حساب داری نسبت 5
(Accounting Ratios)
مالیاتی گوشواروں کا مقصد کسی کاروباری ادارے کے بارے میں مالی اطلاعات فراہم کرانا ہوتا ہے جس سے فیصلہ لینے والوں کی معلوماتی ضروریات پوری ہوسکیں۔مالیاتی گوشوارے کارپوریٹ حلقہ میں ایک کاروباری تنظیم کے ذریعے فیصلہ لینے والوں کے لیے شائع اورفراہم کرائے جاتے ہیں۔یہ گوشوارے مالی اعدادوشمار مہیاکراتے ہیں جنھیں تجزیہ،تقابل اورتشریح کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ مالی اطلاعات کا استعمال کرنے والے خارجی افراد کے ساتھ ساتھ داخلی لوگ بھی فیصلہ لے سکیں۔اس سرگرمی کو مالیاتی گوشواروں کے تجزیہ کے نام سے موسوم کیاجاتاہے۔اسے حسابی عمل کا ایک مکمل اوراہم حصہ تصور کیاجاتا ہے۔جیساکہ سابقہ باب میں بتایاجاچکا ہے کہ مالیاتی گوشواروں کی سب سے زیادہ استعمال کی جانے والی تکنیک تقابلی گوشوارے،رجحان ،تجزیہ،حساب داری نسبت اور زرنقدرواں تجزیہ ہیں۔پہلے تین کے بارے میں سابقہ باب میں تفصیل کے ساتھ بحث ہوچکی ہے۔یہ باب مالی گوشواروں میں موجود اطلاعات کے تجزیے کے لیے حسابی نسبتوں کی تکنیک پر مشتمل ہے جو فرم کی مقدرت، کارگزاری اورنفع مندی کی تشخیص میںمددگار ہوتے ہیں۔
مقاصدآموزش
اس باب کا مطالعہ کرنے کے بعد آپ:
• حساب داری نسبت کے استعمال کا مفہوم، مقاصداورتجزیہ کی قیودکی وضاحت کرسکیںگے۔
• عام طورپراستعمال کی جانے والی مختلف قسم کی نسبتوں کی شناخت کرسکیں گے۔
• فرم کی مقدرت،سیالیت،کارگزاری اورنفع مندی کے تجزیے کے لیے مختلف نسبتوں کا حساب لگاسکیں گے۔
• درون الفرم اور بین الفرم کے تقابل کے لیے حساب لگائے گئے مختلف نسبتوں کی تشریح کرسکیں گے۔
5.1 حساب داری نسبت کامفہوم
جیساکہ پہلے بیان کیاجاچکاہے کہ حساب داری نسبت مالیاتی گوشواروں کے تجزیہ کا ایک اہم ذریعہ (آلہ)ہے۔ نسبت ایک ریاضیاتی عدد ہے جس کادویادوسے زیادہ عددوں کی مناسبت سے حساب لگایاجاتا ہے اوراسے تناسب،کسراورفی صد کے طورپر متعدد باربیان کیاجاسکتا ہے۔جب مالیاتی گوشواروں سے حاصل کیے گئے دوحساب داری عددوں سے منسوب کرتے ہوئے جب ایک عدد کا حساب لگایاجاتا ہے تو اسے حساب داری نسبت کے نام سے جانا جاتا ہے۔مثال کے طورپراگر کاروبار کا خام نفع10,000روپیے اورفروخت ایک لاکھ روپیے ہے تو کہاجاسکتاہے کہ فروخت پر خام نفع10فی صد (10,000⁄10,000) ہواہے۔ اس نسبت کو خام نفع نسبت کانام دیاجاتا ہے۔بالکل اسی طرح ذخیرہ کل فروخت نسبت6ہوسکتی ہے جس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ذخیرہ ایک سال میں6مرتبہ فروخت میںتبدیل ہوا۔
یہاں اس بات کا بھی مشاہدہ کرنے کی ضرورت ہے کہ حساب داری نسبت سے کوئی تعلق ظاہرہوتا ہے۔اگر مالیاتی گوشواروں کے درمیان سے کوئی حسابی عدد نکالاجاتا ہے تو وہ لازماًماخوذاعدادہوتے ہیں اوران کی تاثیر بہت حد تک بنیادی اعداد پر منحصر ہوتی ہے جس سے ان کا حساب لگایاگیاتھا۔لہٰذا اگر مالیاتی گوشوارے میںکچھ غلطیاں شامل ہوتی ہیں تو نسبت تجزیہ کے طورپر حاصل کیے گئے اعداد میںبھی غلطیاں موجود رہیں گی۔اس کے علاوہ نسبت کا حساب ان اعداد کا استعمال کرتے ہوئے لگانا چاہیے جو بامعنی طورپر تعلق باہمی رکھتے ہوں۔دوغیر متعلق اعداد کا استعمال کرتے ہوئے لگائے گئے حساب کی نسبت سے کوئی بھی مقصد حل نہیںہوپائے گا۔ مثلاًاگر کوئی فرنیچر کا کاروبار 1,00,000روپیے کا ہے اورخرید 3,00,000روپیے کی ہوتی ہے،تو فرنیچرکی خریدکی نسبت ( 1,00,000⁄30,00,000) ہوگی لیکن کیا اس نسبت میں کوئی مطابقت پائی جاتی ہے۔دراصل اس کی وجہ یہ ہے کہ ان دونوں پہلوئوں کے درمیان کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔
5.2نسبت تجزیہ کا مقصد
نسبت تجزیہ مالیاتی گوشواروں کے ذریعے ظاہر کیے گئے نتائج کی تشریح کا ایک ناگزیر حصہ ہے۔یہ استعمال کرنے والوں کو فیصلہ کن مالیاتی اطلاعات فراہم کراتے ہیں اوران علاقوں کی نشاندہی کراتے ہیں جہاںجانچ اورچھان بین کی ضرورت ہوتی ہے۔نسبت تجزیہ ایک تکنیک (طریق کار)ہے جس میں حسابی تعلق کے استعمال سے اعدادوشمار کی مکرر گروہ بندی شامل ہوتی ہے حالانکہ اس کی تشریح ایک پیچیدہ معاملہ ہے۔اس کے لیے مالیاتی گوشواروں کو تیارکرنے کے لیے بہترین طریقوں اوراصولوں کی بہترین سمجھ کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب ایک مرتبہ انھیں مؤثر طورپر کر لیاجاتا ہے تواس سے معلومات کا خزانہ فراہم ہوتا ہے جو تجزیہ کاروں کے لیے کافی مددگار ثابت ہوتا ہے۔
1۔ کاروبار کے ان علاقوں کو جاننا جن پر زیادہ دھیان مرکوز کرنے کی ضرورت ہے
2۔ ان امکانی علاقوں کے بارے میں جاننا ،جنھیں مطلوبہ سمت میں کوششوں سے بہتر بنایاجاسکتا ہے۔
3۔ کاروبارمیں نفع مندی،سیالیت،مقدرت اورکارگزاری کی سطح کا عمیق(گہرا)تجزیہ فراہم کرنا۔
4۔ بہترین صنعتی معیارکی کارگزاری کے تقابل سے متقابل گروہی تجزیہ کرنے کے لیے اطلاعات فراہم کرانا-
5۔ مستقبل کے تخمینے اورمنصوبے بنانے کے لیے مالیاتی گوشواروں سے ماخوذ مفید اطلاعات فراہم کرانا۔
5.3 نسبت تجزیہ کے فوائد
اگر نسبت تجزیہ مناسب ڈھنگ سے کیاجائے تو استعمال کرنے والے کی کارگزاری کو بہتر بناتاہے جس سے کاروبارکو چلایاجاتا ہے۔ عددی تعلق کاروبارکے مختلف پوشیدہ پہلوئوں پرروشنی ڈالتا ہے۔اگر ڈھنگ سے تجزیہ کیاجائے تو بہ نسبت کاروبارکے مختلف پیچیدہ حلقوں اورکاروبارکے روشن مقامات (پہلوئوں)کو سمجھانے میں مددگار ہوتے ہیں۔ پیچیدہ حلقوں کی معلومات انتظامیہ کو مستقبل میں مزید بہترطریقے سے کام کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ یہ بات قابل غورہے کہ نسبت خود میں وسیلہ نہیں بلکہ وسیلہ کو حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔ان کا رول لازمی طورپر اشارتی یاعلامتی ہوتا ہے۔نسبت تجزیہ سے ماخوذبہت سارے فوائد ہیں جنھیں مختصراًنیچے بیان کیاگیا ہے۔
1۔ فیصلوں کی تاثیرسمجھنے میں مددکرتے ہیں: نسبت تجزیہ آپ کو یہ سمجھنے میں مددکرتا ہے کہ کیا کاروباری فرم نے عملی،مالی اورسرمایہ کاری سے متعلق صحیح فیصلے لیے ہیں کہ نہیں۔اس سے یہ بھی اشارہ ملتا ہے کہ انھوں نے کارگزاری بہتر بنانے میں کس حد تک مدد کی ہے۔
2۔ پیچیدہ اعدادوشمار کو سہل بناتے ہیں اورتعلق قائم کرتے ہیں: نسبت تجزیے حسابی اعدادوشمار کو سہل بناتے ہیں اوران کےدرمیان تعلق قائم کرنےمیںمددکرتےہیں۔یہ مالی اطلاعات کومؤثر ڈھنگ سےانصرامی کارگزاری،ادھاراہلیت اورکمائی کی استعداد کا خلاصہ پیش کرنے میں مددکرتے ہیں۔
3۔ تقابلی تجزیے میں مددگار: نسبتوں کا حساب محض ایک سال کے لیے نہیں لگایا جاتا ہے۔کئی برسوں کے اعدادوشمار کو پہلو بہ پہلورکھتے ہیں توکاروبار میں مرئی رجحان یامیلان کی چھان بین میں کافی حدتک مددگار ہوتے ہیں۔ رجحان کی معلومات کاروبارکے بارے میں منصوبہ بندی کرنے میں مددکرتی ہے جو کاروبارکاایک نہایت مفید نمایاں خصوصیت ہے۔
4۔ SWOT تجزیہ کیاجاتا ہے: فعال نسبت تجزیے کاروبار میں آنے والے تغیرات(تبدیلیوں)کی وضاحت کرنے میں کافی حدتک معاون ہوتے ہیں۔ تبدیلی کی اطلاع انتظامیہ کو موجودہ اندیشوں اورمواقع کو بہتر ڈھنگ سے سمجھنے میں مددکرتی ہیں اورکاروبار کو اپناSWOT(قوت،کمزوری،موقع،اندیشہ)کاتجزیہ کرنے لائق بناتی ہیں۔
5۔ حلقۂ سائل کی شناخت:نسبت کسی کاروبارمیں حلقہ سائل کی شناخت کرنے کے ساتھ ساتھ کاروبار کے روشن حلقوں کی شناخت اورانھیں اجاگر کرنے میں مددکرتے ہیں۔حلقۂ سائل پر مزید غورکرنے کی ضرورت ہوتی ہے جب کہ روشن حلقوں کو بہتر نتائج حاصل کرنے کے لیے مزید نکھارناضروری ہوتا ہے۔
6۔ متعددتقابل:نسبت کچھ مخصوص پیمائشی نشانات کے ساتھ موازنہ کرنے میں مددکرتے ہیں اوراس امر کی بھی تشخیص کرتے ہیں کہ فرم کی کارگزاری بہتر ہے یانہیں۔اس مقصد کے لیے کسی کاروبارکی نفع مندی،سیالیت، مقدرت وغیرہ کاموازنہ کیاجاسکتاہے۔ جسے مختلف حسابی مدتوں کے درمیان موازنہ(اندرون فرم تقابل/میعادی سلسلہ بند تجزیہ)، (ii)دیگرکاروباری اداروں کے ساتھ(بین الفرم تقابل(موازنہ)متقابل گروہی تجزیہ)اور (iii) فرم/ صنعت کے لیے مقررمیعاد کے ساتھ(صنعت یاتوقعات کے ساتھ تقابل)
5.4 نسبتی تجزیے کی قیود
چونکہ نسبتوں کو مالیاتی گوشواروںسے اخذکیاجاتاہے لہٰذا اصلییا ابتدائی مالیاتی گوشوارے میںکوئی بھی خامی یا کمزوری نسبتی تجزیے سے ماخوذتجزیہ میںبھی درآئے گی۔لہٰذا مالیاتی گوشواروں کی قیود بھی نسبتی تجزیے کی قیود بن جاتی ہیں۔تاہم نسبت کی تشریح کے لیے استعمال کرنے والوں کو یہ بات ذہن میںرکھنی چاہیے کہ مالیاتی گوشواروں کو تیارکرنے میں کن اصولوں کا اتباع کیاگیاتھااوراس کے ساتھ ہی ان کی نوعیت اورقیود کو بھی ذہن میںرکھناچاہیے۔نسبتی تجزیے کی قیود جو ابتدائی طورپرمالیاتی گوشواروں کی نوعیت کے طورپرآتی ہیں درج ذیل ہیں۔
1۔ حساب داری اعدادوشمار کی قیود:حساب داری اعدادوشمار درستی اوراتمام کا غیر معقول یا غیر مصدقہ تاثر دیتے ہیں۔حقیقتاً حساب داری اعدادوشمار’’مندرج حقائق،حسابی روایات اورذاتی فیصلوں کا مجموعی عکس پیش کرتے ہیں اوریہ فیصلے اورروایات نافذہوکر انھیں معنوی حیثیت سے متاثر کرتے ہیں۔ مثال کے طورپر کاروبار کا نفع ٹھیک ٹھیک اورآخری اعدادوشمار نہیںہوتے۔ یہ صرف حساب داری پالیسیوں کے استعمال پر منحصر اکاؤنٹینٹ کامحض تصوریانظریہ ہوتے ہیں۔ایک فیصلہ کی صحت لازمی طورپر ان لوگوں کی صلاحیت سالمیت اوردیانت داری پر منحصر ہوتی ہے جو انھیں تیار کرتے ہیںاوران کی وابستگی عام طورپر تسلیم شدہ حساب داری اصولوں اورروایات کے ساتھ ہوتی ہے۔‘‘لہٰذا مالیاتی گوشوارے مسئلہ کی بالکل صحیح تصویر نہیںپیش کرسکتے اوراس طرح سے نسبت بھی درست تصویر نہیںظاہر کریں گے۔
2۔ قیمت سطح تبدیلی کو نظرانداز کیاجاتاہے:مالیاتی حساب داری مستحکم زرپیمائشی اصول پر منحصرہوتی ہے۔ کنایتاًیہ ماناجاتا ہے کہ ہر سطح پر قیمت میں تبدیلی یاتو کم ترین ہے یا کوئی معنی ہی نہیں رکھتی جب کہ حقیقت مختلف ہے۔ہم عموماً ایک افراطی معیشت میں رہتے ہیں جہاں زر کی قوت میں مسلسل گراوٹ آرہی ہے۔قیمت کی سطح میں تبدیلی مختلف حسابی برسوں کے مالیاتی گوشواروں کے تجزیے کوبے معنی بنادیتی ہیں، کیوںکہ حسابی مندرجات زرکی قدرمیں آنے والی تبدیلی کو نظرانداز کرتے ہیں۔
3۔ صنعتی اورغیرمالیاتی پہلوئوں کو مستردکرتا ہے:حساب داری عمل کاروبار کے مقداری (زری) پہلوئوں کی معلومات فراہم کراتے ہیں لہٰذا نسبت صرف زری پہلوئوں کو پیش کرتے ہیں اورپوری طرح سے غیر زری(صنعتی)پہلوئوں کو نظرانداز کرتا ہے۔
4۔ حساب داری عمل میں تفاوت(فرق):اسٹاک کی تشخیص،فرسودگی کا حساب لگانا،غیر مرئی اثاثوں کا عمل،چند مخصوص مالیاتی تفاوت کی تعریف وغیرہ کے لیے مختلف حساب داری پالیسیوں کا استعمال جو کاروبار کے مختلف لین دین کے پہلوئوں کے لیے استعمال ہوتا ہے یہ تفاوت متقابل گروہی تجزیہ پر ایک بڑاسوالیہ نشان لگاتے ہیں۔ چونکہ مختلف کاروباری تنظیموں کے ذریعے استعمال کیے گئے حساب داری عمل میں فرق پایاجاتا ہے اس لیے ایک باضابطہ وجائز تقابل ممکن نہیں ہوتا۔
5۔ قیاس آرائی(پیش گوئی): محض تاریخی تجزیہ پر منحصر مستقبل کے رُخ کے بارے میں پیش گوئی کرنا مناسب نہیں ہے۔مناسب پیش گوئی کے لیے غیر مالیاتی عوامل پر بھی دھیان دینے کی ضرورت ہوتی ہے۔
آئیے اب ہم فی صدنسبت کی پابندیوں کے بارے میں ذکر کریں جس کی مختلف بندشیں یہ ہیں۔
1۔ وسیلہ نہ کہ نتیجہ: نسبت خود میں ایک وسیلہ نہیں ہےبلکہ وسیلہ کو حاصل کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔
2۔ مسائل حل کرنے کی اہلیت کی قلت: ان کارول لازمی طورپر اظہاری اورانتباہ کرنے والاہے لیکن یہ کسی مسئلہ کا حل مہیا نہیں کراتے۔
3۔ معیاری تعریف کی کمی:نسبت تجزیے میں استعمال کیے جانے والے مختلف تصورات کی معیاری تعریفوں کی کمی پائی جاتی ہے۔مثال کے طورپر اس میں نقد واجبات کی کوئی معیاری تعریف نہیں ہے۔ عام طورپر اس میں تمام رواں واجبات شامل ہوتے ہیں اورکبھی کبھی رواں واجبات کے تحت بینک اوورڈرافٹ شامل نہیں ہوتا ہے۔
4۔ کلی طورپر منظورمعیاری سطح کی کمی:کوئی ایسا عالمگیرمعیارنہیں ہے جو مثالی نسبت کی سطح کی صراحت کرتاہواوراس طرح کی کوئی ایسی معیاری فہرست بھی نہیں ہے جو بالاتفاق قابل قبول ہواور ہندوستان میں صنعت اوسط بھی دستیاب نہیں ہے۔
5۔ غیر اعدادوشمار منحصرنسبت:غیر مطابق اعدادوشمار کے لیے حساب لگائی گئی نسبت دراصل ایک بے سود مشق ہے۔ مثال کے طورپر قرض خواہ 1,00,000روپیے اورفرنیچر 1,00,000روپیے1:1کی نسبت ظاہر کرتے ہیں لیکن اس کی کارگزاری اور مقدرت کے ساتھ کوئی مطابقت نہیں ہے۔
لہٰذا نسبتوں کا استعمال مناسب آگہی کے ساتھ ان کی حدود کومدنظر رکھتے ہوئے کیاجانا چاہیے جب کہ ایک تنظیم کی کارگزاری کی تشخیص اوراس کی بہتری کے لیے مستقبل کی حکمت عملی کی منصوبہ بندی کی جارہی ہو۔
اپنی معلومات کی جانچ کیجیے— 1
بتائیے مندرجہ ذیل میں سے صحیح یا غلط اقوال کون کون سے ہیں؟
(a) مالیاتی رپورٹنگ کا تنہامقصد منصرموں کو عملی کاموں کی ترقی کے سلسلے میں ہے۔
(b) مالیاتی گوشواروں میں مہیاکرائے گئے اعدادوشمار کے تجزیے کو مالیاتی گوشوارے کہاجاتا ہے۔
(c) طویل المدت قرض دار فرم کی سودادائیگی اہلیت اوراصل رقم کی ادائیگی سے سروکار رکھتے ہیں۔
(d) ایک نسبت ہمیشہ ایک عدد کے ذریعے دوسرے عدد کی تقسیم کی خارج قیمت کی شکل میں ظاہر کی جاتی ہے۔
(e) نسبت ایک فرم کی مختلف حساب داری کے نتائج کے ساتھ ساتھ دیگر کاروباری اداروں کی حسابی مدتوں کے تقابل میں مدد کرتی ہے۔
(f) ایک نسبت مقداری اورصنعتی دونوں پہلوؤں کو ظاہر کرتی ہے۔
5.5 نسبتوں کی قسمیں
نسبتوں کی درجہ بندی دوطرح سے ہوتی ہے۔1) (روایتی درجہ بندی 2) (تفاعلی درجہ بندی۔روایتی درجہ بندی ان مالیاتی گوشواروں پر منحصرہوتی ہے جو متعلقہ نسبت کاتعین کرنے والے ہوتے ہیں۔اس بنیادپر نسبت کی درج ذیل طورپر درجہ بندی کی گئی ہے:
1۔ آمدنی گوشوارہ نسبت:آمدنی گوشوارے سے دومتغیرات کی تعبیرایک نسبت کو آمدنی گوشوارہ نسبت کے طورپر جانا جاتا ہے۔ مثال کے طورپر فروخت کے لیے خام نفع کی نسبت کو خام نفع نسبت کے نام سے جاناجاتا ہے اوراس آمدنی گوشوارے سے دونوں اعدادوشمار کا حساب لگایاجاتا ہے۔
2۔ تختۂ توازن نسبت: اگر اس معاملے میںدونوں متغیرات تختۂ توازن سے ہیں تواس کی تختۂ توازن نسبت کے طورپر درجہ بندی کی جاتی ہے۔مثال کے طورپر رواں اثاثے جات کی نسبت کو رواں واجبات کی نسبت کے نام سے جاناجاتا ہے اوراس کا تختۂ توازن سے موصول دونوں اعدادوشمار کا استعمال کرکے حساب لگایاجاتا ہے۔
3۔ مخلوط نسبت:اگر نسبت کا حساب ایک متغیرہ آمدنی گوشوارے سے اورایک تختۂ توازن سے لے کرکیاجاتا ہے تو اسے مخلوط نسبت کہتے ہیں۔ مثلاًقرض داروں کو ادھار فروخت کی نسبت اورقابل وصول بل( جو قرض دارکل فروخت نسبت کے نام سے جاناجاتا ہے) کو ایک عدد آمدنی گوشوارے(ادھار فروخت)اوردوسرا عدد تختۂ توازن سے( قرض دار) اورقابل وصول بل کا استعمال کرکے حساب لگایاجاتا ہے۔
حالانکہ حساب داری نسبت کا حساب مالیاتی گوشواروں سے حاصل شدہ اعدادوشمار کے ذریعے کیاجاتا ہے لیکن مالیاتی گوشواروں کی بنیادپر نسبت کی درجہ بندی شاذونادر ہی عمل میں لائی جاتی ہے۔یہ یادرکھناچاہیے کہ حساب داری کابنیادی مقصد مالیاتی کارگزاری(نفع مندی)(مالی حالت وذہانت کے ساتھ زرکو بڑھانے اوراس کی سرمایہ کاری کی استعداد )کے ساتھ ساتھ مالی حالت میں پیداتبدیلی(سطحِ عمل، سرگرمی میںتبدیلی کے لیے امکانی وضاحت)پرمناسب روشنی ڈالنا۔اس طرح سے حاصل کی گئی نسبت کے مقاصدپر منحصر متبادل درجہ بندی(تفاعلی تقسیم)سب سے زیادہ استعمال میں لائی جانے والی ترتیب ہے جو حسب ذیل ہے:
1۔ سیالیت(نقد)نسبت:اپنے عہد کو پوراکرنے کے لیے کاروبارکونقد فنڈکی ضرورت ہوتی ہے۔کاروبارکی اپنے اسٹیک ہولڈر(ثالث)کوواجب الادارقم اداکرنے کی اہلیت کو سیالیت کہتے ہیں اورتخمینہ جاتی نسبت کے ذریعے پیمائش کو ’سیالیت نسبت‘کے نام سے جاناجاتا ہے۔ یہ عام طورپر نوعیت کے اعتبار سے قلیل المدت ہوتے ہیں۔
2۔ مقدرت(ساکھ داری)نسبت: کاروبارکی مقدرت کا تعین اس کے اسٹیک ہولڈرزخصوصاًبیرونی اسٹیک ہولڈرزکے تئیںاس کے معاہدئہ امورواجب کوپوراکرنے کی استطاعت سے ہوتاہے اورحالت مقدرت کی پیمائش کے لیے تخمینہ جاتی نسبت کو ’مقدرت نسبت‘کے نام سے جاناجاتا ہے۔یہ لازمی طورپرنوعیت کے اعتبارسے طویل المدت ہوتے ہیں۔
3۔ سرگرمی(یاکل فروخت)نسبت: یہ ان نسبتوں سے متعلق ہیں جنھیں وسائل کے مؤثراورکارگراستعمال پر منحصرکاروبارکی عملی کارگزاری کی اہلیت کی پیمائش کے لیے لیا جاتا ہے۔انھیں’ نسبت کارکردگی‘ کے نام سے بھی جاناجاتا ہے۔
4۔ نسبت نفع مندی: یہ نسبت کاروبارمیںلگے فنڈ(یااثاثے)یافروخت سے متعلق نفع کے تجزیے کے واسطے استعمال اوراس مقصدکوحاصل کرنے کے لیے تخمینہ جاتی نسبت کو’نسبت نفع مندی ‘کے نام سے جاناجاتا ہے۔
ایلڈ فارماسیوٹیکلز لمیٹیڈ
| نسبت نفع مندی |
2003-4 |
2004-5 |
2005-6 |
| PBDIT/ کل آمدنی |
14.09 |
15.60 |
17.78 |
| خالص نفع/ کل آمدنی |
6.68 |
7.19 |
10.26 |
نقد بہاو/ کل آمدنی
|
7.97 |
8.64 |
12.13 |
| خالص مالیت پر حاصل PAT / خالص مالیت کاروبار میں لگے سرمائےپر حاصل |
16.61 |
10.39 |
14.68 |
| PBDIT/ اوسط کاروبار میں لگا سرمایہ سرگرمی نسبت |
15.40 |
15.33 |
16.17 |
| سرگرمی نسبت |
|
|
|
| قرض دار کل فروخت ( ایام ) |
2003-4 |
2004-5 |
2005-6 |
| ذخیرہ کل فروخت ( ایام ) |
104 |
87 |
80 |
| کاروباری اصل/ کل کاروباری میں لگا سرمایہ |
98 |
100 |
96 |
| سودا / کل آمدنی% |
68.84 |
60.04 |
51.11 |
| لیوریج اور مالیاتی نسبت |
4.48 |
3.67 |
3.14 |
| |
2003-4 |
2004-5 |
2005-6 |
| فرض ۱ کیوٹی نسبت |
1.45 |
0.66 |
0.77 |
| رواں نسبت |
3.50 |
3.72 |
3.58 |
| فوری ( زود نقد ) نسبت |
2.45 |
2.40 |
2.39 |
| نقد اور مساوی/ کل اثاثے ( % ) |
12.76 |
14.48 |
7.93 |
| سود احاطہ |
3.15 |
4.25 |
4.69 |
قدرتی اندازی نسبت
| قدرتی اندازی نسبت |
2003-4 |
2004-5 |
2005-6 |
| فی حصہ کمائی |
15.00 |
12.75 |
21.16 |
| فی حصہ نقد کمائی |
18.78 |
15.58 |
24.85 |
| منافع فی حصہ |
3.27 |
2.73 |
2.66 |
| فی حصار اندراجاتی مالیت |
94.77 |
124.86 |
147.62 |
| قیمت / کمائی |
8.64 |
15.03 |
13.40 |
5.6 سیالیت(نقد)نسبت
سیالیت نسبت کا حساب کاروبارکی قلیل المدت مقدرت(ادائے قرض کا مقدور)کی علامت کے طورپر کیاجاتا ہے یعنی فرم کی رواں ذمہ داریوں کوپورا کرنے کی اہلیت جاننے کے لیے انھیں تختۂ توازن میں رواں اثاثے اوررواں واجبات کی رقم کوجاننے کے لیے شمار کیاجاتا ہے۔ اس میں بینک اورڈرافٹ،قرض دار،بقایا(اداطلب)اخراجات،ہنڈی،قابل ادائیگی، پیشگی وصول شدہ آمدنی وغیرہ شامل ہوتی ہیں۔اس زمرے میں شا مل دو نسبت ہیں رواں نسبت اورنقد نسبت۔
5.6.1 رواں نسبت
رواں نسبت رواں اثاثوں اوررواں واجبات کا تناسب ہوتا ہے۔ اسے مندرجہ ذیل طورپر ظاہرکیاجاسکتا ہے۔
رواں نسبت = رواں اثاثے : رواں واجبات یا رواں اثاثے / رواں واجبات
رواں اثاثوں میں نقدزیردست،بینک بیلنس،قرض دار،ہنڈی قابل وصول اسٹاک،پیش ادائی اخراجات،حاصل آمدنی اورقلیل المدت سرمایہ کاری(قابل مارکیٹ سیکورٹیز)وغیرہ شامل ہوتے ہیں۔
رواں واجبات میں قرض خواہ،ہنڈی قابل ادائیگی،بقایااخراجات ٹیکس کے لیے بندوبست،خالص پیشگی ٹیکس کا اہتمام،بینک اورڈرافٹ، قلیل المدت قرض،پیشگی حاصل شدہ آمدنی وغیرہ شامل ہوتے ہیں۔
مثال1
مندرجہ ذیل اطلاع سے رواں نسبت کا حساب لگائیے۔
روپیے روپیے
| اسٹاک |
50,000 |
نقد |
30,000 |
| قرض دار |
40,000 |
قرض خواہ |
60,000 |
| ہنڈی قابل وصول |
10,000 |
ہنڈی قابل ادائیگی |
40,000 |
| پیشگی ٹیکس |
4,000 |
بینک اور ڈرافٹ |
4,000 |
حل
رواں اثاثے = 1,34,000=3,000+4,000+10,000+40,000+50,000 روپیے
رواں واجبات= 1,04,000=4,000+40,000+60,000 روپیے
رواں نسبت= 1,34,000روپیے: 1,04,000روپیے= 1.29:1
اہمیت: یہ ایک درجۂ پیمائش فراہم کرتاہے کہ کون سے رواں اثاثے کن واجبات کا احاطہ کرتے ہیں۔ رواں واجبات کے اوپررواں اثاثوں کی زیادتی رواں اثاثوں اورفنڈکی روانی(بہائو) کی وصولیابی میں عدم یقینی صورت حال کے برخلاف گنجائش پیمانۂ تحفظ فراہم کرتی ہے۔ یہ نسبت مناسب ہونی چاہیے۔ یہ نہ تو بہت زیادہ ہی ہو اورنہ بہت کم۔دونوں ہی صورتیں اپنے ذاتی نقصانات رکھتی ہیں۔ایک بہت زیادہ اونچی نسبت سے مرادرواں اثاثوں میں بھاری بھرکم سرمایہ کاری ہے جو اچھی علامت نہیں ہے کیوں کہ اس سے وسائل کاکم استعمال یا غلط استعمال ظاہرہوتا ہے۔ایک کم نسبت کاروبار کے لیے خطرہ کی علامت ہے اوراسے خطرہ برداشت کرنے کی حالت میں پہنچاتاہے جہاں وہ اس لائق نہیں ہوگاکہ اپنے قلیل المدت قرضوں کی ادائیگی کرسکے۔ عام طورپر یہ نسبت 1 2:ماناجاتا ہے۔
5.6.2 زودنقد(فوری)نسبت
یہ رواں واجبات پر فوری(نقد) نسبت ہے۔اسے مندرجہ ذیل طورپر ظاہرکیاجاتا ہے۔
زودنقدنسبت=رواں واجبات یا نقدد اثاثے/ رواں واجبات
زودنقد اثاثوں کی ان اثاثوں کے طورپر تعریف کی گئی ہے جو فوری طورپر نقد میں تبدیل ہونے کے قابل ہوتے ہیں۔جب ہم زودنقد اثاثوںکا حساب لگاتے ہیں تب ہم اسٹاک اوررواں اثاثوں میں سے ادائے پیشگی اخراجات کوکم کردیتے ہیں کیونکہ غیرنقدرواں اثاثے کے علاوہ اسے کاروبار کی حالت سیالیت(نقد پوزیشن)کی پیمائش کی شکل میں رواں نسبت کے مقابلے بہتر ماناجاتا ہے۔ اس کا کاروبارکی حالت سیالیت پر اضافی جانچ کے مقصد سے حساب لگایاجاتا ہے۔اس لیے اسے’ فوری جانچ کا تناسب‘ بھی کہاجاتا ہے۔
مثال 2
مثال 1میں دی گئی اطلاع کی بنیاد پر زودنقد نسبت کا حساب لگائیے ۔
حل
فوری اثاثے = اسٹاک ۔ پیشگی ٹیکس
فوری اثاثے = 1,34,000روپیے ۔ ( 50,000 روپیے+ 4,000 روپیے ) = 80,000 روپیے
رواں واجبات = 1,04,000 روپیے
زود نقد ( فوری ) نسبت = فوری اثاثے: رواں واجبات
= 80,000 روپیے : 1.04,000 روپیے
= 7,:1
اہمیت: یہ تناسب کاروبارکو بغیر کسی بہائو کے اس کی قلیل المدت واجبات کوپورا کرنے کا پیمانہ اہلیت مہیاکراتا ہے۔عموماًیہ ماناگیاہے کہ تحفظ کے لیے 1:1کی نسبت ہونی چاہیے کیوں کہ غیر ضروری طورپر کم تناسب خطرناک ہوتا ہے اوراونچی نسبت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کم نفع والی قلیل المدت سرمایہ کاری میںبہ صورت دیگر وسائل کاپھیلائو یاصف بندی ہوئی ہے۔
مثال 3
مندرجہ ذیل اطلاعات سے ’نقدنسبت ‘کا حساب لگائیے۔
رواں واجبات 50,000 روپیے
روان اثاثے 80,000 روپیے
اسٹاک 25,000 روپیے
پیش ادائی اخراجات 5,000 روپیے
حل
نقداثاثے = رواںاثاثے– اختتامی اسٹاک– پیش ادائی اخراجات
80,000 =روپیے25,000–روپیے– 5,000روپیے=50,000روپیے
نقدنسبت = رواں واجبات نقداثاثے
نقد نسبت = 50,000روپیے: 50,000روپیے=1:1
مثال 4
Xلمیٹڈکارواں نسبت 3.5:1ے اورزودنقد نسبت 1:2ہے۔ اگر رواں اثاثوں پر فوری نسبت اسٹاک کے ذریعے نمائندگی 24.000روپیے ہے تو رواںاثاثوں اوررواں واجبات کا حساب لگائیے۔
حل
رواں نسبت =3.5:1
فوری نسبت =2:1
اگر روان واجبات ہیں =x
رواں اثاثے =3.5x
فوری نسبت =2x
اسٹاک = رواں اثاثے۔ فوری اثاثے
24,000 =3.5x-2x
24,000 =1,5x
x
رواں واجبات =16000
رواں اثاثے = 16000x3.5=3.5روپیے= 56,000 روپیے
تصدیق/ جانچ:
رواں نسبت =رواں اثاثے: رواں واجبات
56,000 روپیے 16000 روپیے
= 3.5:1
فوری نسبت = فوری اثاثے: رواں واجبات
=32,000 روپیے 16,000: روپیے
= 2:1
مثال5
مندرجہ ذیل اطلاع سے رواں نسبت کا حساب لگائیے۔
کل اثاثے 3,00,000 روپیے قائم اثاثے 1,60,000
طویل المدت واجبات 80,000 روپیے سرمایہ کاری 1,00,000
حصہ داروں کا فنڈ 2,00,000 روپیے فرضی اثاثے صفر
حل
کل اثاثے = قائم اثاثے+سرمایہ کاری+رواں اثاثے
3,00,000 روپیے = 1,60,000 روپیے+1,00,000روپیے+رواں اثاثے
رواں اثاثے = 3,00,000- روپیے2,60,000روپیے=40,000روپیے
کل اثاثے = کل واجبات 〈 بشمول سرمایہ ( اصل ) 〉
= حصہ داروں کا فنڈ+طویل المدت واجبات+رواں واجبات
3,00,000 روپیے = 2,00,000روپیے+80,000روپیے+رواں واجبات
رواں واجبات = 3,00,000روپیے-2,80,000=20,000روپیے
رواں نسبت = رواں اثاثے: رواں واجبات
= 40,000روپیے:20,000روپیے=2:1
آپ اسے خود کیجیے
1۔ رواں نسبت=4.5:1،فوری نسبت=3:1،ذخیرہ36,000روپے۔ رواں اثاثے اوررواں واجبات کا حساب لگائیے۔
2۔ کسی کمپنی کے رواں واجبات 5,60,000روپے ہیں۔رواں نسبت 2.5:1اورفوری نسبت1:2ہے۔آپ اسٹاک کی قیمت کا پتہ لگائیے۔
3۔ کسی کمپنی کے رواں اثاثے 5,00,000 روپے ہیں، رواں نسبت 2.1:5 اور فوری نسبت1:1ہے۔رواں واجبات،نقد اثاثے اوراسٹاک کی قدر کا حساب لگائیے۔
مثال 6
رواں نسبت2:1ہے۔وجوہات بتاکر وضاحت کریں کہ مندرجہ ذیل میں سے کون سے تبادلہ میں بہتری یا کمی آئے گی اوررواں نسبت کو تبدیل نہیںکرے گی۔
(a) رواں واجبات کی مکرر ادائیگی۔
(b) ادھار مال کی خریداری۔
(c) ایک کمپیوٹر کی فرو خت محض 3,000روپے(اندراجاتی قیمت 4,000روپے)۔
(d) مرچنڈ ائیز مال کی فروخت 11,000 روپے جب کہ لاگت 10,000 روپے۔
(e) منافع کی ادائیگی۔
حل
نسبت میں تبدیلی اصل نسبت پرمنحصرہے۔آئیے مان لیتے ہیں کہ رواں اثاثے50,000روپے ہیں اوررواں واجبات 25,000 روپے اورایسے ہی رواں نسبت بھی2:1ہے۔اب ہم رواں نسبت کا دیے گئے لین دین پر پڑنے والے اثر کا تجزیہ کریں گے۔
(a) فرض کیجیے قرض داروں کی10,000روپے کی ادائیگی بذریعہ چیک کی گئی۔اس سے رواں اثاثے کم ہوکر40,000روپے اوررواں واجبات15,000روپے رہ جائیں گے۔اب نئی نسبت 2.67:1، 40,000روپے/ 15,000روپےہوگی لہٰذا اس میں بہتری آئی ہے۔
(b) فرض کیجیے10,000روپے کاسامان ادھار خریداگیا۔ یہ رواں اثاثوں میں اضافہ کرکے 60,000روپے کردے گا اوررواںواجبات35,000روپے ہوجائیں گے۔اب نئی نسبت 1.7:1 (60,000روپے/35,000 روپے ) ہوگی۔ لہٰذا اس میں کمی واقع ہوئی۔
(c) ٹائپ رائٹرکی فروخت کی وجہ سے(قائم اثاثے)رواں اثاثوں میں53,000روپے تک اضافہ ہوگا اوررواں واجبات میں کوئی تبدیلی بھی نہیں ہوگی۔نئی نسبت 2.12:1 (53,000روپے/25,000روپے)ہوگی۔ لہٰذا اس میں بہتری آئی ہے۔
(d) اس تبادلہ سے اسٹاک میں10,000روپے کی کمی واقع ہوگی اور نقدمیں11,000روپے کا اضافہ ہوگا۔ اس طرح رواں ا ثاثے، رواں واجبات میں کسی تبدیلی کے بغیر ،1,000 روپے کا اضافہ ہوگا۔اس طرح سے نئی نسبت 2.04 (51,000روپے/25,000روپے)ہوگی۔لہٰذا اس میں بہتری آئی ہے۔
(e) فرض کیجیے5,000روپے منافع کے طورپر دیے گئے۔اس سے رواں اثاثے کم ہوکر45,000روپے ہوجائیں گےاور قلیل مدتی انتظامات (موجودہ واجبات ) 5,000روپےہو جائیں گے ۔ اس طرح نیا تناسب ہوگا، 2:25:1،46,000روپے /20,000روپےاس طرح اس میں بہتری آتی ہے ۔
5.7 مقدرت(ساکھ داری)نسبت
وہ لوگ جو کاروبار میں پیشگی رقم قلیل مدت کے لیے لگاتے ہیں انھیں وقفہ داری سود کی ادائیگی کے تحفظ میں دلچسپی کے ساتھ ساتھ مدت قرض کے اختتام پر اصل رقم کی مکرر ادائیگی کی فکر لاحق رہتی ہے۔مقدرت نسبت کا حساب کاروبار میں طویل المدت قرض اداکرنے کی اہلیت متعین کرنے کے لیے کیاجاتا ہے۔کاروبار کی مقدرت کا جائزہ لینے کے لیے عموماًمندرجہ ذیل نسبتوں کا تخمینہ لگایاجاتا ہے۔
1۔ قرض اکیوٹی نسبت
2۔ قرض نسبت
3۔ مالکانہ نسبت
4۔ کل اثاثے نسبت برائے قرض
5۔ سود احاطہ نسبت
5.7.1 قرض اکیوٹی نسبت
قرض اکیوٹی نسبت طویل المدت قرض اوراکیوٹی کے درمیان تعلق کی پیمائش کرتا ہے۔اگر کل طویل المدت فنڈ کے اجزا قرض چھوٹے ہیں تو باہر کے لوگ زیادہ تحفظ محسوس کرتے ہیں۔تحفظ کے نقطۂ نظر سے زیادہ اکیوٹی اورکم قرض کاسرمایہ ڈھانچہ موافق ماناجاتا ہے۔اگر قرض اکیوٹی نسبت 2:1کاہے تو اس کا تخمینہ مندرجہ ذیل طورپر لگایاجاتا ہے۔
قرض اکیوٹی نسبت= یا طویل المدت / حصہ داری کا فند
یہاںحصہ داروں کا فنڈ=اکیوٹی حصہ سرمایہ+محفوظات وفاصلات– فرضی اثاثے+ترجیحی حصہ سرمایہ
متبادل طورپر اسے غیرفرضی کل اثاثے– کل خارجی واجبات کے طورپر بھی اس کا تخمینہ لگایاجاسکتا ہے۔
طویل المدت فنڈ=ڈبنچرز+طویل المدت قرض
اہمیت:یہ نسبت کسی کاروباری ادارے کی بساط مقروضیت کی پیمائش کرتی ہے اورطویل المدت قرض کے تحفظ کی حد کے تحت ایک اندازہ فراہم کرتی ہے جیسا کہ پہلے بھی اشارہ کیاجاچکاہے کہ ایک معمولی قرض اکیوٹی نسبت زیادہ تحفظ ظاہرکرتا ہے جب کہ دوسری طرف ایک بلندنسبت خطرناک تصورکیاجاتا ہے اورپریشانی پیداکرسکتا ہے۔حالانکہ مالکانہ نظریے سے اکیوٹی پر قرض کی ٹریڈنگ کا زیادہ استعمال اس کی بلند حاصلات کی یقین دہانی کراسکتا ہے۔ اگر کاروبار میںلگے ہوئے سرمایے کی حاصل شرح دیے جانے والے سود سے زیادہ ہوتو اسے خطرناک ماناجاتاہے۔ بعض کاروباروں کے سواجیسے متعین نسبت 1:2تک محدود ہے لہٰذا اس نسبت کو لیوریج نسبت کی اصطلاح سے بھی نوازاجاتا ہے ۔
مثال7
مندرجہ ذیل اصلطلاحات سے قرض اکوٹی نسبت کا تخمینہ لگآئیے
کل باہری واجبات 5.00.000 روپیے تخمینہ توازن کا میزان 10.10.000 ورپیے
رواں 1.00.000 روپیے قرضی اثاثے10.000 روپیے
حل
طویل المدت قرض = کل باہری واجبات ۔ رواں واجبات
= 50,00,000 روپیے۔1,00,000روپیے=4,00,000روپیے
کل غیر قرضی اثاثے = کل اثاثے۔ قرضی اثاثے
= 10,10,000روپیے۔10,000روپیے=10,00,000روپیے
حصہ داروں کا فنڈ = کل غیر قرضی اثاثے۔ کل واجبات
= 10,00,000روپیے۔ 5,00,000روپیے=5,00,000روپیے
قرض۱ کیوٹی نسبت = 4,00,000روپیے-5,00,000روپیے=4:5
5.7.2قرض نسبت
قرض نسبت طویل المدت قرض کے لیے کل باہری واندرونی(کاروبارمیں لگا ہواسرمایہ اورخالص اثاثے)فنڈکی نسبت سے متعلق ہوتا ہے۔اسے مندرجہ ذیل طریقے سے شمار کیاجاتا ہے۔
قرض نسبت =طویل المدت قرض/کاروبار میںلگاسرمایہ (یاخالص اثاثے)
کاروبار میں لگاہواسرمایہ طویل المدت قرض+حصہ داروں کے فنڈ کے برابر ہوتا ہے۔بصورت دیگر اسے خالص اثاثوں کے طورپرلیاجاسکتاہے۔جو کل غیرفرضی اثاثے– رواں واجبات کے برابر ہوتاہے۔مثال نمبر7سے لیے گئے اعداد وشمار سے کاروبار میں لگاہواسرمایہ 5,00,000+5,00,000 1روپے=20,00,000ہے ٹھیک ویسے ہی خالص اثاثے 25,00,000روپے– 20,00,000 روپے=5,00,000روپے اورقرض نسبت 5,00,000روپے– 20,00,000 روپے =0.25:1ہے۔
اہمیت:قرض اکیوٹی نسبت کی طرح یہ کاروبار میں لگے ہوئے سرمایے میں طویل المدت قرض کے تناسب کو ظاہر کرتا ہے اوراس کے معاملے میں قرض نسبت نصفسے کم جو قرض اورقرض کے مناسب تحفظ کے ذریعے ہومناسب فنڈنگ کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
یہ بھی خیال رہے کہ قرض نسبت کاکل اثاثوں کے تعلق سے بھی تخمینہ لگایاجاسکتا ہے۔اس طرح کے معاملے میںعموماًیہ کل اثاثوں کے کل قرض کی نسبت کی جانب رجوع کرتا ہے(طویل المدت قرض+رواں واجبات)یعنی قائم اوررواں اثاثوں کا کل میزان(یاحصہ داروں کا فنڈ+طویل المدت قرض+رواں واجبات) اس کو درج ذیل طورپر بیان کیاجاسکتا ہے۔
قرض نسبت= کل قرض/ کل اثاثے
5.7.3مالکانہ نسبت
مالکانہ نسبت مالکان(حصہ داروں)کے فنڈ اورخالص اثاثوں کے درمیان تعلق کوظاہر کرتا ہے اوراس کا مندرجہ ذیل طورپر تخمینہ لگایاجاتاہے:
مالکانہ نسبت = حصہ داروں کا سرمایہ/کاروبار میں ملوث سرمایہ(خالص اثاثے) جو مثال 7کی بنیاد پر ہیں۔ یہ مندرجہ ذیل طریقہ سے کام کریں گے:
15,00,000 روپے/ 20,000,00 روپے = 0.75:1
اہمیت:اثاثوں کی فراہمیمیں حصہ داروں کے فنڈ کا بلندتناسب ایک مثبت خصوصیت ہے کیوںکہ یہ قرض خواہوں کو تحفظ فراہم کراتاہے۔ اس نسبت کا کل اثاثوں کے تعلق سے خالص اثاثوں(کاروبار میںلگاہواسرمایہ)کی رہنمائی میں حساب لگایاجاسکتا ہے۔اس پر بھی توجہ دی جاسکتی ہے کہ کل قرض نسبت اورمالکانہ نسبت کا کل میزان1کے برابرہوگا۔مثال نمبر7 کے اعدادوشمار کی بنیادپر اس نسبت کو حل کریں جس میں قرض نسبت 0.25:1 اورمالکانہ نسبت 0.75:1 اوردونوں کا میزان1 = 0.25 + 0.75ہے۔اگر فی صد کی شکل میں اسے ظاہرکیاجائے تویہ قرض کے ذریعے فنڈ کے ملوث سرمایہ(کاروبارمیں لگا ہواسرمایہ)کا25%اورمالک کے فنڈ کے ذریعے75% بنتا ہے۔
مثال 8
کسی کمپنی کے ذریعہ مندرجہ ذیل تختہ توازن سے قرض اکیوٹی نسبت حل کیجیے
تختہ توازن
ترجیحی حصہ سرمایہ 2,00,000 پلانٹ و مشینری 5,00,000
اکیوٹی حصہ سرمایہ 8,00,000 زمین وعمارت 4,00,000
محفوظات 1,10,000 موٹر کار 1,50,000
ڈبنچرز 1,50,000 فرنیچر 50,000
رواں واجبات 1,40,000 اسٹاک 1,00,000
14.00.000 قرض دار 90,000
نقد وبینک 1,00,000
اجرا حصص پر بٹہ 10,000
14.00.000
5.7.4 کل اثاثوں پر قرض نسبت
یہ نسبت اثاثوں کے ذریعے طویل المدت قرض کے احاطہ کرنے کی پیمائش کرتی ہے۔اسے درج ذیل طریقے سے حل کیاجاتا ہے۔
قرض نسبت کے لیے کل اثاثے = کل اثاثے/طویل المدت قرض
مثال8کے اعدادوشمار کی نسبت کو درج ذیل طورپر نکالاجاسکتا ہے:
14,00,000 روپے/1,50,000 روپے=9.33:1
اونچی نسبت سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ اثاثوں میںمخصوصاًمالکان کے فنڈسے سرمایہ لگایاگیا ہے اورطویل المدت قرض مناسب طورپر اثاثوں کے ذریعے محفوظ ہے۔
اس نسبت کا تخمینہ لگانے کے لیے یہ زیادہ بہتر ہے کہ کل اثاثوں کی بہ نسبت خالص اثاثوں(ملوث سرمایہ)کو لیاجائے۔یہ مشاہدہ کیاجائے گا کہ ایسے معاملے میں نسبت قرض نسبت کا بالمقابل ہوگا۔
اہمیت:یہ نسبت بنیادی طورپر اثاثوں کو مالیانے کے لیے باہری فنڈ کی درکی جانب اشارہ کرتی ہے اوران کے قرضوں کی حدِاحاطگی کو اثاثوں کے ذریعے محفوظ کرتی ہے۔
مثال 9
مندرجہ ذیل اطلاعات کی بنیادپر قرض اکیوٹی نسبت،قرض نسبت،مالکانہ نسبت اورکل اثاثوں پر قرض نسبت کا شمار کیجیے۔
31 دسمبر2005 کو تختہ توازن
| ترجیحی حصہ سرمایہ |
1,00,000 روپیے |
قائم اثاثے |
4,00,000 روپیے |
| ا کیوٹی حصہ سرمایہ |
3,00,000 روپیے |
سرمایہ کاری |
1,00,000 روپیے |
| محفوظات اور فاضلات |
1,10,000 روپیے |
رواں اثاثے |
2,00,000 روپیے |
| محفوظ قرض |
1,50,000 روپیے |
ابتدائی اخراجات |
10,000 روپیے |
| رواں واجبات |
50,000 روپیے |
|
|
|
7.10.000 روپیے |
|
7.10.000 |
حل
| کل اثاثے |
= قائم اثاثے+رواں اثاثے = 4,00,000 روپیے+1,00,000روپیے+2,00,000روپیے = 7,00,000 روپیے
|
خالص اثاثے
|
کل غیر قرضی اثاثے۔ رواں واجبات 7,00,000روپیے۔ 50,000 روپیے=6.50.000 روپیے |
| حصہ داروں کے فنڈ |
ترجیح حصص+۱ کیوٹی حصص+محفوظات وفاضلات۔ ابتدائی اخراجات =1,00,000روپیے+3,00,000روپیے+1,10,000روپیے -10,000روپیے=5,00,000 روپیے
|
| قرض ا کیوٹی نسبت |
= 1,50,000روپیے/ 5,00,000روپیے =0.3 |
| قرض نسبت |
=1.50,000/ 6.50.000 =0.23 |
| طویل المدت قرض |
= 1,50.000روپیے |
| مالکانہ نسبت |
=5,00,000/6,50,000 روپیے =0.77 |
| قرض نسبت کے لیے کل اثاثے |
=7.00.000روپیے/1,50,000روپیے =4.67 |
مثال10
ایکس لمیٹڈکی اکیوٹی نسبت 1:5.0ہے۔ مندرجہ ذیل میںسے قرض اکیوٹی نسبت میںکون سا بڑھے گایا کم ہوگا یا تبدیل نہیں ہوگا؟
(i) اکیوٹی حصص کے آگے اجرا پر
(ii) قرض داروں سے نقدوصولیابی پر
(iii) نقد کی بنیاد پر فروخت مال
(iv) ڈبنچرز کی بازادائیگی پر
(v) ادھار مال کی خریداری پر
حل
نسبت میں تبدیلی ابتدائی(بنیادی)نسبت پر منحصر ہوتی ہے۔اگر ہم فرض کرلیں کہ بیرونی فنڈ 5,00,000روپے ہے اورداخلی فنڈ10,00,000روپے ہے۔اب ہم قرض اکیوٹی نسبت پر دیے گئے تبادلہ کے اثرات کا جائزہ لیں گے۔
(a) فرض کیجیے کہ 1,00,000روپے کی قیمت کے اکیوٹی حصص جاری کیے گئے۔ اس سے داخلی فنڈ میں اضافہ ہوگااوروہ 11,00,000روپے بن جائیں گے۔ اب نئی نسبت 0.45:1(5,00,000/11,00,000 ہوگی) لہٰذا صاف ظاہر ہے کہ اکیوٹی حصص کا اگلا اجراقرض اکیوٹی نسبت کو کم کرتاہے۔
(b) قرض داروں سے موصول نقد رقم بیرونی وداخلی فنڈ کو غیر تبدیل چھوڑدے گی کیونکہ یہ صرف رواں اثاثوں کوہی متاثر کرے گا لہٰذا قرض اکیوٹی نسبت پہلے جیسی ہی رہے گی۔
(c) اس سے بھی نسبت غیر تبدیل شدہ رہے گی۔
(d) فرض کیجیے کہ 1,00,000روپے کے ڈبنچرز کی بازادائیگی کی گئی۔ اس سے طویل المدت قرض 4,00,000 روپے کم ہوجائے گا۔اب نئی نسبت1:4.0 (4,00,000/10,00,000)ہوگی۔لہٰذا ڈبنچرز کاکوئی بھی نیااجرا
قرض اکیوٹی نسبت کو کم کردے گا۔
(e) اس سے بھی نسبت غیر متبدل رہے گی۔
5.7.5 سوداحاطگی نسبت
یہ وہ نسبت ہے جو کافیحد تک قرض پر سود کی خدمات سے تعلق رکھتی ہے۔یہ طویل المدت قرض پر سود کے تحفظ کا پیمانہ ہے۔یہ سود کی ادائیگی کے لیے دستیاب نفع اورقابل ادائیگی سود کی رقم کے درمیان تعلق کوظاہر کرتا ہے۔اس کا حساب مندرجہ ذیل طریقے پر لگایاجاتا ہے:
سوداحاطگی نسبت = سوداورٹیکس سے قبل خالص نفع/طویل المدت قرض پر سود
اہمیت: یہ سود کے لیے دستیاب نفع کے ذریعے طویل المدت قرض پر کئی مرتبہ سود کے احاطے کے بارے میںانکشاف کرتا ہے۔ایک اونچی نسبت سود کی ادائیگی کے تحفظ کی یقین دہانی کراتی ہے اوریہ حصہ داروں کے لیے فاضلات کی دستیابی کی بھی نشاندہی کراتی ہے۔
مثال 11
مندرجہ ذیل تفصیلات سے سود احاطگی نسبت کا حساب لگائیے:
ٹیکس کے بعد خالص نفع60,000روپے 15%طویل المدت قرض10,00,000روپے اورشرح ٹیکس 40%
حل
خالص نفع ٹیکس کے بعد =60,000روپے
شرح ٹیکس = 40%
خالص نفع ٹیکس سے قبل = خالص نفع ٹیکس کے بعد 100/(100 –شرح ٹیکس)
= 60,000 X 100/(40–100)
= 1,00,000روپے
طویل المدت قرض پر سود = 15% 10,00,000 روپے کا = 1,50,000روپے
سوداورٹیکس سے قبل خالص نفع = خالص نفع ٹیکس سے قبل + سود
= 1,00,000روپے + 1,50,000روپے =2,50,000روپے
سوداحاطگی نسبت =خالص نفع سوداورٹیکس سے قبل/طویل المدت قرض پر سود
=2,50,000روپے/1,50,000روپے
= 1.67گُنا(مرتبہ)
5.8 سرگرمی(یاکُل فروخت)نسبت
کل فروخت نسبت بنیادی طورپر زیادہ فروخت یا کل فروخت کے لیے کاروبار کی استطاعت کو سرگرمی کی سطح کے متعلق آشکار کرتی ہے۔سرگرمی نسبت ظاہر کرتی ہے کہ اثاثے کتنی مرتبہ کاروبار میں ملوث رہے اوراس مقصدکے لیے اثاثوں کا کوئی عنصر یا حصہ ایک حسابی وقفہ کے دوران فروخت میں تبدیل ہوا ہے۔اونچی کل فروخت نسبت کامطلب اثاثوں کا بہتر استعمال ہوتا ہے جواچھی کارگزاری اوربہتر نفع مندی ظاہر کرتی ہے۔اس زمرے میں آنے والی چند اہم سرگرمی تناسب مندرجہ ذیل ہیں۔
1۔ اسٹاک کل فروخت(الٹ پھیر)
2۔ قرض دار(قابل وصول)کل فروخت (الٹ پھیر)
3۔ قرض خواہ (قابل ادائیگی)کل فروخت(الٹ پھیر)
4۔ سرمایہ کاری(خالص اثاثے) کل فروخت(الٹ پھیر)
5۔ قائم اثاثے کل فروخت(الٹ پھیر) اور
6۔ کاروباری اصل کل فروخت(الٹ پھیر)
5.8.1اسٹاک (یاذخیرہ مال)کل فروخت نسبت
اسٹاک کل فروخت نسبت اس بات کا تعین کرتی ہے کہ حساب داری مدت کے دوران کتنی مرتبہ اسٹاک فروخت میںتبدیل ہوا بہ نسبت فروخت کیے گئے مال کی لاگت اورمال کے جواسٹاک کے درمیان تعلق ظاہر کرتا ہے۔اسے حل کرنے کا فارمولا مندرجہ ذیل ہے۔
اسٹاک کل فروخت نسبت = فروخت شدہ مال کی لاگت/اوسط اسٹاک
جہاںاوسط اسٹاک ابتدائی اوراختتامی اسٹاک کے حساب داری اوسط کی جانب اشارہ کرتاہے اورفروخت شدہ مال کی لاگت کا مطلب فروخت کی رقم میںسے کم کی گئی خام نفع کی رقم سے ہے۔
اہمیت:بہ نسبت تیار شدہ مال کے اسٹاک کا فروختمیںتبدیلی کابارہاپیش آنے کامطالبہ کرتی ہے۔یہ سیالیت کی پیمائش بھی کرتی ہے۔یہ ایک سال کے دوران کئی بار خریدے یا بدلے گئے اسٹاک کا تعینکرتی ہے۔ معمولی یاادنیٰ اسٹاک کل فروخت غیر مروج اسٹاک یا غلط خریداری وغیرہ کی وجہ سے ہوتا ہے جوخطرہ کی علامت ہے۔بلند کل فروخت اچھی علامت ہے لیکن اس کی تشریح دھیان سے کرنی چاہیے کیوں کہ یہ بلند نسبت کم مقدار میں مال کی خریداری یا نقد رقم حاصل کرنے کے لیے کم قیمت پر مال فروخت کرنے کی وجہ سے بھی ہوسکتی ہے۔لہٰذا یہ مال کے اسٹاک کے استعمال پر روشنی ڈالتی ہے۔
اپنی معلومات کی جانچ کیجیے— II
(i) نسبت کے مندرجہ ذیل گروپ بنیادی طورپر خطرہ کی پیمائش کرتے ہیں۔
A۔ سیالیت،سرگرمی اورنفع مندی
B۔ سیالیت،سرگرمی اورعام اسٹاک
C۔ سیالیت،سرگرمی اورقرض
D۔ سرگرمی،قرض اورنفع مندی
(ii) ——نسبت بنیادی طورپر واپسی (حاصل)کی پیمائش کرتی ہے۔
A۔ سیالیت
B۔ سرگرمی
C۔ قرض
D۔ نفع مندی
(iii) ایک کاروباری فرم کی——کی پیمائش اس کی قلیل المدت واجبات کی ادائیگی کی اہلیت سے کی جاتی ہے۔
A۔ سرگرمی
B۔ سیالیت
C۔ قرض
D۔ نفع مندی
(iv) ——نسبت مختلف کھاتوں کی فروخت یا نقد میں تبدیل ہونے کی رفتارکاپیمانہ ہوتی ہیں۔
A۔ سرگرمی
B۔ سیالیت
C۔ قرض
D۔ نفع مندی
(v) سیالیت کے دوبنیادی پیمانے——ہوتے ہیں۔
A۔ ذخیرہ کل فروخت اوررواں نسبت
B۔ رواں نسبت اورنقد نسبت
C۔ خام نفع گنجائش اورتعمیلی نسبت
D۔ روں نسبت اوراوسط جمع مدت
(vi) سیالیت (نقد)کا پیمانہ ہوتا ہے جو——کو خارج کردیتا ہے عام طورپرکم ترین نقدا ثاثے۔
A۔ رواں نسبت،کھاتہ قرض دار
B۔ نقدنسبت،کھاتہ قرض دار
C۔ روں نسبت،ذخیرہ
D۔ نقد نسبت،ذخیرہ
مثال 12
مندرجہ ذیل اطلاع سے اسٹاک کل فروخت نسبت حل کیجیے۔
ابتدائی اسٹاک 18,000روپے مزدوری 14,000روپے
اختتامی اسٹاک 22,000روپے فروخت 80,000روپے
خریداریاں 46,000روپے داخلی باربرداری 4,000روپے
حل
اسٹاک کل فروخت نسبت =فروخت شدہ مال کی لاگت+مزدوری
فروخت شدہ مال کی لاگت =ا بتدائی اسٹاک+خریداریاں 4,000+14,000+ اسٹاک بلاواسطہ اخراجات
18,000روپے +46,000روپے – 22,000روپے
=60,000روپے
اوسط اسٹاک = (ابتدائی اسٹاک+اختتامی اسٹاک)
=(18.000 روپیے +22.000 ) /20.000=2 روپیے
سٹاک کل فروخت نسبت = 20,000روپے/60,000روپے
= 3گُنا
مثال 13
مندرجہ ذیل اطلاع سے اسٹاک کل فروخت نسبت کا تخمینہ لگائیے۔
فروخت =4,00,000روپے ،اوسط اسٹاک=55,000روپے ، خالص نقصان نسبت=10%
حل
فروخت = 4,00,000روپے
خام نفع = 4,00,000روپے کا10%=40,000روپے
بیچے گئے مال کی لاگت = فروخت+خام نفع
= 4,00,000روپے-40,000روپے =3,60,000روپے
اسٹاک کل فروخ نسبت = اوسط اسٹاک /بیچے گئے مال کی لاگت
= 4,40,000روپے/55,000روپے
= 8 گنا
مثال14
ایک کاروباری کے پاس اوسطاً40,000روپے کااسٹاک ہے۔اس کی اسٹاک کل فروخت8گُنا ہے۔اگر وہ مال کو20%نفع سے بیچتا ہے تو نفع کی رقم کا پتہ لگائیں۔
حل
اسٹاک کل فروخت نسبت = اوسط اسٹاک / بیچے گئے مال کی لاگت
= بیچے گئے مال کی لاگت 40,000 X 8 روپے
بیچے گئے مال کی لاگت = 40,000X8روپے
= 3,20,000 روپے
فروخت = بیچے گئے مال کی لاگت× 100 X 80
= 100 X 80×3,20,000
= 4,00,000 روپے
خام نفع = فروخت –بیچے گئے مال کی لاگت
= 4,00,000 روپے 20,000 3 روپے
80,000 روپے
آپ اسے خود کیجیے
1۔ خام نفع کی رقم کا حساب لگائیے:
اوسط اسٹاک = 80,000 روپے
اسٹاک کل فروخت نسبت = 6گُنا
قیمت فروخت = 25%لاگت سے اوپر
2۔ اسٹاک کل فروخت نسبت کاشمار کیجیے۔
سالانہ فروخت = 2,00,000 روپے
خام نفع = بیچے گئے مال کی لاگت پر20%
ابتدائی اسٹاک = 38,500 روپے
اختتامی اسٹاک = 41,500 روپے
5.8.2قرض دار(قابل وصول)کل فروخت نسبت
یہ نسبت ادھار فروخت اورقرض داروں کے درمیان تعلق کو ظاہرکرتی ہے۔اس کا حساب مندرجہ ذیل طریقے پر لگایاجاتا ہے:
قرض دارکل فروخت نسبت = خالص ادھار فروخت/اوسط کھاتے قابل وصول
جہاں اوسط کھاتہ قابل وصول (قرض دار) = (ابتدائی قرض دار اورقابل وصول بل + اختتامی قرض داراورقابل وصول بل 2)
اس پر یہ دھیان دینے کی ضرورت ہے کہ مشکوک قرض کے لیے کوئی بھی اہتمام کرنے سے قبل قرض داروں کو لیاجانا چاہیے۔
اہمیت: کسی فرم کی حالت سیالیت قرض داروں سے وصولیابی کی رفتار(شدت)پر منحصرہوتی ہے۔یہ نسبت اس بات کی جانب اشارہ کرتی ہے کہ ایک حسابی مدت میںوصولیابیاں کتنے گناہوئیں اورکتنی مرتبہ نقدی میںتبدیل ہوئیں۔اونچی کل فروخت کا مطلب قرض داروں سے تیزی کے ساتھ فراہمی ہے۔یہ نسبت اوسط جمع مدت کا حساب لگانے میں بھی معاون ہوتی ہے جس کا حساب مدت سال میں دنوں کو/مہینوںپر تقسیم کرکے قرض دارفروخت (الٹ پھیر)نسبت کے ذریعے کیاجاتا ہے۔
مثال 15
مندرجہ ذیل اطلاع سے قرض دارکل فروخت نسبت حل کیجیے
کل فروخت = 4,00,000روپیے
نقدفروخت = کل فروخت کا20%
1.12004پر قرض دار = 40,000روپیے
31.12.2004پرقرض دار = 1,20,000روپے
حل
اوسط قرض دار = 40,000روپے + 1,20,000روپے80,000 = 2 روپے
خالص ادھار فروخت = کل فروخت–نقدفروخت
= 4,00,000روپے– 80,000روپے(4,00,000کا20%)
= 3,20,000روپے
قرض دارکل فروخت نسبت = خالص ادھارفروخت/اوسط قرض دار
= 3,20,000روپے/80,000روپے
= 4گُنا
5.8.3 قرض خواہ(قابل ادائیگی)الٹ پھیر(فروخت)تناسب
قرض خواہ الٹ پھیر(فروخت)تناسب قابل ادائیگی کھاتوں کی ادائیگی کے طریقے کی نشاندہی کرتا ہے کیوں کہ قابل ادا کھاتے ادھارخریداری کی بابت ہی ظہور میںآتے ہیں۔یہ نسبت ادھار خریداری اورقابل ادا کھاتوں کے درمیان تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔اس کا تخمینہ مندرجہ ذیل طریقے پر لگایاجاتا ہے
قرض خواہ الٹ پھیرتناسب =خالص ادھار خریداریاں/اوسط قابل ادا کھاتے
جس میں اوسط قابل اداکھاتہ ہے = (ابتدائی قرض خواہ اورقابل اداہنڈی+اختتامی قرض خواہ اورقابل اداہنڈی)2/
اہمیت: یہ تناسب اوسط وقفۂ ادائیگی کو ظاہرکرتا ہے۔کم تناسب کا مطلب ہوتا ہے کہ سپلائر کے ذریعے قرض کی منظوری طویل مدت کے لیے ہے یا سپلائرز کو ادائیگی میں تاخیرظاہرکرسکتا ہے جوایک اچھی پالیسی نہیں ہے کیونکہ اس سے کاروبار کی شہرت اثرانداز ہوسکتی ہے۔ادائیگی کی اوسط مدت کا حساب وقفہ سال میں دونوں کی تعداد/قرض خواہ الٹ پھیر نسبت کے فارمولاسے کی جاتی ہے۔
مثال 16
مندرجہ ذیل اعدادوشمار کے ذریعے قرض خواہ کا الٹ پھیرتناسب معلوم کیجیے۔
2005 کے دوران ادھار خریداریاں =12,00,000 روپے
1.12005کو قرض خواہ + ہنڈی قابل ادا = 4.00.000 روپیے
31.12.2005 کوقرض خواہ+ ہنڈی قابل ادا = 2.00.000 روپیے
حل
اوسط قرض خواہ = (4.00.000 روپیے +2.00.000) /2
= 3.00.000 روپیے
قرض خواہ الٹ پھیرنسبت = خالص ادھار خریداریاں/اوسط قابل اداکھاتے
= 3,00,000روپے /12,00,000روپے
= 4گُنا
مثال 17
مندرجہ ذیل اطلاع سے پتہ لگائیں—
(i) قرض دارالٹ پھیر(فروخت)نسبت
(ii) اوسط جمع مدت
(iii) قابل اداالٹ پھیرنسبت
(iv) اوسط ادائیگی مدت
(روپے)
فروخت 8,75,000
قرض خواہ 90,000
قابل وصول ہنڈیاں(بل) 48,000
قابل ادا ہنڈیاں(بل) 52,000
خریداریاں 4,20,000
قرض خواہ 59,000
حل
(i) قرض خواہ الٹ پھیرنسبت
= 8,75,000 روپیے/ 59,000روپیے+48,000روپیے
ایک اوسط کاحساب لگانے کی غرض سے یہ اعدادوشمار2سے تقسیم نہیںکیے گئے ہیں کیونکہ سال کی ابتدا میں قرض دار اورقابل وصول ہنڈیوں کے اعدادوشمار دستیاب نہیں۔اس لیے سال کے اختتام کے اعدادوشمار دستیاب ہوں تو انھیں ویسے ہی استعمال کریں۔
( ii )اوسط جمع =365/قرض دار الٹ پھیر نسبت
=365/18.8
=45دن
( iii ) قابل ادا الٹ پھیر نسبت = خریداری/اوسط قرض
خریداریاں/قرض خواہ+قابل ادا ہنڈیاں
= 4,20,000/90,000+52,000 روپیے
4,20,000/1,42,000
= 3 گنا
( iv ) اوسط ادائیگی مدت
= 365/ قابل ادا الٹ پھیرنسبت
365/3
122دن
5.8.4 خالص اثاثے یا سرمایہ کاری الٹ پھیر (فروخت)نسبت
یہ نسبت فروخت اورکاروبار میں ملوث سرمائے کے درمیان تعلق کو ظاہر کرتا ہے۔اونچی فروخت کا مطلب بہتر سیالیت اورنفع مندی ہوتا ہے۔اس کا تخمینہ مندرجہ ذیل طریقے پر لگایاجاتا ہے۔
سرمایہ کاری یانسبت = کاروبارمیں لگاہوا سرمایہ /خالص فروخت
سرمایہ الٹ پھیر جو کہ کاروبار میں لگے سرمائے(خالص اثاثے)کامطالعہ کرتا ہے۔مندرجہ ذیل دوالٹ پھیر نسبتوں کے ذریعے پھر سے تجزیہ کیاجاتا ہے:
(a) قائم اثاثے کی الٹ پھیر : اس کا تخمینہ درج ذیل طورپر لگایاجاتا ہے۔
قائم اثاثے کی الٹ پھیر = خالص قائم اثاثے/خالص فروخت
(b) کاروباری اصل الٹ پھیر : اس کا حساب مندرجہ ذیل طریقے سے لگایاجاتا ہے۔
کاروباری اصل الٹ پھیر = کاروباری اصل /خالص فروخت
اہمیت:بلندالٹ پھیر،کاروبار میں ملوث سرمایہ،کاروباری اصل اورقائم اثاثے اچھی علامت ہیں اور وسائل کے موثر استعمال سے متعلق ہیں۔کاروبار میں ملوث سرمائے کے استعمال یا اس معاملہ میں اس کے کسی بھی جزکا الٹ پھیر تناسب ظاہر کرتا ہے۔اونچی اُلٹ پھیرکارگر استعمال ظاہر کرتا ہے جس کے نتیجے میں کاروبار میں زیادہ سیالیت اورنفع مندی حاصل ہوتی ہے۔
مثال 18
مندرجہ ذیل اطلاع بنیاد پر خالص اثاثے الٹ پھیر،(ii)قائم اثاثے الٹ پھیر اور(iii)کاروباری اصل الٹ پھیرنسبت نکالیے۔
| ترجیحی حصہ سرمایہ |
4,00,000 |
پلانٹ اور مشینری |
8,00,000 |
| اکیوٹی حصہ سرمایہ |
6,00,000 |
زمین و بلڈنگ |
5,00,000 |
| عام محفوظات |
1,00,000 |
موٹرکار |
2,00,000 |
| نفع نقصان کھاتہ |
3,00,000 |
فرنیچر |
1,00,000 |
| 15%ڈبنچر |
2,00,000 |
اسٹاک |
1,80,000 |
| 14% قرض |
2,00,000 |
قرض دار |
1,10,000 |
| قرض خواہ |
1,40,000 |
بینک |
80,000 |
| قابل ادا ہنڈی ( بل ) |
50,000 |
نقد |
30,000 |
| بقایہ اخراجات |
10,000 |
|
|
2005 میں فروخت 30,00,000تھی
حل
فروخت = 30,00,000روپیے
کاروبار میں ملوث سرمایہ = حصہ سرمایہ+محفوظات+فاضلات+طویل المدت قرض ( یا خالص اثاثے )
= ( 4,00,000روپیے+6,00,000روپیے+ (1,00,000روپیے+3,00,000روپیے)
+( 2,00,000روپیے+2,00,000روپیے)
18,00,000روپیے
قائم اثاثے =8,00,000روپیے+5,00,000روپیے+2,00,000+1,00,000روپیے=16,00,000روپیے
کاروباری اصل =رواں اثاثے۔ رواں واجبات
=4,00,000روپیے-2,00,000روپیے=2,00,000روپیے
خالص اثاثہ الٹ پھیر نسبت =30,00,000روپیے/18,00,000روپیے =2,00,000روپیے
قائم اثاثے الٹ پھیرنسبت = 0روپیے/16,00,000روپیے =1.88گنا
کاروباری اصل الٹ پھیرنسبت =30,00,000روپیے/2,00,000روپیے =15گنا
اپنی معلومات کی جانچ کیجیے— III
(i) ادھار اورجمع پالیسیوں کی تشخیص میں———مفید ہوتا ہے۔
A۔ اوسط ادائیگی مدت
B۔ رواں نسبت
C۔ اوسط جمع مدت
D۔ رواں اثاثہ الٹ پھیر
(ii) ——فرم کے مال نامے(ذخیرہ)کی سرگرمی کی پیمائش کرتاہے/کرتی ہے۔
A۔ اوسط جمع مدت
B۔ ذخیرہ الٹ پھیر
C۔ سیالیت نسبت
D۔ رواںنسبت
(iii) ——نسبت ظاہرکرسکتی ہے کہ فرم کواسٹاک آؤٹ اورلاسٹ سیلز کا تجربہ ہورہا ہے۔
A۔ اوسط ادائیگی مدت
B۔ ذخیرہ الٹ پھیر
C۔ اوسط جمع مدت
D۔ فوری
(iv) اے بی سی کمپنی اپنے صارفین کے لیے ادھارکی مدت45دن بڑھاتی ہے۔اس حالت میںاسے خراب وصولی تصور کیاجائے گا اگر اس کی اوسط وصولی مدت—— دن ہوگی۔
A۔ 30دن
B۔ 36دن
C ۔ 47دن
D۔ 57دن
(v) ——خصوصاً اوسط ادائیگی مدت میں دلچسپی رکھتے ہیں کیونکہ یہ انھیں فرم کے ۔۔۔۔۔۔۔ بل ادائیگی کے طریقے کاشعورفراہم کرتے ہیں۔
A۔ گراہک
B۔ اسٹاک ہولڈرز
C۔ قرض دہندگان اوررسدکنندہ
D۔ مقروض اورخریدار
(vi) ——نسبت فرم کے طویل مدت تک چلنے والے عمل کے سلسلے میں تنقیدی معلومات فراہم کراتی ہے۔
A۔ سیالیت(نقد)
B۔ سرگرمی
C۔ مقدرت
D۔ نفع مندی
نفع بندی نسبت
نفع مندی یا مالیاتی کارگزاری کی خصوصاًآمدنی گوشوارے میں تلخیص کی جاتی ہے۔نفع مندی نسبت کاحساب کسی کمپنی کی کمائی کی گنجائش کے تجزیے کے لیے لگایاجاتاہے جو کاروبارمیںلگے وسائل کے استعمال کانتیجہ ہوتا ہے۔نفع اورکارگزاری کے جو کاروبارمیں ملوث وسائل کااستعمال ہے ان کے درمیان ایک قریبی تعلق ہے۔کاروبار کی نفع مندی کا جائزہ لینے کے لیے عام طورپر استعمال کیے جانے والی نسبت یہ ہیں:
1۔ خام نفع نسبت
2۔ تعمیلی(عملی)نسبت
3۔ عملی نفع نسبت
4۔ خالص نفع نسبت
5۔ سرمایہ کاری پر حاصل(ROI)یاکاروبار میںملوث سرمایے پر حاصل(POCE)
6۔ خالص مالیت پر حاصل(RONW)
7۔ فی حصہ کمائی
8۔ اندراجاتی قیمت فی حصہ
9۔ منافع ادائیگی نسبت
10۔ قیمت کمائی نسبت
5.9.1خام نفع نسبت
فروخت پر فی صد کے طورپر خام نفع کا تخمینہ گنجائش جاننے کے لیے کیاجاتا ہے۔اس کا شمار مندرجہ ذیل طریقے پرکیاجاتاہے۔
خام نفع نسبت=خام نفع/خالص فروخت100×x
اہمیت:یہ فروخت شدہ پیداوار(اشیا)پر خام گنجائش ظاہرکرتا ہے۔ اس کے تقابل کے لیے کوئی معیاری نمونہ نہیں ہے۔ یہ نسبت کاروباری اورغیر کاروباری اخراجات وغیرہ کا احاطہ کرنے کے لیے دستیاب گنجائش بھی ظاہر کرتی ہے۔ خام نفع نسبت میں تبدیلی قیمت فروخت یا فروخت کی لاگت یادونوں کے مجموعہ سے ہوسکتی ہے۔ایک کم نسبت غیر موافق خرید وفروخت کی پالیسی کو ظاہر کرتی ہے۔ بلندخام نفع نسبت ہمیشہ ایک اچھی علامت ہوتا ہے۔
مثال19
2005کے لیے مندرجہ ذیل اطلاع دستیاب ہے۔خام نفع نسبت کا حساب لگائیے۔
نقد فروخت 25,000
قرض 75,000
خریداریاں: نقد 15,00
ادھار 60,000
داخلی بار برداری 2,000
تنخواہیں 25,000
اسٹاک میں کمی 10,000
باہری واپسی ( حاصل ) 2,000
مزدوری 5,000
حل
فروخت = نقدی فروخت+ادھار فروخت
= 25,00روپیے+75,000روپیے=1,00,000روپیے
خالص خریداریاں = نقد خریداریاں+ادھار خریداریاں-باہری حاصل
= 15,000روپیے+60,000روپیے-2,000روپیے =73,000روپیے
فروخت کی لاگت = خریداریاں + ( ابتدائی اسٹاک۔ اختتامی اسٹاک )+بلا واسطہ=اخراجات خریداریاں =اسٹاک میں کمی +بلا واسطہ اخراجات
= 73,000روپیے+10,000روپیے+( 2,000روپیے+=5,000روپیے )
= 90,000 روپیے
خام نفع = فروخت - فروخت لاگت=1,00,000روپیے-90,000روپیے
= 10,000 روپیے
خام نفع نسبت =خام نفع /خالص فروخت x100
=10,000روپیے/1,00,000روپیےx100
= 10%
5.9.2 عملی نسبت
اس نسبت کا شمار فروخت کے تعلق سے عمل لاگت کاتجزیہ کرنے کے لیے کیاجاتا ہے۔اس کو مندرجہ ذیل طورپر حل کیاجاتا ہے:
عملی تناسب = (فروخت لاگت+کاروباری اخراجات)/خالص فروخت100×x
کاروباری اخراجات میں دفتری اخراجات،انتظامیہ اخراجات،فروخت اخراجات اورتقسیم اخراجات شامل ہوتے ہیں۔
عمل لاگت کا تعین غیر عملی آمدنی اوراخراجات جیسے کہ اثاثوں کی فروخت پر نقصان،اداکیاگیاسود،وصول منافع،آگ لگنے سے نقصان،سٹہ سے فائدہ وغیرہ کو خارج کرکے کیاجاتا ہے۔
5.9.3 تعمیلی نفع نسبت
اس کاشمار تعمیلی حاشیہ کو ظاہر کرنے کے لیے کیاجاتاہے —اس کا شمار بلاواسطہ یاتعمیلی نفع حاصل تفریق نسبت کے طورپربھی کیاجاسکتا ہے۔
تعمیلی نفع نسبت =100 –تعمیلی نسبت
بصورت دیگر اس کاشمار مندرجہ ذیل طریقے پر کیاجاسکتا ہے۔
تعمیلی نفع نسبت = تعمیلی نفع/فروخت100×x
اس میں تعمیلی نفع ہے = فروخت –عمل لاگت
اہمیت:تعمیلی نسبت کا شمار فروخت کے تعلق سے مالی خرچ سے مستثنٰی عمل لاگت کو بتانے کے لیے کیاجاتا ہے۔اس کاضمنی نتیجہ ’تعمیلی نفع نسبت‘ہے۔یہ کاروباری کارگزاری کا تجزیہ کرنے میں مددکرتی ہے اور کاروبار کی عملی کارکردگی پر روشنی ڈالتی ہے۔یہ درون فرم اوربیرون فرم بھی موازنہ کرنے کے لیے بہت مفید ہے۔کم ترتعمیلی نسبت بہت اچھی علامت ہوتی ہے۔
مثال 20
دی گئی مندرجہ ذیل اطلاع کے ذریعے خام نفع نسبت اورعمل نسبت کاحساب لگائیے:
فروخت 3,40,000روپیے
فروخت کیے گیے مال کی لاگت 1,20,000روپیے
فروخت اخراجات 80,000روپیے
انتظامیہ اخراجات 40,000روپیے
خام نفع نسبت اور عملی نسبت کا حساب لگائیے۔
حل
خام نفع = فروخت- فروخت شدہ مال کی لاگت
= 3,40,000روپیے -1,20,000روپیے
= 2,20,000روپیے
خام نفع نسبت = خام نفع x100/فروخت
= 2,20,000روپیے/ 3,4,0,000روپیے x100
= 64.71فی صد
کاروباری خرچ = فروخت شدہ مال کی لاگت+فروخت اخراجات+انتظامی اخراجات
= 1,20,000روپیے+80,000روپیے+40,000روپیے
= 2,40,000روپیے
کاروباری ( تعمیلی ) تناسب = کاروباری اخراجات/خالص فروخت 100x
= 2,40,000/3,40,000 100x
= 70.58 فی صد
5.9.4 خالص نفع نسبت
خالص نفع نسبت نفع سبھی شامل نظریوں پر منحصر ہوتا ہے۔یہ کاروباری اورغیر کاروباری آمدنی وخرچ کے بعد خالص نفع کا فروخت سے تعلق ظاہر کرتا ہے۔اس کا شمار مندرجہ ذیل طورپر کیاجاتا ہے:
خالص نفع نسبت = خالص نفع/فروخت100×x
عام طورپر نفع ٹیکس کے بعد نفع(PAT)کو ظاہر کرتا ہے۔
اہمیت:یہ فروخت کے تعلق سے خالص نفع حاشیہ پیمانہ ہوتا ہے۔نفع مندی ظاہر کرنے کے سوا یہ سرمایہ کاری حاصل کا تخمینہ لگانے کا ایک اہم متغیرہ ہے۔اس سے کاروبار کی مکمل کارکردگی ظاہرہوتی ہے اورسرمایہ کاروں کے نظریے کے اعتبار سے اس کی بہت اہمیت ہوتی ہے۔
مثال 21
ایک کمپنی کا خام نفع نسبت25%ہے۔اس کی ادھارفروخت20,00,000روپے ہے اورنقد فروخت کل فروخت کا 10%ہے ۔اگر کمپنی کے بلاواسطہ اخراجات 50,000روپے تھے تو خالص نفع نسبت کا حساب لگائیے۔
حل
نقد فروخت = 20,00,000روپیے10/10x
= 2,22,222روپیے
لہذا کل فروخت ہوئی = 22,22,222روپیے
خام نفع =22,22,222x.25روپیے
خالص نفع = 5,55,555روپیے-50,000
= 5,05,555روپیے
خالص نفع نسبت = خالص نفع/فروخت 100x
=5,05,555روپیے/22,22,222روپیے100x
=22.75 فی صد
5.9.5استعمال پونجی یاسرمایہ کاری پر معاوضہ (نفع) (ROCEیاROI)
یہ نسبت کسی کاروباری ادارے کے ذریعے فنڈ(نقد)کے مکمل استعمال کی وضاحت کرتی ہے۔استعمال پونجی سے مراد کاروبار میں لگے طویل المدت فنڈاوراس میں حصہ داروں کافنڈ،ڈبنچرزاورطویل المدت قرض شامل ہیں۔بہ صورت دیگر استعمال پونجی کو غیر فرضی اثاثوں اوررواں واجبات کے کل میزان کے طورپر لیاجاسکتا ہے۔اس نسبت کو حل کرنے سے مراد ٹیکس اورسود قبل منافع سے ہے۔لہٰذا اسے مندرجہ ذیل طریقے پر حل کیاجاتاہے:
سرمایہ کاری پر معاوضہ (حاصل)(یالگاہوا سرمایہ)=ٹیکس اورسود سے قبل نفع/استعمال سرمایہ100 x×
اہمیت:یہ نسبت کاروبارمیں لگے سرمائے کا پیمانۂ معاوضہ ہے۔یہ حصہ داروں،حامل ڈبنچر ہولڈر زاورطویل المدت واجبات کے ذریعے سپرد کیے گئے فنڈ کے استعمال کے ذریعے کا روبارکی کارکردگی کا اظہار کرتی ہے۔درمیان فرم تقابل کے لیے استعمال پونجی پر معاوضہ اچھی نفع مندی کا پیمانہ تصور کیاجاتا ہے۔یہ اس بات کی تشخیص میں بھی مددکرتی ہے کہ آیااداکیے گئے سود کی شرح کے مقابلے میں کاروبار میں لگے سرمایہ پر فرم زیادہ معاوضہ حاصل کررہی ہے یا نہیں۔
5.9.6حصہ داروں کے فنڈ پر معاوضہ
یہ نسبت حصہ داروں کے نقطۂ نگاہ سے بہت اہمیت کی حامل ہے۔ اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ حصہ داروں کے ذریعے فرم میں کی گئی سرمایہ کاری پر مناسب معاوضہ(حاصل)مل رہا ہے یانہیں۔یہ سرمایہ کاری پر معاوضہ سے زیادہ ہونا چاہیے ورنہ اس کا مطلب ہوگا کہ کمپنی کے فنڈ کو منافع بخش طورپر لگایاگیا ہے۔
حصہ داروں کے نقطۂ نظرسے نفع مندی کی بہتر پیمائش کل حصہ داروں کے فنڈ پر معاوضہ کا تعین کرکے کی جاسکتی ہے۔ اسے خالص مالیت پر معاوضہ(RONW)کی اصطلاح سے بھی نوازا جاتا ہے جس کو مندرجہ ذیل طورپر حل کیاجاتا ہے۔
حصہ داروں کے فنڈ پر معاوضہ = ٹیکس کے بعد نفع/حصہ داروں کا فنڈ
5.9.7فی حصہ کمائی
اس نسبت کی تعریف مندرجہ ذیل کی گئی ہے:
EPS = اکیوٹی حصص کے لیے دستیاب نفع/اکیوٹی حصص کی تعداد
اس سلسلے میں کمائی کا مطلب ہے اکیوٹی حصہ داروں کو دستیاب نفع جس کا حساب ترجیحی حصص منافع کو ٹیکس کے بعد نفع میں منہاکیاجاتا ہے۔یعنی ٹیکس کے بعد نفع– تر جیحی حصص پر منافع
یہ نسبت اکیوٹی حصہ داروں کے نقطۂ نظر سے بہت اہمیت رکھتی ہے اوراسی طرح اسٹاک مارکیٹ میں شیئرکی قیمت بھی۔یہ دیگر فرموں کے ساتھ معقولیت اورمنافع کی استعداد کے تقابل میں بھی مددگار ہوتی ہے۔
5.9.8فی حصہ اندراجاتی مالیت(قدر)
اس نسبت کو مندرجہ ذیل طریقے سے معلوم کیاجاتا ہے:
اندراجاتی مالیت فی حصہ = اکیوٹی حصہ دار کا فنڈ/اکیوٹی حصص کی تعداد
اکیوٹی حصہ دارکو ترجیحی حصہ سرمایہ میں سے حصہ دارفنڈ کوکم کرکے ظاہر کیاجاتا ہے(حصہ دار فنڈ –ترجیحی حصہ سرمایہ)یہ نسبت بھی اکیوٹی حصہ داروں کے نقطۂ نظر سے اہم ہے کیوں کہ حـصہ داروں کو اپنی حدبندی کی قیمت کا اندازہ ہوتا ہے اور ساتھ ہی یہ نسبت بازارقیمتوںکو متاثر کرتی ہے۔
5.9.9 منافع ادائیگی نسبت
یہ کمائی کے تناسب سے متعلق ہے جو حصہ داروں کے برخلاف تقسیم کیاجاتاہے۔ اسے مندرجہ ذیل طریقے پر معلوم کیاجاتا ہے:
منافع ادائیگی نسبت = فی حصہ منافع/فی حصہ کمائی
اس سے کمپنی کی منافع پالیسی اورمالک اکیوٹی میں نمو(اضافہ)کا پتہ چلتا ہے۔
5.9.10قیمت / کمائی نسبت
اس نسبت کی تعریف ذیل میں کی گئی ہے۔
P/Eنسبت = حصہ کی بازاری قیمت/فی حصہ کمائی
مثال کے طورپراگرXکمپنی کاEPS 10/-روپے ہے اوربازاری قیمت فی حصہ100روپے ہے تو قیمت کمائی نسبت10(100/10) ہوگی۔یہ فرم کی کمائی میں اضافہ اوربازاری قیمت کی معقولیت کے بارے میں سرمایہ کاروںکی امیدوں کو منعکس کرتی ہے۔P/Eنسبت صنعت درصنعت ہے اورایسی صنعت میں کمپنی درکمپنی بدلتی رہتی ہے جو سرمایہ کاروں کے اس کے مستقبل کے ادراک یا سمجھ پر منحصر ہوتی ہے۔
مثال 22
مندرجہ ذیل اطلاع سے سرمایہ کاری پر معاوضہ(نفع)معلوم کیجیے
| حصہ سرمایہ: ا کیوٹی حصص ( 10 روپیے ) |
4,00,000روپیے |
رواں واجبات |
1,00,000روپیے |
| 12% ترجیحی حصص |
1,00,000روپیے |
حصص پر بٹہ |
5,000روپیے |
| عام محفوظات |
1,89,000روپیے |
قائم اثاثے |
9,50,000روپیے |
| 10%ڈبنچر |
4,00,000روپیے |
رواں اثاثے |
2,34,000روپیے |
حصہ دارفنڈ پر معاوضہ،فی حصہ کمائی(EPS)،فی حصہ اندراجاتی مالیت اورP/Eنسبت بھی معلوم کریں ،اگر حصہ کی بازاری قیمت 34روپے اورٹیکس کے بعد خالص نفع 1,50,000اورٹیکس کی رقم50,000روپے ہے۔
حل
سود اور سے قبل نفع = 1,50,000روپیے+ڈبنچر سود + ٹیکس
= 1,50,000+40,000+50,000
کاروبار میں لگا سرمایہ = 2,40,000روپیے
= اکیوٹی حصہ سرمایہ+ ترجیحی سرمایہ+محفوظات+ڈبنچرز+حصص پر بٹہ
= 4,00,000روپیے+1,00,000روپیے+1,89,000روپیے
+4,00,000روپیے-5,000روپیے=10,84,000
سرمایہ کاری پر معاوضہ = سود اور ٹیکس سے قبل نفع/کاروبار میں لگا سرمایہ100x
= 2,40,000روپیے/10,84,000روپیے100x
= 22.14فی صد
حصہ داروں کے فنڈ پر معاوضہ = ٹیکس بعد نفع/حصہ داروں کا سرمایہ100x
= 1,50,000روپیے/6,84,000روپیے100x
=13.84 فی صد
فی حصہ کمائی ( ای پی ایس ) =اکیوٹی حصہ داروں کے لیے دستیاب منافع/اکیوٹی حصص کی تعداد
= 1,38,000روپیے/40,000روپیے=3.45
اکیوٹی حصہ داروں کے لیے دستیاب نفع = ٹیکس کے بعد نفع- ترجیحی منافع
1,50,000روپیے-12,000روپیے=1,38,000روپیے
پی/ای نسبت=حصہ کی بازاری قیمت/فی حصہ کمائی = 3,45/34
= 9.86 گنا
فی حصہ اندراجاتی مالیت = اکیوٹی حصہ دار فنڈ/ اکیوٹی حصص کی تعداد
اس طرح فی حصہ اندراجاتی مالیت = 5,84,000/40,000حصص=14.6
یہاں یہ امرقابل غورہے کہ مختلف نسبت ایک دوسرے سے قریبی ارتباط رکھتی ہیں۔کبھی کبھی دویادوسے زیادہ نسبت کی مجموعی معلومات دی ہوتی ہے اورکچھ گم شدہ اعدادوشمار کاحساب لگاناہوتا ہے۔ اس طرح کی صورت حال میں گم شدہ اعدادوشمار کا پتہ لگانے میں نسبت کا فارمولہ مددگار ہوتا ہے۔(ملاحظہ فرمائیں مثال 23 ا ور 24)
مظاہرہ 2
یونی کیم لیبار ٹر یز لمیٹیڈ
اہم نسبت
31 مارچ کو 2002 2003 2004 2005 2006
%ROCE %RNOW WVA ( ملین روپیے ) اقتصادی فاضل قیمت |
29.40 31.20 230.10 |
25.80 22.80 167.60 |
27.20 25.10 250.00 |
27.90 24.50 257.80 |
27.80 23.70 449.30 |
فی حصہ اعداد و شمار EPS ( روپیے ) منافع فی حصہ اندراجاتی مالیت ( روپیے ) |
36.30 80% 115.70 |
31.75 80% 138.50 |
12.98 60% 44.30 |
13.22 70% 53.55 |
23.84 100% 83.50 |
مظاہرہ 3
گریسم انڈسٹریز لمیٹیڈ
نسبت اور اعدادو شمار
PBIDT گنجائش سود احاطہ ( PBIDT-ٹیکس/سود ) ROACE ( اوسط/ PBIT) RONE ( اوسط/PAT) قرض اکیوٹی نسبت منافع فی حصہ کمائی فی حصہ نقد کمائی فی حصہ فی حصہ اندراجاتی مالیت |
( % ) ( X ) _ ( % ) ( % ) ( x ) RS./Sh RS./Sh RS./Sh RS./Sh
|
24.0 15.55 _ 18.5 18.6 0.40 20.00 94 123 543
|
28.7 9.61 _ 23.1 22.3 0.46 16.00 97 130 472 |
28.9 7.88 _ 20.9 23.7 0.57 14.00 85 116 393 |
24.7 5.60 _ 16.2 12.9 0.70 10.00 40 85 324 |
20.8 4.48 _ 12.9 11.7 0.76 9.00 33 72 295 |
20.2 3.56 _ 13.5 14.4 0.76 8.00 41 67 271 |
17.3 2.84 _ 10.5 8.6 0.82 7.00 25 51 303 |
17.9 2.28 _ 10.1 6.6 0.93 6.75 18 41 285 |
20.0 2.56 _ 13.1 10.4 0.92 6.75 32 55 320 |
22.9 2.57 _ 15.0 13.5 0.98 6.50 38 56 296 |
مظاہرہ 4
ایشین پینٹس (انڈیا لمیٹیڈ
اپریل اے پی گروپ ( مجتمع )
|
2004-5 |
2003-4 |
2004-5 |
2003-4 |
PBDIT/فروخت EOI/فروخت سے قبلPBT DAT/فروخت اوسط پر حاصل ( معاوضہ ) کاروبار میں لگا سرمایہ ( ROCE ) اوسط خالص مالیت پر حاصل ( معاوضہ ) EPS ( روپیے ) قرض: اکیوٹی سود احاطہ ( PBIT/سود ) |
16.8% 14.2% 8.9% 41.5%
31.4% 18.53 0.15:1
101 |
17.2% 14.0% 8.7% 37.7%
29.35 16.12 0.13:1
46 |
14.4% 11.2% 6.8% 34.6%
31.7% 18.15 0.38;1
28 |
14.8% 10.9% 6.5% 31.4%
28.8% 15.11 0.28:1
17 |
31 مارچ 2005 کو کارو بار میں لگا سرمایہ اور خالص مالیت مضمر نقصان کی فراہمی کے بعد ہے
مثال23
مندرجہ ذیل معلومات کے ذریعے ایک کمپنی کے رواں اثاثوں کا حساب لگائیے۔
اسٹاک الٹ پھیر نسبت = 4 گنا
اختتامی اسٹاک جو ا بتدائی اسٹاک سے20,000روپے زیادہ ہے۔
فروخت 3,00,000روپے اورخام نفع نسبت فروخت کا 20فی صد ہے۔
رواں واجبات = 40,000 روپے
فوری نسبت = 75
حل
بیچے گئے مال کی لاگت = فروخت-خام نفع
= 3,00,000روپیے-( 3,00,000روپیے20%x)
= 3,00,000روپیے-60,000روپیے
= 2,40,000روپیے
اسٹاک الٹ پھیر نسبت = بیچے گئے مال کی لاگت/اوسط اسٹاک
اوسط اسٹاک = بیچے گئے مال کی لاگت/اوسط اسٹاک
=2,40,000روپیے/4=60,000روپیے
اوسط اسٹاک = ( ابتدائی اسٹاک+اختتامی اسٹاک ) /2
60,000روپیے = ( ابتدائی اسٹاک+ابتدائی اسٹاک+20,000روپیے) /2
60,000روپیے = ابتدائی اسٹاک+10,000روپیے
ابتدائی اسٹاک =50,000روپیے
اختتامی اسٹاک = 70,000روپیے
نقد نسبت = نقد اثاثے/رواں واجبات
.75 =نقد اثاثے/40,000روپیے
نقد نسبت = 40,000روپیے=30,000=.75xروپیے
رواں اثاثے نقد اثاثے+اختتامی اثاثے
= 30,000+70,000=1.00,000روپیے
مثال 24
رواں نسبت 1:5.2ہے۔رواں اثاثے50,000 اوررواں واجبات 20,000روپے ہیں۔1:2نسبت لانے کے لیے رواں اثاثوں میںکتنی کمی لانی چاہیے؟
حل
رواں واجبات = 20,000روپیے
2:1 نسبت کے لیے رواں اثاثےہونے چاہئیں = 40,000روپیے
20,000x2
رواں اثاثوں کی موجودہ سطح = 50,000روپیے
لازمی زوال ( کمی ) = 50,000-40,000روپیے
= 10,000روپیے
باب میں متعارف کرائی گئی اصطلاحات
1- نسبت تجزیہ Ratio Analysis
2- سیالیت ( نقد ) نسبت Liquidity Rtios
3- مقدرت ( ساکھ داری ) Solvency Ratios
نسبت
4-سرگرمی نسبت Activity Ratios
5- نفع مندی نسبت Profitability Ratios
6- سرمایہ کاری پر حاصل Return On Investment
( معاوضہ/ نفع )
7- فوری اثاثے Quick Assets
8- اکیوٹی ( حصص داروں کا فنڈ ) (Eqity ( Shaeholders Founds
9- خالص مالیت پر حاصل ( نفع ) Return on Net Worth
10- اوسط جمع مدت Average Collection Perion
11- قابل وصول ( وصولیابیاں ) Receivables
12- الٹ پھیر ( کل فروخت ) Turnover Ratios
نسبت
13- سرگرمی نسبت Efficient Ratios
14-ادائیگی منافع divinded payout
خلاصہ
نسبت تجزیہ:مالیاتی گوشوارہ تجزیہ کا ایک اہم ذریعہ نسبت تجزیہ ہے۔حساب داری نسبت دوحسابی اعداد کے درمیان تعلق ظاہر کرتی ہیں۔
نسبت تجزیہ کا مقصد:نسبت تجزیہ کا مقصد کاروبار کی نفع مندی،سیالیت،مقدرت اورسطح سرگرمی کا ایک گہر اتجزیہ فراہم کراتاہے۔
نسبت تجزیہ کے فوائد:نسبت تجزیہ کئی طرح کے فوائد مہیاکراتاہے جس میں مالیاتی گوشوارہ تجزیہ،فیصلہ لینے کی قوت کو سمجھنے میں مدد،پیچیدہ اعدادوشمار کی تسہیل اورتعلق قائم کرنے،تقابلی تجزیہ میں معاونت کرنے،مسائل والے حلقوں کی شناخت (SWOT) تجزیے کے لائق بناتااورمختلف تقابل فراہم کراتا ہے۔
نسبت تجزیے کی قیود/حدود:نسبت تجزیے کی بہت ساری قیود ہیں۔کچھ تو حسابی اعدادوشمار پر منحصر بنیادی حدود کی وجہ سے ہوتی ہیں،جن پر یہ انحصار کرتے ہیں۔ دوسرے مجموعے میں فی زمرہ نسبت تجزیہ کی پابندیاں شامل ہوتی ہیں۔ پہلے مجموعے میں تاریخی تجزیہ،تبدیلی ٔ قیمت سطح کو مسترد کرتا،صنعتی یا غیرمالیاتی پہلوئوںکو نظرانداز کرنا،حسابی اعدادوشمار کی بندشیں،حساب داری عمل میں تغیرات اورپیش گوئی وغیرہ جیسے عوامل شامل ہیں۔دوسرے زمرے میں ذرائع نہ کہ انتہا،مسائل کو حل کرنے کی اہلیت کا فقدان،معیاری تعریفوںکا فقدان،کلی طورپر مروّج معیاری سطح اورغیر متعلق یا بے ربط اعدادوشمار پر منحصر نسبت جیسے عوامل شامل ہوتے ہیں۔
اقسام نسبت:نسبت مختلف قسم کی ہوتی ہیں جیسے سیالیت (نقد)،مقدرت (ساکھ داری)،سرگرمی اورنفع مندی نسبت، سیالیت(نقد) نسبت ،رواں نسبت اورایسڈٹیسٹ نسبت(فوری جانچ کا تناسب)پر مشتمل ہوتی ہے۔مقدرت(ساکھ داری) نسبت کا تخمینہ کاروبارکی اہلیت کا تعین کرنے کے لیے لگایاجاتا ہے کہ وہ قلیل المدت قرض کے بجائے طویل مدتی قرضوں کی خدمات پوری کرپائیں گے یانہیں۔یہ قرض اکیوٹی نسبت،کل اثاثے قرض نسبت،مالکانہ نسبت اورسوداحاطگی نسبت پر مشتمل ہوتے ہیں۔الٹ پھیر(کل فروخت)نسبت بنیادی پر کاروبار میں کی گئی زیادہ فروخت یا الٹ پھیر کی اہلیت کے ذریعے خصوصیت کے ساتھ سرگرمی سطح کو ظاہر کرتی ہے اوراس میں اسٹاک الٹ پھیر اورقرض دار(قابل وصول)الٹ پھیر (فروخت)،کاروباری اصل الٹ پھیر،قائم اثاثے الٹ پھیر،رواںاثاثہ الٹ پھیر(فروخت)شامل ہوتے ہیں۔نفع مندی نسبت کا تخمینہ کاروباری کی استعدادِآمدنی کا تجزیہ کرنے کے لیے لگایاجاتا ہے جو کہ کاروباروں میں لگے وسائل کے استعمال کا نتیجہ ہوتا ہے۔دیگر نسبتوں میں خام منافع نسبت،عمل کاری نسبت،خالص نفع نسبت،سرمایہ کاری (کاروبارمیں لگاسرمایہ)پرحاصل (منافع)،فی حصہ کمائی (نفع)، فی حصہ اندراجاتی مالیت،فی حصہ منافع اورقیمت کمائی(آمدنی)نسبت شامل ہوتے ہیں۔
مشق کے لیے سوالات
مختصرجوابی سوالات
1۔ نسبت تجزیے سے آپ کی کیامراد ہے؟
2۔ نسبت کی مختلف قسمیں کون کون سی ہیں؟
3۔ مندرجہ ذیل کے مطالعہ سے آپ کیا تعلق قائم کریں گے؟
(a) ذخیرہ الٹ پھیر(کل فروخت)
(b) قرض دارالٹ پھیر(کل فروخت)
(c) قابل اداالٹ پھیر (کل فروخت)
(d) کارباری اصل الٹ پھیر
4- جب ہم ایک پرچون کی دکا ن کا تجزیہ کر تے ہیں تو وہاں مال نامہ (ضیرہ نسبت ) ایک بیمہ کیپنی کے مقابلہ میں زیادہ اہم کیوں ہو گا
5۔ کسی کاروباری فرم کی سیالیت اس کی طویل المدت ذمے داریوں کو واجب الادا ہونے پر مطمئن کرنے کی اہلیت کے ذریعے ناپی جاتی ہے۔تبصرہ کیجیے۔
6۔ ایک مال نامہ کی اوسط عمرمال نامہ کے اوسط وقت کے طورپر فرم کے ذریعہ دکھائی جاتی ہے یا مانل نامہ فروخت کے دنوں کی تعداد کے اوسط کے طورپر ہوتا ہے۔ وضاحت کیجیے۔
طویل جوابی سوالات
1۔ سیالیت نسبت کسے کہتے ہیں؟رواں اورنقدنسبت کی اہمیت پر تبصرہ کیجیے۔
2۔ آپ کسی فرم کی حالت مقدرت کا مطالعہ کیسے کریں گے؟
3۔ اہم نفع مندی نسبت کون سی ہوتی ہیں؟ان کاحساب کیسے لگایاجاتا ہے؟
6۔ رواں نسبت عام سیالیت کی بہتر پیمائش تبھی مہیاکراتی ہے جب ایک فرم کا مال نامہ آسانی سے نقد میں تبدیل نہ ہوسکے۔اگر مال نامہ نقد ہے تو تمام سیالیت کے لیے فوری نسبت ایک ترجیحی پیمائش ہے۔وضاحت کیجیے۔
عددی (Numerical)سوالات
1۔ 31مارچ 2017 کو راج آئل ملز لمیٹڈ کی بیلنس شیٹ درج ذیل تھی۔ اس کے موجودہ تناسب کا حساب لگائیں۔
| واجبات |
رقم ( روپیے ) |
اثاثے |
رقم ( روپیے ) |
حصہ سرمایہ محفوظات نفع نقصان بل قابل ادا قرض خواہ |
1,90,000 12,500 22,500 18,000 54,000
2,97,000 |
قائم اثاثے اسٹاک قرض دار نقد بینک میں |
1,53,000 55,800 28,800 59,400
2,97,00 |
رواں نسبت نکا لیے (جواب رواں نسبت 21)
2، 31مارچ2006کو مندرجہ ذیل تختہ توازن ٹائل مشین لمیٹیڈ کا ہے
| واجبات |
رقم ( روپیے ) |
اثاثے |
رقم ( روپیے ) |
اکیوٹی حصہ سرمایہ 8% ڈبنچرز نفع نقصان بینک اور ڈرافٹ قرض خواہ اہتمام برائے ٹیکس |
24,000 9,000 6,000 6,000 23,400 600
69,000 |
عمارتیں اسٹاک قرض دار نقد ہاتھ میں پیش ادائی اخراجات |
45,000 12,000 9,000 2,280 720
69,000 |
(جواب : رواں نسبت 8:1، نقد نسبت (0.4:1) رواں نسبت اور نقد نسبت کا حساب لگائیے۔
3۔ رواں نسبت 3.5:1 ہے۔ کاروباری اصل سرمایہ 9,00,000روپے ہے ۔رواں اثاثے اور رواں واجبات کی رقم کا پتہ لگائیے۔
(جواب : رواں اثاثے 1,26,000روپے اور رواں واجبات 36,000روپے)
4۔ شائن لمٹیڈرواں نسبت 4.5:1اورفوری نسبت1:3ہے۔اگر اسٹاک36,000ہے تو رواں واجبات اوررواں اثاثوں کاپتہ لگائیے۔
(جواب:رواں واجبات 1,08,000روپے،رواں اثاثے24,000روپے)
5۔ ایک کمپنی کے رواں واجبات75,000روپے ہیں۔اگر رواں نسبت1:4اورنقد نسبت1:1ہے تو رواں اثاثوں،نقداثاثوں اوراسٹاک کی قیمت کاپتہ لگائیے۔
(جواب : رواں اثاثے 3,00,000روپے،نقداثاثے75,000روپے اوراسٹاک 2,25,000روپے)
6۔ ہونڈالمیٹڈکااسٹاک20,000روپے ہے۔کل نقداثاثے 1,00,000روپے اورفوری نسبت 1:2 ہے تورواںنسبت کا حساب لگائیے۔
(جواب : رواں نسبت1:4.2)
7۔ مندرجہ ذیل اطلاع کے ذریعے سے قرض اکیوٹی نسبت کا پتہ لگائیے۔
کل اثاثے 15,00,000روپیے
رواں واجبات 6,00,000روپیے
کل قرضے 12,00,000روپیے
8۔ رواں نسبت کا پتہ لگائیے اگر
اسٹاک 6,00,000روپے،نقد اثاثے24,00,000روپے؛فوری نسبت1:2ہے۔
(جواب : رواں نسبت1:5.2)
9۔ مندرجہ ذیل اطلاع سے اسٹاک فروخت نسبت کا شمار کیجیے۔
خالص فروخت 2,00,000روپیے
خام نفع 50,000روپیے
اختتامی اسٹاک 60,000روپیے
ابتدائی اسٹاک پر اختتامی اسٹاک زائد 20,000روپیے
(جواب : اسٹاک فروخت نسبت3گنا)
10۔ ذیل میں دی گئی معلومات کے ذریعے سے مندرجہ ذیل نسبتوںکاپتہ لگائیں۔
(i)رواں نسبت(ii)نقد نسبت(iii)عمل کاری نسبت(iv)خام منافع نسبت
رواں اثاثے 35,000روپیے
رواں واجبات 17,500روپیے
اسٹاک 15,000روپیے
کاروباری ( عملی ) اخراجات 20,000روپیے
فروخت 60,000روپیے
فروخت شدہ مال کی لاگت 30,000روپیے
(جواب : رواں نسبت 2:1 نقد نسبت 1:14.1،عمل کاری نسبت83.3%،خام منافع نسبت 50%)
11۔ نیچے دی گئی اطلاع سے پتہ لگائیے۔
(i) خام منافع نسبت(ii)ذخیرہ فروخت نسبت(iii)رواں نسبت(iv)نقد نسبت(v)خالص منافع نسبت(vi)کاروباری اصل نسبت:
فروخت 25,20,000روپیے
خالص منافع 3,60,000روپیے
فروخت کی لاگت 19,20,000روپیے
طویل المدت قرض 9,00,000روپیے
قرض خواہ 2,00,000روپیے
اوسط ذخیرہ 8,00,000روپیے
رواں اثاثے 7,60,000روپیے
قائم اثاثے 14,40,000روپیے
رواں واجبات 6,00,000روپیے
ٹیکس اور سود سے قبل خالص منافع 8,00,000روپیے
(جواب : خام منافع نسبت:23.81ذخیرہ فروخت نسبت 4.2گنا؛رواں نسبت1:6.2 ؛نقد نسبت 1.27:1 خالص منافع نسبت14.21%؛کاروباری اصل نسبت 2.625 گنا)
12۔ مندرجہ ذیل اطلاع کے ذریعے سے خام منافع نسبت،کاروباری اصل فروخت نسبت،قرض اکیوٹی نسبت اور مالکانہ نسبت کا پتہ لگائیے۔
ادا شدہ سرمایہ 5,00,000روپیے
رواں اثاثے 4,00,000روپیے
خالس فروخت 10,00,000روپیے
13% ڈبنچرز 2,00,000روپیے
رواں واجبات 2,80,000روپیے
بیچے گئے مال کی لاگت 6,00,000روپیے
(جواب:خام منافع نسبت40%؛کاروباری اصل نسبت 8.33گنا؛قرض اکیوٹی نسبت 0.4:1 مالکانہ نسبت 0.51:1)
13۔ اسٹاک الٹ پھیر(فروخت)نسبت کا پتہ لگائیے اگر
افتتاحی اسٹاک76,250، اختتامی اسٹاک98,500، فروخت 5,20,000 ، فروخت واپسی20,000، خریداریاں 3,22,250روپے ہے۔
(جواب:اسٹاک الٹ پھیر نسبت 3.43گنا)
14۔ دیے گئے مندرجہ ذیل اعدادوشمار کی مدد سے اسٹاک الٹ پھیر نسبت کا پتہ لگائیے۔
ابتدا سال میں اسٹاک 10,000روپیے
اختتام سال میں اسٹاک 5,000روپیے
مال برداری 2,500روپیے
فروخت 50,000روپیے
خریداریاں 25,000روپیے
(جواب : اسٹاک الٹ پھیر نسبت 33.4گنا)
15۔ ایک ٹریڈنگ فرم کا اوسط اسٹاک20,000روپے(لاگت)ہے۔اگر اسٹاک الٹ پھیر نسبت8گنا ہے اورفرم فروخت پر 20%منافع سے مال بیچتی ہے تو فرم کا منافع دریافت کیجیے۔
(جواب:منافع40,000روپے)
16۔ آپ ایک کمپنی کی2سال کی مندرجہ ذیل اطلاعات اکٹھاکرسکتے ہیں۔
2004 2005
یکم اپریل کو اندراجاتی ورض دار 4,00,000 5,00,000
30مارچ کو اندراجاتی قعض دار - 5,60,000
31 مارچ کو کاروباری اسٹاک 6,00,000 9,00,000
فروخت ( %25 خام منافع پر ) 3,00,000 24,00,000
اسٹاک الٹ پھیر نسبت اورقرض دار الٹ پھیر (فروخت)نسبت کاپتہ لگائیے ۔
(جواب:اسٹاک الٹ پھیر نسبت 2.4گنا،قرض دارالٹ پھیر نسبت 53.4گُنا)
17۔ مند رجہ ذیل تختۂ توازن اور دیگر اطلاعات کے ذریعے درج ذیل نسبتوں کا پتہ لگائیے:
(i) قرض اکیوٹی نسبت (ii) کاروباری اصل فروخت نسبت (iii)قرض دار فروخت نسبت
| واجبات |
رقم ( روپیے ) |
اثاثے |
رقم ( روپیے |
عام محفوظات نفع نقصان قرض @ %150 ہنڈی قابل ادا قرض خواہ حصہ سرمایہ |
80,000 1,20,000 2,40,000 20,000 80,000 2,00,000
7,40,000 |
ابتدائی اخراجات نقد اسٹاک قابل وصول ہنڈی قرض دار قائم اثاثے |
20,000 1,00,000 80,000 40,000 1,40,000 3,60,000
7,40,000 |
(جواب قرض اکیوٹی 19؛12 کاروباری اصل فروخت 1.4 گنا قرض دار الٹ پھیر 2 گلنا
18- 31 مارچ 2007 کو مندرجہ ذین معلومات نگم نمیٹیڈ کے نفع نقصان کھاتہ اور تختہ توازن کا خلاصہ ہے
| اخراجات / نقصانات |
رقم ( روپیے ) |
مالیات ( آمدنی ) / فائدہ |
رقم ( روپیے ) |
افتتاحی اسٹاک خریداریاں بلا واسطہ اخراجات خام منافع
تنخواہیں فرنیچر فرنیچر کی فروخت پر نقصان خالص منافع |
50,000 2,00,000 16,000 1,94,000 4,60,000
48,000 6,000 1,40,000
1,94,000 |
فروخت اختتامی اسٹاک
خام منافع
|
4,00,000 60,000
4,60,000
1,94,000
1,94,000 |
31 مارچ 2007 کو نگم لمیٹیڈ کا تختہ توازن
| واجبات |
رقم ( روپیے ) |
اثاثے |
رقم ( روپیے ) |
نفع نقصان قرض خواہ اکیوٹی حصہ سرمایہ بقایا اخراجات |
1,40,000 1,90,000 2,00,000 70,000
6,00,000 |
اسٹاک زمین نقد قرض دار |
60,000 4,00,000 40,000 1,00,000
6,00,000 |
پتہ لگائیں (i) فوری نسبت
(ii) اسٹاک الٹ پھیر نسبت
(iii) سرمایہ کاری پر حاصل(نفع)
(جواب:فوری نسبت 13؛7' اسٹاک الٹ پھیر نسبت 74؛3 گنا سرمایہ کاری پر حاصل ٪ 14.17
19۔ مندرجہ ذیل اعدادوشمار کے ذریعے پتہ لگائیے۔(a)قرض اکیوٹی نسبت(b)کل اثاثوں کی قرض سے نسبت(c)مالکانہ نسبت
اکیوٹی حصہ سرمایہ 75,000روپیے
ترجیحی حصہ سرمایہ 25,000روپیے
عام محفوظات 50,000روپیے
جمع شدہ منافع 30,000روپیے
ڈبنچرز 75,000روپیے
متفرق قرض خواہ 40,000روپیے
غیر ادا شدہ اخراجات 10,000روپیے
ابتدائی اخراجات منسوخ ہونے والے 5,000روپیے
(جواب: قرض اکیوٹی نسبت 0.43:1 کل اثاثوں کی قرض سے نسبت 4:1 ؛مالکانہ نسبت 0.58:1)
20۔ بیچے گئے مال کی لاگت 1,50,000؛کاروباری(تعمیلی)اخراجات60,000روپے؛فروخت 2,50,000 روپے ہے۔ عمل کاری نسبت کا حساب لگائیے۔
(جواب: عمل کاری نسبت84%)
21۔ اختتام سال 2007 کو مندرجہ ذیل ملخص لین دین اور نفع نقصان کھاتہ اور اسی تاریخ کا تختہ توازن ہے
| اخراجات/نقصان |
رقم ( روپیے ) |
مالیات ( آمدنی ) / فائدہ |
رقم ( روپیے ) |
افتتاحی اسٹاک خریداریاں بلا واسطہ اخراجات خام منافع |
5,000 25,000 2,500 25,000 57,500 |
فروخت اختتامی اسٹاک
|
50,000 7,500
57,500 |
| انتظامی اخراجات |
7,500 |
خام منافع |
25,000 |
سود فروخت اخراجات خالص منافع
|
1,500 6,000 10,000
25,000 |
|
25,000
|
| واجبات |
رقم ( روپیے ) |
اثاثے |
رقم ( روپیے ) |
حصہ سرمایہ رواں واجبات نفع نقصان
|
50,000 20,000 10,000
80,000
|
زمین و عمارت پلانٹ و مشینری اسٹاک متفرق قرض دار قابل وصول ہنڈیاں نقد ہاتھ اور بینک میں فرنیچر
|
25,000 15,000 7,500 7,500 6,250 8,750 10,000 80,000 |
پتہ لگائیں۔(i)خام منافع نسبت(ii)رواں نسبت؛(iii)ایسڈٹیسٹ نسبت(فوری جانچ کا تناسب)(iv)اسٹاک الٹ پھیر(فروخت)نسبت(v)قائم اثاثے الٹ پھیر تناسب۔
(جواب : خام منافع نسبت50%؛(ii)چالو(رواں)نسبت 1.5:1؛ (ii) ایسڈٹیسٹ نسبت(فوری جانچ کاتناسب) 1.125:1؛ (iv) اسٹاک الٹ پھیر نسبت 3.33 گنا؛(v) قائم اثاثے الٹ پھیر تناسب1:1)
22۔ مندرجہ ذیل اطلاع کے ذریعے معلوم کریں خام منافع نسبت،اسٹاک الٹ پھیر نسبت اورقرض دارالٹ پھیر نسبت
فروخت 3,00,000روپیے
بیچے گئے مال کی لاگت 2,40,000روپیے
اختتامی اسٹاک 62,000روپیے
خام منافع 60,000روپیے
افتتاحی اسٹاک 58,000روپیے
قرض دار 32,000روپیے
(جواب: خام منافع نسبت20%؛اسٹاک الٹ پھیر نسبت4گنا؛قرض دار الٹ پھیر نسبت4.9گنا)
پروجیکٹ
پروجیکٹ 1
اپنی پسندیدہ 2 مصنوعاتی کمپنیوں کی ویب سائٹ پر جا کر اس باب میں متعارف کرائی گئی نسبت کا تقابلی مطالعہ کیجیے آپ کے تجزیہ میں کم از کم گزشتہ تین سال کا احاطہ ہو نا چاہیے
پروجیکٹ 2
ریلائنس انڈسٹریز لمیٹیڈ کی ویپ سائٹ میں جا کر ان کے حالیہ مالیاتی گوشوارے ڈاون لوڈ کیجیے اور ان سے پچھلے پانچ برسوں کا نفع مندی نسبت تجزیہ تیار کیجیے
جوابات :اپنی معلومات کی جانچ کیجیے
اپنی معلومات کی جانچ کیجیے—I
(a)غلط (b)درست (c)درست (d)غلط (e)درست (f)غلط
اپنی معلومات کی جانچ کیجیے —II
d (i) d (ii) b (iii) a (iv) b (v) d (vi)
اپنی معلومات کی جانچ کیجیے—III
c (i) b (ii) b (iii) c (iv) c (v) c (vi)