
اکائی VI
تولید(Reproduction)
باب 1
عضویوں میں تولید
باب 2
پھولدار پودوں میں جنسی تولید
باب 3
انسانی تولید
باب 4
تولیدی صحت
حیاتیات دراصل زمین پر زندگی کی کہانی ہے۔ ایک طرف جہاں منفرد عضویے لازمی طور پر فنا ہوجاتے ہیں وہیں دوسری طرف انواع کروڑوں برس زندہ رہتی ہیں۔ یہاں تک کہ وہ انسانی ہاتھوں یا پھر قدرتی طورپر معدوم نہیں ہوجاتی۔ تولید ایک انتہائی اہم عمل ہے جس کے بغیر انواع لمبے عرصے تک زندہ نہیں رہ سکتیں۔ ہر فرد غیر جنسی یا جنسی طریقے سے اپنی نسل چھوڑ جاتا ہے۔ تولید کا جنسی طریقۂ کار تبدیل شدہ انواع کی تخلیق میں مدد کرتا ہے اور اس طرح زندہ رہنے کے مواقع بڑھ جاتے ہیں۔ اس یونٹ میں عضویوں میں تولیدی عمل کے عمومی اصولوں کا جائزہ لیا گیا ہے اور پھر پھولدار پودوں اور انسانوں میں اس عمل کی مفصّل تشریح کی گئی ہے تاکہ ایسی مثالوں سے موازنہ آسان ہوجائے۔ انسانی تولیدی صحت کے پس منظر میں اور تولیدی حیاتیات کو مکمل طور پر سمجھنے کے لیے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کس طرح تولیدی بیمار ی سے بچا جاسکتا ہے۔

پنچانن مہیشوری
(1904-1966)
پنچانن مہیشوری جن کی پیدائش نومبر 1904ء میں جے پور (راجستھان) میں ہوئی تھی ترقی پاکر نہ صرف ہندوستان بلکہ پوری دنیا کے معروف ترین ماہرین نباتیات میں سے ایک بن گئے۔ وہ اعلیٰ تعلیم کے لیے الہٰ آباد گئے جہاں سے انھوں نے ڈی۔ایس۔سی کی ڈگری حاصل کی۔ اپنے کالج کے دنوں میں انھوں نے ایک امریکن مشنری استاد ڈاکٹر ڈبلو۔ ڈیوکیوان سے فیض حاصل کیا اور نباتیات بالخصوص مارفولوجی میں دلچسپی پیدا کی۔ ایک بار ان کے استاد نے اس بات کا اظہار کیا کہ اگر یہ شاگرد ترقی میں اُن سے آگے نکل جاتا ہے تو انھیں بے حد تسلّی ہوگی۔ ان الفاظ نے پنچانن کی حصولہ افزائی کی اور انھوں نے وہ کچھ حاصل کیا جو وہ استاد کو بدلے میں دے سکتے تھے۔
انھوں نے جنینی پہلوؤں پر کام کیا اور ٹیکسونومی (Taxonomy) میں جنینی خصوصیات کے استعمال کو عام بنایا۔ انھوں نے دہلی یونیورسٹی کے شعبۂ نباتیات کو ٹشو کلچر اور جنینیات میں تحقیق کے ایک اہم مرکز کے طورپر قائم کیا۔ انھوں نے غیر پختہ جنینوں کے مصنوعی کلچر پر کام شروع کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ آج کل سائنس میں ٹشوکلچر ایک سنگ میل کی حیثیت اختیار کرگیا ہے۔ ٹیسٹ ٹیوب بارآوری اور انٹرا۔ اوویئرین زیرگی پر ان کے کام کی عالمی پیمانے پرستائش کی گئی ہے۔
انھیں لندن کی رائل سوسائیٹی کے فیلو شپ (ایف آر ایس)، انڈین نیشنل سائنس اکاڈمی اور دیگر کئی اداروں کے اعزازات سے نوازا گیا۔ انھوں نے عام تعلیم کو بڑھاوا دیا اور اپنی قائدانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر اسکول کی تعلیم کے لیے ایک اہم ترین پیش کش کی جس میں انھوں نے 1964 میں این سی ای آر ٹی کے ذریعے ہائر سیکنڈری اسکولوں کے لیے حیاتیات کی سب سے پہلے کتب شائع کیں۔

باب 1
عضویوں میں تولید (Reproduction in Organisms)
1.1 غیر جنسی تولید
1.2 جنسی تولید
ہر عضویہ ایک مخصوص عرصے تک ہی زندہ رہ سکتا ہے۔ ایک عضویے کی پیدائش سے موت تک کا عرصہ اس کے عرصۂ حیات کو بتاتا ہے۔ شکل 1.1 میں چند عضویوں کے عرصۂ حیات دیے گئے ہیں۔ کئی دوسرے عضویوں کی شکلیں بھی بنائی گئی ہیں جن کے عرصۂ حیات آپ معلوم کریں اور دی ہوئی جگہوں میں لکھیں۔ شکل 1.1 میں دکھائے گئے عضویوں کے عرصہ حیات پر غور کیجیے۔ کیا یہ بات دلچسپ اور مسحورکن نہیں ہے کہ یہ چند دنوں جیسا چھوٹا بھی ہوسکتا ہے اور چند ہزار سال جتنا لمبا بھی؟ زیادہ تر عضویوں کے عرصۂ حیات ان ہی دو انتہاؤں کے درمیان ہوتے ہیں۔ آپ دیکھیں گے کہ ضروری نہیں کہ عضویوں کے عرصۂ حیات ان کے قدوں کے مطابق ہوں۔ کووں اور طوطوں کے قد بہت مختلف نہیں ہوتے پھر بھی ان کے عرصۂ حیات میں بہت فرق نظر آتا ہے۔ اسی طرح ایک پیپل کے درخت کے مقابلے آم کے درخت کا عرصۂ حیات بہت چھوٹا ہوتا ہے۔ عرصۂ حیات جو بھی ہو، ہر عضویے کی موت یقینی ہوتی ہے یعنی کوئی فرد لافانی نہیں ہوتا بجز ایک سیل والے(یک خلوی) عضویوں کے۔ ہم یہ کیوں کہتے ہیں کہ ایک سیل والے عضویوں میں قدرتی موت نہیں ہوتی؟ اس حقیقت کو مانتے ہوئے کیا آپ کو کبھی حیرانی نہیں ہوتی کہ کس طرح کثیر تعداد میں پودوں اور جانوروں کی انواع کئی ہزار سالوں سے زمین پر رہ رہی ہیں؟ عضویوں میں کچھ طریقے ضرور ہونے چاہیے جن سے یہ تسلسل یقینی بنا ہے۔ جی ہاں ہم تولید ہی کے بارے میں بات کررہے ہیں، وہ جس پر ہمیں یقین ہے۔
کچھ عضویوں کا عرصہٴ حیات (اندازاً)
گلاب (____)
ہاتھی (_____)
کوّا (۱۵ سال)
تتلی (۲۔۱ ہفتے)
کتا (____)
طوطا (۴۰ سال)
گائے (_____)
کیلے کا درخت (_____)
پھل مکھی (_____)
گھوڑا (______)
مگر مچھ (۶۰ سال)
برگد کا درخت (_____)
کچھوا (۱۰۰۔۱۵۰ سال)
دھان کا پودا (_____)

تولید کی تعریف بطور ایک حیاتیاتی عمل کے کی جاتی ہے جس میں ایک عضویہ اپنے جیسے بچوں کو جنم دیتا ہے۔ بچے بڑھتے اور اپنے عمر کی پختگی کو پہنچتے ہیں اور بدلے میں نئے بچوں کو پیدا کرتے ہیں۔ پس پیدائش، اضافہ اور موت کا ایک چکر چلتا رہتا ہے۔ تولید سے نسل درنسل انواع کا تسلسل جاری رہتا ہے۔ آپ بعد میں باب 5 میں (توارث اور فرق کے اصول) پڑھیں گے کہ تولید کے دوران کیسے جنینی فرق پیدا ہوتے اور توارث کیے جاتے ہیں۔
حیاتیاتی دنیا میں زبردست تنوع پایا جاتا ہے اور ہر عضویے نے اپنی افزائش اور بچے پیدا کرنے کا اپنا طریقہ اپنایا ہے۔ عضویے کا مسکن، اس کی اندرونی فیزیولوجی اور کئی دوسرے عناصر مجموعی طورپر اس بات کے ذمہ دار ہوتے ہیں کہ وہ کیسے تولید کرتا ہے کیونکہ تولیدی عمل میں ایک یا دو عضویے حصہ لیتے ہیں، یہ دو قسم کا ہوتا ہے۔ جب بچہ صرف اور صرف ایک فرد (پیرنٹ:Parent) کے ذریعے پیدا ہو جس میں گیمیٹ (Gamete) کی تشکیل شامل ہو یا نہ ہو، تب تولید غیرجنسی (Asexual) ہوتی ہے۔ جب دونوں والدین(نر اور مادہ) تولیدی عمل میں اس طرح حصہ لیں کہ نر اور مادہ گیمیٹس کا انضمام بھی شامل ہو تو اسے جنسی تولید کہا جاتا ہے۔
1.1 غیر جنسی تولید
ا س طریقے میں ایک واحد فرد (پیرنٹ) بچے پیدا کرنے کا اہل ہوتا ہے۔ نتیجتاً جو بچے پیدا ہوتے ہیں وہ نہ صرف ایک دوسرے سے مشابہہ ہوتے ہیں بلکہ اپنے پیرنٹ کی ہوبہو نقل ہوتے ہیں۔ کیا یہ بچے جینی اعتبار سے مختلف یا مشابہہ ہوسکتے ہیں؟ شکل و صورت نیز جینیاتی اعتبار سے مشابہہ ایسے افراد کو بیان کرنے کے لیے کلون (Clone) اصطلاح کا استعمال کیا جاتا ہے۔


(a) بڈ؍ پیرنٹ سیل
(b) نیو کلیئس؍ دختر سیل
شکل 1.2 ایک سیل والے یک خلوی عضویوں میں سیل کی تقسیم : (a) خمیر(Yeast) میں بڈنگ (Budding)؛
(b) ایمیبا میں بائنری فِژن (Binary Fission)
آئیے دیکھیں کہ عضویوں کے مختلف گروہوں میں غیر جنسی تولید کتنے وسیع پیمانے پر پائی جاتی ہے۔ غیر جنسی تولید ایک سیل والے عضویوں اور مقابلتاً سادہ تنظیم کے پودوں اور جانوروں میں عام ہے۔ میٹوسس کے ذریعے پروٹسٹس (Protists) اور مونیرنس (Monerans) میں عضویہ یا پیرنٹ سیل نئے افراد کو جنم دینے کے لیے دو میں تقسیم ہوجاتا ہے (شکل 1.2)۔
کونیڈا؍ منہ؍ بڈ
شکل 1.3 غیر جنسی تولیدی ساختیں: (a) کلیمائی ڈوموناس (Chlamydomonas) کے زو اسپورس (Zoospores)، (b) پینی سیلیئم (Penicillium) کے کونیڈیاذ ہائیڈرا (Hydra) میں بڈس (Buds)، اسپنج (Sponge) میں جیمیولس (Gemmules)۔
پس اِن عضویوں میں سیل کی تقسیم (Cell Division) ہی تولید کا طریقہ ہے۔ بہت سے ایک سیل والے عضویے بائنری فِژن (Binary Fission) کے ذریعے تولید کرتے ہیں، جہاں ایک سیل دو نصف میں تقسیم ہوجاتا ہے اور ہر ایک تیزی سے بڑھ کر پختگی حاصل کرلیتا ہے (مثلاً ایمیباAmoeba) ، پیرامیشئیم (Paramecium)۔ خمیر میں تقسیم غیرمساوی ہوتی ہے اور چھوٹی بڈس پیدا ہوتی ہیں جو ابتدا میں پیرنٹ سیل سے جڑی رہتی ہیں اور بعد میں الگ ہوکر نئے الیٹ عضویوں (سیلس) کو بناتی ہیں۔غیر موافق حالات میں امیبا اپنے کاذب پیروں (Pseudopodia) کو پیچھے کھینچ لیتا ہے اور اپنے چاروں طرف ایک تین پرت والی سخت پوشش یا تھیلی (Cyst) کا افراز کرتا ہے۔ اس مظہر کو انکائسٹیشن (Encystation) کہا جاتا ہے۔ جب حالات موافق ہو جاتے ہیں تو تھیلی دار امیبا کثیر انشقاق کے ذریعے تقسیم ہو جاتا ہے اور بہت سے چھوٹے چھوٹے امیبا یا سیوڈوپوڈیو اسپورس (Pseudopodiospores) کی تولید کرتا ہے۔ سسٹ (Cyst) کی دیوار پھٹ جاتی ہے اور بذرے (Spores) ماحول میں آزاد ہو جاتے ہیں جو نشوونما پاکر بہت سے امیبا بن جاتے ہیں۔ اس مظہر کو اسپورولشن (Sporulation) کہتے ہیں۔

(a) آْنکھیں؍ اپجتی ہوئی آنکھ بڈس
بڈس؍ اضافی جڑ؍ نوڈس
(c)
(d) اضافی بڈس
(e) اوف سیٹ (پہلوتنہ)
شکل 1.4 اینجیو اسپرمس میں نباتی یا غیر جنسی نسلیے (Propagules) (a) آلو کی آنکھیں، (b) ادرک کا رائزوم، (c) اگیو کا بصلہ، (d) برائیوفائیلم کی پتہ بڈس، (e) واٹر ہائی سنتھ کا پہلو تنہ
کنگڈم فنجائی (Fungi) کے افراد اور سادہ پودے جیسے ایلگی (Algae) مخصوص غیر جنسی ساختوں (شکل 1.3) کے ذریعے تولید کرتے ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ عام ساختیں زواسپورس (Zoospores) ہیں جو عموماًمتحرک خوردبینی ساختیں ہوتی ہیں۔ دوسری غیر جنسی تولیدی ساختیں کونیڈیا (Penicillium) (Conidia)، بڈس (Hydra) (Buds) اورجیمیولس (Sponge) (Gemmules) ہیں۔
آپ نے گیارہویں جماعت میں پودوں میں (غیر جنسی) نباتی تولید کے بارے میں پڑھا ہے۔ آپ کیا سوچتے ہیں۔ کیا نباتی تولید بھی ایک قسم کی غیر جنسی تولید ہے؟ آپ ایسا کیوں کہتے ہیں؟ کیا نباتی تولید سے بننے والے بچوں پر کلون کی اصطلاح استعمال کی جاسکتی ہے؟
جہاں جانوروں اور دوسرے سادہ عضویوں میں غیر جنسی (Asexual) اصطلاح کا استعمال ہوتا ہے، وہیں پودوں میں عموماً نباتی (Vegetative) تولید کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ پودوں میں نباتی بڑھوتری (Vegetative Propagation) کی اکائیاں جیسے رنر (Runner)، رائزوم (Rhizome)، سکر (Sucker)، ٹیوبر (Tuber)، اوف سیٹ (Offset)، بلب (Bulb) نئے پودوں کی بیدائش صلاحیت رکھتی ہیں۔ بظاہر کیونکہ ان ساختوں کے بننے میں دو والدین شامل نہیں ہیں اس لیے یہ عمل غیر جنسی ہے۔کچھ عضویوں میں اگر جسم جداگانہ ٹکڑوں یا حصوں میں ٹوٹتا ہے تو ہر حصہ (Fragments) ایک بالغ فرد بنتا ہے جو آنے والی نسل (ہائڈرا) کی تولید کر سکتا ہے۔ یہ بھی غیر صنفی تولید (Asexual reproduction) کا ایک انداز ہے جسے فریگمین ٹیشن (Fragmentation) کہا جاتا ہے۔
آپ نے پانی کے ذخائر کی تباہی یا بنگال کی دھشت کے بارے میں ضرور سنا ہوگا۔ یہ کچھ نہیں محض ایک آبی پودا واٹر ہائی سنتھ (Water Hyacinth) ہے جو شدید حملہ آور جنگلی جھاڑیوں میں سے ایک ہے جو ہر اس جگہ پیدا ہوجاتی ہے جہاں پانی کھڑا ہو۔ یہ پانی سے آکسیجن نکال دیتی ہے جس سے مچھلیاں مرجاتی ہیں۔ آپ باب 13 اور 14 میں اس کے بارے میں مزید پڑھیں گے۔ آپ کو یہ جان کر دلچسپ لگے گا کہ یہ پودا ہندوستان میں اپنے خوبصورت پھولوں اور پتوں کی ساخت کی وجہ سے لایا گیا تھا۔ کیونکہ یہ نباتی طورپر بہت تیز رفتاری سے بڑھ کر بہت کم وقت میں پانی کے پورے حصے میں پھیل سکتا ہے، اس سے چھٹکارا حاصل کرنا بہت مشکل ہے۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ آلو، گنا، کیلا، ادرک اور ڈھلیا جیسے پودوں کی کاشت کیسے کی جاتی ہے؟ کیا آپ نے آلو کے ٹیوبر (جو آنکھیں کہلاتے ہیں)، گنے اور ادرک کے رائزومس سے چھوٹے پودوں کو نکلتے دیکھا ہے۔ اگر آپ اوپر دیے گئے پودوں میں نئے پودوں کے نکلنے کی صحیح جگہ تلاش کریں تو آپ کو پتا چلے گا کہ وہ ہمیشہ ہی ان پودوں کے تبدیل شدہ تنوں میں موجود نوڈس سے نکلتے ہیں۔ جب نوڈس پانی یا نم مٹی کے رابطے میں آتے ہیں تو وہ جڑیں اور نئے پودے پیدا کرتے ہیں۔ اسی طرح برائیوفائیلم کے پتوں کے کناروں پر موجود کھانچوں سے اضافی بڈس نکلتی ہیں۔ ایسے پودوں کو صنعتی طورپر اگانے کے لیے اس صلاحیت کو باغبانوں اور کسانوں نے پورے طورپر استعمال کیا ہے۔
یہ جاننا باعثِ دلچسپی ہے کہ مقابلتاً سادہ تنظیم رکھنے والے عضویوں جیسے ایلگی اور فنجائی میں غیر جنسی تولید ہی تولید کا عام طریقہ ہوتی ہے اور وہ ناسازگار حالات سے کچھ ہی پہلے تولید کا جنسی طریقہ اپنالیتے ہیں۔ معلوم کیجیے کہ ناسازگار حالات کے دوران کس طرح جنسی تولید ان عضویوں کو زندہ رہنے کے قابل بناتی ہے؟ اعلیٰ پودے غیر جنسی اور جنسی دونوں طرح کی تولید کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اس کے برعکس زیادہ تر جانوروں میں تولید کا صرف جنسی طریقہ ہی موجود ہوتا ہے۔
1.2 جنسی تولید
جنسی تولید میں ایک ہی فرد یا پھر مخالف جنس کے مختلف افراد کے ذریعے نر اور مادہ گیمیٹس کی تشکیل شامل ہوتی ہے۔ یہ گیمیٹس ایک دوسرے میں ضم ہوکر زائیگوٹ (Zygote) بناتے ہیں جو نمو پاکر نئے عضویے کو بناتا ہے۔ غیر جنسی تولید کے مقابلے یہ ایک طویل، پیچیدہ اور سست رفتار عمل ہے۔ نر اور مادہ گیمیٹس کے ایک دوسرے میں ضم ہونے کی وجہ سے بچوں کی جنسی تولید ہوتی ہے جو آپس میں اور اپنے والدین کے مشابہہ نہیں ہوتے ۔
مختلف النوع عضویوں—پودوں، جانوروں یا فنجائی کے مطالعہ سے پتا چلتا ہے کہ گو وہ بیرونی شکل، اندرونی ساخت اور فیزیولوجی کے اعتبار سے بہت زیادہ الگ ہیں، تاہم جب جنسی طریقۂ تولید کی بات آتی ہے تو حیران کن طورپر ان کاانداز مشترک ہوتا ہے۔ آئیے بات کریں کہ ان مختلف النوع عضویوں میں کون اوصاف مشترک ہیں۔
اس سے پہلے کہ وہ جنسی تولید کرسکیں تمام عضویوں کو اپنی زندگی میں نشو و نما اور پختگی کی ایک خاص منزل تک پہنچنا ہوتا ہے۔ نشو و نما کے اُس عرصے کو نو عمری کا مرحلہ یا جووینائل فیز (Juvenile phase) کہا جاتا ہے۔ پودوں میں یہ نموپذیری مرحلہ یا ویجی ٹیٹیوفیز (Vegetative phase) کہلاتا ہے۔ مختلف عضویوں میں یہ فیز مختلف عرصوں کا ہوتا ہے۔
اعلیٰ پودوں میں جووینائل/نمو پذیری فیز کا خاتمہ جو جنسی فیز کی ابتدا کی نشان دہی کرتا ہے بہ آسانی اس وقت دیکھا جاسکتا ہے جب ان میں پھول آنے لگیں۔ میری گولڈ/دھان/گیہوں/ناریل اور آم کے پودوں میں پھول آنے میں کتنا وقت لگتا ہے؟ بعض پودوں میں جہاں ایک سے زیادہ بار پھول آتے ہیں آپ پھول آنے کے درمیانی وقفے کو جو وینائل کہیں گے یا پھر میچیور (Mature)؟
اپنے علاقے کے چند درختوں کا مشاہدہ کیجیے۔ کیا وہ سال بہ سال ایک ہی مہینے کے دوران پھول دیتے ہیں؟ آپ کیوں سوچتے ہیں کہ آم، سیب، کٹھل وغیرہ جیسے پھلوں کی دستیابی موسمی ہوتی ہے؟ کیا کچھ پودے ایسے بھی ہیں جو تمام سال پھول دیتے ہیں اور کچھ دوسروں میں موسمی پھول نظر آتے ہیں؟ اِک برسی اور دو برسی پودے واضح طورپر نباتی تولید اور انحطاطی دور (امسال خوردگی)کا مظاہرہ کرتے ہیں تاہم سدابہار انواع میں ان ادوار کی واضح نشان دہی بہت مشکل ہے۔ چند پودوں میں پھولوں کا آنا حسب معمول نظر آتا ہے، مگر بعض جیسے بانس کی انواع میں زندگی میں ایک ہی بار پھول آتے ہیں اور وہ عموماً 100-50 سال بعد کثیر تعداد میں پھل پیدا کرتے ہیں اور پھر مرجاتے ہیں۔ ایک دوسرے پودے(Strobilanthus Kunthiana(نیلاکرنجی) میں 12 سال میں ایک بار پھول آتے ہیں جیساکہ آپ میں سے بیشتر لوگ جانتے ہوں گے کہ اس پودے میں ستمبر۔اکتوبر 2006 کے دوران پھول آئے تھے۔ اس کے بھرے ہوئے پھولوں سے کیرالہ، کرناٹکا اور تامل ناڈو کے پہاڑی علاقوں میں بڑے بڑے راستے نیلی پٹیوں میں تبدیل ہو گئے ہیں اور کثیر تعداد میں سیاحوں کو متوجہ کیا۔ جانوروں میں فعّال تولیدی طرزعمل سے پہلے جووینائل فیز کے بعد مورفولوجیکل اور فیزیولوجیکل تبدیلیاں ہوتی ہیں۔ تولیدی فیز بھی مختلف عضویوں میں مختلف عرصوں کا ہوتا ہے۔
کیا آپ انسانوں میں نظر آنے والی ان تبدیلیوں کی فہرست مرتب کرسکتے ہیں جو تولیدی پختگی کی نشان دہی کرتی ہیں؟
جانوروں میں پرندوں کو لیجیے ، کیا وہ سارے سال انڈے دے سکتے ہیں؟ اور کیا یہ ایک موسمی مظہر ہوتا ہے، دوسرے جانوروں جیسے مینڈکوں اور چھپکلیوں کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ دیکھیں گے کہ قدرتی طورپرآزار رہنے والے پرندے صرف ایک موسم ہی میں انڈے دیتے ہیں۔ تاہم مقیّدپرندوں (جیسے پولٹری فارمس میں) کو سارے سال انڈے دلائے جاسکتے ہیں۔ اس معاملے میں انڈے دینے کا تعلق تولید سے نہیں ہے بلکہ یہ انسانی فلاح کے لیے ایک صنعتی استحصال ہے۔ مشیمی(Placental) پستانیوں کی مادائیں تولیدی مرحلے کے دوران اپنی بیضہ دانیوں اور اضافی نالیوں میں ہونے والی تحریکات میں اور ساتھ ہی ہارمونس میں وقفہ دار تبدیلیوں کا مظاہرہ کرتی ہیں۔ غیر پرائمیٹ پستانیوں (Non-primate Mammals) جیسے گایوں، بھیڑوں، چوہوں، ہرنوں، کتوں، شیروں وغیرہ میں تولید کے دوران ایسی وقفہ دار تبدیلیوں کو ایسٹرس سائیکل (Oestrus Cycle) کہا جاتا ہے جبکہ پرائمٹس جیسے بندروں، بن مانس اور انسانوں میں اسے حیضی دور (Menstrual Cycle) کہتے ہیں۔ بہت سے پستانیے بالخصوص وہ جو قدرتی جنگل کے حالات میں رہتے ہیں اپنے تولیدی فیز میں صرف سازگار حالات کے دوران ہی ان وقفوں کا مظاہرہ کرتے ہیں اور اسی لیے موسمی نسل بڑھانے والے کہلاتے ہیں۔ بہت سے دوسرے پستانیے اپنے پورے تولیدی فیز کے دوران تولیدی طورپر فعّال رہتے ہیں اور لگاتار نسل بڑھانے والے (Breader)کہلاتے ہیں۔
ہم سب بوڑھے ہوتے ہیں ( بشرطیکہ ہم لمبی مدت تک زندہ رہیں) یہ ایک ایسی بات ہے جسے ہم جانتے ہیں۔ لیکن بوڑھے ہونے کا مطلب کیا ہے؟ تولیدی فیز کے ختم ہونے کو بڑھاپے یا زیادہ عمر کا پیمانہ تصور کیا جاسکتا ہے۔ زندگی کے آخری دور میں جسم میں لازمی طورپر کچھ تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں (جیسے تحوّل کی آہستہ روی وغیرہ)۔ بڑی عمر بالآخر موت کی طرف لے جاتی ہے۔
پودوں اور جانوروں دونوں میں تینوں ادوار کے درمیان تغیّرات کے لیے ہارمونس ذمہ دار ہوتے ہیں۔ ہارمونس اور بعض ماحولیاتی عناصر کے درمیان تعامل عضویوں کے تولیدی عمل اور متعلقہ طرزعمل کے اظہار کو کنٹرول کرتا ہے۔
جنسی تولید کے دوران وقائع: پختگی کے حصول کے بعد، تمام جنسی تولید کرنے والے عضویے ایسے وقائع اور اعمال کا اظہار کرتے ہیں جن میں بے مثال بنیادی مماثلث ہوتی ہے، جب کہ جنسی تولید سے وابستہ ساختیں بھی حقیقتاً بہت مختلف ہوتی ہیں۔ حالانکہ جنسی تولید کے وقائع طویل اور پیچیدہ ہوتے ہیں مگر ان میں ایک سلسلہ وار باضابطگی ہوتی ہے۔ جنسی تولید نر اور مادہ گیمیٹس کے آپسی انضمام (یا بارآوری)، زائیگوٹ کی تشکیل اور ایمبریوجینیسس (Embryogenesis) سے عبارت ہوتی ہے۔ سہولت کے لیے ان سلسلہ وار وقائع کو تین واضح مراحل پری فرٹیلائزیشن (Prefertilisation)، فرٹیلائزیشن (Fertilisation) اور پوسٹ فرٹیلائزیشن (Post-Fertilisation) وقائع میں گروہ بند کیا جاسکتا ہے۔
1.2.1 قبل از باوری وقائع (Pre-Fertilization Events)
ان میں گیمیٹس کے انضمام سے پہلے کے تمام جنسی تولیدی وقائع شامل ہیں۔ دو خاص پری فرٹیلائزیشن وقائع ہیں گیمیٹوجینیسس (Gametogenesis) اور گیمیٹ ٹرانسفر (Gamete transfer)۔
(a)
(b)
(c)
شکل 1.5 گیمیٹس کی قسمیں: (a)کلا دوپھورا (Cladophora)(ایک ایلگا) کے آئسو گیمیٹس؛(b) فوکوس (Fucus)(ایک ایلگا) کے ہیٹروگیمیٹس؛
(c)ہومو سیپائنس (Homo sapiens)(انسانی) کے ہیٹروگیمیٹس
1.2.1.1 گیمیٹو جینیسس
جیساکہ آپ پہلے ہی جانتے ہیں گیمیٹوجینیسس دو قسم کے گیمیٹس۔ نر اور مادہ کی تشکیل کے عمل کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ گیمیٹس ہیپلائیڈ سیلس (Haploid Cells) ہوتے ہیں۔ بعض ایلگی میں دو گیمیٹس شکلاً اتنے مشابہہ ہوتے ہیں کہ ان کی نر اور مادہ گیمیٹس میں گروہ بندی کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ اس لیے انھیں ہوموگیمیٹس(Homogametes) (آئسوگیمیٹس Isogametes) (شکل 1.5a) کہتے ہیں۔ تاہم جنسی طورپر تولید کرنے والے زیادہ تر عضویوں میں پیدا ہونے والے گیمیٹس شکلاً دو قسم کے (ہیٹرو گیمیٹس Heterogametes)ہوتے ہیں۔ ایسے عضویوں میں نر گیمیٹ اینتھیرو زوائیڈ (Antherozoid) یا اسپرم (Sperm) کہلاتا ہے اور مادہ گیمیٹ کو ایگ (egg) یا اووم (Ovum) کہتے ہیں۔(شکل 1.5 b,c)
عضویوں میں جنسیت (Sexuality in Organisms): عضویوں کی جنسی تولید میں عموماً دو مختلف افراد سے گیمیٹس کا انضمام شامل ہوتا ہے۔ لیکن ہمیشہ ایسا نہیں ہوتا۔ گیارھویں جماعت کے اپنے مطالعے کی یادداشت سے کیا آپ ایسی مثالوں کی نشان دہی کرسکتے ہیں جہاں خود بارآوری (Self-fertilisation) نظر آتی ہو؟ بے شک پودوں میں ایسی مثالیں دینا آسان ہے۔
پودوں میں نر اور مادہ دونوں تولیدی ساختیں ایک ہی پودے (دوصنفی) (شکل 1.6 c,e) پر یا مختلف پودوں (یک صنفی) (شکل 1.6 d) پر ہوسکتی ہیں۔ کئی فنجائی اور پودوں میں دوجنسی حالت کو بتانے کے لیے ہوموتھیلک (Homothallic) اور مونوایشیئس (Monoecious) جیسی اصطلاحوں کا استعمال ہوتا ہے اور ہیٹروتھیلک (Heterothalic) اور ڈائیوایشیئس (Dioecious) اصطلاحات کا استعمال یک صنفی حالت بتانے کے لیے کیا جاتا ہے۔ پھولدار پودوں میں یک صنفی نر پھول اسٹیمینیٹ(Staminate) ہوتا ہے یعنی اس میں اسٹیمنس (Stamens) ہوتے ہیں، جبکہ مادہ پھول پسٹی لیٹ (Pistillate) یا پسٹلس (Pistils) رکھنے والا ہوتا ہے۔ کچھ پھولدار پودوں میں نر اور مادہ دونوں پھول ایک ہی فرد (مونوایشیئس) یا الگ الگ افراد (ڈایوایشیئس) پر موجود ہوسکتے ہیں۔ مونوایشیئس پودوں کی کچھ مثالیں کدو کی قسم کے پودے اور ناریل ہیں اور ڈائیوایشیئس پودوں کی مثالیں پپیتا اور کھجور ہیں۔ اُن گیمیٹس کی قسموں کے نام بتائیے جو اسٹیمینیٹ اور پسٹی لیٹ پھولوں میں بنتے ہیں۔
جانوروں کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا تمام انواع کے افراد خواہ نر ہوں یا مادہ (یک صنفی : Unisexual) ہوتے ہیں؟ یا ایسی انواع بھی ہوتی ہیں جن میں دونوں تولیدی اعضاء ہوتے ہیں (دو صنفی (Bisexual)۔
آپ شاید کئی یک صنفی جانوروں کی انواع کی فہرست مرتب کرسکیں۔ کیچوے، (شکل 1.6 a) اسپینج، ٹیپ ورم اور جونک دوصنفی جانوروں کی وہ خاص مثالیں ہیں جن میں نر اور مادہ دونوں تولیدی اعضاء ہوتے ہیں اور وہ ہرمافوروررڈائٹس (Hermaphrodites) ہوتے ہیں۔ تل چٹا (Cockroach) یک صنفی انواع کی ایک مثال ہے۔
گیمیٹ کی تشکیل کے دوران سیل کی تقسیم: تمام ہیٹروگیمیٹک (Heterogametic) انواع میں دو قسم کے گیمیٹس ہوتے ہیں یعنی نر اور مادہ۔ گیمیٹس ہیپلائیڈ ہوتے ہیں چاہے پیرنٹ پودے کا جسم جس سے وہ نکلا ہے ہیپلائیڈ ہو یا ڈپلائیڈ۔ ایک ہیپلائیڈ پیرنٹ مائیٹوٹک تقسیم (Mitotic Division) کے ذریعے گیمیٹس پیدا کرتا ہے۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ عضویے جو ہیپلائیڈ ہیں ان میں کبھی می او سس (Meiosis) ہوتا ہی نہیں؟ مناسب جواب حاصل کرنے کے لیے ایلگی کے دورِ حیات کے فلوچارٹ (Flow Chart) کا بغور مطالعہ کیجیے جسے آپ نے گیارھویں جماعت (باب 3) میں پڑھا تھا۔
کئی عضویے جن کا تعلق مونیرا، فنجائی، ایلگی اور برائیوفائٹس سے ہے ان کے پودوں کا جسم ہیپلائیڈ (Haploid) ہوتا ہے تاہم وہ عضویے جن کا تعلق ٹیریڈوفائٹس، جمنواسپرمس، اینجیو اسپرمس اور بشمول انسان زیادہ تر جانوروں سے ہے ان کا جسم ڈپلائیڈ (Diploid) ہوتا ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ اگر ایک ڈپلائیڈ جسم ہیپلائیڈ گیمیٹس کو پیدا کرتا ہے تو می اوسس یعنی تخفیفی تقسیم (Reduction Division) واقع ہوگی ہی۔
ڈپلائیڈ عضویوں میں مخصوص سیلس میں می اوسس ہوتا ہے جنھیں مائیوسائٹس (Meiocytes) یعنی گیمیٹ مدرسلیس کہا جاتا ہے۔ می اوسس کے اختتام پر ہرگیمیٹ میں کروموسومس کا صرف ایک سیٹ شامل ہوتا ہے۔جدول 1.1 کا بغور مطالعہ کرکے عضویوں کے ڈپلائیڈ اور ہیپلائیڈ کروموسوموں کی تعداد لکھیں۔ کیا گیمیٹس اور مائیوسائیٹس کے کروموسوموں کی تعداد میں کوئی تعلق ہے؟
1.2.1.2 گیمیٹ ٹرانسفر (Gamete Transfer)
نر اور مادہ گیمیٹس اپنی تشکیل کے بعد انضمام (فرٹیلائزیشن :fertilisation) کو ممکن بنانے کے لیے ایک دوسرے کے پاس لائے جاتے ہیں۔ کیا آپ کو کبھی اس بات پر تعجب ہوا کہ گیمیٹس کیسے ملتے ہیں؟ زیادہ تر عضویوں میں نر گیمیٹ متحرک ہوتا ے اور مادہ گیمیٹ ساکت۔ کچھ فنجائی اور ایلگی اس سے مستثنیٰ ہیں جن میں دونوں قسم کے گیمیٹس متحرک ہوتے ہیں(شکل 1.7a) ۔ ایک میڈیم کی ضرورت ہوتی ہے جس کے راستے مادہ گیمیٹ حرکت کرتے ہیں۔ کئی سادہ پودوں جیسے ایلگی، برائیوفائیٹس اور ٹیریڈوفائیٹس میں پانی میڈیم ہوتا ہے جس کے ذریعے گیمیٹ کی منتقلی واقع ہوتی ہے۔ البتہ نر گیمیٹس کی ایک کثیر تعداد مادہ گیمیٹس تک پہنچنے میں ناکام رہتی ہے۔ منتقلی کے دوران نر گیمیٹس کے اس نقصان کی تلافی کے لیے پیدا ہونے والے مادہ گیمیٹس کی تعداد کے مقابلے نر گیمیٹس کی تعداد کئی ہزار گنا زیادہ ہوتی ہے۔

(a) کلائیٹیلم؍ انثیوں کے ساتھ انثیوں کا کیسہ؍ بیضہ دانی؍ انثیے
(b) مادہ؍ بیضہ دانی
(c) اوگونیئم (مادہ جنسی عضو)؍ انتھیریڈیم (مادہ جنسی عضو)
(d) آرکیگینیوفور؍ مادہ تھیلس؍ انتھیریڈوفور؍ نر تھیلس
(e) اسٹیم؍ کارپیل
شکل 1.6 عضویوں میں جنسیت کا تنوع (a) دوصنفی (کیچوا)، (b) یک صنفی جانور (کاکروچ)، (c) مونوایشیئس پودا (چارا)، (d) ڈایوایشیئس پودا (مرکینٹیا)، (e)دو صنفی پھول (شکر قندی)
ٹیبل 1.1: کچھ عضویوں کے مائیوسائیٹس میں کروموسومس کی تعداد (ڈپلائیڈ، 2n) اور گیمیٹس(ہیپلائیڈ، n)۔ خالی جگہوںکو بھریے۔
| عضویوں کا نام |
مائیوسائیٹس میں کروموسومس کی تعداد (2n) |
گیمیٹس میں کروموسومس کی تعداد (n) |
| انسان |
46 |
23 |
| مکھی |
12 |
--- |
| چوہا |
--- |
21 |
| کتا |
78 |
--- |
| بلی |
--- |
19 |
| پھل مکھی |
8 |
--- |
| افیوگلوسم (ایک فزن) |
--- |
630 |
| سیب |
34 |
--- |
| چاول |
--- |
12 |
| مکا |
20 |
--- |
| آلو |
--- |
24 |
| تتلی |
380 |
--- |
| پیاز |
--- |
16 |
بیج والے پودوں میں زر دانے (پولن گرینس : Pollen grains) نر گیمیٹ بردار ہوتے ہیں اور اویول (ovule) میں انڈا ہوتا ہے۔ اس لیے اینتھرس (Anthers) میں پیدا ہونے والے زر دانوں کو اس سے پہلے کہ وہ بارآوری کرسکیں اسٹگما (Stigma) تک منتقل کرنا ہوتا ہے۔ (شکل 1.76)۔ دوصنفی یعنی خود بارآوری کرنے والے پودوں جیسے مٹر میں اسٹگماتک زر دانوں کی منتقلی مقابلتاً آسان ہوتی ہے کیونکہ اینتھرس اور اسٹگماایک دوسرے کے قریب واقع ہوتے ہیں۔ زردانے چھڑکے جانے کے بعد جلد ہی اسٹگما کے رابطے میں آجاتے ہیں۔ لیکن پارباروری (cross fertilisation) کرنے والے پودوں میں (بشمول ڈائیواشیئس پودے) ایک مخصوص عمل جسے پولی نیشن (Pollination : زیرگی) کہتے ہیں زر دانو کو اسٹگما تک منتقل کرنے میں مدد کرتا ہے۔ زردانے اسٹگما پر اپجتے ہیں اور زر دانے کی نلی نر گیمیٹس کو لیے ہوئے بیضک(Ovule) تک پہنچتی ہے اور اسے انڈے کے پاس خارج کردیتی ہے۔ ڈایوایشیئس جانوروں میں کیونکہ نر اور مادہ گیمیٹس مختلف افراد پر تشکیل پاتے ہیں اس لیے عضویے کو گیمیٹ منتقل کرنے کے لیے ایک مخصوص میکینزم کو اپنانا پڑتا ہے۔ جنسی تولید میں بارآوری کے لیے کامیابی کے ساتھ منتقلی اور گیمیٹس کا یکجا ہونا اس اتنہائی نازک مرحلے کے لیے لازمی ہوتا ہے۔

(a) فیوژن آف گیمٹس؍ زائیگوٹ؍ نیو انڈی ویجول
شکل 1.7 (a) ایلگا یں ہوموگیمیٹک رابطہ، (b) ایک پھولکے اسٹگما پر اُپجتے ہوئے زردانے
بار آوری (Fertilisation)
جنسی تولید میں غالباً سب سے زیادہ اہم مرحلہ گیمیٹس کا انضمام(Fusion) ہے۔ اس عمل کو سِن گیمی (syngamy) کہتے ہیں جس کے نتیجے میں ڈپلائیڈ زائیگوٹ (zygote) کی تشکیل ہوتی ہے۔ اس عمل کو فرٹیلائزیشن بھی کہتے ہیں۔
اگرسِن گیمی واقع نہ ہو تو کیا ہو؟
بعض عضویوں جیسے روٹی فرس (rotifers)، شہد کی مکھیاں، یہاں تک کہ بعض چھپکلیاں اور پرندوں (ترکی) میں مادہ گیمیٹ میں بغیر فرٹیلائزیشن کے نئے عضویوں کی تشکیل کے لیے نمو ہوتی ہے۔ اس حصے کو پارتھینو جینیسس (parthenogenesis) کہتے ہیں۔
سن گیمی کہاں واقع ہوتی ہے؟ عموماً آبی عضویوں جیسے ایلگی اور مچھلیوں اور ایمفی بیئنس (amphibians) میں سن گیمی یافرٹیلائزیشن بیرون جسم(پانی) میں واقع ہوتا ہے یعنی اس قسم کے گیمیٹک انضمام کو بیرونی فرٹیلائزیشن (External Fertilisation) کہا جاتا ہے۔ بیرونی فرٹیلائزیشن کا مظاہرہ کرنے والے عضویوں کی جنسوں کے درمیان زبردست ہم آہنگی نظر آتی ہے اور وہ سن گیمی کے مواقع میں اضافے کی خاطر اطراف کے میڈیم (پانی) میں کثیر تعداد میں گیمیٹس چھوڑ دیتے ہیں۔ ہڈی دار مچھلیوں اور مینڈکوں میں ایسا ہوتا ہے جہاں کثیر تعداد میں بچے پیدا ہوتے ہیں۔ ایک بڑے خسارے کی بات یہ ہے کہ یہ بچے شکار خوروں کی بے حد زد میں ہوتے ہیں جس سے ان کا بلوغت تک پہنچنا خطرے میں پڑجاتا ہے۔
بہت سے زمینی عضویوں میں جن کا تعلق فنجائی، اعلیٰ جانوروں جیسے رینگنے والے جانور، پرندوں، پستانیوں اور بڑی تعداد پودوں (برائیوفائیٹس، ٹیریڈوفائیٹس، جمنواسپرمس اور انیجیواسپرمس) سے ہے سن گیمی عضویے کے جسم کے اندر واقع ہوتی ہے، پس یہ عمل اندرونی فرٹیلائزیشن (Internal Fertilisation) کہلاتا ہے۔ ان تمام عضویوں میں انڈا مادہ جسم کے اندر بنتا ہے جہاں وہ نرگیمیٹ کے ساتھ ضم ہوجاتا ہے۔ اندرونی فرٹیلائزیشن کا مظاہرہ کرنے والے عضویوں میں نر گیمیٹ متحرک ہوتا ہے اور اسے انڈے میں ضم ہونے کے لیے اُس تک پہنچنا ہوتا ہے۔ اگرچہ ان عضویوں میں پیدا ہونے والے اسپرمس کی تعداد بہت زیادہ ہوتی ہے، لیکن پیدا ہونے والے انڈوں کی تعداد غیر معمولی طور پرکم ہوتی ہے۔ البتہ بیج والے پودوں میں غیر متحرک نر گیمیٹس زر دانہ نالیوں کے ذریعے مادہ گیمیٹ تک لے جائے جاتے ہیں۔
1.2.3 مابعد باروری وقائع (Post-fertilisation Events)
زائیگوٹ کی تشکیل کے بعدکے وقائع پوسٹ فرٹیلائزیشن وقائع (post-fertilisation events) کہلاتے ہیں۔
1.2.3.1 زائیگوٹ
جنسی طورپر تولید کرنے والے عضویوں میں ڈپلائیڈ زائیگوٹ کا بننا تقریباً بنیادی عمل ہے۔ ان عضویوں میں جن میں بیرونی فرٹیلائزیشن ہوتا ہے زائیگوٹ بیرونی میڈیم (عموماً پانی) میں بنتا ہے جبکہ جن عضویوں میں اندرونی فرٹیلائزیشن کا مظاہرہ ہوتا ہے، زائیگوٹ عضویے کے جسم کے اندر بنتا ہے۔
زائیگوٹ کی مزید نمو عضویے کے دور حیات کی قسم اور اس کے ماحول پر موقوف ہوتی ہے۔ ان عضویوں میں جن کا تعلق فنجائی اور ایلگی سے ہے، زائیگوٹ ایک دبیز دیوار بنالیتا ہے جو پانی کے زائل ہونے اور چوٹ کے تئیں مدافعتی ہوتی ہے۔ افزائش سے پہلے یہ ایک آرام کے وقفہ(Resting Stage) سے گزرتا ہے۔ ہیپلانٹک (haplontic) دور حیات والے عضویوں میں (جن کے بارے میں آپ گیارہویں جماعت میں پڑھ چکے ہیں) زائیگوٹ ہیپلائیڈ افراد کی شکل میں بڑے ہوجاتے ہیں۔ اپنی گیارہویں جماعت کی کتاب دیکھیے اور معلوم کیجیے کہ ڈپلونٹک اور ہپلوڈپلونٹک (Diplontic and haplo=diplontic) دورحیات والے عضویوں کے زائیگوٹ میں کس قسم کی نمو ہوتی ہے۔
زائیگوٹ اہم ترین واسطہ ہے جو ایک نسل اور اگلی نسل کے عضویوں کے درمیان نوع کے تسلسل کو یقینی بناتا ہے۔ جنسی طورپر تولید کرنے والا ہر عضویہ بشمول انسان اپنی زندگی ایک واحد سیل۔ زائیگوٹ سے شروع کرتا ہے۔
1.2.3.2 ایمبریوجینیسس (Embryogenesis)
ایمبریوجینیسس زائیگوٹ سے جنین (Embryo) کی نمو کے عمل کی سمت اشارہ کرتا ہے۔ ایمبریوجینیسس کے دوران زائیگوٹ میں سیل کی تقسیم (Cell division) (مائیوسس) اور سیل تفریق (cell differentiation) رونما ہوتی ہے۔ جبکہ سیل تقسیم سے نمو پذیر جنین میں سیلس کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے، سیل تفریق سیلس کے گروہوں میں کچھ تبدیلیاں پیدا کرکے ایک عضویے کو بنانے کے لیے مخصوص ٹشوز اور اعضاء بنانے میں مدد دیتی ہے۔ آپ نے پچھلی کلاس میں سیل تقسیم اور تفریق کے بارے میں پڑھا ہے۔
جانوروں کی گروہ بندی اووی پیرس (oviparous) اور وی وی پیرس (viviparous) میں کی گئی ہے جس کا انحصار اس بات پر ہے کہ آیا ان کے زائیگوٹ کی نمو مادہ پیرنٹ کے جسم کے باہر ہوتی ہے یا اندر یعنی یہ کہ وہ بارآور / غیر بارآور انڈے دیتے ہیں یا پھر بچے جنتے ہیں۔ رینگنے والے جانور اور پرندے جیسے اووی پیرس جانوروں میں بارآور (fertilisation) انڈے ایک سخت کیلکیرس شیل (calcareous shell) سے ڈھکے ہوئے ماحول (Environment) میں ایک محفوظ مقام پر دیے جاتے ہیں اور پھر ایک عرصۂ حضانت (incubation) کے بعد بچے نکل آتے ہیں۔ اس کے برعکس وی وی پیرس جانوروں (زیادہ تر پستانیے بشمول انسان) میں مادہ عضویہ کے جسم کے اندر زائیگوٹ ایک بچہ میں نمو پالیتا ہے۔ نشو و نما کے ایک مخصوص مرحلے کے حصول کے بعد بچہ مادہ عضویے کے جسم کے باہر نکل آتا ہے۔ وی وی پیرس عضویوں میں مناسب جنینی دیکھ ریکھ اور حفاظت کی وجہ سے بچوں کے زندہ رہنے کے مواقع بہتر ہوتے ہیں۔
پھولدار پودوں میں زائیگوٹ اویول(Ovule) کے اندر بنتا ہے۔ بارآوری کے بعد پھول کے سیپلس(Bepals)، پیٹلس اور اسٹیمنس مرجھاکر گرجاتے ہیں۔ کیا آپ ایک ایسے پودے کا نام بتاسکتے ہیں جس میں سیپلس لگے رہ جاتے ہیں؟ البتہ پسٹل پودے سے جڑا رہتا ہے۔ زائیگوٹ نموپاکر جنین بنتا ہے اور اویول بیج بنادیتا ہے۔ اووری (بیضہ دانی) نمو پاکر پھل (fruit) بن جاتی ہے جو ایک دبیز دیوار، پیری کارپ (pericarp) بنالیتا ہے جو کام کے اعتبار سے حفاظتی ہوتی ہے (شکل 1.8)۔ نئے پودے بنانے کے لیے بیج پھیلنے کے بعد سازگار حالات میں افزائش کرتے ہیں۔

شکل 1.8 بیجوں (ایس)کو دکھاتی ہوئی پھل کی چند اقسام اور حفاظتی پیری کارپ (پی)
خلاصہ
تولید ایک نوع کو نسل در نسل زندہ رہنے کے قابل بناتی ہے۔ عضویوں میں تولید کو موٹے طورپر غیر جنسی اور جنسی تولید میں زمرہ بند کیا جاسکتا ہے۔ غیر جنسی تولید میں گیمیٹس کی تشکیل یا انضمام شامل نہیں ہوتا۔ یہ ان عضویوں میں عام ہوتا ہے جن کی تنظیم مقابلتاً سادہ ہوتی ہے جسے فنجائی، ایلگی اور کچھ اِن ورٹی بریٹ جانور۔ غیر جنسی تولید سے بننے والے بچے مماثل ہوتے ہیں اور کلون کہلاتے ہیں۔ کئی ایلگی اور فنجائی میں سب سے زیادہ عام بننے والی غیر جنسی ساختیں زواسپروس، کونیڈیا وغیرہ ہوتی ہیں۔ پھولوں اور جانوروں میں نظر آنے والے عام غیر جنسی طریقے بڈس اور جیمیولس کی تشکیل ہوتی ہے۔
پروکیریوٹس اور ایک سیل والے عضویے پیرنٹ سیل کی تقسیم یا بائنری فِژن کے ذریعے غیر جنسی تولید کرتے ہیں۔ اینجیو اسپرمس کی کئی آبی اور زمینی انواع میں رنرس، رائزومس، سکرس، ٹیوبرس، آف سیٹس وغیرہ جیسی ساختیں نئے عضویوں کو جنم دینے کی اہل ہوتی ہیں۔ غیر جنسی تولید کے اس طریقے کو عموماً نباتی افزائش کہا جاتا ہے۔
جنسی تولید میں گیمیٹس کی تشکیل اور ان کا انضمام شامل ہوتا ہے۔ بمقابلہ غیر جنسی تولید یہ ایک پیچیدہ اور سست رفتار طریقہ ہے۔ زیادہ تر اعلی جانور تقریباً مکمل طورپر جنسی طریقہ سے تولید کرتے ہیں۔ جنسی تولید کے وقائع کو پری فرٹیلائیزیشن وقائع میں گیمٹیو جنیسس اور گیمیٹ کی منتقلی جبکہ پوسٹ فرٹیلائیزیشن وقائع میں زائیگوٹ کی تشکیل اور ایمبریوجنیسس ہوتے ہیں۔
عضویے دو صنفی یا یک صنفی ہوسکتے ہیں۔ پودوں کی جنسیت بالخصوص اینجیواسپرمس میں مختلف النوع قسم کے پھول پیدا ہونے کی وجہ سے تنوع ہوتا ہے۔ بطور مونوایشیئس اور ڈایوایشیئس کے جانے جاتے ہیں۔ پھول دوصنفی یک صنفی ہوسکتے ہیں۔
گیمیٹس اپنی خاصیت کے اعتبار سے ہیپلائیڈ اور عموماً مائی ٹوٹک تقسیم کی براہ راست پیداوار ہوتے ہیں سوائے ہیپلائیڈ عضویوں میں جہاں گیمیٹس مائی ٹوسس کے ذریعے بنتے ہیں۔
جنسی تولید میں نرگیمیٹس کی منتقلی ایک لازمی عمل ہے۔ یہ مقابلتاً دوصنفی عضویوں میں آسان ہوتا ہے۔ یک صنفی جانوروں میں یہ ہم نشینی اور گیمٹس کے ایک ساتھ اخراج سے واقع ہوتا ہے۔ اینجیو اسپرمس میں ایک مخصوص طریقہ جو زیرگی کہلاتا ہے زردانوں کی منتقلی کو یقینی بناتا ہے جس میں زردانہ اسٹگما تک لے جایا جاتا ہے۔
سن گیمی (بارآوری) نر اور مادہ گیمیٹس کے درمیان واقع ہوتی ہے۔ سن گیمی یا تو بیرونی طورپر عضویوں کے جسم کے باہر یا پھر اندرونی طورپر جسم کے اندر واقع ہوتی ہے۔ سن گیمی سے ایک مخصوص سیل تشکیل پاتا ہے جسے زائیگوٹ کہتے ہیں۔
زائیگوٹ سے ایمبریو کی نمو کا عمل ایمبریوجینیسس کہلاتا ہے۔ جانوروں میں زائیگوٹ اپنی تشکیل کے فوراً بعد نموپذیر ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ جانور اودی پیرس یا وی وی پیرس ہوسکتے ہیں۔ وی وی پیرس عضویوں میں جنینی حفاظت اور دیکھ ریکھ بہتر ہوتی ہے۔
پھولدار پودوں میں بارآوری کے بعد بیضہ دانی نموپاکر پھل بنتی ہے اور اویول پختگی حاصل کرکے بیج بناتا ہے۔ پختہ بیج کے اندر اگلی نسل بنانے والا جنین ہوتا ہے۔
مشق
1۔ عضویوں کے لیے تولید لازمی کیوں ہے؟
2۔ تولید کا کون سا طریقہ بہتر ہے جنسی یا غیرجنسی؟ اور کیوں؟
3۔ غیرجنسی تولید کے ذریعے پیدا ہونے والی اولاد کو کلون کیوں کہا جاتا ہے؟
4۔ جنسی تولید کے ذریعے پیدا ہونے والے بچے کے زندہ رہنے کے مواقع بہتر ہوتے ہیں۔ کیوں؟
کیا یہ بات ہمیشہ صحیح ہوتی ہے؟
5۔ غیر جنسی تولید سے بننے والی نسل جنسی تولید سے بننے والی نسل سے کیسے مختلف ہوتی ہے؟
6۔ غیرجنسی اور جنسی تولید میں فرق بتائیے۔ نباتی تولید کو بھی غیر جنسی تولید کی ایک قسم کیوں سمجھا جاتا ہے؟
7۔ نباتی افزائش کیا ہوتی ہے؟ دو مناسب مثالیں دیجیے۔
8۔ تعریف کیجیے:
(a) جووینائل فیز
(b) تولیدی فیز
(c) انحطاطی فیز
9۔اعلی عضویوں نے جنسی تولید کو باوجود اس کی پیچیدگی کے اپنایا، کیوں؟
10۔تشریح کیجیے کہ می اوسس اور گیمٹیوجینیسس کیوں ایک دوسرے سے منسلک ہیں؟
11۔ایک پھول دار پودے میں ہر حصے کی شناخت کیجیے اور لکھیے کہ وہ ہیپلائیڈ (n) ہے یا ڈپلائیڈ (2n)۔
(a) بیضہ دانی
(b) اینتھر
(c) انڈا
(d) زیرہ
(e) نرگیمیٹ
(f) زائیگوٹ
12۔ بیرونی بارآوری کی تعریف کیجیے۔ اس کے نقصانات بتائیے۔
13۔ ایک زو اسپور اور زائیگوٹ کے درمیان فرق بتائیے۔
14۔ گیمٹیو جینیسس اور ایمبریوجینیسس کے درمیان فرق بتائیے۔
15۔ ایک پھول میں پوسٹ فرٹیلائیزیشن تبدیلیوں کو بیان کیجیے۔
16۔ دوصنفی پھول کیا ہے؟ اپنے پڑوس سے پانچ دو صنفی پھول اکٹھا کیجیے اور اپنے استاد کی مدد سے ان کے عام اور سائنسی نام معلوم کیجیے۔
17۔ کدو کی قسم کے کسی بھی پودے کے چند پھولوں کی جانچ کیجیے اور پھر اسٹیمینیٹ اور پسٹسی لیٹ پھولوں کی شناخت کیجیے۔ کیا آپ کسی بھی دوسرے پودے کو جانتے ہیں جس میں یک صنفی پھول آتے ہوں؟
18۔ اووی پیرس جانوروں کی اولاد بمقابلہ وی وی پیرس جانوروں کی اولاد کے زیادہ خطرے سے دوچار کیوں ہوتی ہے؟