کیڑوں کے ذریعے زیرگی لانے والے زیادہ تر پودوں کے پھول بڑے، رنگین اور خوشبودار ہوتے ہیں اور ان میں زیادہ مقدار میں رس ہوتا ہے۔ جب پھول چھوٹے ہوتے ہیں تو متعدد پھول ایک گچھے کی شکل میں پھولداری بناکر انھیں نمایاں کردیتے ہیں۔ جانور پھولوں کی طرف ان کے رنگ یا خوشبو کی وجہ سے راغب ہوتے ہیں۔ مکھیوں اور بیٹلس کے ذریعے زیرگی لانے والے پھول ان جانوروں کو راغب کرنے کے لیے بھی بو پیدا کرتے ہیں۔ پھولوں کو جانوروں کے آنے کو ممکن بنانے کے لیے انھیں انعام دینا پڑتا ہے۔ رس اور پولن گرینس عام انعامات ہیں جو پھول دیتے ہیں۔ پھول سے انعامات وصول کرنے کے لیے مہمان جانور اینتھرس اور اسٹگما کے رابطے میں آتا ہے۔ جانور کے جسم پر اُن پولن گرینس کی تہہ لگ جاتی ہے جو عموماً جانوروں کے ذریعے زیرگی لانے والے پھولوں میں چپچپے ہوتے ہیں۔ اپنے جسم پر پولن لیے ہوئے جب جانور اسٹگما کے رابطے میں آتا ہے تو وہ زیرگی لے کر آتا ہے۔
، Amorphophallus کے لمبے لمبے پھول اس کی ایک مثال ہے (خود پھول ہی اونچائی میں 6 فٹ ہوتا ہے)۔ yuccaاس سے ملتا جلتا تعلق ایک پودے
اور پروانے کی نوع میں پایا جاتا ہے جہاں پروانہ اور پودا دونوں انواع ایک دوسرے کے بغیر اپنے دورحیات کی تکمیل نہیں کرسکتے۔ پروانہ بیضہ دانی کے خانے میں انڈے دیتا ہے اور بدلے میں پھول میں پروانے کے ذریعے زیرگی آجاتی ہے۔ جیسے ہی بیجوں کی نمو شروع ہوتی ہے پروانوں کے لاروے انڈوں سے باہر نکل آتے ہیں۔
زیادہ تر پھولدار پودوں میں دو صنفی (hermaphrodite) پھول پیدا ہوتے ہیں اور ایک ہی پھول کے پولن گرینس کا اس کے اسٹگما سے رابطہ کا امکان ہوتا ہے۔ مسلسل خود زیرگی کا نتیجہ اِن بریڈنگ (inbreeding: درون افزائش) کے دباؤ کی شکل میں نکلتا ہے۔ پھول دار پودوں نے خود زیرگی کو روکنے اور پارزیرگی کو بڑھاوا دینے کے لیے کئی طریقے نکالے ہیں۔ کچھ انواع میں پولن گرینس کے نکلنے اور اسٹگما کی انھیں وصول کرنے کی صلاحیت میں ہم آہنگی نہیں ہوتی۔ یا تو پولن گرینس کے نکلنے اور اسٹگما کے وصول کرنے کے قابل ہونے سے پہلے نکال دیے جاتے ہیں یا پھر پولن نکلنے کے بہت پہلے اسٹگما انھیں وصول کرنے کے قابل ہوجاتا ہے۔ کچھ دوسری انواع میں اینتھرس اور اسٹگما مختلف پوزیشنوں پر ہوتے ہیں جس کی وجہ سے ایک ہی پھول کے پولن اس کے اسٹگما کے رابطے میں نہیں آپاتے۔ ان دونوں طریقوں سے اوٹوگیمی رکتی ہے۔ اِن بریڈنگ کو روکنے کا تیسرا طریقہ سیلف اِن کمپیٹبی لٹی (Self-incompatibility: خودبے جوڑپن) ہے۔ یہ ایک جینی میکینزم ہے جو سیلف پولن (ایک ہی پھول کے پولنس یا اسی پودے کے دوسرے پھولوں کے پولنس) کو یا تو انھیں نہ اپجنے دے کر یا پھر پِسٹل میں پولن کی نشو و نما نہ ہونے دینے کی وجہ سے اویولس کو بارآور کرنے دینے سے روکتا ہے۔ خود زیرگی کو روکنے کا دوسرا طریقہ ایک جنسی پھول پیدا کرنا ہے۔ اگر نر اور مادہ دونوں پھول ایک ہی پودے پر موجود ہوں جیس ارنڈی اور مکا (مونوایشیئس) تو اس سے اوٹوگیمی رکتی ہے مگر گائٹونوگیمی نہیں۔ کئی انواع جیسے پپیتے میں نر اور مادہ پھول مختلف پودوں پر موجود ہوتے ہیں یعنی ہر پودا یا تو نر یا مادہ ہوتا ہے (ڈایوسی)۔ یہ کیفیت اوٹوگیمی اور گائینوٹوگیمی دونوں کو روکتی ہے۔
زیرگی صحیح قسم کے پولن (اسی نوع کا موزوں پولن جس کا کہ اسٹگما ہے) کی منتقلی کی ضمانت نہیں دیتی۔ اکثر یا تو دوری نوع سے یا اسی پودے سے (اگر وہ سیلف اِن کمپیٹبل ہے) غلط قسم کا پولن اسٹگما پر آجاتا ہے۔ پسٹل میں یہ شناخت کرنے کی اہلیت ہوتی ہے کہ آیا پولن صحیح قسم (کمپیٹبل)کا ہے یا غلط قسم کا (اِن کمپیٹبل)۔ اگر وہ صحیح قسم کا ہے تو پسٹل پولن کو قبول کرکے بعد زیرگی کے واقعات (Post-pollination events) کو بڑھاوا دیتا ہے جس سے بارآوری ہوتی ہے۔ اگر پولن غلط قسم کا ہوتو پسٹل اسٹگما پر پولن کے اپجنے کو یا پھر اسٹائل میں پولن ٹیوب کی نشو و نما پر روک لگاکر پولن کو مسترد کردیتا ہے۔ پسٹل کی پولن کو پہچاننے اور بعد میں اسے قبول کرنے یا مسترد کرنے کی اہلیت پولن اور پسٹل کے مابین مسلسل ہورہی گفتگو کا نتیجہ ہوتی ہے۔ اس گفتگو میں پولن کے کیمیائی اجزا پسٹل کے اجزا سے تعامل کرتے ہوئے وسیلے کا کام کرتے ہیں۔ یہ صرف حالیہ برسوں کی بات ہے کہ ماہرین نباتیات کچھ پولن اور پسٹل اجزا اور ان کے مابین تعامل کی شناخت کے قابل ہوئے ہیں جس سے پہچان اور اس کے بعد قبول کرنا یا مسترد کرنا ہوپایا۔
آپ ایک گلاس سلائیڈ پر ایک قطرہ شکر کے محلول (تقریباً 10 فیصدی) میں مٹر، چھوٹے مٹر، crotalaria، بلسم اور vinca جیسے پھولوں سے کچھ پولن جھاڑکر بہ آسانی پولن کے اُپجنے کا مطالعہ کرسکتے ہیں۔ تقریباً 30-15 منٹ بعد کم قوت کی خوردبین کے نیچے سلائیڈ کا مشاہدہ کیجیے۔ اس بات کا امکان ہے کہ آپ پولن گرینس سے پولن ٹیوبس کو باہر آتے ہوئے دیکھ پائیں۔
آپ پلانٹ بریڈنگ سے متعلق باب میں مزید سیکھیں گے (باب 9) ایک بریڈر(breader) معاشی طور پر نفع بخش اور تسلی بخش خصوصیات پر حامل بہتر اقسام یا نسلوں کی بار آوری کراتا ہے۔ فصلوں کی بہتری کے لیے مصنوعی مخلوطیت (Artificial Hybridisation) بڑے پیمانہ پر استعمال ہونے والا طریقہ ہے۔ ایسے کراسنگ تجربات میں اس بات کا یقین کرنا بے حد اہم ہے کہ زیرگی کے لیے صرف مطلوبہ پولن گرینس ہی کا استعمال ہورہا ہے اور اسٹگما کی آلودہ ہونے سے حفاظت کی گئی ہے (غیرمطلوبہ پولن سے)۔ یہ ای میسکولیشن(Emasculation) اور بیگنگ (bagging) ٹیکنیکوں سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔
اگر مادہ پیرنٹ میں دوصنفی پھول ہوں تو ایتھنرس کے پھٹنے سے پہلے پھول کی کلی سے ایتھنرس کو الگ کرنے کے لیے ایک عدد چمٹی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس اقدام کو اِی میسکولیشن کہا جاتا ہے۔ وہ پھول جن پر ای میسکولیشن کا عمل کیا گیا ہو انھیں مناسب سائز کے تھیلے سے ڈھکنا چاہیے۔ عموماً یہ تھیلا بٹرپیپر کا بنا ہوا ہوتا ہے تاکہ اسٹگما کی غیرمطلوبہ پولن کی آلودگی سے حفاظت ہوجائے۔ اس عمل کو بیگنگ کہا جاتا ہے۔ جب تھیلابند پھول کا اسٹگما اُس حالت میں پہنچتا ہے اور پولن کو قبول کرسکتا ہے تو نرپیرنٹ کے اینتھرس سے اکٹھاکیے گئے پختہ پولن گرینس کو اسٹگما پر جھاڑ دیا جاتا ہے۔ پھولوں کو دوبارہ تھیلا بند کرکے پھلوں کو نمو کرنے دیا جاتا ہے۔
اگر مادہ پیرنٹ یک صنفی پھول پیدا کرتی ہے تو اِی میسکولیشن کی ضرورت نہیں ہوتی۔ پھولوں کے کھلنے سے پہلے مادہ پھول کی کلیاں تھیلا بند کردی جاتی ہیں۔ جب اسٹگما پولن قبول کرنے کی حالت میں پہنچتا ہے تو مطلوبہ پولن کے استعمال سے زیرگی لائی جاتی ہے اور پھول دوبارہ تھیلا بند کردیے جاتے ہیں۔
2.3 ڈبل فرٹیلائیزیشن(Double Fertilisation)
پولن ٹیوب کسی ایک سِنرجڈ میں داخل ہونے کے بعد سِنرجڈ کے سائیٹوپلازم میں دو نر گیمیٹس چھوڑ دیتی ہے۔ نرگیمیٹس میں سے ایک ایگ سیل (egg cell)
کی طرف حرکت کرتا ہے اور اس کی نیوکلیئس میں ضم ہوجاتا ہے اور اس طرح سِن گیمی (Syngamy)
کی تکمیل ہوتی ہے۔ اس کے نتیجہ میں ایک ڈپلائیڈ پرائمری اینڈ و اسپرم نیوکلیئس (PEN)(Primary endosperm nucleus) بناتا ہے (شکل 2.13a)۔ کیونکہ اس میں تین ہیپلائیڈ نیوکلائی کا انضمام شامل ہے اس لیے اسے ٹرپل فیوژن کہا جاتا ہے۔ ایک ایمبرایوسیک میں چونکہ دو قسم کے انضمام سن گیمی (Syngamy)
اور ٹرپل فیوژن واقع ہوتے ہیں، اس عمل کو ڈبل فرٹیلائیزیشن (double fertilisation) کہتے ہیں جو پھولدار پودوں کی ایک منفرد کیفیت ہے۔ ٹرپل فیوژن کے بعد مرکزی سیل پرائمری اینڈ و اسپرم سیل (primary endosperm cell) (PEC)
بن جاتا ہے اور اینڈو اسپرم (endosperm)
میں نمو پاجاتا ہے جبکہ زائیگوٹ بڑھ کر ایمبریو (embryo) بناتا ہے۔

Globular Embryo
زائل ہوتے ہوئے سزجڈس؍ زائیگوٹ (2n)؍ پرائمری اینڈو اسپرم سیل (پی ای سی)؍ پرائمری اینڈو اسپرم نیوکلیس (پی ای این)؍ زائل ہوتے ہوئے اینٹی پوڈل سیلس
زائیگوٹ
قلب نما ایمبریو؍ سسپنسر
پختہ؍ ریڈیکل؍ کوٹی لیڈن؍ پلیومبول
شکل a) 2.13) زائیگوٹ اور پرائمری اینڈ واسپرم نیوکلیئس (پی ای این) کو دکھاتے ہوئے بارآور ایمبریو
(b) ایک ڈائی کوٹ میں ایمبریو کے نمو کی حالتیں [(a)کے مقابلے چھوٹے سائز میں دکھائی گئی]
2.4 پوسٹ فرٹیلائیزیشن : ساختیں اور وقوعات
(Post Fertilisation : Structure and Events)
ڈبل فرٹیلائیزیشن کے بعد اینڈو اسپرم اور ایمبریو کی نمو اور اویوئس کی بیجوں اور اووری کی پھل میں پختگی جیسے وقائع مجموعی طورپر پوسٹ فرٹیلائیزیشن ایوینٹس (Post fertilisation events)
کہلاتے ہیں۔
2.4.1 اینڈو اسپرم (endosperm)
ایمبریو کی نمو سے پہلے اینڈواسپرم کی نمو ہوتی ہے۔ کیوں؟ پرائمری اینڈو اسپرم سیل بار بار تقسیم ہوکر ایک ٹرپلائیڈ اینڈو اسپرم (triploid endosperm tissue)
ٹشو بناتا ہے۔ اس ٹشو کے سیلس میں ذخیرہ کی ہوئی غذا بھری ہوتی ہے جو نموپذیر ایمبریو کے تفذیے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ اینڈو اسپرم کے نمو کی سب سے عام قسم میں تین فری نیوکلائی(free nuclei)
بنانے کے لیے PEN میں ایک کے بعد ایک نیوکلیئر تقسیمیں ہوتی ہیں۔ اینڈو اسپرم کے نمو کی اس حالت کو فری نیوکلیئر اینڈو اسپرم (free nuclear endosperm)
کہتے ہیں۔ بعد میں سیل دیوار کی تشکیل واقع ہوتی ہے اور اینڈو اسپرم سیلیولر ہوجاتی ہے۔ خلیہ سازی (cellularisation)
سے پہلے فری نیوکلائی بننے کی تعداد میں بہت الگ الگ ہوتی ہے۔ کچے ناریل میں ناریل کا پانی جس سے آپ سبھی واقف ہیں، فری نیوکلیئر اینڈ اسپرم کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوتا (ہزاروں نیوکلائی پر مشتمل ہوتا ہے) اور چاروں طرف کا سفید گودا سیلیولر اینڈو اسپرم ہوتا ہے۔
اینڈو اسپرم بیج کے پختہ ہونے سے پہلے یا تو نموپذیر ایمبریو کے ذریعے مکمل طور پر ختم کرلیا جاتا ہے (جیسے مٹر، مونگ پھلی اور سیم) یا وہ پختہ بیج میں موجود ہوسکتا ہے (جیسے ارنڈی اور ناریل) اور بیج اُپجنے کے دوران استعمال کیا جاتا ہے۔ ارنڈی، مٹر، سیم، مونگ پھلی، ناریل کا پھل کے کچھ بیجوں کو توڑیے اور ہر ایک میں اینڈو اسپرم کو دیکھیے۔ معلوم کیجیے کہ کیا اینڈو اسپرم ، گیہوں، دھان اور مکئی جیسے اناجوں میں ایک جیسی ہے؟
2.4.2 ایمبریو (Embryo)
ایمبریو سیک کے مائیکرو پائیلر سرے پر جہاں زائیگوٹ واقع ہوتا ہے، ایمبریو نمو پاتا ہے۔ زیادہ تر زائیگوٹ صرف اینڈو اسپرم کی کچھ مقدار بننے کے بعد ہی تقسیم ہوتے ہیں۔ یہ نموپذیر ایمبریو کو یقینی طورپر تفذیہ مہیا کرنے کے لیے ایک مطابقت ہے حالانکہ بیجوں میں بہت زیادہ فرق ہوتا ہے، ایمبریو کی نمو کی ابتدائی حالتیں ایمبریوجینی (embryogeny)
مونوکوٹائی لیڈنس اور ڈائی کوٹی لیڈنس دونوں میں ایک جیسی ہوتی ہیں (شکل 2.13 ایک ڈائی کوٹی لیڈینس ایمبریو میں ایمبریو جینی کی حالتیں دکھاتی ہے۔ زائیگوٹ سے پروایمبریو (proembryo)
بنتا ہے اور بعد میں گلوبولر (globular)
، دل نما(heart-shaped)
اور پختہ ایمبریو (mature embryo)
کو۔
ایک تمثیلی ڈائی کوٹائی لیڈینس ایمبریو (شکل 2.14 a) ایک ایمبریومل ایکسِس (embryonal axis) اور دو کوٹی لیڈنس (cotyledons) پر مشتمل ہوتا ہے۔ ایمبریونل ایکسِن کا کوٹائی لیڈنس کی سطح کے اوپر کا حصہ ایپی کوٹائل (epicotyl) ہوتا ہے جو پلومیول (plumul) یا تنے کے سرے پر ختم ہوتا ہے۔ کوٹائی لیڈنس کی سطح کے نیچے کا ستواں حصہ ہائیپو کو ٹائل (hypocotyl) ہوتا ہے جو اس کے نچلے حصے ریڈیکل یا جڑ کے سِرے (radicle or root tip) پر ختم ہوتا ہے۔ جڑ کا آخری سِرا روٹ کیپ (root cap) سے ڈھکا ہوتا ہے۔
مونوکوٹی لیڈنس کے ایمبریوز (شکل 2.14b) میں صرف ایک کوٹائی لیڈن ہوتا ہے۔ گھاس کے خاندان میں کوئی لیڈن کو اسکیوٹیلم (Scutellum) کہتے ہیں جو ایمبریونل ایکسِس کے ایک طرف (جانبی) واقع ہوتا ہے۔ ایمبریونل ایکسِس کے نچلے سرے پر ریڈیکل اور روٹ کیپ ہوتی ہے جو غیر تفریق شدہ غلاف میں لپٹے ہوتے ہیں جسے کولیوزائیزا (Coleorrhiza) کہتے ہیں۔ ایمبریونل ایکسِس کا وہ حصہ جو اسکیوٹیلم کے جوڑ کی سطح سے اوپر ہو اسے ایپی کوٹائیل کہتے ہیں۔ ایپی کوٹائیل میں شوٹ کا سرا (Apex) چند پنپتی ہوئی پتیوں کے کھوکھلے موڑدار گولے میں بند رہتے ہیں اس گولے کو کولیوپٹائیل کہتے ہیں۔
چند بیجوں (جیسے گیہوں، مکئی، مٹر، چھوٹے مٹر، مونگ پھلی ) کو رات بھر پانی میں بھگوئیے پھر ان بیجوں کو منقسم کرکے بیج اور ایمبریو کے مختلف حصوں کا مشاہدہ کیجیے۔
(a) یلومیول؍ کوٹی لیڈنس؍ ہائپوکوٹائل؍ ریڈیکل؍ روٹ کیپ
(b) اسکیوٹیلم؍ کولیوپ ٹائل؍ شوٹ ایپیکس؍ ایپی بلاسٹ؍ ریڈیکل؍ روٹ کیپ؍ کولیورائزا
شکل 2.14 (a) ایک تمثیلی ڈائی کوٹ ایمبریو(b)گھاس کے ایک ایمبریو کی عمودی تراش
2.4.3 بیج (Seed)
اینجیواسپرمس میں بیج جنسی تولید کی آخری پیداوار ہوتی ہے۔ اسے اکثر بارآور اویول کہا جاتا ہے۔ بیج پھول کے اندر تشکیل پاتے ہیں۔ عموماً ایک بیج غلافِ بیج، کوئی لیڈنس اور ایک ایمبریوایکسِس پر مشتمل ہوتا ہے۔ ایمبریو کے کوئی لیڈنس سادہ ساختیں ہوتی ہیں (شکل 2.15a)جو عموماً ذخیرہ کی ہوئی غذا کے سبب دبیز اور پھولی ہوئی ہوتی ہیں (جیسے پھلیوں میں)۔ پختہ بیج غیر ایلبیومینس (Non-albuminous) یا ایلبیومینس (ex-albuminous) ہوسکتے ہیں۔ غیر ایلبیومینس بیجوں میں اینڈواسپرم کے باقیات نہیں ہوتے کیونکہ وہ ایمبریو کی نمو کے دوران مکمل طورپر استعمال ہوچکا ہوتا ہے (جیسے مٹر، مونگ پھلی)۔ ایلبیومینس بیجوں میں اینڈو اسپرم کا حصہ رہ جاتا ہے کیونکہ وہ ایمبریو کی نمو کے دوران پورے طورپر استعمال نہیں ہوپاتا (جیسے گیہوں، مکئی، دھان، ارنڈی، سورج مکھی)۔ کبھی کبھی بعض بیجوں جیسے کالی مرچ اور چقندر میں نیوکلیئس کے باقیات بھی باقی رہ جاتے ہیں۔ نیوکلیئس کے دیرتک قائم رہنے والے یہ باقیات پیری اسپرم (perisperm) کہلاتے ہیں۔
اویولس کی باہری پرتیں مضبوط حفاظتی بیج غلافوں کے طور پر سخت ہوجاتی ہیں۔ (شکل 2.15a)۔ مائیکروپائل بیج غلاف میں ایک چھوٹے سے سوراخ کی طرح رہ جاتا ہے۔ اس سے اُپجنے کے دوران آکسیجن اور پانی کو بیج کے اندر جانے میں سہولت ہوتی ہے۔ جیسے ہی بیج پختہ ہوتا ہے، اس میں پانی کی مقدار گھٹ جاتی ہے اور بیج مقابلتاً خشک ہوجاتا ہے (15-10 فیصدی نمی بمطابق ماس)۔ ایمبریو کا عام تحولی عمل سست پڑ جاتا ہے۔ ایمبریو ایک غیرمتحرک یا خواب کی حالت میں جاسکتا ہے جسے خوابیدگی (dormancy) کہتے ہیں، اور اگر سازگار حالات دستیاب ہیں (مناسب نمی، آکسیجن اور مناسب درجۂ حرارت) تو وہ اُپج جاتا ہے۔
جیسے ہی اویولس پختہ ہوکر بیج بنتے ہیں، بیضہ دانی نمو پاکر پھل بناتی ہے یعنی اویولس کی بیجوں اور بیضہ دانی کی پھل میں تبدیلی ساتھ ساتھ ہوتی ہے۔ بیضہ دانی کی دیوار نمو پاکر پھل کی دیوار بنتی ہے جسے پیری کارپ (pericarp) کہتے ہیں۔ پھل گودے دار ہوسکتے ہیں جیسے امرود، سنترہ، آم وغیرہ یا پھر خشک جیسے مونگ پھلی اور سرسوں وغیرہ۔ بہت سے پھلوں نے بیجوں کے پھیلاؤ کے لیے مخصوص میکینزمس پیدا کیے ہیں پھلوں کی جماعت بندی اور ان کے پھیلاؤ کے میکینزمس کے بارے میں یاد کیجیے جو آپ نے پچھلی کلاس میں پڑھے تھے۔ کیا ایک بیضہ دانی میں اویولس کی تعداد اور ایک پھل میں موجود بیجوں کی تعداد کے درمیان کوئی تعلق ہے؟
زیادہ تر پودوں میں جب تک بیضہ دانی سے پھل نمو پاتا ہے، پھول کے دوسرے حصے مرجھاکر گرجاتے ہیں۔ البتہ بعض انواع جیسے سیب، اسٹرابیری، کاجو وغیرہ میں تھیلمس بھی پھل کی تشکیل میں حصہ لیتا ہے۔ ایسے پھولوں کو فالس فروٹس (false fruits) کہتے ہیں (شکل 1.15b)۔ ہاں زیادہ تر پھل صرف بیضہ دانی سے نموپاتے ہیں اور ٹروفروٹس (true fruits) کہلاتے ہیں۔ حالانکہ زیادہ تر انواع میں پھل بارآوری کا نتیجہ ہوتے ہیں، لیکن کچھ انواع ایسی بھی ہیں جن میں پھل بغیر بارآوری کے بنتے ہیں۔ ایسے پھلوں کو پارتھینو کارپک فروٹ (parthenocarpic fruits) کہا جاتا ہے۔ کیلا ایک ایسی ہی مثال ہے۔ پارتھینوکارپی کو گروتھ ہارمونس کے استعمال سے پیدا کیا جاسکتا ہے اور ایسے پھل بغیر بیج والے ہوتے ہیں۔

پھولدار پودوں میں جنسی تولید
(a)
کوٹی لیڈن؍ شوٹ ایپیکل میری اسٹیم؍ ہائیپو کوٹائل؍ روٹ ایکسس؍ روٹ کا سرا؍ اینڈو اسپرم؍ بیج غلاف
مائیکرو پائل؍ کوٹی لیڈنس
ہائیپو کورٹائل روٹ ایکسس؍بیج غلاف؍ اینڈو اسپرم؍ کوٹی لیڈن؍ سوٹ ایپکل میری اسٹیم؍ روٹ سرا
پیری کارپ؍ اینڈو اسپرم؍ اسکیوٹیلم؍ کولیوپ ٹائل؍ پلومپول؍ ریڈیکل؍ کولیورائزا
(b)
تھیلمس؍ بیج
اینڈوکارپ؍ میزو کارپ
تھیلمس؍ ایکین
شکل 2.15 (a)کچھ بیجوں کی ساخت (b) سیب اور اسٹرابیری کے فالس پھل
اینجیواسپرمس کو بیجوں سے کئی فائدے ہیں۔ اولاً کیونکہ زیرگی اور بارآوری جیسے تولیدی عمل پانی سے آزاد ہیں اس لیے بیج کی تشکیل پر زیادہ بھروسہ کیا جاسکتا ہے۔ ساتھ ہی بیجوں میں نئے حمل کے وقوع میں پھیلاؤ کے لیے بہتر مطابقی طریقے ہوتے ہیں اوراس طرح وہ انواع کو دوسرے علاقوں میں بسنے میں مدد کرتے ہیں۔ کیونکہ ان میں خاصی مقدار میں غذا ذخیرہ کی ہوئی ہوتی ہے اس لیے نوخیز پود کو اس وقت تک غذا فراہم کی جاتی ہے جب تک پودے خود فوٹوسن تھیسِس کے اہل نہیں ہوجاتے۔ بیج کا سخت غلاف نوخیز ایمبریو کی حفاظت کرتا ہے کیونکہ جنسی تولید کی کی بنا پر ان میں نئے جینی اختلاط (genetic combinations) پیدا ہوتے ہیں جن سے متفرق اقسام بنتی ہیں۔
بیج ہماری زراعت کی بنیاد ہے۔ بیجوں کی ذخیرہ اندوزی کے لیے پختہ بیجوں کی غیر آبیدگی (dehydration) اور خوابیدگی (dormancy) اہم ہے جنھیں تمام سال غذا کے طورپر اور ساتھ ہی اگلے موسم میں فصل اگانے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ کیا آپ ایسی زراعت کا تصوّر کرسکتے ہیں،جہاں بیجوں کی عدم موجودگی میں یا ایسے بیجوں کی موجودگی میں جو بننے کے فوراً بعد اُپجیں اور ان کی ذخیرہ اندوزی نہ کی جاسکے۔
بیج پھیلنے کے بعد کتنے عرصے تک زندہ رہتے ہیں؟ اس عرصے میں بھی بہت زیادہ فرق ہوتا ہے۔ بعض انواع میں بیج چند مہینوں کے اندر ہی اپنی قوت اُپج کھودیتے ہیں۔ انواع کی ایک کثیر تعداد میں بیج کئی برسوں تک زندہ رہتے ہیں۔ کچھ بیج تو سینکڑوں سال تک زندہ رہ سکتے ہیں کئی بہت پرانے، مگر اپج کے قابل بیجوں کے رکارڈس موجود ہیں۔ آرکٹک ٹنڈرا سے کھدائی میں حاصل کئے گئے ایک لیوپائن (Lupine)، لیوپائینس آرکٹیکس (Lupinus arcticus) کے بیج سب سے پرانے ہیں۔ یہ بیج اندازاً 10ہزار سال کی خوابیدگی کے بعد اُپجے اور ان میں پھول آئے۔ ایک قسم کے کھجور، Phoenix dactylifera کا 2000 سال پرانا قابل اُپج ایک حالیہ رکارڈ ہے جو بحرِ مردار کے پاس کنگ ہیروڈ کے محل پر آثارِ قدیمہ کی کھدائی کے دوران دریافت ہوا تھا۔
پھولدار پودوں کی جنسی تولید کا ایک مختصر جائزہ لینے کے بعد بہتر ہوگا اگر حسب ذیل سوالات پوچھ کر بعض پھولدار پودوں کی بے پناہ تولیدی صلاحیت کو سمجھنے کی کوشش کی جائے کہ ایک ایمبریوسیک میں کتنے انڈے ہوتے ہیں؟ ایک اویول میں کتنے ایمبریوسیکس موجود ہوتے ہیں؟ ایک بیضہ دانی میں کتنے اویولس موجود ہوتے ہیں؟ ایک مثالی پھول میں کتنی بیضہ دانیاں موجود ہوتی ہیں؟ ایک درخت پر کتنے پھول موجود ہوتے ہیں؟ وغیرہ وغیرہ۔
کیا آپ کچھ پودوں کے بارے میں سوچ سکتے ہیں جن کے پھلوں میں بہت بڑی تعداد میں بیج ہوتے ہیں؟ ایک ایسا ہی درجہ آرکڈ پھلوں کی ہے اور ہر پھل میں ہزاروں چھوٹے چھوٹے بیج ہوتے ہیں۔ کچھ طفیلی انواع جیسے اور وبرانکا (orobanche) اور اسٹرائیگا (Striga) بھی ایسے ہی پودے ہوتے ہیں فائیکس (انجیرگلبر۔پیپل۔ پاکٹر وغیرہ) کی چھوٹی سی بیج دیکھی ہے؟ اُس چھوٹی سے بیج سے بننے والا Ficus کا درخت کتنا بڑا ہوتا ہے؟ Ficus کا ہر درخت کتنے کٹرور بیج پیدا کرتا ہے؟ کیا آپ کوئی دوسری مثال سوچ سکتے ہیں جس میں اتنی چھوٹی ساخت سالوں بعد اتنا بڑا بائیوماس پیدا کرسکتی ہے؟
2.5ایپومکسِس اور پولی ایمبریونی (Apomixis and Polyembryony)
حالانکہ عمومی طورپر بیج بارآوری کی دین ہوا کرتے ہیں لیکن چند پھولدار پودوں جیسے Asteraceae کی بعض انواع اور گھاسوں نے بغیر بارآوری کے بیج پیدا کرنے کا میکینزم اپنایا ہے جسے ایپومکسِس (Apomixis) کہتے ہیں۔ بغیر بارآوری کے پھلوں کا پیدا ہونا کیا ہوتا ہے؟ بس ایپومکسِس غیرجنسی تولید کی ایک شکل ہے جو جنسی تولید کی نقّالی کرتی ہے۔ ایپومکٹک (Apomictic) بیج پیدا کرنے کے کئی طریقے ہیں۔ کچھ انواع میں بغیر تخفیفی تقسیم کے ڈپلائیڈ انڈا بنتا ہے اور بغیر بارآوری کے نموپاکر ایمبریوبنتا ہے۔ اکثر بہت سی Citrus اور Mango جیسی اقسام میں ایمبریوسیک کو گھیرنے والے نیوسیلر سیلس میں سے کچھ تقسیم ہونا شروع ہوجاتے ہیں جو ایمبریوسیک میں گھس کر ایمبریوز میں نموپاجاتے ہیں۔ ایسی انواع میں ہر اویول میں بہت سے ایمبریوز ہوتے ہیں۔ ایک بیج میں ایک سے زیادہ ایمبریوز کا واقع ہونا پولی ایمبریونی (polyembryony) کہلاتا ہے۔ سنترے کے کچھ بیج نکال کر انھیں دبائیے۔ ہر بیج میں سے مختلف سائز اور ساخت کے بہت سے ایمبریوز کا مشاہدہ کیجیے۔ ایپومکٹک ایمبریوز کی جینی کیفیت کیا ہوگی؟ کیا انھیں کلونس کہا جاسکتا ہے؟
ہماری غذا اور سبزی کی فصلوں کی بہت سی مخلوط اقسام (Hybrid) وسیع پیمانے پر کاشت کی جارہی ہیں۔ ہائبرڈس کی کاشت نے پیداوار بے تحاشہ بڑھادی ہے۔ ہائیبرڈس کا ایک مسئلہ یہ ہے کہ ہائبرڈ بیجوں کو ہر سال پیدا کرنا پڑتا ہے۔ اگر ہائبرڈس سے اکٹھا کیے گئے بیجوں کو بویا جائے تو نسل میں ہائبرڈ کی خصوصیات برقرار نہیں رہیں گی اور اس میں علیحدگی (segregation) پیدا ہوجائے گی۔ ہائبرڈ بیجوں کی پیداوار مہنگی ہوتی ہے اس لیے کسانوں کے لیے ہائبرڈ بیجوں کی قیمت بہت زیادہ گراں ہوجاتی ہے۔ اگر یہ ہائبرڈس ایپومکٹس (Apomicts) میں بنائے جائیں تو ہائبرڈ کی نسل کی خصوصیات میں علیحدگی پیدا نہیں ہوگی۔ تب کسان سال بہ سال نئی فصلیں اگانے کے لیے ہائبرڈ بیجوں کا استعمال جاری رکھ سکتے ہیں اور انھیں ہرسال ہائبرڈ بیج نہیں خریدنا پڑیں گے۔ ہائبرڈ بیج کی صنعت میں ایپومکسِس کی اہمیت کی بناپر دنیا بھر کی بہت سی تجربہ گاہوں میں ایپومکسِس کی جینیات کو سمجھنے اور ایپومکٹک جینوں کو ہائبرڈ ویرائیٹیز میں منتقل کرنے کے لیے فعّال تحقیق جاری ہے۔
خلاصہ
اینجیو اسپرمس میں پھول جنسی تولید کے مقام ہوتے ہیں۔ پھولوں میں اسٹامنوں سے بنا ہوا اینڈرویشیئم نر تولیدی اعضاء اور پسٹلس پر مشتمل گائی نیشیئم مادہ تولیدی اعضاء کی نمائندگی کرتا ہے۔ عموماً اینتھر دوگوشی، ڈائی تھیکس (Dithecous، دوتھیکا والا) اور ٹیٹرا اسپورینجی ایٹ (Tetrasporangiateچار اسپوریبجیا والا) ہوتا ہے۔ پولن گرینس مائیکرو اسپورینجیا کے اندر پیدا ہوتے ہیں۔ چار دیواری پرتیں ایپی ڈرمس، اینڈ وتھیسئیم، وسطی پرتیں اور ٹیپٹیم ہوتی ہیں جو مائیکر اسپورینجیئم کو گھیرتی ہیں۔ مائیکرو اسپورینجیئم کے مرکز میں موجود اسپوروجینس ٹشو کے سیلس میں مائیکرو اسپورس کے ٹیٹرارس بنانے کے لیے می اوسس تقسیم ہوتی ہے۔ الگ الگ مائیکرو اسپورس پختہ ہوکر پولن گرینس بناتے ہیں۔
پولن گرینس نرگیمیٹو فائٹک پیدائش کی نمائندگی کرتے ہیں۔ پولن گرینس میں ایک دوتہوں کی دیوارہوتی ہے، بیرونی ایکزائن اور اندرونی ان ٹائن کہلاتی ہے۔ ایکزائن اسپوروپولینین کی بنی ہوتی ہے اس میں جرمی سوراخ ہوتے ہیں۔ پولن گرینس جھڑتے وقت دو سیل والے (ایک نباتی اور دوسرا جینیریٹیوسیل) یا تین سیل والے (ایک نباتی سیل اور دونر گیمیٹس) ہوسکتے ہیں۔
پسٹل میں تین حصے اسٹگما، اسٹائل اور اووری ہوتے ہیں۔ اووری میں او یولس موجود ہوتے ہیں۔ اویولس میں ایک اسٹاک (جسے فیونکل کہتے ہیں)۔ حفاظی بیرونی چھالیں اور ایک سوراخ ہوتا ہے جسے مائیکرو پائل کہتے ہیں۔ نیوسیلس مرکزی ٹشو ہوتا ہے جس میں آرکی اسپورٹیم کی تفریق ہوتی ہے۔ آرکی اسپورئیم کا ایک سیل، میگا اسپور مدرسیل مائی ٹوسس کے ذریعہ تقسیم ہوتا ہے اور میگا اسپورس میں سے ایک ایمبریوسیک (مادہ گیمیٹو فائٹ) بناتا ہے۔ پختہ ایمبریوسیک 8 نیوکلی ایٹ اور 7سیل والا ہوتا ہے۔ مائیکرو پائلر سرے پر ایگ ایپیریٹس ہوتا ہے جو دوسنر جڈس اور ایک بیضے پر مشتمل ہوتا ہے۔ چلا زاسرے پر تین اینٹی پوڈلس ہوتے ہیں۔ وسط میں دوپولرنیوکلائی کے ساتھ ایک بڑا مرکزی سیل ہوتا ہے۔
زیرگی اینھتر سے پولن گرینس کی اسٹگما تک منتقلی کا عمل ہے۔ زیرگی لانے والے ایجنٹ یا تو غیر حیاتیاتی (ہوا اور پانی) حیاتیاتی (جانور) ہوتے ہیں۔
پولن،پسٹل تعامل میں اسٹگما پر پولناگرینس کے گرنے سے لے کر اس وقت تک کے تمام وقائع شامل ہوتے ہیں جب پولن ٹیوب ایمبریوسیک میں داخل ہوتی ہے (جب پولن موافقت آمیز ہو) یا پولن رکاوٹ پیدا کرتی ہے (جب پولن غیر مصالحت ہو)۔ مناسب زیرگی کے بعد پولن گرینس اسٹگما پر پھوٹ کر باہر آتے ہیں اور نتیجے میں بننے والی پولن ٹیوبس اسٹائل کے ذریعہ نمو پذیر ہوکر اویولس میں داخل ہوتے ہیں اور بالآخر ایک سنرجڈ میں دو نرگیمٹیس خارج کردیتے ہیں ۔ ایجنیو اسپرمس میں دوہری بار آوری کا مظاہرہ ہوتا ہے کیونکہ ہر ایمبر یوسیک میں دو انضمامی واقعات ہوتے ہیں جن کے نام ہیں سن گیمی اور ٹرپل فیوژن۔ ان انضماموں کی وجہ سے وڈپلائیڈ زائیگوٹ اورٹریلائیڈ پرائمری اینڈ واسپرم سیل اینڈ واسپرم کی تشکیل کرتا ہے۔ اینڈ واپسرم کی تشکیل ہمیشہ ایمبریو کی نمو سے پہلے ہوتی ہے۔
نمو پذیر ایمبریو پختہ ہونے سے قبل مختلف حالتوں سے گزرتا ہے جیسے پروایمبریو، گلوبولر اور دل نما حالتیں۔ پختہ ڈائی کوٹی لیڈینس ایمبریو میں دو کوٹی لیڈنس ایک ایمبرونل ایکپسس ایپی کوٹائل اور ہائیپو کوٹائل کے ساتھ ہوتے ہے۔ مونو کوٹی لیڈ نس کے ایمبریو میں ایک واحد کوٹی لیڈن ہوتا ہے۔بارآوری کے بعد اووری پھل میں اور اویولس بیجوں میں نمو پاجاتے ہیں۔
ایک عمل جسے ایپومکسس کہتے ہیں بعض اینجیواسپرمس بالخصوص گھاسوں میں پایا جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں بغیر بارآوری کے ہی بیجوں کی تشکیل ہوتی ہے۔ فن باغبانی اور زراعت میں ایپومکٹس کو کئی فائدے ہیں
بعض اینجیو اسپرمس اپنے بیج میں ایک ملک سے زیادہ ایمبریوز پیدا کرتے ہیں۔ اس مظہر کو پولی ایمبریونی کہاجاتا ہے۔
مشق
1۔ ایک اینجیواسپرم پھول کے ان حصوں کا نام بتائیے جن میں نر اور مادہ گیمیٹو فائیٹس کی نشوونما واقع ہوتی ہے۔
2۔ مائیکرو اسپوروجینسس اور میگا اسپوریوجینسس کے درمیان فرق بتائیے۔ ان وقائع کے دوران خلیوں میں کس قسم کی تقسیم واقع ہوتی ہے؟ ان دووقائع کے اختتام پر بننے والی ساختوں کے نام بتائیے۔
3۔ حسب ذیل اصطلاحات کو صحیح نمو کی ترتیب کے مطابق مرتب کیجیے:
پولن گرین، اسپوروجینس ٹشو، مائیکرواسپورٹیٹریڈ، پولن مدرسیل، نرگیمیٹس۔
4۔ ایک واضح لیبل کی ہوئی شکل کے ذریعہ ایک تمثیلی اینجیو اسپرم اویول کو دکھائیے۔
5۔مادہ گیمیٹو فائٹ کی مونو اسپورک نمو سے آپ کیا سمجھتے ہیں؟
6۔ایک واضح شکل کی مدد سے مادہ گیمیٹو فائٹ کی 8 نیوکلی ایٹ،7سیل والی حالت کی تشریح کیجیے۔
7۔کیسموگیمس پھول کیا ہوتے ہیں؟ کیا کلیسٹو گیمس پھولوں میں پار زیرگی واقع ہوسکتی ہے؟ اپنے جوابات کی وجوہات بتائیے۔
8۔پھولوں میں خود زیرگی کو روکنے کے لیے بنائی گئی دو ترکیبیں بتائیے۔
9۔سیلف ان کمپی بیلٹی (Self-incompatibility) یا خود غیر مصالحتی کیا ہوتی ہے؟ سیلف ان کمپیٹبل انواع میں خود زیرگی سے بیج کیوں نہیں بنتے؟
10۔بیگنگ ٹیکنیک کیا ہوتی ہے؟ یہ ایک پلانٹ بریڈنگ پروگرام میں کیوں مفید ہے؟
11۔ٹرپل فیوژن کیا ہوتا ہے؟ یہ کہاں اور کیسے ہوتاہے؟ ٹرپل فیوژن میں شامل نیوکلیائی کے نام بتائیے۔
12۔آپ کیوں سوچتے ہیں کہ ایک بارآور ایول میں ایک زائیگوٹ کچھ عرصہ کے لیے خوابیدہ ہوتا ہے؟
13۔فرق بتائیے
(a) ہائیپوکوٹائل اور ایپی کوٹائل
(b) کولیوپ ٹائل اور کولیورائزا
(c) انٹیگومنٹ اور ٹیسٹا
(d) پیری اسپرم اور پیری کارپ
14۔ سیب کو ایک فالس فروٹ کیوں کہتے ہیں؟ پھول کے کون سے حصے پھل بناتے ہیں؟
15۔ ای میسکولیشن سے کیا مراد ہے؟ ایک پلانٹ بریڈر کب اور کیوں اس طریقے کا استعمال کرتا ہے؟
16۔ اگر کوئی اشیائے نمو کے استعمال سے پارتھینو کا رپی کو پیدا کر سکتا ہے تو آپ پارتھینو کارپی پیداکرنے کے لیے کن پھلوں کا انتخاب کریں گے اور کیوں؟
17۔ پولن گرین کی دیوار کی تشکیل میں ٹیپیٹم کا کیا رول ہے، تشریح کیجیے۔
18۔ ایپومکسس کیا ہے؟ اور اس کی اہمیت کیا ہے؟