3.6 حمل اور ایمیریونک نمو
تنصیب کے بعد ٹروفوبلاسٹ پر انگشت نما زائدے(Projections) پیدا ہو جاتے ہیں جو کوری اونک وِلائی (chlorionic villi) کہلاتے ہیں اور رحمی ٹشو اور مادری خون سے گھِرے رہتے ہیں۔ کوری اونک وِلائی بتدریج بڑھ کر ماں کے رحمی تشورس پیوست ہوجاتے ہیں اور نمو پذیر ایمبریو (جنین) اور ماں کے جسم کے درمیان ایک ساخت اور عملی اکائی بناتے ہیں جسے پلیزینٹا (placenta) کہتے ہیں (شکل 3.12) ۔
پلیسنٹا ایمبریو کو آکسیجن اور تغذیات کی فراہمی میں اور ایمبریو کے ذریعے پیدا کی گئی کار بن ڈالی آکسائیڈ اور دیگر فاضل اشیا کو باہر نکالنے میں بھی سہولت دیتا ہے۔ پلیزینٹا ایک امبلیکل کورڈ(umbilical cord) کے ذریعے ایمبریو سے جڑا ہوتا ہے جو اشیا کو ایمبریو تک لانے لے جانے میں مدد کرتا ہے۔ پلیزینٹا ایک اینڈوکرایٔن ٹشو کے طور پر بھی کام کرتا ہے۔ کئی ہارمونس جیسے ہیومین کوری اونک گونیڈوٹروین (ایچ سی جی) (human chlorionic gonadotropin)، ہیومین پلیزینٹل لیکٹوجن (ایچ پی ایل) (human placental lactogen) ، ایسٹروجن (estrogen) اور پروجیسٹوجن (progestogen) وغیرہ پیدا کرتا ہے۔ حمل کے بعد والے فیز میں اووری (ovary)کے ذریعے ایک ہارمون جسے ریلیکسِن (relaxin) کہتے ہیں وہ بھی افراز کیا جاتا ہے۔ یاد رکھیں کہ HPL، HCG اور ریلیکسن عورتوں میں صرف حمل کے دوران ہی پیدا ہوتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی حمل کے دوران ماں کے خون میں دوسرے ہارمونس جیسے ایسٹروجن، پروجیسٹوجن، کورٹی سول، پرولیکٹن، تھائروکسن وغیرہ کی سطح بھی کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ ان ہارمونس کی بڑھی ہوئی مقدار جنین کی نشوونما، ماں میں تحویلی تبدیلیوں اور حمل کو قائم رکھنے کے لیے ضروری ہوتی ہے۔
تنصیب کے فوراً بعد اندرونی سیل ماس (ایمبریو) ایک باہری پرت ایکٹوڈرم (ectoderm) اور ایک اندرونی پرت اینڈوڈرم (endoderm) میں تفریق پا جاتاہے۔ جلد ہی ایکٹوڈرم اور اینڈوڈرم کے درمیان ایک میزوڈرم (mesoderm) ظاہر ہو جاتی ہے۔ یہ تینوں پرتیں بالغوں میں تمام ٹشوز یا اعضاء کو بناتی ہیں۔ یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ اندرونی سیل ماس کچھ ایسے خلیے ہوتے ہیں جنھیں اسٹیم (stem) سیلس کہتے ہیں جن میں تمام ٹشوز اور اعضا کو بنانے کی صلاحیت ہوتی ہے۔
پلیزینٹل وِلائی؍ رحم کا کہفہ؍ یوک سیک؍ ایمبریو؍ سروِکس میں میوکسی پلگ؍ اپنی نالیوں کے ساتھ اُمبیکل کورڈ
شکل 3.12 رحم کے اندر انسانی جنین
حمل کے مختلف مہینوں میں ایمبریونک نمو کی اہم خصوصیات کیا ہوتی ہیں؟ انسانی حمل کی مدت 9 ماہ کی ہوتی ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ کتوں، ہاتھیوں اور بلیوں میں حمل کی مدت کتنی ہوتی ہے؟ معلوم کیجیے۔ انسانوں میں حمل کے ایک ماہ بعد ایمبریو کا دل بن جاتا ہے۔ نموپذیر جنین کی پہلی نشانی کو اسٹیتھو اسکوپ کے ذریعے دل کی آواز سن کر معلوم کیا جا سکتا ہے۔ حمل کے دوسرے مہینے کے آخر تک جنین میں بازو اور انگلیاں نمو پا جاتی ہیں۔ 12 ہفتوں کے اختتام پر (پہلا سہ ماہی) زیادہ تر اہم عضوی نظام بن جاتے ہیں ۔ مثال کے طور پر ہاتھ پیر اور بیرونی اعضائے تناسل اچھی طرح نمو پا جاتے ہیں۔ پانچویں مہینے کے دوران عموماً جنین کی اولین حرکات اور سر پر بالوں کے ظاہر ہونے کا مشاہدہ ہوتا ہے۔ 24 ہفتوں کے اختتام پر (دوسری سہ ماہی ) جسم باریک بالوں سے ڈھک جاتا ہے، آنکھوں کے پپوٹے الگ ہو جاتے ہیں اور پلکیں آ جاتی ہیں۔ حمل کے نو مہینے کے اختتام پر جنین پوری طرح نمویافتہ اور پیدائش کے لیے تیار ہوتا ہے۔
3.7 وضع حمل اور شیرآوری
انسانی حمل کی اوسط مدت تقریباً 9 ماہ ہوتی ہے جسے زمانہ حمل (gestation period) کہا جاتا ہے۔ حمل کے اختتام پر رحم کا شدید سکڑاؤ بچہ کی پیدائش کا سبب بنتا ہے۔ جین یا بچہ کی پیدائش کے اس عمل کو پارچوریشن (parturition) کہتے ہیں۔ پارچوریشن کو پیچیدہ نیورواینڈوکرائن میکینزم کے ذریعے عمل میں لایا جاتا ہے۔ پورے طور پر نمو یافتہ جنین اور پلیزینٹا سے پارچوریشن کے لیے اشارے ملتے ہیں جن سے ہلکے رحمی سکڑاؤ شروع ہوتے ہیں جسے فیٹل ایجیکشن رِفلیکس (foetal ejection reflex) کہتے ہیں۔ اس سے ماں کے پٹیوٹری سے اوکزی ٹوسن (oxytocin) نکلنے لگتی ہے۔ اوکزی ٹوسن رحمی عضلات پر اثر انداز ہو کر شدید رحمی سکڑاؤ کا سبب بنتی ہے جو بدلے میں مزید اوکزی ٹوسن کے افراز کو تحریک ویتے ہیں۔ رحمی سکڑاؤ اور اوکزی ٹوسن کے افراز جاری رہتا ہے جس کا نتیجہ شدید اور مزید شدید سکڑاؤ ہوتا ہے۔ اس سے بچہ پیدائشی نالی کے ذریعے رحم سے باہر نکل آتا ہے۔ اسے پارچوریشن کہتے ہیں۔ نوزاد کی پیدائش کے فوراً بعد ، بلسینٹا بھی رحم سے باہر نکل آتا ہے۔ آپ کیا سوچتے ہیں کہ ڈاکٹر پیدائش کے عمل کو تیز کرنے کے لیے کیا انجکشن دیتے ہیں؟
حمل کے دوران مادہ کے پستانی غدود میں تفریق شروع ہوجاتی ہے اور حمل کے اختتام تک دودھ بننا شروع ہو جاتا ہے۔اس عمل کو لیکٹیشن (lactation) کہتے ہیں اس سے ماں کو نومولود کا پیٹ بھرنے میں مدد ملتی ہے۔ لیکٹیشن کے ابتدائی چند روز کے دوران جو دودھ پیدا ہوتا ہے اسے کولوسٹرم (colostrum) کہتے ہیں جس میں کئی قسم کی اینٹی بوڈیز ہوتی ہیں جو نومولود بچوں میں مدافعت پیدا کرنے کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔ نومولود کی نشوونما کے ابتدائی عرصے کے دوران صحت مند بچے کی پرورش کے لیے ڈاکٹر ماں کا دودھ دینے کی سفارش کرتے ہیں۔
خلاصہ
انسان جنسی تولید کرنے اور بچے پیدا کرنے والے ہیں۔ نر تولیدی نظام ایک جوڑی انثیوں، نر جنسی معاون نالیوں ، معاون غدودوں اور بیرونی تناسلی اعضا پر مشتمل ہوتا ہے۔ ہر انشیے میں تقریباً 250 خانے ہوتے ہیں ان کو ٹیسٹی کولر لوبیولس کہتے ہیں اور ہر لوبیول میں ایک سے تین انتہائی پیچدار سیمینی فیرس ٹبیولس ہوتی ہیں۔ ہر سیمینی فیرس کے اندر کی طرف اسپرمیٹوگونیا اور سرٹولی سیلس کا استر ہوتا ہے۔ ہر اسپرمیٹوگونیا میں می اوٹک تقسیم سے اسپرم تشکیل پاتے ہیں جبکہ سرٹولی سیلس تقسیم ہو رہے تناسلی سیلس کو تغذیہ فراہم کرتے ہیں۔ سیمینی فیرس ٹیوبس کے باہر لیڈگ سیلس ٹیسٹیکولر ہارمونس تالیف اور افراز کرتے ہیں جو اینڈروجنس کہلاتے ہیں۔ نر بیرونی تناسلی نلی قضیب کہلاتا ہے۔
مادہ تولیدی نظام ایک جوڑی اووریز، ایک جوڑی بیض دان( اووی ڈکٹس)، ایک رحم ، ایک مہبل، بیرونی تناسلی نلی اور ایک جوڑی میمیری غدودوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ اووریز مادہ گیمیٹ (اووم) اور کچھ اسٹیرائیڈ ہارمونس (اوویریٔن ہارمونس) پیدا کرتی ہیں۔ اوویریٔن فولیکلس نمو کی مختلف حالتوں اسٹروما میں دھنسی ہوتی ہیں۔ اووی ڈکٹس، رحم اور مہبل مادہ معاون ڈکٹس ہیں۔ رحم میں تین پر تیں ہوتی ہیں جن کے نام ہیں پیری میٹریٔم ، مائیومیٹرئیم اور اینڈومیٹرئیم۔ مادہ بیرونی تناسلی نلی میں مونس پیوبس ، لیبیا میجورا، لیبیا مائینورا، ہایٔمین اور کلائٹورِس شامل ہیں۔ میمیری غدود مادہ کی ثانوی جنسی خصوصیات میں سے ایک ہے۔
اسپرمیٹوجینیسِس کے نتیجے میں اِسپرمس کی تشکیل ہوتی ہے جن کی منتقلی نر جنسی اضافی ڈکٹس کے ذریعے ہوتی ہے۔ ایک نارمل انسانی اسپرم ایک سرے ، گردن، ایک درمیانی پیس اور دم پر مشتمل ہوتا ہے۔ پختہ مادہ گیمیٹس کی تشکیل کا عمل اوجینفسِس کہلاتا ہے۔ مادہ پرائمیٹس کے تولیدی دور کو حیضی دور کہا جاتا ہے۔ حیضی دور صرف جنسی پختگی (بلوغت) کے حصول کے بعد ہی شروع ہوتا ہے اوویولیشن کے دوران صرف ایک اووم فی حیضی دور ہی چھوڑا جاتا ہے۔ اووری اور رحم میں حیضی دور کے دوران وقفہ دار تبدیلیوں کو پٹیوٹری اور اوویریٔن ہارمونس کی مقدار میں تبدیلیوں سے عمل پذیری کی ترغیب ملتی ہے۔ مباشرت کے بعد اسپرمس استھمس اور ایمپولا کے جنکشن پر منتقل کر دیے جاتے ہیں جہاں اسپرم اووم کو بارآور کرتا ہے جس سے ایک ڈپلایٔڈ زائیگوٹ تشکیل پاتا ہے۔ اسپرم میں x یا y کروموسومس کی موجودگی ایمبریو کی جنس کا تعین کرتی ہے۔ زائیگوٹ میں بلاسٹوسٹ بنانے کے لیے پے در پے مائٹوٹک تقسیم ہوتی ہے بلاسٹوسیٹ کی رحم میں تنصیب ہو جاتی ہے اور نتیجتاً حمل ہو جاتا ہے۔ حمل کے نو مہینے بعد، مکمل طور پر نمو یا فتہ جنین پیدائش کے لیے تیار ہوتا ہے۔ بچے کی پیدائش کے عمل کو پارچوریشن کہتے ہیں جس کی ترغیب ایک پیچیدہ نیورواینڈوکرایٔن میکینزم کے ذریعہ ہوتی ہے اور اس میں کورٹی سول، ایسٹروجن اور اوکزی ٹوسِن حصہ لیتے ہیں۔ حمل کے دوران پستانی غدود نمایاں ہو جاتے ہیں اور بچے کی پیدائش کے بعد دودھ کا افراز کرتے ہیں۔ نومولود کو اپنی نشوونما کے ابتدائی چند مہینوں کے دوران ماں دودھ پلاتی ہے (لیکٹیشن) ۔
مشق
1۔ خالی جگہوں کو بھریے:
(a) انسان ____________ تولید کرتے ہیں ۔(غیر جنسی/ جنسی)
(b) انسان ____________ہوتے ہیں ۔ (انڈے دینے والے/ بچے دینے والے/ انڈے بچے دینے والے)
(c) انسانوں میں بارآوری ____________ہوتی ہے ۔ (بیرونی/ اندرونی)
(d) نر اور مادہ گیمیٹس ____________ہوتے ہیں۔ (ڈپلائیڈ / ہیپلائیڈ)
(e) زائیگوٹ ____________ہوتا ہے۔ (ڈپلائیڈ / ہیپلائیڈ)
(f) ایک پختہ فولیکل سے اووم چھوڑے جانے کے عمل کو ____________کہتے ہیں۔
(g) ____________ ہارمون کے ذریعے اوویولیشن کی ترغیب ملتی ہے۔
(h) نر اور مادہ گیمیٹس کے انضمام کو ____________کہتے ہیں۔
(i) زائیگوٹ ____________بنانے کے لیے تقسیم ہوتا ہے جو رحم میں نصب ہو جاتا ہے۔
(j) بارآوری ____________میں ہوتی ہے۔
(k) وہ ساخت جو جنین اور رحم کے درمیان خون کی سپلائی کا رابطہ فراہم کرتی ہے اسے __________کہتے ہیں۔
2۔ نر تولیدی نظام کی ایک لیبل کی ہوئی شکل بنائے۔
3۔ مادہ تولیدی نظام کی ایک لیبل کی ہوئی شکل بنائیے۔
4۔ انشیوں اور اووری میں سے ہر ایک کے دو اہم کام لکھیے۔
5 ۔ سیمینی فیرس ٹبیول کی ساخت بیان کیجیے۔
6۔ اسپرمیٹوجینیسِس کیا ہوتا ہے؟ اسپرمیٹو جینیسِس کا عمل مختصراً بیان کیجیے۔
7 ۔ اس ہارمون کا نام بتایے جس سے اسپرمیٹوجینیسِس کا عمل کنٹرول ہوتا ہے۔
8 ۔ اسپرمیو جینیسِس اور اسپرمی ایشن کی تعریف کیجیے۔
9 ۔ اسپرم کی ایک لیبل کی ہوئی شکل بنائیے۔
10۔ سیمینل پلازما کے اہم اجزا کیا ہوتے ہیں؟
11۔ نر اضافی ڈکٹس اور غدودوں کے اہم کام کیا ہوتے ہیں؟
12۔ اوجینیسِس کیا ہوتا ہے؟ اوجینیسِس کا مختصر ذکر کیجیے۔
13۔ اووری کے ایک تراش کی لیبل کی ہوئی شکل بنائیے۔
14 ۔ گریفیٔن فولیکل کی لیبل کی ہوئی ہوئی شکل بنائیے۔
15 ۔ حسب ذیل کے کاموں کا نام بتائیے:
(a) کورپس لیوٹیم
(b) اینڈومیٹریم
(c) ایکروسوم
(d) اسپرم سیل
(e) فیمبری
16 ۔ صحیح/ غلط بیان کی نشان دہی کیجیے۔ ہر غلط بیان کو صحیح کرنے کے لیے اس کی اصلاح کیجیے:
(a) اینڈروجنس سرٹولی سیلس کے ذریعے پیدا کیے جاتے ہیں۔ (صحیح / غلط)
(b) اسپرمیٹوزوا کو تغذیہ سرٹولی سیلس سے ملتا ہے ۔ (صحیح / غلط)
(c) لیڈگ سیلس اووری میں پائے جاتے ہیں۔ (صحیح / غلط)
(d) لیڈگ سیلس اینڈروجنس تالیف کرتے ہیں۔ (صحیح / غلط)
(e) اوجینیسِس کورپس لیوٹیم میں واقع ہوتا ہے۔ (صحیح / غلط)
(f) حمل کے دوران حیضی دور حتم ہو جاتا ہے۔ (صحیح / غلط)
(g) ہائمین کی موجودگی یا غیر موجودگی کنوارے پن یا جنسی تجربے کی قابل اعتماد علامت نہیں ہے۔ (صحیح / غلط)
17 ۔ حیضی دور کیا ہوتا ہے ؟ حیضی دور کو کون سا ہارمون کنٹرول کرتا ہے۔
18 ۔ پارچوریشن کیا ہوتا ہے؟ پارچوریشن کی ترغیب میں کون سے ہارمون شامل ہیں؟
19۔ ہمارے سماج میں اکثر عورتوں کو بیٹیو ں کی پیدائش کے لیے الزام دیا جاتا ہے۔ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ یہ کیوں صحیح نہیں ہے۔
20۔ ایک انسانی اووری ایک مہینے میں کتنے انڈے چھوڑتی ہے؟ اگر ماں مماثل جڑواں پیدا کرے تو آپ کے خیال میں کتنے انڈے چھوڑے گیے ہوں گے؟ اگر جڑواں بچے بھائی پیدا ہوئے ہوں تو کیا آپ کا جواب بدل جائے گا؟
21۔ آپ کے خیال سے ایک مادہ کتیا کی اووری سے کتنے انڈے نکلے ہوں گے جس نے 6 بچوں کو جنم دیا؟