Skip to content
Hayatiyaat(Biology)

اکائی ΙΙ∨

 جنیٹکس  اور ارتقا

باب 5    توریث اور تغیر کے اصول

باب 6   توریث کی سالماتی بنیاد

باب 7   ارتقا

مینڈل اور ان کے بعد کے لوگوں کی تحقیق نے ہمیں وراثت کے نظریئے سے آگاہ کیا۔ تاہم ان فیکٹرز کی ہیئت جو فینو ٹائپ کا تعین کرتے ہیں بہت واضح نہیں تھی۔ چونکہ یہ توریث کی جینی بنیاد کا اظہار کرتے ہیں، اس لیے جنیٹک مادے کی ساخت اور جینو ٹائپ اور فینو ٹائپ کے تبادلے کی ساختی بنیاد حیاتیات میں اگلی صدی کے لیے توجہ کا مرکز بن گئی۔ واٹسن، کریک، نائیر نبرگ، کھورانہ، کونبرگ (باپ اور بیٹے)، بینرز، مونو اور برینروغیرہ کی اہم تحقیقات کی مالیکیولربایولوجی کے ارتقا میں بڑی اہمیت ہے۔ اسی کے متوازی ایک اور مسئلہ یعنی ارتقا کے میکنزم کو بھی حل کیا جا رہا تھا۔ مولیکیولرجنیٹکس،ساختی حیاتیات (Structural Biology)  اور بایو انفارمیٹکس سے آگاہی نے  ارتقا کے سالماتی انحصار کے بارے میں ہماری معلومات میں بیش بہا اضافہ کیا ہے۔ ہم اس اکائی میں ڈی این اے کی ساخت اور اس کے کام کے بارے میں اور ارتقا کی کہانی اور نظریئے کے بارے میں بحث کریں گے، اس کی جانچ کریں گے اور اس کو سمجھیں گے۔
pic 1 chapter 5
جیمس واٹسن 
فرانسس کریک
جیمس ڈیوی واٹسن 6؍اپریل1928ء میں شکاگو میں پیدا ہوئے۔ 1947ء میں انھوں نے حیوانیات میں بی ایس سی ڈگری حاصل کی۔ ان سالوں میں پرندوں کے مشاہدے میں ان کی بے پناہ دلچسپی نے ان کو جنیٹکس کے بارے میں مزید علم حاصل کرنے کے لیے اکسایا۔ ان کے لیے یہ اس وقت ممکن ہوا جب انڈیانا یونیورسٹی، بلومینگٹنٹ نے حیوانیات میں گریجویٹ تعلیم حاصل کرنے کے لیے انھیں فیلو شپ دیا۔ وہاں سے انھوں نے 1950ء میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ 
ان کی تحقیق کا موضوع تھا بیکٹیریوفاڑ کی افزائش میں ہارڈ ایکس رینر کا اثر—ایک مطالعہ ۔ ان کی ملاقات کریک سے ہوئی اور یہ معلوم ہوا کہ وہ بھی ڈی این اے کی ساخت معلوم کرنے میں اتنی ہی دلچسپی رکھتے ہیں۔ ان کی پہلی سنجیدہ کوشش ناکام رہی۔ دوسری کوشش کی بنیاد مزید تجرباتی ثبوتوں اورنیو کلیک ایسڈ کی ساخت کے بارے میں بہتر جانکاری تھی لہٰذا مارچ 1953 کی ابتدا میں انھوں نے کامپلیمنٹری ڈبل ہیلیکل ساخت کی تجویز پیش کی۔
فرانسس ہیری کامپٹن کریک 8؍جون 1916ء کو نارتھ ایمپٹن، انگلینڈ میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے یونیورسٹی کالج، لندن میں طبیعات کا علم حاصل کیا اور 1937 میں بی ایس سی ڈگری حاصل کی۔ ’’ایکس رے ڈیفریکشن: پالی پیڈائیڈ اورپروٹینز‘‘ کے موضوع پر 1954ء میں اپنی پی ایچ ڈی مکمل کی۔ 
کریک کی زندگی پر ان کے دوست جے۔ ڈی۔ واٹنس کا پڑا جو اس وقت 23برس کے تھے جس کا نتیجہ1953 ء میں ڈی این اے کی ڈبل ہلیکل ساخت اور اس کے ریپلیکشن کی سکیم کی تجویز کی شکل میں ظاہر ہوا۔ 
کریک کو 1959ء میں ایف آر ایس سے نوازا گیا۔1959 میں مساچو سیٹس جنرل اسپتال کا جان کولینس دارین پرائز؛ 1960 میں لاسکر ایوارڈ؛ 1962 میں ریسرچ کارپوریشن پرائز اور ان میں سب سے زیادہ ممتاز 1962 میں نوبل پرائز واٹسن اور کریک کے اعزازات میں شامل ہیں۔

pic 2 chapter 5

باب 5

توریث اور مغائرت کے اصول

(Principles of Inheritance and Variation)

5.1 مینڈل کے توریثی قوانین 
5.2 ایک جین کی توریث
5.3     دو جین کی توریث
5.4 جنس کا تعین
5.5    میوٹیشن
5.6 جینی بیماریاں

کبھی آپ نے غور کیا ہے کہ ایک ہاتھی ہمیشہ ایک ہاتھی کے بچے کو ہی کیوں پیدا کرتا ہے کسی اور جانور کو کیوں نہیں؟ یا آم کا بیج بونے پر صرف آم ہی کا پودا کیوں اگتا ہے کوئی اور پودا کیوں نہیں اگتا؟
چلیے مان لیا کہ قدرت میں ایسا ہوتا ہے مگر کیا بچے اپنے والدین کی ہوبہو تصویر ہوتے ہیں؟ یا ان میں کچھ خصوصیات مختلف ہوتی ہیں؟ کیا یہ حیران کن بات نہیں ہے کہ بھائی بہن آپس میں کتنے ملتے ہیں؟ یا کبھی کبھی بہت مختلف نظر آتے ہیں؟
اسی طرح کے اور اس سے ملتے جلتے سوالات کا سائنٹفک تجزیہ، حیاتیات کی اس شاخ میں کیا جاتا ہے جسے ہم جنیٹکس  کہتے ہیں۔ یہ باب میں والدین سے ان کے بچوں میں منتقل توریث اور خصوصیات کی مغائرت کے بارے میں بحث کی گئی ہے، یہی توریث کی بنیاد ہے۔ اولادیں اپنے والدین سے کتنی مختلف ہوتی ہیں؟ اسی کو مغائرت (Variation) کہتے ہیں۔ 
انسانوں کے علم میں یہ اصول کہ ’مغائرت کا راز جنسی تولید میں مضمر ہے‘ تقریباً آٹھ سے دس ہزار سال قبل مسیح سے تھا۔ انسانوں  نے جنگلی پودوں اور جانوروں میں قدرتی طور پر پائی جانے والی مغائرتوں کا بھرپور استعمال نئی نوع اور قسموں کی نسلی افزائش کے لیے کیا اور ایسے پودے منتخب کیے جن میں پسندیدہ خصوصیات موجود تھیں۔ مثلاً جنگلی گائے سے مصنوعی انتخاب کے ذریعے بڑی اہم ہندوستانی قسم تیار کی گئیں مثلاً پنجاب کی ساہیوال گائے۔ لیکن ہمیں تسلیم کرنا پڑیگا کہ اگرچہ ہمارے اجداد کو خصوصیات کی توریث اور مغائرتوں کے بارے میں علم تھا مگر ان کی سائنٹفک بنیاد کے بارے میں ان کی معلومات بہت محدود تھیں۔
pic 3 chapter 5
رسیو صفت حاوی یا ڈامینینٹ صفت خصوصیات
شکن دار گول بیج کی شکل
سبز زرد بیج کا رنگ
سفید ارغوانی وائیلٹ پھول کا رنگ
غیر ہموار بھری ہوئی پھلی کی شکل
پیلا سبز پھلی کا رنگ
راسی بغلی پھول کی جگہ
چھوٹا لمبا تنے کا قد
شکل 5.1 مینڈل کے زیر مطالعہ مٹر کے پودے میں مخالف صفتوں کے سات جوڑے

5.1 مینڈل کے اصولِ توریث (Mendel's Laws of Inheritance)

انیسویں صدی کے وسط میں توریث کے بارے میں ہماری معلومات میں بہت اضافہ ہوا۔ گریگور مینڈل نے مٹر کے پودے پر سات سال (1863-1856) تک جفت سازی کے تجربات (Hybridisation experiments) کیے اور جانداروں میں قانونِ وراثت کا نظریہ پیش کیا۔ مینڈل کے توریثی نمونوں کے بارے میں کیے گئے تجربات میں یہ پہلا موقع تھا جب حیاتیات کے موضوعات پر اعداد و شمار (Statistical) اور ریاضیاتی منطق استعمال کی گئی ہو۔ اس کے تجربات میں نمونوں کا شمار بہت زیادہ تھا، جس کی وجہ سے جمع کیے گئے اعداد و شمار بہت معتبر مانے گئے۔ اس کے علاوہ اس کے پودوں کی لگاتار نسلوں پر کیے گئے تجزیات کی بنا پر اخذ کیے گئے نتائج کی تصدیق ثابت کرتی یہ کہ مینڈل کے نتائج عام اصولوں (General rules) کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ مینڈل نے گارڈن مٹر کے پودے کی ان خصوصیات پر تحقیقی تجربے کیے جو دو مخالف صفتوں کا اظہار کرتے ہیں مثلاً لمبے یا چھوٹے پودے، زرد یا سبز بیج۔ پودے کی یہی مخالف صفات مینڈل کے قانونِ وراثت کی بنیاد بن گئیں جن پر بعد کے سائنسدانوں نے وسیع قدرتی مشاہدے اور ان میں موجود پیچیدگیوں کی مزید وضاحت کی۔
کئی ٹرو بریڈنگ لائنز کا استعمال کرتے ہوئے مینڈل نے مصنوعی پالینیشن/ کراس پالینیشن کے تجربے کئے۔ ٹروبریڈنگ لائن وہ ہوتی ہے جو متعدد بار مسلسل سیلف پولینٹ کی جائے، اور جن میں مستحکم صفت کی توریث کئی نسلوں تک برقرار رہتی ہے۔ مینڈل نے 14 ٹرو-بریڈنگ مٹر کے پودوں کا انتخاب کیا متضاد صفات والے ایک کیریکٹر کے علاوہ تمام خصوصیات میں یکساں تھے اور جوڑے (Pairs) میں تھے۔ متضاد صفات کا انتخاب کیا گیا تھا ان میں کچھ ہموار اور ناہموار بیج، زرد اور سبز بیج، سپاٹ اور بھری ہوئی پھلیاں، سبز اور پیلے بیج اور لمبے اور چھوٹے قد کے پودے تھے (جدول 5.1، شکل 5.1)۔

جدول 5.1 منڈل کے ذریعہ مطالعہ شدہ متضاد صفات

نمبر شمار خصوصیات متضاد صفات
1- تنے کا قد لمبا؍ پست
2- پھول کا رنگ ارغوانی؍ سفید
3- پھول کی جگہ بغلی؍ راسی
4- پھول کی شکل پھرے؍ غیر ہموار
5- پھل کا رنگ سبز؍ زرد
6- بیج کی شکل گول؍ غیر ہموار
7- بیج کا رنگ زرد؍ سبز
pic 4 chapter 5
pic 5 chapter 5
شکل 5.2 مٹر میں کراس کے مختلف اقدام

5.2 ایک واحد جین کی توریث (Inheritance of One Gene)

اب ہم اس ہائبریڈائی زیشن تجربے کی مثال لیتے ہیں جس میں مینڈل نے ایک جین کی توریث کے مطالعہ کے لیے طویل اور پست قامت مٹر کے پودے کو کراس کیا (شکل 5.2)۔ اس نے اس کراس کے ذریعے پیدا ہوئے بیجوں کو جمع کیا اور پہلے ہائبرڈ نسل پیدا کی۔ یہ نسل فیلیل 1 یا F1 نسل کہلاتی ہے۔ مینڈل نے دیکھا کہ اپنے ایک پرکھے کی طرح F1 نسل کے تمام پودے طویل قامت تھے اور کوئی بھی پودا پست قامت نہیں تھا (شکل 5.3)۔ اس نے ایسی ہی صفات والے دیگر جوڑوں کے ساتھ بھی اسی طرح کا مشاہدہ کیا۔ اس نے دیکھا کہ F1 نسل کے پودے ہمیشہ پہلی نسل کے دو میں سے کسی ایک ہی پودے جیسے ہوتے ہیں اور دوسری متضاد صفت ان میں نہیں نظر آتی۔
مینڈل نے اب ان طویل قامت F1 نسل کے پودوں کو آپس میں (Hybridize) کیا اور اسے یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ F2 نسل کے کچھ پودے پست قامت تھے؛ یہ صفت F1 نسل کے پودوں میں نہیں پائی جاتی تھی جس کا اظہار اب ہوا۔ F2 نسل کے 1/4 پودے پست قامت اور 3/4 طویل قامت تھے۔ طویل اور پست قامت  پودے اپنے پرکھوں کے مشابہہ تھے یعنی یا تو وہ طویل تھے یا پست، درمیانی قامت کا پودا نہیں تھا (شکل 5.3)۔
pic 6 chapter 5
شکل 5.3موٹوہائیبرڈ کراس کا اشکالی خاکہ 
دوسری صفات کا مطالعہ کرنے پر بھی یہی بات مشاہدے میں آئی : F1 نسل میں پرنٹ پودوں کی صرف ایک ہی صفت منتقل ہوئی جبکہ F2 نسل کے پودوں میں 3 : 1 کی نسبت سے دونوں صفات موجود تھیں۔ F1 یا F2 مرحلوں پر دو متضاد صفتوں کا امتزاج بھی نہیں تھا۔ 
ان مشاہدات کی بنا پر مینڈل نے ایک نظریہ قائم کیا کہ ان پودوں میں کوئی ایسی شئے ہے جو بغیر کسی تبدیلی کے زواجوں کے ذریعے پیرنٹ سے دوسری نسل میں منتقل ہو رہی ہے۔ اس نے اس شئے کا نام ’فیکٹر‘ رکھا۔ آج ہی ان کو جین کے نام سے جانتے ہیں۔ لہٰذا جین توریث کی اکائی ہیں۔ کسی عضویے میں کسی خاص صفت کے اظہار کے لیے ان جینوں میں مکمل معلومات ہوتی ہے۔ وہ جین جو کسی خصوصیت کی دو متضاد صفات کو کوڈ کرتے ہیں الیلز (Allels) کہلاتے ہیں یعنی وہ ایک ہی جین کے دو متبادل اقسام ہیں۔
اگر ہم انگریزی حروف تہجی کو جین کی نشان دہی کے طور پر استعمال کریں تو انگریزی کا کیپٹل حرف اس صفت کے لیے استعمال ہوتا ہے جو F1 مرحلے میں ظاہر ہوتی ہے اور چھوٹے حرف اس کی متضاد صفت کے لئے۔ مثال کے طور پر قامت کی صفت کے بارے میں T طویل اور t پست قامت کے لیے استعمال ہوتا ہے اور T اور t ایک دوسرے کے الیسلز ہیں۔ لہٰذا پودوں میں قامت کے الیسلز کے جوڑے TT، Tt، tt ہوں گے۔ مینڈل نے یہ بھی نتیجہ اخذ کیا کہ ٹروبرومیڈنگ مٹر کی طویل یا پست قامت قسم میں قامت کے جین کے ایسلک جوڑے بالترتیب یکساں یا ہوموزائیگس (Homozygous) TT، tt ہوتے ہیں۔ TT اور tt پودے کا جینوٹائپ کہلاتا ہے۔ جبکہ اصطلاح ’’طویل‘‘ یا ’’پست‘‘ فینوٹائپ کہلاتی ہے۔ تو پھر اس پودے کا فینوٹائپ کیا ہوگا جس کا جینوٹائپ Tt ہے؟
جیسا کہ مینڈل نے دیکھا کہ F1 ہیٹروزائیگوٹ Tt کا فینوٹائپ ظاہری طور پر یا فینوٹائپ TT پیرنٹ کی طرح کا تھا، اس نے تجویز پیش کی کہ مختلف فیکٹرز کے جوڑے میں، ایک دوسرے کے اوپر حاوی رہتا ہے (جیسا کہ F1 میں) لہٰذا اس کو ڈامینینٹ (Dominant) اور دوسرے کو رسیسو (Recessive) کہا۔ اس مثال میں T (طویل قامت کے لئے)، t (پست قامت) پر حاوی ہے۔ یہی مشاہدہ اس نے بقیہ خصوصیات /صفتی جوڑوں کے لیے بھی کیا۔ 
ڈامینینس اور ریسیسیومیکس(Recersiveners) کو یاد رکھنے کے لیے انگریزی کے بڑے اور چھوٹے حروف کا استعمال آسان اور منطقی اعتبار سے بھی بہت مناسب ہے۔ طویل قامت (Tall) کے لیے T اور پست قامت (Dwarf) کے لیے d کبھی نہ استعمال کریں کیونکہ آپ کو یہ معلوم کرنا نہایت مشکل ہو جائے گا کہ T اور d ایک ہی صفت کے دو الیسلز ہیں)۔ الیسلز یکساں بھی ہو سکتے ہیں جیسا کہ ہوموزایگوٹسTT اور tt میں یا مختلف بھی ہو سکتے ہیں جیسا کہ ہیٹروزائیگوٹس Tt میں۔ چونکہ Tt پودا ایک ہی صفت (قامت) کو کنٹرول کرنے والے جین کے لیے ہیٹروزائیگس ہے اس لیے یہ مونوہائیبرڈ ہے اور TT اور tt کے درمیان کراس کو  مونو ہائیبرڈ کراس کہتے ہیں۔
pic 7 chapter 5
شکل 5.4 مینڈل کے ذریعے ٹروبریڈنگ طویل پودوں اور ٹروبریڈنگ پست قامت پودوں کے درمیان کیے گئے مونوہائبرڈ کراس کو سمجھنے کے لیے نیٹ اسکوائر  کا استعمال کیا جاتا ہے۔
اس مشاہدے کی بناء پر F2 نسل میں پرکھوں کے رسیسو صفات بغیر آمیزش کے اپنا اظہار کرتے ہیں، ہم کہہ سکتے ہیں کہ تخفیفی تقسیم کے ذریعے جب طویل اور پست قامت پودے جب زواجے بناتے ہیں تو پرکھوں میں موجود الیسلز کے جوڑے ایک دسرے سے علاحدہ (Segregate) ہو جاتے ہیں اور صرف ایک الیٖل ہی زواجہ میں منتقل ہوتا ہے الیٖلز کی علاحدگی ایک رینڈم (Random) عمل ہے اس لیے زواجے میں کسی ایک الیٖل کے جانے کا چانس پچاس فی صد ہوتا ہے اور اس کی تصدیق کراسنگ کے ذریعے بھی کی جاچکی ہے۔ اس طر سے طویل TT پودوں کے زواجوں میں T الیٖل اور پست tt پودوں کے زواجوں میں الیل t موجود ہوتا ہے۔ فرٹی لائی زیشن کے دوران دو الیلز، T ایک پرکھے مثلاً پولین کے ذریعے، اور t دوسرے پرکھے یعنی بیضے (Egg) کے ذریعے مل کر زائیگوٹ بناتے ہیں جس میں ایک T الیل اور ایک t الیل ہوتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں ہائبرڈ میں Tt ہوتا ہے۔ چونکہ ان ہائبرڈز میں وہ ایسلز ہوتے ہیں جومتضاد صفتوں کا اظہار کرتے ہیں اس لیے ایسے پودوں کو ہیٹروزائیگوٹ کہتے ہیں۔ والدین پودوں کے ذریعے زواجوں کا بننا، زائیگوٹ کا بننا، F1 اور F2 نسلوں کے پودوں کو شکل 5.4 میں دیے گئے اس ڈائیگرام سے سمجھا جا سکتا ہے جسے Punnet Squaireکہا جاتا ہے اور جسے برطانیہ کے ماہرِ جینیات ریجنیالڈ سی پَنِٹ نے تیار کیا تھا۔ کسی جنینی کراس کے ذریعے پیدا ہوئے عضویوں کے تمام ممکن جنیوٹائپس کے احتمال(Probability) کو شمار کرنے کا یہ ایک گرافک ذریعہ ہے۔ ممکنہ زواجوں کو دو اطراف میں لکھا جاتا ہے، عموماً بالائی قطار اور داہنے کالم میں۔ نیچے کے خانوں میں تمام کامبی نیشن (Combination) کو لکھا جاتا ہے اور اس طرح سے اسکوائر آوٹ پُٹ فارم بن جاتا ہے۔
یہاں پینٹ اسکوائر طویل TT پرکھے (نر) اور ڈوآرف tt (مادہ) پودے، ان سے بنے ہوئے زواجے، اور Tt F1 کو دکھا رہا ہے۔ F1 نسل کے پودے جن کا جینوٹائپ Tt ہیکو سیلف پالِنیٹ کیا جاتا ہے۔ & اور % کا نشان بالترتیب F1 کے مادہ (بیضہ) اور نر (پولین) پودوں کے لیے کیا جاتا ہے۔ جب Tt جینوٹائپ واے F1 پودے کو سیلف پالینیٹ کیا جاتا ہے تو وہ Tاور t جینوٹائپ والے زواجے یکساں تناسب میں بناتا ہے۔ بارآوری کے وقت T جینوٹائپ پولین گرین کے پاس پچاس فی صدی موقع ہوتا ہے کہ وہ T جینوٹائپ والے بیضے یا t جینوٹائپ والے بیضے کو پالینیٹ کر سکے۔ اسی طرح t جینوٹائپ والے پولین گرنیز کو پچاس فی صدی موقع ہے کہ وہ T جینوٹائپ والے بیضے کو یا t جینوٹائپ والے بیضے کو پالینٹ کر سکیں۔ اس رینڈم بارآوری کی وجہ سے وجود میں آنے والے زائیگوٹس کا جینوٹائپ TT، Tt یا tt ہو سکتا ہے۔
پینٹ اسکوائر کے مطالعے سے یہ ظاہر ہے کہ رینڈم بارآوری کی وجہ سے TT1/4، Tt1/2 اور tt1/4، جینوٹائپ بناتے ہیں، حالانکہ F1 کا جینوٹائپ Tt ہے لیکن فینوٹپک صفت طویل ہے۔ F2 کے مرحلے پر 3/4 پودے طویل ہیں جن میں کچھ TT جبکہ دوسرے Tt ہیں۔ بیرونی طور پر TT اور Tt پودوں میں امتیاز کرنا ممکن نہیں ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ Tt جینوٹپک جوڑے میں صرف ایک صفت یعنی طویل 'T' کا اظہار ہورہا ہے۔ لہٰذا صفت T یا طویل قامت صفت، t الیل یا ڈوآرف صفت پر حاوی ہے۔ ایک صفت کا دوسری صفت پر حاوی ہونے کا نتیجہ ہے کہ F1 نسل کے تمام پودے طویل قامت ہیں (جبکہ جینو ٹائپ Tt ہے)، اور F2 میں 3/4 پودے طویل ہیں (حالانکہ 1/2کا جینو ٹائپ Tt ہے اور 1/4 ہی کا جینو ٹائپ TTہے) اسی لیے فینوٹیک نسبت 3/4 طویل:
 (Tt 1/2 + TT 1/4) اور 1/4 پست اس طرح tt یعنی 3:1 کی نسبت حاصل ہوتی ہے۔ لیکن جینوٹیک نسبت 1:2:1 ہوتی ہے۔ TT:Tt:tt کی نسبت 1/4:1/2:1/4 ریاضی کے نقطہ نظر سے بائی نامیل ایکسپریشن (ax + by)2 کی شکل اختیار کرلیتی ہے جہاں T یا t رکھنے والے زواجوں کی فریکوئنسی 1/2 ہوتی ہے۔ اس ایکسپریشن کو مندرجہ ذیل طریقے سے وسیع کیا جاسکتا ہے۔ 
(1/2 T + 1/2t)2 = (1/2 T + 1/2t) × (1/2T + 1/2t) = 1/4 TT + 1/2 Tt +1/4tt
مینڈل نے f2 نسل کے پودے کو سیلف پولینٹ کیا اور پایا کہ f2 کے پست قامت پودے مسلسل f3 اور f4 نسلوں میں پست قامت ہی پودے پیدا کر تے رہے۔ اس سے نتیجہ نکالا کہ پست قامت پودوں کا جینو ٹائپ ttہے اور وہ ہوموزائیگس ہیں۔ آپ کے خیال میں اگر اس نے f2 کے طویل قامت پودوں کے سیلف پالینٹ کیا ہوتا تو اسے کیا ملتا؟ 
گزشتہ بحث سے یہ صاف ظاہر ہے کہ ریاضی کے ذریعے جینوٹیک نسبت کا شمار کیا جاسکتا ہے لیکن فینوٹائپ کی صرف اسی صفت کو دیکھ کر اس کی جینوٹائپ کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا کہ F1 یا F2 کے طویل قامت پودوں کا جینوٹائپ TT ہے یا Tt ۔ لہٰذا F2 کے طویل پودے کا جینوٹائپ معلوم کرنے کے لیے مینڈل نے F2 کے طویل پودے کو پست پودے سے کراس کیا۔ اس کراس کو ٹسٹ کراس کہتے ہیں۔ ایک تمثیلی ٹسٹ کراس میں اس عضویے (یہاں مٹر کا پودا) کو جوڈامیننٹ مینوٹائپ دکھاتا ہے( اور جس کا جینوٹائپ معلوم کرنا ہے) سیلف کراسنگ کے بجائے اس کے رسیسو آبائی پودے سے کراس کرتے ہیں۔ ٹسٹ عضویے کے جینو ٹائپ کی پیشین گوئی کرنے کے لیے اس کراس سے پیدا ہوئے عضویوں کا تجزیہ آسانی سے ہوسکتا ہے۔ ایک تمثیلی ٹسٹ کراس کے نتیجے میں جس میں پھول کابنفشی (Violet) رنگ(v)  پھول کے سفید رنگ (w) پر حاوی ہے۔ شکل 5.5 
پینٹ اسکوائر کو استعمال کرکے ایک ٹیسٹ کراس سے پیدا ہوئے پودے کی ہیئت معلوم کیجیے۔ 
آپ کو کیا نسبت حاصل ہوتی ہے۔ 
pic 8 chapter 5
شکل 5.5 ٹسٹ کراس کا تصویری خاکہ 
اس ٹسٹ کراس کے جینوٹائپ کو استعمال کرکے کیا آپ ایک ٹیسٹ کراس کی عام تعریف اخذ کرسکتے ہیں؟ 
مونوہائٹرڈ کراسز میں اپنے مشاہدے کی بنا پر مینڈل نے مونو ہائیبرڈ کراسز میں توریث کی معلومات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے دو اصول پیش کئے۔ آج کل ان اصولوں کو قانون توریث کہا جاتا ہے۔ پہلا قانون لا آف ڈامیننسی اور دوسرا قانون لا ڈامیننسی آف سیگریگیشن

5.2.1 لاء آف ڈامینینس 

(i) ڈسکرٹ اکائیاں کیریکٹرس کو کنٹرول کرتی ہیں ان اکائیوں کو فیکٹرز کہتے ہیں۔ 
(ii) فیکٹرز جوڑوں میں ہوتے ہیں۔ 
(iii) فیکٹرز کے غیر مشابہ جوڑے میں ایک فرد (ڈامنینس) دوسرے فرد (رسیسیو) پر حاوی رہتا ہے۔ 
لا آف ڈامنینس کا استعمال یہ سمجھانے میں ہوتا ہے کہ مونو ہائبرڈ کراس میںF1 میں والدین کی صرف ایک ہی صفت کا اظہار ہوتا ہے اور F2 میں دونوں صفتوں کا اظہار ہوتا ہے۔ یہ لا F2 میں حاصل شدہ 3:1 کی نسبت کی بھی تشریح کرتا ہے۔ 
pic 9 chapter 5
شکل 5.6 سینپ ڈریگان پودے میں مونو ہائیبرڈ کراس کے نتائج جہاں ایک الیل دوسرے الیل پر نامکمل طور پر حاوی ہے۔

5.2.2 لاء آف سیگریگیشن 

 اس لا کی بنیاد اس حقیقت پر مبنی ہے کہ الیلز میں کوئی آمیزش نہیں ہوتی اور 
f2 نسل میں اپنی شکل میں دوبارہ ظاہر ہوتے ہیں حالانکہ f1 میں وہ نظر نہیں آتے جب کہ زواجوں کی تشکیل کے دوران والدین میں دونوں الیلز ہوتے ہیں اور الیل کے جوڑے ایک دوسرے سے اس طرح الگ ہوجاتے ہیں کہ ہر ایک زواجہ دو میں سے صرف ایک ہی الیل حاصل کر پاتا ہے۔ ہوموزائیگس والدین تمام زاویے ایک جیسے بناتے ہیں جبکہ ہیٹرو زائکس والدین دو طرح کے زاویے بناتے ہیں اور دونوں میں الگ الگ الیل ہوتے ہیں اور دونوں کا تناسب برابر ہوتا ہے۔

5.2.2.1 نامکمل ڈامینینس 

جب مٹر پر کیے گئے تجربے دوسری صفات کو لیکر دوسرے پودوں پر دہرائے گئے تو معلوم ہوا کہ F1 میں پودوں کا ایسا فینوٹائپ آیا جو کسی بھی والدین میں موجود نہیں تھا بلکہ دونوں والدین کے درمیان تھا۔ اس نامکمل ڈامینینس کو سمجھنے کے لیے (Snapdragon or Antirrhinum) کے رنگ کی توریث ایک اچھی مثال ہے۔ ٹروبریڈنگ سرخ پھول (RR) اور ٹروبریڈنگ سفید پھول (rr) کے درمیان کراس کیا گیا، F1 (Rr) پھول گلابی رنگ کے تھے (شکل 5.6) جب F1 کو سیلف پالینٹ کیا تو F2 میں (RR)1 سرخ: 2 (Rr) گلابی: (rr)1 سفید پھول کی نسبت ملی۔ یہاں جینوٹائپ کا تناسب تو بالکل وہی تھا جو مینڈل کے مونو ہائبرڈ کراس میں ملتا ہے لیکن فینوٹائپ کا تناسب 3:1 (ڈامینینس: ریسو) سے بالکل مختلف تھا۔ ہوا یہ کہ R الیل r الیل کے اوپر مکمل طور پر حاوی نہیں تھا جس کی وجہ سے Rr گلابی ہوگیا جو (RR) سرخ اور rr (سفید) سے مختلف ہے۔
ڈامینینس کے نظریے کی تشریح: ڈامینینس اصل میں کیا ہے؟ کچھ الیل ڈامینینٹ کیوں اور کچھ ریسیو کیوں ہیں ایسے سوالوں کے لیے ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ایک جین کیا کام کرتا ہے؟ ہر جین ایک مخصوص صفت کے اظہار کے لیے اپنے اندر معلومات رکھتا ہے۔ ایک ڈپلائیڈ عضویے میں ہر جین کی دو کاپیاں ہوتی ہیں یعنی الیلز جوڑے ۔ یہ دوالیلز ہمیشہ ایک دوسرے کے مشابہہ نہیں ہوتے۔ جیسا کہ ہیٹروزائیگوٹ میں ہوتا ہے۔ ان میں سے ایک الیل کچھ تبدیلیوں کی وجہ سے تھوڑا مختلف ہو سکتا ہے (ان تبدیلیوں کے بارے میں آپ آئندہ اور اگلے باب میں پڑھیں گے)۔ یہ تبدیلیاں الیل میں موجود انفارمیشن کو تھوڑا سا بدل دیتی ہیں۔
اب ایک ایسے جین کی مثال لیتے ہیں جو ایک خامرے کو بنانے کی صلاحیت (علم) رکھتا ہے۔ اس جین کی دو کاپیاں ہوتی ہیں یعنی دو الیلک اقسام۔ فرض کیجیے (جیسا کہ عام طور پر ہوتا ہے) کہ نارمل الیل نارمل اینزائم بناتا ہے اور جو سبسٹریٹ 'S' کو بدلنے کے لیے ضروری ہے۔ بظاہر نظری طور پر تبدیل شدہ الیل مندرجہ ذیل میں سے کسی بھی بات کے لیے ذمے دار ہو سکتا ہے۔
(i) نارمل / کم تاثیر والا خامرہ
(ii) نا اہل خامرہ
(iii) کوئی بھی خامرہ نہ بنانا
پہلے کیس میں تبدیل شدہ الیل نارمل الیل کی ہی طرح ہے یعنی یہ نارمل فینوٹائپ /صفت کا اظہار کرے گا یعنی سبسٹریٹ 'S' کو بدل دے گا۔ اس طرح کے الیلک جوڑے بہت عام ہیں۔ لیکن اگر الیل نا اہل خامرہ بنا رہا ہے یا کوئی خامرہ نہیں بنا رہا ہے تو فینوٹائپ پر اثر پڑتا ہے۔ فینوٹائپ / صفت کا مکمل طور پر انحصار نارمل الیل کی کارکردگی پر ہوتا ہے۔ غیر تبدیل شدہ (نارمل اور اہل) الیل جو اصل فینوٹائپ کی نمائندگی کرتا ہے ڈامینینٹ الیل ہوتا ہے اور عموماً تبدیل شدہ الیل رسیسو الیل ہوتا ہے۔ لہٰذا اوپر دی گئی مثال میں ریسو صفت نظر آتی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ نا اہل خامرہ بناتا ہے یا کوئی خامرہ نہیں بناتا۔

5.2.2.2  کوڈامینینس (Co-dominance)

ابھی تک ہم ان کراسز کے بارے میں ذکر کر رہے تھے جہاں F1 دونوں پرکھوں میں کسی ایک (ڈامینینٹ) سے مشابہہ تھا یا بیچ (نا مکمل ڈامینینس) میں تھا۔ لیکن کو-ڈامینینس کے کیس میں F1 نسل دونوں پرکھوں سے مشابہہ ہوتی ہے۔ اس کو سمجھنے کے لیے سرخ خون کے خلیے جو انسانوں میں ABO بلڈ گروپنگ کا تعین کرتے ہیں، اچھی مثال ہے۔  جین I اے بی او بلڈ گروپس، کنٹرول کرتا ہے۔ سرخ خون کے خلیوں کی پلازما جھلّی پر شوگر پالیمرز (Sugar polymers) ہوتے ہیں جو خلیوں کی سطح سے باہر نکلے رہتے ہیں اور یہ جین شوگر پالیمرز کی قسموں کو کنٹرول کرتا ہے۔ جین I کے تین الیلز IA، IB اور i ہوتے ہیں۔ الیلز IA اور IB ذرا مختلف قسم کی شوگرز بنانتے ہیں جبکہ الیل i b & کوئی شوگر نہیں بناتیا۔ چونکہ انسان ڈپلائیڈ جاندار ہے، ہر فرد میں I جین کے تین الیلز میں سے کوئی دو الیلز ہوتے ہیں۔ IA اور IB مکمل طور پر i کے اوپر حاوی رہتے ہیں۔ یعنی جب IA اور b & i ساتھ ہوتے ہیں تو صرف IA الیل ظاہر ہوتا ہے (کیونکہ b & i کوئی شوگر نہیں بناتا) اور جب IB اور i b & ساتھ ہوتے ہیں تو صرف IB ظاہر ہوتا ہے۔ لیکن جب IA اور IB اور i ساتھ ہوتے ہیں تو دونوں اپنی اپنی شوگرز بناتے ہیں: یہ کو-ڈامینینس کی وجہ سے ہوتا ہے۔ لہٰذا سرخ خون کے خلیوں میں A اور B دونوں قسموں کی شوگر موجود ہوتی ہے۔ چونکہ تین مختلف الیلز ہوتے ہیں لہٰذا ان تینوں الیلز کے چھ مختلف جوڑے ممکن ہیں اور انسانی خون میں ABO بلڈ ٹائپس کے چھ مختلف جینوٹائپس ملتے ہیں (جدول 5.2)۔ بتائییے کتنے فینوٹائپس ممکن ہیں؟ 

جدول 5.2 انسانی آبادی میں بلڈ گروپنگس کی جینی بنیاد

pic 10 chapter 5
کیا آپ کو احساس ہوا کہ اے بی اور بلڈ گروپنگس کی مثال، ملٹی پل الیلز (Multiple allels) کی بھی ایک عمدہ مثال ہے؟ یہاں آپ دیکھ رہے ہیں کہ دوسے زیادہ یعنی تین الیلز ایک ہی صفت کو کنٹرول کر رہے ہیں۔ چونکہ کسی ایک فرد میں صرف دو ہی الیلز ہو سکتے ہیں لہٰذا ملٹیپل الیلز اسی وقت زیر مطالعہ آسکتے ہیں جبکہ پاپولیشن کی اسٹڈیز کی جائے۔ 
کبھی کبھی ایک جین کا پروڈکٹ ایک سے زیادہ اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ مثال کے طور پر مٹر کے بیج میں سٹارچ کی تالیف ایک جین کنٹرول کرتا ہے۔ اس کے دو الیل ہیں (b اور B)۔ BB ہومو زائیگوٹس کے ذریعہ سٹارچ موثر طریقے سے بنتا ہے لہٰذا بڑے بڑے دانے تالیف ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس، bہوموزائیگوٹس سٹارچ کی تالیف کے نسبتاً کم اہل ہوتے ہیں اس لیے چھوٹے چھوٹے دانے تالیف کرتے ہیں۔ بیجوں کے پک جانے کے بعدb بیج گول ہوتے ہیں اور b بیج شکن دار ہوتے ہیں۔ ہیٹروزائیگوٹس گول بیج بناتے ہیں اس لیے لگتا ہے کہ B الیل ڈامیننٹ الیل ہے۔ لیکن Bb بیجوں میں سٹارچ کے دانے درمیانی سائز کے ہوتے ہیں۔ لہٰذا اگر سٹارچ کے دانوں کو فینوٹائپ مان لیا جائے تو اس نقطۂ نظر سے یہ الیلز نا مکمل ڈامیننس کااظہار کرتے ہیں۔
لہٰذا ڈامیننس کسی جین کی یا اس پروڈکٹ کی خود مختار صفت نہیں ہے جس میں اس کے بارے میں معلومات ہے۔ ان حالات میں جہاں ایک جین ایک سے زیادہ فینوٹائپ پر اثر انداز ہو وہاں ڈامینینس کا انحصار جین پروڈکٹ اور اس سے متاثر ہونے والے فینوٹائپ پر اتنا ہی ہوتا ہے جتنا مخصوص فینوٹائپ کا جس کا انتخاب ہم جانچ  کے لیے کرتے ہیں۔ 

5.3 دو جینوں کی توریث (Inheritance of Two Genes)

مینڈل نے مٹر کے پودے میں ایسے بھی کراسز کیے جو دو صفتوں میں مختلف تھے جیسا کہ ہم اس کراس میں دیکھتے ہیں جہاں وہ مٹر کا پودا جس کے بیج زرد رنگ کے اور گول تھے اور ایک وہ جس کے بیج سبز رنگ کے اور غیر ہموار تھے (شکل 5.7)۔ مینڈل نے دیکھا کہ اس کراس سے پیدا ہوئے بیج زرد رنگ کے اور گول تھے۔ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ زرد / سبز رنگ اور گول۔ غیر ہموار کے جوڑوں میں کون سی صفت ڈامینینٹ ہے؟
اس طرح، زرد رنگ سبز رنگ پر حاوی تھا اور گول ساخت غیر ہموار ساخت پر حاوی تھی۔ یہ نتائج ان نتائج سے بالکل مشابہہ تھے  اس طرح انھوں نے زرد اور سبزرنگ کے بیج والے پودوں اور گول اور غیر ہموار بیج والے پودوں کے درمیان الگ الگ کراسز کیے تھے۔
آئیے ہم جینوٹپک نشان Y ڈامیننٹ زرد بیج کے لیے اور y سبز رنگ رسیسو کے لیے استعمال کریں۔ ایسے ہی R گول ساخت کے بیج اور r غیر ہموار بیج کے لئے استعمال کریں۔ والدین کے جینوٹائپ کچھ اس طرح سے لکھے جائیں گے RRYY اور rryy۔ دونوں پودوں کے جینوٹائپ شکل 5.7میں دکھائے گئے ہیں۔ RY اور ry زواجے بارآوری کے وقت مل کر F1 نسل میں RrYy پودا بناتے ہیں۔ مینڈل نے جب F1 کے پودوں میں سیلفنگ کی تو انھیں F2 میں 3/4 پودے زرد بیجوں والے اور 1/4 سبز بیج والے ملے۔ زرد اور سبز رنگ 3 : 1 کے تناسب سے الگ الگ ہو گئے تھے۔ گول اور غیر ہموار بیج بھی 3 : 1 کے تناسب میں ملے بالکل مونوہائبرڈ کراس کی طرح۔

5.3.1 لا آف انڈیپنڈنٹ اسارٹمنٹ 

ڈائی ہائبرڈ کراس (شکل 5.7) میں گول، زرد؛ غیر ہموار، زرد؛ گول، سبز اور غیر ہموار سبز کے فینوٹائپ 9 : 3 : 3 : 1 کے تناسب میں ظاہر ہوئے۔ مینڈل کے مشاہدے میں اس طرح کے تناسب کئی اور صفات کے جوڑوں میں بھی نظر آئے۔
9 : 3 : 3 : 1 کا تناسب کامبی نیشن سیریز کی طرح اخذ کیا جاسکتا ہے جیسے 3 زرد : 1 سبز، مع 3 گول : 1 غیر ہموار۔ یہ ماخذ مندرجہ ذیل طریقے سے بھی لکھا جاسکتا ہے:
(3 گول : 1 غیر ہموار) (3 زرد : 1 سبز)  9 = گول، زرد : 3 غیر ہموار زرد : 3 گول، سبز : 1 غیر ہموار، سبز۔
pic 11 chapter 5
شکل 5.7 ڈائی ہائبرڈ کراس کے نتائج جن میں والدین مخالف صفتوں کے دو جوڑوں میں الگ الگ تھے: بیج کا رنگ اور بیج کی شکل

ڈائی ہائبرڈ کراس کے مشاہدات کی بنا پر (ان پودوں کے درمیان کراس جو دو صفتوں میں مختلف تھے) مینڈل نے دوسرا اصول پیش کیا جس کو ہم مینڈل لاء آف انڈپینڈنٹ اسارٹمنٹ کے نام سے جانتے ہیں۔ اس لا کے مطابق جب کسی ہائیبرڈ میں صفتوں کے دو جوڑے ملائے جاتے ہیں تو صفت کے ایک جوڑے کی علاحدگی دوسری صفت کے جوڑے سے آزاد ہوتی ہے۔ F1 کے RrYy پودے میں تخفیفی خلوی تقسیم کے دوران بیضہ اور پولن گرین کے بننے اور جین کے دوجوڑوں کی آزادانہ علاحدگی کو پنیٹ اسکوائر کے ذریعے بہت مؤثر طریقے سے سمجھا جاسکتا ہے۔ جین کے ایک جوڑے R اور r کی علاحدگی کو ذہن میں رکھیں۔ پچاس فیصدی زواجوں میں R جین ہے اور بقیہ پچاس فیصدی میں r۔ اب ہر زواجے میں R یا r ہونے کے علاوہ، ان میں Yاور y الیل بھی ہونے چاہئیں۔ یہاں یہ یاد رکھنا بہت اہم ہے کہ 50 فیصدی R اور پچاس فیصدی r کا سیگریگیشن (علاحدگی) پچاس فیصدی Y اور پچاس فیصدی y سے آزاد ہے۔ لہٰذا r والے پچاس فیصدی زواجوں میں Y ہے اور پچاس فیصدی میں y۔ اسی طرح R والے پچاس فیصدی والے زواجوں میں Y ہے اور بقیہ پچاس فیصدی میں y۔ اس طرح زواجوں کے چار جینوٹائپس ہیں (یعنی چار قسم کے پولین اور چار طرح کے بیضے)۔ یہ چار قسم RY، Ry، rY اور ry ہیں اور ہر قسم کل بنے زواجوں کی 25 فیصدی یا 1/4 حصہ ہوتی ہے۔ جب آپ پینٹ ااسکوائر  کے دونوں جانب چار طرح کے بیضے اور پولین لکھیں گے تو ان زائیگوٹس کا جینوٹائپس معلوم کرنا آسان ہو جائے گا۔ جو F2 نسل کے پودے بنائیں گے (شکل 5.7)۔ جبکہ وہاں سولہ خانے ہیں تو بتائیے کہ کتنے قسم کے جینوٹائپس اور فینوٹائپس بنیں گے؟ نیچے دیے گئے فارمٹ میں لکھیے۔
کیا آپ پنیٹ اسکوائر  کے اعداد (data) استعمال کرکے F2 نسل میں جینوٹائپ کا تناسب معلوم کر سکتے ہیں اور دیے گئے فارمٹ کو پُر کر سکتے ہیں؟ کیا جینوٹپک تناسب بھی 9 : 3 : 3 : 1 ہے؟
pic 12 chapter 5

5.3.2 توریث کا کروموزومی نظریہ (Chromosomal Theory of Inheritance)

مینڈل نے صفات کی توریث پر اپنے کام کو 1865 میں شائع کیا لیکن کئی وجوہات کی بناء پر 1900ء تک اس کو تسلیم نہیں کیا گیا۔ پہلی وجہ یہ کہ اس زمانے میں مواصلات کا ایسا انتظام نہیں تھا جیسا کہ آج کل ہے لہٰذا اس کے کام کی بہت زیادہ تشہیر نہیں ہو سکی۔ دوسری وجہ ان کا جین کا نظریہ (مینڈل کے الفاظ میں فیکٹرز) کہ وہ غیر تغیر پذیر اور الگ الگ اکائیاں ہیں جو صفات کا اظہار کرتی ہیں، قدرت میں بظاہر نظر آنے والی ایک مسلسل مغائرت (Variation) کی وجہ ہو سکتے ہیں، ان کے ہم عصروں کو قبول نہیں تھا۔ تیسرا یہ کہ ریاضی کو حیاتیاتی مظاہر کی تشریح کے لیے استعمال کرنے کا طریقۂ کار بالکل نیا تھا اور ان کے عہد کے ماہرِ حیاتیات کے لیے ناقابلِ قبول تھا۔ آخری بات یہ کہ  حالانکہ مینڈل کی تحقیق یہ تھی کہ فیکٹر ز (جین) الگ الگ اکائیاں ہیں لیکن وہ فیکٹرز کے وجود کی کوئی دلیل یا ثبوت نہیں پیش کر سکے  اور نہ یہ بتا سکے کہ وہ کس چیز کے بنے ہوئے ہیں۔
1900ء میں تین سائنسدانوں (ڈی ویریز، کورنیس اور وان شرماک) نے اپنے اپنے طور پر مینڈل کے توریثِ صفات کے نتائج کا نیا انکشاف کیا۔ مزید برآں، اس وقت خوردبینی کے میدان میں ترقی کے باعث، سائنسدان خلوی تقسیم کا تفصیلی مشاہدہ کر سکتے تھے۔ اس وجہ سے مرکزے میں ایسی ساخت کی شناخت ہوسکی جو خلوی تقسیم سے کچھ پہلے دوگنے ہو جاتے تھے۔ ان ساختوں کا نام کروموسومز (رنگین جسم، کیونکہ ان کو رنگنے کے بعد دیکھا جاسکتا تھا) رکھا گیا۔ 1902 تک تخفیفی تقسیم کے دوران کروموسومز کی حرکات کا مشاہدہ کیا جا چکا تھا۔ والٹر سٹن اور تھیوڈور باویری یہ معلوم کر چکے تھے کہ کروموسوم کا طرزِ عمل جین کے طرزِ عمل کے مماثل ہے  انھوں نے کروموسومز کی حرکات (شکل 5.8) کو مینڈل کے قوانین (جدول 5.3) کی تشریح کے لیے استعمال کیا۔ یاد کیجیے کہ آپ اکویشنل تقسیم اور تخفیفی (ریڈکشنل تقسیم) کے دوران کروموسومز کی حرکات کا مطالعہ کر چکے ہیں۔ اہم بات یاد رکھنے کی یہ ہے کہ کروموسومز اور جنین جوڑوں (Pairs) میں پائے جاتے ہیں۔ جین کے ایک جوڑے کے دو الیلز ہومولوگس کروموسومز کی ہومولوگس جگہوں پر واقع ہوتے ہیں۔

شکل 5.8  خلیے کے چار عدد کروموسوم کے ساتھ تخفیفی تقسیم اور جنسی خلیوں کا بننا۔ جب جنسی خلیے بنتے ہیں تو کیا آپ دیکھ سکتے ہیں کہ کس طرح کروموسومز علاحدہ ہوتے ہیں

جدول 5.3 کروموسوم اور جین کے طرزِ عمل کا موازنہ

pic 14 chapter 5
تخفیفی تقسیم کے اینا فیز کے دوران، دوکروموسومز کے جوڑے ایک دوسرے سے آزادانہ طور پر میٹا فیز کی پلیٹ پر قطار بندی کرتے ہیں (شکل 5.9)۔ اس کو سمجھنے کے لیے دائیں اور بائیں کالمز کے مختلف رنگ کے چار کروموسومز کا موازنہ کیجیے۔ بائیں کالم (امکان ایک) نارنجی اور سبز ایک ساتھ علاحدہ ہو رہے ہیں۔ لیکن دائیں کالم میں (امکان دو) نارنجی کروموسوم سرخ کروموسومز کے ہمراہ الگ ہو رہا ہے۔
pic 15 chapter 5
شکل 5.9 کروموسومز کا انڈیپینڈنٹ اسارٹمنٹ
سٹن اور باویری نے کہا کہ کروموسومز کے جوڑے کے قریب آنے اور پھر الگ ہونے سے ان میں موجود فیکٹرز کی علاحدگی عمل میں آسکتی ہے۔ سٹن نے کروموسومز کی علاحدگی کی معلومات کو مینڈل کے قانونِ توریث سے متحد کرکے توریث کی کروموسومل تھیوری پیش کی۔
خیالات کے اس اتحاد کے بعد تھامس ہنٹ مارگن اور ان کے ساتھیوں نے توریث کی کروموسومل تھیوری کی تجرباتی تصدیق کی جس کی وجہ سے جنسی تولید کے ذریعہ مغائرت کے کا وجود میں آنے اور اس کی بنیاد کا انکشاف ہوا۔ مارگن نے فروٹ فلائی ڈراسوفیلا میلانوگاسٹر شکل 5.10 پر تجربے کیے جو اس طرح کے مطالعے کے لیے بہت موزوں تھیں۔
ان کو لیب میں آسان مصنوعی میڈیم پر نمو کیا جاسکتا ہے۔ یہ اپنا حیاتی دور تقریباً دو ہفتے میں مکمل کرلیتے ہیں، اور ایک جنسی ملاپ کے بعد کثیر تعداد میں بچے پیدا کرتی ہیں۔ ان کی جنس میں بڑا نمایاں فرق ہے۔ نر اور مادہ کی پہچان بہت آسانی کے ساتھ ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ ان میں کئی قسم کی توریثی مغائرتیں ہوتی ہیں جن کو کم قوت کی خوردبین سے دیکھا جاسکتا ہے۔
pic 16 chapter 5
شکل 5.10  ڈروسوفیلا میلانو گاسٹر (a) نر (b) مادہ

5.3.3 نکیج اور ریکامبنیشن (Linkage and Recombination)

مارگن نے جنس سے متعلق جین کے مطالعے کے لیے ڈراسوفیلا میں متعدد ڈائی ہائبرڈ کراسز کئے۔ یہ مٹر میں مینڈل کے ذریعے کیے گئے ڈائی ہائیرڈ کراسز کی ہی طرح تھے۔ مثلاً مارگین نے زرد- جسمی، سفید آنکھ والی مادہ کو بھورے جسمی، سرخ آنکھوں والے نر سے کراس کرایا اور F1 نسل میں سیلفنگ کرائی۔ اس نے دیکھا کہ یہ جین ایک دوسرے سے آزادانہ طور پر علاحدہ یا سیگریگیٹ نہیں ہوئے اور F2 نسل کا تناسب بھی 9 : 3 : 3 : 1 (متوقع جب دو جین آزاد ہوں) سے بہت حد تک مختلف تھا۔
مارگن اور اس کے ساتھیوں کو علم تھا کہ یہ جین X کروموسوم (سیکشن 5.4) پر واقع ہیں اور جلد ہی اندازہ ہو گیا کہ ڈائی ہائیبرڈ کراس میں جب یہ دو جین ایک ہی کروموسوم پر واقع ہوں تو والدین کے ایک فرد کا کا جین کامبی  نینشن یا تناسب، غیر آبائی و جینی اجزا ترکیبی سے بہت زیادہ ہوتا ہے۔ مارگن نے اس کو دو جینوں کے طبعی تعلق یا قربت (لینکج) سے منسوب کیا اور ایک نئی اصطلاح لینکیج بنائی جو ایک ہی کروموسوم پر واقع جین کے باہمی طبعی تعلق کو بیان کرتی ہے اور دوسری اصطلاح ریکامبی  نیشن بنائی جو غیر آبائی جینی ساخت یا نئے جینی اجزا ترکیبی کے بننے کو بیان کرتی (شکل 5.11)۔ مارگن اور اس کے گروپ نے یہ بھی معلوم کیا جب جین کروموسوم پر ایک ساتھ ہوتے ہیں تب بھی کچھ جین بہت مضبوطی سے متحد (لنکڈ) ہوتے ہیں (بہت کم ریکامبنیشن دکھاتے ہیں) (شکل 5.11، کراس الف) جبکہ دوسرے بہت ڈھیلے پن سے متحد ہوتے ہیں (زیادہ ریکامبنیشن دکھاتے ہیں) شکل 5.11، کراس ب)۔ مثال کے طور پر انھوں نے دیکھا کہ سفید اور زرد جین بہت مضبوطی سے لنکڈ تھے اور صرف 1.3 فیصدی ریکامبینیشن ہوا جبکہ سفید اور چھوٹے پر میں 37.2 فیصدی ریکامبینیشن ملا۔ ان کے شاگرد الفریڈ سٹرٹوانٹ نے اسی کروموسوم پر واقع جین کے جوڑے کے درمیان ریکامبینیشن کی فریکوئنسی کو استعمال کرکے جین کے درمیان کے فاصلے کو ناپنے کا پیمانہ بنایا اور کروموسوم پر ان کی جگہ کے تعین نقشہ تیار کیا۔ آج کل پورے جنیوم کو سیکوئینس کرنے کے لیے جینیٹک میپ ایک شروعاتی قدم کے طور پر کثرت سے استعمال ہوتا ہے جیسا کہ ہیومن جینوم سیکوئنسگ پروجیکٹ میں ہوا، اس بارے میں بعد میں بحث کی جائے گی۔

پولی جینک وراثت (Polygenic Inheritance)

مینڈل نے اپنی تحقیقات میں ان اوصاف (Traits) کا بیان کیا ہے جو ممتاز یا جداگانہ طور پر متبادل شکلوں میں پائے جاتے ہیں مثلاً پھول کا رنگ جو ارغوانی ہوگا یا سفید۔ لیکن اگر آپ اپنے اطراف میں نظر ڈالیں تو آپ کو نظر آئے گا کہ بہت سے ایسے اوصاف (Traits) ہیں جو بہت جداگانہ یا ممتاز طور پر وقوع پذیر نہیں ہوتے۔ مثال کے طور پر انسانوں کے اندر چھوٹے اور لمبے قد والے لوگ دو ممتاز متبادل کے طور پر نہیں ملیں گے بلکہ مختلف قد کے لوگوں کی ایک بڑی تعداد ملے گی۔ ان اوصاف کو عام طور پر تین یا چار جین کنٹرول کرتے ہیں اور اسی لیے ان کو پولیجینک اوصاف کہتے ہیں۔ متعدد جینوں کے علاوہ پولی جینک وراثت میں ماحول کے اثرات کی بھی اہمیت ہوتی ہے۔ انسانی جلد کا رنگ بھی اس کی ایک کلاسیکل مثال ہے۔ کسی بھی پولی جینک وصف میں فینوٹائپ پر ایک الیل (Allele) کی دین یا اس کے تعاون کو منعکس کرتا ہے یعنی ہر الیل کا اثر اضافی (Addition) ہوتا ہے۔ اس بات کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے ہم یہ مان لیتے ہیں کہ A، B اور C تین جین انسانوں میں جلد کے رنگ کو کنٹرول کرتے ہیں۔ غالب (Dominant) شکلیں (ABC) جلد کے کالے رنگ کے لیے ذمہ دار ہیں اور مغلوب (Recessive) شکلیں abc جلد کی ہلکی رنگت کے لیے ذمہ دار ہیں۔ تمام غالب الیل (AABBCC) کے ساتھ جینوٹائپ کے اثر سے جلد کا رنگ سب سے زیادہ گہرا ہوگا، جب کہ مغلوب الیل (aabbcc) کے ساتھ جلد کا رنگ سب سے ہلکا ہوگا۔ متوقع طور پر تینوں غالب الیل اور تینوں مغلوب الیل کے ساتھ جینوٹائپ جلد کے درمیانی رنگ کا حامل ہوگا۔ اس طرح جینوٹائپ میں الیل کی ہر قسم کی تعداد کسی بھی فرد میں جلد کے رنگ کے ہلکے اور گہرے رنگ کو متعین کرتی ہے۔

6جنس کا تعین (Sex Dtermination)

ما ہرِ جینیات کے سامنے جنس کے تعین کا میکانزم ہمیشہ ایک معمہ رہا ہے۔ جنسی تعین کے میکانزم کے بارے میں ابتدائی اشارہ ان تجربات سے ملتا ہے جو پہلے کبھی حشرات پر کیے گئے تھے۔ حقیقتاً ان نظریوں کا ارتقا کہ جنسی تعین کی بنیاد جینیٹک / کروموسومز ہیں، وہ خلوی (Cytological) مشاہدات ہیں جو کئی حشرات میں کیے گئے۔ کچھ کیڑوں میں  ہینکنگ (1891) نیسپرمیٹو جینس جنسی خلیوں کی تقسیم اور تبدیلی کے پورے عمل میں مرکزے میں ایک خاص ساخت دیکھی اور یہ بھی مشاہدہ کیا کہ پچاس فیصدی سپرمز میں یہ ساخت داخل ہوئی جبکہ بقیہ پچاس فیصدی سپرمز میں یہ نہیں موجود تھی۔ ہینکنگ نے اس ساخت کا نام X باڈی رکھا مگر اس کی اہمیت کو واضح نہیں کر سکا۔ مزید تحقیقات کے ذریعہ دوسرے سائنسدان اس نتیجے پر پہنچے کہ دراصل یہ ایک کروموسوم ہے لہٰذا اس کا نام X کروموسوم پڑا۔ بعد میں یہ بھی مشاہدے میں آیا کہ بہت سارے حشرات میں جنس کے تعین کا میکانزم XO ٹائپ کا ہوتا ہے یعنی تمام بیضوں میں دوسرے کروموسومز (Autosrms) کے علاوہ ایک اضافی X-کروموسوم ہوتا ہے۔ دوسری طرف کچھ سپرمز میں X-کروموسوم پایا جاتا ہے اور کچھ میں نہیں۔ وہ بیضے جو X-کروموسوم والے اسپرم سے بارآور ہوتے ہیں وہ مادہ بنتے ہیں اور وہ جو بغیر X-کروموسوم والے سپرمز سے بارآور ہوتے ہیں نر بن جاتے ہیں۔ کیا آپ کے خیال میں نر اور مادہ میں کروموسومز کی تعداد برابر ہوتی ہے؟ X-کروموسومز کو آٹو سومز کہتے ہیں۔ جنس کے تعین میں XO ٹائپ کی مثال ٹڈے میں ملتی ہے جہاں نر خلیوں میں آٹوسومز کے علاوہ صرف ایک عدد X- کروموسوم ہوتا ہے جبکہ مادہ میں X-کروموسوم کا جوڑا پایا جاتا ہے۔ 
ان مشاہدات کی وجہ سے جنسی تعین کے میکانزم کو سمجھنے کے لیے کئی انواع پر تجربے کیے گئے۔ کئی دوسرے حشرات میں اور پستانیوں مع انسان کے، جنس کا تعین XY ٹائپ پر مشتمل ہوتا ہے۔ جہاں نر اور مادہ دونوں میں کروموسومز کی تعداد برابر ہوتی ہے۔ نر میں X-کروموسوم موجود ہوتا ہے اس کا ہم زاد امتیازی طور پر چھوٹا ھوتا ہے جسے Y-کروموسوم کہتے ہیں۔ مادہ میں دو X-کروموسومز ہوتے ہیں۔ نر اور مادہ دونوں میں آٹوسومز کی تعداد برابر ہوتی ہے۔ لہٰذا نر میں آٹوسومز کے علاوہ XY ہوتا ہے اور مادہ میں آٹوسومز کے علاوہ XX ہوتا ہے۔ انسان اور ڈراسوفیلا کے نر میں ایک X اور ایک Y کروموسوم ہوتا ہے جبکہ مادہ میں آٹوسومز کے علاوہ X کروموسومز کا ایک جوڑا موجود ہوتا ہے (شکل 5.12 a, b)۔
pic 17 chapter 5
شکل 5.11: مارگن کے ذریعہ کیے گئے دو ڈائی ہائبرڈ کراس کے نتائج کراس A جین Yاور W کے درمیان اور کراس B جین W اور M کے درمیان یہاں حاوی جین + کے نشان سے واضح کیا گیا ہے۔ غور کریں کہ لنکیج کی مضبوطی Y-W جین میں بمقابلہ W-M کے زیادہ ہے۔ 
مندرجہ بالا بیان میں آپ نے جنس کو متعین کرنے والے میکانزم کے دو ٹائپس کا مطالعہ کیا یعنی XO ٹائپ اور XY ٹائپ۔ لیکن دو قسموں میں نر دو طرح کے زواجے بناتا ہے (a) یا تو X-کروموسوم کے جز کے ساتھ یا بغیر X-کروموسوم کے یا (b) کچھ زواجے X- کروموسوم والے اور کچھ Y-کروموسوم والے۔ اس طرح سے جنسی تعین کے میکانزم نر ہیٹر گیمیٹی کی مثال ہیں۔ کچھ دوسرے عضویوں مثلاً پرندوں میں جنس کے تعین میں مختلف میکانزم مشاہدے میں آتا ہے (شکل 5.12 (c))۔ اس حالت میں مادہ میں کروموسومز کی کل ہیٹروگیمیٹی ہے۔ پہلے بیان کیے گئے جنس کے تعین کے میکانزم میں امتیاز برقرار رکھنے کے لیے مادہ پرندے کے دونوں سیکس کروموسومز کا نام Z اور W رکھا گیا ہے۔ ان عضویوں میں مادہ میں ایک Z اور ایک W کروموسوم ہوتا ہے، جبکہ نر میں آٹوسومز کے علاوہ ایک جوڑا Z کروموسومز کا ہوتا ہے۔ 
pic 18 chapter 5
شکل 5.12 کروموسومز میں عدم مشابہت کی وجہ سے جنس کا تعین: (a, b) انسان اور ڈراسوفیلادونوں میں مادہ میں XX کروموسومز ہیں (ہوموگیمیٹک) اور نر میں XY (ہیٹروکیمٹیک) ترتیب ہوتی ہے؛ (c) کئی پرندوں میں مادہ میں کروموسومز کے غیر مشابہہ جوڑے ZW اور نر میں دو مشابہہ ZZ کروموسومز کی ترتیب ہوتی ہے۔

5.6.1 انسانوں میں جنس کا تعین (Sex Dtermination in Humans)

یہ پہلے ہی بتایا جاچکا ہے کہ انسانوں میں جنس کے تعین کا میکانزم XYٹائپ کا ہوتا ہے۔ کروموسومز کے 23 جوڑوں میں سے 22 جوڑے نر اور مادہ میں یکساں ہوتے ہیں؛ یہ آٹوسومز کہلاتے ہیں۔ مادہ میں X-کروموسومزکا ایک جوڑا ہوتا ہے، جبکہ ایک X اور Y-کروموسوم کی موجودگی نر کی خصوصیات کا تعین کرتی ہے۔ نر میں سپر میٹوجینیسس کے دوران دو طرح کے زواجے بنتے ہیں۔ بننے والے کل سپرمز کی کل تعداد کے پچاس فیصدی X-کروموسوم کے حامل ہوتے ہیں اور بقیہ پچاس فیصدی میں آٹوسومز کے علاوہ Y-کروموسوم موجود ہوتا ہے۔ مادہ صرف ایک ہی طرح کا بیضہ بناتی ہے جس میں X-کروموسوم ہوتا ہے۔ X یا Y والے اسپرم سے بیضے کے بارآور ہونے کے امکانات برابر ہیں۔ اگر بیضہ اس اسپرم سے بارآور ہوتا ہے جس میں X-کروموسوم ہے تو ٹرائیگوٹ مادہ (XX) اور اگر بیضہ کی بارآوری Y-کروموسوم والے اسپرم سے ہوتی ہے تو بچے نر (XY) ہوں گے۔ لہٰذا یہ بات ظاہر ہوگئی کہ یہ اسپرم کا جینیٹک میک اپ ہی بچے کی جنس کا تعین کرتا ہے۔ مزید یہ بات بھی ثابت ہو گئی کہ ہر حمل میں ہونے والے بچے کا نر یا مادہ ہونے کے چانس ہمیشہ پچاس فیصدی ہوتے ہیں۔ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہمارے سماج میں لڑکی کی پیدائش کی ذمے داری عورتوں سے منسوب کردی جاتی ہے اور اس غلط خیال کی بناء پر عورتوں پر ظلم کیا جاتا ہے۔

شہد کی مکھیوں میں جنس (Sex) کا تعین 

شہد کی مکھیوں میں جنس کا تعین ان کروموزومس کے سیٹوں کی تعداد پر مبنی ہوتا ہے جو کسی فرد کو ملتے ہیں۔ ایک نر اسپرم (Sperm) اور ایک بیضے کے اتحاد سے جو اولاد تشکیل پاتی ہے وہ ایک مادہ (ملکہ یا محنت کش) کے روپ میں ارتقا پذیر ہوتی ہے جبکہ غیر بارور شدہ (Parthenogenesis) کے ذریعے ایک نر مکھے میں ارتقاپذیر ہوتا ہے۔ اس کا  مطلب یہ ہے کہ نروں میں کروموزوموں کی تعداد مادہ کے کروموزوموں کی تعداد سے آدھی ہوتی ہے۔ مادائیں (Females) دوگونی (Diploid) ہوتی ہیں جن کے کروموزوم 32 ہوتے ہیں جبکہ نر یک گونہ (Haploid) ہوتے ہیں یعنی ان کے کروموزوم 16 ہوتے ہیں۔ اس کو جنس کے تعین کا Haplodiploid نظام کہا جاتا ہے۔ اس نظام کی کچھ خاص خصوصیات ہیں مثلاً یہ کہ نر ایک خیطی تقسیم (مائی ٹوسس) کے ذریعے اسپرم کی تولید کرتا ہے (شکل 5.13)۔ ان کے باپ نہیں ہوتے اور اسی لیے ان کے بیٹے بھی نہیں ہوسکتے۔ البتہ ان کا ایک دادا ہوتا ہے اور اسی لیے پوتے ہو سکتے ہیں۔
pic 19 chapter 5
شکل 5.13 شہد کی مکھیوں میں جنس کا تعین
پرندوں میں جنس کے تعین کا میکانزم کس طرح مختلف ہے؟ چوزے کی جنس کے تعین کی ذمے داری اسپرم کی ہے یا بیضے کی؟

پلے یوٹروپی (Pleiotropy)

اب تک ہم نے کسی واحد فینوٹائپ یا وصف کے اوپر کسی جین کے اثر کا مطالعہ کیا۔ بہرحال ایسی بھی مثالیں موجود ہیں جہاں ایک واحد جین متعدد فینوٹائپ اظہار (Multiple phenotypic expression) کی نمائندگی کرتا ہے۔ ایسا جین Pleiotropic gene کہلاتا ہے۔ Pleiotropy کا میکانزم اکثر میٹابولک راستوں پر کسی ایسے جین کا ہی اثر ہوتا ہے جو مختلف فینوٹائپس کا معاون ہو۔ فینائل کیٹونوریا (Phenylketonuria) کی بیماری اسی کی ایک مثال ہے۔ یہ بیماری انسانوں میں ہوتی ہے۔ یہ بیماری اس جین میں تبدل (Mutation) کی وجہ سے ہوتی ہے جو اینزائم فینائل الانن ہائڈروکسی لیز (Phenyl alanine hydroxylase) کا کوڈ ہے۔ یہ خود کو فینوٹائیک اظہار کے ذریعے جلوہ گر کرتا ہے اور ذہنی معذوری (Mental Distardedness) بالوں اور جلد کے پگمینٹیشن میں تخفیف اس کی خصوصیت ہے۔

5.7 میوٹیشن (Mutation)

میوٹیشن وہ عمل ہے جس کی وجہ سے ڈی این اے کی ساختی ترتیب تبدیل ہو جاتے ہیں اور نتیجتاً اس عضویے کے جینوٹائپ اور فینوٹائپ میں تبدیلیاں نمایاں ہو جاتی ہیں۔ریکامبینیشن کے علاوہ میوٹیشن دوسرا طریقہ ہے جس کی وجہ سے ڈی این اے میں مغائرت پیدا ہوتا ہے۔
جیسا کہ آپ باب چھ میں سیکھیں گے، کروموزوم بہت سُپر کوائلڈ شکل میں ایک ڈی این اے ہیلکس، کرومیٹڈ کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک رہتا ہے۔ لہٰذا ڈی این اے کے کسی حصے کا نقصان یا حذف (ڈیلیشن) یا کروموزوم کے باہر کی درآمد (gain) (انسرشن / ڈوپلیکیشن) کی وجہ سے کروموسوم میں تبدیلیاں آجاتی ہیں۔ چونکہ جین کروموسومز پر واقع ہوتے ہیں، کروموسومز میں تبدیلیوں کی وجہ سے لغزش یا غلطیاں ہو جاتی ہیں۔ کروموسومل ابریشنز اکثر کینسر خلیوں میں دیکھے گئے ہیں۔
مندرجہ بالا کے علاوہ، ڈی این اے میں ایک بیس جوڑے کی تبدیلی سے بھی میوٹیشن ہو سکتے ہیں، ان کو پوائنٹ میوٹیشن کہتے ہیں۔ سِکل سیل انیمیا اس طرح کے میوٹیشن کی ایک عمدہ مثال ہے۔ بیس پیئر کے ڈیلیشن اور انسرشن کی وجہ سے فریم شفٹ میوٹیشن ہوتے ہیں (دیکھیے باب 6)۔
میوٹیشن کا میکانزم، ہمارے موضوع بحث سے خارج ہے۔ تاہم بہت سے کیمیائی اور طبعی فیکٹرز میوٹیشن کو بڑھاوا دیتے ہیں۔ ان کو میوٹا جنز کہتے ہیں۔ UV ریڈیشنز عضویے میں میوٹیشن کر سکتی ہیں لہٰذا UV ایک میوٹاجن ہے۔

5.8 جینٹک امراض (Genetic Disorders)

5.6.1 شجرۂ نسب کا تجزیہ

انسانی سماج میں یہ خیال کہ امراض وراثت میں ملتے ہیں، ایک زمانے سے چلا آرہا ہے۔ اس کی بنیاد خاندان میں کچھ مخصوص صفات کی نسل درنسل توریث ہے۔ مینڈل کے نتائج کے انکشافِ نو کے بعد ہی انسانوں میں صفات کے توریثی نظام کا تجزیہ شروع ہوا۔ چونکہ یہ بات واضح ہے کہ مٹر کے پودے اور دوسرے عضویوں میں جس طرح کنٹرول کراسز ممکن ہیں وہ انسانوں میں ممکن نہیں۔ اس کا نعم البدل یہ ہے کہ کسی مخصوص صفت کی توریث کے مطالعہ کے لیے انسان کی فیملی ہسٹری کا مطالعہ کیا جائے۔ کسی خاندان کی کئی نسلوں میں ایک خاص صفت کی توریث کے اس تجزیے کو پیڈیگری تجزیہ کہا جاتا ہے۔ پیڈیگری تجزیے میں مخصوص صفت کی توریث کو خاندان کے شجرۂ نسب سے ظاہر کرتے ہیں۔ ہومن جینیٹکس میں مخصوص صفت، خرابی یا بیماری کی توریث کا سراغ لگانے کے لیے پیڈیگری کا مطالعہ، ایک بہت مؤثر ذریعہ ہے۔ پیڈیگری تجزیے میں استعمال ہونے والے کچھ نشانِ امتیاز شکل 5.13 میں دیے گئے ہیں۔
جیسا کہ آپ اس باب میں پڑھ چکے ہیں کہ کسی عضویے میں اس کی ہر ایک صفت کو ایک یا ایک سے زیادہ جین کنٹرول کرتے ہیں، یہ جین ڈی این اے کے مخصوص ٹکڑے ہیں اور ڈی این اے کروموسومز میں موجود ہوتے ہیں۔ تمام جینٹک معلومات ڈی این اے میں موجود ہوتی ہے۔ یہ معلومات بغیر کسی تبدیلی ایک نسل سے دوسری میں منتقل ہوتی رہتی ہے۔ پھر بھی اس معلومات میں کبھی کبھار تبدیلی عمل میں آجاتی ہے۔ اس طرح کی تبدیلی کو میوٹیشن کہتے ہیں۔ انسانوں میں کئی ایسی بیماریاں یا خرابیاں پائی جاتی ہیں جو تبدیل شدہ جین یا کروموسومز کی توریث سے وابستہ ہیں۔

5.8.2 مینڈیلین بیماریاں (Mendelian Disorders)

موٹے طور پر جینٹک بیماریوں کو دوزمروں میں بانٹا جاسکتا ہے۔ مینڈیلین بیماریاں اور کروموسومل ڈس آرڈرز، مینڈیلین بیماریوں کا تعین ایک جین میں تبدیلی یا میوٹیشن سے ہوتا ہے۔ ان عوارض کی بچوں میں توریث کا طریقہ کار وہی ہے جو ہم قانونِ توریث میں پڑھ چکے ہیں۔ کسی خاندان میں اس طرح کے مینڈیلیں ڈس آرڈرز کی توریث کا سراغ پیڈیگری تجزیے سے لگا سکتے ہیں۔ ہیموفیلیا، سسٹک فائبروسس، سِکل سیل انیمیا، کلربلائنڈنِس، فیناٹل کیٹون یوریا، تھیلسیمیا وغیرہ سب سے عام مینڈیلین عوارض (Disorders) ہیں۔ یہاں پر یہ بات بتانا بہت اہم ہے کہ یہ مینڈیلین ڈس آرڈرز ڈامنینٹ یا رسیسو ہو سکتے ہیں۔ پیڈیگری تجزئے کے ذریعے یہ بات آسانی سے سمجھ میں آسکتی ہے کہ زیر مطالعہ صفت ڈامنینٹ ہے یا رسیسو۔ اسی طرح صفت سیکس کروموسوم سے بھی جڑی ہو سکتی ہے مثلاً ہیموفیلیا۔ یہ واضح ہے کہ یہ X-لنکڈ رسیسو صفت بارگیر (Carrier) مادہ سے نر میں منتقل ہوتی ہے۔ نمونے کے طور پر شکل 5.14 میں ڈامنینٹ اور سیسو صفات کے لیے ایک پیڈیگری دکھائی گئی ہے، اپنے استاد سے تبادلۂ خیال کیجیے اور ان صفات کے لیے جو آٹوسومز اور سیکس کروموسومز دونوں سے ملحق ہوں، پیڈیگریز ڈیزائن کیجیے۔
یہ آٹوسوم سے متعلق ایک مغلوب بیماری (Recessive Disorder) ہے جس کی وجہ آنکھ کے لال یا ہرے مخروط میں خرابی ہوتی ہے۔اس بیماری کا شکار لال اور ہرے رنگ میں امتیاز یا تفریق نہیں کرپاتا۔ یہ بیماری کروموزوم X میں موجود کچھ جینوں کے اندر تبدل (Mutation) کی وجہ سے ہوتی ہے۔
یہ بیماری مردوں میں تقریباً 8 فی صد اور عورتوں میں صرف 0.4 فی صد ہوتی ہے۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ جن جینوں کی وجہ سے لال-ہرے رنگ کے تین ناشناس پیدا ہوتی ہے وہ X کروموزوم پر ہوتے ہیں۔ مردوں میں صرف ایک X کروموزوم ہوتا ہے اور عورتوں میں دو۔ اس عورت کے بیٹے میں اس بیماری کے پچاس فی صد امکان ہوتا ہے جو عورت اس جین کی حامل ہوتی ہے۔ خود ماں کو رنگ ناشناسی کی بیماری نہیں ہوگی کیونکہ وہاں جین مغلوب ہوتا ہے۔ بیٹی میں یہ بیماری نہیں ہوگی البتہ اس کا امکان اس صورت میں ہوگا جب ماں اس جین کا حامل ہو اور باپ کو یہ بیماری لاحق ہو۔

رنگ ناشناسی (Colour Blindness)

یہ آٹوسوم سے متعلق ایک مغلوب بیماری (Recessive Disorder) ہے جس کی وجہ آنکھ کے لال یا ہرے مخروط میں خرابی ہوتی ہے۔اس بیماری کا شکار لال اور ہرے رنگ میں امتیاز یا تفریق نہیں کرپاتا۔ یہ بیماری کروموزوم X میں موجود کچھ جینوں کے اندر تبدل (Mutation) کی وجہ سے ہوتی ہے۔
pic 20chapter 5
شکل 5.13 ہومن پیڈیگری تجزیے میں استعمال ہونے والے نشانات
یہ بیماری مردوں میں تقریباً 8 فی صد اور عورتوں میں صرف 0.4 فی صد ہوتی ہے۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ جن جینوں کی وجہ سے لال-ہرے رنگ کے تین ناشناس پیدا ہوتی ہے وہ X کروموزوم پر ہوتے ہیں۔ مردوں میں صرف ایک X کروموزوم ہوتا ہے اور عورتوں میں دو۔ اس عورت کے بیٹے میں اس بیماری کے پچاس فی صد امکان ہوتا ہے جو عورت اس جین کی حامل ہوتی ہے۔ خود ماں کو رنگ ناشناسی کی بیماری نہیں ہوگی کیونکہ وہاں جین مغلوب ہوتا ہے۔ بیٹی میں یہ بیماری نہیں ہوگی لبتہ اس کا امکان اس صورت میں ہوگا جب ماں اس جین کا حامل ہو اور باپ کو یہ بیماری لاحق ہو۔
ہیمو فیلیا: اس سیکس لنکڈ رسیسو بیماری، جو غیر متاثر بارگیر مادہ سے کچھ نر بچوں میں پہنچتی ہے، پر بہت وسیع پیانے پر تحقیق ہوئی ہے۔ اس بیماری میں خون کو جمانے والے کئی پروٹینز میں سے ایک پروٹین متاثر ہوتا ہے۔ اس کی وجہ سے ایک متاثر فرد میں زخم ہو جانے پر خون بہتا رہتا ہے جمتا نہیں ہے۔ ہیموفیلیا کے لیے ایک ہیٹرزڈائیگس مادہ (بارگیر) یہ بیماری اپنے لڑکوں میں منتقل کر سکتی ہے۔ مادہ کی ہیموفیلیا بیماری میں مبتلا ہونے کے امکانات بہت کم ہوتے ہیں کیونکہ ایسی مادہ کی ماں کو کم سے کم بارگیر ہونا ضروری ہے اور باپ کو ہیموفیلیا ہونا ضروری ہے (جس کے امکانات بہت کم ہوتے ہیں کیونکہ ایسے لڑکے بہت زیادہ عمر تک زندہ نہیں رہتے)۔ ملکہ وکٹوریا کے شجرۂ نسب میں بہت سارے بچے ہیموفیلیا میں مبتلا تھے کیونکہ ملکہ خود اس بیماری کی بارگیر تھیں۔
pic 21 chapter 5
شکل 5.14  (a) آٹوسومل ڈامنینٹ صفت (مثلاً مائیوٹانک ڈسٹروفی) (b) آٹوسومل رسیسو صفت (مثلاً سکِل سیل انیمیا) کی پیڈیگری تجزیے کا نمونہ۔

 سِکل سیل انیمیا:

 یہ ایک آٹو سوم لِنکڈ رسیسو صفت ہے جو والدین سے اولاد تک اسی وقت منتقل ہوسکتی ہے جبکہ ماں باپ دونوں اس جین (ہیٹروزائیگس) کے بار گیر ہوں)۔ یہ بیماری ایک جین کے دوالیلز، HbA اور HbS کے ذریعے کنٹرول ہوتی ہے۔ تین ممکنہ جینوٹائپس میں سے HbS کے لیے ہوموزائیگس (HbS HbS)افراد ہی بیماری والا فینوٹائپ ظاہر کر سکتے ہیں۔ ہیٹروزائیگس (HbA HbS) افراد بظاہر غیر متاثر ہوتے ہیں لیکن وہ بیماری کے لیے بارگیر ہوتے ہیں چونکہ بچے تک اس تبدیل شدہ جین کے منتقل ہونے کے پچاس فی صد امکانات ہوتے ہیں لہٰذا وہ سکل سیل صفت کا اظہار کرتے ہیں (شکل 5.15)۔ ہیموگلابن سالمے کے بیٹا گلوبن زنجیر کی چھٹی پوزیشن پر گلوٹامک ایسڈ (glu) کی جگہ ویلیٖن (Val) کے آجانے سے یہ عیب ظاہر ہوتا ہے۔ گلوبن پروٹین میں اس امینو ترشے کی تبدیلی کی وجہ بیٹا گلوبن کے جین میں چھٹے کو ڈان میں ایک بیس کی ردّوبدل GAG سے GUG ہوتی ہے۔ آکسیجن کے دبائو میں کمی کی وجہ سے یہ تبدیل شدہ ہیموگلوبن سالمہ پالی مرائز ہو کر آر بی سی کی شکل بائی کانکیو (حدبی) سے سکِل (ہنسوا) جیسی ہو کردیتا ہے (شکل 5.15)۔
pic 22 chapter 5
شکل 5.15 آربی سی کا مایکروگراف اور ہیموگلاس کے b زنجیر کا متعلقہ حصہ: (a) نارمل انسان سے (b) سکل سیل انیمیا میں مبتلا انسان سے۔
فینائیل کیٹونیوریا: تحول (Metabolism) کا یہ پیدائشی عیب بھی آٹو سومل رسیسو صفت کی وجہ سے مورثی ہوتا ہے۔ متاثر فرد میں فینائیل الانین امینو ایسڈ کو ٹائروسین امینو ایسڈ میں بدلنے والا خامرہ نہیں ہوتا۔ لہٰذا فینائیل الانین جمع ہوتی رہتی ہے اور بعد میں یہ فینائیل پائیروِک ایسڈ اور دوسرے مرکبات میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ دماغ میں اس کے جمع ہو جانے سے ذہنی کمزوری واقع ہو جاتی ہے۔ گردے بھی اس کو پوری طرح سے جذب نہیں کرپاتے لہٰذا یہ پیشاب کے ذریعے خارج ہو جاتی ہے۔

تھیلیسیمیا (Thalassemia)

یہ بھی آٹوسوم (Autosome) سے وابستہ خون کی مغلوب بیماری ہے جو والدین سے اولاد میں منتقل ہوتی ہے جبکہ دونوں والدین جین (یا ہیٹروزائی گورس) کے لیے غیر متاثر حامل ہوں۔ یہ بیماری یا تو تبدل کی وجہ سے ہوتی ہے یا اخراج (Deletion) کی وجہ سے جس کا نتیجہ ان گلوبین زنجیروں (á and â chains) کی سنتھیسس (Synthesis) کی تخفیف شدہ شرح میں نکلتا ہے جو سیموگلوبین بناتی ہیں۔ اس سے ہیموگلوبین کے باقاعدہ سالموں کی تشکیل ہوتی ہے جس کا نتیجہ قلت دم یا خون کی کمی کی شکل میں نکلتا ہے۔ اس بیماری کی خصوصیت قلت دم (Anaemia) ہی ہے۔ تھیلیسیمیا کی زمرہ بندی کی جاسکتی ہے جس کے مطابق ہیموگلوبین سالمے کی زنجیر متاثر ہوتی ہے۔ á Thalassemia  میں á globin زنجیر کی پیداوار متاثر ہوتی ہے جبکہ â Thalassemia دو قریبی طور سے مربوط جینوں HBA1 اور HBA2 کے ذریعے کنٹرول ہوتا ہے جو ہر والدین کے کروموزوم 16 پر ہوتے ہیں اور اس کا چار جینوں میں سے کسی ایک یا زیادہ جینوں کے تبدیل یا اخراج کی وجہ سے مشاہدہ کیا جاسکتا ہے جتنے زیادہ جین متاثر ہوتے ہیں اتنی ہی ان کا گلوبین سالموں کی کم پیداوار ہوتی ہے۔ â Thalassemia ہر پیرنٹ کے کروموزوم 11 پر واحد جین HBB کے ذریعے کنٹرول ہوتا ہے اور ایسا کسی ایک یا دونوں جینوں کے تبدل کی وجہ سے واقع ہوتا ہے۔ تھیلیسیمیا (Sickle-cell) اینیمیا سے مختلف ہوتی ہے کیونکہ تھیلیسیمیا بہت کم گلوبین سالموں کی سینتھیسس (Synthesis) کا ایک مقداری مسئلہ ہے جبکہ سِکل سیل ایک غلط طور پر کام کر رہے گلوبین کی سینتھیسس کا ایک کیفی (Qualitative) مسئلہ ہے۔

5.8.3 کروموسومل بیماریاں  (Chromosomal Disorders)

کروموسول ڈس آرڈرزکی کی وجہ کسی کروموسومز کا غائب ہونا یا اس کی زیادتی ہونا (ایک یا ایک سے زیادہ) یا اس کا بے قاعدہ ہونا ہے۔ 
خلوی تقسیم کے کے دوران کرومیٹڈز(Chromatids) کا علاحدہ نہ ہونا ایک یا ایک سے زیادہ کروموسومز کی کمی یا زیادتی پیدا کر دیتا ہے اس کو اینیوپلائیڈی کہتے ہیں۔ مثال کے طور پر ڈائونز سِنڈروم میں انسانی مادہ میں 21 ویں کروموسوم کی ایک کاپی زائد ہوتی ہے۔ خلوی تقسیم کے دوران ٹیلوفیز میں سائیٹوکائنیسس کے نہ ہونے سے کسی عضویے میں کروموسوم کا ایک پورا سٹ بڑھ جاتا ہے اور اس عمل کو پالی پلائیڈی کہتے ہیں۔ یہ حالت اکثر پودوں میں پائی جاتی ہے۔

ایک نارمل انسان میں کروموسومز کی کل تعداد 46 (23 جوڑے) ہوتی ہے۔ اس میں سے 22 جوڑے آٹوسومز ہوتے ہیں اور ایک جوڑا سیکس کروموسوم کا ہوتا ہے۔ شازونادر ایسا ہوتا ہے کہ کروموسوم کی ایک زائد کاپی فرد کے خلیوں میں موجودہوتی ہے یا کروموسومز کے کسی جوڑے کا ایک کروموسوم فرد میں موجود نہیں ہوتا۔ یہ کیفیت بالترتیب کروموسومز کی ٹرائی سومی یا مونوسومی کہلاتی ہیں۔ انسان میں ایسی کیفیت کے بڑے خطرناک نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ کروموسومل ڈس آرڈرز کی عام مثالیں ڈائونز سینڈروم ٹرنرسینڈروم، کلائین فیلٹز سینڈروم ہیں۔
pic 23 chapter 5

چوڑا سپاٹ چہرہ؍ سر کا پچھلا حصہ سپاٹ؍ انگلیوں کے سروں پر بہت سارے لوپس؍ ہتھیلی کی لکیر؍ بڑی اور شکن دار زبان؍ قلب کی پیدائشی بیماری

شکل 5.16 ڈاونز سینڈروم میں متبلا فرد کی نمائندگی کرتی ہوئی تصویر اور اس سے متعلق کروموسومز کا کیرنیوٹائپ

ڈاونز سینڈروم:

 خلیے میں 21ویں کروموسوم کی کاپی کا اضافہ (21 کی ٹرائی سومی) اس جینیٹک بیماری کی وجہ ہے۔ اس بیماری کو سب سے پہلے لینگڈن ڈائون (1866) نے بیان کیا تھا۔ متاثر انسان چھوٹے قد اور گول سرکا ہوتا ہے، شکن دار زبان اور منہ تھوڑا سا گولائی میں کھلا ہوا ہوتا ہے (شکل 5.16)۔ ہتھیلی چوڑی اور اس پر خاص انداز کی لکیریں ہوتی ہیں۔ جسمانی، سائیکوموٹر اور دماغی نمو کم ہوتا ہے۔

کلائین فیلٹز سینڈروم:

 یہ ڈس آرڈر بھی ایک اضافی X-کروموسوم کی موجودگی کی وجہ سے ہوتا ہے اور اس کا کیرئیوٹائپ 47 (XXY) ہوتاہے۔ ایسے فرد کا نمو مجموعی طور پر مردانہ ہوتا ہے لیکن زنانہ خصوصیات (پستان کا نمو یعنی گائینیکو ماسٹیا) کا اظہار بھی ہوتا ہے (شکل 5.17 (a))۔ ایسے افراد بارآور نہیں ہوتے ہیں۔
ٹرنر سینڈروم: یہ ڈس آرڈر جوڑے میں سے ایک X-کروموسوم کے نہ ہونے سے ظاہر ہوتا ہے اس کا کیرئیوٹائپ XO کے ساتھ 45 ہوتا ہے۔ چونکہ بیضہ دان کا نمو ابتداء میں ہی ختم ہو جاتا ہے لہٰذا لوگ خواتین نما بانجھ ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان میں ثانوی جنسی خصوصیات بھی نہیں پائی جاتی ہیں (شکل 5.17 (b))۔
pic 24 chapter 5

(a) زنانی خصوصیات کے ساتھ لمبی قد کاٹھی

(b) چھوٹا قد اور غیر نمو یافتہ زنانہ خصوصیات

شکل 5.17 انسانوں میں سیکس کروموسومز کی ترتیب کی وجہ سے پیدا ہوئے جینٹک ڈس آرڈرز کا نمائندہ خاکہ

خلاصہ

جنٹکس(geneties) حیاتیات کی وہ شاخ ہے جو قانونِ توریث اور اس کے قواعد کے بارے میں بحث کرتی ہے۔ والدین اور بچوں میں  ظاہری اور جسمانی مشاہبتوں مشابہت نے ماہرِ حیاتیات کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ مینڈل پہلا شخص تھا جس نے ان مظاہر کا باقاعدہ مطالعہ کیا۔ مٹر کے پودے میں مخالف صفات کی توریث کا مطالعہ کرنے کے بعد مینڈل نے اصولِ توریث پیش کیے جن کو ہم آج مینڈل کے قوانینِ توریث کہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ صفات کو کنٹرول کرنے والے فیکٹرز (بعد میں ان کا نام جین پڑا) ہمیشہ جوڑوں(Pairs) میں ہوتے ہیں اور ان کو الیلز کہتے ہیں۔ ان کے مطابق خلف میں صفات کا اظہار مختلف نسلوں F1 نسل، F2 نسل … میں ایک خاص نظم و ضبط کے مطابق ہوتا ہے۔ کچھ صفات دوسری صفات پر حاوی ہوتی ہیں۔ ڈامنینٹ صفات کا اظہار ہیٹروزائیگس حالات (لا آف ڈامینینس) میں ہوتا ہے۔ رسیسو صفات صرف ہوموزائیگس حالات میں اپنے کو ظاہر کرتی ہیں۔ ہیٹروزائیگس کنڈیشن میں صفات کی آمیزش کبھی نہیں ہوتی۔ رسیسو صفات جو ہیٹروزائیگس حالات میں ظاہر نہیں ہوپاتیں ہوموزائیگس حالات میں دوبارہ ظاہر ہو جاتی ہیں۔ لہٰذا زواجہ بنتے وقت صفات علاحدہ ہو جاتی ہیں (لا آف سیگریگیشن)۔
ساری صفات حقیقی ڈامیننس نہیں دکھاتیں۔ کچھ صفات نامکمل اور کچھ مساوی ڈامنینس دکھاتی ہیں۔ جب مینڈل نے دو صفات کا ایک ساتھ مطالعہ کیا تو معلوم ہوا کہ فیکٹرز جدا گانہ طور پر علاحدہ ہوتے ہیں ہر طرح کے کامبنیشن میں ساتھ آتے ہیں (لاء آف انڈپینڈنٹ اسارٹمنٹ)۔ زواجوں کے مختلف کامبینیشنز کواسکوائر جدول کی شکل میں لکھا اور دکھایا جاتا ہے جس کو پینٹ اسکوائر کہتے ہیں۔ کروموسومز پر فیکٹرز (اب جین کہا جاتا ہے) واقع ہوتے ہیں جو صفات کا اظہار کرتے ہیں اس کو جینوٹائپ اور اس کے طبعی اظہار کو فینوٹائپ کہا جاتا ہے۔
یہ معلوم ہونے کے بعد کہ جین کروموسومز پر واقع ہوتے ہیں، مینڈل کے قوانین:( تخفیفی تقسیم کے بعد کروموسومز کا سیگریگیشن اور اسارٹمنٹ )کے درمیان اچھا باہمی تعلق پیدا کیا گیا۔ وراثت کی کروموسومل تھیوری کی شکل میں مینڈل کے قوانین کو بڑھایا گیا۔ بعد میں یہ معلوم ہوا کہ جنین اگر اسی کروموسوم پر واقع ہوتو ان پر مینڈل کا لا آف انڈپینڈنٹ اسارٹمنٹ پورا نہیں اترتا۔ ایسی جین کو ملحق یا لنکڈ جین کہا جاتا ہے۔ قریب قریب والے جین ایک ساتھ الگ ہوتے ہیں، اور دور والے جنیز، ریکامنیشن کی وجہ سے آزادانہ لگ ہوتے ہیں۔ لنکیج میپ، کسی کروموسومز پر جین کی ترتیب کی نشاندہی کرتا ہے۔
کئی جین جنسی کروموزوم سے بھی ملحق ہوتے ہیں، اور انھیں سیکس لنکڈ جین کہا جاتا ہے۔ دو مختلف جنس (نر اور مادہ) میں کروموسومز کا ایک ایک سیٹ یکساں ہوتا ہے اور دوسرا سیٹ مختلف ہوتا ہے۔ وہ کروموسومز جو مختلف ہوتے ہیں ان کو سیکس کروموزوم کہتے ہیں۔ انسانوں میں نارمل مادہ میں 22 جوڑے آٹو سومز کے اور ایک جوڑا سیکس کروموسومز (XX) کا ہوتا ہے۔ نر میں 22 جوڑے آٹوسومز اور ایک جوڑا سیکس کروموسومز (XY) کا ہوتا ہے۔ مرغیوں کے نر میں ZZ سیکس کروموسومز، اور مادہ میں ZW سیکس کروموسومز ہوتے ہیں۔
جینٹک مادے میں اچانک تبدیلی کو میوٹیشن کہتے ہیں۔ ڈی این اے کے ایک بیس پیئر میں تبدیلی کو پوائنٹ میوٹیشن کہتے ہیں۔ ہیموگلوبن کی b- زنجیر کو کوڈ کرنے والے جین میں ایک اساس کی تبدیلی کی وجہ سے سکل سیل انیمیا ہوتا ہے۔ موروثی میوٹیشن کا مطالعہ خاندان کا شجرۂ نسب بناکر کیا جاتا ہے۔ کچھ میوٹیشن میں کروموسومز کے پورے سیٹ میں تبدیلی آتی ہے (پالی پلائیڈی) یا کروموسومز کی تعداد میں تبدیلی آجاتی ہے (انیوپلائیڈی) اس وجہ سے یہ سمجھنا کافی آسان ہوگیا کہ جینٹک ڈس آرڈرز کی بنیاد میوٹیشن ہے، 21 ویں کروموسوم کی ٹرائی سومی کی وجہ سے ڈائون سینڈروم ہوتا ہے، جس میں 21 ویں کروموسوم کی ایک کاپی زائد ہوتی ہے اور نتیجتاً کروموسومز کی کل تعداد 47 ہو جاتی ہے۔ ٹرنرز سینڈروم میں سیکس کروموسومز XO ہیں مطلب یہ سیکس کروموزوم جوڑے کا ایک ہی X-کروموسوم رہتا ہے، اور کلائین فیلٹرز سینڈروم میں یہ XXY ہو جاتا ہے۔ کیریوٹائپ تجزیے کے ذریعے ان کا مطالعہ کرنا بہت آسان ہے۔

مشق

مینڈل کے ذریعے مٹر کے پودے کے انتخاب کی افادیت بیان کیجیے۔
 مندرجہ ذیل میں تفریق کیجیے:
(i) ڈامینینس اور رسیسو
(ii) ہوموزائیگس اور ہیٹرزائیگس
(iii) مونوہائیبرڈ اور ڈائی ہائیبرڈ
ایک ڈپلائیڈ عضویہ 4 لوسائی کے لیے ہیٹروزائیگس ہے، کتنی طرح کے زواجے بنیں گے؟
موناہائیبرڈ کو استعمال کرکے لا آف ڈامنینس کو سمجھائیے۔
ٹسٹ کراس کی تعریف لکھیے اور ڈیزائین کیجیے۔
ایک لوکس کے لیے ہوموزائیگس مادہ اور ہیٹروزائیگس نر کے درمیان کراس کے بعد F1 نسل میں فینوٹپک صفات کی تقسیم کو پنیٹ اسکوائر استعمال کرکے نکالئے۔
جب ایک کراس طویل قامت پودے، زرد بیج (Tt Yy) اور طویل پودے، سبز بیج (Ttyy) کے درمیان کیا جاتا ہے تو بچوں میں فینوٹائپ کا کیا تناسب ہوگا:
(i) طویل اور سبز
(ii) چھوٹا اور سبز
8۔ دو ہیٹروزائیگس والدین کو کراس کیا جاتا ہے۔ اگر دو لوسائی لنکڈ ہیں تو ڈائی ہائیبرڈ کراس کی F1 نسل میں فینوٹپک صفات کی کیا تقسیم ہوگی؟
9۔ جنٹکس میں ٹی - ایچ مارگن کی خدمات کو مختصراً بیان کیجیے۔
10۔  پیڈیگری تجزیہ کیا ہے؟ بتائیے کہ یہ تجزیہ کس طرح سے مفید ہے؟
11۔ انسان میں جنس کا تعین کیسے ہوتا ہے؟
12۔  ایک بچے کا بلڈ گروپ O ہے۔ اگر باپ کا بلڈ گروپ A اور ماں کا بلڈ گروپ B ہے تو والدین کے جینوٹائپس بتائیے اور دوسرے بچوں کے ممکنہ جینوٹائپس بتائیے۔ 
13۔ مندرجہ ذیل اصطلاحات کو مثال دے کر سمجھائیے:
(i) مساوی -ڈامنینس
(ii) نا مکمل ڈامنینس
14۔ پوائینٹ میوٹیشن کیا ہے؟ مثال دیجئے۔
15۔ توریث کی کروموسومل تھیوری کس نے پیش کی؟
16۔ کوئی دو آٹوسومل جینیٹک ڈس آرڈرز بتائیے اور ان کی علامات بیان کیجیے۔