Skip to content
bARCODE


4

ساجھے داری فرم کی تشکیل نو:––ساجھے دار کی سبکدوشی/موت


سیکھنے کے مقاصد

 اس باب کے مطالعہ کے بعد آپ اس قابل ہوجائیں گے کہ:
ساجھے دار کی سبکدوشی/موت کے بعد باقی بچے ساجھے داروں کا نیا تناسب تقسیم منافع اور فائدے کا تناسب شمار کرسکیں۔
ساجھے دار کی سبکدوشی/ موت کی صورت میں ساکھ کے تصفیہ کے لیے کھاتہ داری عمل آوری کی وضاحت کرسکیں۔
اثاثوں اور ذمہ داریوں کی ازسرنو قدراندازی کے لیے ساجھے داری عمل آوری کی وضاحت کرسکیں۔
غیر مندرج اثاثوں اور ذمہ داریوں کے ضمن میں ضروری اندراجات کرسکیں۔
جمع شدہ منافعوں اور نقصانات کے لیے ضروری تسویہ کرسکیں۔
فرم سے سبکدوش ہوئے یا مرحوم ساجھے دارکا مطالبہ معلوم کرسکیں اور اس کے نبٹارے کے طریقہ کی وضاحت کرسکیں۔
اگر مطلوب ہو تو سبکدوش ہوئے ساجھے دار کا قرض کھاتہ تیار کرسکیں اور
ساجھے دار کی موت کی صورت میں مرحوم ساجھے دار کے وصی(ایگزی کیوٹر)کا کھاتہ تیار کرسکیں اور ازسرنو تشکیل شدہ فرم کی بیلنس شیٹ تیار کرسکیں۔


آپ پڑھے چکے ہیں کہ ساجھے دار کی سبکدوشی یا موت کی صورت میں بھی ساجھے داری فرم کی تشکیل نو کی جاتی ہے۔ساجھے دار کی سبکدوشی یا موت پر موجودہ ساجھے داری نامہ ختم ہوجاتا ہے اور اس کی جگہ نئے ساجھاداری نامہ کی تدوین کی ضرورت ہوتی ہے جس کے ذریعہ بقیہ ساجھے دار تبدیل شدہ شرائط اور حالات پر اپنے کاروبار کو جاری رکھتے ہیں۔ساجھے دار کی سبکدوشی کے وقت یا موت کی صورت میں کی جانے والی کھاتہ داری عمل آوری کے درمیان زیادہ فرق نہیں ہے۔دونوں ہی صورتوں میں،ساکھ،اثاثوں اور ذمہ داریوں کی ازسرنو قدر اندازی ،جمع شدہ نفع اور نقصان کے تبادلے سے متعلق ضروری تسویات کرنے کے بعد،ہمیں سبکدوش ہوئے ساجھے کو واجب الادارقم(سبکدوشی کی صورت میں)کاتعین کرنا پڑتا ہے۔نیز،ہمیں بقیہ ساجھے داروں کے درمیان نئے تناسب تقسیم منافع اور ان کے فایدے کے تناسب کا شمار بھی کرنا پڑسکتا ہے۔ اس باب میں یہ تمام پہلو تفصیل سے بیان کیے گئے ہیں۔

4.1    سبکدوش ہوئے/مرحوم ساجھے دار کو واجب الادا رقم کی تحقیق

سبکدوش ہوئے ساجھے دار کو (سبکدوشی کی صورت میں)اور ساجھے دار کے قانونی نمائندے یا وصی کو(ساجھے داری موت کی صورت میں)واجب الا دا رقم حسب ذیل پر مشتمل ہوتی ہے۔
(i) اس کے سرمایہ کھاتے کی جمع باقی(کریڈٹ بیلنس)
(ii) اس کے چالو کھاتے کی جمع باقی(کریڈٹ بیلنس)
(iii) اس کے حصہ کی ساکھ
(iv) جمع شدہ منافع(ریزرو)میں اس کا حصہ
(v) اثاثوں اور ذمہ داریوں کی ازسرنو قدر اندازی کے فائدے میں اس کا حصہ
(vi) موت/سبکدوشی کی تاریخ تک نفع ونقصان میں اس کا حصہ
(vii) موت/سبکدوشی کی تاریخ تک اس کے سرمائے پر سود 
(viii) موت/سبکدوشی کی تاریخ تک اس کو واجب الادا تنخواہ/کمیشن
درج ذیل وضعات اگر ہوںتو اس کے حصہ سے کم کرلی جاتی ہیں۔
(i) اس کے چالو کھاتہ کا نام بقایا(ڈیبٹ بیلنس)
(ii) اگر ضروری ہو ،تو اس کے حصہ کی ساکھ خارج کی جائے گی
(iii) جمع شدہ نقصانات میں اس کا حصہ
(iv) اثاثوں اور ذمہ داریوں کی ازسرنو قدراندازی پر نقصان میں اس کا حصہ
(v) تاوقت سبکدوشی/موت نقصانات میں اس کا حصہ؛
(vi) تاوقت سبکدوشی/موت اس کی نکالی ہوئی رقوم؛
(vii) تا وقت سبکدوشی /موت اس کی نکالی ہوئی رقوم پر سود؛
اس طرح کسی ساجھے دارکی شمولیت کے مانند ،ساجھے دار کی موت یا سبکدوشی میں شامل مختلف کھاتہ داری پہلو حسب ذیل ہیں:
نئے تناسب تقسیم منافع اور فائدے کے تناسب کا پتا لگانا
ساکھ کا تصفیہ
اثاثوں اور ذمہ داریوں کی از سر نو قدراندازی
غیر مندرج اثاثوں اور ذمہ داریوں کے ضمن میں تسویہ
جمع شدہ منافعوں اور نقصانات کی تقسیم
موت/سبکدوشی کی تاریخ تک نفع و نقصان کے حصہ کو معلوم کرنا۔
سرمایے کا تسویہ
سبکدوش ہوئے/مرحوم ساجھے دار کو واجب الادا رقوم کا نپٹارا

4.2 نیا تناسب تقسیم منافع (New Profit Sharing Ratio)

نیا تناسب تقسیم منافع وہ تناسب ہے جس میں کسی ساجھے دار کی سبکدوشی یا موت کے بعدبقیہ ساجھے دار مستقبل کے منافع کو تقسیم کریں گے۔بقیہ ساجھے دار وں میں سے ہر ایک کاحصہ فرم میں اس کے اپنے حصہ نیز اس حصہ پر مشتمل ہوگا جو کہ وہ سبکدوش ہوئے/موحوم ساجھے دار سے حاصل کرتا ہے۔
حسب ذیل صورتوں پر غور کیجیے:
(a)عموماً،کاروبارکو آگے جاری رکھنے والے شرکاء سبکدوش ہوئے/مرحوم ساجھے دار کا حصہ پرانے تناسب تقسیم منافع میں حاصل کرتے ہیں اور ان کے درمیان نئے تناسب تقسیم منافع کو شمار کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔درحقیقت ایسی کسی معلومات کی غیر موجودگی میں جس سے پتا چلتا ہو کہ بقیہ ساجھے دار کسی تناسب میں سبکدوش کے پرانے تناسب میں حاصل کریں گے اور اس طرح مستقبل کے منافع کو بھی پرانے تناسب میں حاصل کریں گے۔مثال کے طور پر،آشا،دیپتی اور نیشا 3:2:1کے تناسب سے ایک فرم کے نفع ونقصان میں حصہ دار ہیں۔اگر دیپتی سبکدوش ہوجاتی ہے تو جب تک کسی دوسری صورت کا فیصلہ نہیں ہوجاتا،آشا اور نیشا کے مابین نیا تناسب تقسیم منافع 3:1ہوگا۔
(b)کاروبارے کو جاری رکھنے والے شرکا ء سبکدوش ہوئے/مرحوم ساجھے دار کے منافع میں حصہ اپنے پرانے تناسب کے علاوہ بھی کسی دوسرے تناسب میں حاصل کرسکتے ہیں۔ایسی صورت میں ان کے درمیان نئے تناسب تقسیم منافع کو شمار کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔اور یہ تناسب ان کے اپنے حصہ اور سبکدوش ہوئے/مرحوم ساجھے دار سے حاصل شدہ حصہ کے کل میزان کے برابر ہوتا ہے۔مثال کے طورپر،نوین،سریش اور ترون 5:3:2کے تناسب سے نفع و نقصان میں حصہ دار ہیں۔ سریش فرم سے سبکدوش ہوجاتا ہے اور اس کا حصہ نوین اورترون کے ذریعہ2:1کے تناسب میں حاصل کیا جاتا ہے۔ایسی صورت میں،نئے تناسب تقسیم منافع کا شمار حسب ذیل طرح سے ہوگا۔
باقی ماندہ ساجھے دار کا نیاحصہ= پرانا حصہ+فرم سے رخصت ہونے والے ساجھے دار سے وصول ہوا حصہ
فائدہ کا تناسب=2:1

نوین کے ذریعے وصول کیاگیاحصہ = 3/10 کا 2/3
= 2/10=3/10×2/3
ترون کے ذریعے وصول کیاگیاحصہ = 1/3 کا3/10
= 1/10=3/10×1/3
  
اس طرح نوین اور ترون کا نیا تناسب تقسیم منافع ہوگا=7:3
(c)کاروبار کو جاری رکھنے والے شرکا ایک مخصوص نئے تناسب تقسیم منافع پر متفق ہوسکتے ہیں؛ایسی صورت میں اس طرح کیا گیا تناسب ہی نیا تناسب تقسیم منافع ہوگا۔

4.3 فائدے کا تناسب(Gaining Ratio)

وہ تناسب جس پر باقی ماندہ ساجھے دار،رخصت ہونے والے ساجھے دار کے حصہ منافع کو تقسیم کرنے کا فیصلہ کریں،فائدے کا تناسب کہلاتا ہے۔عموما باقی ماندہ ساجھے دار اپنے پرانے تناسب تقسیم منافع میں سبکدوش ہوئے/مرحوم ساجھے دار کا حصہ وصول کرتے ہیں۔ایسی صورت میں،باقی ماندہ ساجھے داروں کا فائدے کا تناسب ان کے درمیان کے پرانے تناسب تقسیم منافع جیسا ہوتا ہے اور اس طرح فائدے کے تناسب کو شمار کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔بصورت دیگر،وہ تناسب جس میں باقی ماندہ ساجھے دار سبکدوش ہوئے/مرحوم شراکت کا حصہ وصول کریں گے مذکورہوتا ہے۔اور اس صورت میں بھی،فائدے کے تناسب کو شمار کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ یہ وہی تناسب ہوگا جس میں انھوں نے سبکدوش ہوئے/مرحوم ساجھے دار کا حصہ وصل کیا ہے۔فائدے کے تناسب کو شمار کرنے کا مسئلہ بنیادی طور پر اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کہ باقی ماندہ ساجھے داروں کا نیا تناسب تقسیم منافع مذکور ہوتا ہے۔ایسی صورت حال میں،فائدے کے تناسب کا شمار ہر باقی ماندہ ساجھے دار کے پرانے تناسب کو اس کے نئے تناسب میں سے گھٹا کر کیا جاتا ہے۔یعنی نفع کانیاحصہ—نفع کاپراناحصہ۔مثال کے طورپر امیت،دنیش اور گگن 5:3:2کے تناسب سے نفع و نقصان میں حصہ دار ہیں۔
دنیش سبکدوش ہوتا ہے۔امیت اور گگن نئی فرم کے نفع ونقصان کو 3:2کے تناسب میں تقسیم کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔فائدے کے تناسب درج کو ذیل طریقے سے شمار کیا جائے گا:
امیت کے فائدے کاتناسب = 5/10-3/5=10/ 5-6=1/10
گگن کے فائدے کاتناسب = 2/10-2/5=10 /2-4=2/10

اس طرح،امیت اور گگن کے فائدے کا تناسب=1:2
اس سے مراد یہ ہے کہ دنیش کے حصہ منافع سے امیت1/3فائدہ اور گگن 2/3فائدہ حاصل کرتا ہے۔

باقی ماندہ ساجھے دار کے فائدے کا حصہ=نیاحصہ–پرانا حصہ

اسے خود کیجیے

ایثاری تناسب اور فائدے کے تناسب کے درمیان فرق:

مفہوم
ساجھے دارکے منافع کے حصہ پراثر
حساب لگانے کا طریقہ
حساب کب لگایا جائے
مثال:1
مدھو،نیہا اور ٹینا5:3:2کے تناسب سے نفع ونقصان میں حصہ دار ہیں۔نئے تناسب تقسیم منافع اور فائدے کے تناسب کا شمار کیجیے اگر:
1۔مدھو سبکدوش ہوجائے۔
2۔نیہا سبکدوش ہوجائے۔
3۔ٹینا سبکدوش ہوجائے۔

حل:

مدھو؛نیہااور ٹینا کے درمیان مذکورہ پرانا تناسب ہے5:3:2
اگر مدھو سبکدوش ہوتی ہے تو نیہا اور ٹینا کے مابین نیا تناسب تقسیم منافع ہوگا۔
نیہا:ٹینا=3:2اور نیہا اور ٹینا کا فائدے کا تناسب=3:2
اگر نیہا سبکدوش ہوتی ہے تو مدھو اور ٹینا کے مابین نیا تناسب تقسیم منافع ہوگا
مدھو: ٹینا=5:2
مدھو اور ٹینا کے فائدے کا تناسب=5:3
اگر ٹینا سبکدوش ہوتی ہے تو مدھو اور ٹینا کے مابین نیا تناسب تقسیم منافع ہوگا
مدھو : نیہا =5:3
مدھو اور نیہا کے فائدے کا تناسب = 5:3

مثال:2

الکا،ہر پریت اور شریہ3:2:1کے تناسب سے نفع ونقصان میں حصہ دار ہیں۔الکا سبکدوش ہوتی ہے اور اس کا حصہ ہرپریت اور شریہ کے ذریعہ3:2کے تناسب میں لیا جاتا ہے۔نئے تناسب تقسیم منافع کا شمار کیجیے۔

حل:

ہر پریت اور شریہ کا مذکورہ فائدے کا تناسب = 3:2   = 2/5:3/5

الکا،ہرپریت اور شریہ کے درمیان پرانا تناسب تقسیم منافع=3:2:1  

ہرپریت کے ذریعے وصول کیا گیا حصہ = 3/5 کا 3/6 = 9/30

شریہ کے ذریعہ وصول کیا گیا حصہ = 2/5 کا 3/6 = 6/30

نیاحصہ = پراناحصہ+وصول شدہ حصہ

ہرپریت کانیاحصہ = 9/30+2/6=19/30

شریہ کانیاحصہ = 6/30+1/6=11/30

شریہ اور ہرپریت کا نیا تناسب تقسیم منافع =  19:11

مثال:3

مرلی،نوین اور اوم پرکاش1/2،3/3 اور 1/8کے تناسب سے نفع و نقصان میں حصہ دار ہیں۔ مرلی سبکدوشی اختیار کرتا ہے اور نوین کے حق میں اپنے حصہ کے2/3سے اور اوم پرکاش کے حق میں باقی ماندہ حصے سے دستبردار ہوتا ہے۔باقی ماندہ شراکت دار وں کا نیا تناسب تقسیم منافع اور فائدے کا تناسب شمار کیجیے۔

حل: 


نوین اوم پرکاش
(i) پرانہ حصہ 1/2 1/8
(ii) مرلی سے نوین اوراوم پرکاش کے ذریعے وصول کیاگیا= 3/8 کا 2/3=2/8 3/8 کا 1/3=1/8

(iii) نیاحصہ =  (ii)  +  (i)
= 2/8 + 1/2 1/8 + 1/8   =6/8 یا 3/4 2/8 یا 1/4

مثال:4

کمار،لکشیہ ،منوج اور نریش 3:2:1:4کے تناسب سے نفع ونقصان میں حصے دار ہیں۔کمار فرم سے سبکدوش ہوتا ہے اور اس کے حصے کو لکشیہ اور منوج 3:2کے تناسب میں وصول کرتے ہیں۔باقی ماندہ شراکت داروں کانیا تناسب تقسیم منافع اور فائدے کا تناسب شمارکیجیے۔

حل:

لکشیہ منوج نریش
(i)پراناحصہ 2/10 1/10 4/10
(ii) کمارسے وصول کیاہواحصہ 3/10 کا 3/5 3/10 کا 2/5 کچھ نہیں
= 9/50 = 6/50 کچھ نہیں
(iii) نیاحصہ = (ii ) =  (i)
9/50 + 2/10 6/50 + 1/10 =4/10 +کچھ نہیں
=19/50 = 11/50 =20/50

تقسیم منافع کا نیا تناسب19:11:20ہے۔
 فائدے کا تناسب3:2:0ہے۔
 نوٹس:  1۔ چوں کہ لکشیہ اور منوج، کمار کے حصہ منافع کو 3:2کے تناسب میں حاصل کررہے ہیں لہٰذا لکشیہ اور منوج کے مابین فائدے کا تناسب3:2ہوگا۔
 2۔  نریش نہ تو کچھ ایثار کرتا ہے اور نہ ہی اسے کچھ فائدہ وصول ہوتا ہے۔

مثال:5

رنجنا،سادھنا اور کامنہ4:3:2کے تناسب سے نفع ونقصان میں حصے دار ہیں رنجنا سبکدوش ہوتی ہے۔سادھنا اور کامنہ نے مستقبل کے منافعوں کو5:3کے تناسب میں تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا۔فائدے کے تناسب کا شمار کیجیے۔

حل:

فائدے کے تناسب نیاحصہ- پراناحصہ
سادھناکے فائدے کاحصہ  = 3/9-5/8 =72 /24-45 = 21/72
کامناکے فائدے کاحصہ = 2/9-3/8 = 72 /16 - 27 = 11/72
سادھنا اور کامنا کے درمیان فائدے کا تناسب =  21:11


اسے خودکیجیے
انیتا ،جیا اور نیشا1:1:1کے تناسب سے نفع ونقصان میں حصے دار ہیں۔جیا فرم سے سبکدوش ہوتی ہے۔ انیتا اور نیشا نے مستقبل کے منافع کو4:3میں تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا۔فائدے کا تناسب شمار کیجیے۔
آزاد،وجے اور امیت1/4، 1/8 ،10/16کےتناسب سے نفع و نقصان میں حصہ دار ہیں۔باقی ماندہ شراکت داروں کے درمیان نیا تناسب تقسیم منافع شمار کیجیے اگر(a)آزاد سبکدوش ہوتا ہے(b)وجے سبکدوش ہوتا ہے(c)امیت سبکدوش ہوتا ہے۔
مذکورہ بالا ہر ایک صورت میں فائدے کا تناسب شمار کیجیے۔
انو،پربھا اور ملی شراکت دار ہیں۔انو سبکدوش ہوتی ہے۔باقی ماندہ شراکت داروں کا مستقبل میں تناسب تقسیم منافع اور فائدے کا تناسب شمار کیجیے اگر وہ انو کے حصے کو حسب ذیل طرح سے وصول کرنے پر رضامند ہوتے ہیں۔
(a)
5:3کے تناسب میں(b)مساوی طورپر 
راہل،روبن اورراجیش 3:2:1کے تناسب سے نفع و نقصان میں شراکت دار ہیں۔باقی ماندہ شراکت داروں کانیا تناسب تقسیم منافع شمار کیجیے۔(i)اگر راہل سبکدوش ہوتا ہے(ii)اگرروبن سبکدوش ہوتا ہے۔(iii)راجیش سبکدوش ہوتا ہے۔
پوجا،پریہ،پرتشٹھا 5:3:2کے تناسب سے نفع و نقصان میں حصہ دار ہیں۔پریہ سبکدوش ہوتی ہے۔اس کا حصہ پر یہ  اور پرتشٹھا کے ذریعہ2:1کے تناسب میں لیا جاتا ہے۔نیا تناسب تقسیم منافع شمار کیجیے۔
اشوک،انل اور اجے1  ،1/2،3/10اور1/5کے تناسب سے نفع ونقصان میں حصے دار ہیں۔انل فرم سے سبکدوش ہوتا ہے۔ اشوک اور اجے مستقبل کے منافعوں کو3:2کے تناسب سے نفع ونقصان کو تقسیم کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔فائدے کا تناسب شمار کیجیے۔

4.4 ساکھ کا تصفیہ(Treatment of Goodwill):

سبکدوش یا/مرحوم شراکت دار سبکدوشی/ موت کے وقت اپنے حصہ کی ساکھ کا مستحق ہوتا ہے کیونکہ ساکھ فرم کے ذریعے کمائی گئی ہوتی ہے اور اس میں تمام موجودہ شراکت داروں کی کوششیں شامل ہوتی ہیں۔ لہٰذا شراکت دار کی سبکدوشی/موت کے وقت ساکھ کی قدر شرکا کے درمیان معاہدے کے مطابق آنکی جاتی ہے۔باقی ماندہ شراکت داروں(وہ شرکا جو کہ سبکدوش ہوئے/مرحوم شراکت دار کے حصہ منافع کو حاصل کرکے فائدہ اٹھاچکے ہیں)کے ذریعہ ان کے فائدے کے تناسب میں سبکدوش ہوئے/مرحوم شراکت دار کو اس کے ساکھ کے حصے کا معاوضہ ادا کیا جاتا ہے۔
ایسی صورت میں ساکھ کے لیے کھاتہ داری عمل آور(تصفیہ)اس بات پر منحصر ہوتا ہے کہ آیا ساکھ کو فرم کی کتابوں مین پہلے سے دکھایا گیا ہے یا نہیں۔

4.4.1  جب کتابوں میں ساکھ کا اظہار نہیں ہوتا

جب فرم کی کتابوں میں ساکھ کا اظہار نہیںہوتا تب سبکدوش ہورہے شراکت دار کو اس کے حصہ ساکھ کے نقصان کے لیے ضروری جمع(کریڈٹ)دینے کے چار طریقے:

مستقل شراکت دار کا سرمایہ کھاتہ Dr. (ان کے فائدے کے تناسب میں فرداً فرداً)
سبکدوش / مرحوم شراکت دار کا سرمایہ کھاتہ
(سبکدوش ہوئے/مرحوم کو باقی ماندہ شرکا کے سرمایہ کھاتوں میں ان کے فائدے کے تناسب کے اندر)
آئیے ہم ایک مثال لیں اور مندرجہ بالا تمام متبادل صورتوں کو استعمال کرکے ساجھے دار کی سبکدوشی یا موت پر ساکھ کے تصفیہ کو واضح کریں۔
B،Aاور3:2:1Cکے تناسب سے نفع و نقصان میں حصہ دار ہیں۔Bسبکدوش ہوتا ہے۔ فرم کی ساکھ کی قدر60,000 روپے ہے۔ باقی ماندہ شراکت دار Aاور B 3:1کےتناسب سے نفع و نقصان کو تقسیم کرنا جاری رکھتے ہیں۔ مختلف متبادلوں میں درج کیے جانے والے روزنامچہ اندراجات مندرجہ ذیل ہوں گے۔

Aکاسرمایہ کھاتہ  .Dr
 15,000
Cکاسرمایہ کھاتہ  .Dr
5,000
Bکے سرمایہ کھاتہ سے 20,000
(باقی ماندہ شرکاکے سرمایہ کھاتوںمیں فائدے کے تناسب کے اندر)Bکے حصہ ساکھ کاتسویدکیاگیا۔
ایسابھی ہوسکتاہے کہ باقی ماندہ شراکت داروں کے درمیان نئے تناسب تقسیم منافع پرہوئے فیصلہ کے نتیجہ میں کوئی ایک باقی ماندہ شراکت دارمستقل کے منافعوںمیں اپنے حصہ کاایثارکررہاہو۔ایسی صورت میں اس کاسرمایہ کھاتہ اس کے ایثارکے مطابق سبکدوش ہوئے/مرحوم شراکت دار کے سرمایہ کھاتہ کے ہمراہ کریڈٹ کیاجائے گا اوردوسرے باقی ماندہ شراکت داروں کوڈیبٹ کیاجائے گاجس کی بنیاد مستقل کے منافع تناسب میں ان کے حاصل ہونے والافائدہ ہوگا۔
(ساکھ کھاتہ پوری قدر پر کھولا گیا اور تمام شراکت داروں کو ان کے پرانے تناسب تقسیم منافع میں کریڈٹ کیاگیا)
(b) اگر ساکھ کھاتہ پوری قدر پر کھولا جائے اورفوراً خارج کیا جائے۔

مثال:6
 کیشو،نرمل اور پنکج 4:3:2کے تناسب سے نفع نقصان میں حصہ دار ہیں۔نرمل سبکدوش ہوتا ہے اور ساکھ کی قدر72000روپے ہے۔کیشو اور پنکج مستقبل کے نفع و نقصان کو 5:3کے تناسب سے تقسیم کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ضروری روزنامچہ اندراجات درج کیجیے۔

جرنل


تاریخ تفصیلات لیجرصفحہ ڈیبٹ (روپے) کریڈٹ (روپے)
کیش کیشوکاسرمایہ کھاتہ .Dr
پنکج کاسرمایہ کھاتہ .Dr
نرمل کے سرمایہ کھاتے کو
(کیشواورپنکج کے فائدے کے تناسب13.11 میں نرمل کے حصہ ساکھ کاتصفیہ کیاگیا)
13.000
11.000



24.000


اشاراتِ عمل(ورکنگ نوٹس):
1. ومل کاحصہ ساکھ = 3/9×72,000روپے = 24,000روپے
2. فائدے کے تناسب کاشمار
فائدے کاتناسب = نیاحصہ - پراناحصہ
کیشوکے فائدے کاتناسب = 4/9 - 5/8 = 13/72
پنکج کے فائدے کاتناسب = 2/9 - 3/8 = 11/72
لہذاکیشواورپنکج کے درمیان فائدے کاتناسب 13:11یعنی11/24 : 13/24 ہے۔

مثال:7
جیا،کیرتی،ایکتا اور شویتا ایک فرم میں2:1:2:1کے تناسب سے حصہ دار ہیں۔جیا کی سبکدوشی پر فرم کی ساکھ کی قدر36,000 روپے آنکی گئی ہے۔کیرتی،ایکتا اور شویتا نے مستقبل کے نفع نقصان کو مساوی طورپر تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا۔ساکھ کھاتہ کھولے بغیر ساکھ کے تصفیہ کے لیے ضروری روزنامچہ اندراج درج کیجیے۔
کیرتی، ایکتا، شویتا کی کتابیں
 جرنل
تاریخ تفصیلات لیجرصفحہ ڈیبٹ(روپے) کریڈٹ(روپے)


کیرتی کاسرمایہ کھاتہ  .Dr
شویتاکاسرمایہ کھاتہ    .Dr
جیاکے سرمایہ کھاتے کو
(جیاکے حصہ ساکھ کاتصفیہ باقی ماندہ شراکت داروں کے ساتھ ان کے فائدے کے تناسب میں کیاگیا)
6,000
6,000



12,000

اشاراتِ عمل(ورکنگ نوٹس):
1۔جیاکاحصہ ساکھ
=2/6×36,000 =12,000 روپے
2۔فائدے کے تناسب کاشمار
فائدے کاحصہ = نیاحصہ-پراناحصہ
کیرتی کافائدہ = 1/6-1/3 = 1-2/6 = 1/6
ایکتاکافائدہ = 2/6-1/3 = 2-2/6 =0/6 (نہ فائدہ نہ ایثار)
شویتاکافائدہ = 1/6-1/3 = 6/ 2-1 = 1/6
لہٰذا،کیرتی اور شویتا کے درمیان فائدے کا تناسب 6 / 1 : 6 /1 = 1:1

مثال:8
دیپا،نیرو اور شلپا ایک فرم میں5:3:2کے تناسب سے نفع نقصان میں حصے دار ہیں۔نیرو سبکدوش ہوئی،دیپا اور شلپا کے درمیان نیا تناسب تقسیم منافع 2:3تھا۔نیرو کی سبکدوشی پر فرم کی ساکھ کی قدر1,20,000روپے تھی۔نیرو کی سبکدوشی پر ساکھ کے تصفیہ کے لیے ضروری روزنامچہ اندراج درج کیجیے۔
دیپا اور شلپا کی کتابیں 
جرنل
تاریخ تفصیلات لیجرصفحہ ڈیبٹ(روپے) کریڈٹ(روپے)
شلپاکاسرمایہ کھاتہ. Dr
نیروکے سرمایہ کھاتے کو
(شلپانے نیروکواس کے حصہ ساکھ کے لیے معاوضہ اداکیااور دیپا کواس کے ایثارکے لیے جواس نے نیروکی سبکدوشی پرکیا)
48,000
36,000


12,000

اشارات عمل(ورکنگ نوٹس):
1۔فائدے کے تناسب کاشمار
فائدے کا حصہ   = نیاحصہ–پرانا حصہ
دیپاکے فائدے کاحصہ = 5/10 - 2/5 = 10 /5- 4 = 1/10 - = 1/10 یعنی ایثار
شلپاکے فائدے کاحصہ = 2/10 - 3/5 =  10/ 2-6 = 4/10 یعنی فائدہ 

2۔  لہٰذا،شلپا،نیرو(سبکدوش ہوئی شریک)اوردیپا(باقی ماندہ شراکت دار جس نے ایثار کیا ہے)دونوں کو ان کے ذریعے کیے گئے ایثار کی حد تک معاوضہ ادا کرے گی۔جس کا شمار حسب ذیل طریقے سے کیا جائے گا۔
دیپا کاایثار    =   فرم کی ساکھ×ایثار کیاگیاحصہ
1,20,000 روپے × 1/10 = 12,000 روپے

نیروکا(سبکدوش ہوئی شراکت)ایثار=1,20,000روپے× 3/10=36,000روپے

اپنی فہم کی جانچ کیجیے–– I

حسب ذیل سوالات میں صحیح متبادل کا انتخاب کیجیے:
ابھیشیک،رجت اور وویک5:3:2کے تناسب سے نفع نقصان میں حصہ دار ہیں۔ اگر وویک سبکدوش ہوتا ہے تو ابھیشیک اور رجت کے درمیان نیا تناسب تقسیم منافع ہوگا۔
(a)
 3:2 
(b)
 5:3 
(c)
5:2
(d) ان میں سے کوئی نہیں۔
راجندر،ستیش اور تیج پال2:2:1کے تناسب سے نفع اورنقصان میں حصہ دار تھے۔ستیش کی سبکدوشی کے بعد نیا تناسب تقسیم منافع3:2ہے۔فائدے کا تناسب ہے––
 (a)  
3:2
(b)
2:1
(c)
1:1 
(d)
2:1 
آنند،بہادر اور چندر مساوی طور پر نفع اور نقصان میں حصے دار ہیں۔چندر کی سبکدوشی پر اس کا حصہ آنند اور بہادر کے ذریعے3:2کے تناسب میں وصول کیا جاتا ہے۔آنند اور بہادر کے درمیان نیا تقسیم منافع ہوگا۔
8:7 (a)
4:5 (b)
3:2 (c)
2:3 (d)
باقی ماندہ شراکت داروں کے ذریعہ سبکدوش /مرحوم ہوئے شراکت دار کے حصہ منافع کو وصول کرنے سے متعلق کسی معلومات کی غیر موجودگی میں،یہ فرض کیا جاتا ہے کہ اس کا حصہ وصول کریں گے:
(a) پرانے تناسب تقسیم منافع میں
  (b)نئے تناسب تقسیم منافع میں
(c)مساوی تناسب میں
(d)ان میں سے کوئی نہیں
مثال:9
ہینی،پمّی اور سنّی3:2:1کے تناسب سے نفع نقصان میں حصہ دار ہیں۔ساکھ کی قدر کتابوں میں60,000 روپے دکھائی گئی ہے۔پمی سبکدوش ہوتا ہے پمی کی سبکدوشی پر ساکھ 84,000 روپے آنکی گئی۔ہینی اور سنی نے مستقبل کے منافع کو2:1کے تناسب میں تقسیم کرنے کافیصلہ کیا۔ضروری روزنامچہ اندراجات درج کیجیے۔

حل:

ہینی اور سنی کی کتابیں
روزنامچہ(جرنل)
تاریخ تفصیلات لیجر صفحہ ڈیبٹ (روپے) کریڈٹ (روپے)
ہینی کاسرمایہ کھاتہ .Dr

پمی کاسرمایہ کھاتہ .Dr

سنی کاسرمایہ کھاتھ .Dr
ساکھ کھاتے کو
(موجودساکھ کوپرانے تناسب میں خارج کیاگیا)
30,000


20,000


10,000


60,000
ہینی کاسرمایہ کھاتہ .Dr

سنی کاسرمایہ کھاتہ .Dr

پمی کے سرمایہ کھاتے کو
(پمی کے حصہ ساکھ کاتصفیہ ہینی اورسنی کے سرمایہ کھاتوں میں آنکے گئے فائدے کی حدتک کیاگیا)
14,000

14,000




28,000
اشارات عمل(ورکنگ نوٹس):
(1)ساکھ کی موجودہ قدر میں پمی کا حصہ=1/3 کا 84000روپے
= 1/3 × 84,000 = 28,000 روپے
فائدے کاحصہ
ہینی کے فائدے کاحصہ
سنی کے فائدے کاحصہ
اس طرح ہینی اورسنی کے فائدے کاتناسب 1/6 : 1/6 = 1:1 ہے۔

4.4.2  پوشیدہ ساکھ (Hidden Goodewill)

اگرفرم سبکدوش/مرحوم ہوئے شراکت دارکویک مشت رقم اداکرکے اس کانبٹاراکرنے پررضامندہوچکی ہے تب اس کوواجب الادارقم سے زائداداکی جانے والی رقم،اثاثوںاورذمہ داریوں کی ازسرنوقدراندازی اورجمع شدہ نفع ونقصان سے متعلق ضروری تسویات کرنے کے بعداس کے سرمایہ کھاتے کی باقی رقم پرمبنی ہوتی ہے اوراسے اس کاحصہ ساکھ(جسے پوشیدہ ساکھ کہتے ہیں)ماناجاتاہے۔مثال کے طورپرQ  ،P اور 1R : 

2:3کے تناسب سے نفع نقصان میں حصہ دار ہیں۔ R سبکدوشی ہوتاہے اورذمہ داریوں واثاثوں کی ازسرنوقدر اندازی، ریزروسے متعلق ضروری تسویات کرنے کے بعداس کے سرمایہ کھاتے میں باقی60,000 روپے آتی ہے۔ مثال کے طورپر P ,  Qاس کے مطالبے کامکمل نبٹاراکرنے کی غرض سے 75,000روپے اداکرنے پرمتفق ہیں۔اس سے یہ بات اخذکی جاتی ہے کہ فرم کی ساکھ میںRکاحصہ 15,000روپے ہے۔اس کوP اورQ کے سرمایہ کھاتوںمیں ان کے فائدے کے تناسب میں ڈیبٹ کیاجائے گا(جوکہ 3:2 یہ فرض کرتے ہوئے ہے کہ ان کے اپنے تناسب تقسیم منافع میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی) اورR کے سرمایہ کھاتے کوکریڈٹ کیا جائے گا۔روزنامچہ اندراج حسب ذیل طرح سے ہوگا۔

(روپے) (روپے)
Pکاسرمایہ کھاتہ .Dr
Qکاسرمایہ کھاتہ .Dr
Rکے سرمایہ کھاتے کی
(R) کے حصہ ساکھ کاتسویہ Pاور Q کے سرمایہ کھاتوں میں ان کے فائدے کے تناسب 3:2 کے مطابق کیا گیا) 
9.000
6.000




15.000


اپنی فہم کی جانچ کیجیے–– II
مندرجہ ذیل سوالات میں صحیح متبادل کا انتخاب کیجیے۔
شراکت دار کی سبکدوشی یا موت پر،سبکدوش /مرحوم ہوئے شراکت دار کے سرمایہ کھاتے کو کریڈٹ کیاجائے گا۔
(a)اس کے حصہ ساکھ کے ساتھ
(b)فرم کی ساکھ کے ساتھ
(c)باقی ماندہ شراکت داروں کے حصہ ساکھ کے ساتھ
(d)ان میں سے کوئی نہیں
گوبند،ہری اور پرتاپ شراکت دار ہیں۔ گوبند کی سبکدوشی پر بیلنس شیٹ میں ساکھ کھاتہ پہلے سے 24,000 روپے کا دکھایا گیا ہے۔ساکھ کااخراج کیاجائے گا۔
(a)تمام شراکت داروں کے سرمایہ کھاتوں کو ان کے نئے تناسب تقسیم منافع میں ڈیبٹ کرکے
(b)باقی ماندہ شراکت داروں کے سرمایہ کھاتوں کو ان کے نئے تناسب تقسیم منافع سے ڈیبٹ کرکے
(c)سبکدوش ہوئے شراکت دار کے سرمایہ کھاتے کو اس کے حصہ ساکھ سے ڈیبٹ کرکے 
(d)ان میں سے کوئی نہیں
چمن،رمن اور سمن5:3:2کے تناسب سے نفع نقصان میں حصہ دار ہیں ۔رمن سبکدوش ہوتا ہے۔ چمن اور سمن کے درمیان نیا تناسب تقسیم منافع1:1ہوگا۔ فرم کی ساکھ کی قدر1,00,000روپے ہے۔ رمن کے حصہ ساکھ کا تسویہ کیا جائے گا۔
(a)چمن کے سرمایہ کھاتے اور سمن کے سرمایہ کھاتہ دونوں کو15,000روپے سے ڈیبٹ کرکے
(b)چمن کے سرمایہ کھاتے اور سمن کے سرمایہ کھاتے کو بالترتیب21,429روپے اور 8,571روپے کے ساتھ ڈیبٹ کرکے۔
(c)سمن کے سرمایہ کھاتہ کو 30,000 روپے سے ڈیبٹ کرکے
(d)رمن کے سرمایہ کھاتہ کو30,000 روپے سے ڈیبٹ کرکے
شراکت دار کی سبکدوشی/موت پر،وہ باقی ماندہ شراکت دار کو جنھیں تناسب تقسیم منافع میں تبدیلی کے باعث فائدہ ہوا ہے کو معاوضہ ادا کرنا چاہیے۔
(a)صرف سبکدوش ہوئے شراکا کو
(b) صرف باقی ماندہ شرکا کو (جنھوں نے ایثار کیا) سبکدوش شرکا کی مانند
(c)صرف باقی ماندہ شرکا کو (جنھوں نے ایثار کیا)
(d)ان میں سے کوئی نہیں
 

4.5  اثاثوں اور ذمہ داریوں کی ازسرنوقدر اندازی کے لیے تسویہ

(Adjustment for Revaluation of Assets and Liabilites)
شراکت دار کی سبکد وشی یا موت کے وقت ایسے چند اثاثے ہوسکتے ہیں جن کو ان کی موجودہ قدروں پر نہیں دکھایا گیا ہو۔اسی طرح،چند ذمہ داریاں بھی ہو سکتی ہین جن کو ان کی فرم کے ذریعہ پوری کی جانے والی دین داری سے مختلف قدر پر دکھایا گیا ہو۔صرف یہی نہیں، ایسے چند غیر مندرج اثاثے اور ذمہ داریاں بھی ہو سکتی ہیں جنھیں کتابوں میں لانے کی ضرورت ہو۔جیسا کہ ہم نے شراکت دار کی شمولیت کی صورت میں پڑھا ہے کہ غیر مندرج مدوں کو فرم کی کتابوں میں لانے اور اثاثوں یا /اور ذمہ داریوں کی ازسرنوقدر اندازی پر خالص فائدے(نقصان)کو معلوم کرنے کی غرض سے ازسر نو کھاتہ تیار کیا جاتا ہے۔اور اسے تمام شراکت داروں (بشمول سبکدوش /مرحوم ہوئے شراکت دار)کے سرمایہ کھاتوں میں ان کے پرانے تناسب تقسیم منافع میں منتقل کردیا جاتا ہے۔ اس مقصد سے کیے جانے والی روزنامچہ اندراجات حسب ذیل ہیں:
اثاثوں کی قدر میں اضافہ کے لیے
اثاثے کھاتے (فرداً فرداً) .Dr
ازسرنوقدراندازی کھاتہ سے
(اثاثوں کی قدرمیں اضافہ)
اثاثوں کی قدر میں کمی کے لیے
ازسرنوقدراندازی کھاتہ .Dr
اثاثے کھاتوں سے(فرداً فرداً)
(اثاثوں کی قدرمیں کم)
ذمہ داریوں کی رقم میں اضافہ کے لیے
 ازسرنوقدراندازی کھاتہ   .Dr
واجب / ذمہ دارکھاتوں سے(فرداً فرداً) 
(ذمہ داریوں کی رقم میں اضافہ)
ذمہ داریوں کی رقم میں کمی کے لیے
واجب کھاتوں کا(فرداً فرداً) .Dr
ازسرنوقدراندازی کھاتہ سے
(ذمہ داریوں کی رقم میں کمی)
ایک غیر مندرج اثاثہ کے لیے
اثاثہ کھاتہ Dr.
ازسرنو اندازہ قدر کھاتہ کے لیے
(غیر مندرج اثاثہ کو کتابوں میں لایا گیا)
6۔غیرمندرج ذمہ داری کے لیے
ازسرنواندازۂ قدرکھاتہ
واجب کھاتے کے لیے .Dr
(غیر مندرج ذمے داری کو کتابوں میں لایا گیا)
ازسرنو قدراندازی پر نفع یا نقصان کو تقسیم کرنے کے لیے
ازسرنو اندازہ قدر کھاتہ .Dr
تمام ساجھے داروں کا سرمایہ کھاتہ کے لیے(فرداًفرداً)
(ازسرنو قدراندازی پر ہوئے منافع کو شراکت داروں کے سرمایہ کھاتوں میں منتقل کیاگیا)
تمام ساجھے داروں کا سرمایہ کھاتہ .Dr
(یا)
ازسرنو اندازہ قدر کھاتہ کے لیے (فرداًفرداً)
(ازسرنو قدر اندازی پر ہوئے نقصان کو شراکت داروں کے سرمایہ کھاتوں میں منتقل کیاگیا)

مثال:10

میتالی،اندو اور گیتا بالترتیب 5:3:2کے تناسب سے نفع نقصان میں حصہ دار ہیں۔ 31مارچ 2017کو ان کی بیلنس شیٹ حسب ذیل تھی۔

ذمہ داریاں رقم (روپے) اثاثے رقم(روپے)
سرمایہ کھاتے:
میتالی 15,50,000
اندو 1,25,000
گیتا 75,000
متفرق قرض خواہ
جنرل ریزرو





3,50,000
55,000
30,000
4,35,000

ساکھ
عمارت
پٹینٹس
مشینری
اسٹاک
قرض دار
نقد

25,000
1,00,000
30,000
1,50,000
50,000
40,000
40,000

4,35,000

مذکورہ بالا تاریخ کو گیتا سبکدوش ہوجاتی ہے۔ مشینری کی قدر1,40,000روپے،  پیٹنٹ کی قدر40,000 روپے اور بلڈنگ کی قدر 1,25,000روپے ہونے پر اتفاق ہوا۔مندرجہ بالاایڈجسٹ مینٹس کے لیے ضروری روزنا مچہ اندراجات درج کیجیے اور ازسرنو قدراندازی کھاتہ تیار کیجیے۔
حل:
میتالی اوراندو کی کتابیں
روزنامچہ(جرنل)

تاریخ تفصیلات لیجر صفحہ ڈیبٹ (روپے) کریڈٹ (روپے)
2012 ازسرنواندازۂ قدرکھاتہ .Dr
مشینری کو
(مشینری کی قدرمیں کمی)
10,000


10,000
31مارچ پیٹنٹ کھاتہ .Dr
عمارت .Dr
ازسرنواندازہ قدرکھاتہ کو
عمارت اورپیٹنٹ کی قدر میں اضافہ
10,000

25,000


35,000
ازسرنواندازہ قدرکھاتہ .Dr
میتالی کے سرمایہ کھاتے کو
اندوکے سرمایہ کھاتے کو
گیتاکے سرمایہ کھاتے کو
(ازسرنوقدراندازی پرہوئے منافع کوتمام شراکت داروں سرمایہ کھاتوںمیں پرانے تناسب تقسیم منافع میں منتقل کیاگیا)
25,000 12,5000

7,500

5,000


ازسرنوقدراندازی کھاتہ
نام (.Dr) جمع (.Dr)
ذمہ داریاں رقم (روپے) اثاثے رقم (روپے)
مشینری
منتقل کیاگیامنافع
میتالی کے سرمایہ کھاتے میں  12,500
اندوکے سرمایہ کھاتے میں 7,500
گیتاکے سرمایہ کھاتے  5,000
10,000

25,000
35,000
پینٹس
عمارت
10,000
25,000
35,000
4.6  جمع شدہ نفع نقصان کا ایڈجسٹمنٹ(Adjustment of Accumulated Profit 
and Losses)
بعض اوقات،فرم کی بیلنس شیٹ جنرل ریزرو یا ریزروفنڈ کی شکل میں جمع شدہ منافعوں اوریا نفع نقصان کھاتہ کی نام باقی کی شکل میں جمع شدہ نقصانات کا اظہار کرتی ہے۔سبکدوش/متوفی ساجھے دار جمع شدہ منافعوں میں اپنا حصہ پانے کا مستحق ہوتا ہے اسی طرح وہ جمع شدہ نقصانات میں اپنے حصہ کی دین داری کے لیے بھی ذمہ دار ہوتا ہے۔ان جمع شدہ منافعوں یا نقصانات کا تعلق تمام شراکت داروں سے ہوتا ہے اس لیے انھیں تمام ساجھے داروں کے سرمایہ کھاتوں میں ان کے پرانے تناسب تقسیم منافع میں منتقل کردینا چاہیے۔اس مقصد کے لیے مندرجہ ذیل روزنامچہ اندراجات کیے جاتے ہیں۔
(i)جمع شدہ منافعوں (ریزرو)کو منتقل کرنے کے لیے
ریزرو کھاتہ .Dr
تمام ساجھے داروں کے سرمایہ کھاتے (ذاتی طور پر )
(ریزرو کو تمام ساجھے داروں کے سرمایہ کھاتوں میں پرانے تناسب تقسیم منافع میں منتقل کیا گیا)
(ii)جمع شدہ نقصانات کو منتقل کرنے کے لیے
تمام ساجھے داروں کے سرمایہ کھاتے (ذاتی طور پر) .Dr
نفع اور نقصان کھاتہ 
(جمع شدہ نقصانات کو تمام ساجھے داروں کے سرمایہ کھاتوں میں پرا نے تناسب تقسیم منافع میں منتقل کیا گیا)
مثال کے طورپر ؛اندو،گجندر اور ہریندر 3:2:1کے تناسب سے نفع نقصان میں حصہ دار ہیں۔اندر سبکدوش ہوتا ہے اور اس تاریخ پر فرم کی بیلنس شیٹ حسب ذیل ہے:
اندر،گجندر اور ہریندر کی کتابیں
31مارچ2017کو بیلنس شیٹ
ذمہ داریاں رقم (روپے) اثاثے رقم (روپے)
قرضدار

جنرل ریزرو

سرمایہ کھاتہ

اندر1,00,000
گجندر55,000
ہریندر50,000
50,000

90,000





2.05,000
اسٹاک

بینک

نقد

زمین اورعمارتیں

30,000

10,000

5,000

3,00,000
3,45,000 3,45,000


عمومی ریزرو(جرنل ریزرو)کے تصفیہ کو درج کرنے لیے حسب ذیل روزنامچہ اندراج کیا جائے گا۔
گجندر اور ہریندر کی کتابیں
روزنامچہ(جرنل)

تاریخ تفصیلات لیجرصفحہ ڈیبٹ (روپے) کریڈٹ (روپے)
31
مارچ
2017
عمومی ریزروکھاتہ .Dr
اندرکے سرمایہ کھاتہ کے لیے
گجیندرکے سرمایہ کھاتے کے لیے
ہریندرکے سرمایہ کھاتے کے لیے
(اندرکی سبکدوشی پرعمومی ریزروکوتمام شراکت داروں کے سرمایہ کھاتوں میں پرانے تناسب میں منتقل کیاگیا)
90,000





45.000
30,000
15,000

جب شراکت دارسال کے وسط (Middle)میں رٹائزہوتاہے

عام طورپرکسی شراکت دارکا ریٹائرمنٹ کھاتہ دار مدت(Accouting Period) کے خاتمہ پرہوتاہے۔لیکن ایسی صورتیں بھی پیداہوسکتی ہیں کہ کوئی شراکت دار درمیان سال ہی میں رٹائرہونے کافیصلہ کرلے۔ایسی صورت میں اس کی دعویداری نفع ونقصان کے شیئر،سرمایہ پرسوداورڈرائنگس پرسودپرمشتمل ہوگی جس کاحساب پچھلی بیلنس شیٹ کی تاریخ سے رٹائرمنٹ کی تاریخ تک کیاجائے گا۔اس میں مشکل مسئلہ درمیانی مدت(یعنی پچھلی بیلنس کی تاریخ سے ریٹائرمنٹ تک)کے نفع کاحساب ہوتاہے۔ہم اس کوایک مثال کے ذریعے سمجھتے ہیں۔

مائرہ،شبنم اوروپُل کسی فرم کے شراکت دارہیں اوران کے نفع کاتناسب 5:4:1 کے حساب سے 31مارچ 2019کوختم ہونے والے سال کے لیے 1,00,000روپے ہے۔

وپُل 30جون 2019کوریٹائرہونے کافیصلہ کرتاہے۔فرم کے نفع کی تقسیم کانیاتناسب 1:1ہے۔وپل کے نفع کے حصے کی مدت یکم اپریل سے   30جون2019 تک ہوگی،جس کی حسب ذیل طریقہ سے تحسیب ہوگی۔

31مارچ 2017کوختم ہونے والے سال کاکل نفع =1,00,000 روپے ہے۔

وپل کے نفع کاحصہ

اگلے سال کی × تناسبی مدت ×مرحوم شراکت دارکاحصہ

10,000روپے = 4/12 × 3/12 ×1,00,000 روپے

جرنل کااندراج اس طرح لکھاجائے گا:

نفع نقصان سسپنس (Suspense)کھاتہ 10,000Dr

وپل کے سرمایہ کھاتہ سے 10,000

وپل کے نفع کاحصہ اس کے سرمایہ کھاتہ میں منتقل 

متبادل طورپراگر وپل کے نفع کے حصہ کاحساب پچھلے تین سال کے منافع کے اوسط کی بنیادپرکیاجائے یعنی سال 17-2016کے لیے 1,36,000 روپے،سال18-2017کے لیے1,54,000روپے اور19-2018کے لیے1,00,000روپے ہے تو7 اپریل 2019سے 30جون 2019تک کی مدت کے لیے وپل کے نفع کے حصے (Share)کی تحسیب اوسط نفع کی بنیادپرکی جائیگی جوپچھلے سال کی مندرجہ ذیل تحسیب کے منافع پرمبنی ہوگی:

اوسط نفع = کل نفع / سالوں کی تعداد = روپے3/ 1,00,000 روپے+1,54,000+1,36,000

=1,30,000 روپے= 390,000/3 روپے

نفع نقصان سسپنس کھاتہ .Dr

13,000

اگرقراردادمیں اجازت ہوکہ ریٹائر ہونے والے شراکت دارنفع کے حصہ کی تحسیب بکری یافروخت کی بنیادپرکی جائے اوریہ بھی صراحت ہوکہ سال 19-2018کے دوران فروخت 8,00,000روپے اوریکم اپریل 2017سے 30جون2019تک فروخت 1,50,000کی تھی تویکم اپریل 2019سے شروع ہونے والے والی مدت کے لیے وپل کے منافع کے حصے کاحساب اس طرح لگایاجائے گا۔اگرفروخت 80,00,000روپے ہے تونفع = 1,00,00/1,00,000/8,00,00

اگرفروخت 1؍روپیہ ہے تونفع = 1,50,000×1,00,00/8,00,000

وپل کے نفع کاحصہ = 18,750 روپے

= 7,500روپے

نفع ونقصان سسپنس کھاتہ .Dr

7,500

وپل کے سرمایہ کھاتہ سے  7,500

ریٹائرنگ شراکت داروں کے درمیانی مدت کے نفع کاحصہ کھاتہ کی کتابوں میں لکھنےکے لیے مندرجہ ذیل جرنل اندراجات کیے جائیں گے۔

(i) نفع ونقصان سسپنس کھاتہ .Dr

ریٹائرنگ شراکت داروں کے سرماےہ کھاتوں سے

(درمیانی مدت کے لیے نفع کاشیئر)

بعدمیں نفع ونقصان سسپنس کھاتہ بندکردیاجائے گااوررقم کوپانے والے شراکت داروں کے کھاتہ میں ان کے پانے کے تناسب میں منتقل کردیاجائے گا۔جرنل کااندراج اس طرح ہوگا۔

(ii) پانے والے شراکت داروں کاسرمایہ کھاتہ (پانے کے تناسب میں)

نفع اورنقصان سسپنس کھاتہ سے

مندرجہ ذیل جرنل اندراج (i) یا(ii) کی جگہ پرمتبادل طورپربھی کیاجاسکتاہے۔

پانے والے شراکت داروں کاسرمایہ کھاتہ .Dr

سبکدوش ہونے والے شراکت داروں کے سرمایہ کھاتوں سے

(ریٹائرہونے والے شراکت داروں کے نفع کاحصہ کریڈٹ کیاگیا)

4.7سبکدوش ہونے والے شراکت دار کی رقم کا تصفیہ

(Disposal of Amount Due to Retiring partner)
سبکدوش ہونے والے شراکت دار کی واجب رقم کا تصفیہ عام طور پر معاہدۂ شراکت کی دفعات کے مطابق کیا جاتا ہے۔یعنی فوراً     یک مشت یا پھر مختلف قسطوں میں سود کے ساتھ یا بغیر سود کے؛اس کا انحصار شراکت داروں کے باہمی اتفاق پر ہوتا ہے کہ آیا انھوں نے اسے جزوی طور پر فوراً نقد اداکرنے اور جزوی طور پر قسطوں میں مختلف وقفوں کے دوران ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔یا پھر کسی اور صورت میں۔کسی معاہدے کی غیرموجودگی میں،انڈین پارٹنرشپ ایکٹ1932کا سیکشن 37لاگو ہوتا ہے جس کی رو سے رخصت ہونے والے شراکت دار کے پاس دو متبادل ہوتے ہیں۔ یا تو وہ تاوقت ادائیگی%6سالانہ کی شرح سے سود وصول کرے یا پھر منافعوں کا ایسا حصہ جو کہ اس کی رقم سے کمایا جارہا ہو (یعنی اس کے سرمایہ تناسب پر مبنی ہو)۔ لہٰذا سبکدوش ہورہے شراکت دار کو تمام تسویات کرنے کے بعد کل واجب الادا رقم اسے فوراً ادا کردینی ہوتی ہے۔اگر فرم فوراً ادائیگی کرنے کی حالت میں نہ ہو تب واجب الادارقم کو سبکدوش ہوئے شراکت دار کے قرض کھاتہ میں منتقل کردیا جاتا ہے ۔درج کیے جانے والے ضروری روزنامچہ اندراجات حسب ذیل ہیں:
جب سبکدوش ہورہے شراکت دار کو پورا نقد ادا کیا جاتا ہے۔
سبکدوش ہو رہے شراکت دار کا سرمایہ کھاتہ .Dr
نقد / بینک کھاتے کے لیے
جب سبکدوش ہورہے شراکت دار کی کل رقم کو قرض مانا جاتا ہے۔
سبکدوش ہو رہے شراکت دار کا سرمایہ کھاتہ .Dr
سبکدوش ہو رہے شراکت دار کا قرض کھاتہ 
جب سبکدوش ہورہے شراکت دارکو جزوی طورپر نقد اداکیا جاتا ہے اور بقیہ رقم کو قرض مانا جاتا ہے۔
سبکدوش ہو رہے شراکت دار کا سرمایہ کھاتہ  .Dr (کل واجب رقم)
نقد/بینک کھاتے کے لیے (اداکی گئی رقم)
سبکدوش ہو رہے شراکت دار کے قرض کھاتہ کے لیے (قرض کی رقم)
جب قسطوں (بشمول اصل اور سود)کے ذریعے ادائیگی کرکے قرض کھاتہ کا نبٹارہ کیا جاتا ہے۔
(a)قرض پر سود کے لیے
سود کھاتہ .Dr
سبکدوش ہونے والے ساجھے دار کا قرض کھاتہ کے لیے
(b)قسطوں کی ادائیگی کے لیے
سبکدوش ہونے والے ساجھے دار کا قرض کھاتہ .Dr
بینک / نقد کھاتہ کے لیے
نوٹ
1۔   جب تک کہ اسے آخری قسط کی ادائیگی نہیں ہوجاتی سبکدوش ہوئے شراکت دار کے قرض کھاتہ کی باقی رقم کو بیلنس شیٹ کی   ذمہ داریوں کی جانب دکھایاجاتا ہے۔
2۔    جب تک کہ قرض کو ادا کرکے ختم نہیں کیا جاتا مندرجہ بالا(a)اور(b)اندراج کو دوہرا یاجائے گا۔

مثال:11

امریندر،مہندر اورجوگندرایک فرم میں شراکت دار ہیں۔مہندرفرم سے سبکدوش ہوتا ہے۔ اس کی سبکدوشی کی تاریخ پر 60,000 روپے اسے واجب الادا ہیں۔ امریندر اورجوگیندر ہر سال آخر میں اسے قسطوں میں ادائیگی کا وعدہ کرتے ہیں۔ درج ذیل صورتوں میں مہندر کاقرض کھاتہ تیار کیجیے۔
1۔جب ادائیگی غیر اداشدہ باقی پر،چار سال قسطیں ،مع سود بشرح% 12سالانہ کے لحاظ سے کی جاتی ہے۔
2۔جب وہ پہلے تین سالوں کے دوران واجب الادا باقی پر  %12سالانہ سود کے ساتھ 20,000 روپے کی قسطیں3سال ادا کرنے اور باقی،چوتھے سال مع سود ادا کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔
3۔جب ادائیگی غیر ادا شدہ باقی پر،چار سالہ مساوی قسطیں مع سود بشرح% 12سالانہ کے لحاظ سے کی جاتی ہے۔

حل:

(a) جب ادائیگی غیر اداشدہ باقی پر چار سالہ قسطیں مع سود کے لحاظ سے کی جاتی ہے۔
امریندر،مہندر اور جوگیندر کی کتابیں
مہندر کا قرض کھاتہ
نام(.Dr) جمع (.Cr)
تاریخ  تفصیلات  لیجر صفحہ  رقم (روپے)  تاریخ  تفصیلات  لیجر صفحہ  رقم (روپے) 
سال1  بینک
(15,000+7,200) 
 بیلنسc/d 
22,200 
45,00

 67,200
سال 1 مہندرکاسرمایہ
سود 

60,000
7,200
67,200

سال II
 بینک
15,000+5,400 
بیلنس c/d
20,400

30,000

50,400
 سال II بیلنسb/d
سود
45,000
 5,400

50,400
سال III  بینک
(15,000+3,600)
بیلنس c/d
18,600
15,000
33,600
سال III بیلنسb/d
سود
30,000
3,600
33,600
سال IV  بینک
15,000+1,800 
16,800

16,800
سال IV بیلنس d/b
سود
15,000
1,800
16,800

(b)    جب ادائیگی مع سود 20,000  روپے کی تین سالہ قسطوں میں کی جاتی ہے ۔
امریندر، مہندر اور جوگیندر کی کتابیں
مہندر کا قرض کھاتہ
نام (.Dr) جمع (.Cr)
تاریخ تفصیلات لیجرصفحہ رقم (روپے) تاریخ تفصیلات لیجرصفحہ رقم (روپے)
سال I بینک
بیلنس c/d
20.000
47,200

67,200
سالI مہندرکاسرکایہ
سود
60.000
7,200

67,200
 سال II بینک
بیلنس b/d
20,000
32,864

52,864
سالII بیلنس b/d
سود
47,200
5,664

52,864
سال III بینک
بیلنس b/d

20,000
16,808

36,808
سالIII بیلنس b/d
سود
32,864
3,944

36,808
سال IV بینک 18,825


18,835
سالIV بیلنس b/d
سود
16,808
2,017

18,825
(c) جب ادائیگی چار سالہ مساوی قسطیں مع سود شرح% 12سالانہ کے لحاظ سے کی جاتی ہے
امریندر ،مہندر اور جوگندر کی کتابیں
مہندر کا قرض کھاتہ
نام (.Dr) جمع (.Cr)
تاریخ تفصیلات لیجرصفحہ رقم (روپے) تاریخ تفصیلات لیجرصفحہ رقم (روپے)
سالI بینک
بیلنس c/d
19,754
47,446

53,140
سالI مہندرکاسرمایہ
سود
60,000
7,200

53,140
سالII بینک
بیلنس c/d
19,754
33,386
بیلنس b/d
سود
47,446
5,694
سالIII بینک
بیلنس
19,754
17,638
53,140
بیلنس
سود
33,386
4,006
37,392
سالIV بینک 19,754

19,754
بیلنس b/d 17,638
2,116
19,754

نوٹ:%12شرح سود پر چار سالوں میں ادائیگی کی سالانہ قسط19,754روپے ہوتی ہے۔(سالانہ جدول× 60,000کے تحت 0.329234کی سالانہ طورپر)
یہاں یہ غور طلب ہے کہ سبکدوش ہورہے شراکت دار کو واجب رقم کے تصفیہ کے لیے کی جانے والی کھاتہ داری عمل آوری اور شراکت دار کی موت کی صورت میں کی جانے والی کھاتہ داری میں صرف ایک ہی فرق ہے۔ اور یہ فرق صرف اتنا ہے کہ شراکت دار کی موت کی صورت میں اسے واجب الادا رقم کو اس کے وصی(ایکزیکیوٹر)کے کھاتہ میں منتقل کیا جاتا ہے اور اسے ہی ادائیگی کی جاتی ہے اسے اس باب میں آگے چل کرلیا جائے گا۔


اسے خود کیجیے

وجے،اجے اور موہن دوست ہیں انھوں نے جون2016میں دہلی یونیورسٹی سے بی کام (آنرس)پاس کیا۔انھوں نے کمپیوٹر ہارڈوئیر کا کاروبار شروع کرنے کافیصلہ کیا۔
1؍اگست2016کو انھوں نے بالترتیب50,000روپے،30,000روپے اور20000روپے کا سرمایہ لگایا اور دہلی کے اندر شراکت داری میں کاروبار کا آغاز کیا۔ان کے درمیان تناسب تقسیم منافع4:2:1تھا۔کاروبار کا میابی کے ساتھ چل رہا تھا۔لیکن1فروری2017کو چند ناقابل نظر انداز حالات اور خاندانی حالات کے باعث اجے نے پونے میں بسنے کافیصلہ کیا اوراس نے فیصلہ کیا کہ وہ31مارچ2017کو تمام شراکت داروں کی رضامندی کے ساتھ وہ شراکت داری سے سبکدوش ہوجائے گا۔اجے 31مارچ2017کو سبکدوش ہوجاتا ہے اثاثوں اور ذمہ داریوں کی حالت حسب ذیل ہے۔

وجے،اجے اور موہن کی بیلنس شیٹ31مارچ2017کو


ذمہ داریاں رقم( روپے) اثاثے رقم (روپے)
سرمایہ کھاتے: ساکھ 56,000
وجے 1,80,000 زمین اورعمارتیں 1,20,000
اجے 1,20,000 مشینری 1,59,000
موہن 1,00,000 4,00,00,000 موٹرگاڑی 31,000
قابل ادابل 12,000 اسٹاک 90,0000
عمومی ریزرو 42,000 قرض 66,000
قرض خواہ 90,000 بینک میں نقد 22,000
5,44,000 5,44,000

سبکدوشی کی تاریخ پر حسب ذیل تسویات کی گئیں:
فرم کی ساکھ1,48,000روپے جانچی گئی۔
اثاثوں اور ذمہ داریوں کی قدر درج ذیل ہونی ہے:اسٹاک72,000روپے،اراضی وعمارت(Land&Building)
 1,35,600روپے، قرض دار(Debtors) 63,000 روپے، مشینری1,50,000 روپے؛ قرض خواہ (Creditors)
 84,000 روپے۔
زائد سرمائے کے طورپر وجے کو1,20,000روپے اور موہن کو30,000روپے لانے ہیں اور کھاتہ پر منتقل کیاجانا ہے۔ اجے کی واجب الادام رقم معلوم کیجیے اور بتائیے کہ اس کے کھاتے کا نبٹارہ کیسے کریں گے۔
4- اجے کو 97,200روپے نقداداکرنے تھے اورسرمایہ کھاتہ کابیلنس قرض کھاتہ میں منتقل کیاجاتاہے۔

مثال:12

آشیش،سریش اور لوکیش5:3:2کے تناسب سے نفع نقصان میں حصہ دار تھے 31مارچ2017کوجانچی بیلنس شیٹ حسب ذیل تھی۔

آشیش،سریش اور لوکیش کی بیلنس شیٹ31مارچ 2017کو

ذمہ داریاں رقم (روپے) اثاثے رقم (روپے)
سرمایہ: اراضی 4,00,000
آشیش 7,20,000 عمارتیں 3,80,000
گگن 4,15,000 پیٹنٹ اورمشینری 4,65,000
لوکیش 3,45,000 14,80,000 فرنیچراورفٹنگ 77,000
محفوظ رقم 1,80,000 اسٹاک 1,85,000
متفرق قرض خواہ 1,24,000 متفرق قرض دار 1,72,000
اخراجات 16,000 نقدرقم 1,21,000
18,00,000 18,00,0000

30جنوری 2017کوسریش سبکدوش ہوجاتا ہے۔اس کی سبکدوشی پرحسب ذیل تسویات پر باہمی رضامندی ہوتی ہے۔
اسٹاک کی قدر1,72,000روپے تھی۔
فرنیچر اور فٹنگ کی قدر80,000روپے تھی۔
سریش کے منافع کے حصہ کی تحسیب کی سبکدوشی کی تاریخ تک فرم کے آخری سالوں کے 2,00,000روپے کے نفع کی اساس پرکی جائے گی۔
مسٹردیپک جو کہ ایک قرض دار ہیں ان پر10,000روپے کی رقم واجب تھی یہ رقم مشکوک ہوگئی تھی اور اس کے لیے ایک محفوظ بنایا جاناتھا۔
فرم کی ساکھ2,00,000روپے جانچی گئی ۔
آشیش اورلوکیش کا مستقبل میں تناسب تقسیم منافع3:2ہوگا۔
سریش کوسبکدوشی کے فوراًبعد40,000روپے اداکرنے تھے اوربیلنس کوقرض کھاتہ میں منتقل کرناتھا۔
آشیش اورلوکیش کامستقبل میں تناسب تقسیم منافع 3:2 ہوگا۔
ازسرنو قدراندازی کھاتہ،سرمایہ کھاتہ اور تشکیل نو شدہ فرم کی بیلنس شیٹ تیارکیجیے۔

حل:

آشیش ،سریش اور لوکیش کی کتابیں
ازسرنو قدراندازی کھاتہ
نام (.Dr) جمع (.Cr)
تفصیلات رقم (روپے) تفصیلات رقم (روپے)
اسٹاک 13,000 فرنیچر 3,000
مشکوک قرضہ کے لیے محفوظ 10,000 نفی ازسرنواندازہ قدرمنتقل کیا گیا
آشیش کاکھاتہ 10,000
سریش کاکھاتہ 6.000
لوکیش کاکھاتہ 4,000 20,000
23,000 23,000

شراکت داروں کے سرمایہ کھاتے
نام (.Dr) جمع(.Cr)
تاریخ
2017
تفصیلات لیجر
آشیش (روپے)
سریش (روپے)
لوکیش (روپے)
تاریخ
2017
تفصیلات لیجر آشیش(روپے) سریش(روپے) لوکیش(روپے)
30جون ازسرنواندازہ قدر(نقصان) 10,000 6,000 4,000 30جون بیلنس
b/d
7,20,000 4,15,000 3,45,000
سریش کاسرمایہ 20,000 40,000 ریزرفنڈ 90,000 54,000 36.000
نفع نقصان سسپنس
کھاتہ
15,000
نقد 4,98,000 آشیش کاسریہ 20,000
سریش کاقرض 4,98,000 لوکیش کاسرمایہ 40,000
بیلنس c/d 7,80,000 3,37,000
8,10,000 5,44,000 3,81,000 8,10,000 5,44,000 3,81,000

1اپریل2017کو آشیش اور لوکیش کی بیلنس شیٹ

ذمہ داریاں رقم (روپے) اثاثے رقم (روپے)
سرمایہ: زمین 4,00,000
آشیش 7,80,000
عمارتیں 3,80,000
لوکیش  3,37,000 11,17,000 پلاٹ اورمشینری 4,65,000
سریش کاقرض 4,98,000 فرنیچر 80,000
متفرق دیندار 1,24,000 اسٹاک 1,72,000
بقیہ اخراجات 16,000 متفرق لینداران 1,72,000
گھٹا(-)مشکوک قرض کے لیے 10,000 1,62,000
محفوظ
نقد (40,000,Rs- 
1,21,000 Rs)
81,000
نفع ونقصان سسپنس کھاتہ 15,000
17,55,000 17,55,000

اشارات عمل (ورکنگ نوٹس):
فائدے کا حصہ=نیاحصہ–پرانا حصہ
آشیش کافائدہ  = 1/10 = 10 /5-6 = 5/10 - 3/5
لوکیش کافائدہ = 2/10 = 10 /2-4 = 2/10 - 2/5

آشیش اور لوکیش کے درمیان فائدے کاتناسب=1:2
سریش کاحصہ ساکھ=2,00,000روپے× 3/10=60000روپے
3- سریش کے منافع کاحصہ = 3/10×3/12×2,00,000 روپے= 15,000روپے

مثال:13

شیام،گگن اوررام2:2:1کے تناسب سے نفع نقصان میں حصہ دار ہیں 31مارچ2017کو ان کی بیلنس شیٹ حسب ذیل ہے:

ذمہ داریاں رقم (روپے) اثاثے رقم (روپے)
متفرق دینداران 49,000 نقد 8,000
عمومی ریزرو 14,500 لینداران 19,000
ملازمین کاپرووِڈنٹ فنڈ 4,000 اسٹاک 42,000
سرمایہ: مشینری 85,000
شیام 80,000 عمارتیں 1,22,000
گگن 62,5000 پیٹنٹس 9.000
رام 7,000 2,17,500
2,85,000 2,85,000

چوں کہ گگن کو ایکMNCمیں ملازمت کا بہترین موقع مل گیا تھا اس لیے اس نے فرم سے سبکدوش ہونے کافیصلہ کیا۔رام اورشیام کے درمیان مستقبل کے منافعوں کو 5:3کے تناسب میں تقسیم کرنے کا فیصلہ ہوا۔ساکھ کی قدر70,000روپے تھے،مشینری کی قدر 78,000روپے،بلڈنگ کی قدر1,52,000 روپے اور اسٹاک کی قدر30,000روپے تھی؛ 1,550روپے کے ڈوبے قرضوں کو خارج کیاجانا تھا، فرم کی کتابوں میں روزنامچہ اندراجات کیجیے اور نئی فرم کی بیلنس شیٹ تیار کیجیے۔

حل:

شیام ،رام اور گگن کی کتابیں
روزنامچہ(جرنل)

تاریخ تفصیلات لیجرصفحہ ڈیبٹ رقم (روپے) کریڈٹ رقم (روپے)
31مارچ2017 ازسرنواندازہ قدرکھاتہ .Dr 20,550
مشینری کھاتہ کے لیے
اسٹاک کھاتہ کے لیے

7,000
12,000
لینداراں کھاتہ کے لیے 15,000
(گگن کی سبکدوشی کے روران اثاثوں کی ازسرنوقدراندازی پرنقصان)
عمارت کھاتہ .Dr 30,000
ازسرنواندازہ قدرکھاتہ کے لیے 30,000
(گگن کی سبکدوشی پربلڈنگ کی قدرمیں اضافہ)
ازسرنواندازہ قدرکھاتہ .Dr 9,450
شیام کاسرمایہ کھاتہ کے لیے 3,780
رام کے سرمایہ کھاتہ کے لیے 1,890
(ازسرنوقدراندازی پرمنافع کوشراکت داروں کے سرمایہ کھاتوں میں 2:2:1کے تناسب سے منتقل کیاگیا)
رزروکھاتہ .Dr
شیام کے سرمایہ کھاتہ کے لیے
گگن کے سرمایہ کھاتہ کے لیے
رام کے سرمایہ کھاتہ کے لیے

(ریزروکوشراکت دارکے سرمایہ کھاتے میں منتقل کیاگیا)
شیام کے سرمایہ کھاتہ  .Dr
رام کاسرمایہ .Dr
گگن کے سرمایہ کھاتہ کے لیے
(گگن کے حصہ ساکھ کاتسویہ شیام اوررام کے سرمایہ کھاتوں میں ان کے فائدے کے تناسب 9:7 میں کیاگیا)
گگن کاسرمایہ کھاتہ .Dr
گگن کے قرض کھاتہ کے لیے
(سبکدوش ہوئے شراکت دارکوواجب الادارقم اس کے قرض کھاتے میں منتقل کی گئی)
14,500



15,750
12,250



1,00,080
5,800
5,800
2,900

28,000





1,00,080


31مارچ2017کو شیام اور رام کی بیلنس شیٹ

ذمہ داریاں رقم (روپے) اثاثے رقم (روپے)
متفرق دینداران 49,000 نقد 8,000
ملازمین کاپرووڈینٹ فنڈ 4,000 لینداران 17,450
سرمایہ اسٹاک 30,000
شیام 73,830 مشینری 78,000
رام 67,540 1,41,340 عمارتیں 1,52,000
گگن کاقرض 1,00,080 پیٹنس 9,000
2,94,450 2,94,450


اشارات عمل(ورکنگ نوٹس):
پراناحصہ–نیاحصہ=فائدے کا حصہ
شیام کے فائدے کاحصہ = 9/40 = 40 /16 - 25 = 2/5 - 5/8
رام کے فائدے کاحصہ = 7/40 = 40 /15-8 = 1/5 - 3/8

اس لیے،شیام اور رام کے فائدے کا تناسب=9:7
ازسرنو قدراندازی کھاتہ
نام (.Dr) جمع(.Dr)
ذمہ داریاں رقم (روپے) اثاثے رقم (روپے)
مشینری 7,000 عمارتیں 30,000
اسٹوک 12,000 لینداران
ازسرنوقدراندازی پرمنافع 1,550
سرمایہ میں منتقلی
شیام 3,780
گگن 3,780
رام 1,890 9,450
30,000 30,000

شراکت داروں کے سرمایہ کھاتے

تاریخ 2017 تفصیلات لیجر شیام
(روپے)
گگن
(روپے)
رام
(روپے)
تاریخ
2017
تفصیلات لیجر شیام
(روپے)
گگن
(روپے)
رام
(روپے)
31 مارچ گگن کاسرمایہ 15,750 12,250 31مارچ نیچے لایاگیا بیلنس/باقی 80,000 62,500 75,000
گگن کاقرض 1.00,080 ازسرنوقدراندازی 3,780 3,780 1,890
بقیہ/بیلنس c/d 73,830 67,540 نفع 5,800 5,800 2,900
رزرو
شیام کاسرمایہ
15,750
رام کاسرمایہ 12,250
89,580 1,00,080 79,790 89,580 1,00,080 79,790

نوٹ: چوں کہ گگن کو واجب الادا رقم کی ادائیگی کے لیے دستیاب باقی کافی نہیں ہے اس لیے اس کے سرمایہ کھاتہ کی باقی کو اس کے قرض کھاتے میں منتقل کیا جاتا ہے۔

4.8  شراکت داروں کے سرمائے کاتسویہ:(Adjustment of Partners Capital)

بعض اوقات،شراکت دار کی سبکدوشی/موت پر باقی ماندہ شراکت دار اپنے لگائے گئے سرمائے کا تسویہ اپنے تناسب تقسیم منافع میں کرنے کافیصلہ کرتے ہیں۔ایسی صورت میں،باقی ماندہ شراکت داروں کے سرمائے کی باقی کے جوڑ کو نئی فرم کا کل سرمایہ مانا جاتا ہے۔اس کے بعد،باقی ماندہ شراکت داروں کے نئے سرمائے کو معلوم کرنے کے لیے فرم کے کل سرمائے کو باقی ماندہ شراکت داروں کے درمیان نئے تناسب تقسیم منافع کے مطابق تقسیم کردیا جاتا ہے۔اور انفرادی سرمایہ کھاتہ میں سرمائے کی کمی یا زیادہ معلوم کی جاتی ہے ایسی کمی یا زیادتی کا تسویہ نقد رقم کو لگا کر یا نکال کر کیا جاتا ہے۔دونوں صورتوں کے لیے حسب ذیل روزنامچہ اندراجات کیے جائیں گے۔
(i) اضافی سرمائے کو شراکت دار کے ذریعہ نکالے جانے پر:
ساجھے داروں کا سرمایہ کھاتہ .Dr
بینک / نقد کھاتہ کے لیے
(ii) شراکت دار کے ذریعہ سرمائے کی رقم لائے جانے پر:
بینک / نقد کھاتہ .Dr
ساجھے داروں کے سرمایہ کھاتہ کے لیے
مندرجہ ذیل صورتوں پر غور کیجیے:
باقی ماندہ شراکت داروں کے سرمایوں کا تسویہ حسب ذیل طریقوں میں سے کسی ایک پر مشتمل ہوتا ہے۔جنھیں مثالوں کی مدد سے سمجھایا گیا ہے۔
جب کہ شراکت داروں کے ذریعہ فیصلہ کیا گیا نئی فرم کا سرمایہ مذکورہ ہو:

مثال:14

موہت،نیرج اور سوہن ایک فرم میں2:1:1کے تناسب سے حصہ دار ہیں نیرج سبکدوش ہوتا ہے۔موہت اور سوہن نے یہ فیصلہ کیا کہ نئی فرم کا سرمایہ 2,00,000روپے پر قائم رہے گا۔موہت اور سوہن کے سرمایہ کھاتے تمام تسویات کے بعد بالترتیب 82000روپے اور41000روپے کی جمع باقی(کریڈٹ بیلنس)دکھاتے ہیں۔باقی ماندہ شراکت داروں کے ذریعہ لایا جانے والا یا ان کو ادا کیا جانے والا اصل نقد معلوم کیجیے اورضروری روزنامچہ اندراج درج کیجیے۔

حل:

موہت اورسوہن کے درمیان نیا تناسب تقسیم منافع=2:1

موہت سوہن
نئے تناسب پرمبنی سرمایہ ہے 80.000 40,000
موجودہ سرمایہ (تسویات کے بعد)ہے 82,000 41,000
لایاگیا(یانکلاگیا)نقدہے 2,000 1,000

موہت اور سوہن کی کتابیں
روزنامچہ

تاریخ تفصیلات ڈیبٹ رقم (روپے) کریڈٹ (روپے)
موہت کاسرمایہ کھاتہ .Dr 2,000
سوہن کاسرمایہ کھاتہ .Dr 1,000
نقدکھاتہ کے لیے 3,000
(سوہن کے ذریعہ نکالاگیازائدسرمایہ)

جب کہ نئی فرم کاکل سرمایہ مذکورہ نہیں ہوتا۔

مثال:15

آشا،دیپا اور لتا ایک فرم میں3:2:1کے تناسب سے شراکت دار ہیں۔دیپا سبکدوش ہوتی ہے جمع شدہ منافع،ساکھ اور ازسرنو قدر اندازی وغیرہ سے تمام تسویات کرنے کے بعد آشا اور لتا کے سرمایہ کھاتے بالترتیب160000روپے اور80000روپے کی جمع باقی دکھاتے ہیں۔آشا اور لتا کے سرمایوں کا تسویہ ان کے نئے تناسب تقسیم منافع میں کرنے کا فیصلہ کیاگیا۔آپ شراکت داروں کے نئے سرمایوں کا شمار کیجیے اور اس میں شامل رقوم کو کاروبار میں لانے یا نکال کرلیے جانے کے لیے ضروری روزنامچہ اندراجات کیجیے۔

حل:

(a) موجودہ شراکت داروں کے نئے سرمایوں کا شمار
آشا کے سرمائے میں باقی (تمام تسویات کے بعد) = 1,60,000
لتا کے سرمائے میں باقی =80,000
نئی فرم کا کل سرمایہ =240000
3:1کے نئے تناسب تقسیم منافع پر مبنی
آشا کا نیا سرمایہ= 240000روپے×  2/4=180000
لتا کا نیا سرمایہ =240000روپے× 1/4 =60000
نوٹ: نئی فرم کا کل سرمایہ باقی ماندہ شراکت داروں کے سرمایہ کھاتوں کی باقی کے جوڑ پر مبنی ہے۔
(b)باقی ماندہ شراکت داروں کے ذریعہ لائے جانے والے یا نکالے جانے والے نقد کاشمار:

آشا (روپے) لتا(روپے)
نئے سرمائے 1,80,000 60,000
موجودہ سرمایہ 1,60,000 80,000
20,000 20,000
آشا اور لتا کی کتابیں
روزنامچہ
تاریخ  تفصیلات لیجر ڈیبٹ رقم (روپے) کریڈٹ رقم (روپے)
بینک کھاتہ .Dr 20,000
آشا کے سرمایہ کھاتہ کے لیے
(آشاکے ذریعہ لایاگیانقد) 20,000
لتاکاسرمایہ کھاتہ .Dr 20,000
بینک کھاتہ کے لیے 20,000
(لتاکے ذریعہ نکالی گئی اضافی رقم)


جب کہ سبکدوش ہوئے شراکت دار کو قابل ادا رقم باقی ماندہ شراکت داروں کے ذریعہ اس طرح لائی جاتی ہے کہ ان سرمایوں کا تسویہ ان کے نئے تناسب تقسیم منافع کے مطابق ہوجائے:

مثال:16

للت،پنکج اور راہل 4:3:3کے تناسب سے نفع نقصان میں حصہ دار ہیں۔للت کی سبکدوشی پر،ازسرنو قدراندازی ،ساکھ اور ریزرو سے متعلق تمام تسویات کے بعد ان کے بالترتیب سرمائے70,000روپے،60,000روپے اور50,000روپے ہیں یہ فیصلہ ہوا کہ للت کو قابل ادا رقم پنکج اور راہل کے ذریعہ اس طرح لائی جائے گی کہ ان کے سرمائے ان کے تناسب تقسیم کے مطابق ہوجائیں۔راہل اور پنکج کے ذریعہ لائی جانے والی رقم کا شمار کیجیے۔اس کے لیے اور للت کو ادائیگی کے ذریعہ لائی جانے والی رقم کا شمار کیجیے۔اس کے لیے اور للت کو ادائیگی کے لیے ضروری روزنامچہ اندراجات بھی کیجیے۔
للت کی سبکدوشی کے بعد،پنکج اورراہل کے درمیان نیا تناسب تقسیم منافع3:3یعنی 1:1ہے۔

حل:

(a) نئی فرم کے کل سرمایہ کاشمار روپے
(i) پنکج کے سرمایہ کھاتے میں باقی (تسویہ کے بعد) 60,000
(ii) راہل کے سرمایہ کھاتے میں باقی(تسویہ کے بعد) 50,000
(iii) للت (سبکدوش ہوئے شراکت دار)کوقابل ادارقم  70,000

(b)  باقی ماندہ شراکت داروں کے نئے سرمائے کا شمار
پنکج کا نیا سرمایہ=1,80,000روپے×1/2=90,000روپے
راہل کا نیا سرمایہ=1,80,000روپے×1/2 =90,000روپے
(c)  باقی ماندہ شراکت داروں کے ذریعہ لائی جانے والی یا نکالی جانے والی رقوم کا شمار

پنکج (روپے) راہل (روپے)
نیاسرمایہ(1,80,000) 90,000 90,000
موجودہ سرمایہ(تسویہ کے بعد) 60,000 50,000
لایاجانے والانقد 30,000 40,000

پنکج اور راہل کی کتابیں
روزنامچ
تاریخ تفصیلات لیجر ڈیبٹ رقم (روپے) کریڈٹ رقم (روپے)
بینک کھاتہ .Dr 70,000
پنکج کے سرمایہ کھاتے کے لیے 30,000
راہل کے سرمایہ کھاتہ کے لیے 40,000
(پنکج اورراہل کے ذریعہ لائی گئی رقوم)
للت کاسرمایہ کھاتہ .Dr 70,000
بینک کھاتہ کے لیے
(سبکدوشی پرللت کواداکی گئی رقم)

مثال:17

موہت ،نیرج اور سوہن شراکت دار ہیں اور اپنے سرمایوں کے مطابق نفع نقصان کو تقسیم کرتے ہیں31مارچ2017کو ان کی بیلنس شیٹ حسب ذیل ہے:


ذمہ داریاں  رقم ( روپیے ) اثاثے رقم ( روپیے )
دینداران
موہت کا سرمایہ
نیرج کا سرمایہ
سوہن کا سرمایہ
عمومی رزرو
21,000
80,000
40,000
40,000
20,000

2,01,000
عمارتیں
مشینری
اسٹاک
لینداران
گھٹا (-) : خراب قرض کے لیے برووژن
بینک میں نقد
1,00,000
50,000
18,000
19,000
14,000

2,01,000

اسی تاریخ پر،نیرج نے فرم سے سبکدوش ہونے کا فیصلہ کیا۔شراکت داروں نے حسب ذیل تسویات پراتفاق کیا اور اسے اس کا حصہ ادا کردیا۔
بلڈنگ میں20%بیش قدری
ڈوبے ہوئے اور مشتبہ قرضوں کے لیے کاروباری قرض داروں کے محفوظ کی15%تک توسیع۔
مشینری میں20%کم قدری
فرم کی ساکھ کی قدر72000روپیے جانچی گئی۔سبکدوش ہوئے شراکت دار کے حصہ کا تسویہ باقی ماندہ شراکت داروں کے سرمایہ کھاتوں کے ذریعہ کیاگیا۔
نئی فرم کا سدرمایہ 120000روپیے مقرر ہوتا ہے۔
ازسرنو قدراندازی کھاتہ،شراکت داروں کے سرمایہ کھاتے اور Bکی سبکدوشی کے بعد بیلنس شیٹ تیار کیجیے۔

حل:

از سرنو قدراندازی کھاتہ

تفصیلات رقم ( روپیے ) تفصیلات رقم ( روپیے )
قرض پر پروویژن
مشینری
سرمایہ ( از سر نو اندازہ قدر پر نفع )
موہت 4,0000
نیرج 2,000
سوہن 2,000
 2,000



8,000

20,000

20,000






20,000


شراکت داروں کے سرمایہ کھاتے


تاریخ
2017
تفصیلات لیجر موہت
( روپیے )
نیرج 
( روپیے )
سوہن 
( روپیے )
تاریخ
2017
تفصیلات لیجر موہت
( روپیے )
نیرج
( روپیے ) ٰ
سوہن 
( روپیے )
31 مارچ











نیرج کا سرمایہ
بیلنس







بینک
بینک
بیلنس ( 1 ) c/d
12,000
82,000
94,000
2,000
80,000
82,000
 65,000

65,000
65,000
65,000
  
6,000



41,000
47,000
1,000
40,000
41,000
نیچے لایا گیا بیلنس








عمومی رزرو
( از سر نو اندازہ قدر )
نفع
موہت کا سرمایہ
سوہن کا سرمایہ
بیلنس b/d
80,000




10,000


4,000

94,000

82,000

82,000
40,000







5,000
2,000
12,000
6,000
65.000
65,000
65,000

40,000


5,000


2,000

47,000

41,000

41,000







31مارچ2017کو بیلنس شیٹ

ذمہ داریاں رقم ( روپیے ) اثاثے رقم ( روپیے )
دینداران
بینک کا قرض
سرمایہ
موہت
سوہن
21,000



54,000
1,20,000

1,95,000
عمارتیں
مشینری
اسٹاک
لینداران 20,000
گھٹا (-): 3,000
مشکوک قرض کے لیے محفوظ
( 1000+2000 )
1,20,000





40,000
18,000
17,000

1,95,000


بینک اکاؤنٹ

تاریخ تفصیلات لیجر رقم ( روپیے )  تاریخ تفصیلات  لیجر رقم ( روپیے )
نیچے لایا گیا
بیلنس
بینک کا قرض
14,000
54,000

68,000
2,000
1,000

65,000
68,000


یہ فرض کیا گیا کہ سبکدوش ہورہے شراکت دارکو ادائیگی کرنے کی خاطر بنک سے اوورڈرافٹ لیاگیاہے۔
موہت اور سوہن کے ذریعہ لایا جانے والا یا نکالاجانے والا نقد

( a ) نئے سرمائے ( 120000روپیے 2:1 کے تناسب میں )
( b ) موجودہ سرمایہ ( تسویات کے بعد ) شمار کیا گیا 
نقد لایا جانا ( ادا کیا جا چکا ) ہے
موہت ( روپیے ) سوہن ( روپیے )
80000
820000
2,000
40000
41000
1,000


اسے  خود کیجیے

A،BاورCشراکت دار ہیں اور نفع نقصان کو اپنے سرمائے کے تناسب میں تقسیم کرتے ہیں 31مارچ2017کو ان کی بیلنس شیٹ حسب ذیل ہے:
31مارچ2017کو بیلنس شیٹ

ذمہ داریاں  رقم ( روپیے ) اثاثے رقم ( روپیے )
قابل ادا بل
متفرق دیندار
Reserve Fund
سرمایہ: 20,000
اے 15,000
بی 15,000
سی
6,250
10,000
2,750



50,000
69,000
زمین اور عمارتیں
لینداران
گھٹا (-):
خراب قرض
قابل وصول بل
اسٹاک
پلانٹ اور مشینری
بینک میں نقد
10500
500
 12,000

10,000

7,000

15,500
11,500
13,000
69,000



Bبیلنس شیٹ کی تاریخ پر سبکدوش ہوگیا اور مندرجہ ذیل تسویات کی گئیں:
(a) اسٹاک کی قدر کو5%کم کیاگیا
(b) فیکٹری بلڈنگ کی قدر میں12%اضافہ کیاگیا
(c) محفوظ برائے مشکوک قرضات میں5%تک اضافہ کرنا ہے۔
(d) محفوظ برائے قانونی اخراجات کو265روپیے کارکھا جائے گا۔
(e) فرم کی ساکھ10,000روپیے مقرر ہوتی ہے۔
(f) نئی فرم کا سرمایہ30,000روپیے مقرر ہوتا ہے۔کاروبار کو جاری رکھنے والے شراکت دار اپنے سرمایوں کو3:2کے نئے تناسب تقسیم منافع میں رکھنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔
فرم کے سرمایہ کھاتوں میں اختتامی باقیات معلوم کیجیے اورAاورCکے ذریعہ اپنے سرمایوں کو نئے تناسب تقسیم منافع کے مطابق بنانے کے لیے لائی جانے والی رقم یا نکالی جانے والی رقم کا بھی شمار کیجیے۔
R،SاورM 3:2:1کے تناسب سے نفع نقصان میں حصہ دار ہیں 31مارچ1917کو فرم کی بیلنس شیٹ حسب ذیل تھی۔
31مارچ 2017کو بیلنس شیٹ

ذمہ داریاں رقم ( روپیے ) اثاثے رقم ( روپیے )
متفرق دینداران
سرمایہ
آر 20,000
ایس 7,500
ایم 12,500
16,000



40,000
56,000
عمارتیں
لینداران
اسٹاک
پینٹس
بینک
23,000
7,000
12,000
8,000
6,000
56,000


(a) بلڈنگ کی قدر میں8,800روپیے اضافہ کیاجانا ہے۔
(b) قرض داروں پر5%محفوظ برائے مشکوک قرضات(Prov. for Doubtful Debt)بنانا ہے۔
(c) ساکھ کی قدر9,000روپیے جانچی جانی ہے۔
(d)  Sکو 5,000روپیے فوری طور پر ادا کیے جانے ہیں اور اس کو واجب الادا باقی کو قرض مانا جانا ہے جس پر6%سالانہ کی شرح سے سود ادا کیاجائے گا۔
تشکیل نو شدہ فرم کی بیلنس شیٹ تیار کیجیے۔

4.9شراکت دار کی موت

جیسا کہ پہلے بیان کیا گیا،شراکت دار کی موت کی صورت میں کی جانے والی کھاتہ داری عمل آوری ویسی ہوتی جیسی کہ شراکت دار کی سبکدوشی کی صورت میں کی جاتی ہے۔شراکت دار کی موت کی صورت میں اس کا مطالبہ اس کے وصی(ایگزیکیوٹر) کو منتقل کردیا جاتا ہے اور اس کا نبٹارا سبکدوش ہوئے شراکت دار کی طرح کیا جاتا ہے بہر حال دونوں صورتوں میں ایک اہم فرق ہے وہ یہ کہ شراکت در کی سبکدوشی عموما منصوبہ بند ہوتی ہے اور کھاتہ داری سال کے اختتام پر اس کا نفاذ ہوتا ہے۔مگر موت کا سانحہ سال میں کسی بھی وقت پیش آسکتا ہے۔لہٰذا ،شراکت دار کی موت کی صورت میں،اس کا مطالبہ آخری بیلس شیٹ سے تاوقت موت اس کے حصہ نفع نقصان، سرمائے پر سود،نکالی گئی رقم پر سود وغیرہ پر مشتمل ہوگا۔اس میںاہم پریشانی کا تعلق متعلقہ مدت (آخری بیلنس شیٹ کی تاریخ سے لے کر شراکت دار کی موت کی تاریخ تک مدت)کے منافع کو شمار کرنے سے ہے۔چونکہ اس مدت کے لیے کتابوں کو بند کرنا اور اختتامی کھاتوں کو تیار کرنا ایک بے ڈھنگا اور تکلیف دہ عمل خیال کیا جاتا ہے۔اس لیے مرحوم شراکت دار کے حصہ منافع کا شمار گذشتہ سال کے منافع (یاگذشتہ چند سالوں کے اوسط)یا فروخت کی بنیاد پر کیا جاسکتا ہے۔
مثال کے طورپر باکل،چمپک اور درشن5:4:1کے تناسب سے ایک فرم میں حصہ دار تھے 31مارچ 2017کے اختتام پر فرم کا منافع1,00,000روپیے تھے۔30جون2016کو چمپک کی وفات ہوگئی1اپریل سے لے کر30جون2016کی مدت تک کے لیے چمپک کے حصہ منا فع کا شمار حسب ذیل طریقہ سے کیا جائے گا:
سال31مارچ2017 کے اختتام پر کل منافع=1,00,000
چمپک کا حصہ منافع:
مرحوم شراکت دار کا حصہ×تناسبی مدت×گذشتہ سال کا منافع
1,00,000=4/10 X 3/12 X 10 10,000 روپیے
حسب ذیل روزنامچہ اندراج کیا جائے گا۔
نفع اور نقصان سسپنس کھاتہ  Dr.  10,000
چمپک کے سرمایہ کھاتہ کے لیے 10,000
(چمپک کاحصہ منافع اس کے سرمایہ کھاتے میں منتقل کیا گیا)
بصورت دیگر،اگر چمپک کا حصہ منافع گذشتہ تین سالوں کے اوسط منافعوں کی بنیاد پر شمار کیاجاتا جو کہ2014-15 میں1,36,000روپیے منافع،2004-05میں1,54,000روپیے منافع اور2016-17میں1,00,000روپیے منافع تھا۔ اس صورت میں چمپک کاحصہ منافع کا شمار7اپریل2006تا30جون2006کی مدت کے لیے،گذشتہ تین سالوں کے اوسط منافع کی بنیاد پر حسب ذیل طریقہ سے کیاگیا ہوتا ۔
اوسط منافع = کل منافع  = Rs. 1,36,000=RS, 1,54,000+RS,1,00,000/3
سالوں کی تعداد
= 1,30,000= 3,90,000/3
چمپک کا حصہ منافع  = 1,3000= 3x 3/12 ماہ x 4/10
= 13,000 روپیے

لیکن اگر ،معاہدہ یہ ہو کہ مرحوم شراکت دار کا حصہ منافع فروخت کی بنیاد پر معلوم کیاجائے گا اور مذکورہ فروخت سال 2005-06کے دوران80,000روپیے اور1اپریل2006تا30جون2006فروخت 1,50,000ہو تب چمپک کے حصہ منافع کا شمار (1اپریل 2006تا30جون2006)حسب ذیل طرح سے کیاجائے گا۔
اگر فروخت 8,00,000روپیے ہے، تب منافع 1,00,000 روپیے
اگر فروخت1 روپیہ ہے ، تب منافع 1,00,000/8,00,000 روپیے
اگر فروخت 1,50,000 روپیے ہے، تب منافع 1,00,000/8,00,000x 1,50,000 روپیے
 
چمپک کا حصہ منافع =18,750  روپیے

=7,500  روپیے
روزنامچہ اندراج حسب ذیل ہوگا۔
نفع اور نقصان
Dr. Profit and Loss (Suspenses) A/c
To Deceased Partner's Capital A/c
(متعلقہ مدت کے لیے منافع کا حصہ)

مثال:18

انل،بھانو اور چندو5:3:2کے تناسب سے نفع نقصان میں حصہ تھے31مارچ2007کو ان کی بیلنس شیٹ حسب ذیل تھی۔
انل،بھانو اور چندو کی کتابیں
31مارچ2007کو بیلنس شیٹ

ذمہ داریاں رقم ( روپیے ) اثاثے رقم ( روپیے )
دیندار
رزروفنڈ
انل کا سرمایہ 30,000
شانو کا سرمایہ 25,000
چندو کا سرمایہ 15,000
11,000
6,000


70,000
87,000
عمارتیں
مشینری
اسٹاک
پینٹس
لیندارن
نقد
20,000
30,000
10,000
11,000
8,000
8,000
87,000


1،اکتوبر 2007کو انل کی وفات ہوگئی۔اس کے وارثین اور باقی ماندہ شراکت داروں میں اتفاق ہواکہ:
(a) ساکھ کی قدرگذشتہ چاربرسوں کے اوسط منافعوں کی 21/2  سال کی خریداری پر آنکی جائے گی۔گذشتہ چار برسوں کے منافع تھے:
سال13000––––2003-04روپیے،سال12000––––2004-05روپیے سال20000–––– 2005-06روپیے،سال15000––––2006-07روپیے۔
(b) پیٹنٹ کی قدر8000روپیے،مشینری کی قدر28000روپیے اور بلڈنگ کی قدر25000روپیے ہے۔
(c) سال2007-08کے منافع کے لیے قیاس کیا جائے گا کہ یہ اسی شرح پر ہوتا جیسا کہ گذشتہ برس ہوا تھا۔
(d) سرمائے پر10%سالانہ کی شرح سے سود دیا جائے گا۔
(e) انل کو واجب رقم کا آدھا فوری طورپر ادا کیاجائے گا۔
1اکتوبر کو انل کا سرمایہ کھاتہ اور انل کے وصی کا کھاتہ تیار کیجیے۔

حل:

انل،بھانو اور چندو کی کتابیں
نام ( .Dr  ) جمع ( .Cr )
تاریخ
2017
تفصیلات لیجر رقم ( روپیے ) تاریخ
2012
تفصیلات لیجر رقم ( روپیے )
1/ اکتوبر انل کا وارث 57,000







57,000
1 اپریل
17
1 اکتوبر
17
نیچے لایا گیا بیلنس /باقی
رزرو فنڈ
بھانو کا سرمایہ
چندو کا سرمایہ
نفع اور نقصان 
( سسپنس )
سرمایہ پر سود
30,000
3,000
11,250
7,500
3,750

1,500

57,000


انل کے وصی (ایگزی کیوٹر)کا کھاتہ
نام ( .Dr ) جمع ( .Dr )
تاریخ
2017
تفصیلات لیجر رقم ( روپیے ) تاریخ تفصیلات رقم ( روپیے )
1 اکتوبر بینک
لایا گیا بیلنس / باقی
28,500
28,500
57,000
انل کا سرمایہ 57,000

57,000


اشارات عمل(ورکنگ نوٹس):
ازسرنو قدراندازی کھاتہ

نام ( .Dr ) جمع ( .Cr )
تاریخ تفصیلات لیجر رقم ( روپیے ) تاریخ تفصیلات لیجر رقم ( روپیے )
پینٹ
مشینری
3,000
2,000
5,000
عمارت 5,000

5,000

اوسط منافع = 15,000+ 20,000+ 12,000+ 13,000
________________________
4
= 60,000/4 روپیے = 15,000 روپیے
ساکھ = 15,000x 5/4
=37,500 روپیے
انل کا حصہ ساکھ = 37,500 x 5/10
= 18,750 روپیے
3- منافع گذشتہ بیلنس شیٹ کی تاریخ اے موت کی تاریخ تک 
( 1, اپریل 2007 تا 1 اکتوبر 2007 ) = 6 مہینے
6 ماہ کے لیے منافع = 7,500= 15,000x 6/12 روپیے
انل کا حصہ = 3,750= 7,500x 5/10 روپیے
4- سرمائے پر سود ( 1 اپریل 2017 تا 1اکتوبر 2017 )
= 30,000 روپیے x6/12 x 10/100


 
مثال:19
موہت ،سوہن اور راہل2:2:1کے تناسب سے نفع نقصان میںحصہ دار ہیں31مارچ2007 کو ان کی بیلنس شیٹ کو دی گئی ہے۔
موہت ،سوہن اور راہل کی کتابیں
31مار چ2017کو بیلنس شیٹ

ذمہ داریاں رقم ( روپیے ) اثاثے رقم ( روپیے )
دینداران
رزرو فنڈ
سرمایہ
موہت 30000
سوہن 25000
راہل 15000
40,000
25,000






1,35,000
ساکھ
قائم اثاثے
اسٹاک
متفرق لینداران
نقد در بینک
30,000
60,000
10,000
20,000
15,000


1,35,000


15جون2007کو سوہن کی وفات ہوگئی۔شراکت نامہ کی روسے اس کے قانونی نمائندگان حسب ذیل کے مستحق ہیں:
سرمایہ کھاتہ میں باقی:
گذشتہ چار برسوں کے اوسط منافع کے تین گنے کی بنیاد پر جانچی گئی ساکھ کے حصہ۔
گذشتہ چار برسوں کیا وسط منافع کی بنیاد پر وفات کی تاریخ تک منافع میں حصہ۔
12%سالانہ کی شرح سے سرمائے پر سود۔
سال آخر31مارچ2009، 2010، 2011،2012کو بالترتیب منافع بالترتیب 15,000 روپیے، 17,000 روپیے، 19,000 روپیے،اور 13,000تھے۔
فرم نے1,25,000روپیے کی ایک مشترک زندگی پالیسی لی تھی جس کا سالانہ پریمیم ہر سال نفع نقصان کھاتے سے چارج کیا جارہا تھا۔
سوہن کے قانونی نمائندگان کو واجب رقم کی ادائیگی کی جانی تھی۔موہت اور راہل نے سوہن کے حصہ کو مساوی طورپر وصول کرکے شراکت داری جاری رکھی۔سوہن کے قانونی نمائندگان کو واجب الادا رقم معلوم کیجیے۔

حل:

موہت،سوہن اورراہل کی کتابیں
سوہن کا سرمایہ کھاتہ
نام ( .Dr ) جمع ( .Cr )
تاریخ تفصیلات لیجر رقم ( روپیے ) تاریخ
2017
تفصیلات لیجر رقم ( روپیے )
ساکھ 
سوہن کا وارث
12,000
94,158





1,06,158
1اپریل
15 جون
تفصیلات
نیچے لایا گیا بیلنس / باقی
رزرو فنڈ
موہت کا سرمایہ
راہل کا سرمایہ
نفع اور نقصان ( سسپنس )
مشترکہ لائف پالیسی
سرمایہ پر سود
25,000
10,000
9,600
9,600
1,333
50,000
625
1,06,158


اشارات عمل(ورکنگ نوٹس):
سوہن کا حصہ ساکھ=فرم کی ساکھ×
=48000روپیے x 2/5 = 192000
فرم کی ساکھ=x3اوسط منافع
2/5x3روپیے= 48000روپیے
2-نفع اور نقصان ( مشتبہ/سسپینس)
( گذشتہ بیلنس شیٹ سے وفات کی تاریخ تک منافع کا حصہ ) 3x 64,000/4
روپیے1333=64,000/4x2/5x2.5/12
3- مشترک زندگی پالیسی 125000=(Joint life policy )
سوہن کا حصہ= 125000روپیے
4- سرمائے پر سود 625=x 12/100 2.5/12 x روپیے 25000=


اسے خود کیجیے

31دسمبر 2007کو پنکی،قریشی اور راکیش کی بیلنس شیٹ حسب ذیل تھی:
31مارچ 2017کو بیلنس شیٹ

ذمہ داریاں رقم ( روپیے )  اثاثے رقم ( روپیے )
متفرق دینداران
رزرو فنڈ
سرمایہ:
پنکی 15,000
قریشی 10,000
راکیش 10,000

25,000
20,000

35,000


80,000





عمارتیں
سرمایہ کاری
لینداران
قابل وصول بل
اسٹاک
نقد
26,000
15,000
15,000
6000
12,000
6,000

80,000

شراکت نامہ کی روسے تناسب تقسیم منافع2:1:1ہے اور شراکت دار کی موت کی صورت میںاس کا وصی حسب ذیل کی ادائیگی کا مستحق ہوگا۔
(a) گذشتہ بیلنس شیٹ کی تاریخ پر اس کے سرمایہ کھاتہ کی جمع(کریڈٹ)
(b) گذشتہ بیلنس شیٹ کی تاریخ پر ریزرو میں اس کا تناسبی حصہ ۔
(c) گذشتہ3سالوں کے اوسط منافع کی بنیاد پر وفات کی تاریخ تک منافعوں میں ا س کا تناسبی حصہ مع10%۔اور
(d) بطور ساکھ،گذشتہ تین سالوں کے کل منافع میں اس کا تناسبی حصہ۔گذشتہ تین سالوں کا خالص منافع تھا:

روپیے
2013 16,000
2014 16,000
2015 15,400

1،اپریل2007کو راکیش کی وفات ہوگئی۔اس نے اپنی وفات کی تاریخ تک 5000روپیے کا روبار سے نکالے تھے۔ سرمایہ کاری (انویسٹمنٹ)کو اس کی کتابی قدر پر فروخت کر دیا گیا۔اور راکیش کے وصی(ایگزی کیوٹر)کو ادائیگی کردی گئی۔راکیش کا سرمایہ کھاتہ اور راکیش کے وصی کھاتہ تیار کیجیے۔
باب میں متعارف کرائی گئی اصطلاحات
• شراکت دار کی سبکدوشی
• شراکت دار کی موت
• فائدے کا تناسب
• مرحوم شراکت دار کا وصی
وصی کا کھاتہ

خلاصہ
نیا تناسب تقسیم منافع: نیا تناسب تقسیم منافع وہ تناسب ہوتا ہے جس میں کسی شراکت دار کی سبکدوشی یا موت کے بعد باقی ماندہ شراکت دار مستقبل کے منافع تقسیم کریں گے۔
رخصت ہوئے شراکت دار سے وصل کیاحصہ––پرانا حصہ=نیاحصہ
فایدے کا تناسب: وہ تناسب ہے باقی ماندہ شراکت دار سبکدوش ہوئے/مرحوم شراکت دار سے حصہ وصول کرچکے ہیں۔
ساکھ کا تصفیہ:بنیادی اصول یہ ہے کہ فائدے میں جانے والے شراکت دار اپنے فائدے کی حد تک ایثار کرنے والے شراکت دار کو معاوضہ ادا کرتے ہیں۔یہ ادائیگی ساکھ کے بالترتیب حصہ کے لیے ہوتی ہے۔
اگر کتابوں میں ساکھ پہلے سے دکھائی گئی ہو تب اسے تمام شراکت داروں کے سرمایہ کھاتوں کو ان کے پرانے تناسب تقسیم منافع میں ڈیبٹ کرکے خارج کیا جائے گا۔
ذمہ داریوں اور اثاثوں کی ازسرنو قدراندازی: شراکت دار کی سبکدوشی/موت کے وقت ،چند ایسے اثاثے بھی ہو سکتے ہیں جنھیں اپنی چالو قدروں پر نہیں دکھایا گیا ہو۔اسی طرح،چند ذمہ داریاں بھی ہوسکتی ہیں جنھیں ان کی اصل دین داری(جو کہ فرم کو ادا کرنی ہے) سے مختلف قدروں پر دکھایا گیا ہو۔اس کے علاوہ چند غیر مندرج اثاثے اور ذمہ داریاں بھی ہو سکتی ہیں جنھیں درج کیاجاتا ہو۔
جمع شدہ نفع /نقصانات:–ریزرو(جمع شدہ منافعوں )یا نقصانات کا تعلق تمام شراکت داروں سے ہوتا ہے۔اس لیے انھیں تمام شراکت داروں کے سرمایہ کھاتوں میں منتقل کیا جانا چاہیے۔
شراکت دارکی سبکدوشی/وفات کے وقت،باقی ماندہ شراکت دار اپنے سرمایوں کو اپنے تناسب تقسیم منافع میں رکھنے کا فیصلہ بھی کرسکتے ہیں۔

مشق کے لیے سوالات

مختصر جوابی سوالات

وہ کیا مختلف طریقے ہیں جن میں ایک شراکت دار فرم سے سبکدوش ہو سکتا ہے۔
شراکت دار کی سبکدوشی کے وقت مختلف تسویہ طلب معملات تحریر کیجیے۔
ایثار ی تناسب اور فائدے کے تناسب کے درمیان فرق کیجیے۔
شراکت دار کی سبکدوشی یا موت پر فرم اثاثوں اور ذمہ داریوں کی ازسر نو قدر اندازی کیوں کرتی ہے۔
سبکدوش ہوا/مرحوم شراکت دار فرم کی ساکھ میں حصہ کا مستحق کیوں ہوتا ہے۔

طویل جوابی سولات

سبکدوش شراکت کو ادائیگی کے طریقوں کی وضاحت کیجیے۔
آپ مرحوم شراکت دار کو قابل ادا رقم کا شمار کیسے کریں گے۔
شراکت کی سبکدوشی یا وفات کے وقت ساکھ کے تصفیہ کی وضاحت کیجیے۔
شراکت دار کی موت پر منافع میں حصہ کو شمار کرنے کے مختلف طریقوں پر بحث کیجیے۔

عددی سوالات(Numerical Questions)

اپرنا،منیشا اور سونیا شراکت دار ہیں اور3:2:1کے تناسب سے نفع نقصان تقسیم کرتی ہیں۔منیشا سبکدوش ہوتی ہے اور فرم کی ساکھ کی قدر1,80,000روپیے جانچی جاتی ہے۔اپرنا اور سونیا نے مستقبل کے منافع کو3:2کے تناسب میں تقسیم کرنے کافیصلہ کیا۔ضروری روزنامچہ اندراجات درج کیجیے(جواب ڈیبٹ اپرنا کا سرمایہ کھاتہ1,80,000روپیے سے،ڈیبٹ سونیا کا سرمایہ کھاتہ42,000روپیے سے،ڈیبٹ منیشا کا سرمایہ کھاتہ60,000روپیے سے)
سنگیتا،سروج اورشانتی2:3:5کے تناسب سے نفع نقصان میں حصہ دار ہیں۔کتابوں میں ساکھ کی قدر60,000روپیے دکھائی جارہی ہے۔سنگیتا سبکدوش ہوتی ہے اور ساکھ کی قدر90,000روپیے جانچی جاتی ہے۔سروج اورشانتی نے مستقبل کے منافعوں کو مساوی طورپر تقسیم کرنے کافیصلہ کیا ،ضروری روزنامچہ اندراجات درج کیجیے۔
ہمانشو،گگن اور نمن3:2:1کے تناسب سے نفع نقصان میں حصہ دار ہیں31مارچ2007کو نمن سبکدوش ہوتاہے۔مذکورہ تاریخ پر فرم کے مختلف اثاثے اور ذمہ داریاں حسب ذیل ہیں:
نقد10,000روپیے،بلڈنگ1,00,000روپیے،پلانٹ اور مشینری40,000روپیے،اسٹاک20,000روپیے،   قرض دار 20,000 روپیے اور سرمایہ کاری(انویسٹ منٹ)30,000روپیے۔
نمن کی سبکدوشی پر شراکت داروں کے درمیان حسب ذیل پر اتفاق ہوا۔
(i) بلڈنگ میں20%بیش قدری
(ii) پلانٹ اور مشینری میں10%کم قدری
(iii)قرض داروں پر ڈوبے اور مشکوک قرضوں کے لیے5%محفوظ تخلیق کرنا ہے۔
(iv) اسٹاک کی قدر18,000روپیے اور سرمایہ کاری کی قدر35,000روپیے جانچی گئی۔
مندرجہ بالا کے لیے ضروری روزنامچہ اندراجات درج کیجیے اور ازسر نو قدراندازی کھاتہ تیار کیجیے۔
نریش،راج کمار اور بشواجیت مساوی شراکت دار ہیں۔راج کمار نے سبکدوش ہونے کا فیصلہ کیا۔اس کی سبکدوشی کی تاریخ پر،فرم کی بیلنس شیٹ حسب ذیل کا اظہار کرتی ہے:
عمومی ریزرو36,000روپیے،اور نفع اور نقصان کھاتہ(ڈیبٹ)15,000روپیے۔
مندرجہ بالا کے لیے ضروری روزنامچہ اندراجات درج کیجیے۔
دگ وجے،برجیش اور پراکرم ایک فرم میں2:2:1کے تناسب سے نفع نقصان میں حصہ دار ہیں۔31مارچ2007کو ان کی بیلنس شیٹ حسب ذیل تھی۔


ذمہ داریاں  رقم ( روپیے )  اثاثے رقم ( روپیے )
دینداران
رزرو
دگوجے کا سرمایہ
برجیش کا سرمایہ
پراکرم کا سرمایہ
49,000
18,500
82,000
60,000
75,500

2,85,000
نقد لینداران
اسٹاک 
عمارتیں پیٹنٹ
8,000
19,000
42,000
2,07,000
9,000

2,85,000

31مارچ 2007کو برجیش حسب ذیل شرائط پر سبکدوش ہوگیا:
(i)     فرم کی ساکھ کی قدر70000روپیے جانچی گئی اور کتابوں میں اس کا اظہار نہیں کیا جانا تھا۔
(ii)    2000روپیے کے دوبے قرضات کو خارج کیا جانا تھا۔
(iii)   پیٹنٹ کی قدر کچھ نہیں رہ گئی تھی۔لہٰذا ان کی قدر کو صفر خیال کیا جانا تھا۔
ازسرنو قدراندازی کھاتہ،شراکت داروں کے سرمایہ کھاتے اوربرجیش کی سبکدوشی کے بعددگ وجے اور پراکرم کی بیلنس شیٹ تیار کیجیے۔
(جواب:ازسر نو قدراندازی پر نقصان 11,000روپیے،سرمایہ کھاتوں کی باقی:دگ وجے66333روپیے اور پراکرم 67667 روپیے۔بیلنس شیٹ کا میزان274000روپیے)
رادھا،شیلا اور مینا 3:2:1کے تناسب سے نفع نقصان میں حصہ دار تھیں1اپریل2007کوشیلافرم سے سبکدوش ہوتی ہے مذکورہ تاریخ پر بیلنس شیٹ درج ذیل ہے:


ذمہ داریاں رقم ( روپیے ) اثاثے رقم ( روپیے )
تجارتی دینداران
قابل ادا بل
اپنے خرچے
عام رزرو
سرمایہ:
رادھا: 15,000
شیلا 15,000
مینا 15,000
3,000
4,500
4,500
13,500

45,000

70,500
نقد بدست
بینک میں نقد
لینداران
اسٹاک
کارخانہ کا میدان
مشینری
کل پرزے
1,500
7,500
15,000
12,000
22,500
8,000
4,000

70,500

شرائط تھیں:
(a فرم کی ساکھ کی قدر13,000روپیے جانچی گئی۔
(b واجب الادا اخراجات(Expense owing)کو گھٹا کر 3,750روپیے تک کرنا ہے۔
(c مشینری اور ٹولس کو ان کی کتابی قدر سے 10%کم قدر پر آنکا جانا ہے۔
(d فیکٹری پر یمائسیس کی ازسرنو قدر24,300روپیے ہے۔
تیار کیجیے:
ازسر نو کھاتہ
شراکت داروں کے سرمایہ کھاتے
شیلا کی سبکدوشی کے بعد فرم کی بیلنس شیٹ
(جواب ازسرنو قدراندازی پر منافع1350روپیے،سرمایہ کھاتوں کی باقی:رادھا19,050روپیے،اور مینا16,350روپیے، بیلنس شیٹ کا میزان 71,000روپیے)
پنکج،نریش اور سبھاش3:2:1کے تناسب سے نفع نقصان میںحصہ دارہیں۔نریش اپنی بیماری کے باعث فرم سے سبکدوش ہوگیا۔اس تاریخ پر فرم کی بیلنس شیٹ حسب ذیل تھی:
پنکج،نریش اور سبھاش کی کتابیں
31مارچ 2017کو بیلنس شیٹ

ذمہ داریاں  رقم ( روپیے ) اثاثے رقم ( روپیے )
عام رزرو
متفرق دینداران
قابل اد بل
بقیہ تنخواہ
قانونی نقصانات کے لیے پرووژن
سرمایہ:
پنکج 46,000
نریش 30,000
سبھاش 20,000
12,000
15,000
12,000

2,200
6,000


96,000

1,43,200
بینک
لینداران 6,000
گھٹا (-) 400
مشکوک قرض کے لیے
اسٹاک 
فرنیچر
میدان
7,600
9,000
41,000
80,000

1,43,200

مزید معلومات
(i) پریمایسیس(Premises)میں20%بیش قدری،اسٹاک میں10%کم قدری،قرضداروں پر 5%محفوظ برائے مشکوک قرضات تخلیق کرنا ہے۔مزید برآں،1,200روپیے کا محفوظ برائے قانونی اخراجات بنانا ہے اور فرنیچر کی قدر کو بڑھا کر 450روپیے کرناہے۔
(ii) فرم کی ساکھ42,000روپیے قدرپر آنکی گئی۔
(iii) نریش کے سرمایہ کھاتہ سے 26,000روپیے اس کے قرض کھاتہ میں منتقل کرنے ہیں اور بقیہ کی ادائیگی بنک کے ذریعہ کرنی ہے اور اگر ضرورت پڑے تب ایسی صورت میں بنک سے ضروری قرض بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔
(iv) پنکج اور سبھاش کے درمیان نیا تناسب تقسیم منافع5:1طے پایا۔
ضروری لیجر کھاتے اور نریش کی سبکدوشی کے بعد نریش کی بیلنس شیٹ دیجیے۔

(جواب: ازسرنو قدراندازی پر منافع18,000روپیے،پنکج کے سرمایہ کھاتے کی باقی47,000روپیے اور سبھاش کے سرمایہ کھاتہ کی باقی25,000)
(نریش کے کھاتے میں جمع(کریڈٹ)کل رقم= 54000روپیے،بیلنس شیٹ کا میزان=154800)
پرتیک،پنکج اور پمی کاروبار میں بالترتیب2:2:1کے تناسب سے حصہ دار ہیں۔2007کو ان کی بیلنس شیٹ حسب ذیل تھی۔
پرتیک ،پنکج اور پمی کی کتابیں
31مارچ 2017کو بیلنس شیٹ

ذمہ داریاں  رقم ( روپیے ) اثاثے رقم ( روپیے )
متفرق دینداران
سرمایہ کے کھاتے
پنیت 60,000
پنکج 1,00,000
پمی 40,000
رزرو
1,00,000



2,00,000
50,000

3,50,000
بینک میں نقد
اسٹاک
متفرق لینداران
سرمایہ کاری
فرنیچر
عمارتیں
20,000
30,000
80,000
70,000
35,000

3,50,000

30ستمبر2007کو پمی کی وفات ہوگئی۔شراکت نامہ کی دفعات حسب ذیل تھیں:
(i) مرحوم شراکت دار وفات کی تاریخ تک منافع میں اپنے حصہ کا مستحق ہوگااور یہ حصہ گذشتہ سال کے منافع کی بنیاد پر شمار کیا جائے گا۔
(ii) وہ فرم کی ساکھ میں اپنے حصہ کا مستحق ہوگا جسے گذشتہ 4برسوں کے اوسط منافع کی تین سال کی خریدار کی بنیاد پر شمار کیا جائے گا۔ گذشتہ4مالی سالوں کا منافع درج ذیل ہے:
2003-04کے لیے80,000روپیے،2004-05کے لیے50,000روپیے،2005-06کے لیے40,000 روپیے اور 2006-07کے لیے 30,000روپیے۔
موت کی تاریخ تک مرحوم شراکت دار نے فرم سے 10,000روپیے کی رقم نکالی تھی۔سرمائے پر12%سالانہ کی شرح سے سود  دیا جائے گا۔باقی ماندہ شراکت داروں کے مابین طے پایاکہ مرحوم شراکت دار کے وصی کو15,400روپیے فوری طورپر ادا کردیے جائیں گے اور بقیہ رقم چار مساوی سالانہ قسطوں میں،واجب الادارقم پر 12%سالانہ کے ہمراہ ادا کی جائے گی۔
پمی کا سرمایہ کھاتہ،اور واجب الادا رقم کے نبٹارے تک اس کے وصدی کا کھاتہ دکھائیے۔
(جواب: کل واجب رقم:75400روپیے)
31مارچ2007کوپراتیک،روکی اور کوشال کی بیلنس شیٹ حسب ذیل ہے:
پرتیک،روکی اورکوشال کی کتابیں
31مارچ 2017کو بیلنس شیٹ

ذمہ داریاں رقم ( روپیے ) اثاثے رقم ( روپیے )
متفرق دینداران
عام رزرو
سرمایہ کے کھاتے:
پرتیک 30,000
راکی 20,000
کشل 20,000
16,000
16,000


70,000

1,02,000
قابل وصول بل 
فرنیچر
اسٹاک
متفرق لینداران
بینک میں نقد
بقد بدست
16,000
22,600
20,400
22,000
18,000
3,000
1,02,000

30جون2007کو روکی کی وفات ہوگئی؛ شراکت نامہ کی دفعات کے تحت،مرحوم شراکت دار کا وصی حسب ذیل کا مستحق تھا:
(a) شراکت دار کے سرمایہ کھاتہ کی جمع(کریڈٹ)رقم۔
(b) سرمائے پر5%سالانہ سود۔
(c) گذشتہ تین سالوں کے اوسط منافع کے دوگنے کی بنیاد پر ساکھ کا حصہ۔
(d) گذشتہ مالی سا لی اختتامی تاریخ سے وفات کی تاریخ تک ،پچھلے سال کے منافع کی بنیاد پر منافع کا حصہ۔
سال آخر 31مارچ2005،31مارچ2006اور31مارچ2007کا بالترتیب منافع12,000روپیے،16,000روپیے،اور14,000روپیے تھے۔منافع سرمائے کے تناسب میں تقسیم کیے جاتے تھے۔
ضروری روزنامچہ اندراجات کیجیے اور روکی کا سرمایہ کھاتہ تیار کیجیے جو کہ اس کے وصی کو سپرد کیا جائیگا۔
(جواب: دوکی کے وصی کا کھاتہ:33,821روپیے)
10۔ نارنگ،سوری اور بجاج ایک فرم میں بالترتیب1/2،1/6اور1/3کے تناسب سے حصہ دار ہیں۔1اپریل2007کو بیلنس شیٹ حسب ذیل تھی۔
سوری اور بجاج کی کتابیں
1 اپریل2015کو بیلنس شیٹ

ذمہ داریاں رقم ( روپیے ) اثاثے رقم ( روپیے )
قابل ادا بل ؎متفرق دینداران
رزرو
سرمایہ کے کھاتے:
نارنگ
سوری
بجاج
12,000
18,000
12,000


1,30,000
Free hold premises
مشینری
فرنیچر
اسٹاک
متفرق لینداران
گھٹا (-) خراب قرض کے لیے محفوظ
40,000
30,000
12,000
22,000

1,30,000
(a) فری ہولڈ پری مائی سیس(Free Hold Premises)اور اسٹاک میں بالترتیب 20%اور15%بیش قدری۔
(b) مشینری اور فرنیچر میں بالترتیب10%اور7%کم قدری۔
(c) ڈوبے قرضات کے لیے ریزرو کو 1500روپیے تک بڑھانا ہے۔
(d) بجاج کی سبکدوشی پر ساکھ کی قدر21,000روپیے جانچی گئی۔
(e) باقی ماندہ شراکت داروں کے درمیان طے پایا کہ وہ بجاج کی سبکدوشی کے بعد اپنے سرمایہ کھاتوں کا تسویہ اپنے نئے تناسب تقسیم منافع میں کریں گے۔ان کے سرمایہ کھاتوں میں اگر کوئی اضافہ/خسارہ ہوگا تو اس کا تسویہ چالو کھاتوں کے ذریعہ کیا جائے گا۔
ضروری لیجر کھاتے تیار کیجیے اور تشکیل نو شدہ فرم کی بیلنس شیٹ بنائیے۔
(جواب: ازسرنو قدراندازی پر منافع6,960روپیے،نارنگ کے سرمایہ کھاتہ میں باقی49,230روپیے اور سوری کے 16,410روپیے؛بجاج کے سرمایہ کھاتہ میںجمع(کریڈٹ)رقم41,320روپیے)
11۔ راجیش ،پرمود اور نشانت اپنے سرمایوں کے تناسب سے نفع نقصان میں حصہ تھے 31مارچ2007کو ان کی بیلنس شیٹ حسب ذیل تھی۔
راجیش،پرمود اور نشانت کی کتابیں
31مارچ2015کو بیلنس شیٹ

ذمہ داریاں رقم ( روپیے ) اثاثے رقم ( روپیے )
قابل ادا بل
متفرق دینداران
رزرو فنڈ
سرمایہ کھاتہ
راجیش
پرمود
نشانت
6,250
10,000
2,750

50,000
69,000
کارخانہ عمارت
لینداران
گھٹا (۔ ) رزرو
قابل وصول بل
 اسٹاک 
پلانٹ اور مشینری
بینک بیلنس

12,000

7,000
15,5000
11,500
13,000

69,000

پرمود بیلنس شیٹ کی تاریخ پر سبکدوش ہوگیا اور مندرجہ ذیل تسویات کی گئیں:
(a) اسٹاک کی قدر کتابی قدر سے10%کم پر آنکی گئی۔
(b) فیکٹری کی قدر کو12%زیادہ کیا گیا۔
(c) ڈوبے ہوئے قرضوں کے لیے ریزرو کو5%تک تخلیق کرنا ہے۔
(d) قانونی اخراجات کے لیے 265روپیے کا ریزرو بنانا ہے۔
(e) فرم کی ساکھ10,000روپیے پر مقرر ہوگی۔
(f) نئی فرم کا سرمایہ 30,000روپیے پر مقرر ہوگا۔باقی ماندہ شراکت دار 3:2کے نئے تناسب تقسیم منافع میں اپنے سرمایوں کو رکھنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔
روزنامچہ اندراجات کیجیے اور پرمود کے سرمایہ کھاتہ کی باقی کو اس کے قرض کھاتہ میں منتقل کرنے کے بعد تشکیل نو شدہ فرم کی بیلنس شیٹ تیار کیجیے۔
(جواب: ازسر نو قدر اندازی پر نقصان 400روپیے؛ راجیش کے سرمایہ کھاتہ میں باقی 18,940روپیے اور نشانت کے 14,705روپیے،پرمود کا قرض18,705روپیے۔بیلنس شیٹ کا میزان=65,200روپیے)
12۔ 31مارچ2002کو جین،کیتا اور ملک کی بیلنس شیٹ حسب ذیل ہے۔
جین،گیتا اور ملک کی کتابیں
31مارچ2016کو بیلنس شیٹ

ذمہ داریاں رقم ( روپیے ) اثاثے رقم ( روپیے )
متفرق دینداران
ٹیلی فون کے بقیہ بل

قابل ادا اکاونٹ
یکجا منافع
سرمایہ
جین 40,000
 گپتا 60,000
ملک 20,000
19,800
300
8,950
16,750

1,20,000
1,65,800
زمین اور عمارتیں
بانڈس
نقد
قابل وصول بل
متفرق لینداران
اسٹاک
دفتری فرنیچر
پلانٹ اور مشینری
کمپیوٹرس
26,000
14,370
5,500
23,450
26,700
18,100
18,250
20,230
13,200
1,65,800

شراکت دار5:3:2کے تناسب سے نفع نقصان میں حصہ دار تھے۔1اپریل2002کو ملک نے کاروبار سے سبکدوش ہونے کافیصلہ کیا۔اس کاحصہ اثاثوں اور ذمہ داریوں کی ازسرنو قدراندازی کی مندرجہ ذیل شرائط پر شمار کیا جانا ہے:اسٹاک 20,000 روپیے،آف فرنیچر14,250روپیے،پلانٹ اورمشینری23,530روپیے،اراضی وعمارت (Land&Building) 20,000روپیے۔
مشکوک قرضات کے لیے1,700روپیے کا محفوظ تخلیق کیا جانا ہے۔فرم کی قدر9,000روپیے آنکی گئی۔
باقی ماندہ شراکت داروں نے طے کیا کہ ملک کو سبکدوشی پر 16,500روپیے نقد ادا کیے جائیں گے۔باقی ماندہ شراکت دار اس رقم کو3:2کے تناسب میں لائیں گے۔ملک کے سرمایہ کھاتہ کی باقی کو قرض مانا جائے گا۔
ازسرنو قدر اندازی کھاتہ ،سرمایہ کھاتے اور تشکیل نو شدہ فرم کی بیلنس شیٹ تیار کیجیے۔
13۔ آرتی،بھارتی اور سیما شراکت دار ہیں اور3:2:1کے تناسب میں نفع نقصان کو تقسیم کرتی ہیں31مارچ2003کو ان کی بیلنس شیٹ حسب ذیل تھی۔
آرتی،بھارتی اور سیما کی کتابیں
31مارچ2016کو بیلنس شیٹ1اپریل2016کو بیلنس شیٹ

ذمہ داریاں  رقم ( روپیے )  اثاثے رقم ( روپیے )
قابل ادا بل
دینداران
عام رزرو
سرمایہ:
آرتی 20,000
 بھارت 12,000
سیما 8,000
12,000
14,000
12,000



40,000
78,000
عمارتیں
 نقدی ہاتھ میں
بینک
لینداران
قابل وصول بل 
اسٹاک 
سرمایہ کاری
21,00
12,000
13,700
12,000
4,300
1,750
13,250
78,000


بھارتی کی 12جون 2003کووفات ہوگئی اور اس کے شراکت نامہ کے مطابق اسے وصی حسب ذیل کی ادائیگی کے مستحق ہیں۔
(a) اس کی وفات کے وقت اس کے سرمایہ کھاتہ کی جمع(کریڈٹ)اور اس پر 10%سالانہ شرح سے سود ۔
(b) ریزرو فنڈ میں اس کا تناسبی حصہ۔
(c) متعلقہ مدت کے لیے اس کا منافع کا حصہ اس مدت کے دوران فروخت پر مبنی ہوگا۔ جوکہ 1,00,000روپیے کی شمار کی گئیں تھیں گذشتہ تین سالوں کے دوران منافع کی شرح فروخت پر10%رہی تھی۔
(d) ساکھ کا شمار اس کے منافع کے حصہ کے مطابق گذشتہ تین برسوں کے اوسط منافع کو دوگنا کرکے اور اس میں 20%کی کمی کرتے ہوئے کیا جائے گا۔گذشتہ سالوں کے منافع تھے:
8,200––––2001روپیے
9,000––––2002روپیے
9,800––––2003روپے
سرمایہ کاری(انویسٹ منٹ)16,200روپیے کی فروخت کی گئیں اور اس کے وصی کو ادائیگی کردی گئی ۔ضروری روزنامچہ اندراجات درج کیجیے اور بھارتی کے وصی کا کھاتہ تیار کیجیے۔
14۔ نتھیا،ستھیا اور متھیا5:3:2کے تناسب سے نفع نقصان میں حصہ دار ہیں31دسمبر2002کو ان کی بیلنس شیٹ حسب ذیل تھی؛
نتھیا،ستھیا اور متھیا کی کتابیں
31دسمبر2015کو بیلنس شیٹ 

ذمہ داریاں رقم ( روپیے ) اثاثے رقم ( روپیے )
دینداران
رزرو فنڈ
سرمایہ:
نتھیہ 30,000
ستھیہ 30,000
متھیہ 30,000
14,000
6,000



1,00,000
سرمایہ کاری
ساکھ
میدان
پینٹ
مشینری
اسٹاک
لینداران
بینک

10,000
5,000
20,000
6,000
30,000
13,000
8,000
8,000
1,00,000

1؍مئی 2002کو متھیا کی وفات ہوتی ہے۔متھیا کے وصی اور شراکت داروں کے درمیان طے پاتا ہے کہ :
(a) ساکھ کی قدر گذشتہ چار برسوں کے اوسط منافعوں کے(21/2) 100گنا پرجانچی جائے گی۔چار برسوں کے منافع تھے:1998میں13,000روپیے؛1999میں12,000روپیے،2000میں16,000روپیے اور2001میں15,000روپیے۔
(b) پیٹنٹ کی قدر 8,000روپیے،مشینری کی قدر25,000روپیے جانچی جانی ہے۔
(c) متھیا کے منافع کا حصہ2002کے منافع کی بنیا دپر شمار کیا جانا چاہیے۔
(d)  4,200روپیے فوری طور پر ادا کیے جائیں گے اور بقیہ 4مساوی نصف سالانہ قسطوں میں مع10%سود ادا کیا جائے گا۔
مندرجہ بالا کے اثر کو دکھانے کے لیے ضروری رووزنامچہ اندراجات کیجیے اور جب تک کہ مکمل رقم کی ادائیگی نہ ہو جائے وصی کا کھاتہ تیار کیجیے۔تسویات کا اثر دکھانے کے بعد 1مئی 2002کو نتھیا اور ستھیاکی بیلنس شیٹ بھی تیار کیجیے۔

اپنی فہم کی جانچ کے لیے فہرست

اپنی فہم کی جانچ کیجیے–––– I

1. (b)   2. (c)   3. (b)   4. (a)
اپنی فہم کی جانچ کیجیے––––– II
1. (a)   2. (a)   3. (c)   4. (b)