5
ساجھے داری فرم کی تحلیل(خاتمہ)
سیکھنے کے مقاصد
اس باب کے مطالعہ کے بعد آپ اس قابل ہوجائیں گے کہ:
◊ ساجھے دار ی فرم کے خاتمہ کا مفہوم بیان کرسکیں۔
◊ ساجھے داری کے خاتمہ اور ساجھے داری فرم کے خاتمہ کے درمیان فرق کر سکیں۔
◊ ساجھے داری فرم کے خاتمہ کے مختلف طریقوں کی تشریح کرسکیں۔
◊ تمام ساجھے داروں کے درمیان مطالبات کے نبٹارے سے متعلق اصولوں کی وضاحت کرسکیں۔
◊ وصولی کھاتہ (ریالائزیشن کھاتہ)تیار کرسکیں۔
◊ روزنامچہ اندراجات درج کرسکیں اور ساجھے داروں کے مطالبہ کے لیے نبٹارے نیز فرم کی کتابوں کو بند کرنے کے لیے لیجر کھاتوں کو تیار کرسکیں۔
آپ ساجھے دار کی شمولیت،سبکدوشی یا وفات کے باعث ساجھے داری فرم کی تشکیل نو کے بارے میں پڑھ چکے ہیں۔ایسی صورت میں جب کہ موجودہ ساجھے داری کا خاتمہ ہوجاتا ہے ساجھے دار اگر فیصلہ کریں تو اسی نام کے تحت کا روبار کو جاری رکھ سکتے ہیں۔بالفاظ دیگرایسی صورت میں ساجھے داری کا خاتمہ ہوجاتا ہے لیکن فرم کا نہیں۔پارٹنرشپ ایکٹ1932کی دفعہ 39کے مطابق ،ایک فرم کے تمام شراکت داروں کے درمیان ساجھے داری کا خاتمہ ’فرم کا خاتمہ‘کہلاتا ہے۔اس سے مراد یہ ہے کہ ایکٹ کی رو سے تمام ساجھے داروں کے درمیان تعلق کے ٹوٹنے اور چند ساجھے داروں کے درمیان تعلق کے ٹوٹنے کے درمیان فرق ہے۔اس کے مطابق تمام ساجھے داروں کے درمیان تعلق کے ٹوٹنے کو ہی شراکت داری فرم کا خاتمہ کہا جاتا ہے۔اس سے فرم کا وجود ختم ہوجاتاہے۔ خاتمہ کے بعد کوئی کاروبار نہیں کیا جاتا۔سوائے فرم کو بند کرنے کی سرگرمیوں کے۔ساجھے داروں کے مطالبات کا نبٹارا کرکے،ذمہ داریوں کو ادا کرکے اور فرم کے اثاثے کو فروخت کرکے فرم کے معاملات کو ختم کردیا جاتا ہے۔
5.1ساجھے داری کا خاتمہ
(Dissolution of Partnership)
ساجھے دار ی کے خاتمہ کے باعث ساجھے داروں کے درمیان موجودہ تعلق میں تبدیلی ہوتی ہے لیکن فرم پہلے کی طرح اپنا کاروبار جاری رکھ سکتی ہے درج ذیل صورتوں میں سے کسی بھی ایک صورت کے باعث ساجھے داری کا خاتمہ ہوسکتا ہے:
(1) ساجھے داروں کے درمیان منافع کی تقسیم کے موجودہ تناسب میں تبدیلی
(2) نئے ساجھے دار کی شمولیت
(3) ساجھے دار کی سبکدوشی
(4) ساجھے دار کی موت
(5) ساجھے دار کا دیوالیہ ہوجانا
(6) کام(Venture)کا مکمل ہوجانا جس کے لیے ساجھے داری تشکیل کی گئی ہے۔
(7) ساجھے داری کی مدت کا خاتمہ،اگر ساجھے داری ایک مذکورہ مدت کے لیے ہے۔
5.2فرم کا خاتمہ(Dissolution of a firm)
ساجھے داری فرم کا خاتمہ عدالت کے حکم یا دخل اندازی کے بغیر بھی ہو سکتا ہے خاتمہ کی یہ دیگر صورتیں اس حصہ میں آگے چل کر بیان کی گئی ہیں۔یہ بات قابل غور ہے کہ فرم کے خاتمہ کے ساتھ ساجھے داری کاخاتمہ بھی ہوجاتا ہے۔بہرحال ساجھے داروں کے خاتمہ کا مطلب فرم کا خاتمہ نہیں ہے۔
درج ذیل صورتوں میں فرم تحلیل ہوجاتی ہے:
1۔ خاتمہ ازروئے معاہدہ:فرم تحلیل ہوجاتی ہے اگر:
(a) تمام ساجھے دار رضامند ہوں
(b) ساجھے داروں کے درمیان معاہدہ ہو
2۔ لازمی خاتمہ:فرم درج ذیل صورتوں میں لازماً تحلیل کردی جاتی ہے:
(a) جب تمام ساجھے دار یا ایک کو چھوڑ کر تمام ساجھے دار دیوالیہ ہوجائیں اورکسی معاہدہ کے اوپر دستخط کرنے کی صلاحیت کھوبیٹھیں۔
(b) جب کاروبار غیر قانونی ہوجائے۔یا
(c) جب کوئی ایسا واقعہ رونما ہو جائے کہ ساجھے داری فرم کے کاروبار کو جاری رکھنا ساجھے داروں کے لیے غیر قانونی ہوجائے مثلاً جب ایک ساجھے دار جو کہ ایک ملک کا شہری ہے اپنے ملک اور بھارت کے خلاف اعلان جنگ کرنے کی وجہ سے ملک دشمن بن جائے۔
3۔ مندرجہ ذیل اتفاقات کے رونما ہونے پر:ساجھے داروں کے درمیان اگر معاہدہ ہے تو درج ذیل صورتوں میں فرم کا خاتمہ ہوسکتا ہے :
(a) جتنی مدت کے لیے فرم کی تشکیل ہوئی تھی اس مدت کی تکمیل پر۔
(b) اس مخصوص کاروباری سرگرمیاں یامنصوبہ کی تکمیل پرجس کے لیے فرم تشکیل دی گئی تھی۔
(c) ایک ساجھے دار کی موت پر۔
(d) عدالت کے ذریعہ ایک ساجھے دار نے اپنے دیوالیہ ہونے کا اعلان کردیا ہو۔
4۔ خاتمہ بذریعہ نوٹس:شراکت بالرضا(Partnership at will)کی صورت میں اگر کوئی ساجھے داردوسرے ساجھے داروں کو فرم کے خاتمہ کے ارادے کا تحریری نوٹس دے دے تو فرم ختم ہوسکتی ہے۔
5۔ خاتمہ بحکم عدالت: مندرجہ ذیل صورتوں میں اگر کوئی ساجھے دار مقدمہ دائر کردے تو عدالت ساجھے داری فرم کے خاتمہ کا حکم صادر کرسکتی ہے:
(a) جب کوئی ساجھے دار دیوانہ ہوجائے۔
(b) جب کوئی ساجھے دار ساجھے دارکی حیثیت سے اپنے فرائض کی انجام دہی کے سلسلہ میں مستقل طورپرنااہل ہوجائے۔
(c)جب ساجھے دار کا رویہ فرم کے کاروبار پرمخالف اثرات مرتب کرے۔
(d) جب کوئی ساجھے دار مستقل طورپر ساجھے داری معاہدے کی خلاف ورزی کرتا رہے۔
(e) جب ساجھے دار فرم میں اپنے تمام مفادات کو کسی تیسرے فریق کو منتقل کردے۔
(f) جب فرم کے کاروبار کو جاری رکھنے میں نقصان ہی ہو ۔
(g) جب عدالت فرم کو ختم کرنے کو جائز اور منصفانہ سمجھتی ہو۔
ساجھے داری کے خاتمہ اور فرم کے خاتمہ کے درمیان فرق
| بنیاد | ساجھے داری کا خاتمہ | فرم کی تحلیل |
| 1۔کاروبار کا خاتمہ | کاروبار کو ختم نہیں کیا جاسکتا | فرم کے کاروبار کو ختم کر دیا جاتا ہے |
| 2۔اثاثہ جات اور ذمہ داریوں کا نبٹارا | اثاثوں اور ذمہ داریوں کا ازسر نو اندازۂ قدر کیا جاتا ہے اور نئی بیلنس شیٹ بنائی جاتی ہے۔ | اثاثہ جات کو فرخت کر دیا جاتا ہے اور ذمہ داریوں کی ادائیگی کردی جاتی ہے۔ |
| 3۔عدالت کی دخل اندازی | عدالت دخل اندازی نہیں کرتی کیونکہ ساجھے داری باہمی معاہدے کے ذریعے ختم کی جاتی ہے۔ | بحک عدالت فرم کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔ |
| 4۔معاشی تعلق | تبدیل شدہ شکل میں ساجھے داروں کے درمیان معاشی تعلق جاری رہتا ہے۔ | ساجھے داروں کے درمیان معاشی تعلق کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ |
| 5۔کتابیں بند کرنا | ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ کاروبار کا خاتمہ نہیں ہوتا۔ | کھاتے کی کتابیں بند کی جاتی ہیں۔ |
اپنی فہم کی جانچ کیجیے––– I
حسب ذیل بیانات میں سے کون سے بیانات درست ہیں اور کون سے غلط ہیں وجوہات بھی لکھیے:
(1) ساجھے داری کا خاتمہ فرم کے خاتمہ سے مختلف ہوتاہے۔
(2) ساجھے دار کی موت پر ساجھے داری کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔
(3) جب تمام ساجھے دار فرم کے خاتمہ پر رضامند ہوتے ہیں تب اس کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔
(4) جب ایک ساجھے دار سبک دوش ہونے کا فیصلہ کرتا ہے تب فرم کا لازماً خاتمہ ہوجاتا ہے۔
(5) فرم کے خاتمہ کی صورت میں ساجھے داری کا بھی خاتمہ ہوجاتا ہے۔
(6) جب تما م ساجھے دار یا ایک کو چھوڑ کر تمام ساجھے دار دیوالیہ ہوجائیں تو فرم کا لازما ًخاتمہ ہوجاتا ہے۔
(7) کسی ساجھے دار کے دیوانہ ہونے پر عدالت فرم کے خاتمہ کا حکم صادر کرسکتی ہے۔
(8) عدالت کی دخل اندازی کے بغیر فرم کا خاتمہ نہیں ہوسکتا ۔
5.3حسابات کا تصفیہ(Settlement of Accounts)
فرم کے خاتمہ کی صورت میں فرم کا کاروبار بند ہوجاتا ہے اور حساب کتاب کا تصفیہ کرنا پڑتا ہے۔اس مقصد کے لیے فرم پر جس قدر مطالبات اور دعوے ہیں ان کی تکمیل کے لیے تمام اثاثے فروخت کرنے پڑتے ہیں۔اس سلسلہ میں ساجھے داری ایکٹ 1932کی دفعہ48کی شرائط کے بموجب ساجھے داروں کے درمیان حساب کتاب کے تصفیہ کے طریقوں میں درج ذیل اصولوں پر عمل کیا جاتا ہے:
(a) نقصانات کا تصفیہ
نقصانات کوبشمول سرمائے میں خسارے کے، اداکیاجائے گا
(i) اول منافع میں سے
(ii) پھر سرمائے میں سے
(iii) اور آخرمیں اگر ضرورت پڑی تو منافع کی جس تقسیم کے تناسب کے ساجھے دار حقدار تھے اس تناسب سے فرداً فرداً تمام ساجھے داروں کے ذریعے۔
(b) اثاثوں کا استعمال
فرم کے اثاثوں ،اور سرمائے کے خساروں کوپورا کرنے کے لیے ساجھے داروں کے ذریعہ لگائی گئی رقم کا استعمال حسب ترتیب اورطریقے سے کیا جائے گا۔
(i) تیسرے فریق کو فرم کے قرضہ جات کی ادائیگی کے سلسلہ میں
(ii) ہر ساجھے دار کو اس کے سرمائے کے علاوہ فرم پر واجب زرپیشگی کی ادائیگی کے سلسلہ میں یہ پیشگی ادائیگی ساجھے دار کے حصے کے تناسب سے ہی ہوتی ہے۔
(iii) ہرساجھے دار کو اس کے سرمائے کی بابت واجب رقم کی اس کے تناسب سے ادائیگی کے سلسلہ میں
(iv) بقیہ کی تمام ساجھے داروں میں اس تناسب کے مطابق تقسیم جس تناسب پر وہ منافع کے حق دار تھے۔
اس طرح،ساجھے داروں سے نیز اثاثہ جات سے وصول ہوئی رقم کا استعمال ضرورت پڑنے پر سب سے پہلے فرم کی بیرونی ذمہ داریوں جیسے قرض دار،قرضہ جات،بینک اوورڈرافٹ،واجب الادا بل وغیرہ کی ادائیگی کے لیے کیا جاتا ہے۔(یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ غیر محفوظ قرضہ جات کی نسبت محفوظ(Secured)قرضہ جات کو ترجیح دی جاتی ہے)۔بقیہ کا استعمال فرم کے ساجھے داروں کے ذریعے دیے گیے قرضہ جات اور پیشگی رقوم کی ادائیگی میں کیا جاتا ہے۔(اگر بقیہ رقم ایسے قرضہ جات اور پیشگیوں کو ادا کرنے کے لیے ناکافی ہوتی ہے تب ان کی ادائیگی تناسبی طور پر کی جاتی ہے)۔اور اباقی بچی ہوئی رقم کا استعمال تمام نفع نقصانات کے تسویہ کے بعد سرمایہ کھاتوں کے بیلنس (Balance)کے تصفیہ میں کیا جاتا ہے۔
نجی قرضہ جات اور فرم کے قرضہ جات:
جہاں فرم کے قرضہ جات اور ساجھے داروں کے نجی قرضہ جات ایک ساتھ موجود ہوں وہاں پارٹنرشپ ایکٹ کی دفعہ49کےحسب ِذیل اصول لاگو ہوں گے۔
(a) فرم کی جائیداد کا استعمال سب سے پہلے فرم کے قرضوں کی ادائیگی میں کیاجائے گااور اس کے بعد اگر سرپلس رقم بچتی ہے تو ساجھے داروں کے درمیان ان کے مطالبات کی ادائیگی کے لحاظ سےتقسیم کیا جائے گا۔جو کہ ان کی نجی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لیے استعمال ہوسکتی ہے۔
(b) کسی ساجھے دار کی نجی جائیداد کا استعمال سب سے پہلے اس کے نجی قرضوں کی ادائیگی میں کیاجائے گا اور اس کے بعداگر کوئی سرپلس رقم بچتی ہے تو اس کا استعمال فرم کے قرضوں کی ادائیگی کے لیے کیا جاسکتا ہے۔ یہ اس صورت میں ہوگا جب کہ فرم کی ذمہ داریاں اس کے اثاثوں سے زیادہ ہوں۔
یہاں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ساجھے دار کی جائیداد میں اس کی بیوی اور بچوں کی ذاتی جائیداد شامل نہیں ہوتی۔اس طرح اگر فرم کے اثاثے فر م کی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لیے ناکافی ہوں تو ایسی صورت میں ساجھے داروں کو اپنے خالص نجی اثاثے نفی نجی ذمہ داریوں میں سے رقم لگانی پڑے گی۔
اگر ساجھے دار خسارے کو پورا کرنے کے لیے رقم لانے سے قاصر ہو
ساجھے داروں کے درمیان کھاتوں کے نبٹارے کے حوالے سے ایک اور پہلو بھی قابل ذکر ہے۔ وہ یہ کہ ساجھے داراپنے سرمایہ کھاتے کے خسارے (کھاتہ آخر میں ڈیبٹ بیلنس دکھارہا ہو)کے لیے رقم لانے سے قاصرہو۔ایسی صورت میں اسے دیوالیہ کہا جاتا ہے اورناقابل وصول رقم کو فرم کا سرمایہ جاتی نقصان(Capital Loss)مانا جاتا ہے۔کسی معاہدے کی غیر موجودگی میں ایسا سرمایہ جاتی نقصان باقی ماندہ ساجھے داروں کو گارنر بنام مورے کیس(Garner Vs Murray Case) میں طے شدہ اصول کے مطابق برداشت کرنا ہوتا ہے۔ اس اصول کے تحت فرم کے خاتمہ کی تاریخ پر ایسانقصان صاحب مقدرت(Solvent)ساجھے داروں کو اپنے سرمایوں کے تناسب میں برداشت کرنا پڑتا ہے۔ بہرحال ،ساجھے داروں کے دیوالیہ ہونے کے باعث ساجھے داری کے خاتمہ سے متعلق کھاتہ داری عمل درآمد کو اس مرحلہ پرذکرنہیں کیا جارہا۔
5.4کھاتہ داری کی تدبیر (Accounting Treatment)
جب فرم کا خاتمہ ہوجاتا ہے تو اس کے بہی کھاتوں کو بند کردیا جاتا ہے اور اثاثوں کی وصولی اور ذمہ داریوں کی ادائیگی سے ہونے والےنفع نقصان کو شمار کیا جاتا ہے۔ اس مقصد کے لیے،ذمہ داریوں کی ادائیگی اور اثاثوں کی وصولی کا خالص اثر(نفع یا نقصان)معلوم کرنے کے لیے وصولی کھاتہ(Realisation account)تیار کیا جاتا ہے جسے ساجھے داروں کے سرمایہ کھاتے میں ان کے تناسب تقسیم منافع کے مطابق منتقل کیا جا سکتا ہے۔لہٰذا تمام اثاثوں(نقد در دست ،بینک بیلنس اور دیگر غیر حقیقی اثاثوں کو چھوڑ کر )اور تمام بیرونی ذمہ داریوں کو اس کھاتے پر منتقل کیا جاتا ہے۔اس میں اثاثوں کی فروخت،ذمہ داریوں کی ادائیگی اور وصولی اخراجات کو بھی درج کیا جاتا ہے۔ اس کھاتہ میں بیلنس کو وصول ہونے پر نفع یا نقصان کہاجاتا ہے جسے ساجھے داروں کے سرمایہ کھاتوں میں ان کے تناسب تقسیم منافع میں منتقل کیا جاتا ہے(شکل 5.1 دیکھیے)
وصولی کھاتہ(Realisation A/c)
| تفصیلات | رقم(روپیے) | تفصیلات | رقم(روپیے) |
| غیر مرئی اثاثے | ××× | بینک قرض رہن |
××× |
| زمین اور عمارت | ××× | متفرق قرض خواہ |
××× |
| پلانٹ اور مشینری | ××× | واجب الادابل | ××× |
| فرنیچر اور فٹنگ | ××× | بینک اوورڈرافٹ | ××× |
| دیگر ساجھے داروں کو قرض | ××× | بقایا اخراجات | ××× |
| قابل وصول بل | ××× | مشکوک قرضہ جات کے لیے محفوظ | ××× |
| متفرق قرض دار | ××× | کیش/بینک(اثاثوںکی فروخت) | ××× |
| کیش/بینک |
ساجھے دار کا سرمایہ کھاتہ | ××× | |
| (ذمہ داریوں کی ادائیگی) | ××× | (ساجھے دار کے ذریعے لیے گئے اثاثے) | ××× |
| کیش/بینک |
نقصان (ساجھے داروں کے سرمایہ کھاتہ کو منتقل کیا گیا) | ××× | |
| (غیر اندراج شدہ ادائیگی) |
نقصان(سرمایہ کاری اتار چڑھاؤ فنڈ) | ××× | |
| ساجھے دار کا سرمایہ کھاتہ | ××× | ××× | |
| سرمایہ کاری | ××× | ||
| (ساجھے دار کے ذریعے مان لی گئی ذمہ داری) |
|||
| منافع( ساجھے داروں کے سرمایہ کھاتوں کو منتقل کیا گیا ان کے منافع کی تقسیم تناسب میں) | ××× | ||
| کل | ×××××× | ×××××× |
شکل5.1: وصولی کھاتہ کا خا کہ
اپنی فہم کی جانچ کیجیے––– II
درست جواب پر (ü)نشان لگایئے۔
1۔ فرم کے خاتمہ پر،بینک اوور ڈرافٹ کو منتقل کردیا جاتا ہے۔
(a) نقد کھاتے میں
(b) بینک کھاتے میں
(c) وصولی کھاتے میں
(d) ساجھے دارکے سرمایہ کھاتہ میں
2۔ فرم کے خاتمہ پر ساجھے دار کے قرض کھاتے کو منتقل کردیاجاتا ہے۔
(a) وصولی کھاتہ میں
(b) ساجھے دارکے سرمایہ کھاتے میں
(c) ساجھے دار کے چالو کھاتے میں
(d) مندرجہ بالا میں سے کوئی نہیں
3۔ ادائیگی سے متعلق معلومات کی غیر موجودگی میں، واجب الادا بلوں اور قرض خواہ جیسی ذمہ داریوں کووصولی کھاتے پر منتقل کرنے کے بعد،ایسی ذمہ داریوں کو مانا جاتا ہے:
(a) بالکل ادانہیں کی گئیں
(b) مکمل ادا کی گئیں
(c) جزوی طورپر اداکی گئیں
(d) مندرجہ بالا میں سے کوئی نہیں
4۔ جب ساجھے دار کی طرف سے فرم کے ذریعہ وصولی اخراجات ادا کیے جاتے ہیں تب ایسے اخراجات کو ڈیبٹ کیا جاتا ہے:
(a) وصولی کھاتے سے
(b) ساجھے دار کے سرمایہ کھاتے سے
(c) ساجھے دار کے قرض کھاتہ سے
(d) مندرجہ بالا میں سے کوئی نہیں
5۔ جب کسی ساجھے دارکے ذریعہ غیر مندرج اثاثے لیے جاتے ہیں تب انھیں دکھایا جاتا ہے۔
(a) وصولی کھاتے کے ڈیبٹ میں
(b) بینک کھاتے کے ڈیبٹ میں
(c) وصولی کھاتہ کی کریڈٹ میں
(d) بینک کھاتہ کی کریڈٹ میں
6۔ غیر مندرج ذمہ داریوں کی جب ادائیگی کی جاتی ہے تب انھیں دکھایا جاتا ہے۔
(a) وصولی کھاتہ کے ڈیبٹ میں
(b) بینک کھاتہ کے ڈیبٹ میں
(c) وصولی کھاتہ کی کریڈٹ میں
(d) بینک کھاتہ کی کریڈٹ میں
7۔ جمع شدہ منافعے اور ریزرو منتقل کیے جاتے ہیں۔
(a) وصولی کھاتے میں
(b) ساجھے داروں کے سرمایہ کھاتوں میں
(c) بینک کھاتے میں
(d) مندرجہ بالا میںسے کوئی نہیں
8۔ فرم کے خاتمہ پر ساجھے دار کے سرمایہ کھاتوں کو بند کیا جاتا ہے۔
(a) وصولی کھاتے کے ذریعہ
(b) نکالی گئی رقم(ڈرائنگس)کھاتے کے ذریعہ
(c) بینک کھاتے کے ذریعہ
(d) قرض کھاتے کے ذریعہ
مثال:1
سپریا اور مونیکا 3:2کے تناسب سے نفع نقصان میں حصہ دار ہیں۔31مارچ2007کو ان کی بیلنس شیٹ مندرجہ ذیل ہے۔
31مارچ 2017کو سپریا اور مونیکا کی بیلنس شیٹ
| ذمہ داریاں | رقم(روپیے) | اثاثہ جات | رقم(روپیے) |
| سپریا کا سرمایہ | 32,500 | کیش بینک میں | 40,500 |
| مونیکا کا سرمایہ | 11,500 | اسٹاک | 7,500 |
| متفرق قرض خواہ | 48,000 | متفرق قرض دار21,500 | |
| جنرل ریزرو | 13,500 | نفی:مشکوک قرضہ جات کے لیے محفوظ 500 | 21,000 |
| قائم اثاثے | 36,500 | ||
| 1,05,500 | 1,05,500 |
31مارچ 2020کو فرم کا خاتمہ ہوگیا۔فرم کی کتابوں کو حسب ذیل معلومات پر عمل کرتے ہوئے بند کیجیے:
(i) قرض داروں سے%5 کی کٹوتی پر وصولیابی ہوئی۔
(ii) اسٹاک سے7,000روپیے وصول ہوئے۔
(iii) قائم اثاثہ جات(Fixed Assets)سے42,000روپیے وصول ہوئے۔
(iv) وصولی پر1,500روپیے اخراجات ہوئے۔
(v) قرض خواہوں(لین داروں )کو مکمل ادائیگی کردی گئی۔فرم کے خاتمہ کے وقت ضروری اندراجات ریکارڈ کیجیے۔
حل:
سپریا اور مونیکا کی کتابیں
وصولیابی کھاتہ(Realisation A/c)
| 2017 تاریخ | تفصیلات | L.F. | ڈیبٹ رقم( روپیے) | کریڈٹ رقم (روپیے) |
| 31مارچ |
وصولیابی کھاتہ .Dr اسٹاک کھاتہ سے متفرق دین دار(مقروض) کھاتہ سے قائم اثاثے کھاتہ سے (اثاثے وصولیابی کھاتہ کو منتقل ) |
65,500 |
7,500 21,500 36,500 |
|
| 31مارچ 2017 |
متفر ق لین دار کھاتہ .Dr مشکوک ڈیبٹ کھاتہ کے لیے بندوبست .Dr وصولیابی کھاتہ سے (واجبات وصولیابی کھاتہ میں منتقل ) |
48,000 500 |
48,500 | |
| 31مارچ 2017 |
بینک کھاتہ .Dr وصولیابی کھاتہ سے (اثاثے وصول ) |
69,425 |
69,425 | |
| 31مارچ 2017 |
وصولیابی کھاتہ .Dr بینک کھاتہ سے (مہاجنوں(Creditors) اور وصولیابی کے خرچوں کی ادائیگی ) |
49,500 |
49,500 |
|
| 31مارچ 2017 |
وصولیابی کھاتہ .Dr سپریا کے سرمایہ کھاتہ سے مونیکا کے سرمایہ کھاتہ سے ( وصولیابی نفع شراکت داروں کے سرمایہ کھاتے میں منتقل) |
2,925 |
1,755 1,170 |
|
| 31مارچ 2017 |
جنرل ریزرو کھاتہ .Dr سپریا کے سرمایہ کھاتے سے مونیکا کے سرمایہ کھاتے سے (شراکت داروں کے سرمایہ کھاتوں میں منتقل وصولیابی نفع) |
13,500 |
8,100 5,400 |
|
| 31مارچ 2017 |
سپریا کا سرمایہ کھاتہ .Dr مونیکا کا سرمایہ کھاتہ بینک کھاتے سے (شراکت داروں کے لیے واجب الادا فائنل کھاتے) |
42,355 18,070 |
60,425 |
سُپریا اور مونیکا کی کتابیں
وصولیابی کھاتہ
نام (Dr.) جمع(Cr.)
| تفصیلات | رقم (روپیے) | تفصیلات | رقم(روپیے) | |
| اثاثے منتقل : |
مشکوک قرضوں کے لیے بندوبست | 500 | ||
| اسٹاک | 7,500 |
متفرق لین دار | 48,000 | |
| متفرق دین دار (مقروض) | 21,500 |
بینک | ||
| قائم اثاثے | 36,500 | دین دار (مقروض) 20,425 | ||
| بینک | اسٹاک 7,000 | |||
| متفرق لین دار | 48,000 | قائم اثاثے 42,000 | 69,425 | |
| وصولیابی خرچے | 1,500 | |||
| منافع کو منتقل کیا گیا : | ||||
| سُپریا کے سرمایہ میں 1,755 | 42,000 | |||
| مونیکا کے سرمایہ میں 1,170 | 2,925 | |||
| 1,17,925 | 1,17,925 |
ساجھے داروں کے کھاتے
نام (Dr.) جمع(.Cr)
| تاریخ | تفصیلات | لیجرصفحہ |
سپریا (روپیے) | مونیکا (روپیے) | تاریخ | تفصیلات | لیجر صفحہ | سپریا (روپیے) | مونیکا (روپیے) |
| بینک | 42,335 | 18,070 | بیلنسb/d | 32,500 | 11,500 | ||||
| ریزرو فنڈ | 8,100 | 5,400 | |||||||
| وصولی(نفع) | 1,755 | 1,170 | |||||||
| 42,355 | 18,070 | 42,355 | 18,070 |
5.4.1 روزنامچہ اندراجات
1۔ اثاثوں کو منتقل کرنے کے لیے
نقد،بینک اور قرض اثاثوں کے کوچھوڑکر تمام اثاثوں کے کھاتے اپنی کتابی قدر پر وصولی کھاتے کے ڈیبٹ میں منتقل کرکے بند کردیے جاتے ہیں۔یہاں یہ بات یا د رکھنی چاہیے کہ قرض داروں(Debtors)کو ان کی کل قدر پر منتقل کیا جا تا ہے اور محفوظ برائے مشکوک قرضہ جات(Provision for Deoubtful Debts)کو ذمہ داریوں کے ہمراہ وصولی کھاتے کی جمع (کریڈٹ)میں منتقل کرتے ہیں۔اگر محفوظ برائے فرسودگی کھاتہ بھی دکھایا گیا ہے تب ایسا ہی عمل قائم اثاثوں کے ساتھ بھی کیا جائے گا۔
وصولی کھاتہ .Dr
اثاثہ کھاتہ کے لیے
2۔ ذمہ داریوں کو منتقل کرنے کے لیے
تمام خارجی ذمہ داری کھاتوں بشمول محفوظات کو وصولی کھاتہ کی جمع(کریڈٹ)میں منتقل کرکے بند کیا جاتا ہے
ذمہ داری کھاتہ (انفرادی) .Dr
وصولی کھاتہ کے لیے
3۔ اثاثہ جات کی فروخت کے لیے
بینک کھاتہ .Dr ] اسی قدر کے ساتھ
وصولی کھاتہ کے لیے
4۔ ساجھے دارکے ذریعہ لیے گئے اثاثہ پر
ساجھے داروں کا سرمایہ کھاتہ .Dr ] اسی رقم پر جس پر اثاثہ کو لیا گیا ہے۔
وصولی کھاتہ کے لیے
5۔ ذمہ داریوں کی ادائیگی پر
وصولی کھاتہ .Dr ] اس رقم کے ساتھ جس پر فیصلہ کیا گیا ہے۔
بینک کھاتہ کے لیے
6۔ جب ساجھے دار فرم کی طرف سے ذمہ داری کی ادائیگی کرنے پر رضامند ہوتو اندراج یہ ہوتا ہے
وصولی کھاتہ .Dr
ساجھے داروں کے سرمایہ کھاتہ کے لیے
7۔ اثاثہ کی منتقلی سے لین دار کا نبٹارا
جب ایک لین دار(قرض خواہ) اپنے کھاتہ کے مکمل نبٹارے کے طور پر کوئی اثاثہ قبول کرلیتا ہے تو روزنامچہ اندراج درج کرنے کی ضرورت ہوتی ہے لیکن اگر ایک لین دار اپنے واجبات کی جزوی ادائیگی کی صورت میں کوئی اثاثہ قبول کرتا ہے تب صرف نقد ا دائیگی کا اندراج کیا جائے گا مثلاً ایک قرض خواہ کے10,000روپیے واجب تھے وہ 8,000روپیے کی مالیت کے بقدر دفتر کا سازوسامان قبول کرلیتا ہے اور 2,000روپیے اسے نقد ادا کیے جاتے ہیں۔صرف2,000روپیے کی نقدادائیگی کے لیے حسب ذیل روزنامچہ اندراج ہوگا۔
وصولی کھاتہ .Dr
بینک کھاتہ کے لیے
اگر کوئی لین دار(قرض خواہ)ایسا اثاثہ قبول کرلے جس کی قیمت اس کی واجب الادا رقم سے زیادہ ہوتو وہ اس زیادہ رقم کی نقد ادائیگی کرے گا اور اس کا اندراج اس طرح ہوگا۔
بینک کھاتہ .Dr
وصولی کھاتہ کے لیے
8۔ وصولی اخراجات کی ادائیگی کے لیے
(a)جب ذمہ داریوں کی ادائیگی اور اثاثوں کی وصولی کے عمل میں فرم چند اخراجات اٹھاتی اور ادا کرتی ہے:
وصولی کھاتہ .Dr
بینک کھاتہ کے لیے
(b) جب فرم کی طرف سے وصولی اخراجات کی ادائیگی ساجھے دار کے ذریعہ کی جاتی ہے۔
وصولی کھاتہ .Dr
ساجھے دارں کے سرمایہ کھاتہ کے لیے
(c) جب ساجھے دار ایک طے شدہ معاوضہ پر فرم کے خاتمہ کے کام کو انجام دینے پر رضامند ہوتا ہے اور وصولی اخراجات برداشت کرتا ہے:
(i) اگر وصولی اخراجات کی ادائیگی فرم کے ذریعہ کی جاتی ہے
ساجھے داروں کے سرمایہ کھاتہ .Dr
بینک کھاتہ کے لیے
(ii) اگر ساجھے دار خود ہی وصولی اخراجات کی ادائیگی کرتا ہے،تب کوئی اندراج نہیں کیاجاتا
نوٹ: اس بارے میں خرچوں کی ادائیگی کون کرے گا،اطلاع نہ ہونے کی صورت میں یہ امر مضمر ہوتا ہے کہ خرچے وہ ساجھے دار ادا کرے گا جو متفق ہوگا۔
9۔ ایسے ساجھے دار کو طے شدہ معاوضہ کے لیے جو خاتمہ کے فیصد پر راضی ہو
وصولی کھاتہ .Dr
ساجھے داروں کے سرمایہ کھاتہ کے لیے
10۔کسی بھی غیر مندرج اثاثہ بشمول ساکھ کی وصولی پر
بینک کھاتہ .Dr
وصولی کھاتہ کے لیے
11۔ کسی بھی غیر مندرج ذمہ داری کے نبٹارے کے لیے
وصولی کھاتہ .Dr
بینک کھاتہ کے لیے
12۔ وصولی پر ہوئے نفع اور نقصان کو منتقل کرنے کے لیے
(a)وصولی پر اگر نفع ہوا (Cr بیلنس)
وصولی کھاتہ .Dr
ساجھے داروں کے سرمایہ کھاتہ کے لیے(فرداً فرداً)
(b) وصولی پر اگر نقصان ہوا (Drبیلنس)
ساجھے داروں کا سرمایہ کھاتہ .Dr
وصولی کھاتہ کے لیے
13۔کسی فرم کے ذریعہ پارٹنر کے ساتھ قرض کے تصفیہ کے لیے
بینک کھاتہ .Dr
ساجھے دار کے لیے قرض کھاتہ سے
14۔ ریزرو فنڈ یا عمومی ریزرو کی شکل میں جمع شدہ (Accumulated) منافعوں کی منتقل کے لیے:
جنرل ریزرو کھاتہ .Dr
ساجھے داروں کا سرمایہ کھاتہ کے لیے(انفرادی طور پر)
15۔ غیرحقیقی اثاثہ جات کو ساجھے داروں کے سرمایہ کھاتوں میں ان کے تناسب تقسیم منافع میں منتقل کرنے کے لیے:
ساجھے داروں کا سرمایہ کھاتہ .Dr
غیر حقیقی اثاثہ کھاتہ کے لیے
16۔ ساجھے داروں کو واجب الادا قرض کی دائیگی کے لیے:
ساجھے داروں کا سرمایہ کھاتہ .Dr
بینک کھاتہ کے لیے
17۔ ساجھے داروں کے کھاتوں کے نبٹارے کے لیے:
اگر ساجھے دارکا سرمایہ کھاتہ ڈیبٹ بیلنس ظاہر کرتا ہے تو وہ ضروری نقد لائے گا اور روزنامچہ اندراج حسب ذیل ہوگا۔
بینک کھاتہ .Dr
ساجھے داروں کا سرمایہ کھاتہ کے لیے
جس ساجھے دارکا سرمایہ کھاتہ کریڈٹ بیلنس ظاہرکرتا ہے اسے ادائیگی کی جاتی ہے روزنامچہ اندراج حسب ذیل ہوتا ہے۔
ساجھے داروں کا سرمایہ کھاتہ .Dr
بینک کھاتہ کے لیے
اہم بات یہ ہے کہ آخر میں ساجھے داروں کوواجب الادا کل رقم نقد اور بینک کھاتوں میں دستیاب رقم کے برابر ہونی چاہیے۔اس طرح فرم کےتحلیل ہونے کی صورت میں فرم کے تمام کھاتے بند ہوجاتے ہیں۔
مثال:2
سیتا،ریتا اور میتا2:2:1کے تناسب سے نفع نقصان میں حصہ دار ہیں۔31مارچ 2017کو ان کی بیلنس شیٹ حسب ذیل ہے۔
31مارچ2017کو سیتا ،ریتا اور میتا کی بیلنس شیٹ
| ذمہ داریاں | رقم (روپیے) | اثاثہ جات | رقم(روپیے) |
| جنرل ریزرو | 2,500 | کیش بینک میں | 2,500 |
| کریڈیٹر | 2,000 | اسٹاک | 2,500 |
| سرمایہ: | فرنیچر | 1,000 | |
| سیتا 5,000 | قرض دار | 2,000 | |
| ریتا 2,000 | پلانٹ اور مشینری | 4,500 | |
| میتا 1,000 | 8,000 | ||
| 12,500 | 12,500 |
انہوں نے فرم کو تحلیل کرنے کا فیصلہ کیا۔مندرجہ ذیل رقوم کی وصولیابی ہوئی۔پلانٹ ومشینری 4,250؛اسٹاک 3,500؛ اورقرض دار1,850روپیے،فرنیچر 750روپیے۔
سیتا نے تمام وصولی اخراجات برداشت کرنے پر رضامندی ظاہرکی۔اس خدمت کے لیے سیتا کو 60روپیے ادا کیے گئے۔وصولی پر حقیقی اخراجات450روپیے کے ہوئے۔لین داروں کو %2کم ادائیگی کی گئی۔ غیر مندرج اثاثہ250روپیے کا تھا جو کہ ریتا نے 200روپیے میں لے لیا۔
فرم کی کتابوں کو بند کرنے کے لیے ضروری کھاتے تیار کیجیے۔
حل:
سیتا،ریتا اور میتا کی کتابیں
وصولی کھاتہ
نام (.Dr) جمع(.Cr)
| تفصیلات | رقم(روپیے) | تفصیلات |
رقم(روپیے) |
| اسٹاک | 2,500 | قرض خواہ | 2,000 |
| فرنیچر | 1,000 | ریتا کا سرمایہ | 200 |
| قرض دار | 2,000 | [غیر مندرج اثاثے] | 200 |
| پلانٹ اور مشنری | 4,500 | بینک [وصول شدہ اثاثے] | |
| بینک(قرض خواہ) | 1,960 | پلانٹ اور مشینری 4,250 | |
| سیتا کا سرمایہ (ریلائزیشن اخراجات) | 60 | قرض دار 1,850 | |
| منافع منتقل کیا گیا: | اسٹاک 3,500 | ||
| سیتا کا سرمایہ 212 | فرنیچر 750 | 10,350 | |
| ریتا کا سرمایہ 212 | |||
| میتاکا سرمایہ 106 | 530 | ||
| 12,550 | 12,750 |
ساجھے داروں کے سرمایہ کھاتے
نام (.Dr) جمع(.Cr)
| تاریخ |
تفصیلات | لیجر | سیتا (روپیے) |
ریتا (روپیے) |
میتا (روپیے) |
تاریخ | تفصیلات | لیجر | سیتا (روپیے) |
ریتا (روپیے) |
میتا (روپیے) |
| 31 مارچ |
بینک | 450 | 31 مارچ |
بیلنسb/d | 5,000 | 2,000 | 1,000 | ||||
| ریلائزیشن(اثاثے) | 200 | ریزروفنڈ | 1,000 | 1,000 | 500 | ||||||
| بینک | 5,822 | 3,012 | 1,606 | ریلائزیشن(نفع) | 212 | 212 | 106 | ||||
| ریلائزیشن (اخراجات) |
60 | –– |
–– | ||||||||
| 6,272 | 3,212 | 1,606 | 6,272 | 3,212 | 1,606 |
بینک کھاتہ
نام(.Dr) جمع(.Cr)
| تاریخ | تفصیلات | لیجر | رقم(روپیے) | تاریخ | تفصیلات | لیجر | رقم(روپیے) |
| بیلنسb/d | 2,500 | ریلائزیشن(قرض خواہ) | 1,960 | ||||
| سیتا کا سرمایہ (اخراجات) | 450 | ||||||
| سیتا کاسرمایہ | 5,822 | ||||||
| ریلائزیشن( وصول شدہ اخراجات) | 10,350 | ریتا کا سرمایہ | 3,012 | ||||
| میتا کا سرمایہ | 1,606 | ||||||
| 12,850 | 12,850 |
مثال:3
ویبھا، شوبھا اور انوبھا کی شراکت داری فرم کے تحلیل ہونے پر مندرجہ ذیل صورتوں میں جرنل اندراجات تیار کیجیے :
(a) تحلیلی اخراجات 6,500 روپیے
(b) تحلیلی اخراجات 7,800 روپیے انوبھا کے ذریعے ادا کیے گئے ۔
(c) ویبھا کو تحلیل کے عمل کی دیکھ بھال کے لیے مقرر کیا گیا اور اس کے لیے اس کو 12,000روپیے دیے گئے ۔
(d) شوبھا کو تحلیل کے کام کی دیکھ بھال کے لیے مقرر کیا گیا اور اس کے لیے 5,000روپیے منظور کیے گئے وہ تحلیل کے اخراجات
برداشت کرنے پر رضا مند ہو گئی ۔تحلیل کے حقیقی اخراجات اس نے ادا کیے 11,800
(e) انوبھا کو تحلیل کے عمل کی دیکھ بھال کے لیے 12,000روپیے کی رقم منظور کی گئی ۔ وہ بھی تحلیل کے اخراجات برداشت کرنے پر رضا مند ہے ۔ فرم نے تحلیل کے 9,500روپیے حقیقی اخراجات کے طور پر ادا کئے ۔
(f) تحلیل کے عمل کی دیکھ بھال کے لیے انوبھا کو 8,500روپیے منظور کیے گئے ۔وہ 6,000 روپیے تحلیل کے اخراجات کے طور پر دینے کو رضا مندہے۔اس نے واقعی اخراجات کے لیے جو رقم دی وہ 7,600روپیے
(g) ویبھا کو تحلیل کے عمل کی دیکھ بھال کے لیے مقرر کیا گیا اور اس کے لیے 14,000روپیے کی رقم منظور کی گئی ۔ وہ اپنی رقم کی ادائیگی کے طور پر 13,000روپیے کی کتابی قدر (Book Value)کی سرمایہ کاری کو قبول کرنے کے لیے رضا مند ہے۔ سرمایہ کاریوں کو پہلے ہی وصولیابی کھاتہ میں منتقل کر دیا گیا ہے۔
ویبھا ،شوبھا اور انوبھا کی کتاب
| تاریخ 2017 |
تفصیلات | L.F. | ڈیبٹ رقم روپیے | کریڈٹ رقم روپیے |
| (a) | وصولیابی کھاتہ .Dr نقد /بینک کھاتہ سے (فرم کے ذریعہ ادا شدہ تحلیل کے اخراجات) |
6,500 |
6,500 | |
| (b) | وصولیابی کھاتہ .Dr انوبھا کے سرمایہ کھاتے سے (انوبھا کے ذریعہ ادا شدہ اخراجات تحلیل) |
7,800 |
7,800 | |
| (c) | وصولیابی کھاتہ .Dr ویبھا کے سرمایہ کھاتہ سے (منظور شدہ رقم دے دی گئی ) |
12,000 |
12,000 | |
| (d) | (i) وصولیابی کھاتہ .Dr شوبھا کے سرمایہ کھاتہ سے (تحلیل کے عمل کی دیکھ بھال کے لیے منظور شدہ رقم شوبھا کو دے دی گئی ) |
15,000 |
15,000 | |
| (e) | (i) وصولیابی کھاتہ .Dr انوبھا کے سرمایہ کھاتہ سے (انوبھا کے لیے رقم منظور ) |
12,000 |
12,000 | |
| (ii) انوبھا کا سرمایہ کھاتہ .Dr نقد /بینک کھاتہ سے فرم کے ذریعہ ادا کیا گیا اور انوبھا کے ذریعہ برداشت کیا گیا امونریشن ) |
9,500 |
9,500 | ||
| (f) | (i) وصولیابی کھاتہ .Dr انوبھا کے سرمایہ کھاتے سے (انوبھا کے لیے قابل ادائیگی ایمونریشن) |
8,500 | 8,500 | |
| (ii) وصولیابی کھاتہ .Dr انوبھا کے سرمایہ کھاتہ سے (فرم کی طرف سے انوبھا کے ذریعہ تحلیل کے اخراجات ادا شدہ ) |
1,600 |
1,600 | ||
| (g) | کوئی اندراج نہیں |
مثال4
نینا اور عروشی مساوی تناسب سے نفع نقصان میں حصہ دار تھیں۔31مارچ2007کو ان کی بیلنس شیٹ حسب ذیل تھی۔
ٍٍ 31مارچ2017کو نینا اور عروشی کی بیلنس شیٹ
| ذمہ داریاں | رقم(روپیے) | اثاثہ جات | رقم(روپیے) |
| سرمایے: | بینک | 30,000 | |
| نینا 1,00,000 | قرض دار | 25,000 | |
| عروشی 50,000 | 1,50,000 | اسٹاک | 35,000 |
| قرض خواہ | 20,000 | فرنیچر | 40,000 |
| عروشی کا چالو کھاتہ | 10,000 | مشینری | 60,000 |
| کاریگروں کا معاوضہ ریزرو کھاتہ | 15,000 | نینا کا موجودہ کھاتہ | 10,000 |
| بینک اوورڈرافٹ | 5,000 | ||
| 2,00,000 | 2,00,000 |
مندرجہ بالا تاریخ پر فرم تحلیل کردی گئی:
1۔ نینا نے%50اسٹاک اس کی کتابی قدر سے%10کم پر لے لیا اور بقیہ اسٹاک%15فائدے پر فروخت کر دیا گیا۔فرنیچر اور مشینری سے بالترتیب30,000روپیے اور 50,000روپیے وصول ہوئے۔
2۔ غیر مندرج سرمایہ کاری(34,000Investment)رویے پر فروخت کردی گئی ۔
3۔ قرض داروں سے صرف%90وصولی ہوئی۔گذشتہ سال خارج کیے گئے(Written off) ڈوبے قرضوں سے 1,200روپیے وصول ہوئے۔
4۔ مرمت(Repair)کے لیے ایک واجب الا دابل تھا جس کے لیے2,000روپیے ادا کرنے پڑے۔
ضروری روزنامچہ اندراجات درج کیجیے اور فرم کی کتابوں کو بند کرنے کے لیے لیجر کھاتے تیار کیجیے۔
حل:
نینا اور عروشی کی کتابیں
روزنامچہ(جرنل)
نام (.Dr) جمع(.Cr)
| تاریخ 2017 |
تفصیلات | لیجر صفحہ | ڈیبٹ رقم(روپیے) | کریڈٹ رقم(روپیے) |
| وصولی کھاتہ ٍ .Dr لینداران کھاتہ کے لیے اسٹاک کھاتہ کے لیے فرنیچر کھاتہ کے لیے مشینری کھاتہ کے لیے (اثاثہ جات وصولی کھاتہ پر منتقل کیے گئے) |
1,60,000 |
25,000 35,000 40,000 60,000 |
||
| دینداران کھاتہ .Dr بینک کا قرض کھاتہ .Dr وصولی کھاتہ کے لیے (ذمہ داریاں وصولی کھاتہ پر منتقل کی گئیں) |
20,000 5,000 |
25,000 | ||
| وصولی کھاتہ .Dr بینک کھاتہ کے لیے (لین داروں،بینک اوورڈرافٹ،واجب الادا بل کی ادائیگی کی گئی) |
27,000 |
27,000 | ||
| بینک کھاتہ .Dr وصولی کھاتہ کے لیے (اثاثہ جات فروخت ہوئے اور ڈوبے قرضہ جات سے وصولی ہوئی) |
1,57,825 |
1,57,825 | ||
| نینا کا چالو کھاتہ .Dr وصولی کھاتہ کے لیے (نینا نے آدھا اسٹاک %10کم پر لیا) |
15,750 |
15,750 |
||
| وصولی کھاتہ .Dr نینا کے چالو کھاتہ کے لیے عروشی کے چالو کھاتہ کے لیے (وصولی پر ہوئے منافع کو ساجھے داروں کے چالو کھاتوں میں منتقل کیا گیا ) |
15,575 |
5,788 5,787 |
||
| ورکمین ریزرو فنڈ .Dr نینا کے سرمایہ کھاتہ کے لیے عروشی کے سرمایہ کھاتہ کے لیے (معاوضہ فنڈ کو ساجھے داروں کے چالو کھاتوں میں منتقل کیا گیا) |
15,000 |
7,500 7,500 |
||
| عروشی کا چالو کھاتہ .Dr عروشی کے سرمایہ کھاتہ کے لیے (چالو کھاتہ کا بیلنس سرمایہ کھاتے میں منتقل کیا گیا) |
23,287 |
23,287 |
||
| نینا کا سرمایہ کھاتہ نینا کے چالو کھاتہ کے لیے (چالو کھاتہ کابیلنس سرمایہ کھاتہ میں منتقل کیا گیا) |
12,462 |
12,462 |
||
| نینا کا سرمایہ کھاتہ .Dr عروشی کا سرمایہ کھاتہ .Dr بینک کھاتہ کے لیے (ساجھے داروں کو واجب الا دا رقم کی ادائیگی کی گئی) |
87,538 73,287 |
1,60,825 |
وصولی کھاتہ
نام (.Dr) جمع(.Cr)
| تفصیلات | رقم(روپیے) | تفصیلات | رقم(روپیے) |
| قرض دار 25,000 | قرض خواہ | 20,000 |
|
| اسٹاک 35,000 |
بینک اوورڈرافٹ | ||
| فرنیچر 40,000 |
بینک: | ||
| مشینری 60,000 |
1,60,000 | سرمایہ کاری 34,000 | |
| بینک: | فرنیچر 30,000 | ||
| قرض خواہ 20,000 | مشینری 50,000 | ||
| بینک اوور ڈرافٹ 5,000 | قرض دار (%90) 22,500 | ||
| آؤٹ اسٹینڈنگ بل 2,000 | 27,000 | اسٹاک: 20,125 | |
| نفع منتقل کیا گیا : | ڈوبے قرضے 1,200 | 1,57,825 | |
| نینا کا سرمایہ 5,788 | نینا کا سرمایہ | ||
| عروشی کاسرمایہ 5,787 | 11,575 | (اسٹاک لے لیاگیا) | 15,750 |
| 1,98,575 | 1,98,575 |
ساجھے داروں کے چالو کھاتے
| تاریخ 2017 |
تفصیلات | لیجر صفحہ |
نینا (روپیے) |
عروشی (روپیے) |
تاریخ 2017 |
تفصیلات | لیجر صفحہ |
نینا (روپیے) |
عروشی(روپیے) |
| بیلنسb/d | 10,000 | بیلنسb/d | 10,000 | ||||||
| ریلائزیشن | 15,750 | کاریگروں کا معاوضہ ریزرو | 7,500 | 7,500 | |||||
| عروشی کا سرمایہ | 23,287 | ریلائزیشن(نفع) | 5,788 | 5,787 | |||||
| نینا کا سرمایہ | 12,462 | –– | |||||||
| 25,750 | 23,287 | 25,750 | 23,287 |
ساجھے دار کے سرمایہ کھاتے
نام (.Dr) جمع(.Cr)
| تاریخ 2017 |
تفصیل | جرنل صفحہ |
نیتا | عروشی | تاریخ 2017 |
تفصیل | جرنل صفحہ |
نیتا | عروشی |
| نینا کا چالو کھاتہ | 12,462 | بیلنسb/d | 1,00,000 | 50,000 | |||||
| بینک | 87,538 |
73,287 | عروشی کا چالو کھاتہ | 23,287 | |||||
| 1,00,000 |
73,287 |
1,00,000 | 73,287 |
بینک کھاتہ
نام (.Dr) جمع(.Cr)
| تاریخ | تفصیل | جرنل صفحہ | رقم(روپیے) | تاریخ | تفصیل | جرنل صفحہ | رقم(روپیے) |
| بیلنسb/d | 30,000 | وصولی | 27,000 | ||||
| وصولی | 1,57,825 | نینا کاسرمایہ | 87,538 | ||||
| عروشی کا سرمایہ | 73,287 | ||||||
| 1,87,825 | 1,87,825 |
اپنی فہم کی جانچ کیجیے—— III
صحیح الفاظ منتخب کرکے خالی جگہیں بھریے۔
1۔ تمام اثاثے(کیش/بینک اور مصنوعی(Fiction)اثاثوں کو چھوڑ کر…(وصولی کھاتہ/سرمایہ کھاتہ)کی…(کریڈٹ/ ڈیبٹ) جانب(مساوی تناسب/تقسیم منافع کے تناسب)میں مشکل کیے جاتے ہیں۔
2۔ تمام…(داخلی/خارجی)ذمہ داریاں…بینک/وصولی)کھاتے کی…(کریڈٹ/ڈیبٹ)جانب مشکل کی جاتی ہیں۔
3۔ جمع شدہ(Accumulated)نقصانات…(مساوی تناسب/تقسیم منافع کے تناسب) میں…(وصولی/سرمایہ کھاتوں)میں منتقل کیے جاتے ہیں۔
4۔ اگر ساجھے دار کسی ذمہ داری کو قبول کرلیتا ہے توایسے ساجھے دار کا سرمایہ کھاتہ…(ڈیبٹ/کریڈٹ)کردیاجاتا ہے۔
5۔ اگر کوئی ساجھے دار کسی اثاثے کو لے لیتا ہے تو ایسے ساجھے دار کا سرمایہ کھاتہ…(کریڈٹ/ڈیبٹ)کردیاجاتا ہے۔
6۔ جب ایک…(ساجھے دار/قرض خواہ)ایک قائم اثاثے کو اپنے واجبات کے عوض قبول کرلیتا ہے تو کسی اندراج کی ضرورت نہیں ہوتی۔
7۔ جب کوئی قرض خواہ ایسا اثاثہ قبول کرلیتا ہے جس کی قدر اس رقم سے زیادہ ہے جو اس کے لیے واجب الادا ہے تو وہ اس زائد رقم کو…(ادا کرے گا/ ادا نہیں کرے گا)
8۔ جب کوئی فرم کسی ساجھے دار کو وصول کے کام کی ایک مقررہ رقم ادا کرنے پر راضی ہوجاتی ہے چاہے خرچ کردہ حقیقی رقم کچھ بھی ہو تو ایسی مقررہ رقم…(وصولی/سرمایہ)کھاتے میں ڈیبٹ کردی جاتی ہے اور …(سرمایہ /بینک)کھاتے میں کریڈٹ کردی جاتی ہے۔
9۔ ساجھے دار کے لون کا وصولی کھاتے میں…منتقل کیاجاتا ہے/نہیں کیا جاتا )ہے۔
10۔ ساجھے دارکے چالو کھاتے ساجھے دار کے …(لون/سرمایہ)کھاتوں میں منتقل کردیے جاتے ہیں۔
مثال:5
31مارچ2017کو اشونی اور بھارت کی بیلنس شیٹ حسب ذیل ہے:
31مارچ2017کو اشونی اور بھارت کی بیلنس شیٹ
| ذمہ داریاں | رقم(روپیے) | اثاثے | رقم(روپیے) |
| قرض خواہ | 76,000 | کیش بینک میں | 17,000 |
| مسز اشونی کا لون | 10,000 | اسٹاک | 10,000 |
| مسز بھارت کا لون | 20,000 | سرمایہ کاری | 20,000 |
| سرمایہ کاری اتارچڑھاؤریزرو | 2,000 | قرض دار 40,000 | |
| جنرل ریزرو | 20,000 | نفی: مشکوک قرضہ جات کے لیے محفوظ 4,000 | 36,000 |
| سرمائے : | عمارتیں | 70,000 | |
| اشونی 20,000 | ساکھ | 15,000 | |
| بھرت 20,000 | 40,000 | ||
| 1,68,000 | 1,68,000 |
مندرجہ بالا تاریخ پر فرم تحلیل کردی گئی۔حسب ذیل طے شدہ لین دین رونماہوئے:
(i) اشونی نے مسز اشونی کے قرض کی ادائیگی کا وعدہ کیا اور 8,000روپیے میں اسٹاک لے لیا۔
(ii) بھارت نے آدھی سرمایہ کاری Investment 10%کم پرلی۔قرض داروں سے38,000روپیے وصول ہوئے۔قرض خواہوں(لین داروں) کو 380روپیے کم ادا کیے گئے۔بلڈنگ سے 1,30,000روپیے وصول ہوئے۔ ساکھ کو12,000 روپیے میں اور بقیہ سرمایہ کاری کو 9,000روپیے میں فروخت کیا گیا۔ایک پرانا ٹائپ رائٹر جو کہ کتابوں میں د رج نہیں تھا اسے بھارت نے600روپیے میں لے لیا۔2,000روپیے کے وصولی اخراجات ہوئے۔
وصولی کھاتہ،ساجھے داروں کے سرمایہ کھاتے اور بینک کھاتہ تیار کیجیے۔
حل:
اشونی اور بھارت کی کتابیں
وصولی کھاتہ
نام (.Dr) جمع(.Cr)
| تفصیلات | رقم (روپیے | تفصیلات | رقم (روپیے | |
| سرمایہ کاری | 20,000 |
مشکوک قرضوں کا محفوظ۱ | 4,000 | |
| قرض دار | 40,000 | قرض خواہ | 76,000 | |
| عمارات | 70,000 | مسز اشونی کا لون | 10,000 | |
| اسٹاک | 10,000 | مسز بھارت کالون | 20,000 | |
| ساکھ | 15,000 | 155,000 | سرمایہ کاری اتارچڑھاؤریزرو | 2,000 |
| اشونی کا سرمایہ (مسزاشونی کالون) | 10,000 | اشونی کا سرمایہ (اسٹاک) | 8,000 | |
| بھارت کا سرمایہ(ٹائپ رائٹر) | 600 | |||
| بینک (مسز بھارت کا لون) | 20,000 | بھارت کا سرمایہ(سرمایہ کاری) | 9,000 | |
| بینک (قرض خواہ) | 75,620 | |||
| بینک(ریلائزیشن اخراجات) | 2,000 | بینک: | ||
| منافع منتقل کیا گیا : | سرمایہ کاری 9,000 |
|||
| اشونی کاسرمایہ | 27,990 | قرض دار 38,000 | ||
| بھارت کاسرمایہ | 27,990 | 55,980 | عمارات 1,30,000 | 1,89,000 |
| 3,18,600 | ساکھ 12,000 | 3,18,600 |
اجھے داروں کے سرمایہ کھاتے
نام (.Dr) جمع(.Cr)
| تاریخ 2017 |
تفصیلات | لیبر | اشونی (روپیے) | بھارت (روپیے) | تاریخ 2017 |
تفصیلات | لیبر | اشونی (روپیے) | بھارت (روپیے) |
| وصولی | 8,000 | - | بیلنس b/d جنرل ریزرو وصول ( مسز اشونی کا لون) وصولی ( منافع) | 20,000 | 20,000 | ||||
| (اسٹاف) | - | 600 | 10,000 | 10,000 | |||||
| وصولی ٹائپ رائٹر کی فروخت) | - | 9,000 | 10,000 | - | |||||
| (وصولی سرمایہ کاری) | 27,990 | 27,990 | |||||||
| بینک | 59,990 | 48,390 | |||||||
| 67,990 | 57,990 | 67,990 | 57,990 |
بینک کھاتہ
| تاریخ 2017 |
تفصیلات | لیجرفولیو | رقم (روپیے | تاریخ 2017 |
تفصیلات | لیجر | رقم (روپیے) |
| بیلنسb/d ریلائزیشن |
17,000 1,89,000 |
ریلائزیشن قرض خواہ ریلائزیشن( اخراجات) ریلائزیشن (مسزبھارت کالون) اشونی کاسرمایہ بھارت کاسرمایہ |
75,620 2,000 20,000 59,990 48,390 |
||||
| 2,06,000 |
2,06,000 |
اسے خود کیجیے
ساجھے داری فرم کے خاتمہ کی صورت میں، حسب ذیل کے لیے روز نامچہ اندراجات درج کیجیے۔
1- اثاثہ کھاتوں کو بند کرنے کے لیے
2- ذمہ داری کھاتوں کو بند کرنے کے لیے
3- اثاثوں کی فروخت کے لیے
4- اثاثوں کو ایک قرض خواہ کی طرف منتقل کرکے اس کام کا نبٹارا کرنے کے لیے
5- اگر فرم کی جانب سے حقیقی اخراجات ساجھے دار کے ذریعہ ادا کیے گئے ہوں تو ایسی صورت میں اخراجات کی وصولی کے لیے
6- ساجھے دار کے ذریعہ فرم کی ذمہ داری کی ادائیگی پر
7- ساجھے دار کے قرض کی ادائیگی کے لیے
8- سرمایہ کھاتوں کے نبٹارے کے لیے
مثال:6
سونیا، روہت اور اُدت 5:3:2کے تناسب سے نفع نقصان میں حصہ دار ہیں۔31مارچ 2017کو ان کی بیلنس شیٹ حسب ذیل تھی:
31مارچ 2017کو سونیا، روہت اور اُدت کی بیلنس شیٹ
| ذمہ داریاں | رقم (روپیے) | اثاثہ جات | رقم (روپیے) |
| قرض خواہ | 30,000 | عمارتیں | 2,00,000 |
| قابل ادا بل | 30,000 | مشینری | 40,000 |
| بینک قرض | 1,20,000 | اسٹاک | 1,60,000 |
| سونیا کے شوہر کا قرض | 1,30,000 | قابل وصول بل | 1,20,000 |
| جنرل ریزرو | 80,000 | فرنیچر | 80,000 |
| سرمایے : | نقد بینک میں | 60,000 | |
| سونیا 70,000 | |||
| روہت 90,000 | |||
| ادت 1,10,000 | 2,70,000 | ||
| 6,60,000 | 6,60,000 |
مندرجہ بالا تاریخ پر فرم کا خاتمہ ہوگیا۔ درج ذیل معلومات کے ساتھ فرم کی کتابوں کو بند کیجیے۔
1- بلڈنگ سے 1,90,000روپیے وصول ہوئے، قابل ِ وصول بلوں سے1,10,000روپیے وصول ہوئے۔ اسٹاک سے 1,50,000روپیے وصول ہوئے ۔ مشینری سے48,000روپیے اور فرنیچر سے 75,000روپیے وصول ہوئے۔
2- 130,000روپیے میں بینک کے قرض کا نبٹارا کیا گیا۔ لین داروں اور قابلِ ادا بلوں کی%10کٹوتی پر ادائیگی کی گئی۔
3- روہت نے 10,000روپیے کے وصولی اخراجات(Realisation Expenses) کی ادائیگی کی جس کے لیے 12,000روپیے کا معاوضہ دیا گیا۔
ضروری لیجر کھاتوں کو تیار کیجیے۔
حل:
سونیا ، روہت اور اُدت کی کتابیں
وصولی کھاتہ
نام (.Dr) جمع(.Cr)
| تفصیلات | رقم (روپیے) | تفصیلات | رقم (روپیے) | |
| عمارات | 2,00,000 | قرض خواہ | 30,000 | |
| مشینری | 40,000 | واجب الادا بل | 30,000 | |
| اسٹاک | 1,60,000 | بینک کالون | 1,20,000 | |
| قابل وصول بل | 1,20,000 | سونیا کے شوہرکالون | 1,30,000 | |
| فرنیچر | 80,000 | 6,00,000 | بینک : | |
| بینک(بینک لون) | 1,30,000 | عمارات 1,90,000 | ||
| بینک (قرض خواہ اور واجب الادابل) | 54,000 | قابل وصول بل1,10,000 | ||
| بینک (سونیاکے شوہرکا لون) | 1,30,000 | اسٹاک1,50,000 | ||
| روہت کا سرمایہ | 12,000 | مشینری48,000 | ||
| (وصولی اخراجات) | فرنیچر75,000 | 5,73,000 | ||
| خسارہ سرمایہ کھاتوں میں منتقل کیاگیا: | ||||
| سونیا 21,500 | ||||
| روہت 12,900 | ||||
| اُدت 8,600 | 43,000 | |||
| 9,26,000 | 9,26,000 |
ساجھے داروں کے سرمایہ کھاتے
نام (Dr) جمع(Cr)
| تاریخ 2017 |
تفصیلات | لیجر | سونیا (روپیے) | روہت (روپیے) | اُدت (روپیے) | تاریخ 2017 |
تفصیلات | لیجر | سونیا (روپیے) | روہت (روپیے) | اُدت (روپیے) |
| ریلائزیشن(خسارہ) بینک |
21,500 88,500 |
12,900 1,13,100 |
8,600 1,17,400 |
بیلنسb/d ریلائزیشن (اخراجات) جنرل ریزرو |
70,000 - 40,000 |
90,000 12,000 24,000 |
1,10,000 - 16,000 |
||||
| 1,10,000 |
1,26,000 | 1,26,000 | 1,10,000 | 1,26,000 | 1,26,000 |
بینک کھاتہ
| تاریخ 2017 | تفصیلات | لیجر | رقم (روپیے) | تاریخ 2017 | تفصیلات | لیجر | رقم (روپیے) |
| بیلنسb/d | 60,000 | ریلائزیشن(بینک لون) | 1,30,000 | ||||
| ریلائزیشن(اثاثے وصول) | 5,73,000 | ریلائزیشن(قرض خواہ اورواجب الادا بل) | 54,000 | ||||
| ریلائزیشن(سونیا کے شوہرکا لون) | 1,30,000 | ||||||
| سونیا کا سرمایہ | 88,500 | ||||||
| روہت کاسرمایہ | 1,13,100 | ||||||
| اُدت کا سرمایہ | 1,17,400 | ||||||
| 6,33,000 | 6,33,000 |
نوٹ:روہت کے ذریعہ کیے گیے وصولی اخراجات کے لیے فرم کی کتابوں میں کوئی اندراج نہیں کیا گیا کیونکہ اسے 12,000روپیے معاوضہ کے طور پر مل گئے ہیں۔
مثال:7
رومیش اور بھون 3:2کے تناسب سے نفع نقصان میں حصہ دار ہیں ۔31مارچ2017کو ان کی بیلنس شیٹ حسب ذیل تھی۔
31مارچ 2017کو رومیش اور بھون کی بیلنس شیٹ
| ذمہ داریاں | رقم (روپیے) | اثاثہ جات | رقم (روپیے) |
| بینک لون | 60,000 | بینک میں کیش | 30,000 |
| قرض خواہ | 80,000 | قرض دار | 70,000 |
| واجب الادابل | 40,000 | اسٹاک | 2,00,000 |
| بھون کالون | 20,000 | سرمایہ کاری | 1,40,000 |
| سرمایے: | عمارات | 60,000 | |
| رومیش 1,00,000 | |||
| بھون 2,00,000 | 3,00,000 | ||
| 5,00,000 | 5,00,000 |
انہوں نے فرم کو تحلیل کرنے کا فیصلہ کیا۔ درج ذیل معلومات دستیاب ہیں:
1- قرض دارو ں سے% 5کم وصول ہوئے۔ اسٹاک کتابی قدر پر وصول ہوا۔ اور بلڈنگ کو 51000پر فروخت کیا گیا۔
2- معلوم یہ ہوا کہ 10,000روپیے کی سرمایہ کاری (Investment)درج نہیں کی گئی تھی۔ اسے اس رقم پر ایک لین دار (Creditor) نے قبول کرلیا۔ دوسرے لین داروں کو10% کی کٹوتی پر ادائیگی کی گئی۔ قابلِ ادا بلوں کی پوری ادائیگی کی گئی۔
3- رومیش نے چند سرمایہ کاریاں (Investments)روپیے 8.100 (کتابی قدر سے %10کم) پر لے لیں۔ بقیہ سرمایہ کاریاں بھون نے کتابی قدر کے %90پر 900روپیے کی کٹوتی کرکے لے لیں۔
4- بھون نے بینک قرض ایک سال کے سود کے ساتھ ادا کیا جو کہ %6سالانہ تھا۔
5- 5,000روپیے کی ایک غیر مندرج ذمہ داری کی ادائیگی کی گئی۔
فرم کی کتابوں کو بند کیجیے اور ضروری لیجرکھاتوں کو تیار کیجیے۔
حل:
رومیش اور بھون کی کتابیں
وصولی کھاتہ
نام (.Dr) جمع(.Cr)
| تفصیلات | رقم (روپیے) | تفصیلات |
رقم (روپیے) | ||
| قرض دار | 70,000 | بینک لون |
60,000 | ||
| اسٹاک | 2,00,000 | قرض خواہ | 80,000 | ||
| سرمایہ کاری | 1,40,000 | واجب الادابل | 40,000 | ||
| عمارات | 60,000 | 4,70,000 | رومیش کا سرمایہ(سرمایہ کاری) | 8,100 | |
| واجب الادا بل | 40,000 | بھون کا سرمایہ(سرمایہ کاری) | 1,17,000 | ||
| بینک (قرض خواہ) | 63,000 | بینک | |||
| بھون کاسرمایہ(لون سے سود) | 63,6,00 | قرض دار 66,5,00 | |||
| اسٹاک 2,00,000 | |||||
| عمارات 51,000 | |||||
| خسارہ منتقل کیاگیا: | |||||
| بینک (غیر مندرج ذمہ داری) | 5,000 | رومیش کے سرمایہ میں11,400 | |||
| بھون کے سرمایہ میں7,600 | 19,000 | ||||
| 6,41,600 | 6,41,600 |
ساجھے داروں کے سرمایہ کھاتے
| تاریخ 2017 |
تفصیلات | لیجرفولیو | اشونی (روپیے) | بھارت (روپیے) | تاریخ 2017 |
تفصیلات | لیجرفولیو | اشونی (روپیے) | بھارت (روپیے) |
| ریلائزیشن(سرمایہ کاری) | 8,100 | 1,17,000 | بیلنسb/d | 1,00,000 | 2,00,000 | ||||
| ریلائزیشن | 11,400 | 7,600 | ریلائزیشن (بینک لون) | 63,600 | |||||
| (خسارہ)بینک | 80,500 | 1,39,000 | |||||||
| 1,00,000 | 2,63,600 | 1,00,000 | 2,63,600 |
بینک کھاتہ
نام (.Dr) جمع(.Cr)
| تاریخ 2017 |
تفصیلات | لیجرفولیو | رقم (روپیے | تاریخ 2017 |
تفصیلات | لیجرفولیو | رقم (روپیے |
| بیلنسb/d | 30,000 | ریلائزیشن(قرض دار) | 63,000 | ||||
| ریلائزیشن(اثاثے وصول) | 3,17,500 | ریلائزیشن (غیر مندرج ذمہ داری) | 5,000 | ||||
| بھون کا لون |
20,000 | ||||||
| ریلائزیشن(واجب الادابل) | 40,000 | ||||||
| رومیش کاسرمایہ | 80,500 | ||||||
| بھون کا سرمایہ | 1,39,000 | ||||||
| 3,47,500 | 3,47,500 |
نوٹ: اصولوں کے مطابق لین دار کے ذریعہ اپنی جزوی ادائیگی کے طور پر غیر مندرج سرمایہ کاری کو قبول کرنے کا اندراج نہیں کیا گیا۔
مثال:8
سونو اور آشو3:1کے تناسب سے نفع نقصان میں حصہ دار ہیں۔ انہوں نے فرم کو تحلیل کرنے کا فیصلہ کیا۔ 31مارچ 2017کی بیلنس شیٹ حسب ذیل ہے۔
31مارچ 2017کو سونو اور آشو کی بیلنس شیٹ
| ذمہ داریاں | رقم (روپیے) | اثاثہ جات | رقم (روپیے) |
| قرض | 12,000 | بینک میں نقد | 15,000 |
| قرض خواہ | 18,000 | اسٹاک | 45,000 |
| سرمایہ: | فرنیچر | 16,000 | |
| سونو 1,10,000 | قرضدار | 70,000 | |
| آشو 68,000 | 1,78،000 | پلانٹ اور مشینری | 52,000 |
| آشو سے قرض | 10,000 | ||
| 2,08,000 | 2,08,000 |
سونو نے 60,000روپیے کی طے شدہ قدر پر پلانٹ اور مشینری کو لے لیا ۔ اسٹاک اور فرنیچر بالترتیب 42,000 روپیے اور13,900 روپیے پر فروخت کردیے گئے ۔ قرض داروں کو 69,000روپیے پر آشو نے لے لیا۔ لین داروں کی 900روپیے کٹوتی پر ادائیگی کردی گئی۔ سونو قرضوں کی ادائیگی کرنے پر رضا مند ہوگیا۔ 1,600روپیے کے وصولی اخراجات ہوئے۔
وصولی کھاتہ،بینک کھاتہ اور ساجھے داروں کے سرمایہ کھاتے تیار کیجیے ۔
حل:
سونو اور آشو کی کتابیں
وصولی کھاتہ
نام(.Dr) جمع(.Cr)
| تفصیلات | رقم (روپیے) | تفصیلات | رقم (روپیے) |
| اسٹاک | 45,000 | لون | 12,000 |
| فرنیچر | 16,000 | قرض خواہ | 18,000 |
| قرض دار | 70,000 | سونوکاسرمایہ | 60,000 |
| پلانٹ اور مشینری | 52,000 | (پلانٹ اور مشینری) | |
| بینک(قرض خواہ) | 17,100 | آشوکاسرمایہ(قرض دار) | 69.000 |
| سونو کا سرمایہ(لون) | 12,000 | بینک: | |
| بینک(ریلائزیشن اخراجات) | 1,600 | اسٹاک 42,000 | |
| منافع کو منتقل کیاگیا: | فرنیچر 13,9000 | 55,900 | |
| سونو کے سرمایے میں 9,00 | |||
| آشو کے سرمایہ میں 300 | 1,200 | ||
| 2,14,900 |
2,14,900 |
ساجھے داروں کے سرمایہ کھاتے
| تاریخ 2017 |
تفصیلات | لیجر فولیو | سونو (روپیے) | آشو (روپیے) | تاریخ 2017 |
تفصیلات | لیجر فولیو | سونو (روپیے) | آشو (روپیے) |
| ریلائزیشن | 60,000 | بیلنسb/d | 1,10,000 | 68,000 | |||||
| پلانٹ اور مشینری | ریلائزیشن(لون) | 12,000 | |||||||
| ریلائزیشن(قرض دار) | 69,000 | ریلائزیشن(نفع) | 900 | 300 | |||||
| بینک | 62,900 | بینک | 700 | ||||||
| 1,22,900 | 69,000 | 1,22,900 | 69,000 |
بینک کھاتہ
نام (.Dr) جمع(.Cr)
| تاریخ 2017 |
تفصیلات | لیجر | رقم (روپیے | تاریخ 2017 |
تفصیلات | لیجر | رقم (روپیے |
| بیلنسb/d | 15,000 | وصولی(قرض خواہ) | 17,100 | ||||
| ریلائزیشن | 55,900 | وصولی اخراجات | 1,600 | ||||
| (اثاثے وصول ہوئے) | سونو کا سرمایہ | 62,900 | |||||
| آشو کو قرض | 10,000 | ||||||
| آشوکاسرمایہ | 7,00 | ||||||
| 81,600 | 81,600 |
مثال:9
انجو، منجو اور سنجو 3:1:1کے تناسب سے نفع نقصان میں حصہ دار ہیں ۔ انہوں نے اپنی فرم کو تحلیل کرنے کا فیصلہ کیا۔ 31مارچ 2006کو ان کی صورتحال حسب ذیل ہے۔
31مارچ2017 کو انجو،منجو اور سنجو کی بیلنس شیٹ
نام (.Dr) جمع(.Cr)
| ذمہ داریاں | رقم (روپیے) | اثاثہ جات | رقم (روپیے) |
| قرض خواہ | 60,000 | بینک میں کیش | 35,000 |
| اسٹاک | 15,000 | اسٹاک | 83,000 |
| سرمایے: | فرنیچر | 12,000 | |
| انجو 2,75,000 |
قرض دار 2,42,000 | ||
| منجو 1,10,000 |
|||
| سنجو 1,00,000 |
48,5,000 | نفی؛مشکوک قرضہ جات کے لیے پروویژن 12,000 | 2,30,000 |
| سنجو کا لون | 20,000 | عمارتیں | 2,00,000 |
| 5,80,000 | 5,80,000 |
یہ طے ہوا کہ:
1- انجو 10,000روپیے پر فرنیچر اور2,00,000روپیے کے قرض داروں کو1,85,000روپیے میں لے لے گا ۔ انجو لین داروں کی ادائیگی کرنے پر بھی رضا مند ہوئی۔
2- منجو نے اسٹاک کتابی قدر پر اور بلڈنگ کتابی قدر سے %10 کم پر لے لی۔
3- سنجو نے بقیہ قرض داروں کو کتابی قدر کے %80پر لے لیا اور قرض کی ادائیگی کرنے کی ذمہ داری لی۔
4- فرم کو تحلیل کرنے کا خرچ 2,200 روپیے ہوا۔
وصولی کھاتہ، بینک کھاتہ اور ساجھے داروں کے سرمایہ کھاتے تیار کیجیے۔
حل:
انجو، منجو اور سنجو کی کتابیں
وصولی کھاتہ
نام (.Dr) جمع(.Cr)
| تفصیلات | رقم (روپیے | تفصیلات | رقم (روپیے |
| اسٹاک 83,000 | مشکوک قرضوں کے لیے محفوظ | 12,000 | |
| فرنیچر 12,000 | قرض خواہ | 60,000 | |
| قرض دار 24,2,000 | لون | 15,000 | |
| عمارات 2,00,000 | 5,37,000 |
انجوکاسرمایہ | |
| فرنیچر 10,000 |
|||
| انجوکاسرمایہ(قرض خواہ) | 60,000 | قرض دار 1,85,000 |
1,95,000 |
| سنجوکاسرمایہ(لون) | 15,000 | منجوکاسرمایہ | |
| بنک(وصولی اخراجات) | 2,200 | اسٹاک 83,000 |
|
| عمارات 1,80,000 |
2,63,000 | ||
| سنجوکاسرمایہ(بقایاقرض دارنفی کتابی قدر%20) | 33,600 | ||
| خسارہ منتقل کیاگیا: | |||
| انجوکے سرمایے میں 21,360 |
|||
| منجوکے سرمایے میں 7,120 | |||
| سنجوکے سرمایے میں 7,120 | 35,640 | ||
| 6,14,200 | 6,14,240 |
ساجھے داروں کے سرمایہ کھاتہ
نام (.Dr) جمع(.Cr)
| تاریخ 2017 |
تفصیلات | لیجر | انجو (روپیے) | منجو (روپیے) | سنجو (روپیے) | تاریخ 2017 |
تفصیلات | لیجر | انجو (روپیے) | منجو (روپیے) | سنجو (روپیے) |
| وصولی(اثاثے) | 1,95,000 | 2,63,000 | 33,600 | بیلنسb/d | 2,75,000 | 1,10,000 | 1,00,000 | ||||
| وصولی(خسارہ) | 21,360 | 7,120 | 7,120 | وصول(قرض خواہ) | 60,000 | - | - | ||||
| بینک | 1,18,640 | 74,280 | وصولی | - | - | 15,000 | |||||
| منجو کے قرض() | 20,000 | ||||||||||
| بینک | - | 1,40,120 |
- | ||||||||
| 3,35,000 | 2,70,120 | 1,15,000 | 3,35,000 | 2,70,120 | 1,15,000 |
بصورت دیگر منجو کے قرض کوپہلے بینک اکاؤنٹ سے ادا کیا جائے گا۔پھر سرمایہ کھاتہ میں ڈیبٹ بیلنس کی وجہ سے منجو کے ڈریعہ قابل ادا رقم 1,60,120 روپیے کو اس سے اکھٹا کیا جائے گا۔
بینک کھاتہ
نام (.Dr) جمع(.Cr)
| تاریخ 2017 |
تفصیلات | لیجرفولیو | رقم (روپیے) | تاریخ 2017 |
تفصیلات | لیجرفولیو | رقم (روپیے) |
| بیلنس b/d | 55,000 | ریلائزیشن(اخراجات) | 2,200 | ||||
| منجوکاسرمایہ | 1,40,120 | انجوکاسرمایہ | 1,18,640 | ||||
| سنجوکاسرمایہ | 74,280 | ||||||
| 1,95,120 | 1,95,120 |
مثال:9
سمت، امت اور ونیت 5:3:2کے تناسب سے نفع نقصان میں حصہ دار ہیں۔ 31مارچ 2017کو بیلنس شیٹ حسب ذیل تھی۔
31مارچ 2017کو سومت، امت اوروینت کی بیلنس شیٹ
نام (.Dr) جمع(.Cr)
| ذمہ داریاں | رقم (روپیے) | اثاثے | رقم (روپیے) |
| سرمایے: | مشینری | 80,000 | |
| سمت 40,000 | سرمایہ کاری | 1,50,000 | |
| امت 50,000 | اسٹاک |
10,000 | |
| ونیت 60,000 | 1,50,000 | قرض دار | 35,000 |
| نفع ونقصان | 10,000 | بینک میں کیش | 15,000 |
| مسزامت کا لون | 40,000 | ||
| متفرق قرض خواہ |
90,000 | ||
| 2,90,000 | 2,90,000 |
اس تاریخ پر فرم تحلیل کردی گئی۔ امت نے اپنی بیوی کا لون لے لیا۔ 2,600 روپیے کے ایک لین دار نے اپنی رقم کا مطالبہ نہیں کیا تھا۔ اثاثوں کی حسب ذیل طریقے سے وصولی ہوئی:
1- 70,000روپیے میں مشینری فروخت ہوئی۔
2- 1,00,000روپیے کی کتابی قدر کی سرمایہ کاریاں لین داروں کو ان کے کھاتے کے مکمل نبٹارے میں دے دی گئیں۔ بقیہ سرمایہ کاریاں ونیت نے 45,000روپیے کی قدر پر لے لیں۔
3- اسٹاک 11,000روپیے میں فروخت ہوا اور3,000روپیے کے قرض داروں سے وصولیابی نہیں ہوسکی۔
4- وصولی اخراجات15,00روپیے کے تھے۔
فرم کی کتابوں کو بند کرنے کے لیے لیجرکھاتے تیار کیجیے۔
حل:
امت، سُمِت اور ونیت کی کتابیں
وصولی کھاتہ
| تفصیلات |
رقم (روپیے | تفصیلات | رقم (روپیے |
| مشینری 80,000 | متفرق قرض خواہ | 90,000 | |
| سرمایہ کاری 1,50,000 | مسز امت کا لون | 40,000 | |
| اسٹاک 10,000 | بینک: | ||
| قرض دار 35,000 | 2,75,000 | مشینری 70,000 | |
| 40,000 | اسٹاک 11,000 | ||
| 1,500 | قرض دار 32,000 | 1,13,000 | |
| ونیت کے سرمایے(سرمایہ کاری) | 45,000 | ||
| منافع منتقل کیاگیا: | |||
| امت کے کھاتے میں 14,250 | |||
| سمت کے کھاتے میں 8,550 | |||
| ونیت کے کھاتے میں 5,700 | 28,500 | ||
| 3,16,500 | 3,16,500 |
ساجھے داروں کے سرمایہ کھاتہ
نام (.Dr) جمع(.Cr)
| تاریخ 2017 |
تفصیلات | لیجر فولیو | امت (روپیے) |
سمت (روپیے) |
ونیت (روپیے) |
تاریخ 2017 |
تفصیلات | لیجر فولیو | امت (روپیے) |
سمت (روپیے) |
ونیت (روپیے) |
| وصولی(اثاثے) | 45,000 | بیلنسb/d | 40,000 | 50,000 | 60,000 | ||||||
| وصولی(نقصان) | 14,250 | 8,550 | 5,700 | وصولی(مسزامت کا لون) | 40,000 | - | - | ||||
| بینک | 70,750 | 44,450 | 11,300 | نفع ونقصان | 5,000 | 3,000 | 2,000 | ||||
| 85,000 | 53,000 | 62,000 | 85,000 | 53,000 | 62,000 |
بینک کھاتہ
نام (.Dr) جمع(.Cr)
| تاریخ 2017 |
تفصیلات | لیجر | رقم (روپیے) | تاریخ 2017 |
تفصیلات | لیجر | رقم (روپیے) |
| بیلنس b/d |
15,000 | وصولی اخراجات |
1,500 | ||||
| وصولی |
امت کاسرمایہ |
70,750 | |||||
| (اثاثے وصول) |
1,13,000 |
سمت کاسرمایہ |
44,450 |
||||
| ونیت کاسرمایہ | 11,300 | ||||||
| 1,28,000 | 1,28,000 |
نوٹ : اصول کے مطابق لین داروں کے ذریعہ لی گئی سرمایہ کاریوں کا اندراج نہیں کیا گیا۔
مثال:11
مینا اور ٹینا 3:2کے تناسب سے ایک فرم میں حصہ دار ہیں۔ انہوں نے 31مارچ 2017کو اپنی فرم تحلیل کرنے کا فیصلہ کیاجب کہ ان کی بیلنس شیٹ حسب ذیل تھی۔
31مارچ 2017کو مینا اور ٹینا کی بیلنس شیٹ
| ذمہ داریاں |
رقم (روپیے) | اثاثہ جات | رقم (روپیے) |
| سرمایے: | مشینری | 70,000 | |
| مینا 90,000 | سرمایہ کاری | 50,000 | |
| ٹینا 80,000 | 1,70,000 | اسٹاک | 22,000 |
| متفرق قرض خواہ | 60,000 | متفرق قرض دار | 1,03,000 |
| واجب الادابل | 20,000 | بینک میں نقد | 5,000 |
| 2,50,000 | 2,50,000 |
اثاثوں اور ذمہ داریوں کا نبٹارا اس طرح سے کیا گیا :
(a) لین داروں کو ان کے کھاتے کے مکمل طورپر نبٹار ے میں مشینری دے دی گئی تھی۔ واجب الادابلوں کے مکمل نبٹارے میں اسٹاک دے دیا گیا ۔
(b) ٹینا نے سرمایہ کاری (Investments)کو کتابی قدر پر لے لیا۔ قرض داروں(Debitors)کو مینا نے 50,000روپیے کی کتابی قدر سے %10 کم پر لیے لیا اور بقیہ قرض داروں سے 51,000روپیے وصول ہوئے۔
(c) ۔ 2,000روپیے کے وصولی اخراجات ہوئے۔
فرم کی کتابوں کو بند کرنے کے لئے ضرو ری لیجر کھاتوں کو تیار کیجیے
حل:
مینا اور ٹینا کی کتابیں ۔ وصولی کھاتہ
| تفصیلات | رقم (روپیے) | تفصیلات | رقم (روپیے) |
| اثاثے منتقل کیے گئے |
متفرق قرض دار | 60,000 |
|
| مشینری 70,000 | واجب الادابل | 20,000 | |
| سرمایہ کاری 50,000 | ٹیناکاسرمایہ (سرمایہ کاری) | 50,000 | |
| اسٹاک 22,000 | مینا کاسرمایہ | 45,000 | |
| متفرق قرض دار 1,03,000 | 2,45,000 | بینک (قرض دار) |
51,000 |
| بینک(وصولی اخراجات) | 2,000 | خسارہ منتقل کیاگیا: |
|
| مینا کے سرمایے میں 12,600 |
|||
| ٹینا کے سرمایے میں 8,400 |
21,000 | ||
| 2,47,000 | 2,47,000 |
ساجھے داروں کے سرمایہ کھاتے
نام (Dr) جمع(Cr)
| تفصیلات | مینا (روپیے) | ٹینا (روپیے) | تفصیلات | مینا (روپیے) | ٹینا (روپیے) |
| وصولی (سرمایہ کاری) | 50,000 | بیلنسb/d | 90,000 | 80,000 | |
| وصولی(قرض دار) | 45,000 | ||||
| وصولی(خسارہ) | 12,600 | 8,400 | |||
| بینک | 32,400 | 21,600 | |||
| 90,000 | 80,000 | 90,000 | 80,000 |
بینک کھاتہ
| تفصیلات | رقم (روپیے) | تفصیلات | رقم (روپیے) |
| بیلنسb/d | 5,000 | وصولی(اخراجات) | 2,000 |
| وصولی(اثاثے وصول) | 51,000 | میناکا سرمایہ | 32,4000 |
| ٹینا کاسرمایہ | 21,600 | ||
| 56,000 | 56,000 |
باب میں متعارف کرائی گئیں اصطلاحات
1۔ ساجھے داری کا خاتمہ Dissoluton of Partnership
2۔ ساجھے داری فرم کا خاتمہ(تحلیل) Dissoluton of Partnership firm
3۔ ساجھے بالرضا Partnership at will
4۔ لازمی خاتمہ Compulsory Dissolution
5۔ خاتمہ بذریعہ نوٹس Dissolution by Notice
6۔ وصولی اخراجات Realisation Expenses
7۔ وصولی کھاتہ Realisation Account
خلاصہ
1- ساجھے داری فرم کا خاتمہ: فرم کے خاتمہ سے مراد ساجھے داروں کے درمیان معاشی تعلقات کے ٹوٹنے اور ساجھے داری کاروبار کے ختم ہونے سے ہے۔ فرم کے تحلیل ہونے کی صورت میں فرم اپنا کاروبار بند کردیتی ہے نیز اپنے تمام اثاثے فروخت کرکے وصولیابی کرتی ہے اور اپنی تمام ذمہ داریوں کی ادائیگی کردیتی ہے۔ اثاثہ جات سے ہوئی وصولی میں سے سب سے پہلے لین داروں کی ادائیگی کی جاتی ہے اور اگر ضروری ہوتا ہے تو ادائیگی کرنے کے لیے رقم ساجھے دار اپنے تقسیم منافع کے تناسب کے مطابق لاتے ہیں ۔ جب تمام کھاتوں کا تصفیہ ہوجاتا ہے اور ساجھے داروں کو واجب الادا رقم کی انہیں آخری ادائیگی کردی جاتی ہے توفرم کی کتابیں بند کردی جاتی ہیں۔
2- ساجھے داری کا خاتمہ: ساجھے داری کسی ایک ساجھے دار کی شمولیت، سبک دوشی یا موت وغیرہ کی صورت میں ختم ہوجاتی ہے۔ ضروری نہیں کہ اس صورت میں فرم کا خاتمہ بھی ہوجائے۔
3- وصولی کھاتہ: وصولی کھاتہ لین داروں کے نبٹارے نیز اثاثہ جات کی وصولی اور فروخت سے متعلق لین دین کو درج کرنے کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔ اس عمل کے نتیجے میں ہونے والے نفع یا نقصان کو ساجھے دار اپنے تقسیم منافع کے تناسب میں بانٹتے ہیں۔ ساجھے داروں کے کھاتوں کا بھی نبٹار ا کیا جاتا ہے اور نقد یا بینک کھاتہ بند کیا جاتا ہے۔
مشق کے لیے سوالات
مختصر جوابی سوالات:
1- ساجھے داری فرم کے خاتمے اور ساجھے داری کے خاتمے کے بیچ فرق بیان کیجیے۔
2- درج ذیل کے لیے کھاتہ داری عمل درآمد (treatment)بیان کیجیے۔
(i غیر مندرج اثاثہ جات (ii غیر مندرج ذمہ داریاں
3- فرم کے خاتمہ پر آپ ساجھے دار کے قرض کا تصفیہ کس طرح کریں اگر ایسے دکھایا گیا ہو ۔
(a ) بیلنس شیٹ کے اثاثوں کی جانب (b ) بیلنس شیٹ کی ذمہ داریوں کی جانب۔
4- فرم کے قرضوںاور ساجھے دار کے نجی قرضوں کے درمیان فرق کیجیے۔
5- فرم کے خاتمہ پر کھاتوں کے نبٹارے کی ترتیب بیان کیجیے۔
6- کس بنیاد پر وصولی کھاتہ، از سرنواندازۂ قدر کھاتے سے مختلف ہوتا ہے۔
طویل جوابی سوالات
1- ساجھے داری فرم کے خاتمہ سے کیا مراد ہے؟
2- وصولی کھاتے کسے کہتے ہیں؟
3- وصولی کھاتہ کا خاکہ پیش کیجیے
4- لین داروں کے خسارے کی ادائیگی کیسے کی جاتی ہے۔
عددی سوالات (numerical Questions)
1- وصولی اخراجات سے متعلق حسب ذیل لین دین کا روز نامچہ میں اندراج کیجیے:۔
(a)۔ 2,500روپیے کے وصولی اخراجات ہوئے۔
(b)۔ 3,000روپیے کے وصولی اخراجات ایک ساجھے دار اشوک کے ذریعے ادا کیے گئے۔
(c)۔ 2,300روپیے کے وصولی اخراجات ترون نے ذاتی طور پر برداشت کیے۔
(d)۔ ایک ساجھے دار امیت کو 4,000روپیے کی لاگت پر اثاثہ جات وصول کرنے کے لیے مقرر کیا گیا تھا۔ 3,000روپیے کی حقیقی طور پر وصولی ہوئی۔
2- مندرجہ ذیل صورتوں میں ضروری روز نامچہ اندراجات درج کیجیے۔
(a)۔85,000روپیے مالیت کے لین داروں نے اپنے مطالبہ کے مکمل تصفیہ کے طور پر 40,000روپیے نقد اور 43,000روپیے مالیت کی سرمایہ کاری قبول کی۔
(b)۔16,000روپیے کے لین داروں نے اپنے مطالبہ کے تصفیہ کے طور پر 18,000روپیے قدر کی مشینری قبول کی۔
(c)۔لین دار90,000روپیے کے تھے۔ انہوں نے 1,20,000روپیے قدر کی بلڈنگ قبول کی اور3,000روپیے فرم کو نقد ادا کیا۔
3- ایک پرانا کمیوٹرگذشتہ سال کھاتے کی کتابوں میں سے خارج (write off)کردیا گیا تھا۔ اس کو ایک ساجھے دار نِتن ؔ نے 3,000روپیے میں لے لیا۔ یہ فرض کرتے ہوئے کہ فرم کا خاتمہ ہورہا ہے۔ اس لین دین کا روز نامچہ بھر یے۔
4- فرم کے خاتمہ پر حسب ذیل لین دین کے لیے روز نامچہ اندراجات کیا ہونگے:
(3,200aروپیے کی غیر مندرج ذمہ داریوں کی ادائیگی۔
(b ایک ساجھے دار روہت 7,500روپیے مالیت کا اسٹاک لیتا ہے۔
(c وصولی پر ہوئے18,000روپیے کے منافع کو اشیش اور ترون نامی ساجھے داروں کے درمیان 5:7کے تناسب میں تقسیم کیا جانا ہے۔
(d ایک غیر مندرجہ اثاثہ سے5,500روپیے وصول ہوئے۔
5- مندرجہ ذیل لین دین کے لیے روز نامچہ اندراجات دیجیے:
1- مختلف اثاثوں اور ذمہ داریوں کی وصولی کو درج کرنے کے لیے
2- ایک فرم کے پاس 1,60,000روپیے کا اسٹاک ہے ۔ عزیز ،ایک ساجھے دار اسٹاک کے%50کو%20کٹوتی پر لے لیتا ہے۔
3- بقیہ اسٹاک لاگت پر%30کے منافع سے فروخت کردیا گیا۔
4- عمارت واراضی (Land & Building) (کتابی قدر1,60,000روپیے) ایک بروکر کے ذریعہ 3,00,000روپیے میں فروخت کردی گئی جس نے اس سودے پر بطور کمیشن %2لیے۔
5- پلانٹ اور مشینری (کتابی قدر 60,000روپیے) ایک لین دار کو کتابی قدر سے%10کم کے طے شدہ اندازۂ قدر پر سونپ دی گئی۔
6- سرمایہ کاری (Investment)سے جس کی کتابی قدر4,000روپیے تھی صرف%50وصولی ہوئی۔
6- مندرجہ ذیل صورتوں میں آپ رشم اور بندیا کی فرم کے وصولی اخراجات کا تصفیہ کس طرح کریں گے:
(i) 1,00,000روپیے کے وصولی اخراجات ہوئے۔
II۔3,00,000روپیے کے وصولی اخراجات کی ادائیگی رشم ساجھے دارنے کی۔
(iii) وصولی اخراجات رشم کے ذریعے برداشت کیے گئے اور اسے 70,000روپیے بطور معاوضہ ادا کیا گیا ۔ رشم کے ذریعے حقیقی طو رپر اٹھایا گیا خرچ1,20,000روپیے تھا۔
7- وصولی کھاتہ پر منتقل کیے گئے اثاثہ جات (نقد اور بینک کے علاوہ) کی کتابی قدر 1,00,000روپیے ہے۔ ایک ساجھے دار انل نے %50 اثاثہ جات%20کی کٹوتی پر لے لیے ۔بقیہ اثاثہ جات کا%40 لاگت پر %30 منافع سے فروحت کردیا جاتا ہے۔ باقی کا%5بیکار ہے اور اس سے کچھ وصولی نہیں ہوتا۔ بقیہ اثاثہ جات ایک لین دار کو اس کے مطالبہ کے مکمل نبٹارے میں دے دیے جاتے ہیں۔
آپ کو اثاثہ جات کی وصولی کے لیے روز نامچہ اندراجات کرنے ہیں۔
8- پارس اور پریہ کی کتابوں میں حسب ذیل غیر مندرج اثاثوں ا ور ذمہ داریوں کو درج کرنے کے لیے روز نامچہ اندراجات کیجیے:
1- فرم میں ایک پرانا فرنیچر تھا جسے کتابوں میں مکمل طور پر خارج کردیا گیا تھا۔ اسے 3,000روپیے میں فروخت کیا گیا۔
2- آشیش ایک پرانا گاہک تھا جس کے1,000روپیے کے کھاتہ کو گذشتہ سال ڈوبے قرضے کے طور پر خارج کردیا گیا تھا اس نے رقم کے %60کی ادائیگی کی۔
3- پارس 30,000روپیے کی قدر پر فرم کی ساکھ (جو کہ فرم کی کتابو ںمیں درج نہیں تھی) لینے پر رضا مند ہوا۔
4- ایک پرانا ٹائیپ رائٹر فرم کی کتابوں سے مکمل طور پر خارج کیا جاچکا تھا۔ اس کی تخمینہ کی گئی وصولی400روپیے تھی۔ اسے پریہ نے تخمینہ شدہ قیمت سے %25 کم پر لے لیا۔
5- اسٹار لمیٹیڈ میں 10روپیے فی شیئر کے حساب سے 100شیئر تھے ،جن کو 2,000روپیے کی لاگت پر حاصل کیاگیا تھا۔ یہ کتابوں سے مکمل طور پر خارج کیے جاچکے تھے۔ ان شیئر کی قدر 6روپیے فی حصص کی شرح سے آنکی گئی اور انہیں ساجھے داروں کے درمیان ان کے تقسیم منافع کے تناسب میں بانٹ دیا گیا۔
9- تمام ساجھے داروں نے فرم کو تحلیل کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ ایک ساجھے دار ’’یاستین‘ یہ چاہتا ہے کہ 2,00,000روپیے کے اس کے قرض کی ادائیگی ،شراکت داروں کو سرمائے کی ادائیگی سے قبل ہوجانی چاہیے۔ لیکن ،ایک دوسرا ساجھے دار امرت، یہ چاہتا ہے کہ یاستین کے قرض کی ادائیگی سے قبل سرمایے کی ادائیگی ہونی چاہئے۔ آپ کو دلائل کی روشنی میں تنازع کا نبٹارا کرنا ہے۔
10- وصولی کھاتہ پر مختلف اثاثوں (نقد کے علاوہ) اور تیسرے فریق کی ذمہ داریوں کو منتقل کرنے کے بعدآرتی اور کرینہ کی فرم کے خاتمہ پر، حسب ذیل لین دین کے لیے روز نامچہ اندراجات کیا ہوں گے۔
(i آرتی نے 80,000روپیے مالیت کے اسٹاک کو 68,000روپیے میں لے لیا۔
(ii ایک غیر مندرج بائیک 40,000روپیے کی تھی جو کہ مسٹر کریم کے ذریعے لے لی گئی۔
(iii فرم نے ملازمین کو 40,000روپیے بطور معاوضہ ادا کیے۔
(iv 36,000روپیے کے لین دارو ں کا نبٹارا %15کی کٹوتی پر کیا گیا۔
(v وصولی پر42,000روپیے کا نقصان ہوا جو کہ آرتی اور کریم کے درمیان 3:4کے تناسب میں تقسیم کیا جانا ہے۔
11- روز اور للّی 2:3کے تناسب سے نفع نقصان میں حصہ دار ہیں۔ 31مار چ 2017کو ان کی بیلنس شیٹ حسب ذیل تھی:
31مارچ 2017کو روز اور للّی کی بیلنس شیٹ
| ذمہ داریاں | رقم (روپیے) | اثاثہ جات | رقم (روپیے) |
| قرض خواہ | 40,000 | نقد | 16,000 |
| للّی کا لون | 32,000 | قرض دار 8,000 | |
| \نفع ونقصان | 50,000 | نفی:مشکوک قرضوں کے لیے محفوظ 3,600 | 76,400 |
| سرمایے: |
سامان | 1,09,600 | |
| للّی |
1,60,000 | قابل وصول بل | 40,000 |
| روز |
2,40,000 | عمارات | 2,80,000 |
| 5,22,000 | 5,22,000 |
مندرجہ بالاتاریخ پر روزاورللّی نے فرم کو تحلیل کرنے کا فیصلہ کیا۔اثاثہ جات (قابل ِ وصول بلوں کے علاوہ) سے 4,84,000 روپیے وصول ہوئے۔30,000روپیے پر قابلِ وصول بل (Bill recievels) روز کے ذریعہ لے لیے گئے۔ لین دار 38,000 روپیے لینے پر رضا مند ہوئے۔ وصولی کی لاگت 24,00روپیے تھی۔ فرم کے پاس ایک موٹر سائیکل تھی جو کہ فرم کے پییسوں سے خریدی گئی تھی جس کو ادا کردیا گیا۔اسے فرم کی کتابوں میں نہیں دکھایا گیا تھا اب اسے10,000روپیے میں فروخت کردیا گیا۔ فرم کے واجب الادابجلی کے بل (Outstanding electric bill)کے ضمن میں 5,000روپیے کی ایک اتفاقی ذمہ داری۔
(Contingent liability)تھی جس کو ادا کردیا گیا۔ 33,000روپیے میں قابلِ وصول بل روز کے ذریعہ لے لیے گیے۔وصولی کھاتہ،ساجھے داروں کے
سرمایہ کھاتے ،قرض کھاتہ اور نقد کھاتہ دکھایے۔
(جواب: وصولی پر منافع15,600روپیے، نقد کھاتہ کا میزان5,10,000روپیے۔للّی کا سرمایہ کھاتہ 1,99,360 روپیے ہے،روز کا سرمایہ کھاتہ 2,33,240 روپیے)
12- شلپا، مینا اور نندا نے 31مارچ 2017 کو اپنی ساجھے داری ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔ ان کے تقسیم منافع کا تناسب3:2:1تھا اور ان کی بیلنس شیٹ حسب ذیل تھی:
31مارچ2017کو شلپا ، مینا اور نندا کی بیلنس شیٹ
| ذمہ داریاں | رقم (روپیے) | اثاثہ جات | رقم (روپیے) |
| سرمایے: | اراضی | 81,000 | |
| شلپا | 80,000 | اسٹاک | 56,760 |
| مینا | 40,000 | قرض دار | 18,600 |
| بینک قرض | 20,000 | نندا کاسرمایہ | 23,000 |
| قرض خواہ | 37,000 | نقد | 10,840 |
| مشکوک قرضوں کے لیے محفوظ | 1,200 | ||
| جنرل ریزرو | 12,000 | ||
| 1,90,200 | 1,90,200 |
41,660روپیے مالیت کا اسٹاک شلپا نے 35,000روپیے میں لے لیا اور اس نے بینک کے قرض کو ادا کرنے کا وعدہ کیا۔ بقیہ اسٹاک 14,000روپیے میں فروخت ہو ا اور 10,000روپیے کے قرض داروں سے 8,000روپیے وصول ہوئے ۔اراضی 1,10,000روپیے میں فروخت ہوئی۔ بقیہ قرض داروں سے ان کی کتابی قدر کا %50 وصول ہوا۔ وصولی کی لاگت 1200 روپیے آئی۔ فرم کے پاس ایک ٹائپ رائٹر 6,000روپیے کا تھا جس کا اندراج کتابوں میں نہیں تھا۔ اس قدر پرلین داروں نے لے لیا۔ وصولی کھاتہ تیار کیجیے۔
(جواب: وصولی پر منافع20,940روپیے)
13- سُرجیت اور راہی 3:2کے تناسب سے نفع نقصان میں حصہ دار تھے۔ 31مارچ 2017کو ان کی بیلنس شیٹ حسب ذیل ہے۔
31مارچ 2017کو سُرجیت اور راہی کی بیلنس شیٹ
| ذمہ داریاں | رقم (روپیے) | اثاثہ جات | رقم (روپیے) |
| قرض خواہ | 38,000 | بینک | 11,500 |
| مسزسرجیت کا لون | 10,000 | اسٹاک | 6,000 |
| ریزرو | 15,000 | قرض دار | 19,000 |
| راہی کا لون | 5,000 | فرنیچر | 4,000 |
| سرمایے: | پلانٹ | 28,000 | |
| سرجیت | 10,000 | سرمایہ کاری | 10,000 |
| راہی | 8,000 | نفع ونقصان | 7,500 |
| 86,000 | 86,000 |
31مارچ 2017 کو فرم حسب ذیل شرائط پر تحلیل ہوگئی:
1- سُرجیت نے سرمایہ کاریوں (Investments)کو 8,000روپیے میں لے لیا اور اس نے مسز سُرجیت کے قرض کو ادا کرنے کا وعدہ کیا۔
2-دیگر اثاثہ جات سے درج ذیل وصولی ہوئی۔
اسٹاک 5,000 روپیے
قرض دار 18,500 روپیے
فرنیچر 4,500 روپیے
پلانٹ 25,000 روپیے
3- وصولی پر 1,600روپیے خرچ آیا۔
4-لین دار اپنے آخری نبٹارے کے طور پر 37,000روپیے قبول کرنے پر رضا مند ہوگئے۔
وصولی کھاتہ، ساجھے داروں کے سرمایہ کھاتے اور بینک کھاتہ تیار کیجیے۔
(جواب: وصولی پر نقصان6,600روپیے، نقد کھاتہ کامیزان64,500روپیےسُرجیت کو ادا کی گئی رقم 12,540 روپیے اور راہی کو ادا کی گئی رقم 8,360 روپیے ہے۔)
14- ریتا، گیتا اور آشیش ایک فرم میں 3:2:1کے تناسب سے نفع نقصان میں حصہ دار تھے۔ 31مارچ 2017کو ان کی بیلنس شیٹ حسب ذیل تھی:
| ذمہ داریاں | رقم (روپیے) | اثاثہ جات | رقم (روپیے) |
| سرمایے: | کیش | 22,500 | |
| ریتا 80,000 | قرض دار | 52,300 | |
| گیتا 50,000 | اسٹاک | 36,000 | |
| آشش 30,000 | 1,60,000 | سرمایہ کاری | 69,000 |
| قرض خواہ | 65,000 | پلانٹ | 91,200 |
| واجب الادابل | 26,000 | ||
| جنرل ریزرو | 20,000 | ||
| 2,71,000 | 2,71,000 |
مذکورہ بالا تاریخ پر فرم تحلیل کردی گئی:
1- ریتا کو اثاثہ جات اور وصول کرنے کے لیے مقرر کیا گیا تھا۔ریتا کو (نقد چھوڑ کر) اثاثوں کی فروخت پر%5کمیشن وصول کرنا تھا۔
2- اثاثہ جات سے حسب ذیل وصولی ہوئی:
قرض دار 30,000روپیے
اسٹاک 26,000روپیے
پلانٹ 42,750 روپیے
3- سرمایہ کاری (Investment)سے کتابی قدر کا %85وصول ہوا۔
4- وصولی پر 4,100روپیے کے اخراجات ہوئے۔
5- فرم کو واجب الادا تنخواہ (Outstanding Salary)کے لیے 7,200روپیے ادا کرنے پڑے جن کا ذکر پہلے نہیں کیاگیاتھا۔
6- بینک سے کٹوتی (Discount)پر بنوائے گئے بلوں کے معاملے میں بھی اتفاقی ذمہ داری سامنے آئی جس کے لیے9,800 روپیے ادا کرنے پڑے۔
وصولی کھاتہ، ساجھے داروں کے سرمایہ کھاتے اور نقد کھاتہ تیار کیجیے۔
(جواب: وصولی پر نقصان12,9,455، نقد کھاتہ کا میزان1,79,000 روپیے،ریتا کو ادا کی گئی رقم 39,885 اور گیتا کو ادا کی گئی رقم Rs.18,010 ہے۔)
15- انوپ اور سمت ایک فرم میں برابر کے ساجھے دار ہیں۔انہوں نے 31مارچ 2017کو ساجھے داری تحلیل کرنے کا فیصلہ کیا۔ جب کہ ان کی بیلنس شیٹ حسب ذیل ہیں۔
31مارچ2017کو انوپ اور سمت کی بیلنس شیٹ
| ذمہ داریاں | رقم (روپیے) | اثاثہ جات | رقم (روپیے) |
| متفرق قرض خواہ | 27,000 | بینک میں کیش | 11,000 |
| جنرل ریزرو | 10,000 | متفرق قرض دار | 12,000 |
| لون | 40,000 | پلانٹس | 47,000 |
| سرمایہ: | اسٹاک | 42,000 | |
| انوپ 60,000 | پٹہ پرلی گئی اراضی | 60,000 | |
| سمت 60,000 | 1,20,000 | فرنیچر | 25,000 |
| 1,97,000 | 1,97,000 |
اثاثہ جات سے درج ذیل وصولی ہوئی۔
لیز پر حاصل اراضی 72,000روپیے
فرنیچر 22,500روپیے
اسٹاک 40,500روپیے
پلانٹ 48,000 روپیے
متفرق قرض دار 10,500روپیے
لین داروں(Creditors)کو ان کے مکمل نبٹارے کے طور پر 25,500روپیے ادا کیے گئے۔ وصولی کے اخراجات 2,500روپیے کے تھے۔
فرم کی کتابوں کو بندکرنے کے لیے وصولی کھاتہ، بینک کھاتے اور ساجھے داروں کے سرمایہ کھاتے، تیار کیجیے۔
(جواب: وصولی پر منافع :6,500،کل بینک کھاتہ 2,04,500 روپیے ہے۔انوپ کو ادا کی گئی رقم 68,250 روپے ہے اور سمت کو ادا کی گئی رقم بھی 68,250 ہے۔)
16-آشو اور ہریش 3:2تناسب سے نفع نقصان میں حصہ دار ہیں۔ انہوں نے 31مارچ2017کو فرم تحلیل کرنے کا فیصلہ کیا ۔ مذکورہ بالا تاریخ پر ان کی بیلنس شیٹ حسب ذیل تھی۔
31مارچ 2017 کو آشو اور ہریش کی بیلنس شیٹ
| ذمہ داریاں | رقم (روپیے) | اثاثہ جات | رقم (روپیے) |
| سرمایے: | عمارت | 80,000 | |
| آشو 1,08,000 | مشینری | 70,000 | |
| ہریش 54,000 | 1,62,000 | فرنیچر | 14,000 |
| 88,000 | اسٹاک | 20,000 | |
| 50,000 | سرمایہ کاری | 60,000 | |
| قرض دار | 48,000 | ||
| ہاتھ میں نقد | 8,000 | ||
| 3,00,000 | 3,00,000 |
آشو نے 95,000روپیے پر بلڈنگ لے لی۔ مشینری اور فرنیچر 80,000روپیے کی قدر پر ہریش کے ذریعہ لے لیا گیا۔ آشو نے لین داروں کی ادائیگی کا وعدہ کیا اور ہریش بینک اور ڈرافٹ کی ادائیگی پر رضا مند ہوگیا۔ اسٹاک اور سرمایہ کاری (Investment) کو دونوں ساجھے داروں نے اپنے تناسب تقسیم منافع میں لے لیا۔ قرض داروں سے46,000روپیے وصول ہوئے۔ وصولی کے اخراجات 3,000روپیے آئے۔ ضروری لیجر کھاتے تیار کیجیے۔
(جواب: وصولی پر منافع 6,000 روپیے، نقد/بینک کا میزان 59,600روپیے۔آشو کو ادا کیے گئے 56,600 روپیے،ہریش کو ادا کیے گئے 5,600 روپیے)
17- سنجے ،ترون اور ونیت 3:2:1کے تناسب سے نفع نقصان میں حصہ دار تھے ۔ 31مارچ 2017کو ان کی بیلنس شیٹ حسب ذیل تھی۔
31مارچ 2017کو سنجے، ترون اورو نیت کی بیلنس شیٹ
| ذمہ داریاں | رقم (روپیے) | اثاثہ جات | رقم (روپیے) |
| سرمایے: | پلانٹ | 90,000 | |
| سنجے 1,00,000 | قرض دار | 60,000 | |
| ترون 1,00,000 |
فرنیچر | 32,000 | |
| ونیت 70,000 | 2,70,000 | اسٹاک | 60,000 |
| قرض خواہ | 80,000 | سرمایہ کاری | 70,000 |
| قابل ادا بل | 30,000 | قابل وصول بل | 36,000 |
| ہاتھ میں نقد | 32,000 | ||
| 3,80,000 | 3,80,000 |
مذکورہ بالا تاریخ پر فرم تحلیل ہوگئی۔ سنجے کو اثاثہ جات کی وصولی کرنے پر مقرر کیا گیا ۔
سنجے کو اثاثہ جات (نقد کے علاوہ) کی فروخت پر %6کمیشن ملنا تھا اور اسے وصولی کے تمام اخراجات برداشت کرنے تھے۔
سنجے نے اثاثہ جات کی حسب ذیل وصولی کی: پلانٹ 72,000روپیے، قرض دار 54,000روپیے، فرنیچر18,000روپیے، اسٹاک کتابی قدر کا%90 سرمایہ کاریاں(Investments) 76,000روپیے، اور قابلِ وصولی ہنڈیاں(Bill recievables) 31,000روپیے ۔وصولی پر 45,00روپیے خرچ آیا۔
وصولی کھاتہ،سرمائے کھاتے اور نقد کھاتہ تیار کیجیے۔
(جواب: وصولی پر نقصان61,300روپیے، نقد کھاتہ کا میزان3,37,000روپیے،سنجے کو ادا کی گئی رقم 87,650 روپیے،تنو کو 79,567 روپیے اور ونیت کو59,783 روپیے)
18- 31مارچ 2017کو گپتا اور شرما کی بیلنس شیٹ حسب دیل ہے:
31مارچ 2017کو گپتا اور شرما کی بیلنس شیٹ
| ذمہ داریاں | رقم (روپیے) | اثاثہ جات | رقم (روپیے) |
| متفرق قرض خواہ | 38,000 | بینک میں نقد | 12,500 |
| مسز گپتا کا قرض | 20,000 | متفرق قرض دار | 55,000 |
| مسز شرماکا لون | 30,000 | اسٹاک | 44,000 |
| جنرل ریزرو | 6,000 | قابل وصول بل | 19,000 |
| مشکوک قرضوں کے لیے محفوظ | 4,000 | مشینری | 52,000 |
| سرمایے: | سرمایہ کاری | 38,500 | |
| گپتا 90,000 | فکسچرز | 27,000 | |
| شرما 60,000 | 1,50,000 | ||
| 2,48,000 |
2,48,000 |
31دسمبر2017کو فرم کا خاتمہ کردیا گیا اور اثاثوں سے وصولی نیز ذمہ داریوں کا نبٹارا حسب ذیل طرح سے کیا گیا۔
(a اثاثہ جات کی وصولی درج ذیل تھی:
متفرق قرض دار 52,000روپیے
اسٹاک 42,000روپیے
قابل وصول ہنڈیاں 16,000روپیے
مشینری 49,000روپیے
فکسچرز 20,000 روپیے
(b سرمایہ کاری (Investment)کوگپتا نے 36,000روپیے کی قدر پر لے لیا اور اس نے مسزگپتا کے قرض کو ادا کرنے پر رضا مند ی ظاہر کی۔
(c متفرق لین داروںکو %3 (Discount)کٹوتی کم کرکے ادائیگی کی گئی۔
(d وصولی اخراجات 1,200روپیے کے تھے۔
فرم کے خاتمہ پر روز نامچہ اندراجات درج کیجیے اور وصولی کھاتہ، ساجھے داروں کے سرمایہ کھاتے نیز بینک کھاتہ تیار کیجیے۔
(جواب: وصولی پر نقصان 36,560روپیے، بینک کھاتہ کا میزان 1,91,500روپیے,گپتا کو ادا کی گئی رقم 68,720 روپیے اور شرما کو ادا کی گئی رقم 54,720 روپیے ہے۔)
19- اشوک، بابو اور چیتن ساجھے دار ہیں اور نفع نقصان کو بالترتیب 1/2، 1/3، 1/6کے تناسب میں تقسیم کرتے ہیں انہوں نے 31دسمبر2017کو ساجھے داری کا خاتمہ کیا جب کہ فرم کی بیلنس شیٹ حسب ذیل ہے:
31مارچ 2017کو اشوک، بابو اور چیتن کی بیلنس شیٹ
| ذمہ داریاں | رقم (روپیے) | اثاثہ جات | رقم (روپیے) |
| متفرق قرض خواہ | 20,000 | بینک | 7,500 |
| واجب الادابل | 25,500 | متفرق قرض دار | 58,000 |
| چیتن کا لون | 30,000 | اسٹاک | 39,500 |
| سرمایے: | مشینری | 48,000 | |
| اشوک 70,000 | سرمایہ کاری | 42,000 | |
| بابو 55,000 | فری ہولڈ جائیداد | 50,500 | |
| چیتن 27,000 | 1,52,000 | ||
| چالوکھاتے: | |||
| اشوک 10,000 | |||
| بابو 5,000 | |||
| چیتن 3,000 | 18,000 | ||
| 2,45,500 | 2,45,500 |
بابونے 45,000 روپیے میں مشینری لے لی۔ اشوک نے 40,000روپیے میں سرمایہ کاری (Investment)کو لے لیا، فری ہولڈ جائیداد کو55,000روپیے میں چیتن نے لے لیا۔ بقیہ اثاثہ جات سے حسب ذیل وصولی ہوئی: متفرق قرض دار 56,500 روپیے اور اسٹاک 36,500روپیے۔ متفر ق لین داروں کا تصفیہ%7کٹوتی پر کیا گیا۔ ایک آفس کمپییوٹر جو کہ فرم کی کتابوں میں نہیں دکھایا گیا تھا اس سے 9,000روپیے وصول ہوئے۔ وصولی اخراجات 3,000روپیے کے ہوئے۔
وصولی کھاتہ، ساجھے داروں کے سرمایہ کھاتے اور بینک کھاتہ تیار کیجیے۔
(جواب: وصولی پر منافع 2,400 روپیے، نقد کھاتہ کا میزان1,34,100روپیے،اشوک کو ادا کی گئی رقم 41,800 روپیے، بابو کو 15,800 روپیے،چیتن کے لون کے لیے ادا کی گئی رقم 5,400 روپیے ہے۔)
20- 31دسمبر2017 کو تنو اور منو کی بیلنس شیٹ حسب ذیل ہے جو کہ5:3کے تناسب سے نفع نقصان میں حصہ دارہیں:
31دسمبر2017کو تنو اور منو کی بیلنس شیٹ
| ذمہ داریاں | رقم (روپیے) | اثاثہ جات | رقم (روپیے) |
| متفرق قرض خواہ | 62,000 | بینک میں کیش | 16,000 |
| واجب الادا بل | 32,000 | متفرق قرض دار | 55,000 |
| بینک کا قرض | 50,000 | اسٹاک | 75,000 |
| جنرل ریزرو | 16,000 | موٹر کار | 90,000 |
| سرمایے: | مشینری | 45,000 | |
| تنو 1,10,000 | سرمایہ کاری | 70,000 | |
| منو 90,000 | فکسچرز | 9,000 | |
| 3,60,000 | 3,60,000 |
مذکورہ بالا تاریخ پر فرم تحلیل ہو گئی اور حسب ذیل معاہدہ کیا گیا:
تنو نے متفرق قرض داروں کو لے لیا اور بینک قرص کی ادائیگی پر رضا مندی ظاہر کی۔ متفرق لین داروں نے اسٹاک کو قبول کرتے ہوئے فرم کو 10,000روپیے ادا کیے۔ منونے مشینری 40,000روپیے میں لے لی۔ اور اس نے قابلِ ادا ہنڈیوں کو%5 کی کٹوتی پر ادا کرنے کا وعدہ کیا۔ موٹر کارتنو کے ذریعہ60,000روپیے میں لے لی گئی۔ سرمایہ کاری (Investment)سے76,000روپیے اور فکسچرز پر سے4,000 روپیے وصول ہوئے۔ فرم کی تحلیل کا خرچ 2,200روپیے آیا۔
وصولی کھاتہ ، بینک کھاتے اور ساجھے داروں کے سرمایہ کھاتے تیار کیجیے۔
(جواب: وصولی پر نقصان 37,600روپیے ،نقد کھاتہ کا میزان1,06,000روپیے،تنو کو ادا کی گئی رقم 31,500 روپیے،منو کو ادا کی گئی رقم 72,300 روپیے)
اپنی فہم کی جانچ کے لیے فہرست
اپنی فہم کی جانچ کیجیے۔I
1.درست، 2-درست، 3-درست،4-غلط ،5-درست، 6-درست، 7-درست، 8-غلط
اپنی فہم کی جانچ کیجیے- II
اپنی فہم کی جانچ کیجیے- II
(c) -1، (d) -2، (b) -3، (b) -4، (c) -5، (a) -6، (b) -7، (c) -8
اپنی فہم کی جانچ کیجیے- III
1۔ ڈیٹ، وصولی، 2۔ خارجی، کریڈٹ ، وصولی، 3۔سرمایہ کھاتے، تناسب تقسیم منافع، 4۔کریڈٹ کیا گیا، 5۔ ڈیبٹ کیا گیا، 6۔لین دار، 7۔ ادائیگی ، وصولی۔ 8۔وصولی ،سرمایہ ،9۔نہیں درج کیا گیا، 10۔سرمایہ۔