیپک کو منافع کے 1/8حصہ کے لیے ساجھا کاروبار میں شامل کیا :(a)دیپک 4,200 روپیے بطور ساکھ اور7,000روپیے بطور سرمایہ لائے گا ۔(b)فرنیچر پر12%فرسودگی لگا کر اس کی قدر کو کم کرنا ہے (c)اسٹاک پر10% فرسودگی لگا کر اس کی قدر میں کمی کی جاتی ہے (d) 5%)کا ریزرو برائے مشکوک قرضات تخلیق کرنا ہے (e) اراضی وعمارات کی قدر میں اضافہ ہوا ہے اسے بڑھا کر 31,000روپیے تک کرنا ہے : (f)تمام ایڈجسٹمنٹ کرنے کے بعد پرانے ساجھے داروں کے سرمایہ کھاتوں (جو کہ پہلے کے تناسب کے مطابق نفع نقصان میں حصہ دار رہیں گے ) کا ایڈجسٹمنٹ کاروبار میں دیپک کے حصہ کے سرمائے کی بنیاد پر کرنا ہے یعنی کہ پرانے ساجھے داروں کو یا تو نقد رقم ادا کی جائے گی یا پھر وہ نقد رقم لے کر آئیں گے ۔
نئی فرم کا نقد کھاتہ ،نفع اور نقصان ایڈجسٹمنٹ کھاتہ (از سر نواندازۂ قدر کھاتہ اور شروعاتی بیلنس شیٹ تیار کیجیے
(جواب : از سر نو اندازۂ قدر پر فائدہ 4,550روپیے ،بیلنس شیٹ کا میزان 68,000روپیے)
34۔ آزاد اور ببلی ایک فرم میں 2:1کے تناسب سے حصہ دار ہیں ۔چیتن کو منافع میں 1/4حصہ کے لیے ساجھے دار بنایا گیا ۔چیتن بطور سرمایہ 30,000روپیے لائے گا اور آزاد اور ببلی کے سرمایوں کا ایڈجسٹمنٹ تقسیم منافع کے تناسب کے مطابق کیا جائے گا۔آزاد اور ببلی کی بیلنس شیٹ 31دسمبر 2016(چیتن کی شمولیت سے قبل )کو حسب ذیل تھی ۔
31.03.2020کو AاورBکی بیلنس شیٹ
| رقم (روپیے ) | اثاثہ جات | رقم (روپیے ) | ذمہ داریاں |
| 2,000 10,000 8,000 10,000 5,000 25,000 40,000 1,00,000 |
نقد دردست نقد در بینک متفرق قرض دار اسٹاک فرنیچر مشینری عمارت |
8,000 4,000 6,000 82,000 1,00,000 |
قرض خواہ قابل ادابل جنرل ریزرو سرمایہ کھاتے: آزاد 50,000 ببلی 32,000 |
باہمی اتفاق ہوا کہ :
(i) چیتن بطور حصہ ساکھ کا پریمیم 12,000روپیے لائے گا ۔
(ii) بلڈنگ کی قدر45,000روپیے اور مشینری کی قدر23,000روپیے آنکی گئی ۔
(iii) قرض داروں (debtors)پر6%کی شرح سے محفوظ برائے مشکوک قرضات پر قائم کرنا ہے ۔
(iv) چالو کھاتے کھول کر آزاد اور ببلی کے سرمایہ کھاتوں کا ایڈجسٹمنٹ کیا جانا ہے ۔
ضروری روزنامچہ اندراجات درج کیجیے ،ضروری لیجر کھاتے دکھائیے اور شمولیت کے بعد بیلنس شیٹ تیار کیجیے ۔
(جواب: از سر نواندازۂ قدر پر فائدہ 2,520روپیے ،بیلنس شیٹ 1,44,520روپیے)
35۔ آشش اور دتہّ ایک فرم میں 3:2کے تناسب سے نفع نقصان میں ساجھے دار ہیں ۔انھوں نے 1جنوری 2016کو منافع کے 1/5 حصہ کے لیے ومل کو ساجھے دار بنایا ۔اس تاریخ پر آشش اور دتہ کی بیلنس شیٹ حسب ذیل تھی ۔
31مارچ 2020کو AاورBکی بیلنس شیٹ
| رقم (روپیے) | اثاثہ جات | رقم (روپیے) | ذمہ داریاں |
| 35,000 45,000 20,000 35,000 5,000 1,40,000 |
زمین اور عمارت پلانٹ قرض دار 22,000 اسٹاک نقد |
80,000 35,000 15,000 10,000 1,40,000 |
آشش کا سرمایہ دتّا کا سرمایہ قرض خواہ قابل ادابل |
باہمی اتفاق ہوا کہ :
(i) اراضی وعمارات کی قدر میں 15,000روپیے سے اضافہ کیا جائے گا ۔
ٍ (ii) پلانٹ کی قدر میں 10,000روپیے سے اضافہ کیا جائے گا۔
(iii) فرم کی ساکھ کی قدر 20,000روپیے آنکی گئی ۔
(iv) ومل کو نئی فرم کے کل سرمایے کے 1/5کے مساوی سرمایہ لانا ہے ۔
ضروری روزنامچہ اندراجات درج کیجیے اور ومل کی شمولیت کے بعد فرم کی بیلنس شیٹ تیار کیجیے ۔
(جواب: از سر نواندازۂ قدر پر فائدہ 25,000روپیے ،بیلنس شیٹ کا میزان 2,25,000روپیے)
اپنی فہم کی جانچ کے لیے فہرست
اپنی فہم کی جانچ کیجیے – I
1۔ (b)3 (a),2 (a),1
اپنی فہم کی جانچ کیجیے II––
1۔ (b) 5, (b) 4, (c) 3, (b) 2, (c)1