Skip to content

pic 1 chapter 3

باب 3

انسانی تولید (Human Reproduction)

3.1  نر تولیدی نظام
3.2  مادہ تولیدی نظام
3.3  گیمیٹوجینیسِس
3.4  حیضی دور
3.5  بارآوری اور تنصیب
3.6  حمل اور ایمبرونک نمو
3.7  زچگی اور شیرآوری

جیسا کہ آپ جانتے ہیں انسان جنسی تولید کرنے والے اور بچے پیدا کرنے والے ہوتے انسانوں کے تولیدی احوال  میں گیمیٹس کی تشکیل (گیمیٹوجینیسِس)، یعنی مردوں میں اسپرمس اور ماداؤں میں بیضہ، مادہ تناسلی راستے میں اسپرمس کی منتقلی (اِن سیمی  نیشن) اور زائیگوٹ کی تشکیل کرنے کے لیے نر اور مادہ گیمیٹس کا انضمام (بارآوری) شامل ہے۔ اس کے بعد بلاسٹوسسٹ کی تشکیل اور نمو اور رحمی دیوار پر اس کی تنصیب (اِمپلانٹیشن)، (جنین کا ارتقا)(Gestation) اور بچے کا جننا (پارچورِشن) عمل میں آتا ہے۔ آپ نے پڑھا ہے کہ یہ تولیدی واقعات بلوغت کے بعد ہی واقع ہوسکتے ہیں نر اور مادہ کے تولیدی واقعات کے درمیان نمایاں فرق ہوتے ہیں، مثلاً اسپرم کا بننا بوڑھے لوگوں میں بھی جاری رہتا ہے لیکن عورتوں میں پچاس سال کی عمر کے آس پاس بیضہ کی تشکیل ختم ہو جاتی ہے۔ آئیے انسان میں نر اور مادہ تولیدی نظاموں کا مطالعہ کریں۔

3.1  نر کا تولیدی نظام

نرکاتولیدی نظام پیڑو کے حصے میں واقع ہوتا ہے (شکل 3.1a )۔ یہ معاون نالیوں (accessory ducts )، غدودوں (glands) اور بیرونی تناسل (external genitalia ) کے ساتھ ایک جوڑی انیثوں (testes) پر مشتمل ہوتا ہے۔
انثیے شکمی کہفہ کے باہر ایک تھیلی میں واقع ہوتے ہیں جسے اسکروٹم (scrotum) کہتے ہیں۔اسکروٹم انثیوں کا درجۂ حرارت کم رکھنے میں مدد کرتا ہے (اندرونی جسم کے نارمل درجہ حرارت کے مقابلے 2-2.5OC کم) جو اسپرمیٹوجینیسِس کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ بالغوں میں یہ انثیہ بناوٹ میں بیضوی ہوتا ہے جس کی لمبائی تقریباً 4 سے 5 سینٹی میٹر اور چوڑائی تقریباً 2 سے 3 سینٹی میٹر ہوتی ہے۔ ہر انشیے میں تقریباً 250 خانے ہوتے ہیں جنہیں ٹیسٹیکیولر لوبیولس (testicular lobules) کہتے ہیں۔شکل (3.1b) ۔
ہر لوبیول میں ایک سے تین بے حد پیچدار سیمینی فیرس ٹیبولس (seminiferous tubules) ہوتی ہیں جن میں اسپرمس پیدا کیے جاتے ہیں ۔ ہر سیمینی فیورس ٹبیول  میں اس کی اندر کی طرف دو قسم کے سیلس کا استر ہوتا ہے جنھیں نر جرم سیلس (male germ cells) (اسپرمیٹوگونیا : spermatogonia ) اور سرٹولی سیلس (sertoli cells) کہا جاتا ہے (شکل3.2)۔ نر جرم سیلس میں می اوٹک تقسیم ہوتی ہے جس سے بالآخر اسپرم تشکیل پاتے ہیں جبکہ سرٹولی سیلس جرم سیلس کو تغذیہ فراہم کرتے ہیں۔ سیمینی فیرس ٹبیولس کے باہر کا حصہ انٹراسٹیشیٔل اسپیسز(Interastial spaces) کہلاتا ہے جس میں خون کی چھوٹی نالیاں اور انٹراسٹیشیٔل سیلس (interstitial cells) یا لیڈگ سیلس (Leydig cells) ہوتے ہیں۔لیڈگ سیلز ٹیسٹی کیولر (Testicular) ہارمونوں کی تالیف اور ان کا افراز کرتے ہیں جنھیں اینڈروجنس (androgens) کہا جاتا ہے۔ دوسرے مدافعتی صلاحیت رکھنے والے سیلس بھی موجود ہوتے ہیں۔
pic 2 chapter 3

یوریٹر؍ سیمینل ویسایکل؍ پیشاب کا مثانہ؍ واس ڈیفرینس؍ پروسٹریٹ؍ قصیب؍ یوریتھرا؍ گلانس پینس؍ باہری چمڑی

انشیے؍ اسکروٹم

اجیکولیٹری نالی؍ ریکٹم؍ مقعد؍ یوریتھرل غدود

شکل 3.1(a)  تولیدی نظام دکھاتے ہوئے نر پیڑو کا شکلی سیکشنل منظر
pic 3 chapter 3

یوریٹر؍ وال ڈیفرینس؍ ایپی ڈٰ ڈائمیس؍ واساایفرینیشیا؍ ریٹ ٹیٹس؍ ٹیسٹیکولر بیولس؍ گلانس پینس

پیشاب کا مثانہ؍ سیمینل ویسایکل؍ پروسٹیٹ؍ بلبوپریتھل غدود؍ یوریتھرا؍ انشیہ؍ باہری چمڑی

شکل 3.1(b)  نر تولیدی نظام کا شکلی منظر (اندرونی تفصیلات دکھانے کے لیے انثیہ کا کچھ حصہ کھلا ہوا ہے)
نر کی جنسی معاون نالیوں میں ریٹ ٹیسٹیس (rete testis) ، واسا ایفیرینشیا (vasa efferentia) ، ایپی ڈی ڈائمس (epididymis) اور واس ڈیفیرینس (vas deferens) شامل ہوتی ہیں (شکل 3.1b)۔ انشیو کی سیمینی فیرس ٹبیولس ریٹ ٹیسٹیس سے ہو کر واسا ایفیرینشیا انشیوں سے نکلنے کے بعد ایپی ڈی ڈائمس میں کھلتی ہیں جو ہر انشیے کی پچھلی سطح پر واقع ہوتی ہیں۔ ایپی ڈی ڈائمس واس ڈیفیرینسس تک جاکر شکم کی طرف اوپر اٹھتی ہے اور پیشاب کے مثانے کے اوپر گھیرا ڈالتی ہے۔ جہاں سیمینل ویسایکل سے ملتی ہے اور بطور ایجیکولیٹری نالی کے یوریتھرا میں کھلتی ہے (شکل 3.1a)۔ یہ نالیاں اسپرمس کو ذخیرہ کرتی ہیں اور انھیں یوریتھرا کے ذریعے انشیوں کے باہر منتقل کر دیتی ہیں۔ یوریتھرا پیشاب کے مثانے سے شروع ہوتا ہے اور قضیب کے ذریعے اس کے بیرونی سوراخ تک بڑھ جاتا ہے جسے یوریتھرل می ایٹس (urethral meatus) کہتے ہیں۔
pic 4 chapter 3

اسٹرٹیشئل سیلس؍ اسپرمیٹوگونیا؍ اسپرمیٹزوا

شکل 3.2 سیمینی فیرس ٹبیولس کے شکلی سیکشنل منظر

قضیب نر بیرونی تناسلی نلی ہوتا ہے (شکل 3.1 a, b)۔ یہ ایک مخصوص ٹشو کا بنا ہوا ہوتا ہے جو قضیب کے استادہ ہونے میں مدد کرتی ہے تاکہ اِن سیمینیشن میں سہولت ہو۔ قضیب کا بڑھا ہوا سِرا حشفہ (گلانس پینس) کہلاتا ہے جو کھال کی ایک ڈھیلی پرت سے ڈھکا ہوتا ہے جسے غلف (foreskin) کہتے ہیں۔
نر اضافی غدودوں (شکل 3.1 a, b) میں جوڑی دار سیمینل ویزیکل (seminal vesicle)، ایک پروسٹیٹ (prostate) اور جوڑی دار بلبویوریتھرل (bulbourethoral) غدود شامل ہوتے ہیں۔ ان غدودوں کے افراز سیمینل پلازما (seminal plasma) بناتے ہیں جس میں کافی مقدار میں فروکٹوز ، کیلشیم اور چند اہم اینزائمس ہوتے ہیں۔ بلبولیوریتھرل غدودوں کے افراز قضیب کو چکنا بنانے میں بھی مدد کرتے ہیں۔

3.2  مادہ تولیدی نظام

مادہ تولیدی نظام ایک جوڑی بیض دانوں (ovaries) اور ساتھ میں ایک جوڑی بیضی نالیوں (oviducts) ، رحم (uterus)، سروِکس  (cervix)، مہبل (vagina) اور بیرونی تناسلی نلی پرمشتمل ہوتا ہے جو پیڑو کے حصے میں واقع ہوتی ہے (شکل3.3a)۔ایک جوڑی پستانی غدود (mammary glands) کے ساتھ نظام کے یہ حصے بیضگی (ovulation)، بارآوری ، حمل ، پیدائش اور بچے کی دیکھ بھال کی مدد کرنے کے لیے ساختی اور عملی اعتبار سے مشترک ہوتے ہیں۔ 
pic 5 chapter 3

رحم؍ پیشاب کا مثانہ؍ پیوبک سمفائی سس؍ یوریتھرا؍ کلائیٹورس؍ لیبئیم مائینوزا؍ ویجائنل سوراخ

سروِکس؍ ریکٹم؍ ویجائنا؍ مقعد

شکل 3.3(a)  تولیدی نظام دکھاتے ہوئے مادہ پیڑو کا تراش شدہ (شکلی) منظر
بیض دانی یا اووریز ابتدائی مادہ جنسی اعضاء ہیں جو مادہ گیمیٹس (بیضہ) اور کئی اٍسٹیرائیڈ ہارمونس (اوویرین ہارمونس) کا افراز کرتے ہیں۔ اووریز نچلے شکم کے دونوں طرف واقع ہوتی ہیں (شکل 3.3b)۔ ہر اووری لمبائی میں تقریباً 2 سے 4 سینٹی میٹر ہوتی ہے اور رباطوں (ligaments) کی مدد سے پیڑو کی دیوار اور رحم سے جڑی ہوتی ہے۔ اووری ایک پتلی ایپی تھیلیٔم سے ڈھکی ہوتی ہے جس کے اندر اوویریٔن اسٹروما (ovarian stroma) ہوتا ہے۔ اسٹروما دو علاقوں میں منقسم ہوتا ہے۔ ایک پیری فرل کورٹیکس (peripheral cortex) اور ایک اندرونی میڈولا (inner medula)۔
بیضی نالیاں (فیلوپیٔن ٹیوبس) ، رحم اور مہبل مادہ معاون نالیوں کی تشکیل کرتے ہیں۔ ہر فیلوپیٔن ٹیوب 10-12 سینٹی میٹر لمبی ہوتی ہے اور ہر اووری کے باہری حصے سے رحم تک جاتی ہے (شکل 3.3b)، اووری کے قریب کا حصہ قیف نما اِن فنڈیبیولم (infundibulum) ہوتا ہے۔ اِن فنڈیبیولم کے کناروں پر انگشت نما ابھار  نکلے ہوتے ہیں جو فِمبری (fimbriae) کہلاتے ہیں اور جو بیضگی کے بعد بیضہ اکٹھا کرنے میں مدد کرتے ہیں۔ اِن فنڈی بولم اووی ڈکٹ کے چوڑے حصے میں جاتا ہے جسے ایمپولا (ampula) کہتے ہیں۔ اووی ڈکٹ کا آخری حصے، اِستھمس (isthmus) میں ایک پتلا جوف ہوتا ہے جو رحم سے جڑ جاتا ہے۔
رحم ایک ہی ہوتا ہے اور اسے وومب (womb) بھی کہتے ہیں۔ رحم کی شکل ایک الٹی ناشپاتی جیسی ہوتی ہے۔ پیڑو کی دیوار سے جڑے رباط اسے سہارا دیتے ہیں۔ رحم ایک تنگ سروکس کے ذریعے مہبل(Vegina) میں کھلتا ہے۔ سروکس کے کہفے کو سروائکل کینال (cervical canal) کہتے ہیں (شکل 3.3b) جو ویجائنا کے ساتھ مل کر برتھ کینال بناتا ہے۔ رحم کی دیوار میں ٹشو کی تین پرتیں ہوتی ہیں۔ بیرونی جھلی جیسی پیری میٹریٔم (perimetrium)، درمیانی چکنے حصے کی بنی دبیز پرت مائیومیٹرئیم (myometrium) اور اندرونی غدودی پرت اینڈومیٹرئیم (endometrium) جو رحمی کہفے کی اندرونی سطح بناتی ہے۔ حیضی دور کے دوران اینڈومیٹرئیم میں  دوری یا سلسلہ وار تبدیلیاں ہوتی ہیں جبکہ مائیومیٹرئیم بچے کی زچگی کے دوران سخت سکڑن کا مظاہرہ کرتی ہے۔]
pic 6 chapter 3

فیلوپین ٹیوب۔

استھمس؍ ایمپولا؍ اِن فینڈی بولم؍ فِمبری؍ اووری

سروِکس؍ سروائیکل کینال؍ ویجائنا

یوٹیرائن کہفہ؍ اینڈومیٹرئم؍ مایومیٹرئم؍ پیری میٹرئم

شکل 3.3(b)  مادہ تولیدی نظام کا تراش شدہ (شکلی) منظر
مادہ بیرونی تناسلی نلی میں مونس پیوبس(Mons Pubis) ،لب لیر(Labia Majora)،لب صغیر(Labia Minora)،پردہ بکارت(Hymen) اور بظر(Cliloris)شامل ہوتے ہیں (شکل 3.3a)۔ مونس پیوبس (mons pubis) چربیلے ٹشو کی بنی ایک گدّی ہوتی ہے جو کھال اور شرمگاہی بالوں سے ڈھکی ہوتی ہے۔ لیبیا میجورا (labia majora) ٹشو کا عضلاتی ابھار ہوتا ہے جو مونس پیوبس تک بڑھے ہوتے ہیں اور ویجائنا کے سوراخ کو گھیرتے ہیں۔ لب صغیر لیبیا میجورا کے نیچے ٹشو کے جوڑی دار ابھار ہوتے ہیں۔ ویجائنا کا سوراخ اکثر جزوی طور پر ایک جھلّی سے ڈھکا رہتا ہے جسے ہائمین (hymen) کہتے ہیں۔ کلائیٹورِس (clitoris) ایک چھوٹی انگشت نما ساخت ہوتی ہے جو یوریتھرل سوراخ کے اوپر دونوں لیبیا مائینورا کے ملنے کی جگہ پر واقع ہوتی ہے۔ اکثر ہائمین پہلے اختلاط (مباشرت) کے دوران پھٹ جاتی ہے۔ البتہ یہ اچانک گرنے یا جھٹکے یاورزش کرنے ، بعض کھیلوں جیسے گھڑسواری یا سائکل چلانے وغیرہ سے بھی پھٹ سکتی ہے۔ بعض عورتوں میں ہائمین مباشرت کے بعد بھی برقرار رہتی ہے۔ در حقیقت ہائمین کی موجودگی یا عدم موجودگی کنوارے پن یا جنسی تجربے کی مناسب پہچان نہیں ہے۔
  ایک فعّال پستانی غدود تمام مادہ پستاینوں کی ایک خصوصیت ہے۔ پستانی غدود جوڑی دار ساختیں (پستان) ہوتی ہیں جن میں مختلف مقدار کی چربی والا غدودی ٹشو ہوتا ہے۔ ہر پستان کا غدودی ٹشو 20-15 میمیری لوبس (mammary lobes) میں منقسم ہوتا ہے جن میں خلیوں(Cells) کے گچھے ہوتے ہیں جو ایلویولائی (alveoli) کہلاتے ہیں (شکل 3.4) ایلویولائی کے خلیے دودھ کا افراز کرتے ہیں جو ایلویولائی کے کہفوں (Lumens) میں ذخیرہ ہو جاتا ہے۔ ایلویولائی میمیری ٹیوبس میں کھلتا ہیں۔ ہر لوب کی ٹیوبس مل کر میمیری ڈکٹ (mammary duct)بناتی ہیں۔ کئی میمیری ڈکٹس مل کر ایک چوڑا میمیری ایمپولا (mammary ampulla) بناتی ہیں یہ ایمپولا  لیکٹی فیرس ڈکٹ (lactiferous duct) سے جڑتا ہے جس کے ذریعے دودھ باہر چوس لیا جاتا ہے۔
pic 7 chapter 3

چرپی؍ پستانی گوشہ؍ پستانی جوف؍ پستانی نالی؍ ایمپولا؍ لیکٹی فیرس نالی؍ نِپل؍ ایری اولا

پسلی؍ پسلیوں کے درمیان کے عضلات؍ پیکٹوریلس میجورا عضلہ

شکل 3.4  پستانی غدود کی تراش (شکلی)

3.3  گیمیٹو جینیسِس (Gametogenesis) 

 نر میں انشیے اور مادہ میں بیض دانی (Ovaries) بنیادی جنسی اعضاء ہیں جو گیمیٹوجینیسِس یعنی بالتریتب اسپرمس اور اووم پیدا کرتے ہیں۔ انشیوں میں غیر پختہ نر جرم سیلس (اسپرمیٹوگونیا : spermatogonia ) اسپرمیٹوجینیسِس (spermatogensis) کے ذریعے بلوغت شروع ہونے پر اسپرمس پیدا کرتے ہیں۔ اسپرمیٹوگونیا (spermatogonia) (واحد اسپرمیٹوگونیٔم ، spermatogonium ) جو سیمینی فیرس ٹیوبس کی اندر کی دیوار پر موجود ہوتے ہیں مایٔٹوٹک تقسیم کر کے اپنی تعداد بڑھاتے ہیں۔ ہر اسپرمیٹوگونیٔم ڈیپلائیڈ ہوتا ہے اور اس میں 46کروموسومس ہوتے ہیں۔ کچھ اسپرمیٹوگوینا جنھیں پرائمری اسپرمیٹوسایٔٹس (primary spermatocytes) کہتے ہیں ان میں وقفے وقفے سے می اوسس ہوتا ہے۔ ایک پرائمری اسپرمیٹوسائٹ پہلی می اوٹک تقسیم (تخفیفی تقسیم) مکمل کرتا ہے جس سے دو مساوی ہیپلائیڈ سیلس تشکیل پاتے ہیں جنھیں سیکنڈری اسپرمیٹوسائٹس (secondary spermatocytes) کہا جاتا ہے اور جن میں سے ہر ایک میں صرف 23 کروموسومس ہوتے ہیں سیکنڈری اسپرمیٹوسائیٹس میں چار مساوی ہیپلائیڈ اسپرمیٹڈس (spermatids) بنانے کے لیے (شکل 3.5) دوسری می اوٹک تقسیم واقع ہوتی ہے۔ اسپرمیٹیڈس میں کروموسومس کی تعداد کیا ہوگی؟ اسپرمیٹڈس ایک عمل کے ذریعے جسے اسپرمیوجینیسِس (spermiogenesis) کہتے ہیں اسپرمیٹوزوا (اسپرمس) (spermatozoa (sperms)) میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ اسپرمیٹوجینیسِس کے بعد سپرم کے سر (sperm head) سرٹولی سیلس (sertoli cells) میں دھنس جاتے ہیں اور بالآخر ایک اسپرمی ایشن (spermiation) کے ذریعے سیمنی فیرس ٹیوبس کے باہر چھوڑ دیے جاتے ہیں۔
pic 8 chapter 3

اسپرمیٹوزوا؍ اسپرمیٹڈ؍ سیکنڈری اسپرمیٹوسائٹ؍ پرائمری اسپرمیٹوسائٹ؍ سرٹولی سیل؍ اسپرمیٹوگونئم

شکل 3.5  سیمینی فیرس ٹبیول کی تراش (شکلی)
اسپرمیٹوجینیسِس سِن بلوغت پر گونیڈوٹروپن ریلیزنگ ہارمون (gonadotropin releasing hormone (GnRH) کے افراز میں غیر معمولی اضافہ ہونے کی وجہ سے شروع ہوتا ہے۔ اگر آپ کو یاد ہو تو یہ ایک ہائیپوتھیلمک ہارمون (hypothalamic hormone) ہے۔ GnRH کی کثرت افراز پھر اگلے پیٹیوٹری غدود پر اثر انداز ہوتی ہے اور دو گونیڈوٹروپنس۔ لیوٹینائزلگ ہورمون LH اور فولیکل اسٹیمولیٹنگ ہارمون FSH کے افراز کو یقینی کرتی ہے۔LH لیڈگ سیلس پر اثرانداز ہوکر اینڈروجنس کی تالیف اور افراز کراتا ہے۔ بدلے میں اینڈروجنس اسپرمیٹوجینیسِس کے عمل کو تیز کر دیتے ہیں۔ FSH سرٹولی سیلس پر اثرانداز ہوکر بعض عناصر کے افراز میں تیزی پیدا کرتا ہے جو اسپرمیوجینیسِس کے عمل میں مدد کرتے ہیں۔
pic 9 chapter 3

ہیڈ؍ پلازما میمبرین؍ ایکروسوم؍ کروموسومل میٹیرئل کے ساتھ نیوکیلس؍ نیک؍ مڈل پیس؍ مائیٹوکونڈریا(تیرنے کے لیے توانائی کا وسیلہ)؍ ٹیل

شکل 3.6  ایک اسپرم کی ساخت
آئیے ایک اسپرم کی ساخت کا معائنہ کریں۔ یہ ایک خوردبینی ساخت ہے جو ایک ہیڈ (head) : گردن (neck)، ایک وسطی حصہ (middle piece) اور ایک ٹیل (tail) پرمشتمل ہوتی ہے (شکل 3.6)۔ پورے اسپرم کو ایک پلازما میمبرین (plasma membrane) لپیٹے رہتی ہے۔ اسپرم ہیڈ میں ایک لمبوترا ہیپلائیڈ نیوکلئیس ہوتا ہے جس کا اگلا حصہ ایک ٹوپی نما ساخت ، ایکروسوم (acrosome) سے ڈھکا ہوتا ہے۔ ایکروسوم میں اینزائمس بھرے ہوتے ہیں جو اووم کی بارآدری میں مدد کرتے ہیں۔ درمیانی حصہ میں بے شمار مائٹوکونڈریا ہوتے ہیں جو ٹیل کے حرکت کرنے کے لیے توانائی پیدا کرتے ہیں جس سے اسپرم کے حرکت کرنے میں سہولت ہوتی ہے اور جو بارآوری کے لیے ضروری ہوتی ہے۔ انسانی نر مباشرت کے دوران 200 سے 300 ملین اسپرمس باہر نکالتا ہے جن میں سے نارمل بارآوری کے لیے 60 فیصدی اسپرمس کا نارمل سائز اور بناوٹ ہونی چاہیے اور ان میں سے کم از کم 40 فیصد کا انتہائی متحرک ہونا ضروری ہے۔
سیمینی فیرس ٹیوبس سے نکلنے والے اسپرمس اضافی ڈکٹس کے ذریعے منتقل کیے جاتے ہیں۔ ایپی ڈی ڈائمس، واس ڈیفیرینس، سیمینل ویسایکل اور پروسٹریٹ کے افرازات اسپرمس کی پختگی اور ان کے متحرک ہونے کے لیے لازمی ہوتے ہیں۔ اسپرمس بمعہ سیمینل فلوئیڈ سیمن (semen) کی تشکیل کرتے ہیں۔ نر جنسی اضافی ڈکٹس اور غدودوں کی کارکردگی ٹیسٹیکولر ہارمونس (اینڈروجنس) کے ذریعے قائم رکھی جاتی ہے۔
ایک پختہ مادہ گیمیٹ کی تشکیل کا عمل اوجینیسِس (oogenesis) کہلاتا ہے جو اسپرمیٹوجینیسِس سے واضح طور پر مختلف ہوتا ہے۔ ایمبریونک نمو کے دوران تقریباً دو ملین گیمیٹ مدر سیلس (اوگونیا: oogonia) ہر جنینی (Fetal) اووری کے اندر بنتے ہیں تب اوجینیسِس کی ابتداء ہوتی ہے، بچے کی پیدائش کے بعد نہ تو کوئی مزید اوگونیا بنتے ہیں اور نہ ان میں اضافہ ہوتا ہے۔ ان سیلس میں تقسیم شروع ہوتی ہے اور وہ می اوٹک تقسیم کی پہلی حالت(Prophase-1) میں داخل ہو جاتے ہیں۔ اس حالت میں وہ عارضی طور پر رک جاتے ہیں اور پرائمری اوسائیٹس (primary oocytes) کہلاتے ہیں۔ تب ہر پرائمری اوسائٹ گرینولوسا (granulosa) سیلس کی ایک سطح سے گِھر جاتا ہے اور تب اُسے پرائمری فولیکل (primary follicle) کہتے ہیں (شکل 3.7)۔ پیدائش سے بلوغت کے عرصے میں ان فولیکس کی ایک بڑی تعداد ختم ہو جاتی ہے۔ اس لیے بلوغت پر ہر بیض دان(ovary) میں صرف 60,000 سے 80,000 پرائمری فولیکلس ہی باقی رہتے ہیں۔ پرائمری فولیکلس گرینولوسا سیلس کی مزیہ پرتوں اور ایک نئے تھیکا (theca) سے گھِر جاتے ہیں اور سیکنڈری فولیکلس (secondary follicles) کہلاتے ہیں۔
pic 10  chapter 3

خون کی نالیاں؍ پرائمری فولیکل؍ ٹرشیئری فولیکل (اینٹرم دکھاتے ہوئے)؍ اووم؍ کورپس لوٹیئم

شکل 3.7 اووری کا کی ساختی تراش (شکلی منظر) منظر
جلد ہی سیکنڈری فولیکل ایک ٹرشیٔری فولیکل (tertiary follicle) میں تبدیل ہو جاتا ہے جس میں ایک رقیق بھرا کہفہ ہوتا ہے جیسے اینٹرم (antrum) کہتے ہیں۔ تھیکا کی پرت ایک اندرونی تھیکا انٹرنا (theca interna) اور ایک بیرونی تھیکا ایکسٹرنا (theca externa) بناتی ہے۔ آپ کی توجہ مبذول کرانا ضروری ہے کہ یہی وہ حالت ہے جب ٹرشیٔری فولیکل کے اندر پرائمری اوسائٹ سائز میں بڑھتا ہے اور اپنی پہلی می اوٹک تقسیم کی تکمیل کرتا ہے۔ یہ ایک غیر مساوی تقسیم ہوتی ہے جس کے نتیجے میں ایک بڑی ہیپلائیڈ سیکنڈری اوسائٹ (secondary oocyte) اور ایک چھوٹا سا پولر جسم تشکیل پاتا ہے (شکل 3.8b)۔ سیکنڈری اوسائٹ پرائمری اوسائٹ سائٹوپلازم کا زیادہ حصہ قائم رکھتا ہے جو تعذیٔ اعبتار سے زیادہ مقوی ہوتا ہے۔ کیا آپ اس کا کوئی فائدہ سوچ سکتے ہیں؟ پہلی می اوٹک تقسیم پر بننے والاپہلا پولرجسم کیا مزید تقسیم ہوتا ہے یا زائل ہو جاتا ہے؟ ابھی ہم اس کے بارے میں یقین سے نہیں کہہ سکتے ۔ ٹرشیٔری فولیکل مزید تبدیل ہو کر پختہ فولیکل یا گریفیٔن فولفکل (Graafian follicle) بناتا ہے (شکل 3.7)۔ سیکنڈری اوسائیٹس اپنے اطراف میں ایک نئی جھلی، زونا پیلیوسیڈا (zona pellucida) بناتا ہے۔ اب گریفیٔن فولیکل پھٹتا ہے اور اوویولیشن (ovulation) کے ذریعے اووری سے سیکنڈری اوسائیٹس (اووم) چھوڑتا ہے۔ کیا آپ اسپرمیٹوجینیسِس اور اوجینیسِس کے درمیان خاص فرق شناخت کر سکتے ہیں؟ اسپرمیٹوجینیسِس اور اوجینیسِس کا ایک شکلی خاکہ ذیل میں دیا گیا ہے (شکل 3.8)۔
pic 11  chapter 3
شکل 3.8  قیاسی خاکہ (a) اسپرمٹیوجینیسِس (b)  اوجینیسِس

3.4  حیضی دور (Menstrual cycle) 

مادہ پرائمیٹس (یعنی بندر بن مانس اور انسان) میں تولیدی دور حیضی دور کہلاتا ہے۔ پہلا حیض بلوغت پر شروع ہوتا ہے جسے   منارکی (menarche) کہتے ہیں۔ انسانوں میں تقریباً 28 / 29 دن کے اوسط وقفے پر حیض دہرایا جاتا ہے اور واقعات کا دور جو پہلے حیض سے شروع ہو کر اگلے تک ہوتا ہے حیضی دور کہلاتا ہے۔ ہر حیضی دور کے وسط کے دوران ایک بیضہ  خارج ہوتا ہے (اوویولیشن : ovalution)۔ حیضی دور کے اہم وقائع شکل 3.9 میں دکھائے گیے ہیں۔ مینسٹروئل فیز (menstrual phase) سے دور شروع ہوتا ہے، جب حیض کا بہاؤ شروع ہوتا ہے اور وہ 5-3 دن تک جاری رہتا ہے۔ حیضی بہاؤ رحم کے اینڈومیٹرئل استر اور اس کی خون کی نالیوں کے ٹوٹ پھوٹ کے نتیجے میں ایک رقیق  بنتا ہے جو  ویجائنا سے باہر آجاتا ہے۔ حیض اسی وقت واقع ہوتا ہے جب چھوڑا گیا اووم بارآور نہ ہو۔ حیض کا نہ آنا حمل کا اشارہ ہو سکتا ہے۔ تاہم اس کے کچھ دوسرے اسباب بھی ہو سکتے ہیں جیسے دباؤ، کمزور صحت وغیرہ۔ حیضی دور کے بعد فولیکولر دور آتا ہے۔ اس دور میں اووری میں پرائمری فولیکلس ایک مکمل پختہ گریفیٔن فولیکل بننے کے لیے نشوونما پاتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ رحم کی اینڈومیٹرئیم پرولیفریشن (proliferation) کے ذریعے  از سر نو  ہوتی ہے۔ اووری اور رحم میں یہ تبدیلیاں پیٹوٹری اور اوویریٔن ہارمونس کی سطح میں تبدیلیاں آنے سے پیدا ہوتی ہیں (شکل 3.9)۔ گونیڈوٹراپنس (gonadotropins) (FSH اور LH) کا افراز فولیکولر فیز کے دوران بتدریج بڑھ جاتا ہے، اور نمو پذیر فولیکلس کے ذریعے فولیکولر نمو اور ساتھ ہی ایسٹروجن کے افراز کو بڑھاتا ہے۔ LH اور FSH دونوں حیضی دور کے دسط میں ایک ایسے افراز کی  انتہائی حد یا بلندی حاصل کرتے ہیں (تقریباً چودہویں دن)۔ LH کا تیز افراز وسط میں زیادہ سے زیادہ سطح پر پہنچتا ہے جو گرافین فالیکل کے پھوٹنے کے ذمہ دار ہیں جس سے بالآخر اووم نکلتے ہیں (اوویولیشن:ovulation)۔ اوویولیشن (اوویولیٹری فیز) کے بعد لیوٹیل(Luteal) فیز آتا ہے جس کے دوران گریفیٔن فولیکل کے بچے ہوئے حصے کورپس لیوٹیم (corpus luteum) میں تبدیل ہو جاتے ہیں (شکل 3.9)۔ کورپس لیوٹیٔم بڑی مقدار میں پروجیٹرون افراز کرتا ہے جو اینڈومیٹرئیم کو قائم رکھنے کے لیے لازمی ہے۔ ایسی ایک اینڈومیٹریٔم بارآور اووم کی تنصیب اور حمل کے دیگر وقائع کے لیے ضروری ہوتی ہے۔ حمل کے دوران حیضی دور کے تمام وقوع رک جاتے ہیں اور حیض نہیں آتا۔ بارآوری کی عدم موجودگی میں ، کورپس لیوٹیم تحلیل ہو جاتا ہے۔ اس سے اینڈومیٹریٔم کی ٹوٹ پھوٹ ہوتی ہے اور حیض آتا ہے جو نئے دور کی نشان دہی کرتا ہے۔ انسانوں میں حیضی دور 50 سال کی عمر کے آس پاس ختم ہو جاتا ہے جسے مینوپاز (menopaus) کہا جاتا ہے۔ حیضی دور نارمل تولیدی فیز کی ایک علامت ہے اور وہ  منارکی سے مینوپازتک جاتا ہے۔
pic 12  chapter 3
شکل 3.9  حیضی دور کے دوران مختلف وقوعات کا شکلی خاکہ 

3.5 بارآوری اور تنصیب

مباشرت کے دوران قضیب کے ذریعے مہبل(Vagina) میں نرمنویہ چھوڑا جاتا ہے (اِن سیمینیشن : insemination) متحرک اسپرمس تیزی سے تیرتے ہیں، سروکس سے گزر کر رحم میں داخل ہوتے ہیں اور بالآخر فیلوپیٔن ٹیوب کے اندر اووم کے ملنے کی جگہ پہنچ جاتے ہیں (شکل 3.11b) ۔ اووری کے ذریعے چھوڑا گیا اووم بھی (ایمپولری۔ استھمس جنکشن) پر منتقل کر دیا جاتا ہے جہاں بارآوری واقع ہوتی ہے۔ بارآوری اسی وقت واقع ہو سکتی ہے جب اووم اور اسپرمس ایمپولری۔ استھمس جنکشن پر ساتھ ساتھ منتقل کیے جائیں یہی وجہ ہے کہ تمام مباشرتی عملوں میں بارآوری اور حمل ضروری نہیں ہوتے۔
ایک اسپرم اور اووم کے باہمی انضمام کے عمل کو باروری یافرٹیلائزیشن (fertilisation) کہتے ہیں۔ بارآوری کے دوران ایک اسپرم اووم کی zona pellucida نامی پرت کے رابطے میں آتا ہے (شکل 3.10)اور جھلی میں تبدیلیاں پیدا کر دیتا ہے جو اضافی اسپرمس کے داخلے کو روک دیتی ہیں۔ پس وہ اس بات کو یقینی بنا دیتا ہے کہ صرف ایک اسپرم ہی ایک اووم کو بارآور کر سکتا ہے۔ ایکروسوم کے افراز اسپرم کو اووم کے سایٔٹوپلازم میں زونا پیلیوسیڈا اور پلازما جھلی کے راستے داخل ہونے میں مدد کرتے ہیں یہ سیکنڈری اوسائٹ کی می اوٹک تقسیم کو تکمیل کی ترغیب دیتا ہے۔ دوسری می اوٹک تقسیم بھی غیر مساوی ہوتی ہے جس کے نتیجے میں ایک  ثانوی پولر باڈی (second polar body) اور ایک ہیپلائیڈ اووم (اوٹڈ : ootid) کی تشکیل ہوتی ہے۔ جلد ہی اسپرمس کی ہیپلائیڈ نیوکلیٔس اووم کی ہیپلایٔڈ نیوکلیٔس میں ضم ہو کر ایک ڈپلائیڈ زایٔگوٹ (zygote) بنا دیتی ہے۔ ایک زایٔگوٹ میں کتنے کروموسومس ہوں گے؟
pic 13  chapter 3

اسپرم؍ کوروناریڈی ایٹا سیلس؍ پیری وایٹلائن اسپیس؍ زونا پیلیوسیڈا

شکل 3.10  اووم چند اسپرمس سے گھِرا ہوا

یاد رکھنے کی بات ہے کہ بچے کی جنس کا فیصلہ اسی مرحلے پر ہوتا ہے۔ آئیے دیکھیں کیسے؟ جیسا کہ آپ جانتے ہیں انسانی مادہ میں جنسی کروموسومس کی وضع xx اور نر میں xyہوتی ہے۔ اس لیے مادہ (اووا) کے ذریعے پیدا کیے گیے تمام ہیپلایٔڈ گیمیٹس میں جنسی کروموسوم  x ہوتا ہے جبکہ نر گیمیٹس (اسپرمس) میں جنسی کروموسوم یا تو x یا y ہو سکتا ہے، پس 50 فیصدی اسپرمس میں x اور دیگر 50 فیصدی میں y کروموسوم ہوتا ہے۔ نر اور مادہ گیمیٹس کے انضمام کے بعد زایٔگوٹ میں یا تو xx یا xy کروموسومس ہوں  گے جس کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ اووم کو x والے با پھر y والے اسپرمیٹوزوا میں سے کس نے نے بارآور کیا۔ وہ زایٔگوٹ جس میں xx کوموسومس ہوں  گے وہ مادہ بچے میں نمو پائے گا اور xy والے کروموسومس سے نر بنے گا۔ (آپ باب 5 میں کروموسوم کی وضع کے بارے میں باب 5میں مزید پڑھیں گے۔) یہی وجہ ہے کہ سائنسی طور پر یہ کہنا صحیح ہے کہ بچیّ کی جنس باپ متعیٔن کرتا ہے نہ کہ ماں! 
pic 14  chapter 3
شکل 3.11 اووم کی منتقلی، بارآوری اور فیلوپیٔن ٹیوب سے گزرتا ہوا نموپذیر ایمبریو کا راستہ

جیسے ہی زائیگوٹ اووی ڈکٹ کے اِستھمس کے ذریعے جسے کلیویج (cleavage) کہتے ہیں رحم کی جانب حرکت کرتا ہے (شکل 3.11) اور 2،4،8،16 دختر سیل بناتا ہے جو بلاسٹومیٹرس (blastomeres) کہلاتے ہیں، مایٔٹوٹک تقسیم شروع ہو جاتی ہے۔ 8 سے 16 بلاسٹومیٹرس والا ایمبریو ایک موریولا (morula) کہلاتا ہے (شکل 3.11g)۔ بلاسٹوسٹ میں بلاسٹومیئرس ایک بیرونی پرت ، ٹروفوبلاسٹ (trophoblast) اور اس سے جڑے ہوئے سیلس کے اندرونی گروہ میں ترتیب پاتے ہیں جسے اندرونی خلوی کمیت (inner cell mass)  کہتے ہیں۔ تب ٹروفوبلاسٹ پرت اینڈومیٹریٔم سے جڑ جاتی ہے اور خلوی کمیت کی تفریق بطور ایمبریو وا ہو جاتی ہے۔ جڑنے کے بعد رحمی سیلس تیزی سے تقسیم ہوتے ہیں اور بلاسٹوسسٹ کو ڈھک لیتے ہیں۔ نتیجتاً بلاسٹوسسٹ رحم کی اینڈومیٹریٔم میں دھنس جاتا ہے (شکل 3.11h)۔ اِسے امپلانٹیشن (implantation: تنصیب) کہتے ہیں جس سے حمل ٹھہرتاہے۔ 

3.6  حمل اور ایمیریونک نمو

تنصیب کے بعد ٹروفوبلاسٹ پر انگشت نما زائدے(Projections) پیدا ہو جاتے ہیں جو کوری اونک وِلائی (chlorionic villi) کہلاتے ہیں اور رحمی ٹشو اور مادری خون سے گھِرے رہتے ہیں۔ کوری اونک وِلائی بتدریج بڑھ کر ماں کے رحمی تشورس پیوست ہوجاتے ہیں اور نمو پذیر ایمبریو (جنین) اور ماں کے جسم کے درمیان ایک ساخت اور عملی اکائی بناتے ہیں جسے پلیزینٹا (placenta) کہتے ہیں (شکل 3.12) ۔
  پلیسنٹا ایمبریو کو آکسیجن اور تغذیات کی فراہمی میں اور ایمبریو کے ذریعے پیدا کی گئی کار بن ڈالی آکسائیڈ اور دیگر فاضل اشیا کو باہر نکالنے میں بھی سہولت دیتا ہے۔ پلیزینٹا ایک امبلیکل کورڈ(umbilical cord) کے ذریعے ایمبریو سے جڑا ہوتا ہے جو اشیا کو ایمبریو تک لانے لے جانے میں مدد کرتا ہے۔ پلیزینٹا ایک اینڈوکرایٔن ٹشو کے طور پر بھی کام کرتا ہے۔ کئی ہارمونس جیسے ہیومین کوری اونک گونیڈوٹروین (ایچ سی جی) (human chlorionic gonadotropin)، ہیومین پلیزینٹل لیکٹوجن (ایچ پی ایل) (human placental lactogen) ، ایسٹروجن (estrogen) اور پروجیسٹوجن (progestogen) وغیرہ پیدا کرتا ہے۔ حمل کے بعد والے فیز میں اووری (ovary)کے ذریعے ایک ہارمون جسے ریلیکسِن (relaxin) کہتے ہیں وہ بھی افراز کیا جاتا ہے۔ یاد رکھیں کہ HPL، HCG اور ریلیکسن عورتوں میں صرف حمل کے دوران ہی پیدا ہوتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی حمل کے دوران ماں کے خون میں دوسرے ہارمونس جیسے ایسٹروجن، پروجیسٹوجن، کورٹی سول، پرولیکٹن، تھائروکسن وغیرہ کی سطح بھی کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ ان ہارمونس کی بڑھی ہوئی مقدار جنین کی نشوونما، ماں میں تحویلی تبدیلیوں اور حمل کو قائم رکھنے کے لیے ضروری ہوتی ہے۔
تنصیب کے فوراً بعد اندرونی سیل ماس (ایمبریو) ایک باہری پرت ایکٹوڈرم (ectoderm) اور ایک اندرونی پرت اینڈوڈرم (endoderm) میں تفریق پا جاتاہے۔ جلد ہی ایکٹوڈرم اور اینڈوڈرم کے درمیان ایک میزوڈرم (mesoderm) ظاہر ہو جاتی ہے۔ یہ تینوں پرتیں بالغوں میں تمام ٹشوز یا اعضاء کو بناتی ہیں۔ یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ اندرونی سیل ماس کچھ ایسے خلیے ہوتے ہیں جنھیں اسٹیم (stem) سیلس کہتے ہیں جن میں تمام ٹشوز اور اعضا کو بنانے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ 
pic 15  chapter 3

پلیزینٹل وِلائی؍ رحم کا کہفہ؍ یوک سیک؍ ایمبریو؍ سروِکس میں میوکسی پلگ؍ اپنی نالیوں کے ساتھ اُمبیکل کورڈ

شکل 3.12  رحم کے اندر انسانی جنین

حمل کے مختلف مہینوں میں ایمبریونک نمو کی اہم خصوصیات کیا ہوتی ہیں؟ انسانی حمل کی مدت 9 ماہ کی ہوتی ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ کتوں، ہاتھیوں اور بلیوں میں حمل کی مدت کتنی ہوتی ہے؟ معلوم کیجیے۔ انسانوں میں حمل کے ایک ماہ بعد ایمبریو کا دل بن جاتا ہے۔ نموپذیر جنین کی پہلی نشانی کو اسٹیتھو اسکوپ کے ذریعے دل کی آواز سن کر معلوم کیا جا سکتا ہے۔ حمل کے دوسرے مہینے کے آخر تک جنین میں بازو اور انگلیاں نمو پا جاتی ہیں۔ 12 ہفتوں کے اختتام پر (پہلا سہ ماہی) زیادہ تر اہم عضوی نظام بن جاتے ہیں ۔ مثال کے طور پر ہاتھ پیر اور بیرونی اعضائے تناسل اچھی طرح نمو پا جاتے ہیں۔ پانچویں مہینے کے دوران عموماً جنین کی اولین حرکات اور سر پر بالوں کے ظاہر ہونے کا مشاہدہ ہوتا ہے۔ 24 ہفتوں کے اختتام پر (دوسری سہ ماہی ) جسم باریک بالوں سے ڈھک جاتا ہے، آنکھوں کے پپوٹے الگ ہو جاتے ہیں اور پلکیں آ جاتی ہیں۔ حمل کے نو مہینے کے اختتام پر جنین پوری طرح نمویافتہ اور پیدائش کے لیے تیار ہوتا ہے۔

3.7  وضع حمل اور شیرآوری 

انسانی حمل کی اوسط مدت تقریباً 9 ماہ ہوتی ہے جسے زمانہ حمل (gestation period) کہا جاتا ہے۔ حمل کے اختتام پر رحم کا شدید سکڑاؤ بچہ کی پیدائش کا سبب بنتا ہے۔ جین یا بچہ کی پیدائش کے اس عمل  کو پارچوریشن (parturition) کہتے ہیں۔ پارچوریشن کو پیچیدہ نیورواینڈوکرائن میکینزم کے ذریعے عمل میں لایا جاتا ہے۔ پورے طور پر نمو یافتہ جنین اور پلیزینٹا سے پارچوریشن کے لیے اشارے ملتے ہیں جن سے ہلکے رحمی سکڑاؤ  شروع ہوتے ہیں جسے فیٹل ایجیکشن رِفلیکس (foetal ejection reflex) کہتے ہیں۔ اس سے ماں کے پٹیوٹری سے اوکزی ٹوسن (oxytocin) نکلنے لگتی ہے۔ اوکزی ٹوسن رحمی عضلات پر اثر انداز  ہو کر شدید رحمی سکڑاؤ کا سبب بنتی ہے جو بدلے میں مزید اوکزی ٹوسن کے افراز کو تحریک ویتے ہیں۔ رحمی سکڑاؤ اور اوکزی ٹوسن کے افراز جاری رہتا ہے جس کا نتیجہ شدید اور مزید شدید سکڑاؤ ہوتا ہے۔ اس سے بچہ پیدائشی نالی کے ذریعے رحم سے باہر نکل آتا ہے۔ اسے پارچوریشن کہتے ہیں۔ نوزاد کی پیدائش کے فوراً بعد ، بلسینٹا بھی رحم سے باہر نکل آتا ہے۔ آپ کیا سوچتے ہیں کہ ڈاکٹر پیدائش کے عمل کو تیز کرنے  کے لیے کیا انجکشن دیتے ہیں؟
حمل کے دوران مادہ کے پستانی غدود میں تفریق شروع ہوجاتی ہے اور حمل کے اختتام تک دودھ بننا شروع ہو جاتا ہے۔اس عمل کو لیکٹیشن (lactation) کہتے ہیں اس سے ماں کو نومولود کا پیٹ بھرنے میں مدد ملتی ہے۔ لیکٹیشن کے ابتدائی چند روز کے دوران جو دودھ پیدا ہوتا ہے اسے کولوسٹرم (colostrum) کہتے ہیں جس میں کئی قسم کی اینٹی بوڈیز ہوتی ہیں جو نومولود بچوں میں مدافعت پیدا کرنے کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔ نومولود کی نشوونما کے ابتدائی عرصے کے دوران صحت مند بچے کی پرورش کے لیے ڈاکٹر ماں کا دودھ دینے کی سفارش کرتے ہیں۔ 

خلاصہ 

انسان جنسی تولید کرنے اور بچے پیدا کرنے والے ہیں۔ نر تولیدی نظام ایک جوڑی انثیوں، نر جنسی معاون نالیوں ، معاون غدودوں اور بیرونی تناسلی اعضا پر مشتمل ہوتا ہے۔ ہر انشیے میں تقریباً 250 خانے ہوتے ہیں ان کو  ٹیسٹی کولر لوبیولس کہتے ہیں اور ہر لوبیول میں ایک سے تین انتہائی پیچدار سیمینی فیرس ٹبیولس ہوتی ہیں۔ ہر سیمینی فیرس کے اندر کی طرف اسپرمیٹوگونیا اور سرٹولی سیلس کا استر ہوتا ہے۔ ہر اسپرمیٹوگونیا میں می اوٹک تقسیم سے اسپرم تشکیل پاتے ہیں جبکہ سرٹولی سیلس تقسیم ہو رہے تناسلی سیلس کو تغذیہ فراہم کرتے ہیں۔ سیمینی فیرس ٹیوبس کے باہر لیڈگ سیلس ٹیسٹیکولر ہارمونس تالیف اور افراز کرتے ہیں جو اینڈروجنس کہلاتے ہیں۔ نر بیرونی تناسلی نلی قضیب کہلاتا ہے۔ 
مادہ تولیدی نظام ایک جوڑی اووریز، ایک جوڑی بیض دان( اووی ڈکٹس)، ایک رحم ، ایک  مہبل، بیرونی تناسلی نلی اور ایک جوڑی میمیری غدودوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ اووریز مادہ گیمیٹ (اووم) اور کچھ اسٹیرائیڈ ہارمونس (اوویریٔن ہارمونس) پیدا کرتی ہیں۔ اوویریٔن فولیکلس نمو کی مختلف حالتوں اسٹروما میں دھنسی ہوتی ہیں۔ اووی ڈکٹس، رحم اور مہبل مادہ معاون ڈکٹس ہیں۔ رحم میں تین پر تیں ہوتی ہیں جن کے نام ہیں پیری میٹریٔم ، مائیومیٹرئیم اور اینڈومیٹرئیم۔ مادہ بیرونی تناسلی نلی میں مونس پیوبس ، لیبیا میجورا، لیبیا مائینورا، ہایٔمین اور کلائٹورِس شامل ہیں۔ میمیری غدود مادہ کی ثانوی جنسی خصوصیات میں سے ایک ہے۔
اسپرمیٹوجینیسِس کے نتیجے میں اِسپرمس کی تشکیل ہوتی ہے جن کی منتقلی نر جنسی اضافی ڈکٹس کے ذریعے ہوتی ہے۔ ایک نارمل انسانی اسپرم ایک سرے ، گردن، ایک درمیانی پیس اور دم پر مشتمل ہوتا ہے۔ پختہ مادہ گیمیٹس کی تشکیل کا عمل اوجینفسِس کہلاتا ہے۔ مادہ پرائمیٹس کے تولیدی دور کو حیضی دور کہا جاتا ہے۔ حیضی دور صرف جنسی پختگی (بلوغت) کے حصول کے بعد ہی شروع ہوتا ہے اوویولیشن کے دوران صرف ایک اووم فی حیضی دور ہی چھوڑا جاتا ہے۔ اووری اور رحم میں حیضی دور کے دوران وقفہ دار تبدیلیوں کو پٹیوٹری اور اوویریٔن ہارمونس کی مقدار میں تبدیلیوں سے عمل پذیری کی ترغیب ملتی ہے۔ مباشرت کے بعد اسپرمس استھمس اور ایمپولا کے جنکشن پر منتقل کر دیے جاتے ہیں جہاں اسپرم اووم کو بارآور کرتا ہے جس سے ایک ڈپلایٔڈ زائیگوٹ تشکیل پاتا ہے۔ اسپرم میں x یا y کروموسومس کی موجودگی ایمبریو کی جنس کا تعین کرتی ہے۔ زائیگوٹ میں بلاسٹوسٹ بنانے کے لیے پے در پے مائٹوٹک تقسیم ہوتی ہے بلاسٹوسیٹ کی رحم میں تنصیب ہو جاتی ہے اور نتیجتاً حمل ہو جاتا ہے۔ حمل کے نو مہینے بعد، مکمل طور پر نمو یا فتہ جنین پیدائش کے لیے تیار ہوتا ہے۔ بچے کی پیدائش کے عمل کو پارچوریشن کہتے ہیں جس کی ترغیب ایک پیچیدہ نیورواینڈوکرایٔن میکینزم کے ذریعہ ہوتی ہے اور اس میں کورٹی سول، ایسٹروجن اور اوکزی ٹوسِن حصہ لیتے ہیں۔ حمل کے دوران پستانی غدود نمایاں ہو جاتے ہیں اور بچے کی پیدائش کے بعد دودھ کا افراز کرتے ہیں۔ نومولود کو اپنی نشوونما کے ابتدائی چند مہینوں کے دوران ماں دودھ پلاتی ہے (لیکٹیشن) ۔

مشق

خالی جگہوں کو بھریے:

(a)   انسان ____________ تولید کرتے ہیں ۔(غیر جنسی/ جنسی)
(b)   انسان ____________ہوتے ہیں ۔ (انڈے دینے والے/ بچے دینے والے/ انڈے بچے دینے والے)
(c)   انسانوں میں بارآوری ____________ہوتی ہے ۔ (بیرونی/ اندرونی)
(d)   نر اور مادہ گیمیٹس ____________ہوتے ہیں۔ (ڈپلائیڈ / ہیپلائیڈ)
(e)   زائیگوٹ ____________ہوتا ہے۔ (ڈپلائیڈ / ہیپلائیڈ)
(f)   ایک پختہ فولیکل سے اووم چھوڑے جانے کے عمل کو ____________کہتے ہیں۔ 
(g) ____________ ہارمون کے ذریعے اوویولیشن کی ترغیب ملتی ہے۔
(h)   نر اور مادہ گیمیٹس کے انضمام کو ____________کہتے ہیں۔ 
(i)   زائیگوٹ ____________بنانے کے لیے تقسیم ہوتا ہے جو رحم میں نصب ہو جاتا ہے۔
(j)   بارآوری ____________میں ہوتی ہے۔
(k) وہ ساخت جو جنین اور رحم کے درمیان خون کی سپلائی کا رابطہ فراہم کرتی ہے اسے __________کہتے ہیں۔ 

2۔ نر تولیدی نظام کی ایک لیبل کی  ہوئی شکل بنائے۔
3۔ مادہ تولیدی نظام کی ایک لیبل کی ہوئی شکل بنائیے۔
4۔ انشیوں اور اووری میں سے ہر ایک کے دو اہم کام لکھیے۔
5 ۔ سیمینی فیرس ٹبیول کی ساخت بیان کیجیے۔
6۔  اسپرمیٹوجینیسِس کیا ہوتا ہے؟ اسپرمیٹو جینیسِس کا عمل مختصراً بیان کیجیے۔
7 ۔ اس ہارمون کا نام بتایے جس سے اسپرمیٹوجینیسِس کا عمل کنٹرول ہوتا ہے۔ 
8 ۔ اسپرمیو جینیسِس اور اسپرمی ایشن کی تعریف کیجیے۔
9 ۔ اسپرم کی ایک لیبل کی ہوئی شکل بنائیے۔
10۔ سیمینل پلازما کے اہم اجزا کیا ہوتے ہیں؟
11۔ نر اضافی ڈکٹس اور غدودوں کے اہم کام کیا ہوتے ہیں؟
12۔ اوجینیسِس کیا ہوتا ہے؟ اوجینیسِس کا مختصر ذکر کیجیے۔
13۔ اووری کے ایک تراش کی لیبل کی ہوئی شکل بنائیے۔
14 ۔ گریفیٔن فولیکل کی لیبل کی ہوئی ہوئی شکل بنائیے۔
15 ۔ حسب ذیل کے کاموں کا نام بتائیے:
 (a) کورپس لیوٹیم
(b) اینڈومیٹریم
(c) ایکروسوم
(d) اسپرم سیل
(e) فیمبری
16 ۔ صحیح/ غلط بیان کی نشان دہی کیجیے۔ ہر غلط بیان کو صحیح کرنے کے لیے اس کی اصلاح کیجیے:
(a) اینڈروجنس سرٹولی سیلس کے ذریعے پیدا کیے جاتے ہیں۔ (صحیح / غلط)
(b) اسپرمیٹوزوا کو تغذیہ سرٹولی سیلس سے ملتا ہے ۔ (صحیح / غلط)
(c)  لیڈگ سیلس اووری میں پائے جاتے ہیں۔ (صحیح / غلط)
(d)  لیڈگ سیلس اینڈروجنس تالیف کرتے ہیں۔ (صحیح / غلط)
(e)  اوجینیسِس کورپس لیوٹیم میں واقع ہوتا ہے۔ (صحیح / غلط)
(f)  حمل کے دوران حیضی دور حتم ہو جاتا ہے۔ (صحیح / غلط)
(g) ہائمین کی موجودگی یا غیر موجودگی کنوارے پن یا جنسی تجربے کی قابل اعتماد علامت نہیں ہے۔ (صحیح / غلط)
17 ۔ حیضی دور کیا ہوتا ہے ؟ حیضی دور کو کون سا ہارمون کنٹرول کرتا ہے۔
18 ۔  پارچوریشن کیا ہوتا ہے؟ پارچوریشن کی ترغیب میں کون سے ہارمون شامل ہیں؟
19۔ ہمارے سماج میں اکثر عورتوں کو بیٹیو ں کی پیدائش کے لیے الزام دیا جاتا ہے۔ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ یہ کیوں صحیح نہیں ہے۔
20۔  ایک انسانی اووری ایک مہینے میں کتنے انڈے چھوڑتی ہے؟ اگر ماں مماثل جڑواں پیدا کرے تو آپ  کے خیال میں کتنے انڈے چھوڑے گیے ہوں گے؟ اگر جڑواں بچے بھائی پیدا ہوئے ہوں تو کیا آپ کا جواب بدل جائے گا؟
21۔ آپ کے خیال سے ایک مادہ کتیا کی اووری سے کتنے انڈے نکلے ہوں گے جس نے 6 بچوں کو جنم دیا؟