Skip to content


باب 2

pic 1 chap0ter 2

پھولدار پودوں میں جنسی تولید

(Sexual Reproduction in Flowering Plants)

2.1 پھول ۔ اینجیو اسپرمس کا ایک دلکش عضو
2.2 ماقبل باروری (Profertilisation) : ساختیں اور وقائع
2.3 دُوہری باروری (Double Fertilisation)
2.4 مابعد باروری: ساختیں اور وقائع

2.5 اپومکسِس اور پولی ایمبریونی

کیا یہ ہماری خوش قسمتی نہیں ہے کہ پودے جنسی طورپر تولید کرتے ہیں؟ بے شمار اقسام کے پھول جنہیں ہم دیکھ کر خوش ہوتے ہیں، ان کی مہک اور خوشبو جو ہمیں مدہوش کردیتی ہے، بے شمار رنگ جو ہمیں اپنی طرح کھینچتے ہیں، یہ سب جنسی تولید کی وجہ سے حاصل ہوتا ہے۔ پھول اس لیے نہیں ہوتے کہ صرف ہماری غرض پوری کریں۔ تمام پھولدار پودے جنسی تولید کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ پھولداریوں ، پھولوں اور پھول کے حصوں میں موجود حیرت انگیز تنوع پایا جاتا ہے جو وسیع مطابقتوں کا اظہار کرتی ہے جس کی وجہ سے جنسی تولید کے نتیجے میں بننے والی چیزوں (پھلوں اور بیجوں) کی تشکیل کو یقینی بنایا جاتا ہے۔ آئیے اس بات میں ہم پھولدار پودوں (انیجو اسپرمس) میں جنسی تولید کے عملوں، شکل و صورت اور ساختوں کو سمجھیں۔

2.1  پھول ۔ انیجیو اسپرمس کا ایک دلکش عضو

انسانوں کا قدیم زمانے ہی سے پھولوں سے بہت قریبی تعلق رہا ہے۔ پھول وہ چیزیں ہیں جو جمالیاتی، آرائشی، سماجی، مذہبی اور ثقافتی اہمیت کی حاصل ہیں۔ وہ ہمیشہ انسانوں کے اہم احساسات جیسے محبت، شفقت، خوشی، دکھ، غم وغیرہ کے اظہار کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ کم از کم پانچ آرائشی اہمیت کے حامل پھولوں کی فہرست بنائیے جو عام طورپر گھروں اور باغوں میں کاشت کیے جاتے ہیں۔ پانچ اور پھولوں کے نام معلوم کیجیے جو آپ کے خاندان میں سماجی اور ثقافتی تقریبات میں استعمال کیے جاتے ہیں۔ کیا آپ نے فلوری کلچر (Floriculture) کے بارے میں سنا ہے۔ یہ کس کے بارے میں ہے؟
pic 2 chap0ter 2

اینتھر

پٹیل

فلامینٹ

سیپل

اویول

بیضہ دانی

فیکٹری فیرس کا علاقہ

اسٹائل

اسٹگما

شکل 2.1  ایک پھول کی طولی تراش کا ایک شکلی خاکہ
ایک ماہر حیاتیات کے لیے پھول مورفولوجیکل اور ایمبریولوجیکل شاہکار اور جنسی تولید کے مقام ہیں۔ گیارھویں جماعت میں آپ نے ایک پھول کے مختلف حصوں کے بارے میں پڑھا ہے۔ شکل 2.1 ایک نمائندہ پھول کے حصوں کو یاد کرنے میں آپ کی مدد کرے گی۔ کیا آپ ایک پھول میں ان دو حصوں کے نام بتاسکتے ہیں جن میں جنسی تولید کی دو اہم ترین اکائیاں نموپاتی ہیں؟

2.2 ماقبل باروری : ساختیں اور وقائع

ایک پودے پر اصل پھول نظر آنے سے بہت پہلے یہ فیصلہ ہوگیا ہوتا ہے کہ پودے میں پھول آئیں  گے۔ کئی ہارمونی اور ساختی تبدیلیوں کی شروعات ہوجاتی ہے جس سے ابتدائی پھول کی تفریق اور مزید نمو عمل میں آتی ہے۔ پھولداریاں (inflorescences)بنتی ہیں جن میں پھول کی کلیاں یا بڈس نکلتی ہیں اور پھر پھول بنتے ہیں۔ پھول میں نر اور مادہ تولیدی ساختیں اینڈرویشیئم (androecium) اور گائی نیشیئم (gynoecium) نمایاں ہوتی اور نموپاتی ہیں۔ آپ کو یاد ہوگا کہ اینڈرویشیئم جو اسٹیمنس کے ایک گھیرا پر مشتمل ہوتا ہے نر تولیدی عضو کی نمائندگی کرتا ہے اور گائی نیشیئم مادہ تولیدی عضو کوظاہر کرتا ہے۔

2.2.1 اسٹیمن، مائیکرو اسپورینجیئم اور پولین گرین

(Stamen, Microsporangium and Pollen Grain)

شکل 2.2a ایک مثالی اسٹیمن (Stamen) کے دو حصوں کو دکھاتی ہے۔ ایک لمبا اور ستواں ڈنٹھل جسے فلامینٹ (Filament) کہتے ہیں، اور آخری سِرے کی عموماً دو گوشی ساخت جسے اینتھر(Anther) کہتے ہیں۔ اس ڈنٹھل کا قریبی سِرا تھیلیمس (Thalamus)یا پھول کے پیٹل (Petal) سے جبڑا ہوتا ہے۔ مختلف انواع کے پھولوں میں اسٹیمنس کی لمبائی اور تعداد مختلف ہوتی ہے اگر آپ دس پھولوں (مختلف انواع سے ایک) سے ایک ایک اسٹیمن اکٹھا کریں اور انھیں ایک سلائیڈ پر ترتیب سے رکھیں تو آپ فطرت میں نظر آنے والے سائز کے فرق کو دیکھ سکیں گے۔ ہر اسٹیمن کا ایک تقطیعی خوردبین کے نیچے رکھ کر مطالعہ کرنے اور ان کی ایک واضح شکل بنانے پر مختلف پھولوں میں اینتھرس کے جڑنے کے طریقے اور بناوٹ کا فرق پوری طرح واضح ہوجائے گا۔
ایک مثالی اینجیواسپرم کا اینتھر دو گوشی (Bilobed) ہوتا ہے اور ہرگوشے میں دو تھیکا (Theca) ہوتے ہیں یعنی وہ ڈائی تھیکس (Dithecous) ہوتے ہیں (شکل 2.2)۔ اکثر ایک عمودی کھانچہ عرضی انداز سے تھیکا کو بانٹ دیتا ہے۔ ایک اینتھر کی عرضی تراش میں اس کی دوگوشی کیفیت بہت واضح ہوتی ہے۔ اینتھر ایک چار سمتی ساخت (ٹیٹراگونل:Tetragonal) ہوتی ہے جو چارکونوں پر واقع مائیکرو اسپورنیجیا (Microsporangia) پر مشتمل ہوتا ہے یہ ہرگوشے میں دو ہوتے ہیں۔
مائیکرو اسپورنیجیا مزید نمو پاکر پولن سیکس (Pollen Sacs) بن جاتے ہیں۔ وہ عمودی طورپر ایک اینتھر کی پوری لمبائی میں پھیلتے ہیں اور زردانوں (Pollen Grains) سے بھرجاتے ہیں۔
pic 3 chap0ter 2

(a) اینتھر؍ فلامینٹ (ڈنٹھل)

(b) پولن سک؍ پولن گرینس؍ پھٹنے والی لائین

شکل2.2 (a) ایک نمونہ کا اسٹیمن (b) ایک اینتھر کا کاٹا گیا تراشہ جو سہ ابعادی (Three Dimensional)ہے۔

مائیکرو اسپورنیجیئم کی ساخت (Structure of Microsporangium) :

 ایک عرضی تراش میں ایک مخصوص مائیکرو اسپورنیجیئم اپنے باہری خط کے اعتبار سے تقریباً گول دکھائی دیتا ہے۔ یہ عموماً چار تہوں کی دیوار سے گھرا ہوتا ہے (شکل 2.3b) جو ایپی ڈرمس (epidermis)، اینڈوتھیسیئم (endothecium)، درمیانی تہ اور ٹیپٹم (tapetum)کہلاتی ہیں ۔ دیوار کی باہری تین تہیں حفاظت کا کام کرتی ہیں اور اینتھر کے پھٹنے اور زردانے کے نکلنے میں مدد کرتی ہیں۔ سب سے اندر کی تہہ ٹیپٹم (tapetum) ہوتی ہے۔ یہ نموپذیر زردانوں کو غذا پہنچاتی ہے۔ ٹیپٹم  کے سیلس کاسائیٹوپلازم گاڑھا ہوتا ہے اور اس میں عموماً ایک سے زیادہ نیوکلیس ہوتے ہیں۔ کیا آپ سوچ سکتے ہیں کہ ٹیپٹم سیلس کیسے دو نیوکلیئس والے (bi-nucleate) ہوسکتے ہیں۔ 
جب اینتھر چھوٹا ہوتا ہے تب ایک جیسے (homogenous) گنجان سیلس کا ایک گروہ جو اسپوروجینس ٹشو (sporogenous tissue) کہلاتا ہے ہراسپورنیجیئم کے وسط میں آجاتا ہے۔
pic 4 chap0ter 2

پھولدار پودوں میں جنسی تولید

(a) کنکیٹو؍ ایپی ڈرمِس؍ اینڈوتھیسئم؍ اسپوروجینس ٹشو؍ ٹیپیٹم

(b) ایپی ڈرمِس؍ اینڈوتھیئم؍ درمیانی تہیں؍ مٹائیکرواسپور سیلس؍ ٹیپیٹم

(c) پولن گرینس

شکل 2.3 (a) ایک پختہ اینتھر کی عرضی تراش (b) دیواری تہوں کو دکھاتے ہوئے ایک مائیکرواسپورینجیئم کا بڑا کیا ہوا منظر (c) ایک پھٹاہوا اینتھر

مائکرواسپوروجینیسِس (Microsporogenesis):

 جیسے جیسے اینتھر بڑا ہوتا ہے تو اسپوروجینس ٹشو کے سیلس میں مائیکرو اسپورٹیٹریڈ (microspore tetrad) بنانے کے لیے می اوٹک تقسیم (meiotic division) ہونے لگتی ہے۔ ٹیٹریڈ کے سیلس کی پلوائیڈی (ploidy) کیا ہوگی؟
اسپوروجینس ٹشو کا ہر سیل ایک مائیکرو اسپور ٹیٹراڈ بنانے کے قابل ہوتا ہے ہر ایک سیل بالقوہ طور پر ایک با صلاحیت پولن یا مائیکرواسپور مدرسیل (microspore mother cell) ہوتا ہے۔ می اوسِس کے ذریعے ایک پولن مدرسیل (PMC) سے مائیکرو اسپور کی تشکیل کے عمل کو مائیکرواسپوروجینیسس کہا جاتا ہے۔ جیسے ہی مائیکرو اسپورس تشکیل جاتے ہیں وہ چار سیلس کے گچھے یعنی مائیکرواسپورٹیٹریڈ (microspore tetrad) میں ترتیب پاجاتے ہیں (شکل 2.3a) جوں ہی اینتھرس پختہ ہوکر سوکھتے ہیں تو مائیکرواسپورس ایک دوسرے سے الگ ہوکر پولن گرینس (pollen grains) بن جاتے ہیں (شکل 2.3b) ہرمائیکرواسپورینجیئم کے اندر کئی ہزار مائیکرواسپورس یا پولن گرینس بنتے ہیں جو اینتھر کے پھٹنے پر باہر نکل آتے ہیں (شکل 2.3c)۔

پولن گرین (Pollen Grain):

پولن گرینس نرگیمیٹوفائٹس (gametophytes) کی نمائیندگی کرتے ہیں۔ اگر Hibiscus یا کسی بھی دوسرے پھول کے کھلے ہوئے اینتھرس کو چھوئیں  تو آپ کو آپ کی انگلیوں پر زرد رنگ کے پاوڈر جیسے پولن گرینس لگے پائیں  گے۔ ان گرینس کو گلاس سلائیڈ پر ایک قطرہ پانی چھڑکیے اور ایک خوردبین کے نیچے ان کا مشاہدہ کیجیے۔ آپ مختلف انواع کے پولن گرینس میں قسم قسم کا آرکیٹکچر، سائز، بناوٹ، رنگ اور ڈیزائن دیکھ کر سچ مچ حیران رہ جائیں گے۔ (شکل 2.4)
pic 5 chap0ter 2
شکل 2.4 چند پولن گرینس کے اسکینگ الیکٹروں مائیکروگرافس
pic 6 chap0ter 2

(a) ویکیول؍ نیو کلیئس

(b) غیر مماثل اسپنڈل؍ ویجی ٹیٹیو سیل؍ جینیریٹیو سیل

شکل 2.5(a) چند پولن گرین ٹیٹراڈ کا بڑا کیا ہوا منظر (b) ایک مائیکرو اسپور کے مراحل جس میں ایک پولن گرین پختہ ہو رہا ہے ۔
پولن گرینس عموماً گول ہوتے ہیں جن کا قطر تقریباً 50-25 مائیکرومیٹر کے برابر ہوتا ہے۔ باہری سخت تہہ جسے ایکزائن (exine) کہتے ہیں یہ اسپوروپولینن (sporopollenin) کی بنی ہوتی ہے جو ان انتہائی مدافعتی نامیاتی اشیا میں سے ایک ہے جو جانی جاتی ہیں۔ یہ بہت زیادہ درجہ حرارت، تیز تیزابوں اور کھار کو برداشت کرسکتی ہے۔ ابھی تک ایسا کوئی اینزائم معلوم نہیں ہے جو اسے توڑسکے۔ پولن گرین کے ایکزائن میں نمایاں سوراخ ہوتے ہیں جنہیں جَرم پورس (germ pores) کہتے ہیں جہاں پر اسپوروپولینن غیر موجود ہوتی ہے۔ اسپوروپولینن کی موجودگی کی وجہ سے پولن گرینس فاسلس (fossils) کی شکل میں بہت اچھی طرح سے محفوظ ہیں۔ ایگزائن حیرت انگیز نمونوں اور ڈائزنوں کی ترتیب کو ظاہر کرتی ہے۔ آپ کیوں سوچتے ہیں کہ ایگزائن کو سخت ہونا چاہیے؟ جرم پور کا کیا کام ہے؟ پولن گرین کی اندرونی دیوار اِنٹائن (intine) کہلاتی ہے۔ یہ ایک پتلی اور مسلسل تہہ ہوتی ہے جو سیلیولوز اور پیکٹن کی بنی ہوتی ہے۔ پولن گرین کا سائیٹوپلازم ایک پلازما جھلّی سے گھرا ہوتا ہے۔ جب پولن گرین پختہ ہوجاتا ہے تو اس میں دو سیلس ہوتے ہیں ایک ویجی ٹیٹیو سیل (vegetative cell) اور دوسرا جینیریٹیو سیل (generative cell) (شکل 2.5b)۔ ویجی ٹیٹیو سیل بڑا ہوتا ہے اور اس میں زیادہ مقدار میں غذا محفوظ ہوتی ہے۔ اس میں ایک بڑی بے قاعدہ شکل و صورت کا نیوکلیئس ہوتا ہے۔ جینیریٹو سیل چھوٹا ہوتا ہے اور وہ ویجی ٹیٹیو سیل کے سائیٹوپلازم میں تیرتا رہتا ہے۔ اس کی شکل تکلی نما ہوتی ہے، سائیٹوپلازم گاڑھا ہوتا اور اس میں ایک نیوکلیئس ہوتا ہے۔ 60 فیصدی سے زیادہ اینجیواسپرمس میں 2۔سیل کے مرحلے میں پولن گرینس جھڑجاتے ہیں۔ باقی انواع میں اس سے پہلے کہ پولن گرینس جھڑجائیں (3۔سیلس کا مرحلہ)، جینیریٹیوسیل مائی ٹوٹیکلی(mitotically) تقسیم ہوکر دو نرگیمیٹس بناتا ہے۔
بہت سی انواع کے پولن گرینس کچھ لوگوں میں شدید الرجی اور نرخرے کی نالی کے ورم کا سبب بنتے ہیں جس سے بالآخر سخت تنفّسی نقائص، دمہ اور برونکائیٹس وغیرہ پیدا ہوجاتے ہیں۔ یہ کہا جاسکتا ہے کہ پارتھینیئم (parthenium) یا کیرٹ گراس جو ہندوستان میں گیہوں کی درآمد کے ساتھ بطور ملاوٹ آئی تھی، ہرجگہ اُگتی ہے اور پولن الرجی کا سبب ہے۔
پولن گرینس میں بھرپور غذائیت ہوتی ہے۔ حالیہ برسوں میں اضافی غذا کے طور پر پولن کی گولیوں کا استعمال ایک فیشن بن گیا ہے۔ مغربی ممالک میں گولیوں اور شربت کی شکل میں پولن کی متعدد اشیا بازار میں دستیاب ہیں۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ پولن کا استعمال کرنے سے ریس کے گھوڑوں اور کھلاڑیوں کی کارکردگی میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ (شکل2.6)
pic 7 chap0ter 2

Bee Pollen from England

Pollen Products

شکل 2.6 پولن سے بنی چیزیں
بارآوری کے لیے پولن گرینس کو اپنی فعالیت کھونے سے پہلے اسٹگما پر پہونچنا چاہئے۔ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ پولن گرینس کتنے عرصے اپنی فعالیت یا حیات پذیری کو قائم رکھ سکتے ہیں؟ اُس عرصے میں کہ جس کے دوران پولن گرینس حیات پذیر رہیں زبردست فرق ہوتا ہے اور یہ کسی حدتک اس وقت کے درجہ حرارت اور نمی پر منحصر ہوتا ہے۔ بعض اناجوں جیسے دھان اور گیہوں میںپولن گرینس نکلنے کے 30 منٹ کے اندر ہی اپنی حیات پذیری کھودیتے ہیں جبکہ روزیسی (Rosaceae)، لیگیومینوسی (Leguminosae) اور سولے نیسی (Solanacese) کے افراد میں وہ مہینوں اپنی حیات پذیری کو قائم رکھتے ہیں۔ آپ نے مصنوعی تخم ریزی (artificial insemination) کے لیے بہت سے جانوروں بشمول انسانوں کے مادہ منویہ/ اسپرمس کو ذخیرہ کرنے کے بارے میں سنا ہوگا۔ انواع کی ایک کثیر تعداد کے پولن گرینس کو رقیق نائیٹروجن (-196°c) میں سالوں کے لیے ذخیرہ کرنا ممکن ہے۔ فصلوں کے نسل کاری پروگراموں میں اس طرح ذخیرہ کیے ہوئے پولن گرینس کو بیج بنکوں کی مانند بطور پولن بینکس کے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

2.2.2 پسٹل، میگا اسپورینیجیئم (اویول) اور ایمبریوسیک

(The pistil, Megasporangium (ovule) and Embryo sac)
گائی نیشیئم پھول کے مادہ تولیدی حصے کی نمائندگی کرتا ہے۔ گائی نیشیئم میں ایک واحدِپسٹل (monocarpellary) یا ایک سے زیادہ پسٹل (multicarpellary) ہوسکتے ہیں۔ جب ایک سے زیادہ پسٹلس ہوں تو باہم جڑے ہوئے (syncarpous) (شکل 2.7b) یا آزاد (apocarpous) (شکل 2.7c) ہوسکتے ہیں۔ ہر پسٹل کے تین حصے، اسٹگما (stigma)، اسٹائل (style) اور اووری (ovary) ہوتے ہیں۔ اسٹگما پولن گرینس کے لیے اترنے والے پلیٹ فارم کا کام کرتا ہے۔ اسٹائل اسٹگما کے نیچے لمبوترا ستواں حصہ ہوتا ہے۔ پسٹل کا نچلا پھولاہوا حصہ اووری (ovary) ہوتا ہے۔ اووری کے اندر خالی جگہ  بیضی کہفہ(ovarian cavity) (لوکیول: locule) ہوتی ہے۔ اوویرئین کیوٹی کے اندر پلیزینٹا (placenta) ہوتا ہے۔ پلیزینٹیشن (placentation) کی تعریف اور اس کی اقسام کو یاد کیجیے جسے آپ نے گیارھویں جماعت میں پڑھا تھا۔ میگااسپورینجیا (Megasporangium) پلیزینٹا سے نکلتے ہیں جو عام طور سے  بیضک (ovules) کہلاتے ہیں۔ ایک اووری میں اویولس کی تعداد ایک (گیہوں، دھان، آم) سے کثیر (پپیتا، تربوز، اوکڈس) تک ہوسکتی ہے۔

pic 8 chap0ter 2

(a) اسٹگما؍ اسٹائل؍ اووری؍ تھیلیمس

(b) اسٹگما؍ سن کارپس اووری

(c) کارپیلس

(d) ہائیلم؍ فیوٹیکل؍ مائکروپائیل؍ مائیکروپائیلر پول؍ باہری انٹیگومنٹ؍ نیو سیلس؍ ایمبر یوسک؍ چیلازل پول

شکل 2.7  Hibiscus کا ایک تقطیع شدہ پھول پسٹل دکھاتے ہوئے (پھول کے دوسرے حصے ہٹا دیے گئے ہیں) b) papaver )کا ملٹی کارپلری، سِن کارپس پِسٹل (c) Michelia کا ایک ملٹی کارپلری، ایپوکارپس گائی نیشیئم (d) ایک تمثیلی ایناٹروپسس ٹروپس اویول کا ایک شکلی منظر۔

میگااسپورینجیم (اویول):

آئیے دیکھیں کہ ایک مثالی اینجیو اسپرم کے اویول کے ساخت کیسی ہوتی ہے (شکل2.7d)۔ اویول ایک چھوٹی ساخت ہوتی ہے جو پلیسنِٹا سے ایک ڈنٹھل کے ذریعے جڑی ہوتی ہے جسے فونکل (Funicle) کہتے ہیں۔ اویول کا جس جگہ پر فیونکل سے جڑا ہوتا ہے اسے ہائیلم (hilum) کہتے ہیں۔ پس ہائیلم اویل اور فیونکل کے درمیان جنکشن کی نمائندگی کرتا ہے۔ ہر اویول میں ایک یا دو حفاظتی غلاف ہوتے ہیں جو انٹیکومینٹس (integuments) کہلاتے ہیں اویول کو انٹگومینٹس چاروں طرف سے گھیرے ہوتے ہیں سوائے اوپری حصے کے جہاں پر ایک چھوٹا سا سوراخ بنا ہوتا ہے جو مائیکر و پائل والے سرے کے مخالف سمت میں چلازا (Chalaza) ہوتا ہے جو اویول کے اساسی حصے کی نمائندگی کرتا ہے۔ اِنٹیگومینٹس کے اندر مخصوص قسم کی سیلس کا مجموعہ ہوتا ہے جسے نیوسیلس (nucellus) کہتے ہیں۔ نیوسیلس کے سیلس میں بڑی مقدار میں غذائی اشیا ذخیرہ ہوتی ہیں۔ نیوسیلس میں ایمبریوسیک (embryo sac) یا مادہ گیمٹیوفائیٹ (female gametophyte) ہوتا ہے۔ عموماً ایک اویول میں واحد ایمبریوسیک ہوتا ہے جو تخفیفی تقسیم کے ذریعے میگااسپور سے بنتا ہے۔

میگااسپوروجینیسِس :

میگار اسپوری مادری خلیہ (megaspore mother cell) سے میگا اسپورس کی تشکیل کا عمل میگا اسپورو جینسس (megasporogenesis) کہلاتا ہے۔ اویوس عموما نیو سیلس کے مائیکرو پائلر حصے میں صرف ایک واحد میگار اسپور مدر سیل(MMC) کو تفریق کرتے ہیں۔ یہ ایک بڑا سیل ہوتا ہے جس میں گاڑھا سائیٹو پلازم اور ایک نمایاں نیو کلیئس ہوتا ہے۔MMC میں می اوٹل تقسیم ہوتی ہے۔MMC میں می اوسس رونما ہونے کی اہمیت کیا ہے؟ می اوسس کے نتیجے میں چار میگا اسپورس (megaspores) بنتے ہیں  شکل a 2.8

مادہ گیمیٹوفائٹ (Female gametophyte):

 زیادہ تر پھولدار پودوں میں میگااسپورس میں سے ایک عملی (functional) ہوتا ہے جبکہ دوسرے تین زائل ہوجاتے ہیں۔ صرف functional megaspore نموپاکر مادہ گیمٹیوفائیٹ (ایمبروسیک) میں تبدیل ہوتا ہے۔ ایک واحد میگااسپور سے ایمبریوسیک کی تشکیل کا طریقہ مونواسپورک نمو (moinosporic development) کہلاتا ہے۔ نیوسیلس کے سیلس، MMC، عملی میگااسپور اور مادہ گیمٹیوفائیٹ کی پلائیڈی کیا ہوگی؟

آئیے قدرے تفصیل سے ایمبریوسیک کی تشکیل کے بارے میں پڑھیں (شکل 2.8b)۔ عملی میگااسپور کا نیوکلیئس مائی ٹوٹیکلی تقسیم ہو کر وہ نیوکلیائی کی تشکیل کرتا ہے جو مخالف قطبوں کی طرف حرکت کرتے ہیں اور جو 2۔نیوکلی ایٹ (2-nucleate) ایمبریوسیک بناتے ہیں ۔اس کی تقسیم مائی ٹوسس کے ذریعہ ہوتی ہے اور اس طرح دو نیوکلیائی بنتے ہیں۔ لگاتار دو مزید ترتیب وار مائیٹوٹک تقسیموں کے نتیجہ میں ایمبریوسیک کی 4۔ نیوکلی ایٹ (4-nucleate) اور بعد میں 8۔ نیوکلی ایٹ(8-nucleate) مرحلوں کی تشکیل ہوتی ہے۔ یہ دیکھنا باعث دلچسپی ہے کہ یہ مائیٹوٹک تقسیمیں فری نیوکلیر (free nuclear) ہوتی ہیں یعنی نیوکلیئر تقسیموں کے فوراً بعد سیل دیوار کی تشکیل نہیں ہوتی۔ ایمبریوسیک کے اندر سیلس کی تقسیم (پھیلائو) کا مشاہدہ کیجیے (شکل 2.8b,c)۔ آٹھ میں سے چھ نیوکلیائی سیل دیواروں سے گھری ہوتی ہیں اور سیلس میں منظم ہوتی ہیں، باقی دو نیوکلائی جو پولر نیوکلائی کہلاتی ہیں وہ بڑے مرکزی سیل (central cell) میں ایگ ایپیریٹس (egg apparatus) کے نیچے واقع ہوتی ہیں۔
pic 9 chap0ter 2

(a) مائیکروپائیلر سرا؍ نیو سیلس؍ میگا اسپورڈائیڈ

مائیکروپائیلر سرا؍ میگا اسپورڈائیڈ

چلازل سرا؍ اینٹی پوڈس؍ پولر نیوکلیائی؍ مرکزی سیل؍ انڈا؍ سزچڈس؍ رفلی فورم اپیریٹس

سزچڈس؍ انڈا؍ مرکزی سیل؍ ۲ پولر نیوکلیائی؍ اینٹی پوڈس

(b)

شکل 2.8(a)ایک بڑا میگا اسپورمدرسیل، ایک ڈائیڈ اور ایک میگا اسپورس کا ٹیٹریڈ دکھاتے ہوئے اویول کے حصے (b) ایمبریوسیک کے 1، 2، 4، اور 8۔ نیوکلی ایٹ مراحل اور ایک پختہ ایمبریوسیک (c) پختہ ایمبریوسیک کی ایک شکلی نمائندگی۔
ایمبریوسیک کے اندر سیلس کی ایک مخصوص تقسیم عمل میں آتی ہے۔ مائیکروپولر سِرے پر تین سیلس یکجا ہوکر ایک گروہ بناتے اور پھر ایگ ایپیریٹس (egg apparatus) کی تشکیل کرتے ہیں۔ ایگ ایپیریٹس دو سِنرجڈس (synergids) اور ایک بیضہ خلیہ (egg cell) پر مشتمل ہوتا ہے۔ مائیکروپولر سِرے پر سِنرجڈس کی مخصوص سیلیولر دبازت (cellular thickening) ہوتی ہے جسے فلی فورم ایپیریٹس (filiform apparatus) کہتے ہیں اور جو پولن ٹیوبس کی سِنرجڈ کی طرف رہنمائی کرنے میں اہم رول ادا کرتا ہے۔ چلازل سِرے پر تین سیلس ہوتے ہیں جنھیں اینٹی پوڈلس (antipodals) کہتے ہیں جیساکہ پہلے کہا جاچکا ہے بڑے مرکزی سیل میں دو پولر نیوکلائی ہوتی ہیں۔ پس ایک تمثیلی ایجیواسپرم ایمبریوسیک پختگی پر اگرچہ 8۔ نیوکلی ایٹ ہوتے میں مگر ان میں صرف 7 خلیے ہوتے ہیں۔

2.2.3 زیرگی (Pollination)

گذشتہ حصوں میں آپ نے جانا کہ پھولدار پودوں میں نر اور مادہ گیمیٹس بالترتیب پولن گرین اور ایمبریوسیک میں پیدا ہوتے ہیں کیونکہ دونوں قسم کے گیمیٹس غیرمتحرک ہوتے ہیں اس لیے بارآوری کے لیے انھیں ایک دوسرے کے پاس آنا پڑتا ہے یہ کیسے حاصل ہوتا ہے؟
زیرگی  بارآوری کے حصول کا طریقہ ہے۔ ایک پِسٹل کے اسٹگما تک پولن گرینس کی منتقلی (اینتھرسے جھڑنا) پولی نیشن (Pollination) کہلاتی ہے۔ پھولدار پودوں نے زیرگی کے حصول کے لیے مختلف حیران کن طریقے اپنائے ہیں۔ وہ زیرگی کے حصول کے لیے بیرونی ایجینٹس کا سہارا لیتے ہیں۔ کیا آپ ممکنہ بیرونی ایجنٹوں کی فہرست تیار کرسکتے ہیں؟
پولن کے ذریعے کی بنیاد پر زیرگی کو تین قسموں میں بانٹا جاسکتا ہے۔

(i) اوٹوگیمی (Autogamy):

 اس قسم میں ایک ہی پھول کے نراورمادہ حصوں کے درمیان زیرگی حاصل کی جاتی ہے۔ اینتھرسے اسی پھول کے اسٹگماتک پولن گرینس کی منتقلی ہوتی ہے (شکل 2.9a)۔ ایک عام پھول جو کھلتا ہے اور اپنے اینتھرس اور اسٹگما کو عیاں کرتا ہے، اس میں مکمل اوٹوگیمی بہت کم ہوتی ہے۔ ایسے پھول کو پولن گرینس کے نکلنے اور اسٹگما کے انھیں قبول کرنے کی کیفیت میں ہم آہنگی کی ضرورت ہوتی ہے اور ساتھ ہی اینتھرس اور اسٹگما کو ایک دوسرے کے قریب بھی ہونا چاہیے تاکہ زیرگی واقع ہوسکے۔ بعض پودے جیسے وایولا (viola) (عام پینری)، اوکزیلِس (oxalis)، کومیلینا (commelina) میں دو قسم کے پھول ہوتے ہیں یعنی کیسموگیمس پھول (chasmogamous) جو دوسری انواع کے پھول جیسے ہوتے ہیں اور ان کے اینتھرس اور اسٹگما کھلے ہوئے ہوتے ہیں اور کلیسٹوگیمس پھول (cleistogamous) جو کبھی نہیں کھلتے (شکل 2.9c) ایسے پھولوں میں اینتھرس پھٹتے ہیں تو زیرگی لانے کے لیے پولن گرینس اسٹگما کے رابطے میں آتے ہیں۔ پس کلیسٹوگیمس ہمیشہ ہی اوٹوگیمس ہوتے ہیں کیونکہ ان میں دوسری جگہ سے پولن آکر اسٹگما پر پڑنے کا کوئی امکان نہیں  ہوتا۔ کلیسٹوگیمس پھولوں میں زیرگی لانے والے ایجنٹوں کی عدم موجودگی میں بھی بیجوں کا بننا یقینی ہوتا ہے۔ آپ کیا سوچتے ہیں کہ پودے کے کلیسٹو گیمی فائدے مند ہے یا غیرفائدہ مند؟ اور کیوں؟

(ii) گیٹونوگیمی (Geitonogamy):

 یہ ایک ہی پودے پر اینتھرسے پولن گرینس کی ایک دوسرے پھول کے اسٹگما تک منتقلی ہے۔ حالانکہ عملی طورپر گیٹونوگیمی پار زیرگی (Cross-pollination) ہے جس میں ایک زیرگی لانے والے ایجنٹ کی ضرورت پڑتی ہے مگر جنسی طورپر یہ اوٹوگیمی سے مماثل ہے کیونکہ پولن گرینس ایک ہی پودے سے آتے ہیں۔

pic 10 chap0ter 2

(a)

(b)

(c) گیسموگیمس پھول؍ کلیسموگیمس پھول

 شکل 2.9  (a)  خود زیرگی والے پھول
 (b)  پارزیرگی والے پھول
 (c)  کلیسٹوگیمس پھول

(iii) زینوگیمی(Xenogamy):

یہ ایک مختلف پودے کے اسٹگما تک اینتھرسے پولن گرینس کی منتقلی ہے (شکل 2.9b) یہ واحد قسم کی زیرگی ہے جس میں زیرگی کے دوران جنسی طورپر مختلف قسم کے پولن گرینس اسٹگما پر لائے جاتے ہیں۔ 
زیرگی کے ایجنٹس: پودے زیرگی کے حصول کے لیے دو غیر حیاتی(ہوا اور پانی) اور ایک حیاتی (جانوروں) ایجنٹوں کا استعمال کرتے ہیں۔ زیادہ تر پودے زیرگی کے لیے حیاتی ایجنٹوں کا استعمال کرتے ہیں۔ بہت کم پودوں میں غیرحیاتی ایجنٹس کا استعمال ہوتا ہے۔ ہوا اور پانی دونوں کے ذریعہ زیرگی میں یہ محض اتفاق ہوتا ہے کہ پولن گرینس اسٹگما کے رابطے میں آجائیں۔ ان متعین کیفیات اوران سے متعلق پولن گرینس کے نقصان کی تلافی کرنے کے لیے پھولوں میں زیرگی کے لیے دستیاب اویولس کی تعداد کے مقابلے پولن گرینس کی کثیر مقدار پیدا ہوتی ہے۔
غیر حیاتی زیرگیوں میں ہوا کے ذریعے زیرگی زیادہ عام ہے۔ ہوائی زیرگی کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ پولن گرینس ہلکے اور غیر چپچپے ہوں تاکہ وہ ہوا کی لہروں کے ساتھ پھیل سکیں۔ ان کے اسٹیمنس اکثر خوب کھلے ہوئے ہوتے ہیں (تاکہ پولنس ہوا کی لہروں میں آسانی سے پھیل جائیں) شکل 2.10) اور اسٹگما بڑے اور اکثر پروں کی طرح پھیلے ہوئے ہوتے ہیں تاکہ ہوا میں موجود پولن گرینس کو آسانی سے پھنسالیں۔ ہوا سے زیرگی لانے والے پھولوں میں اکثر اووری میں ایک واحد اویول اور ایک (Inflorescence) میں بے شمار پھول یکجا ہوتے ہیں۔ مکا ایک معروف مثال ہے اس کے بالدار ریشے جو آپ دیکھتے ہیں اسٹگما اور اسٹائل کے سوا کچھ نہیں جو پولن گرینس کو پھنسانے کے لیے ہوا میں لہراتے ہیں۔ گھاسوں میں ہوا کے ذریعے زیرگی خاصی عام ہے۔
pic 11 chap0ter 2
شکل 2.10 ہوا کے ذریعہ زیرگی کا عمل کرنے والا ایک پودا جس میں گتھی پھولداری اور برہنہ زردان ظاہر ہیں۔
پھولدار پودوں میں پانی کے ذریعے زیرگی خاصی کم ہوتی ہے اور وہ 30  جنیرا(Genera) تک محدود ہے جو زیادہ ترمونوکوٹولیڈنس (monocotyledons) ہیں۔ تاہم اس کے برخلاف آپ یاد کیجیے کہ ادنیٰ پودوں کے گروہوں جیسے ایلگی، برایوفائیٹس اور ٹیریڈو فائیٹس میں پانی نرگیمیٹس کے لیے منتقلی کا ایک باضابطہ طریقہ ہے۔ بالخصوص بعض برایوفائیٹس اور ٹیریڈفائیٹس کے لیے یہ خیال کیا جاتا ہے کہ نر گیمیٹس کی منتقلی اور بارآوری کے لیے پانی کی ضرورت کی وجہ سے ان کی تقسیم محدود ہوجاتی ہے۔ پانی کے ذریعے زیرگی لانے والے کچھ پودے vallisneria اور Hydrilla جو میٹھے پانی میں پلتے ہیں اور کئی سمندری گھاسیں جیسے Zostera ہیں۔ تمام ہی آبی پودے زیرگی کے لیے پانی کا استعمال نہیں  کرتے۔ زیادہ تر آبی پودوں جیسے واٹرہائی سِنتھ اور واٹرلِلی میں پھول پانی کی سطح سے اوپر آجاتے ہیں اور خشکی کے پودوں کی طرح ان میں کیڑوں اور ہوا کے ذریعے زیرگی ہوتی ہے۔ Vallisneria میں مادہ پھول لمبے ڈنٹھل کے ذریعے پانی کی سطح پر پہنچے ہیں اور نر پھول یا پولن گرینس پانی کی سطح پر چھوڑے جاتے ہیں۔ وہ پانی کی لہروں کے ساتھ آہستگی سے لے جائے جاتے ہیں (شکل2.11a) اور بالآخر ان میں سے کچھ مادہ پھولوں کے اسٹگما تک جاپہنچتے ہیں۔ پانی کے ذریعے زیرگی پانے والے ایک اور گروہ جیسے گھانسوں میں مادہ پھول پانی میں ڈوبے رہتے ہیں اور پولن گرینس پانی کے اندر چھوڑے جاتے ہیں۔ ایسی بہت سی انواع میں پولن گرینس لمبے اور رِبن جیسے ہوتے ہیں اور پانی کے اندر آہستگی سے لے جائے جاتے ہیں، ان میں سے کچھ پانی کے ذریعے حاصل زیرگی حاصل کرنے والی زیادہ تر انواع میں پولن گرینس کی حفاظت کے لیے ایک لیس دار غلاف ہوتا ہے جو ان کو گیلا ہونے سے بچاتا ہے 
پانی اور ہوا دونوں کے ذریعے زیرگی لانے والے پھول بہت رنگین نہیں ہوتے اور ان میں رس بھی پیدا نہیں ہوتا۔ اس کی کیا وجہ ہوگی؟
کثیر تعداد پھولدار پودے زیرگی لانے والے طرح طرح کے جانوروں کا بطور ایجنٹس استعمال کرتے ہیں۔ شہد کی مکھیاں، تتلیاں، مکھیاں، بیٹلس، بھڑیں، چیونٹیاں، پروانے، پرندے (سَن ہرڈس اور ہمنگ برڈس) اور چمگادڑ عام زیرگی لانے والے ایجنٹس ہیں (شکل 2.11b)۔ جانوروں میں کیڑے بالخصوص شہد کی مکھیاں حیاتیاتی زیرگی لانے والے نمایاں ایجنٹس ہیں۔ یہاں تک کہ بڑے جانوروں جیسے کچھ پرائمیٹس (لنگور)، آربوریئل (درختوں پر رہنے والے) چوہے یا ریپٹائلس (چھپکلیاں اور گرگٹ) بھی بعض انوا میں زیرگی لانے والے ایجنٹس کے طورپر بتائے گئے ہیں۔
جانوروں کے ذریعے زیرگی لانے والے پودے اکثر ایک مخصوص نوع کے جانور سے مطابقتیں رکھتے ہیں۔
pic 12 chap0ter 2

(a) مادہ پھول؍ اسٹگما؍ نر پھول؍ مادہ پھول

(b)

 شکل 2.11  (Vallisneria (a  میں پانی کے ذریعے زیرگی 
  (b) کیڑوں کے ذریعے زیرگی
کیڑوں کے ذریعے زیرگی لانے والے زیادہ تر پودوں کے پھول بڑے، رنگین اور خوشبودار ہوتے ہیں اور ان میں زیادہ مقدار میں رس ہوتا ہے۔ جب پھول چھوٹے ہوتے ہیں تو متعدد پھول ایک گچھے کی شکل میں پھولداری بناکر انھیں نمایاں کردیتے ہیں۔ جانور پھولوں کی طرف ان کے رنگ یا خوشبو کی وجہ سے راغب ہوتے ہیں۔ مکھیوں اور بیٹلس کے ذریعے زیرگی لانے والے پھول ان جانوروں کو راغب کرنے کے لیے بھی بو پیدا کرتے ہیں۔ پھولوں کو جانوروں کے آنے کو ممکن بنانے کے لیے انھیں انعام دینا پڑتا ہے۔ رس اور پولن گرینس عام انعامات ہیں جو پھول دیتے ہیں۔ پھول سے انعامات وصول کرنے کے لیے مہمان جانور اینتھرس اور اسٹگما کے رابطے میں آتا ہے۔ جانور کے جسم پر اُن پولن گرینس کی تہہ لگ جاتی ہے جو عموماً جانوروں کے ذریعے زیرگی لانے والے پھولوں میں چپچپے ہوتے ہیں۔ اپنے جسم پر پولن لیے ہوئے جب جانور اسٹگما کے رابطے میں آتا ہے تو وہ زیرگی لے کر آتا ہے۔
بعض انواع میں انھیں انڈے دینے کی محفوظ جگہ مہیا کرانا ہی پھول کا انعام ہوتا ہے
، Amorphophallus کے لمبے  لمبے پھول اس کی ایک مثال ہے (خود پھول ہی اونچائی میں 6 فٹ ہوتا ہے)۔ yuccaاس سے ملتا جلتا تعلق ایک پودے
اور پروانے کی نوع میں پایا جاتا ہے جہاں پروانہ اور پودا دونوں انواع ایک دوسرے کے بغیر اپنے دورحیات کی تکمیل نہیں کرسکتے۔ پروانہ بیضہ دانی کے خانے میں انڈے دیتا ہے اور بدلے میں پھول میں پروانے کے ذریعے زیرگی آجاتی ہے۔ جیسے ہی بیجوں کی نمو شروع ہوتی ہے پروانوں کے لاروے انڈوں سے باہر نکل آتے ہیں۔
آپ حسب ذیل پودوں (یا کوئی دوسرے جو آپ کو دستیاب ہوں) کے پھولوں کا مشاہدہ  کیوں نہیںکرتے۔ کھیرا، آم، پیپل، دھنیا، پپیتا، پیاز، لوبیا، روئی، تمباکو، گلاب، لیمو، پوکیلپٹس، کیلا؟ معلوم کرنے کی کوشش کیجیے کہ ان پر کون سے جانور آتے ہیں اور کیا وہ زیرگی لانے والے ہوسکتے ہیں۔ آپ کو کئی روز تک دن کے مختلف اوقات میں صبر کے ساتھ پھولوں کا مشاہدہ کرنا ہوگا۔ آپ یہ دیکھنے کی بھی کوشش کرسکتے ہیں کہ کیا ایک پھول کی خصوصیات اور اس پر آنے والے جانور میں کوئی تعلق ہے؟ احتیاط سے مشاہدہ کیجیے کہ کیا آنے والوں میں کوئی اینتھرس اور اسٹگما کے رابطے میں آتا ہے؟ کیونکہ ایسے ہی آنے والے زیرگی لاسکتے ہیں۔ بہت سے کیڑے پولن یا رس کو بغیر زیرگی لائے کھاسکتے ہیں۔ پھول پر ایسے آنے والوں کو پولن/رس کا چور کہا جاتا ہے۔ آپ زیرگی لانے والوں کی شناخت کربھی سکتے ہیں اور نہیں بھی لیکن آپ یقینا اپنی کوششوں سے لطف اندوز ہوں گے۔

برون افزائشی طریقے (Outbreeding Devices) :

 زیادہ تر پھولدار پودوں میں دو صنفی (hermaphrodite) پھول پیدا ہوتے ہیں اور ایک ہی پھول کے پولن گرینس کا اس کے اسٹگما سے رابطہ کا امکان ہوتا ہے۔ مسلسل خود زیرگی کا نتیجہ اِن بریڈنگ (inbreeding: درون افزائش) کے دباؤ کی شکل میں نکلتا ہے۔ پھول دار پودوں نے خود زیرگی کو روکنے اور پارزیرگی کو بڑھاوا دینے کے لیے کئی طریقے نکالے ہیں۔ کچھ انواع میں پولن گرینس کے نکلنے اور اسٹگما کی انھیں وصول کرنے کی صلاحیت میں ہم آہنگی نہیں ہوتی۔ یا تو پولن گرینس کے نکلنے اور اسٹگما کے وصول کرنے کے قابل ہونے سے پہلے نکال دیے جاتے ہیں یا پھر پولن نکلنے کے بہت پہلے اسٹگما انھیں وصول کرنے کے قابل ہوجاتا ہے۔ کچھ دوسری انواع میں اینتھرس اور اسٹگما مختلف پوزیشنوں پر ہوتے ہیں جس کی وجہ سے ایک ہی پھول کے پولن اس کے اسٹگما کے رابطے میں نہیں آپاتے۔ ان دونوں طریقوں سے اوٹوگیمی رکتی ہے۔ اِن بریڈنگ کو روکنے کا تیسرا طریقہ سیلف اِن کمپیٹبی لٹی (Self-incompatibility: خودبے جوڑپن) ہے۔ یہ ایک جینی میکینزم ہے جو سیلف پولن (ایک ہی پھول کے پولنس یا اسی پودے کے دوسرے پھولوں کے پولنس) کو یا تو انھیں نہ اپجنے دے کر یا پھر پِسٹل میں پولن کی نشو و نما نہ ہونے دینے کی وجہ سے اویولس کو بارآور کرنے دینے سے روکتا ہے۔ خود زیرگی کو روکنے کا دوسرا طریقہ ایک جنسی پھول پیدا کرنا ہے۔ اگر نر اور مادہ دونوں پھول ایک ہی پودے پر موجود ہوں جیس ارنڈی اور مکا (مونوایشیئس) تو اس سے اوٹوگیمی رکتی ہے مگر گائٹونوگیمی نہیں۔ کئی انواع جیسے پپیتے میں نر اور مادہ پھول مختلف پودوں پر موجود ہوتے ہیں یعنی ہر پودا یا تو نر یا مادہ ہوتا ہے (ڈایوسی)۔ یہ کیفیت اوٹوگیمی اور گائینوٹوگیمی دونوں کو روکتی ہے۔

پولن پِسٹل تعامل (Pollen-pistil Interaction):

 زیرگی صحیح قسم کے پولن (اسی نوع کا موزوں پولن جس کا کہ اسٹگما ہے) کی منتقلی کی ضمانت نہیں دیتی۔ اکثر یا تو دوری نوع سے یا اسی پودے سے (اگر وہ سیلف اِن کمپیٹبل ہے) غلط قسم کا پولن اسٹگما پر آجاتا ہے۔ پسٹل میں یہ شناخت کرنے کی اہلیت ہوتی ہے کہ آیا پولن صحیح قسم (کمپیٹبل)کا ہے یا غلط قسم کا (اِن کمپیٹبل)۔ اگر وہ صحیح قسم کا ہے تو پسٹل پولن کو قبول کرکے بعد زیرگی کے واقعات (Post-pollination events) کو بڑھاوا دیتا ہے جس سے بارآوری ہوتی ہے۔ اگر پولن غلط قسم کا ہوتو پسٹل اسٹگما پر پولن کے اپجنے کو یا پھر اسٹائل میں پولن ٹیوب کی نشو و نما پر روک لگاکر پولن کو مسترد کردیتا ہے۔ پسٹل کی پولن کو پہچاننے اور بعد میں اسے قبول کرنے یا مسترد کرنے کی اہلیت پولن اور پسٹل کے مابین مسلسل ہورہی گفتگو کا نتیجہ ہوتی ہے۔ اس گفتگو میں پولن کے کیمیائی اجزا پسٹل کے اجزا سے تعامل کرتے ہوئے وسیلے کا کام کرتے ہیں۔ یہ صرف حالیہ برسوں کی بات ہے کہ ماہرین نباتیات کچھ پولن اور پسٹل اجزا اور ان کے مابین تعامل کی شناخت کے قابل ہوئے ہیں جس سے پہچان اور اس کے بعد قبول کرنا یا مسترد کرنا ہوپایا۔
جیساکہ پہلے کہا جاچکا ہے موزوں زیرگی کے بعد پولن گرین اسٹگما پر پھوٹتا اور پنپتا ہے ہے تاکہ وہ جرم پور میں (germ pores)میں سے ایک کے ذریعے ایک پولن ٹیوب بناسکے (شکل 2.12a)۔ پولن گرین کے مشمولات پولن ٹیوب میں چلے جاتے ہیں۔ اسٹگما کے ٹشوز کے ذریعے پولن ٹیوب اور اسٹائل کی نشو و نما ہوتی ہے اور وہ بیضہ دانی تک پہنچ جاتی ہے (شکل 2.12b,c)۔ آپ کو یاد ہوگا کہ کچھ پودوں میں پولن گرینس 2۔سیل والی حالت میں جھڑتے جاتے ہیں (ایک نباتی اور ایک جینیریٹو سیل)۔ ایسے پودوں میں جینیریٹو سیل تقسیم ہوکر اسٹگمامیں پولن ٹیوب کی نشو و نما کے دوران دونر گیمیٹس بناتا ہے۔ اُن پودوں میں جو 3۔سیل والی حالت میں پولنس کو باہر نکالتے ہیں، شروع ہی سے پولن ٹیوب میں دو نر گیمیٹس ہوتے ہیں۔ پولن ٹیوب بیضہ دانی تک پہنچنے کے بعد، مائیکروپائل(micropyle) کے ذریعے اویول میں پھر سنرجڈس میں سے ایک میں فلی فورم ایپیریٹس (filiform apparatus) کے ذریعے داخل ہوتی ہے (شکل 2.12 d,e)۔ بہت سے حالیہ مطالعات سے پتا چلتا ہے کہ سنرجڈس کے مائیکروپائلر حصہ پر موجود فلی فورم ایپیرٹس پولن ٹیوب کے داخلے کی رہنمائی کرتا ہے یہ تمام وقائع۔ پولینس کا اسٹگما پر جمع ہونے سے پالن ٹیوب کے اویول میں داخلی تک پولن پسٹل تعامل کہلاتے ہیں۔ جیسا کہ پہلے بتایا گیا ہے۔ پولن پسٹل تعامل ایک فعاّل عمل ہے جس میں پولن کا پہچان کرنا اور بعد میں پولن حرکی امداد یارکاوٹ شامل ہے۔ اس میدان میں حاصل کردہ معلومات پلانٹ بریڈر کی مطلوبہ ہائبرڈس کے حصول کے لیے غیرموزوں زیرگیوں میں بھی پولن۔پسٹل تعامل کو مؤثر طورپر استعمال کرنے میں مدد دے گی۔
pic 13 chap0ter 2

(a)

(b)

(c) پولن ٹیوب کی نشونما دکھاتے ہوئے ایک پھول کی عمودی تراش؍ پولن ٹیوب؍ اینٹی پوڈل؍ پولر نیو کلیائی؍ ایگ سیل؍ سزجڈ

(d) پلازما میمبرین؍ سزجڈ؍ فلی فارم ایپریٹس؍ نر گیمیٹس؍ بنائی نیوکلیئس

(e) نر گیمیٹس

 شکل 1.12 (a) اسٹگما پر پولن گرینس اپجتے ہوئے، (b) اسٹائل سے پولن ٹیوبس نظر آتی ہوئی، (c) پولن ٹیوب کی نشو و نما کا راستہ دکھاتی ہوئی پسٹل کی عمودی تراش، (d) پولن ٹیوب کا ایک سنر جڈ میں داخلہ دکھاتے ہوئے ایگ ایپیریٹس کا ایک بڑا کیا ہوا منظر، (e) نرگیمیٹس کا ایک سنرجڈ میں اخراج اور اسپرمس کی حرکات ایک ایگ کے اندر اور دوسری مرکزی سیل میں۔
آپ ایک گلاس سلائیڈ پر ایک قطرہ شکر کے محلول (تقریباً 10 فیصدی) میں مٹر، چھوٹے مٹر، crotalaria، بلسم اور vinca جیسے پھولوں سے کچھ پولن جھاڑکر بہ آسانی پولن کے اُپجنے کا مطالعہ کرسکتے ہیں۔ تقریباً 30-15 منٹ بعد کم قوت کی خوردبین کے نیچے سلائیڈ کا مشاہدہ کیجیے۔ اس بات کا امکان ہے کہ آپ پولن گرینس سے پولن ٹیوبس کو باہر آتے ہوئے دیکھ پائیں۔
آپ پلانٹ بریڈنگ سے متعلق باب میں مزید سیکھیں  گے (باب 9) ایک بریڈر(breader) معاشی طور پر نفع بخش اور تسلی بخش خصوصیات پر حامل بہتر اقسام یا نسلوں کی بار آوری کراتا ہے۔ فصلوں کی بہتری کے لیے مصنوعی مخلوطیت (Artificial Hybridisation) بڑے پیمانہ پر استعمال ہونے والا طریقہ ہے۔ ایسے کراسنگ تجربات میں اس بات کا یقین کرنا بے حد اہم ہے کہ زیرگی کے لیے صرف مطلوبہ پولن گرینس ہی کا استعمال ہورہا ہے اور اسٹگما کی آلودہ ہونے سے حفاظت کی گئی ہے (غیرمطلوبہ پولن سے)۔ یہ ای میسکولیشن(Emasculation) اور بیگنگ (bagging) ٹیکنیکوں سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔
اگر مادہ پیرنٹ میں دوصنفی پھول ہوں تو ایتھنرس کے پھٹنے سے پہلے پھول کی کلی سے ایتھنرس کو الگ کرنے کے لیے ایک عدد چمٹی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس اقدام کو اِی میسکولیشن کہا جاتا ہے۔ وہ پھول جن پر ای میسکولیشن کا عمل کیا گیا ہو انھیں مناسب سائز کے تھیلے سے ڈھکنا چاہیے۔ عموماً یہ تھیلا بٹرپیپر کا بنا ہوا ہوتا ہے تاکہ اسٹگما کی غیرمطلوبہ پولن کی آلودگی سے حفاظت ہوجائے۔ اس عمل کو بیگنگ کہا جاتا ہے۔ جب تھیلابند پھول کا اسٹگما اُس حالت میں پہنچتا ہے اور پولن کو قبول کرسکتا ہے تو نرپیرنٹ کے اینتھرس سے اکٹھاکیے گئے پختہ پولن گرینس کو اسٹگما پر جھاڑ دیا جاتا ہے۔ پھولوں کو دوبارہ تھیلا بند کرکے پھلوں کو نمو کرنے دیا جاتا ہے۔
اگر مادہ پیرنٹ یک صنفی پھول پیدا کرتی ہے تو اِی میسکولیشن کی ضرورت نہیں ہوتی۔ پھولوں کے کھلنے سے پہلے مادہ پھول کی کلیاں تھیلا بند کردی جاتی ہیں۔ جب اسٹگما پولن قبول کرنے کی حالت میں پہنچتا ہے تو مطلوبہ پولن کے استعمال سے زیرگی لائی جاتی ہے اور پھول دوبارہ تھیلا بند کردیے جاتے ہیں۔

2.3  ڈبل فرٹیلائیزیشن(Double Fertilisation)

پولن ٹیوب کسی ایک سِنرجڈ میں داخل ہونے کے بعد سِنرجڈ کے سائیٹوپلازم میں دو نر گیمیٹس چھوڑ دیتی ہے۔ نرگیمیٹس میں سے ایک ایگ سیل (egg cell) کی طرف حرکت کرتا ہے اور اس کی نیوکلیئس میں ضم ہوجاتا ہے اور اس طرح سِن گیمی (Syngamy) کی تکمیل ہوتی ہے۔ اس کے نتیجہ میں ایک ڈپلائیڈ پرائمری اینڈ و اسپرم نیوکلیئس (PEN)(Primary endosperm nucleus) بناتا ہے (شکل 2.13a)۔ کیونکہ اس میں تین ہیپلائیڈ نیوکلائی کا انضمام شامل ہے اس لیے اسے ٹرپل فیوژن کہا جاتا ہے۔ ایک ایمبرایوسیک میں چونکہ دو قسم کے انضمام سن گیمی (Syngamy) اور ٹرپل فیوژن واقع ہوتے ہیں، اس عمل کو ڈبل فرٹیلائیزیشن (double fertilisation) کہتے ہیں جو پھولدار پودوں کی ایک منفرد کیفیت ہے۔ ٹرپل فیوژن کے بعد مرکزی سیل پرائمری اینڈ و اسپرم سیل (primary endosperm cell) (PEC) بن جاتا ہے اور اینڈو اسپرم (endosperm) میں نمو پاجاتا ہے جبکہ زائیگوٹ بڑھ کر ایمبریو (embryo) بناتا ہے۔
pic 14 chap0ter 2

Globular Embryo

زائل ہوتے ہوئے سزجڈس؍ زائیگوٹ (2n)؍ پرائمری اینڈو اسپرم سیل (پی ای سی)؍ پرائمری اینڈو اسپرم نیوکلیس (پی ای این)؍ زائل ہوتے ہوئے اینٹی پوڈل سیلس

زائیگوٹ

قلب نما ایمبریو؍ سسپنسر

پختہ؍ ریڈیکل؍ کوٹی لیڈن؍ پلیومبول

شکل a) 2.13) زائیگوٹ اور پرائمری اینڈ واسپرم نیوکلیئس (پی ای این) کو دکھاتے ہوئے بارآور ایمبریو
(b) ایک ڈائی کوٹ میں ایمبریو کے نمو کی حالتیں [(a)کے مقابلے چھوٹے سائز میں دکھائی گئی]

2.4 پوسٹ فرٹیلائیزیشن : ساختیں اور وقوعات

(Post Fertilisation : Structure and Events)
ڈبل فرٹیلائیزیشن کے بعد اینڈو اسپرم اور ایمبریو کی نمو اور اویوئس کی بیجوں اور اووری کی پھل میں پختگی جیسے وقائع مجموعی طورپر پوسٹ فرٹیلائیزیشن ایوینٹس (Post fertilisation events) کہلاتے ہیں۔

2.4.1 اینڈو اسپرم (endosperm)

ایمبریو کی نمو سے پہلے اینڈواسپرم کی نمو ہوتی ہے۔ کیوں؟ پرائمری اینڈو اسپرم سیل بار بار تقسیم ہوکر ایک ٹرپلائیڈ اینڈو اسپرم (triploid endosperm tissue) ٹشو بناتا ہے۔ اس ٹشو کے سیلس میں ذخیرہ کی ہوئی غذا بھری ہوتی ہے جو نموپذیر ایمبریو کے تفذیے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ اینڈو اسپرم کے نمو کی سب سے عام قسم میں تین فری نیوکلائی(free nuclei) بنانے کے لیے PEN میں ایک کے بعد ایک نیوکلیئر تقسیمیں ہوتی ہیں۔ اینڈو اسپرم کے نمو کی اس حالت کو فری نیوکلیئر اینڈو اسپرم (free nuclear endosperm) کہتے ہیں۔ بعد میں سیل دیوار کی تشکیل واقع ہوتی ہے اور اینڈو اسپرم سیلیولر ہوجاتی ہے۔  خلیہ سازی (cellularisation) سے پہلے فری نیوکلائی بننے کی تعداد میں بہت  الگ الگ ہوتی ہے۔ کچے ناریل میں ناریل کا پانی جس سے آپ سبھی واقف ہیں، فری نیوکلیئر اینڈ اسپرم کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوتا (ہزاروں نیوکلائی پر مشتمل ہوتا ہے) اور چاروں طرف کا سفید گودا سیلیولر اینڈو اسپرم ہوتا ہے۔
اینڈو اسپرم بیج کے پختہ ہونے سے پہلے یا تو نموپذیر ایمبریو کے ذریعے مکمل طور پر ختم کرلیا جاتا ہے (جیسے مٹر، مونگ پھلی اور سیم) یا وہ پختہ بیج میں موجود ہوسکتا ہے (جیسے ارنڈی اور ناریل) اور بیج اُپجنے کے دوران استعمال کیا جاتا ہے۔ ارنڈی، مٹر، سیم، مونگ پھلی، ناریل کا پھل کے کچھ بیجوں کو توڑیے اور ہر ایک میں اینڈو اسپرم کو دیکھیے۔ معلوم کیجیے کہ کیا اینڈو اسپرم ، گیہوں، دھان اور مکئی جیسے اناجوں میں ایک جیسی ہے؟

2.4.2 ایمبریو (Embryo)

ایمبریو سیک کے مائیکرو پائیلر سرے پر جہاں زائیگوٹ واقع ہوتا ہے، ایمبریو نمو پاتا ہے۔ زیادہ تر زائیگوٹ صرف اینڈو اسپرم کی کچھ مقدار بننے کے بعد ہی تقسیم ہوتے ہیں۔ یہ نموپذیر ایمبریو کو یقینی طورپر تفذیہ مہیا کرنے کے لیے ایک مطابقت ہے حالانکہ بیجوں میں بہت زیادہ فرق ہوتا ہے، ایمبریو کی نمو کی ابتدائی حالتیں ایمبریوجینی (embryogeny) مونوکوٹائی لیڈنس اور ڈائی کوٹی لیڈنس دونوں میں ایک جیسی ہوتی ہیں (شکل 2.13 ایک ڈائی کوٹی لیڈینس ایمبریو میں ایمبریو جینی کی حالتیں دکھاتی ہے۔ زائیگوٹ سے پروایمبریو (proembryo) بنتا ہے اور بعد میں گلوبولر (globular) ، دل نما(heart-shaped) اور پختہ ایمبریو (mature embryo) کو۔
ایک تمثیلی ڈائی کوٹائی لیڈینس ایمبریو (شکل 2.14 a) ایک ایمبریومل ایکسِس (embryonal axis) اور دو کوٹی لیڈنس (cotyledons) پر مشتمل ہوتا ہے۔ ایمبریونل ایکسِن کا کوٹائی لیڈنس کی سطح کے اوپر کا حصہ ایپی کوٹائل (epicotyl) ہوتا ہے جو پلومیول (plumul) یا تنے کے سرے پر ختم ہوتا ہے۔ کوٹائی لیڈنس کی سطح کے نیچے کا ستواں حصہ ہائیپو کو ٹائل (hypocotyl) ہوتا ہے جو اس کے نچلے حصے ریڈیکل یا جڑ کے سِرے (radicle or root tip) پر ختم ہوتا ہے۔ جڑ کا آخری سِرا روٹ کیپ (root cap) سے ڈھکا ہوتا ہے۔
مونوکوٹی لیڈنس کے ایمبریوز (شکل 2.14b) میں صرف ایک کوٹائی لیڈن ہوتا ہے۔ گھاس کے خاندان میں کوئی لیڈن کو اسکیوٹیلم (Scutellum) کہتے ہیں جو ایمبریونل ایکسِس کے ایک طرف (جانبی) واقع ہوتا ہے۔ ایمبریونل ایکسِس کے نچلے سرے پر ریڈیکل اور روٹ کیپ ہوتی ہے جو غیر تفریق شدہ غلاف میں لپٹے ہوتے ہیں جسے کولیوزائیزا (Coleorrhiza) کہتے ہیں۔ ایمبریونل ایکسِس کا وہ حصہ جو اسکیوٹیلم کے جوڑ کی سطح سے اوپر ہو اسے ایپی کوٹائیل کہتے ہیں۔ ایپی کوٹائیل میں شوٹ کا سرا (Apex) چند پنپتی ہوئی پتیوں کے کھوکھلے موڑدار گولے میں بند رہتے ہیں اس گولے کو کولیوپٹائیل کہتے ہیں۔ 
چند بیجوں (جیسے گیہوں، مکئی، مٹر، چھوٹے مٹر، مونگ پھلی ) کو رات بھر پانی میں بھگوئیے پھر ان بیجوں کو منقسم کرکے بیج اور ایمبریو کے مختلف حصوں کا مشاہدہ کیجیے۔
pic 15 chap0ter 2

(a) یلومیول؍ کوٹی لیڈنس؍ ہائپوکوٹائل؍ ریڈیکل؍ روٹ کیپ

(b) اسکیوٹیلم؍ کولیوپ ٹائل؍ شوٹ ایپیکس؍ ایپی بلاسٹ؍ ریڈیکل؍ روٹ کیپ؍ کولیورائزا

شکل 2.14  (a) ایک تمثیلی ڈائی کوٹ ایمبریو(b)گھاس کے ایک ایمبریو کی عمودی تراش

2.4.3  بیج (Seed)

اینجیواسپرمس میں بیج جنسی تولید کی آخری پیداوار ہوتی ہے۔ اسے اکثر بارآور اویول کہا جاتا ہے۔ بیج پھول کے اندر تشکیل پاتے ہیں۔ عموماً ایک بیج غلافِ بیج، کوئی لیڈنس اور ایک ایمبریوایکسِس پر مشتمل ہوتا ہے۔ ایمبریو کے کوئی لیڈنس سادہ ساختیں ہوتی ہیں (شکل 2.15a)جو عموماً ذخیرہ کی ہوئی غذا کے سبب دبیز اور پھولی ہوئی ہوتی ہیں (جیسے پھلیوں میں)۔ پختہ بیج غیر ایلبیومینس (Non-albuminous) یا ایلبیومینس (ex-albuminous) ہوسکتے ہیں۔ غیر ایلبیومینس بیجوں میں اینڈواسپرم کے باقیات نہیں ہوتے کیونکہ وہ ایمبریو کی نمو کے دوران مکمل طورپر استعمال ہوچکا ہوتا ہے (جیسے مٹر، مونگ پھلی)۔ ایلبیومینس بیجوں میں اینڈو اسپرم کا حصہ رہ جاتا ہے کیونکہ وہ ایمبریو کی نمو کے دوران پورے طورپر استعمال نہیں ہوپاتا (جیسے گیہوں، مکئی، دھان، ارنڈی، سورج مکھی)۔ کبھی کبھی بعض بیجوں جیسے کالی مرچ اور چقندر میں نیوکلیئس کے باقیات بھی باقی رہ جاتے ہیں۔ نیوکلیئس کے دیرتک قائم رہنے والے یہ باقیات پیری اسپرم (perisperm) کہلاتے ہیں۔
اویولس کی باہری پرتیں مضبوط حفاظتی بیج غلافوں کے طور پر سخت ہوجاتی ہیں۔ (شکل 2.15a)۔ مائیکروپائل بیج غلاف میں ایک چھوٹے سے سوراخ کی طرح رہ جاتا ہے۔ اس سے اُپجنے کے دوران آکسیجن اور پانی کو بیج کے اندر جانے میں سہولت ہوتی ہے۔ جیسے ہی بیج پختہ ہوتا ہے، اس میں پانی کی مقدار گھٹ جاتی ہے اور بیج مقابلتاً خشک ہوجاتا ہے (15-10 فیصدی نمی بمطابق ماس)۔ ایمبریو کا عام تحولی عمل سست پڑ جاتا ہے۔ ایمبریو ایک غیرمتحرک یا خواب کی حالت میں جاسکتا ہے جسے خوابیدگی (dormancy) کہتے ہیں، اور اگر سازگار حالات دستیاب ہیں (مناسب نمی، آکسیجن اور مناسب درجۂ حرارت) تو وہ اُپج جاتا ہے۔
جیسے ہی اویولس پختہ ہوکر بیج بنتے ہیں، بیضہ دانی نمو پاکر پھل بناتی ہے یعنی اویولس کی بیجوں اور بیضہ دانی کی پھل میں تبدیلی ساتھ ساتھ ہوتی ہے۔ بیضہ دانی کی دیوار نمو پاکر پھل کی دیوار بنتی ہے جسے پیری کارپ (pericarp) کہتے ہیں۔ پھل گودے دار ہوسکتے ہیں جیسے امرود، سنترہ، آم وغیرہ یا پھر خشک جیسے مونگ پھلی اور سرسوں وغیرہ۔ بہت سے پھلوں نے بیجوں کے پھیلاؤ کے لیے مخصوص میکینزمس پیدا کیے ہیں پھلوں کی جماعت بندی اور ان کے پھیلاؤ کے میکینزمس کے بارے میں یاد کیجیے جو آپ نے پچھلی کلاس میں پڑھے تھے۔ کیا ایک بیضہ دانی میں اویولس کی تعداد اور ایک پھل میں موجود بیجوں کی تعداد کے درمیان کوئی تعلق ہے؟
زیادہ تر پودوں میں جب تک بیضہ دانی سے پھل نمو پاتا ہے، پھول کے دوسرے حصے مرجھاکر گرجاتے ہیں۔ البتہ بعض انواع جیسے سیب، اسٹرابیری، کاجو وغیرہ میں تھیلمس بھی پھل کی تشکیل میں حصہ لیتا ہے۔ ایسے پھولوں کو فالس فروٹس (false fruits) کہتے ہیں (شکل 1.15b)۔ ہاں زیادہ تر پھل صرف بیضہ دانی سے نموپاتے ہیں اور ٹروفروٹس (true fruits) کہلاتے ہیں۔ حالانکہ زیادہ تر انواع میں پھل بارآوری کا نتیجہ ہوتے ہیں، لیکن کچھ انواع ایسی بھی ہیں جن میں پھل بغیر بارآوری کے بنتے ہیں۔ ایسے پھلوں کو پارتھینو کارپک فروٹ (parthenocarpic fruits) کہا جاتا ہے۔ کیلا ایک ایسی ہی مثال ہے۔ پارتھینوکارپی کو گروتھ ہارمونس کے استعمال سے پیدا کیا جاسکتا ہے اور ایسے پھل بغیر بیج والے ہوتے ہیں۔
pic 16 chap0ter 2

پھولدار پودوں میں جنسی تولید

(a)

کوٹی لیڈن؍ شوٹ ایپیکل میری اسٹیم؍ ہائیپو کوٹائل؍ روٹ ایکسس؍ روٹ کا سرا؍ اینڈو اسپرم؍ بیج غلاف

مائیکرو پائل؍ کوٹی لیڈنس

ہائیپو کورٹائل روٹ ایکسس؍بیج غلاف؍ اینڈو اسپرم؍ کوٹی لیڈن؍ سوٹ ایپکل میری اسٹیم؍ روٹ سرا

پیری کارپ؍ اینڈو اسپرم؍ اسکیوٹیلم؍ کولیوپ ٹائل؍ پلومپول؍ ریڈیکل؍ کولیورائزا

(b)

تھیلمس؍ بیج

اینڈوکارپ؍ میزو کارپ

تھیلمس؍ ایکین

شکل 2.15   (a)کچھ بیجوں کی ساخت (b) سیب اور اسٹرابیری کے فالس پھل
اینجیواسپرمس کو بیجوں سے کئی فائدے ہیں۔ اولاً کیونکہ زیرگی اور بارآوری جیسے تولیدی عمل پانی سے آزاد ہیں اس لیے بیج کی تشکیل پر زیادہ بھروسہ کیا جاسکتا ہے۔ ساتھ ہی بیجوں میں نئے حمل کے وقوع میں پھیلاؤ کے لیے بہتر مطابقی طریقے ہوتے ہیں اوراس طرح وہ انواع کو دوسرے علاقوں میں بسنے میں مدد کرتے ہیں۔ کیونکہ ان میں خاصی مقدار میں غذا ذخیرہ کی ہوئی ہوتی ہے اس لیے نوخیز پود کو اس وقت تک غذا فراہم کی جاتی ہے جب تک پودے خود فوٹوسن تھیسِس کے اہل نہیں ہوجاتے۔ بیج کا سخت غلاف نوخیز ایمبریو کی حفاظت کرتا ہے کیونکہ جنسی تولید کی کی بنا پر ان میں نئے جینی اختلاط (genetic combinations) پیدا ہوتے ہیں جن سے متفرق اقسام بنتی ہیں۔
بیج ہماری زراعت کی بنیاد ہے۔ بیجوں کی ذخیرہ اندوزی کے لیے پختہ بیجوں کی غیر آبیدگی (dehydration) اور خوابیدگی (dormancy) اہم ہے جنھیں تمام سال غذا کے طورپر اور ساتھ ہی اگلے موسم میں فصل اگانے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ کیا آپ ایسی زراعت کا تصوّر کرسکتے ہیں،جہاں بیجوں کی عدم موجودگی میں یا ایسے بیجوں کی موجودگی میں جو بننے کے فوراً بعد اُپجیں اور ان کی ذخیرہ اندوزی نہ کی جاسکے۔
بیج پھیلنے کے بعد کتنے عرصے تک زندہ رہتے ہیں؟ اس عرصے میں بھی بہت زیادہ فرق ہوتا ہے۔ بعض انواع میں بیج چند مہینوں کے اندر ہی اپنی قوت اُپج کھودیتے ہیں۔ انواع کی ایک کثیر تعداد میں بیج کئی برسوں تک زندہ رہتے ہیں۔ کچھ بیج تو سینکڑوں سال تک زندہ رہ سکتے ہیں کئی بہت پرانے، مگر اپج کے قابل بیجوں کے رکارڈس موجود ہیں۔ آرکٹک ٹنڈرا سے کھدائی میں حاصل کئے گئے ایک لیوپائن (Lupine)، لیوپائینس آرکٹیکس (Lupinus arcticus) کے بیج سب سے پرانے ہیں۔ یہ بیج اندازاً 10ہزار سال کی خوابیدگی کے بعد اُپجے اور ان میں پھول آئے۔ ایک قسم کے کھجور، Phoenix dactylifera کا 2000 سال پرانا قابل اُپج ایک حالیہ رکارڈ ہے جو بحرِ مردار کے پاس کنگ ہیروڈ کے محل پر آثارِ قدیمہ کی کھدائی کے دوران دریافت ہوا تھا۔
پھولدار پودوں کی جنسی تولید کا ایک مختصر جائزہ لینے کے بعد بہتر ہوگا اگر حسب ذیل سوالات پوچھ کر بعض پھولدار پودوں کی بے پناہ تولیدی صلاحیت کو سمجھنے کی کوشش کی جائے کہ ایک ایمبریوسیک میں کتنے انڈے ہوتے ہیں؟ ایک اویول میں کتنے ایمبریوسیکس موجود ہوتے ہیں؟ ایک بیضہ دانی میں کتنے اویولس موجود ہوتے ہیں؟ ایک مثالی پھول میں کتنی بیضہ دانیاں موجود ہوتی ہیں؟ ایک درخت پر کتنے پھول موجود ہوتے ہیں؟ وغیرہ وغیرہ۔
کیا آپ کچھ پودوں کے بارے میں سوچ سکتے ہیں جن کے پھلوں میں بہت بڑی تعداد میں بیج ہوتے ہیں؟ ایک ایسا ہی درجہ آرکڈ پھلوں کی ہے اور ہر پھل میں ہزاروں چھوٹے چھوٹے بیج ہوتے ہیں۔ کچھ طفیلی انواع جیسے اور وبرانکا (orobanche) اور اسٹرائیگا (Striga) بھی ایسے ہی پودے ہوتے ہیں فائیکس (انجیرگلبر۔پیپل۔ پاکٹر وغیرہ) کی چھوٹی سی بیج دیکھی ہے؟ اُس چھوٹی سے بیج سے بننے والا Ficus کا درخت کتنا بڑا ہوتا ہے؟ Ficus کا ہر درخت کتنے کٹرور بیج پیدا کرتا ہے؟ کیا آپ کوئی دوسری مثال سوچ سکتے ہیں جس میں اتنی چھوٹی ساخت سالوں بعد اتنا بڑا بائیوماس پیدا کرسکتی ہے؟

2.5ایپومکسِس اور پولی ایمبریونی (Apomixis and Polyembryony)

حالانکہ عمومی طورپر بیج بارآوری کی دین ہوا کرتے ہیں  لیکن  چند پھولدار پودوں جیسے Asteraceae کی بعض انواع اور گھاسوں نے بغیر بارآوری کے بیج پیدا کرنے کا میکینزم اپنایا ہے جسے ایپومکسِس (Apomixis) کہتے ہیں۔ بغیر بارآوری کے پھلوں کا پیدا ہونا کیا ہوتا ہے؟ بس ایپومکسِس غیرجنسی تولید کی ایک شکل ہے جو جنسی تولید کی نقّالی کرتی ہے۔ ایپومکٹک (Apomictic) بیج پیدا کرنے کے کئی طریقے ہیں۔ کچھ انواع میں بغیر تخفیفی تقسیم کے ڈپلائیڈ انڈا بنتا ہے اور بغیر بارآوری کے نموپاکر ایمبریوبنتا ہے۔ اکثر بہت سی Citrus اور Mango جیسی اقسام میں ایمبریوسیک کو گھیرنے والے نیوسیلر سیلس میں سے کچھ تقسیم ہونا شروع ہوجاتے ہیں جو ایمبریوسیک میں گھس کر ایمبریوز میں نموپاجاتے ہیں۔ ایسی انواع میں ہر اویول میں بہت سے ایمبریوز ہوتے ہیں۔ ایک بیج میں ایک سے زیادہ ایمبریوز کا واقع ہونا پولی ایمبریونی (polyembryony) کہلاتا ہے۔ سنترے کے کچھ بیج نکال کر انھیں دبائیے۔ ہر بیج میں سے مختلف سائز اور ساخت کے بہت سے ایمبریوز کا مشاہدہ کیجیے۔ ایپومکٹک ایمبریوز کی جینی کیفیت کیا ہوگی؟ کیا انھیں کلونس کہا جاسکتا ہے؟
ہماری غذا اور سبزی کی فصلوں کی بہت سی مخلوط اقسام (Hybrid) وسیع پیمانے پر کاشت کی جارہی ہیں۔ ہائبرڈس کی کاشت نے پیداوار بے تحاشہ بڑھادی ہے۔ ہائیبرڈس کا ایک مسئلہ یہ ہے کہ ہائبرڈ بیجوں کو ہر سال پیدا کرنا پڑتا ہے۔ اگر ہائبرڈس سے اکٹھا کیے گئے بیجوں کو بویا جائے تو نسل میں ہائبرڈ کی خصوصیات برقرار نہیں رہیں گی اور اس میں علیحدگی (segregation) پیدا ہوجائے گی۔ ہائبرڈ بیجوں کی پیداوار مہنگی ہوتی ہے اس لیے کسانوں کے لیے ہائبرڈ بیجوں کی قیمت بہت زیادہ گراں ہوجاتی ہے۔ اگر یہ ہائبرڈس ایپومکٹس (Apomicts) میں بنائے جائیں تو ہائبرڈ کی نسل کی خصوصیات میں علیحدگی پیدا نہیں ہوگی۔ تب کسان سال بہ سال نئی فصلیں اگانے کے لیے ہائبرڈ بیجوں کا استعمال جاری رکھ سکتے ہیں اور انھیں ہرسال ہائبرڈ بیج نہیں خریدنا پڑیں گے۔ ہائبرڈ بیج کی صنعت میں ایپومکسِس کی اہمیت کی بناپر دنیا بھر کی بہت سی تجربہ گاہوں میں ایپومکسِس کی جینیات کو سمجھنے اور ایپومکٹک جینوں کو ہائبرڈ ویرائیٹیز میں منتقل کرنے کے لیے فعّال تحقیق جاری ہے۔

خلاصہ

اینجیو اسپرمس میں پھول جنسی تولید کے مقام ہوتے ہیں۔ پھولوں میں اسٹامنوں سے بنا ہوا اینڈرویشیئم نر تولیدی اعضاء اور پسٹلس پر مشتمل گائی نیشیئم مادہ تولیدی اعضاء کی نمائندگی کرتا ہے۔ عموماً اینتھر دوگوشی، ڈائی تھیکس (Dithecous، دوتھیکا والا) اور ٹیٹرا اسپورینجی ایٹ (Tetrasporangiateچار اسپوریبجیا والا) ہوتا ہے۔ پولن گرینس مائیکرو اسپورینجیا کے اندر پیدا ہوتے ہیں۔ چار دیواری پرتیں ایپی ڈرمس، اینڈ وتھیسئیم، وسطی پرتیں اور ٹیپٹیم ہوتی ہیں جو مائیکر اسپورینجیئم کو گھیرتی ہیں۔ مائیکرو اسپورینجیئم کے مرکز میں موجود اسپوروجینس ٹشو کے سیلس میں مائیکرو اسپورس کے ٹیٹرارس بنانے کے لیے می اوسس تقسیم ہوتی ہے۔ الگ الگ مائیکرو اسپورس پختہ ہوکر پولن گرینس بناتے ہیں۔
پولن گرینس نرگیمیٹو فائٹک پیدائش کی نمائندگی کرتے ہیں۔ پولن گرینس میں ایک دوتہوں کی دیوارہوتی ہے، بیرونی ایکزائن اور اندرونی ان ٹائن کہلاتی ہے۔ ایکزائن اسپوروپولینین کی بنی ہوتی ہے اس میں جرمی سوراخ ہوتے ہیں۔ پولن گرینس جھڑتے وقت دو سیل والے (ایک نباتی اور دوسرا جینیریٹیوسیل) یا تین سیل والے (ایک نباتی سیل اور دونر گیمیٹس) ہوسکتے ہیں۔
پسٹل میں تین حصے اسٹگما، اسٹائل اور اووری ہوتے ہیں۔ اووری میں او یولس موجود ہوتے ہیں۔ اویولس میں ایک اسٹاک (جسے فیونکل کہتے ہیں)۔ حفاظی بیرونی چھالیں اور ایک سوراخ ہوتا ہے جسے مائیکرو پائل کہتے ہیں۔ نیوسیلس مرکزی ٹشو ہوتا ہے جس میں آرکی اسپورٹیم کی تفریق ہوتی ہے۔ آرکی اسپورئیم کا ایک سیل، میگا اسپور مدرسیل مائی ٹوسس کے ذریعہ تقسیم ہوتا ہے اور میگا اسپورس میں سے ایک ایمبریوسیک (مادہ گیمیٹو فائٹ) بناتا ہے۔ پختہ ایمبریوسیک 8 نیوکلی ایٹ اور 7سیل والا ہوتا ہے۔ مائیکرو پائلر سرے پر ایگ ایپیریٹس ہوتا ہے جو دوسنر جڈس اور ایک بیضے پر مشتمل ہوتا ہے۔ چلا زاسرے پر تین اینٹی پوڈلس ہوتے ہیں۔ وسط میں دوپولرنیوکلائی کے ساتھ ایک بڑا مرکزی سیل ہوتا ہے۔
زیرگی اینھتر سے پولن گرینس کی اسٹگما تک منتقلی کا عمل ہے۔ زیرگی لانے والے ایجنٹ یا تو غیر حیاتیاتی (ہوا اور پانی) حیاتیاتی (جانور) ہوتے ہیں۔
پولن،پسٹل تعامل میں اسٹگما پر پولناگرینس کے گرنے سے لے کر اس وقت تک کے تمام وقائع شامل ہوتے ہیں جب پولن ٹیوب ایمبریوسیک میں داخل ہوتی ہے (جب پولن موافقت آمیز ہو) یا پولن رکاوٹ پیدا کرتی ہے (جب پولن غیر مصالحت ہو)۔ مناسب زیرگی کے بعد پولن گرینس اسٹگما پر پھوٹ کر باہر آتے ہیں اور نتیجے میں بننے والی پولن ٹیوبس اسٹائل کے ذریعہ نمو پذیر ہوکر اویولس میں داخل ہوتے ہیں اور بالآخر ایک سنرجڈ میں دو نرگیمٹیس خارج کردیتے ہیں ۔ ایجنیو اسپرمس میں دوہری بار آوری کا مظاہرہ ہوتا ہے کیونکہ ہر ایمبر یوسیک میں دو انضمامی واقعات ہوتے ہیں جن کے نام ہیں سن گیمی اور ٹرپل فیوژن۔ ان انضماموں کی وجہ سے وڈپلائیڈ زائیگوٹ اورٹریلائیڈ پرائمری اینڈ واسپرم سیل اینڈ واسپرم کی تشکیل کرتا ہے۔ اینڈ واپسرم کی تشکیل ہمیشہ ایمبریو کی نمو سے پہلے ہوتی ہے۔
نمو پذیر ایمبریو پختہ ہونے سے قبل مختلف حالتوں سے گزرتا ہے جیسے پروایمبریو، گلوبولر اور دل نما حالتیں۔ پختہ ڈائی کوٹی لیڈینس ایمبریو میں دو کوٹی لیڈنس ایک ایمبرونل ایکپسس ایپی کوٹائل اور ہائیپو کوٹائل کے ساتھ ہوتے ہے۔ مونو کوٹی لیڈ نس کے ایمبریو میں ایک واحد کوٹی لیڈن ہوتا ہے۔بارآوری کے بعد اووری پھل میں اور اویولس بیجوں میں نمو پاجاتے ہیں۔
ایک عمل جسے ایپومکسس کہتے ہیں بعض اینجیواسپرمس بالخصوص گھاسوں میں پایا جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں بغیر بارآوری کے ہی بیجوں کی تشکیل ہوتی ہے۔ فن باغبانی اور زراعت میں ایپومکٹس کو کئی فائدے ہیں 
بعض اینجیو اسپرمس اپنے بیج میں ایک ملک سے زیادہ ایمبریوز پیدا کرتے ہیں۔ اس مظہر کو پولی ایمبریونی کہاجاتا ہے۔

مشق

1۔ ایک اینجیواسپرم پھول کے ان حصوں کا نام بتائیے جن میں نر اور مادہ گیمیٹو فائیٹس کی نشوونما واقع ہوتی ہے۔
2۔ مائیکرو اسپوروجینسس اور میگا اسپوریوجینسس کے درمیان فرق بتائیے۔ ان وقائع کے دوران خلیوں میں کس قسم کی تقسیم واقع ہوتی ہے؟ ان دووقائع کے اختتام پر بننے والی ساختوں کے نام بتائیے۔
حسب ذیل اصطلاحات کو صحیح نمو کی ترتیب کے مطابق مرتب کیجیے:
پولن گرین، اسپوروجینس ٹشو، مائیکرواسپورٹیٹریڈ، پولن مدرسیل، نرگیمیٹس۔
ایک واضح لیبل کی ہوئی شکل کے ذریعہ ایک تمثیلی اینجیو اسپرم اویول کو دکھائیے۔
5۔مادہ گیمیٹو فائٹ کی مونو اسپورک نمو سے آپ کیا سمجھتے ہیں؟
6۔ایک واضح شکل کی مدد سے مادہ گیمیٹو فائٹ کی 8 نیوکلی ایٹ،7سیل والی حالت کی تشریح کیجیے۔
7۔کیسموگیمس پھول کیا ہوتے ہیں؟ کیا کلیسٹو گیمس پھولوں میں پار زیرگی واقع ہوسکتی ہے؟ اپنے جوابات کی وجوہات بتائیے۔
8۔پھولوں میں خود زیرگی کو روکنے کے لیے بنائی گئی دو ترکیبیں بتائیے۔
9۔سیلف ان کمپی بیلٹی (Self-incompatibility) یا خود غیر مصالحتی کیا ہوتی ہے؟ سیلف ان کمپیٹبل انواع میں خود زیرگی سے بیج کیوں نہیں بنتے؟
10۔بیگنگ ٹیکنیک کیا ہوتی ہے؟ یہ ایک پلانٹ بریڈنگ پروگرام میں کیوں مفید ہے؟
11۔ٹرپل فیوژن کیا ہوتا ہے؟ یہ کہاں اور کیسے ہوتاہے؟ ٹرپل فیوژن میں شامل نیوکلیائی کے نام بتائیے۔
12۔آپ کیوں سوچتے ہیں کہ ایک بارآور ایول میں ایک زائیگوٹ کچھ عرصہ کے لیے خوابیدہ ہوتا ہے؟
13۔فرق بتائیے
(a) ہائیپوکوٹائل اور ایپی کوٹائل
(b) کولیوپ ٹائل اور کولیورائزا
(c)  انٹیگومنٹ اور ٹیسٹا
(d) پیری اسپرم اور پیری کارپ
14۔ سیب کو ایک فالس فروٹ کیوں کہتے ہیں؟ پھول کے کون سے حصے پھل بناتے ہیں؟
15۔ ای میسکولیشن سے کیا مراد ہے؟ ایک پلانٹ بریڈر کب اور کیوں اس طریقے کا استعمال کرتا ہے؟
16۔ اگر کوئی  اشیائے نمو کے استعمال سے پارتھینو کا رپی کو پیدا کر سکتا ہے تو آپ پارتھینو کارپی پیداکرنے کے لیے کن پھلوں کا انتخاب کریں گے اور کیوں؟
17۔ پولن گرین کی دیوار کی تشکیل میں ٹیپیٹم کا کیا رول ہے، تشریح کیجیے۔
18۔ ایپومکسس کیا ہے؟ اور اس کی اہمیت کیا ہے؟