Skip to content


باب 4

تولیدی صحت (Reproductive Health)

4.1 تولیدی صحت۔مسائل اور تدابیر

4.2  آبادی میں بے تحاشہ اضافہ اور ضبط تولید

4.3 میڈیکل اسقاط حمل

4.4 جنسی طور پر منتقل ہونے والی بیماریاں 

4.5  بانجھ پن

آپ نے باب 3 میں انسان کے تولیدی نظام اور اس کے کاموں کے بارے میں پڑھا۔ آئیے اب اسی سے جڑے ایک اور موضوع تولیدی صحت پر گفتگو کریں۔ اس اصطلاح سے آپ کیا سمجھتے ہیں؟یہ اصطلاح محض صحت مند تولیدی اعضا اور ان کے نارمل افعال کی جانب اشارہ کرتی ہے۔ البتہ اس کا پس منظر وسیع ہے جو تولید کے جذباتی اور سماجی پہلوؤں کو بھی شامل ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگینائزیشن (ڈبلو ایچ او)کے مطابق تولیدی صحت کا مطلب ہے تولید کے تمام پہلوؤں میں مکمل عافیت یعنی جسمانی ، جذباتی، رویہ جاتی اور سماجی اس لیے تولیدی اعتبار سے ہم ایسے سماج کو صحت مند کہہ سکتے ہیں جس کے لوگوں کے تولیدی اعضا جسمانی اور عملی طور پرمعمول کے مطابق ہوں اور جنس سے متعلق تمام اُمور میں بھی ان کے جذباتی اور رویہ جاتی تعاملات معمول کے مطابق ہوں۔ تولیدی صحت کو قائم رکھنا کیوں اہم ہے اور اس کے حصول کے لیے کیا طریقے اختیار کیے جاتے ہیں؟ آئیے ان کا معائنہ کرتے ہیں۔

4.1 تولیدی صحت ۔ مسائل اور تدابیر

ہندوستان ان ملکوں میں سے ایک ہے جنھوں نے ایک سماجی مقصد کے طور پر تولیدی صحت کو حاصل کرنے کے لیے قومی سطح پر عملی منصوبے اور پروگرام تیارکیے۔ یہ پروگرام جنھیں خاندانی منصوبہ بندی کہا گیا 1951 میں شروع کیے گیے اور پچھلی دہائیوں میں وقفے وقفے سے ان کا جائزہ لیا گیا۔ اب تولید سے متعلق وسیع تر شعبوں میں اصلاح شدہ پروگرام چلائے جا رہے ہیں جنھیں تولید اور بچہ صحت نگہداشت (RCH)پروگرام کا مقبول عامل نام دیا گیا ہے۔

ان پروگراموں کے تحت خاص خاص کام لوگوں میں تولید سے متعلق مختلف پہلوں کے بارے میں آگہی پیدا کرنا اور تولیدی اعتبار سے ایک صحت مند سوسائٹی کی تعمیر کے لیے سہولتیں اور مدد فراہم کرنا ہیں۔
سرکاری اور غیرسرکاری ایجنسیوں نے سمعی بصری (Audio-visual)اور اشاعتی ذرائع ابلاغ کی مدد سے لوگوں میں تولید سے متعلق مختلف پہلوؤں کے بارے میں آگہی پیدا کرنے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔ متذکرہ بالا معلومات کو مشتہر کرنے میں والدین، دیگر قریبی رشتہ داروں، استادوں اور دوستوں کا بھی اہم رول ہے۔نوجوانوں کو صحیح جانکاری فراہم کرنے کی غرض سے اسکولوں میں بھی جنسی تعلیم شروع کرنے کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے بچوں کو توہمات اور جنسی پہلوؤں کے بارے میں غلط تصورات رکھنے سے باز رکھا جائے۔ تولیدی اعضا، عنفوانِ شباب اور متعلقہ تبدیلیوں نیز محفوظ اور صحت مند جنسی عادات اور  جنسی طور پر منتقل ہونے والی بیماریوں (STD، AIDS) وغیرہ کے بارے میں مناسب علم لوگوں اور بالخصوص نوجوانوں کوایک صحت مند تولیدی زندگی گزارنے میں مدد دے گا۔ لوگوں بالخصوص بالغ جوڑوں اور اس طبقے کے لوگوں کو جو شادی کی عمر کے ہوں، ضبط تولید کے لیے دستیاب مواقع، حاملہ ماؤں کی نگہداشت، پیدائش کے بعد ماں اور بچے کی نگہداشت، اپنا دودھ پلانے کی اہمیت، نر اور مادہ بچے کے لیے مساوی مواقع وغیرہ کے بارے میں تعلیم دینے سے ان میں سماجی طور پر باشعور، صحت مند اور مطلوبہ سائز کے خاندانوں کو تیار کرنے کی اہمیت اجاگر ہوگی۔ ایسے مسائل کی آگہی پیدا کرنا ضروری ہے جو آبادی کے بے قابو اضافے، سماجی برائیوں جیسے جنسی استحصال اور جنسی جرائم وغیرہ سے پیدا ہوتے ہیں تاکہ لوگ ان کے بارے میں سوچنے کے اہل ہوں اور انھیں روکنے کے لیے ضروری اقدامات کریں اور سماجی طور پر ایک ذمہ دار اور صحت مند سوسائٹی کی تعمیر ہو سکے۔
تولیدی صحت حاصل کرنے کے مختلف عملی منصوبوں کو کامیابی کے ساتھ بروئے کار لانے کے لیے مستحکم اِنفرااسٹرکچرل سہولتیں، پیشہ ورانہ مہارت اور مالی امداد درکار ہے۔ یہ لوگوں کو حمل ، پیدائش ، STDS، اسقاط حمل، مانع حمل ، حیض اور بانچھ پن وغیرہ تولید سے متعلق مسائل سے وابستہ طبی مدد اور نگہداشت فراہم کرنے کے لیے ضروری ہے۔ لوگوں کو زیادہ مؤثر نگہداشت اور مدد مہیا کرانے کے لیے وقتاً فوقتاً بہتر تکنیکوں اور نئی تدابیر کو بروئے کار لانا بھی ضروری ہے۔ جنسی تعین کے لیے اِمنیو سینٹی  سس (amniocentesis) پر قانونی پابندی تاکہ بڑھتی ہوئی جنین کشی پر قانونی روک لگ سکے اور وسیع پیمانے پر بچوں کی ٹیکاکاری وغیرہ کچھ ایسے پروگرام ہیں جو اس سلسلے میں سرفہرست آتے ہیں۔امینو سینٹس جانچ میں نمو پذیر جنین سے رفیق(Fluid)کا نمونہ لے کر جین کے خلیوں اور محلول اشیا (Substanced) کا تجزیہ کیا جاتا ہے۔ اس طریقہ کار کا استعمال جنین میں کچھ جنیٹک عوارض (Disorders)جیسے ڈاؤن سنڈروم ہیمو فیلیا وغیرہ کی موجودگی کا پتہ لگانے کے لیے کیا جاتا ہے۔ اس سے جنین کے برقرار رہنے کی صلاحیت کی بھی جانچ کی جاتی ہے۔
تولید سے متعلق مختلف میدانوں میں تحقیق کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے اور سرکاری اور غیر سرکاری ایجنسیوں کو نئے طریقے معلوم کرنے کے لیے اور پہلے سے موجود طریقوں کو بہتر بنانے کے لیے مدد کی جاتی ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ ’سہیلی‘ عورتوں کے لیے ایک نئی کھانے والی مانع حمل دوا، سینٹرل ڈرگ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (سی ڈی آر آئی)، لکھنؤ، ہندوستان کے سائنسدانوں نے تیار کی تھی۔جنس سے متعلق معاملات کے بارے میں بہتر آگہی، طبّی سہولتوں کے ساتھ بچوں کی پیدائش، پیدائش کے بعد بہتر نگہداشت،ماں اور نومولود کی اموات کی گھٹتی شرح، چھوٹے خاندان والے جوڑوں کی تعداد میں اضافہ، STD'IC کی بہتر تشخیص اور نگہداشت اور مجموعی طور پر جنس سے متعلق تمام مسائل   کے بارے میں اضافی طبی سہولتیں ایک بہتر تولیدی صحت مندی کے اشارے ہیں۔ 

4.2آبادی میں بے تحاشہ اضافہ اور ضبطِ تولید

پچھلی صدی میں مختلف میدانوں میں ایک ہمہ گیر ترقی نے لوگوں کی زندگی کا معیار نمایاں طور پر بہتر کیا ہے۔ البتہ طبّی سہولتوں کے اضافے اور ساتھ ہی زندگی گزارنے کے بہتر حالات نے آبادی میں اضافے پر ایک دھماکاخیز اثر چھوڑا ہے۔ دنیا کی آبادی جو 1900 میں 2 بلین کے قریب تھی، سال 2000 تک تقریباً6 بلین تک پہنچی۔ ایسے ہی رجحان کا مشاہدہ ہندوستان میں بھی ہوا۔ ہماری آبادی جو آزادی کے وقت تقریباً 350 ملین تھی  سال 2000 تک بلین کے نشانے تک پہنچ گئی اور مئی 2000 میں 1 بلین کو پار کر گئی۔ اس کا مطلب ہے کہ دنیا کا ہر چھٹا آدمی ہندوستانی ہے۔ غالباً اس کی وجہ تیزی سے گھٹتی شرح اموات، زچہ اور بچہ کی شرح اموات اور ساتھ ہی ان لوگوں کی بڑھتی ہوئی تعداد ہے جو تولیدی عمر میں ہے۔ حالانکہ ہمارے اپنے تولیدی بچہ صحت(Reproductive Child Health (RCH) پروگرام کے ذریعے آبادی بڑھنے کی شرح کم ہوئی ہے مگر وہ بھی برائے نام ہے۔ 2001 کی مردم شماری رپورٹ کے مطابق آبادی بڑھنے کی شرح اب بھی 1.7 فیصد کے آس پاس ہے یعنی /17/1000/ سال، جو ایک ایسی شرح ہے جس سے ہماری آبادی 33 سال میں دگنی ہو سکتی ہے۔ باوجود اس نمایاں ترقی کے جو مختلف میدانوں میں کی گئی ہے۔ بڑھوتری کی ایک ایسی خطرناک شرح سے بنیادی ضروریات جیسے روٹی، مکان اور کپڑے تک کی انتہائی کمی واقع ہو سکتی ہے اس لیے حکومت کو آبادی کی بڑھتی شرح پر روک لگانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنے کے لیے مجبور ہونا پڑا۔
اس مسئلہ پر قابو پانے کے لیے سب سے اہم قدم مانع حمل طریقوں کے استعمال کے ذریعے چھوٹے خاندانوں کی ترغیب دینا ہے۔ آپ نے میڈیا اور ساتھ ہی پوسٹروں / بلس وغیرہ کے ذریعے اشتہارات میں ایک خوش حال جوڑے کو دو بچوں کے ساتھ اور ’’ہم دو ہمارے دو‘‘ نعرے کے ساتھ دیکھا ہوگابہت سے جوڑے جو زیادہ تر شہروں کے کام کرنے والے نوجوان ہیں انھوں نے تو ’’ایک بچے‘‘ کا ہی معیار اختیار کیا ہے۔قانونی طور پر شادی کی عمر عورتوں میں 18سال اور مردوں میں 21 سال تک بڑھانا اور جوڑوں کو چھوٹے خاندانوں کی ترغیب دینا اس سلسلے کو حل کرنے کے دو دوسرے طریقے ہیں۔ آئیے عام طور پر استعمال کیے جانے والے کچھ مانع حمل طریقوں پر گفتگو کریں جو غیر مطلوبہ حمل کو روکنے میں مدد کرتے ہیں۔ 
مثالی مانع حمل تدابیر آسانی سے دستیاب،آسانی سے قابل استعمال اور مؤثر ہوں اور بغیر کسی نقصان یا پھر کم از کم نقصان کے ساتھ ان سے چھٹکارا مل سکے۔یا حالت کو سابقہ معمول پر لایا جا سکے۔ یہ کسی بھی صورت میں استعمال کرنے والے کی جنسی خواہش یا جنسی عمل میں مداخلت کرنے  والی نہ ہوں۔ آج بہت سے مانع حمل طریقے مستعمل ہیں۔ یہ طریقے قدرتی، روایتی ،رکاوٹی،آئی ڈی،دوا کے طور پرکھانے کے انجکشن،اندرونی طور پر رکھنے کے یاپھر سرجری کے ذریعے ہوسکتے ہیں۔
قدرتی طریقے(Natural Methods) اسپرمس اور اووم کے ملنے کے مواقع سے گریز کرنے کے اصول پر کام کرتے ہیں۔ ایسا ہی ایک طریقہ پیری اوڈک ایبسٹی  نینس (Periodic abstinence)ہے جس میں جوڑا حیضی دور کے 10 سے 17 دن تک مباشرت سے گریز یا احتراز برتتا ہے جب کہ اوویولیشن متوقع ہوتا ہے۔ کیونکہ اس عرصے کے دوران بارآوری کے مواقع بہت زیادہ ہوتے ہیں، یہ عرصہ زرخیز مدت (Fertile period) کہلاتا ہے۔ اس لیے اس مدت میں مباشرت سے گریز حمل کو روک سکتا ہے۔ عزل(Withdrawal/Coitus Interruptus) ایک دوسرا طریقہ ہے جس میں مرد ساتھی تخم ریزی (insemination) سے بچنے کے لیے انزال سے ذرا پہلے اپناقضیب مہبل سے باہر نکال لیتا ہے۔ لیکٹیشنل ایمنوریا (Lactational amenorrhea) (حیض کی عدم موجودگی) طریقے کی بنیاد اس حقیقت پر ہے کہ زچگی کے بعد شیرریزی کی مدت کے دوران اوویوالیشن اور حیضی دور واقع نہیں ہوتے ۔ اس لیے جتنی لمبی مدت ماں بچے کو پوری طرح دودھ پلاتی رہتی ہے حمل کے مواقع تقریباً صفر ہوتے ہیں۔ البتہ یہ طریقہ پارچوریشن کے بعد زیادہ سے زیادہ صرف چھ مہینے تک مؤثر بتایا گیا ہے۔ کیونکہ ان طریقوں میں کوئی دوائیں اور طریقے استعمال نہیں ہوتے اس لیے مضر اثرات تقریباً نہ ہونے کے برابر ہیں۔ حالانکہ اس طریقے کے فیل ہونے کے مواقع بھی بہت زیادہ ہیں۔ 
PIC 1 CHAPTER 4

شکل (a)4.1 مرد کے لیے کنڈوم

شکل 4.1 (b) عورت کے لیے کنڈوم

شکل 4.2 کوپر T )CuT)

رکاوٹی طریقے (barriers) میں رکاوٹوں کی مدد سے اووم اور اسپرمس کو طبی طور پر ملنے سے روکا جاتا ہے۔ ایسے طریقے مردوں اور عورتوں دونوں کے لیے دستیاب ہیں ۔ کنڈومس (condoms) (شکل 4.1 a, b) پتلے/ لیٹکس غلاف سے بنے رکاوٹی پرت ہوتے ہیں جو مردوں میں قضیب کو اور عورتوں میں ویجائنا اور سروکس کو مباشرت سے ذرا پہلے ڈھکنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں تاکہ انزال شدہ مادہ منویہ عورت کے تولیدی راستے میں داخل نہ ہو سکے۔ اس سے حمل کو روکا جا سکتا ہے۔ ’نرودھ‘ مرد کے لیے کنڈوم کی ایک مشہورومعروف قسم ہے۔ حالیہ برسوں میں کنڈوم کا استعمال STDs اور AIDS سے محفوظ رہنے کے اضافی فوائد کی وجہ سے دنیا میں بڑھ گیا ہے۔ مرد اور عورت دونوں کے کنڈومس استعمال کے بعد پھینک دیے جاتے ہیں، انھیں خود لگایا جا تا ہے اور اس طرح استعمال کرنے والے کو مکمل خلوت حاصل ہوتی ہے۔ ڈایافرام (Diaphragams)، سروائکل کیپس (Cervical caps) اور والٹس (Vaults) بھی ربر سے بنے ہوئے موانع(رکاوٹیں) ہیں جو مباشرت کے دوران عورت کے تولیدی راستے داخل کیے جاتے ہیں یہ سروکس کے ذریعے اسپرمس کے داخلے میں رکاوٹ ڈال کر حمل کو روکتے ہیں۔ مانع حمل کو مؤثر بنانے کے لیے ان بیریرس یا مانع اشیا کے ساتھ اسپرمی سائیڈل کریم ، جیلی اور چھاگ کا استعمال کیا جاتا ہے۔ 
ایک اور موثٔر اور معروف طریقہ انٹرا یوٹرائین ڈوائس (آئی یو ڈی)  (IntraUterine Devices (IUDs) کا استعمال ہے۔ یہ ساختیں ڈاکٹر یا نرسوں کی مدد سے ویجائنا کے راستے رحم میں لگوائی جاتی ہیں۔ آج کل بغیر دوائوں والی انٹرا یوٹرائن ڈوائس (جیسے لیپّس لوپ (Lippes Loop)، کوپر ریلیزنگ(Cut, Cu7, Multiload 375)IUDs اور ہارمون ریلیزنگ (Progestasert, LNG 20)IUDs دستیاب ہیں (شکل 4.2)۔ IUDs رحم کے اندر اسپرمس کے فیگوسائیٹوسس (Phagocytosis) ہی کو بڑھا دیتی ہیں اور کوپر آیونس اسپرمس کی حرکت اور ان کی بارآوری کی صلاحیت کو دبا دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ہارمون رِلیزنگ IUDs رحم کو تنصیب کے لیے غیر موزوں اور سروکس کو اسپرمس کے لیے غیر سازگار بنا دیتے ہیں۔ IUDs ان عورتوں کے لیے بے حد اہم ہیں جوحمل میں تاخیر یا بچوں میں فاصلہ رکھنا چاہتے ہیں۔ یہ ہندوستان میں سب سے زیادہ قابل قبول مانع حمل کا طریقہ ہے۔
عورتوں کے ذریعے استعمال کیا جانے والا ایک دوسرا مانع حمل طریقہ منہ کے ذریعے یا تو پروجیسٹرونس یا پروجیستوجنس- ایسٹروجن آمیزوں کی چھوٹی خوراکیں دینا ہے۔ یہ گولیوں کی شکل میں استعمال کی جاتی ہیں اور اسی لیے عام طور پر پلس (pills) کہلاتی ہیں۔ پِلس ترجیحاًحیضی دور کے پہلے پانچ دنوں کے اندر شروع کرکے 21 روز کی مدت تک روزانہ لی جاتی ہیں۔ 7 روز کے وقفے کے بعد (جس کے دوران حیض واقع ہوتا ہے) اسے اسی طریقے سے دہرانا ہوتا ہے جب تک عورت حمل روکنے کی خواہاں ہو۔ وہ اوویولیشن اور تنصیب میں رکاوٹ بنتی ہیں اور ساتھ ہی اسپرمس کے داخلے کو روکنے/ ختم کرنے کے لیے سروائکل میوکس کی کوالٹی کو تبدیل کر دیتی ہیں۔ پلس بہت موثٔر ہوتی ہیں ان کے ضمنی اثرات بہت کم ہوتے ہیں اور عورتوں کو اچھی طرح قابل قبول ہیں۔ عورتوں کے لیے ایک نئی کھانے والی مانع حمل دوا ’سہیلی‘ہے جس میں ایک غیر ایسٹرائیڈ یا غیر ہارمونی ترکیب ہے۔ یہ ہفتے میں ایک بار کھانے والی گولی ہے جس کے ضمنی اثرات بہت کم اور مانع حمل حیثیت بہت زیادہ ہے۔ 
عورتیں پروجیسٹوجن کو اکیلے یا اسٹروجن کے ساتھ ملا کر بطور انجیکشنس یا کھال کے نیچے امپلانٹس (implants) کی طرح استعمال کر سکتی ہیں (شکل 4.3 ) ۔ ان کے کام کرنے کا طریقہ گولیوں جیسا ہی ہے اور ان کے اثر کے مدت بہت لمبی ہوتی ہے۔ پروجیسٹوجن یا پروجیسٹوجن-ایسٹروجن آمیزوں یا IUDs کا استعمال مباشرت کے 72 گھنٹے کے اندر بطور ایمرجنسی مانع حمل کے بہت زوداثر پایا گیا ہے کیونکہ انھیں زنایا اتفاقی غیر محفوظ مباشرت سے ہونے والے ممکنہ حمل سے بچانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سرجیکل طریقے جنھیں اسٹیریلائزیشن (sterilisation) بھی کہتے ہیں اور اس کا مشورہ عموماً مرد/ عورت کو بطور آخری طریقے کے دیا جاتا ہے تاکہ کسی بھی مزید حمل کو روکا جا سکے۔ سرجیکل مداخلت گیمیٹس منتقلی پر بندش لگا دیتی ہے اور اسی طرح حمل رک جاتا ہے۔ مرد میں اسٹریلائزیشن کے طریقے کو واسیکٹومی (vasectomy) اور عورت میں ٹیوبکٹومی (tubectomy) کہتے ہیں۔ واسیکٹومی اسکروٹم پر ایک چھوٹا سا چیرا لگا کر واس ڈیفرینس کے ایک چھوٹے سے حصے کو ہٹایا یا باندھ دیا جاتا ہے۔ جبکہ ٹیوبکٹومی میں ویجائنا کے ذریعے یا شکم میں ایک چھوٹا سا چیرا لگا کر فیلوپیٔن ٹیوب کے ایک چھوٹے سے حصے کو ہٹایا یا باندھا جاتا ہے۔ یہ طریقے بے حد مؤثر ہیں مگر ان کو واپس معمول پر لانا مشکل عمل ہے۔
PIC 2 CHAPTER 4

شکل 4.3 تنصیبات

یہ بتانا انتہائی ضروری ہے کہ ایک مناسب مانع حمل طریقے کا انتخاب اور اس کا استعمال ہمیشہ سندیافتہ طبیب یا ڈاکٹر کے مشورے سے ہونا چاہیے۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ تولیدی صحت کو قائم رکھنے کے لیے مانع حمل چیزیں اہم ہیں۔ در حقیقت انھیں ایک قدرتی تولیدی واقعات یعنی حمل کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔ ایک شخص ذاتی وجوبات کی بناء پر یا تو حمل کو روکنے یا پھر حمل میں تاخیر یا فاصلہ دینے کے لیے ان کے استعمال کے لیے مجبور ہوا ہے۔ بلا شبہ بے تحاشہ بڑھتی ہوئی آبادی پر روک لگانے میں ان طریقوں کا ایک اہم رول ہے۔ البتہ ان کے ممکنہ مضر اثرات جیسے متلی ، پیٹ میں درد، خلاف معمول خون آنا، بے ضابطہ حیضی خون آنا اور پستانی کینسر(جو نمایاں نہیں ہے)کو پورے طور پر نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
PIC 3 CHAPTER 4

شکل 4.4 (a) واسیکٹومی

وال ڈیفرینس، باندھی اور کاٹی گئیں

شکل 4.4 (b) ٹیوبیکٹومی

فیلوپئن ٹیوبلس، باندھی اور کاٹی گئیں

4.3 طبیؔ اسقاطِ حمل 

(Medical Termination of Pregnancy MTP) 
پوری مدت سے پہلے اپنی مرضی سے یا اختیاری طبی اسقاطِ حمل کو یا ترغیبی اسقاط کہتے ہیں۔ ساری دنیا میں ایک سال میں  تقریباً 4.5 سے 50 ملین MTPs کیے جاتے ہیں جو سال بھر میں ٹھہرنے والے کل حمل کی تعداد کا پانچواں حصہ ہوتے ہیں۔ بہت سے ممالک میں جذباتی ، اخلاقی ، مذہبی اور سماجی مسائل کی بنا پر یہ بات زیر بحث ہے کہ MTP کو منظور کیا جائے اور اسے قانونی درجہ دیا جائے یا نہیں۔ہندوستان نے MTP کو اس کے غلط استعمال سے بچنے کے لیے کچھ سخت شرائط کے ساتھ اسے 1971 میں قانونی درجہ دے دیا۔ ایسی بندشیں، غیر قانونی اندھادھند لڑکیوں کی جنین کشی کو روکنے کے لیے اور بھی زیادہ اہم ہیں، جو ہندوستان میں بہت بڑھی ہوئی بتائی جا رہی ہیں۔
MTP کیوں؟ بظاہر اس کا جواب ہےغیر مطلوبہ حمل سے چھٹکارا جواتفاقی غیر محفوظ مباشرت کی وجہ سے ہوں یا مانع حمل کے ناکام ہونے سے یازنا بالجبرسے۔ MTPs ایسے معاملات میں بھی لازمی ہوتے ہیں جہاں حمل کا جاری رکھنا ماں یا جنین یا دونوں کے لیے یا ضررساں ہو سکتا ہو ۔
MTPs پہلی سہ ماہی کے دوران مقابلتاً محفوظ مانے جاتے ہیں یعنی حمل کے 12 ہفتوں تک۔ دوسرے سہ ماہی کے اسقاط بہت زیادہ خطروں سے بھرے ہوتے ہیں۔ ایک پریشان کن رجحان جس کا مشاہدہ ہوا ہے وہ یہ ہے کہ زیادہ تر MTPs غیر قانونی طور غیر سند یافتہ پیشے وروں کے ہاتھوں انجام پاتے ہیں جو نہ صرف غیر محفوظ ہوتے ہیں  بلکہ مہلک بھی ہو سکتے ہیں۔ دوسرا خطرناک رجحان بچہ پیدا ہونے سے پہلے اس کی جنس کا تعین کرنے میں ایمنیوسین ٹی  سس (amniocentesis) کا غلط استعمال ہے۔ کبھی کبھی اگر جنین مادہ پایا جاتا ہے تو MTP کیا جاتا ہے۔ یہ مکمل طور پر قانون کے خلاف ہے۔ ایسے اقدامات کو روکنا چاہیے کیونکہ یہ نوجوان ماں اور جنین دونوں کے لیے خطرناک ہے۔ غیر محفوظ مباشرت اور غیر قانونی اسقاط میں موجود خطرات سے بچنے کے لیے مؤثر ذہن سازی ضروری ہے ساتھ ہی صحت کی نگہداشت سے متعلق زیادہ سہولتیں مہیا کرنے سے غیر صحت مند رجحان پلٹ سکتا ہے۔

4.4 جنسی طور پر منتقل ہونے والی بیماریاں

(Sexually Transmitted Infections STIs)

بیماریاں یا تعدیے جوجنسی اختلاط کے ذریعے منتقل ہوتے ہیں مجموعی طور پر جنسی طور پر منتقل ہونے والی بیماریاںیا  امراض(Venerral diseases)VD یا تولیدی راستے کے تعدیے (reproductive tract infections(RTI) کہلاتے ہیں۔ سوزاک(gonorrhoea) ، آتشک(Syphilis) ، جینٹل ہرپیز، کلیمائیڈنا ایسس، جینٹل وارٹس، ٹرائیکومونیسی ایسس، ہیپیٹائٹس- بی اور بلاشبہ حالیہ برسوں میں سب سے زیادہ زیربحث رہنے والا تعدیہ HIVجو AIDs کا باعث ہوتا ہے کچھ عام STDs ہیں۔
ان میں سے کچھ تعدیے جیسے ہیپیٹائٹس- بی اور HIV جو انجکشن کی سوئیوں اور جراحی آلات وغیرہ کو تعدیہ زادہ کے ساتھ اشتراک کرنے، خون چڑھانے، یا ایک تعدیہ زدہ ماں سے اس کے جنین میں بھی منقل ہو سکتے ہیں۔ ہیپیٹائیٹس-بی، جینٹل ہرپیس اور HIV تعدیے کے علاوہ دوسری بیماریاں جلد تشخیص اورمناسب علاج سے پوری طرح قابل علاج ہیں۔ ان میں  سے بیشترکی اولین علامتیں معمولی ہوتی ہیں جن میں تناسلی حصے میں خارش، رقیق مادے کا اخراج، ہلکا درد ، ورم وغیرہ شامل ہیں۔ تعدیہ زدہ عورتوں میں اکثر کوئی علامت نہیں ہوتی اور اس ایک عرصے تک بنا تشخیص کے رہ جاتی ہیں۔ تعدیے کی ابتدا ئی حالتوں میں نمایاں علامات کی کمی یا عدم موجودگی اور STDs پر لگا سماجی دھبہ بر وقت تشخیص اور مناسب علاج سے رکاوٹ کا سبب ہوتا ہے۔بعد میں اس سے پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں جس میں پیڑو کی جلن والی بیماریاں (PID)، اسقاط، مردہ بچوں کی پیدائش، رحم سے باہر وضع حمل، بانجھ پن یہاں تک کہ تولیدی راستے کا کینسر تک شامل ہے۔ ایک صحت مند سوسائٹی کے لیے STDs بڑا خطرہ ہیں۔ اس لیے تولیدی صحت کی نگہداشت کے پروگراموں کے تحت ان بیماریوں سے بچاؤ  یا اولین تشخیص اور علاج اہم ترجیحات ہیں۔ حالانکہ تمام لوگ ہی ان تعدیوں کی زد میں ہیں، لیکن 24-15 سال کی عمر کے لوگوں میں جن سے آپ کا بھی تعلق ہے ان کے واقعات زیادہ اندراج کیے گیے ہیں۔ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیوں کہ ان سے بچاؤ ممکن ہے۔ نیچے دیے ہوئے سادہ اصولوں پر عمل کرنے سے ان تعدیوں سے پاک ہو سکتے ہیں:
(i)  غیرازدواجی جنسی اختلاط سے گریز کیجیے۔
(ii) مباشرت کے دوران ہمیشہ کنڈوم استعمال کیجیے۔
(iii) کسی شخص کو  شبہ ہونے پر جلد تشخیص کے لیے سندیافتہ ڈاکٹر کے پاس جانا چاہیے اور اگر بیماری کی تشخیص ہو تو مکمل علاج کرانا چاہیے۔

4.5 بانجھ پن (Infertility) 

بانجھ پن کے تذکرے کے بغیر تولیدی صحت پر گفتگو نامکمل ہے۔ ساری دنیا بشمول ہندوستان میں جوڑوں کی ایک بڑی تعداد بانجھ ہوتی ہے یعنی باوجود غیر محتاط جنسی مباشرت کے وہ بچے پیدا کرنے کے قابل نہیں ہوتے ۔ اس کی بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ جسمانی، تناسلی، بیماریاں، ڈرگس، مدافعتی اور نفسیاتی ۔ ہندوستان میں اکثر عورت کو الزام دیا جاتا ہے کہ جوڑا بے اولاد ہے، لیکن ایسے مسائل مردوں کی وجہ سے بھی ہوتے ہیں۔ خصوصی نوعیت کے مراکز صحت (بانجھ پن کے کلنک وغیرہ) بانجھ پن وغیرہ جیسے نقائص کی تشخیص اور ان کی اصلاح اور علاج میں مدد کرسکتے ہیں اور جوڑوں کو اولاد کے قابل بنا سکتے ہیں۔ البتہ جہاں ایسی اصلاحات ممکن نہیں، تو جوڑوں کو بعض مخصوص تکنیکوں کے ذریعے اولاد پیدا کرنے کے سلسلے میں مدد دی جا سکتی ہے، جو عام طور پرAssisted Reproductive Technologies (ART) کہلاتی ہیں۔
اِن وِٹرو فرٹیلائزیشن (In vitro fertilisation) (تقریباً جسم جیسے حالات میں جسم کے باہر IVF ۔ فرٹیلائزیشن کے بعد ایمبریو کی منتقلی (Embryo transfer) (ET) ایسے ہی طریقوں میں سے ایک ہے۔ اس طریقے میں جو عام طور پر ٹیسٹ ٹیوب بے بی پروگرام (test tube baby) کہلاتا ہے، بیوی/ معطی عورت سے بیضہ اور شوہر / معطی مرد سے اسپرمس یا منوی خلیے اکٹھا کیے جاتے ہیں اور تجربہ گاہ میں مصنوعی حالات کے تحت زائیگوٹ یا زواج بنانے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ زائنگوٹ یا اولین ایمبریو ( 8 بلاسٹومرس تک ) کو فیلوپین ٹیوب میں (Zift - Zygote Intra Fallopian Tranfer) اور 8 بلاسٹومیٹرس سے زیادہ والے ایمبریو کو مزید نمو کی تکمیل کے لیے یوٹیرس میں منتقل کیا جا سکتا ہے (IUT- Intra Uterine Transfer)۔ اِن وی وو فرٹیلائزشن(in-vivo fertilisation) (اندرون جسم گیمٹس کا انضمام) کے ذریعے بنے ایمبریوز کو بھی ایسی منتقلی کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے تاکہ ان عورتوں کی مدد کی جا سکے جن کے حمل نہیں ٹھر سکتا۔
ایک دوسرا طریقہ جسے استعمال کرنے کی کوشش ہوئی ہے وہ ایک معطی سے حاصل کیے گیے ایک اووم کی دوسری ایسی عورت کی فیلوٹین ٹیوب میں منتقلی ہے (GIFT- gamete intra fallopian transfer) جو بچہ تو پیدا نہیں کر سکتی مگر بارآوری اور مزید نمو کے لیے مناسب ماحول مہیا کر سکتی ہے۔( Intra cytoplasmic sperm injection-ICSI) تجربہ گاہ میں ایک ایمبریو بنانے کا ایک اور مخصوص طریقہ ہے جس میں کسی اووم میں براہ راست اسپرم کو انجیکٹ کیا جاتا ہے۔ ایسے بانجھ پن جن کی وجہ یا تو یہ ہو کہ مرد ساتھی عورت میں مادہ منویہ پہچانے میں ناکام ہے یا اس کے منوی مادّے میں اسپرمس (خلیوں) کی تعداد بہت کم ہے، artificial insemination ٹیکنیکوں (AI) کے ذریعے ٹھیک کیے جا سکتے ہیں۔ اس ٹیکنیک میں شوہر یا ایک صحت مند معطی سے حاصل کیا گیا منوی مادہ مصنوعی طور سے عورت کے رحم میں داخل کر دیا جاتا ہے۔ (IUI- intra-uterine insemination) گواختیاری طریقے بہت ہیں مگر ان تمام تکنیکوں میں مخصوص پیشہ ور ماہرین اور قیمتی آلات درکار ہوتے ہیں۔ اس لیے فی الحال ملک میں یہ سہولتیں کچھ ہی مراکز پر حاصل ہیں۔ ظاہر ہے ان کے فوائد لوگوں کی صرف ایک محدود تعداد اٹھا سکتی ہے۔ ان طریقوں کو اپنانے میں جذباتی، مذہبی اور سماجی عناصر بھی آڑے آتے ہیں۔ کیونکہ ان تمام طریقوں کا اصل مقصد بچوں کا حصول ہے۔ ہندوستان میں بڑی تعداد ایسے یتیم اور بے سہارا بچوں کی ہے کہ اگر انھیں سہارا نہ دیا جائے تو شاید بالغ ہونے تک ان کا زندہ رہنا ممکن نہیں۔ ہمارا قانون گود لینے کی اجاذت دیتا ہے اور ابھی تک اُن جوڑوں کے لیے جو والدین بننا چاہتے ہیں یہی سب سے بہتر طریقہ ہے۔

خلاصہ

تولیدی صحت تولید کے تمام پہلوئوں جیسے جسمانی، جذباتی، رویہ جاتی اور سماجی تمام کی ہی خوشگواریوں سے وابستہ ہے۔ قومی سطح پر تولیدی اعتبار سے ایک صحت مند سوسائٹی کے حصول کے لیے مختلف لائحہ عمل کو شروع کرنے میں ہماری قوم دنیا کی قوموں میں پہلی تھی۔ لوگوں کو تولیدی اعضا، عنفوانِ شباب اور متعلقہ تبدیلیوں، محفوظ اور صحت مند جنسی اختلاط، جنسی طور پر پھیلنے والی بیماریوں (STDs) بشمول IADs وغیرہ کے بارے میں مشورے دینا اور آگاہی پیدا کرنا تولیدی صحت کے سلسلے میں اصل اقدام ہیں۔حیضی بے قاعدگیاں، حمل ، پیدائش سے متعلق مسئلوں کا حل اور طبی امداد فراہم کرنے کے علاوہ STDs، ضبط تولید، بانجھ پن، پیدائش کے بعد ماں اور بچے کی نگہداشت کے سلسلے میں معقول طبی نگہداشت مہیا کرانا، رپروڈکٹیو اینڈ چائلڈ ہیلتھ پروگراموں کا ایک دوسرا اہم پہلو ہے۔
ہمارے ملک میں مجموعی طور پر تولیدی صحت میں بہتری ہوئی ہے جوکہ ماں اور بچے کی اموات میں گھٹتی شرح، STDs کی جلد تشخیص اور علاج کے علاوہ بانجھ جوڑوں کی مدد وغیرہ سے ظاہر ہے۔ صحت کی بہتر سہولیات اور بہتر حالات زندگی نے کثرت آبادی کو دھماکہ خیز بنا دیا ہے۔ آبادی کے اس اضافے نے مانع حمل طریقوں کو عام کرنا ضروری بنا دیا ہے۔ اب مختلف مانع حمل طریقے دستیاب ہیں جیسے قدرتی، روائیتی ، رکاوٹی، IUDs ، پلس ، انجکشن، تنصیبات اور سرجیکل طریقے ۔ اگر چہ تولیدی صحت کے لیے مانع حمل طریقے باضابطہ ضروریات میں شامل نہیں ہیں مگر حمل سے گریز ، ولادتمیں تاخیریا بچوں کے درمیان معقول وقفے کے لیے انھیں استعمال کرنا ضروری ہو گیا ہے۔
ہمارے ملک میں طبیؔ طور پرحمل ختم کرنے کو قانونی حیثیت حاصل ہے۔ عموماً MTP اس صورت میں کیا جاتا ہے جب زنایا اتفاقی تعلقات وغیرہ کی وجہ سے  غیر مطلوبہ حمل سے چھٹکارا حاصل کرنا ہو یا ایسے معاملات میں جب حمل کا جاری رکھنا یا تو ماں یا پھر ماں اور جنین دونوں کے لیے مضر بلکہ مہلک ہو۔
جنسی اختلاط کے ذریعے منتقل ہونے والی بیماریاں جنسی تعدیے STDs کہلاتی ہیں۔ پیلوِک انفلامیٹری ڈیزیزز (PIDs)، مردہ بچہ کی پیدائش اور بانجھ پن STDs  سے پیدا ہونے والی پیچیدگیاں ہیں۔ ان کی جلد تشخیص سے علاج میں سہولت ہوتی ہے۔ غیر ازدواجی ایک سے زیادہ ساتھیوں سے جنسی اختلاط سے گریز، مباشرت کے دوران کنڈوم کا استعمال STDs سے بچنے کی کچھ آسان تدابیر ہیں۔
حمل ٹھہرنے کی نااہلیت یا غیر محفوظ جنسی مباشرت کے 2 سال بعد بھی بچے نہ ہونا بانجھ پن کہلاتا ہے۔ ایسے جوڑوں کی مدد کے لیے اب مختلف طریقے دستیاب ہیں۔ ایسا ایک طریقہ اِن وِٹرو فرٹیلائزیشن کے بعد ایمبریو کو عورت کے تناسلی راستے میں منتقل کرنا ہے جسے عام طور سے ٹیسٹ ٹیوب بے بی پروگرام کہا جاتا ہے۔

مشق

1۔ آپ کے خیال میں ایک سوسائٹی میں تولیدی صحت کی اہمیت کیاہوتی ہے؟
2۔ تولیدی صحت کے ان پہلوئوں کے بارے میں بتایے جن پر موجودہ پس منظر میں توجہ دینے کی ضرورت ہے؟
3۔ کیا اسکولوں میں جنسی تعلیم ضروری ہے؟ کیوں؟
4۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ پچھلے 50 سالوں میں ہمارے ملک میں تولیدی صحت بہتر ہوئی ہے؟ اگر ہاں تو ان ترقیات کا تذکرہ کیجیے؟
5۔ آبادی کی دھمکا خیز کثرت کی کیا وجوہات بتائی جاتی ہیں؟
6۔ کیا مانع حمل چیزوں کا استعمال منصفا نہ ہے ؟ وجوہات بیان کیجیے؟
7۔ گونیڈس(gonads) کا نکال دیا جانا ایک مانع حمل طریقہ نہیں کہا جا سکتا۔ کیوں؟
8۔ ہمارے ملک میں جنس کے تعئین کے لیے ایمنیوسینٹی  سس ممنوع ہے۔ کیا یہ پابندی ضروری ہے؟ اپنے خیال کا اظہار کیجیے۔
بانجھ جوڑوں کے بچے پیدا کرنے کے لیے کچھ طریقوں کے استعمال بتایے۔
10۔ STDs سے بچنے کے لیے کیا اقدامات کرنے چاہئیں؟

11۔ تشریح کے ساتھ صحیح/ غلط بتایے:

(a) کیا اسقاط حمل ازخود ہوسکتا ہے(صحیح؍غلط)
(b) زندہ رہنے والے بچے کو پیدا کرنے کی نا اہلیت کی تعریف بطور بانجھ پن کی جاتی  ہے اور ایسا ہمیشہ عورت میں بے قاعدگی یا نقص کی وجہ سے ہوتا ہے۔ (صحیح/ غلط)
(c) مکمل شیرخیزی مانع حمل کے قدرتی طریقے کے طور پر مدد کرتی ہے۔ (صحیح/ غلط)
(d) لوگوں کی تولیدی صحت کو بہتر بنانے کے لیے جنس سے متعلق پہلوؤں کے بارے میں بیداری پیدا کرنا ایک مؤثر طریقہ ہے۔ (صحیح/ غلط)

12۔ حسب ذیل بیانات کی تصیح کیجیے:

(a) مانع حمل کے سرجیکل طریقے گیمیٹ کی تشکیل کو روکتے ہیں۔
(b) جنسی طورپر پھیلنے والی تمام بیماریاں مکمل طور پر قابل علاج ہیں۔
(c) گاؤں کی عورتوں میں خوراکی گولیاں بہت معروف مانع حمل ہیں۔
(E.T.      (d ٹیکنیکوں میں ایمبریو ہمیشہ رحم میں منتقل کیے جاتے ہیں۔